Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-082

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 11 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 15
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔82 وَلَمَّا فَرَغَ عَنْ بَيَانِ أَقْسَامِ الْكِتَابِ شَرَعَ فِي بَيَانِ أَقْسَامِ السُّنَّةِ. فَقَالَ: "بَابُ أَقْسَامِ السُّنَّةِ". السُّنَّةُ تُطْلَقُ عَلَى قَوْلِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِعْلِهِ وَسُكُوتِهِ، وَعَلَى أَقْوَالِ الصَّحَابَةِ وَأَفْعَالِهِمْ. وَالْحَدِيثُ يُطْلَقُ عَلَى قَوْلِ الرَّسُولِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ خَاصَّةً، وَلَكِنْ يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِالسُّنَّةِ هَاهُنَا هُوَ هَذَا فَقَطْ. کتاب اللہ کی بحث مکمل ہوئی۔ آج ہم سنت کی بحث شروع کریں گے۔ کتاب میں سے سنت کی بحث شروع کرنے سے پہلے ایک ضروری بحث لکھ لیجیے آپ سب بھئی۔ لکھیے بھئی، جلدی جلدی لکھتے جائیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کے چار اسماء معروف ہیں: 1. خبر 2. اثر (اثَر 'ث' کے ساتھ بھئی) 3. سنت 4. حدیث بات سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ حدیث ہی کے چاروں نام ہیں بھئی۔ خبر بھی کہتے ہیں اس کو، اثر بھی، سنت بھی، اور حدیث بھی۔ آگے لکھیے، جمہور محدثین کے نزدیک یہ چاروں نام تقریباً مترادف ہیں۔ البتہ بعض محدثین ان میں کچھ فرق کرتے ہیں، جس کی تفصیل اصولِ حدیث کی کتابوں میں آپ پڑھیں گے۔ آگے الگ سطر میں لکھیے، علماء اصولِ فقہ ان چاروں ناموں میں کچھ فرق کرتے ہیں۔ علماء اصولِ فقہ کے نزدیک حدیث نام ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقریرات کا۔ الگ سطر لکھیے بھئی، تقریر کا معنیٰ ہے اثبات، یعنی کسی چیز کو ثابت کرنا۔ تقریرِ نبی علیہ الصلاۃ والسلام کا مطلب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی صحابی کوئی قول یا کوئی فعل کرے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی اختیار فرمائیں اور سکوت فرمائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سکوت اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قول و فعل شرعاً جائز ہے۔ کیونکہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ نبی کے سامنے کوئی ناجائز کام کیا جائے اور نبی اس سے منع نہ فرمائیں۔ پیغمبر کا تو کام ہی اصلاح ہے۔ وہ کوئی غلط کام دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتا۔ یہی محل ہے اس مشہور قول کا: "اَلسُّكُوتُ فِي مَحَلِّ بَيَانٍ بَيَانٌ"۔ لکھ لیا بھئی؟ "اَلسُّكُوتُ فِي مَحَلِّ بَيَانٍ بَيَانٌ"۔ اس فعل کو تقریرِ نبی کہتے ہیں، جیسے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اپنے سابقہ حالات کا سنانا یا کبھی کبھار شعر وغیرہ کا پڑھنا۔ بھئی، لکھ لیا یہاں تک؟ جی، یہاں تک بات سمجھ لیں۔ بھئی، سب سے پہلے آپ کو یہ بتلایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حدیث کے چار نام ہیں بھئی مشہور بھئی: خبر، اثر، سنت اور حدیث۔ کہیں پہ آئے گا خبر لفظ، کہیں آئے گا اثر کا لفظ، کہیں سنت اور کہیں حدیث، یہ چاروں مترادف ہیں۔ اور پھر بتلایا بعض علماء فرق کرتے ہیں ان میں محدثین جو ہیں۔ علماء اصولِ فقہ ان میں فرق کرتے ہیں اور حدیث جو ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقریرات کو کہتے ہیں بھئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقریرات بھئی۔ اقوال و افعال تو آپ جانتے ہیں، حدیث جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ذکر ہو یا جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل ذکر ہو۔ تقریرِ نبی، یہ نیا لفظ آیا بھئی۔ تقریرِ نبی یاد رکھیے، اس کو کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے، پیغمبر کے سامنے کوئی کام کیا جائے اور پیغمبر اس کو دیکھ کر خاموش رہیں، پیغمبر کا خاموش رہنا اس بات کی دلیل ہے یہ کام جائز ہے۔ اگر یہ جائز نہ ہوتا، پیغمبر ضرور اس پر روکتے، ٹوکتے، منع کرتے بھئی۔ کیونکہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ پیغمبر کے سامنے کوئی ناجائز کام کیا جائے اور پیغمبر اسے دیکھ کر خاموش رہیں بھئی۔ پیغمبروں کا تو کام ہی کیا ہے؟ اصلاح ہے بھئی، اصلاح۔ تو یہ ہے تقریرِ نبی۔ جیسے صحابہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اپنے سابقہ حالات کبھی سناتے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہیں فرمایا، معلوم ہوا جائز ہے سنانا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں کبھی کوئی شعر وغیرہ سناتے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہیں فرمایا، معلوم ہوا شعر سنانا بھی جائز ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ ہے تقریرِ نبی بھئی، تقریرِ نبی۔ والد صاحب کے عجیب مولانا استدلالات ہوتے تھے اور عجیب استدلال ان کے بھئی۔ عربی زبان میں اللہ آپ سب کو مہارت نصیب فرمائے، اور پھر آپ حضرت والد صاحب رحمہ اللہ، شیخ الحديث والتفسير حضرت مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ، پھر ان کی کتابیں دیکھیں بھئی، پھر آپ کو اندازہ ہو۔ اور عربی زبان کی فصاحت و بلاغت کا بھی اندازہ ہو، کتنی فصیح اور دلکش عربی ان کی، کہ انسان حیران ہوتا ہے بھئی۔ حتیٰ کہ عرب، عرب علماء، ائمہ، جو آج کے بڑے بڑے علماء عرب کے، وہ بھی حضرت کی عربی دیکھ کر اور فصاحت و بلاغت دیکھ کر حیران رہ جاتے۔ اور کئی مرتبہ یہ تو کئی مرتبہ کا واقعہ کہ حضرت کی کتاب کا ایک آدھ صفحہ پڑھتے ہی وہاں کے بڑے علماء فوراً پوچھتے کہ بھئی، یہ کیا آج کے زمانے ہی کی کتاب ہے؟ یہ تو یوں لگتا ہے کہ سینکڑوں سال پہلے کے جو ہمارے بڑے بڑے فصیح و بلیغ ائمہ گزرے تھے، ان جیسی دلکش اور فصیح عربی ہے، آج کا بڑے سے بڑا عرب بھی اس طرح کی دلکش عربی نہیں لکھ سکتا۔ تو ایسی فصاحت و بلاغت اللہ نے ان کو نصیب فرمائی تھی عربی میں، اور پھر ان کے استدلالات، ایسے زبردست استدلالات ہوتے کہ انسان حیران رہ جاتا بھئی۔ ان کے استدلال کی قوت کا اندازہ لگائیے بھئی، اپنی بعض کتابوں میں لکھتے ہیں ایک جگہ ایک وجہ کو ترجیح دیتے ہوئے۔ آج کل تو دلائل صرف نقل کیے جاتے ہیں بھئی، بعض نے یوں ذکر کی۔ حضرت خود استنباط فرماتے دلائل کا بھئی۔ وہ طریقہ جو آج سے صدیوں پہلے بند ہو چکا، وہ اللہ نے ان کو نصیب فرمایا تھا اور وہ چند، ان گنے چنے علماء میں سے جن کو اللہ نے یہ ملکہ نصیب فرمایا۔ تو وہ ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ اس وجہ کو امام رازی رحمہ اللہ نے ترجیح دی ہے۔ کوفہ اور بصرہ والوں وغیرہ کا اختلاف یہ ذکر کرتے ہوئے، اس پہ ترجیح ذکر کرتے ہیں کہ امام رازی نے اس مذہب والوں کو ترجیح دی ہے اور یہ یہ دلائل ذکر کیے ہیں امام رازی رحمہ اللہ نے۔ اور پھر آگے والد صاحب رحمہ اللہ آگے لکھتے کہ میں بھی اسی کو ترجیح دیتا ہوں جس کو امام رازی رحمہ اللہ نے ترجیح دی ہے۔ لیکن ان دلائل کی وجہ سے نہیں ترجیح دیتا جو امام رازی رحمہ اللہ نے ذکر کیے ہیں، میرے پاس ان سے بھی قوی دلائل موجود ہیں، اور پھر آگے وہ دلائل ذکر کرتے بھئی۔ تو یہ تقریرِ نبی آیا بھئی، تقریرِ نبی کی والد صاحب رحمہ اللہ قرآن سے دلیل ذکر کرتے تھے۔ تقریرِ نبی علماء ذکر کو تو کرتے ہیں، والد صاحب قرآن سے اس کی مثال ذکر کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا جو واقعہ ہے، وہ تقریرِ نبی کی مثال ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت خضر علیہ السلام کے ساتھ روانہ ہوئے بھئی، حضرت خضر علیہ السلام کو اللہ نے تکوینی علم نصیب فرمایا تھا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس تشریعی علم تھا، شریعت کا علم تھا، تو حضرت خضر علیہ السلام جو ہیں انہوں نے ایک جگہ پر، وہ کشتی میں سفر کر رہے تھے، کشتی کو خراب کر دیا، توڑ دیا کچھ۔ دوسری جگہ پہنچے، وہاں پر ایک بچے کو انہوں نے قتل کر دیا، تیسری جگہ پر ایک گاؤں میں پہنچے، بستی میں، ان بستی والوں نے مہمان نوازی سے انکار کر دیا، اور ایک دیوار گرنے والی تھی، حضرت خضر علیہ السلام نے اس کو سیدھا کر دیا، دوبارہ بنا دیا۔ اور ہر جگہ پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ٹوکا بھئی کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ تو والد صاحب فرماتے تھے کہ یہ تقریرِ نبی کی مثال ہے۔ اگرچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے وعدہ کیا کہ میں بولوں گا نہیں، ٹوکوں گا نہیں آپ کو، وعدہ کر کے ساتھ چلے، فرماتے کہ میں بھول گیا، کہتے ہیں ایک بار مرتبہ بھول جاتا ہے انسان یا دو مرتبہ، ہر مرتبہ تو نہیں بھولتا، یہ دراصل تقریرِ نبی کی مثال ہے۔ مثلاً وہ کشتی کو توڑا، بچے کو قتل کیا، تو بظاہر یہ کام تو جائز نہیں تھے۔ تو پیغمبر کے سامنے کوئی ناجائز کام کیا جائے اور پیغمبر خاموش رہے، یہ ہو ہی نہیں سکتا بھئی۔ اسی وجہ سے انہوں نے ہر مرتبہ وہ اسی وجہ سے وہ ہر مرتبہ بولے اور انہوں نے ٹوکا بھئی۔ اور پھر اس سے بڑھ کر آگے والد صاحب فرماتے تھے، ایک عجیب نکتہ بتلاتے تھے، فرماتے تھے کہ انسان جیسے انسان کی حقیقت حیوانِ ناطق ہے بھئی، اسی طرح پیغمبروں کی فطرت میں ایک تیسری چیز داخل ہے کہ وہ ناحق اور ناجائز کو دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتے۔ یہ ان کی فطرت میں داخل ہے! یعنی جیسے انسان کی حقیقت حیوان اور ناطق، یہ حیوان اور ناطق ہونا انسان سے جدا ہو ہی نہیں سکتا کسی صورت میں، اسی طرح پیغمبروں کی حقیقت میں ایک تیسری چیز بھی ہے کہ وہ ناجائز کو دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتے، یہ ان کی فطرت میں داخل ہے بھئی، فطرت۔ اور پھر فرماتے: اس سے بھی بڑھ کر ایک اور نکتہ بتلاؤں، پیغمبروں کی تو فطرت میں داخل ہے اور پیغمبروں کے بعد جو سب سے اعلیٰ جماعت ہے، یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین، ان کی فطرت میں تو نہیں داخل، لیکن ان کے ساتھ لازم ہے۔ ان سے جدا نہیں ہو سکتی یہ بات بھئی، جیسے سورج سے روشنی کبھی جدا نہیں ہو سکتی بھئی۔ اسی طرح صحابہ کرام سے یہ وصف کبھی جدا نہیں ہو سکتا بھئی، یہ ان کے ساتھ لازم ہے بھئی لازم۔ چنانچہ وہ جدر کا رخ کرتے ہیں وہ حق ہی پھیلاتے چلے جاتے ہیں بھئی۔ پیغمبروں کی فطرت میں داخل ہے اور صحابہ کرام کے ساتھ لازم ہے بھئی لازم، جو کسی سے پھر وہ جدا نہ ہو سکے جو چیز بھئی۔ تو یہ ہے مولانا تقرير النبی بھئی۔ اچھا بھئی، آگے لکھیے بھئی، الگ سطر میں لکھیے بھئی۔ عام علمائے اصول فقہ کے نزدیک عام علمائے اصول فقہ کے نزدیک اثر اور خبر بھی مرادفِ حدیث ہیں۔ اثر اور خبر بھی مرادفِ حدیث ہیں، لیکن بعض فقہائے کرام فرق کرتے ہیں لیکن بعض فقہائے کرام فرق کرتے ہیں اور صرف حدیثِ موقوف پر اور صرف حدیثِ موقوف پر اثر کا اطلاق کرتے ہیں۔ صرف حدیثِ موقوف پر اثر کا اطلاق کرتے ہیں، جبکہ خبر کا اطلاق جبکہ خبر کا اطلاق حدیثِ مرفوع اور موقوف جبکہ خبر کا اطلاق حدیثِ مرفوع اور موقوف دونوں پر کرتے ہیں، دونوں پر کرتے ہیں۔ یہ طریقہ ہے صاحبِ ہدایت یہ طریقہ ہے صاحبِ ہدایت اور صاحبِ بدائع کا۔ یہ طریقہ ہے صاحبِ ہدایت اور صاحبِ بدائع کا۔ بدائع: باء، دال، الف اور عین کے ساتھ ہمزہ ملا کر، ہمزہ، عین بھئی۔ الف، ہمزہ، عین، بدائع۔ لکھ لیا بھئی؟ یہ طریقہ ہے صاحبِ ہدایت اور صاحبِ بدائع کا۔ چنانچہ جب ہدایت میں یوں کہا جائے چنانچہ جب ہدایت میں یوں کہا جائے: "کذا فی الحدیث"، "کذا فی الحدیث"، تو حدیثِ مرفوع مراد ہوتی ہے۔ تو حدیثِ مرفوع مراد ہوتی ہے۔ تو حدیثِ مرفوع مراد ہوتی ہے اور جب صرف صحابی کا قول اور جب صرف صحابی کا قول کسی مسئلہ میں کسی مسئلہ میں مروی ہو کسی مسئلہ میں مروی ہو، تو صاحبِ ہدایت تو صاحبِ ہدایت یوں فرماتے ہیں، یوں فرماتے ہیں: "کذا فی الاثر"، "کذا فی الاثر"۔ جبکہ سنت عام ہے، جبکہ سنت عام ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال، کے اقوال و افعال و تقریرات کو بھی شامل ہے، اقوال و افعال و تقریرات کو بھی شامل ہے اور صحابہ کے قول و فعل کو بھی شامل ہے۔ اور صحابہ کے قول و فعل کو بھی شامل ہے۔ آگے الگ سطر میں لکھیے، سنت کا ایک اور معنی بھی ہے، سنت کا ایک اور معنی بھی ہے وہ یہ وہ یہ کہ سنت ایک قسم ہے کہ سنت ایک قسم ہے شریعت کے شریعت کے احکامِ خمسہ یا ستہ میں سے، شریعت کے احکامِ خمسہ یا ستہ میں سے۔ ستہ یعنی چھ بھئی، شریعت کے احکامِ خمسہ یا ستہ میں سے۔ فقہاء لکھتے ہیں فقہاء لکھتے ہیں کہ احکامِ شریعت پانچ ہیں۔ کہ احکامِ شریعت پانچ ہیں۔ نمبر ایک: فرض۔ نمبر ایک: فرض۔ نمبر دو: سنت۔ نمبر دو: سنت۔ نمبر تین: مباح۔ نمبر تین: مباح۔ نمبر چار: مکروہ۔ نمبر چار: مکروہ۔ نمبر پانچ: حرام۔ نمبر پانچ: حرام۔ سنت شامل ہے نوافل کو بھی۔ سنت شامل ہے نوافل کو بھی۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ ایک چھٹی قسم بھی بتلاتے ہیں۔ ایک چھٹی قسم بھی بتلاتے ہیں، جس کا نام واجب ہے۔ جس کا نام واجب ہے۔ واجب کا درجہ فرض سے کم، واجب کا درجہ فرض سے کم اور سنت سے زیادہ ہے۔ اور سنت سے زیادہ ہے۔ دیگر ائمہ اس کے قائل نہیں ہیں۔ دیگر ائمہ اس کے قائل نہیں ہیں۔ تو ان اقسامِ ستہ میں سے تو ان اقسامِ ستہ میں سے ایک کا نام سنت ہے۔ ایک کا نام سنت ہے، جو کہ فرض اور واجب کے مقابل ہے۔ جو کہ فرض اور واجب کے مقابل ہے۔ الگ سطر میں لکھیے بھئی، ماخذ اور اصل کے لحاظ سے ماخذ اور اصل کے لحاظ سے حدیث کی تین قسمیں ہیں۔ حدیث کی تین قسمیں ہیں۔ نمبر ایک: حدیثِ مرفوع۔ نمبر ایک: حدیثِ مرفوع۔ نمبر دو: حدیثِ موقوف، قاف دو نقطوں والا۔ نمبر دو: حدیثِ موقوف۔ نمبر تین: حدیثِ مقطوع، قاف دو نقطوں والا،طاء اور آخر میں عین بھئی، مقطوع۔ آگے عنوان دیں بھئی، حدیثِ مرفوع۔ حدیثِ مرفوع۔ مرفوع وہ حدیث ہے مرفوع وہ حدیث ہے جس میں نبی علیہ الصلاۃ والسلام کے جس میں نبی علیہ الصلاۃ والسلام کے قول و فعل کا ذکر ہو۔ کہ قول و فعل کا ذکر ہو۔ اگلا عنوان دیں بھئی، حدیثِ موقوف۔ حدیثِ موقوف۔ موقوف وہ حدیث ہے موقوف وہ حدیث ہے جس میں صحابی کا قول و فعل مذکور ہو۔ جس میں صحابی کا قول و فعل مذکور ہو۔ آگے لکھیے، حدیثِ مقطوع۔ حدیثِ مقطوع۔ مقطوع وہ حدیث ہے مقطوع وہ حدیث ہے جس میں تابعی کا قول و فعل ذکر ہو۔ جس میں تابعی کا قول و فعل ذکر ہو۔ آگے عنوان دیجیے، حکم۔ حکم۔ حدیثِ مرفوع بالاتفاق حدیثِ مرفوع بالاتفاق مسائلِ شرعیہ میں حجت اور دلیل ہے۔ مسائلِ شرعیہ میں حجت اور دلیل ہے۔ اور واجب الاتباع ہے۔ اور واجب الاتباع ہے۔ اور حدیثِ موقوف بھی اور حدیثِ موقوف بھی مسائلِ شرعیہ میں حجت ہے۔ مسائلِ شرعیہ میں حجت ہے۔ بشرطیکہ اس مسئلہ میں بشرطیکہ اس مسئلہ میں حدیثِ مرفوع موجود نہ ہو۔ حدیثِ مرفوع موجود نہ ہو۔ حدیثِ مقطوع حجت نہیں ہے۔ حدیثِ مقطوع حجت نہیں ہے۔ اگر قرآن و سنت کی مؤید ہو اگر قرآن و سنت کی مؤید ہو تو بہتر، تو بہتر، ورنہ مستقل حجت اور دلیل نہیں ہے۔ ورنہ مستقل حجت اور دلیل نہیں ہے۔ ہاں موجبِ اطمینان و تسکین ضرور ہے۔ ہاں موجبِ اطمینان و تسکین ضرور ہے۔ آگے الگ سطر لکھیے بھئی، الگ بحث ہے۔ حدیث کی تقسیم باعتبارِ عددِ روات، حدیث کی تقسیم باعتبارِ عددِ روات، روات جمع ہے راوی کی بھئی، روات۔ یعنی باعتبارِ عددِ رجالِ حدیث، یعنی باعتبارِ عددِ رجالِ حدیث، بہ ایں لحاظ حدیث کی تقسیم دو طرح ہے۔ بہ ایں لحاظ بہ ایں لحاظ حدیث کی تقسیم دو طرح ہے۔ ایک تقسیم علمائے اصولِ فقہ والوں کی ہے ایک تقسیم علمائے اصولِ فقہ والوں کی ہے اور ایک تقسیم محدثین کی ہے۔ اور ایک تقسیم محدثین کی ہے۔ لکھ لیا بھئی؟ آگے الگ عنوان دیں، تقسیمِ اول۔ تقسیمِ اول۔ علمائے اصولِ فقہ کے نزدیک علمائے اصولِ فقہ کے نزدیک حدیث کی تقسیم ثلاثی ہے۔ حدیث کی تقسیم ثلاثی ہے۔ یعنی وہ اس کی تین قسمیں بناتے ہیں۔ یعنی وہ اس کی تین قسمیں بناتے ہیں۔ خبرِ متواتر، خبرِ مشہور اور خبرِ واحد۔ خبرِ متواتر، خبرِ مشہور اور خبرِ واحد۔ آگے عنوان الگ دیں بھئی، وجہِ حصر۔ وجہِ حصر، حاء، صاد، راء، حصر۔ وجہِ حصر تو جانتے ہی ہیں بھئی، ہر جگہ ذکر آتا ہے، یعنی تین قسمیں کیوں ہیں، تین میں کیوں بند کیا؟ وجہِ حصر لکھیے آگے: وجہِ حصر یہ ہے وجہِ حصر یہ ہے کہ اگر حدیث کے روایت کرنے والے کہ اگر حدیث کے روایت کرنے والے ہر زمانے میں اتنے زیادہ ہوں ہر زمانے میں اتنے زیادہ ہوں کہ عقل ان کے جھوٹ پر کہ عقل ان کے جھوٹ پر جمع ہونے کو محال سمجھے کہ عقل ان کے جھوٹ پر جمع ہونے کو محال سمجھے تو یہ متواتر ہے۔ تو یہ متواتر ہے۔ اور اگر اتنے زیادہ نہ ہوں اور اگر اتنے زیادہ نہ ہوں تاہم صحابہ کے علاوہ تاہم صحابہ کے علاوہ کسی طبقہ میں روایت کرنے والے تین سے کم نہ ہوں، تو یہ خبر مشہور ہے۔ اور اگر روایت کرنے والے تین سے کم ہوں، یعنی دو ہوں یا دو سے کم ہوں، تو وہ خبر واحد ہے۔ خبر واحد کو خبر آحاد بھی کہتے ہیں۔ خبر متواتر سے یقینی علم حاصل ہوتا ہے۔ نیز خبر متواتر میں راویوں کی کوئی تعداد متعین نہیں، بلکہ عقل کے سپرد ہے۔ بعض علماء لکھتے ہیں کہ خبر متواتر میں کم از کم چار راویوں کا ہونا ضروری ہے۔ بعض نے 10 کہے، بعض نے 12، بعض نے 20، بعض نے 40، اور بعض نے 70 کی تعداد لکھی ہے۔ مگر جمہوری کے نزدیک کوئی تعداد متعین نہیں، ہاں اتنی تعداد ضرور ہو کہ عقل یہ تسلیم کرے کہ اتنے لوگ جھوٹ پر جمع نہیں ہو سکتے۔ یہاں تک لکھ لیا بھئی؟ بھئی دیکھیے! یہ تقسیم ہے حدیث کی راویوں کے اعتبار سے، کہ حدیث کو روایت کرنے والے ہر ہر طبقے میں، ہر ہر زمانے میں کتنے لوگ ہیں بھئی؟ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ ابتدائے اسلام میں اللہ نے ایسے علماء کو پیدا فرما دیا جنہوں نے احادیث کی حفاظت کی اور دین کو ہم تک صحیح صورت میں پہنچایا۔ اور پھر یہ جو روایت کرنے والے ہوتے تھے، دین کی باتیں روایت کر رہے ہیں، احادیث روایت کر رہے ہیں، اس کے لیے باقاعدہ ایک پھر علم بعد میں علماء نے مدون کیا بھئی، اور اس کو علم رجالِ حدیث کہا جاتا ہے، جس میں راویوں، ایک ایک راوی کے بارے میں پھر بحث ہوتی ہے کہ یہ کس قسم کا انسان تھا، قابل اعتماد ہے یا نہیں، نیک شخص تھا، سچ بولنے والا تھا، قابل اعتماد تھا وغیرہ۔ تو یہ ایک بہت بڑا علم ہے۔ تو بہرحال یہ تو آگے کی بات ہے، پھر اس وقت بات چل رہی ہے راویوں کی تعداد کے اعتبار سے کہ ہر ہر طبقے میں، بھئی صحابہ میں ایک حدیث ہے مثلاً وہ اس صحابہ میں کتنے لوگ ہیں اس کو روایت کرنے والے؟ تابعین میں پھر آگے کتنے لوگ ہیں اس کو روایت کرنے والے؟ پھر تبع تابعین کے اندر کتنے ہیں اس کو روایت کرنے والے بھئی؟ جتنے زیادہ، جتنی بڑی تعداد ہوگی اتنی ہی حدیث قابل اعتماد ہو جائے گی کہ یہ یقیناً یقیناً حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی بات ہے، اس میں کسی قسم کے شک و شبہے کی گنجائش نہیں بھئی۔ تو یہ پہلا درجہ خبر متواتر کا ہے۔ خبر متواتر جس کو روایت کرنے والے ہر ہر طبقے میں، صحابہ میں، تابعین میں، تبع تابعین میں اتنے اتنے لوگ روایت کرنے والے ہوں کہ عقل خود یہ فیصلہ کر دے کہ بھئی اتنے لوگ تو جھوٹ نہیں بول سکتے، یقیناً یقیناً یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی بات ہے بھئی۔ تو یہ کیا ہے؟ خبر متواتر بھئی! تو اولاً اس طرح حدیث روایت ہوتی تھی، بعض علماء لکھتے بھی تھے اور روایت ہوتی تھیں، پھر باقاعدہ کتابی شکل میں آ کر امام بخاری رحمہ اللہ، امام مسلم رحمہ اللہ، امام ترمذی رحمہ اللہ، انہوں نے آ کر پھر باقاعدہ کتابی شکل میں جمع کر دیا ان احادیث کو بھئی۔ تو یہ جو راویوں کی تعداد کے اعتبار سے جو ہے حدیث، تین قسم پر ہے بھئی، اور یہ کس کی تقسیم ہے؟ علماء اصول فقہ والوں کی بھئی۔ پہلی خبر متواتر ہے جس کے روایت کرنے والے اتنے زیادہ ہوں کہ عقل خود بتلا دے کہ اتنے لوگ جھوٹ نہیں بول سکتے، یقیناً قطعی طور پر بات اسی طرح ہے بھئی۔ اور اگر روایت کرنے والے اتنے زیادہ نہیں لیکن کسی بھی طبقے میں تین سے کم نہیں تو اس کو خبر مشہور کہا جاتا ہے، اور اگر کسی طبقے میں یا تمام طبقات میں تین سے راوی کم ہو جائیں تو اس کو خبر واحد بھی کہتے ہیں اور خبر آحاد بھی کہتے ہیں بھئی، خبر آحاد بھی۔ اور بعض علماء نے راویوں کی تعداد لکھی خبر متواتر کے لیے کم از کم ہر طبقے میں چار راوی ہونے چاہئیں، بعضوں نے کہا ہر طبقے میں کم از کم 10 ہونے چاہئیں، بعضوں نے کہا 12، لیکن عند الجمهور کوئی تعداد متعین نہیں، بس اتنی تعداد ہو کہ انسان کی عقل خود فیصلہ کر لے کہ بھئی اتنے لوگ جھوٹ نہیں بول سکتے بھئی، یقیناً یہ بات سچی ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دوسری آگے لکھیے تقسیم ثانی، عنوان لکھیے تقسیم ثانی۔ بھئی یہ حدیث کی تقسیم ہے راویوں کی تعداد کے اعتبار سے، اور بتلایا اس میں علماء اصول فقہ اور محدثین کا الگ الگ طریقہ ہے۔ علماء اصول فقہ کا طریقہ آپ نے پڑھ لیا، اب علماء محدثین کا طریقہ بھی لکھ لیجیے بھئی، تقسیم ثانی بھئی۔ محدثین کے نزدیک حدیث کی تقسیم ثنائی ہے، ث کے ساتھ ہے بھئی ث، ثنائی۔ یعنی وہ اس کی دو قسمیں بناتے ہیں: خبر متواتر اور خبر آحاد، یعنی خبر واحد۔ آگے لکھیے وجہ حصر۔ وجہ حصر یہ ہے کہ حدیث کو روایت کرنے والی جماعت ہر زمانے اور ہر طبقے میں اتنی بڑی ہو کہ عقلاً ان کا اجتماع علی الکذب محال ہو، اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ خبر آحاد ہے۔ خبر آحاد نام ہے، راوی کا ایک ہونا ضروری نہیں۔ خبر آحاد مفیدِ ظن ہے عند الاکثر، جبکہ خبر متواتر مفیدِ علمِ یقینی ہے۔ متواتر احادیث بہت قلیل ہیں۔ پھر محدثین خبر واحد کی تین قسمیں بناتے ہیں: خبر مشہور، خبر عزیز، خبر غریب۔ آگے لکھیے وجہ حصر۔ وجہ حصر یہ ہے کہ اگر حدیث کو روایت کرنے والی جماعت اتنی بڑی نہ ہو، لیکن کسی طبقے اور کسی زمانے میں راوی تین سے کم نہ ہوں تو یہ خبر مشہور ہے۔ اور اگر حدیث کے روایت کرنے والے کسی طبقے میں دو ہوں یا تمام طبقات میں دو ہوں تو وہ خبر عزیز ہے۔ اور اگر کسی طبقے میں یا تمام طبقات میں راوی ایک ہو تو وہ حدیث غریب ہے۔ پس محدثین کے نزدیک خبر مشہور قسم ہے خبر واحد کی، جبکہ عند الفقہاء خبر مشہور مقابل ہے خبر واحد کے۔ فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ محدثین کے نزدیک خبر مشہور خبر واحد کی قسم ہے، جبکہ فقہاء کے نزدیک خبر مشہور خبر واحد کے مقابل ہے۔ آگے لکھیے حکم بھئی، حکم۔ خبر متواتر پر اعتقاد بھی واجب ہے اور عمل بھی، یعنی اس کے حق ہونے کا عقیدہ رکھنا بھی فرض ہے اور اس پر عمل کرنا بھی فرض ہے۔ اس کا رد کرنا اور انکار کرنا کفر ہے۔ خبر متواتر کے ذریعے کتاب اللہ کے کسی حکم پر زیادتی کرنا بھی جائز ہے، اور اس کے ذریعے کتاب اللہ کے کسی حکم کو منسوخ کرنا بھی جائز ہے۔ خبر مشہور پر عمل تو واجب ہے مگر اعتقاد واجب نہیں۔ نیز خبر مشہور کے ذریعے، نیز خبر مشہور کے ذریعے، کتاب اللہ کے کسی حکم پر، کتاب اللہ کے کسی حکم پر، زیادتی کرنا تو جائز ہے، زیادتی کرنا تو جائز ہے، مگر کتاب اللہ کے کسی حکم کو، مگر کتاب اللہ کے کسی حکم کو، خبر مشہور سے منسوخ کرنا جائز نہیں۔ خبر مشہور سے منسوخ کرنا جائز نہیں۔ جبکہ خبر واحد کے ذریعے، نیز جبکہ خبر واحد کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی کرنا بھی جائز نہیں، کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی کرنا بھی جائز نہیں، یعنی شرط اور واجب کے درجے میں، یعنی شرط اور واجب کے درجے میں، کتاب اللہ پر، کتاب اللہ پر خبر واحد کے ذریعے زیادتی جائز نہیں۔ یہ جائز نہیں۔ نیز خبر واحد پر عمل کے واجب ہونے میں بھی، نیز خبر واحد پر، نیز خبر واحد پر عمل کے واجب ہونے میں بھی، علماء کا اختلاف ہے۔ علماء کا اختلاف ہے۔ بھئی بحث مکمل ہوئی بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ محدثین کیا تقسیم کرتے ہیں، سنائی دو قسمیں بناتے ہیں خبر مشہور کے مقابلے میں خبر متواتر اور خبر آحاد، اور پھر خبر آحاد یا خبر واحد جو ہے اس کی آگے تین قسمیں بناتے ہیں مشہور، عزیز اور غریب، مشہور جس کے روایت کرنے والے کسی زمانے میں تین سے کم نہ ہوں، غریب جس کے روایت کرنے والے کسی طبقے میں یا تمام طبقات میں دو ہوں، اور اور تیسرا غریب جس کے روایت کرنے والے کسی ایک طبقے میں یا تمام طبقات میں ایک ہوں، اور پھر یہ بھی آپ نے پڑھا خبر متواتر جو ہے اس سے یقینی علم حاصل ہوتا ہے، اس میں کسی قسم کے شک اور شبے کی گنجائش نہیں، لہذا اس پر اعتقاد رکھنا بھی واجب اور عمل رکھ کرنا بھی واجب ہے، اور اس کا رد کرنا کفر ہے، جبکہ خبر مشہور اس سے کم درجے کی ہے، اس پر عمل تو واجب ہے لیکن اعتقاد رکھنا واجب نہیں بھئی، اور اس کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی کرنا جائز ہے خبر متواتر کے لیے تو کتاب اللہ کو منسوخ کرنا بھی جائز ہے، لیکن خبر مشہور کے لیے منسوخ تو نہیں کرسکتے، البتہ کتاب اللہ پر زیادتی کی جا سکتی ہے یعنی شرط اور واجب کے درجے میں، جبکہ خبر واحد کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی جائز نہیں، یعنی شرط اور واجب کے درجے میں زیادتی نہیں کر سکتے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی اچھی طرح یہاں تک بھئی؟ چلیے بس بھئی باقی پھر آگے کل کتاب شروع کر لیں گے۔ بس بھئی ہذا ہو المرام، واللہ اعلم بحقیقت الکلام۔
84 approved lectures · 36 of 84