Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-073

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 11 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 15
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔73 وعلامته أن يصح به المذكور ولا يلغى عند ظهوره بخلاف المحذوف. يعني أن علامة المقتضى أن لا يتغير المقتضي عند ظهوره كقوله إن أكلت فعبدي حر. بئ اقتضاء النص کی بحث چل رہی ہے اور اب آگے جو مقتضى ہے اس کی علامت ذکر کر رہے ہیں۔ بئ دراصل ایک ہوتا ہے مقتضى، ایک ہے محذوف۔ ایک مقتضى ہے اور ایک محذوف۔ مقتضى بھی کلام کے اندر مذکور نہیں ہوتا، محذوف بھی کلام کے اندر مذکور نہیں ہوتا۔ تو ان دونوں میں فرق کیسے ہوگا؟ کس طرح ہم پہچانیں گے کہ اس چیز کو مقتضى کہیں گے اور اس چیز کو محذوف کہیں گے؟ تو وہ اب اس کی مقتضى کی علامت ذکر کر رہے ہیں بئ، جس سے اس کی پہچان ہو جائے گی۔ کہتے ہیں وعلامته اور مقتضى کی علامت یہ ہے أن يصح به المذكور کہ صحیح ہو جائے اس کے ذریعے مذکور۔ مذکور یعنی مقتضي، مذکور کون تھا؟ مقتضي مذکور تھا۔ تو علامت مقتضى کی علامت یہ ہے کہ اس کے ذریعے مذکور یعنی مقتضي صحیح ہو جائے ولا يلغى عند ظهوره اور وہ بدلے نہ، اس میں کوئی تبدیلی نہ آئے عند ظهوره أي ظهور المقتضى، کس کے ظهور کے وقت؟ جب مقتضى ظاہر ہو تو اس مقتضي میں کوئی تبدیلی نہ آئے بئ۔ لغى يلغى کے معنی لغو ہونا، بیکار ہونا، لیکن یہاں اس معنی میں نہیں ہے، یہ یہاں کس معنی میں ہے؟ بدلنے کے معنی میں، يتغير کے معنی میں ہے۔ آگے شارح آپ کو بتلائیں گے بئ۔ تو کہتے ہیں مقتضي، مقتضى کی علامت یہ ہے کہ اس کی وجہ سے مقتضي صحیح ہو جائے اور وہ مقتضي اس مقتضى کے ظهور سے وہ اس میں تبدیلی نہ آئے بخلاف المحذوف بخلاف محذوف کے، کہ اس کے ظهور سے مذکور میں تبدیلی آتی ہے۔ مقتضى کے ظهور سے مقتضي میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، لیکن محذوف کو اگر نکالا جائے تو اس صورت میں مذکور میں تبدیلی آ جاتی ہے بئ۔ يعني أن علامة المقتضى یعنی کہ مقتضى کی علامت یہ ہے أن لا يتغير المقتضي عند ظهوره، دیکھو يلغى کے کیا معنی کیے؟ يتغير کے معنی، جیت کے۔ کہ مقتضى کی علامت یہ ہے أن لا يتغير المقتضي عند ظهوره کہ مقتضي بدلتا نہیں ہے اس کے ظهور کے وقت كقوله جیسے کسی شخص کا قول إن أكلت فعبدي حر، اگر میں نے کھایا تو میرا غلام آزاد ہے۔ إن أكلت فعبدي حر، اگر میں نے کھایا تو میرا غلام آزاد ہے۔ بئ دیکھیے، اب کھانے کا فعل بغیر عقل، عقل کا کیا معنی؟ کھانا۔ عقل بغیر ماکول کے ہو سکتا ہے؟ نہیں، کھانے کے لیے ہمیشہ کوئی کھائی جانے والی چیز ہوگی تو کھانے کا فعل پایا جائے گا، اگر کوئی ایسی چیز نہیں تو کھانے کا فعل بھی نہیں پایا جا سکتا۔ تو جہاں، جب اس نے إن أكلت کہا، اب وہ ماکول تو اس نے ذکر نہیں کیا، تو اس کو اس نے تقاضا کیا بئ، کہ یہاں کیا ہونا چاہیے؟ کوئی ماکول ہونا چاہیے بئ، تو یہ ہے مقتضى۔ تو دیکھیے یہی ذکر کر رہے ہیں كقوله کسی شخص کا یہ قول إن أكلت فعبدي حر، اگر میں نے کھایا تو میرا غلام آزاد ہے فإذا قدر المقتضى جب مقدر نکالا جائے مقتضى کو بأن يقول بأن طور کہ یوں کہا جائے إن أكلت طعاما، اگر میں نے طعام کھانا کھایا فلا يتغير باقي الكلام عن سنته في اللفظ والمعنى، تو بدلتا نہیں ہے باقی کا کلام اپنے طریقے سے لفظ اور معنی میں۔ پہلے کیا تھا؟ إن أكلت فعبدي حر، اب طعاما نکالا، إن أكلت طعاما فعبدي حر، دیکھو، لفظ اور معنی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بئ، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ بدلتا نہیں ہے باقی کا کلام عن سنته اپنے طریقے سے في اللفظ والمعنى لفظ اور معنی میں بخلاف المحذوف بخلاف محذوف کے فإذا قدر کہ جب اس کو مقدر نکالا جائے إنقطع الكلام عن سنته تو منقطع ہو جاتا ہے، کٹ جاتا ہے کلام عن سنته اپنے طریقے سے كما في قوله تعالى جیسے کہ اللہ کے اس قول کے اندر ہے واسأل القرية. واسأل القرية، بستی سے پوچھیے، بستی سے پوچھا جاتا ہے یا بستی والوں سے؟ معلوم ہوا یہاں اہل کا لفظ مضاف محذوف ہے، أي واسأل أهل القرية، واسأل أهل القرية، بستی والوں سے پوچھیے۔ تو یہاں دیکھو، جب اہل کا لفظ نکال لیا، تو کلام میں تبدیلی آ گئی، جو مذکور ہے اس میں تبدیلی آ گئی۔ کس طرح؟ واسأل القرية، صورتاً سوال کس سے، کس سے پوچھیے؟ ذکر کیا ہے بستی سے پوچھیے، لیکن جب اہل نکال لیا تو اب کیا معنی ہوا؟ جی، تو صورتاً تبدیلی آئی، اگرچہ حقیقتاً دونوں میں ایک ہی معنی، وہی تھا، پہلے میں بھی وہی مراد تھا، حقیقت کے اعتبار سے بستی سے پوچھنا مراد نہیں بلکہ کس سے پوچھنا مراد ہے؟ لیکن بہرحال صورتاً تو یہ تھا کہ کس سے پوچھیے؟ بستی سے، تو صورت میں تبدیلی اب، تو پہلے قرية سے سوال کا ذکر تھا، اب اہل قرية سے سوال کا ذکر ہو گیا۔ اور نیز، پہلے قرية کا لفظ منصوب تھا، مفعول تھا اسأل کے لیے، اور اب أهل القرية، اب مجرور ہو گیا، مضاف الیہ بن گیا بئ، تو دیکھو تبدیلی آ گئی، معلوم ہوا یہ محذوف ہے، کیونکہ محذوف کی وجہ سے مذکور میں تبدیلی آتی ہے، جبکہ مقتضى کی وجہ سے مذکور میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ تو کہتے ہیں فإذا قدر لفظ الأهل اور جب مقدر نکالا جائے لفظ اہل کو ويقال اور یوں کہا جائے واسأل أهل القرية فيتحول السؤال عن القرية إلى الأهل، تو پھر جاتا ہے سوال بستی سے اہل بستی کی طرف ويتغير إعراب القرية من النصب إلى الجر، اور بدل جاتا ہے قرية کا اعراب نصب سے جر کی طرف ولكن تنتقض القاعدتان، لیکن یہ دونوں ضابطے ٹوٹ جاتے ہیں۔ بئ دیکھیے، ماتن نے متن میں دو ضابطے بیان کر دیے، ایک ضابطہ یہ بیان کیا کہ مقتضى سے، مقتضى بھی بئ غیر مذکور ہے، محذوف بھی غیر مذکور ہے، فرق بیان کر رہے ہیں کس طرح پہچانیں گے کیا مقتضى ہے اور کیا محذوف ہے؟ بتلایا ہے انہوں نے کہ مقتضى کے نکالنے سے، ذکر کرنے سے، مذکور میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، اور محذوف کے ذکر کرنے سے مذکور میں تبدیلی آ جاتی ہے، تو دو ضابطے ذکر کیے، کون کون سے؟ مقتضى کے ذکر کرنے سے کلام میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، پہلا ضابطہ، کہتے ہیں یہ ضابطہ بھی ٹوٹ جاتا ہے، اور دوسرا ضابطہ کیا؟ محذوف کے نکالنے سے اور ذکر کرنے سے کلام میں تبدیلی، تبدیلی آتی ہے بئ، مقتضى میں تبدیلی نہیں آتی اور محذوف میں تبدیلی آتی ہے، تو اب وہ کہہ رہے ہیں یہ دونوں قاعدے ٹوٹ جاتے ہیں بقوله جی، اب یہ دوسرا قاعدہ جو تھا کہ محذوف کو، کے ظهور سے مذکور بدل جاتا ہے، محذوف کے ذکر، ظهور سے، ہاں، کہتے ہیں یہ ٹوٹ جائے گا اس بقوله تعالى اللہ تعالیٰ کے اس قول سے فقلنا اضرب بعصاك الحجر، پس ہم نے کہا، یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے، اضرب بعصاك الحجر، آپ ماریے اپنی لاٹھی پتھر پر فانفجرت منه اثنتا عشرة عينا، پس پھوٹ پڑے اس میں سے بارہ چشمے۔ ہم نے کہا اپنی لاٹھی سے پتھر کو ماریے، پھر آگے اللہ فرما رہے ہیں پس پھوٹ پڑے، پھوٹ پڑے اس میں سے بارہ چشمے، درمیان میں عبارت محذوف، کیا؟ جب ہم نے کہا پتھر پر لاٹھی ماریے، پھر انہوں نے لاٹھی ماری، پھر پتھر پھٹ گیا اور اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے، تو درمیان میں عبارت محذوف، اب وہ عبارت محذوف نکالیں گے اور دیکھنا مذکور پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، حالانکہ انہوں نے کیا کہا تھا؟ محذوف کو اگر ظاہر کیا جائے، اس کو ذکر کیا جائے تو اس سے مذکور میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ فقلنا اضرب بعصاك الحجر پس ہم نے کہا کہ آپ اپنی لاٹھی ماریے پتھر پر فانفجرت منه اثنتا عشرة عينا پس پھوٹ پڑے اس میں سے بارہ چشمے فإنه إن قدر قوله پس یہاں اگر مقدر نکالا جائے اللہ کے قول فضرب پس انہوں نے لاٹھی ماری فانشق الحجر پس پھٹ گیا وہ پتھر فانفجرت پس پھوٹ پڑے اس، فلا يتغير الكلام الباقي تو بدلتا نہیں ہے باقی کا کلام بتفديره اس کی تقدیر سے، اس کو مقدر نکالنے سے مع أنه محذوف باوجود اس کے کہ یہ کیا ہے؟ محذوف، تو معلوم ہوا آپ کا یہ دوسرا ضابطہ ٹوٹ گیا۔ اور پہلا ضابطہ؟ کہتے ہیں وبقوله وہ بھی ٹوٹ جاتا ہے اس قول سے اعتق عبدك عني بألف، آپ نے مثال ذکر کی تھی، اعتق عبدك عني بألف، آپ اپنا غلام آزاد کر دیجیے میری طرف سے ہزار کے بدلے، تو کس کس چیز نکال تھا آپ نے؟ بیع اور توکیل کو، اور وہ مقتضى تھا، اور آپ نے ہمیں کہا مقتضى کو نکالیں، اس کو ظاہر کیا جائے تو مذکور پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، لیکن یہاں دیکھیے تبدیلی آئے گی۔ فإنه إن قدر البيع پس بے شک یہاں جب بیع کو مقدر نکالا جائے ويقال اور یوں کہا جائے بع عبدك عني، بیچ دے اپنا غلام مجھ پر وكن وكيلي بالإعتاق، اور تو وکیل بالإعتاق ہو جا، آزاد کرنے کا وکیل ہو جا فإنه يتغير الكلام حينئذ، پس بے شک کلام بدل جاتا ہے اس وقت مع أنه مقتضى باوجود اس کے کہ یہ مقتضى ہے لأنه يصير حينئذ، اس لیے کیونکہ بئ دیکھیے۔ اگر مقتضى کو نہ مانیں تو کلام کیا کہا تھا اس نے؟ اعتق عبدك عني بألف، تو اپنے غلام کو آزاد کر دے میری طرف سے ایک ہزار کے بدلے، اگر مقتضى نہ مانیں تو کس کے غلام کو آزاد کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے؟ بئ ایک ہے آمر، حکم دینے والا، یہ جو کہہ رہا ہے، اعتق، یہ ہے آمر، اور جس کو حکم دے رہا ہے وہ ہے مامور، تو اگر مقتضى کو نہ مانیں تو پھر اعتق عبدك عني بألف کس کا حکم، کس کے غلام کو آزاد کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے؟ مامور کے، اور جب آپ بیع اور توکیل مان لیں گے تو پھر کس کے غلام کو آزاد کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے؟ پھر آمر کے غلام کو، تو دیکھو تبدیلی آ گئی، حالانکہ آپ نے کہا تھا کہ مقتضى کو اگر ظاہر کیا جائے تو اس صورت میں کلام میں تبدیلی نہیں آتی۔ لأنه يصير حينئذ مامورا بإعتاق عبد الآمر اس لیے کیونکہ اس وقت وہ ہو جائے گا، کیا ہو جائے گا؟ مامور، بإعتاق عبد الآمر، آمر کے غلام کو آزاد کرنے پر وہ مامور ہوگا وكان قبل ذلك مامورا بإعتاق عبد المأمور اور اس سے پہلے وہ مامور تھا بإعتاق عبد المأمور، مامور کے غلام کو آزاد کرنے پر، یعنی اپنے غلام کو آزاد کرنے پر وہ مامور ولهذا قيل اور اسی وجہ سے کہا گیا ہے بئ یہ ضابطے چونکہ دونوں ٹوٹ جاتے ہیں، انہوں نے تو فرق ذکر کیا لیکن شارح نے بتلایا کہ یہ دونوں ضابطے ٹوٹ جاتے ہیں، انہوں نے کہا تھا مقتضى کے ذکر سے مذکور میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، اور محذوف کے ذکر سے مذکور میں تبدیلی، انہوں نے بتلا دیا یہ دونوں ضابطے ٹوٹ جاتے ہیں، اسی وجہ سے چونکہ دونوں ضابطے ٹوٹ جاتے ہیں، اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ إن الفرق بينهما کہ ان دونوں میں فرق یہ ہے أن المقتضى شرعي کہ مقتضى کیا ہوتا ہے؟ شرعی، شرعی ہوتا ہے، بئ یہ بیع اور توکیل آپ نے کیوں نکالی؟ کس نے بتایا؟ شریعت نے بتلایا کہ یہ نکالو گے تو اس کی طرف سے آزاد ہوگا، ورنہ تو جس کو حکم دیا جا رہا ہے، غلام اسی کی طرف سے آزاد ہو جائے گا اگر بیع اور توکیل نہیں مانو گے، تو اسی لیے کہا گیا کہ مقتضى شرعی ہے والمحذوف لغوي اور محذوف لغوی ہے، اس کا پتا لغت کے اعتبار سے چلتا ہے وأمثاله اور اس کے مثل، یعنی اس لغوی کے مثل ہیں کہ جو مثل ہیں، محذوف لغوی ہے یا لغوی کے جو مثل ہیں یعنی عقلی ہے، گویا یہ کہا انہوں نے، بعض علماء نے، کہ مقتضى اور محذوف میں یہ فرق ہے کہ مقتضى شرعی ہوگا، اس کا پتا کس سے چلے گا؟ شریعت سے، اور جبکہ محذوف لغوی یا اس کے جیسے یعنی عقلی ہوگا، لغوی ہوگا یعنی یا عقلی ہوگا، یا تو اس کا پتا عربی زبان سے چلے گا یا اس کا پتا عقل بتلائے گی بئ، یہ فرق ہے۔ وقيل اور کہا گیا ہے أن المقتضي والمقتضى كلاهما يرادان في الاقتضاء بخلاف المحذوف. بئ دراصل یہ محذوف اور مقتضى میں فرق، یہ اشتباہ میں ڈال دیتا ہے انسان کو، اب کس کو محذوف کہیں؟ کس کو مقتضى کہیں؟ محذوف بھی غیر مذکور کے قبیل سے ہے، مقتضى بھی غیر مذکور، تو متقدمین ان میں فرق نہیں کرتے تھے بئ، کیونکہ وہ مقتضى کی تعریف کیا کرتے تھے؟ وہ تعریف کرتے تھے، غیر منطوق کو منطوق مان لینا، منطوق جس پر نطق کیا جائے، جس پر کلام کیا جائے، جس پر تلفظ کیا جائے، جس کو بولا جائے، غیر منطوق کو کیا ماننا؟ منطوق ماننا، کیوں؟ تاکہ منطوق صحیح ہو جائے، کیا صحیح ہو جائے؟ یعنی جس پر نطق کیا گیا ہے، اعتق عبدك عني بألف، یہ ہے منطوق، اس منطوق کو صحیح قرار دینے کے لیے غیر منطوق یعنی بیع اور توکیل جو ہے اس کو بھی کیا مان لو؟ منطوق مان لو، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ تعریف محذوف پر بھی صادق آتی ہے اور وہاں بھی کیا کیا جاتا ہے؟ غیر منطوق کو منطوق ماننا پڑتا ہے بئ۔ صورت سمجھ میں آ گئی بئ؟ تو چنانچہ بعض نے پھر یہ فرق بیان کیے کہ مقتضى وہ شرعی ہوگا، اس کا پتا شریعت سے چلے گا جبکہ محذوف لغوی ہوگا یا عقلی ہوگا، یعنی لغت بتلائے گی اس کا پتا یا عقل بتلائے گی، وقيل بعضوں نے اور فرق کیا، کہا نہیں، بلکہ فرق اس طرح ہوگا کہ اقتضاء کے اندر مقتضي اور مقتضى دونوں مقصود ہوں گے، دونوں مراد ہوں گے، دونوں کیا ہوں گے؟ جبکہ حذف کے اندر وہ صرف محذوف مراد ہوگا۔ بعضوں نے اور فرق کیا بئ، وہ کہتے ہیں کہ اقتضاء کے اندر، اقتضاء کے اندر مقتضي اور مقتضى دونوں مراد ہوں گے، کیونکہ مقتضي جو ہے وہ تقاضا کرنے والا ہے اور کس لیے، کس کا تقاضا کر رہا ہے؟ مقتضى کا، کس لیے تقاضا کر رہا ہے؟ اپنے صحیح ہونے کے لیے، تو مقتضى کی ضرورت ہے مقتضي کے صحیح کرنے کے لیے، تو مقتضى بھی مراد ہوا بئ، مقتضى بھی کیونکہ مقتضى کی ضرورت ہے مقتضي کو صحیح کرنے کے لیے، اور مقتضي بھی مراد ہے کیونکہ اسی کی صحت اور اس کا صحیح ہونا ہی تو مقصود ہے بئ، تو یہاں پر دونوں مقصود ہوتے ہیں، مقتضي بھی اور مقتضى بھی، کس کے اندر؟ اقتضاء کے اندر، جبکہ محذوف کے اندر محذوف مراد ہوتا ہے اور مذکور مراد نہیں ہوتا بئ، جیسے قرآن میں کیا آیا تھا؟ واسأل القرية، تو یہاں محذوف کیا نکالا؟ اہل کا لفظ بئ، اور وہ محذوف مقصود ہے، کیونکہ سوال قرية سے ہوگا یا اہل قرية سے ہوگا؟ اہل قرية سے، تو وہ محذوف جو ہے وہ مقصود ہے بئ، تو یہ فرق ہوا دونوں کے اندر، بعضوں نے یہ بیان کیا کہ اقتضاء کے اندر مقتضي اور مقتضى دونوں مراد ہوتے ہیں، جبکہ محذوف کے اندر صرف محذوف مراد ہوتا ہے، مذکور مراد نہیں ہوتا بئ۔ وقيل أن المقتضي والمقتضى كلاهما يرادان في الاقتضاء بخلاف المحذوف، اور کہا گیا ہے کہ مقتضي اور مقتضى دونوں مراد ہوتے ہیں اقتضاء کے اندر بخلاف محذوف کے فإن المراد فيه المحذوف لا غير، اس کے اندر صرف محذوف مراد ہوتا ہے نہ کہ کوئی اور، وبالجملة اور حاصل کلام یہ بئ کہ یہ ایک بھئی ایک سوال سوال کا جواب دے رہے ہیں۔ سوال یہ کہ آپ نے مقتضیٰ اور محذوف کو الگ الگ کر دیا۔ آپ نے ہمیں بتلایا کہ مقتضیٰ اور ہوتا ہے، اور محذوف اور ہوتا ہے۔ یہ تو پھر پانچ قسمیں ہو پانچویں قسم بن گئی، پانچویں قسم بھئی۔ ایک تو تھا عبارۃ النص، ایک تھا اشارۃ النص، ایک ہے دلالۃ النص، اور ایک کیا ہے؟ اقتضاء النص۔ اور اقتضاء النص کے اندر محذوف بھی داخل ہو رہا تھا، آپ نے اس کو کیا کر دیا؟ نکال دیا۔ جب اس سے بھی نکال دیا، تو یہ کون سی قسم بن گئی؟ پانچویں قسم بن گئی۔ تو جواب دے رہے ہیں آگے کہ نہیں بھئی، یہ جو محذوف ہے، یہ بھی مذکور کی طرح ہے۔ المحذوف، محذوف بتائیں گے، یہ مقدر کے حکم میں ہے۔ کس کے حکم میں؟ المقدر۔ اور المقدر کالملفوظ، ضابطہ ہے مولانا، مقدر بھی کس کی طرح ہوتا ہے؟ ملفوظ کی طرح ہوتا ہے، یعنی جس پر تلفظ کیا گیا ہو بھئی۔ تو جب وہ ملفوظ کی طرح ہوا، محذوف کس کی طرح؟ ملفوظ کی طرح ہوا۔ ملفوظ کی طرح ہوا، تو ملفوظ میں تو وہ چار قسمیں جاری ہو رہی تھیں۔ عبارۃ النص، اشارۃ النص، دلالۃ النص اور اقتضاء النص۔ تو محذوف بھی جب مذکور کی طرح ہوا، تو وہ اس میں وہ بھی انہی میں سے کسی کے اندر داخل ہو جائے گا بھئی، وہ کوئی الگ قسم نہیں۔ جیسے مذکور ان چار کے اندر کسی میں داخل ہوتا تھا، وہ بھی ان میں سے کسی کے اندر داخل ہو جائے گا۔ وبالجملۃِ، جی، الجملۃِ، مجموعی اعتبار سے، یعنی حاصلِ کلام یہ: فالمحذوف فی حکم المقدر، کہ محذوف جو ہے، وہ مقدر کے حکم میں ہے۔ والمقدر کالملفوظ، لا یخلو عن العبارۃ والاشارۃ والدلالۃ والاقتضاء، اور وہ خالی نہیں ہے عبارت، اشارہ، دلالت اور اقتضاء سے، انہی میں سے کسی میں داخل ہے۔ وليس قسماً خارجاً عن الاربعۃ، اور وہ کوئی الگ قسم نہیں ہے چار سے، کوئی چار سے خارج قسم نہیں ہے۔ ولیس قسماً خارجاً عن الاربعۃ ومثالہ الامر بالتحرير للتكفير مقتضياً للملك ولم يذكره. اور اس کی مثال اقتضاء النص کی مثال— بھئی، متن میں ابھی تک ذکر نہیں کی اقتضاء النص کی مثال، متن میں صرف پہلے اس کی تعریف کی، پھر اس کی علامت بتلائی، اب اس کی مثال ذکر کر رہے ہیں۔ ہاں، شارح نے پہلے ہی بتلا دیا آپ کو— کہتے ہیں: ومثالہ اور اقتضاء کی، مقتضیٰ کی مثال: الامر بالتحرير للتكفير، حکم ہے آزاد کرنے کا، للتكفير، کس لیے؟ کفارہ دینے کے لیے۔ مقتضياً، یہ تقاضا کرتا ہے، للملك، ملکیت کا، ولم يذكره، اور حال یہ کہ اس نے اس کو ذکر نہیں کیا۔ بھئی، دیکھیے۔ حکم دینے والے نے، ایک شخص نے دوسرے سے کیا کہا تھا؟ "اعتق عبدک عنی بالف"، تو اپنے غلام کو میری طرف سے ایک ہزار کے بدلے آزاد کر دے۔ اب یہ ہے امر بالتحریر، کس چیز کا حکم دے رہا ہے؟ آزاد کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ جی، اور کس لیے دے رہا ہے؟ یہ کفارہ دینا چاہتا ہے۔ تو یہ کس لیے حکم دے رہا ہے؟ کفارہ دینے کے لیے بھئی، کفارہ دینے کے لیے۔ یہ آزاد کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ اور یہ کس چیز کا تقاضا کر رہا ہے؟ ملکیت، کہ یہ پہلے اس کا مالک تو ہو، پھر اس کی طرف سے کفارہ ہوگا۔ اور اس نے ملکیت کو ذکر کیا؟ ملکیت کو اس نے ذکر نہیں کیا۔ تو لہٰذا کیا ماننا پڑے گی؟ محذوف، بیع، اور پھر توکیل۔ بیع سے مالک بنے گا، اور پھر اس دوسرے کو گویا وکیل بناتے ہوئے آزاد کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہی بات ذکر کر رہے ہیں۔ ومثالہ الامر بالتحرير، اور اس کی مثال آزاد کرنے کا حکم دینا ہے، یعنی اعتق عبدک، للتكفير، کس لیے؟ کفارہ دینے کے لیے۔ مقتضياً، یہ جو امر بالتحریر ہے، یہ تقاضا کر رہا ہے کس چیز کا؟ ملکیت کا، کہ اس کو پہلے کیا ہونا چاہیے؟ مالک۔ ولم يذكره، اور حال یہ ہے کہ اس نے اس کو ذکر، ملکیت کو ذکر نہیں کیا۔ تو اس کو ہمیں خود ماننا پڑے گا بیع کو بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ایک یہ تقریر۔ ایک یہ تقریر، دوسری تقریر بھئی۔ اس کے مطابق کس مثال، کس کو بنایا مثال؟ مثال کے لفظ نہیں ذکر کیے انہوں نے، صرف اتنا کہا: ومثالہ الامر بالتحرير للتكفير، آپ خود سمجھ گئے کون سی مثال ہے: اعتق عبدک عنی بالف۔ لیکن ایک اور مثال بھی اس کی بنتی ہے، کیا؟ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: "فتھریر رقبۃ"، تو کیا کرنا ہے؟ ایک غلام کو آزاد کرنا ہے کفارے کے اندر بھئی، ایک غلام یا باندی کو آزاد کرنا ہے۔ اور یہ آپ جانتے ہیں، آزاد کس کو کرتا ہے انسان؟ غلام بھی ہو اور اپنا بھی ہو، پھر ہی اس کی طرف سے ہوگا۔ معلوم ہوا، آزاد بھی اس میں داخل نہیں، کیونکہ آزاد تو پہلے سے ہی ہے۔ اور دوسرے کا غلام بھی اس میں داخل نہیں، تو معلوم ہوا آزاد کرو ایک رقبہ کو، کس قسم کی رقبہ کو آزاد کرو؟ جو جس کے تم مالک ہو، جس کے تم مالک ہو، پھر ہی تمہاری طرف سے کفارہ ادا ہوگا۔ تو قرآن میں تو اللہ نے صرف اتنا ذکر فرمایا: "فتھریر رقبۃ"، کیا کرنا ہے؟ ایک غلام کو آزاد کرنا ہے۔ اور تو دیکھیے، متن پر ذرا نظر رکھیں۔ مثالہ، تو یہ جو اللہ فرما رہے ہیں "فتھریر رقبۃ"، کیا کرنا ہے؟ ایک غلام کو آزاد کرنا ہے۔ یہ ہے امر بالتحریر، آزاد کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ للتكفير، کس لیے؟ کفارے کے لیے۔ مقتضين للملک، یہ کس کا تقاضا کر رہا ہے؟ کہ وہ آزاد کرنے والا اس کا مالک بھی ہو بھئی، یہ غلام اس کا مملوک ہو۔ ولم يذكره، اور حال یہ ہے کہ اللہ نے اس کو ذکر نہیں فرمایا، کہ یہ ملک کو اللہ نے ذکر نہیں فرمایا کہ وہ تمہارا مملوک ہو، یہ بات اللہ نے ذکر نہیں فرمائی۔ لیکن یہ تقاضا کر رہا ہے، اس کو ماننا پڑے گا۔ گویا یوں کہا گیا: "فتھریر رقبۃ مملوکۃ لکم"، کہ آزاد کرو ایک ایسی گردن جو تمہاری مملوک ہو بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دو باتیں آ گئیں۔ یا تو اس کے ذریعے اشارہ ہے "اعتق عبدک عنی بالف" اور یا اس کے ذریعے اشارہ ہے اللہ کے قول "فتھریر رقبۃ" کی طرف۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ والظاہر ان الامر بالتحرير ہو قولہ تعالی فتھریر رقبۃ، اور ظاہر یہ ہے کہ امر بالتحریر وہ اللہ کا قول "فتھریر رقبۃ" ہے۔ شارح کیا فرما رہے ہیں؟ بھئی، میں نے کتنے احتمال ذکر کیے اس میں؟ دو۔ اور شارح فرما رہے ہیں، ان میں سے زیادہ ظاہر یہی ہے کہ کون سا احتمال، کون سا قول مراد ہے؟ "فتھریر رقبۃ"، بھئی، یہ کیوں، ظاہر کیوں ہے؟ وجہ یہ، مولانا، کہ متن میں آیا "للتکفیر"، کفارے کے لیے، اور یہ "فتھریر رقبۃ"، یہ بھی کس لیے اللہ ذکر فرما رہے ہیں؟ کفارے کے طور پر، تو یہ کفارے کے طور پر ہے۔ "اعتق عبدک عنی بالف"، اس میں کوئی کفارے کا ذکر ہے؟ اس میں تو کوئی کفارے کا ذکر نہیں، ہو سکتا ہے ایک آدمی ویسے ہی ایک غلام کو آزاد کرنا چاہتا ہے بطورِ ثواب، ثواب کی نیت سے بھئی۔ تو اس میں چونکہ کفارے کا ذکر نہیں، اور یہ جو قرآن میں ہے، یہ ہے ہی کفارے کے طور پر، اور متن میں بھی کیا لفظ آیا؟ "للتکفیر"، تو لہٰذا زیادہ ظاہر یہی ہے کہ یہ مراد ہے مصنف کی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ ان الامر بالتحرير، کہ امر بالتحریر جو ہے، ہو قولہ تعالی، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: فتھریر رقبۃ، فانہ مقتض للملک الغير المذكور، اسی کیونکہ یہ تقاضا کر رہا ہے اس ملکیت کا جو ذکر نہیں ہے، فكانہ قال، پس گویا کہ اللہ نے یوں فرمایا: فتھریر رقبۃ مملوکۃ لکم، پس آزاد کرنا ہے ایک ایسی گردن کا جو تمہاری مملوک ہو، فان اعتاق الحر و و عبد الغير لا يصح، اسی کیونکہ آزاد کو آزاد کرنا اور غیر کے غلام کو آزاد کرنا لا یصح، یہ تو صحیح نہیں ہے، فتھریر رقبۃ مقتض، پس تحریرِ رقبہ، یہ ہوا مقتضی، ومملوکۃ لکم مقتضى، یہ کیا ہوا؟ مقتضیٰ ہوا۔ وحكمہ، اور حکم کیا ہے مقتضیٰ کا؟ ہو الملك، وہ ملکیت ہے، وہ ملکیت ہے، ثابت بالمقتضى، جو کس کے ذریعے ثابت ہے؟ مقتضیٰ، بھئی، ملکیت حکم کیا ہے بھئی؟ "مملوکۃ"، یہ اس کا تقاضا کس نے کیا؟ تحریرِ رقبہ نے تقاضا کیا کہ کیا لفظ مانو؟ "مملوکۃ لکم"۔ اور "مملوکۃ لکم" کا حکم کیا ہے؟ ہو الملك الثابت بالمقتضى، وہ ملکیت ہے جو ثابت ہے کس کے ذریعے؟ یہ مملوکۃ لکم یہ مقتضیٰ ہے نا، اسی کے ذریعے جو تمہارے مملوک ہو، اس کے ذریعے ثابت ہے۔ بالمقتضى الذی ہو ثابت بالمقتضی، وہ مقتضیٰ جو کس کے ذریعے ثابت ہے؟ مقتضی کے ذریعے ثابت ہے۔ وقيل، اور کہا گیا ہے، اب دوسری تقریر کر رہے ہیں: المراد بہ قولہ، کہ اس کے ذریعے مراد جو ہے، کسی شخص کا یہ قول ہے: اعتق عبدك عنی بالف، فانہ يقتضی معنى البيع، اسی کیونکہ یہ تقاضا کرتا ہے بیع کے معنیٰ کا، فكانہ قال، پس گویا کہ کہنے والے نے یوں کہا: بع عبدك عنی وكن وكيلی بالاعتاق، کہ بیچ دو اپنا غلام میرے ہاتھ اور ہو جاؤ میری طرف سے آزاد کرنے کے وکیل، فلما ثبت البيع اقتضاءً، پس جب بیع اقتضاءً ثابت ہوئی۔ بھئی، "اعتق عبدک عنی بالف"، یہاں پر آپ نے کس کو اقتضاءً مانا؟ بیع کو، بیع کو۔ تو کہا: فلما ثبت البيع اقتضاءً، جب بیع اقتضاءً ثابت ہوئی، فلا يشترط فيه شرائط نفسہ، تو اس میں شرط نہیں لگائی جائے گی نفسِ بیع کی شرائط بھئی۔ نفسِ بیع کی شرائط اس میں نہیں لگائی جائیں گی بھئی۔ بیع کے اندر کیا شرائط تھیں؟ ایجاب ہو اور کیا ہو؟ قبول ہو، وغیرہ بھئی۔ تو یہ تو یہ شرائط اس میں نہیں لگائی جائے گی، فيستغنی عن الايجاب والقبول، پس یہ بیع جو ہے، بے نیاز ہوگی کس سے؟ ایجاب اور قبول سے، ولا يجری فيه خيار الرؤيۃ والعيب والشرط، اور اس میں خیارِ رؤیت اور خیارِ عیب اور خیارِ شرط بھی جاری نہیں ہوں گے۔ بھئی، خیارِ رؤیت جانتے ہو یا نہیں جانتے بھئی؟ خیارِ رؤیت اس کو کہتے ہیں کہ کوئی چیز آپ نے دیکھے بغیر ہی خرید لی کسی سے، تو آپ جب تک آپ نے اس کو دیکھا نہیں، آپ کو شریعت نے خیارِ رؤیت دیا ہے۔ مثلاً، آپ سے آپ نے زید سے گاڑی خرید لی، بیع ہو گئی، ایجاب و قبول ہو گیا۔ آپ گاڑی کے مالک بن گئے۔ لیکن گاڑی زید کے گھر پر کھڑی ہے، یا زید کے کسی جگہ پر کھڑی ہے، اور زید آپ 10 دن بعد جا کر اس کو دیکھتے ہیں، مہینے بعد جگہ یا اب لینے گاڑی بھئی، اپنی مرضی آپ کی، آپ گئے لینے، آپ نے جا کر جب گاڑی کو دیکھا، آپ کو پسند نہیں آئی۔ گاڑی میں کوئی عیب نہیں، کوئی خرابی نہیں، کچھ نہیں، بس آپ کو پسند نہیں آئی۔ شریعت نے آپ کو خیارِ رؤیت دیا ہے، کہ دیکھا پہلی مرتبہ جب دیکھو اور وہ چیز پسند نہ آئے، تو تم کیا کر سکتے ہو؟ اس کو واپس لوٹا سکتے ہو بھئی۔ یہ ہے خیارِ رؤیت بھئی۔ اور ایک ہے خیارِ عیب بھئی۔ خیارِ عیب یہ کہ آپ نے کوئی چیز خریدی اور وہ چیز آپ کے پاس آ گئی، آپ اس نے اس کو استعمال بھی شروع کر دیا اس کا، چند دن بعد یا کچھ دیر بعد آپ کو پتہ چلا، بھئی، اس چیز میں تو یہ خرابی ہے، اور یہ خرابی بائع کی طرف سے ہی آئی ہے۔ معلوم ہوا اس نے مجھے خراب چیز دی ہے، تو شریعت نے آپ کو خیارِ عیب دیا ہے، آپ اس عیب کی وجہ سے اس چیز کو کیا کر سکتے ہیں؟ واپس لوٹا سکتے ہیں۔ لیکن شرط یہی ہے کہ یہ عیب کس کے پاس سے آیا ہو؟ بائع کے پاس سے آیا ہو، بائع کے پاس سے۔ اگر بائع کے پاس سے نہیں آیا، مشتری کے پاس یہ عیب پیدا ہوا ہے، پھر چیز واپس کرنا جائز نہیں یہ کہہ کر کہ یہ تو تمہاری طرف سے عیب آیا تھا۔ لوگ عموماً یوں ہی کرتے ہیں بھئی، چیز لے گئے اور خود اس میں عیب پیدا کر دیتے ہیں، اور پھر الزام لگا دیا جاتا ہے بائع پر کہ یہ اس کے پاس سے، یہ چیز مجھے ملی ہی اس طرح تھی۔ بھئی، ٹھیک ہے، آپ بے شک لوگوں کو قائل کرنے میں کامیاب بھی ہو جائیں، اور چیز واپس بھی کر دیں، لیکن بہرحال، اللہ تو ہر چیز کو دیکھ رہے ہیں، ہر چیز لکھی جا رہی ہے، تو آخرت میں سخت مؤاخذہ ہوگا اس پر بھئی۔ تو یہ تھا بھئی خیارِ عیب۔ اور ایک ہے خیارِ شرط بھئی۔ خیارِ شرط اس کو کہتے ہیں کہ بائع یا مشتری میں سے کوئی ایک اپنے لیے خیار رکھ لیتا ہے، یہ زیادہ سے زیادہ تین دن تک ہوتا ہے، بیع کو فسخ کرنے کا اختیار۔ بائع کہتا ہے: "بھئی، یہ چیز میں بیچتا ہوں آپ کو، لیکن مجھے اختیار ہے تین دن کے اندر اگر میں چاہوں، تو بیع کو فسخ کر سکتا ہوں۔" یا مشتری کہتا ہے بھئی کہ اگر تین دن کے اندر میں چاہوں، تو بیع کو فسخ کر سکتا ہوں۔ تو یہ خیارِ شرط ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ولا يجری فيه خيار الرؤيۃ والعيب والشرط، یہ بیع چونکہ اقتضاءً ثابت ہوئی ہے، لہٰذا اس کے اندر خیارِ رؤیت، خیارِ عیب اور خیارِ شرط بھی جاری نہیں ہوتا، بل يشترط فيه شرائط الاعتاق، بلکہ اس کے اندر اعتاق کی شرائط جو ہے، ان کی شرط لگائی جائے گی، من كون الامر مکلفاً اہلاً للاعتاق، یعنی کہ آمر کا مکلف ہونا اور آزاد کرنے کا اہل ہونا۔ آمر کیا ہو بھئی؟ حکم دینے والا، جس نے کہا تھا "اعتق عبدک"، اس بیع کی شرائط کا تو یہاں لحاظ نہیں رکھیں گے، کیونکہ بیع اقتضاءً ثابت ہوئی ہے۔ لیکن اعتاق تو وہ لفظوں میں ذکر کر رہا ہے، تو اس اعتاق کی شرائط کا لحاظ رکھنا پڑے گا بھئی۔ اور اگر وہ حکم دینے والا بچہ ہے، تو بھئی، وہ تو بچہ تو آزاد کرنے کے کا اہل ہی نہیں ہے۔ یا غلام ہے، تو وہ تو آزاد کرنے کا اہل ہی نہیں، یا مجنون ہے، تو وہ بھی آزاد کرنے کا اہل ہی نہیں ہے، تو پھر اس صورت میں درست نہ ہوگا۔ تو من یہ بیان ہے بھئی، یہ شرائطِ اعتاق کا۔ اس میں شرط لگائی جائے گی شرط اعتاق کی شرائط، یعنی من بیان ہے، تو یعنی کے ساتھ ترجمہ کریں گے۔ من كون الامر مکلفاً اہلاً للاعتاق، یعنی کہ آمر کا مکلف ہونا، اعتاق کا اہل ہونا، فلا يصح من الصبی والمجنون، پس لہٰذا یہ صحیح نہیں ہے بچے کی طرف سے اور مجنون کی طرف سے۔ وعلی ہذا يقول ابو يوسف رحمہ اللہ تعالی: لو قال: اعتق عبدک عنی، بغير ذکر الالف، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اوپر والی عبارت میں تو اس نے "بالف" ذکر کیا تھا، ہزار کے بدلے۔ اگر "بالف" ساتھ ذکر نہ کرے، صرف یوں کہے: "اعتق عبدک عنی"، تم اپنے غلام کو میری طرف سے آزاد کر دو، کہتے ہیں، اس صورت میں یہ کلام، پہلا کلام جو تھا "بالف" کے ساتھ، وہ بیع کا تقاضا کر رہا تھا۔ کس کی وجہ سے بیع کا تقاضا کر رہا تھا؟ یہ جو "بالف" آیا تھا، یہ الف بتلا رہا تھا کہ وہ عوض دے گا اس کا بھئی۔ تو یہ اور عوض اس کی طرف سے غلام ہو جائے گا، اس کی طرف سے ہزار درہم ہو جائیں گے، تو یہ معلوم ہوا یہ بیع ہے بھئی۔ تو وہاں ہم نے بیع کو مقتضیٰ نکالا تھا۔ اور یہاں اس نے عوض نہیں ذکر کیا، تو یہ کلام ہبہ کا تقاضا کرے گا، کہ اپنا غلام مجھے کیا کرو؟ تحفے میں دے دو، مجھے اس کا مالک بنا دو، اور پھر میری طرف سے وکیل بن کر اسے کیا کر دو؟ آزاد کر دو۔ چنانچہ فرماتے ہیں، یہ ہبہ کا تقاضا کر رہا ہے، لہٰذا ہبہ اقتضاءً ثابت ہو جائے گا۔ لیکن ہبہ میں ایک بات یاد رکھیں۔ کسی کو چیز تحفے کے طور پر دینا، یاد رکھیے، ہبہ جو ہے، وہ قبضے سے تام ہوتا ہے، پورا ہوتا ہے۔ آپ کسی کو کہتے ہیں: "بھئی، یہ گاڑی میں نے آپ کو دے دی"، وہ اس گاڑی کا مالک نہیں بنے گا صرف آپ کے کہنے سے، بلکہ جب آپ باقاعدہ اس کے حوالے کر دیں گے، اب وہ مالک بن جائے گا، کیونکہ ہبہ پورا ہی کس کے ذریعے ہوتا ہے؟ قبضے کے ذریعے، جب وہ اس پر قبضہ کر لے گا، تو اب ہبہ پورا ہوا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو قبضہ ہبہ کے لیے شرط ہے۔ ہبہ کے پورا ہونے کے لیے شرط ہے۔ اور آپ نے یہ ضابطہ بھی پڑھا ہے کہ ہبہ کے اندر رجوع بھی جائز ہے۔ پڑھا ہے یا نہیں؟ کیا معنی رجوع کا؟ آپ گئے جا کر کہا، "میری گاڑی آپ کے پاس ہے، میں نے آپ کو تحفے کے طور پر دی تھی، مجھے واپس دے دو۔" تو یاد رکھیے، ہبہ میں رجوع ہو سکتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ بھی راضی ہے۔ وہ بھی وہ راضی، آپ نے کہا، "گاڑی مجھے دے دو"، وہ راضی ہو گیا، "لو بھئی، اپنی گاڑی لے جاؤ"، تو ٹھیک ہے، آپ لیں۔ اگر وہ راضی نہیں، پھر؟ پھر قاضی کے پاس آپ کو جانا پڑے گا، وہاں جا کر ثابت کریں کہ میں نے یہ گاڑی اس کو ہبہ کی تھی اور پھر قاضی کیا کرے گا؟ آپ کو گاڑی واپس دلوا دے گا بھئی، یہ معنی ہے بھئی۔ یعنی جب تک اس کی، اگر اس کی مرضی نہیں ہے تو زبردستی ویسے نہیں لے سکتے بھئی۔ قضا، قاضی کی پھر ضرورت پڑے گی۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں، "یہاں اقتضاءً ہبہ ثابت ہوا، جیسے وہاں اقتضاءً بیع ثابت ہوئی تھی۔" اور جب بیع اقتضاءً ثابت ہوئی تھی تو بیع کی شرائط کا لحاظ وہاں نہیں رکھا گیا تھا بلکہ وہاں تو بیع کے جو ارکان ہیں ایجاب اور قبول، وہ بھی ساقط ہو گئے تھے، تو جیسے وہاں ارکان ساقط ہو گئے تھے تو یہاں تو شرط ساقط کرنا پڑے گی، ماننا پڑے گی صرف اور شرط ساقط ہو جائے گی۔ جب ارکان ساقط ہو گئے تھے بیع کے اندر تو ہبہ کے اندر شرط بطریقِ اولیٰ ساقط ہو جائے گی، لہٰذا ہبہ ثابت ہو جائے گا۔ ہبہ ثابت ہو جائے گا، وہ فرماتے ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ، اور غلام جو جو مامور جو ہے وہ غلام کو آزاد کرے گا تو یہ آمر کی طرف سے آزاد ہو گا، وہ فرماتے ہیں، کیونکہ ہبہ کیا ہوا؟ یہاں ہبہ اقتضاءً ثابت ہوا ہے، لہٰذا قبضے کی شرط اس میں لگائی ہی نہیں جائے گی بھئی۔ تو غلام، حالانکہ ورنہ تو ہبہ پورا کس سے ہوتا تھا؟ یعنی آمر اس پر قبضہ کرے پھر ہبہ پورا ہوتا تھا، لیکن وہ فرماتے ہیں کہ یہاں ہبہ کس طرح ثابت ہے؟ اقتضاءً، اور جیسے بیع اقتضاءً ثابت تھی تو وہاں بیع کے تو شرائط تو چھوڑو، ارکان بھی ساقط ہو گئے تھے، تو لہٰذا یہاں پر تو ارکان نہیں ساقط ہو رہے، صرف کیا ساقط ہو رہا ہے؟ صرف شرائط، تو یہ تو یہاں بطریقِ اولیٰ ہبہ ثابت بھی ہو جائے گا اور پھر یہ غلام آزاد کس کی طرف سے شمار ہو گا؟ حکم دینے والے کی طرف سے، جبکہ طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں، "نہیں۔" وہ فرماتے ہیں کہ اگر اس طرح غلام اس نے آزاد کر دیا تو وہ مامور کی طرف سے آزاد ہو گا، آمر کی طرف سے آزاد نہیں ہو گا۔ جب آمر کی طرف سے آزاد نہیں اور آمر تو اس کو بطورِ کفارے کے مثلاً ادا کا آزاد کرنا چاہتا تھا تو اس کا کفارہ بھی ادا نہیں ہوا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ وَعَلَى هَذَا يَقُولُ اور اسی بناء پر امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں، لَوْ قَالَ أَعْتِقْ عَبْدَكَ عَنِّي اگر کسی نے یوں کہا أَعْتِقْ عَبْدَكَ عَنِّي بِغَيْرِ ذِكْرِ الْأَلْفِ، الف کو ذکر کیے بغیر ہی، فَإِنَّهُ يَقْتَضِي الْهِبَةَ تو یہ ہبہ کا تقاضا کرتا ہے، كَمَا أَنَّ الْأَوَّلَ اقْتَضَى الْبَيْعَ جیسے کہ اول نے بیع کا تقاضا کیا تھا، وَيَسْتَغْنِي هَذِهِ الْهِبَةُ عَنِ الْقَبْضِ اور یہ ہبہ بھی بے نیاز ہو گا، بے پرواہ ہو گا قبضے سے، كَمَا اسْتَغْنَى الْبَيْعُ عَنِ الْإِيجَابِ وَالْقَبُولِ جیسے کہ بیع مستغنی ہو گئی تھی، بے نیاز ہو گئی تھی ایجاب اور قبول سے، بَلْ أَوْلَى بلکہ یہ بطریقِ اولیٰ بے نیاز ہو گا، لِأَنَّ الْقَبْضَ شَرْطٌ وَالْإِيجَابَ وَالْقَبُولَ رُكْنٌ اس لیے کیونکہ قبضہ تو شرط ہے اور ایجاب اور قبول تو رکن تھے، فَلَمَّا احْتَمَلَ الرُّكْنُ السُّقُوطَ پس جب رکن ساقط ہونے کا احتمال رکھتا ہے، فَالشَّرْطُ أَوْلَى تو شرط بطریقِ اولیٰ۔ وَلَكِنَّا نَقُولُ لیکن ہم کہتے ہیں، إِنَّ الْإِيجَابَ وَالْقَبُولَ فِي الْبَيْعِ کہ ایجاب اور قبول بیع کے اندر جو ہیں، مِمَّا يَحْتَمِلُ السُّقُوطَ ان چیزوں میں سے ہیں جو سقوط کا احتمال رکھتے ہیں۔ خود بیع کے اندر ہی، یہ تو اقتضاءً بیع کو چھوڑو، ویسے الگ کوئی بیع ہو، اس کے اندر بھی کبھی کبھار ایجاب اور قبول ساقط ہو جاتے ہیں، جیسے کہ بیعِ تعاطی کے اندر ہوتا ہے۔ کس کے اندر؟ بیعِ تعاطی بھئی۔ بیعِ تعاطی، یعنی عملی بیع۔ یعنی عمل کے ذریعے بیع ہوتی ہے، لفظ نہیں ہوتا وہاں، یعنی ایجاب و قبول نہیں ہوتے۔ صورت یہ: آپ گئے دکان پر، آپ نے ایک چیز اٹھائی، پیسے رکھ دیے، دکاندار نے چیز آپ کے حوالے کی، پیسے اٹھائے اور جیب میں رکھ لیے، آپ چیز لے کر آ گئے، اب دیکھو نہ ایجاب ہے، نہ قبول ہے، لیکن بیع پائی گئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ بیعِ تعاطی، بیعِ تعاطی۔ تو دیکھو عام بیع کے اندر بھی ایجاب اور قبول ساقط ہونے کا احتمال رکھتے ہیں جیسے بیعِ تعاطی کے اندر ہیں، لیکن ہبہ کے اندر تو قبضہ کسی صورت ساقط ہونے کا احتمال نہیں رکھتا، لہٰذا ہبہ سے قبضہ کبھی بھی ساقط نہیں ہو گا، جبکہ بیع سے ویسے بھی ایجاب و قبول ساقط ہو جاتے ہیں بیعِ تعاطی میں، تو اقتضاءً بطریقِ اولیٰ کیا ہو جائیں گے ایجاب و قبول؟ ساقط ہو جائیں گے بھئی۔ وَلَكِنَّا نَقُولُ أَنَّ الْإِيجَابَ وَالْقَبُولَ فِي الْبَيْعِ مِمَّا يَحْتَمِلُ السُّقُوطَ کہ ایجاب اور قبول بیع کے اندر ان چیزوں میں سے ہیں جو سقوط کا احتمال رکھتے ہیں، كَمَا فِي التَّعَاطِي جیسے بیعِ تعاطی کے اندر، بِخِلَافِ الْقَبْضِ فِي الْهِبَةِ برخلاف قبضے کے ہبہ میں، فَإِنَّهُ لَا يَحْتَمِلُ السُّقُوطَ بِحَالٍ پس وہ جو ہے وہ احتمال نہیں رکھتا ساقط ہونے کا کسی بھی حال میں۔ تعاطی بھئی، عملی بیع۔ بھئی، یاد رکھیے۔ ہماری اکثر بیوعات جو ہیں وہ بیعِ تعاطی کی قبیل سے ہوتی ہیں، بیعِ تعاطی کی، ورنہ ہماری اکثر بیوع فاسد ہو جائیں۔ بیع کا ایک ضابطہ یہ ہے کہ کسی سے اگر کوئی چیز خریدیں اور وزن یا پیمائش وغیرہ کے اعتبار سے خریدیں، ماپ کے اعتبار سے خریدیں، تو ضروری ہے کہ بائع آپ کو وہ چیز ماپ کر دے۔ آپ گئے اور دکاندار ایک شخص سے آپ نے کہا، "میں نے آپ سے 10 کلو چینی خرید لی اتنے میں۔" اس نے قبول کر لیا۔ اب وہ آپ کو ایک پیکٹ اٹھا کر دیتا ہے جس میں 10 کلو چینی ہے، ماپتا نہیں ہے آپ کے سامنے۔ آپ نے کہا، "بھئی، ماپو۔" اس نے کہا، "بھئی، پوری ہے، میں نے ماپ کر رکھی ہے اس میں پہلے سے ہی۔" آپ لے آئے، یاد رکھیے، آپ کے لیے اس کو استعمال کرنا جائز نہیں اور نہ اس کو آگے بیچنا جائز ہے، کیونکہ یہ چینی آپ نے کس طریقے پر خریدی ہے؟ وزن کے اعتبار سے خریدی ہے، آپ نے کہا تھا مجھے 10 کلو چاہیے، 10 کلو میں نے خرید لیا آپ سے۔ اور جب کوئی چیز وزن کا باقاعدہ بیع میں وزن کا کے تحت ذکر کیا جائے اور خریدی جائے تو اس میں باقاعدہ ضروری ہے کہ بیچنے والا آپ کے سامنے اس کو کیا کرے؟ تولے اور پھر آپ کے حوالے کرے۔ مثلاً یا ماپنے والی چیز ہے، آپ دودھ لینے گئے اور آپ نے کہا، "مجھے 10 لیٹر دودھ میں نے آپ سے خرید لیا۔" اس نے کہا، "مجھے قبول ہے۔" ایجاب اور قبول کیا بھئی۔ اب وہ کیا کرتا ہے، ایک برتن بھرا ہوا پڑا تھا، وہ سارا آپ کے حوالے کرتا ہے، آپ نے کہا، "بھئی، ماپو تو سہی میرے سامنے۔" اس نے کہا، "میں نے ماپ کے پہلے سے رکھا ہوا ہے۔" تو یاد رکھیے، یہ دودھ آپ کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں، کیونکہ یہ آپ نے ویسے پیسے دیے کہ یہ سارا دودھ میں اتنے پیسے میں لیتا ہوں یا آپ نے باقاعدہ پیمائش کا ذکر کیا تھا؟ ماپنے کا، ماپنے کا ذکر کیا تھا۔ اور جب وزن اور ماپ کا ذکر ہو تو ضروری ہے کہ دکاندار آپ کے سامنے اس چیز کو کیا کرے؟ بھئی اس کو وزن کرے یا اس کو ماپے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن ہماری اکثر بیوع چونکہ بیعِ تعاطی کی قبیل سے ہیں، اس لیے دیکھیے، آپ دکان پر جاتے ہیں، آپ کہتے ہیں، "ایک کلو چینی دے دیجیے۔" وہ چینی کا کلو والا پیکٹ آپ کو دیتا ہے، آپ اٹھا کر لے آتے ہیں، پیسے دے دیتے ہیں۔ آپ نے چینی ویسے خریدی ہے یا کلو کا کہہ کر؟ اور اس نے کوئی آپ کے سامنے وزن کیا؟ پھر تو یہ بیع فاسد ہونی چاہیے۔ لیکن یاد رکھیے کہ ہماری چونکہ اکثر بیوع بیعِ تعاطی کی قبیل سے ہیں، اس لیے یہ جائز ہو جائے گا۔ اگر یہ بیعِ تعاطی نہ ہوتی تو پھر یہ جائز بھی نہیں تھا، کس طرح بیعِ تعاطی ہے؟ بھئی بیعِ تعاطی ہی تو ہے، آپ گئے، آپ نے جا کر کیا کہا؟ "ایک کلو چینی دے دو۔" یہ کیا ہے؟ ایجاب نہیں ہے مولانا، یہ تو امر ہے، امر۔ ایجاب میں آپ نے پڑھا تھا وہ کون سا صیغہ ہونا چاہیے؟ ماضی کا صیغہ یا حال کا صیغہ ہونا چاہیے بھئی۔ اردو میں حال کا بھی چل جائے گا، عربی میں تو مضارع حال اور استقبال دونوں کے لیے آتا ہے نا، اس لیے وہاں پر درست نہیں، لیکن اردو میں حال کا الگ صیغہ ہے اور مستقبل کا الگ ہے، اس لیے حال سے بھی ہو جائے گی۔ تو یہ تو آپ امر دے رہے ہیں، "مجھے ایک کلو چینی دے دو۔" اس نے پیکٹ اٹھایا، آپ کے حوالے کر دیا۔ نہ آپ کی طرف سے ایجاب ہے، نہ اس کی طرف سے قبول ہے۔ آپ نے پیسے نکالے، پوچھا، "کتنے پیسے؟" اس نے کہا، "اتنے پیسے"، آپ نے پیسے دیے، پیسے اس نے اٹھا کر رکھ لیے، آپ چینی لے کر آ گئے، نہ ایجاب ہوا، نہ قبول ہوا، یہ کون سی بیع ہے؟ بیعِ تعاطی بھئی، اور بیعِ تعاطی اس میں تو وزن کی کوئی بات ہی نہیں ہوئی، یوں سمجھیں۔ بیعِ تعاطی ہوئی نا، نہ ایجاب، نہ قبول، ایجاب ہوتا تو اس میں وزن کی بات آتی، آپ ذکر کرتے، لیکن یہاں ایجاب ہے نہ قبول ہے، لہٰذا اس لیے یہ ہماری بیوع کیا ہیں؟ صحیح ہو جاتی ہیں بھئی۔ وَالثَّابِتُ مِنْهُ كَالثَّابِتِ بِدَلَالَةِ النَّصِّ إِلَّا عِنْدَ الْمُعَارَضَةِ اور وہ جو ثابت ہو اس سے یعنی مقتضیٰ سے، جو مقتضیٰ سے ثابت ہو، كَالثَّابِتِ بِدَلَالَةِ النَّصِّ وہ کس کی طرح ہے؟ جو دلالۃ النص سے ثابت ہو اسی کی طرح ہے، اور دلالۃ النص تو کیا تھی؟ قطعی تھی، تو معلوم ہوا اقتضاء النص سے جو ثابت ہے وہ بھی قطعی ہو گا، إِلَّا عِنْدَ الْمُعَارَضَةِ مگر معارضے کے وقت، یعنی اگر ان دونوں میں تعارض ہے، اقتضاء النص سے ایک بات ثابت ہو رہی ہے اور دلالۃ النص سے اس کی ضد ثابت ہو رہی ہے، تو ترجیح کس کو ہو گی؟ دلالۃ النص کو ترجیح ہو گی۔ أَيُّهُمَا سَوَاءٌ فِي إِيجَابِ الْحُكْمِ الْقَطْعِيِّ یعنی یہ دونوں برابر ہیں حکمِ قطعی کے واجب کرنے کے اندر، إِلَّا أَنَّهُ يَتَرَجَّحُ الدَّلَالَةُ عَلَى الْاِقْتِضَاءِ عِنْدَ الْمُعَارَضَةِ مگر یہ کہ ترجیح پا جائے گی دلالت اقتضاء پر معارضے کے وقت۔ مِثَالُهُ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مثال اس کی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا قول ہے، لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، حُتِّيهِ ثُمَّ اقْرُصِيهِ ثُمَّ اغْسِلِيهِ بِالْمَاءِ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کپڑے پر حیض کا خون لگ جائے، اس کے بارے میں پوچھا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، حُتِّيهِ، حَتَّ یَحُتُّ کے معنی ہوتے ہیں رگڑنے کے، ملنے کے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، حُتِّيهِ، تم اس کو رگڑ دو، مل دو، ثُمَّ اقْرُصِيهِ، قَرَصَ یَقْرُصُ کے معنی ہوتے ہیں کھرچنا بھئی، انگلیوں کے سرے سے یا ناخنوں سے کسی چیز کو کھرچنا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، حُتِّيهِ، اس کو رگڑ دو، ثُمَّ اقْرُصِيهِ، پھر اس کو انگلیوں سے کھرچ دو، ثُمَّ اغْسِلِيهِ بِالْمَاءِ، پھر اس کو تم دھو لو پانی سے، پھر تم اس کو دھو لو کس سے؟ پانی سے۔ فَإِنَّهُ يَدُلُّ بِاقْتِضَاءِ النَّصِّ پس یہ حدیث دلالت کرتی ہے اقتضاء النص سے، عَلَى أَنْ لَا يَجُوزَ غَسْلُ النَّجِسِ بِغَيْرِ الْمَاءِ مِنَ الْمَائِعَاتِ، یہ حدیث دلالت کرتی ہے اقتضاء النص کے طریقے پر کہ نجس چیز کو دھونا جائز نہیں ہے پانی کے بغیر مِنَ الْمَائِعَاتِ، کس میں سے؟ مائع کہتے ہیں بہنے والی چیز، مائع، مائع چیز بھئی، بہنے والی۔ اس، یہ حدیث اقتضاء النص کے طریقہ پر بتلاتی ہے کہ نجس چیز کا دھونا جائز نہیں بِغَيْرِ الْمَاءِ، غیرِ ماء کے ساتھ، غیرِ ماء کے ساتھ نجس چیز کو دھونا جائز نہیں، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں؟ اغْسِلِيهِ بِالْمَاءِ، اس کو دھو لے کس سے؟ پانی سے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کے ساتھ ذکر فرمایا۔ اگر پانی کے علاوہ کسی اور پاک چیز سے بھی دھونا جائز ہوتا مثلاً سرکے سے، سرکہ، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم صرف اتنا فرماتے، ثُمَّ اغْسِلِيهِ، پھر اس کو کیا کر دو؟ دھو لو، لیکن آپ نے پانی کو بھی ساتھ ذکر فرمایا، پھر اس کو دھو لو پانی سے، معلوم ہوا پانی سے دھوئے بغیر یعنی پانی کے علاوہ کسی اور چیز سے دھونے سے وہ چیز پاک نہیں ہو گی بھئی۔ تو یہ حدیث دلالت کر رہی ہے اقتضاء النص کے طریقے پر، أَنْ لَا يَجُوزَ غَسْلُ النَّجِسِ بِغَيْرِ الْمَاءِ، ترجمے پہ نظر رکھنا بھئی، کہ جائز نہیں ہے نجس چیز کو دھونا غیرِ ماء کے ساتھ، بھئی غیرِ ماء کیا؟ مِنَ الْمَائِعَاتِ، یعنی کہ بہنے والی چیزیں، یہ بیان ہے غیرِ ماء کا۔ لِأَنَّهُ لَمَّا أَوْجَبَ الْغَسْلَ بِالْمَاءِ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے جب پانی کے ساتھ دھونے کو واجب قرار دیا، فَيَقْتَضِي صِحَّتُهُ أَنْ لَا يَجُوزَ بِغَيْرِ الْمَاءِ تو اس کا صحیح ہونا تقاضا کرتا ہے کہ جائز نہیں ہونا چاہیے غیرِ ماء کے ساتھ، پانی کے علاوہ کے ساتھ جائز نہیں ہونا چاہیے، وَلَكِنَّهُ بِعَيْنِهِ يَدُلُّ بِدَلَالَةِ النَّصِّ لیکن بعینہٖ یہی کلام دلالت کر رہا ہے دلالۃ النص کے ساتھ، عَلَى أَنَّهُ يَجُوزُ غَسْلُهُ بِالْمَائِعَاتِ کہ اس کا دھونا بہنے والی چیزوں کے ذریعے بھی، ان کے ساتھ دھونا بھی جائز ہے۔ کیوں؟ وَذَلِكَ اور اس وجہ سے، لِأَنَّ الْمَعْنَى الْمَأْخُوذَ مِنْهُ اس لیے کیونکہ وہ معنی جو اس سے لیا گیا ہے یعنی جو اس سے سمجھ میں آتا ہے، الَّذِي يَعْرِفُهُ كُلُّ أَحَدٍ جسے ہر ایک جانتا ہے، هُوَ التَّطْهِيرُ وہ کیا ہے؟ پاک کرنا۔ یہ پانی سے دھونے کا حکم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیوں دے رہے ہیں؟ پاک کرنا مقصد ہے تاکہ وہ کپڑا پاک ہو جائے۔ پاک کرنے کے لیے، اور پاک کرنا یعنی نجاست کو دور کرنا جیسے پانی سے ہو سکتا ہے، اسی طرح کسی اور پاک بہنے والی چیز کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے بھئی۔ تو اقتضاء النص سے پتہ لگا کہ پانی کے علاوہ کسی اور چیز سے دھونا جائز نہیں، اس سے پاک نہیں ہو گی۔ اور دلالۃ النص نے بتلایا کہ پانی کے علاوہ کسی اور چیز سے دھو گے تو بھی کیا ہو جائے گا؟ پاک ہو جائے گا۔ تو کس کو ترجیح؟ دلالۃ النص کو، معلوم ہوا پانی کے علاوہ کسی اور چیز سے دھو لیں گے تب بھی کپڑا کیا ہو جائے گا؟ پاک ہو جائے گا۔ وَذَلِكَ لِأَنَّ الْمَعْنَى الْمَأْخُوذَ مِنْهُ الَّذِي يَعْرِفُهُ كُلُّ أَحَدٍ هُوَ التَّطْهِيرُ اس لیے کیونکہ وہ معنی جو اس سے لیا گیا ہے اور جسے ہر ایک جانتا ہے، سمجھتا ہے وہ تطہیر ہے، وَذَلِكَ يَحْصُلُ بِهِمَا جَمِيعًا اور وہ ان دونوں کے ذریعے حاصل ہو جاتا ہے یعنی پانی کے ذریعے بھی اور غیرِ پانی کے ذریعے بھی، أَلَا تَرَى کیا آپ دیکھتے نہیں، أَنَّ مَنْ أَلْقَى الثَّوْبَ النَّجِسَ جس شخص نے ڈال دیے نجس کپڑے، لَا يُؤَاخَذُ بِاسْتِعْمَالِ الْمَاءِ فِيهِ تو اس کی گرفت نہیں کی جاتی اس میں پانی کے استعمال کے ساتھ، پانی کے استعمال پر بھئی۔ بھئی دیکھیے، اصل مقصد ہے پاکی حاصل کرنا، کیا ہے؟ لہٰذا ایک آدمی کے کپڑوں پر نجاست لگی، اس نے وہ کپڑے ہی ڈال دیے، پھینک دیے، دوسرے کپڑے پہن لیے، تو کیا لوگ اس کو ملامت کریں گے؟ اس نے پاکی حاصل کر لی یا نہیں کر لی؟ نجس چیز کو اپنے سے دور کر دیا یا نہیں کر دیا؟ جب اپنے سے نجاست کو دور کر دیا تو اب آپ اس کو کہیں بھئی کپڑے کو تو نے دھویا کیوں نہیں؟ بھئی میں نے کپڑے ہی کو ڈال دیا ہے، اس کو استعمال ہی نہیں کر رہا، تو پاکی تو حاصل ہو گئی۔ لہٰذا اس صورت میں جب وہ کپڑے کو ڈال دیتا ہے تو کوئی بھی اس کو ملامت نہیں کرتا کہ تو نے کپڑے کو دھویا کیوں نہیں بھئی۔ صورت، کیونکہ کپڑے کو دھونے میں بھی پاکی حاصل تھی اور سرے سے کپڑے ہی کو پھینک دیا تو اس صورت میں بھی کیا حاصل ہو گئی؟ پاکی تو حاصل ہو گئی۔ أَلَا تَرَى أَنَّ مَنْ أَلْقَى الثَّوْبَ النَّجِسَ لَا يُؤَاخَذُ بِاسْتِعْمَالِ الْمَاءِ فِيهِ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ جس نے ڈال دیے یعنی پھینک دیے نجس کپڑے، اس کی گرفت نہیں کی جاتی اس میں پانی کے استعمال پر، لِأَنَّ الْمَقْصُودَ وَهُوَ إِزَالَةُ النَّجَاسَةِ حَاصِلٌ عَلَى كُلِّ حَالٍ اس لیے کیونکہ مقصود جو ہے وہ نجاست کو دور کرنا، وہ حاصل ہے ہر حال میں، فَتَرَجَّحَتِ الدَّلَالَةُ عَلَى الْاِقْتِضَاءِ پس دیکھیے اس حدیث میں تعارض آیا دلالۃ النص میں اور اقتضاء النص میں، فَتَرَجَّحَتِ الدَّلَالَةُ عَلَى الْاِقْتِضَاءِ تو ترجیح پا گئی دلالت اقتضاء پر، وَمَا قِيلَ بھئی بعض علماء نے کہا کہ نصوص میں ہمیں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی جس میں دلالۃ النص اور اقتضاء النص میں معارضہ آئے، ایک دوسرے کے مقابل آئیں اور پھر ہم کس کو دے دیں ترجیح؟ دلالۃ النص کو۔ شارح بتائیں گے کہ بعض نے یوں کہا ہے، لیکن انہوں نے پوری کوشش نہیں کی۔ ورنہ میں نے ابھی مثال ذکر کر دی بھئی، حدیث کے اندر کیا تھا اقتضاء النص اور دلالۃ النص میں کیا آ رہا تھا؟ معارضہ بھئی۔ وما قيل، اور جو کہا گیا ہے من ان مثالہ لم يوجد فی النصوص کہ اس کی مثال جو ہے وہ نہیں پائی گئی نصوص کے اندر، فانما هو من قلۃ التتبع، وہ قلت تتبع کی وجہ سے ہے، اس وجہ سے انہوں نے یہ کہا۔ تتبع کہتے ہیں جستجو، کوشش۔ کم کوشش اور کم جستجو کی وجہ سے انہوں نے ایسا کہا، ورنہ مثال ابھی بیان کر دی گئی۔ ولا عموم له عندنا، اور مقتضیٰ جو ہے اس میں عموم بھی نہیں ہوتا ہمارے نزدیک۔ مقتضیٰ کے اندر بھئی عموم بھی نہیں ہوتا، کیوں؟ اس لیے کیونکہ عموم اور خصوص لفظ میں عموم اور خصوص جاری ہوتا ہے، لفظ عام ہوگا یا خاص ہوگا۔ جبکہ مقتضیٰ وہ معنیٰ کا نام ہے، کس چیز کا نام ہے؟ معنیٰ کا نام ہے۔ لان العموم والخصوص من عوارض الالفاظ، اس لیے کیونکہ عموم اور خصوص جو ہیں وہ الفاظ کے عوارض میں سے ہیں، والمقتضى معنى لا لفظ، اور مقتضیٰ معنیٰ ہے، لفظ نہیں ہے۔ وعند الشافعی رحمہ اللہ تعالی يجری فیہ العموم والخصوص، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مقتضیٰ کے اندر عموم اور خصوص جاری ہوتے ہیں، لانه عنده كالمحذوف، اس لیے کیونکہ مقتضیٰ ان کے نزدیک محذوف کی طرح ہے، كالمحذوف الذی يقدر، اس لیے کیونکہ ان کے نزدیک مقتضیٰ جو ہے اس محذوف کی طرح ہے جس کو مقدر مانا جائے۔ وهذا اصل كبير، تو ان کے نزدیک مقتضیٰ کس کی طرح؟ محذوف کی طرح۔ اور ابھی پیچھے گزرا تھا، محذوف کس کی طرح ہے؟ مذکور کی طرح ہے، اور لہٰذا اس میں مذکور کی ساری قسمیں جاری ہوں گی اور مذکور کے اندر ہی ہاں عموم بھی جاری ہوتا تھا اور خصوص بھی۔ وهذا اصل كبير مختلف بيننا وبينه، اور یہ ایک بڑا ضابطہ ہے—اصل یعنی ضابطہ—وهذا اصل كبير، یہ بڑا ضابطہ ہے، مختلف بيننا وبينه، جو مختلف، جس میں اختلاف کیا گیا ہے ہمارے اور ان کے درمیان، یعنی جس میں ان کا اور ہمارا اختلاف ہے۔ يتفرع عليه كثير من الاحكام، متفرع ہوتے ہیں اس پر، یعنی نکلتے ہیں اس پر بہت سے احکامات، ولا يقال، اور یہ نہ کہا جائے کہ ان قوله: "اعتق عبيدك عنی" يقتضی البيع، یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ کہ اپ نے ابھی ہمیں بتایا کہ مقتضیٰ میں عموم نہیں جاری ہوتا، ایک ادمی دوسرے سے کہتا ہے: "اعتق عبيدك عنی"، اعتق—عبید جمع ہے عبد کی—تم اپنے غلاموں کو میری طرف سے آزاد کر دو۔ تو یہاں اقتضاءً کیا مانیں گے؟ بیع اور بیع، اور بیع تمام غلاموں کی مانیں گے یا ایک ادھ کی؟ ایک کی؟ تمام کی، اور جب وہ آزاد بھی کرے گا تو سارے کس کی طرف سے آزاد ہوں گے؟ امر کی طرف سے آزاد ہوں گے۔ تو عموم تو اگیا بھئی دیکھو اس کے اندر، تمام افراد کا احاطہ کر لیا یا نہیں بیع نے؟ جی، جی۔ تو جواب دیں گے اس کا کہ بھئی اقتضاءً ہم نے صرف بیع کو نکالا ہے، بیع اور توکیل، کس کو؟ بیع اور توکیل۔ باقی یہ جو اپ کہہ رہے ہیں نہ دیکھو عبید کا لفظ اس میں عموم ا رہا ہے، کہتے ہیں عبید کا لفظ تو اس کی عبارت میں ذکر تھا "اعتق عبيدك"، اعتق عبيدك، تو عموم اس عبید کی وجہ سے ا رہا ہے کیونکہ اسی عبید کے لیے، انہی عبید کے لیے ہم نے بیع اور توکیل کو نکالا بھئی، صورت سمجھ میں اگئی؟ تو لہٰذا مقتضیٰ میں پھر بھی وہی بات ہے کہ اس میں عموم نہیں ہوگا بھئی۔ ولا يقال، اور یہ نہ کہا جائے کہ ان قوله: "اعتق عبيدك عنی" يقتضی البيع وهو عام للعبيد كلهم، یہ نہ کہا جائے کہ "اعتق عبيدك عنی" یہ تقاضا کرتا ہے بیع کا، وهو عام، اور یہ بیع عام ہے للعبيد كلهم، اس کے سارے غلاموں کے لیے، لانا نقول، کیونکہ ہم یہ کہتے ہیں انه فی معنى: "بع عبيدك عنی ثم كن وكيلی بإنعتاقهم"، کہ کلام کس معنیٰ میں ہوا؟ "بع عبيدك عنی ثم كن وكيلی بإنعتاقهم"، کہ تو اپنے غلاموں کو مجھ پر بیچ دے پھر تو ان کی آزاد کرنے پر میری طرف سے وکیل ہو جا، فالعبيد مذكور صريح فی العبارة، تو عبید کا لفظ تو صراحتاً مذکور ہے عبارت کے اندر، ولهذا يكون عاما، اسی وجہ سے یہ عام ہوگا۔ حتى إذا قال: "إن أكلت فعبدی حر"، ونوى طعاماً دون طعام، یہاں تک کہ اگر کسی نے کہا: "إن أكلت فعبدی حر" کہ اگر میں نے کھایا تو میرا غلام آزاد ہے، ونوى طعاماً دون طعام، اور اس نے نیت کی ایک کھانے کی نہ کہ دوسرے کی، بھئی دیکھیے، پیچھے مثال گزر چکی ہے، "إن أكلت"، پیچھے کیا مثال گزری تھی؟ بھئی جہاں سبق شروع ہوا تھا وہیں پر آیا تھا: "إن أكلت فعبدی حر"، وہاں پر اپ نے طعام کو نکالا تھا اور بتلایا تھا کہ یہ طعام مقتضیٰ ہے، یہ کیا ہے؟ کیونکہ اکل بغیر ماکول کے نہیں ہو سکتا، تو اس نے صرف اکل کا فعل ذکر کیا ہے، تو یہ اکل کا فعل تقاضا کر رہا ہے کس چیز کے وجود کا؟ ماکول کے وجود کا۔ تو معلوم ہوا جو طعام جو اپ نے نکالا وہ مقتضیٰ ہے، وہ کیا ہے؟ اور ابھی انہوں نے اپ کو ضابطہ بتلایا کہ مقتضیٰ کے اندر عموم نہیں ہوتا، کیونکہ مقتضیٰ ہم نے ضرورت کی وجہ سے نکالا ہے، والضروری يقدر بقدر الضرورۃ، اور جو ضروری ہے اس کو مقدر نکالا جائے گا، مانا جائے گا کتنا؟ بقدر ضرورت، اور ضرورت جب ایک فرد سے پوری ہو جاتی ہے تو اس میں عموم اسی لیے نہیں ائے گا بھئی۔ تو لہٰذا، معلوم ہوا طعاماً کیا ہے؟ مقتضیٰ، اور مقتضیٰ میں ابھی بتایا عموم نہیں، جب عموم نہیں تو تخصیص بھی نہیں، کیونکہ عموم ہو تو اس کے بعد ہی تخصیص آتی ہے نہ، نکاح ہو تو اس کے بعد ہی طلاق آتی ہے، تو تخصیص تو عموم کی فرع ہے، عموم ہوگا تو تخصیص آتی ہے، جہاں عموم ہی نہ ہو وہاں تخصیص بھی نہیں۔ لہٰذا وہ کہتا ہے: بھئی میں نے تو—وہ اس نے کھانا کھا لیا، غلام نے اس کو کھانا کھاتے ہوئے دیکھ لیا، وہ قاضی کے پاس چلا گیا، قاضی صاحب اس نے یہ کہا تھا کہ اگر میں کھاؤں تو میرا غلام آزاد، اور اب اس نے کھانا کھا لیا، معلوم ہوا میں آزاد ہو گیا ہوں، لیکن یہ مان نہیں رہا۔ قاضی اس کو طلب کرے گا: ہاں بھئی! تم نے یہ کہا تھا؟ وہ اس کو کہتا ہے: ہاں میں نے کہا تھا، لیکن میری نیت فلاں کھانے کی تھی، اگر وہ والا کھانا کھاؤں تو غلام آزاد ہے، اور میں نے وہ والا کھانا تو نہیں کھایا، میں نے دوسرا کھانا کھایا ہے۔ تو یاد رکھیے، اس شخص کی تصدیق نہ قضاءً کی جائے گی نہ دیانۃً کی جائے گی۔ قضاءً تو ظاہر ہے بھئی، کیونکہ وہ ایسے راستے کو اختیار کر رہا ہے جس میں اس کی آسانی ہے، وہ چاہتا ہے غلام ہاتھ سے نہ نکلے۔ اور دیانۃً بھی تصدیق نہیں کی جائے گی، کیوں؟ وجہ یہ کہ یہاں یہ جو ایک تخصیص کر رہا ہے، کیا کر رہا ہے؟ تخصیص کر رہا ہے، تو اس نے کیا ذکر کیا تھا؟ "إن أكلت" اگر میں نے کھایا، اور کیا نکالا اپ نے مقتضیٰ؟ طعاماً، اور یہ طعاماً مقتضیٰ ہے اور مقتضیٰ میں عموم نہیں ہوتا، جب عموم نہیں ہے تو تخصیص بھی نہیں ہے، وہ اس میں سے تخصیص کر رہا ہے کہ میں نے تو کس کی نیت کی تھی؟ فلاں کھانے کی نیت کی تھی، معلوم ہوا وہ تخصیص کرنا چاہتا ہے، بھئی تخصیص تو تب آتی جب یہاں عموم ہوتا، یہاں عموم ہی نہیں تو لہٰذا تخصیص بھی نہیں، جب تخصیص نہیں ا سکتی یہاں تو دیانۃً بھی اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی اور قضاءً بھی اس کی تصدیق نہیں، کیونکہ یہاں تخصیص کا احتمال ہی نہیں ہے، جہاں تخصیص کا احتمال ہو وہاں ہم تخصیص مان لیتے ہیں، لیکن یہاں تو سرے سے کوئی تخصیص کا احتمال ہی نہیں ہے بھئی۔ جی، دیکھیے اب کہتے ہیں: لا يصدق عندنا، اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی ہمارے نزدیک، لا ديانة ولا قضاء، نہ تو دیانۃً اور نہ قضاءً، لان طعاماً إنما ينشأ من إقتضاء الاكل، اس لیے کیونکہ طعام جو ہے وہ پیدا ہوا اقتضائے اکل، اکل کے تقاضے کی وجہ سے یہاں طعام کیا ہوا؟ پیدا ہوا، لانه لا يكون بدون الماكول، اس لیے کیونکہ اکل بغیر ماکول کے نہیں ہو سکتا، فلا يكون عاماً، جب اقتضائے اکل سے یہ پیدا ہوا تو یہ مقتضیٰ ہوا، فلا يكون عاماً، تو یہ مقتضیٰ عام نہیں ہوگا، فلا يقبل التخصيص، تو یہ تخصیص کو بھی قبول نہیں کرے گا۔ واما حنثه بكل طعام، یہ ایک اشکال کا جواب دے رہے ہیں، اعتراض یہ ہوتا ہے کہ اپ نے کہا مقتضیٰ میں عموم نہیں ہوتا، اور دوسری طرف اپ کہہ رہے ہیں کچھ بھی کھا لے گا تو یہ حانث ہو جائے گا، تو کچھ بھی کھا لے—دیکھو عموم اگیا یا نہیں؟ اگیا۔ کہتے ہیں: بھئی یہ عموم اس وجہ سے نہیں کہ طعام عام ہے، طعام کے لفظ میں عموم ہے، یہ اس وجہ سے کہ کچھ بھی کھائے گا تو اکل کا فعل پایا جائے گا یا نہیں؟ اور اس نے بھی تو کہا تھا "إن أكلت"، تو یہ اکل کا فعل پائے جانے کی وجہ سے کیا ہو جائے گا؟ غلام اس کا آزاد ہو جائے گا، تو یہ جو اکل کا فعل پایا جائے گا اس لیے جو ہے وہ غلام آزاد ہو جائے گا۔ واما حنثه بكل طعام، اور باقی اس شخص کا حانث ہونا ہر کھانے کے ذریعے، فإنما هو لوجود ماهية الاكل، وہ ماہیتِ اکل کے پائے جانے کی وجہ سے ہے، یعنی ماہیتِ اکل یعنی حقیقتِ اکل، کھانے کی حقیقت کے پائے جانے کی وجہ سے ہے، یعنی اس فعل کی، لا لأن الطعام عام، اس وجہ سے نہیں کہ طعام عام تھا۔ وإن قال: "إن أكلت طعاماً"، اور اگر کسی شخص نے یوں کہا: "إن أكلت طعاماً"، یوں کہا، طعام کا لفظ لفظوں میں صراحتاً ذکر کر دیا، اب تو یہ لفظ ہوا، اور لفظ میں تو عموم اور خصوص جاری ہوتے ہیں، لہٰذا اب اس کی کیا کی جائے گی؟ تصدیق کی جائے گی، وہ کہتا ہے میں نے فلاں کھانے کی نیت کی تھی۔ وإن قال: "إن أكلت طعاماً" أو "لا آكل أكلاً"، یا یوں کہا کہ میں اکل—یہ مصدر نہیں ہے یہاں، یاد رکھیے، یہ اکل بمعنیٰ ما یوکل کے ہے جس کو کھایا جائے، خوراک یعنی خوراک—اور "لا آكل أكلاً" اور میں خوراک نہیں کھاؤں گا، يحنث بكل طعام، تو اب وہ حانث ہوگا ہر طعام کی وجہ سے، ويصدق فی نية التخصيص، اور تخصیص کی نیت میں اس کی پھر تخصیص کی جائے گی، لانه ملفوظ، کیونکہ یہاں پر طعام اور اکل کا لفظ کیا ہے؟ ملفوظ ہے، حينئذٍ، اس وقت۔ ولكن إيراد هذا المثال على قول من يشترط فی المقتضى أن يكون شرعياً مشکل، اچھا، متن میں مثال ذکر کی: "إن أكلت فعبدی حر"، اور "أكلت" کے بعد "أكلت" نے کس چیز کا تقاضا کیا؟ طعام کا، تو طعام کیا ہوا؟ مقتضیٰ۔ شارح فرما رہے ہیں: یہ مثال ان علماء کے مذہب پر بیان کرنا مشکل ہے، درست نہیں بنتی، جنہوں نے کہا تھا کہ مقتضیٰ شرعی ہوتا ہے ہمیشہ، بتلایا تھا نہ، مقتضیٰ ہمیشہ کیا ہوگا؟ شرعی ہوگا۔ کیونکہ "إن أكلت طعاماً"، تو یہ جو "طعاماً" نکالا، یہ اپ کو شریعت نے نہیں بتلایا، یہ تو عقل نے بتلا دیا کہ اکل بغیر ماکول کے نہیں ہو سکتا، صورت سمجھ میں اگئی؟ تو یہ پھر ان کے مذہب پر یہ مثال درست نہیں رہتی۔ ولكن إيراد هذا المثال على قول من يشترط فی المقتضى أن يكون شرعياً مشکل، اورد یوراد کے معنیٰ لانا، لیکن اس مثال کو لانا ان لوگوں، ان علماء کے قول پر جو شرط لگاتے ہیں مقتضیٰ کے اندر کہ وہ شرعی ہونا چاہیے، مشکل، یہ مثال ان کے مذہب کے مطابق لانا مشکل ہے، یعنی درست نہیں بنتی، لانه عقلی، اس لیے کیونکہ یہ مثال تو عقلی ہے، یہ یا یہ مقتضیٰ تو عقلی ہے، والأولى أن يقال: إن المقتضى ما يكون شرعياً أو عقلياً، اور بہتر یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ مقتضیٰ وہ ہے جو شرعی ہوگا یا عقلی ہوگا، والمحذوف ما يكون لغوياً، اور محذوف وہ ہے جو لغوی ہوگا، یعنی مقتضیٰ عقلی بھی ہو سکتا ہے اور شرعی بھی، جبکہ محذوف صرف لغوی ہی ہوگا بھئی۔ وكذا إذا قال: "أنت طالق" أو "طلقتك" ونوى ثلاثاً لا يصح، اور اسی طرح اگر کسی شخص نے کہا مثلاً اپنی بیوی سے: "أنت طالق"، یہ کہا، یا "طلقتك"، یہ کہا کہ میں نے تجھے طلاق دے دی، ونوى ثلاثاً، اور نیت کی اس نے تین طلاقوں کی، لا يصح، تو یہ نیت صحیح نہیں، یعنی تین طلاقیں اس کے نہیں ہوں گی بھئی، ایک ہی ہوگی۔ تفريع آخر على عدم كون المقتضى عاماً، یہ دوسری تفریع ہے مقتضیٰ کے عام نہ ہونے پر، وذلك لأن قوله: "أنت طالق" أو "طلقتك" خبر، اور یہ اس وجہ سے کہ کسی شخص کا یہ قول: "أنت طالق" یا "طلقتك"، یہ تو خبر ہے۔ بھئی یہ کیا ہے؟ "أنت طالق"، أنت مبتدا، طالق خبر، تو طلاق والی ہے، یہ تو صرف خبر دے رہا ہے۔ یا "طلقتك"، میں نے تجھے طلاق دے دی زمانہ ماضی میں، یہ تو خبر بتلا رہا ہے۔ وهو لا يصح، اور خبر دینا تو صحیح نہیں ہو سکتا یہ، إلا أن يسبق عليه الطلاق من جانب الزوج، مگر یہ کہ اس پر مقدم ہو چکی ہو طلاق خاوند کی جانب سے۔ بھئی عورت کو کہہ رہا رہا ہے: "أنت طالق"، تو طلاق والی ہے۔ عورت خبر دے رہا ہے، عورت طلاق والی کب ہو سکتی ہے؟ جب پہلے سے خاوند نے طلاق دی ہو۔ پہلے سے خاوند نے طلاق دی ہو۔ اور اسی طرح کہا: "طلقتك"، میں نے تجھے طلاق دی، اچھا چلیے اس کی بحث آگے ائے گی۔ تو یہ خبر دے رہا ہے، تو دونوں بہرحال یہ دونوں خبر ہیں، اور "طلقتك" کو بھی دیکھ لیں: میں نے تجھے طلاق دے دی۔ یہ بھی کیا کر رہا ہے؟ خبر دے رہا ہے بھئی، ماضی کی بات کی خبر دے رہا ہے کہ میں نے تجھے طلاق دی۔ اور یہ خبر صحیح نہیں ہو سکتی الا یہ کہ اس سے پہلے کیا مانی جائے؟ کہ خاوند نے اس کو طلاق دی، اور خاوند نے پہلے کوئی طلاق دی ہے؟ خاوند نے تو پہلے طلاق نہیں دی۔ تو یہ خبر صحیح ہو نہیں سکتی، یہ اپنے صحیح ہونے کے لیے تقاضا کرتی ہے کہ خاوند کی طرف سے طلاق مانی جائے کہ خاوند نے اس کو کیا کیا ہے؟ خاوند نے طلاق دی ہوگی تو "أنت طالق" کہنا صحیح ہو جائے گا، "طلقتك" کہنا صحیح ہو جائے گا، بات سمجھ میں ارہی ہے؟ کہ مشکل ہے؟ تو یہ خبر ہیں، وهو لا يصح، اور یہ صحیح نہیں، خبر دینا صحیح نہیں ہے، إلا أن يسبق عليه الطلاق من جانب الزوج، مگر یہ کہ مقدم ہو چکی ہو اس پر طلاق خاوند کی جانب سے، یعنی اس خبر پر مقدم ہو چکی ہو طلاق، پہلے سے گزر چکی ہو من جانب الزوج، کس کی طرف سے؟ شوہر کی طرف سے، ليكون هذا خبراً عنه، تاکہ یہ کیا ہو جائے؟ اس سے، وہ طلاق گزر چکی ہے تو پھر یہ اس سے خبر ہو جائے گی، صحیح ہو جائے گی، ولم يسبق الطلاق منه فی الواقع، اور واقع میں تو طلاق خاوند کی طرف سے مقدم نہیں ہوئی، فلضرورة تصحيح الكلام وصدقه، پس اس کلام کے صحیح کرنے کی ضرورت کی وجہ سے اور اس کے سچا ہونے کی ضرورت کی بناء پر، قدرنا، ہم نے یہ مقدر نکالا، مانا، أن الزوج قد طلقها قبل ذلك، کہ خاوند نے اس کو اس سے پہلے ہی طلاق دے دی تھی، اور اب یہ صرف اس کی خبر دے رہا ہے۔ تو پہلے خاوند نے اس کو طلاق دے دی تھی، وهذا إخبار منه، اور یہ اس کی طرف سے خبر ہے اسی سے جو اس نے طلاق دی تھی، فكأنه قال فی الأول: "أنت طالق لأنی طلقتك قبل هذا"، گویا کہ خاوند نے پہلی صورت میں یوں کہا: "أنت طالق"، تو طلاق والی ہے، "لأنی طلقتك قبل هذا"، کیونکہ میں تجھے اس سے پہلے ہی طلاق دے چکا ہوں، تو اب تو طلاق والی ہے۔ معلوم ہوا "أنت طالق" تبھی صحیح ہوگا جب اس سے پہلے خاوند کی طرف سے طلاق دینا پایا جائے، کیونکہ یہ خبر ہے اور خبر تبھی صادق ہوتی ہے جب اس سے پہلے وہ واقعہ ہوا بھی ہو۔ صورت سمجھ میں اگئی؟ تو معلوم ہوا طلاق دینا—یہ پایا گیا ہو، پھر ہی خبر صحیح ہوگی۔ تو ایک ہے طلاق دینا، دیکھیے "أنت طالق" بھی دلالت کر رہا ہے طلاق پر، کس پر؟ طلاق پر۔ اچھا بھئی، دیکھیے—بھئی ہم نے کیا کہا؟ کہ انت طالق کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس سے پہلے کیا مانی جائے؟ طلاق دینا پایا جائے۔ طلاق یعنی مصدر، مصدر پہلے پایا جائے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ انت طالق یہ خبر ہے اور طالق طلاق مصدر پر دلالت کر رہا ہے بھئی۔ طالق طلاق والی، دیکھو طلاق سمجھ میں آ رہا ہے یا نہیں اس سے؟ اور یہ باعتبار عربی زبان کے سمجھ میں آ رہا ہے۔ تو اس کو آپ مقتضا کیسے کہہ رہے ہیں؟ ابھی آپ نے ہمیں بتایا کہ مقتضا یا تو شرعی ہوگا یا عقلی ہوگا اور اگر وہ لغوی ہو تو اس کو کیا کہیں گے؟ محذوف کہیں گے، مقتضا نہیں کہیں گے۔ تو یہ انت طالق طلاق اس سے باعتبار زبان عربی زبان کے طلاق مصدر سمجھ میں آ رہا ہے۔ تو شارح آپ کو بتلائیں گے کہ بھئی ہاں ٹھیک ہے، طلاق اس سے عربی زبان کے اعتبار سے سمجھ میں آ رہا ہے لیکن ہم اس مصدر کی بات نہیں کر رہے، ہم تتلیق کی بات کر رہے ہیں۔ ایک ہے طلاق، وہ طلاق عورت کی صفت ہے اور ایک ہے تتلیق، طلاق دینا وہ خاوند کا کام ہے، وہ خاوند کی صفت ہے۔ تو یہاں پر کون سی طلاق ماننا پڑے گی اقتضاءً؟ تتلیق ماننا پڑے گی اور انت طالق طلاق پہ تو دلالت کر رہا ہے لیکن تتلیق پر دلالت نہیں کر رہا۔ جب تتلیق اس سے سمجھ میں نہیں آ رہی تو لازمی بات ہے اس کو اقتضاءً ماننا پڑے گا بھئی، وہ مقتضا ہوگا محذوف نہیں۔ طلاق تو لغتً سمجھ میں آئے گا وہ تو آپ محذوف کہہ سکتے ہیں لیکن تتلیق جو ہے اقتضاءً ثابت ہے تو وہ کیا ہے؟ وہ محذوف نہیں بلکہ مقتضا ہے، مقتضا ہے۔ تو کہتے ہیں: والطلاق المفهوم بحسب اللغة في ضمن قوله انت طالق هو الطلاق الذي هو وصف المرأة اور وہ طلاق جو سمجھ میں آتی ہے عربی زبان کے اعتبار سے اس خاوند کے اس قول کے ضمن میں انت طالق، اس کے ضمن میں جو طلاق سمجھ میں آتی ہے هو الطلاق الذي هو وصف المرأة وہ طلاق ہے جو کس کا وصف ہے؟ عورت کا وصف ہے، وہ طلاق عورت کے ساتھ قائم ہے کہ عورت طلاق والی ہے۔ تو لا التطليق الذي هو فعل الزوج نہ کہ وہ تتلیق جو کس کا فعل ہے؟ خاوند کا فلا يكون هذا إلا اقتضاءً تو لہٰذا یہ تتلیق نہیں ہوگی مگر کس طریقے پر؟ اقتضا کے طریقے پر ہی فلا تصح فيه نية الثلاث والاثنين لہٰذا اس کے اندر تین یا دو کی نیت کرنا بھی صحیح نہیں کیونکہ اس کلام نے اپنے صحیح ہونے کے لیے کس چیز کا تقاضا کیا کہ کون، کیا چیز مانی جائے؟ تتلیق مانی جائے، طلاق دینا کس کی طرف سے؟ خاوند کی طرف سے۔ تو وہ تتلیق کیا ہوا؟ مقتضا اور مقتضا میں عموم نہیں ہوتا، لہٰذا اس کے ذریعے دو یا تین طلاقیں نہیں آ سکتیں بلکہ صرف کتنی آئے گی؟ ایک۔ اسی لیے اوپر متن میں کہا کہ تین کی نیت اس میں کریں بھی تو یہ صحیح نہیں ہے، ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔ واما قوله طلقتك اور باقی خاوند کا قول طلقتك، بھئی طلق طلقت، طلق يطلق تتليقا، یہ تو عربی زبان کے اعتبار سے تتلیق پہ دلالت کر رہا ہے۔ وہ کس کا فعل ہے تتلیق؟ خاوند کا فعل۔ طلاق تو عورت کی صفت لیکن تتلیق خاوند کی صفت۔ تو یہ تو تتلیق پہ دلالت کر رہا ہے، اسی باب سے ہے۔ کہتے ہیں ہاں ٹھیک ہے، یہ تتلیق پہ دلالت کر رہا ہے لیکن یہ صیغہ کون سا؟ ماضی کا، اور یہ کون سی تتلیق بتلا رہا ہے؟ ماضی میں، اور ماضی میں کوئی تتلیق ہوئی تھی؟ نہیں۔ آپ کہتے ہیں اس سے فی الحال طلاق ہو جایا کرتی ہے۔ اور وہ خبر کس کی دے رہا ہے؟ ماضی کی، تو یہ طلقتك یہ تتلیق پر دلالت تو کر رہا ہے لیکن وہ تتلیق ہے ماضی والی اور ہم کہہ رہے ہیں اس طلقتك سے طلاق ہو جائے گی یعنی تتلیق ہوگا، تتلیق کا فعل ہوگا اور وہ تتلیق کس زمانے میں ہوگی؟ ماضی، وہ ہوگی زمانہ حال میں، وہ کس میں؟ زمانہ حال میں۔ تو جو تتلیق جو اس طلقتك سے سمجھ میں آ رہی ہے عربی زبان کے اعتبار سے وہ ہے زمانہ ماضی والی اور اس کے صحیح ہونے کے لیے کون سی تتلیق مانی جائے؟ زمانہ حال میں تتلیق کہ خاوند کی طرف سے طلاق دینا پایا جائے بھئی، کیا پایا جائے؟ طلاق دینا، اور وہ خاوند کی طرف سے طلاق اس سے طلاق واقع کب ہوتی ہے؟ کیا کہتے ہیں فقہاء؟ کسی نے اپنی بیوی سے کہا طلقتك، تو کب طلاق ہوگی؟ اسی وقت ہوگی، تو یہاں تتلیق ایک زمانہ حال میں ماننا پڑے گا اور یہ طلقتك یہ تقاضا کر رہا ہے کہ اس وقت کیا مانی جائے؟ تتلیق مانی جائے بھئی، کیا مانی جائے؟ تتلیق مانی جائے۔ تو لہٰذا یہ جو مصدر فی الحال والا ہوا اس سے سمجھ میں آیا، یہ اقتضاءً ہے۔ وہ تتلیق جو اس سے سمجھ میں آیا وہ ماضی والی، وہ لغت کے اعتبار سے اور یہ تتلیق جو فی الحال ہے یہ اقتضا کے طریقے پر بھئی۔ تو یہ تتلیق اقتضا کے طریقے پر ہے اور مقتضا کے اندر عموم نہیں ہوتا، لہٰذا اس کے اندر بھی دو یا تین کی نیت کرنا صحیح نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: واما قوله طلقتك فهو یہ کلام جو ہے وإن كان دالاً على التطليق الذي هو فعل المتكلم یہ اگرچہ دلالت کر رہا ہے اس تتلیق پر جو متکلم یعنی خاوند کا فعل ہے کلم، متکلم یہ کہنے والا یعنی خاوند کا فعل ہے ولكنه دال على مصدر ماض لا على مصدر حادث في الحال لیکن یہ دلالت کر رہا ہے اس مصدر کو جو ماضی میں ہے لا على مصدر حادث في الحال نہ اس مصدر پر جو پیش آیا کہ کس میں؟ جو حادث ہوا ہے یعنی پیدا ہوا ہے فی الحال، حال کے اندر فالمصدر الحادث لا يثبت إلا اقتضاءً من الشرع پس وہ مصدر جو پیدا ہوا وہ ثابت نہیں ہے مگر اقتضاءً ہی من الشرع شریعت سے فلم تصح فيه نية الاثنين والثلاث پس اس کے اندر بھی دو اور تین کی نیت کرنا صحیح نہیں۔ وقال الشافعي رحمه الله اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: يقع ما نوى من الثلاث أو الاثنين کہ واقع ہو جائیں گی وہ جس کی اس نے نیت کی ہے یعنی کہ دو یا تین لأنه يدل على الطلاق اسی لیے کیونکہ یہ کلام کس پر دلالت کر رہا ہے؟ طلاق پر فتعمل نيته فيه لہٰذا اس کی نیت اس کے اندر عمل کرے گی اور تین طلاقیں ثابت ہو جائیں گی۔ بخلاف قوله طلقي نفسك برخلاف کسی شخص کے اس قول کے اندر طلقي نفسك، تو اپنے آپ کو کیا کر؟ خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: طلقي نفسك، تو اپنے آپ کو طلاق دے دے، یا یہ کہتا ہے: انت بائن، ان دونوں صورتوں میں یہ پہلے کے خلاف ہیں، یعنی ان میں تین کی نیت صحیح نہیں تھی، ان میں تین کی نیت صحیح ہے على اختلاف التخريج، تخریج کے اختلاف پر، یعنی ان کی تخریج میں اختلاف ہے۔ ان کی تخریج میں یعنی طلقي نفسك اس میں بھی تین کی نیت کرے تو تین ہو جائیں گی۔ اور انت بائن میں بھی تین کی نیت کرے تو تین ہو جائیں گی، لیکن تخریج دونوں کی الگ ہے، یعنی طلقي نفسك میں طلاق اور طریقے سے ہوگی اور انت بائن میں بھی تین طلاقیں ہوں گی لیکن وہ اور طریقے سے، دونوں کی تخریج الگ ہے دونوں مسئلوں کی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے علی اختلاف التخریج کا۔ یہ ایک معنی ہے علی اختلاف التخریج کا۔ علی اختلاف التخریج کا دوسرا معنی آگے بیان کریں گے کہ تخریج کے اختلاف کا معنی یہ ہے کہ ہمارے اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے ان کی تخریج میں۔ ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا ان کی تخریج میں، پہلے قول کے مطابق تو ان دونوں کی تخریج میں اختلاف، دوسرا قول کیا؟ کہ ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اس میں اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک ان کے اندر، یہ ہماری تخریج الگ ان کی اور امام شافعی رحمہ اللہ کی تخریج الگ ہے ان کی، یہ معنی بھئی، دیکھیے۔ بھئی یاد رکھیے بخلاف قوله طلقي نفسك وانت بائن على اختلاف التخريج، یہ سارا متن ہے۔ بخلاف سے لے کر تخریج تک، یہ اس پر لکیر کھینچ لیں، یہ سارا متن ہے بھئی۔ نشان لگا لیا بھئی؟ بخلاف سے لے کر تخریج تک۔ اچھا، آگے دیکھیے اب شرح میں: یعنی تخريج طلقي نفسك في صحة الثلاث على حدة وتخريج انت بائن فيها على حدة یعنی طلقي نفسك کی تخریج في صحة الثلاث تین طلاقوں کے صحیح ہونے میں علی حدۃ وہ علیحدہ ہے کہ کس طرح اس سے تین طلاقیں صحیح ہوں گی۔ اور اسی طرح انت بائن کی تخریج وہ ان تین طلاقوں کے اندر علیحدہ ہے کہ اس سے کس طرح ہوں گی۔ أما تخريج طلقي نفسك، طلقي نفسك کی تخریج جو ہے فهو أنه أمر وہ یہ کہ یہ امر ہے طلقي کیا ہے؟ امر يدل على المصدر لغة اور یہ لغةً کس پر دلالت کرتا ہے؟ مصدر۔ بھئی آپ نے پڑھا تھا امر کی بحث میں کہ ہر امر مختصر ہے لمبے کلام سے۔ طلقي مختصر ہے افعلي فعل الطلاق، اضرب مختصر ہے افعل فعل الضرب۔ تو کون سا فعل واقع کر؟ ضرب والا، اور طلقي افعلي فعل الطلاق، تو کون سا فعل واقع کر؟ طلاق والا۔ تو لہٰذا اسی سے مختصر کر کے طلقي بنایا گیا۔ تو لمبا کلام کیا ہوا؟ افعلي فعل الطلاق، طلاق کا لفظ آ گیا باقاعدہ اور طلاق مصدر ہے اور مصدر اسم جنس ہے اور اسم جنس اس کا اطلاق قلیل پر بھی ہوتا ہے اور کثیر پر بھی ہوتا ہے۔ قلیل یعنی ادنیٰ فرد ایک، اور کثیر یعنی تمام افراد کیونکہ وہ بھی ایک ہی ہے یعنی فرد حکمی ہے۔ اسم جنس فرد پہ دلالت کرتا ہے، فرد حقیقی پر تو یقیناً اس کی دلالت ہے، فرد حکمی کا بھی اس میں احتمال ہوتا ہے، وہ بھی مراد لیا جا سکتا ہے۔ تو جب اس میں فرد حکمی، فرد حکمی طلاق کا کیا ہے؟ تین طلاقیں، تمام طلاقیں، تو فرد حکمی ہوا تو اس کا بھی اس میں احتمال تھا اور پھر جب نیت کر لی تو اسی احتمال کی نیت کی یا غیر احتمال کی نیت کی؟ احتمال ہی کی نیت کی تو وہ ثابت بھی ہو جائے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اس وجہ سے طلقي نفسك کے اندر تین طلاقوں کی نیت بھی کی تو ایک احتمال ہی کی نیت کی ہے لہٰذا وہ ثابت بھی ہو جائے گا اور تین طلاقیں ہو جائیں گی۔ کہتے ہیں: فهو أنه أمر يدل على المصدر لغة یہ طلقي نفسك جو ہے یہ امر ہے دلالت کرتا ہے مصدر پر باعتبار لغت کے۔ کس طرح مصدر پر لغت کے اعتبار سے دلالت کر رہا ہے؟ افعلي فعل الطلاق، تو دیکھو اس میں طلاق مصدر آ گیا یا نہیں آ گیا؟ وهو لفظ فرد اور وہ مفرد لفظ ہے يقع على الواحد وہ واقع کس پر ہوتا ہے؟ ایک پر یعنی فرد حقیقی پر ويحتمل الثلاث عند النية اور تین کا بھی احتمال رکھتا ہے نیت کے وقت بھئی یعنی فرد حکمی کا فهو ليس بمقتضى تو یہ مقتضا نہیں ہے حتى لم يجر فيه العموم یہاں تک کہ اس میں عموم جاری نہ ہوتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ مقتضا نہیں ہے بلکہ یہ مصدر خود دلالت کر رہا ہے اس پر۔ واما تخريج انت بائن اور انت بائن کی تخریج جو ہے فهو أن البينونة نوعان کہ جدائی جو ہے وہ دو قسم پر ہے غليظة وخفيفة ایک سخت جدائی ہے اور ایک خفیف جدائی ہے۔ خفیف جدائی بھئی، ایک یا دو طلاقوں سے جدائی آئی، بائنونت ہوئی، بائنونت جدائی ہوئی، نکاح ٹوٹ گیا۔ تو حرمت آ گئی لیکن یہ حرمت اٹھ سکتی ہے یا نہیں دوبارہ نکاح کر لیں؟ اٹھ سکتی ہے۔ تو یہ بائنونتِ خفیفہ ہے۔ بائنونتِ خفیفہ، اور اگر ایک ہے بائنونتِ غلیظہ، سخت حرمت آ گئی یعنی تین طلاقیں دے دیں، اب کس قسم کی جدائی آئی؟ بائنونتِ غلیظہ۔ اب یہ آپس میں نکاح کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے الا یہ کہ عدت کے بعد یہ عورت کسی اور سے نکاح کرے وغیرہ بھئی، لیکن ویسے یہ ختم نہیں ہو سکتی۔ تو یہاں پر جب خاوند نے کہا انت بائن تو فهو أن البينونة نوعان بائنونت جو ہے وہ دو قسم پر ہے غليظة وخفيفة ایک غلیظہ ہے اور ایک خفیفہ۔ فإذا نوى الغليظة پس جب خاوند نے غلیظہ بائنونت کی نیت کر لی وهو الثلاث اور وہ کتنی ہیں؟ تین فقد نوى أحد محتمليه تو اس نے کس کی نیت کی ہے؟ کلام کے دو محتملوں میں سے ایک کی نیت کی ہے، بھئی بائنونت اس نے انت بائن ذکر کیا، بائنونت تو دو قسم پر ہے خفیفہ بھی ہو سکتا ہے اور غلیظہ، تو کلام میں دونوں احتمال ہے اور اس نے بھی ایک احتمال کی نیت کر لی تو اور مثلاً تین طلاقوں کی تو وہی واقع ہو جائیں گی بھئی۔ فقد نوى أحد محتمليه فتصح اس نے نیت کر لی کلام کے دو محتملوں میں سے ایک کی تو صحیح ہو جائے گی یعنی تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی ولا يكون هذا من العموم في شيء اور یہ عموم میں سے کوئی چیز نہیں ہے، یہ عموم نہیں ہے بلکہ کلام ہی کے احتمال میں سے کو کی نیت کی ہے۔ ولا يتصور مثل هذا في طلقي نفسك اور اس قسم کا تصور طلقي نفسك کے اندر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا نا دونوں کی تخریج الگ الگ ہے، بعضوں نے کہا ایک ہی تخریج کر لیں، یہی اس میں بھی کر لیں۔ طلقي نفسك اپنے آپ کو طلاق دے اور طلاق دو قسم پر، ایک خفیفہ ایک غلیظہ۔ جیسے یہاں آپ نے کہا بائنونت ایک خفیفہ اور ایک غلیظہ تو ایک تخریج ہو جائے گی، کہتے ہیں نہیں بھئی نہیں، یہاں وہ تخریج نہیں چل سکتی۔ جدائی تو خفیفہ اور غلیظہ ہے، طلاق خفیفہ اور غلیظہ نہیں ہوتی، طلاق تو ایک، دو یا تین ہوا کرتی ہیں عام لوگ اسی طرح جانتے ہیں، وہ خفیف اور غلیظ طلاق کو نہیں جانتے۔ تو کہتے ہیں: ولا يتصور مثل هذا في طلقي نفسك اس قسم کا تصور نہیں کیا جا سکتا طلقي نفسك کے اندر لأن الطلاق إنما يشمل على الأفراد اسی لیے کیونکہ طلاقوں مشتمل ہوتی ہے افراد پر من الواحد والاثنين والثلاثة یعنی کہ ایک اور دو اور تین، یہ من بیان ہے افراد کا۔ لا على نوعي الغليظة والخفيفة عرفاً نہ کہ وہ مشتمل نہیں ہوتی کس پر؟ غلیظہ اور خفیفہ پر عرفاً عرف میں بھئی، لوگ اس کو نہیں سمجھتے بھئی۔ وقيل اور کہا گیا ہے، یہ پہلا معنی تھا، دیکھو دونوں کی تخریج الگ الگ تھی۔ وقيل معنى قوله على اختلاف التخريج کہ مصنف کے قول علی اختلاف التخریج کا معنی یہ ہے أن تخريجنا على حدة وتخريج الشافعي رحمه الله تعالى على حدة کہ ہماری تخریج علیحدہ ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کی تخریج علیحدہ ہے۔ فتخريجنا هو ما بينا پس ہماری تخریج تو وہ ہے جو ہم نے بیان کر دی۔ وتخريج الشافعي رحمه الله اور امام شافعی رحمہ اللہ کی تخریج جو ہے هو أن كل ذلك مقتضى وہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کیا ہے؟ مقتضا ہے۔ ويجري فيه العموم اور مقتضا میں تو عموم جاری ہوتا ہے ان کے نزدیک، فتصح فيه نية الثلاث تو ان کے نزدیک تین کی نیت کرنا بھی صحیح ہے بھئی، چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
84 approved lectures · 27 of 84