Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-109

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 11 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 16
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔109 ثم شرع في بيان أن ذلك المعنى يكون على عدة أنحاء، فقال: وهو جائز أن يكون وصفاً لازماً وعارضاً. فالوصف اللازم أن لا ينفك عن الأصل كالثمنية علة لوجوب الزكاة في الذهب والفضة، لا ينفك عنهما لأنهما خلقا في الأصل على معنى الثمنية. قياس کے رکن یعنی علت کی بحث چل رہی ہے بھئی! ثم شرع في بيان أن ذلك المعنى يكون على عدة أنحاء، پھر شروع ہوئے مصنف یہ بات بیان کرنے میں کہ وہ معنی یعنی وہ وصف، یعنی وہ علت—علت کیا ہے؟ وہ وصف ہے، وہ معنی ہے—تو یہ اس کے بیان میں شروع ہوئے کہ وہ وصف جو ہے "يكون على عدة أنحاء"، "أنحاء" جمع ہے "نحو" کی، یہ بمعنی قسم کے ہے یہاں، کہ وہ وصف جو ہے، وہ معنی جو ہے، کئی قسم پر ہے "فقال" پس فرمایا۔ آگے آپ کو بتلائیں گے بھئی! کہ یہ جو علت ہے، یہ وصف بھی ہو سکتی ہے، یہ اسم بھی ہو سکتی ہے، یہ حکم بھی ہو سکتی ہے۔ یہ علت جو ہے، یہ وصف بھی ہو سکتی ہے، یہ اسم بھی ہو سکتی ہے اور یہ حکم بھی ہو سکتی ہے۔ اور اسی طرح جب یہ وصف ہو، تو پھر یہ وصفِ لازم بھی ہو سکتی ہے، وصفِ عارض بھی ہو سکتی ہے۔ وصفِ لازم جو اپنے موصوف سے جدا ہی نہ ہو بھئی! اور وصفِ عارض جو پیش آیا ہے، یعنی کبھی موصوف کے ساتھ ہوگا، کبھی موصوف کے ساتھ نہیں ہوگا۔ تو یہ وصف کبھی لازم ہوگا، کبھی عارض ہوگا، جدا ہو سکتا ہے بھئی! اور پھر یہ وصف کبھی جلی ہوگا، یعنی ظاہر ہوگا، ہر ایک اس کو سمجھ سکتا ہے، یا خفی ہوگا، ہر ایک اس کو نہیں سمجھ سکتا۔ نیز اسی طرح کبھی یہ وصف جو ہے، مفرد ہوگا، کبھی مرکب ہوگا بھئی! جیسے مرکب کی مثال بھئی! جیسے ہم نے علتِ ربا کیا نکالی تھی؟ قدر اور جنس، تو صرف قدر نہیں، صرف جنس نہیں، بلکہ قدر اور جنس دونوں سے مرکب ہے اس کی ربا کی علت بھئی! صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ دیکھیے بھئی! آسان بحث ہے۔ کہتے ہیں: "وهو جائز أن يكون وصفاً لازماً وعارضاً"، اور وہ وصف جو ہے—"هو" ضمیر کس کو راجع؟ اس معنی کو، اور معنی سے کیا مراد ہے؟ وہ علت! وہ علت—تو آپ علت کا ترجمہ کرتے جائیے، لیکن ضمیر مذکر ہے، یاد رکھنا معنی کو راجع ہے۔ تو میں علت کے ساتھ ترجمہ اگر کروں بھی تو یاد رکھنا تاکہ بات آپ کے لیے سمجھنا آسان ہو جائے۔ تو کہتے ہیں: وہ معنی جو، یا وہ علت جائز ہے "أن يكون وصفاً" کہ وہ وصف ہو، ایسا وصف "لازماً" جو لازم ہو، کیا معنی؟ جو جدا ہی نہیں ہوتا موصوف سے، "وعارضاً" یا وصفِ عا—یا وصفِ عارض ہو، "فالوصف اللازم أن لا ينفك عن الأصل"، پس وصفِ لازم جو ہے، وہ جدا نہیں ہوتا اصل سے، "كالثمنية" جیسے ثمنیت، ثمن ہونا، "علة لوجوب الزكاة"، اس کو چاہے "علةٌ" پڑھ لیں، اگر مرفوع پڑھیں تو اس کے اس کا مبتدا محذوف: "أي هي علةٌ لوجوب الزكاة"، یا اس کو "علةً" پڑھ لیں، منصوب پڑھ لیں، اس صورت میں یہ حال ہوگا ثمنیت سے، کس سے حال ہوگا؟ "كالثمنية"، جیسے کہ ثمین—ثمنیت "علةً لوجوب الزكاة في الذهب والفضة"، اس حال میں کہ یہ ثمنیت علت ہے وجوبِ زکوۃ کی سونے اور چاندی میں۔ سونے اور چاندی میں زکوۃ کے واجب ہونے کی علت کیا ہے بھئی؟ کہ یہ ثمن ہے بھئی، ان کو اللہ نے پیدا ہی کس طور پر کیا ہے؟ ثمن کے طور پر پیدا کیا ہے۔ ان کے ذریعے چیزوں کی قیمت لگائی جاتی ہے۔ "لوجوب الزكاة في الذهب والفضة"، اس حال میں کہ یہ علت ہے وجوبِ زکوۃ کے لیے سونے اور چاندی میں، "لا ينفك عنهما"، اور یہ جو ہے، جدا نہیں ہوتی ثمنیت "عنهما" کس سے؟ ان س—سونے اور چاندی سے، "لأنهما خلقا" اس لیے کیونکہ ان دونوں کو پیدا کیا گیا ہے "في الأصل" اصل میں "على معنى الثمنية" کس س—معنی پر؟ ثمنیت کے معنی پر ہی ان کی تخلیق ہوئی ہے بھئی! "وهي مشتركة بين مضروب الذهب والفضة وتبرهما وحليهما"، مضروب بھئی! مضروب جس پر مہر لگائی گئی ہو۔ بھئی! ایک ہے سونے اور چاندی کی ویسے سادہ ڈلی بھئی، اس کو "تبرٌ" کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ "تبرٌ"، سونے اور چاندی کی ڈلی کو۔ اور پھر درہم، یہ درہم تو یہ نہیں ہے، درہم تو باقاعدہ اس کو ایک خاص شکل دی جاتی ہے درہم اور دینار جو ہیں، سونے اور چاندی کو خاص شکل دی جاتی ہے، اور پھر باقاعدہ اس پر سرکاری مہر حکومت کی طرف سے لگتی ہے جس سے پتہ لگے کہ یہ کیا ہے؟ درہم ہے بھئی! صورت سمجھ میں آگئی؟ جیسے آپ کے ہاں بھی بھئی یہ سکے ہیں، دیکھیے باقاعدہ حکومت کی اس پر مہر یعنی صورت ایک بنی ہوتی ہے بھئی! تو کہتے ہیں: یہ ثمنیت جو ہے "وهي مشتركة بين مضروب الذهب والفضة وتبرهما وحليهما"، یہ مشترک ہے "بين مضروب الذهب والفضة" مہر لگائے ہوئے سونے اور چاندی میں، "وتبرهما" اور ان دونوں کی ڈلی میں، "وحليّهما" اس کو یا تو "حَلْيٌ" پڑھ لیں بھئی! "حَلْيٌ" زیور ہے، مفرد ہے، اور "حُلِيٌّ" یہ جمع ہے بھئی، تو "حَلْيٌ" مفرد ہے اور "حُلِيٌّ" جمع ہے۔ ان کی ڈلی میں "وحليّهما" اور ان کے زیور میں، "فيكون في حلي النساء الزكاة لعلة الثمنية"، پس عورتوں کے زیوروں میں زکوۃ ہوگی ثمنیت کی علت کی وجہ سے۔ بھئی! انہوں نے علت کی وجوبِ زکوۃ کی علت کیا ہے؟ سونے اور چاندی میں زکوۃ کیوں واجب؟ کیونکہ سونے اور چاندی میں کیا پائی جا رہی ہے؟ ثمنیت ہے، اور یہی ثمنیت زیور میں بھی ہے، کیونکہ وہاں بھی سونا اور چاندی ہے۔ اور ثمنیت تو سونے اور چاندی کے ساتھ لازم ہے، ان کو پیدا ہی ثمن کے طور پر کیا گیا ہے، ان سے جدا ہی نہیں ہو سکتی، یہ وصفِ لازم ہے۔ اور اسی طرح ان کی ڈلی ہو، زیور ہو، جو بھی شکل ہو، یا ان کا برتن ہو، کوئی بھی چیز ہو، جب سونا اور چاندی وہ ہیں، تو ان سے ثمنیت لازم ہے، جب ثمنیت ہے اور ثمنیت تو علت ہے کس چیز کی؟ وجوبِ زکوۃ کی، تو ان سب چیزوں میں بھی کیا واجب ہوگی؟ زکوۃ واجب ہوگی۔ تو اسی لیے کہا: ان سے عورتوں کے زیور میں زکوۃ واجب ہوگی ثمنیت کی علت کی وجہ سے۔ "والشافعي رحمه الله تعالى رحمة واسعة يعلل حرمة الربا بها"، اور امام شافعی رحمہ اللہ علت بیان کرتے ہیں حرمتِ ربا کی "بها" اس ثمنیت کے ذریعے! امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا علت بیان کی تھی بھئی ربا کی؟ طعام اور ثمنیت! چار چیزوں سے طعام نکالا کہ کھانے پینے کھانے والی چیزیں ہیں، اور سونے اور چاندی سے ثمنیت نکالی۔ اوپر جو بات ہو رہی تھی وہ وجوبِ زکوۃ کی علت کی بات ہو رہی تھی! یہاں الگ ویسے بات کر رہے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے کہ ربا کی علت کیا نکالی ہے؟ ربا کی علت سونے اور چاندی میں ثمنیت نکالی، ہم نے تو قدر اور جنس نکالی، ثمنیت کی بات ہی نہیں کی۔ انہوں نے کیا نکالی؟ ثمنیت! ہم نے ثمنیت کی بات کیوں نہیں کی؟ وجہ اس کی یہ کہ ثمنیت تو صرف سونے اور چاندی میں ہے، یہ تو علتِ قاصرہ ہے، اور تو کسی چیز میں پائی نہیں جا رہی، تو اگر یہ علت نکالی جائے تو کسی اور چیز کو اس پر قیاس کیا جا سکتا ہے؟ قیاس ہی نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ علت تو بند ہے کس کے اندر؟ سونے اور چاندی میں بھئی! اس لیے ہم نے یہ علت نہیں نکالی بھئی! تو کہتے ہیں: "والشافعي رحمه الله يعلل حرمة الربا بها"، امام شافعی رحمہ اللہ تعلیل کرتے ہیں یعنی علت بیان کرتے ہیں حرمتِ ربا کی "بها" اس ثمنیت کے ذریعے، "وهي غير متعدية إلى شيء"، اس حال میں کہ یہ کسی دوسری چیز کی طرف متعدی ہونے والی نہیں ہے، یعنی علتِ قاصرہ ہے۔ یہ تو تھا وصفِ لازم بھئی، ثمنیت سونے اور چاندی سے جدا نہیں ہو سکتا۔ "والوصف العارض"، اور وصفِ عارض جو ہے "كالإنفجار"، جیسے کہ بہنا ہے! بہنا "في قوله عليه الصلاة والسلام: فإنها دم عرق انفجر"، حضور علیہ السلام کے اس قول کے اندر: "فإنها دم عرق انفجر"۔ بھئی! یہ بعض عورتوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر وہ جو استحاضہ کا خون جاری ہوتا ہے، اس کے بارے میں پوچھا بھئی! سمجھ میں آیا؟ حیض کے تو چند ایام ہیں مہینے کے اندر، چار پانچ دن، چھ دن تک حیض آئے گا، لیکن یہ جو استحاضہ کا خون ہے، یہ تو ہر وقت جاری ہوتا ہے۔ اسی طرح نفاس کے بھی ایام ہیں، جبکہ اس—تو جو حیض کے ایام سے بڑھ کر خون جاری رہے، یا نفاس کے ایام سے بڑھ کر خون جاری رہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ استحاضہ کہتے ہیں! تو بعض عورتوں کا یہ اگر تکلیف ہو جائے، بڑی تکلیف کا باعث، ہر وقت خون بہتا رہتا ہے، تو انہوں نے آکر سوال کیا: یا رسول اللہ! ہم کیا کریں؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ یہ تو ایک—یہ وہ حیض نہیں ہے، یہ تو رگ کا خون ہے، رگ جو بہہ پڑی ہے بھئی! یہ رگ کا خون ہے، رگ جو بہہ پڑی ہے، لہذا جب ایامِ حیض گزر جائیں اگر اعیاد ہیں کہ کون کون سے دن ہوتے تھے مہینے کے، تو وہ جب گزر جائیں تو اس کے بعد پھر یہ ہے کہ غسل کر لو اور اس کے بعد پھر جس طرح عام پاک عورت کے احکام ہیں نماز، روزے وغیرہ کے، وہی احکام ہوں گے بھئی! ہاں یہ ہے کہ پھر اس میں ہر نماز کے لیے وضو کر لے گی وہ، عورت کیا کر لے گی؟ ہر نماز کے لیے الگ وضو کر لے گی بھئی! چاہے خون ٹپک رہا ہو عين حالتِ نماز میں ہی کیوں نہ ہو بھئی! صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: "والوصف العارض كالإنفجار"، جیسے کہ وہ وص—وصفِ عارض جیسے کہ انفجار ہے، بہنا ہے، "في قوله عليه السلام" حضور علیہ السلام کے اس قول کے اندر: "فإنها"، پس یہ جو استحاضہ ہے، "دم عرق"، عرق رگ کو کہتے ہیں بھئی! "فإنها دم عرق انفجر"، یہ رگ کا خون ہے "انفجر" جو بہہ پڑا ہے۔ یہ رگ کا خون ہے جو بہہ پڑا ہے، "علة لوجوب الوضوء في المستحاضة"، تو یہ یہاں بھی وہی بات بھئی، "علةً" بھی پڑھ سکتے ہیں اور "علةٌ" بھی، تو یہ علت ہے وضو کے واجب ہونے کی مستحاضہ کے اندر! کیا علت ہے وضو—وضو کے واجب ہونے کی مستحاضہ میں؟ انفجارِ دم، خون کا بہہ پڑھنا! تو انفجار علت ہے۔ اب آپ مجھے بتائیے، کیا یہ بہنا خون کے ساتھ لازم ہے؟ نہیں! اس وقت آپ کی رگوں میں خون ہے، لیکن بہنا نہیں ہے، ہاں زخم لگے گا تو تب بہہ پڑے گا بھئی! تو یہ ک—کس قسم کا وصف ہے؟ عارض ہے، عارض ہے! تو کہتے ہیں: "وهي عارضة للدم"، اور یہ جو وصف ہے، یہ انفجار جو ہے، یہ عارض ہے خون کو، "إذ لا يلزم"، یہ عارض ہوا ہے، یعنی اس کے ساتھ لازم نہیں ہے، "إذ لا يلزم أن يكون كل دم العرق منفجراً"، اس لیے کیونکہ یہ لازم نہیں ہے کہ ہر رگ کا خون جو ہے، رگ کا ہر خون جو ہے "منفجراً" وہ بہنے والا ہو، "فأينما وجد انفجار الدم"، پس جہاں بھی خون کا بہنا پایا جائے گا، "سواء كان للمستحاضة أو لغيرها"، چاہے وہ مستحاضہ میں ہو یا غیر مستحاضہ میں ہو، "من غير السبيلين"، پیشاب پاخانے کے دو راستوں کے علاوہ، "يجب به الوضوء"، اس کے ذریعے وضو واجب ہوگا بھئی! غیرِ سبیلین کی قید لگائی بھئی، وجہ یہ کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک غیر—خون نجس تو ہے وہ مانتے ہیں، لیکن بدن سے خون بہے تو وہ کہتے ہیں وضو نہیں ٹوٹا۔ خون کو تو نجس مانتے ہیں، لیکن وہ کہتے ہیں اس سے وضو نہیں ٹوٹا، لیکن وجہ—بھئی نجس چیز ہے، کہتے ہیں بھئی نجس چیز کے نکلنے سے وضو نہیں واجب، ہاں احد السبیلین سے نجاست خارج ہو، تب وضو واجب ہوتا ہے، ویسے وضو واجب—تب وضو ٹوٹے گا، ویسے نہیں! تو اس لیے غیرِ سبیلین کی قید لگا دی کہ چاہے غیرِ سبیلین سے کیوں نہ ہو، لیکن انفجارِ دم ہوگا تو فوراً وجوبِ وضو بھی آ جائے گا۔ "واسم"، اور اسم ہوگا! وہ علت کیا ہوگی؟ یا تو وصف ہوگی یا اسم ہوگی، "عطف على قوله وصفاً"، یہ مصنف کے قول "وصفاً" پر عطف ہے، "ومقابل له"، اور یہ اس کے مقابل ہے، یا وہ علت وصف ہوگی یا کیا ہوگی؟ اسم ہوگی، یعنی ذات ہوگی، کیا ہوگی؟ ذات ہوگی! "أي يجوز أن يكون ذلك المعنى معن اسماً"، اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ معنی اسم ہو، "كالدم في عين هذا المثال"، جیسے کہ خون ہے عین اسی مثال کے اندر بھئی! بھئی! ہم نے کس چیز کو علت بنایا؟ انفجار کو، بہنا، بہنا—بہنا وصف ہے، ذات نہیں۔ لیکن اگر اسی کے اندر خون کو علت بنا دیا جائے، تو خون تو اسم ہے، وصف نہیں، ذات ہے۔ تو یہاں پر پھر علت کیا ہو جائے گی؟ ذات یعنی اسم ہو جائے گی، وصف نہ رہے گا۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ اگر انفجار کی طرف نظر کی جائے تو علت کیا؟ وصف! اگر دم کی طرف نظر کی جائے، تو دم تو اس میں جنس ہے، ذات ہے، وہ تو وصف نہیں، تو پھر علت کیا ہوئی؟ اسم ہوا، ذات ہوئی! تو یہ عین اسی مثال کے اندر، جیسے کہ خون ہے، "وهو قوله عليه السلام"، اور وہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: "فإنها دم عرق انفجر"، پس बेशक یہ رگ کا ایسا خون ہے جو بہہ پڑا ہے، "فإنه إن اعتبر فيه لفظ الدم"، پس اگر اعتبار کیا جائے اس کے اندر لفظِ دم کا، "كان مثالاً للاسم"، تو یہ مثال ہوگی اسم کی، "وإن اعتبر فيه معنى الإنفجار"، اور اگر اس میں اعتبار کیا جائے انفجار کے معنی کی، "كان مثالاً للوصف العارض كما مر"، تو پھر یہ مثال ہوگی وصفِ عارض کی، جیسے کہ بات گزر گئی۔ "وجلياً وخفياً"، اور کبھی وہ علت کیا ہوگی؟ جلی ہوگی اور خفی! اب بھئی یہ ذکر آیا، ماقبل میں دو قسمیں ذکر ہوئی تھیں علت کی، یا علت کیا ہوگی؟ وصف ہوگی، یا کیا ہوگی؟ اسم ہوگی، یعنی ذات ہوگی۔ اب یہ "جلياً" اور "خفياً" اس کا تعلق کس سے ہے؟ یہ کس کی صفت ہیں؟ وہ وصف، اگر صفت ہو وصف کی، تو معنی ہوا وہ وصف کبھی جلی ہوگا، یعنی ظاہر ہوگا، اور خفی کبھی پوشیدہ ہوگا۔ اور اگر اسم کی صفت ہو، تو معنی یہ ہے کہ وہ ذات جو ہے، کبھی جلی ہوگی اور کبھی خفی! تو شارح بتلا رہے ہیں: "والظاهر أنه تقسيم للوصف"، کہ یہ بھی کس کی تقسیم ہے؟ کہ وصف ہی کی تقسیم ہے، "كاللازم والعارض"، جیسے کہ لازم اور عارض تھے، وہ بھی وصف کی تقسیم تھی، ان کی قسمیں تھیں۔ "فالوصف"، تو یہ وصف کی قسمیں ہوئیں، معلوم ہوا وصف یا جلی ہوگا یا خفی ہوگا! کہتے ہیں: "فالوصف الجلي هو ما يفهمه كل أحد"، وصفِ جلی، وصفِ ظاہر وہ ہے جس کو ہر ایک سمجھ لیتا ہے۔ بھئی! وصفِ جلی یعنی ظاہر، وصفِ ظاہر وہ ہے جس کو ہر ایک سمجھ لے، یعنی جس میں اجتہاد کی ضرورت ہی نہ پڑے! اور وصفِ خفی وہ ہے جس کو ہر ایک نہیں سمجھتا، یعنی اس میں اجتہاد کی ضرورت پڑتی ہے۔ جیسے بھئی! حدیث کے اندر ذکر آتا ہے کہ یہ جو بلی ہے، اس کا جھوٹا پاک ہے۔ حدیث ہی میں اس علت بھی ذکر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "إنها من الطوافين والطوافات عليكم"، یہ جو بلیاں ہیں، یہ تم پر طواف—چکر طواف کا معنی چکر لگانے والے، بار بار آنے جانے والا! یہ جو بلے اور بلیاں ہیں، یہ تم پر بار بار چکر لگانے والے ہیں! "طوافين" مذکر ہے بھئی، یعنی بلا مذکر، "طوافات" جو بلیاں مؤنث کے لیے لے کر آئے بھئی! یہ جو بلے اور بلیاں ہیں، یہ تم پر بار بار چکر لگانے والے ہیں، آنے جانے والے ہیں۔ اب دیکھیے بھئی! بلی کے جھوٹا جو ہے، اس کو نجس قرار نہیں دیا گیا، وجہ اس کی حدیث ہی میں ذکر ہو گئی، کہ یہ بار بار تمہارے پاس آنے جانے والے ہیں اگر ان کے جھوٹے کو نجس قرار دے دیا جائے پھر تو بڑا حرج لازم آتا۔ بِلّی تو بار بار آتی ہے، 10 دفعہ بھگاؤ پھر آ جائے گی بھئی۔ ہر چیز میں منہ ڈالتی ہے، دودھ پڑا ہو، سالن پڑا ہو، گھی پڑا ہو، چائے پڑی ہو، جو بھی چیز ہو اس نے منہ لگانا ہے ضرور اس کو۔ تو اگر اگر اس کے جھوٹے کو نجس قرار دے دیا جائے تو بڑا حرج لازم آتا، بڑا حرج لازم آتا۔ تو اس ضرورت کی بناء پر اس کے جھوٹے کو شریعت نے نجس قرار نہیں دیا۔ اور جس حدیث میں بتلایا گیا کہ اس کا جھوٹا پاک ہے نجس نہیں ہے، اسی حدیث کے اندر اس کی علت بھی ساتھ ذکر کر دی گئی: "فَإِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ وَالطَّوَّافَاتِ عَلَيْكُمْ"۔ پس بیشک یہ تم پر بار بار آنے جانے والے اور بار بار آنے جانے والیاں ہیں، یعنی یہ بلے اور بلیاں بھئی۔ تو دیکھیے یہاں کسی اجتہاد کی ضرورت پڑی؟ نہیں، حدیث میں خود ذکر ہے، ہر ایک اس کو سمجھ لیتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ وصفِ جلی کی مثال ہے۔ چکر لگانا، طواف، یہ وصف ہے نہ بلے اور بلی کا، تو یہ وصف ہے اور کس قسم کا ہے؟ جلی ہے، اس میں اجتہاد کی ضرورت نہیں، صراحۃً حدیث میں مذکور ہے۔ اور ایک علت ہے جیسے ربا کی، ربا کی علت ہم نے کیا نکالی؟ قدر اور جنس۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا نکالی؟ ثمنیت اور طعام۔ اور امام مالک رحمہ اللہ نے؟ اقتیات اور ادخار، یہ چار چیزوں سے نکالی، اور ثمنیت سونے اور چاندی سے نکالی۔ تو دیکھیے یہاں اجتہاد کرنا پڑا، علت خفی تھی اور علت خفی تھی جبھی تو ہر ایک کے اجتہاد میں ہر ایک نے الگ الگ علت بیان کی۔ اگر علت خفی نہ ہوتی تو پھر یہ اختلاف ہوتا علتوں میں؟ پھر تو اختلاف نہ ہوتا بھئی۔ تو معلوم ہوا وہ وصف کبھی جلی ہوگا اور کبھی خفی۔ تو کہتے ہیں: "فالوصف الجلي هو ما يفهمه كل أحد" اور وصفِ جلی وہ ہے جس کو ہر ایک سمجھ لے، "كالطواف لسؤر الهِرَّةِ" جیسے کہ طواف جو ہے چکر لگانا "لسؤر الهِرَّةِ" بلی کے جھوٹے کے لیے، یعنی بلی کے جھوٹے کے پاک ہونے کے لیے یہ علت ہے، "أي لطهارة سؤر الهِرة"۔ "في قوله عليه الصلاة والسلام" حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اس قول کے اندر: "إنها من الطوافين والطوافات عليكم"۔ طواف جو ہے نہ پیچھے لفظ آیا، طواف اس میں واؤ مشدد نہیں ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور آگے طوافين والطوافات، یہاں واؤ مشدد ہے۔ تو بس یہ جو ہیں تم پر چکر لگانے والے اور چکر لگانے والیاں ہیں، "والوصف الخفي هو ما يفهمه بعض دون بعض" اور وصفِ خفی وہ ہے جس کو سمجھ لیں بعض "يفهمه بعض دون بعض" نہ کہ بعض، بعض سمجھیں بعض نہ سمجھیں، "كما في علة الربا" جیسے کہ علتِ ربا میں، "عندنا القدر والجنس" ہمارے نزدیک قدر اور جنس ہے، "وعند الشافعي رحمه الله الطعم في المطعومات والثمنية في الأثمان" امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک طعام ہے، یعنی کھانے کی چیز ہونا ہے "في المطعومات" مطعومات میں، "والثمنية في الأثمان" اور ثمنیت ہے اسمان کے اندر، ثمنوں کے اندر، "وعند مالك رحمه الله" اور امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک "الإقتيات والإدخار" اقتیات، خوراک بھئی خوراک کے قابل ہو جو، "والإدخار" اور ذخیرے کے قابل جسے ذخیرہ کیا جاتا ہو، کھایا جاتا اور ذخیرہ کیا جاتا ہو۔ یہ تو چار چیزوں سے علت نکالی اور سونے اور چاندی سے وہ بھی کیا علت نکالتے ہیں؟ ثمنیت علت نکالتے ہیں جیسے کہ یہاں پر آپ دیکھ سکتے ہیں محشی نے بھی دیا ہوا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ انہوں نے کہا: "في غير الأثمان، والثمنية فيها" اور اسمان میں ان کے نزدیک علت کیا ہے؟ ثمنیت ہے بھئی۔ "وحكماً" بھئی وہ وصف وہ علت کبھی وصف ہوگی، کبھی اسم ہوگا اور کبھی حکم ہوگا۔ کہتے ہیں: "هذا معطوف على قوله وصفاً" یہ معطوف ہے مصنف کے قول "وصفاً" پر، "ومقابل له" اور یہ اس کے مقابل ہے، "أي يجوز أن يكون ذلك المعنى حكماً شرعياً جامعاً بين الأصل والفرع" یعنی یہ جائز ہے کہ وہ معنی جو ہے، یعنی وہ علت جو ہے ایسا حکمِ شرعی ہو جو جامع ہو اصل اور فرع میں، جمع کرنے والا ہو اصل اور فرع کو، یعنی دونوں میں پایا جاتا ہو۔ کس کی بات چل رہی ہے؟ علت کی۔ علت کی پہلی قسم کیا بیان کی؟ وصف۔ دوسری قسم؟ اسم۔ تیسری قسم کیا ہے؟ حکم۔ کہ وہ علت جو ہے وہ حکمِ شرعی ہوگا، علت کیا ہوگی؟ وہ حکمِ شرعی جو دونوں میں پایا جا رہا ہوگا، اصل میں بھی اور فرع میں بھی۔ اس کی مثال کیا ہے؟ مثال آگے بتلائیں گے، جیسے وہ ایک قبیلہ خثعم کی ایک عورت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس کے کہنے لگی: یا رسول اللہ! میرے والد صاحب پر حج فرض ہو گیا ہے اور وہ بہت بوڑھے ہیں، وہ سواری پر جم کر بیٹھ بھی نہیں سکتے، تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ: مجھے تم یہ بتلاؤ، اگر تمہارے والد پر کسی شخص کا قرض ہوتا اور تم وہ قرض ادا کرتی تو وہ ادا ہوتا یا ادا نہ ہوتا؟ تو اس نے کہا: ہاں بالکل، وہ قرض تو ادا ہو جاتا۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: تو اللہ کا قرض وہ زیادہ اللہ کا دین زیادہ اس لائق ہے کہ اس کو قبول کیا جائے، یعنی وہ بھی ادا ہو جائے گا۔ تو دیکھیے، حج کو حضور علیہ السلام نے دین پر کیا کیا؟ قیاس کیا، اور علتِ جامعہ کیا؟ کہ دونوں دین ہیں۔ وہ البتہ دین اللہ ہے حج اور یہ قرض کیا ہے؟ دین العبد ہے، اور دین کسے کہتے ہیں؟ جو کسی شخص کے ذمہ میں ثابت ہو اور اس کا ادا کرنا اس پر واجب ہو۔ دین کسے کہتے ہیں؟ جس کا ادا کرنا واجب ہو، اور یہ وجوب، یہ حکمِ شرعی ہے یا نہیں؟ وجوب، حرمت وغیرہ، یہ کیا چیزیں ہیں؟ یہ تو حکمِ شرعی ہے، تو یہاں وجوب آ گیا، تو دیکھو یہاں علتِ جامعہ کیا ہوئی؟ دین، اور دین کس کو کہتے ہیں؟ جو ذمہ جس کی ادائیگی واجب ہو، تو وجوب آ گیا واجب ہونا، اور وجوب یہ کیا ہے؟ یہ حکمِ شرعی ہے جو دونوں کے اندر پایا جا رہا ہے، اصل میں بھی اور فرع میں بھی بھئی۔ تو کہتے ہیں: "هذا معطوف على قوله وصفاً ومقابل له" اور اس کے مقابل ہے، یعنی جائز ہے کہ وہ معنی ایسا حکمِ شرعی ہو جو جامع ہو اصل اور فرع کے درمیان "كما روي" جیسے روایت کیا گیا ہے "أن امرأة جاءت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم" کہ ایک عورت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی "فقالت" پس اس نے کہا... جی اندازہ لگائیے بھئی، سرورِ کونین کے ساتھ کتنا اللہ نے کیا مقام دیا ان صحابہ اور صحابیات کو! سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم سے براہِ راست خطاب کا شرف اللہ نصیب فرما رہے ہیں بھئی۔ "فقالت" اس نے کہا: "إن أبي قد أدركه الحج" میرے والد جو ہیں تحقیق پا لیا ہے ان کو حج نے، حج نے ان کو پا لیا، حج فاعل ہے "أدركه" کے لیے، حج نے ان کو پا لیا یعنی ان پر حج فرض ہو گیا ہے "وهو شيخ كبير" اس حال میں کہ وہ بہت بوڑھے ہیں "لا يستمسك على الراحلة" جم کر نہیں بیٹھ سکتے سواری پر "أفتجزأ أن أحج عنه؟" "أفتجزأ أن أحج عنه؟" کیا یہ کافی ہوگا کہ میں ان کی طرف سے حج کر دوں؟ کیا یہ جائز ہوگا؟ "فقال" تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: "أرأيتِ" یاد رکھیے یہ "أرأيتِ" لفظی ترجمہ تو ہے: کیا تو نے دیکھا؟ لیکن یہ عرب یہ لفظ استعمال کرتے ہیں کہ تم مجھے بتلاؤ، تم مجھے بتلاؤ تو سہی۔ تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے: "أرأيتِ" تم مجھے بتلاؤ "لو كان على أبيك دين فقضيتيه" اگر تیرے والد پر دین ہوتا پس تو اس کو ادا کر دیتی "أما كان يقبل منكِ؟" "أما كان يقبل منكِ؟" کیا وہ تجھ سے قبول نہ کیا جاتا؟ "قالت: نعم" اس نے کہا: ہاں، کیوں نہیں؟ وہ یقیناً وہ قبول کر لیا جاتا۔ "قال: فدين الله أحق بالقبول" تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ اللہ کا دین زیادہ لائق ہے قبولیت کے۔ "فقاس النبي عليه الصلاة والسلام الحج على دين العباد" تو حضور علیہ السلام نے حج کو قیاس فرمایا بندوں کے دین پر "والمعنى الجامع بينهما هو الدين" اور معنی جامع ان دونوں کے درمیان کیا ہے؟ وہ وصفِ جامع، وہ دین ہونا ہے، وہ دونوں دین ہیں۔ "وهو عبارة" اور دین کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: "وهو عبارة عن حق ثابت في الذمة واجب الأداء" وہ عبارت ہے "عن حق ثابت في الذمة" وہ حق جو ذمہ میں ثابت ہو "واجب الأداء" اور ادا واجب ہو "والوجوب حكم شرعي" اور وجوب کیا ہے؟ حکمِ شرعی ہے، تو دیکھیے یہاں علت کیا ہے؟ حکمِ شرعی ہے۔ "وفرداً وعدداً" اور وہ علت کیا ہوگی؟ وہ معنی کیا ہوگا؟ کبھی فرد ہوگا "وعدداً" اور کبھی عدد یعنی متعدد ہوگا، یعنی مرکب ہوگا۔ وہ وہ معنی جو ہے، یعنی وہ علت جو ہے کبھی مفرد ہوگی اور کبھی مرکب ہوگی۔ "الظاهر" بھئی یہ "فرداً وعدداً"، یہ تو اب سب سے آخر میں آیا، یا تو یہ وصف کی تقسیم ہے، یا یہ اسم کی تقسیم ہے، یا یہ کس کی تقسیم ہے؟ حکم، تین قسمیں جو گزری ہیں ان میں سے کسی کی تقسیم ہے۔ تو شارح فرما رہے ہیں: "الظاهر أنه أيضاً تقسيم للوصف" ظاہر یہ ہے کہ یہ بھی وصف ہی کی تقسیم ہے "فالوصف الفرد" پس وصفِ فرد یعنی مفرد وصف جو ہے، مفرد وصف جو ایک ہی چیز علت بن رہی ہو۔ بھئی دیکھیے، ربا میں نے آپ کو تفصیل بتلائی تھی کہ جب قدر اور جنس دونوں چیزیں پائی جائیں، تو تفاضل بھی حرام اور ربا بھی... اوہ ادھار بھی حرام۔ تفاضل بھی حرام اور ادھار بھی حرام، اور ان دونوں میں سے اگر صرف ایک چیز پائی جائے مثلاً صرف قدر ہے، جنس نہیں، آپ چاول کے بدلے گندم خرید رہے ہیں، اب مثلاً چاول کو بھی آج کل وزن کرتے ہیں تو گندم کو بھی وزن کرتے ہیں، تو دیکھو قدر کے اندر وزن تھا، کیل اور وزن، تو دونوں طرف وزن آ گیا بھئی۔ تو اب قدر تو ہے، جنس نہیں، تو جب ایک چیز پائی جائے تو اس وقت ادھار حرام ہے، تفاضل جائز لیکن ادھار حرام۔ چنانچہ تفاضل جائز ہے، آپ 10 من چاول دے کر 20 من گندم لے سکتے ہیں بھئی، لیکن ادھار جائز نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا، ادھار کی علت، ادھار کی علت صرف قدر ہے، یا صرف جنس ہے، ایک چیز ہے کوئی بھی۔ صرف جنس ہو تو بھی ادھار حرام، صرف قدر ہو تو بھی ادھار حرام۔ تو ادھار کی علت، وہ ادھار حرام ہونے کی علت وہ مفرد چیز ہے یا مرکب ہے؟ مفرد ہے۔ اور تفاضل کی حرمت، وہ قدر اور جنس دونوں ہوں، تو دیکھو اس کی علت کیا ہے؟ مرکب ہے۔ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں: "فالوصف الفرد" تو وصفِ مفرد جو ہے "كالعلة بالقدر وحده والجنس وحده لحرمة النساء" جیسے کہ اکیلے قدر کے ساتھ ہے علت "والجنس وحده" اور اکیلی جنس کے ساتھ علت "لحرمة النساء" "لحرمة النساء"، نسء یہ بھی ادھار کو کہتے ہیں، نساءٌ یہ بھی کس کو کہتے ہیں؟ ادھار کو، نسیئةٌ یہ بھی کس کو کہتے ہیں؟ ادھار کو، نسءٌ، نساءٌ، نسیئةٌ۔ کہتے ہیں: "كالعلة بالقدر وحده والجنس وحده لحرمة النساء" جیسے کہ اکیلی قدر اور اکیلی جنس کے ذریعے علت ادھار کی حرمت کے لیے۔ "والوصف العدد" اور وصفِ عدد یعنی مرکب وصف جو ہے "كالقدر مع الجنس علة لحرمة التفاضل" جیسے کہ قدر مع الجنس یہ علت ہے تفاضل کی حرمت کے لیے۔ "والحاصل" حاصلِ کلام یہ بھئی، ساری بحث کا حاصل اب بتلانے لگے ہیں: "أن قوله اسم وحكما لا شبهة في أنه مقابل للوصف" کہ ماتن کا قول جو "اسمٌ وحكماً" آیا، اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ وصف کے مقابل ہیں، وصف کے مقابلے میں ہے کہ وہ معنی یا تو وصف ہوگا یا اسم ہوگا یا حکم، یہ تو اس کے مقابلے میں ہے۔ "وأن قوله" اور اس بات میں بھی کوئی شک نہیں جو مصنف کا قول آیا "لازماً وعارضاً" کہ "لا شك في أنه قسم للوصف" کہ یہ کس کی قسمیں ہیں؟ یہ تو ان سے پہلے ذکر ہوئی نہ، تو یہ کس کی قسمیں ہیں؟ وصف کی قسمیں ہیں، یہ اسم اور حکم سے پہلے ذکر ہوئیں بھئی۔ "وأما الجلي والخفي" باقی جلی اور خفی جو متن میں آیا "وكذا الفرد والعدد" اور اسی طرح جو فرد اور عدد آئے "فقد أورده على سبيل المقابلة والتداخل" تو اس کو لے کر آئے ہیں مصنف مقابلے اور تداخل کے طریقے پر، کس طریقے پر؟ مقابلے اور تداخل کے طریقے پر، یعنی دیکھا جائے تو یہ مقابل معلوم ہوتے ہیں وصف وغیرہ کے، کیا ہوتے ہیں؟ وصف کے مقابل، اور دیکھا جائے تو تداخل ان میں معلوم ہوتا ہے۔ بھئی دیکھیے، وصف کے بعد اسم آیا آگے چل کر، اور اسم تو کیا ہے؟ مقابل ہے، اور اس کے بعد پھر جلی اور خفی آئے۔ تو بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ شاید یہ جلی اور خفی یہ اسم کی صفات ہیں اور یہ وصف کے مقابل ہیں، یہ اسم کے... تو مقابلے کا بھی شبہ پڑتا ہے یہاں، اور دیکھا جائے تو یہ بعد میں ہیں وصف اور اسم کے، تو یہ بھی احتمال ہے ہو سکتا ہے یہ دونوں کی قسمیں ہوں، وصف بھی جلی اور خفی ہو اور اسم بھی جلی اور خفی ہو، اسی طرح فرد اور عدد میں بھی... تو اس میں بھی اسی طرح ہے، تو وہاں مقابلے کا بھی احتمال ہے اور تداخل کا بھی احتمال ہے کہ سب میں ہو۔ تو کہتے ہیں: باقی جلی اور خفی اور اسی طرح فرد اور عدد "فقد أورده على سبيل المقابلة والتداخل" تو اس کو لے کر آئے ہیں مصنف مقابلے اور تداخل کے طریقے پر "والظاهر أنه قسم للوصف" اور ظاہر یہی ہے کہ یہ وصف کی قسم ہے "إذ لم نجد له مثلا إلا في قسم الوصف" اسی کیونکہ ہم نے ان کی کوئی مثال نہیں پائی سوائے وصف کی قسم کے اندر، اسی میں ان کی مثالیں ملتی ہیں، تو معلوم ہوا یہ وصف کی قسم ہے۔ "وقد يسمى المعنى الجامع الوصف مطلقاً في عرفهم" کہتے ہیں: کبھی کبھار یہ جو معنی جامع جو ہے، یعنی یہ جو علت ہے جو جامعہ ہے اصل اور فرع کے درمیان، اس کو کبھی وصف کہہ دیتے ہیں "مطلقاً"، چاہے وہ اسم ہو... وہ وصف جو تھا، وہ جو جامع تھا، وہ تو وصف بھی ہو سکتا ہے، اسم بھی ہو سکتا ہے اور حکم بھی ہو سکتا ہے، لیکن کبھی کبھار قطعِ نظر وصف، اسم اور حکم ہونے سے، جو بھی ہو، مطلقاً اس کو کیا کہہ دیا جاتا ہے؟ وصف ہی کہہ دیا جاتا ہے، اس معنی جامع کو کیا کہہ دیا جاتا ہے؟ وصف ہی کہہ دیا جاتا ہے، چاہے وہ اسم ہی کیوں نہ ہو، چاہے وہ حکم ہی کیوں نہ ہو۔ کہتے ہیں: "وقد يسمى المعنى الجامع الوصف مطلقاً في عرفهم" اور کبھی کبھار اس معنی جامع کو وصف کہہ دیتے ہیں مطلقاً "في عرفهم" یعنی "في عرف الأصوليين"، علماءِ اصولِ فقہ کے عرف میں "سواء كان وصفاً أو اسماً أو حكماً" چاہے وہ وصف ہو یا اسم ہو یا حکم ہو "على ما سيأتي" بناءً بر اس کے جو عنقریب آ جائے گا "وهذا كله من تفنن فخر الإسلام" اور یہ سب فخر الاسلام کے تفنن ہیں۔ تفنن کہتے ہیں یعنی نئی نئی عبارت لانا بھئی، نئے انداز اپنانا بھئی، سمجھ میں آئی بات؟ تو اس کو... تو یہ ان کا تفنن ہے بھئی، "والناس أتباع له" اور لوگ ان کے تابع ہیں، باقی لوگ ان کے تابع ہیں، انہوں نے یہ کہا کہ یہ کبھی اسم ہوگا، وصف ہوگا، کبھی اسم ہوگا اور کبھی حکم ہوگا، تو لوگ باقی اصولیین بھی انہی کے اتباع کرتے ہوئے اس طرح بیان کرتے ہیں۔ "ويجوز في النص وغيره إذا كان ثابتاً به" بھئی یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ وہ علت جس کے ذریعے قیاس کیا جائے گا بھئی، اس علت کا نص کے ذریعے ثابت ہونا ضروری ہے۔ اس علت کا نص کے ذریعے اس علت کا ثابت ہونا ضروری ہے، وہ علت چاہے نص میں ہو، جب نص میں ہے پھر تو ثابت ہی کس کے ذریعے ہے نص کے ذریعے یا چاہے وہ غیر نص میں ہو، لیکن پھر بھی ثابت کس کے ذریعے ہونی چاہیے نص کے ذریعے ثابت تو اس علت کا یعنی حاصل یہ کہ علت کا نص کے ذریعے ثابت ہونا ضروری ہے، چاہے وہ نص میں ہو چاہے غیر نص میں ہو لیکن ثابت نص کے ذریعے ہونی چاہیے کہتے ہیں و یجوز فی النص اور جائز ہے کہ وہ معنی یعنی وہ علت جو ہے فی النص نص میں ہو و غیرہ اور یہ بھی جائز ہے کہ غیر نص میں ہو اذا کان ثابتاً بہ جب وہ ثابت ہو نص ہی کے ذریعے بھئی وہ جائز ہے کہ وہ علت جو ہے نص میں ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ علت غیر نص میں ہو جبکہ وہ ثابت نص ہی کے ذریعے ہو جب ثابت نص ہی کے ذریعے ہو رہی ہے تو غیر نص میں بھی ہو تو کوئی حرج نہیں ہے بھئی۔ و یجوز ان یکون ذلک المعنی منصوصاً فی النص، یعنی جائز ہے کہ وہ معنی یعنی وہ علت جو ہے منصوصاً نص کے اندر منصوص وہ جس کے بارے میں نص ائی ہو بھئی، نص ائی ہو تو کہتے ہیں جائز ہے کہ وہ معنی وہ علت جو ہے منصوصاً نص کے اندر کالطواف فی سورۃ الہرۃ، جیسے کہ طواف ہے کس کے اندر سورۃ الہرۃ بلی کے جھوٹے کے پکی کے اندر، حدیث کے اندر طواف کا ذکر آیا۔ و ان یکون فی غیر النص اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ معنی یا وہ علت جو ہے غیر نص کے اندر ہو، ولکن ثابتاً بہ، لیکن ثابت کس کے ذریعے ہو؟ وہ علت ثابت نص ہی کے ذریعے ہو کالمثلۃ التی مرت الآن، جیسے کہ وہ مثالیں جو اب تک گزریں بھئی۔ جیسے ان میں آیا تھا بھئی۔ بھئی جیسے وہ مثال بیان ہوئی تھی کہ نص جو ہے وہ اس وصف پر مشتمل ہو۔ تاریخ میں آیا تھا یعنی رکن کی قیاس کا رکن علت ہے وہ وہ وصف ہے اور وہ وصف اس طرح کا ہو کہ نص اس پر مشتمل ہو، یا تو صیغے کے اعتبار سے یا غیر صیغے کے اعتبار سے، لیکن ہو نص ہی کے اندر۔ صیغے کے اعتبار سے نص کے اندر ہو، اس کی مثال ذکر کی جیسے علت ربا، قدر اور جنس۔ وہ صیغے کے اعتبار سے ہی نص سے سمجھ میں آرہے ہیں صیغے کے اعتبار سے ہی نص میں ذکر ہیں بھئی۔ یا جیسے طواف جو ہے وہ صیغے کے اعتبار سے کس کے اندر ذکر ہے؟ نص کے اندر اور کبھی نص کے اندر صیغے کے اعتبار سے تو ذکر نہیں لیکن ثابت نص ہی کے ذریعے ہے۔ نص ہی اس پر دلالت کر رہی ہے، جیسے وہ حدیث ذکر ہوئی تھی کہ حدیث میں حضور علیہ السلام نے بھگوڑے غلام کی بیع سے منع فرمایا۔ بھگوڑے غلام کے بیچنے سے منع فرمایا اور علت اس کی کیا وجہ اس کی یہ کہ یہ جو بیچنے والا ہے جس کا بھگوڑا غلام ہے یہ اس غلام کے سپرد کرنے سے اس وقت عاجز ہے۔ غلام بھاگا ہوا ہے تو کیسے اس کے سپرد کرے گا بھئی خریدار کے سپرد تو یہاں پر علت کیا ہے؟ عجز عن التسلیم سپرد کرنے سے عاجز ہے اور یہ علت نص ہی سے سمجھ میں آرہی ہے۔ کس سے سمجھ میں آرہی ہے؟ نص ہی سے سمجھ میں آرہی ہے، نص ہی سے ثابت ہے۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو یہ اگرچہ نص میں لفظوں کے اعتبار سے تو نہیں لیکن ثابت کس کے ذریعے ہے؟ نص کے ذریعے ہے۔ ثم شرع فی بیان ما یعلم بہ ان ھذا الوصف وصف دون غیرہ، فقال، پھر مصنف یہ بات بیان کرنے میں شروع ہوئے۔ جی بھئی آگے یہاں یہ بیان کریں گے کہ ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ کوئی وصف علت ہے اور کوئی وصف علت نہیں۔ ایک چیز کے بہت سے اوصاف ہوں گے بھئی، ہمیں کیسے پتہ چلے گا یہ والا وصف علت ہے، باقی اوصاف علت نہیں ہیں، تو وہ اب بتلانے لگے ہیں۔ کہتے ہیں ثم شرع فی بیان ما پھر شروع ہوئے مصنف اس چیز کے بیان میں یعلم بہ جس کے ذریعے یہ معلوم ہوگا ان ھذا الوصف وصف کہ یہ وصف وصف ہے دون غیرہ نہ کہ اس کے علاوہ فقال پس مصنف نے فرمایا و دلالت کون الوصف علۃً صلاحہ و عدالتہ، دلالت کون الوصف، دلالت یاد رکھیے یہاں دلالت بمغنی دلیل کے ہے، ای دلیل کون الوصف علۃً اس وصف کے علت ہونے کی دلیل۔ اس وص آپ نے علت کس کو بنایا مثلاً ایک وصف کو، تو اس وصف کے علت ہونے کی دلیل جو ہے صلاحہ و عدالتہ اس میں علت ہونے کی صلاحیت بھی ہو اور اس میں عدالت بھی ہو بھئی۔ اس میں صلاحیت بھی ہو اور عدالت بھی ہو۔ یہ جو علت ہے نا علت یہ گواہ کی طرح ہے۔ بھئی دیکھیے آپ کو اپنے مسائل مسئلوں کے اندر کسی بات کو دوسرے پر ثابت کرنا ہو تو کس کی ضرورت پڑتی ہے؟ گواہ کی ضرورت پڑتی ہے۔ آپ کی گواہ آپ کی طرف سے گواہ پیش ہوں گے تو یہ گواہ آپ کے فریق مخالف پر آپ کے دعوے کو لازم کر دیں گے، ثابت کر دیں گے۔ کیا کر دیں گے؟ گواہ ہیں تو یہ دعویٰ ثابت ہو جائے گا، گواہ نہیں تو دعویٰ بھی ثابت نہیں۔ تو یہ علت بھی گواہ کی طرح ہوا کرتی ہے بھئی، یہ گواہی دے گی تو یہ حکم فرع کے اندر ثابت ہوگا ورنہ فرع کے اندر یہ حکم ثابت نہیں ہوگا بھئی۔ بھئی شراح کے بارے میں تو نص آگئی، بھنگ کے اندر بھی آپ حرمت والا حکم لگانا چاہتے ہیں ایک چیز اس پر لازم کرنا چاہتے ہیں حکم ثابت کرنا چاہتے ہیں تو کس چیز کی ضرورت ہے؟ گواہ کی ضرورت ہے، تو یہ علت کس کے درجے میں ہے؟ گواہ کے درجے میں ہے اور گواہ کے اندر آپ نے پڑھا ہے کہ اس کے اندر صلاحیت بھی ہونی چاہیے، عدالت بھی ہونی چاہیے بھئی۔ صلاحیت یعنی اس میں اہلیت ہونی چاہیے گواہ بننے کی، بچہ نہ ہو، غلام نہ ہو کیونکہ ان میں تو وہ اہ گواہی کی صلاحیت ہی نہیں ہے یعنی عاقل بالغ ہونا چاہیے، کیا ہونا چاہیے؟ عاقل بالغ آزاد ہوگا تو اس میں صلاح اہلیت ہے گواہی کی، پھر صرف عاقل بالغ آزاد ہونا کافی نہیں بلکہ عادل بھی ہونا چاہیے تب ہی اس کی گواہی کو قبول کرنا قاضی پر واجب ہوگا۔ اگر عدالت نہیں تو قاضی پر بھی اس کی گواہی کو قبول کرنا واجب نہیں بھئی، قبول کر سکتا ہے، میں پہلے بیان کر چکا ہوں لیکن واجب نہیں لیکن جب عادل ہو گواہ تو یاد رکھیے قاضی مجبور محض کی طرح ہو جاتا ہے، عادل گواہوں کی گواہی کے بعد اس پر فیصلہ کرنا واجب ہو جاتا ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا گواہ کے اندر کیا ضروری؟ اہلیت بھی ضروری اور اس کا عادل ہونا بھی ضروری۔ اسی طرح یہ علت بھی گواہ کی طرح ہے تو اس کے اندر بھی اہلیت یعنی صلاحیت بھی ضروری اور اس کے اندر عدالت بھی ضروری۔ اب علت کے اندر صلاحیت کا کیا معنی؟ عدالت کا کیا معنی؟ وہ آگے بیان کریں گے، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں و دلالت کون الوصف علۃً اور اس وصف کے علت ہونے کی دلیل جو ہے صلاحہ و عدالتہ اس کی صلاحیت اور عدالت ہوگی اس میں صلاحیت اور عدالت ہوگی تو یہ دلیل ہوگی کہ یہ علت ہے یہ علت بن سکتا ہے، اگر اس میں صلاحیت اور عدالت ہی نہیں ہے اس علت کے اندر تو وہ علت بھی نہیں بن سکتی۔ فان الوصف القیاس بمنزلۃ الشاھد فی الدعوی، اس لیے کیونکہ وصف جو ہے یعنی وہ علت جو ہے قیاس میں وہ دعوے میں شاہد کے درجے میں ہے، جیسے کہ دعوے کے اندر گواہ ہوا کرتا ہے یہ علت بھی اسی درجے میں ہے، فکما یشترط فی الشاھد للقبول، پس جیسے کہ شرط لگائی جاتی ہے گواہ کے اندر گواہی کو قبول کرنے کے لیے ان یکون صالحاً کہ وہ صالح ہو۔ یعنی اس میں اہلیت ہو۔ کیا ہو؟ اہلیت صلاحیت ہو، و عادلاً اور عادل عادل ہو، فکذا فی الوصف اسی طرح وصف میں بھی ہے و کما ان فی الشاھد اور جیسے کہ گواہ کے اندر لا یجوز العمل قبل الصلاح عمل کرنا جائز نہیں ہے صلاحیت سے پہلے، صلاحیت سے پہلے عمل عمل جائز نہیں یعنی جب تک اہلیت نہیں ہے گواہی کو سنا بھی نہیں جائے گا غلام اور بچے کو آپ لے آئیں تو اس کی گواہی کو عمل تو دور کی بات ہے سنا بھی نہیں جائے گا، تو جیسے گواہ کے اندر عمل ہی جائز نہیں ہوتا صلاحیت سے پہلے، و لا یجب قبل العدالت اور عدالت سے پہلے گواہ میں عمل واجب نہیں ہوتا۔ قاضی گواہ عادل نہ ہو قبول تو کر سکتا ہے لیکن واجب نہیں، لیکن عادل ہو تو پھر قبول کرنا واجب یہی بات بیان کر رہے ہیں و لا یجب قبل العدالت اور گواہ کے اندر عمل واجب نہیں ہوتا قبل العدالت اس کے عادل ہونے سے پہلے، فکذا فی الوصف، تو اسی پس اسی طرح وصف میں بھی ہے۔ ثم بیان معنا الصلاح و العدالت علی غیر ترتیب اللف، پھر بیان کیا مصنف نے یہ جو صلاح اور عدالت ائے کہ علت میں صلاحیت بھی ہو اور عدالت بھی ہو اس کا کیا معنی؟ تو اس کا معنی بیان کیا علی غیر ترتیب اللف، لف کی ترتیب کے بغیر ہی۔ لف میں پہلے کون تھا؟ صلاح اور بعد میں کیا ہے؟ عدالت، لیکن یہ پہلے کیا کس کو ذکر کریں گے؟ عدالت کے معنی کو بیان کریں گے اس کے بعد صلاح کے معنی کو۔ فبدأ اولاً بذکر العدالت، پس شروع ہوئے پہلے عدالت کے ذکر کو اور شروع کیا پہلے عدالت کے ذکر کو بقولہ اپنے اس قول کے ساتھ، بزہور اثرہ فی جنس الحکم المعلل بہ۔ بظھور اثرہ ای بسبب ظھور اثرہ، بہ وجہ ظاہر ہونے اس وصف کے اثر کے، اس وجہ سے کہ اس وصف کا اثر ظاہر ہوا ہے، ترجمہ ترجمے پہ نظر ہے؟ اس وجہ سے کہ اس وصف کا اثر ظاہر ہوا ہے فی جنس الحکم کس کے اندر؟ اس جنس حکم میں المعالل بہ جس کے لیے جس کی تعلیل کی گئی ہے یعنی جس کے لیے قیاس کیا گیا ہے۔ وہ حکم حکم معلل بہ وہ حکم جس کے لیے علت بیان کی گئی ہے، وہ علت جس کے لیے قیاس کیا گیا ہے توجہ سے بھئی یہ ذرا مشکل مقام ہے۔ وہ حکم جس کے لیے قیاس کیا گیا ہے اس حکم کی جنس میں اس وصف (یعنی اس علت) کا اثر ظاہر ہو تو یہ اس کا معنی یہ ہے کہ یہ علت اس میں عدالت ہے۔ اس علت میں کیا ہے؟ عدالت ہے۔ کسے کہا عدالت؟ کہ یہ جو علت ہے اس کا اثر ظاہر ہوا ہو۔ کس کے اندر ظاہر ہوا ہو؟ وہ حکم جس کے لیے قیاس کیا جا رہا ہے اس کی جنس میں اس حکم میں نہیں اس کی جنس میں۔ بھئی دیکھیے شرع میں آگے بیان کریں گے آپ یہیں پر سمجھ لیں۔ مثلاً بھئی شراب حرام ہے، یہ ہے حکم اور علت کیا ہے اس کی؟ نشہ ہے، اور اسی طرح بھنگ بھی حرام ہے اور اس کی علت کیا ہے؟ نشہ ہے۔ اب دیکھیے اس نشے کی وجہ سے کون سا حکم ثابت ہو رہا ہے؟ حرمت والا، تو یہ نشہ جو ہے عین علت ہے اور یہ جو حکم اس سے ثابت ہوا یہ عین حکم ہے۔ عین اسی نشے کے ذریعے، عین یہی حرمت والا حکم ثابت ہو رہا ہے، تو یہ کیا ہے؟ نشہ کیا ہے؟ عین علت اور یہ جو حرمت والا حکم ہے یہ عین حکم ہے۔ یہ تو تھا عین علت اور عین حکم، ایک ہے جنس علت اور اسی طرح ایک ہے جنس حکم۔ جنس علت اور جنس حکم، جیسے اس کی مثال آگے وہ بیان کریں گے بھئی۔ بیان کریں گے۔ بھئی دیکھیے ہم نے نابالغ بیٹا ہے یا بیٹی ہے ہم کہتے ہیں اس کے والد کو ولایت نکاح حاصل ہے۔ ہم کیا کہتے ہیں؟ تو دیکھیے جو صغر ہے نابالغ ہونا یہ علت بنایا ہم نے کس چیز کے لیے؟ ولایت نکاح کے لیے، صغر ہے تو ولایت نکاح ہے، صغر نہیں یعنی بالغ ہو گئے اب صغر نہ رہا تو حکم بھی نہ رہے گا یعنی والد کو ولایت نکاح بھی یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اور کیوں یہ ہم نے صغر کو ولایت نکاح کے لیے علت کیوں بنایا؟ کیونکہ اس صغر کا اس صغر کی وجہ سے، یعنی عین اسی علت کی وجہ سے اسی جنس کا ایک اور حکم بھی بالاتفاق ثابت ہے، اور وہ ہے ولایت مال۔ اور وہ کیا ہے؟ ولایت مال۔ بھئی بچہ ہے نابالغ ہے وہ اپنے مال میں تصرف نہیں کر سکتا تو والد کو شریعت نے حق دے دیا اب اس بچے پر خرچ وغیرہ کرنا ہے تو والد کیا کر سکتا ہے؟ اس پر خرچ کر سکتا ہے، یہ کیا ہے ولایت مال اور یہ کس وجہ سے دی گئی ہے؟ صغر کی وجہ سے کیونکہ یہ نابالغ ہے یہ بیچار تصرف نہیں کر سکتا اور ضرورت تو اس کو ہے، اس نے کھانا بھی ہے، پینا بھی ہے، پہننا بھی ہے، والد بیچارے کے پاس اتنا مال ہی نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ مثلاً کسی نے بچے کے لیے وصیت کر دی تھی بچے کو مال مل گیا والد کا تو مال نہیں ہے اب یہ کس کا مال ہے؟ بچے کا مال ہے، تو والد اسی میں سے اس پر خرچ کرنا چاہتا ہے تو اگر والد کو ولایت نہ ہو یہ تو حرج لازم آئے گا بھئی وہ خود بھی نہیں خرچ کر سکتا کوئی اور بھی اس پر خرچ نہیں کر سکتا، تو بالاتفاق اس صورت میں ولایت کس کو حاصل ہے؟ ولایت مال، تو دیکھئے اور کس وجہ سے علت کیا ہے؟ صغر، تو دیکھیے اس صغر کی وجہ سے بالاتفاق ولایت مال حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ علت ہے صغر اور حکم کیا ہے ولایت مال۔ تو اسی صغر کو ہم نے علت بنا دیا کس کے لیے؟ ولایت نکاح کے لیے بھی، کس کے لیے؟ ولایت نکاح کے لیے، بھئی کیوں علت بنایا؟ وجہ یہ کہ یہ جو صغر ہے یہ اس میں عدالت آگئی۔ کیا آگئی؟ عدالت، عدالت کس چیز کا نام تھا؟ کہ یہ علت جو ہے اس کی وجہ سے اسی جنس کا کوئی اور حکم بھی ثابت ہوا ہو۔ متن میں کیا بتایا؟ عدالت کس چیز کا نام ہے؟ کہ اسی علت کی وجہ سے اسی جنس کا کوئی اور حکم کسی اور حکم کے لیے بھی یہ علت ہو۔ دونوں میں ولایت ہے یا نہیں؟ ہیں، ایک چیز تو نہیں ہے، ایک ولایت مال ہے تو دوسرا ولایت نکاح، لیکن جنس تو ایک ہی ہے، وہ بھی ولایت ہے، یہ بھی ولایت ہے، ہاں یہ وہ نکاح کی ولایت ہے اور یہ مال کی ولایت ہے، تو البتہ جنس تو ایک ہی ہے حکم کے، تو اس علت کے ذریعے دیکھو، یہ علت موثر ہوئی ہے، کس کے اندر؟ کیاث کا ثابت کس علت بنا کس کے لیے رہے ہیں ہم اسے؟ ولایت نکاح کے لیے علت بنا رہے ہیں، لیکن کب بنے گی؟ جب یہ صغر جس کو ہم نے علت بنا رہے ہیں اس کا عادل ہونا ثابت ہو جائے گا اور عادل ہونا کس طرح ثابت ہوگا کہ اس بیعینہ اس نے، کس کو علت بنا رہے؟ صغر، بیعینہ یہی صغر جو ہے اس نے اپنا اثر دکھایا ہو کس کے اندر؟ اسی جنس کی اس حکم میں نہیں، عین میں نہیں، عین کو تو ہم نے ثابت کرنا ہے، اسی کی جنس میں اثر دکھایا ہو اور اس صغر نے اسی ولایت کی جنس میں اثر دکھایا یا نہیں؟ دکھایا۔ کہاں پر؟ ولایتِ مال میں بالاتفاق۔ علت کیا ہے ولایتِ مال کی؟ صِغر ہے۔ تو وہاں بعینہٖ اسی صِغر میں اثر دکھایا اسی حکم کی جنس میں۔ جب اسی حکم کی جنس میں اس نے اثر دکھایا ہے، تو اس عینِ حکم، یعنی ولایتِ نکاح میں بھی یہ اب اپنا اثر دکھا سکتی ہے بھئی، اس کو علت بنایا جا سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ تو یہ تو تھا کہ عینِ وہی علت اثر دکھا رہی ہے۔ کس کے اندر اثر دکھا رہی ہے؟ دوسری جگہ پر، جنسِ نکاح میں اثر دکھا رہی ہے۔ اور کبھی جنسِ علت... عکس کریں ذرا اس کا، میں نے کیا بتلایا؟ ایک عینِ علت ہے، ایک عینِ حکم ہے۔ ایک جنسِ علت ہے، ایک جنسِ حکم۔ کتنی چیزیں ہو گئیں؟ چار: عینِ علت اور جنسِ علت، عینِ حکم اور جنسِ حکم۔ تو یہاں صورتیں بھی چار بن گئیں۔ پہلی صورت: عینِ علت اثر دکھائے عینِ حکم کے اندر۔ عینِ علت اثر دکھائے کس کے اندر؟ عینِ حکم کے اندر، جیسے کہ وہ بلی کا جھوٹا جو ہے اس کو پاک قرار دیا گیا، اور کس کی وجہ سے؟ علتِ طواف کی وجہ سے، علتِ طواف کی وجہ سے۔ تو دیکھیے، دیکھو اس عینِ طواف نے کس کے اندر اثر دکھایا؟ عینِ علت کے اندر، اور یہ کس سے ثابت ہے؟ یہ تو نص سے ثابت ہے بھئی، کس سے؟ نص سے ثابت ہے۔ تو یہاں عینِ حکم علت نے کس کے اندر اثر دکھ... کس میں مؤثر ہے وہ؟ عینِ حکم میں۔ دوسری صورت: عینِ علت مؤثر ہو جنسِ حکم کے اندر۔ عینِ علت کس میں مؤثر ہو؟ جنسِ... جیسے ابھی میں نے مثال بیان کی۔ وہی صِغر جس کو ہم علت بنانا چاہتے ہیں، بعینہٖ وہی صِغر مؤثر تھا کس کے اندر؟ جنسِ ولایت کے اندر مؤثر تھا، یعنی ولایتِ مال کے اندر۔ تو ہم نے اس کو علت بنا دیا کس کے لیے؟ ولایتِ نکاح کے لیے بھی علت۔ ولایتِ نکاح کے لیے تو اس کا علت ہونا ثابت نہیں تھا، لیکن اسی کی جنس میں تو اس کے علت ہونا ثابت... کس چیز کا علت ہونا؟ عینِ صِغر ہی کا۔ اسی صِغر کو ہم نے اسی لیے علت بنایا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تیسری صورت: جنسِ علت، یہ مؤثر ہو عینِ حکم کے اندر۔ جنسِ علت مؤثر ہو کس کے اندر؟ عینِ حکم میں۔ بھئی، چار صورتیں میں نے بیان کیں: عینِ علت مؤثر ہو عینِ حکم میں، یا عینِ علت مؤثر ہو جنسِ حکم میں، یا جنسِ علت مؤثر ہو عینِ حکم میں، یا چوتھی صورت: جنسِ علت مؤثر ہو جنسِ حکم کے اندر بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ وہ چاروں بیان کریں گے آگے، دیکھیے اب کتاب پر بھئی۔ کہتے ہیں: "بِظُهُورِ أَثَرِهِ فِي جِنْسِ الْحُكْمِ الْمُعَلَّلِ بِهِ" بعينہٖ اس علت کے اثر کے ظاہر ہونے کے "فِي جِنْسِ الْحُكْمِ الْمُعَلَّلِ بِهِ" اس حکم کی جنس میں جس کے لیے قیاس کیا گیا ہے، "أَيْ بِأَنْ ظَهَرَ أَثَرُ الْوَصْفِ" بایں طور کہ اس وصف کا اثر ظاہر ہو "فِي جِنْسِ الْحُكْمِ الْمُعَلَّلِ بِهِ" اس حکم کی جنس میں جس کے ذریعے قیاس کیا گیا ہے "مِنْ خَارِجٍ" اس وصف کا اثر ظاہر ہو، کس کے اندر ظاہر ہو؟ اس حکم کی جنس میں جس کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟ قیاس کیا جا رہا ہے۔ تو اس وصف کا اثر ظاہر ہو اس کی جنس میں "مِنْ خَارِجٍ" کہاں سے؟ خارج سے "قَبْلَ الْقِيَاسِ" قیاس سے پہلے ہی۔ "وَإِنْ ظَهَرَ أَثَرُهُ فِي عَيْنِ ذَلِكَ الْحُكْمِ الْمُعَلَّلِ بِهِ" اور اگر ظاہر ہو اس علت کا اثر عین اس حکمِ معلل بہٖ کے اندر، وہ اس حکم کے اندر جس کے لیے قیاس کیا جا رہا ہے "مِنْهُ أَيْ مِنَ الْخَارِجِ" کہاں سے؟ اگر اس علت کا اثر عینِ حکم میں ہی ظاہر ہو، کس سے؟ ظاہر کس سے ہو؟ "مِنْ خَارِجٍ" کہاں سے؟ خارج سے ظاہر ہو۔ "فَبِالطَّرِيقِ الْأَوْلَى" تو پھر تو یہ بطریقِ اولیٰ عدالت ثابت ہو گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ انہوں نے کہا، کون سی صورت ذکر کی بطریقِ اولیٰ میں؟ عینِ علت کا اثر کس میں ظاہر ہو؟ عینِ حکم کے اندر۔ بھئی، جب عینِ علت کا اثر جنسِ حکم میں ظاہر ہو تو وہ علت بنے گی یا نہیں بنے گی؟ جب جنسِ حکم میں اس کا اثر ظاہر ہونے سے وہ علت بن رہی ہے، تو عینِ حکم کے اندر جب اس کا اثر ظاہر ہو گی تو وہ بطریقِ اولیٰ علت بنے گی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ "وَجُمْلَتُهُ تَرْتَقِي إِلَى أَرْبَعَةِ أَنْوَاعٍ" اور ان کا مجموعہ جو ہے، ارتقى يرتقي کے معنی ہوتے ہیں چڑھنے کے، یعنی جیسے سیڑھی وغیرہ پر چڑھنا اوپر کو، لیکن یہاں مراد ہے پہنچنا۔ "وَجُمْلَتُهُ تَرْتَقِي إِلَى أَرْبَعَةِ أَنْوَاعٍ" اور ان کا مجموعہ جو ہے وہ پہنچتا ہے چار قسموں تک، یعنی یہاں چار قسمیں بنیں گی۔ "الْأَوَّلُ" پہلی قسم یہ: "أَنْ يَظْهَرَ أَثَرُ عَيْنِ ذَلِكَ الْوَصْفِ" کہ ظاہر ہو عین اس وصف کا اثر "فِي عَيْنِ ذَلِكَ الْحُكْمِ" عین اس حکم کے اندر "وَهُوَ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ" اور یہ وہ ہے جس پر اتفاق کیا گیا ہے، "كَأَثَرِ عَيْنِ الطَّوَافِ فِي عَيْنِ سُؤْرِ الْهِرَّةِ" جیسے کہ عینِ طواف جو ہے اس کا اثر کس کے اندر؟ عینِ سؤرِ ہرہ کے اندر بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ حدیث سے معلوم ہو رہا ہے بھئی، قیاس سے پہلے ہی ہمیں معلوم ہو رہا ہے بھئی۔ "وَالثَّانِي" اور دوسری قسم: "أَنْ يَظْهَرَ أَثَرُ عَيْنِ ذَلِكَ الْوَصْفِ" کہ ظاہر ہو عین اس وصف کا اثر "فِي جِنْسِ ذَلِكَ الْحُكْمِ" اس حکم کی جنس میں "وَهُوَ الَّذِي ذَكَرَهُ الْمُصَنِّفُ" اور یہ وہ قسم ہے جس کو مصنف نے ذکر کیا متن میں، "كَالصِّغَرِ" جیسے کہ صغیر ہونا، یعنی نابالغ ہونا "ظَهَرَتْ تَأْثِيرُهُ فِي جِنْسِ حُكْمِ النِّكَاحِ" اس صِغر کی تاثیر ظاہر ہوئی جنسِ حکمِ نکاح کے اندر، حکمِ نکاح میں نہیں، وہ تو ابھی ہم نے قیاس کرنا ہے، اس حکمِ نکاح کی جنس میں اس کی تاثیر ظاہر ہوئی "وَهُوَ وِلَايَةُ الْمَالِ لِلْوَلِيِّ" اور وہ کیا ہے؟ کہ ولی کے لیے ولایتِ مال ہے، "فَكَذَا فِي وِلَايَةِ النِّكَاحِ" تو اسی اس صِغر کی تاثیر ولایتِ نکاح میں بھی ظاہر ہو گی۔ "وَالثَّالِثُ" اور تیسری قسم یہ: "أَنْ يُؤَثِّرَ جِنْسُهُ" کہ اس علت کی اس معنی کی جنس مؤثر ہو "فِي عَيْنِ ذَلِكَ الْحُكْمِ" اس حکم کی عین میں۔ بھئی، دیکھیے۔ اب ہم صورت بنائیں گے۔ حکم وہی ہو گا، عینِ حکم، وہی ایک ہی حکم ہو گا۔ اور اس کے اندر اسی علت نے تو اثر نہیں دکھایا، اس کی جیسی علت نے اثر دکھایا، تو یہ بھی لہٰذا پھر اپنا اثر دکھائے گی۔ جب اس جینسِ علت نے اس حکم میں اثر دکھایا ہے، تو یہ عینِ علت بھی کیا کرے گی پھر اس میں؟ اثر دکھائے گی۔ مثلاً دیکھیے: جنون اور حیض۔ جنون کی وجہ سے بھی نمازیں ساقط، مجنون تو مکلف ہی نہیں ہے، اس کو سمجھ ہی کچھ نہیں، اس پر نمازیں ہے ہی نہیں، ساقط ہیں اس سے۔ اسی طرح حائضہ حیض والی عورت ہے، اس کو چھ سات دن حیض آئے گا، اور اس کے بعد آپ نے پڑھا ہے اس پر نمازوں کی قضا نہیں۔ ہاں، روزے رمضان کے تھے تو ان کی اس کو قضا کرنا پڑے گی، نمازوں کی قضا نہیں۔ تو دیکھیے، جنون اور حیض کی وجہ سے عینِ صلاۃ ساقط ہو جاتی ہے۔ جنون اور حیض کی وجہ سے عینِ صلاۃ کیا ہو جاتی ہے؟ ساقط ہو جاتی ہے۔ اسی طرح بے ہوشی اگر کسی شخص پر طاری ہو جائے، آپ نے فقہ میں تفصیل پڑھی ہو گی، اگر پانچ نمازوں سے زائد کا وقت گزر جائے، یعنی چھ نمازوں کا وقت گزر جائے اور وہ بے ہوش ہی ہے، تو یاد رکھیے یہ نمازیں اس سے ساقط ہو گئیں، اس کی قضا اس پر نہیں۔ پانچ نمازوں تک ہوا تو پھر تو ہوش آ گیا، پھر تو قضا ہے، لیکن اس کے بعد قضا بھی نہیں۔ اور یہ قضا نہیں۔ تو اب ہم نے اغماء کو علت بنایا کس چیز کی؟ اسقاطِ صلاۃ کی، کس کی؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ اغماء کو، یعنی بے ہوشی کو ہم نے علت بنایا اسقاطِ صلاۃ کی۔ کیوں؟ علت کیوں بنایا؟ وجہ یہ کہ بعینہٖ یہ اغماء تو نہیں، ہاں اسی جیسی کچھ علتیں ہیں، اسی کی جنس کی علتیں ہیں، اور وہ کیا؟ جنون اور حیض، وہ اسی کی جنس کے ہیں۔ جنون اور حیض کیا ہیں؟ اسی اغماء کی جنس میں سے ہیں، اور وہ ان کی وجہ سے نماز ساقط ہوئی یا نہیں؟ کیا ساقط ہوئے؟ تو جنون اور حیض ان کی وجہ سے عینِ نماز ساقط ہوئی، اور اسی اغماء کے ذریعے بھی ہم عینِ صلاۃ ہی کو کیا کرنا چاہتے ہیں؟ ساقط کرنا، اس کے لیے علت ہم قرار دے رہے ہیں۔ تو جنون اور حیض وہ ہیں تو الگ، لیکن اغماء کی جنس میں سے ہیں۔ کس میں سے ہیں؟ اغماء کی جنس میں سے ہیں، وجہ یہ: کہ جس طرح حائضہ کے بدن سے خروجِ نجاست ہے بغیر ارادے کے، اسی طرح مجنون جو ہے اس کو بھی اپنا کوئی ہوش نہیں ہوتا، وہاں بھی خروجِ نجاست ہوتا ہے بغیر ارادے کے، اسی طرح یہ جو اغماء بے ہوشی میں بھی انسان کو کوئی پتہ نہیں ہوتا، اس میں بھی کیا ہوتا ہے؟ خروجِ نجاست بغیر ارادے کے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں تو یہ اسی کی جنس سے ہیں بھئی، اسی کی... تو اغماء کس کی جنس سے؟ حیض اور جنون، اور حیض اور جنون کی وجہ سے کیا ساقط ہو جاتی ہے؟ عینِ صلاۃ، تو اسی عینِ صلاۃ کے لیے ہم کیا کرنا چاہتے ہیں؟ اغماء کو علت بنانا چاہتے ہیں، اور اس کو علت بنایا ہم نے، کیوں؟ کیونکہ اس کی جنس کی جو علتیں تھیں، یعنی جنون اور حیض، ان کی وجہ سے عین یہی حکم ساقط ہو رہا تھا، تو یہ بھی اغماء بھی انہی کی جنس میں سے ہے، اس کی وجہ سے بھی کیا ہونا چاہیے؟ عین اس حکم کو ساقط ہونا چاہیے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ "وَالثَّالِثُ أَنْ يُؤَثِّرَ جِنْسُهُ فِي عَيْنِ ذَلِكَ الْحُكْمِ" تیسری قسم یہ کہ مؤثر ہو اس وصف کی جنس عین اس حکم کے اندر "كَإِسْقَاطِ قَضَاءِ الصَّلَاةِ" "الْمُتَكَاثِرَةِ" ہے آپ کی کتابوں میں؟ ہاں، یہ واؤ یاد رکھیے کتابت کی غلطی ہے بھئی، یہ واؤ کتابت کی غلطی ہے۔ "الْمُتَكَاثِرَةِ" یہ صفت ہے صلاۃ کی بھئی۔ "كَإِسْقَاطِ قَضَاءِ الصَّلَاةِ الْمُتَكَاثِرَةِ" متکاثرہ جو زیادہ ہوں، زیادہ بھئی، پانچ سے زیادہ جو ہو جائیں نمازیں، وہ ان کی قضا ساقط ہے۔ "كَإِسْقَاطِ قَضَاءِ الصَّلَاةِ الْمُتَكَاثِرَةِ بِعُذْرِ الْإِغْمَاءِ" بے ہوشی کے عذر کی وجہ سے، "فَإِنَّ لِجِنْسِ الْإِغْمَاءِ" پس بے شک جو ہے جنسِ اغماء جو ہے، بھئی جنسِ اغماء، وہ کیا؟ کہتے ہیں: "وَهُوَ الْجُنُونُ وَالْحَيْضُ" وہ جنون اور حیض جو ہیں، یہ جو جنسِ اغماء ہے، یعنی جنون اور حیض "تَأْثِيرًا فِي عَيْنِ إِسْقَاطِ الصَّلَاةِ" ان کی تاثیر ہے کس کے اندر؟ عینِ نماز کے ساقط کرنے کے اندر، تو جب جنون اور حیض کے لیے عینِ نماز ساقط ہو رہی ہے، تو جو ان کی جنس یعنی اغماء ہے، اس کی وجہ سے بھی کیا ہو گی؟ اسقاطِ صلاۃ ہو گا۔ "وَالرَّابِعُ مَا ظَهَرَ أَثَرُ جِنْسِهِ فِي جِنْسِ ذَلِكَ الْحُكْمِ" اور چوتھی قسم وہ کہ ظاہر ہو اس وصف کی جنس کا اثر اس حکم کی جنس میں۔ علت کی بھی جنس ہو اور حکم کی بھی جنس، تو اس علت کی جو جنس ہے، اس کا اثر ظاہر ہوا ہے اس حکم کی جنس میں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جیسے بھئی، حائضہ سے نمازیں ساقط ہیں۔ حائضہ سے نمازیں ساقط ہیں۔ کیوں ساقط ہیں؟ علت کیا؟ وجہ یہ کہ یہ حیض اس کو ہر مہینے آتا ہے، تو ہر مہینے پانچ، چھ یا سات دن کی نمازیں قضا ہوئیں، تو یہ 30، 40 یا 50 نمازیں تک یہ ہر مہینے اس کو ادا کرنی پڑیں تو اس کے لیے بڑی ہی مشقت ہو جائے بھئی، بڑی مشقت ہو جائے۔ تو اس مشقت کو علت بنایا گیا، کس چیز کے لیے؟ اسقاطِ صلاۃ کے لیے، اسقاطِ صلاۃ۔ وجہ کیا؟ کیوں علت بنا قرار دیا گیا؟ وجہ یہ کہ اس مشقت کی جو جنس ہے، وہ مؤثر ہے اسی حکم یعنی اسقاطِ صلاۃ کی جنس میں۔ اس علت کی جنس مؤثر ہے کس کے اندر؟ اس علت کی جنس مؤثر ہے اس حکم کی جنس میں، جیسے: مشقتِ سفر کی وجہ سے نماز کچھ ساقط ہو جاتی ہے۔ نماز کیا ہو جاتی ہے؟ ساقط ہو جاتی ہے۔ دیکھیے، یہاں مشقتِ سفر کی وجہ سے کیا ساقط کر دی ہے شریعت نے؟ نماز کم کر دی ہے، کچھ رکعتیں ساقط کر دی ہیں، پوری نماز نہیں ساقط کی، کچھ رکعتیں کیا کر دی ہیں؟ ساقط کر دی ہیں۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ کچھ رکعتیں ساقط کر دیں۔ تو مشقتِ سفر یہ علت ہے کس کے لیے؟ اسقاطِ رکعتین کے لیے۔ مشقتِ سفر یہ علت ہے اسقاطِ رکعتین کے لیے۔ اچھا، ہم بنانا چاہتے ہیں مشقت کو علت اسقاطِ صلاۃ، اسقاطِ عینِ صلاۃ کے لیے۔ ہم کیا بنانا چاہتے ہیں؟ ہم کیا کہتے ہیں حائضہ پر نمازوں کی قضا نہیں، ہم تو عینِ نماز کو ساقط ہو گی اس سے، کیوں ساقط ہو گی؟ مشقت کی وجہ سے۔ تو ہم نے مشقت کو علت بنایا عینِ صلاۃ کے ساقط ہونے کے لیے، کیوں؟ اس کی عدالت کیسے... پہلے عدالت تو ہونی چاہیے کہ اس کا اثر کہیں اور ظاہر ہوا ہو۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ جو مشقت ہے، اسی کی جنس... یہ اور مشقت ہے اور اسی کی جنس یعنی مشقتِ سفر، بھئی حائضہ کی مشقت اور ہے، مشقتِ سفر اور... لیکن ہے تو مشقت، اسی کی جنس ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اسی مشقت کی جنس یعنی مشقتِ سفر، وہ مؤثر ہے کس کے اندر؟ عین اسی حکم میں کے اندر نہیں، عین... مشقتِ سفر کی وجہ سے عینِ صلاۃ ساقط ہوتی ہے یا رکعتین ساقط ہوتی ہیں؟ رکعتین ساقط ہوتی ہیں، تو مشقتِ سفر جو اس علت کی جنس ہے، وہ مؤثر ہے کس کے اندر؟ عینِ صلاۃ کے اندر یا اس سے اسقاطِ صلاۃ ہو گئے، اسقاطِ رکعتین ہو گی؟ اسقاطِ رکعتین، اور اسقاطِ رکعتین عینِ صلاۃ کا اسقاط ہے یا اس کی جنس میں سے ہے؟ اس کی جنس میں سے ہے بھئی۔ تو دیکھیے، ہم کہتے ہیں کہ حائضہ عورت سے عینِ صلاۃ ساقط ہو جائے گی اور علت اس کی مشقت ہے، اور اس کی عدالت کس کے ذریعے ثابت کی؟ کہ اس علت کی جنس جو ہے، یعنی مشقتِ سفر، وہ مؤثر ہے کس کے اندر؟ اس کے حکم کی جنس کے اندر، یعنی اسقاطِ رکعتین کے اندر۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ "وَالرَّابِعُ مَا ظَهَرَ أَثَرُ جِنْسِهِ فِي جِنْسِ ذَلِكَ الْحُكْمِ" اور چوتھی قسم وہ کہ ظاہر ہو اس وصف کی جنس کا اثر اس حکم کی جنس میں، "كَإِسْقَاطِ الصَّلَاةِ عَنِ الْحَائِضِ" جیسے کہ حائضہ سے نماز کا ساقط ہونا، "فَإِنَّ لِجِنْسِهِ" پس بے شک اس وصف کی جنس "وَهُوَ مَشَقَّةُ السَّفَرِ" اور وہ کیا ہے؟ مشقتِ سفر جو ہے "تَأْثِيرًا فِي جِنْسِ سُقُوطِ الصَّلَاةِ" اس کی تاثیر ہے سقوطِ صلاۃ کی جنس میں، عینِ سقوطِ صلاۃ میں نہیں، جنسِ سقوطِ صلاۃ کے جنس میں اس کی تاثیر ہے، "وَهُوَ سُقُوطُ الرَّكْعَتَيْنِ" اور وہ دو رکعتوں کا ساقط ہونا۔ ہونا ہے۔ وهذه الأقسام كلها مقبولة. اور یہ ساری کی ساری اقسام مقبول ہیں، یعنی چار قسمیں جو بیان ہوئیں۔ وقد أطال الكلام فيها صاحب التوضيح. اور تحقیق اس میں بڑا طویل کلام کیا ہے صاحب توضيح نے۔ تو عدالت کی مصنف نے کیا تعریف کی؟ بظهور أثره في جنس الحكم الم علل به. کہ عدالت جو ہے، وہ اس علت کا اثر ظاہر ہونے کے ذریعے ہوگی، اس حکم وہ وہ جو معلل بہ حکم معلل بہ ہے، یعنی وہ حکم جس کے لیے قیاس کیا جا رہا ہے، اس کی اس حکم کی جنس میں اس وصف کا اثر ظاہر ہونا چاہیے بھئی! اس حکم کی جنس میں اس وصف کا اثر ظاہر ہونا چاہیے، تو پھر اس سے اس کی عدالت ثابت ہو جائے گی بھئی! مقصد یہ ہے حاصل کلام یہ، کہ جب اس یہ علت جس کو آپ علت بنانا چاہتے ہیں، اس کا اثر جب اسی جنس کے حکم کے اندر ظاہر ہو چکا، تو معلوم ہوا شریعت کے نزدیک یہ مؤثر ہے۔ شریعت کے نزدیک یہ وصف کیا ہے؟ یہ حکم کے اندر مؤثر ہے۔ جب یہ حکم کے اندر مؤثر ہو سکتا ہے، تو ثابت ہو گیا کہ اس میں علت بننے کی صلاحیت ہے، کیونکہ شریعت نے بھی کیا کیا ہے؟ اس کا دوسری جگہ پر اسی جیسے حکم میں اعتبار کیا ہے بھئی! تو اس سے اس کی عدالت ثابت ہو جائے گی بھئی! چلیے بس بهذا قال المرام والله أعلم بحقيقة الكلام.
113 approved lectures · 80 of 113