Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-022

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 13 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 9
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔22 ثم ذكر المصنف رحمه الله تعالى تفريعين لأبي حنيفة رحمه الله تعالى على قوله وهو السابق، فقال وعلى هذا قال أبو حنيفة رحمه الله تعالى في القطع ثم القتل عمدا للولي فعلهما، أي لأجل أن المثل الكامل سابق على المثل القاصر، قال أبو حنيفة رحمه الله في صورة قطع رجل يد رجل عمدا ثم قتله قبل أن يبرأ ينبغي للولي أن يفعل مثل ما فعل القاتل. كهتے ہیں ثم ذكر المصنف رحمه الله، كه پھر ذكر كيا مصنف رحمه الله نے تفريعين دو تفريعوں كو لأبي حنيفة رحمه الله، امام اعظم ابو حنيفه رحمه الله كى۔ امام ابو، امام اعظم ابو حنيفه رحمه الله كى دو تفريعات كو ذكر كيا على قوله وهو السابق، متن كے قول وهو السابق پر بھئی۔ اس پر كيا ہے امام اعظم ابو حنيفه رحمه الله كى دو تفريعات كو ذكر كيا متن نے بھئی، پہلے ذكر كيا تھا ومنها ضمان المغصوب بالمثل وهو السابق أو بالقيمة، كه ضمان المغصوب كا ضمان مثل كے ساتھ اور وہ مقدم ہے اور ضمان مغصوب كا كس كے ساتھ؟ قيمت كے ساتھ۔ تو بتلايا تھا مغصوب كا ضمان جو ہے بالمثل وہ كيا ہے؟ سابق ہے۔ يعنى ضمان بالمثل سابق ہے، كيا ہے ضمان بالمثل؟ سابق ہے، چونكه وہ كامل ہے اور دوسرا قيمت كے ساتھ جو ہے وہ كيا ہے؟ ناقص ہے، قاصر ہے۔ تو وهو السابق پر تفريع كى ہے كه مثل كامل يعنى مثل كامل جو ہے وہ سابق ہے كس پر؟ مثل قاصر پر بھئی۔ كهتے ہیں وعلى هذا قال أبو حنيفة رحمه الله تعالى في القطع ثم القتل عمدا، اور اسی بناء پر فرمايا ہے امام اعظم ابو حنيفه رحمه الله نے في القطع ثم القتل، قطع اور پھر قتل كے اندر عمدا جان بوجھ كر۔ بھئی، ایک شخص كيا كرتا ہے؟ ایک شخص نے دوسرے كا ہاتھ كاٹ ديا اور پھر اسے قتل كر ديا اور یہ دونوں فعل اس نے عمدا كئے، جان بوجھ كر كئے۔ پہلے كيا كيا؟ اس كا ہاتھ كاٹا اور پھر كيا كيا اسے؟ قتل كر ديا۔ ياد ركھئے اعضاء كے اندر جہاں مماثلت ممكن ہو وہاں قصاص آيا كرتا ہے۔ تو اگر ایک شخص دوسرے شخص كا ہاتھ جان بوجھ كر كاٹ دے تو یہ جس نے جنايت كى ہے اس كے بھی اس كا بھی كيا كيا جائے گا؟ ہاتھ كو كاٹا جائے گا بطور قصاص كے۔ ليكن اس میں ضروری ہے كه ہاتھ كو جوڑ سے كاٹا ہو، کہیں جوڑ سے كاٹا ہو تو پھر جس نے جنايت كى ہے اس كا ہاتھ بھی کہاں سے كاٹ ليا جائے گا؟ جوڑ سے۔ ليكن اگر جوڑ سے نہیں كاٹا، ہڈی وغيرہ سے كاٹا ہے، ہڈی بھی ساتھ كٹی ہے تو پھر ياد ركھئے اس صورت میں قصاص نہیں آتا، اس لئے كه قصاص كى بنياد ہے مماثلت پر، مساوات پر، كه جس طرح قاتل نے كاٹا ہے جس جگہ سے اسی جگہ سے اسی طريقے پر كيا كيا جائے، جس طريقے پر قطع كرنے والے نے كاٹا ہے اسی طرح اس كا بھی ہاتھ اسی جگہ سے كاٹا جائے، ليكن ہڈی میں برابری ممكن نہیں ہے بھئی، ہڈی میں برابری ممكن، بھئی اس نے ایک جگہ سے ہڈی سے ہاتھ كاٹا ہے بھئی، ہڈی بھی كٹ گئی ہے، ٹوٹ گئی ہے ساتھ، ليكن اب بالکل برابری ہو اسی طريقے پر اس كاٹنے والے كى بھی ہڈی وہیں سے كاٹى جائے، توڑى جائے، یہ ممكن نہیں ہے۔ تو لہذا ہڈی كے اندر قصاص نہیں ہوتا۔ تو امام اعظم ابو حنيفه رحمه الله فرماتے ہیں ایک شخص نے دوسرے كا ہاتھ كاٹ ديا اور پھر اس كے بعد اسے قتل كر ديا اور یہ دونوں فعل کس طريقے پر ہیں؟ جان بوجھ كر، تو دونوں میں قصاص آتا ہے تو ولی كو اختيار ہے وہ دونوں كا قصاص لے سكتا ہے۔ كيا كرے؟ وہ جو جس نے ہاتھ كاٹا تھا اور قتل كيا ہے، تو یہ مقتول كا جو ولی ہے وہ بھی كيا كر سكتا ہے كه اس كا پہلے ہاتھ كاٹ دے اور پھر كيا كرے اسے؟ قتل كر دے بھئی، تاكه مثل كامل كى رعايت ہو جائے، چونكه اس نے اس اس طرح كيا تھا، متعدد فعل اس كى طرف سے پائے گئے تھے، تو یہاں اس ولی مقتول كى طرف سے بھی كيا ہوں گے؟ متعدد فعل پائے جائیں گے تو یہ اس كى مثل ہو جائے گا، مثل كامل بھئی، اور آپ جانتے ہیں كه مثل كامل كيا ہے؟ وہ مقدم ہے كس پر؟ مثل قاصر پر۔ جبکہ صاحبین رحمہما الله فرماتے ہیں كه نہیں، یہاں جو قطع ہے وہ داخل ہو جائے گا قتل كے اندر، لہذا ولی اس كو صرف قتل كر دے گا۔ قطع يد كى جو جنايت ہے وہ كس كے اندر داخل ہو گئی؟ قتل كے اندر بھئی، چونكه جب قتل كر ديا تو قتل كے اندر سارے اس كے نفس ہی كو ضائع كر ديا تو اسی میں يد بھی داخل ہو گیا۔ سمجھ میں آيا بھئی؟ تو لہذا وہ صرف وہ كيا فرماتے ہیں كه اس صورت میں؟ صرف قتل كيا جائے گا بھئی اس قاتل كو۔ ليكن امام صاحب كيا فرماتے ہیں كه مثل كامل وہ مقدم ہے كس پر؟ مثل قاصر پر۔ تو كهتے ہیں وعلى هذا قال أبو حنيفة رحمه الله تعالى، اور اسی وجہ سے امام اعظم ابو حنيفه رحمه الله نے فرمايا ہے في القطع ثم القتل، قطع اور پھر قتل كى صورت میں عمدا جان بوجھ كر، اس كا تعلق دونوں سے ہے قطع اور قتل دونوں كيا ہیں؟ عمدا، ميم ساكن ہے عمدا، للولي فعلهما كيا فرمايا ہے؟ كه للولي فعلهما، كه یہ جو ولی ہے ان كا يعنى یہ جو مقتول كا ولی، فعلهما اس كے لئے جائز ہیں ان دونوں كا فعل، ان دونوں كا فعل كرنا بھئی، يعنى وہ بھی كيا كرے؟ پہلے قطع كرے اور پھر وہ قتل كرے۔ أي لأجل أن المثل الكامل سابق على المثل القاصر، اور اس وجہ سے كه مثل كامل جو ہے وہ مقدم ہے مثل قاصر پر، قال أبو حنيفة رحمه الله في صورة قطع رجل يد رجل عمدا، امام اعظم ابو حنيفه رحمه الله نے فرمايا ہے في صورة قطع رجل، كسى شخص كے كاٹ دينے كى صورت میں بھئی، كس چيز كو كاٹ دينے كى صورت میں؟ يد رجل، یہ مفعول ہے قطع كے لئے، كسى شخص كا دوسرے شخص كے ہاتھ كو عمدا جان بوجھ كر، كسى شخص كا دوسرے شخص كے ہاتھ كو جان بوجھ كر كاٹنے ثم قتله، اس كا عطف قطع پر ہے، پھر اس كے قتل كر دينے كى صورت، جان بوجھ كر قتل كر دينے كى صورت میں، امام اعظم ابو حنيفه رحمه الله نے فرمايا ہے كسى شخص كا دوسرے شخص كے ہاتھ كو جان بوجھ كر كاٹنے اور پھر اسے جان بوجھ كر قتل كرنے كى صورت میں قبل أن يبرأ، قبل اس كے تندرست ہونے كے۔ اس كے تندرست ہونے سے، بھئی ہاتھ كاٹا اور پھر اس كے بعد قتل كيا اس اس ہاتھ كاٹنے اور قتل كے درميان وہ تندرست نہیں ہوا يعنى اس كا وہ زخم ٹھيك نہیں ہوا بھئی، وہ زخم ٹھيك نہیں ہوا۔ بھئی ياد ركھئے اگر كسى نے كسى كا ہاتھ كاٹا ہے اور جوڑ سے كاٹا ہے اور قصاص آ رہا ہے كه اب اس كاٹنے والے كا بھی ہاتھ كاٹا جائے گا، تو یہ نہیں كه فورا ہی اس سے قصاص لے ليا جائے گا، بلكه انتظار كيا جائے گا كه اس دوسرے شخص كا ہاتھ ٹھيك ہو جائے۔ كيا ہو جائے؟ ٹھيك ہو جائے، پھر اس كے بعد قصاص لیں گے، انتظار کریں گے فورا نہیں، چونكه ہو سكتا ہے اس ہاتھ كاٹنے كى وجہ سے وہ بچے ہی نہ، مر جائے بھئی۔ تو پھر پتا لگے گا آخر میں جا كر كه بھئی آپ نے تو صرف ہاتھ كاٹ ديا، ليكن جنايت تو كيا ہو چكى ہے؟ وہ قتل ہو چکا ہے، مر چکا ہے اس كى وجہ سے بھئی، تو لہذا كيا كيا جائے گا پہلے؟ انتظار کریں گے تاكه پتا لگ جائے كه کہیں یہ زخم موت تک تو نہیں پہنچانے كا باعث بن رہا۔ سمجھ میں آيا بھئی؟ ورنہ اگر موت تک پہنچ جاتا ہے تو معلوم ہوا جنايت كيا ہو گئی؟ قطع نہیں رہی بلكه كيا بن گئی؟ قتل بن گئی، تو پھر اس صورت میں قتل كيا جائے گا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اسی لئے كہا قبل أن يبرأ، قبل اس كے تندرست ہونے كے، يعنى ایک شخص نے دوسرے كا ہاتھ كاٹا تھا اور پھر اس كے تندرست ہونے سے پہلے ہی اسے كيا كر ديا؟ قتل كر ديا، قتل كر ديا। تو یہ قيد جو ہے متن میں نہیں لگائی تھی، شارح نے لگوا دی، لگا دی بھئی، ياد ركھئے یہ قيد ضروری ہے یہاں پر، كه ٹھيك ہونے سے پہلے كيا كيا؟ قتل، اگر ٹھيك ہونے كے بعد قتل كرتا ہے، پھر تو بالاتفاق بھئی دو جنايتیں ہیں بھئی، صاحبین بھی كيا فرماتے ہیں؟ دو جنايتیں ہو گئیں، ایک جنايت كى اس سے ٹھيك ہوا پھر دوسری جنايت كر دی، پہلے ہاتھ كاٹا وہ ٹھيك ہوا پھر اسے قتل كيا، تو دو جنايتیں الگ الگ۔ جبكه اگر درميان میں ابھی تندرست نہیں ہوا اس نے قتل كر ديا، تو وہ كهتے ہیں بھئی یہ یہ قطع يد نہیں گويا اس كو کہاں تک پہنچا ديا؟ قتل موت تک پہنچا ديا، تو لہذا یہ اس كے اندر داخل ہوئی چونكه اس كے اندر بھی تو احتمال تھا كه یہ قطع يد کہاں تک پہنچا ليتا اس كو؟ موت تک پہنچا ديتا، تو ٹھيك ہونے سے پہلے یہ دوسری جنايت كر دی۔ تو كهتے ہیں اس صورت كے اندر امام صاحب فرماتے ہیں ينبغي للولي، یہ قال كا مقولہ اب شروع ہو رہا ہے، ينبغي للولي أن يفعل مثل ما فعل القاتل، مناسب ہے ولی كے لئے يعنى ولی مقتول كے لئے كه أن يفعل مثل ما فعل القاتل، كه وہ بھی كرے اسی كے مثل جس طرح قاتل نے كيا تھا، يعنى اس نے پہلے ہاتھ كاٹا تھا اور پھر قتل كيا، تو ولی مقتول بھی كيا كر لے؟ پہلے ہاتھ كاٹ لے اور ہاں یہ مناسب ہے يعنى اسے اختيار ہے، فيقطعه أولا ثم يقتله، تو پہلے اس كا اس قطع كرے يعنى اس كا ہاتھ كاٹى، ثم يقتله پھر اسے قتل كرے، ليكون جفاء الفعل بالفعل، تاكه فعل كى جزا فعل كے بدلے ہو جائے، إذ الفعل متعدد من القاتل، اس لئے كه فعل قاتل كى طرف سے متعدد ہے، ایک فعل نہیں ہے بلكه کئی فعل ہیں يعنى دو فعل ہیں، فينبغي أن يكون كذلك من الولي، تو مناسب یہ ہے كه اسی طرح ہونا چاہئے ولی كى طرف سے بھی رعايت للمثل الكامل، كس كى رعايت ركھتے ہوئے؟ مثل كامل كى، ولو اقتصر على القتل جاز له أيضا، امام صاحب فرماتے ہیں مناسب اوپر كيا آيا تھا؟ مناسب ہے ولی كے لئے، كه وہ بھی اسی طرح كرے، معلوم ہوا واجب نہیں ہے۔ اسی لئے كہا اگر صرف قتل كر ديتا ہے اور ہاتھ نہیں كاٹتا تو یہ بھی كيا ہے اس كے لئے؟ جائز ہے۔ تو كهتے ہیں ولو اقتصر على القتل جاز له أيضا، اور اگر اقتصار كيا ولی نے صرف قتل پر تو یہ بھی اس كے لئے جائز ہے، لأنه عفا عن بعض موجبه، اس لئے چونكه اس نے معاف كر ديا ہے بھئی بعض موجب قتل سے، قتل كے بعض فعل قتل كے بعض موجب سے، بعض حكم سے كيا كر ديا ہے اس نے؟ معاف كر ديا ہے، قاتل كے فعل سے بھئی، موجبه أي فعل القاتل، اس كے فعل قاتل كے بعض موجب كو كيا كر ديا؟ معاف كر ديا، فصار كما إذا عفا عن كله، تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے اس نے سارے كو معاف كر ديا ہو۔ بھئی سارے كو معاف كرنے كا اختيار تھا يا نہیں ولی كو بھئی؟ جب سارے كو معاف كرنے كا اختيار تھا تو یہاں اس نے بعض كو معاف كيا ہے تو یہ بھی معاف اسی كى طرح ہو گیا، جیسے اس میں معاف كرنا تھا اس كے اندر بھی كيا ہے؟ معاف كرنا ہے، ہاں ادھر معاف كرنا تھا سارے كو، ادھر معاف اس نے كيا ہے بعض كو، كچھ كو، تو اس یہ اس كے لئے جائز ہے۔ وعندهما لا يقتص الولي إلا بالقتل، اور صاحبین كے نزدیک قصاص نہیں لے گا ولی مگر قتل كے ساتھ ہی، لأن موجب القطع دخل في موجب القتل، اس لئے كه قطع كا جو موجب ہے، قطع كا جو حكم ہے وہ داخل ہو گیا كس كے اندر؟ قتل كے موجب كے اندر، إذا أفضى إليه، جب یہ اس تک پہنچ گیا۔ جب یہ قطع کہاں تک پہنچ گیا؟ قتل تک پہنچ گیا، ولم يبرأ بينهما، اور حال یہ كه وہ ان دونوں كے درميان تندرست بھی نہیں ہوا بھئی، تو یہ اس تک پہنچ گیا۔ كهتے ہیں وهذه المسألة على ثمانية أوجه، اور یہ مسئلہ آٹھ صورتوں پر ہے، والمذكور في المتن واحد منها، اور متن میں ان میں سے ایک ہی مذكور ہے۔ آٹھ صورتیں بنتى ہیں بھئی ديكھو، ادھر ديكھو بھئی آٹھ صورتیں بنتى ہیں۔ دو فعل ہیں ایک ہے قطع، ایک ہے قتل۔ پہلی صورت: دونوں خطأ ہوں۔ دونوں كيا ہوں؟ غلطی سے ہوں۔ دوسری صورت: ہو سكتا ہے دونوں كيا ہوں؟ عمدا ہوں، جان بوجھ كر ہوں۔ تیسری صورت: ہو سكتا ہے اول عمدا ہو، ثانی كيا ہو؟ خطأ۔ چوتھی صورت: اول كيا ہو؟ تیسری كيا صورت بنائی تھی؟ اول اول عمدا ثانی خطأ، اسی كا عكس كر لو، اول خطأ ثانی عمدا، کتنی صورتیں ہو گئیں؟ چار صورتیں ہو گئیں۔ پھر ان چاروں كے اندر بھئی، درميان میں وہ تندرست ہوا ہوگا يا تندرست تو دو دو صورتیں بن گئیں تو کل کتنی صورتیں ہوئیں؟ آٹھ صورتیں ہو گئیں بھئی آٹھ صورتیں۔ آٹھ صورتیں۔ اور صرف ان كے میں سے ایک كے اندر اختلاف تھا، اس ایک كو متن میں ذكر كر ديا اور وہ کون سی صورت ہے؟ كه جبكه دونوں فعل عمدا ہوں اور درميان میں وہ تندرست بھی نہ ہوا ہو بھئی۔ اب ان كا حكم كيا ہے؟ ياد ركھئے اگر درميان میں وہ ٹھيك ہو جائے، کتنی صورتوں میں تھا یہ؟ چار صورتوں میں، کتنی میں؟ ہاں، اگر وہ درميان میں تندرست ہو جائے پھر اس كے بعد دوسری جنايت پائی جائے تو پھر بالاتفاق یہ دو جنايتیں ہیں۔ پھر بالاتفاق كيا ہیں؟ دو جنايتیں ہیں بھئی دو جنايتیں۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں نہ بھئی كه عمدا ہو تو پھر قصاص آتا ہے اور خطأ ہو تو پھر كيا آتی ہے؟ ديت آيا كرتى ہے، نفس كے اندر پوری ديت ہے اور ہاتھ كے اندر نصف ديت ہے بھئی۔ ہاتھ نفس كے علاوه جو ديت آتی ہے اس كو أرش كہا جاتا ہے، أرش بھئی أرش، مجازا ديت بھی بول ديا كرتے ہیں اس پر، أرش كا مطلب بھی ضمان وہی، تو ليكن وہ نفس كا ضمان نہیں ہے، نفس سے كم كا ضمان وہ أرش كہلاتا ہے اور پورے نفس كا ہو وہ ديت كہلاتا ہے، ليكن کبھی مجازا ديت كا إطلاق أرش پر بھی كر ديا جاتا ہے۔ اچھا، تو بيان میں یہ كر رہا تھا بھئی كه اگر دونوں جنايتوں كے درميان وہ تندرست ہوا ہے پھر تو بالاتفاق یہ دو جنايتیں شمار ہوں گی، چاہے اول بھی عمدا تھا ثانی بھی عمدا، ليكن درميان میں تندرست ہو گیا تو دو جنايتیں آ گئیں بھئی۔ اگر اول بھی خطأ تھا ثانی بھی خطأ، تو دو جنايتیں ہیں، ہاتھ كى وجہ سے نصف ديت آئے گی اور قتل كى وجہ سے پوری ديت آئے گی تو قاتل پر ڈیڑھ ديت واجب ہو جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اس پر اور اس كے سارے قوم پر بھئی۔ اور اگر پہلا خطأ تھا اور ثانی كيا تھا؟ عمدا، اور درميان میں تندرست ہوا ہے، تو پھر بھی دو جنايتیں، خطا قطع ہاتھ كاٹا ہے خطأ کتنی ديت آئے گی؟ نصف ديت، 50 اونٹ آئیں گے اور قتل كيا ہے جان بوجھ كر تو پھر قصاص بھی آئے گا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ چوتھی صورت كه ہاتھ كاٹا ہے جان بوجھ كر اور قتل كيا ہے خطأ، تو بھی دو جنايتیں ہیں چونكه درميان میں تندرست ہوا، تو ہاتھ كاٹا ہے جان بوجھ كر اس میں كيا آئے گا؟ اس میں قصاص آئے گا اور قتل كيا ہے غلطی سے، اس میں كيا آئے گی؟ ديت آئے گی تو 100 اونٹ، ہاتھ بھی كاٹا جائے گا اور 100 اونٹ بھی بھئی۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ اور تو کتنی صورتیں ہو گئیں؟ چاروں ہو گئیں، تو یہ ٹھيك ہے چار صورتیں ہو گئیں بھئی۔ اور اگر درميان میں وہ تندرست ہوا ہو، اور درميان میں اگر وہ تندرست نہیں ہوا، تو پھر اس صورت میں ياد ركھئے كه اگر دونوں خطأ ہوں تو بالاتفاق تداخل ہوگا۔ ہاتھ بھی كاٹا غلطی سے اور قتل بھی كيا غلطی سے، تو دونوں میں كيا ہو جائے گا؟ تداخل، باہم ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گی يعنى قطع قطع يد قتل میں ہی داخل ہو جائے گا اور قتل كى صورت میں کتنی ديت آتی ہے؟ پوری ديت آتی ہے تو اس پر 100 اونٹ آ جائیں گے بس، چونكه ایک ہی نوع كى ہیں دونوں جنايتیں تو ان میں تداخل ہو جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور ابھی درميان میں وہ ٹھيك بھی نہیں ہوا تھا بھئی، تو ویسے ہی إمكان تھا كه ہو سكتا ہے یہ قطع يد ہی اس كو کہاں تک پہنچا دے؟ موت تک پہنچا دے بھئی۔ اور اگر بھئی دونوں عمدا ہوں تو پھر اس صورت كے اندر اختلاف ہے جو ابھی متن میں ذكر ہوا۔ اور اگر كيا ہو؟ ایک خطأ ہو اور دوسری عمدا۔ او اول خطأً ہو، ثانی عمداً، یا اول عمداً ہو، ثانی خطأً، تو پھر اس صورت کے اندر بھی تداخل نہیں ہوگا کیونکہ دونوں الگ الگ نوع کی ہیں جنایتیں—ایک خطأً ہے تو دوسری کیا ہے؟ عمداً ہے، لہٰذا تداخل نہیں ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے بھئی، اب یہ ساری تفصیل وہ خود بیان کریں گے۔ کہتے ہیں: "وذلك لأنه لا يخلو إما أن يكون القطع والقتل... القطع والقتل عمدين" اس لیے کہ یہ خالی نہیں ہے کہ وہ قطع اور قتل دونوں جان بوجھ کر ہوں گے، "أو خطأين" ط کو ساکن پڑھیں یا اس پر فتحہ پڑھیں، دونوں درست ہیں بھائی—خطأً یا خطأً—"أو خطأين أو خطأين" یا دونوں کیا ہوں گے؟ خطأً ہوں گے، "أو الأول عمدا والثاني خطأ" یا اول جان بوجھ کر ہوگا اور ثانی کیا ہوگا؟ خطأً ہوگا، "أو بالعكس" یا اس کا عکس ہوگا—اول خطأً ہوگا اور ثانی عمداً ہوگا—"فهي أربعة" تو یہ چار ہو گئیں، "وعلى كل تقدير منها" اور ان میں سے ہر تقدیر پر "إما أن يتخلل بينهما برء أو لا" یا تو ان دونوں کے بیچ تندرست ہونا آئے گا یا نہیں آئے گا۔ "فإن كانت الثانيه بعد البرء" اگر دوسری جنایت تندرست ہونے کے بعد تھی، "فهما جنايتان اتفاقا" تو اس صورت میں یہ دونوں کیا ہیں؟ دو جنایتیں ہیں بالاتفاق، "لا يتداخلان" یہ باہم ایک دوسرے میں داخل نہیں ہوں گی، "سواء كانا عمدين أو خطأين" برابر ہیں کہ چاہے دونوں عمداً ہوں یا دونوں خطأً ہوں، "أو كان أحدهما عمدا والآخر خطأ" یا ان دونوں میں سے ایک تو عمداً ہے اور دوسری خطأً ہے، ہر صورت میں۔ "وإن كانا قبل البرء" اور اگر تندرست ہونے سے پہلے تھی دوسری جنایت، "فإن كان أحدهما عمدا والآخر خطأ لا يتداخلان اتفاقا" تو اگر ان میں سے ایک عمداً تھی اور دوسری خطأً—چاہے پہلی عمداً ہو، دوسری خطأً، یا پہلی خطأً ہو اور دوسری عمداً—تو پھر لا يتداخلان اتفاقاً، تو یہ دونوں ان دونوں میں تداخل نہیں ہوگا بالاتفاق۔ "وإن كانا خطأين يتداخلان اتفاقا" اور اگر وہ دونوں خطأً تھیں، پھر بھی ان میں تداخل ہو جائے گا بالاتفاق۔ "وإن كانا عمدين فهو المسألة الخلافية المذكورة في المتن" تو اگر دونوں عمداً ہوں تو یہ ہے وہ مسئلہ خلافیہ جو مذکور ہے متن کے اندر۔ "يتداخلان" تو دونوں کیا ہوں گی؟ "يتداخلان عندهما لا عنده" دونوں اب یہ آپس باہم ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گی امام صاحبین کے نزدیک، لا عنده، نہ کہ امام صاحب کے نزدیک۔ کہتے ہیں: "وهذا كله إذا صدرا عن شخص واحد" اور یہ سارا اس وقت ہے جب ان کا صدور ایک ہی آدمی سے ہوا ہو، یعنی ایک ہی آدمی سے یہ دونوں جنایتیں ہوئی ہوں۔ "فإن صدرا عن شخصين" اگر دو آدمیوں سے یہ جنایتیں ہوئی ہیں صادـ جنایتیں صادر ہوئی ہیں، "فالكلام فيه طويل يعرف في موضعه" تو اس کے اندر بڑا طویل کلام ہے جس کو جانا جائے گا اس کی جگہ پر۔ جب اس کا بیان آئے گا تو وہاں پر اس کو جان لیا جائے گا بھئی۔ یہاں تک مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ "ولا يضمن المثلي بالقيمة إذا انقطع المثل إلا يوم الخصومة" صورتِ مسئلہ یہ بھئی! یاد رکھیے بھئی، میں نے بتلایا تھا آپ کو کہ چیزیں دو قسم پر ہیں—کچھ مثلیات ہیں، کچھ ذوات القيم۔ مثلیات وہ چیزیں جن کا مثل ملتا ہو، سمجھ میں آیا؟ جیسے مکیلات ہیں، موزونات ہیں، معدوداتِ متقاربہ۔ موزونات، جن کا وزن کیا جاتا ہے اور مکیلات، جن کو ماپا جاتا ہے کوئی برتن وغیرہ کے ذریعے، اور معدودات، جن کو گنا جاتا ہے، تو معدوداتِ متقاربہ—وہ معدودات جو ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں، ایک دوسرے کے مشابہ ہیں، جن کو گنا جاتا ہے۔ مثلاً بھئی، انڈے ہیں، سمجھ میں آیا؟ ان کو کیا کیا جاتا ہے؟ گنا جاتا ہے۔ اسی طرح آپ پھل لینے جاتے ہیں، کیلے لینے گئے، وہ بھی گن کر خریدتے ہیں۔ اب یہ نہیں کہ اس کے افراد بالکل ایک جیسے ہوتے ہیں، ان میں تھوڑا بہت فرق تو ہوتا ہے لیکن اس فرق کو کوئی اس کا اعتبار نہیں کرتا بھئی۔ تو یہ ہیں معدوداتِ متقاربہ بھئی۔ تو بس ضابطہ یہ یاد رکھیں، جس کا مثل ممکن ہو، وہ کیا ہے؟ مثلیات میں سے ہے اور جس کا مثل نہ ملتا ہو، وہ ذوات القيم۔ مثلاً بھئی، آپ موبائل لینے جاتے ہیں بھئی۔ بتائیے بھئی، موبائل مثلیات میں سے ہے یا ذوات القيم میں سے؟ کس طرح؟ بھئی، یاد رکھو! جب نیا خریدنے گئے، ڈبے میں بند تھا، یہ ہے مثلیات میں سے۔ جب ڈبہ کھل گیا، استعمال تھوڑا سا بھی ہو گیا، یہ ذوات القيم میں سے بن گیا۔ کیوں؟ کیونکہ ڈبے کے اندر جب بند ہے، بالکل نیا ہے، اب اس جیسے مل رہے ہیں اور بھی۔ باقی بھی کیا ہیں؟ اسی طرح نئے ڈبے میں بند ہیں بھئی۔ مثلیات میں سے ہے۔ لیکن جب ڈبہ کھل گیا، تھوڑی دیر استعمال ہو گیا، قیمت کم ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟ اب آپ دوسرے شخص کے پاس بھی ایک موبائل ہے، آپ کہیں اس نے بھی چار گھنٹے استعمال کیا ہے، میں نے بھی چار گھنٹے استعمال کیا ہے، یہ مثل ہے بھائی—آئے! بلکہ یہ بتائیں، جتنا آپ نے استعمال کیا ہے، بالکل اس کے مثل کوئی ڈھونڈ سکتے ہیں موبائل؟ یہ کہاں سے پھر یہ تو مثلیات میں نہ رہا بلکہ کس میں چلا گیا؟ ذوات القيم۔ اگر بالفرض، اول تو ملے گا ہی نہیں، مل بھی جائے، پھر بھی آپ نہیں ثابت کر سکتے ہیں دونوں میں مماثلت ہے۔ آپ نے بھی چار گھنٹے استعمال کیا ہے، دوسرے نے بھی ابھی صرف چار گھنٹے استعمال کیا ہے، لیکن استعمال استعمال میں بھی تو فرق ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا وہ پھر کس میں داخل ہو جائے گا؟ ذوات القيم میں داخل ہو جائے گا بھئی۔ اچھا، چلو یہ تو ایک زائد بات آ گئی۔ تو بہرحال چیزیں دو قسم پر ہیں: مثلیات اور ذوات القيم۔ مثلیات کے اندر آپ جانتے ہیں، جب کوئی چیز غصب کر لے تو اس غصب میں یاد رکھیں، جب تک وہ چیز موجود ہے، غاصب پر اسی کا لوٹانا واجب ہے، چاہے وہ ذوات القيم میں سے ہو چاہے مثلیات میں سے۔ لیکن اگر وہ چیز غاصب کے پاس ہلاک ہو گئی تو پھر ذوات القيم میں سے ہو تو غاصب پر کیا آ جائے گی؟ قیمت آ جائے گی اور کس دن کی آئے گی؟ جس دن غصب کیا تھا، اس دن جو قیمت تھی، وہی قیمت کیا کرنا پڑے گی غاصب کو دینا پڑے گی۔ اور اگر مثلیات میں سے ہو تو پھر یاد رکھیے، اس کا مثل دینا پڑتا ہے۔ کیا دینا پڑتا ہے؟ مثل۔ یعنی گندم غصب کی تھی تو اب وہ والی گندم تو اس سے ہلاک ہو گئی، اول تو ضروری تھا وہی گندم واپس کرے، وہ والی گندم اس سے ہلاک ہو گئی تو کیا کرے گا؟ اس جیسی گندم لا کر اس اتنی ہی مقدار میں اس کے حوالے کرے گا، یہ ہے مثل دے رہا ہے اس کا بھئی۔ تو مثلیات میں عین دینا ضروری، اگر وہ ہلاک ہو جائے تو پھر مثل دیا جاتا ہے اور اگر مثل بھی ختم ہو جائے، مارکیٹ میں نہیں مل رہا، بازار سے ختم ہو گیا، تو پھر اس صورت میں اب اس کی قیمت دینا پڑے گی۔ اب قیمت کون سی دیں گے؟ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس دن غصب کیا تھا، اسی دن کی قیمت دے گا۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس دن بازار سے وہ چیز ختم ہوئی ہے، اس دن والی قیمت دے گا۔ اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس دن خصومت ہوئی، قاضی نے فیصلہ کر دیا، اس دن والی قیمت دے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ایک قیمت کون سی ہے جس دن غصب کی تھی، ایک دن ایک وہ قیمت ہے جب کہ بازار سے وہ ختم ہوئی بھئی، اور ایک وہ قیمت ہے جس دن قاضی نے فیصلہ کیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو مثلاً دیکھو بھئی، جس دن اس نے غصب کی تھی، وہ چیز تھی سو روپے کی، اور جس دن بازار سے ختم ہوئی، اس وقت تو ختم ہو رہی تھی، اس کی قیمت 150 تک پہنچ چکی تھی، اور پھر اس کے بعد قاضی نے فیصلہ جس وقت کیا، اس وقت اس کی قیمت کیا تھی؟ فرض کرو جتنی بھی تھی، 150 سے اوپر تھی یا کم تھی۔ تو تین قسم کی قیمتیں ہو گئیں۔ امام صاحب کیا فرماتے ہیں، کون سی قیمت دی جائے گی اس صورت میں؟ جس دن خصومت ہوئی ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں، کون سی قیمت دیں گے؟ جس دن بازار سے وہ چیز ختم ہوئی ہے۔ ہاں، گھروں میں چاہے مل جاتی ہے، گھروں کی بات نہیں چل رہی، بازار میں اب دستیاب نہیں۔ تو جس دن بازار سے ختم ہو گئی، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ جس دن غصب کی تھی۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس دن والی قیمت آئے گی جس دن غصب کیا تھا۔ وہ فرماتے ہیں کہ دیکھیے، جب یہ مثلی چیز اس نے غصب کی، اس کے اوپر اسی عین کا لوٹانا ضروری تھا، پھر جب وہ مثلی چیز اس کے پاس ہلاک ہو گئی تو اب اس کا مثل دینا ضروری تھا، لیکن وہ مثلی چیز کا جب مثل کیا ہوا بازار سے ختم ہو گیا، تو اب یہ چیز ذوات القيم کے ساتھ مل گئی۔ اب یہ مثلی نہ اب اس میں قیمت آئے گی تو یہ کس قسم میں سے ہو گئی گویا؟ ذوات القيم میں سے ہو گئی اور ذوات القيم کے اندر تو بالاتفاق غصب والے دن کی قیمت آیا کرتی ہے، تو یہاں پر بھی کون سی قیمت آ جائے گی؟ غصب والے دن کی قیمت آ جائے گی بھئی۔ ان کی دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ ہم کہتے ہیں: نہیں، آپ نے کہا ذوات القيم میں سے ہو گئی اور ذوات القيم میں تو بالاتفاق غصب والے دن کی قیمت آیا کرتی ہے، ہم کہتے ہیں: نہیں بھئی، فرق ہے دونوں کے اندر۔ وہاں پر ذوات القيم ہلاک ہوتا تھا تو فوراً اس کی کیا آ جایا کرتی تھی؟ قیمت۔ لیکن یہاں فرق یہ ہے کہ یہاں اگر مثلی ہلاک ہوئی تو قیمت پہلے نہیں آئی بلکہ پہلے کیا آیا اس کا؟ مثل آیا۔ تو مثل پر جب تک وہ قادر ہے، مثل ہی دے گا۔ پھر چونکہ مثل بازار سے کیا ہو گیا ختم، تو اب کیا ہے؟ اب کیا کس کی طرف انتقال کریں گے ہم؟ مثل سے مجبوری کی وجہ سے اب بھئی کچھ مثل دینا تو ہے ہی، اب مثلِ صوری وہ تو تھا کامل، لیکن اب اس پر اب اس کی قدرت نہ رہی تو کون سے مثل کی طرف چلیں گے ہم؟ مثلِ قاصر کی طرف، اور وہ کیا ہے؟ قیمت۔ تو اب قیمت آئی۔ پھر یہ قیمت تو آ گئی، لیکن ابھی بھی اس یعنی یہ شخص اس کا مثل دینے سے عاجز آ گیا ہے، قیمت آ رہی ہے اس وجہ سے، لیکن اس عجز کا پتا نہیں ابھی ظہور نہیں ہوا، ہو سکتا ہے پھر دستیاب ہو جائے وہ چیز، ہو سکتا ہے بازار میں وہ چیز پھر دستیاب ہو جائے، ہاں قاضی کے پاس جب خصومت ہوگی، اس وقت اس کا عجز ظاہر ہو گیا کہ یہ واقعی کیا آ چکا ہے؟ عاجز آ چکا ہے، لہٰذا اس دن والی قیمت آ جائے گی۔ اس دن والی قیمت آ جائے گی، کیونکہ اس سے پہلے ٹھیک ہے بازار سے ختم ہوئی ہے، اس وقت اس کا عجز آ گیا، لیکن اس عجز کا ظہور کب ہوتا ہے؟ جب خصومت ہو، کیونکہ اس سے پہلے امکان ہے شاید وہ چیز پھر کیا ہو جائے؟ دستیاب، لیکن جب قاضی کے پاس چلے گئے اور قاضی نے فیصلہ کر دیا اور ابھی تک مثل دستیاب نہیں ہے تو فیصلے کے وقت کیا ہوا؟ اب اس کا عجز پوری طرح ظاہر ہو گیا کہ یہ شخص تو عاجز ہے، مثل نہیں دے سکتا بھئی، تو پھر کیا آ جائے گی اسی دن کی قیمت آ جائے گی۔ بات سمجھ میں آئی سب کو بھئی؟ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بھئی جس دن بازار سے وہ چیز ختم ہوئی ہے، اس دن والی قیمت آئے گی۔ کیوں؟ کہتے ہیں: اس لیے کہ اس سے پہلے تو مثل ہی دینا تھا، چیز کے ختم ہونے سے پہلے پہلے مثل دینا تھا، لیکن جس دن بازار سے ختم ہوئی ہے، اس دن اب وہ مثل پر قادر نہ رہا، مثل دینے سے عاجز آ گیا، تو انتقال کس کی طرف ہوا؟ قیمت کی طرف، لہٰذا اس دن کی قیمت معتبر ہے۔ ہم کہتے ہیں بھئی ٹھیک ہے، اس دن اس کا عجز آیا، لیکن عجز کا ظہور تو اس وقت نہیں ہے، عجز کا ظہور تو کب ہوگا؟ خصومت کے وقت ہوگا بھئی، اس سے پہلے عجز کا ظہور نہیں، امکان تو ہے شاید وہ چیز پھر کیا ہو جائے؟ دستیاب، لیکن جب قاضی کے پاس چلے گئے اور قاضی نے فیصلہ کر بھی دیا اور ابھی تک مثل دستیاب نہیں ہے، تو فیصلے کے وقت کیا ہوا؟ اب اس کا عجز پوری طرح ظاہر ہو گیا کہ یہ شخص تو عاجز ہے، مثل نہیں دے سکتا بھئی، تو پھر کیا آ جائے گی اسی دن کی قیمت آ جائے گی۔ بات سمجھ میں آئی سب کو بھئی؟ تو دیکھیے اب بھئی: "ولا يضمن المثلي بالقيمة" اور ضمان نہیں آئے گا مثلی کا قیمت کے ساتھ—ضمان نہیں دیا جائے گا مثلی کا قیمت کے ساتھ—"إذا انقطع المثل" جبکہ اس کا مثل منقطع ہو جائے، "إلا يوم الخصومة" مگر کس دن؟ خصومت کے دن۔ خصومت کے دن یہ نہیں جس دن قاضی کے پاس گیا ہے، میں نے بتلایا جس دن قاضی کیا کر دے؟ فیصلہ کر دے۔ "تفريع ثان لأبي حنيفة رحمه الله على قوله وهو السابق" یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی دوسری تفریع ہے ماتن کے قول "وهو السابق" پر، یعنی امام صاحب کی تفریع ماتن بیان کر رہے ہیں اپنے قول "وهو السابق" پر بھئی، کہ مثلِ کامل کیا ہے؟ مقدم ہے۔ اس پر امام صاحب کی دوسری تفریع ذکر کر رہے ہیں۔ "يعني إذا غصب شخص من آخر مثليا" یعنی جب غصب کیا کسی ایک شخص نے دوسرے سے مثلی چیز کو، "ثم انقطع مثله" پھر وہ اس کی مثل منقطع ہو گئی، ختم ہو گئی، "وانصرم عن أيدي الناس" اور ختم ہو گئی لوگوں کے ہاتھوں سے—منقطع ہوئی اس کی مثل اور ختم ہو گئی لوگوں کے ہاتھوں سے—"فلا جرم تجب قيمته" فلا جرم، تو یقیناً فلا جرم کا معنیٰ ہے یقیناً۔ "فلا جرم تجب قيمته" تو یقیناً پھر اس کی قیمت واجب ہوگی۔ "فقال أبو حنيفة رحمه الله: لا يضمن هذا المثلي بالقيمة إلا بقيمة يوم الخصومة" امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ضمان نہیں دیا جائے گا اس مثلی کا قیمت کے ساتھ "إلا بقيمة يوم الخصومة" مگر خصومت والے دن کی قیمت کے ساتھ، "لأنه ما لم تقع الخصومة يحتمل أن يقدر على المثل الصوري" اس لیے کہ جب تک خصومت واقع نہیں ہوتی، یہ احتمال ہے کہ یہ شخص قادر ہو جائے مثلِ صوری پر، شاید کیا ہو یہ مثلِ صوری پر قادر ہو جائے، اور مثلِ صوری کیا ہے؟ مثلِ کامل ہے، اور قیمت کیا ہے؟ مثلِ قاصر ہے، اور کیا مقدم ہوتا ہے؟ مثلِ صوری، یعنی مثلِ کامل مقدم ہوتا ہے، یہی بیان کر رہے ہیں کہ شاید یہ قادر ہو جائے مثلِ صوری پر، "وهو مقدم على المثل المعنوي" اور یہ مثلِ صوری جو ہے مقدم ہے کس پر؟ مثلِ معنوی پر، "فإذا وقعت الخصومة فحينئذ لا بد أن يأخذ المالك الضمان" پس جب خصومت واقع ہو جائے تو اس وقت ضروری ہے مالک کے لیے ضمان لینا—بھئی جب قاضی نے فیصلہ کر دیا اب تو مالک کے لیے ضمان اس کو دینا ہی پڑے گا بھائی—"فيقدر الضمان بقيمة يوم الخصومة" تو مقرر کیا جائے گا ضمان خصومت والے دن کی قیمت کے ساتھ۔ "وعند أبي يوسف رحمه الله تعتبر قيمة يوم الغصب" امام امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک غصب والے دن کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا، "لأنه لما انقطع المثل التحق بما لا مثل له من ذوات القيم" اس لیے کہ جب اس چیز کا مثل منقطع ہو گیا، اب ملتا ہی نہیں ہے، "فالتحق" یہ چیز مل گئی "بما لا مثل له" ان چیزوں کے ساتھ جن کا مثل نہیں ہوتا، "من ذوات القيم" یعنی کے ذوات القيم کے ساتھ یہ مل گئی—یہ "من" بیانیہ ہے "ما" کا بھائی—یعنی کے وہ چیزیں جن کا مثل نہیں ہوتا، وہ کیا ہیں بھئی؟ یعنی کے ذوات القيم، ان کے ساتھ مل گئی، یعنی یہ بھی ذوات القيم میں سے ہو گئی، "وفيها تجب قيمة يوم الغصب بالاتفاق" اور اس کے اندر تو بالاتفاق غصب والے دن کی قیمت واجب ہوتی ہے۔ "قلنا" ہم کہتے ہیں: "الأصل ثَمَّ" 'ثَمَّ' اس میں اشارہ ہے، یاد رکھیے۔ ثَمَّ جیسے ایک 'ثُمَّ' ہے نا، اسی طرح 'ثَمَّ' ہے۔ ثُمَّ تو حرفِ عطف ہے، لیکن ثَمَّ اسمِ اشارہ ہے بعید کے لیے، کبھی اس کے ساتھ 'ہا' بھی ملا دیتے ہیں جیسے اس وقت ملی ہوئی ہے بھئی، 'ہا' ملائیں گے، کبھی ملاتے ہیں اور کبھی نہیں ملاتے بھئی، تو 'ہا' ملا دیتے ہیں وقف کے لیے۔ تو "قلنا" ہم کہتے ہیں: "الأصل ثَمَّ" سمجھ میں آیا؟ 'ثَمَّ' کیا ہے؟ اسمِ اشارہ۔ میں کہتا ہوں: "ثَمَّ زيدٌ"، کیا معنیٰ؟ وہ زید ہے، جیسے "ذلك زيدٌ"، یہ بھی اسی طرح ہے بھئی۔ "قلنا الأصل ثَمَّ كان رد الأصل" ہم کہتے ہیں: اصل وہاں پر، وہاں پر بھی "كان رد الأصل"، اصل ہی کو لوٹانا تھا۔ کس کو لوٹانا تھا؟ اصل ہی کو لوٹانا تھا۔ بھئی دیکھیے نا، کوئی چیز غصب کی جائے تو عین ہی وہی چیز واپس کرنا کیا ہوتی ہے؟ ضروری۔ پھر جب وہ ختم ہو وہ ہلاک ہو جائے تو پھر ذوات القيم میں سے ہو تو قیمت دینی پڑے گی اور مثلیات میں سے ہو تو مثل دینا پڑے گا۔ اور پھر اگر مثل منقطع ہو گیا تو پھر کیا دینی پڑے گی؟ قیمت۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دیکھو، یہ بھی کس میں سے تھی؟ مثلیات میں سے تھی، لیکن جب یہ اس بازار سے منقطع ہو گئی، مل نہیں رہی، تو اس صورت میں یہ کس میں سے بن گئی؟ ذوات القيم میں سے بن گئی، اور ذوات القيم میں تو بالاتفاق کیا آیا کرتی ہے؟ غصب والے دن کی قیمت آتی ہے، تو یہاں بھی کون سی آئے گی؟ غصب والے دن کی قیمت۔ تو اب فرق بیان کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں: نہیں بھئی، یہ ذوات القيم کی طرح نہیں ہے۔ کہتے ہیں: "قلنا الأصل ثَمَّ كان رد الأصل" کہ اصل جو ہے وہاں اس کے اندر بھی وہ اصل ہی کو لوٹانا تھا، "وإذا عجز عنه بالاستهلاك" اور جب وہ عاجز اصل وہاں پر... ہاں، یہ وہاں اس سے اشارہ ہے ذوات القیم کی طرف اشارہ ہے کہ اصل وہاں ذوات القیم کے اندر بھی کیا تھا؟ رد الأصل، اس اصل ہی کو لوٹانا، اس عین شے ہی کو لوٹانا تھا- "وإذا عجز عنه بالاستهلاك" اور جب غاصب عاجز آ گیا اس سے اس کے لوٹانے سے بالاستہلاک، کس وجہ سے؟ اس کو ہلاک کرنے کی وجہ سے، "فتجب قيمة ذلك اليوم"، تو اس دن کی قیمت کیا ہو جاتی ہے؟ یہ کس کی بات چل رہی ہے؟ ذوات القیم، ذوات القیم میں اصل کیا تھا؟ عین شے کو لوٹانا اور جب وہ ہلاک ہو گئی اور وہ اس کے واپس کرنے پر قادر نہ رہا، تو اب کیا واجب ہو جائے گی اس پر؟ کون سے دن کی قیمت؟ جس دن غصب کیا تھا، اس دن والی قیمت واجب ہو جائے گی۔ تو ذوات القیم میں مسئلہ یوں ہے اور ذوات الأمثال میں کس طرح ہے؟ وہ آگے بیان کرنے لگے ہیں۔ "وها هنا الأصل أيضاً رد العين"، اور یہاں پر بھی اصل اس عین ہی کو لوٹانا ہے۔ مثلیات میں بھی اصل کیا ہے؟ عین، جب تک وہ چیز موجود ہے، خود ابھی ہلاک نہیں ہوئی تو اسی کو لوٹائے گا۔ "وإذا عجز عنها يجب رد المثل"، اور جب اس چیز سے عاجز آ جاتا ہے تو پھر کیا دینا پڑتا ہے؟ اس کا مثل لوٹانا واجب ہوتا ہے۔ تو فرق آیا بھئی، وہاں تو براہِ راست ہی فوراً کیا آ جایا کرتی تھی؟ قیمت، اور یہاں براہِ راست فوراً قیمت نہیں آتی بلکہ کیا آتا ہے پہلے؟ مثل آتا ہے۔ "فإذا عجز عن المثل"، پس پھر جب یہ مثل سے بھی عاجز آ جائے "وظهر عند القاضي"، اور پھر اس عجز کا ظهور، یہ عجز ظاہر بھی ہو جائے قاضی کے پاس، "فتجب عليه قيمة ذلك اليوم"، تو اس شخص پر اس دن کی قیمت کیا ہوگی؟ واجب ہوگی۔ فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ وہاں پر اس چیز کے ہلاک کرتے ہی فوراً کس کی طرف رجوع کرنا پڑتا تھا؟ قیمت کی طرف، یہاں فوراً رجوع قیمت کی طرف نہیں ہوتا بلکہ پہلے مثل اس پر ضروری ہوتا ہے، مثل دے اس کا لا کر، اور مثل مل جاتا ہے۔ ہاں کبھی ایسا ہو جائے منقطع ہو جائے، تو پھر یہ عاجز ہوا اس مثل دینے سے اور اب ہمیں قیمت کی طرف جانا پڑے گا، لیکن ابھی بھی نہیں، ہو سکتا ہے پھر وہ قادر ہو جائے۔ تو یہ عاجز تو ہے لیکن عجز کا ابھی ظہور نہیں ہوا، ہاں ظہور کہاں پر جا کر ہوگا؟ قاضی جب فیصلہ کر دے گا اب ظہور ہو گیا، قاضی نے فیصلہ کر دیا ہے، اب تو ضمان دینا ہی ہے، مثل مل نہیں رہا، اب دینی کیا پڑے گی؟ قیمت، تو اس بناء پر اس کا عجز ظاہر ہوا تو اسی دن کی قیمت دے گا۔ "وعند محمد رحمه الله"، اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک "تجب عليه قيمة يوم الانقطاع"، اس پر واجب ہوگی بھئی اس چیز کے منقطع ہونے دیک، کے دن کی قیمت، "لأن العجز"، "لأن العجز عن الأصل إنما يتحقق في هذا اليوم"، اس لیے کہ اصل سے عاجز ہونا یہ تو اسی دن میں پایا گیا ہے۔ اس سے پہلے تو کیا دینا تھا اس نے؟ مثل دینا تھا۔ تو اب مثل سے عجز کس دن پایا گیا؟ جس دن وہ چیز بازار سے، جب بازار سے ختم ہوئی تو اب یہ مثل دینے پر قادر نہ رہا، تو اب انتقال کس کی طرف ہوگا؟ قیمت کی طرف، تو اس دن چونکہ انتقال ہوا ہے لہذا اس دن کی قیمت کا اعتبار ہے۔ "قلنا"، ہم جواب کہتے ہیں: "نعم"، ہاں آپ کی بات ٹھیک ہے، اس دن کیا ہے؟ یہ شخص کیا قیمت، مثل دینے سے عاجز آ گیا، یہ بات آپ کی ٹھیک، "ولكن يظهر ذلك العجز وقت الخصومة"، لیکن یہ عجز ظاہر کس وقت ہوگا؟ خصومت کے دن کے وقت ظاہر ہوگا۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ "ثم إنه لما نشأت من هذا كله مقدمة"، بھئی یہ اگلے آنے والے متن کے لیے تمہید ہے بھئی۔ اس پر اصل میں اگلے آنے والے متن میں، کا تعلق ماقبل سے بنتا نہیں بھئی۔ ماقبل میں تو تھا امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اسی وجہ سے یہ فرمایا ہے، کس وجہ سے؟ کہ مثلِ کامل کیا ہوتا ہے؟ مقدم ہوتا ہے مثلِ قاصر پر۔ اسی وجہ سے امام صاحب نے یہ فرمایا دو تفریعات ان کی ذکر کر دیں بھئی۔ آگے کچھ اور باتیں ذکر کریں گے، وہ بتلانے لگے ہیں، ان کا، وہ تو تفریعات نہیں ہے بھئی، وہ الگ ضابطے پر تفریعات ہیں، تو اس کے لیے مقدمہ بتا رہے ہیں بھئی۔ تو بظاہر ربط نہیں بن رہا تھا، تو شارح نے، شارح اب آپ کو بتائیں گے کہ یہاں پر ایک مقدمہ حاصل ہوا، پچھلی ساری باتوں سے ایک مقدمہ ہمیں حاصل ہوا۔ اور وہ مقدمہ یہ ہے کہ ضمان صرف اس وقت واجب ہوا کرتا ہے جب چیز کا مثل بھی ممکن ہو، جب چیز کا ضمان اسی وقت آئے گا جب مثل ملتا ہو، اگر مثل ملتا ہی نہیں ہے تو ضمان بھی نہیں آئے گا، کیونکہ ضمان میں دینا ہی مثل ہے ہم نے، اور جب مثل ہی نہیں ملتا تو کس چیز کا، کیا ضمان دے گا بھئی؟ کیا ضابطے، کس ضابطے پر اگلے مسائل نکالیں گے؟ کہ ضمان صرف کس وقت آیا کرتا ہے؟ جب چیز کا کوئی مثل ہو، کیونکہ ضمان میں اس کا مثل دیا جاتا ہے، اور جس چیز کا کوئی مثل ہی نہ ہو وہاں ضمان सिरे سے آئے گا ہی نہیں، ضمان کیا دو گے کیا بھئی؟ اس کا مثل ہی نہیں ہے تو کیا دیں گے؟ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو بتلا رہے ہیں، پچھلی ساری باتوں سے یہ ایک مقدمہ ہمیں حاصل ہوا، یہ ایک قانون اور ضابطہ ہمیں حاصل ہو گیا کہ ضمان صرف اس چیز کا آتا ہے جس کا مثل ہوا کرے، ورنہ اس کا ضمان نہیں آیا کرتا، اور پھر اس پر آگے تین تفریعات ذکر کریں گے بھئی۔ کتنی تفریعات ذکر کریں گے؟ تین تفریعات۔ سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا چونکہ اگلے آنے والے متن پر اعتراض ہوتا تھا کہ یہ تو ماقبل کے قانون پر تفریعات نہیں ہیں، تو چنانچہ ماتن نے، شارح نے بتلایا کہ ہاں بھئی یہ اس قانون پر تفریع نہیں ہے کہ "وهو السابق" کہ مثلِ کامل کیا ہوتا ہے؟ سابق، اس پر تفریعات نہیں ہیں بلکہ یہاں ماقبل کی ساری باتوں سے ایک مقدمہ حاصل ہوا، اور وہ مقدمہ یہ ہے کہ بھئی ضمان صرف اس چیز میں آیا کرتا ہے جس کا مثل ممکن ہو، جس کا مثل ممکن نہیں وہاں ضمان بھی نہیں آیا کرتا بھئی، ضمان نہیں آیا کرتا۔ پھر اس قانون اور اس ضابطے پر اگلی تفریعات ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ماتن نے یہ ذکر نہیں کیا تھا، تو بظاہر اشکال ہوتا تھا اس کا جواب دے دیا بھئی۔ "ثم إنه لما نشأت من هذا كله مقدمة"، پھر جب پیدا ہوا اس سارے سے ایک مقدمہ، اس سارے پچھلے سے کیا ہوا؟ ایک مقدمہ پیدا ہوا، "وهي"، اور وہ یہ ہے: "إن الضمان"، 'إنَّ' پڑھنا اس کو بھئی، 'أنَّ' نہیں بنتا یہاں، اس لیے کہ یہ مقدمہ ہے، یہ 'إنَّ' سے کیا شروع ہو رہا ہے؟ مقدمہ ہے، ضابطہ حاصل ہوا بھئی، اور ضابطہ کیا ہے؟ جملہ ہوگا یا ادھورا کلام ہوگا؟ جملہ ہوگا، اور جملے پر 'إنَّ' آتا ہے یا 'أنَّ' آتا ہے؟ 'إنَّ' آتا ہے، کیا آتا ہے؟ 'إنَّ'۔ تو یہ مقدمہ ہے جو 'إنَّ' سے شروع ہو رہا ہے۔ دیکھیے یہ، "وهي إن الضمان لا يجب إلا عند وجود المماثلة سواء كانت كاملة أو قاصرة صورة أو معنى"، یہ ہے وہ مقدمہ، یہ ہے وہ، تو عبارت کس طرح پڑھنی ہے؟ "وهي إن الضمان"، سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ یہ مقدمہ ہے، میں نے وجہ بتلا دی، اور مقدمہ کیا ہے؟ پورا جملہ ہوگا، جب پورا جملہ ہے تو پورا جملہ 'إنَّ' کی صورت میں بنتا ہے، 'أنَّ' کی صورت میں نہیں بنتا، تو اس کو 'إنَّ' پڑھنا۔ اس پر آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا بھئی، یہ تو وسطِ جملہ میں آ گیا، یہ تو خبر بن رہا ہے 'هي' کے لیے، تو یہ خبر کے مقام میں آیا اور خبر کے مقام میں 'إنَّ' نہیں پڑھتے بلکہ کیا پڑھتے ہیں؟ 'أنَّ'۔ بھئی یہاں لفظ مراد ہے، کیا مراد ہے؟ مراد اللفظ ہے بھئی، لفظ مراد ہیں، یہ لفظوں کی تاویل میں ہے، ترجمہ نہیں کریں گے، یوں ہوگا: اس سارے سے ایک مقدمہ حاصل ہوا اور وہ مقدمہ یہ ہے: "إن الضمان لا يجب إلا عند وجود المماثلة سواء كانت كاملة أو قاصرة صورة أو معنى"، یہ مقدمہ حاصل ہو، یہ ہے وہ مقدمہ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لفظ مراد ہیں، مثلاً آپ خود بھی کرتے ہیں بھئی، اور کتابوں میں بھی عبارتیں آتی ہیں، مثلاً کہتے ہیں: کیا کہتے ہیں؟ "نحو زيد قائم"، جملے کی مثال دیتے ہوئے کتاب والا کیا لکھتا ہے مثلاً؟ "نحو زيد قائم"۔ اب دیکھیے، "زيد قائم"، یہاں ترجمہ نہیں کریں گے، یوں کہیں گے: 'نحو' مضاف، "زيد قائم" مراد اللفظ، یہ لفظ مراد ہیں بھئی، جملے کی مثال دے رہا ہے، تو یہ کہیں گے: "زيد قائم"، یہ کس کی مثال ہے؟ جملے کی۔ ہاں اگر معنیٰ کا ارادہ ہو وہ بعد میں کیا جاتا ہے، چلیے یہ تو نحو کی گہری بات ہے، چلیے بس یہ آپ یاد رکھیے کہ یہ کیا ہے؟ یہاں پر کیا پڑھیں گے؟ 'إنَّ' پڑھیں گے، اور ترجمہ ترکیب کے اعتبار سے نہیں ہوگا، بس 'هي' مبتدا، اور 'إن الضمان' یہ پورا جملہ کیا ہے اس کی؟ خبر۔ ہاں اگر ترجمے کا ارادہ ہو پھر 'إن الضمان' کا الگ سے ترجمہ کرنا پڑے گا۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ کہتے ہیں: "وهي إن الضمان لا يجب إلا عند وجود المماثلة"، اور وہ یہ ہے کہ ضمان جو ہے، جی، ضمان جو ہے وہ واجب نہیں ہوتا مگر جس وقت مماثلت پائی جائے، "سواء كانت كاملة أو قاصرة"، برابر ہے کہ وہ کامل ہو یا قاصر ہو، وہ مماثلت چاہے کامل ہو یا قاصر ہو، "صورة أو معنى"، صورتاً ہو مماثلت یا معناً۔ "وفرع عليها المصنف ثلاث مسائل"، اور تفریع کی ہے اس کا، مقدمے پر مصنف نے تین مسائل بھئی، کی تفریع کی ہے، "على طبق مذهبه"، اپنے مذہب کے مطابق، "مخالفاً للشافعي رحمه الله"، امام شافعی رحمہ اللہ کے مخالف بھئی، "وإن لم تكن تلك المقدمة مذكورة في المتن"، اگرچہ وہ مقدمہ متن میں مذکور نہیں ہے، لیکن یہ سمجھ میں آ رہا تھا اور اسی پر پھر کیا کر دیں؟ اگلی تفریعات کر دیں۔ "فقال"، تو ماتن فرماتے ہیں: "وقلنا جميعاً"، ہم سب اور ہم سب نے کہا، ہم سب نے کہا ہے، اسی وجہ سے ہم سب نے کہ "المنافع لا تضمن بالإتلاف"، کہ منافع جو ہیں ان کا ضمان نہیں دیا جائے گا بالإتلاف، ان کو تلف کر دینے کی وجہ سے۔ منافع کو تلف کر دینے کی وجہ سے ان کا ضمان نہیں دیا جائے گا۔ کہتے ہیں: "وهو عطف على قوله قال أبو حنيفة رحمه الله"، یہ عطف ہے بھئی ماتن کا قول بھئی، پچھلے صفحے پر آیا تھا "وعلى هذا قال أبو حنيفة"، تو یہ "قال أبو حنيفة" پر عطف ہے، تو "على هذا" کے تحت آ گیا، اور اسی وجہ سے "قلنا جميعاً"، ہم سب نے کہا ہے، ہم سب سے کیا مراد ہے؟ یعنی ہمارے تینوں ائمہ، اسی وجہ سے ہمارے تینوں ائمہ نے کہا ہے کہ "المنافع لا تضمن بالإتلاف"، کہ منافع جو ہیں وہ مضمون بالاتلاف وہ مضمون نہیں ہوں گے تلف کر دینے کی وجہ سے۔ تو کہتے ہیں: "وهو عطف على قوله قال أبو حنيفة"، اور یہ عطف ہے ماتن کے قول "قال أبو حنيفة" پر، دیکھا! "على هذا" کے تحت ہے نا، پچھلے متن میں کیا آیا تھا؟ "وعلى هذا"، تو کیا معنیٰ تھا "على هذا"؟ اسی وجہ سے، اس کو بھی دیکھو ساتھ جوڑ رہے ہیں، "أي ومن أجل"، اسی وجہ سے "أن ما لا يعقل له مثل"، کہ وہ چیز کہ جس کا مثل، جس کے لیے کوئی مثلِ معقول نہ ہو، "أن ما لا يعقل له مثل"، یعنی اس وجہ سے کہ وہ چیز کہ معقول نہ ہو جس کا مثل، یعنی عقل میں نہ آتا ہو جس چیز کا مثل، "لا يضمن شرعاً"، وہ مضمون نہیں ہوگی شرعاً، شرعاً اس کا ضمان نہیں آئے گا۔ تو اس وجہ سے، دوبارہ سنو، اس وجہ سے کہ وہ چیز جس کا کوئی مثلِ معقول نہ ہو اس کا، وہ چیز شرعاً مضمون نہیں ہوگی، اسی وجہ سے "قلنا جميعاً"، ہم سب نے کہا ہے، یعنی ابا حنیفۃ و ابا یوسف و محمداً رحمہم اللہ، یعنی کے ہم سب سے کیا مراد ہے؟ یعنی کہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ، امام محمد رحمہ اللہ، "بخلاف الشافعي"، بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، ہم سب نے یہ کہا ہے کہ "لا يضمن"، جی؟ آپ کی کتابوں میں کیا ہے؟ "لأنه"؟ نہیں، "لأنه" نہیں بھئی، "لا يضمن"، اوپر متن بھی تو دیکھو، "لا تضمن" ہے نا؟ جی، تو نفی کے ساتھ ہونا چاہیے، "لأنه" نہیں ہے، 'لا' ہے 'لا'۔ تینوں ائمہ فرماتے ہیں: "لا يضمن منافع ما غصبه رجل بالإتلاف"، کہ مضمون نہیں ہوں گے منافع اس چیز کے "غصبه رجل"، جسے جس کس نے شخص نے غصب کر لیا ہو، تو اس چیز کے منافع وہ مضمون نہیں ہوں گے بالإتلاف، تلف، تلف کر دینے کی وجہ سے، "وكذا بالإمساك"، اور اسی طرح روک دینے کی صورت میں بھی۔ ایک تو ہے تلف کر دیے، خود گاڑی چلاتا رہا، آپ کا جانور گھوڑا ہے، اس نے غصب کر لیا تھا، خود اس پر کیا کرتا رہا؟ سوار، یا دوسری صورت ہے امساک، صرف اس کو روک کے رکھا ہے اپنے پاس بند کر کے، خود بھی نہیں سواری کی اور آپ کو بھی سواری نہ کرنے دی۔ بھئی دیکھیے، یہاں سے مسئلہ یہ بیان کریں گے کہ منافع کا ضمان نہیں آیا کرتا بھئی، چاہے استہلاک ہو چاہے ہلاک ہو۔ استہلاک کسے کہتے ہیں؟ خود ہلاک کرنا، اور ہلاک کا کیا معنیٰ؟ جو ہلاک ہو جائے بھئی، اس شخص کا اس میں دخل نہیں ہے غاصب کا۔ تو منافع کے اندر چاہے استہلاک کرے چاہے ہلاک کرے، دونوں صورتوں میں ضمان نہیں آئے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ مثلاً صورت اس کی ذکر کریں گے کہ دیکھ بھئی ایک شخص نے دوسرے کا گھوڑا غصب کر لیا اور پھر بعد میں 10 دن بعد واپس کیا، اس 10 دن کے دوران یا تو اس نے گھوڑے کو اپنے گھر میں بند رکھا، نہ خود سوار ہوا نہ دوسرے کو، مالک کو سواری کے لیے دیا، اور یا دوسری صورت یہ ہے کہ خود باقاعدہ اس پر کیا کرتا رہا؟ سواری کرتا رہا، کچھ منزلیں اس پر طے کیں یعنی کچھ سفر بھی اس پر کیا۔ تو اب کیا اس کا ضمان آئے گا یا نہیں؟ ہمارے فقہاء فرماتے ہیں اس کا ضمان نہیں آئے گا بھئی، اس کا ضمان نہیں آئے گا، نہ اس کا ضمان منافع بن سکتے ہیں نہ مال بن سکتا ہے، پیسے بن سکتے ہیں۔ منافع کا ضمان منافع کو بنائیں کس طرح؟ کہ اس نے آپ کے گھوڑے پر 10 دن سواری کی ہے تو بدلے میں اس کا گھوڑا آپ کو دے دیا جائے اور آپ اس پر 10 دن تک سواری کریں۔ تو اب یہاں پر منافع کا ضمان کس چیز کو بنایا گیا؟ منافع کو بنایا گیا، کہتے ہیں یہ بھی نہیں ہو سکتا، اور منافع کا ضمان مال کو بنائیں کہ آپ اس کو، وہ آپ کو اتنے دن کے کرائے کے اعتبار سے پیسے دے دے، کہتے ہیں نہیں، مال کو بھی منافع کا ضمان نہیں بنایا جا سکتا اور منافع کو بھی منافع کا ضمان نہیں بنایا جا سکتا بھئی۔ کیوں نہیں بنایا جا سکتا؟ خود ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں دیکھیے: "لأنه لو ضمن بالمنافع"، اگر یہ ضامن ہو منافع کے ساتھ، "لكان بأن يركب المالك دابة الغاصب قدر ما ركب الغاصب"، تو بعین طور ہوگا کہ سواری کرے گا مالک غاصب کے جانور پر اسی مقدار میں جس قدر سوار ہوا تھا غاصب، اتنی مقدار سواری کر لے گا، "أو يحبسه قدر ما حبسه الغاصب"، یا اسے قید میں رکھے گا جس قدر مقدار غاصب نے اسے قید میں رکھا تھا، "وذالك باطل"، اور یہ باطل ہے، یعنی منافع کو منافع کا ضمان بنانا باطل ہے، "للتفاوت بين راكب وراكب وبين سير وسير وحبس وحبس"، بوجہِ فرق ہونے کے درمیان ایک سوار اور دوسرے سوار کے، اور ایک سیر اور دوسری سیر کے، اور ایک قید اور دوسری قید کے۔ ایک سوار بھی دوسرے سوار جیسا نہیں، ایک چلنا بھی دوسرے چلنے جیسا نہیں، ایک قید بھی دوسری قید جیسی نہیں۔ بھئی دیکھیے، آپ اگر آپ کو آپ منافع کو منافع کا ضمان بناتے ہیں تو اس کی صورت انہوں نے یہ ذکر کی کہ مثلاً اس سے گھوڑا لے کر آپ کو دے دیا جائے کہ اس نے اتنی سواری کی ہے آپ بھی اس پر کیا کر لیں؟ سواری کر لیں، تو بھئی یہ سواری اس سواری کے مثل تو نہیں ہو سکتی، کیونکہ سوار سوار میں فرق ہوتا ہے، ایک شخص ہے وہ سواری کرنا جانتا ہے، تو وہ جانور کو آرام سے چلائے گا، مہارت کے ساتھ چلائے گا، اور ایک شخص کو گھوڑے پر سواری آتی ہی نہیں ہے، تو یقیناً اسے چلانے کا طریقہ نہیں آتا، وہ اس کے بیٹھنے سے جانور کو تکلیف ہوگی۔ کیا ہوگی؟ تو دیکھو ایک سیر دوسری سیر جیسی نہیں، یا ایک کم ماہر ہوگا ایک زیادہ ماہر ہوگا، تو بہرحال ایک سوار دوسرے سوار کی طرح نہیں، دونوں میں فرق ہوگا بھئی، نیز اسی طرح ایک چلنا بھی دوسرے چلنے کی طرح نہیں، ہو سکتا ہے اس نے تیز چلایا ہو آپ آہستہ چلائیں، یا ہو سکتا ہے آپ بھی تیز چلائیں لیکن اس سے زیادہ تیز چلائیں بھئی، یا اس نے احتیاط سے چلایا ہو آپ سختی سے چلائیں۔ یا اس نے سختی سے چلایا ہو آپ احتیاط سے چلائیں تو ایک سیر بھی دوسری سیر کی طرح نہیں۔ نہیں ہے۔ و حبس و حبس اور ایک قید بھی دوسری قید کی طرح نہیں۔ ایک قید ہو سکتا ہے اس نے سختی اس کے ساتھ رکھا ہو جانور کو کھلاتا پلاتا بھی کم ہو اور آپ اس کے جانور کو رکھیں ہو سکتا ہے آپ کیا کریں؟ کم کھلائیں یا زیادہ۔ تو بہرحال جتنا بھی کریں وہ اس کی طرح ایک دوسرے کے مثل نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو لہذا معلوم ہوا منافع و منافع کا زمان قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہاں مساوات نہیں ہو سکتی۔ اچھا مال کہتے ہیں اگر مال کو اس کا بدل بنا دیا جائے جیسے کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بھئی دیکھو اجارہ کے اندر کیا ہوتا ہے؟ کرائے پر کوئی چیز لی جائے تو اس نے جتنی دیر استعمال کی ہے جتنے منزل اس پر سفر کیا ہے اتنی منزل کا جتنا عرف میں کرایہ بنتا ہے اس جانور کا وہ کرایہ اس سے لے لیا جائے گا۔ ہم کہتے ہیں نہیں بھئی کرایہ نہیں لیا جائے گا۔ کیونکہ یہ تو آپ نے منافع کا بدل مال کو بنا دیا۔ حالانکہ منافع کا منافع کی کوئی قیمت نہیں۔ آپ نے منافع کا بدل کس کو بنا دیا؟ مال کو بنا دیا۔ حالانکہ منافع کی کوئی قیمت نہیں۔ کیسے قیمت نہیں ہے؟ یہ سمجھ لو بھئی۔ دیکھو قیمت اس چیز کی ہوا کرتی ہے جس میں کچھ بقا ہو۔ کچھ رہے تو صحیح بھئی پھر قیمت کی بات تب کریں گے۔ ایک چیز رہتی نہیں ہے۔ ایک لمحے میں ختم اگلے لمحے میں نہیں، ایک لمحے اگلے لمحے میں نہیں بھئی۔ منافع کے اندر بقا نہیں ہے بھئی۔ کوئی بھی نفع ایک لمحے، ایک لمحہ جو منافع ہیں وہ اگلے لمحے میں ختم۔ اگلے لمحے میں نئے منافع آ گئے۔ اس سے اگلے لمحے میں نئے منافع آ گئے پچھلے ختم۔ تو منافع کے اندر بقا ہی نہیں ہے۔ ہر ہر آن کے اندر نئے منافع آ رہے ہیں اور پچھلے منافع فنا ہوتے جا رہے ہیں بھئی۔ آپ خود دیکھ لیں بھئی۔ بھئی آپ کا ایک مکان ہے آپ کرایہ پر دیتے ہیں ایک سال کے لیے۔ آپ یوں کر سکتے ہیں پورا سال کرایہ پر نہ دو اور اس سال کی اس کے سارے منافع یعنی رہائش اکٹھی کر لو۔ اگلے سال اکٹھی دے دینا۔ جی۔ بھئی اس کو کہنا بھئی یہ پچھلے سال اس میں کسی نے رہائش نہیں رکھی وہ رہائش میں نے ساری جمع کی ہے آپ کیا کریں اس میں اب؟ ایک سال رہیں گے لیکن کرایہ دو سال کا دینا پڑے گا پچھلے سال والی بھی ساری میں نے اکٹھی کر دی ہے۔ اکٹھی ہو سکتی ہے رہائش؟ نہیں رہائش بھی ہر ہر آن ہر ہر دن کی رہائش بدل رہی ہے۔ جوں جوں دن گزر رہے ہیں رہائش فنا ہوتی جا رہی ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا مکان کے منافع کیا ہوتے جا رہے ہیں؟ آج کی جو رہائش ہے وہ آج ہے۔ اگلا دن آیا یہ رہائش گزر گئی یہ نئی رہائش آ گئی۔ تو نیا نفع آ گیا۔ اسی طرح جانور کی سواری ہے آپ کا جانور ہے بھئی۔ آپ اس کو مہینے تک باندھ کے رکھیں بھئی۔ اس کے ایک مہینے کی ساری سواری اکٹھی کر لیں۔ پھر جب کسی کو دیں تو اس کو کہیں یہ سارا مہینہ میں نے سواری نہیں کی۔ یہ سارے مہینے کی سواری اکٹھی کر کرائے پر تمہیں دیتا ہوں۔ سارے مہینے کا کرایہ دینا پڑے گا۔ کوئی لے گا آپ سے؟ نہیں، وہ تو منافع وہ گزر گیا بھئی وقت گزر گیا تو وہ منافع بھی کیا ہوئے؟ گزر گئے۔ تو منافع کے اندر بقا نہیں ہے۔ ایک لمحے کے اندر جو منافع ہیں اگلے لمحے میں ختم، نئے منافع آ گئے۔ تو ہر ہر آن منافع کے اندر کیا ہے؟ نئے نئے منافع آ رہے ہیں اور پچھلے کیا ہوتے جا رہے ہیں؟ فنا ہوتے جا رہے ہیں۔ تو بھئی یہ قیمت نہیں ہے اس کی۔ کیونکہ قیمت تو اس چیز کی ہوا کرتی ہے جس کو کیا جا سکے جو کچھ مدت باقی تو رہے۔ ایک چیز باقی نہیں رہتی تو قیمت کہاں سے مقرر کرتے ہو؟ ایک لمحے میں آئی اگلی لمحے میں گزر گئی بھئی۔ اگلے لمحے میں نئی آئی پھر وہ بھی گزر گئی بھئی۔ تو جس میں بقا ہی نہیں ہے۔ تو قیمت کہاں سے آئے بھئی؟ قیمت سمجھ میں آیا۔ تو قیمت تو اس چیز کی ہوا کرتی ہے جس کو انسان محفوظ رکھ سکے۔ آپ کے پاس کتاب ہے، آپ کے پاس قلم ہے، آپ کے پاس کوئی اور سامان ہے آپ اس کو محفوظ رکھتے ہیں جتنی دیر تک محفوظ رکھنا چاہیں رکھ سکتے ہیں۔ اس کی قیمت ہوا کرتی ہے جس چیز میں کیا ہو؟ جس میں بقا ہو اور جس کو انسان کیا کر سکے؟ جس کو محفوظ رکھ سکے بھئی۔ جس کو کیا جس میں کیا ہو بقا ہو اور اس کے اندر احراز ہو سکے یعنی اسے محفوظ کر سکے تو اس کی قیمت ہوا کرتی ہے۔ اور منافع میں احراز ہے آپ جمع کر سکتے ہیں سارے سال کی رہائش یا سارے مہینے کی سواری؟ جی جمع نہیں۔ تو جب اس میں احراز نہیں۔ جمع نہیں کر سکتے کیونکہ اس میں بقا ہی نہیں ہے تو لہذا اس کی کوئی قیمت بھی نہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اس پر آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا۔ کہ بھئی اجارہ کے اندر تو منافع پر ہی بات ہوتی ہے۔ اجارہ آپ گاڑی کسی کو کرایہ پر دیتے ہیں اور ایک گھنٹے کے اندر کیا کرتے ہیں؟ ایک گھنٹے کا مثلا پانچ سو روپیہ اس سے لیتے ہیں بھئی۔ تو یہ تو کیا ہوا؟ کس کے پیسے وصول کیے۔ منافع کے پیسے وصول کر رہے ہیں منافع کے پیسے بھئی۔ اور ابھی آپ کہہ رہے تھے منافع کی کوئی قیمت نہیں۔ اب یہاں پر آپ کیا کہہ رہے ہیں کہ منافع کی قیمت ہے۔ وجہ یہ مولانا کہ یہاں پر منافع کی اجازت دی گئی نض کی وجہ سے۔ کس کی وجہ سے؟ نض حدیث میں آیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دو۔ سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا اجارہ کے عقد جب عقد کر لیا جائے تو پھر اس کے بعد منافع کی قیمت آ جاتی ہے بغیر عقد کے نہیں۔ تو وہ جو منافع کی قیمت آئی وہ بھی عقد کی وجہ سے آئی دونوں آپس میں کیا تھے؟ باہمی باہمی رضامندی تھی ان کے درمیان اس لیے منافع کی قیمت تو یہ اس جگہ پر ہوگا جہاں عقد پایا جائے جہاں دونوں کی رضامندی پائی جائے اور جہاں عقد نہیں۔ غصب کے اندر کوئی عقد ہوا؟ نہیں تو جہاں عقد نہیں وہاں اپنی اصل پر باقی رہے گا اور اصل تو کیا ہے؟ منافع کے اندر بقا نہیں۔ اس کے اندر احراز ممکن نہیں۔ جب احراز ممکن نہیں تو اس کی کوئی قیمت بھی نہیں۔ جب اس کی کوئی قیمت نہیں مثل کوئی اس کی چیز ہی نہیں ہے تو زمان بھی نہیں آئے گا۔ ہاں وہاں پر کس وجہ سے آیا اس میں؟ وہاں کیوں قیمت ان کی آئی؟ عقد کی وجہ سے کیونکہ دونوں باہمی طور جو جہاں عقد ہو اس کی بات الگ ہوگی مولانا اور جہاں عقد نہیں ہے وہ اپنی اصل پر رہے گا اور اصل کے اعتبار سے منافع میں بقا ہی نہیں ہے تو قیمت کس بات کی مقرر کریں بھئی؟ صورت سمجھ میں آگئی اچھی طرح؟ کہتے ہیں وہ صورت وہ صورت اس کی یہ ہے کہ رجل غصب فرساً لأحد کہ ایک شخص جو ہے اس نے غصب کیا کسی کا کوئی گھوڑا و رکبه عدة مراحلة اور اس پر وہ سوار ہوا کئی منزلیں کئی منزلیں مراحلہ جمع ہے مرحلہ کی بھئی۔ سفر کی دو منزلوں کے درمیان کی مسافت کو کیا کہتے ہیں؟ ایک منزل سے دوسری منزل تک جو سفر ہو اسے کہتے ہیں مرحلہ بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک منزل سے تو اس پر سوار ہوا کئی منزلوں تک و حبسه فی بيته و لم يركب و لم يرسل۔ اچھا اس پر سوار ہوا کئی مرحلوں تک بھئی کئی منزلوں تک یہ کون سی صورت ہے؟ هلاک استهلاك والی بھئی کون سی؟ اس نے ہلاک کیا۔ و حبسه في بيته يا اس جانور کو بند کیا اپنے گھر میں و لم يركب اور اس پر سوار بھی نہیں ہوا و لم يرسل اور اسے چھوڑا بھی نہیں۔ یہ کون سی صورت ہے؟ ہلاک والی فقال علماؤنا جمیعاً تو کہا ہے ہمارے تمام علماء نے یعنی ہمارے ائمہ ثلاثہ نے کہ انہ لا تضم هذه المنافع بشيء کہ زمان نہیں دیا جائے گا ان منافع کا کسی بھی چیز کے ساتھ اما بالمنافع فظاہر جو منافع جو ہیں اس کے ساتھ تو ظاہر ہے یعنی منافع کے ساتھ اس کا زمان نہ دینا تو ظاہر ہے لانہ لو زمن بال منافع اس لیے کہ اگر وہ مضمون ہو بھئی کہ وہ مذکور جو منافع جو مذکور ہوئے وہ کیا ہو مضمون ہو کس کے ساتھ؟ منافع کے ساتھ یعنی ان کے بدلے میں کیا چیز دینی پڑے؟ منافع تو لکان تو اس صورت میں ہوگا بايركب المال دابة الغاصب کہ سوار ہوگا مالک اس غاصب کے جانور پر قدر ما رکب الغاصب اسی کے جس قدر کون سوار ہوا تھا؟ غاصب۔ او یحبسه قدر ما حبسه الغاصب یا اسے بند کرے اتنی ہی مقدار جتنا غاصب نے بند کیا تھا یہی صورت بنے گی نا اگر منافع کو منافع کا زمان بنا۔ و ذالك باطل اور کہتے ہیں یہ دونوں باطل ہیں۔ لتفاوت بين راکب و راکب و بين سیر و سیر و حبس و حبس باوجہ فرق ہونے کے ایک سوار اور دوسرے سوار کا اور بین سیر و سیر ایک سیر اور دوسری سیر کے و حبس و حبس اور ایک حبس اور دوسرے حبس ان سب میں فرق ہونے کی وجہ سے یہ تو باطل ہے یہ نہیں بن سکتا اس کا مثل بھئی۔ و اما بالاعیان و المال اور باقی ان کا منافع کا زمان مال اور اعیان عین یعنی کوئی ذات ہو بھئی جو مخصوص چیز والمال اور مال کے ساتھ۔ کوئی مخصوص چیز اور مال وغیرہ اس کے ساتھ بھی اس کا زمان منافع کا نہیں آئے گا۔ بھئی منافع کا زمان منافع کے ساتھ بھی نہیں۔ کیونکہ ایک ایک سیر دوسری سیر سے مختلف ہے ایک راکب دوسرے راکب سے مختلف اور ان منافع کا زمان کس کے ساتھ؟ اعیان اور مال کے ساتھ یہ بھی نہیں ہوگا کیوں؟ فالن منافع عرض لا یبقى زمانيني اس لیے کہ منافع وہ تو عرض ہیں وصف ہیں صفت ہیں ان کا اپنا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ یہ تو صرف صفت ہوتی ہیں لا يبقى زمانيني یہ دو زمانوں تک باقی نہیں رہتی۔ و غير متقومين اور یہ غیر متقوم ہیں یعنی ان کی کوئی قیمت بھی نہیں ہوتی کیونکہ ان میں احراز نہیں ہے قیمت تو اس چیز کی ہوا کرتی ہے جس میں احراز ہو یعنی انسان سے محفوظ رکھ سکے جمع کر کے محفوظ کر سکے۔ تو تو منافع جو ہیں وہ عرض ہیں وہ دو زمانوں تک باقی نہیں رہتے اور وہ قیمت والے بھی نہیں ہیں بخلاف المال بخلاف مال کے کہ وہ دو زمانوں تک بھی وہ تو باقی بھی رہتا ہے اور اس میں احراز بھی ہوتا ہے وہ تو قیمت والا ہے تو یہ بھی نہیں بن سکتا فلا تماس بینہما تو ان دونوں میں بھی کوئی مماثلت نہیں۔ و إنما زمنناها بالمال في الإجارة اور ہم نے ان منافع کو مضمون بالمال قرار دیا ہے۔ کیا قرار دیا ہے؟ و إنما زمنناها بالمال۔ اور ان کو ہم نے کیا قرار دیا ہے مضمون بالمال قرار دیا ہے في الإجارة کس کے اندر؟ اجارہ کے اندر کہتے ہیں لان للرضا تاثيراً في إيجاب الأصول والفضول جمیعاً اس لیے کہ رضامندی کی تاثیر ہوتی ہے اس اصل اور زائد دونوں کو واجب کرنے میں۔ اصل اور زائد دونوں کے واجب کرنے میں رضامندی کی تاثیر ہوتی ہے ولا تاثیر للعدوان فيه اور زیادتی اور ظلم کی اس میں کوئی تاثیر نہیں ہوتی بھئی۔ ایجاب اصول و فصول میں ظلم کی کوئی تاثیر نہیں۔ بھئی دیکھیے بات وہی بیان کر رہے ہیں۔ بھئی وہی میں نے کیا جواب ذکر کیا تھا؟ اجارہ کی اجازت کیوں دی گئی؟ کیونکہ وہاں ان دونوں کا کیا ہوا ہے؟ عقد ہوا ہے عقد کی وجہ سے لہذا اجازت ہو گئی اس کی بھئی اور عقد ہے تو باہمی رضامندی موجود ہے وہی ذکر کر رہے ہیں کہ باہمی رضامندی کی وجہ سے اصل چیز پر دوسرے اصل چیز بھی دوسرے پر واجب ہو جاتی ہے اور زائد چیز بھی۔ جبکہ زیادتی کی صورت میں ایسا نہیں ہوتا اگر کوئی شخص میری یہی چیز لے غصب کر لیتا اور اس کے پاس یہ چیز ہلاک ہو جاتی تو اسے کتنے پیسے دینا پڑتے؟ یہ چیز کتنے کی ہے؟ دس ہزار کی تو دینا بھی کتنے پڑتے؟ دس ہزار۔ بھئی وہ زائد میں کہوں گا بھئی یہ چیز تو میں بیس ہزار میں بیچنے والا تھا مجھے بیس ہزار تم دو۔ نہیں بھئی نہیں۔ زیادتی کی صورت میں صرف اصل کا تو زمان آتا ہے زائد کا زمان نہیں آیا کرتا نفع کا زمان نہیں آتا ہاں باہمی رضامندی کی صورت میں دوسرے پر اصل کے ساتھ ساتھ جو زائد ہوتے ہیں وہ بھی کیا ہو جاتے ہیں؟ واجب لیکن زیادتی کی صورت میں وہ زائد واجب بلکہ آپس کی رضامندی کی وجہ سے کبھی تو غیر مال بھی مال بن جایا کرتا ہے جیسے ایک شخص ہے اس نے کسی کو قتل کیا ہے اب جان بوجھ کر قتل کیا ہے تو اب اس کو بھی قصاص میں قتل کیا جائے گا اس نے مقتول کے اولیاء سے صلح کر لی کہ بھئی مجھ سے دس لاکھ روپے لے لو اور مجھے قتل نہ کرو چھوڑ دو انہوں نے کہا ٹھیک ہے دو بھئی دس لاکھ دے دو۔ چنانچہ صلح کے طور پر اس سے دس لاکھ لیے اور اسے چھوڑ دیا قتل نہیں کیا۔ تو یہ جو صلح کے طور پر قتل عمد کے بدلے کیا لے لیے اس سے قصاص کے طور پر سے بدلے کیا لے لیے اس سے؟ مال لے لیا تو یہاں دیکھو باہمی رضامندی کے ذریعے غیر مال کے بدلے کیا لے رہے ہیں؟ مال واجب کر رہے ہیں اس پر قصاص کوئی مال ہے؟ اس کے بدلے کیا واجب کر رہے ہیں اس پر؟ مال تو باہمی رضامندی سے تو ایک چیز جو سرے سے مال ہی نہیں ہے اس میں بھی کیا واجب کیا کر لیا جاتا ہے کبھی کبھار مال بلکہ باہمی رضامندی کی وجہ سے تو اصل جو چیز ہوتی ہے اس کے بھی پیسے آتے ہیں اور جو زائد نفع وغیرہ ہوتا ہے وہ بھی دوسرے پر کیا ہو جاتے ہیں؟ واجب لیکن زیادتی کی صورتوں میں ایسا نہیں ہوتا اور یہ کون سی صورت ہم پڑھ رہے ہیں؟ غصب کیا ہے، زیادتی کی ہے ظلم کیا ہے لہذا اس صورت میں صرف اصل تو واجب ہو سکتا ہے زائد واجب اور اصل کا تو مثل ہی نہیں ہے صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ کہتے ہیں اسی لیے چنانچہ سارے فرماتے ہیں لان للرضا تاثيراً في إيجاب الأصول والفضول جمیعاً اس لیے کہ رضامندی جو ہے باہمی رضامندی مراد وہ رضامندی جو ہے اس کی تاثیر ہو وہ مؤثر ہوتی ہے تاثیر ہے اس کی في إيجاب الأصول والفضول جمیعاً اس اصل اور زائد دونوں کے واجب کرنے میں اس کی تاثیر ہے اصل بھی واجب ہو جاتا ہے رضامندی میں اور زائد بھی کیا ہو جاتا ہے؟ واجب ہو جاتا ہے۔ ولا تاثیر للعدوان فيه۔ حالانکہ اصل اور زائد دونوں کے واجب کرنے میں ظلم کا کوئی اثر نہیں ہے۔ تو یہاں ظلم والی صورت ہے بھئی۔ اچھا۔ تو اجارہ کے اندر اس وجہ سے بھئی کہ وہاں باہمی رضامندی عقد کیا ہے اس لیے منافع وہ مال تو نہیں ہے لیکن ان کی ان کے اوپر کیا کر لیا آپس میں عقد کر لیا قیمت مقرر کر لی تو وہ قیمت والے ہیں تو نہیں لیکن باہمی رضامندی کے ذریعے کیا مقرر کر لی آپس میں ان کی قیمت۔ تو یہ کس وجہ سے؟ باہمی رضامندی عقد کی وجہ سے۔ ورنہ تو ان منافع کی کوئی قیمت منافع کی کوئی قیمت نہیں ہے لیکن باہمی رضامندی سے کیا مقرر کر لی؟ قیمت۔ جیسے قصاص کوئی قیمت نہیں ہے لیکن باہمی رضامندی سے کیا مقرر کر لی؟ قیمت مقرر کر لی صورت سمجھ میں آگئی بھئی۔ بدل یعنی اس کا بدل مقرر کر لیا۔ اچھا جی۔ و شافعی رحمہ اللہ يقول بزمانها بالمال بقدر العرف اور امام شافعی رحمہ اللہ وہ قائل ہیں ان منافع کے زمان کے مال کے عرف کے بقدر بھئی جتنا عرف عام لوگوں میں رائج ہے في کرائها اس جانور کے کرایہ پر دینے میں الی ذلک المنزل اس منزل تک قیاساً علی الإجاره قیاس کرتے ہوئے کس پر؟ اجارہ پر۔ یعنی امام شافعی رحمہ اللہ ان منافع کے زمان بالمال کے قائل ہیں عرف کے بقدر اس جانور کو کرایہ پر دینے میں اس منزل تک قیاس کرتے ہوئے اجارہ پر۔ یعنی اجارہ پر قیاس کرتے ہوئے امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس ان منافع کا زمان دیا جائے گا جتنا کہ عرف میں رائج ہے اس منزل تک جانور کو کرایہ پر دینے میں جتنا جو عرف میں رائج ہے جتنا کرایہ بنتا ہے۔ و وجه ما قلنا اور ہم نے وہ فرق کی وجہ بیان وہ جو ہم نے کہہ دی بھئی ذکر کر دی بھئی یعنی اس کے غصب اور اجارہ میں کیا ہے؟ فرق ہے اجارہ میں باہمی رضامندی ہے اور غصب میں باہمی رضامندی نہیں ہے۔ و وجه ما قلنا اور وجہ وہ ہے جو ہم نے ذکر کی ای وجہ الفرق ما قلنا فرق کی وجہ وہ ہے جو ہم نے جو ہم نے کہی ہم نے بیان کی۔ ولابد لك حينئذ من الفرق بين المنافع والزوائد یہاں سے یاد رکھیے فرق ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ فاصلہ بتلا رہے ہیں کہ ایک ہیں ایک منافع اور ایک ہیں زوائد۔ منافع اور زوائد میں فرق کا کہتے ہیں اپ کو علم ہونا چاہیے بھئی۔ منافع اور زوائد میں کیا ہونا چاہیے؟ کہتے ہیں: "ولابد لك حينئذ من الفرق بين المنافع والزوائد" اور ضروری ہے اپ کے لیے اس وقت فرق کا فرق کرنا منافع اور زوائد کے درمیان۔ "فالمنافع كركوب الدابة والحمل عليها" منافع جیسے کہ جانور پر سواری کرنا "والحمل عليها" اور اس پر بوجھ لادنا۔ جی، "والحمل عليها" اس پر بار برداری کرنا۔ "والزوائد" اور زوائد جو ہیں "كالنسل للدابة واللبن لها والثمرة للشجرة" جیسے کہ نسل ہے جانور کی یعنی اس کے بچے وغیرہ، یہ زوائد ہیں۔ "واللبن لها" اور اس کا دودھ جو ہے "والثمرة للشجرة" اور جیسے درخت کا پھل بھئی۔ یہ کیا ہیں؟ یہ زوائد ہیں، یہ منافع نہیں ان کو کہا جاتا بھئی، سمجھ میں آیا؟ جانور کا غصب کیا، وہاں اس نے بچے کو جنم دیا تو یہ زوائد ہیں، منافع نہیں۔ گائے وغیرہ غصب کر لی، وہاں اس سے دودھ حاصل کرتا ہے، یہ زوائد ہیں مولانا، یہ منافع نہیں ہیں بھئی۔ تو یہاں زوائد اور منافع کا فرق بیان کر رہے ہیں۔ اچھا، تو "والثمرة للشجرة ونحوها" درخت کا پھل اور اس جیسی چیزیں۔ "فالمغصوب بنفسه يضمن بالهلاك" یضمن بھئی، "فالمغصوب بنفسه يضمن بالهلاك والاستهلاك جميعا" تو مغصوب خود جو ہے وہ عینِ شے جو ہے وہ مضمون ہو گی ہلاک کی وجہ سے بھی اور استہلاک، ہلاک اور استہلاک دونوں کی وجہ سے۔ تو بھئی تین چیزیں یہاں اپ کو پتہ لگ گئیں۔ ایک وہ اصلِ شے ہے جس کو غصب کیا۔ ایک اس کے زوائد ہیں، ایک اس کے منافع ہیں۔ یاد رکھیے اصلِ شے جو ہے وہ مضمون ہو گی اس کا ضمان آئے گا، ہلاک کی صورت میں بھی اور استہلاک کی صورت میں بھی۔ جانور غصب کیا تھا اس کے پاس، چاہے وہ خود ہلاک کرے یا ہلاک ہو جائے، اسے کیا دینا پڑے گا؟ ضمان دینا پڑے گا۔ زوائد اگر اس کے پاس بھئی، جانور نے بچے کو جنم دیا، یہ زوائد میں سے ہے، تو اس کے اندر یاد رکھیے استہلاک کی صورت میں تو ضمان آتا ہے، ہلاک کی صورت میں ضمان نہیں آئے گا۔ جبکہ منافع کے اندر نہ استہلاک کی صورت میں ضمان آئے گا اور نہ ہلاک۔ فرق سمجھ میں آیا تینوں میں بھئی؟ تو کہتے ہیں: "فالمغصوب بنفسه يضمن بالهلاك والاستهلاك جميعا" مغصوب خود جو ہے وہ مضمون ہو گا ہلاک کی وجہ سے بھی اور ہلاک اور استہلاک دونوں کی وجہ سے۔ "والزوائد تضمن بالاستهلاك دون الهلاك" اور زوائد وہ مضمون ہوں گے استہلاک کی وجہ سے نہ کہ ہلاک کی وجہ سے۔ "والمنافع لا تضمن بالاستهلاك والهلاك" اور منافع وہ مضمون نہیں ہوں گے استہلاک اور ہلاک دونوں ہی سے بھئی، نہ ہلاک کی وجہ سے مضمون ہوں گے نہ استہلاک کی۔ "فعبر المصنف عن الاستهلاك بالإتلاف" تو مصنف نے تعبیر کیا استہلاک کو اتلاف کے ساتھ۔ متن میں کیا آیا تھا؟ "لا تضمن بالإتلاف" تو اتلاف کے ساتھ کس کو تعبیر کیا مصنف نے؟ استہلاک کو تعبیر کیا۔ "ولم يذكر الهلاكا" اور ہلاک کو ذکر ہی نہیں کیا۔ اور وہ کون سی صورت تھی ہلاک کی؟ کہتے ہیں: "وهو الحبس" اور وہ حبس، اس کو بند کر لینا، روک لینا، قید کر لینا ہے۔ "وهو غير مضمون قياسا على الزوائد" اور یہ بھی غیر مضمون ہے، اس میں ضمان نہیں آئے گا "قياسا على الزوائد" کس پر قیاس کرتے ہوئے؟ زوائد پر۔ زوائد کے اندر جب زوائد حالانکہ ذات کا نام ہے، ان میں جب ہلاک کے اندر صورت کے اندر ضمان نہیں آتا، تو منافع کے اندر بطریقِ اولیٰ کیا ہے؟ ہلاک کی صورت میں ضمان نہیں آئے گا۔ "فإن الزوائد لما لم تضمن بالهلاك فالمنافع أولى أن لا تضمن به" اس لیے کہ زوائد جب وہ مضمون نہیں ہوتے ہلاک کی وجہ سے، تو منافع زیادہ لائق ہیں کہ وہ مضمون نہ ہوں ہلاک کی وجہ سے۔ "وهذا الفرق مما يتخبط فيه كثير من الناس" اور یہ فرق ان چیزوں میں سے ہے کہ اس میں خبط میں مبتلا ہو جاتے ہیں اس کے اندر بہت سے لوگ۔ یہ فرق ان چیزوں میں سے ہے بھئی، یہ زوائد اور منافع کے درمیان فرق ان چیزوں میں سے ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ کس میں مبتلا ہو جاتے ہیں؟ خبط میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ خبط کہتے ہیں دیوانگی کو، بغیر سوچے سمجھے کوئی کام کرنا بھئی۔ مراد ہے غلطی مراد ہے، سمجھ میں آیا کیا مراد ہے یہاں؟ کہ زوائد اور منافع کے درمیان فرق اپ یاد رکھنا ہم نے اپ کو بتلا دیا، یہ وہ چیز ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ کس میں مبتلا ہو جاتے ہیں؟ غلطی میں بھئی، فرق نہیں پتہ لگتا انہیں زوائد اور منافع کا بھئی۔ "والقصاص لا يضمن بقتل القاتل" اور قصاص جو ہے وہ مضمون نہیں ہو گا، اس کا ضمان نہیں دیا جائے گا "بقتل القاتل" قاتل کے قتل کی وجہ سے۔ تفریعِ ثانی ہے ہمارے اس بات پر، اس قانون پر کہ جس کا کوئی مثل نہیں ہوتا "لا يضمن أصلا" وہ اس کا ضمان بھی نہیں دیا جاتا بھئی، وہ مضمون بھی نہیں ہوتی۔ صورت یہ ہے بھئی، صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے کسی کو قتل کر دیا۔ کیا کر دیا جان بوجھ کر؟ قتل کر دیا۔ اب یہ قاتل جو ہے، اس سے قصاص لیں گے مقتول کے اولیاء، مقتول کے ورثاء اس سے کیا لیں گے؟ قصاص لیں گے۔ اچھا، اس سے قصاص لینا ان کا حق بن چکا ہے۔ لیکن پھر ایک اجنبی شخص نے، اس نے اس قاتل کو قتل کر دیا۔ کیا کر دیا؟ اس قاتل کو قتل کر دیا، تو دیکھیے اب اس اجنبی نے اس مقتول کے وارثوں کے قصاص کو ضائع کر دیا۔ انہوں نے کیا لینا تھا اس قاتل سے؟ قصاص، لیکن ابھی قصاص لیا نہیں، کسی ایک اجنبی شخص نے اس قاتل کو کیا کر دیا؟ قتل کر دیا، تو اس اجنبی نے کیا کیا؟ وایا، مقتول کے وارثوں کے قصاص کو ضائع کر دیا، تو کہتے ہیں یاد رکھیے قصاص ایسی چیز ہے جس کا کوئی مثل نہیں ہے، اور جب اس کا کوئی مثل نہیں تو یہاں پر ضمان بھی نہیں آئے گا، اس اجنبی پر اس مقتول کے وارثوں کے لیے کوئی ضمان نہیں آئے گا کہ، سمجھ میں آیا بھئی؟ جبکہ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قصاص جو ہے وہ متقوم ہے، قیمت والی چیز ہے، جیسے قتلِ خطا کے اندر قصاص کے بدلے کیا لیا جاتا ہے؟ دیت لی جاتی ہے، معلوم ہوا قصاص کیا ہے؟ متقوم ہے، قیمت والی چیز ہے، تو یہاں بھی انہوں نے اس کی ملکِ قصاص کو کیا کر دیا؟ ضائع کر دیا ہے، لہٰذا اب اس اجنبی پر دیت آئے گی، اس کو کیا دینا پڑے گی؟ دیت دینا پڑے گی انہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ وہ پہلا مقتول جو تھا اس کے وارثوں کو تو دیت دے گا، اور اس مقتول کو اس نے جیسے مثلاً جان بوجھ کر قتل کیا ہے یا غلطی سے کیا ہے، تو اس کے مطابق بھی حکم آئے گا بھئی۔ جان کے قتل کیا ہے تو پھر اسے قتل بھی کیا جائے گا قصاصاً، اور اگر غلطی سے کیا ہے تو دیت۔ تو ایک دیت اگر غلطی سے کیا ہے، تو ایک اس قاتل کے وارثوں کو دیت دینا پڑے گی، اور ایک وہ جو پہلا مقتول تھا، اس کے وارثوں کو بھی دیت دینا پڑے گی کیونکہ اس نے کیا کیا ان کے قصاص کو ضائع کر دیا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ ہمارے نزدیک نہیں بھئی، قصاص غیر متقوم ہے، اس کی کوئی قیمت نہیں ہے بھئی، اور اس کا کوئی مثل بھی نہیں ہے، لہٰذا قصاص ضائع کیا ہے تو اب اس پر کوئی ضمان وغیرہ نہیں آئے گا، بلکہ ہم کہتے ہیں یہ تو اس نے ان کی مدد کر دی، وہ بھی کیا کرنا چاہتے تھے اس کو قصاص لے کر اسے قتل کرنا چاہتے تھے، تو اس نے ان کی مدد کی اور اس نے کیا کر دیا ان کے لیے اسے قتل کر دیا، لہٰذا اس صورت میں اس پر ضمان نہیں آئے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: یہ ہماری دوسری تفریع ہے اس قانون پر کہ جو چیز جو ہے اس کا مثل نہیں ہوتا "لا يضمن أصلا" وہ مضمون بھی نہیں ہوتی۔ "يعني أن من وجب عليه قصاص لغيره فقتل القاتل أجنبي غير ورثة المقتول فلا يضمن هذا الأجنبي لأجل ورثة المقتول شيئا من الدية والقصاص عندنا" یعنی وہ شخص جس پر قصاص واجب ہوا تھا کسی دوسرے کے لیے "فقتل القاتل أجنبي" پس قتل کر دیا اس قاتل کو ایسے اجنبی نے "غير ورثة المقتول" جو مقتول کے وارثوں کے علاوہ ہے "فلا يضمن هذا الأجنبي لأجل ورثة المقتول شيئا من الدية والقصاص عندنا" تو ضامن نہیں ہو گا یہ اجنبی اس مقتول کے وارثوں کے لیے کسی بھی چیز کا "من الدية والقصاص" یعنی کہ دیت اور قصاص، ان میں سے کسی چیز کا یہ ضامن نہیں ہو گا "عندنا" ہمارے نزدیک۔ "وإن كان يضمن لأجل ورثة هذا القاتل البتة" اگرچہ یہ اجنبی ضامن ہو گا اس قاتل کے وارثوں کے لیے قطعی طور پر، ان کے لیے تو یقیناً کیا ہو گا؟ اس اجنبی نے قاتل کو قتل کیا ہے، تو اس قاتل جو تھا اس کے جو ورثاء ہیں اس کے لیے کیا ہو گا یہ؟ ضامن، جان بوجھ کر قتل کیا ہے تو قصاص، اور اگر غلطی سے کیا ہے تو دیت۔ "وذلك لأن القصاص معنى غير متقوم في نفسه" اس لیے کہ قصاص ایسا معنی ہے جو غیر متقوم ہے اپنی ذات کے اعتبار سے، یعنی اس کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ "لا يعقل له مثل" اس کا کوئی مثلِ معقول بھی نہیں ہے "لا يعقل له مثل حتى تقول" اس کا کوئی مثلِ معقول بھی نہیں ہے یہاں تک کہ اپ یہ کہیں "إن الأجنبي ضيع قصاصه فتجب عليه الدية" کہ اس اجنبی نے اس مقتول کے قصاص کو کیا کر دیا؟ ضائع کر دیا "فتجب عليه الدية" تو اس پر کیا واجب ہو گی؟ دیت، ہاں تو یہ اپ نہیں کہہ سکتے "كما قال الشافعي" جیسا کہ کس نے فرمایا ہے؟ امامِ شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے۔ "وإنما يتقوم في حق الدية" اور یہ تو، جی، یہ ایک اعتراض کا جواب، اعتراض یہ کہ اپ نے کیا کہا کہ قصاص کیا ہے؟ غیر متقوم ہے، کہتے ہیں بھئی قتلِ خطا کر لے، تو وہاں بھی کیا آنا چاہیے؟ قصاص، جان کے بدلے کیا ہونی چاہیے؟ جان ہونی چاہیے، لیکن وہاں قصاص کے بدلے کیا آ جاتی ہے؟ دیت، معلوم ہوا قصاص متقوم ہے، اس کی قیمت ہے، قصاص کے بدلے کیا آیا؟ دیت آ گئی، 100 اونٹ آ گئے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جواب دے رہے ہیں کہ بھئی وہ قصاص دیت کے حق میں متقوم ہو جاتا ہے دیت کے حق میں "فيما لا يمكن المماثلة فيه" اس قتل کے اندر، "ما" سے کیا مراد ہے؟ اس قتل کے اندر کہ ممکن نہیں ہوتی اس کے اندر مماثلت، جس کے اندر مماثلت کون سے قتل میں مماثلت ممکن نہیں ہے؟ قتلِ خطا میں، تو اس صورت میں یہ قصاص متقوم بن جاتا ہے، کیوں؟ "لئلا يلزم إهدار الدم بالكلية" تاکہ کہیں لازم نہ آئے خون کا ضائع جانا پورے طور پر، تاکہ بالکل کلیہ پورے طور پر خون کا ضائع جانا لازم نہ آئے "ضرورة" بناء بر ضرورت کے۔ اس کا تعلق "وإنما يتقوم" سے ہے کہ وہ قصاص قیمت والا بن جائے گا کس کے حق میں؟ دیت کے حق میں، "ضرورة" کس بنیاد پر؟ ضرورت کی بنیاد پر! اس لیے کہ وہاں اس کو کوئی مثل ممکن نہیں ہے اور اگر دیت کا حکم بھی نہ لگائے شریعت تو انسانی خون کیا ہو گا؟ ضائع چلا جائے گا، تو لہٰذا وہاں قصاص قیمت والا بن گیا دیت کے حق میں بناء بر ضرورت کے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ "وها هنا الأجنبي ما ضيع على أولياء المقتول شيئا" اور یہاں پر اس اجنبی نے مقتول کے اولیاء کی کوئی چیز ضائع نہیں کی "بل قتل عدوهم فكأنه أعانهم" بلکہ اس نے ان کے دشمن کو قتل کیا ہے، گویا کہ اس نے ان کی مدد کی ہے۔ "نعم يضمن ذلك لأجل اولياء هذا القاتل" ہاں، ضامن ہو گا وہ اجنبی ضامن ہو گا وہ "لأجل اولياء هذا القاتل" اس قاتل کے اولیاء کے لیے "إما قصاصا وإما دية" یا تو قصاص کے طور پر یا دیت کے طور پر وہ ضامن ہو گا "على حسب ما تحقق" اسی کے بقدر جو ثابت ہوا ہو، یعنی اگر قتلِ عمد اس سے ثابت ہوا ہے تو پھر کیا آئے گا؟ قصاص کا ضمان آئے گا، اور اگر قتلِ خطا کا تحقق ہوا ہے، وہ پایا گیا ہے تو پھر دیت آئے گی بھئی۔ "وملك النكاح لا يضمن بالشهادة بالطلاق بعد الدخول" اور ملکِ نکاح جو ہے وہ مضمون نہیں ہو گی "بالشهادة بالطلاق بعد الدخول" دخول کے بعد طلاق کی گواہی دینے کی وجہ سے۔ دخول کے بعد یعنی صحبت کے بعد طلاق کی گواہی دینے کی وجہ سے ملکِ نکاح مضمون نہیں ہو گی، اس کا کوئی ضمان نہیں آئے گا، ضمان نہیں دیا جائے گا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے بھئی، صورت یہ ہے کہ ایک شخص نے نکاح کیا ہے اور بیوی کے ساتھ صحبت کر چکا ہے کہ قاضی کے پاس دو آدمی آئے اور یا اس عورت نے مقدمہ کر دیا بھئی کہ یہ خاوند مجھے طلاق دے چکا ہے، کیا کر چکا ہے؟ اس عورت نے مقدمہ کیا، قاضی کے پاس، طلاق دے چکا ہے، تو یہ ہوئی مدعیہ، اور مدعی کے ذمے کیا ہوتے ہیں؟ گواہ، اس نے دو گواہ پیش کر دیے، دو گواہوں نے آ کر گواہی دے دی کہ یہ شخص کیا کر چکا ہے اپنی بیوی کو طلاق دے چکا ہے، طلاق دے چکا ہے، چنانچہ قاضی نے ان کے درمیان جدائی کا فیصلہ کر دیا بھئی۔ کیا کر دیا؟ جدائی کا فیصلہ کہ یہ عورت بس عدت پوری کرے، پھر جہاں مرضی چاہے نکاح کر دے، تو نکاح ختم ہوا، اب دیکھیے، بعد میں یہی گواہ قاضی کے پاس آتے ہیں: قاضی صاحب! ہم سے غلطی ہو گئی، ہم نے غلط گواہی دے دی تھی، اس شخص نے تو اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی، سمجھ میں آیا؟ ہم نے جھوٹ بولا تھا وغیرہ، قاضی کے پاس آ کر رجوع کر لیتے ہیں اپنی گواہی سے، تو کیا اب ان پر ضمان آئے گا؟ ہم کہتے ہیں نہیں، ان پر ضمان نہیں آئے گا۔ بھئی اس کی گواہی کی وجہ سے اب اس شخص کو مہر دینا پڑا بیوی کو، تو ضمان تو مہر کا آنا چاہیے، کہتے ہیں بھئی مہر تو پہلے صحبت کی وجہ سے کیا ہو چکا تھا؟ پکا ہو چکا تھا، پختہ ہو چکا تھا، لہٰذا اس ان گواہوں نے اس شخص سے کے کسی چیز کو ضائع نہیں کیا، ہاں صرف ملکِ نکاح کو ضائع کیا ہے، اس شخص کے لیے حلال تھا خاوند کے لیے اپنی بیوی سے نفع اٹھانا، اب ان گواہوں کی گواہی کی وجہ سے کیا ہوا، یہ ملکِ نکاح اس کے ہاتھ سے نکل گئی، اور ملکِ نکاح کوئی متقوم چیز نہیں ہے، لہٰذا اس اس میں کوئی ضمان بھی نہیں ائے گا، اس کا کوئی مثل ہی نہیں ہے، جب مثل ہی نہیں ہے تو اس کا ضمان بھی نہیں آئے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ دیکھیے، باقی تفصیل خود بیان کریں گے۔ کتاب: "وملک النکاح لا یضمن بالشھادة بالطلاق بعد الدخول" اور ملکِ نکاح وہ مضمون نہیں ہوگی صحبت کے بعد طلاق کی گواہی دینے کی وجہ سے۔ "تفریع ثالث لنا" یہ ہماری تیسری تفریع ہے "على "عقود" أما لا مثل له لا یضمن" کہ وہ چیز جس کا مثل نہیں ہوتا، وہ مضمون بھی نہیں ہوتی، یعنی "إذا شهد الرجلان" جب گواہی دی دو آدمیوں نے "بأنه طلق امرأته بعد الدخول" کہ یہ خاوند جو ہے اس نے طلاق دے دی اپنی بیوی کو صحبت کے بعد، "فحکم القاضي علیہ بأداء المهر والتفریق" پس قاضی نے فیصلہ کر دیا اس پر مہر کی ادائیگی کا اور جدائی کا، ان دونوں کے درمیان جدائی کا، "ثم رجع الشاھدان" تو پھر رجوع کر لیا ان دو گواہوں نے، "فعندنا لا یضمنان للزوج شیئا" تو یہ دونوں ہمارے نزدیک ضامن نہیں ہوں گے خاوند کے لیے کسی بھی چیز کے، "لأن المهر کان واجبا علیہ بسبب الدخول" اس لیے کہ مہر تو اس پر واجب ہو ہی چکا تھا صحبت کرنے کی وجہ سے، "سواء کان طلقها أو لا" برابر ہے کہ اسے طلاق دے یا طلاق نہ دے۔ طلاق دیتا یا نہ دیتا صحبت کی وجہ سے تو مہر پہلے ہی کیا ہو چکا ہے؟ پکا ہو چکا ہے، واجب ہو چکا ہے۔ "فما أتلفا علیہ شیئا" پس ان دونوں گواہوں نے اس پر کوئی چیز اس کی کوئی چیز تلف نہیں کی "إلا حلة استمتاعه بالمرأة" ہاں سوائے اس کے عورت سے نفع اٹھانے کے حلال ہونے کے۔ عورت سے استمتاع کے حلت کے علاوہ اور کسی چیز کو انہوں نے تلف نہیں کیا "وهو الذي یعبر عنه بملک النکاح" اور یہ عورت سے نفع اٹھانے کا حلال ہونا، اسی کو کس کے ذریعے تعبیر کیا جاتا ہے؟ ملکِ نکاح کے ذریعے "ولیس له مثل" اور اس کا کوئی مثل نہیں ہے "لا مماثلة البضع ببضع آخر" نہ تو مماثلت ہے ایک بضع کی دوسرے کے ساتھ، کہ ایک کا ضمان دوسرے کو بنایا جائے، ایک کو دوسرے کا بدل قرار دے دیا جائے "فإن ذلک في الشریعة حرام" اس لیے کہ یہ شریعت میں کیا ہے؟ حرام ہے "ولا مماثلة بالمال" اور اس ملکِ نکاح کی مماثلت مال کے ساتھ بھی نہیں ہے "لأن تقومه" سمجھ میں آیا؟ یہ یعنی یوں کہیں یہ کس کی مماثلت؟ بضع کی، ایک تو بضع کی مماثلت دوسرے بضع کے ساتھ نہیں ہے کہ اس کو اس کا ضمان قرار دیا جائے یا بدل قرار دیا جائے، "ولا مماثلة بالمال" اور اس کی مال کے ساتھ بھی مماثلت نہیں "لأن تقومه بالمال لا یظهر إلا عند النکاح ضرورت لشرفه" اس لیے کہ اس کا قیمت والا ہونا مال کے ساتھ اس کا قیمت والا ہونا ظاہر نہیں ہوتا "إلا عند النکاح" مگر کس وقت؟ صرف نکاح کے وقت اس کا قیمت والا ہونا ظاہر ہوتا ہے، اس کے علاوہ نہیں ہوتا۔ اور نکاح کے وقت بھی کیوں ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مال والی، قیمت والی چیز ہے؟ کہتے ہیں "ضرورة لشرفه" ضرورت کی بنا پر اس کے شرف کی وجہ سے، اس لیے کیونکہ یہ اولاد اور بقائے نسل کا ذریعہ ہے تو لہٰذا اس بنا پر نکاح کے وقت کیا ہے اس کا قیمت والا ہونا ظاہر ہوگا، "ولا یظهر عند التفریق أصلا" لیکن تفریق اور جدائی کے وقت بالکل بھی اس کا قیمت والا ہونا ظاہر نہیں ہوگا "ولهذا صحت إزالته بالطلاق بلا بدل ولا شهود ولا ولي ولا إذن" اور اسی وجہ سے صحیح ہے اس ملکِ نکاح کو زائل کرنا طلاق کے ذریعے بغیر کسی بدل اور بغیر گواہوں اور بغیر ولی اور بغیر اجازت کے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ معلوم ہوا یہ ملکِ نکاح صرف نکاح کے وقت تو یہ کیا ہوگا؟ اس کا تقوم متقوم ہونا ظاہر ہوگا، نکاح کے علاوہ تفریق کے وقت یہ متقوم نہیں ہے، چنانچہ آپ دیکھتے ہیں بھئی طلاق دے دے، ولی نہ ہو پھر بھی طلاق ہو گئی، گواہ کوئی نہ ہوں طلاق پھر بھی ہو گئی، اجازت وغیرہ کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے اور کسی مال وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے، طلاق کیا ہو جاتی ہے؟ واقع۔ معلوم ہوا جدائی کے وقت یہ متقوم نہیں ہے، اس کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ "وإنما تصیر متقومة" متقومہ ہے لفظ آپ کی کتابوں میں؟ ہاں متقومہ ہونا چاہیے بھئی، متفوقہ بعض کتابوں میں شاید ہو، وہ متقومہ کر لیں اس کو بھئی۔ اچھا یہ اعتراض، اعتراض یہ کہ آپ نے کیا کہا؟ جدائی کے وقت جدائی کے وقت اس بضع کا متقوم ہونا ظاہر نہیں ہوتا آپ نے کہا۔ کہتے ہیں ہم دکھاتے ہیں آپ کو خلع کو دیکھ لو۔ خلع کے اندر عورت کیا کرتی ہے؟ مال دے کر اپنے آپ کو چھڑواتی ہے، معلوم ہوا جدائی کے وقت بھی یہ کیا ہے؟ متقوم ہے، قیمت والی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جواب دیتے ہیں کہ بھئی یہ جدائی کے وقت قیمت والی نہیں ہے، ہاں یہ خلافِ قیاس نص سے ثابت ہے۔ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں "فلا جناح علیہما فيما افتدت به" تو یہ نص کی وجہ سے کیا ہے یہاں اس کا قیمت والا ہونا ثابت ہوا اور یہ خلافِ قیاس ہے، یہ کیا ہے؟ خلافِ قیاس، تو نص کی وجہ سے یہاں قیمت والی ہوئی ورنہ ویسے تفریق کے وقت یہ قیمت والی نہیں ہے، اور وہ ایک ہی صورت ہے خلع والی بھئی۔ "وإنما تصیر متقومة في الخلع بالنص على خلاف القیاس" اور یہ قیمت والی ہو جاتی ہے خلع کے میں نص کی وجہ سے خلافِ قیاس "وإنما قید بالطلاق بعد الدخول" اب بھئی ماتن نے کیا اوپر قید لگائی تھی؟ "بالطلاق بعد" کہ یہ طلاق جس کو کب ہو؟ جس پر گواہی دی ہے، دخول کے بعد ہو۔ تو کہتے ہیں "وإنما قید بالطلاق بعد الدخول" مقید کیا بھئی "بالطلاق بعد" مقید کیا شہادت کو کس کے ساتھ؟ "بالطلاق بعد الدخول" کے ساتھ مقید کیا "لأنه إذا شہدا" دیکھو بھئی یاد رکھو، یہ تو صحبت کے بعد تھا، اگر گواہی دی تو اس صورت میں کسی چیز کے ان پر ضمان نہیں آئے گا، سمجھ میں آیا؟ یہ دنیاوی حکم بیان ہو رہا ہے مولانا، اخروی نہیں، اخروی اعتبار سے تو اس نے جرم کیا ہے، سمجھ میں آیا؟ بڑا گناہ کیا ہے بھئی۔ ہاں دنیاوی اعتبار سے ضمان نہیں آئے گا کیونکہ اس کا مثل ہی نہیں ہے بھئی، مثل ہوتا تو ہم اسے ضمان بنا دیتے، جب مثل ہی نہیں ہے تو ضمان بھی نہیں ہے۔ تو یہ تو وہ صورت تھی جبکہ صحبت کے بعد طلاق پر انہوں نے گواہی دی ہے۔ اگر صحبت سے پہلے ہی طلاق پر گواہی دے دی، صحبت سے پہلے ہی گواہی دے دی تو اس صورت میں یاد رکھیے، صحبت سے پہلے اگر کوئی شخص طلاق دیتا ہے بیوی کو تو نصفِ مہر دینا پڑتا ہے۔ مہر مقرر کیا ہو تو کتنا دینا پڑتا ہے؟ نصفِ مہر دینا پڑتا ہے۔ تو کہتے ہیں اگر یہ طلاق سے، یہ صحبت سے پہلے کی صورت ہوئی تو اس صورت میں خاوند کو نصفِ مہر دینا پڑے گا اور نصفِ مہر وہ اس گواہوں کی وجہ سے کیا ہے، لہٰذا گواہ جب رجوع کر لیتے ہیں بعد میں، معلوم ہوا ان کی وجہ سے خاوند کے ہاتھ سے کتنا مال گیا ہے؟ نصفِ مہر کے برابر مال گیا ہے، تو وہ اب ان گواہوں کو اس کا ضمان دینا پڑے گا، ان سے اتنا ہی مال وصول کر کر اس خاوند کے حوالے کر دیا جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی یہ مال تو ویسے بھی خاوند پر واجب ہو چکا تھا، صحبت سے پہلے وہ طلاق دے دے تو اس پر کتنا آتا ہے؟ نصفِ مہر اسے دینا ہی پڑتا ہے تو گواہوں نے تو یہاں بھی اس کا کچھ تلف نہیں کیا۔ کہتے ہیں نہیں، یہ خاوند کو دینا تو پڑتا ہے لیکن پکا نہیں ہے، ہو سکتا ہے نہ بھی دینا پڑے۔ کیسے؟ کہتے ہیں دیکھو طلاق سے پہلے جدائی آئے، یہ جدائی ہو سکتا ہے خاوند کی طرف سے آئے، ہو سکتا ہے بیوی کی طرف سے ائے۔ اگر خاوند کی طرف سے جدائی آئی یعنی خاوند نے طلاق دی تو اس صورت کے اندر نصفِ مہر دینا پڑے گا، اور اگر جدائی کا سبب بیوی بن گئی مثلاً بیوی مرتد ہو گئی بھئی، بیوی کیا ہو گئی؟ تو بیوی اگر مرتد ہو گئی نعوذ باللہ من ذلک بھئی، تو بیوی اگر مرتد ہو گئی تو اب دیکھو اب بھی نکاح ٹوٹ گیا لیکن جدائی کا سبب کون بنی؟ بیوی بنی، لہٰذا اس صورت میں وہ نصفِ مہر بھی نہیں ائے گا۔ تو دیکھو وہ نصفِ مہر نکاح کی وجہ سے آ تو رہا ہے لیکن کیا پختہ ہے یا اس کے بھی ختم ہو جانے کا امکان ہے؟ ختم ہو جانے کا امکان ہے، لیکن جب گواہوں نے گواہی دے دی تو اب وہ کیا ہو گیا؟ پختہ ہو گیا، تو گویا ان کی وجہ سے کیا ہوا؟ یہ ضمان یہ نصفِ مہر خاوند پر واجب ہوا ورنہ ہو سکتا ہے واجب ہی نہ ہوتا، لہٰذا انہوں نے اتنا نقصان کیا ہے تو اب ان سے کیا کیا جائے گا؟ وہ نصفِ مہر وصول کر لیا جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ "وإنما قید بالطلاق بعد الدخول" ماتن نے بھئی متن کو قید یہ شہادت کو قید کیا "بالطلاق بعد الدخول" کے ساتھ "لأنه إذا شهدا بالطلاق قبل الدخول ثم رجعا یضمنان نصف المهر للزوج" اس لیے کہ اگر ان دو گواہوں نے گواہی دی طلاق کی صحبت سے پہلے، پھر دونوں نے رجوع کر لیا، تو یہ دونوں ضامن ہوں گے نصفِ مہر کے، ضامن ہوں گے خاوند کے لیے "لأن قبل الدخول لا یجب علیہ المهر إلا عند الطلاق" اس لیے کہ صحبت سے پہلے اس پر مہر واجب نہیں ہوتا مگر کس وقت؟ طلاق کے وقت، یعنی جب یہ خود جدائی اس کی طرف سے ائے "لأنها تحتمل أن ترتد أو تواطع ابن الزوج" اس لیے کہ احتمال رکھتی ہے، احتمال ہے اس میں یہ احتمال ہے کہ "أن ترتد" کہ وہ عورت کیا ہو جائے؟ مرتد ہو جائے "أو تواطع ابن الزوج" تواطع کا معنی ساتھ دینا، یا ساتھ دے خاوند کے بیٹے کا، یعنی اس کے ساتھ غلط تعلق قائم کر لے تو وہ حرمتِ مصاہرت آ جائے گی، آپ نے حرمتِ مصاہرت کا مسئلہ پڑھا تھا کہ کسی عورت کے ساتھ اگر کوئی شخص جو ہے زنا کر لے تو اس کی وجہ سے بھی اس کے اصول و فروع کیا ہو جاتے ہیں؟ دونوں کے اصول و فروع ایک دوسرے پر حرام، بلکہ زنا تو چھوڑیں، زنا کے جو اسباب ہیں جو زنا تک پہنچانے والے ہیں یعنی چھونا یا بوسہ لینا، یہ بھی زنا تک کیونکہ پہنچانے والے ہیں لہٰذا ان کا بھی یہی حکم ہے، ان کی صورت میں بھی حرمتِ مصاہرت آئے گی اور دونوں کے اصول و فروع ایک دوسرے پر کیا ہو جائیں گے؟ حرام۔ تو یہاں پر بھی وہ بیوی کیا کر لی تھی؟ خاوند کے بیٹے سے اس نے تعلق قائم کر لیا، تو خاوند کے جب بیٹے سے تعلق قائم کیا تو حرمتِ مصاہرت آ گئی اور اس بیٹے کے اصول و فروع اس عورت پر کیا ہو گئے؟ حرام، اور اس بیٹے کا والد کون ہے؟ اسی عورت کا خاوند، تو وہ بھی ہمیشہ کے لیے کیا ہو گیا اس عورت پر؟ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ابد الاباد کے لیے یہ اس پر حرام ہو گیا بھئی۔ طلاق والی حرمت تو ختم ہو جاتی ہے، یہ والی حرمت کبھی بھی ختم نہیں ہوتی بھئی، اب کوئی صورت نہیں اکٹھے رہنے کی بھئی۔ تو یہ معنی ہے "أو تواطع ابن الزوج" یا وہ کیا کر لے؟ ساتھ دے کس کا؟ خاوند کے بیٹے کا یعنی اس سے غلط تعلق بنائے "فحینئذ یبطل المهر رأسا" تو اس صورت میں اگر اس سے تعلق بنائے گی تو جدائی کس کی طرف سے آئی؟ کون سبب بنی جدائی کا؟ عورت، لہٰذا وہ نصفِ مہر بھی نہیں ائے گا "فحینئذ یبطل المهر أصلا" تو اس صورت میں مہر بالکل ہی باطل ہو جائے گا "وإنما تأکد نصف المهر بالطلاق" اور یہاں پر پختہ ہو گیا نصفِ مہر کس کی وجہ سے؟ یہاں کون سی صورت چل رہی ہے؟ انہوں نے کس چیز پر گواہی دی ہے؟ طلاق پر، تو یہاں پر بھی جب گواہی کی وجہ سے نصفِ مہر جو ہے وہ پختہ ہو گیا طلاق کی وجہ سے "فکأن الشاھدین أخذ نصف المهر من ید الزوج وأعطاها" تو گویا کہ ان دو گواہوں نے نصفِ مہر لیا خاوند کے قبضے سے اور کس کو دے دیا؟ خاوند کے ہاتھ سے لیا اور بیوی کو دے دیا "فیضمنان ما أعطاها" تو لہٰذا دونوں ضامن ہوں گے اس مال کے جو انہوں نے اس کو دیا ہے۔ چلئے بس مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
113 approved lectures · 22 of 113