درس نمبر۔32
ولما فرغ عن تقسيم النهي، أراد أن يبين أن أي نهي يقع على القسم الأول،
وأي نهي يقع على القسم الآخر، فقال: والنهي عن الأفعال الحسية يقع على القسم الأول.
أچھا بھئی! کل میں نے آپ کو نہی کے بارے میں بحث لکھوا دی تھی، آگے متن اور شرح کو سمجھنے کے لیے پہلے اسے اچھی طرح سمجھ لیں، بھئی!
کل میں نے آپ کو لکھیوا یا تھا، بھئی! افعالِ حسیہ اور افعالِ شرعیہ کے بارے میں۔
بھئی! افعال افعال دو قسم پر ہیں، کچھ افعالِ حسیہ کہلاتے ہیں، کچھ افعالِ شرعیہ کہلاتے ہیں۔
افعالِ حسیہ وہ افعال ہیں جن کے معنیٰ میں شریعت کے آنے سے کوئی تبدیلی پیدا نہ ہوئی ہو، شریعت کے آنے سے پہلے اس کا جو معنیٰ تھا، شریعت کے آنے کے بعد بھی اس کا وہی معنیٰ ہو؛ یعنی شریعت نے اس کے معنیٰ میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی پیدا کسی قسم کی کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی، بھئی!
جیسے مثال میں نے لکھوائی تھی، بھئی! زنا، یہ فعلِ حسی ہے؛ اس لیے کیونکہ اس زنا کا جو معنیٰ شریعت کے آنے سے پہلے سمجھا جاتا تھا، شریعت کے آنے کے بعد بھی اس کا وہی معنیٰ ہے، بھئی! سمجھ میں آیا؟ اسی طرح قتل ہے، قتل کا جو معنیٰ شریعت سے پہلے سمجھا جاتا تھا، شریعت کے آنے کے بعد بھی اس کا وہی معنیٰ ہے۔ اسی طرح شراب کا پینا، یہ بھی فعلِ حسی ہے، شریعت کے آنے سے پہلے جو اس کا معنیٰ سمجھا جاتا تھا، وہی معنیٰ شریعت کے آنے کے بعد بھی ہے، شریعت نے ان کے معنیٰ میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی؛ تو یہ افعال افعالِ حسیہ کہلاتے ہیں۔
جبکہ دوسری قسم کے افعال افعالِ شرعیہ ہیں۔ افعالِ شرعیہ وہ ہیں کہ شریعت نے ان کے معنیٰ میں آ کر تبدیلی پیدا کر دی ہو، تبدیلی پیدا کر دی ہو۔ مثلاً بھئی! شریعت کے آنے سے پہلے بیع کا معنیٰ سمجھا جاتا تھا: مبادلة المال بالمال، مال کے بدلے مال کا تبادلہ کرنا، بھئی! شریعت نے آ کر بتلایا کہ: هو مبادلة المال بالمال بالتراضي، کہ وہ مال کا مال کے ساتھ تبادلہ کرنا ہے باہمی رضامندی کے ساتھ؛ تو شریعت نے دیکھو باہمی رضامندی کی قید بڑھا دی۔ اسی طرح شریعت نے بیع کے اندر اور بھی بہت سی شرائط ذکر کر دیں، جو آپ کتبِ فقہ میں پڑھتے ہیں، بھئی! بات سمجھ میں آئی، بھئی؟ بہت سی شرائط ذکر کر دیں شریعت نے۔
تو معلوم ہوا، شریعت نے بیع کے معنیٰ میں تبدیلی پیدا کر دی۔ یعنی اس فعل کا سمجھنا شریعت پر موقوف ہوا، شریعت کے پہلے سے ہمیں پتہ ہی نہیں تھا بیع کسے کہتے ہیں، ہم تو یہ سمجھتے تھے شاید یہ مبادلة المال بالمال ہے بس! لیکن شریعت نے بتلایا: نہیں بھئی! صرف مبادلة المال بالمال محض نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ باہمی رضامندی بھی ہونی چاہیے، مولانا! اسی طرح مبیع معلوم ہونا چاہیے، ثمن کی مقدار اور وصف معلوم ہونا چاہیے، سمجھ میں آیا؟ اور مبیع موجود ہو، معدوم نہیں ہونا چاہیے، وغیرہ کئی شرائط ذکر کر دیں، بالتفصیل آپ وہاں فقہ میں پڑھ چکے ہیں۔
تو معلوم ہوا، شریعت کے آنے سے پہلے ہم بیع کو جانتے ہی نہیں تھے۔ جو جانتے تھے وہ درست نہیں ہے معلوم ہوا۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ جو ہم سمجھتے تھے معلوم ہوا وہ بیع نہیں ہے، بھئی! بیع کا معنیٰ تو صحیح طور پر شریعت نے ہمیں آ کر اس سے روشناس کروایا، ورنہ ہمیں پتہ ہی نہیں تھا بیع کیا چیز ہے۔ سمجھ میں آئی بات، بھئی؟
اسی طرح نکاح ہے، مولانا! نکاح، بھئی! نکاح کے اندر اس کے معنیٰ میں بھی شریعت نے تبدیلی پیدا کر دی، مثلاً دیکھو، دو گواہوں کی شرط لگا دی کہ نکاح کے لیے کم از کم کتنے دو گواہ ہونے چاہئیں؟ دو گواہ ہونے چاہئیں۔ بات سمجھ میں آئی، بھئی؟ تو شریعت نے اس کے معنیٰ میں آ کر تبدیلی پیدا کر دی۔ معلوم ہوا، شریعت کے آنے سے پہلے ہم نکاح کو جانتے ہی نہیں تھے صحیح طرح، بھئی! شریعت نے آ کر ہمیں بتلایا، یہ معنیٰ ہے اس چیز کا، بھئی!
تو یہ افعالِ شرعیہ کہلاتے ہیں، جن کا سمجھنا شریعت پر موقوف ہے، بھئی! جن کا دارومدار شریعت پر ہے، بھئی! جن کا دارومدار کس پر ہے؟ شریعت پر ہے، بھئی!
اس کے بعد اختلاف ذکر ہوا تھا، مولانا! ہمارا اور شوافع کا۔
بھئی! نہی آتی ہے، نہی آ کر یہ بتلا دیتی نہی سے پتہ چل گیا کہ جس چیز سے روکا گیا ہے، یعنی منہی عنہ، معلوم ہوا اس میں کوئی قباحت ہے، وہ قبیح ہے، مولانا! کیا ہے؟ قبیح ہے، اس میں قباحت ہے، برائی ہے؛ اس لیے کہ نہی کرنے والا، یعنی ناہی ناہی یعنی شارع جو ہیں، وہ کیا ہیں؟ حکیم ہیں، مولانا! حکمت والے ہیں۔ اور حکمت والا کسی چیز سے منع کرے، معلوم ہوا اس چیز میں برائی ہے، کوئی خرابی ہے، ورنہ خرابی نہ ہوتی تو حکیم کبھی بھی اس چیز سے منع نہ کرتا۔
اب ہمارے نزدیک بھئی! ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے کہ نہی افعالِ حسیہ میں آئے، کہ اس کا پھر... ہاں! افعالِ حسیہ کے اندر بھئی! ہمارا اور شوافع کا اتفاق ہے، ہمارے نزدیک بھی افعالِ حسیہ میں نہی آئے تو وہ قبیح لعينہ ہوگا، شوافع کے نزدیک بھی افعالِ حسیہ کے اندر نہی آئے تو وہ کیا ہوگا؟ قبیح لعینہ ہوگا۔ یعنی ذات کے اعتبار سے ہی قبیح ہوگا، ذات کے اعتبار سے ہی قبیح ہوگا۔
جبکہ فعلِ شرعی میں نہی آئے تو اس میں ہمارا اور شوافع کا اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک وہ قبیح لغيرہ ہوگا۔ فعلِ شرعی میں جب نہی آ جائے تو اسے کیا قرار دیا جائے گا؟ قبیح لغيرہ قرار دیا جائے گا۔ جبکہ شوافع کے نزدیک اسے قبیح لعینہ قرار دیا جائے گا، بھئی!
پھر اس کے بعد بھئی! میں نے احناف کے مذہب کی تفصیل آپ کو بتلائی تھی۔ عند الاحناف بھئی! کیا بتلایا آپ کو؟ افعالِ حسیہ میں نہی آئے، تو یہ نہی کیا تقاضا کرتی ہے کہ فعلِ حسی کیا ہے؟ قبیح لعینہ ہے، اور فعلِ شرعی کے اندر نہی آئے، تو یہ نہی کیا تقاضا کرتی ہے کہ یہ فعلِ شرعی قبیح لغيرہ ہے۔ لیکن یہ یاد رکھو، اس وقت ہے جب اس کے خلاف کوئی دلیل قائم نہ ہو۔ مثلاً نہی آئی فعلِ حسی کے اندر، یہ نہی تقاضا کرتی ہے کہ اس کو کیا ہونا چاہیے؟ قبیح لعینہ ہونا چاہیے، لیکن کوئی ایسی دلیل قائم ہو گئی جس نے بتلا دیا کہ قبیح لعینہ نہیں ہے، بلکہ کیا ہے؟ قبیح لغیرِہ، قبیح لغيرہ ہے، بھئی! تو اس صورت کے اندر پھر اس کو قبیح لغيرہ پر محمول کیا جائے گا، قبیح لعینہ پر محمول... کیونکہ نہی تو یہی تقاضا کر رہی تھی کہ اس کو قبیح لعینہ ہونا چاہیے، یہ فعلِ حسی ہے، اس کے بارے میں نہی آئی ہے، اور فعلِ حسی میں جب نہی آئے تو وہ کیا ہوا کرتا ہے؟ قبیح قبیح لعینہ ہوتا ہے، لیکن اس دلیل نے آ کر بتلا دیا کہ نہیں بھئی! یہ قبیح لعینہ نہیں ہے، بلکہ کیا ہے؟ قبیح لغيرہ ہے۔
اسی طرح فعلِ شرعی میں جب نہی آ جائے، تو وہ نہی تقاضا کرتی ہے کہ اس کو کیا ہونا چاہیے؟ قبیح لغيرہ ہونا چاہیے، لیکن کوئی ایسی دلیل قائم ہو گئی جس نے بتلایا کہ نہیں بھئی! یہ فعل... یہ قبیح لغيرہ نہیں ہے، بلکہ قبیح لعینہ ہے؛ تو اس صورت میں پھر اس کو قبیح لعینہ پر محمول کر لیں گے، بھئی! بات سمجھ میں آئی؟
تو معلوم ہوا، فعلِ حسی میں نہی کا مقتضا ہے: قبیح لعینہ، لیکن اگر دلیل کوئی قائم ہو جائے تو پھر وہ قبیح لعینہ نہیں رہے گا، بلکہ کیا بن جائے گا؟ قبیح لغيرہ بن جائے گا۔ اور فعلِ شرعی میں نہی آئے تو اس کا مقتضا کیا ہے کہ یہ قبیح لغيرہ ہونا چاہیے، لیکن اگر کوئی دلیل قائم ہو جائے اس کے خلاف پر، تو پھر اس صورت میں یہ قبیح لغيرہ نہیں رہے گا، بلکہ کیا بن جائے گا؟ قبیح لعینہ بن جائے گا۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟
اس کے بعد ثمرۂ اختلاف ذکر کیا تھا، بھئی! ہمارا اور شوافع کا اختلاف تھا کہ فعلِ شرعی میں اگر نہی آئے تو ہمارے نزدیک کیا ہے وہ؟ قبیح لغيرہ ہوگا، اور ان کے نزدیک وہ قبیح لعینہ ہوگا۔ چنانچہ مثال کے طور پر اب دیکھیے، بھئی!
اذانِ جمعہ کے وقت بیع سے منع کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ، تو تم سعی کرو، اللہ کے ذکر یعنی نماز کی طرف سعی کرو، اور بیع کو چھوڑ دو، بیع کو چھوڑ دو، بھئی!
تو یہاں پر معلوم ہوا کہ... اور بیع... نہی آئی، اور بیع کیا ہے؟ جی؟ بیع فعلِ شرعی ہے یا فعلِ حسی ہے؟ فعلِ شرعی ہے، شریعت نے اس کے معنیٰ میں تبدیلی پیدا کر دی، بھئی! تو یہ فعلِ شرعی ہے۔ تو نہی آئی فعلِ شرعی کے بارے میں۔
تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فعلِ شرعی میں نہی آ جائے تو وہ بھی فعلِ حسی کی طرح کیا ہو جائے گا؟ قبیح لعینہ۔ تو ان کے نزدیک یہ بیع جو جمعہ کی اذان کے وقت کی جائے، یہ قبیح لعینہ ہے۔ یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے قبیح ہے، معلوم ہوا یہ سرے سے جائز ہی نہیں، اپنی ذات کے اعتبار سے جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اپنی ذات کے اعتبار سے یہ کیا ہے؟ قبیح۔ جب اپنی ذات کے اعتبار سے یہ جائز نہیں ہے، تو لہٰذا یہ بیع منعقد بھی نہیں ہوئی۔ ذات کے اعتبار سے ہی نہیں جائز، تو منعقد کہاں سے ہو، بھئی! سمجھ میں آئی بات؟ اس کی ذات ہی قبیح ہے، تو لہٰذا ذات کے اعتبار سے بیع منعقد ہی نہیں ہوئی، جب بیع منعقد ہی نہیں ہوئی، تو اس صورت میں مشتری مبیع کا مالک بھی نہیں بنے گا۔
جبکہ ہمارے نزدیک یہ بیع جو فعلِ شرعی کے بارے میں... یہ نہی جو آئی ہے فعلِ شرعی کے بارے میں، یہ تقاضا کرتی ہے اس کے قبیح لغيرہ ہونے کا۔ قبیح لغيرہ کا معنیٰ یہ ہے کہ ذات کے اعتبار سے تو جائز ہے، لیکن وصف کے اعتبار سے جائز... تو یہ بیع ذات کے اعتبار سے جائز ہوئی، ذات کے اعتبار سے، بھئی! البتہ وصف کے اعتبار سے یہ جائز نہیں، بھئی! کہ اس کی وجہ سے کیا خرابی لازم آتی ہے؟ ترکِ سعی الی الجمعہ کی خرابی لازم آتی ہے۔
تو ذات کے اعتبار سے بیع جائز، وصف کے اعتبار سے جائز نہیں ہے۔ تو جب ذات کے اعتبار سے یہ بیع جائز ہوئی، تو لہٰذا یہ بیع ملکیت کا فائدہ دے گی۔ کس چیز کا؟ منعقد ہو جائے گی اور ملکیت کا فائدہ دے گی، چنانچہ مشتری مبیع کا مالک بن جائے گا؛ کیونکہ یہ بیع ذات کے اعتبار سے جائز ہے، بھئی! جب ذات کے اعتبار سے جائز ہے تو منعقد ہو گئی، جب منعقد ہو گئی تو مشتری کیا ہوا؟ مبیع کا مالک بن گیا۔ جبکہ ان کے نزدیک ذات کے اعتبار سے ہی نہیں جائز، تو مشتری مبیع کا مالک بھی نہیں بنے گا۔ ثمرۂ اختلاف سمجھ میں آیا، بھئی؟
امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل اس کے بعد میں نے ذکر کی تھی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیکھیے! ہم... وہ اس کو قیاس کرتے ہیں فعلِ حسی پر کہ فعلِ حسی میں جب نہی آئے تو وہ قبیح لعینہ ہوتا ہے، تو لہٰذا فعلِ شرعی میں جب نہی آئے تو اسے بھی کیا ہونا چاہیے؟ قبیح لعینہ ہونا چاہیے؛ تاکہ اس میں... یہ کامل درجے کا قبیح ہو جائے، اور کامل درجے کا قبیح کون سا ہے؟ قبیح لعینہ، کہ جس کی ذات ہی قبیح ہو۔ تو لہٰذا وہ فعلِ حسی میں جب... فعلِ شرعی میں نہی آ جائے تو اسے کیا قرار دیتے ہیں؟ قبیح لعینہ۔
احناف کی دلیل ذکر کی تھی، احناف کی دلیل بڑی طویل تھی، مولانا! اس کے لیے پہلے تین مقدمات ذکر ہوئے۔
پہلا مقدمہ یہ ذکر ہوا تھا کہ بھئی! سب سے پہلے آپ نہی اور نفی کے درمیان فرق سمجھ لیں۔
نہی اس کو کہتے ہیں کہ ایک بندے... ایک فعل بندے کے اختیار میں ہو اور پھر اسے روکا جائے۔ پھر بندہ اپنے اختیار سے اس فعل سے رکے گا تو اسے ثواب ملے گا؛ کیونکہ وہ اپنے اختیار سے رکا ہے، وہ کرنے پر قادر تھا۔ اور... اور اگر وہ اس فعل کو کر لیتا ہے تو اس پر پھر اسے سزا ملے گی؛ کیونکہ وہ اپنے اختیار سے کر رہا ہے، بھئی! بات سمجھ میں آ گئی، بھئی؟
تو نہی کسے کہتے ہیں؟ کہ ایک فعل جس پر بندہ قادر ہو، اس سے اس کو روکا جائے، یہ کیا کہلاتی ہے؟ نہی کہلاتی ہے۔ بندہ اس پر قادر تو ہو؛ تاکہ اس پر پھر ثواب اور عقاب کا دارومدار ہے، بھئی! وہ بھی تو ہو سکے، بھئی! اس... تاکہ اگر کرے تو اسے کیا ملے؟ ثواب... اسے یعنی رک جائے تو ثواب ملے، اور اگر کر لے تو سزا ملے، بھئی! سزا ملے۔ اچھا!
اور نفی کسے کہتے ہیں، بھئی؟ نفی کہتے ہیں کہ ایک چیز بندے کے اختیار میں نہیں ہے اور اس سے اس سے روکا جائے، یہ نفی کہلاتی ہے۔ کیا کہلاتی ہے؟ نفی کہلاتی ہے، بھئی!
تو دونوں کے اندر بھئی! عدمِ فعل بندے کے... دونوں میں ہے عدمِ فعل، نہی میں بھی ہے عدمِ فعل، اور نہی میں بھی کیا ہے؟ عدمِ فعل۔ لیکن نہی میں عدمِ فعل ہوتا ہے بندے کے اختیار سے، اور نہی میں عدمِ فعل میں بندے کا کوئی عمل دخل نہیں، اس کا کوئی اختیار نہیں ہے، بھئی! کیونکہ وہ اس کے کرنے پر قادر ہی نہیں تھا، اس کی مثال سے بات واضح ہو جاتی ہے۔ مثلاً پانی موجود نہیں ہے برتن میں، اور آپ ایک شخص سے کہتے ہیں: پانی مت پیو! تو یہ، مولانا! یاد رکھیے، نہی نہیں ہے، بلکہ نفی ہے، بھئی! کیونکہ نہی میں کیا ہوتا ہے؟ بندے کو اختیار ہوتا ہے، وہ عاجز نہیں ہوتا، جبکہ یہاں پر اختیار ہی نہیں ہے، عاجز ہے، پانی موجود ہی نہیں ہے، بھئی! تو اس پانی کے پینے سے تو وہ پہلے ہی عاجز ہے، تو اس عاجز کو منع کرنا یہ نہی نہیں کہلاتی، بلکہ کیا کہلاتی ہے؟ نفی کہلاتی ہے، نفی۔
تو نہی کے اندر اختیار ہوتا ہے، نفی کے اندر سرے سے اختیار ہوتا ہی نہیں۔
اس کی اور مثالیں میں نے نفی کی اور مثالیں ذکر کی تھیں، مثلاً بھئی! گونگے سے کہا جائے: مت بول! اب بھئی! وہ گونگا تو بولنے پر قادر ہی نہیں ہے، تو یہاں عدمِ فعل تو ہے، یعنی بولنا نہیں پایا گیا، لیکن کیا اس نہ بولنے میں گونگے کا کوئی اختیار ہے؟ نہیں! اس کو اختیار ہی نہیں، وہ بولنے پر قادر ہی نہیں، وہ تو عاجز ہے بولنے سے۔ یا بہرے سے کہا جائے: مت سن! اب یہاں پر نہ سننا پایا گیا، لیکن اس کے اختیار سے نہیں؛ کیونکہ وہ تو سننے سے پہلے ہی کیا ہے؟ عاجز ہے۔ یہاں تک فرق سمجھ میں آ گیا نفی اور نہی کا؟
تو نفی... نہی میں بھی عدمِ فعل ہے، نہی میں بھی عدمِ فعل ہے، لیکن نفی میں عدمِ فعل بندے کے اختیار میں نہیں ہوتا، جبکہ نہی میں عدمِ فعل بندے کے اختیار سے ہوتا ہے۔ جی!
اور یہ بھی بتلایا تھا کہ یاد رکھیے! یہ نفی انتہائی قبیح ہے، مولانا! انتہائی قبیح ہے۔ ایک شخص ایک چیز سے عاجز ہے اور آپ اس کو اس کام... اس سے روک رہے ہیں، بھئی! تو یہ سمجھ میں آیا؟ تو ایک شخص ایک چیز سے عاجز ہو اور اس کو اس کام سے روکا جائے، یہ انتہائی قبیح ہے، انتہائی ناپسندیدہ ہے، بھئی! بات سمجھ میں آ گئی؟
اس کے بعد دوسرا مقدمہ ذکر کیا تھا، بھئی! کہ ناہی یعنی نہی کرنے والا جب حکیم ہو، حکمت والی ذات ہو، تو اس کی نہی تقاضا کرتی ہے کہ یہ جو منہی عنہ ہے یہ قبیح ہونا چاہیے، یہ کیا ہونا چاہیے؟ بھئی! جب حکمت والی ذات ایک چیز سے منع کر رہی ہے، معلوم ہوا اس میں خرابی ہے، اس میں فساد ہے، بھئی! بلا وجہ وہ منع... ہاں، حکیم بلا وجہ کسی کام سے نہیں روک سکتا، لازمی بات ہے اس میں کوئی خرابی ہے۔ تو جب اللہ تعالیٰ نے ایک چیز سے منع کیا اور روکا، معلوم ہوا اس کے اندر خرابی ہے، معلوم ہوا وہ چیز قبیح ہے، وہ چیز کیا ہے؟ قبیح ہے، مولانا!
تو نہی ہوئی... نہی نے تقاضا کیا اس چیز کے قبیح ہونے کا، نہی نے کس چیز کا تقاضا کیا؟ اس چیز کے قبیح ہونے کا، تو نہی ہوئی مقتضی (تقاضا کرنے والی) اور قبح (یعنی قبیح ہونا) یہ کیا ہوا؟ مقتضا ہوا جس کا نہی تقاضا کر رہی ہے، بھئی!
لہٰذا آپ اس مقتضا کو ایسے طریقے سے ثابت کیا جائے گا کہ جس سے مقتضی باطل نہ ہو جائے۔ بھئی! نہی کس بات کا تقاضا کر رہی ہے؟
که منہی عنہ کیا ہونا چاہیے؟ قبیح ہونا چاہیے، تو نہی ہوئی مقتضی اور قبح کیا ہوا؟ مقتضا ہوا۔ تو اس قبح کو ہم نے ثابت کرنا ہے۔ نہی نے بتلایا کہ اس چیز میں کیا ہے؟ قبح ہے۔ تو اس چیز میں قبح کو ثابت کرنا ہے، اب قبح دو طریقے پر ثابت ہو سکتا ہے، قبح لعینہٖ کہہ دیا جائے یا قبح لغیرہٖ۔ تو لیکن ہم نے اس طریقے سے ثابت کرنا ہے کہ کہیں اس مقتضا کی وجہ سے مقتضی ہی باطل نہ ہو جائے بھئی۔ مقتضی ہی باطل نہ ہو، یعنی کہیں ایسا نہ ہو کہ نفی نہی، نہی جو ہے وہ بدل جائے اس کا وجود ہی نہ رہے اور وہ نفی بن جائے۔ کیا بن جائے؟ ہم نے کس کو ثابت کرنا ہے منہی عنہ کے اندر؟ قبح کو ثابت کرنا ہے، تو قبح ہوا مقتضا۔ تو اس قبح کو ایسے طریقے پر ثابت کرنا ضروری ہے جس سے مقتضی کا بطلان لازم نہ ہو اور وہ کس صورت میں ہوگا؟ آگے دلیل میں ذکر ہوگا کہ اگر ہم اس کو قبیح لغیرہٖ قرار دیں گے تو نہی نہی رہے گی، اگر ہم اس کو قبیح لعینہٖ قرار دیں گے تو نہی نہی نہیں رہے گی کیا بن جائے گی؟ نفی بن جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دوسرا مقدمہ کیا ہوا کہ مقتضا کو ایسے طریقے پر ثابت کرنا ضروری ہے کہ جس کے جس سے مقتضی باطل نہ ہو جائے یعنی سرے سے اس کا وجود ہی نہ رہے اور وہ نہی کے بجائے کیا بن جائے؟ نفی بن جائے ایسا نہیں ہونا چاہیے بھئی۔
پھر اس کے بعد دوسرا، تیسرا مقدمہ ذکر کیا تھا کہ ہر فعل کے اندر اختیار اس کی مناسبت سے ہوا کرتا ہے یعنی کہ ہر فعل میں ایک ہی جیسا اختیار ہے بلکہ فعل مختلف ہے تو اختیار بھی اس کے مناسب ہونا چاہیے الگ الگ بھئی۔ تو فعل حسی جو ہے اس کے اندر اختیار ہونے کا معنی یہ ہے کہ بندہ حساً اس کے کرنے پر قادر ہو، فعل حسی کے اندر اختیار کا کیا معنی؟ کہ بندہ حساً اس کے کرنے پر قادر ہو تو ہم کہیں گے اختیار ہے، اگر قادر نہ ہو تو ہم کہیں گے اختیار نہیں ہے۔
بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو لہذا مثلاً نہی آئی ہے لا تقربوا الزنا، زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، تو زنا سے نہی آئی اور زنا کیا ہے؟ فعل حسی ہے، تو یہاں پر یہ فعل حسی کے اندر اختیار کا کیا معنی ہوگا؟ کہ شخص زنا پر قادر ہے پھر اس کو روکا جا رہا ہے حساً قادر ہے۔ اب وہ اس سے رکے گا تو ثواب ملے گا، نہیں رکے گا تو اسے سزا ہوگی بھئی۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ تو افعال حسیہ کے اندر اختیار ہونے کا کیا معنی؟ کہ بندہ حساً اس کے کرنے پر قادر ہو۔ ہاں، یہاں اختیار کا دارومدار شریعت پر نہیں ہے بس یہ دیکھو بندہ اس کام کے کرنے پر قادر ہے تو ہم کہیں گے اختیار ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ہم کہیں گے اس کو اختیار ہے اور اس کے بارے میں تو نہی آئی ہے تو لہذا یہ نہی کس کو ہوئی؟ اختیار والے کو ہوئی مولانا، کسی عاجز کو نہی نہ ہوئی، عاجز کو ہوتی پھر تو یہ نفی بن جاتی۔
جبکہ فعل شرعی کے اندر اختیار جو ہے اس وہ شریعت کی جانب سے ہوا کرتا ہے، کس کی جانب سے؟ کس میں؟ فعل فعل شرعی کے اندر اختیار ہونے کا معنی یہ ہے کہ شریعت نے اس کی اجازت دی ہو کیونکہ یہ فعل تو ہمیں بتلایا ہی شریعت نے ہے، شریعت کے آنے سے پہلے ہم اس کے حقیقی معنی کو جانتے ہی نہ تھے بھئی، تو اس فعل کا جاننا موقوف ہوا کس پر؟ شریعت پر، تو لہذا اس میں اختیار بھی شریعت کی طرف سے ہوگا، کس کی طرف سے؟ اگر شریعت نے اجازت دی ہے تو معلوم ہوا یہ کام ہمارے اختیار میں ہے، اگر شریعت نے اجازت نہیں دی تو یہ کام ہمارے اختیار میں بھی نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو فعل حسی میں اختیار کا اہ اختیار کسے کہتے ہیں؟ کہ بندہ حساً اس کے کرنے پر قادر ہو، اور فعل شرعی میں اختیار کا کیا معنی؟ شریعت نے اس کی اجازت دی ہو، تو دونوں میں اختیار اسی کے مناسب دیکھ اہ ہوگا مولانا، دونوں میں ایک جیسا اختیار نہیں بھئی۔ وہ فعل حسی ہے تو وہاں اختیار اس کے مناسب دیکھا جائے گا اور یہ فعل شرعی ہے تو اس میں اختیار اس کے مناسب ہوگا۔ تو فعل کا جب دارومدار ہی شریعت پر ہے مولانا شریعت نے ہی ہمیں بتلایا ہے تو اس میں اختیار بھی کس کی طرف سے ہوگا؟ شریعت نے اجازت دی تو اختیار ہے، شریعت نے اجازت نہیں دی تو اختیار بھی نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب دلیل سنو بھئی، دلیل۔ دلیل بھئی احناف کی۔ نہی کے آنے سے پتہ چل گیا کہ یہ فعل شرعی قبیح ہے، نہی جب آ گئی تو نہی نے آ کر کیا بتلا دیا؟ ناہی جب حکیم ہو اور وہ ایک چیز سے منع کرے تو اس، یہ کیا، اس کی نہی کیا تقاضا کرتی ہے؟ کہ اس منہی عنہ کو کیا ہونا چاہیے؟ قبیح ہوگا، یہ یقیناً قبیح ہوگا مولانا۔ تو نہی جب آ گئی اس نے بتلا دیا فعل شرعی کے بارے میں نہی آئی ہے بھئی، فعل شرعی کے بارے میں ہماری دلیل چل رہی ہے۔ فعل شرعی میں جب نہی آ گئی، نہی سے کیا پتہ چلا؟ کہ اس منہی عنہ میں قباحت ہے۔
اب اس قباح، یہ تو بات پکی ہے کہ اس کے اندر قباحت ہے، اب اس قباحت کو ہم نے ثابت کرنا ہے بھئی۔ تو اب اگر دیکھو اس کو قبیح لعینہٖ قرار دیا جائے، کیا قرار دیا جائے؟ قبیح لعینہٖ قرار دیا جائے تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ یہ کام سرے سے ہی ناجائز ہے، اپنی ذات کے اعتبار سے ہی جائز نہیں ہے کیونکہ اسے آپ نے کیا قرار دے دیا؟ قبیح لعینہٖ قرار دے دیا بھئی، فعل شرعی میں نہی آئی تو اس نے تو قبیح ہونا ہی تھا اب قبیح ہونے کی دو صورتیں تھیں یا وہ قبیح لعینہٖ ہوتا یا قبیح لغیرہٖ ہوتا، آپ نے کیا قرار دے دیا اسے؟ قبیح لعینہٖ یعنی اس کی ذات ہی قبیح ہے، اس کی ذات ہی قبیح ہے مولانا۔ تو اب ذات ہی قبیح ہے معلوم ہوا اس کی شریعت کی طرف سے سرے سے اجازت ہی نہیں ہے، کیونکہ جس چیز کی ذات ہی قبیح ہو شریعت کبھی بھی اس چیز کی اجازت نہیں دیتی۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہذا شر، شریعت کی طرف سے پھر اس کی اجازت نہیں ہوگی، جب شریعت کی طرف سے اس کی اجازت نہیں ہے تو یہ تو فعل شرعی ہے، جب شریعت کی طرف سے اجازت نہیں تو اس کے اندر بندے کا کوئی اختیار بھی نہیں کیونکہ فعل شرعی کے اندر اختیار کا دارومدار کس پر تھا؟ شریعت کی اجازت پر تھا، شریعت نے اجازت دی تو اختیار ہے، شریعت نے اجازت نہ دی تو اختیار بھی نہیں ہے۔ تو مال، آپ اس کو کہہ رہے ہیں یہ قبیح لعینہٖ ہے، قبیح لعینہٖ ہونے کا مطلب یہ اپنی ذات کے اعتبار سے قبیح ہے، جب یہ اپنی ذات کے اعتبار سے قبیح ہے تو معلوم ہوا شارع نے اس کی اجازت ہی، کیونکہ شارع کبھی بھی قبیح ایسی چیز کی اجازت نہیں دیتا جو اپنی ذات ہی کے اعتبار سے کیا ہو؟ قبیح ہو، قبیح ہو مولانا۔
تو جب یہ شارع کی طرف سے اس کی، اس سے اس کی اجازت ہی نہیں تو یہ تو بندے کے اختیار میں بھی نہ رہا کیونکہ یہ فعل شرعی ہے اور فعل شرعی میں اختیار کا دارومدار کس پر تھا؟ شریعت پر تھا مولانا، تو بندہ اس کے کرنے سے عاجز ہوا، کیا ہوا؟ عاجز ہوا، تو یہ نہی ہوئی عاجز کو۔ نہی آئی تھی نا؟ اور آپ اس کو قبیح لعینہٖ قرار دے دیں تو کیا بندہ اس کے کرنے سے کیا ہوا؟ کیونکہ اس میں اختیار ہی نہیں، تو عاجز کو نہی آ گئی مولانا اور عاجز کو نہی کسی کام سے روکا جائے یہ تو نہی نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ نفی ہے اور یہ تو انتہائی قبیح ہے۔
تو لہذا ثابت ہوا کہ اگر نہی کے آنے کے بعد فعل شرعی کو قبیح لعینہٖ قرار دیا جائے تو اس صورت میں شارع کا عاجز کو منع کرنا لازم آئے گا، کیا لازم آئے گا؟ کہ شارع نے ایک عاجز کو ایک کام سے منع کیا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور عاجز کو منع کرنا تو کیا ہے؟ قبیح ہے مولانا، تو شارع کی طرف ایک قبیح چیز کی نسبت کرنا لازم آئے گی۔ شارع نے ایک عاجز کو منع کیا تو یہ تو کیا ہوئی؟ نفی، معلوم ہوا شارع کی طرف کس چیز کی نسبت کرنا پڑے گی؟ نفی کی نسبت کرنا پڑے گی اور شارع کی طرف تو نفی کی نسبت کرنا درست، شارع عاجز کو منع کرے یہ محال ہے مولانا کیونکہ یہ نفی ہے اور نفی انتہائی قبیح ہے مولانا، شارع کی طرف سے نفی نہیں ہو سکتی۔
تو لہذا اگر اس فعل شرعی کو نہی کے آنے کے بعد کیا قرار دیا جائے؟ قبیح لعینہٖ قرار دیا جائے تو شارع کی طرف ایک امرِ قبیح کی نسبت کرنا لازم آئے گا، شارع عاجز کو منع کرے یہ محال ہے مولانا کیونکہ یہ نفی ہے اور نفی انتہائی قبیح ہے مولانا، شارع کی طرف سے نفی نہیں ہو سکتی۔ تو معلوم ہوا فعل شرعی کو نہی آنے کے بعد قبیح لعینہٖ قرار دینا ایک محال چیز کو مستلزم ہے۔ کس کو مستلزم ہے؟ ایک محال چیز کو مستلزم ہے اور جو محال کو مستلزم ہو وہ خود محال ہوتا ہے، جس جس جو کس کو مستلزم ہو؟ جس کی وجہ سے ایک محال چیز لازم آئے وہ خود بھی مولانا محال ہوتا ہے، محال ہوتا ہے۔
لہذا معلوم ہوا نہی کے آنے کے بعد فعل شرعی کا قبیح قبیح لعینہٖ ہونا محال ہوا، اور جب یہ فعل قبیح لعینہٖ ہونا محال ہوا تو پھر لازمی بات ہے وہ قبیح لغیرہٖ ہوگا کیونکہ تیسری تو کوئی صورت ہی نہیں تھی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھی طرح؟
بالفاظِ دیگر بھئی، فعل شرعی میں جب نہی آ جائے، فعل شرعی میں جب نہی آ جائے تو اب ضروری ہے کہ اس نہی کو اس طرح رکھا جائے کہ بندہ اپنے اختیار سے اس کام سے رکے۔ کیا کہو کیا ہو؟ فعل شرعی میں جب کیا آ جائے؟ نہی آ جائے، تو اس کو ایسے معنی پر محمول کریں گے تاکہ بندے کا اختیار بھی باقی رہے اور پھر وہ اپنے اختیار سے اس کام سے رکے، تو اس طرح پھر وہ ثواب کا حق دار ہوگا مولانا۔ تو لہذا بندہ اپنے اختیار سے کب رکتا ہے؟ جب اس چیز کے کرنے پر قادر ہو اور فعل شرعی میں فعل کے کرنے پر قادر کب ہوتا ہے؟ جب شریعت کی طرف سے اجازت ہو مولانا، تو کہنا پڑے گا یہ فعل اس فعل شرعی کی شریعت کی طرف سے اجازت ہے یعنی ماذون ہے، تاکہ اختیار میں رہے بندے کے اختیار میں، تو یہ ماذون ہوا تاکہ بندے کے اختیار میں رہے اور خاص ممنوع بھی ہوا، روکا بھی گیا تاکہ اب اپنے اختیار سے رکے اور اس کو کیا ملے؟ ثواب ملے بھئی۔
تو یہ ماذون بھی ہوا اور ممنوع بھی، ماذون ہوا کس لیے؟ تاکہ بندے کے اختیار میں رہے۔ ممنوع ہوا تاکہ اب بندہ اپنے اختیار سے رکے۔ تو ماذون بھی ہو اور ممنوع بھی ہو ایک چیز یہ جمع نہیں ہو سکتی مگر صرف ایک ہی صورت کے اندر کہ وہ فعل شرعی اس کو کہا جائے کہ وہ ذات کے اعتبار سے ماذون ہے، مشروع ہے، جائز ہے اور وصف کے اعتبار سے غیر مشروع اور ناجائز ہے۔
معلوم ہوا فعل شرعی میں نہی آ جائے تو اسے ذات کے اعتبار سے مشروع اور وصف کے اعتبار سے غیر مشروع ہونا چاہیے اور ذات کے اعتبار سے مشروع ہونا اور وصف کے اعتبار سے غیر مشروع ہونا یہ قبیح لغیرہٖ میں ہوتا ہے قبیح لعینہٖ میں نہیں، ثابت ہوا کہ فعل شرعی میں نہی آ جائے تو وہ قبیح لغیرہٖ ہوگا قبیح لعینہٖ نہیں۔
جبکہ اس کے مقابلے میں افعال حسیہ کے اندر جو ہے وہ حسی قدرت ہو تو کہیں گے یہ بندے کے اختیار میں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو وہاں فعل حسی کے اندر نہی آئے تو وہ اپنی ذات کے اعتبار سے کیا ہوتا ہے؟ قبیح ہوتا ہے یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے ہی اس کی اجازت ہی نہیں ہے کرنے کی شریعت کی طرف سے، لیکن اس سے کوئی خرابی لازم نہیں آتی کیونکہ اس سے پھر بھی بندے کا اختیار ختم نہ ہوا اس لیے کہ فعل حسی کے اندر اختیار شریعت کی طرف سے آتا ہی نہیں ہے وہ تو کس طریقہ پر آتا ہے؟ کہ بندہ حساً اس کے کرنے پر قادر ہو، تو لہذا اگر وہ فعل حسی کو نہی کے آنے کے بعد اپنی ذات کے اعتبار سے قبیح قرار دے دیا جائے پھر بھی کوئی خرابی نہیں آتی کیونکہ بندہ پھر بھی اس کے حساً کرنے پر قادر ہے، شریعت کی اجازت نے اس اس کے اندر اختیار جو ہے وہ شریعت پر موقوف ہی نہیں، شریعت پر اس کا دارومدار ہی نہیں ہے، اس کا تو سارا دارومدار کس چیز پر ہے کہ بندہ حساً اس کے کرنے پر، تو اپنی ذات کے اعتبار سے قبیح ہوا لیکن پھر بھی قادر ہے کیونکہ حساً کیا کر سکتا ہے اسے؟ کر سکتا ہے۔ تو نہی عاجز بھی لازم نہیں آئے گی وہاں پر فعل حسی کے اندر، اور جبکہ یہاں پر کیا آئے گی؟ نہی نہیِ عاجز لازم آئے گی قبیح لعینہٖ قرار دینے کی صورت میں۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھی طرح ساری دلیل؟ جی، اب دیکھیے کتاب پر بھئی۔
وَلَمَّا فَرَغَ عَنْ تَقْسِيْمِ النَّهْيِ اَرَادَ اَنْ يَّبَيِّنَ اَنَّ اَيَّ نَهْيٍ يَّقَعُ عَلَى الْقِسْمِ الْاَوَّلِ وَاَيَّ نَهْيٍ يَّقَعُ عَلَى الْقِسْمِ الْاٰخَرِ.
اور جب مصنف رحمہ اللہ نہی کی تقسیم سے فارغ ہوئے، بھئی پہلے نہی کی تقسیم کی نا قبیح لعینہٖ ہوگا یا قبیح لـ منہی عنہ جو ہے وہ قبیح لعینہٖ ہوگا یا قبیح لغیرہٖ، اور قبیح لعینہٖ پھر دو قسم پر ہے۔ کون کون سا؟ وضعاً اور شرعاً، وضعاً اور شرعاً، اور قبیح لغیرہٖ بھی دو قسم پر ہے وصفاً اور مجاوراً۔ تو جب مصنف رحمہ اللہ نہی کی تقسیم سے فارغ ہوئے، اَرَادَ تو ارادہ کیا اَنْ يَّبَيِّنَ کہ وہ یہ بیان کریں اَنَّ اَيَّ نَهْيٍ يَّقَعُ عَلَى الْقِسْمِ الْاَوَّلِ کہ کون سی نہی جو ہے پہلی قسم پر واقع ہوگی، پہلی قسم کیا تھی؟ قبیح لـ قبیح لعینہٖ، کہ اس پر کون وَاَيَّ نَهْيٍ يَّقَعُ عَلَى الْقِسْمِ الْاٰخَرِ اور کون سی نہی دوسری قسم پر واقع ہوگی یعنی قبیح لغیرہٖ، یعنی کون سی نہی جو ہے اس کے صورت میں منہی عنہ کو قبیح لغیرہٖ قبیح لعینہٖ قرار دیا جائے اور کون سی صورت میں نہی آئے تو فعل کو قبیح لغیرہٖ قرار دیا جائے۔ فَقَالَ پس فرمایا:
وَالنَّهْيُ عَنِ الْاَفْعَالِ الْحِسِّيَّةِ يَقَعُ عَلَى الْقِسْمِ الْاَوَّلِ.
اور افعال حسیہ سے نہی جو ہے وہ واقع ہوگی پہلی قسم پر یعنی محمول ہوگی کس پر؟ پہلی افعال حسیہ میں نہی آ جائے تو وہ محمول ہوگی پہلی قسم پر یعنی قبیح لـ قبیح لعینہٖ پر محمول ہوگی۔
وَالْمُرَادُ بِالْاَفْعَالِ الْحِسِّيَّةِ، دیکھو فعل حسی کا معنی میں نے کیا بتلایا تھا؟ کہ جس کا وہ پرانا معنی تھا شریعت کے آنے کے بعد بھی وہی پرانا معنی رہا، اس کے معنی میں شریعت نے کوئی تبدیلی پیدا نہ، پیدا نہیں کی وہی معنی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں وَالْمُرَادُ بِالْاَفْعَالِ الْحِسِّيَّةِ اور افعال حسیہ سے مراد مَا وہ افعال ہیں تَكُوْنُ مَعَانِيْهَا الْمَعْلُوْمَةُ الْقَدِيْمَةُ قَبْلَ الشَّرْعِ کہ ان کے وہ جو معلوم معانی تھے، وہ جو پرانے معلوم معانی تھے شریعت کے آنے سے پہلے بَاقِيَةً عَلٰى حَالِهَا وہ اپنے حال پر باقی ہوں لَا تَتَغَيَّرُ بِالشَّرْعِ وہ بدلیں نہ شریعت کی وجہ سے، كَالْقَتْلِ وَالزِّنَا وَشُرْبِ الْخَمْرِ جیسے کہ قتل ہے اور زنا ہے اور شرب شراب کا پینا ہے۔ جی، بَقِيَتْ مَعَانِيْهَا وَمَاهِيَّاتُهَا بَعْدَ نُزُوْلِ التَّحْرِيْمِ عَلٰى حَالِهَا، باقی رہے ان کے معانی وَمَاهِيَّاتُهَا اور ان کی حقیقتیں بَعْدَ نُزُوْلِ التَّحْرِيْمِ حرام تحریم کا حکم نازل ہونے کے بعد عَلٰى حَالِهَا اپنے حال پر۔
بھئی فعل حسی وہ ہے نا جس کے معنی میں شریعت جو ان کا پرانا معلوم معنی تھا شریعت سے پہلے وہ اپنے حال پر باقی ہو، شریعت کی وجہ سے اس میں کوئی تبدیلی نہ آئی ہو، جیسے قتل، زنا اور شراب کا پینا، ان کے وہ جو معانی جو ان کے معلوم تھے اور ان کی جو حقیقت معلوم تھی کہ کسے کہتے ہیں وہ باقی رہے اپنے حال پر ہی بَعْدَ نُزُوْلِ التَّحْرِيْمِ
تحریم کے حکم کے بعد، حرام ہونے کے حکم کے نازل ہونے کے بعد بھی یہ باقی رہے علی حالها, کس پر؟ اپنے حالت, اپنی حالت پر۔ ولا يراد أن حرمتها حسية معلومة بالحس لا يتوقف على الشرع۔
یہ معنی نہیں ہے کہ اس کے حرمت کا پتہ حس سے, یعنی دیکھنے سے, خود ہی ظاہر سے ہی پتہ چل جاتا ہے۔
افعالِ حسّیہ
کہتے ہیں ہمارے کہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ, تو یہ حرام ہونے کا پتہ ہمیں حس سے پتہ چل جاتا ہے, ظاہر سے ہی کیا ہے ہمیں اس کے حرام ہونے کا پتہ چل جاتا ہے, یہ ہماری مراد نہیں ہے بھئی فعل, جب ہم کہتے ہیں نہ ایک فعلِ حسّیہ ہے ایک فعلِ شرعیہ ہے, تو کہنے کا یہ معنی نہیں, ایک کے حرام ہونے کا پتہ حس سے ہی چلا, اور ایک کے حرام ہونے کا پتہ شریعت سے چلا, نہیں نہیں کہتے ہیں یہ معنی نہیں ہے, حرام ہونا, یہ تو ایک شریعت کا حکم ہے اس کا تو پتہ چلتا ہی کس سے ہے؟ شریعت سے۔ ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کا جو معنی شریعت سے پہلے ہوتا تھا, جو پہلے معنی ہوتا تھا وہی شریعت کے آنے کے بعد بھی وہی معنی ہے, حرام حلال ہونے کا پتہ شریعت سے پہلے ہو یہ ہم نہیں بات کر رہے بھئی, صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو یہی بیان کر رہے ہیں کہ ولا يراد, یہ مراد نہیں ہے کہ أن حرمتها حسية معلومة بالحس, کہ ان کا حرام ہونا وہ حسّی ہے, معلوم ہوتا ہے حس کے ذریعے, لا يتوقف على الشرع, اور شریعت پر موقوف نہیں ہے, یہ معنی نہیں ہے ہمارے کہنے کا۔
فالنهي عن هذه الأفعال عند الإطلاق وعدم الموانع يقع على القبح لعينه إلا إذا قامت الدليل على خلافه۔
یہ وہی بات کر رہے ہیں جو میں نے آپ کو احناف کا, احناف کے مذہب کی تفصیل میں لکھوائی تھی بھئی۔ احناف کا مذہب کیا تھا؟ کہ فعلِ حسّی میں نہی آ جائے تو اس کو کس پر محمول کریں گے؟ اس فعلِ حسّی کو؟ اسے قبیح لعینہ قرار دیں گے, اور فعلِ شرعی میں نہی آ جائے تو اسے کیا قرار دیں گے؟ قبیح لغیرہ قرار دیں گے بشرطیکہ کوئی دلیل یا کوئی مانع موجود نہ ہو۔ اگر کوئی مانع آ گیا, کوئی دلیل آ گئی تو پھر اس کا عکس بھی ہو سکتا ہے۔
کیسے؟ فعلِ حسّی میں نہی آئے, یہ نہی کیا تقاضا کرتی ہے اسے کیا قرار دیا جائے؟ قبیح لعینہ, لیکن اگر کوئی دلیل قائم ہو گئی جس نے بتلایا کہ یہ قبیح لعینہ نہیں ہے بلکہ یہ قبیح لغیرہ ہے تو پھر اس دلیل کی وجہ سے اسے کیا قرار دے دیں گے؟ قبیح لغیرہ, اور فعلِ شرعی میں نہی آئے تو وہ تقاضا کرتی ہے کہ اسے قبیح لغیرہ قرار دیا جائے لیکن اگر کوئی دلیل قائم ہو گئی تو اس دلیل کی وجہ سے اسے قبیح لعینہ پھر ہم قرار دے دیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ احناف کا مذہب تھا, اسی کو اب بیان کرنے کر رہے ہیں کہ فالنهي عن هذه الأفعال, کہ نہی ان افعال سے, یعنی افعالِ حسّی, افعالِ حسّیہ سے, یہاں صرف افعالِ حسّیہ کی بات کر رہے ہیں آگے افعالِ شرعیہ آ رہے ہیں۔ تو نہی, نہی ان افعال سے یعنی افعالِ حسّیہ سے عند الإطلاق وعدم الموانع, اطلاق کے وقت اور مانع کے نہ پائے جانے کے وقت بھئی, یعنی اطلاق؟ یعنی جب مطلق ہو یعنی کوئی اور دلیل وغیرہ اس کے ساتھ نہ ہو, اور کوئی مانع وغیرہ نہ ہو, تو پھر اس صورت میں افعالِ حسّیہ میں جو نہی ہے يقع على القبح لعينه, اس کو کس پر محمول کریں گے؟ قبیح لعینہ پر محمول کریں گے, لیکن اگر کوئی مانع آ گیا, کوئی دلیل آ گئی تو پھر کس پر محمول کر سکتے ہیں؟ پھر قبیح لغیرہ پر بھی محمول کریں, پھر قبیح لغیرہ پر محمول کریں گے, یہی بات آگے بیان کر رہے ہیں: إلا إذا قامت الدليل على خلافه, مگر یہ کہ کوئی دلیل اس کے خلاف قائم ہو جائے, كالوطء حالة الحيض, جیسے وطء کرنا حالتِ حیض میں, حرام لغيره, یہ کیا ہے؟ حرام لغیرہ ہے, مع أنه فعل حسي, باوجود اس کے کہ یہ فعلِ حسّی ہے, لقيام الدليل, دلیل کے قائم ہونے کی وجہ سے۔
بھئی دیکھیے, خاوند کا بیوی سے صحبت کرنا, وطء, اب وطء کا جو معنی شریعت کے آنے سے پہلے تھا وہی معنی شریعت کے آنے کے بعد بھی ہے, اور اس حالتِ حیض میں بیوی سے صحبت کرنے سے منع کیا گیا, قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ويسألونك عن المحيض, اے پیغمبر! یہ لوگ یعنی صحابہ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں, قل هو أذى, آپ فرما دیجیے کہ یہ کیا ہے؟ یہ گندگی ہے, یہ حیض کیا ہے؟ گندگی ہے, فاعتزلوا النساء في المحيض, پس جدا رہو اپنی بیویوں سے حیض کے اندر, تو دیکھو, کیا حکم دیا گیا کہ بیویوں سے حیض کی حالت میں جدا رہو, تو یہ امر ہے "فاعتزلوا" جدا رہو, لیکن دراصل معنی کے اعتبار سے یہ نہی ہے یعنی ان سے صحبت نہ کرو, حیض کی حالت میں اپنی بیویوں سے صحبت نہ کرو۔
اور یہ جو وطء ہے, یہ ہے فعلِ حسّی, اور منع کیا جا رہا ہے وطء سے, تو وطء فعلِ حسّی ہے اس کے بارے میں نہی آ گئی اور فعلِ حسّی کے بارے میں نہی آئے تو اسے کیا, اسے ہم کس پر محمول کرتے ہیں؟ قبیح لعینہ پر, لیکن یہاں مانع موجود ہے, دلیل موجود ہے اس وجہ سے ہم اسے قبیح لعینہ قرار نہیں دیتے بلکہ کیا قرار دیتے ہیں؟ قبیح لغیرہ, اور وہ مانع یا وہ دلیل کیا ہے؟ بھئی وہ اس آیت کے اندر اللہ فرما رہے ہیں کہ وہ "قل هو أذى" وہ حیض کیا ہے؟ گندگی ہے, معلوم ہوا وطء کے اندر جو خرابی آئی کس کی وجہ سے آئی؟ حیض کی وجہ سے, یعنی غیر کی وجہ سے آئی بھئی, تو یہ وطء جو حالتِ حیض میں ہے, یہ قبیح لعینہ نہیں, اپنی ذات کے اعتبار سے قبیح نہیں ہے بلکہ اس میں قباحت کس کی وجہ سے؟ غیر یعنی حیض کی وجہ سے آئی بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ اس لیے ہم نے اس کو کیا قرار دے دیا؟ قبیح لغیرہ۔
وعن الأمور الشرعية يقع على الذي اتصل به وصفاً, اور اس کا عطف اوپر اسی "عن الأفعال الحسية" پر ہے, اور نہی امورِ شرعیہ سے, یعنی افعالِ شرعیہ سے يقع, یہ محمول ہو گی على الذي, اس قسم پر اتصل به, أي اتصل القبح به, ضمیر کس کو راجع؟ قبح کو, کہ وہ قسم کہ مل گیا ہو قبح اس کے ساتھ وصفاً, باعتبار وصف کے, جس کے ساتھ قبح مل گیا ہو باعتبار وصف کے طور پر مل گیا ہو, بھئی وہی قبیح لغیرہ ہے جس کے ساتھ وصف کے طور پر قبح ملا ہو, یعنی غیر کی وجہ سے ملا ہو یعنی قبیح لغیرہ, یعنی امورِ شرعیہ میں نہی آ جائے تو اس کو کس پر محمول کیا جائے گا؟ قبیح لغیرہ پر, یہ کہنے کا مطلب ہے۔ کیونکہ کیا کہا: يقع على الذي اتصل به وصفاً, جس کے ساتھ قبح مل گیا ہو وصف ہو کر, جس کے ساتھ وہ قبح کیسے ملا ہے؟ وصف ہو کر بھئی, یعنی اس کی ذات میں قبح نہیں ہے اس کے ساتھ جو وصف ہے اس میں کیا آ گیا ہے؟ قبح آ گیا ہے, بات سمجھ میں آئی؟
تو یعنی قبیح لغیرہ پر اس کو محمول کریں گے۔ بھئی وصفاً ذکر کیا مجاوراً کو ذکر نہیں کیا بھئی, یہ نہیں کہ مجاوراً نہیں واقع ہو گی بھئی, بس قبیح لغیرہ ہو گی کبھی وصفاً اور کبھی مجاوراً, لیکن وصفاً کو اس لیے ذکر کر دیا کہ یہ اکثر و اشہر ہے مولانا, اکثر و زیادہ کثرت سے یہ واقع ہوتا ہے اور زیادہ مشہور یہ ہے اس لیے اس کو ذکر کر دیا ورنہ یہ نہیں کہ صرف وصفاً ہی ہو گا مجاوراً نہیں ہو گا بلکہ کیا ہو گا کبھی, کبھی وصفاً ہو گا اور کبھی مجاوراً ہو گا, بس, اور یہ وصفاً اور مجاوراً کس کی قسمیں ہیں؟ قبیح لغیرہ کی, یعنی تو وہ نہی محمول ہو گی قبیح لغیرہ پر بھئی, بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟
کہتے ہیں: عطف على قوله: "عن الأفعال الحسية", یہ عطف ہے ماتن کے, مصنف کے قول "عن الأفعال الحسية", اوپر متن میں کیا آیا تھا؟ عن الأفعال الحسية, تو یہ "عن الأمور الشرعية" یہ اس پر, اس پر عطف ہے اور وہ نہی کے ساتھ متعلق تھا, نہی کے تحت تھا, تو یہ بھی نہی کے تحت ہوا, أي: والنهي عن الأمور الشرعية, عبارت یوں ہو گئی۔
أي: والنهي عن الأمور الشرعية, یعنی نہی امورِ شرعیہ, یعنی افعالِ شرعیہ میں يقع على القسم الذي اتصل به القبح وصفاً, وہ محمول ہو گی اس قسم پر جس کے ساتھ مل گیا ہو قبح وصف ہو کر, أي: يحمل على أنه قبيح لغيره وصفاً, یعنی اس کو محمول کیا جائے گا کہ یہ قبیح لغیرہ وصفاً ہے, والمراد بالأمور الشرعية ما تغيرت معانيها الأصلية بعد ورود الشرع بها, اور امورِ شرعیہ, یعنی افعالِ شرعیہ سے مراد وہ افعال ہیں تغيرت معانيها الأصلية, کہ بدل گئے ہوں ان کے اصلی معانی بعد ورود الشرع بها, جب شریعت ان کے ساتھ نازل ہوئی, تو اس کے بعد ان کے معانی بدل گئے, كالصوم والصلاة والبيع والإجارة, جیسے کہ روزہ ہے, نماز ہے, بیع ہے اور اجارہ, کوئی چیز کرائے پر دینا۔ فإن الصوم هو الإمساك في الأصل, اس لیے کیونکہ روزہ جو ہے وہ امساک ہے اصل میں, روزہ تو اصل میں امساک کا نام ہے, رکنے کا نام, کس چیز کا نام؟ رکنے کا نام۔
تو اصل عربی زبان میں روزہ رکنے کا نام تھا۔ لیکن شریعت نے بتلایا ہر چیز سے رکنا نہیں مراد, تین چیزوں سے رکو: کھانے, پینے اور بیوی سے صحبت, ان تین سے رکو, اور وقت بھی بتلایا, تھوڑی دیر 10 منٹ کے لیے رکنا نہیں مراد بلکہ کیا مراد ہے؟ صبحِ صادق سے غروبِ آفتاب تک, تو دیکھو, دیکھو, یہ روزے کے معنی میں شریعت نے تبدیلی پیدا کر دی, پہلے یہ معنی ہم نہیں جانتے تھے کہ یہ معنی ہوتا ہے روزے کا, اس کے بغیر جو ہو وہ روزہ نہیں۔
تو یہ معنی ہے کہ یہ اصل میں تو امساک, رکنے کا نام تھا, وزيدت عليه في الشرع أشياء, اور بڑھا دی گئیں اس میں, اس پر شریعت میں کچھ چیزیں, والصلاة هو الدعاء, اور صلاۃ جو ہے عربی زبان میں دعا ہے, زيدت عليه أشياء, اس پر بھی کچھ چیزیں بڑھا دی گئیں, کس طرح؟ باوضو ہو, اور قیام ہو, قیام ہو, قرأت ہو, رکوع ہو, سجدہ ہو, اور اس طرح, تو یہ نماز ہے بھئی۔ والبيع مبادلة المال بالمال فقط, اور بیع پہلے کسے کہتے تھے اصل میں؟ مبادلة المال بالمال کو صرف کہتے تھے, زيدت عليها, اس پر بڑھا دیا گیا أهلية العاقدين, کہ دونوں عقد کرنے والے اہل بھی ہوں, اہل بھی ہوں, عاقل بالغ آزاد ہوں بھئی, معلوم ہوا مجنون کرے تو وہ بیع نہیں بھئی اس میں اہلیت نہیں ہے۔ ومحلية المعقود عليه, اور معقود علیہ محل بھی ہو بیع کا, معقود علیہ یعنی جس پر عقد کیا جا رہا ہے یعنی مبیع مراد ہے, معقود علیہ سے کیا مراد ہے؟ مبیع محل بھی ہو بیع کا, یہ نہ ہو محل ہی نہ ہو, آزاد آدمی کو پکڑ کے کوئی بیچتا ہے بھئی, یہ محل ہی نہیں ہے بیع کا, یہ مال ہی نہیں ہے, بات سمجھ میں آئی؟ اور یا اسی طرح وہ معدوم نہ ہو بھئی, ایک چیز کا وجود ہی نہیں ہے ابھی اور پہلے سے ہی کوئی اسے بیچتا ہے کہ اس جانور کا جو بچہ پیدا ہو گا وہ میں تمہیں آج ہی سے بیچتا ہوں, بھئی ابھی اس کا وجود ہی نہیں ہے تو معقود علیہ ابھی محل ہی نہیں بنا بیع کا, اسے کیسے بیچتے ہو؟ وغير ذلك, اور اس کے علاوہ اور شرطیں لگائیں بھئی اس میں شریعت نے, والإجارة مبادلة المال بالمنافع, اور اجارہ جو تھا وہ مال کا مبادلہ تھا نفع کے بدلے, زيدت عليه, اس پر بڑھا دیا گیا شریعت نے معلومية المستأجر والأجرة والمدة, کہ مستاجر بھی معلوم ہونا چاہیے, اجرت بھی معلوم ہونی چاہیے, والمدة, اور مدت بھی معلوم ہونی چاہیے, وغير ذلك, اور اس کے علاوہ اور چیزیں بھی معلوم ہونی چاہئیں۔ مستاجر, وہ چیز جو کرائے پر دی جا رہی ہے, مثلاً آپ گاڑی کرائے پر لینے گئے ہیں تو پتہ ہونا چاہیے کہ کیا چیز کرائے پر لے رہے ہیں, طے ہونا چاہیے۔ سمجھ میں آیا؟ فلاں گاڑی ہے یا فلاں یا فلاں قسم کی ورنہ بعد میں تو جھگڑا آئے گا, آپ کہیں گے میں تو سوچ رہا تھا آپ مرسڈیز گاڑی کرائے پر دے رہے ہیں, آپ نے تو مجھے سوزوکی گاڑی پکڑا دی ہے, تو جھگڑا آئے گا یا نہیں آئے گا؟ آئے گا, تو پہلے سے وہ چیز متعین, معلوم ہو کیا چیز کرائے پر لے رہے ہیں, اجرت بھی معلوم ہونی چاہیے کہ اتنے پیسے ہوں گے اس کے اتنی دیر کے, مدت بھی معلوم ہونی چاہیے کہ یہ اتنی دیر کے لیے ہے اتنے کرائے پر, تو یہ چیزیں سب پہلے سے معلوم ہونی چاہئیں, یہ شریعت نے آ کر بتلایا یہ ہمیں پہلے پتہ نہیں تھا۔
فالنهي عن هذه الأفعال عند الإطلاق يحمل على القبح الوصفي, پس نہی ان افعال میں آئے تو عند الإطلاق, جب کوئی مطلق ہو یعنی کوئی قرینہ وغیرہ اس کے ساتھ نہ ہو تو يحمل على القبح الوصفي, تو اس کو کس پر محمول کیا جائے گا؟ قبحِ وصفی پر, یعنی قبیح, قبیح لغیرہ پر۔ إلا إذا دل الدليل على كونه قبيحاً لعينه, مگر یہ کہ کوئی دلیل دلالت کرے اس کے قبیح لعینہ ہونے پر, اگر کوئی دلیل آ گئی, فعلِ شرعی میں نہی آئے تو اسے کیا ہونا چاہیے؟ قبیح لغیرہ, لیکن اگر کوئی دلیل قائم ہو جائے تو اس دلیل کی وجہ سے پھر اسے کیا قرار دے دیں گے؟ قبیح لعینہ۔ كالنهي عن بيع المضامين والملاقيح وصلاة المحدث, جیسے کہ مضامین کی بیع اور ملاقیح کی بیع اور بے وضو کی نماز, بے وضو کی نماز۔
بھئی مضامین کے بیچنے سے منع کیا گیا, ان کی بیع سے منع کیا گیا, ملاقیح کی بیع سے بھی منع کیا گیا, مضامین آگے تفصیل آ رہی ہے, مضامین جمع ہے مضمونۃ کی, اور مضمونۃ وہ نطفہ جو باپ کی پشت میں ہو, اس کی بیع جائز نہیں۔ وہ نطفہ جو باپ کی پشت میں ہو۔ عرب کے ہاں یہ بیع رائج تھی, کوئی نر جانور ہوتا بڑا اچھا اعلیٰ قسم کا مثلاً کوئی اونٹ ہے یا کوئی گھوڑا ہے تو اس کی بچے کی پہلے ہی سے بیع کر لیتے, کیا کہتے؟ یہ نر گھوڑا, اس سے اس کی جفتی سے جو آگے بچہ پیدا ہو گا وہ ابھی سے میں تمہیں فروخت کرتا ہوں, تو بھئی ابھی اس کا وجود ہی نہیں ہے, ایک معدوم چیز ہے اس کی بیع جائز نہیں, شریعت نے اس کے بیچنے, اس کی بیع کرنے سے منع کر دیا۔
اسی طرح ملاقیح بھئی, ملاقیح ملحوحۃ کی جمع ہے,
اور وہ بچہ جو ماں کے پیٹ میں ہو، اسے ملوقحت کہتے ہیں، یعنی حمل، حمل۔
تو حمل کی بیع سے بھی شریعت نے منع کیا، بھئی۔ عرب کے ہاں یہ بیع ہوتی تھی کہ کوئی عمدہ نسل کا جانور ہے، تو وہ اور اس کا حمل ہے پیٹ میں، تو وہ پہلے سے ہی بچے کے پیدا ہونے سے پہلے اس کی بیع کر لیا کرتے تھے۔
شریعت نے بتلایا نہیں، بھئی! ابھی اس بچے کا وجود ہی نہیں، تو اس کی پہلے سے بیع کیسے کر لیتے ہو؟ پتہ نہیں جانور کا پیٹ بڑا ہوا ہے، جانور کا پیٹ بڑا لگ رہا ہے، تو ضروری تو نہیں کہ پیٹ میں حمل ہو۔ ہو سکتا ہے کسی مرض کی وجہ سے ویسے پیٹ پھولا ہوا ہو۔ تو لہٰذا اس میں امکان ہے کہ ہو سکتا ہے چیز کا وجود ہی نہیں ہے، تو لہٰذا یہ بیع بھی جائز نہیں ہے، بھئی۔
اسی طرح صلاۃ المحدث، بھئی، بے وضو شخص کی نماز۔ شریعت نے بے وضو نماز پڑھنے سے منع کیا ہے۔ منع کیا ہے۔
تو دیکھو! نہی آئی بیعِ مضامین اور بیعِ ملاقیح کے بارے میں، یعنی بیع کے بارے میں۔ کس کے بارے میں نہی آئی؟ بیع کے بارے میں۔ اور بیع فعلِ شرعی ہے یا فعلِ حسی ہے؟ فعلِ شرعی ہے، اور فعلِ شرعی کے اندر نہی آئے تو ہم اسے کس پر محمول کرتے ہیں؟ قبیح لغیرہ پر۔
تو اس بیعِ ملاقیح اور بیعِ مضامین کو قبیح لغیرہ ہونا چاہیے۔ لیکن ان کو کیا قرار دے دیا گیا؟ قبیح لعینہ قرار دے دیا گیا۔ کیونکہ یہ ایک معدوم چیز کی بیع ہے، ایک چیز کا وجود ہی نہیں ہے، بیچتے کس چیز کو ہو، بھئی؟ تو لہٰذا یہاں یہ بیعِ مضامین، بیعِ ملاقیح ان میں ان کی بیع سے منع کیا گیا، تو ان کی بیع کو قبیح لغیرہ نہیں قرار دیں گے بلکہ قبیح لعینہ قرار دیں گے اس دلیل کی وجہ سے۔
کیا دلیل؟ کہ ایک چیز کا ابھی وجود ہی نہیں ہے، معدوم چیز ہے، تو اس کی بیع کیسے کرتے ہو؟ بیع تو کسی موجود چیز کی کی جاتی ہے، معدوم کی نہیں کی جاتی، تو اس لیے یہ قبیح لعینہ ہے۔
اسی طرح بے وضو شخص کو نماز سے منع کیا گیا، اور نماز، صلاۃ، یہ تو ہے فعلِ شرعی، اور اس میں نہی آئی، تو اس کو کیا ہونا چاہیے؟ قبیح لغیرہ، یعنی ذات کے اعتبار سے جائز ہو، وصف کے اعتبار سے جائز نہ ہو، لیکن اس کو کیا قرار دیا گیا؟ قبیح لعینہ قرار دیا گیا، کیونکہ بے وضو میں نماز پڑھنے کی اہلیت ہی نہیں ہے، نماز پڑھنے لگا ہے تو وضو ہونا چاہیے، بھئی۔
کہتے ہیں: "لان القبح یثبت اقتضاء فلا یتحقق علی وجہ یبطل بہ المقتضی وہو النہی"
دیکھیے بھئی، دو باتیں تو پیچھے تفصیلاً ذکر ہو گئیں۔ کہ افعالِ حسیہ میں نہی آئے تو اسے محمول کریں گے قبیح لعینہ پر۔ اور افعالِ شرعیہ میں نہی آئے تو اسے محمول کریں گے قبیح لغیرہ پر۔
ہاں، یہ کیوں کریں گے؟ افعالِ شرعیہ میں نہی آئے تو اسے قبیح لغیرہ پر کیوں محمول کریں گے؟ اب اس کی دلیل ذکر کرنے لگے ہیں۔ کیا ذکر کرنے لگے ہیں؟ دلیل، احناف کی وہ جو دلیل میں نے آپ کو لکھوا دی تھی مولانا، وہ ساری تفصیل اب وہ بیان کریں گے۔
"لان القبح یثبت اقتضاء" اس لیے کہ قبح ثابت ہوتا ہے اقتضاءً۔ قبح کس طرح ثابت ہوتا ہے؟ اقتضاءً۔ کیسے اقتضاءً؟ نہی اس کا تقاضا کر رہی ہے، اس میں جس چیز سے روکا گیا ہے، اللہ نے روکا ہے، معلوم ہوا اس میں کیا ہے؟ قبح ہے۔ تو قبح کیسے ثابت ہوا؟ اقتضاءً۔ کس نے اقتضاء کی؟ نہی نے اقتضاء کی۔ تو نہی کیا ہوئی؟ مقتضی، اور قبح کیا ہوا؟ مقتضا۔ تو قبح جو اقتضاءً ثابت ہوا، "فلا یتحقق علی وجہ" تو وہ ثابت نہیں ہوگا ایسے طریقے پر کہ "یبطل بہ المقتضی" کہ اس سے مقتضی ہی کیا ہو جائے؟ باطل ہو جائے۔ ایسے طریقے پر وہ ثابت نہیں ہوگی کہ جس سے مقتضی یعنی نہی ہی باطل ہو جائے اور نہی کیا بن جائے؟ نفی بن جائے، ایسے طریقے پر ثابت نہیں ہوگی۔
کہتے ہیں: "فلا یتحقق علی وجہ یبطل بہ المقتضی" تو لہٰذا وہ ثابت نہیں ہوگی ایسے طریقے پر کہ جس سے مقتضی باطل ہو جائے، بھئی مقتضی کیا ہے؟ کہتے ہیں: "وہو النہی" وہ نہی ہے، نہی مقتضی ہے اور قبح مقتضا ہے۔
کہہ رہے ہیں، اب شارح بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں: "دلیل علی الدعوی الاخیرۃ" یہ دعویٰ اخیرہ پر دلیل ہے، کون سے دعوے پر، بھئی؟ کہ امورِ شرعیہ میں نہی آ جائے تو اسے کس پر محمول کیا جائے گا؟ قبیح لغیرہ پر، جو آخری دعویٰ تھا مولانا۔
یہ دلیل ہے اس پر، "وبیانہ یقتضی بسطا" اور اس کا بیان تقاضا کرتا ہے تفصیل کا، "وہو ان فی النہی عن الافعال الشرعیۃ اختلافا" اور وہ یہ کہ افعالِ شرعیہ سے جو نہی ہے، اس میں اختلاف ہے، "فقال الشافعی رحمہ اللہ" امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "انہ یقتضی القبح لعینہ" کہ یہ نہی تقاضا کرتی ہے کس چیز کا؟ قبح لعینہ کا، کس کے اندر؟ کون سے افعال کی بات چل رہی ہے؟ افعالِ شرعیہ کی، وہ کہتے ہیں اس میں نہی جو ہے آئی ہے، اور وہ نہی تقاضا کرتی ہے قبح لعینہ کا، "وہو الکامل" اور وہ کامل ہے، قبح لعینہ کامل ہے، تو یہ تقاضا کرتی ہے قبح لعینہ کا "قیاسا علی الاول" قیاس کرتے ہوئے اول پر، پہلی قسم پر، کون سی، بھئی؟ وہ افعالِ حسیہ پر، بھئی، قیاس کرتے ہوئے، "علی ما یاتی" بنا بر اس کے جو آ رہا ہے، آگے تفصیل امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب متن میں باقاعدہ ذکر کریں گے، بھئی۔
"ونحن نقول" اور ہم کہتے ہیں: "ان النہی یرا د بہ عدم الفعل مضافا الی اختیار العباد" کہ نہی جو ہے، اس کے ذریعے مراد عدمِ فعل ہے اس حال میں کہ اس کی نسبت کی گئی ہو بندے کے اختیار کی طرف۔ کہ نہی کیا ہے؟ نہی کے ذریعے مراد عدمِ فعل ہے اس حال میں کہ وہ منسوب ہو بندے کے اختیار کی طرف، یعنی بندہ اپنے اختیار سے کیا ہو اس فعل سے باز رہے، رک جائے۔
"فان کف عن المنہی عنہ باختیارہ یثاب علیہ والا یعاقب علیہ" پس اگر وہ باز رہا منہی عنہ سے اپنے اختیار کے ساتھ تو اسے ثواب دیا جائے گا، ورنہ اسے سزا دی جائے گی۔
"وان لم یکن ثمہ اختیار سمی ذالک الکف نفیا ونسخا لا نہیا" اور اگر وہاں پر، "ثمہ" اس میں اشارہ ہے، میں نے آپ کو پہلے بھی بتلایا تھا "ثمہ"، "ثم" حرفِ عطف ہے اور "ثمہ" کیا ہے اس میں؟ اشارہ، کبھی کبھی اس کے ساتھ "ہا" بھی ملا دیتے ہیں، جیسے اس وقت یہاں "ہا" ملا دی گئی ہے، وقف کے لیے "ہا" ملا دیتے ہیں۔
تو کہتے ہیں: "وان لم یکن ثمہ اختیار سمی ذالک الکف نفیا ونسخا لا نہیا" اگر وہاں اختیار نہ ہو، تو اس رکنے کو نفی اور نسخ کہتے ہیں، لا نہیا، نہی نہیں کہتے۔
"کما اذا لم یکن فی الکوز ماء" جیسے کہ مولانا، پیالے میں پانی نہ ہو، کوز کہتے ہیں دستے والے پیالے کو، جس کا دستہ ہو، بھئی۔
"کما اذا لم یکن فی الکوز ماء" جیسے کہ پیالے کے اندر پانی نہ ہو، "ویقال لہ لا تشرب" اور اس شخص سے کہا جائے: لا تشرب، پانی نہ پیو، "فہذا نفی" یہ کیا ہے؟ نفی، کیونکہ وہ قادر ہی نہیں پینے پر۔
"وان قیل لہ ذالک بوجود الماء سمی نہیا" اور اگر اس کو یہ کہا جائے پانی کے پائے جاتے ہوئے، تو اس کو پھر کیا کہیں گے؟ اس کو نہی کہیں گے۔
"فالاصل فی النہی عدم الفعل بالاختیار" تو نہی کے اندر اصل کیا ہے؟ کہ عدمِ فعل اختیار کے ساتھ ہو۔
"والقبح انما یثبت فی النہی اقتضاء ضرورۃ حکمۃ الناہی" اور قبح جو ہے وہ ثابت ہوتی ہے نہی کے اندر بطورِ اقتضاء کے، "ضرورۃ حکمۃ الناہی" ناہی کی حکمت کے یقینی ہونے کی وجہ سے، کیونکہ ناہی کا حکیم ہونا یقینی ہے، جب وہ یقینی طور پر حکیم ہے اور اس نے کسی چیز سے روکا ہے، تو ضرور اس چیز کے اندر کیا ہے؟ قباہت ہے، کیا ہے؟ قباہت ہے۔
تو کہتے ہیں: "والقبح انما یثبت فی النہی اقتضاء ضرورۃ حکمۃ الناہی" اور قباحت جو ہے وہ ثابت ہوتی ہے نہی کے اندر بطورِ اقتضاء کے، ناہی کے حکیم ہونے کے یقینی ہونے کی وجہ سے۔
"فینبغی ان لا یتحقق ہذا القبح علی وجہ یبطل بہ المقتضی اعنی النہی" پس مناسب ہے کہ ثابت نہ ہو یہ قبح ایسے طریقے پر کہ باطل ہو جائے جس کے ذریعے مقتضی، جس کے ذریعے مقتضی باطل ہو جائے اس طریقے پر اس کو ثابت نہیں ہونا چاہیے، مقتضی کون ہے؟ کہتے ہیں: "اعنی النہی" یعنی کہ نہی۔ کہیں ایسا نہ ہو نہی ہی باطل ہو کر نفی بن جائے۔
"لانہ اذا اخذ القبح قبحا لعینہ صار النہی نفیا" اس لیے کہ جب وہ قبح جو ہے، وہ قبح لعینہ ہو گیا، تو نہی کیا بن گئی؟ نفی بن گئی۔
"ویبطل الاختیار اذ اختیار کل شیء ما یناسبہ" تو اختیار ہی باطل ہوا، کیونکہ اختیار ہر چیز کا اس کے مناسب ہوا کرتا ہے۔
"فاختیار الافعال الحسیۃ ہو القدرۃ حسا" تو افعالِ حسیہ کا اختیار جو ہے، وہ قادر ہونا ہے حسی طور پر، "ان یقدر الفاعل ان یفعل الزنا باختیارہ" یعنی یہ کہ قادر ہو فعل کرنے والا کہ وہ زنا کا فعل کرے اپنے اختیار سے، "ثم یکف عنہ" قادر ہو اور پھر کیا ہو اس سے رک جائے، "نظرا الی نہی اللہ تعالی" اللہ کی نہی کی طرف نظر کرتے ہوئے، "فیکون القبح ثمہ لعینہ"
اچھا، تو وہاں پر قبح کیا ہوگا افعالِ حسیہ کے اندر؟ لعینہ ہوگا "ثمہ" کے ذریعے، بھئی پیچھے کیا بات کی؟ کہ افعالِ حسیہ کے اندر قدرت، اختیار کا کیا معنی ہے؟ کہ بندہ حسًّا اس کے کرنے پر قادر ہو، یعنی بندہ فعلِ زنا کے کرنے پر قادر ہو، پھر اپنے اختیار کے ذریعے اس سے رک جائے کس طرف نظر کرتے ہوئے؟ اللہ کی نہی کی طرف نظر کرتے ہوئے۔
تو لہٰذا افعالِ حسیہ میں اختیار کس طرح ہوگا؟ حسًّا قدرت کے ذریعے ہوگا، کس طرح؟ حسًّا قدرت کے ذریعے ہوگا۔ "فیکون القبح ثمہ لعینہ" تو وہاں پر قبح کون سا ہوگا افعالِ حسیہ میں؟ قبح لعینہ ہوگا۔
"واختیار الافعال الشرعیۃ ان یکون اختیار الفعل فیہ من جانب الشارع" اور افعالِ شرعیہ کے اختیار کا معنی یہ ہے کہ وہ فعل جو ہے، اس میں فعل کا اختیار جو ہے اس میں شارع کی جانب سے ہو، "ومع ذالک ینہاہ عنہ" اور اس کے باوجود اس سے روکا ہو۔
فعل کا اختیار شارع کی جانب سے ہے، یعنی اجازت ہے، اور اس کے باوجود اس سے روکا گیا ہے، "فیکون ماذونا فیہ وممنوعا عنہ جمیعا" تو وہ فعل ماذون فیہ بھی ہوا اور ممنوع عنہ بھی ہوا، دونوں ہوئے، بھئی۔ تو وہ ماذون فیہ اور ممنوع عنہ دونوں ہوا، "ولا یجتمعان قط الا ان یکون ذالک الفعل مشروعا باعتبار اصلہ" اور یہ دونوں چیزیں یعنی ماذون فیہ ہونا اور ممنوع عنہ ہونا، یہ جمع نہیں ہو سکتے کبھی بھی مگر یہ کہ وہ فعل مشروع ہو باعتبار اصلہ اپنی، باعتبار اصلہ و ذاتہ، اپنی اصل اور اپنی ذات کے اعتبار سے وہ مشروع ہو، "وقبیحا باعتبار وصفہ" اور اپنے وصف کے اعتبار سے قبیح ہو۔ تو اسی صورت میں یہ دونوں چیزیں جمع ہو جائیں گی، بھئی۔
"ولا یکفی فی ہذہ الافعال الشرعیۃ الاختیار الحسی" اور کافی نہیں ہے ان افعالِ شرعیہ کے اندر اختیارِ حسی، یہاں اختیارِ حسی کافی، یعنی اختیارِ حسی کا یہاں کوئی اعتبار نہیں ہے کیونکہ یہ فعلِ شرعی ہے، تو اس کے مناسب کیا ہے کہ اختیار بھی کس کی طرف سے ہونا چاہیے؟ شرع کی طرف سے، حسًّا اختیار کا یہاں اعتبار نہیں ہے۔
تو یہی بات کر رہے ہیں، کہتے ہیں: "ولا یکفی فی ہذہ الافعال الشرعیۃ الاختیار الحسی" اور کافی نہیں ہے ان افعالِ شرعیہ کے اندر اختیارِ حسی، "کما کان فی القسم الاول" جیسے کس کے اندر تھا؟ قسمِ اول کے، یعنی افعالِ حسیہ میں تھا۔
"والشافعی رحمہ اللہ اذا قال بکمال القبح اعنی بعینہ" اور جب امام شافعی رحمہ اللہ نے کمالِ قبح کا قول کیا، "اعنی بعینہ" یعنی قبح بعینہ کا، "ذہب الاختیار الشرعی وبقی الاختیار الحسی" تو اختیارِ شرعی تو چلا گیا اور کون سا اختیار باقی رہا؟ اختیارِ حسی باقی رہا، "وہو لا ینفعنا" اور یہ ہمیں نفع نہیں دیتا، کیونکہ یہ فعلِ شرعی ہے، اس میں اختیارِ حسی کا اعتبار ہی نہیں ہے، اس میں تو کس کا اعتبار ہے؟
ہاں، تو امام شافعی رحمہ اللہ کا قول جب انہوں نے اس کو قبیح بعینہ قرار دیا، تو اس میں اختیارِ شرعی تو چلا گیا اور اختیارِ حسی رہا، "وہو لا ینفعنا" اور یہ ہمیں کوئی نفع نہیں دیتا، "فصار النہی نفیا ونسخا" تو نہی کیا ہو گئی؟ نفی اور نسخ ہو گئی، "وبطل المقتضی لرعایۃ المقتضی وہو قبیح جدا" اور مقتضی باطل ہو گیا مقتضا کی رعایت کے لیے۔
مقتضا کی رعایت کے لیے مقتضی کو باطل کرنا پڑا، بھئی، وہ باطل ہو گیا۔ کون تھا مقتضی؟ نہی۔ مقتضا کیا تھا؟ قبح، اور قبح کون سا ثابت کیا؟ قبح لعینہ، اور قبح لعینہ کو ثابت کرنے کے لیے ہمیں نہی کو باطل کر کے کیا بنانا پڑے گا؟ نفی، تو دیکھو مقتضا کی رعایت کے لیے کیا اس سے کرنا پڑے گا؟
اور کہتے ہیں یہ انتہائی قبیح ہے مولانا! اس لیے کہ مقتضی نے ہی تو مقتضا کو ثابت کیا تھا، اور آپ اس مقتضا کے لیے، اس کے ذریعے مقتضی کو کیا کر رہے ہیں؟ باطل کر رہے ہیں، جب وہ باطل ہو گا تو مقتضا بھی باطل ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آئی ہے؟ "وہو قبیح جدا" اور یہ انتہائی قبیح ہے۔
تقریر ساری سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ کہتے ہیں: "ہذا ہو غایۃ التحقیق فی ہذا المقام" یہ انتہائی درجے کی تحقیق ہے اس مقام کے اندر، یعنی سمجھ میں آیا؟ انتہائی درجے کی یہ تحقیق ہے، بھئی، ساری کہتے ہیں میں نے ذکر کر دی۔
"ثم فرع علی الاصل الذی مہدہ" پھر تفریع کی مولانا مصنف نے اپنے اس قانون پر جس کی تمہید انہوں نے باندھی تھی، "فقال" پس فرماتے ہیں:
بھئی، کیا قانون ذکر کیا تھا جس، کس کی تمہید باندھی؟ کہ افعالِ شرعیہ میں نہی آئے، تو وہ کس پر محمول ہوگی؟ قبیح لغیرہ پر۔
یہ قانون انہوں نے ذکر کیا، اب اس پر تفریعات کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں:
"ولہذا کان الربا وسائر البیوع الفاسدۃ وصوم یوم النحر مشروعا باصلہ غیر مشروع بوصفہ لتعلق النہی بالوصف لا بالاصل"
اور اسی وجہ سے ربا یعنی بیعِ ربا اور تمام بیوعِ فاسدہ، بلکہ سائر کا معنی یہاں باقی کے کریں، مولانا۔
اسی لیے کہ بیعِ ربا اور باقی بیوعِ فاسدہ، مولانا، سائر کے معنی تمام کے بھی آتے ہیں اور باقی کے بھی آتے ہیں، لیکن یہاں اس کا معنی باقی کے کریں، بھئی۔ اس لیے کہ اگر اس کا معنی کریں تمام بیوعِ فاسدہ، تو پھر تو اس میں ربا بھی داخل ہو گئی، کیا ہوئی؟ ربا بھی کس میں سے ہے؟ بیعِ ربا بیوعِ فاسدہ میں سے ہے۔
تو یوں کرو: "ولہذا کان الربا وسائر البیوع الفاسدۃ" اور اسی وجہ سے بیعِ ربا اور باقی بیوعِ فاسدہ...
اور صوم یوم النحر اور یوم النحر کے دن یعنی قربانی کے دن کا روزہ مشروعاً باصلہ یہ اپنی ذات کے اعتبار سے مشروع ہیں غیر مشروعا مشروعاً بوصفہ اور اپنے وصف کے اعتبار سے غیر مشروع ہیں، لتعلقی النہی بالوصف لا بالاصل، اس لیے کہ نہی کا تعلق وصف کے ساتھ ہے اصل کے ساتھ اور ذات کے ساتھ نہیں۔ یہ سارے افعال شرعیہ ہیں نا، بیع ہے بیع اور روزہ ہے۔
اور افعالِ شرعیہ میں نہیں ہے وہ کیا تقاضا کرتی ہے کہ اس کو کیا ہونا چاہیے قبیح لغیرہ، یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے مشروع اور وصف کے اعتبار سے غیر مشروع۔ معلوم ہوا نہی کا تعلق وصف کے ساتھ ہے ذات کے ساتھ نہیں۔ ذات کے اعتبار سے مشروع ہے لیکن اس وصف کے اعتبار سے کیا ہے غیر مشروع۔
ای لِأجل أن النهي عن الأفعال الشرعية يقتضي القبح لغيره وصفاً، ولهذا اسی وجہ سے متن میں آیا تھا ولیھذا مشار إليه ذکر کر رہے ہیں بھئی کس وجہ سے، کس کو اشارہ ہے؟ کہتے ہیں لِأجل أن النهي عن الأفعال الشرعية اس وجہ سے کہ نہی جو ہے افعالِ شریعہ کے اندر یقتضی القبح لغيره وصفاً وہ تقاضا کرتی ہے قبیح لغیرہ وصفاً کا کان هذه الأمور المذكورة مشروعاً باعتبار الأصل دون الوصف تو یہ امور جو مذکر ہوئے یہ مشروع ہیں اصل کے اعتبار سے نہ کہ وصف کے اعتبار سے۔
فإن الربا هو معاوضة مالٍ بمالٍ، اس لیے کہ ربا وہ معاوضہ ہے مال کا مال کے، ایسے مال کے بدلے۔ بھئی دیکھیے پہلے ربا سمجھ لیجیے۔ ربا کہتے ہیں کہ ربا کی تعریف کرتے ہیں علما بھئی۔ ربا کی ایک تعریف لکھ لیجیے۔ الربا ہوا فضلٌ خالٍ، الربا ہوا فضلٌ خالٍ، فضلٌ فا، ضاد، لام، فضلٌ خالٍ، خا، الف، لام اور لام کے نیچے تنوین ڈالیں بھئی۔ الربا ہوا فضلٌ خالٍ عن عوضٍ، عوض ع، واو، ضاد، ہوا فضلٌ خالٍ عن عوضٍ يشترط، يشترط لِأحد العاقدين، لِأحد العاقدين في عقدِ المعاوضة، في عقدِ المعاوضة، معاوضة ضاد کے ساتھ ہے بھئی۔
تعریف لکھ لی بھئی؟ دوبارہ سن لیں۔ الربا ہوا فضلٌ خالٍ عن عوضٍ يشترط لِأحد العاقدين في عقدِ المعاوضة. ربا، فضل کہتے ہیں زیادتی کو، اور خالِ صفت ہے اس کی بھئی، وہ ایسی زیادتی ہے جو خالی ہو عن عوضٍ، عن عوض سے، يشترط جی! وہ ایسی زیادتی ہے جو خالی ہو عوض سے، اور يشترط یہ فضل کی صفت ہے مولانا، صفتِ ثانی، فضلن کی پہلی صفت آئی خالِن عن عوضٍ، کہ وہ ایسی زیادتی ہو جو عوض سے خالی ہو، دوسری صفت آئی يشترط لِأحد العاقدين، کہ وہ زیادتی اس کی شرط لگائی گئی ہو دو عقد کرنے والوں میں سے کسی ایک کے لیے۔
اور یہ کس میں ہو یہ زیادتی؟ فی عقدِ المعاوضة، عقدِ معاوضة کے اندر بھئی، عقدِ معاوضة کے اندر۔ تو کیا تعریف ہوئی ربا کی؟ ربا وہ ایسی زیادتی ہے جو عوض سے خالی ہو اور جس کی شرط لگائی گئی ہو دو عقد کرنے والوں میں سے کسی ایک کے لیے عقدِ معاوضة کے اندر۔
دیکھیے بھئی! تفصیل تو آپ فقہ کی کتابوں میں پڑھ چکے ہوں گے، یہاں تھوڑا سا پھر سمجھ لیں۔ ہمارے فقہاے کرام فرماتے ہیں کہ ربا کی علت جو ہے وہ جنس اور قدر ہے۔ جنس مع القدر ہے جنس مع القدر یعنی دونوں طرف جنس ایک ہو مثلاً گیہوں کے بدلے گیہوں اور قدر ہو، قدر کا لفظ بول کر کیل اور وزن دونوں مراد لیتے ہیں۔ قدر کا لفظ شامل ہے کیل اور وزن دونوں کو تو لہذا قدر، جنس بھی ہو اور قدر بھی ہو یعنی کیل یا وزن میں سے بھی کوئی چیز پائی جائے تو اس صورت کے اندر یاد رکھیے زیادتی جائز نہیں ہے اور ادھار بھی جائز نہیں ہے۔
زیادتی بھی جائز نہیں اور ادھار بھی جائز نہیں۔ اب مثلاً دیکھیے بھئی ایک شخص ہے وہ گیہوں کی بیگ گیہوں کے بدلے کرتا ہے۔ مثلاً آپ کے پاس سو من گیہوں ہے آپ اپنے ساتھی سے کہتے ہیں بھئی یہ لو یہ سو من گیہوں لے لو اور آپ والی گیہوں ذرا اعلیٰ ہے۔ چلو یوں کرو یہ سو من گیہوں لے کر پچاس من گیہوں مجھے اپنی والی دے دو۔ میری گیہوں ذرا ادنیٰ ہے آپ کی گیہوں کیا ہے؟ اعلیٰ تو یہ سو من میری گیہوں لے لو اور اپنی والی پچاس من گیہوں دے دو مجھے بھئی۔
اب دیکھیے یہ ربا ہے مولانا! سود ہے ربا بیع کہ اس آپ کا ساتھی آپ کو کتنی گیہوں دے گا؟ پچاس من اور آپ کتنی دیں گے؟ سو من تو پچاس من تو پچاس من کے بدلے ہو گئے اور باقی کے جو پچاس من آپ دے رہے ہیں وہ زائد ہے۔ ہوا فضلٌ خالِناً عن عوضٍ یہ ایسی زیادتی ہے جو عوض سے یہ جو پچاس من زائد آپ دے رہے ہیں اس میں اس کی طرف سے کوئی عوض آ رہا ہے؟ نہیں اس کی طرف سے کوئی عوض نہیں، پچاس من تو پچاس من کے بدلے ہوئے اور جو باقی کے زائد پچاس من ہیں اس کے عوض میں دوسری جانب سے کوئی چیز نہیں آ رہی تو یہ کیا ہے؟ فضلٌ خالِناً یہ ایسی زیادتی ہے جو عوض سے خالی ہے اور شرط لِأحد المتعاقدين اور اس کی شرط لگائی گئی ہے عقد کرنے والوں میں سے ایک کے لیے۔
شرط لگی ہے نا عقد کے اندر بھئی یہ ضروری نہیں ہے شرط منہ سے کہے میں یہ شرط لگاتا ہوں، بس عقد ہوا ہی اس چیز پر ہے، جب اس چیز پر ہوا ہے تو آپ کو یہ پچاس زائد من دینے پڑیں گے یا نہیں پڑیں گے بھئی؟ دینے پڑیں گے تو گویا ان کی شرط لگادی گئی یوں سمجھو۔ تو یہ تو اس کی شرط لگادی گئی ہے کہ یہ جو زیادتی ہے جو عوض سے خالی ہے اس کی شرط لگادی گئی ہے دونوں عقد کرنے والوں میں سے ایک کے لیے کہ ایک کو یہ زائد دینا پڑے گا۔
صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اور کس کے اندر ہے؟ عقدِ معاوضة کے اندر، بیع کے اندر ہے بھئی کہ آپ عوض دے رہے تو وہ بھی اپنی طرف سے عوض دے رہا ہے۔ اس کو کہتے ہیں ربا مولانا۔ سمجھ میں آگیا بھئی؟
تو ایک تو وہ زیادتی عوض سے خالی ہو اور دونوں عقد کرنے والوں میں سے کسی ایک کے لیے اس کی شرط لگائی گئی ہو اور کس کے اندر ہو عقدِ معاوضة کے اندر بھئی۔ اب دیکھیے مولانا کتاب پر۔ معنا سمجھ میں آگیا؟ جی تو یہی تعریف اب ربا کا یہی معنا بیان کرنے لگے ہیں لیکن اپنے الفاظ کے اندر شارح کہتے ہیں فإن الربا ہوا معاوضة مالٍ بمالٍ فيه فضلٌ يستحقُ بعقدِ المعاوضة لأحد الجانبين.
भई देखिए एक ضابطہ یاد رکھیے۔ جو جملہ ہوتا ہے جملہ جملہ جو مسند اور مسند الیہ دونوں پر مشتمل ہو یعنی مبتدا اور خبر پر یا فعل اور فاعل پر۔ مبتدا مسند الیہ ہوتا ہے اور خبر کیا ہوتی ہے مسند، اور فعل مسند ہوتا ہے اور فاعل مسند الیہ۔ تو جملہ اسمیہ وہ مبتدا خبر سے مل کر پورا ہوتا ہے اور جملہ فعلیہ فعل اور فاعل سے تو یہ جو جملہ ہوتا ہے پورا یہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے۔ کس کے حکم میں؟ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے۔
اسی وجہ سے آپ کو میں نے ضابطہ بتلایا ہوا ہے کہ نکرہ کے بعد فعل اجائے تو وہ عموماً اس کے لیے صفت بنتا ہے کیونکہ اس فعل نے اپنے فاعل کے ساتھ مل کر جملہ بننا ہے اور جملہ تو ہوتا ہے نکرہ تو گویا کہ نکرہ کے بعد نکرہ آیا اور نکرہ کے بعد نکرہ آئے تو وہ عموماً اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت بنتا ہے تو یہ صفت بن۔
تو نکرہ کے بعد چاہے جملہ فعلیہ آئے چاہے جملہ اسمیہ آئے وہ اس کے لیے بظاہر صفت بن جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہاں اس تعریف پر نظر رکھو ذرا۔ اس میں ایک کیا لفظ آیا مالٌ بمالٍ یہ جو دوسرا مال ہے بمالٍ والا مال اس کے بعد آیا فيه فضلٌ تو یہ مال کا لفظ نکرہ ہے اور اس کے بعد جملہ اسمیہ آ رہا ہے۔ فيهِ ہے خبر مقدم اور فضلٌ ہے مبتدا مؤخر تو یہ جملہ اسمیہ بنے گا اور نکرہ کے بعد جملہ آیا تو یہ اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت تو ترجمہ ہم کیسے کریں گے؟ مال سے پہلے ایسا کا لفظ لے آئیں گے ایسا مال فيهِ فضلٌ جس میں زیادتی ہو۔
جی اور پھر آگے آ رہا ہے فضلٌ یہ جو مبتدا ہے یہ فضلٌ نکرہ ہے اور اس کے بعد يستحقُ فعل آ رہا ہے اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ بنتا ہے وہ بھی اس فضلٌ کے لیے کیا بنے گا؟ صفت بنے گا تو اس فضلٌ سے پہلے ہم کیا لفظ لائیں گے؟ ایسا کا ایسا یا ایسی کا لفظ لائیں گے یعنی ایسی زیادتی يستحقُ جس کا استحقاق ہو جائے بعقدِ المعاوضة کس کی وجہ سے عقدِ معاوضہ؟
جی بات سب کو سمجھ میں آگئی؟ یہ جو دوسرا مال آیا اس سے پہلے بھی ہم ایسا یا ایسی کا لفظ لائیں گے اور یہ فضل سے پہلے بھی ایسا یا ایسی کا لفظ تو دیکھیے ترجمہ کیسے ہوگا؟ فإن الربا پس یقیناً ربا جو ہے ہوا معاوضة مالٍ بمالٍ وہ معاوضہ ہے مال کا ایسے مال کے بدلے میں یہ با آئی نا با اور معاوضے کی بات ہو رہی ہے تو اس کا معنا بدلے کے ساتھ کریں گے معاوضة مالٍ بمالٍ وہ معاوضہ ہے مال کا ایسے مال کے بدلے میں فيهِ فضلٌ جس میں ایسی زیادتی ہو يستحقُ بعقدِ المعاوضة جس کا استحقاق رکھا جائے استحقاق ہو جائے بعقدِ المعاوضة کس کی وجہ سے عقدِ معاوضہ کی وجہ سے لِأحد الجانبين دونوں جانبين میں سے کسی ایک کے لیے یعنی بائع یا مشتری کے لیے۔
معنا سمجھ میں آگیا؟ دوبارہ دیکھ لیں فإن الربا ہوا معاوضة مالٍ بمالٍ فيهِ فضلٌ يستحقُ بعقدِ المعاوضة لِأحد الجانبين پس یقیناً ربا جو ہے وہ معاوضہ ہے مال کا ایسے مال کے بدلے میں جس کے اندر ایسی زیادتی ہے کہ جس کا استحقاق ہوا ہے عقدِ معاوضہ کی کی وجہ سے کسی ایک جانبين میں سے کسی ایک کے لیے۔ ترجمہ سمجھ میں آگیا؟
تو ایسی زیادتی جس کا استحقاق ہو جائے کس کی وجہ سے؟ بھئی عقدِ معاوضہ کی وجہ سے جب آپ نے عقد کرلیا دوسرا کیا ہوا؟ وہ اس زیادتی کا مستحق ہوا تو وہ ہوا مستحق اور زیادتی ہوئی مستحقہ ماننا اس کا استحقاق رکھا گیا تو مستحق کون سا صیغہ ہے؟ اس میں مفعول تو یہاں بھی اس لیے فضل کی صفت بن رہی ہے اور وہ زیادتی تو مستحق ہے تو لہذا یہاں کون سا فعل پڑھیں گے؟ مجہول بھئی يستحقُ کہ اس زیادتی کا استحقاق ہوا ہے استحقاق ہوا یعنی وہ مستحق ہے عقدِ معاوضہ کی وجہ سے دونوں جانبين میں سے کسی ایک کے لیے۔
تعریف سمجھ میں آگئی؟ فإن الربا ہوا معاوضة مالٍ بمالٍ فيهِ فضلٌ يستحقُ بعقدِ المعاوضة لِأحد الجانبين اس لیے کہ ربا وہ معاوضہ ہے مال کا ایسے مال کے بدلے میں جس کے اندر ایسی زیادتی ہے کہ جس کا استحقاق ہوا ہے عقدِ معاوضہ کی کی وجہ سے کسی ایک جانبين میں سے کسی ایک کے لیے وھذا مشروعٌ باعتبار ذاته الذي هو العِوَضان اور یہ بے مولانا یہ بیعِ ربا مشروع ہے جائز ہے باعتبار ذاته اپنی ذات کے اعتبار سے اپنی ذات بھئی ذات کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں الذي هو العِوَضان وہ ذات جو کہ دونوں عوض ہیں بھئی بیع کا دارو مدار کس پر ہوتا ہے؟ جی؟ مبیع پر ہوا کرتا ہے مولانا اور یہاں پر دونوں کے اندر دونوں طرف سے گندم ہے تو دونوں میں مبیع بننے کی بھی صلاح اور ثمن بننے کی بھی تو دونوں من وجہ مبیع بھی ہیں اور من وجہ ثمن بھی ہیں تو یہاں پر تو بیع کا اعتبار ہوتا ہے مبیع پر تو یہاں دونوں من وجہ کیا ہیں؟ مبیع ہیں تو بیع کا کی انہوں نے کہا بیع اپنی ذات کے اعتبار سے مشروع ہوگی یعنی جائز ہوگی اپنی ذات سے کیا مراد ہے اس کی یعنی کس اعتبار سے؟
ان دونوں عوضین کے اعتبار سے دونوں عوضین پر تو کوئی خرابی نہیں ہے بھئی دیکھا جائے ایک طرف بھی گندم ہے دوسری طرف بھی گندم ہے بھئی تو ان دونوں میں کوئی خرابی نہیں۔ وإنما الفساد فيهِ لِأجل الفضل المشروط اور اس کے اندر جو فساد آیا فساد آیا وہ اس زیادتی کی وجہ سے ہے جس کی شرط لگائی گئی تھی۔ اس زیادتی کی وجہ سے کیا آگئی؟ اس میں کیا آیا؟ فساد آیا۔
تو لہذا یہ جو بیعِ ربا ہے ذات کے اعتبار سے مشروع ہوئی اور وصف کے اعتبار سے غیر یعنی زیادتی کے اعتبار سے غیرمشروع وہاذا حال سائر البیوع الفاسدۃ اور اسی طرح حال ہے باقی بیوعِ فاسدہ کا کالباع بشرطِ لا یقتضیہ العقد بشَرط نکرہ آیا لا یقتضیہ اس کے بعد فعل آیا۔ کالباع بشَرط لا یقتضیہ العقد جیسے بیع کرنا ایسی شرط کے ساتھ جس کا عقد تقاضا نہ کرتا ہو جس کا عقد تقاضا نہ کرتا ہو۔
یاد رکھیے بیع کے اندر ایسی شرط لگا دی جس سے جس کا تقاضا عقد نہیں کر رہا تو یہ بیع فاسد ہو جائے گی مولانا شرط بھی فاسد اور بیع بھی فاسد۔ بھئی دیکھیے یاد رکھیے بیع کے اندر شرط لگانے کی کئی صورتیں ہیں۔ بعض صورتوں میں شرط بھی صحیح ہوتی ہے بیع بھی صحیح۔ بعض صورتوں میں شرط بھی باطل شرط بھی فاسد بیع بھی فاسد ہوتی ہے۔ اور بعض صورتوں میں بیع صحیح ہو جاتی ہے اور شرط صرف فاسد ہو جاتی ہے۔
یاد رکھیے بیع کے اندر کوئی ایسی شرط لگائی جائے جس میں بائع یا مشترک میں سے کسی ایک کا نفع ہو یا مبیع کا نفع ہو تو شرط بھی فاسد بیع بھی فاسد یا تو اس شرط سے کس کا نفع ہو؟ بائع کا، یا کس کا نفع ہو؟ مشترک کا، یا کس کا نفع ہو؟ مبیع کا۔ مثالوں سے سمجھ لیں۔ مثال پہلے بھی میں نے ذکر کی تھی آپ ایک شخص کو اپنی سائیکل بیچتے ہیں اور ایجاب و قبول کرتے ہیں لیکن شرط لگاتے ہیں کہ میں اس شرط پر تمہیں بیچتا ہوں کہ ایک مہینے تک میں استعمال کروں گا اس کے بعد تمہیں دوں گا تو یہ عقد شرط کیا ہے؟ مقتضا عقد کے خلاف ہے عقد جب ہوا ہے وہ فورا مالک بن گیا اس کے حوالے کرنا چاہیے بھئی یہ کیا شرط لگاتے ہو؟ کہ جس سے آپ نفع اٹھا رہے ہیں بھئی۔ یہ شرط بھی فاسد بیع بھی فاسد۔
دوسری صورت ایسی شرط لگائی جس میں مشترک کا فائدہ ہے۔ مشترک مجھ سے سائیکل خریدنے لگا کہتا ہے میں یہ سائیکل آپ سے خریدتا ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ آپ مجھے پانچ سو روپے بطورِ قرض کے دیں گے۔ تو دیکھو یہ اس نے ایسی شرط لگادی جس میں مشترک کا نفع ہے تو شرط بھی فاسد بیع بھی فاسد۔ یا ایسی شرط لگائی جس میں مبیع کا فائدہ ہو۔ اور یہ صرف اس وقت ہوگا جب مبیع غلام یا باندی ہو باقی صورتوں میں نہیں۔ کیونکہ غلام یا باندی وہ مستحق وہ استحقاق رکھنے والے ہوتے ہیں۔ وہ کسی چیز سے اپنا حق وصول کر سکتے ہیں دعویٰ کر سکتے ہیں اس نے میرا حق دینا ہے اور قاضی کے پاس جا کر اسے وصول کر سکتے ہیں جب ان کو آزادی مل جائے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
باقی مبیعہ کوئی اور چیز ہو پھر نہیں بھئی پھر یہ صورت نہیں بنے گی غلام اور باندی میں صرف بنے گی۔
تو اگر ایسی شرط لگائی جس میں اس مبیع یعنی غلام یا باندی کا فائدہ ہو تو بھی شرط فاسد، بیع فاسد۔
مثلاً میں آپ کو ایک غلام بیچنے لگا اور میں نے کہا: میں یہ غلام آپ کو بیچتا ہوں لیکن شرط یہ ہے اس کو مدبر بناؤ گے۔
مدبر کسے کہتے ہیں؟ جو مالک کے مرنے کے بعد آزاد ہو جائے، تو دیکھو اس کا نفع ہوا، غلام کو آزادی کا حق مل رہا ہے۔
یا میں کہتا ہوں اس شرط پہ آپ کو بیچتا ہوں، آپ اسے آزاد کرو گے، تو اس میں بھی غلام کا فائدہ، تو شرط بھی فاسد، بیع بھی فاسد۔
اور بعض صورتوں میں صرف شرط فاسد ہو گی، بیع فاسد نہیں ہو گی۔
مثلاً میں نے آپ سے کہا یہ مثلاً میرے پاس پانچ کلو سیب پڑے ہیں بھئی، نظر آ رہے ہیں سب کو بھئی؟ جی۔ ہاں، یہ میں نے آپ کو بیچ دیے، لیکن شرط لگائی کہ یہ اصل کدھر کے ہیں؟ چمن کے سیب ہیں، اعلیٰ سیب ہیں، میں آپ کو صرف اس شرط پہ بیچوں گا کہ آپ نے کھانے ہیں، کسی اور کو نہیں دینے،
تو یاد رکھیے یہ شرط فاسد، بیع صحیح۔ آپ بیع کر لیں، سیب آپ کے ہو گئے، آپ چاہے خود کھائیں، چاہے اپنی بیوی کو کھلائیں۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ بھئی کیوں؟ وجہ کیا؟
بھئی دیکھیے، یہ شرط جو لگائی، اس میں کسی کا فائدہ نہیں ہے۔
آپ کہیں گے مشتری کا فائدہ تو ہے، وہ خود کھائے گا، اس کو فائدہ ہو گا یا نہیں؟
بھئی نہیں، کوئی جدید فائدہ نہیں ہے، یہ فائدہ تو ویسے ہی بیع کر لیتے تو بھی اس کو حاصل ہو رہا تھا، وہ خود سارے خرید کے کھا لیتا بغیر شرط کے، تو کھا سکتا تھا یا نہیں؟ وہ تو خود چیز ہی اس کی ہو جانی تھی، وہ خود کھا لیتا، تو کوئی نیا جدید نفع نہیں ہے اس کے اندر بھئی۔ لہٰذا اس صورت میں شرط تو لغو ہو جائے گی اور بیع صحیح ہو جائے گی۔
یہ اسی طرح ہے جیسے نکاح کے باب میں کوئی شرط لگائی جائے، کوئی فاسد قسم کی شرط، تو شرط فاسد ہو گی، نکاح صحیح ہو جائے گا بھئی۔
آپ نکاح کرنے لگے، وہ جس سے نکاح کر رہے ہیں، اس نے شرط لگا دی: میں نکاح تو کر لیتی ہوں آپ سے، لیکن شرط یہ ہے کہ مجھے روزانہ پارک میں گھمانے لے کے جاؤ گے بھئی، یا روزانہ مجھے باہر کھانا کھلانے لے کر جاؤ گے، گھمانے لے کر جاؤ گے۔ آپ کہیں: ٹھیک ہے، بالکل ٹھیک ہے، میں تیار ہوں۔
کیونکہ آپ نے مسئلہ پڑھ لیا، شرط فاسد اور نکاح صحیح، اس پر عمل ضروری نہیں بھئی، یہ لغو شرط پر۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟
اور اچھا بات بیع کی چل رہی تھی، تو یہ صورت تھی جس میں شرط فاسد ہوئی اور بیع ہو کیا ہو گئی؟ صحیح۔ تیسری صورت وہ ہے جس میں شرط بھی صحیح، بیع بھی صحیح۔ مثلاً میں آپ سے کوئی چیز خریدنے لگا، موبائل، میں نے کہا: میں موبائل آپ سے خریدتا ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ یہ جاپانی ہونا چاہیے بھئی۔
آپ نے کہا: ٹھیک ہے۔
تو شرط بھی صحیح، بیع بھی صحیح۔
کیوں؟ بھئی وجہ یہ کہ یہ دراصل صورۃً شرط ہے، حقیقت میں شرط ہے ہی نہیں، یہ دراصل وصف ہے۔
گویا آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مجھے جاپانی موبائل چاہیے، دوسرا موبائل نہیں چاہیے، میں جاپانی موبائل خریدتا ہوں آپ سے۔ تو لفظوں میں اگرچہ یہ شرط ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے دراصل آپ کیا بیان کر رہے ہیں؟ مبیع کا وصف بیان کر رہے ہیں۔ تو تفصیل سمجھ میں آ گئی؟
تو دیکھیے: "كَالْبَيْعِ بِشَرْطٍ لَا يَقْتَضِيهِ الْعَقْدُ وَفِيهِ نَفْعٌ لِأَحَدِ الْمُتَعَاقِدَيْنِ أَوْ لِلْمَعْقُودِ عَلَيْهِ" یعنی بیع کرنا ایسی شرط کے ساتھ کہ جس کا عقد تقاضا نہ کر رہا ہو اور اس کے اندر نفع ہو دونوں عقد کرنے والوں میں سے کسی ایک کا "أَوْ لِلْمَعْقُودِ عَلَيْهِ" یا کس کا نفع ہو؟ معقود علیہ کا نفع ہو۔ میں نے بتایا یہ صرف کس کے اندر ہو گا؟ غلام اور باندی کے۔ اسی کو ذکر کر رہے ہیں: "الَّذِي هُوَ أَهْلٌ لِلِاسْتِحْقَاقِ" وہ معقود علیہ جو کہ اہل استحقاق ہو۔ کیا ہو؟ یعنی استحقاق کی اہلیت ہو، یعنی اس کا حق دوسرے پر ثابت ہو سکے بھئی، غلام کا حق دوسرے پر ثابت ہو سکتا ہے اور اگر وہ اس کو نہ ملے، وہ قاضی کے پاس جا کر مقدمہ کر کے بھی اس حق کو وصول کر سکتا ہے بھئی۔
"وَالْبَيْعِ بِالْخَمْرِ" اس کا عطف وہ "كَالْبَيْعِ بِشَرْطٍ"، "اَلْبَيْعِ بِشَرْطٍ" پر عطف ہے۔ "وَالْبَيْعِ بِالْخَمْرِ" اور بیع کرنا شراب کے بدلے میں،
بیع کرنا شراب کے بدلے میں، یاد رکھیے یہ بیع فاسد ہے مولانا۔
بھئی آپ حیران ہوں گے کہ یہ بیع فاسد کہتے ہیں، یہ تو بیع باطل ہے مولانا۔
کیونکہ شراب کے اندر آپ جانتے ہیں نہ تملیک خمر جائز ہے، نہ تملک خمر جائز ہے، نہ خود انسان نہ انسان دوسرے کو شراب کا مالک بنا سکتا ہے، نہ خود اس کا مالک بن سکتا ہے،
جائز ہی نہیں، نہ بیچنا جائز، نہ خریدنا جائز۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟
جی۔
تو نہ خریدنا جائز اور نہ بیچنا جائز بھئی۔
یاد رکھیے شریعت نے بیع کی کیا تعریف کی ہے؟
"هُوَ مُبَادَلَةُ الْمَالِ بِالْمَالِ بِالتَّرَاضِي" وہ مال کا مال کے بدلے مبادلہ کرنا ہے باہمی رضامندی سے۔
لیکن اس سے ہر مال نہیں مراد، وہ مال، وہ مال متقوم مراد ہے، کیا مراد ہے؟ مال متقوم مراد ہے۔
لہٰذا جو چیز مال ہی نہیں سرے سے، وہ بھی خارج ہو گئی۔
جیسے مردار مولانا۔
اور جو چیز مال تو ہے لیکن شریعت میں اس سے نفع اٹھانے سے روک دیا گیا،
ایک مال متقوم ہے جس سے شریعت نے نفع اٹھانا جائز رکھا، اس سے کیا کر سکتے ہو؟ نفع اٹھا سکتے ہو۔ ایک مال غیر متقوم ہے مولانا جس سے شریعت نے نفع اٹھانے کو جائز قرار نہیں دیا۔ اب شراب اور خنزیر مولانا،
مردار تو مال ہی نہیں تھا، وہ تو خارج ہوا۔ شراب اور خنزیر بھئی یہ شریعت کی نظر میں تو مال نہیں، لیکن لوگ اس کو کیا سمجھتے ہیں؟ مال سمجھتے ہیں، چنانچہ بھئی یہود و نصاریٰ کیا کرتے ہیں؟ ان کی بیع و شراء بھی کرتے ہیں، ان کو ذخیرہ بھی، جمع بھی کرتے ہیں بھئی۔
تو لہٰذا یہ مال تو ہے،
لیکن مال متقوم نہیں ہے کیونکہ شریعت نے ان سے نفع اٹھانے کو جائز قرار نہیں دیا، تو لہٰذا یہ مال متقوم نہ ہوئے، لہٰذا یہ بھی تعریف سے خارج ہوئے بھئی۔
کیونکہ مال، کیونکہ مال سے کیا مراد ہے؟ "مُبَادَلَةُ الْمَالِ بِالْمَالِ"، کون سا مال؟ مال بھی ہو اور مال متقوم بھی ہو مولانا، یعنی شریعت نے اس سے نفع اٹھانا جائز قرار دیا ہو اور خمر اور خنزیر مال تو ہیں لیکن مال متقوم نہیں، تو
تو یاد رکھیے ان کی بیع سے شریعت نے منع کیا ہے، اس یہ اس وقت ہے جب ان کو مبیع بنایا جائے، کیا کیا جائے؟ مبیع بنایا جائے، ہاں ثمن بنایا جائے تو پھر اس صورت میں وہ بیع ہو جائے گی۔ کیا ہو گی؟ بیع ہو جائے گی، لیکن
ان کو ہم نے بنایا ثمن، تو یوں سمجھیں گے یہ نہیں کہ یہ اس میں تملیک یا تملک پھر بھی جائز ہو جائے گا، تملیک یا تملک پھر بھی نہیں جائز۔ بھئی بیع کی دو آدمیوں نے اور ان دو مسلمانوں نے اور اس میں ثمن کس چیز کو بنایا؟ خمر یا خنزیر، خمر یا تو ہم یوں سمجھیں گے بیع ہوئی ہے لیکن ثمن سرے سے ذکر ہی نہیں کیے گئے۔ ثمن سرے سے ذکر ہی نہیں کیے گئے، لہٰذا اس چیز کی جو قیمت ہے وہ دینا پڑے گی۔ ثمن تو وہ ہوتے ہیں نا جو آپس میں طے کر لیں، تو اگر لیکن یہاں تو آپس میں کیا طے کیا ہے؟ خمر یا خنزیر کو اور خمر یا خنزیر اس میں تو اس میں نہ تو تملیک جائز ہے، دوسرے کو مالک بنانا بھی جائز نہیں اور تملک یعنی خود مالک بننا بھی جائز نہیں، لہٰذا یوں سمجھیں گے کہ بیع تو ہوئی لیکن ثمن کو ذکر ہی نہیں کیا۔
ثمن کو سرے سے ذکر ہی نہیں کیا، تو بیع فاسد ہوئی مولانا۔ حالانکہ بیع کیونکہ بیع کے اندر کیا شرط تھی؟ ثمن کیا ہونے چاہئیں؟ معلوم ہونے چاہئیں، اس کی اس کی مقدار بھی معلوم ہو اور اس کا وصف بھی معلوم ہو، تو یہ بیع کون سی ہوئی؟ بیع فاسد ہوئی۔
اور بیع فاسد کیا ہوتی ہے؟ ذات کے اعتبار سے مشروع اور وصف کے اعتبار سے غیر مشروع، لہٰذا وہ مشتری کیا ہو جائے گا؟ مبیع کا مالک بن جائے گا قبضے کے وقت، لیکن دونوں پر اس بیع کا توڑنا ضروری ہے ورنہ گنہگار ہوں گے بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟
بھئی دیکھیے شراب اور خنزیر کو مبیع بناؤ تو بیع ہی باطل اور شراب اور خنزیر کو ثمن بناؤ تو بیع باطل نہیں بلکہ فاسد۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
باطل کا معنیٰ سرے سے بیع ہوئی ہی نہیں، ذات کے اعتبار سے بھی نہیں ہوئی اور بیع فاسد کا معنیٰ ہے ذات کے اعتبار سے ہو گئی، خرابی کس اعتبار سے آئی؟ وصف کے اعتبار سے آئی۔ تو یاد رکھیے یہ خمر اور خنزیر جو ہیں مولانا، شریعت نے ان کی اہانت کا حکم دیا ہے، کسی درجے میں بھی ان کو عزت نہیں دینی بھئی، شریعت نے کیا حکم دیا ہے؟ ان کی اہانت کا حکم دیا ہے۔
اور اگر ہم اس کو مبیع بنا دیں تو اس کا مطلب ہے ہم نے اسے عزت دے دی کیونکہ مبیع مقصود ہوا کرتا ہے، انسان اس کو حاصل کرنا چاہتا ہے، مثلاً آپ بازار جاتے ہیں، ایک چیز کو خریدتے ہیں تو معلوم ہوا آپ کے نزدیک، آپ نے اس چیز کو اہمیت دی، آپ کو اس کی ضرورت پیش آئی، آپ نے اس چیز کو عزت دی، طلب پیدا ہوئی اور آپ اس کو لے کر آئے بھئی، تو اگر خمر اور خنزیر کو بھی مبیع بنایا جائے تو پھر اس صورت میں کیا لازم آئے گا؟ کہ آپ نے خمر اور خنزیر کو عزت دے دی، لہٰذا مبیع بناؤ گے تو بیع ہی سرے سے باطل ہو جائے گی، بیع منعقد ہی نہیں ہو گی، مبیع بنانے کی کسی صورت میں اجازت نہیں۔ لیکن اگر ثمن بناؤ گے تو پھر اس صورت میں یاد رکھو بیع میں مبیع اصل ہوا کرتا ہے یعنی مبیع مقصود ہوا کرتا ہے، ثمن تو صرف ایک وسیلہ ہے اس تک پہنچنے کا۔
ثمن کیا ہے؟ اس تک پہنچنے کا وسیلہ ہے، جیسے مولانا کنویں کے اندر پانی وہ مقصود ہے اور وہ رسی اور ڈول کیا ہے اس کے لیے؟ ذریعہ ہے، تو یہاں بھی بیع کے اندر بھئی
جو مبیع ہوتا ہے، وہ مقصود ہوتا ہے، مطلوب ہوتا ہے، ثمن کے وسیلے سے، ثمن کے ذریعے ہم کیا کرتے ہیں؟ اس مطلوب تک پہنچتے ہیں۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا اگر آپ کیا کرتے ہیں؟ اس خمر یا خنزیر کو بیع میں ذکر کرتے ہیں لیکن کیا بنا کر؟ ثمن بنا کر، کیا بنا کر؟ ان کو ثمن بناتے ہیں تو ثمن تو غیر مقصود ہوتے ہیں، وہ تو ذریعہ ہوتے ہیں اور
کیا ہوتے ہیں؟ ذریعہ اور سبب ہوتے ہیں مبیع تک پہنچنے کے لیے،
بیع کا سارا دارومدار کس پر ہوتا ہے؟ مبیع پر ہوتا ہے، تو لہٰذا یہاں خرابی کس کے اندر آئی؟ ثمن، وسیلے کے اندر آئی، تو یہ کچھ شرط کی طرح ہوا جیسے شرط کی وجہ سے بیع میں خرابی آتی ہے، یہاں بھی ثمن کی وجہ سے بیع کے اندر کیا آ گئی؟ خرابی آ گئی، تو بیع ذات کے اعتبار سے صحیح ہوئی اور وصف کے اعتبار سے اا خرائب کیا ہوئی؟ غیر صحیح، غیر مشروع ہو گئی۔ ذات کے اعتبار سے مشروع اور وصف کے اعتبار سے بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں بھئی؟
تو لہٰذا آپ بیع کے اندر خمر یا خنزیر کو مبیع بناؤ تو بیع کیا ہو جائے گی؟ باطل، سرے سے ذات کے اعتبار سے جائز نہیں کیونکہ آپ کیا کر رہے ہیں خمر اور خنزیر کو عزت دے رہے ہیں، مبیع بنا رہے ہیں، حالانکہ شریعت نے تو کہا ہے کیا کرو اس کی؟ اہانت کرو، کسی درجے میں بھی عزت نہیں۔ ہاں جب آپ کیا کرتے ہیں بیع کو بیع کے اندر خمر یا خنزیر کو ثمن بناتے ہیں تو ثمن تو مقصود ہی نہیں ہوتے بھئی، وہ تو ہاتھ سے جاتے ہیں پھر چیز ملتی ہے، وہ غیر مقصود ہوتے ہیں، تو لہٰذا اس کی وجہ سے اب بیع ذات کے اعتبار سے ہو جائے گی، البتہ وصف کے اعتبار سے نہیں ہو گی۔ اور یوں سمجھیں گے پھر بھی تملیک اور تملک جائز نہیں ہے، وہی چیز بطور ثمن کے نہیں دیں گے خمر یا خنزیر بلکہ قیمت دینا پڑے گی اور یہ بیع کون سی ہوئی؟ بیع فاسد، دونوں کے لیے توڑنا ضروری ہے کیونکہ ایسی بیع ہوئی گویا کہ جس کے اندر ثمن ذکر ہی نہیں ہیں اور اگر ثمن ذکر نہ ہوں تو بیع فاسد ہوتی ہے اور بیع فاسد کے اندر مشتری مبیع کا مالک قبضے کے بعد بن جاتا ہے لیکن اس بیع کو توڑنا اور
جی؟
اور اس بیع کو توڑنا دونوں پر ضروری ہوتا ہے بھئی، تو خمر یا خنزیر پھر بھی نہیں دے سکتا بھئی، خمر اور خنزیر کیونکہ اس میں تو تم دوسرا مالک بن ہی نہیں سکتا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اور بیع کی عبارت بھئی، کوئی چیز بیچتے ہوئے وہاں آپ نے پڑھا ہے ضابطہ مولانا، دیکھئے کتاب میں عبارت آئی: "وَالْبَيْعِ بِالْخَمْرِ"، خمر پر کیا داخل کیا؟ با، اور با کس پر داخل ہوا کرتی ہے؟ ثمن پر داخل ہوتی ہے، آپ یہ پڑھ چکے ہیں ضابطہ بھئی، تو لہٰذا یہ بیع بالخمر ہے، بیع کرنا کس کے بدلے؟ شراب کے بدلے یعنی شراب کو کیا بنایا جائے؟ ثمن بنایا جائے، یہ وہ صورت ہے، وہ صورت ذکر نہیں ہو رہی جس میں شراب کو کیا بنایا جائے؟ مبیع، کیونکہ وہ تو بیع باطل ہو جائے گی بھئی۔
تو کہتے ہیں: "وَالْبَيْعِ بِالْخَمْرِ وَنَحْوِهِ كُلُّ ذَلِكَ مَشْرُوعٌ بِاعْتِبَارِ ذَاتِهِ" اور خمر کے بدلے بیع اور اس جیسی، یہ سب کے سب مشروع ہیں اپنی ذات کے اعتبار سے، "وَإِنَّمَا الْفَسَادُ بِاعْتِبَارِ الشَّرْطِ الزَّائِدِ" اور فساد جو ہے وہ تو اس زائد شرط کے اعتبار سے ہی ہے، "فَيَكُونُ مُفِيدًا لِلْمِلْكِ بَعْدَ الْقَبْضِ" تو یہ بیع جو ہے فائدہ دے گی ملکیت کا قبضے کے بعد، کیونکہ بیع فاسد ہے اس میں قبضے کے بعد مالک بن جاتا ہے مشتری۔ "وَكَذَا صَوْمُ يَوْمِ النَّحْرِ مَشْرُوعٌ بِاعْتِبَارِ كَوْنِهِ صَوْمًا" اور اسی طرح مولانا قربانی کے دن کا جو روزہ ہے وہ مشروع ہے یعنی جائز ہے "بِاعْتِبَارِ كَوْنِهِ صَوْمًا" صوم ہونے کے اعتبار سے، روزہ ہونے کے اعتبار سے وہ جائز ہے "وَغَيْرُ مَشْرُوعٍ بِاعْتِبَارِ الْوَصْفِ الَّذِي هُوَ الْإِعْرَاضُ عَنِ الضِّيَافَةِ" اور وہ غیر مشروع ہے باعتبار اس وصف کے کہ جو کیا ہے؟ ضیافت سے اعراض ہے، مہمان نوازی سے جو اعراض ہے، اس وصف کے اعتبار سے غیر مشروع ہے، "فَتَعَلَّقَ النَّهْيُ فِي كُلِّ ذَلِكَ بِالْوَصْفِ لَا بِالْأَصْلِ" تو نہی متعلق ہو گئی ان سب کے اندر وصف کے ساتھ نہ کہ اصل کے ساتھ۔
"ثُمَّ هَاهُنَا سُؤَالٌ مُقَدَّرٌ عَلَى أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ" یہاں سے ایک سوال، بھئی وہی بات کریں گے بھئی، اعتراض کریں گے ہم پر بھئی، سوال ہوتا ہے کہ اے احناف! آپ لوگ یہ کہتے ہو کہ فعل شرعی کے اندر نہی آ جائے تو وہ کیا ہوا کرتا ہے؟ قبیح لغیرہٖ ہوا کرتا ہے، ہم آپ کو دکھاتے ہیں، فعل شرعی میں نہی آئی ہے لیکن آپ اس کو قبیح لغیرہٖ نہیں کہتے بلکہ کیا کہتے ہو؟ قبیح لعینہٖ کہتے ہو، جیسے مولانا مضامین کی بیع، ملاقیح کی بیع، ہم محارم سے نکاح ہے، محرم سے کیا کرنا؟ نکاح کرنا، اس سے نہی آئی ہے، اسی طرح آزاد آدمی کو بیچنا، اس سے نہی آئی ہے،
اور ان کو کیا ہونا چاہیے؟ قبیح لغیرہٖ، لیکن آپ کیا کہتے ہیں؟ یہ قبیح لعینہٖ ہے، یعنی آپ کہتے ہو یہ ذات کے اعتبار سے بھی جائز نہیں ہے بھئی، حالانکہ ہونا کیا کہنا چاہیے تھا آپ کو؟ ذات کے اعتبار سے جائز، وصف کے اعتبار سے جائز نہیں،
اعتراض سمجھ میں آیا؟ دیکھیے بھئی: "ثُمَّ هَاهُنَا سُؤَالٌ مُقَدَّرٌ عَلَى أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً" پھر یہاں ایک سوال مقدر ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر "وَهُوَ" اور وہ یہ "أَنَّ بَيْعَ الْحُرِّ وَالْمَضَامِينِ وَالْمَلَاقِيحِ وَنِكَاحَ الْمَحَارِمِ مِنَ الْأَفْعَالِ الشَّرْعِيَّةِ" کہ آزاد آدمی کو بیچنا اور مضامین اور ملاقیح کو بیچ ان کی بیع جو ہے "وَنِكَاحَ الْمَحَارِمِ" اور محرموں سے نکاح جو ہے "مِنَ الْأَفْعَالِ الشَّرْعِيَّةِ" یہ کس میں سے ہیں؟ افعال شرعیہ میں سے۔ بھئی دیکھو بیع الحر، آزاد آدمی کو بیچنا، بیع ہے نا بیع؟ بیع کس میں سے ہے؟ افعال شرعیہ میں سے، بیع المضامین یہ بھی کیا ہے؟ بیع، بیع کس میں سے ہے؟ افعال شرعیہ میں سے، بیع الملاقیح یہ بھی بیع ہے، بیع کس میں سے ہے؟ افعال شرعیہ میں سے، ونکاح المحارم نکاح ہے، نکاح کس میں سے ہے؟ افعال شرعیہ میں سے، تو یہ سارے افعال شرعیہ میں سے ہیں "مَعَ أَنَّهَا هَاهُنَا لَمْ يَقَعْ عَلَى الْقُبْحِ لِغَيْرِهِ بَلْ عَلَى الْقُبْحِ لِعَيْنِهِ عِنْدَكُمْ" باوجود اس کے یہاں پر یہ نہی واقع نہیں ہوئی قبح لغیرہٖ پر بلکہ واقع ہوئی ہے کس پر؟ قبح لعینہٖ پر عندکم تمہارے نزدیک، یعنی یہ نہی قبح لغیرہٖ پر محمول نہیں ہوئی بلکہ کس پر محمول کی گئی ہے؟ قبح لعینہٖ پر تمہارے نزدیک۔
فَأَجَابَ عَنْهُ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللَّهُ، تو اس کا جواب دیتے ہیں مصنف رحمہ اللہ۔ وَقَالَ، اور کہتے ہیں، وَالنَّهْيُ عَنْ بَيْعِ الْحُرِّ وَالْمَضَامِينِ وَالْمَلَاقِيحِ وَنِكَاحِ الْمَحَارِمِ مَجَازٌ عَنِ النَّفْيِ. کہتے ہیں یہ جو نہی آئی ہے بیعِ حر سے، آزاد آدمی کو بیچنے سے، اور مضامین اور ملاقیح کو، کی بیع سے یہ جو نہی آئی ہے، وَنِكَاحِ الْمَحَارِمِ اور محرموں کے نکاح سے جو نہی آئی ہے، کہتے ہیں، مَجَازٌ عَنِ النَّفْيِ، یہ نفی سے مجاز ہے۔ یہ کیا ہے؟ یعنی نہی بول کر نفی مراد ہے۔ نہی بول کر کیا مراد ہے؟ نفی مراد ہے مجازاً بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟
آپ کہیں گے نہی بول کر نفی مراد ہے، نفی تو پھر اور قبیح ہے، آپ نے ہمیں خود بتایا، نفی کیا ہے؟ قبیح ہے، اس کے ہر درجے کی قبیح ہے، وہ تو کہ عاجز کو منع کیا جائے اس کام سے۔ نہیں بھئی، وہ نفی مراد نہیں ہے جو آپ نے وہ دلیل کے اندر پڑھی تھی کہ عاجز کو منع کرنا، یہ والی نفی نہیں مراد۔ مطلق نفی ہے، میں کہتا ہوں: زید عالم ہے۔ یہ اثبات ہے یا نفی ہے؟ اثبات۔ میں کہتا ہوں: زید عالم نہیں ہے۔ یہ کیا ہے؟ نفی۔ سمجھ رہے ہیں؟ ایک چیز کی نفی کرنا، اس کا منتفی کرنا، وہ والی نفی مراد ہے۔
یعنی یہاں نہی کو، یعنی یہ آیا ہے تو نہی، لیکن یہ مجاز کس سے ہے؟ نفی سے۔ یعنی یہ روکا نہیں جا رہا بیعِ ملاقیح، مضامین سے روکا نہیں جا رہا، بلکہ یہ بتلایا جا رہا ہے یہ امور سے شریعۃً جائز ہی نہیں ہیں۔ یہ امور شریعۃً جائز ہی نہیں ہیں۔ ان کی غیرِ مشروعیت کی، ان کی مشروعیت کی نفی کی جا رہی ہے بس بھئی۔
معنی سمجھ میں آیا کہ نہیں؟ وہ بات ذہن میں رکھنا ورنہ ذہن میں اشکال رہے گا بھئی کہ نفی سے وہ نفی نہیں مراد جو آپ نے پڑھی تھی دلیل کے اندر کہ عاجز کو منع کرنا، وہ نفی نہیں۔ عام نفی کا لفظ جو آپ استعمال کرتے ہیں۔ ایک ہے اثبات، ایک ہے نفی۔ نفی کا کیا معنی؟ ایک چیز کے عدم کی خبر دینا بھئی۔ مطلب میں نے کہا زید عالم نہیں ہے۔ زید عالم نہیں ہے۔ تو یہاں زید عالم نہیں ہے، یہ نفی ہے حالانکہ اس میں کوئی عاجز کو منع کرنا ہے؟ یہ تو ایک خبر دی جا رہی ہے۔ لیکن خبر میں کیا کیا جا رہا ہے؟ زید کے لیے عالم ہونے کا وصف ثابت کیا جا رہا ہے یا عالم ہونے کے وصف کی نفی کی جا رہی ہے؟ نفی کی جا رہی ہے کہ یہ وصف اس میں نہیں ہے۔
تو یہاں بھی نہی بول کر نفی مراد ہے۔ یعنی ان افعال سے روکا نہیں جا رہا بلکہ کس چیز کو ذکر کیا جا رہا ہے؟ ان کی نفی کو۔ یہ افعال شریعت میں جائز ہی نہیں ہیں۔ یہ افعال شریعت میں جائز ہی نہیں ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو نہی بول کر مجازاً کیا مراد ہے؟ نفی مراد ہے۔
بات سمجھ میں بھی آئی کہ ابھی نہیں آئی بھئی؟ آ گئی ہے سب کو؟ تو یہ نفی، تو نہی بول کر مجازاً کیا مراد ہے؟ نفی ہے، تو یہ نہی مجاز ہے نفی سے۔ آپ نہی، آپ کہہ رہے ہیں نہی بول کر کیا مراد ہے؟ نفی مراد ہے۔ یعنی انشاء بول کر اخبار مراد ہے، خبر دی جا رہی ہے کہ یہ چیزیں جائز نہیں ہیں۔ انشاء بول کر کیا مراد ہے؟ اخبار مراد ہے، انشاء بول کر اخبار۔ تو یہاں انشاء ہے ہی نہیں، صیغہ تو نہی کا آیا، لیکن دراصل یہ کیا دی جا رہی ہے؟ خبر دی جا رہی ہے۔
تو ان دونوں میں اتصال بھی ہے مولانا نفی اور نہی کے اندر۔ صورتاً بھی دونوں میں حرفِ نفی آتا ہے۔ نہی میں بھی کیا آتا ہے؟ حرفِ نفی، "لا" آ جاتا ہے۔ اور نفی کے اندر بھی کیا آتا ہے؟ حرفِ نفی آتا ہے دونوں میں "لا"۔ اور دونوں اعدام کے لیے ہیں۔ نہی کے اندر بھی اعدام ہوتا ہے کسی چیز کو معدوم کرنا، اور نفی کے اندر بھی کیا ہوتا ہے؟ اعدام، کسی چیز کو معدوم کرنا۔ میں نے کہا زید عالم نہیں ہے، تو عالم ہونے کے اس کو معدوم کر دیا یا نہیں بھئی؟ اعدام ہوتا ہے دونوں میں مقصود۔
تو کہتے ہیں ان سب کے اندر نہی جو آئی ہے، مَجَازٌ عَنِ النَّفْيِ، یہ مجاز ہے کس سے؟ نفی سے۔ فَالْحُرُّ عَامٌّ مِنْ أَنْ يَكُونَ حُرَّ الْأَصْلِ أَوْ حُرَّ الْعَتَاقَةِ، عتاقہ عین کے فتحے کے ساتھ ہے۔ تو حر عام ہے کہ وہ حر الأصل ہو یا حر العتاقۃ ہو، یعنی اصل ابتداء ہی سے ایک شخص آزاد ہے، پیدائش سے مولانا، اور ایک کیا ہے؟ پہلے غلام تھا، بعد میں کیا کیا گیا؟ آزاد، تو یہ حر العتاقہ ہوا۔ تو آزاد آدمی کی بیع سے منع کیا گیا ہے، اور وہ آزاد عام ہے، چاہے حر الأصل ہو، چاہے حر العتاقۃ ہو۔
وَالْمَضَامِينُ جَمْعُ مَضْمُونَةٍ، اور مضامین جمع ہے مضمونۃ کی، وَهُوَ مَا فِي أَصْلَابِ الْآبَاءِ، اور وہ ہے جو آباء کی پشت میں ہو بھئی، یعنی وہ نطفہ جو آباء کی پشت میں ہو۔ اصلاب جمع ہے صلب کی، پشت کو کہتے ہیں۔ وَالْمَلَاقِيحُ جَمْعُ مَلْقُوحَةٍ، اور ملاقیح جمع ہے ملقوحۃ کی، وَهُوَ مَا فِي أَرْحَامِ الْأُمَّهَاتِ، اور وہ چیز ہے جو ماؤں کے رحم میں ہوتی ہے، یعنی حمل مراد ہے، حمل۔
وَالْمَحَارِمُ عَامٌّ، اور محارم عام ہیں، مِنْ أَنْ يَكُونَ حُرْمَةَ الْقَرَابَةِ أَوْ حُرْمَةَ الْمُصَاهَرَةِ، کہ وہ حرمتِ قرابت سے ہوں یا حرمتِ مصاہرت سے۔ بھئی ایک تو قرابت رشتہ داری کی وجہ سے محرم ہوتا ہے۔ سمجھ آئے؟ جیسے مرد پر ماں، بیٹی، بہن وغیرہ، یہ کیا ہیں؟ حرام ہیں، یہ محرم ہیں، لیکن کس وجہ سے؟ قرابت۔ اور کبھی حرمت آتی ہے مصاہرت کی وجہ سے، سسرالی رشتے کی وجہ سے، جیسے خاوند پر بیوی کے اصول و فروع حرام ہوتے ہیں، اور بیوی پر خاوند کے اصول و فروع کیا ہوتے ہیں؟ حرام ہوتے ہیں۔ تو اب یہ حرمت کس کی وجہ سے آئی؟ وہ محرم ہو گئے، لیکن یہ کون سے محارم ہیں؟ مصاہرت کی بناء پر۔
تو کہتے ہیں محارم بھی عام ہیں کہ وہ حرمتِ قرابت کے اعتبار سے ہوں یا حرمتِ مصاہرت کے اعتبار سے۔ وَبِالْجُمْلَةِ فَالنَّهْيُ عَنْ هَؤُلَاءِ مَحْمُولٌ عَلَى النَّفْيِ بِطَرِيقِ الْمَجَازِ، اور حاصل یہ ہے کہ نہی جو ہے ان چیزوں سے، وہ محمول ہے نفی پر مجاز کے طریقے پر۔ فَكَانَ نَسْخاً لِعَدَمِ مَحَلِّهِ، یہ متن ہے مولانا، یاد رکھنا۔ فَكَانَ نَسْخاً لِعَدَمِ مَحَلِّهِ.
یہاں بھی نسخ بمعنیٰ نفی کے ہے۔ تو یہ نہی کیا ہوئی؟ یہ نہی کیا ہوئی بھئی؟ نسخ کا وہی ترجمہ کرو، نفی۔ یہ نہی کیا ہوئی؟ نفی ہوئی لِعَدَمِ مَحَلِّهِ اس لیے کہ اس نہی کا محل ہی نہیں ہے۔ نہی کا محل ہی نہیں ہے تو یہ نہی کیا ہوئی؟ نفی ہوئی۔ خود بتلائیں گے دیکھیے بھئی، فَكَانَ هَذَا النَّهْيُ كُلُّهُ نَسْخاً لِلْمَشْرُوعِيَّةِ، تو یہ ساری کی، یہ جو نہی ہے ساری کی ساری، کُلُّهُ کہا بھئی شارح نے، ساری کی ساری، کیا معنی؟ بھئی اوپر ایک نہی آئی تھی یا تین چار قسم کی نہی کا ذکر آیا؟ تین چار، ایک نہی ہے عن بیع الحر، ایک نہی ہے عن بیع المضامین، ایک نہی ہے عن بیع الملاقیح، ایک نہی ہے عن نکاح المحارم۔ تو یہ جو نہی ہے، ساری کی ساری، یعنی اس کے سارے افراد جو ہیں، نَسْخاً، یہ کیا ہیں دراصل؟ نفی ہیں، نسخ کا وہی ترجمہ کرو، نفی ہیں لِلْمَشْرُوعِيَّةِ، کس چیز کی نفی ہیں؟ مشروع ہونے کی نفی ہے یہ سب۔
یعنی اس نہی کے سارے افراد کیا ہیں وہ؟ نسخ للمشروعیۃ ہیں یعنی نفی ہے مشروع ہونے کی، یعنی یہ چیزیں مشروع نہیں ہیں، یہ خبر دی جا رہی ہے۔ شریعت میں یہ چیزیں جائز نہیں ہیں۔ لِعَدَمِ مَحَلِّ النَّهْيِ، نہی کا محل نہ ہونے کی وجہ سے۔ یہ نہی کیا ہے؟ نسخ ہے، اس لیے کہ یہ نہی کا محل ہی نہیں ہے۔ نہی کا یہ، کیسے نہیں ہے محل؟ دیکھیے خود بتلائیں گے، إِذْ مَحَلُّ الْبَيْعِ هُوَ الْمَالُ، اس لیے کہ بیع کا محل کیا ہے؟ مال ہے، وَهَؤُلَاءِ لَيْسُوا بِمَالٍ، اور یہ جو اوپر گزرے، آزاد آدمی، مضامین، ملاقیح، یہ تو مال ہی نہیں ہیں۔ اس لیے کہ آزاد آدمی تو مال نہیں، مضامین اور ملاقیح تو موجود ہی نہیں ہیں، ان کا وجود ہی نہیں ہے ابھی۔
تو شریعت نے تو کیا کہا تھا؟ بیع کسے کہتے ہیں؟ مبادلۃ المال بالمال۔ اور معلوم ہوا بیع کے اندر کس چیز کا ہونا ضروری؟ مال کا ہونا ضروری، اور اوپر منع کیا جا رہا ہے ملاقیح کی بیع نہ کرو، مضامین کی بیع نہ کرو، تو یہ نہی نہیں ہے مولانا، اس لیے کہ ان میں یہ نہی کا محل ہی نہیں ہے۔ نہی کا محل ہی نہیں ہے، کیوں نہیں محل؟ اس لیے کیونکہ بیع کہتے تھے مبادلۃ المال کو، اور یہ سرے سے مال ہی نہیں ہیں تو ان میں تو بیع ہو ہی نہیں سکتی۔ اگر بیع ہوتی تو نہی کے ذریعے روکا جاتا، تو ان کی تو بیع ہی کیوں نہیں ہو سکتی؟ کیونکہ بیع میں کیا ضروری؟ مال، اور یہ سرے سے مال ہی نہیں۔ ہاں، جب ان کی بیع ممکن ہوتی تو پھر نہی کے ذریعے روکا بھی جاتا، تو یہاں بیع ہو ہی نہیں سکتی، جب بیع ہو ہی نہیں سکتی تو بیع سے روکنا یہ کیا ہے؟ نہی ہے ہی نہیں، بلکہ کیا ہے؟ نفی ہے۔ تو بیع ہوتی تو نہی اپنے محل پر آئی ہے ہم کہتے اب اس کا اس سے، یہ بیع نہ کرو، یہ بیع، لیکن یہ بیع تو ہوتی نہیں ہے، یہ مال ہی نہیں ہے سرے سے۔
تو کہتے ہیں إِذْ مَحَلُّ الْبَيْعِ هُوَ الْمَالُ، اس لیے کہ بیع کا محل وہ مال ہے، وَهَؤُلَاءِ لَيْسُوا بِمَالٍ، اور یہ سارے مال نہیں ہیں، وَمَحَلُّ النِّكَاحِ الْمُحَلَّلَاتُ، اور نکاح کا محل وہ محللات ہیں، وہ عورتیں جن کو حلال قرار دیا گیا ہے، وَهُنَّ مُحَرَّمَاتٌ بِالنَّصِّ، اور یہ تو محرمات ہیں، حرام قرار دی گئی ہیں بالنص، نص کے ذریعے سے۔
بس محارم سے، نکاح سے منع کیا گیا ہے۔ محارم سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ہم کہتے ہیں یہ نہی بول کر نفی مراد ہے، اس لیے کیونکہ یہ نہی کا محل ہی نہیں ہے۔ نہی کا محل کیا تھا؟ کہ بھئی یہ نکاح کا امکان تو ہوتا، کیونکہ نکاح تو ہوتا کن عورتوں سے ہے؟ جو حلال ہوتی ہیں، اور یہ عورتیں تو نص کی وجہ سے حرام، تو یہاں نکاح کا امکان ہی نہیں ہے کہ اس میں پھر کیا کیا جائے؟ بھئی شریعت نے کیا کیا ہے؟ ان سے نص کے ذریعے منع کیا گیا ہے، محرمات سے، یہ محارم سے نکاح، کچھ رشتہ دار بیان کیے ہیں جن سے نکاح کو کیا قرار دے دیا گیا؟ حرام قرار دے دیا گیا ہمیشہ کے لیے، ان کو کہتے ہیں محارم، کیا کہتے ہیں؟ محارم ہیں، سمجھائے؟ تو شریعت نے بتلا دیا یہ محل ہی نہیں ہے نکاح کا۔ یہ کیا ہیں؟ نکاح کا محل ہی نہیں ہیں، جب یہ نکاح کا محل ہی نہیں ہیں، نکاح کا یہاں امکان ہی نہیں ہے شریعت کی نظر میں، تو لہٰذا اس سے روکنا، روکا تو تب جاتا جب کیا ہوتا؟ نکاح ہوتا، نکاح کا امکان ہوتا، لیکن شریعت نے بتلایا نہیں بھئی، یہاں نکاح کا امکان ہی نہیں، تو لہٰذا یہ نہی ہے ہی نہیں، کیونکہ یہ نہی کا محل ہی نہیں ہے، نہی تو ایک چیز جائز ہوتی پھر اسے کیا کیا جاتا؟ روکا، جیسے وہ حلال عورتیں، حلال عورتوں سے نکاح کیا ہے؟ جائز ہے، اب اس میں وہاں کسی سے روکا جاتا تو ہم کہتے یہ نہی ہے، لیکن یہ تو نہی کا محل ہی نہیں، تو لہٰذا یہاں نہی کو کس پر محمول کریں گے؟ نفی پر۔
وَفِي إِيرَادِ لَفْظِ النَّسْخِ بَعْدَ النَّفْيِ تَنْبِيهٌ عَلَى تَرَادُفِهِمَا هَاهُنَا، بھئی پہلے متن میں آیا تھا مَجَازٌ عَنِ النَّفْيِ، پھر کہا فَكَانَ نَسْخاً، کہ وہ نہی کیا ہو گی؟ نسخ۔ کہتے ہیں یہ جو لے کر آئے ہیں لفظِ نسخ نفی کے بعد، یہ تنبیہ ہے اس بات پر کہ یہ دونوں اب کیا ہیں یہاں پر؟ مترادف ہیں، نسخ بھی کس معنی میں ہے؟ نفی کے معنی۔
وَيُمْكِنُ أَنْ يَكُونَ نَسْخاً اصْطِلَاحِيّاً عِنْدَ مَنْ يَقُولُ، اور ممکن ہے کہ یہ کیا ہو؟ نسخِ اصطلاحی ہو۔ نسخِ اصطلاحی ہو مولانا، ش، جو اصطلاح کے اندر ہم نسخ کہتے ہیں، ایک چیز ایک حکم ناسخ ہے، دوسرا حکم کیا ہے؟ منسوخ ہے، یعنی تبدیلِ حکم، کس کو کہتے ہیں؟ بھئی شریعت کا پہلے ایک حکم آتا ہے، بعد میں شریعت اس کے، اس کا نیا حکم آ جاتا ہے، پہلا حکم منسوخ ہو گیا، تو پہلے کو ہم کہتے ہیں منسوخ، ثانی کو کیا کہتے ہیں؟ نسخ، تو یہ دیکھو دوسرا حکم آیا، شریعت نے حکم کو تبدیل کر دیا، کیا کر دیا؟ اس حکم کو تبدیل کرنا کیا کہلاتا ہے؟ نسخ کہلاتا ہے، نسخ بھئی۔
تو ہو سکتا ہے کہتے ہیں یہاں پر نسخ سے نسخِ اصطلاحی مراد ہو، پہلا ترجمہ تو ہم نے کس کے مطابق کیا کہ نسخ کا کیا معنی ہے؟ نفی، کہتے ہیں ہو سکتا ہے اس سے نسخِ اصطلاحی مراد ہو عِنْدَ مَنْ يَقُولُ، ان کے نزدیک جو یہ کہتے ہیں کہ إِنَّ رَفْعَ الْإِبَاحَةِ الْأَصْلِيَّةِ، کہ اٹھا دینا اباحتِ اصلیہ کو، اباحتِ اصلیہ کو ختم، اٹھا دینا یعنی ختم کر دینا، وَرَفْعَ مَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، اور وہ چیز جو جاہلیت میں تھی اس کو اٹھا دینا، ختم کر دینا، أَوْ فِي الشَّرَائِعِ السَّابِقَةِ، یا وہ چیز جو کس کے اندر تھی؟ گزشتہ شریعتوں میں تھی، ان کو اٹھا دینا، يُسَمَّى نَسْخاً، اس کو کیا کہتے ہیں؟ نسخ کہتے ہیں۔
بھئی اباحتِ اصلیہ، یاد رکھیے ہر چیز کے اندر اصل ہے کہ وہ مباح، الا یہ کہ اس کے حرام ہونے پر کوئی دلیل قائم ہو جائے۔ ہر چیز میں اصل کیا ہے؟ مباح، مگر یہ کہ اس کے حرام ہونے پر کیا قائم ہو جائے؟ تو ہر چیز میں اباحت اصل ہے۔ تو اس اباحتِ اصلیہ کو اٹھا دینا، اسی طرح سابقہ ش، دورِ زمانہ جاہلیت کے اندر یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے کے زمانے کے اندر جو کیا تھا؟ جاہلیت کے زمانے میں جو چیزیں تھیں ان کو اٹھا دینا کہ جو چیز، جو ان کے طریقے تھے، ان کو اٹھا دینا، اور جو سابقہ شریعتوں کے اندر جو حکم تھے ان کو اٹھا دینا، وہ کیا کہلاتا ہے؟ نسخ۔
ان علماء کے نزدیک جو نسخ کی کیا تعریف کرتے ہیں بھئی؟ کہ اباحتِ اصلیہ اور جاہلیت اور گزشتہ شریعتوں کے، کے ان کے طریقے کو، ان کے رواج وغیرہ کو اٹھا دینا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ نسخ کہلاتا ہے، تو اس صورت میں یہ نسخ سے کیا مراد ہوا؟ نسخِ اصطلاحی مراد ہوا هنا تک بات سمجھ میں آ گئی؟
إِنَّ رَفْعَ الْإِبَاحَةِ الْأَصْلِيَّةِ کہ اباحتِ اصلیہ کو اٹھا دینا، وَرَفْعَ مَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ اور اٹھا دینا اس طریقے کو جو جاہلیت میں تھا، أَوْ فِي الشَّرَائِعِ السَّابِقَةِ یا گزشتہ شریعتوں میں تھا، يُسَمَّى نَسْخاً اس کو نسخ کہتے ہیں۔ لِأَنَّ بَيْعَ الْحُرِّ كَانَ فِي شَرِيعَةِ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَامُ اس لیے کہ آزاد آدمی کی بیع جو تھی حضرت یوسف علیہ السلام کی شریعت میں تھی، وَبَيْعَ الْمَضَامِينِ وَالْمَلَاقِيحِ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ اور مضامین اور ملاقیح کی بیع جو ہے جاہلیت کے اندر تھی، وَنِكَاحَ بَعْضِ الْمَحَارِمِ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَبَعْضِهَا فِي الْأَدْيَانِ السَّابِقَةِ اور بعض محارم کا نکاح جاہلیت میں ہوتا تھا اور بعض کا گزشتہ ادیان کے اندر تھا، جیسے حضرت آدم علیہ السلام کے مولانا ایک بیٹا اور ایک بیٹی اکٹھے پیدا ہوتے تھے۔ ان دونوں کا تو آپس میں نکاح جائز نہیں ہوتا تھا، لیکن اگلی دفعہ جو بیٹا اور بیٹی اکٹھے پیدا ہوئے، تو اس بیٹے کا نکاح گزشتہ مرتبہ جو بیٹی پیدا ہوئی تھی اس سے کر دیا جاتا، اور جو گزشتہ مرتبہ بیٹا پیدا ہوا تھا اس کا نکاح اس مرتبہ پیدا ہونے والی بیٹیوں سے، تو بعض محارم کے ساتھ کیا تھا نکاح؟ جائز تھا، تو اس حکم کو اٹھا دیا گیا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ نسخ کہتے ہیں، تو کہتے ہیں یہ نہی نسخ ہے، یعنی غیر مشروعیت کو بیان کیا گیا، کس کو؟ غیر مشروعیت کو بیان کیا گیا، کیا معنی؟
کہ یہ چیزیں پہلے تھیں، اباحتِ اصلی تھی، جاہلیت میں طریقہ تھا، گزشتہ امتوں میں طریقہ تھا، لیکن اب ایسا ہماری شریعت میں ایسا نہیں ہے، اس کا نسخ کر دیا گیا، بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے مولانا هَذَا هُوَ الْمُرَادُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ.