Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-074

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 11 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 16
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔74 ثم لما كانت تمسكات أبي حنيفة رحمه الله تعالى منحصرة في الأربع، أعني العبارة والإشارة والدلالة والاقتضاء، وكان من سواه من العلماء يتمسكون بوجوه أخر أيضاً سواها، أورد المصنف رحمه الله تعالى فصلاً بعد ذلك لتحقيقها وبيان فسادها، فقال: فصل: التنصيص على الشيء باسمه العلمي يدل على الخصوص عند البعض. ثم لما كانت تمسكات أبي حنيفة رحمه الله منحصرة في الأربع. پھر جب امام اعظم ابو حنيفة رحمه الله کے تمسكات، تمسك کا معنیٰ وہی استدلال ہے۔ جب امام اعظم ابو حنيفة رحمه الله کے استدلالات بند تھے چار میں، أعني العبارة والإشارة والدلالة والاقتضاء، یعنی کہ عبارة، اشارة، عبارة النص، اشارة النص، دلالة النص اور اقتضاء النص. امام صاحب کے استدلالات انہی میں بند ہیں۔ بند ہیں وہ فرماتے ہیں استدلال یا تو عبارة النص سے ہوگا، یا اشارة النص سے ہوگا، یا دلالة النص سے، یا اقتضاء النص سے ہوگا۔ جبکہ بعض اور علماء اور فقہاء جو ہیں وہ اور چیزوں کے ذریعے بھی استدلال کرتے ہیں۔ لیکن وہ ہمارے نزدیک درست نہیں، تو چنانچہ مصنف اس فصل کے اندر ان دوسری چیزوں کو ذکر کریں گے جن کو جن سے اور علماء استدلال کرتے ہیں، لیکن ہمارے نزدیک وہ صحیح نہیں۔ تو مصنف ان کی تحقیق کریں گے اور ان کے فساد کو بیان کریں گے کہ کس طرح یہ فاسد ہیں، ہمارے نزدیک یہ کیوں معتبر نہیں ہیں بھئی۔ وكان من سواه من العلماء اور ان کے علاوہ جو علماء ہیں یعنی فقہاء ہیں، يتمسكون بوجوه أخر أيضاً سوا هذه وہ استدلال کرتے ہیں اور بھی وجوه، وجوہ سے أيضاً سوا هذه، علاوہ اس کے۔ وہ ان چار کے علاوہ اور وجوہ سے بھی استدلال کرتے ہیں، فأورد، فأورد المصنف فصلاً بعد ذلك، تو مصنف ایک فصل لے کر آئے اس کے بعد، یعنی ان چار قسموں کے بعد، لتحقيقها وبيان فسادها ان دوسری وجوہات کی تحقیق کے لیے اور ان کے فساد کو بیان کرنے کے لیے، فقال، پس فرمایا: فصل. التنصيص على الشيء باسمه العلمي يدل على الخصوص عند البعض. تنصیص کا معنیٰ ہے تصریح کرنا۔ تصریح کرنا، نص لانا اس پر بھئی۔ التنصيص على الشيء، کسی چیز پر نص لانا باسمه العلمي اس کے نام علم کے ساتھ، اس کے نام یعنی علم کے ساتھ، يدل على الخصوص، یہ خصوص پر دلالت کرتا ہے عند البعض، بعض فقہاء کے نزدیک بھئی۔ بعض فقہاء فرماتے ہیں بھئی، جب کسی چیز پر نص لائی جائے اور اس چیز کا علم ذکر کر دیا جائے، تو یہ اس کا جو علم ذکر کیا گیا، یہ بتلا دیتا ہے کہ یہ حکم اگر اس چیز کا ہے، مثلاً اگر اس کے لیے اثبات ہے تو باقیوں سے حکم کی نفی ہے، اور اگر اس سے نفی ہے تو باقیوں کے لیے حکم کا اثبات ہے۔ یہ ہے تخصیص بھئی، تخصیص۔ تو بعض فقہاء فرماتے ہیں جب کسی چیز پر کوئی نص لائی جائے، کوئی حکم لگایا جائے اور اس چیز کو اس کے علم کے ساتھ ذکر کیا جائے، تو یہ اس کا نام، اس کا جو نام کو ذکر کیا گیا، علم کو ذکر کیا گیا اور اس پر نص لائی گئی، یہ خصوص پر دلالت کرتا ہے۔ خصوص کا کیا معنیٰ؟ کہ یہ حکم اسی کے ساتھ خاص ہے، باقیوں سے حکم کی نفی کر دیتا ہے۔ التنصيص على الشيء، تنصیص، نص لانا کسی چیز پر باسمه العلمي اس کے اسم یعنی کہ علم کے ساتھ يدل على الخصوص یہ دلالت کرتا ہے خصوص پر عند البعض بعض فقہاء کے نزدیک۔ هذا وجه أول من من الوجوه الفاسدة، یہ پہلی وجہ ہے وجوہِ فاسدہ میں سے۔ أي الحكم على العلم يدل على نفيه عن غيره عند البعض، یعنی حکم لگانا کس علم پر، کس پر حکم لگانا؟ علم پر حکم لگانا، یہ دلالت کرتا ہے على نفيه، نفیِ حکم پر عن غيره اس کے علاوہ سے عند البعض بعض فقہاء کے نزدیک۔ کہ جب ایک حکم علم پر لگایا جائے تو یہ دلالت کرتا ہے کہ اس کے علاوہ سے حکم کی نفی ہے بھئی۔ یہ بعض فقہاء فرماتے ہیں۔ والمراد بالعلم، جی، متن میں علم کا لفظ آیا تھا، شارح آپ کو بتلائیں گے کہ علم سے وہ علم نہیں مراد جو آپ نے نحو میں پڑھا ہے، کسی کا نام ہو، کسی متعین ذات پہ جو دلالت کرتا ہے۔ وہ نہیں۔ وجہ اس کی یہ کہ آگے حدیث آ رہی ہے: الماء من الماء. الماء من الماء، اور یہ جو ماء ہے، یہ بھی علم ہے، یہ بھی کیا ہے؟ علم۔ اب حالانکہ یہ وہ نحوی علم تو نہیں، نحوی علم تو جو کسی کا نام ہو، تو شارح بتلائیں گے بھئی کہ ہاں وہ نحوی علم مراد نہیں ہے بلکہ چاہے وہ علم ہو، چاہے وہ اسمِ جنس ہو۔ یعنی ایسا اسم ہو جو صرف ذات پر دلالت کرے، وصف پر دلالت نہ کرے۔ وہ ہے علم۔ ایسا اسم ہو جو ذات پر تو دلالت کرے، کسی صفت پر دلالت نہ کرے، تو پھر یہ علم ہے بھئی۔ چاہے وہ حقیقتاً علم ہو، جیسے زید، عمر، بکر، یا چاہے اسمِ جنس ہو۔ اسمِ جنس، جیسے ماء کا لفظ آگے آ رہا ہے، یہ اسمِ جنس ہے بھئی۔ اسمِ جنس اسے کہتے ہیں جو قلیل اور کثیر پر صادق آتا ہے۔ اور جس کے اجزاء ایک دوسرے جیسے ہوتے ہیں، ان میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ اسمِ جنس کسے کہتے ہیں؟ جو قلیل اور کثیر پر صادق آئے اور جس کے اجزاء ایک جیسے ہوں، ان میں کوئی فرق نہ ہو۔ پانی تھوڑا ہو پھر بھی آپ کہتے ہیں هذا ماء، یہ پانی ہے۔ بہت زیادہ ہو پھر بھی آپ کہتے ہیں هذا ماء، یہ پانی ہے۔ قلیل پر بھی صادق آتا ہے اور کثیر پر بھی۔ اور ایک پانی کے آپ 10 حصے کر دیں تو ہر حصہ ایک دوسرے جیسا ہی ہے، ان میں کوئی فرق نہیں۔ تو اسمِ جنس وہ جو قلیل اور کثیر پر بھی صادق آئے اور جس کے اجزاء بھی ایک جیسے ہوں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ پانی کے 10 حصے بھی کر دیں، وہ سب ایک دوسرے جیسے ہیں، ان میں کوئی فرق نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: والمراد بالعلم ها هنا، اور علم سے مراد یہاں پر هو اللفظ الدال على الذات دون الصفة وہ لفظ ہے جو دلالت کر رہا ہو ذات پر نہ کہ صفت پر، سواء كان علماً أو اسم جنس برابر ہے کہ وہ علم ہو یا اسمِ جنس ہو۔ تو جب یہ قید لگا دی: وہ لفظ ہے جو دلالت کر رہا ہو ذات پر نہ کہ صفت پر، تو اب ماء کا لفظ بھی داخل ہوا، کیونکہ وہ بھی صرف ذات پہ دلالت کر رہا ہے، کسی وصف پر دلالت نہیں کرتا۔ وبالبعض، اور انہوں نے کہا: عند البعض، بعض فقہاء کے نزدیک یہ قانون ضابطہ ہے۔ وہ کون ہیں بعض؟ وہ بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وبالبعض هو بعض الأشعرية والحنابلة، اور وہ بعض جو ہیں وہ بعض اشاعرہ ہیں اور حنابلہ ہیں بھئی، بعضِ اشاعرہ اور بعضِ حنابلہ ہیں۔ اشاعرہ، اشعریہ، یہ امام ابو الحسن الأشعري رحمه الله تعالى رحمة واسعة کے متبعین بھئی، جو امام ہیں عقائد کے بھئی۔ جس طرح فروع میں ہمارے امام ہیں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ، اسی طرح یاد رکھیے عقائد کے اندر ہمارے امام ہیں امام ابو منصور ماتریدی اور دوسرے امام ہیں عقائد کے اندر مشہور امام ابو الحسن الأشعري رحمہ اللہ بھئی۔ امام ابو الحسن الأشعري بھئی۔ تو وہ بعضِ اشاعرہ والحنابلة، حنابلہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ رحمة واسعة کے مذہب والے بھئی۔ تو وہ سب نہیں بھئی، انہوں نے کہا بعضِ اشعریہ اور بعضِ حنابلہ کا یہ مذہب ہے کہ جب کسی چیز کے پر نص لائی جائے اس کے علم کے ساتھ تو وہ اس کی تخصیص پر دلالت کرتا ہے۔ ويسمى هذا مفهوم اللقب عندهم، اور اس کو مفہومِ لقب کہا جاتا ہے ان کے نزدیک، والأصل فيه، اور اصل اس کے اندر یہ ہے کہ أن ما يفهم من اللفظ إما أن يفهم من صريح اللفظ، بھئی دیکھیے، یہاں دو چیزیں سمجھ لیں اچھی طرح۔ ایک ہے منطوق بھئی، منطوق۔ نطق سے ہے، ط ہے بھئی، آگے مصنف بھی اس کو بیان کریں گے۔ ایک ہے منطوقِ کلام، ایک ہے مفہومِ کلام۔ منطوقِ کلام، یہ بھی مفہوم کا نام ہے۔ لیکن کلام کسی کی بات کو، کلام کو سنتے ہی بغیر غور و فکر کے اولاً جو معنیٰ ذہن میں آئے، اسے کہتے ہیں منطوقِ کلام۔ کلام کو سنتے ہی بغیر غور و فکر کے اولاً جو معنیٰ ذہن کے اندر آئے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ منطوقِ کلام۔ اور جو معنیٰ غور و فکر کے بعد سمجھ میں آئے، اس کو کہتے ہیں مفہومِ کلام بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ مفہومِ کلام۔ تو منطوقِ کلام، جو بغیر غور و فکر کے جو معنیٰ سمجھ میں آ جائے۔ مفہومِ کلام، جو غور و فکر کے بعد سمجھ میں آئے۔ جیسے دیکھیے مثال سے وضاحت ہوگی۔ بھئی، میرا گمان تھا کسی بات کے بارے میں کہ وہ بات آپ نے بھی کی ہے اور زید نے بھی کی ہے، دونوں نے یہ بات کی ہے۔ یا میرا یہ خیال ہے کہ آپ نے کی ہے، زید نے نہیں کی بھئی، جو بھی صورت آپ بنا لیں۔ چاہے میرا یہ گمان ہو دونوں نے کی ہے یا میرا یہ خیال ہے کہ آپ نے کی ہے، زید نے نہیں کی، چنانچہ میں نے آپ سے کہا آپ نے یہ بات کی ہے۔ آپ اگر جواب میں یوں کہتے ہیں: ما قلت هذا، میں نے نہیں کہا یہ۔ میں نے، میں نے یہ نہیں کہا۔ تو آپ نے صرف اپنے سے نفی کی، یہاں کوئی تخصیص والا معنیٰ نہیں۔ لیکن علماء علمِ معانی والوں کا ضابطہ اگر یہاں پر آپ لگائیں تو پھر تخصیص پیدا کر سکتے ہیں آپ کلام میں تبدیلی کر کے۔ علمِ معانی کے اندر انشاء اللہ اگلے سال آپ پڑھیں گے بھئی، کہ جب مسندِ فعلی پر مسند الیہ کو مقدم کر دیا جائے اور اس کے ساتھ حرفِ نفی ملا ہو تو وہ تخصیص کا فائدہ دیتا ہے۔ بھئی ایک مسند الیہ ہوتا ہے کلام میں یعنی مبتدا یا محکوم علیہ کہہ لیں یعنی فاعل اور ایک کیا ہوتا ہے؟ مسند۔ اب مثلاً میں کہتا ہوں أنا قلت. أنا قلت. تو أنا کو کیا بنائیں گے؟ مبتدا، قلت فعل با فاعل، اور یہ پورا جملہ فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ ہو کر خبر بنے گا۔ تو أنا ہوا مبتدا یعنی مسند الیہ، اور اس مسند الیہ کو مسندِ فعلی پر مقدم کیا گیا ہے۔ آگے مسند کیا آ رہا ہے؟ فعل۔ اس فعل پر، اس مسندِ فعلی پر مسند الیہ کو کیا کر دیا گیا؟ مقدم کر دیا گیا۔ اور پھر اس کے ساتھ آپ حرفِ نفی بھی ملا دیتے ہیں: ما أنا قلت هذا. ما أنا قلت هذا. تو چنانچہ بھئی علمِ معانی والے بتلاتے ہیں بھئی کہ مسندِ فعلی پر جب مسند الیہ کو مقدم کر دیا جائے اور اس کے ساتھ حرفِ نفی ملا ہوا ہو، تو وہ تخصیص کا فائدہ دے گا۔ لہٰذا اب کلام کا معنیٰ کیا ہوگا؟ یہ میں نے تو نہیں کہا۔ یہ، یہ میں نے تو نہیں کہا۔ کیا سمجھ میں آیا اس سے؟ اپنے سے نفی کی ہے، میں نے نہیں کہا، اور غیر کے لیے اثبات کیا ہے بھئی۔ تو آپ اگر میرا گمان تھا کہ آپ نے بھی بات کی ہے، زید نے بھی بات کی ہے، آپ نے جواب میں اگر آپ یہ کہیں: ما قلت هذا، میں نے نہیں کہا، تو اس سے آپ اپنے سے نفی تو کر رہے ہیں لیکن دوسرے کے لیے اثبات نہیں ہے، اس میں تخصیص نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ جواب میں مجھے کہتے ہیں: ما أنا قلت هذا، یہ میں نے تو نہیں کہا، معلوم ہوا غیر نے کہا ہے۔ اپنے سے نفی کی ہے تو غیر کے لیے اثبات کیا ہے۔ تو اس کلام کا ایک ظاہری معنیٰ ہے اور ایک جو بغیر غور و فکر کے سمجھ میں آیا، اور وہ کیا؟ آپ نے اپنے سے نفی کی اس بات کی۔ یہ ہے ظاہری معنیٰ۔ اور جب غور کیا، تو پتہ چلا یہاں تخصیص ہے، یہ تخصیص ہے مفہومِ کلام بھئی۔ منطوقِ کلام کیا تھا؟ آپ اپنے سے جو آپ نے نفی کی۔ اور جو غیر کے لیے اثبات کیا تخصیص آئی، یہ تخصیص کیا ہے؟ مفہومِ کلام بھئی۔ تو منطوقِ کلام، جو بغیر غور و فکر کے سمجھ میں آئے اور مفہومِ کلام، جو غور و فکر کے بعد سمجھ میں آئے۔ چنانچہ اسی وجہ سے علماء لکھتے ہیں یہ کلام کہنا غلط ہے: ما أنا قلت هذا ولا غيري. ما أنا قلت هذا ولا غيري. کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ پہلے کلام کا منطوق تو ہے میں نے نہیں کہا، لیکن مفہوم کیا ہے؟ کہ میرے غیر نے کہا ہے، میرے غیر نے۔ تو پہلے جز کا مفہومِ کلام ہوا کہ میرے غیر نے کہا ہے، اور آگے آیا: ولا غيري، اس کا منطوق بتلا رہا ہے کہ غیر نے بھی نہیں کہا، تو دونوں میں تضاد آ گیا بھئی، تناقض آیا دونوں کے اندر۔ پہلے فقرے کا مفہوم بتلا رہا ہے غیر نے کہا ہے، دوسرے کا منطوق بتلا رہا ہے کہ غیر نے نہیں کہا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہی دیکھیے اب کتاب پر: والأصل فيه، اور ضابطہ اس کے اندر، اصل اس کے اندر یہ ہے اس وجہِ فاسد کے اندر کہ أن ما يفهم من اللفظ، کہ وہ جو لفظ سے سمجھ میں آتا ہے یعنی مفہوم ہوتا ہے وہ معنیٰ، إما أن يفهم من صريح اللفظ، یا تو وہ معنیٰ سمجھ میں آئے گا صریح لفظ سے ہی، وهو المنطوق، اور وہ منطوق ہے، أو لا، یا صریح لفظ سے سمجھ میں نہیں آئے گا، وهو المفهوم، وہ کیا ہے؟ مفہوم ہے۔ میں نے واضح تعریف بیان کر دیا آپ کے لیے۔ پھر کہتے ہیں: والمفهوم نوعان، مفہوم دو قسم پر ہے: مفهوم موافقة، ایک تو مفہومِ موافقت ہے، اور ایک مفہومِ مخالفت ہے بھئی۔ اس کو بھی پہلے سمجھ لیں۔ مفہومِ موافقت نام سے ہی پتہ چل رہا ہے۔ دیکھیے، مفہومِ موافقت یہ ہے کہ ایک چیز کے لیے ایک حکم ذکر کیا گیا۔ تو یہ تو مذکور کے لیے حکم ذکر ہوا، غیرِ مذکور کے لیے بھی یہی حکم ثابت کرنا یہ ہے مفہومِ موافقت۔ جو مذکور کے لیے تھا، وہی مفہوم کس کے لیے؟ غیر... جیسے بھئی، اسی کو ہمارے نزدیک وہ دلالة النص کہتے ہیں۔ جیسے حضرت ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے رجم کی سزا ثابت ہوئی تھی عبارة النص سے، انہی کے بارے میں آیا تھا۔ جبکہ جو غیرِ مذکور ہے، جس کا ذکر نہیں، کوئی اور اگر اس طرح کرتا ہے تو اس کے لیے بھی یہی حکم آئے گا رجم والا، لیکن کس طریقے پر؟ دلالة النص کے طریقے پر۔ اسی کے موافق ہے دیکھو، یہ اسی کے مطابق ہے غیرِ مذکور کے لیے بھی وہی حکم۔ یہ ہے مفہومِ موافقت۔ اور ایک ہے مفہومِ مخالفت بھئی۔ مفہومِ مخالفت یہ ہے جس میں غیرِ مذکور کے لیے حکم مذکور سے عکس ہو، اس کے مخالف ہو بھئی، مخالف ہو۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ اس کے مخالف ہو۔ جیسے بھئی... آگے مثال ذکر ہوگی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اور جو شخص تم میں سے قدرت نہیں رکھتا أَنْ يَنْكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ کہ وہ پاک دامن مومنہ عورتوں سے نکاح کر لے فَمِنْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ تو وہ عورتیں جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہیں مِنْ فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ یعنی کہ مومنہ باندیاں، مومن باندیاں جو ہیں، ان سے کیا کر لے؟ نکاح کر لے۔ دیکھیے! اللہ فرما رہے ہیں کہ جو شخص تم میں سے آزاد عورت سے نکاح کرنے کی قدرت نہیں رکھتا، تو وہ مومنہ باندی سے نکاح کر لے۔ جو شخص تم میں سے آزاد عورت سے نکاح کی استطاعت نہیں رکھتا، وہ کس سے نکاح کر لے؟ مومنہ باندی سے۔ امام شافعی رحمہ اللہ اس کا مفہوم مخالف بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں: دیکھو! آیت میں اللہ فرما رہے ہیں، جو آزاد عورت سے نکاح کی قدرت نہیں رکھتا، وہ کیا کرے؟ باندی سے نکاح کرے۔ معلوم ہوا، صرف وہ باندی سے نکاح کر سکتا ہے اور جو آزاد عورت سے نکاح کی قدرت رکھتا ہے، اس کے لیے باندی سے نکاح کرنا جائز نہیں۔ یہ مفہوم مخالفت ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یعنی جس کا ذکر ہے، اس کے لیے تو یہ حکم ہے اور کس کا ذکر ہے؟ جس میں قدرت نہ ہو۔ اس کا یہ حکم ہے، وہ نکاح کر سکتا ہے۔ تو جس کا ذکر نہیں، یعنی جس میں قدرت، جس میں قدرت ہے، اس کا حکم اس کے مخالف ہو گا، یعنی اس کے لیے نکاح کی اجازت نہیں۔ یہ ہے مفہوم مخالفت بھئی۔ تو کہتے ہیں: والمفهوم نوعان، اور مفہوم پھر دو قسم پر ہے۔ مفہوم موافقةٍ، ایک مفہوم موافقت ہے، وهو أن يفهم من اللفظ حال المسكوت عنه على وفق المنطوق۔ بھئی، ایک تو وہ جس کو ذکر کیا گیا اور جس کو ذکر نہیں کیا گیا، وہ مسکوت عنہ ہے، جس کے بارے میں سکوت کیا گیا۔ کیا کیا گیا؟ سکوت کیا گیا، وہ مسکوت، یعنی وہی غیر مذکور بھئی، جس کے بارے میں سکوت کیا گیا۔ تو کہتے ہیں: مفہوم موافقت یہ ہے، وهو وہ یہ ہے، أن يفهم من اللفظ کہ سمجھا جائے لفظ سے، حال المسكوت عنه، کس کا حال سمجھا جائے لفظ سے؟ مسکوت عنہ کے حال کو، یعنی غیر مذکور کے حال کو، على وفق المنطوق، منطوق کے موافق، اس کے مطابق بھئی۔ جیسے، کس میں تھا؟ مثال میں نے ذکر کر دی، ماعز کے لیے جو حکم تھا، وہی حکم دوسرا، جس میں وہ علت ہوگی، اس کے لیے بھی وہی حکم ہوگا۔ ومفهوم مخالفةٍ، اور دوسری قسم مفہوم کی، مفہوم مخالفت ہے، وهو أن يفهم منه حاله خلاف ما فهم من المنطوق، اور وہ یہ کہ سمجھا جائے منه أي من اللفظِ لفظ سے، حاله أي حال المسكوت عنه، کہ سمجھا جائے لفظ سے مسکوت عنہ کے حال کو، خلاف ما فهم من المنطوق، اس کے خلاف جو سمجھا گیا ہے کس سے؟ منطوق سے، یعنی اس کے خلاف ہو اس کا حکم بھئی۔ وهو، اور وہ یہ، وهو إن فهم من اسم العلم سمي مفهوم اللقبِ، پھر یہ مفہوم مخالفت جو ہے، اگر یہ مفہوم ہو اسم علم سے، سمي مفهوم اللقبِ، تو اس کو وہ کیا کہتے ہیں؟ مفہوم لقب کہتے ہیں۔ بھئی، مفہوم مخالف سمجھ میں آیا؟ لیکن کس سے سمجھ میں آیا؟ علم کے ذریعے، جب علم کے ساتھ ایک پر حکم لگایا گیا ہے، اس شخص کا یہ حکم ہے، معلوم ہوا، غیر کے لیے یہ حکم نہیں ہے، تو یہ مفہوم مخالف سمجھ آیا اور کس سے سمجھ میں آیا؟ علم کے سے بھئی، تو سمي مفهوم اللقبِ، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفہوم لقب۔ وإن فهم من الشرطِ، اور اگر یہ مفہوم مخالف سمجھا جائے شرط سے، جیسے وہ ابھی آیت کے اندر آیا تھا بھئی، جو اس کی استطاعت نہیں رکھتا، یہ شرط ہے، تو وہ کیا کر لے؟ باندی سے نکاح کر لے۔ تو اگر یہ مفہوم مخالف شرط سے سمجھ میں آئے، أو الوصفِ، یا کس سے؟ وصف سے، سمي مفهوم الشرط أو الوصفِ، تو اس کو مفہوم شرط یا مفہوم وصف کہتے ہیں۔ شرط سے سمجھ میں آئے تو مفہوم شرط، وصف سے سمجھ میں آئے تو مفہوم وصف۔ مفہوم شرط کی مثال سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وہ جو آیت میں ذکر ہوا۔ آیت میں کیا شرط ذکر ہوئی تھی، اس باندی سے نکاح کی؟ جو آزاد عورت کی قدرت نہ رکھتا ہو۔ اس کا مفہوم مخالف کیا ہوا؟ جو قدرت رکھتا ہے، اس کے لیے جائز نہیں۔ تو یہ مفہوم مخالف کس سے سمجھ میں آیا؟ شرط سے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ مفہوم شرط کہیں گے۔ اور اگر وصف سے سمجھ میں آئے، جیسے اسی آیت میں آگے اللہ کیا فرماتے ہیں؟ مِنْ فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ، کن باندیوں سے نکاح کر لے؟ مومن باندیوں سے۔ مومن کی صفت آ گئی باندیوں کے ساتھ۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سے معلوم ہوا کہ غیر مومن باندیوں سے نکاح کی اجازت نہیں۔ لہٰذا، اگر کوئی اہل کتاب میں سے باندی ہے، عیسائی یا یہودی باندی ہے، اس کے ساتھ نکاح کی اجازت نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ کس سے نکالتے ہیں؟ وصف کے ذریعے مفہوم مخالف نکالتے ہیں، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفہوم وصف۔ تو على ما سيأتي، بناء بر اس کے کہ عن قریب آ جائے گا، ان کا آگے ذکر آ جائے گا، مفہوم شرط اور مفہوم وصف کا۔ ولكنهم اشترطوا، لیکن ان علماء نے، بھئی یہ علماء جو مفہوم مخالفت کے قائل ہیں، اشترطوا، انہوں نے شرط لگائی ہے، ألا تظهر أولوية المسكوت عنه أو مساواته للمنطوقِ، کہ مسکوت عنہ کا اولیٰ ہونا یا اس کا برابر ہونا منطوق سے، یہ ظاہر نہ ہو بھئی۔ یہ ظاہر نہ ہو۔ بھئی، برابر ہونا، ایک چیز اگر دوسری کے برابر ہے، دوسری جیسی ہے، تو پھر تو قیاس کے ذریعے، جب ایک کا حکم معلوم ہے، تو قیاس کے ذریعے دوسری کا بھی وہی حکم ہوگا، پھر تو مفہوم مخالفت آئے گا ہی نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو مساوات نہیں ہونی چاہیے، کس میں؟ مذکور میں اور غیر مذکور میں۔ اگر برابری ہوگی، تو پھر کیا آئے گا؟ قیاس آ جائے گا اور وہ بتلائے گا کہ یہ دونوں ایک جیسے ہیں، برابر ہیں، تو جب ایک کا یہ حکم ہے، تو دوسرے کا بھی یہی حکم ہے۔ لہٰذا، وہاں مخالف، مفہوم مخالف آئے گا ہی نہیں، بلکہ مفہوم موافقت آ جائے گا بھئی۔ اور نیز یہ بھی ظاہر نہ ہو کہ مسکوت عنہ، یعنی غیر مذکور، وہ اولیٰ ہے مذکور سے۔ اگر غیر مذکور، مذکور سے اولیٰ ہے، تو جب مذکور کا یہ حکم ہے، تو غیر مذکور کا بطریق اولیٰ یہ حکم ہوگا۔ جیسے بھئی، فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ، والدین کو اف بھی نہ کہو۔ اف کہنے میں تکلیف ہے، اس لیے اف کا کیا حکم بیان ہوا کہ اف کہنا جائز نہیں۔ تو پٹائی کرنا اور گالی دینا، یہ تو اس سے بڑھ کر ہے بھئی تکلیف دینے میں، تو اس کے لیے بطریق وہی، بطریق اولیٰ وہی حکم ہوگا، اس سے بھی نہی ہوگی، یہ بھی حرام ہوں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا، اگر مساوات ہو، تو تب قیاس کے ذریعے ثابت ہو جائے گا، وہی حکم اس کے لیے بھی اور اگر غیر مذکور اولیٰ ہو مذکور سے، تو اس کے لیے بطریق اولیٰ وہ حکم ثابت ہو جائے گا دلالۃ النص کے ذریعے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی لیے ولكنهم اشترطوا، لیکن ان علماء نے یہ شرط لگائی ہے، ألا تظهر أولوية المسكوت عنه، کہ ظاہر نہ ہو مسکوت عنہ کا اولیٰ ہونا، أو مساواته، یا اس کا مساوی ہونا، للمنطوقِ، منطوق کے۔ ولا يخرج مخرج العادةِ، اور اس کو نکالا بھی نہ گیا ہو عادت کے طور پر، یعنی اس کو ذکر بھی نہ کیا گیا ہو عادت کے طور پر۔ عادتاً بھی اس کو ذکر نہ کیا گیا ہو، عادت کے طور پر بھی اس کو ذکر نہ کیا گیا ہو۔ شرائط ہیں بھئی۔ وہ کہتے ہیں، مفہوم مخالف معتبر ہے، لیکن ایک شرط یہ کہ غیر مذکور، مذکور سے اولیٰ نہ ہو۔ دوسری شرط، غیر مذکور، مذکور کے برابر نہ ہو۔ تیسری شرط، یہ جو ذکر کیا گیا، اس کو محض عادت کے طور پر ذکر نہ کیا گیا ہو۔ مثال سے بات سمجھ میں آئے گی۔ دیکھیے! قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان عورتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے جن سے نکاح کرنا انسان کے لیے حرام ہے۔ انہی کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ فرماتے ہیں: وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ، وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ، اور تمہاری وہ سوتیلی بیٹیاں، اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ، جو تمہاری پرورش میں ہوں۔ وہ بھی تم پر حرام ہیں۔ ربائب، ربیبہ کی جمع ہے، کس کو کہتے ہیں؟ سوتیلی بیٹی۔ بھئی، ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا، اس عورت کی ایک بیٹی ہے پہلے خاوند سے، تو اس شخص کی کیا ہوئی یہ؟ سوتیلی بیٹی ہوئی بھئی۔ تو یاد رکھیے، سوتیلی بیٹی سے نکاح حرام ہے، اللہ ذکر فرما رہے ہیں۔ بھئی، مسئلہ ایک ذہن میں آیا، آپ کو بتلا دوں۔ یاد رکھیے، کسی عورت سے نکاح کرتے ہی اس کی ماں اس شخص پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی ہے۔ صرف نکاح کیا ہے ابھی، صحبت بھی نہیں کی، لیکن نکاح کرتے ہی اس عورت کی ماں کیا ہو گئی ہمیشہ کے لیے؟ حرام۔ یہ اب اس عورت کو طلاق دے کر بعد میں اس کی ماں سے نکاح کرنا چاہتا ہے، نہیں بھئی، اب قطعا نہیں ہو سکتا، کبھی بھی نہیں ہو سکتا۔ سمجھ میں آیا؟ تو نکاح کرتے ہی اس کی ماں حرام ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ اس کی ساس بن گئی، ماں کی طرح ہو گئی اس شخص کے لیے بھئی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر کسی عورت سے انسان نکاح کرے اور اس کی بیٹی بھی ہو، تو بیٹی صرف نکاح کرنے سے حرام نہیں ہوتی، بیٹی حرام ہوگی جب اس کے ساتھ صحبت کر لے یا خلوت کر لے، کیونکہ خلوت بھی صحبت کے قائم مقام ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا! تو دیکھیے، اللہ قرآن میں فرما رہے ہیں: وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ، اور حرام ہیں تم پر تمہاری وہ سوتیلی بیٹیاں، اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ، جو تمہاری پرورش میں ہیں۔ تو اس کا مفہوم مخالف تو یہ بنا کہ جو پرورش میں، جو خاوند کی پرورش میں نہیں ہے، وہ اس پر حرام نہیں، لیکن یہ مفہوم مخالف والے بھی کہتے ہیں کہ نہیں بھئی، یہاں مفہوم مخالف معتبر نہیں۔ کیوں نہیں معتبر؟ کہتے ہیں: اس لیے، کیونکہ یہ جو صفت ذکر کی گئی، اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ، یہ عادت کے طور پر ذکر کی گئی، کیونکہ عموماً اور عادتاً ایسا ہوتا ہے کہ سوتیلی بیٹی خاوند ہی کے اس کے اس، وہ جو دوسرا نکاح کیا عورت نے، اسی شخص کے پرورش میں عموماً ہوتی ہے، تو یہ جو صفت ذکر کی گئی، کس کے طور پر ذکر کی گئی؟ عادتاً کے موافق جو ہے، اس کو ذکر کیا گیا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے: ولا يخرج مخرج العادةِ، اور ذکر بھی نہ کیا گیا ہو اس کو بطورِ عادت کے۔ ولا يكون لسؤالٍ، اور نیز وہ جو صفت وغیرہ ہے یا وہ جو حکم ذکر کیا جا رہا ہے، وہ کسی سوال کی وجہ سے بھی نہ ہو۔ کسی سوال کی وجہ سے بھی نہ ہو۔ مثلاً، آپ سے ایک شخص نے آ کر پوچھا: کیا زیور میں زکوٰۃ ہے؟ آپ نے کہا، آپ نے کہا: زیور میں زکوٰۃ ہے۔ اس کا مفہوم مخالف کیا نکلا؟ زیور کے علاوہ جو سونا چاندی ہے، اس میں زکوٰۃ نہیں ہے بھئی۔ لیکن یہاں مفہوم مخالف کو کہتے ہیں معتبر نہیں، کیونکہ یہ کلام ویسے نہیں کیا گیا، بلکہ کس کے سوال کے جواب کے طور پر ذکر کیا گیا ہے بھئی۔ سوال میں یہ بات پوچھی گئی تھی، اس لیے کہنے والے نے بھی صرف اتنا ہی بتایا۔ أو حادثةٍ أي لا يكون لحادثةٍ، نیز وہ جو صفت وغیرہ یا جو بات ذکر کی گئی ہے، وہ کسی حادثے، یعنی کسی واقعے کی وجہ سے بھی نہ ہو، ورنہ مفہوم مخالف معتبر نہیں ہوگا۔ مثلاً بھئی، مجھے پتا ہے کہ زید جو ہے، اس کو اس بات کا پتا نہیں ہے کہ زیور میں زکوٰۃ ہے۔ اس کو اس بات کا پتا نہیں ہے۔ تو چنانچہ میں اسے کہتا ہوں کہ زیور میں زکوٰۃ ہے۔ تو یہ جو میں نے کلام کیا کہ زیور میں زکوٰۃ ہے، یہ میں نے ویسے نہیں کیا، یہ اس واقعے کی وجہ سے کیا۔ جو پیش آیا، وہ کیا؟ کہ میں جانتا تھا اس کو علم نہیں، تو میں نے یہ بات اس کو بتلائی۔ یا دو آدمی آپس میں بات کر رہے تھے کہ بھئی پتا نہیں زیور میں زکوٰۃ ہے یا نہیں، دوسرا بھی آپس میں بحث وغیرہ کر رہے ہیں، میں نے گزرتے ہوئے کہا: زیور میں زکوٰۃ ہے۔ تو میں نے یہ جو کہا زیور میں زکوٰۃ ہے، کس کی وجہ سے کہا؟ اس واقعے کی وجہ سے کہا بھئی، تو لہٰذا یہاں بھی مفہوم مخالف معتبر نہیں ہے بھئی۔ ولا لكشفٍ، اور نیز وہ صفت وغیرہ، صفت جو ہے، وہ کشف کے، کشف کے لیے بھی نہ ہو۔ کشف کا معنی کھولنا، وضاحت کرنا۔ بھئی، یاد رکھیے، صفت لائی جاتی ہیں کلام کے اندر، موصوف صفت آتے ہیں، تو یہ صفت کے لانے کے کئی مقاصد ہوتے ہیں۔ بعض اوقات صفت اس لیے لائی جاتی ہے، تاکہ موصوف کے معنی کی وضاحت کر دے کہ موصوف کسے، یہ کیا چیز ہے؟ کبھی صفت کس لیے لائی جاتی ہے؟ موصوف کی وضاحت کے لیے لائی جاتی ہے کہ یہ کیا چیز ہے، اسی کے معنی کو بیان کرتی ہے۔ مثلاً، میں آپ سے کہتا ہوں: الجسم الطويل العريض العميق يحتاج إلى فراغ يشغله۔ یاد رکھیے، جسم اس کو کہتے ہیں جس میں طول بھی ہو، عرض بھی ہو اور عمق بھی ہو۔ لمبائی، چوڑائی اور گہرائی، تینوں چیزیں اس میں ہوں، تو اس کو جسم کہتے ہیں۔ مثلاً، آپ کے سامنے یہ کتاب پڑی ہے، اس کی لمبائی بھی ہے، چوڑائی بھی ہے، اونچائی بھی ہے، تو یہ جسم ہے۔ اگر لمبائی اور چوڑائی تو ہے، اونچائی نہیں، تو اس کو سطح کہتے ہیں۔ اور اگر چوڑائی بھی نہیں، صرف لمبائی ہے، تو پھر اس کو خط کہتے ہیں بھئی۔ پڑھ چکے ہیں یا نہیں آپ بھئی؟ تو جسم اسے کہتے ہیں جس میں طول بھی ہو، عرض بھی ہو اور عمق۔ تو میں نے کیا کہا آپ سے؟ الجسم الطويل العريض العميق، وہ جسم، الطویل جو کیا ہو؟ لمبا ہو۔ العریض جو چوڑا ہو۔ العميق جو گہرا ہو۔ تو یہ صفت میں کس لیے لے کر آیا؟ اسی جسم کے معنی کی وضاحت کر رہا ہوں بھئی۔ یہ صفت کشف کے لیے ہے، اسی کے معنی کو کھولنے کے لیے ہے۔ تو میں نے کہا: وہ جسم جو عریض، عمیق اور طویل ہو، يحتاج إلى فراغٍ، وہ محتاج ہوتا ہے خالی جگہ کا، يشغله، جسے وہ گھیر لے۔ بھئی، ہر جسم کے لیے خالی جگہ چاہیے، یہ کتاب آپ کے سامنے پڑی ہے بھئی، اس نے فضا کی ایک مخصوص مقدار کو گھیرا ہوا ہے یا نہیں گھیرا ہوا؟ آپ موجود ہیں بھئی، آپ نے فضا کے حصے کو گھیر رکھا ہے۔ مثلاً، آپ اٹھ گئے، تو یہاں پر اس وقت ہوا موجود۔ اب آپ نے دوسری جگہ فضا کو گھیر لیا۔ آپ پھر یہاں آگئے، آپ پھر اس جگہ کو آپ کے وجود نے گھیر لیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو جسم جو ہے اس نے فضا کے کچھ حصے کو گھیر رکھا ہوتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کیونکہ جسم میں طول، عرض اور عمق ہے اور اس کو اپنا وجود کے لیے اس کے سمانے کے لیے جگہ چاہیے بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو یہ، تو وہ کہتے ہیں بھئی جو قائلین ہیں مفہومِ مخالف کے، وہ کہتے ہیں یہ صفت جو ذکر کی گئی ہو یہ کشف کے لیے نہ ہو بھئی، یعنی موصوف کے معنی کی وضاحت کے لیے نہ ہو بھئی۔ او مدح، اور نہ یہ مدح کے لیے ہو، بھئی کبھی کبھار صفت مدح کے لیے لائی جاتی ہے۔ जैसे، آپ کو پتہ ہے کہ زید عالم ہے اور پھر میں کہتا ہوں جاءنی زید العالم، میرے پاس عالم زید آیا۔ بھئی یہ تو آپ کو بھی پتہ تھا، تو یہ عالم کی صفت اس وقت میں صرف کس لیے لایا ہوں؟ بطورِ مدح کے لے کر آیا ہوں۔ اور کبھی صفت کو بطورِ ذم کے ذکر کیا جاتا ہے، مثلاً ایک شخص ہے وہ جاہل ہے اور آپ کو بھی پتہ ہے وہ جاہل ہے، میں آپ سے کہتا ہوں جاء فلان الجاہل، فلاں جاہل آیا ہے۔ آپ کو بھی جاہل کا پتہ تھا، پھر اس صفت نے کیا فائدہ دیا؟ یہ صرف میں مذمت کے طور پر لایا ہوں بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اسی مدح کے قبیل سے ہے بھئی، مدح سے بسم اللہ الرحمن الرحیم بھئی۔ الرحمن اور الرحیم، یہ صفات ہیں اللہ کی جو ذکر کی گئیں، یہ بطورِ مدح کے ہیں بھئی۔ اور اسی طرح اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، یہ جو الرجیم صفت لائی گئی شیطان کی، یہ بطورِ مذمت کے ہے بھئی۔ تو وہ کہتے ہیں بھئی یہ جو صفت لائی جائے یہ کشفِ معنی کے لیے، موصوف کے معنی کے کشف کے لیے بھی نہ ہو، مدح کے لیے بھی نہ ہو یا مذمت کے لیے بھی نہ ہو، ولا يفيد فائدة اخرى، اور کوئی اور فائدہ بھی نہ دے فحيئنئذ يتعين النفي عما عداہ، تو پھر اس صورت سے ما عدا سے، اس کے علاوہ سے نفی متعین ہو جائے گی۔ یعنی پھر نفی کا یہ فائدہ دے گی بھئی۔ بھئی دیکھیے، صفت کے چند فائدے ذکر کر دیے مثلاً کبھی کشفِ معنی کے لیے آئے گی، کبھی مدح کے لیے، کبھی ذم کے لیے، کبھی اور فائدوں کے لیے لائی جاتی ہے بھئی صفت، صفت۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جو اگلے سال آپ علمِ معانی میں پڑھیں گے بھئی۔ اچھا بھئی، فحيئنئذ يتعين النفي عما عداہ، اس صورت میں نفی متعین ہو جائے گی اس کے علاوہ سے۔ یعنی یہ تمام شرائط اگر پوری ہوں پھر مفہومِ مخالف معتبر ہوگا ورنہ مفہومِ مخالف معتبر نہیں ہوگا۔ کقولہ علیہ الصلوۃ والسلام، جیسے کہ حضور علیہ السلام کا قول ہے، الماء من الماء۔ پانی پانی سے ہے۔ یہ تو لفظی ترجمہ ہوا، کیا معنی ہے اس کا؟ کہتے ہیں فالماء الاول الغسل، ماءِ اول کیا ہے؟ غسل ہے اس سے مراد، والماء الثاني المنی، اور ماءِ ثانی کیا ہے؟ منی ہے، یعنی غسل منی کے نکلنے سے واجب ہوگا۔ یہ ہوا حدیث کا معنی بھئی۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ ولما كان معناہ الغسل من المنی، جب اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ غسل منی سے ہے یعنی خروجِ منی کی وجہ سے غسل واجب ہوگا، بھئی حدیث میں جب یہ بیان ہوا غسل خروجِ منی کی وجہ سے واجب ہوگا معلوم ہوا اور کسی وجہ سے واجب نہیں ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ چنانچہ ایک شخص اپنی بیوی سے صحبت کرتا ہے اور انزال کے بغیر، انزال کا معنی ہے خروجِ منی بھئی، اور انزال کے بغیر ہی وہ اس سے جدا ہو جاتا ہے۔ صحبت تو کی لیکن انزال نہ ہوا یعنی خروجِ منی نہ پایا گیا تو کیا اس صورت میں بھی غسل واجب ہوگا یا غسل واجب نہیں؟ مفہومِ مخالف والے کہتے ہیں بھئی حدیث میں آیا تھا غسل کب واجب ہوگا؟ خروجِ منی کی صورت میں، اور یہاں اگرچہ وہ صحبت کر چکا، دخول کر چکا لیکن خروجِ منی نہیں لہٰذا غسل بھی واجب نہیں۔ یہ ہے مفہومِ مخالف، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ کہتے ہیں ولما كان معناہ الغسل من المنی، جب اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ غسل منی سے ہے، فہم الانصار، تو انصار سمجھے۔ انصار بھئی مدینہ کے رہنے والے بھئی، انہوں نے چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد فرمائی تھی اسی لیے ان کو انصار کہا جاتا ہے بھئی۔ فہم الانصار عدم وجوب اغتسال بالاکسال لعدم الماء، اکسال وہی بھئی صحبت کرنا بغیر انزال کے، جماع کرنا بغیر انزال کے، یہ آگے ذکر بھی کر رہے ہیں بھئی۔ تو جب یہ حدیث کا یہ معنی ہوا کہ غسل منی ہی کی وجہ سے ہے، فہم الانصار، تو انصار جو تھے مدینہ والے وہ سمجھ، سمجھے، کیا سمجھے؟ عدم وجوب الاغتسال، غسل کا واجب نہ ہونا بالاکسال، کس کی وجہ سے؟ اکسال یعنی بغیر انزال کے صحبت۔ انصار یہ بات سمجھے اس سے کہ بغیر انزال کے صحبت ہو تو اس صورت میں غسل واجب نہیں ہوگا لعدم الماء، بوجہ ما یعنی منی کے نہ پائے جانے کے۔ اب خود معنی اکسال کا کر رہے ہیں: وہو اخراج الذكر قبل الانزال، اور وہ ذکر کا نکالنا ہے انزال سے پہلے ہی۔ وہم كانوا اہل اللسان، اور وہ انصار وہ تو اہل زبان تھے۔ فلو لم يدل على النفي عما عداہ لما فہموا ذلك، اگر یہ حدیث، یہ کلام جو ہے دلالت نہ کرتا کس چیز پر؟ ما عدا سے اس کے علاوہ سے نفی پر دلالت نہ کرتا لما فہموا ذلك، تو وہ اس سے یہ بات نہ سمجھتے۔ وہ کیا سمجھے تھے اس سے؟ کہ خروجِ منی نہ ہو تو پھر غسل بھی نہیں ہوگا، وہ اس حدیث سے سمجھے بھئی، اور وہ اہل زبان تھے۔ معلوم ہوا مفہومِ مخالف معتبر ہے۔ وعندنا لا يدل علیہ، اور ہمارے نزدیک یہ حدیث اس پر دلالت نہیں کر رہی، ای علی النفی عما عداہ، یعنی اس کے علاوہ کی نفی پر دلالت نہیں کر رہی، والا يلزم الكفر والكذب في قولہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ورنہ تو لازم آئے گا کفر اور جھوٹ بھئی، کسی شخص کے اس قول کے اندر "محمد رسول اللہ"۔ لانہر يلزم، اس لیے کہ اس صورت میں لازم آئے گا، بھئی اس میں کیا کہا گیا؟ "محمد رسول اللہ" محمد اللہ کے رسول ہیں۔ مفہومِ مخالف کیا نکلا؟ کہ ان کے علاوہ جو ہیں وہ رسول نہیں، باقی رسولوں کی نفی ہو گئی، تو یہ کفر ہوا اور کذب ہوا، جھوٹ ہوا کیونکہ یہ خلافِ واقعہ ہے، اور بھی اللہ کے رسول ہیں بھئی۔ لانہ يلزم ان لا يكون غير محمد رسولا، کیونکہ اس صورت میں لازم آتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی رسول نہ ہو، وذلك کفر وکذب، اور یہ کفر اور جھوٹ ہے، سواء کان مقرونا بالعدد او لم يكن، برابر ہے کہ وہ کسی عدد کے ساتھ ملایا گیا ہو یا نہ ملایا گیا ہو۔ بھئی بعض علماء نے اور قید کا اعتبار کیا، وہ کہتے ہیں اگر عدد کا ذکر ہوگا تو مفہومِ مخالف معتبر ہے، اگر عدد کا ذکر نہیں تو مفہومِ مخالف بھی معتبر نہیں۔ عدد کا اگر ذکر ہوگا۔ تو پھر مفہومِ مخالف معتبر ہے۔ جیسے بھئی آگے حدیث آرہی ہے، حضور علیہ السلام نے فرمایا خمس من الفوافق، پانچ چیزیں فاسقوں میں سے ہیں۔ يقتلن في الحل والحرم، ان کو قتل کیا جائے حل اور حرم دونوں جگہ۔ اور وہ پانچ چیزیں کون سی ہیں؟ الحدأة، چیل بھئی، والفأرة، اور چوہا، والكلب العقور، اور کاٹنے والا کتا، والحية، اور سانپ، والعقرب، اور بچھو بھئی۔ یہ پانچ چیزیں حدیث میں ہیں اور عدد ذکر ہے، خمس من الفوافق، جب معلوم ہوا عدد ذکر ہے تو یہی پانچ فواسق ہیں، انہی کو پانچ کو حرم میں قتل کرنا جائز ہے، باقی چیزوں، باقی چیزیں کا حکم کیا معلوم ہوا مفہومِ مخالف؟ وہ فواسق میں سے نہیں ان کا قتل کرنا جائز نہیں بھئی۔ تو سواء کان مقرونا بالعدد او لم يكن، بھئی یعنی متن دیکھیے پیچھے، وعندنا لا يدل علیہ، ہمارے نزدیک یہ اس پر دلالت نہیں کرتا سواء کان مقرونا بالعدد او لم يكن، برابر ہے کہ وہ ملا ہوا، ملایا گیا ہو عدد کے ساتھ یا نہ ملایا گیا ہو۔ فيه رد على من فرق بينہما، اس میں رد ہے ان لوگوں پر جنہوں نے ان کے درمیان فرق کیا ہے، ان فقہاء پر رد ہے جنہوں نے فرق کیا ان کے درمیان، وقال، اور انہوں نے فرمایا، انہوں نے ذکر کیا، ان کان مقرونا بالعدد، اگر وہ ملا، ملایا گیا ہو جو مذکور ہے، یعنی وہ جو کون، کس کی بات چل رہی ہے؟ جس کو علم کو ذکر کیا گیا ہے جس کے، ہاں اگر اس کے ساتھ کیا ذکر، وہ مقرونا بالعدد، وہ علم کس کے ساتھ ملایا گیا ہو؟ عدد کے ساتھ، نحو قولہ علیہ الصلوۃ والسلام، جیسے کہ حضور علیہ السلام کا قول ہے، خمس من الفواسق، پانچ چیزیں فواسق میں سے ہیں، يقتلن في الحل والحرم، قتل کیا جائے گا ان کو حل اور حرم میں۔ بھئی یاد رکھیے حرم، بیت اللہ کے ارد گرد چاروں طرف چند چند کلومیٹر تک کا جو علاقہ ہے یہ حرم کہلاتا ہے۔ حرم، اور اس کے اندر شکار کھیلنا اور یہ اس جگہ کی بڑی حرمت ہے اور اس کے اندر شکار تک کھیلنے کی اجازت نہیں بھئی، شکار تک کھیلنے کی اجازت نہیں۔ اور اس کے باہر کی جو زمین ہے، باہر کی ساری دنیا وہ حل ہے بھئی، حل۔ اسے حل کہتے ہیں بھئی، کیا کہتے ہیں؟ حل۔ تو حضور علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ پانچ چیزیں فواسق میں سے ہیں يقتلن في الحل والحرم، ان کو قتل کیا جائے گا حل میں اور حرم میں۔ حرم میں تو کسی چیز کو قتل کرنے کی اجازت نہیں، کسی چیز کو ادنیٰ درجے کی تکلیف دینے کی بھی اجازت نہیں، لیکن ان پانچ کو حرم کے اندر بھی کیا کیا جائے گا؟ قتل کیا جائے گا۔ وہ پانچ چیزیں کیا ہیں؟ الحدأة، بھئی کس طرح کا لکھا ہے آپ کی کتابوں میں؟ الف کے بعد ہمزہ ہے اور پھر گول تا ہے؟ نہیں بھئی، یہ کتابت کی غلطی ہے، الف کے اوپر ہمزہ ہونا چاہیے بھئی، یہ الف نہیں ہے یہ دراصل ہمزہ ہے۔ اور الحداة، حا، دال، ہمزہ تینوں پر فتحہ ہے۔ اور یہ چیل کو کہتے ہیں بھئی، چیل آپ جانتے ہیں بھئی۔ والفأرة، اور چوہا، والكلب العقور، عقور کاٹنے والا، مبالغے کا صیغہ ہے عاقر سے، عقور، بہت کاٹنے والا بھئی۔ بعض کتے ہوتے ہیں بھئی وہ بہت زیادہ کاٹنے والے بھئی، کبھی ایک کو کاٹا کبھی دوسرے کو کاٹا، تو اس کا بھی یہ حکم آیا کہ اس کو بھی قتل کر سکتے ہیں بھئی۔ والحية، اور سانپ ہے، والعقرب، اور بچھو ہے بھئی، بچھو بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ معلوم ہوا بچھو کو قتل کرنا جائز ہے بھئی۔ اللہ! بچپن میں والد صاحب رحمہ اللہ کے ساتھ مدینہ منورہ جب گئے بھئی، وہاں پر مکہ سے پھر جب ہم مدینہ پہنچے ابھی سامان ہم نے باہر رکھا ہے، جگہ جس میں رہنا ہے ابھی اندر کچھ افراد اندر چلے گئے ہیں، کچھ سامان اٹھا کر ہم اندر جا رہے ہیں تو وہاں ایک بچھو نکل آیا بھئی بڑا سا، اور پھر اس کو میں نے پتھر سے مار دیا بھئی۔ بعد میں پھر پریشان بھی ہوئے بھئی، حرم کے اندر یہاں تو کسی چیز کو مارنا نہیں چاہیے تھا، لیکن پھر والد صاحب کو پتہ چلا تو فرمانے لگے نہیں بھئی بچھو ہو تو اس کو مارنا جائز ہے بھئی۔ دیکھیے یہ وہ حدیث ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ مارنا جائز ہے۔ فحيئنئذ يدل على النفي عما عداہ البتة، تو اس وقت یہ دلالت کرے گا ما عدا سے نفی پر قطعی طور پر، اس کے علاوہ سے نفی پر قطعی طور پر یہ دلالت کرے گا، کب؟ جب ساتھ عدد ذکر ہو، یہ بعض دیگر علماء وہ کہتے ہیں نہیں بھئی اگر ویسے ہو عدد نہ ہو پھر تو مفہومِ مخالف معتبر نہیں، لیکن اگر عدد آئے تو پھر مفہومِ مخالف معتبر ہے۔ تو اس صورت میں جب عدد ذکر ہو گیا تو ما عدا سے اس حکم کی نفی ہو گئی قطعی طور پر، ان پانچ کا یہ حکم ہے ان کو قتل کر سکتے ہو، معلوم ہوا باقی کسی کو قتل نہیں کر سکتے کسی چیز کو۔ کہتے ہیں والا، اور اگر ایسا نہ ہو، اگر باقیوں سے حکم کی نفی نہ ہو، ل بطلت فائدة العدد، پھر تو عدد کا فائدہ ہی باطل ہو جائے گا، کوئی فائدہ ہی نہیں رہا اس کے ذکر کرنے کا۔ وعندنا وجہ التخصيص بہ زيادة اہتمامہ والاعتناء بشأنہ ونحو ذلك، ہم کہتے ہیں نہیں عدد ذکر ہو یا ذکر نہ ہو، مفہومِ مخالف معتبر نہیں۔ وہ کہتے ہیں بھئی پھر عدد ذکر کرنے کا کیا فائدہ؟ ہم کہتے ہیں عدد کو ذکر کیا جاتا ہے زیادہِ اہتمام کے لیے، اہمیت بتلانے کے لیے بھئی، والاعتناء بشأنہ، اعتناء کا معنی توجہ، شان کا معنی حالت، ان کی حالت پر توجہ دینے کے لیے، یعنی ان کی اہمیت بیان کرنے کے لیے بھئی ان کو عدد کو ساتھ ذکر کر دیا جاتا ہے، لیکن اس کا یہ معنی نہیں ہوتا کہ باقیوں کا حکم اس کے مخالف ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی اچھی طرح؟ تو وعندنا، اور ہمارے نزدیک وجہ التخصيص بہ، وجہ التخصيص بہ ای بالعدد، عدد کے ساتھ تخصیص کی وجہ جو ہے، زيادة اہتمامہ، وہ اس کے زیادہ اہمیت کے لیے ہے، والاعتناء بشأنہ، اور اس کی حالت کی توجہ کے لیے ہے بھئی، اس کی حالت پر توجہ دینے کے لیے ہے، اس لیے عدد کو ذکر کیا جاتا ہے، ونحو ذلك، اور اس جیسے اور کسی وجہ سے بھئی۔ ولكن افتى المتأخرون بأنہ في الروايات يدل على النفي عما عداہ دون المخاطبات، اب یاد رکھیے، ہمارے نزدیک مفہومِ مخالف معتبر نہیں۔ دیگر فقہاء بعض کے نزدیک مفہومِ مخالف معتبر ہے لیکن ہمارے نزدیک مفہومِ مخالف معتبر نہیں۔ لیکن یہ یاد رکھنا ہمیشہ، مفہومِ مخالف ہمارے نزدیک نصوص کے اندر یعنی قرآن و حدیث میں معتبر نہیں۔ قرآن و حدیث میں ایک چیز کا ذکر ہو تو اس کا تو وہ حکم ہوگا، لیکن جس کا ذکر نہیں اس کا حکم اس کے خلاف ہو ایسا ہونا ضروری نہیں۔ ہم کہتے ہیں اس کے بارے میں قرآن اور حدیث خاموش ہیں ان کا ذکر ہی نہیں ہے، تو نہ ان کے لیے حکم کا ثبوت ہوگا نہ حکم کی نفی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ ہمارے نزدیک مفہومِ مخالف معتبر نہیں ہے کس کے اندر؟ قرآن اور حدیث، نصوص میں یعنی قرآن اور حدیث۔ باقی فقہاء وغیرہ کے کلام میں، وہاں پر مفہومِ مخالف ہمارے نزدیک بھی معتبر ہے بھئی۔ چنانچہ آپ ہی کتابوں میں پڑھتے ہیں، متن میں آتی ہیں کئی قیودات، نیچے شارح آپ کو بتلاتے ہیں دیکھو یہ قید ذکر کی یہ نکل گیا، دوسری قید ذکر کی یہ کیا ہوا؟ نکل گیا، دیکھو دوسرے کو اس حکم سے نکالتے جا رہے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مفہومِ مخالف ہمارے نزدیک معتبر نہیں لیکن کس کے اندر؟ نصوص کے اندر، اور باقی فقہاء وغیرہ کے کلام میں مفہومِ مخالف ہمارے نزدیک بھی معتبر ہے بھئی۔ یہی بات ذکر کر رہے ہیں، ولكن افتى المتأخرون، لیکن فتویٰ دیا ہے متاخرین علماء نے، بأنہ في الروايات يدل على النفي عما عداہ، کہ یہ کسی چیز کا ذکر کرنا روایات میں کس چیز کے ساتھ؟ اس کے علم کے ساتھ، یہ علم کے ساتھ ہو، ‏ کوئی چیز پھر روایات کس کے اندر؟ روایات کے اندر یعنی فقہی روایات کے اندر تو يدل على النفي عما عداه تو یہ دلالت کرے گا اس کے علاوہ سے نفی پر دون المخاطبات نہ کہ مخاطبات کے اندر مخاطبات سے مراد ہے نصوص شرعیہ۔ نصوص شرعیہ کے اندر تو مفہوم مخالف معتبر نہیں لیکن اور روایات کے اندر وہ کس پر دلالت کریں گی؟ مفہوم مخالف پر دلالت کریں گی بھئی۔ كما قال صاحب الهداية جیسے کہ صاحب ہدایت فرماتے ہیں: أن قوله في الكتاب: جاز الوضوء من الجانب الآخر، إشارة إلى أنه يتنجس موضع الوقوع۔ بھئی دیکھیے، یاد رکھیے ہدایت یہ شرح ہے اور اس کا متن جو ہے وہ زیادہ تر قدوری ہے بھئی۔ ہدایت شرح ہے اور متن جو ہے وہ اکثر عبارت قدوری کی ہے بھئی۔ اب صاحب ہدایت وہاں متن آتا ہے ہدایت میں صاحب قدوری فرماتے ہیں کہ بڑا تالاب اس کو کہتے ہیں غدیر عظیم کا ذکر آتا ہے بھئی۔ کس پانی سے وضو کرنا جائز ہے اور کس سے جائز نہیں ہے؟ وہاں اسی فصل کے اندر بڑے تالاب غدیر عظیم کا ذکر آتا ہے اور صاحب قدوری فرماتے ہیں بڑا تالاب وہ ہے کہ جس کے ایک طرف کے پانی کو حرکت دیں تو دوسری طرف کے پانی میں حرکت نہ ہو بھئی۔ لہریں نہیں مراد بھئی لہریں، لہر تو بڑی دور تک چلی جاتی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ باقاعدہ پانی ہیلے نہ وہاں بھئی۔ تو ایک طرف کے پانی کو حرکت دیں تو دوسری طرف کے پانی نہ ہلے تو یہ غدیر عظیم ہے اور اس کے اندر اگر ایک طرف نجاست گر جائے تو دوسری طرف سے وضو کرنا جائز ہے۔ یہ کون فرماتے ہیں؟ صاحب قدوری۔ آگے صاحب ہدایت شرح میں کہتے ہیں بھئی دیکھیے اوپر صاحب قدوری نے کہا کہ دوسری جانب سے وضو کرنا جائز ہے۔ دوسری جانب سے وضو کرنا؟ کہتے ہیں معلوم ہوا جہاں نجاست گری ہے وہ نجس ہو چکی، وہاں سے کرنا جائز نہیں۔ صاحب قدوری نے تو یہ نہیں کہا کہ جہاں نجاست گری ہے وہاں سے کرنا جائز نہیں۔ صاحب ہدایت خود ہی مفہوم مخالف دیکھو نکال رہے ہیں کہ وہ صاحب قدوری فرما رہے ہیں دوسری طرف سے وضو کرنا جائز ہے۔ معلوم ہوا جس طرف نجاست گری ہے اس طرف سے کرنا جائز نہیں بھئی۔ دیکھا بھئی معلوم ہوا فقہاء کے کلام میں کیا ہے؟ مفہوم مخالف معتبر ہے۔ كما قال صاحب الهداية جیسے کہ صاحب ہدایت نے فرمایا ہے أن قوله في الكتاب کہ یہ جو صاحب قدوری کا قول ہے فی الکتاب کتاب کے اندر یہ أن قوله یہ ساری ہدایت کی عبارت چل رہی ہے وہ متن کی شرح کر رہے ہیں بھئی۔ أن قوله في الكتاب کہ ماتن کا جو قول ہے کتاب کے اندر کیا قول ہے؟ جاز الوضوء من الجانب الآخر کہ وضو کرنا جائز ہے دوسری جانب سے یہ جو ماتن کا قول ہے إشارة یہ اشارہ ہے إلى أنه يتنجس موضع الوقوع کہ نجس ہو گئی ہے واقع ہونے کی جگہ یعنی جہاں پر نجاست واقع ہوئی ہے۔ ومثل هذا في كتابه كثير اور اس قسم کی مثالیں ان کی کتاب میں کثیر ہیں، بکثرت ہیں بھئی۔ یعنی جہاں وہ مفہوم مخالف کا اعتبار کرتے ہیں۔ وما يوهمه كلامهم من النفي عما عداه في بعض الاستدلالات، فكل ذلك مؤول بتأويلات، فتنبه له۔ بھئی مصنف فرما رہے ہیں کہ بعض فقہاء کی عبارتوں سے آپ کو یوں لگے گا بعض استدلالات کے اندر آپ کو یوں لگے گا شاید ان کے ہاں مفہوم مخالف معتبر ہے ہمارے بعض فقہاء، ان کی بعض عبارتوں سے بعض استدلالات سے کیا وہم پڑتا ہے؟ کہ شاید ان کے نزدیک مفہوم مخالف معتبر ہے۔ شارح فرما رہے ہیں کہ نہیں بھئی یہ وہم ان کے کلام سے جہاں پڑتا ہے تو وہاں پر تاویل کی جاتی ہے بھئی۔ ان کے نزدیک بھی مفہوم مخالف معتبر نہیں ہے بھئی، تو آپ اس پر متنبہ رہیے کہتے ہیں۔ کہتے ہیں وما اور وہ جو يوهمه كلامهم وہ وہ جو وہم ڈالتا ہے کلامهم ان فقہاء کا من النفي عما عداه یعنی کہ نفی کرنا اس کے ماعدا سے في بعض الاستدلالات بعض استدلالات کے اندر فكل ذلك مؤول بتأويلات تو وہ سب کے سب مؤول ہیں مختلف تاویلات کے ساتھ یعنی ان کی تاویل کی گئی ہے مختلف قسم کی، مؤول بھئی، دو واؤ ہیں ایک واؤ ہے؟ دو واؤ ہونے چاہئیں بھئی۔ مؤول، یہ واؤ یہ میم کے ساتھ جو جڑا ہوا ہے یہ تو ہمزہ ہے اور آگے ایک واؤ مشدد ہونا چاہیے مؤول بھئی مؤول۔ فتنبه له تو آپ اس پر متنبہ رہیے بھئی، اس بات پر مطلع رہیے۔ لأن النص لم يتناوله، فكيف يوجب النفيا أو إثباتا؟ اس لیے کیونکہ نص تو اس کو شامل ہی نہیں ہے تو کیسے وہ ثابت کرے گی نفی کے اعتبار سے یا اثبات کے اعتبار سے؟ بھئی دیکھیے، ہمارے نزدیک مفہوم مخالف معتبر نہیں۔ وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ اوپر ذکر کیا ہمارے نزدیک مفہوم مخالف معتبر نہیں چاہے عدد ساتھ ذکر ہو چاہے عدد ذکر نہ ہو۔ وجہ یہ کہ نص کے اندر نص اس کو شامل ہی نہیں اس کا ذکر ہی نہیں ہے بھئی۔ جب ایک چیز کا نص میں ذکر ہی نہیں ہے، جو ذکر ہے اس کا تو حکم بیان ہو گیا، جو غیر مذکور ہے نہ اس کے لیے حکم کی نفی ہو سکتی ہے اور نہ اثبات۔ یعنی اگر نص میں اثبات ہے تو مفہوم مخالف باقیوں سے کیا ہوگی؟ نفی، اور اگر نص کے اندر نفی ہے تو مفہوم مخالف کیا ہوگا؟ باقیوں کے لیے اثبات۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، جو بھی مفہوم مخالف آپ نکالنا چاہیں وہ یہاں ہمارے نزدیک معتبر نہیں کیونکہ نص میں ایک چیز کا ذکر ہی نہیں ہے۔ جو ذکر ہے اس کا تو ٹھیک ہے یہ حکم ہے ہم بھی تسلیم کرتے ہیں لیکن جس کا ذکر ہی نہیں ہے اس کا یہ حکم بھی نہیں ہے بھئی۔ لأن النص لم يتناوله، فكيف يوجب النفيا أو إثباتا؟ اس لیے کیونکہ نص تو اس کو شامل ہی نہیں ہے فكيف يوجب النفيا أو إثباتا؟ تو وہ کیسے واجب کرے گی یعنی حکم کو؟ تو نص کیسے حکم کو واجب کرے گی نفيا أو إثباتا؟ بطور نفی کے یا بطور اثبات کے؟ نفی کی حیثیت سے یا اثبات کی حیثیت سے؟ أي لا يدل على المسكوت عنه أصلا یعنی نص دلالت نہیں کرتی مسکوت عنہ پر سرے سے ہی، یعنی اس میں ہے ہی نہیں اس کا ذکر ہی نہیں ہے۔ فكيف يوجب الحكم من حيث النفي والإثبات؟ تو وہ کیسے حکم کو نص واجب کرے گی نفی یا اثبات کی حیثیت سے؟ فإذا قلت پس جب آپ کہیں: جاءني زيد کہ میرے پاس زید آیا ہے، فقد سكت عن عمرو تو تحقیق آپ نے سکوت کیا عمر کے بارے میں۔ آپ نے جب صرف اتنا کہا جاءني زيد اس سے اتنا تو پتہ چل گیا آپ کے پاس کون آیا ہے؟ زید، لیکن اس سے یہ معنی نکالنا کہ زید نہیں آیا، بھئی زید کے بارے میں تو آپ نے تذکرہ ہی نہیں کیا بھئی اس کے بارے میں تو سکوت کیا ہے آپ نے بھئی۔ لہٰذا یہ آپ کا کلام عمر کے نہ تو آنے پہ دلالت کر رہا ہے اور نہ نہ آنے پر بھئی۔ پس جب آپ نے کہا جاءني زيد فقد سكت عن عمرو تو تحقیق آپ نے سکوت کیا عمر کے بارے میں، آپ یعنی خاموش رہے عمر کے بارے میں فلا يدل على نفيه وإثباته تو یہ اس کے نفی اور اس کے اثبات پر دلالت نہیں کرتا یعنی اس کے آنے کی نفی یا اس کے آنے کے اثبات پر دلالت نہیں کرتا۔ وفائدة التخصيص یہ ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں۔ سوال یہ، بھئی بعض فقہاء نے کیا فرمایا تھا کہ اگر کسی چیز کی تصریح علم کے ساتھ کی جائے کسی چیز کی تصریح علم کے ساتھ کی جائے تو یہ اس کی تخصیص پر دلالت کرتا ہے کہ یہ اسی کا حکم ہے تو باقیوں سے کیا ہو جائے گی حکم کی نفی ہو جائے گی۔ ہمارے نزدیک نہیں بھئی، ایک چیز کی اگر علم کے ساتھ تصریح بھی کر دی جائے تو اس سے مفہوم مخالف ثابت نہیں ہو گا، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے پھر علم کے ساتھ اس کی تصریح کرنے کا کیا فائدہ ہوا؟ علم کے ساتھ اس کی جس کی تصریح علم کے ساتھ کی گئی اس کا کیا فائدہ ہوا؟ تو جواب دے رہے ہیں بھئی۔ کہ بھئی کہ اس کا فائدہ یہ کہ یہ صرف اس کا حکم ہے۔ باقیوں کے بارے میں بھئی غور کریں آپ لوگ اور خود اس کا حکم نکالیں، چنانچہ فقہاء پھر اس میں غور کرتے ہیں اور حکم معلوم کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے ان کو اجتہاد کا ثواب ملتا ہے اور اجتہاد، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اجتہاد کا ثواب ملتا ہے، یہ فائدہ ہوا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ کہتے ہیں وفائدة التخصيص اور تخصیص کا فائدہ یہ ہے، تخصیص کیا معنیٰ؟ علم کے نام علم کے ساتھ اس کی تصریح جو کی گئی، یہ اس عالم کے طور پر تصریح کا فائدہ یہ ہے أن يتأمل المستنبطون فيه کہ غور کریں استنباط کرنے والے اس میں فيثبتون الحكم في غيره پس وہ ثابت کریں حکم کو اس کے علاوہ میں، یعنی اس میں غور کریں اس کا تو یہ حکم ہے، اجتہاد کرنے والے غور کریں بھئی کیوں اس کا یہ حکم ہے؟ اس کی علت کیا ہے؟ اور پھر اس علت کے ذریعے باقیوں کا حکم بھی نکالیں تو اس طرح ان کو اجتہاد کا ثواب ملے گا۔ فيثبتون الحكم في غيره پس وہ ثابت کریں گے حکم کو اس کے علاوہ میں بھی بالقياس قیاس کے ذریعے وينالون درجة الاجتهاد اور پا لیں گے اجتہاد کا درجہ۔ ثم أجاب عن استدلالهم بفهم الأنصار فقال: اب جواب دینے لگے ہیں بھئی اوپر ان علماء نے انصار مدینہ کے کو ذکر کیا تھا بطور بطور دلیل کے کہ دیکھو انصار یہ مفہوم مخالف سمجھے تھے معلوم ہوا مفہوم مخالف معتبر ہے، تو اس کا جواب دینے لگے ہیں کہ جو مفہوم مخالف سمجھے تھے انصار وہ اس جو علم کے طور پر تصریح کی گئی اس کی وجہ سے نہیں سمجھے بلکہ وہ جو الف لام آیا تھا "الماء" یہ الف لام استغراقی ہے اس کی وجہ سے انہوں نے حصر سمجھا تھا کہ غسل ہر غسل جو ہے وہ منی ہی کی وجہ سے ہو گا۔ ہر غسل منی، تو یہ جو ہر غسل تمام افراد غسل یہ جو پہلے "الماء" پر الف لام آیا یہ الف لام استغراقی ہے، اس نے حصر کا فائدہ دیا لفظ "ما" نے خود اس کا فائدہ نہیں دیا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ثم أجاب عن استدلالهم بفهم الأنصار فقال: پھر جواب دیا ان کا جو استدلال تھا انصار کے فہم سے اس کا جواب دیا فقال پس فرمایا: والاستدلال منهم بحرف الاستغراق اور وہ جو انصار کا استدلال تھا بحرف الاستغراق وہ کس کے ذریعے تھا؟ حرف استغراق کے ذریعے تھا أي الاستدلال من الأنصار یعنی وہ جو استدلال تھا انصار کی طرف سے على عدم وجوب الغسل بالإكسالِ إکسال کی وجہ سے غسل کے واجب نہ ہونے پر إنما كان بحرف اللام الذي هو للاستغراقِ اس حرف لام کے ذریعے تھا جو کس کے لیے ہے؟ استغراق۔ یاد رکھیے الف لام جو ہے اس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور اولاً جو ہے الف لام جو ہے اس کو عہدی بنانے کی کوشش کی جائے گی، الف لام عہدی جس کے ذریعے کسی متعین چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے، اگر الف لام عہدی نہ بن سکے کوئی معہود متعین چیز وہاں ہے ہی نہیں تو پھر اس کو الف لام استغراقی پر محمول کیا جائے گا، تو "الماء" کے اندر الف لام آیا، پہلے اس کو عہدی پر محمول کیا گیا کوئی خاص متعین پانی مراد ہو لیکن پھر متعین یعنی غسل مراد ہو لیکن پھر کوئی متعین غسل تو مراد تھا نہیں متعین فرد تھا نہیں تو اس کس پر محمول کر لیا انہوں نے؟ استغراق پر محمول کر لیا اور اس سے حصر کا فائدہ حاصل ہوا۔ تو کہتے ہیں یہ جو استدلال تھا كان بحرف اللام الذي هو للاستغراقِ اس حرف لام کے ذریعے ہے جو استغراق کے لیے ہے عند عدم دلالة العهدِ جبکہ عہد یعنی کسی متعین چیز پر دلالت نہ ہو۔ فيكون المعنى تو معنیٰ کلام کا یہ ہوا: أن جميع أفراد الغسل من المنيِّ کہ تمام افراد غسل جو ہیں وہ کس کی وجہ سے ہوں گے؟ منی کی وجہ سے۔ یہ من سببیہ ہے، سبب بتلا رہا ہے، تمام افراد غسل منی کے سبب سے ہوں گے یعنی اس کے خروج کے سبب سے ہوں گے۔ لا بواسطة أن التنصيص بالشيء يدل على نفي عما عداه نہ کہ اس واسطے سے کہ کسی چیز پر نص کا لانا وہ دلالت کرتا ہے اس کے علاوہ سے حکم کی نفی پر، جو بات انہوں نے کی اس طریقے سے حصر نہیں آیا بلکہ حصر کس طریقے سے آیا؟ لام استغراقی کے ذریعے آیا۔ اچھا بھئی، اب اشکال ہوتا ہے احناف پر کہ بھئی اے احناف! تسلیم آپ نے بھی کر لیا کہ یہاں حصر آ گیا، معلوم ہوا غسل تب ہی واجب ہو گا جب خروج منی ہو، پھر آپ إکسال کی صورت میں غسل کو واجب کیوں قرار دیتے ہیں؟ آپ نے بھی تقسیم تسلیم کر لیا کہ غسل کس صورت میں واجب ہو گا؟ ہر تمام افراد غسل کس کی وجہ سے واجب ہوں گے؟ خروج منی کی وجہ سے، تو لہٰذا إکسال کی صورت میں تو غسل واجب نہیں ہونا چاہیے، لیکن آپ کیا کرتے ہیں؟ آپ کہتے ہیں إکسال کی صورت میں بھی کیا واجب ہو گا؟ غسل واجب ہو گا بھئی، تو اب اس کا جواب دیں گے آگے: يرد علينا حينئذٍ وارد ہوتا ہے ہمارے اوپر اس وقت اس صورت میں جب یہ ہم نے ذکر کر دیا جواب دے دیا تو کہ أن الحديث قد دل على عدم وجوب الغسل بالإكسالِ کہ حدیث جو ہے اس تحقیق اس نے دلالت کر دی غسل کے واجب نہ ہونے پر بالإكسالِ کس کی وجہ سے؟ إکسال، حدیث نے بتلا دیا کہ صرف خروج منی کی صورت میں غسل ہو گا إکسال کی صورت میں معلوم ہوا غسل نہیں ہو گا سواء كان باللام أو بالتنصيصِ برابر ہے کہ یہ دلالت کس کے ذریعے ہو؟ لام کے ذریعے ہو یا تنصیص کے ذریعے ہو دلالت تو ہو گئی فمن أين قلتم بوجوب الغسل بالإكسالِ؟ پس کہاں سے تم نے کہا ہے غسل کے واجب ہونے کا إکسال کی وجہ سے؟ فأجاب تو جواب دیا مصنف نے وقال اور فرمایا: وعندنا هو كذلك اور ہمارے نزدیک بھی اسی طرح ہے، حصر ہے یعنی ہمارے نزدیک بھی اسی طرح ہے، ہمارے نزدیک بھی کیا ہے؟ حصر ہے فيما (ما سے مراد ہے غسل) اس غسل کے اندر يتعلق بعين الماءِ جس کا تعلق عین ماء سے ہو۔ جس کا تعلق کس سے ہو؟ عین ماء سے ہو یعنی جس کا تعلق شہوت سے ہو۔ آگے بتلائیں گے شرح میں آپ کو، جس کا تعلق کس سے ہو؟ ماتن فرماتے ہیں ہماری طرح اسی طرح ہے یعنی تمام افراد غسل جو کس کی وجہ سے ہیں؟ شہوت کی وجہ سے، وہ بند ہیں خروج منی میں، وہ غسل جو شہوت کی وجہ سے واجب ہوا کرتے ہیں وہ بند ہیں کس کے اندر؟ خروج منی یعنی خروج منی ہو گا تو یہ غسل واجب ہو گا خروج منی نہیں تو غسل بھی واجب نہیں، بھئی یہ شہوت کی قید اس لیے لگائی کیونکہ ورنہ تو اعتراض واقع ہوتا کہ حیض کے بعد بھی عورت پر غسل واجب ہوتا ہے، نفاس کے بعد بھی عورت پر غسل واجب، لیکن وہ شہوت کی وجہ سے نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو تو اس لیے وہ اس جب شہوت کی قید لگائی تو وہ نکل گئے اس سے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وعندنا هو كذلك ہمارے نزدیک اسی طرح ہے یعنی حصر ہے فيما اس غسل کے اندر يتعلق بعين الماءِ جس کا تعلق عین ماء سے ہو یعنی عین منی سے ہو یعنی کہ شہوت سے ہو غير أن الماء يثبت مرة عيانا وطورا دلالةً مگر یہ کہ پانی یعنی منی جو ہے يثبت وہ ثابت ہوتی ہے مرةً کبھی عيانا مشاهدةً کبھی منی کا ثبوت مشاهدةً ہوتا ہے انسان خود اس کے خروج کو دیکھتا ہے وطورا دلالةً اور کبھی اس کا خروج جو اس کا ثبوت جو ہے دلالةً ہو گا ایک چیز ہو گی جو اس پر دلالت کر رہی ہے اگرچہ خود اس کے خروج کا مشاہدہ نہیں ہوا۔ یعنی ان عندنا الحصر ايضا ثابت فی الغسل الذي يتعلق بالمني. یعنی ہمارے نزدیک بھی جو حصر جو ہے وہ ثابت ہے، اس غسل کے اندر، الذی يتعلق بالمنی، جس کا تعلق کس سے ہے؟ منی سے ہے۔ ای جميع الغسل الذی يتعلق بالشهوۃ، یعنی وہ تمام غسل جن کا تعلق شہوت سے ہے، منحصر فی الماء وہ بند ہیں کس کے اندر؟ پانی یعنی منی میں۔ فلا يضر خروج الغسل بالحيض والنفاس، تو کوئی نقصان نہیں دیتا نکلنا غسل بالحیض اور نفاس کا۔ وہ غسل جو حیض اور نفاس کی وجہ سے واجب ہے اس کا نکلنا کوئی نقصان نہیں دیتا بھئی، کیونکہ وہ شہوت کی وجہ سے نہیں ہے۔ لان وجوبه لا يتعلق بالشهوة، اس لیے کیونکہ اس غسل کا وجوب اس کا تعلق شہوت سے نہیں ہے۔ ولكن الماء على نوعين، لیکن ماء یعنی منی جو ہے وہ دو قسم پر ہے۔ مرة يكون عيانا، کبھی تو وہ کیا ہوگی؟ عیاناً مشاہدۃً ہوگی، بان ينزل في نفس الامر، بایں طور کہ اس کو انزال ہوگا اس شخص کو نفس الامر میں یعنی واقع میں ہی، فی النوم، کس کے اندر؟ نیند کے اندر، یعنی احتلام ہوگا، او اليقظة بالوطء، یا بیداری کی حالت میں ہی ہوگا مشاہدہ خروجِ منی کا، بالوطء، کس کی وجہ سے؟ وطء، صحبت کی وجہ سے، او بغيره، یا اس کے علاوہ، یعنی صحبت نہیں کی، بیوی کے ساتھ ملاعبت کرتے ہوئے ہی خروجِ منی ہو گیا، تو دیکھو خود مشاہدہ کر لیا خروجِ منی کا۔ ومرة يكون دلالة، اور کبھی کبھار کیا ہوگا خروجِ منی؟ دلالۃً ہوگا، یعنی کوئی چیز دلالت کرے گی، بان يقام دليله، بایں طور کہ اس کی دلیل کو قائم کیا جائے گا۔ خروجِ منی کی دلیل، وهو التقاء الختانين، اور وہ کیا ہے؟ دو شرمگاہوں کا مل جانا۔ تو اس کو قائم اس کی دلیل کو قائم کیا جائے گا، مقامہ، اس کے مقام پر۔ کبھی اس کی دلیل کو اس کا قائم مقام بنایا جائے گا بھئی۔ درمیان میں دلیل ذکر کر دی، وہ کیا ہے؟ التقاء ختانین۔ یعنی کبھی التقاء ختانین کو اس کا قائم مقام کر دیا جائے گا، یعنی خروجِ منی کا۔ التقاء ختانین کو کس کا قائم مقام کر دیا جائے گا؟ خروجِ منی کا قائم مقام کر دیا جائے گا اور التقاء ختانین کے اندر اپ پڑھ چکے ہیں، کیا واجب ہوتا ہے؟ غسل واجب ہوتا ہے، کیوں؟ خروجِ منی تو نہیں ہے، لیکن ہم نے التقاء ختانین کو کس کے قائم مقام کر دیا ہے؟ خروجِ منی کے قائم مقام کر دیا ہے۔ کیوں بھئی؟ قائم مقام کیوں کیا؟ کہتے ہیں، لانه سبب نزول الماء، اس لیے کیونکہ وہ اس منی کے نزول کا سبب ہے، ونفسه تغيب عن بصره، اور نفس اس کا یعنی نفسِ ذکر جو ہے، وہ تو غائب ہے اس کی نگاہ سے۔ دخول کی حالت میں نفسِ ذکر تو بصارت سے غائب ہے۔ اب جب نظر، نگاہ سے غائب ہے تو معلوم نہیں، ہو سکتا ہے خروجِ منی ہوا ہو۔ لیکن ہو قلیل سا، اس کو پتہ ہی نہ چلا ہو، محسوس ہی نہ ہوا ہو۔ امکان ا گیا یا نہیں ا گیا؟ امکان ا گیا۔ تو لہذا ہم نے جب یہاں پر خروجِ منی کا پتہ نہیں چل سکتا، تو اس کے سبب ہی کو کس کے قائم مقام کر دیا؟ خروجِ منی کے، یعنی التقاء ختانین کے۔ تو کہتے ہیں، ونفسه تغيب عن بصره ولعله لم يشعر به لقلته، اور نفسِ ذکر وہ تو غائب ہے اس کی نگاہ سے، اور شاید کہ اس شخص کو اس کا شعور ہی نہ ہو، یعنی اس کو اس کا احساس ہی نہ ہو خروجِ منی کا، لقلتہ، اس کے قلیل ہونے کی وجہ سے۔ فاقمنا السبب مقام المسبب، تو ہم نے سبب کو مسبب کے قائم مقام کر دیا، واوجبنا الغسل عليه بمجرد التقاء احتياطا، اور ہم نے اس پر غسل کو واجب قرار دے دیا، بمجرد التقاء، محض التقاء ختانین ہی کی وجہ سے احتیاطاً، بطورِ احتیاط کے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں جہاں پر علت کا پتہ نہ چل سکے، وہاں سبب کو اس کا قائم مقام کر دیا جاتا ہے۔ غسل، شہوت کی وجہ سے جو غسل آتا ہے اس کی علت تو تھی خروجِ منی، لیکن علت کا پتہ نہیں چل سکتا، تو اس علت کا جو سبب ہے، یعنی التقاء ختانین، اس کو اس کے قائم مقام کر دیا بھئی۔ جیسے بھئی خروجِ ریح کی صورت میں وضو ٹوٹ جاتا ہے، اور نیند کی حالت میں چونکہ خروجِ ریح کا پتہ نہیں چل سکتا، لہذا نیند ہی کو اس کے قائم مقام کر دیا گیا اور نیند پر ہی کیا حکم لگا دیا گیا؟ کہ سونے سے کیا حکم، کیا ہوگا؟ وضو ٹوٹ جائے گا۔ یہ نیز اسی طرح جیسے سفر ہے بھئی، سفر کے اندر قصر نماز کا حکم دیا گیا کہ نمازوں میں قصر کریں، چار کی جگہ دو پڑھیں۔ کیوں؟ وجہ اس کی کیا تھی؟ کیونکہ سفر میں مشقت ہے، لیکن اس مشقت کا پتہ نہیں چل سکتا بھئی، کس کو مشقت زیادہ ہوئی ہے کس کو کم ہوئی ہے۔ تو سفر ہی کو کس کے قائم مقام کر دیا گیا؟ مشقت کے، کہ سفر اتنا ہے تو بس، مشقت کو اب نہیں دیکھنا بھئی۔ اب کیا کرنا پڑے گا اس سفر میں؟ قصر کریں گے بھئی۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں اگئی بھئی؟ نیز حدیث کا بھی، یہ تو بھئی بحث چل رہی ہے اصولِ فقہ کے طرز میں۔ کسی مسئلے پہ ہمارا مقصد بحث کرنا نہیں ہے، بس اصولِ فقہ کے انداز میں جو جو جواب دیا جا سکتا ہے یا جو ثابت کیا دلیل بنتی ہے، اس کو ذکر کرتے چلے جاتے ہیں۔ ورنہ ہمارے پاس ہر مسئلے کے اندر احناف کے پاس الحمد للہ ثم الحمد للہ دلائل کے انبار ہیں بھئی۔ حضرت والدِ محترم رحمہ اللہ تعالی، وہ جب دلائل ذکر کرتے چلے جاتے، احناف کا مذہب بیان ہوتا، شوافع کا بھی، امام مالک رحمہ اللہ اور فقہاء کے مذاہب بھی بیان ہوتے، ان کی دلیلیں بھی ذکر ہوتیں، پھر ان کے دلیلوں کے جوابات بھی ذکر ہوتے، پھر احناف کے مزید جوابات چلتے، ان مخالفین کی ایک ایک دلیل کے کئی کئی جوابات دیے جاتے، احادیث سے بھی، قرآن سے بھی، قیاس کے ذریعے بھی، اجماع کے بہت سے جوابات دیے جاتے، اور پھر جواب دیتے دیتے والد صاحب رحمہ اللہ کی زبان پر یہ الفاظ ا جاتے، کہتے فرماتے، "یہ احناف کا مذہب ہے مولانا! یوں معلوم ہوتا ہے براہِ راست آسمان سے نازل ہو رہا ہو بھئی۔" اتنا واضح ہے، اتنا واضح ہر چیز کے اندر بھئی۔ اتنا واضح، اتنے مضبوط ہمارے پاس دلائل موجود ہیں۔ لیکن یہاں ایک کسی ایک مسئلے پر طویل بحث مقصود نہیں ہے، بس اس کو مختصراً ذکر کرتے ہیں، اس کا جواب یا دلیل ذکر کرتے چلے جاتے ہیں۔ اور یہ جو حدیث ہے یاد رکھیے، "الماء من الماء" بھئی، یہ انصارِ مدینہ وہ اس کے قائل تھے، وہ پہلے، کہ اکسال کی وجہ سے غسل واجب نہیں ہوگا کیونکہ خروجِ منی نہیں۔ لیکن پھر ان کو جب علم ہوا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے بتلایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ التقاء ختانین کی صورت میں بھی غسل واجب ہوگا، چاہے انزال ہو یا انزال نہ ہو۔ جب اس حدیث کا ان کو پتہ چلا تو انہوں نے رجوع کر لیا بھئی، اور وہ بھی اس بات کے قائل ہو گئے کہ اکسال کی صورت میں بھی کیا ہوگا؟ غسل واجب ہوگا بھئی۔ چنانچہ بعض علماء پھر فرماتے ہیں کہ التقاء ختانین والی حدیث کی وجہ سے یہ والی حدیث منسوخ ہو چکی ہے۔ جبکہ دیگر کہتے ہیں بھئی یہ حدیث منسوخ نہیں، یہ محمول ہے احتلام پر صرف بھئی، کس پر؟ احتلام پر بھئی، کہ "الماء من الماء"، غسل کب واجب ہوگا؟ جب خروجِ منی ہو احتلام کے اندر بھئی۔ صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ چلیے بس کرتے ہیں بھئی بس۔ وهذا هو المرام واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔
84 approved lectures · 28 of 84