Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-081

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 11 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 12
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔ 81 و سقوط حرمة الخمر والميتة في حق المضطر والمكره؛ فإن حرمتها لم تبقَ وقت الاضطرار والإكراه أصلا، وإن بقيت في حق غيرهما؛ لقوله تعالى: ﴿وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ﴾. رخصت کی چوتھی قسم ہم پڑھ رہے تھے بھئی کہ جو بندوں سے ساقط ہو جائے لیکن مجموعی اعتبار سے وہ مشروع ہو بھئی۔ یعنی بعض اوقات جو ہیں اس کے اندر رخصت مل جاتی ہے لیکن مجموعی اعتبار سے اس کی عزیمت بھی موجود ہوتی ہے۔ اس کی پہلی مثال جیسے قصرِ صلاة بھئی۔ قصرِ صلاة مسافر کو تو رخصت مل گئی، لیکن اس مجموعی اعتبار سے عزیمت اب بھی موجود ہے یعنی وہ لوگ جو مسافر نہیں ہیں وہ پوری نمازیں پڑھ رہے ہیں اور مسافر کیا کر رہا ہے؟ قصر، تو رخصت جیسے موجود ہے دوسری جگہ پر عزیمت بھی پورے طور پر موجود ہے۔ یہ چوتھی قسم۔ اسی کی دوسری مثال ذکر کر رہے ہیں "و سقوط حرمة الخمر والميتة" اور مردار اور شراب کی حرمت کا ساقط ہو جانا "في حق المضطر والمكره" مجبور اور مکروہ کے حق میں جس پر زبردستی کی گئی ہے، مجبور اور وہ شخص جس پر زبردستی کی گئی ہے ان کے حق میں مردار اور شراب کی حرمت کا ساقط ہو جانا۔ "فإن حرمتها لم تبق وقت الاضطرار والإكراه أصلا" اسی کیونکہ ان کی حرمت جو ہے اضطرار، مجبوری کے وقت اور اکراہ یعنی زبردستی کے وقت باقی ہی نہیں رہی اصلاً، سرے سے۔ "وإن بقيت في حق غيرهما" اگرچہ باقیوں کے حق میں ان کی حرمت اب بھی باقی ہے، جو مجبور نہیں، جس پر اکراہ نہیں ان کے لیے اب بھی حرمت باقی ہے۔ البتہ جو مجبور ہے یا جس پر اکراہ ہے ان کے حق میں حرمت والا حکم ہی ختم ہوا بھئی۔ "لقوله تعالى" اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے ﴿وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ﴾ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے واضح کر دیا تمہارے لیے وہ جو تم پر حرام کیا ہے، مگر وہ چیز جس کی طرف تم مجبور کر دیے جاؤ، مجبور ہو جاؤ۔ "فإن قوله" پس اللہ تعالیٰ کا یہ جو قول ہے ﴿إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ﴾ مگر وہ جس کی طرف تم مجبور ہو جاؤ "استثناء من قوله ما حرم عليكم" یہ استثناء ہے اللہ تعالیٰ کے قول "ما حرم عليكم" سے۔ "فكأنه قيل" گویا کہ یوں فرمایا گیا "وقد فصل لكم ما حرم عليكم" اور تحقیق اللہ نے واضح کر دیا تمہارے لیے وہ جو تم پر حرام کیا ہے "في جميع الأحوال" تمام احوال کے اندر "إلا حال الضرورة" مگر ضرورت کی حالت میں। "فإن لم يأكل الميتة أو لم يشرب الخمر حينئذ ومات يموت آثما" پس اگر اس نے نہ کھایا مردار کو یا شراب نہ پی اس وقت اور مر گیا تو گناہگار ہو کر مرے گا بھئی۔ بھئی استثناء کیا گیا، وہ اللہ وہ چیزیں جو اللہ نے تم پر حرام کی ہیں، مگر وہ جن کی طرف تم مجبور کر دیے جاؤ۔ معلوم ہوا وہ حرام رہی نہیں بلکہ اکراہ کے وقت اور مجبوری کے وقت وہ کیا بن گئیں؟ حرمت سے نکالا جا رہا ہے۔ ایک طرف حرمت ہے تو دوسری طرف یقینی بات ہے کون سا حکم ہے؟ حلت والا حکم ہے، تو جب حرمت سے نکال دیا گیا استثناء کر دیا گیا تو کس میں داخل ہو گئیں چیزیں؟ حلت میں داخل، معلوم ہوا وہ حلال ہو گئیں۔ اب مجبوری کے وقت اور اکراہ کے وقت وہ شراب یا وہ مردار وہ حرام رہے ہی نہیں بلکہ کیا بن گئے؟ حلال بن گئے اور پھر اس کے باوجود یہ ان چیزوں کو نہیں کھاتا اور مر جاتا ہے، تو پھر تو وہ حلال چیز کے کھانے سے رکا، بلا وجہ اپنے نفس کو اس نے ہلاکت میں ڈال دیا تو یہ کیا ہوگا؟ گناہگار ہوگا بھئی۔ "بخلاف الإكراه على كلمة الكفر" بخلاف زبردستی جو کرنا ہے کلمہ کفر پر "فإنه وإن ذكر فيه الاستثناء" اگرچہ اس کے اندر بھی استثناء ذکر کیا گیا ہے "بقوله" اللہ تعالیٰ کے اس قول کے ساتھ ﴿إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ﴾ مگر وہ جس پر زبردستی کی گئی اور اس کا دل مطمئن تھا ایمان کے ساتھ۔ بھئی یہاں پر بھی تو استثناء آیا اسی طرح، قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ﴿مَن كَفَرَ بِاللَّهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ﴾ جس نے کفر کیا اللہ کے ساتھ اس پر ایمان لانے کے بعد، مگر وہ جس پر کو مجبور کیا گیا، جس پر زبردستی کی گئی اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن تھا بھئی۔ تو یہاں بھی تو استثناء کیا گیا! تو جیسے بھئی پچھلی مثال میں حرمت سے حرمت سے استثناء کیا گیا تھا، تو حرمت سے استثناء کیا ثابت کرتا ہے؟ حلت کو، تو یہاں پر بھی اس آیت کے اندر بھی کفر باللہ جو ہے وہ حرام ہے لیکن اس سے استثناء کیا گیا، تو کفر باللہ کو کیا ہونا چاہیے؟ حلال ہونا چاہیے مجبوری کے وقت، مجبوری۔ لیکن بتلائیں گے آپ کو کہ نہیں بھئی، یہ وہ ماقبل "من كفر بالله" سے جو ہے، یہ استثناء نہیں، حرمت سے یہ استثناء نہیں ہے، بلکہ یہ غضب اور عذاب سے استثناء ہے۔ کس سے؟ غضب اور عذاب سے استثناء ہے کہ جس نے کفر کیا اللہ کے ساتھ ایمان لانے کے بعد، ان پر اللہ کا غضب ہوگا اور ان پر اللہ کی ان پر اللہ کا عذاب ہوگا، مگر وہ جن کو مجبور کیا گیا۔ ان پر اللہ کا غضب نہیں ہوگا اور اللہ کا عذاب نہیں معلوم ہوا حرمت کے حکم سے ان کو نہیں نکالا، صرف سزا کے حکم سے نکالا ہے کہ سزا ان کو نہیں ملے گی، حرمت والا حکم اب بھی باقی ہے، وہ چیزیں حرام ہیں، البتہ اگر یہ رک جاتا ہے، اپنی جان دے دیتا ہے تو اس صورت میں عظیم اجر ملے گا، لیکن اگر کر لیتا ہے، مجبوری ہے، دوسرا اس کو قتل کرنے والا ہے، تو اس صورت میں اللہ کی طرف سے آخرت میں اس پر غضب بھی نہیں ہوگا اور عذاب بھی نہیں ہوگا۔ فرق سمجھ میں آیا دونوں کے اندر بھئی؟ تو کہتے ہیں "بخلاف الإكراه على كلمة الكفر" بخلاف کلمہ کفر پر اکراہ کے "فإنه وإن ذكر فيه الاستثناء أيضا" اگرچہ اس کے اندر بھی استثناء کو ذکر کیا گیا ہے "بقوله" اللہ تعالیٰ کے اس قول کے ساتھ ﴿إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ﴾ مگر وہ جس کو مجبور کیا گیا اور اس کا دل مطمئن تھا ایمان کے ساتھ "ولكنه ليس استثناء من الحرمة" لیکن یہ حرمت سے استثناء نہیں ہے "بل من الغضب أو العذاب" بلکہ یہ غضب یا عذاب سے استثناء ہے "إذ التقدير" اس لیے تقدیرِ کلام یوں ہے "من كفر بالله من بعد إيمانه" جس نے کفر کیا اللہ کے ساتھ اس پر ایمان لانے کے بعد "فعليهم غضب من الله ولهم عذاب عظيم" تو ان پر اللہ کا غضب ہے، ہوگا "ولهم عذاب عظيم" اور ان کے لیے سخت ان کے لیے بڑا عذاب ہوگا ﴿إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ﴾ مگر وہ جس پر زبردستی کی گئی اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن تھا۔ "وفي رواية عن أبي يوسف والشافعي رحمهما الله تعالى" اور امام ابو یوسف اور امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ سے روایت میں یہ ہے "أنه لا تسقط الحرمة" کہ یہاں بھی حرمت ساقط نہیں ہوگی۔ ہم نے تو کہا بھئی، اوپر جو پہلی مسئلہ جو ذکر ہوا ﴿وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ﴾ کہ یہ حرمت سے استثناء ہے، جب حرمت سے استثناء ہوا تو حالتِ مجبوری میں، حالتِ اکراہ کے اندر شراب اور مردار حرام رہے ہی نہیں کیونکہ ان کا استثناء کر دیا گیا مجبوری کی حالت میں، وہ کیا بن جائیں گے؟ حلال بن جائیں گے۔ امام ابو یوسف اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ حرمت سے استثناء نہیں ہے۔ ان کی حرمت ابھی بھی ساقط نہیں، یہ ابھی بھی حرام ہیں۔ ہاں! البتہ ان پر اللہ آخرت میں مؤاخذہ نہیں فرمائیں گے جیسے کفر باللہ پر اکراہ کی حالت میں آخرت میں مؤاخذہ نہیں ہوگا، آخرت میں گرفت نہیں ہوگی، اسی طرح ان پر بھی آخرت میں گرفت یعنی یہ ابھی بھی حرام ہیں ان کے نزدیک، مجبوری کی حالت میں بھی حرام ہیں اور جب حرام ہیں، تو اگر یہ شخص ان کے کھانے سے رکا رہا، اپنی جان دے دی تو اس کو ثواب ملے گا۔ وہ فرماتے ہیں بھئی، امام ابو یوسف اور امام شافعی رحمہما اللہ، اس کو ثواب ملے گا۔ لیکن اگر اس نے کھا لیا تو گنجائش دے دی گئی، کھا سکتا ہے اور اس پر آخرت میں مؤاخذہ نہیں ہوگا، تو ان کے نزدیک یہ یہ وہ پہلی قسم ہی میں سے ہوا بھئی، کس میں سے ہوا؟ پہلی قسم، اکراہ جو وہ جو اکراہ فی الکفر والی صورت تھی بھئی کہ کلمہ کفر زبان سے کہو وہ پہلی قسم تھی رخصت کی، جس میں اس پر عمل کرنے والے کو رخصت ہے لیکن اگر اسی پر جما رہا اور جان دے دی تو ثواب ملے گا۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح اگر شراب پینے سے اور مردار کھانے سے رکا رہا یہاں تک کہ جان دے دی اپنی تو یہ بھی کس میں داخل ہے؟ پہلی قسم میں، اس کو بھی ثواب ملے گا کیونکہ یہ حلال ابھی بھی نہیں ہوئی، یہ حرمت سے استثناء نہیں ہے، حرمت سے استثناء نہیں ہے، یہ ان کی حرمت ابھی بھی ہے، صرف اسی پہلی قسم کی طرح اللہ فرما رہے ہیں کہ ان پر اللہ آخرت میں مؤاخذہ نہیں فرمائیں گے بھئی۔ اور تو کہتے ہیں امام ابو یوسف، امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت ہے "أنه لا تسقط الحرمة" کہ ان کی حرمت ساقط نہیں ہوگی "ولكن لا يؤاخذ بها كما في الإكراه على الكفر" لیکن ان پر مؤاخذہ نہیں ہوگا جیسے اکراہ علی الکفر کے اندر تھا "فهو من قبيل القسم الأول" تو یہ بھی پہلی قسم میں سے ہی ہے، پہلی قسم کے قبیل میں سے ہے "لقوله تعالى" اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے ﴿فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ کہتے ہیں اللہ کے اس قول کی وجہ سے، اللہ کیا فرماتے ہیں: پس جو کوئی مجبور ہو گیا "غير باغ" اس حال میں کہ وہ سرکشی کرنے والا نہ ہو "ولا عاد" اور اس حال میں کہ وہ حد سے تجاوز کرنے والا نہ ہو "فلا إثم عليه" تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے "إن الله غفور رحيم" بے شک اللہ بخشنے والے، رحم کرنے والے ہیں۔ دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں "دل إطلاق المغفرة على قيام الحرمة" مغفرت کے اطلاق نے دلالت کر دی حرمت کے قیام پر۔ اللہ فرما رہے ہیں ﴿إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ بے شک اللہ بخشنے والے ہیں، معلوم ہوا یہ ابھی بھی حرام ہے، گناہ کا کام ہے، لیکن اللہ کیا فرما دیں گے اس کو؟ بخش دیں گے، معاف فرما دیں گے، تو یہ جو مغفرت کا اطلاق کیا گیا اس نے دلالت کر دی کہ حرمت ابھی بھی قائم ہے، موجود ہے۔ "والجواب" ہم جواب دیتے ہیں "أن إطلاق المغفرة باعتبار أن الاضطرار المرخص للتناول يكون بالاجتهاد" جواب دے رہے ہیں بھئی کہ بھئی یہ جو اللہ فرما رہے ہیں کہ بے شک اللہ بخشنے والے ہیں، اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ ابھی بھی حرام ہیں۔ یہ اس وجہ سے، کیونکہ شدید بھوک کی حالت میں مردار اور شراب کیا ہو جاتے ہیں ہمارے نزدیک؟ حلال ہو جاتے ہیں کیونکہ اب اسے یقین ہے کہ اگر میں نے نہ کھایا تو میں مر جاؤں گا۔ تو اب یہ 'میں نے نہ کھایا تو میں مر جاؤں گا' یہ ایک اجتہادی چیز ہے۔ وہ آدمی کا اپنا ذہن اس کو کیا کہہ رہا ہے؟ کہ اگر نہ کھایا تو تم مر جاؤ گے، ہو سکتا ہے ابھی پھر بھی یہ کچھ زندہ رہے لیکن اس کا خیال کیا ہے؟ شاید میں مر جاؤں گا اگر اب میں نے نہ کھایا حالانکہ ضروری تو نہیں! تو یہ تو ایک اجتہادی چیز ہے، رائے کی بات ہے، اس کا ذہن اسے کہہ رہا ہے تو ہو سکتا ہے اس میں اس سے غلطی ہو جائے! ابھی وہ پھر بھی کافی وقت گزار سکتا تھا لیکن اس کا خیال تھا اب اگر میں نے نہ کھایا تو میں، تو لہٰذا اس اجتہاد کے اندر غلطی کا بھی امکان ہے بھئی، چنانچہ اسی وجہ سے اللہ فرما رہے ہیں کہ اللہ بخشنے والے ہیں، اللہ کیا فرما دیں گے؟ اللہ بخش دیں گے بھئی، جواب سمجھ میں آیا؟ یہ پہلا جواب ہوا بھئی۔ "والجواب" جواب یہ "أن إطلاق المغفرة" کہ مغفرت کا اطلاق جو ہے "باعتبار أن الاضطرار المرخص للتناول" اس اعتبار سے ہے کہ وہ مجبوری وہ اضطرار، وہ مجبوری "المرخص" جس کی رخصت دی گئی ہے "للتناول" کھانے کے لیے "يكون بالاجتهاد" یہ کس کے ذریعے ہوگی بھئی؟ وہ اجتہاد کے ذریعے ہوگی بھئی، وہ مجبوری کا پتہ اجتہاد سے چلے گا، اس آدمی کی اپنی رائے سے، یہ پہلا جواب ہوا۔ دوسرا جواب: "وعسى أن يقع التناول زائداً على قدر الحاجة" بھئی یاد رکھیے مجبوری کی حالت میں مردار اور شراب حلال، لیکن اس میں بھی صرف اتنی مقدار حلال ہے جو جس سے اس کی جان بچ جائے۔ اس سے زائد کھانے کی اجازت نہیں۔ اور شدید بھوک کی حالت میں اتنی رعایت رکھنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے انسان کے لیے بھئی کہ کتنا میں کھاؤں گا بس یہ کافی ہے میرے بچ جانے کے لیے، اس سے زائد نہیں، تو اس میں بھی کیا ہے؟ رعایت رکھنا بڑا مشکل کام ہے، تو اس وجہ سے اللہ نے فرمایا کہ اللہ بخشنے والے ہیں، رحم کرنے والے ہیں بھئی، جواب سمجھ میں آ گیا دوسرا؟ "وعسى أن يقع التناول زائداً على قدر الحاجة" اور واقع ہو جائے تناول جو کھانا ہے وہ زائد ہو جائے حاجت کی حاجت کی مقدار سے "لأن من ابتلي بهذه المخمصة" اس لیے کیونکہ جو شخص مبتلا کیا گیا اس قدر بھوک میں "تعسر عليه رعایت قدر الحاجة" تو مشکل ہوتی ہے اس پر حاجت کی مقدار کی رعایت رکھنا "وفائدة الخلاف تظهر فيما إذا حلف لا يأكل حراما" اور اختلاف کا فائدہ ظاہر ہوگا اس صورت میں "إذا حلف" جب کسی شخص نے قسم اٹھائی "لا يأكل حراما" کہ وہ حرام نہیں کھائے گا۔ ایک آدمی نے قسم اٹھا لی کہ واللہ میں حرام چیز نہیں کھاؤں گا "فشرب خمراً حال الاضطرار" اب بھئی اس نے مجبوری کی حالت میں شراب پی لی، تو ہمارے نزدیک حانث ہوا یا نہیں؟ جی؟ ہمارے نزدیک شراب حلال ہو چکی، حرام رہی نہیں، تو اس نے حرام تو پھر بھی نہیں کھایا بھئی، حرام نہیں پیا، لہٰذا حانث نہیں ہوا، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وہ حرام تھی تو وہ حانث ہو جائے گا، حرام چیز اس نے کھائی بھئی، فرق سمجھ میں آ گیا بھئی؟ "فشرب خمراً حال الاضطرار" تو اس نے شراب پی لی اضطرار کی حالت میں "فعندهما يحنث" تو صاحبین کے نزدیک حانث ہو جائے گا "وعندنا لا" اور ہمارے نزدیک نہیں "و سقوط غسل الرجل في مدة المسح" اور پاؤں دھونے کا ساقط ہونا مدتِ مسح میں۔ بھئی دیکھیے شریعت کا حکم ہے کہ موزے پہننے والا جو ہے وہ ان پر مسح کر سکتا ہے، مسح کر لے اور مدتِ مسح مقیم کے لیے ایک دن رات ہے تو مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں۔ تو یہ جو پاؤں دھونے کا سقوط ہوا یہ بھی چوتھی قسم میں سے ہے، کس میں سے ہے؟ چوتھی قسم میں سے ہے۔ کہ مدتِ مسح کے اندر پاؤں کا دھونا ساقط ہے، جیسے مدتِ سفر کے دوران سفر کے دوران جیسے وہاں پوری نماز پڑھنا ساقط ہوتا تھا، اسی طرح جب موزے پہنے ہوئے ہوں تو اس وقت پاؤں کا دھونا ساقط ہو جاتا ہے۔ "فإن استتار القدم بالخف يمنع سراية الحدث إليه" اس لیے کیونکہ چھپنا قدم کا موزے میں یہ روکتا ہے حدث کی سرایت کو اس کی طرف۔ بھئی دیکھیے! پاؤں دھوئے جاتے ہیں وضو کے اندر، اسی طرح ہاتھ، چہرہ وغیرہ اور جنابت کی حالت میں پورے بدن کو دھونا ضروری ہوتا ہے، یہ دراصل نجاستِ حکمیہ سرایت کر جاتی ہے ان اعضاء پر بھئی، کیا کر جاتی ہے سرایت؟ بھئی ظاہری نجاست تو نہیں، ظاہراً تو کوئی نجاست نہیں لگی ہوئی، کوئی گندگی وغیرہ بدن پر نہیں لگی، لیکن اللہ کی طرف سے حکم آیا کہ کیا کرو جب بے وضو ہو، نماز پڑھنے لگو تو کیا کر لو؟ وضو، معلوم ہوا بے وضو ہونے سے ان اعضاء پر کیا سرایت کر جاتی ہے؟ نجاست، لیکن نجاستِ حقیقیہ نہیں، کون سی؟ نجاستِ حکمیہ۔ اب وہ نجاستِ حکمیہ پاؤں تک سرایت نہیں کرتی بلکہ صرف کس پر آتی ہے؟ موزوں پر آتی ہے۔ چنانچہ پھر وہ مسح اس کے لیے مسح کا حکم دیا گیا کہ جب وضو کرنے لگو تو پھر موزوں پر کیا کر لو؟ مسح کر لو تاکہ وہ جو نجاستِ حکمیہ جس نے نازل ہونا تھا پاؤں تک، لیکن موزوں نے اس کو پاؤں تک جانے سے روک دیا اپنے اوپر ہی۔ تو وہ اب موزوں پر طاری ہوئی تو ان پر کیا کر لو؟ مسح کر لو بھئی تاکہ نجاست ختم ہو جائے، وہ نجاستِ حکمیہ۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہ معنی ہے: "فإن استتار القدمِ بالخفِ يمنع سرايةَ الحدثِ إليه" پس قدم کا چھپنا موزے میں، یہ روک دیتا ہے حدث کے اس کی طرف سرایت کرنے کو۔ "وقد كان طاهراً" اور تحقیق یہ پاک تھا۔ بھئی جب موزے پہنے تھے، وضو کر کے پہنے جاتے ہیں نا موزے، اس وقت تو نجاست کی سرایت تھی ہی نہیں، تو اس وقت پاک تھا اور اب جو سرایت کی تو موزے نے اس کو روک لیا، وہاں تک جانے نہیں دیا۔ تو "وقد كان طاهراً" اور وہ تحقیق پاؤں جو تھے وہ، پاؤں پاک تھا "وما حلَّ فوق الخفِ" اور وہ جو اترا ہے موزے کے اوپر، یعنی وہ جو نجاستِ حکمیہ نازل ہوئی ہے موزے کے اوپر "فقد زال بالمسحِ" تحقیق وہ زائل ہو جاتی ہے کس کے ذریعے؟ وہ مسح کے ذریعے زائل ہو جاتی ہے۔ "فلا يشرع الغسلُ في هذه المدةِ" لہذا مشروع نہیں ہے دھونا اس مدت میں۔ اس مدت کے اندر دھونا مشروع نہیں ہے۔ "وإن بقي في حق غیرِ اللابسِ" یعنی اس مدت میں دھونا مشروع نہیں ہے یعنی جائز ہی نہیں ہے بھئی! مشروع نہیں ہے یعنی؟ بھئی جیسے وہ قصرِ صلاۃ بھئی، مسافر پوری پڑھ ہی نہیں سکتا۔ یہاں پر بھی موزہ پہنا ہوا ہے تو پاؤں دھو ہی نہیں سکتا۔ "وإن بقي في حق غیرِ اللابسِ" اگرچہ یہ غسل جو ہے یہ باقی ہے غیرِ لابس کے حق میں، جس نے موزے نہیں پہنے۔ بھئی وہاں قصر کون کرتا تھا؟ مسافر۔ اور باقیوں کے علاوہ باقیوں میں تو عزیمت پوری موجود تھی، جو مقیم تھے وہ کیا کرتے تھے؟ پوری نماز پڑھتے تھے۔ تو یہاں پر بھی یہ جو پہننے والا ہے اس کے حق میں تو غسل یعنی پاؤں کا دھونا مشروع نہیں، لیکن باقی لوگ جنہوں نے موزے نہیں پہنے ہوئے ان کے حق میں دھونا مشروع ہے۔ یہ معنی ہے "وإن بقي في حق غیرِ اللابسِ" اگرچہ وہ دھونا جو ہے وہ باقی ہے غیرِ لابس کے حق میں۔ "وهذا على روايةِ الأصوليينَ" اور یہ جو ہے علماءِ اصول کی روایت پر ہے۔ بھئی علماءِ اصول کا مذہب کیا بیان ہوا؟ کہ جب موزے پہنے ہوں تو پاؤں کا دھونا جائز ہی نہیں ہے، کیا کرے گا موزوں پر؟ مسح۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ صاحبِ ہدایہ تو فرماتے ہیں کہ کوئی شخص وضو کر رہا ہے، اب موزے پہنے ہوئے ہیں، ان پر مسح کرنے کے بجائے وہ موزے اتارتا ہے اور پاؤں دھو لیتا ہے تو اس کو تو زیادہ ثواب ملے گا۔ کون فرماتے ہیں؟ صاحبِ ہدایہ۔ کیونکہ مسح مشکل ہے یا پاؤں کا دھونا مشکل ہے؟ پاؤں کا دھونا مشکل ہے اور لازمی بات ہے عبادت میں جتنی مشکل ہوگی اسی قدر ثواب بھی اس پر زیادہ ملے گا، تو چنانچہ وہ فرماتے ہیں زیادہ ثواب ملے گا اس کو۔ جبکہ علماءِ اصول کیا فرماتے ہیں؟ مسح ہی، کہ دھو نہیں سکتا، دھوئے گا تو گناہ گار ہوگا۔ مشروع ہی نہیں ہے بھئی! گناہ گار ہوگا۔ تو یہی اشکال شارح کو بھی پیش آیا، چنانچہ اسی کو وہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں یہ اشکال ہوا یا نہیں بھئی؟ علماءِ اصولِ فقہ فرما رہے ہیں گناہ گار ہوگا اور فقہاء کیا فرما رہے ہیں؟ زیادہ ثواب ملے گا۔ تو یہی فرما رہے ہیں، کہتے ہیں "وهذا على روايةِ الأصوليينَ" یہ علماءِ اصول کی روایت پر ہے "وأما صاحبُ الهدايةِ فقد قالَ" اور باقی صاحبِ ہدایہ پس تحقیق انہوں نے فرمایا ہے کہ "إن نزعَ الخفَّ في المدةِ" اگر اس نے موزے کو اتار دیا مدت کے اندر ہی "وغسلَ الرجلَ يكونُ مأجوراً" اور پاؤں دھو لیا تو اس کو اجر ملے گا۔ یہی اشکال کس کو پیش آیا؟ شارح کو بھی، چنانچہ انہوں نے کہا بھئی یہ تو علماءِ اصولِ فقہ کا مذہب ہے، فقہاء تو اس کے خلاف فرماتے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ جواب یہ ہے بھئی کہ شارح کو یہاں سمجھنے میں غلطی لگی بھئی۔ علماءِ اصول کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ موزے جس وقت تک پہنے ہوئے ہیں، اس وقت تک پاؤں دھونے کی اجازت نہیں۔ اگر اس حالت میں بھی وہ پاؤں کو دھونے کی کوشش کرتا ہے، مثلاً بھئی دریا یا ندی کے کنارے بیٹھا ہوا ہے، موزہ پاؤں پر ہے، اسی حالت میں وہ موزہ پہنے ہوئے ہی پاؤں کو پانی میں پورا ڈبو دیتا ہے، خوب اچھی طرح پانی اندر پہنچا دیتا ہے، تو اس صورت میں یہ کیا ہوگا؟ یہ درست نہیں ہے بھئی، گناہ ہوگا بھئی۔ علماءِ اصول کا یہ معنی۔ جب اس نے موزے کو اتار دیا پھر تو وہ ہماری بحث سے ہی خارج ہے، پھر تو کیا کرنا پڑے گا؟ پاؤں کو دھونا ہی پڑے گا۔ تو صاحبِ ہدایہ بھی وہی فرما رہے ہیں جب موزے کو اتار دیا ہے پھر تو دھوئے گا اور دھونا کیا ہوا؟ دھونا اس پر اجر بھی اس کو ملے گا کہ مسح کر سکتا تھا لیکن پھر اس نے، تو علماءِ اصول کی کیا مراد ہے؟ جب اس نے ابھی موزہ پہنا ہوا ہو اس وقت مسح ہی مشروع ہے، غسل مشروع نہیں، جب اتار دے گا پھر غسل مشروع ہو جائے گا بھئی۔ تطبيق آ گئی یا نہیں دونوں کے اندر بھئی؟ "ولما فرغَ عن بيانِ الأحكامِ المشروعةِ" اور جب فارغ ہوئے مصنف احکامِ مشروعہ کے بیان سے "ذكرَ بعدها بيانَ أسبابِها" تو ذکر کیا ان کے بعد ان احکامِ مشروعہ کے اسباب کے بیان کو "بهذا التقريبِ" اسی مناسبت سے۔ احکامِ مشروعہ بیان ہوئے بھئی کہ کچھ عزیمت ہیں، کچھ رخصت ہیں، اب بیان کر دیے تو اب یہ بیان کریں گے کہ ان کے اسباب کیا کیا ہیں۔ اور مناسبت بھی ہے، احکام کے بعد کس کو ذکر کر رہے ہیں؟ اسباب کو۔ "اقتداءً بفخرِ الإسلامِ" اقتداء کرتے ہوئے علامہ فخر الاسلام کی "وكان الأولىٰ" اور بہتر یہ تھا "أن يذكرَها بعدَ القياسِ" کہ ان کو ذکر کرتے قیاس کے بعد بھئی، ان اسباب وغیرہ کو کہاں ذکر کرتے؟ قیاس کے بعد ذکر کرتے "في بحثِ الأسبابِ والعللِ" اسباب اور علتوں کی بحث میں "كما فعلَهُ صاحبُ التوضيحِ" جیسے کس نے کیا ہے؟ صاحبِ توصیح نے کیا ہے بھئی۔ توصیح احناف کی اصولِ فقہ کی نہایت مضبوط کتاب ہے بھئی، نہایت مضبوط۔ "فقالَ" پس فرمایا مصنف نے "فصلٌ الأمرُ والنهيُ بأقسامِهما" امر اور نہی دونوں جو ہیں اپنی اقسام کے ساتھ۔ امر اور نہی دونوں اپنی اقسام کے ساتھ، بھئی کون سی اقسام ہیں امر اور نہی کی کیا کیا؟ کہتے ہیں "من كونِ الأمرِ مؤقتاً" یعنی کہ امر کا موقت ہونا "أو مطلقاً" یا مطلق۔ بھئی دیکھیے امر بھئی کسی چیز کا حکم دیا جاتا ہے، پھر وہ حکم جس چیز کا دیا گیا وہ موقت ہوگی یا مطلق، کبھی اس میں وقت کی قید ہوگی، اس وقت میں ادا کرے تو ادا، اس وقت کے بعد کرے تو قضاء اور بعض ایسے ہیں جن کے اندر وقت کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ مثلاً زکوٰۃ ہے، اس کے اندر وقت کی کوئی قید نہیں، یہ مطلق عن الوقت ہے، جب بھی ادا کرے گا ادا ہی ادا ہے، اس میں قضاء نہیں۔ اور جب اس کے مقابلے میں نماز موقت ہے بھئی، ظہر کی نماز کا وقت ظہر ہی ہے، اگر بعد میں پڑھے گا تو وہ ادا نہیں کہلائے گی بلکہ قضاء۔ تو یہ یہ ساری بحثیں پیچھے گزر چکی ہیں، شارح صرف اشارہ کر رہے ہیں "من كونِ الأمرِ مؤقتاً ومطلقاً" کہ یعنی امر کا موقت ہونا یا مطلق ہونا "موسعاً أو مضيقاً" اس کا موسع یا ضیق ہونا۔ یعنی اس کے وقت کا وسعت کیا ہوا ہونا یا تنگ کیا ہوا ہونا۔ بھئی دیکھیے ایک شخص جو ہے غریب ہے، اس پر تو حج فرض نہیں، لیکن ایک شخص کے پاس جب اسبابِ حج جمع ہو گئے تو اس پر حج فرض ہو جائے گا۔ اور حج یہ جب بھی ادا کرنا چاہے ادا کر سکتا ہے۔ لیکن آپ اس بحث کے اندر جہاں امر کی بحث میں یہ بات آئی تھی، یہ آپ نے پڑھا تھا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ وقت کی تنگی کا اعتبار کرتے ہیں اور امام محمد رحمہ اللہ وقت کی وسعت کا اعتبار کرتے ہیں۔ کس طرح؟ دیکھو ایک شخص ہے اس کے پاس اسباب جمع ہو گئے، اس پر حج فرض ہوا تو اس کو اسی سال حج پر جانا چاہیے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی، ورنہ گناہ گار ہوگا۔ کیونکہ ہو سکتا ہے اگلے حج تک اس کی زندگی ہی نہ باقی ہو، تو دیکھو انہوں نے وقت کے تنگ ہونے کا اعتبار کیا۔ صرف ایک سال ہی گویا اس کو مل رہا ہے یوں سمجھیں، اور وقت اس میں ایک ہی حج ہو سکتا ہے یا دو تین ہو سکتے ہیں؟ ایک ہی حج کی گنجائش ہو تو دیکھو وقت تنگ ہوا بھئی اس کے لیے۔ اور دوسری طرف اگر اس کو زندگی لمبی مل جائے تو جب بھی کرے گا وہ حج ادا ہی ہوگا، قضاء نہیں ہوگا، تو امام محمد رحمہ اللہ نے وقت کے وسعت کا اعتبار کیا بھئی۔ بحث پیچھے گزر چکی بھئی۔ "وكونِ النهيِ عن الأمورِ الشرعيةِ أو الحسيةِ" بھئی متن میں آیا ہے نہ امر اور نہی اپنی اقسام کے ساتھ، تو وہ قسمیں کچھ شارح یاد کروا رہے ہیں آپ کو کہ کون کون سی قسمیں گزری تھیں۔ "وكونِ النهيِ عن الأمورِ الشرعيةِ أو الحسيةِ" یعنی یا نہی کا ہونا امورِ شرعیہ یا امورِ حسِیّہ۔ بھئی امورِ شرعیہ جن کو کہتے تھے؟ جن میں جن کے معنی میں شریعت نے تبدیلی پیدا کر دی ہو، جیسے بیع بھئی، بیع پہلے کس کو کہتے تھے؟ مبادلة المال بالمال، بعد میں شریعت نے معنی میں تبدیلی کی، کہا بھئی صرف مبادلة المال بالمال نہیں، باہمی رضامندی بھی ہوگی۔ کیا ہوگی؟ باہمی رضامندی بھی ہوگی، اور بھی بہت سی شرائط ذکر کر دیں کہ بیع صرف کے اندر ان چیزوں کا خیال رکھنا، بیع سلم میں ان چیزوں کا خیال رکھنا، بیع تولیہ میں ان چیزوں کا خیال رکھنا وغیرہ، دیکھو کتنی شرائط ذکر کر دیں، پہلے ان چیزوں کا ہمیں علم نہیں تھا بھئی، تو یہ کیا ہوا؟ فعلِ شرعی کہلائے گا جن کے معنی میں شریعت نے تبدیلی پیدا کر دی۔ اور ایک فعلِ حسی تھا، یعنی جس کے معنی جس کے جو معنی شریعت آنے سے پہلے تھے، وہی معنی شریعت نے بھی برقرار رکھے، ان میں کوئی تبدیلی نہیں کی، جیسے زنا، زنا پہلے بھی کسے کہتے تھے؟ غیر ملک کے اندر وطی کرنا، اور شریعت نے بھی یہی معنی رکھے گئے، غیر ملک کے اندر وطی کرنا۔ تو یہ جو نہی آئے گی یا تو امورِ شرعیہ سے آئے گی یعنی جن کے معنی میں شریعت نے تبدیلی پیدا کر دی ہے "أو الحسيةِ" یا کس میں آئے گی نہی؟ امورِ حسِیّہ سے جن کے معنی میں شریعت نے کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی "أو قبيحاً لعينهِ أو لغيرهِ" اور پھر وہ منہی عنہ جو ہے وہ قبیح لعینہ ہوگا یا قبیح لغیرہ۔ بھئی بعض چیزوں کی ذات میں ہی قباحت ہے، برائی ہے، جیسے کفر۔ کفر کی ذات ہی میں کیا ہے؟ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے ہی برا ہے، تو یہ قبیح لعینہ ہوا، اور بعض چیزیں ایسی تھیں جن میں غیر کی وجہ سے قبا آتا تھا، ان میں قباحت آتی تھی، جیسے بھئی یوم النحر کے دن روزہ، روزہ تو اپنی ذات کے اعتبار سے بھئی عبادت ہے اللہ کی، لیکن یہاں پر اس میں خرابی کس وجہ سے آئی؟ کہ اعراضاً ضیافة اللہ لازم آتا تھا بھئی، تو یہ قبیح لغیرہ ہوا "ونحوِ ذلكَ" اس جیسی بھئی وہ جو قسمیں آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں۔ تو کہتے ہیں امر اور نہی اپنی اقسام کے ساتھ "لطلبِ الأحكامِ المشروعةِ" کس لیے ہوتے ہیں؟ احکامِ مشروعہ کی طلب کے لیے۔ امر اور نہی دونوں اپنی اقسام کے ساتھ، یہ کس لیے ہوتے ہیں؟ احکامِ مشروعہ کی طلب کے لیے۔ شارح آپ کو بتلائیں گے احکامِ مشروعہ سے مراد وہ احکام نہیں ہیں، حرمت اور وجوب وغیرہ۔ حکم کیا ہے؟ امر سے کیا آئے گا؟ وجوب آئے گا، نہی سے کیا آئے گی؟ حرمت آئے گی، یہ حکم ہے ان کا، تو کہتے ہیں احکام سے مراد یہ نہیں ہے حرمت اور وجوب وغیرہ، بلکہ احکامِ مشروعہ سے مراد وہ عبادتیں ہیں۔ کیا مراد ہیں؟ وہ عبادتیں ہیں، تو اب دیکھیے الاحکام المشروعہ کی جگہ عبادات لگائیں کہ امر اور، متن پہ نظر رکھیں، امر اور نہی اپنی اقسام کے ساتھ "لطلبِ العباداتِ" کس لیے ہیں؟ عبادات کو طلب کرنے کے لیے ہیں بھئی۔ تو پھر یہ جو طلب آیا بھئی، امر تو ہوتا ہے طلب کے لیے، نہی تو کس لیے ہوتی ہے؟ روکنے کے لیے، تو یہاں تو صرف انہوں نے طلب ذکر کیا، جواب دیں گے کہ طلب عام ہے خواہ طلبِ فعل ہو خواہ طلبِ ترکِ فعل ہو۔ طلبِ فعل کس میں ہوگا؟ امر میں، اور طلبِ ترکِ فعل کس میں ہوگا؟ نہی کے اندر بھئی۔ کہتے ہیں "المرادُ بالأحكامِ المحكومُ بها من العباداتِ وغيرِها" کہ احکام سے کیا مراد ہیں؟ المحكوم بها جن کا حکم کیا گیا ہے، من العبادات یعنی کہ عبادتیں وغیرہا اور اس کے علاوہ "لا نفسُ الأحكامِ" نہ کہ نفسِ احکام جو ہیں وہ مراد نہیں ہے بھئی، یعنی وجوب اور حرمت وغیرہ مراد نہیں ہے۔ "وبالطلبِ أعمُّ من أن يكونَ لفعلٍ أو لكفٍّ" اور طلب کے ذریعے اعم ہے اس سے کہ وہ فعل کے لیے ہو یا "لكفٍّ" اس سے روکنے کے لیے ہو بھئی۔ فعل کے لیے ہو یا روکنے کے لیے ہو بھئی۔ بھئی وہی، ایک میں فعل کا حکم دیا جاتا ہے امر میں، اور نہی میں فعل سے روکا جاتا ہے۔ "ولها أسبابٌ تضافُ إليها" اور ان کے اسباب ہوتے ہیں جن کی طرف ان کی نسبت کی جاتی ہے "أي عللٌ شرعيةٌ تنسبُ الأحكامُ إليها" بھئی اسباب سے کیا مراد ہیں؟ علتیں مراد ہیں "أي عللٌ شرعيةٌ تنسبُ الأحكامُ إليها" یعنی ایسی شرعی علتیں ہوتی ہیں جن کی طرف احکام کی نسبت کی جاتی ہے "من حيثُ الظاهرُ" ظاہر کے اعتبار سے "وإن كانَ المؤثرُ الحقيقيُّ في الأشياءِ كلها هوَ اللهُ تعالىٰ" اگرچہ مؤثرِ حقیقی جو ہے تمام اشیاء کے اندر وہ اللہ تعالیٰ ہیں بھئی۔ بھئی عبادتیں وغیرہ جو ہیں ان کے اسباب ہیں، ان کی طرف ان کی نسبت کی جاتی ہے، اور اسباب سے کیا مراد ہیں؟ علتیں، کہتے ہیں ظاہر کے اعتبار سے نسبت ان اسباب کی طرف کی جاتی ہے، جیسے بھئی ظہر کی نماز کا وجوب کس سے آتا ہے؟ ظہر کے وقت سے، تو دیکھو ظاہر کے اعتبار سے ہم وقت کی طرف نسبت کر رہے ہیں ورنہ اصل میں تو واجب کرنے والے کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ ہیں بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ظاہر کے اعتبار سے احکام کی ان کی طرف نسبت ہوتی ہے اگرچہ مؤثرِ حقیقی تمام اشیاء میں وہ اللہ ہیں۔ "من حدوثِ العالمِ" یہ اب کچھ اسباب ذکر کر رہے ہیں۔ کس کو ذکر کر رہے ہیں؟ اسباب ذکر کر رہے ہیں اور آگے کس چیز کے یہ اسباب ہیں، وہ آگے ذکر کریں گے بھئی۔ "من حدوثِ العالمِ" یعنی کہ عالم کا حادث ہونا "والوقتِ" اور وقت "وملكِ المالِ" اور مال کا مالک ہونا "وأيامِ شهرِ رمضانَ" اور رمضان کے مہینے کے ایام "والرأسِ الذي يمونُهُ" اور وہ رأس، وہ سر یعنی وہ ذات "الذي يمونُهُ" جس کے وہ خرچہ اٹھاتا ہے، جس کے مشقت اٹھاتا ہے "ويلي عليهِ" اور اس کا ذمہ دار ہے، یعنی اس پر اس کو ولایت ہے۔ "الذي يمونُهُ ويلي عليهِ" جس پر جس کے وہ جس کا وہ خرچ برداشت کرتا ہے "ويلي عليهِ" اور اس کا ذمہ دار ہے یعنی اس پر اس کو ولایت حاصل ہے۔ "والبيتِ" اور بیت اللہ "والأرضِ الناميةِ بالخارجِ تحقيقاً" اور وہ زمین جو بڑھنے والی ہے، نامیہ کا معنی بڑھنے والی جس میں بڑھوتری ہو، افضائش ہو، زیادتی ہو، بڑھ رہی ہو بھئی "والأرضِ الناميةِ" اور وہ زمین جو بڑھنے والی ہے "بالخارجِ" پیداوار کی وجہ سے "تحقيقاً" تحقیقی طور پر "أو تقديراً" یا تقدیراً "والصلاةِ" اور نماز "وتعلقِ البقاءِ المقدورِ بالتعاطي" اور تعلق ہونا اس بقاء کا "المقدورِ" جو مقدر کر دی گئی، جس کا جو حکم کر دیا گیا، اس کا تعلق ہونا "بالتعاطي" تعاطی لین دین بھئی، یعنی معاملات، اس کا تعلق معاملات سے ہونا۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ بھئی دیکھیے! اللہ نے انسان کی بقاء مقدر کر دی ہے اس دنیا میں تا قیامت۔ اللہ نے کیا حکم کیا فیصلہ فرما دیا کہ انسان کب تک رہے گا اس دنیا میں؟ قیامت تک رہے گا، تو یہ جو اللہ نے مقدر کر دی انسان کے لیے بقاء، اس کا تعلق باہمی معاملات سے ہے۔ باہمی معاملات ہوں گے، بیع و شراء، نکاح وغیرہ تبھی بقاء ہو سکتی ہے نا ورنہ تو بقاء نہیں ہو سکتی بھئی، معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ جو "تعلقِ البقاءِ المقدورِ" تعلق ہونا کس کا تعلق؟ وہ بقاء جو مقدر جس کا حکم فیصلہ کر دیا گیا، حکم کر دیا گیا، اس بقاء کا تعلق ہونا "بالتعاطي" کس کے ساتھ؟ معاملات کے ساتھ، لین دین کے ساتھ۔ و سقوط حرمة الخمر والميتة في حق المضطر والمكره؛ فإن حرمتها لم تبقَ وقت الاضطرار والإكراه أصلا، وإن بقيت في حق غيرهما؛ لقوله تعالى: ﴿وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ﴾. رخصت کی چوتھی قسم ہم پڑھ رہے تھے بھئی کہ جو بندوں سے ساقط ہو جائے لیکن مجموعی اعتبار سے وہ مشروع ہو بھئی۔ یعنی بعض اوقات جو ہیں اس کے اندر رخصت مل جاتی ہے لیکن مجموعی اعتبار سے اس کی عزیمت بھی موجود ہوتی ہے۔ اس کی پہلی مثال جیسے قصرِ صلاة بھئی۔ قصرِ صلاة مسافر کو تو رخصت مل گئی، لیکن اس مجموعی اعتبار سے عزیمت اب بھی موجود ہے یعنی وہ لوگ جو مسافر نہیں ہیں وہ پوری نمازیں پڑھ رہے ہیں اور مسافر کیا کر رہا ہے؟ قصر، تو رخصت جیسے موجود ہے دوسری جگہ پر عزیمت بھی پورے طور پر موجود ہے۔ یہ چوتھی قسم۔ اسی کی دوسری مثال ذکر کر رہے ہیں "و سقوط حرمة الخمر والميتة" اور مردار اور شراب کی حرمت کا ساقط ہو جانا "في حق المضطر والمكره" مجبور اور مکروہ کے حق میں جس پر زبردستی کی گئی ہے، مجبور اور وہ شخص جس پر زبردستی کی گئی ہے ان کے حق میں مردار اور شراب کی حرمت کا ساقط ہو جانا۔ "فإن حرمتها لم تبق وقت الاضطرار والإكراه أصلا" اسی کیونکہ ان کی حرمت جو ہے اضطرار، مجبوری کے وقت اور اکراہ یعنی زبردستی کے وقت باقی ہی نہیں رہی اصلاً، سرے سے۔ "وإن بقيت في حق غيرهما" اگرچہ باقیوں کے حق میں ان کی حرمت اب بھی باقی ہے، جو مجبور نہیں، جس پر اکراہ نہیں ان کے لیے اب بھی حرمت باقی ہے۔ البتہ جو مجبور ہے یا جس پر اکراہ ہے ان کے حق میں حرمت والا حکم ہی ختم ہوا بھئی۔ "لقوله تعالى" اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے ﴿وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ﴾ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے واضح کر دیا تمہارے لیے وہ جو تم پر حرام کیا ہے، مگر وہ چیز جس کی طرف تم مجبور کر دیے جاؤ، مجبور ہو جاؤ۔ "فإن قوله" پس اللہ تعالیٰ کا یہ جو قول ہے ﴿إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ﴾ مگر وہ جس کی طرف تم مجبور ہو جاؤ "استثناء من قوله ما حرم عليكم" یہ استثناء ہے اللہ تعالیٰ کے قول "ما حرم عليكم" سے۔ "فكأنه قيل" گویا کہ یوں فرمایا گیا "وقد فصل لكم ما حرم عليكم" اور تحقیق اللہ نے واضح کر دیا تمہارے لیے وہ جو تم پر حرام کیا ہے "في جميع الأحوال" تمام احوال کے اندر "إلا حال الضرورة" مگر ضرورت کی حالت میں। "فإن لم يأكل الميتة أو لم يشرب الخمر حينئذ ومات يموت آثما" پس اگر اس نے نہ کھایا مردار کو یا شراب نہ پی اس وقت اور مر گیا تو گناہگار ہو کر مرے گا بھئی۔ بھئی استثناء کیا گیا، وہ اللہ وہ چیزیں جو اللہ نے تم پر حرام کی ہیں، مگر وہ جن کی طرف تم مجبور کر دیے جاؤ۔ معلوم ہوا وہ حرام رہی نہیں بلکہ اکراہ کے وقت اور مجبوری کے وقت وہ کیا بن گئیں؟ حرمت سے نکالا جا رہا ہے۔ ایک طرف حرمت ہے تو دوسری طرف یقینی بات ہے کون سا حکم ہے؟ حلت والا حکم ہے، تو جب حرمت سے نکال دیا گیا استثناء کر دیا گیا تو کس میں داخل ہو گئیں چیزیں؟ حلت میں داخل، معلوم ہوا وہ حلال ہو گئیں۔ اب مجبوری کے وقت اور اکراہ کے وقت وہ شراب یا وہ مردار وہ حرام رہے ہی نہیں بلکہ کیا بن گئے؟ حلال بن گئے اور پھر اس کے باوجود یہ ان چیزوں کو نہیں کھاتا اور مر جاتا ہے، تو پھر تو وہ حلال چیز کے کھانے سے رکا، بلا وجہ اپنے نفس کو اس نے ہلاکت میں ڈال دیا تو یہ کیا ہوگا؟ گناہگار ہوگا بھئی۔ "بخلاف الإكراه على كلمة الكفر" بخلاف زبردستی جو کرنا ہے کلمہ کفر پر "فإنه وإن ذكر فيه الاستثناء" اگرچہ اس کے اندر بھی استثناء ذکر کیا گیا ہے "بقوله" اللہ تعالیٰ کے اس قول کے ساتھ ﴿إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ﴾ مگر وہ جس پر زبردستی کی گئی اور اس کا دل مطمئن تھا ایمان کے ساتھ۔ بھئی یہاں پر بھی تو استثناء آیا اسی طرح، قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ﴿مَن كَفَرَ بِاللَّهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ﴾ جس نے کفر کیا اللہ کے ساتھ اس پر ایمان لانے کے بعد، مگر وہ جس پر کو مجبور کیا گیا، جس پر زبردستی کی گئی اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن تھا بھئی۔ تو یہاں بھی تو استثناء کیا گیا! تو جیسے بھئی پچھلی مثال میں حرمت سے حرمت سے استثناء کیا گیا تھا، تو حرمت سے استثناء کیا ثابت کرتا ہے؟ حلت کو، تو یہاں پر بھی اس آیت کے اندر بھی کفر باللہ جو ہے وہ حرام ہے لیکن اس سے استثناء کیا گیا، تو کفر باللہ کو کیا ہونا چاہیے؟ حلال ہونا چاہیے مجبوری کے وقت، مجبوری۔ لیکن بتلائیں گے آپ کو کہ نہیں بھئی، یہ وہ ماقبل "من كفر بالله" سے جو ہے، یہ استثناء نہیں، حرمت سے یہ استثناء نہیں ہے، بلکہ یہ غضب اور عذاب سے استثناء ہے۔ کس سے؟ غضب اور عذاب سے استثناء ہے کہ جس نے کفر کیا اللہ کے ساتھ ایمان لانے کے بعد، ان پر اللہ کا غضب ہوگا اور ان پر اللہ کی ان پر اللہ کا عذاب ہوگا، مگر وہ جن کو مجبور کیا گیا۔ ان پر اللہ کا غضب نہیں ہوگا اور اللہ کا عذاب نہیں معلوم ہوا حرمت کے حکم سے ان کو نہیں نکالا، صرف سزا کے حکم سے نکالا ہے کہ سزا ان کو نہیں ملے گی، حرمت والا حکم اب بھی باقی ہے، وہ چیزیں حرام ہیں، البتہ اگر یہ رک جاتا ہے، اپنی جان دے دیتا ہے تو اس صورت میں عظیم اجر ملے گا، لیکن اگر کر لیتا ہے، مجبوری ہے، دوسرا اس کو قتل کرنے والا ہے، تو اس صورت میں اللہ کی طرف سے آخرت میں اس پر غضب بھی نہیں ہوگا اور عذاب بھی نہیں ہوگا۔ فرق سمجھ میں آیا دونوں کے اندر بھئی؟ تو کہتے ہیں "بخلاف الإكراه على كلمة الكفر" بخلاف کلمہ کفر پر اکراہ کے "فإنه وإن ذكر فيه الاستثناء أيضا" اگرچہ اس کے اندر بھی استثناء کو ذکر کیا گیا ہے "بقوله" اللہ تعالیٰ کے اس قول کے ساتھ ﴿إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ﴾ مگر وہ جس کو مجبور کیا گیا اور اس کا دل مطمئن تھا ایمان کے ساتھ "ولكنه ليس استثناء من الحرمة" لیکن یہ حرمت سے استثناء نہیں ہے "بل من الغضب أو العذاب" بلکہ یہ غضب یا عذاب سے استثناء ہے "إذ التقدير" اس لیے تقدیرِ کلام یوں ہے "من كفر بالله من بعد إيمانه" جس نے کفر کیا اللہ کے ساتھ اس پر ایمان لانے کے بعد "فعليهم غضب من الله ولهم عذاب عظيم" تو ان پر اللہ کا غضب ہے، ہوگا "ولهم عذاب عظيم" اور ان کے لیے سخت ان کے لیے بڑا عذاب ہوگا ﴿إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ﴾ مگر وہ جس پر زبردستی کی گئی اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن تھا۔ "وفي رواية عن أبي يوسف والشافعي رحمهما الله تعالى" اور امام ابو یوسف اور امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ سے روایت میں یہ ہے "أنه لا تسقط الحرمة" کہ یہاں بھی حرمت ساقط نہیں ہوگی۔ ہم نے تو کہا بھئی، اوپر جو پہلی مسئلہ جو ذکر ہوا ﴿وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ﴾ کہ یہ حرمت سے استثناء ہے، جب حرمت سے استثناء ہوا تو حالتِ مجبوری میں، حالتِ اکراہ کے اندر شراب اور مردار حرام رہے ہی نہیں کیونکہ ان کا استثناء کر دیا گیا مجبوری کی حالت میں، وہ کیا بن جائیں گے؟ حلال بن جائیں گے۔ امام ابو یوسف اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ حرمت سے استثناء نہیں ہے۔ ان کی حرمت ابھی بھی ساقط نہیں، یہ ابھی بھی حرام ہیں۔ ہاں! البتہ ان پر اللہ آخرت میں مؤاخذہ نہیں فرمائیں گے جیسے کفر باللہ پر اکراہ کی حالت میں آخرت میں مؤاخذہ نہیں ہوگا، آخرت میں گرفت نہیں ہوگی، اسی طرح ان پر بھی آخرت میں گرفت یعنی یہ ابھی بھی حرام ہیں ان کے نزدیک، مجبوری کی حالت میں بھی حرام ہیں اور جب حرام ہیں، تو اگر یہ شخص ان کے کھانے سے رکا رہا، اپنی جان دے دی تو اس کو ثواب ملے گا۔ وہ فرماتے ہیں بھئی، امام ابو یوسف اور امام شافعی رحمہما اللہ، اس کو ثواب ملے گا۔ لیکن اگر اس نے کھا لیا تو گنجائش دے دی گئی، کھا سکتا ہے اور اس پر آخرت میں مؤاخذہ نہیں ہوگا، تو ان کے نزدیک یہ یہ وہ پہلی قسم ہی میں سے ہوا بھئی، کس میں سے ہوا؟ پہلی قسم، اکراہ جو وہ جو اکراہ فی الکفر والی صورت تھی بھئی کہ کلمہ کفر زبان سے کہو وہ پہلی قسم تھی رخصت کی، جس میں اس پر عمل کرنے والے کو رخصت ہے لیکن اگر اسی پر جما رہا اور جان دے دی تو ثواب ملے گا۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح اگر شراب پینے سے اور مردار کھانے سے رکا رہا یہاں تک کہ جان دے دی اپنی تو یہ بھی کس میں داخل ہے؟ پہلی قسم میں، اس کو بھی ثواب ملے گا کیونکہ یہ حلال ابھی بھی نہیں ہوئی، یہ حرمت سے استثناء نہیں ہے، حرمت سے استثناء نہیں ہے، یہ ان کی حرمت ابھی بھی ہے، صرف اسی پہلی قسم کی طرح اللہ فرما رہے ہیں کہ ان پر اللہ آخرت میں مؤاخذہ نہیں فرمائیں گے بھئی۔ اور تو کہتے ہیں امام ابو یوسف، امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت ہے "أنه لا تسقط الحرمة" کہ ان کی حرمت ساقط نہیں ہوگی "ولكن لا يؤاخذ بها كما في الإكراه على الكفر" لیکن ان پر مؤاخذہ نہیں ہوگا جیسے اکراہ علی الکفر کے اندر تھا "فهو من قبيل القسم الأول" تو یہ بھی پہلی قسم میں سے ہی ہے، پہلی قسم کے قبیل میں سے ہے "لقوله تعالى" اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے ﴿فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ کہتے ہیں اللہ کے اس قول کی وجہ سے، اللہ کیا فرماتے ہیں: پس جو کوئی مجبور ہو گیا "غير باغ" اس حال میں کہ وہ سرکشی کرنے والا نہ ہو "ولا عاد" اور اس حال میں کہ وہ حد سے تجاوز کرنے والا نہ ہو "فلا إثم عليه" تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے "إن الله غفور رحيم" بے شک اللہ بخشنے والے، رحم کرنے والے ہیں۔ دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں "دل إطلاق المغفرة على قيام الحرمة" مغفرت کے اطلاق نے دلالت کر دی حرمت کے قیام پر۔ اللہ فرما رہے ہیں ﴿إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ بے شک اللہ بخشنے والے ہیں، معلوم ہوا یہ ابھی بھی حرام ہے، گناہ کا کام ہے، لیکن اللہ کیا فرما دیں گے اس کو؟ بخش دیں گے، معاف فرما دیں گے، تو یہ جو مغفرت کا اطلاق کیا گیا اس نے دلالت کر دی کہ حرمت ابھی بھی قائم ہے، موجود ہے۔ "والجواب" ہم جواب دیتے ہیں "أن إطلاق المغفرة باعتبار أن الاضطرار المرخص للتناول يكون بالاجتهاد" جواب دے رہے ہیں بھئی کہ بھئی یہ جو اللہ فرما رہے ہیں کہ بے شک اللہ بخشنے والے ہیں، اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ ابھی بھی حرام ہیں۔ یہ اس وجہ سے، کیونکہ شدید بھوک کی حالت میں مردار اور شراب کیا ہو جاتے ہیں ہمارے نزدیک؟ حلال ہو جاتے ہیں کیونکہ اب اسے یقین ہے کہ اگر میں نے نہ کھایا تو میں مر جاؤں گا۔ تو اب یہ 'میں نے نہ کھایا تو میں مر جاؤں گا' یہ ایک اجتہادی چیز ہے۔ وہ آدمی کا اپنا ذہن اس کو کیا کہہ رہا ہے؟ کہ اگر نہ کھایا تو تم مر جاؤ گے، ہو سکتا ہے ابھی پھر بھی یہ کچھ زندہ رہے لیکن اس کا خیال کیا ہے؟ شاید میں مر جاؤں گا اگر اب میں نے نہ کھایا حالانکہ ضروری تو نہیں! تو یہ تو ایک اجتہادی چیز ہے، رائے کی بات ہے، اس کا ذہن اسے کہہ رہا ہے تو ہو سکتا ہے اس میں اس سے غلطی ہو جائے! ابھی وہ پھر بھی کافی وقت گزار سکتا تھا لیکن اس کا خیال تھا اب اگر میں نے نہ کھایا تو میں، تو لہٰذا اس اجتہاد کے اندر غلطی کا بھی امکان ہے بھئی، چنانچہ اسی وجہ سے اللہ فرما رہے ہیں کہ اللہ بخشنے والے ہیں، اللہ کیا فرما دیں گے؟ اللہ بخش دیں گے بھئی، جواب سمجھ میں آیا؟ یہ پہلا جواب ہوا بھئی۔ "والجواب" جواب یہ "أن إطلاق المغفرة" کہ مغفرت کا اطلاق جو ہے "باعتبار أن الاضطرار المرخص للتناول" اس اعتبار سے ہے کہ وہ مجبوری وہ اضطرار، وہ مجبوری "المرخص" جس کی رخصت دی گئی ہے "للتناول" کھانے کے لیے "يكون بالاجتهاد" یہ کس کے ذریعے ہوگی بھئی؟ وہ اجتہاد کے ذریعے ہوگی بھئی، وہ مجبوری کا پتہ اجتہاد سے چلے گا، اس آدمی کی اپنی رائے سے، یہ پہلا جواب ہوا۔ دوسرا جواب: "وعسى أن يقع التناول زائداً على قدر الحاجة" بھئی یاد رکھیے مجبوری کی حالت میں مردار اور شراب حلال، لیکن اس میں بھی صرف اتنی مقدار حلال ہے جو جس سے اس کی جان بچ جائے۔ اس سے زائد کھانے کی اجازت نہیں۔ اور شدید بھوک کی حالت میں اتنی رعایت رکھنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے انسان کے لیے بھئی کہ کتنا میں کھاؤں گا بس یہ کافی ہے میرے بچ جانے کے لیے، اس سے زائد نہیں، تو اس میں بھی کیا ہے؟ رعایت رکھنا بڑا مشکل کام ہے، تو اس وجہ سے اللہ نے فرمایا کہ اللہ بخشنے والے ہیں، رحم کرنے والے ہیں بھئی، جواب سمجھ میں آ گیا دوسرا؟ "وعسى أن يقع التناول زائداً على قدر الحاجة" اور واقع ہو جائے تناول جو کھانا ہے وہ زائد ہو جائے حاجت کی حاجت کی مقدار سے "لأن من ابتلي بهذه المخمصة" اس لیے کیونکہ جو شخص مبتلا کیا گیا اس قدر بھوک میں "تعسر عليه رعایت قدر الحاجة" تو مشکل ہوتی ہے اس پر حاجت کی مقدار کی رعایت رکھنا "وفائدة الخلاف تظهر فيما إذا حلف لا يأكل حراما" اور اختلاف کا فائدہ ظاہر ہوگا اس صورت میں "إذا حلف" جب کسی شخص نے قسم اٹھائی "لا يأكل حراما" کہ وہ حرام نہیں کھائے گا۔ ایک آدمی نے قسم اٹھا لی کہ واللہ میں حرام چیز نہیں کھاؤں گا "فشرب خمراً حال الاضطرار" اب بھئی اس نے مجبوری کی حالت میں شراب پی لی، تو ہمارے نزدیک حانث ہوا یا نہیں؟ جی؟ ہمارے نزدیک شراب حلال ہو چکی، حرام رہی نہیں، تو اس نے حرام تو پھر بھی نہیں کھایا بھئی، حرام نہیں پیا، لہٰذا حانث نہیں ہوا، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وہ حرام تھی تو وہ حانث ہو جائے گا، حرام چیز اس نے کھائی بھئی، فرق سمجھ میں آ گیا بھئی؟ "فشرب خمراً حال الاضطرار" تو اس نے شراب پی لی اضطرار کی حالت میں "فعندهما يحنث" تو صاحبین کے نزدیک حانث ہو جائے گا "وعندنا لا" اور ہمارے نزدیک نہیں "و سقوط غسل الرجل في مدة المسح" اور پاؤں دھونے کا ساقط ہونا مدتِ مسح میں۔ بھئی دیکھیے شریعت کا حکم ہے کہ موزے پہننے والا جو ہے وہ ان پر مسح کر سکتا ہے، مسح کر لے اور مدتِ مسح مقیم کے لیے ایک دن رات ہے تو مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں۔ تو یہ جو پاؤں دھونے کا سقوط ہوا یہ بھی چوتھی قسم میں سے ہے، کس میں سے ہے؟ چوتھی قسم میں سے ہے۔ کہ مدتِ مسح کے اندر پاؤں کا دھونا ساقط ہے، جیسے مدتِ سفر کے دوران سفر کے دوران جیسے وہاں پوری نماز پڑھنا ساقط ہوتا تھا، اسی طرح جب موزے پہنے ہوئے ہوں تو اس وقت پاؤں کا دھونا ساقط ہو جاتا ہے۔ "فإن استتار القدم بالخف يمنع سراية الحدث إليه" اس لیے کیونکہ چھپنا قدم کا موزے میں یہ روکتا ہے حدث کی سرایت کو اس کی طرف۔ بھئی دیکھیے! پاؤں دھوئے جاتے ہیں وضو کے اندر، اسی طرح ہاتھ، چہرہ وغیرہ اور جنابت کی حالت میں پورے بدن کو دھونا ضروری ہوتا ہے، یہ دراصل نجاستِ حکمیہ سرایت کر جاتی ہے ان اعضاء پر بھئی، کیا کر جاتی ہے سرایت؟ بھئی ظاہری نجاست تو نہیں، ظاہراً تو کوئی نجاست نہیں لگی ہوئی، کوئی گندگی وغیرہ بدن پر نہیں لگی، لیکن اللہ کی طرف سے حکم آیا کہ کیا کرو جب بے وضو ہو، نماز پڑھنے لگو تو کیا کر لو؟ وضو، معلوم ہوا بے وضو ہونے سے ان اعضاء پر کیا سرایت کر جاتی ہے؟ نجاست، لیکن نجاستِ حقیقیہ نہیں، کون سی؟ نجاستِ حکمیہ۔ هذه كلها أسباب ثم شرع بعدها في بيان المسببات على طريق اللف والنشر المرتب. ثم شرع بعدها في بيان المسببات على طريق اللف والنشر المرتب، لف ونشر مرتب کے طریقے پر۔ لف ونشر کئی دفعہ میں بتلا چکا ہوں۔ لف ونشر کس کو کہتے ہیں؟ کہ پہلے چند چیزوں کو بیان کیا جائے، دو، تین، چار یا جتنی بھی چیزیں۔ پھر ہر ایک سے متعلقہ بات کو آگے ذکر کیا جائے۔ ذکر کیا جائے۔ اور تصریح نہ کی جائے کس کا تعلق کس سے ہے، پڑھنے والا خود ہی سمجھ جاتا ہے کہ کس چیز کا تعلق کس سے۔ تو لف کے اندر بھی کچھ چیزیں ذکر ہوں گی اور انہی سے متعلقہ کچھ چیزیں پھر نشر میں ذکر ہوں گی۔ تو اگر نشر میں وہی ترتیب تھی جو لف کی تھی، یعنی جو پہلے نمبر پر لف میں تھا، نشر میں بھی پہلے نمبر پر، جو دوسرے نمبر پر لف میں تھا، نشر میں اس کا متعلق بھی دوسرے نمبر پر، اس طرح اگر ترتیب سے ہوں، تو اسے کیا کہتے ہیں؟ لف ونشر مرتب۔ اور اگر اس ترتیب پر نہ ہو، تو لف ونشر غیر مرتب۔ یہاں کس طریقے پر ذکر کریں گے وہ؟ لف ونشر مرتب کے طریقے پر۔ اوپر کچھ أسباب ذکر ہوئے، یہ کس چیز کے سبب ہیں؟ یہ تو اوپر جو ہوئے، وہ ہیں سبب۔ اور آگے ان کے مسبب ذکر ہوں گے، جس کے لیے یہ سبب ہیں بھئی۔ فقال پس فرمایا للإيمان، کس کے لیے؟ ایمان کے لیے۔ دیکھئے، صرف متن: للإيمان، والصلاة، والزكاة، والصوم، وصدقة الفطر، والحج، والعشر، والخراج، والطهارة، والمعاملات. دیکھو، یہ ان سب کے مطابق مسببات ذکر کیے، اور ترتیب سے ہیں۔ للإيمان هذا مسبب لحدوث العالم، یہ مسبب ہے کس کا؟ حدوث عالم۔ اس کا تعلق کس سے ہے؟ ایمان کا۔ اوپر جو آیا تھا: من حدوث العالم، یعنی کہ حدوث عالم۔ تو یہ وہ وہ علت ہے اور یہ اس کا معلول، یعنی یہ مسبب ہے۔ فإن الإيمان بالصانع لا يجب إلا لحدوث العالم، اس لیے کیونکہ صانع یعنی بنانے والے پر ایمان واجب نہیں ہے إلا لحدوث العالم مگر عالم کے حادث ہونے کی وجہ سے۔ إذ لو لم يكن حادثاً، اس لیے کیونکہ اگر عالم حادث نہ ہوتا، لما احتجنا إلى الصانع، تو ہم محتاج نہ ہوتے صانع کی طرف۔ بھئی، دیکھیے۔ حادث حادث وہ جس کا پہلے وجود نہ ہو اور بعد میں آیا ہو۔ اور ایک ہے قدیم، قدیم صرف اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات ہیں۔ یہ عالم حادث ہے۔ یہ اپنے وجود میں غیر کا محتاج ہے بھئی۔ تو حادث یعنی جو اپنے وجود میں غیر کا محتاج ہو۔ مثلاً یہ کتاب ہے، اس کے لیے کوئی بنانے والا چاہیے۔ تو اگر اس کے لیے بنانے والا خود حادث ہے، تو اس کے لیے پھر کوئی بنانے والا چاہیے۔ اس کا بنانے والا بھی کوئی حادث ہوا، تو حادث تو کیا ہوتا ہے؟ جو غیر کا محتاج ہوتا ہے، اس کے لیے بھی کوئی بنانے والا چاہیے ہوگا۔ اگر اس سے بنانے والا بھی کوئی حادث ہے، تو اس کے لیے بھی کوئی بنانے والا چاہیے ہوگا۔ تو یہ سلسلہ چلتا ہی چلا جائے گا بھئی، اور کہیں بھی نہیں رکے گا، اور اس کو تسلسل کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ اور تسلسل باطل ہے بھئی۔ تسلسل باطل ہے۔ تو انسان مجبور ہوا، مناطقہ جو مسلمان نہیں تھے بھئی، یونان سے آیا، وہ بھی بنانے والی ذات کو تسلیم کرتے تھے۔ کیوں؟ کیونکہ تسلسل لازم آتا تھا۔ تو لازمی طور پر ماننا پڑے گا کہ اس حادث چیزوں کو بنانے والی کوئی ایسی ذات ہو جو خود کسی کے محتاج نہ ہو، جو خود بخود پہلے سے ہو۔ ورنہ ہر حادث کے لیے بنانے والا کون چاہیے؟ حادث۔ اس کے لیے پھر کون چاہیے؟ حادث۔ یہ تو سلسلہ کہیں رکے گا ہی نہیں۔ تو مجبور ہو گئے مناطقہ بھی کہ کیا حادث کے لیے کیا چاہیے؟ کوئی ایسی ذات چاہیے جو خود بخود ہو، جو اپنے وجود میں غیر کی محتاج نہ ہو۔ چنانچہ اس کے لیے پھر انہوں نے تسلیم کیا: واجب الوجود ہے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ جو حدوث عالم ہے، اگر یہ حادث نہ ہوتا، تو ہم محتاج نہ ہوتے کس کی طرف؟ صانع۔ تو اب عالم حادث ہے، اب مجبوراً کیا کرنا پڑے گا انسان کو؟ ماننا ہی پڑے گا کہ کوئی نہ کوئی ذات اس کو بنانے والی ہے، اور وہ اپنے وجود میں کسی کی محتاج نہیں، اس کا ہونا واجب ہے اور وہ خود بخود ہے، اور وہی ان تمام چیزوں کو وجود دینے والی ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہ معنی: فإن الإيمان بالصانع لا يجب إلا لحدوث العالم، اس لیے کیونکہ صانع پر ایمان یہ واجب نہیں ہے مگر عالم کے حادث ہونے کی وجہ سے۔ إذ لو لم يكن حادثاً لما احتجنا إلى الصانع، اس لیے کیونکہ اگر یہ عالم حادث نہ ہوتا، تو ہم محتاج نہ ہوتے صانع کے۔ كما قال الأعرابي، جیسے کہ ایک دیہاتی نے کہا بھئی: البَعرَةُ تَدُلُّ عَلَى البَعِيرِ، مینگنی دلالت کرتی ہے اونٹ پر۔ مینگنی کس پر دلالت کرتی ہے؟ بھئی، کہیں پر مینگنیاں پڑی ہوں، تو یہ بتلاتی ہے کہ یہاں سے کوئی اونٹ گزرا ہے۔ سمجھ میں آئی بات؟ اونٹ گزرا ہے۔ وآثَارُ القَدَمِ عَلَى المَسِيرِ، اور قدموں کے نشانات دلالت کرتے ہیں على المسير، چلنے پر، کہ یہاں سے کوئی گزرا ہے، تبھی قدموں کے نشان ہیں۔ فَسَمَاءٌ ذَاتُ أَبْرَاجٍ، پس برجوں والا آسمان، وَأَرْضٌ ذَاتُ فِجَاجٍ، اور فجاج کہتے ہیں کشادہ راستے بھئی، فج کی جمع ہے اور کشادہ راستے۔ فَسَمَاءٌ ذَاتُ أَبْرَاجٍ، پس برجوں والا آسمان، وَأَرْضٌ ذَاتُ فِجَاجٍ، اور وسیع راستوں والی زمین، كَيْفَ لا تَدُلُّ عَلَى اللَّطِيفِ الخَبِيرِ، یہ کیسے دلالت نہیں کرتی لطیف و خبیر پر، وہ ذات جو لطیف ہے اور خبیر ہے بھئی۔ دیہاتی سے پوچھا گیا بھئی کہ اللہ کی ذات پر کوئی دلیل ہے؟ کیا دلیل ہے؟ عجیب بھئی! عرب کے لوگ بھئی! کہتے ہیں: البعرۃ تدل علی البعیر، مینگنی دلالت کرتی ہے اونٹ پر کہ یہ خود بخود مینگنی نہیں، یقیناً یہاں سے کوئی کیا گزرا ہے؟ اونٹ گزرا ہے۔ قدموں کے نشانات پڑے ہوں، تو انسان سمجھ جاتا ہے، یہ خود بخود نہیں پڑے، یہاں سے کوئی گزرا ہے۔ تو پھر یہ آسمان جو برجوں والا ہے اور یہ زمین جو کشادہ راستوں والی ہے، یہ کیسے دلالت نہیں کرتی اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھئی؟ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اچھا، بھئی برجوں کا ذکر آیا، برج۔ بھئی، برج آسمان کے اندر حصے بنائے ہوئے ہیں اہل ہیئت نے، بارہ حصے بھئی۔ بارہ حصے۔ بھئی، اس کو سمجھنے کے لیے اگر آپ کے پاس گھڑی ہو بھئی، یہ سوئیوں والی گھڑی، ذرا اس کو اپنے سامنے رکھیں، میں آپ کو سمجھاؤں بھئی، بارہ برج کس طرح ہیں۔ سوئیوں والی گھڑی اپنے سامنے رکھیں، تو آپ کو سمجھ میں آئے گا۔ بھئی، دیکھیے! قدیم ہیئت والے تو کہتے تھے، زمین ساکن ہے، سورج اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ اور سورج اس کے گرد گھوم رہا ہے، لیکن جدید ہیئت بتلاتی ہے کہ نہیں، سورج کے گرد زمین گھوم رہی ہے۔ سورج بھی ساکن نہیں ہے، لیکن زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے، نہ یہ کہ سورج کس کے گرد گھوم رہا ہے؟ زمین۔ اب دیکھیے بھئی! یہ جو مرکز جہاں پر سوئیاں گھوم رہی ہیں گھڑی کی، اس کو سمجھیں سورج ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ سورج ہے جہاں پر سوئیاں لگی ہوئی ہیں۔ اور یہ جو گھنٹے والی سوئی ہے چھوٹی سوئی، اس کی جو نوک ہے، یہ سمجھیں یہ زمین ہے۔ یہ اب سورج کے گرد گھوم رہی ہے بھئی۔ اور کتنے گھنٹے میں چکر پورا کرتی ہے؟ بارہ... بھئی، یہ گھڑی کی سوئی کی بات کر رہا ہوں۔ مرکز کو کیا آپ سمجھیں؟ سورج ہے۔ اور یہ گھنٹے والی سوئی کی نوک کو کیا سمجھیں؟ زمین۔ یہ زمین ہے بھئی۔ یہ زمین یہ سوئی گھوم رہی ہے نہ چھوٹی، بارہ گھنٹے میں ایک چکر پورا کرتی ہے، تو یہ بارہ گھنٹے کو سال فرض کریں۔ گویا زمین سال کے اندر پورا سورج کے گرد ایک چکر پورا کر کے عین اس مقام پر پہنچ جاتی ہے جہاں ایک سال پہلے تھی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھو، یہ جو گھنٹے والی سوئی چل رہی ہے، مثلاً بارہ سے چلنا شروع ہوئی، بارہ سے لے... تو یہ بارہ گھنٹے انہوں نے بنائے، بارہ گھنٹے۔ یہ ایک چکر میں کتنے گھنٹے بنائے؟ بارہ گھنٹے انہوں نے بنائے، تو اسی طرح، یہ مثلاً بارہ سے لے کر ایک تک، یہ ایک حصہ ہے۔ ایک سے لے کر دو تک، یہ دوسرا حصہ ہے۔ دو سے لے کر تین تک، یہ تیسرا حصہ ہے۔ تین سے لے کر چار تک، یہ چوتھا حصہ ہے۔ اس طرح بارہ حصے ہیں۔ تو دیکھو یہ جو گھنٹے والی سوئی ہے، یہ ایک گھنٹہ کہاں گزارے گی؟ بارہ سے ایک کے درمیان۔ پھر اگلے گھنٹہ کہاں سے کہاں گزارے گی؟ ایک سے دو کے درمیان۔ اسی طرح زمین بھی جب سورج کے گرد گھومتی ہے، تو بارہ برجوں کے اندر ایک ماہ ایک برج میں یا اور... پھر دوسرے برج میں، پھر تیسرے... جو حصہ آسمان کا اس کے سامنے ہوگا، اس کو کیا کہہ دیتے ہیں وہ؟ برج کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ برج کہتے ہیں، یہ فلاں برج میں ہے اس وقت زمین، پھر اگلے برج میں چلی جائے گی، پھر اگلے برج میں چلی جائے گی۔ تو یہ سال کے اندر یہ بارہ برج میں سے گزرتی ہوئی پھر وہیں پہنچ جاتی ہے جہاں سے چلی تھی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ فَسَمَاءٌ ذَاتُ أَبْرَاجٍ وَأَرْضٌ ذَاتُ فِجَاجٍ كَيْفَ لا تَدُلُّ عَلَى اللَّطِيفِ الخَبِيرِ، پس وہ آسمان جو برجوں والا ہے اور وہ زمین جو کشادہ راستوں والی ہے، كيف لا تدل على اللطيف الخبير، وہ کیسے دلالت نہیں کرے گی لطیف و خبیر ذات پر؟ والصلاة، هذا متعلق بالوقت، یہ متعلق ہے وقت کے ساتھ۔ اوپر کیا آیا تھا متن میں بھئی؟ من حدوث العالم والوقت. تو یہ صلاۃ مسبب ہے اور وقت اس کا سبب ہے۔ فإن الوقت سبب وجوب الصلاة بإيجاب الله تعالى في هذا الوقت، پس وقت جو ہے وہ سبب ہے نماز کے واجب ہونے کا اللہ کے واجب کر دینے کی وجہ سے اس وقت میں۔ والإيجاب غيب عنا، اور ایجاب تو ہم سے غائب ہے، اللہ نے حکم دیا، اللہ نے واجب کیا، لیکن یہ واجب کرنا ہم سے پوشیدہ ہے، وہ تو ہمیں معلوم نہیں بھئی۔ فأقيم الوقت مقامه، تو وقت کو اس کے قائم مقام کر دیا گیا۔ والزكاة، بھئی اوپر کیا آیا تھا؟ وملك المال. تو یہ والزكاة هذا ناظر إلى ملك المال، یہ دیکھتے ہوئے ہے ملک مال کی طرف۔ یعنی وہ ملک مال سبب ہے اور زکوٰۃ مسبب۔ فإن المال النامي الحولي الذي هو زائد على قدر الحاجة سبب وجوبها، اس لیے کیونکہ وہ مال النامي جو بڑھنے والا ہے، الحولي جس پر سال گزر چکا ہے، الذي هو زائد على قدر الحاجة وہ جو زائد ہے حاجت کی مقدار سے، سبب وجوبها وہ اس زکوٰۃ کے وجوب کا سبب ہے۔ والصوم، آگے پیچھے کیا تھا متن میں؟ وأيام شهر رمضان. تو کہتے ہیں: والصوم هذا متعلق بأيام شهر رمضان، یہ متعلق ہے شہر رمضان کے ایام سے۔ فإن وجوب الصوم بسبب شهر رمضان، اس لیے کیونکہ روزے کا جو وجوب ہے وہ رمضان کے مہینے کے سبب سے ہے، بدليل إضافته إليه، اس کی طرف اضافت کی دلیل کی وجہ سے۔ کیا کہا جاتا ہے؟ صوم رمضان، روزے کی اضافت کس کی طرف کی جاتی ہے؟ رمضان۔ یہ اضافت دلیل ہے کہ یہ سبب ہے اس کے لیے۔ وتقرره بتقرره، اور ان روزوں کا تقرر ہوتا ہے رمضان کے تقرر سے، جوں جوں... جب جب رمضان آئے گا، تب تب روزے واجب ہوتے جائیں گے۔ لیکن الله تعالى أخرج الليالي عن محلية الصوم، لیکن اللہ تعالیٰ نے نکال دیا راتوں کو روزے کا محل ہونے سے، فتعين لها النهار، تو اس کے لیے کیا متعین ہو گئے؟ دن متعین ہو گئے بھئی۔ اسی لیے أيام شهر رمضان کہا، شہر رمضان کے ایام، دن جو ہیں وہ سبب ہیں روزوں کا۔ وصدقة الفطر، اس کا تعلق کس سے ہے بھئی؟ پیچھے کیا آیا تھا؟ والرأس الذي يمونه ويلي عليه. کہتے ہیں: هذا ناظر إلى الرأس الذي يمونه ويلي عليه، یہ دیکھتے ہوئے ہے اس راس کی طرف جس کا وہ خرچہ اٹھاتا ہے اور اس پر اس پر ذمہ دار ہے، اس کا اس پر اسے ولایت حاصل ہے۔ فإنه سبب لوجوب هذه الصدقة، اس لیے کیونکہ وہ راس جو ہے وہ سبب ہے اس صدقے کے واجب ہونے کا۔ والأصل في ذلك هو رأسه، اور اصل اس کے اندر اس کا اپنا راس ہے۔ صدقہ دینے والے کا اپنا راس ہے، فإنه يمونه ويلي عليه، اس لیے کیونکہ یہ اس کا خرچہ اٹھاتا ہے اور اس پر ذمہ دار ہے۔ بھئی اپنی ذات، اپنی ذات کا خرچہ خود... خود اٹھاتا ہے نہ انسان، تو اپنی ذات کا یہ خود خرچہ بھی اٹھاتا ہے اور اپنی ذات پر یہ ذمہ دار بھی ہے، اسی کو ولایت بھی حاصل ہے۔ تو اصل میں تو یہ ہے۔ ثم أولاده الصغار، پھر اس کے بعد اس کے نابالغ اولاد ہے، وعبيده اور اس کے غلام ہیں، فإنه يمونهم ويلي عليهم، اس لیے کیونکہ یہ ان کا خرچہ بھی اٹھاتا ہے اور ان پر ذمہ دار بھی ہے، ان پر ولایت بھی اس کو حاصل ہے۔ بخلاف الزوجة والأولاد الكبار، بخلاف بیوی کے اور بالغ اولاد کے، فإنهم لا يلي عليهم، اس کو ان پر ولایت حاصل نہیں۔ تو لہٰذا ان کا صدقہ فطر بھی اس پر واجب نہیں بھئی، ان کو خود دینا پڑے گا اپنا بھئی۔ والحج، هذا ناظر إلى البيت، اور حج یہ بیت اللہ کی طرف دیکھتے ہوئے بھئی، یعنی یہ اس کا مسبب ہے۔ فإنه سبب وجوب الحج، اس لیے کیونکہ بیت اللہ جو ہے وہ وجوب حج کا سبب ہے۔ ولهذا لم يتكرر في العمر، اسی وجہ سے حج مقرر نہیں ہوتا عمر میں۔ بھئی حج ایک ہی فرض ہوتا ہے انسان پر یا زیادہ فرض ہیں؟ ایک۔ ایک ہی حج فرض ہے، کیوں... کیوں ایک فرض ہے؟ کیونکہ اس کا سبب بیت اللہ وہ بھی ایک ہی ہے بھئی۔ لأن البيت واحد، اس لیے کیونکہ بیت اللہ جو ہے ایک ہی ہے، والوقت شرطه وظرفه، اور وقت اس کے لیے شرط ہے اور اس کے لیے ظرف ہے بھئی، وہ وقت ہوگا تو حج ہوگا، وہ سال کے مخصوص ایام، ہر وقت نہیں ہو سکتا۔ والعشر، هذا ناظر إلى الأرض النامية بالخارج تحقيقاً، یہ دیکھتے ہوئے ہے الأرض النامية بالخارج تحقيقاً جو متن میں آیا تھا، فإنه إذا حدث الخارج من الأرض تحقيقاً يجب العشر، جب پیدا ہو جائے پیداوار یعنی حاصل ہو جائے پیداوار زمین سے تحقیقاً، تو عشر واجب ہوگا۔ وسقط، اور ساقط ہو جائے گا إذا اصطلمت الزرع آفة، جب تباہ کر دے کھیتی کو کوئی آفت۔ ويتكرر الوجوب بتكرر النماء، اور وجوب مقرر ہوگا نماء کے مقرر ہونے سے، نماء مقرر ہوگی تو وجوب بھی کیا ہوگا؟ مقرر ہوگا۔ بھئی جتنی دفعہ فصل پیدا ہوگی، جتنی دفعہ پیداوار حاصل ہوگی، کیا کرنا پڑے گا؟ عشر دینا پڑے گا اس میں سے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھیے، انہوں نے متن میں کہا تھا کہ وہ زمین النامية بالخارج جو بڑھنے والی ہے کس کی وجہ سے؟ پیداوار کی وجہ سے تحقیقاً أو تقديراتً، تحقیقاً یا... تو تحقیقاً کا تعلق یہ عشر سے ہے، حقیقۃً پیداوار ہوگی تو عشر ہوگا، پیداوار نہیں تو عشر بھی نہیں۔ جبکہ خراج جو ہے خراج، اس میں حقیقۃً پیداوار ہونا ضروری نہیں۔ اس سے تعلق ہے یہ تقديراتً کا، یعنی خراج آئے گا اگر انسان کی زمین ہے خراجی اور وہ کھیتی وغیرہ اسباب پر قادر تھا، پھر بھی اس نے کاشت نہیں کیا زمین کو، پھر بھی اس سے خراج لیا جائے گا، کیونکہ تقديراتً وہ قادر تھا یا نہیں بھئی؟ قادر تو تھا۔ جبکہ عشر میں تقديراتً قادر ہونا ضروری نہیں بلکہ حقیقۃً کیا حاصل ہونی چاہیے؟ پیداوار حاصل، لہٰذا عشر میں اگر زمین کو خود بیکار چھوڑ دیا تو عشر بھی نہیں، ہاں پیداوار ہوگی تو کیا ہوگا؟ عشر۔ جبکہ خراج کے اندر ایسا نہیں ہے بھئی۔ والخراج، هذا ناظر إلى قوله أو تقديراتً، یہ دیکھتے ہوئے ہے مصنف کے قول أو تقديراتً کی طرف۔ فإن الأرض النامية بالخارج تقديراتً، اس لیے کیونکہ وہ زمین جو بڑھنے والی ہے پیداوار کے ذریعے تقديراتً، تقدیری طور پر، بالتمكن من الزراعة، کس صورت میں؟ بصورت قادر ہونے کے من الزراعة، کس پر؟ زراعت پر، یعنی کاشت پر قادر ہونے کی وجہ سے، سبب للخراج، یہ کیا ہے؟ سبب ہے۔ بھئی کاشت پر وہ قادر ہے، کاشت کرے یا نہ کرے، خراج اس پر ضرور آئے گا۔ یہ سبب ہے خراج کا، سواء سواء زرعها أو عطلها برابر ہے کہ وہ اس کو کاشت کرے یا اس کو معطل چھوڑ دے۔ وهو الأليق بحال الكافر، اور یہ زیادہ لائق ہے کافر کے حال کے، المتوغل في الدنيا، توغل کا معنیٰ ہے کسی چیز میں خوب گھس جانا، حد سے آگے بڑھ جانا، پوری طرح کسی چیز میں مشغول ہو جانا، تو کافر بھی پورے طور پر کس میں مشغول ہیں؟ دنیا ہی میں مشغول ہیں، خالق کی طرف ان کی کوئی توجہ نہیں، آخرت کی طرف ان کی کوئی توجہ نہیں بھئی۔ تو یہ زیادہ لائق ہے بحال الكافر، اس کافر کے حال کے، المتوغل في الدنيا، جو دنیا میں ہمہ تن مشغول ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں پر تقدیرًا قادر ہونا ہی کافی ہے۔ والطهارة، اور طہارت هذا ناظر إلى الصلاة، یہ کس کی طرف دیکھتے ہوئے ہے بھئی؟ صلاۃ کا لفظ آیا تھا متن میں اسباب کے اندر بھئی، فإن شرعية الصلاة سبب وجوب الطهارة، اس لیے کیونکہ نماز کا مشروع ہونا یہ سبب ہے طہارت کے واجب ہونے کا، الحقيقية والحكمية، چاہے طہارتِ حقیقیہ ہو چاہے طہارتِ حکمیہ۔ بھئی طہارتِ حقیقیہ تو یہ ہے کہ واقعی آپ کے کپڑوں پر کوئی نجاست لگ گئی یا آپ کے بدن پر نجاست لگ گئی، اب اسے کیا کریں گے؟ پانی سے دھوئیں گے، وہ نجاست ختم ہو گئی تو طہارت اس جگہ پر آ گئی، وہ جگہ پاک ہو گئی۔ اور ایک طہارتِ حکمیہ ہے، وہ نجاستِ حکمیہ کے اندر ہو گی، ابھی جو میں نے بتایا بھئی بے وضو ہوا تو شریعت نے کیا حکم دیا؟ وضو کرو، ہاتھ دھو، چہرے کو دھو، سر کا مسح کرو، پاؤں دھو۔ تو دیکھو حالانکہ ان اعضاء پر کوئی نجاست حقیقۃً لگی ہے؟ نہیں۔ ہاں نجاستِ حکمیہ ان میں سرایت کر گئی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ جو نجاستِ حکمیہ نجاستِ حکمیہ کے لیے پھر کیا کیا جائے گا؟ وضو، یا یہ صغریٰ ہے طہارتِ صغریٰ، اور اگر غسل ہو تو وہ طہارتِ کبرٰی ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ طہارتِ حقیقیہ ہو اور حکمیہ ہو، اسی طرح صغریٰ اور کبرٰی۔ کما أن الوقت سبب لها، جیسے کہ وقت اس کے لیے سبب ہے۔ والمعاملات هذا ناظر إلى تعلق البقاء المقذور، یہ دیکھتے ہوئے ہے تعلقِ بقاءِ مقدور کی طرف۔ بھئی کیا معنیٰ میں نے بیان کیا تھا بھئی پیچھے متن میں؟ وتعلق البقاء المقذور بالتعاطي، وہ بقاء جو مقدر کر دی گئی اس کا تعلق کس کے ساتھ؟ معاملات کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ تو یہ جو بقائے مقدور کا تعلق معاملات کے ساتھ ہے، یہ سبب ہے یہ تعلق سبب ہے کس چیز کا؟ معاملات کا، کس کا؟ معاملات کا سبب ہے۔ فإن أنه لما حكم الله تعالى ببقاء العالم إلى يوم القيامة، اس لیے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے حکم فرما دیا عالم کی بقاء کا قیامت کے دن تک، ومعلوم، اور یہ بات معلوم ہے کہ أنه لا يبقى ما لم يكن بينهم معاملة، کہ باقی نہیں رہے گا مگر یہ جب تک کہ ان کے درمیان کیا نہ ہو؟ ایسا معاملہ نہ ہو، يتهيأ بها معاشهم، کہ جس کے ذریعے ممکن ہو، تحیاء کا معنیٰ تیار ہونا، ممکن ہونا۔ معاش کہتے ہیں گزر بسر کا سامان، جب تک نہ ہو ان کے درمیان ایسا معاملہ جس کے ذریعے ممکن ہو سکے، حاصل ہو سکے، ان کے گزر بسر کا سامان۔ بھئی اللہ نے کیا حکم فرمایا؟ یہ کب تک رہیں گے انسان اس دنیا میں؟ یہ عالم کب تک رہے گا؟ قیامت تک رہے گا، اور انسان کی اس میں بقاء کے لیے کیا ضروری؟ معاملات وغیرہ ضروری بھئی، نکاح ضروری، بیع و شراء ضروری تا کہ ضرورتیں اس کی پوری ہو سکیں اور اس کی نسل بھی چل سکے۔ تو لہذا یہ بقاء نہیں ہو گی جب تک ان کے درمیان ایسا معاملہ نہ ہو جس کے ذریعے ان کے گزر بسر کا سامان حاصل ہو، یعنی بیع والإجارة، اور اجارہ ہے، ونكاح يكون مبقيا لهذا الجنس بالتوالد، اور ایسا نکاح جو باقی رکھنے والا ہو اس جنس کو یعنی انسان کو بالتوالد باہم نسل کے بڑھنے سے۔ علمت، تو جان لیا گیا کہ أن تعلق البقاء المقذور بالتعاطي هو سبب المعاملات، کہ وہ بقائے مقدر جس کا تعلق معاملات سے ہے، وہ سبب ہے معاملات کے لیے، وشرعيتها، اور وہ سبب ہے ان معاملات کا اور ان کے مشروع ہونے کا سبب ہے۔ وهذا مختص بالإنسان، اور یہ مختص ہے، خاص ہے انسان کے ساتھ، بخلاف الحيوانات، بخلاف کس کے؟ حیوانات کے، فإنهم يبقون إلى يوم القيامة بدون معاملة ونكاح، بے شک وہ باقی رہیں گے قیامت کے دن تک بغیر کسی معاملے اور نکاح کے، لأن خلقتهم كذلك، کیونکہ ان کی پیدائش ہی اسی طرح ہے، ولا يتعلق بأفعالهم أمر أو نهي، اور ان کے افعال کے ساتھ امر اور نہی کا تعلق بھی نہیں ہے۔ وقد تم اللف والنشر المرتب بين أسباب العبادات والمعاملات ومسبباتها، اور تحقیق پورا ہو گیا وہ لف و نشر جو مرتب تھا عبادات اور معاملات کے اسباب کے درمیان اور ان کے مسببات کے درمیان، وبقيت العقوبات وشبهها، اور باقی رہ گئے عقوبات اور ان کی مثل چیزیں جو ہیں، فبینها، پس ان کو بیان کیا بقولہ، مصنف نے اپنے اس قول کے ساتھ: وأسباب العقوبات والحدود والكفارات ما نسبت إليه من قتل وزنى وسرقة وأمر دائر بين الحظر والإباحة، اور عقوبات یعنی سزاؤں کے اسباب جو ہیں اور اسی طرح حدود کے اسباب جو ہیں اور اسی طرح کفارات کے اسباب جو ہیں ما، وہ ہیں، یہ خبر ہے بھئی، وہ ہیں نسبت إليه، جن کی طرف ان کی نسبت کی جاتی ہے۔ سزا، حدود، کفارات وغیرہ کے اسباب وہ ہیں جن کی طرف ان کی نسبت کی جاتی ہے من قتل وزنى وسرقة، یعنی کہ قتل اور زنا اور چوری، وأمر دائر بين الحظر والإباحة، اور وہ امر جو دائر ہو ممانعت اور اباحت کے درمیان۔ بھئی سزاؤں کی جن چیزوں کی طرف نسبت کی جاتی ہے وہی ان کے اسباب ہیں، حدود کی جن کی طرف نسبت کی جاتی ہے، مثلاً کہتے ہیں حدِ زنا ہے، حدِ قذف ہے، حدِ سرقہ ہے، تو جن کی طرف ان کی نسبت کی جاتی ہے، اسی طرح سزائیں بھئی قصاص ہے کس کی وجہ سے آئے گا؟ قتل کی وجہ سے آئے گا، اسی طرح کفارات ہیں بھئی ان کی نسبت کی جاتی ہے کس کی طرف؟ اس چیز کی طرف دائر بين الحظر والإباحة، جو دائر ہوتی ہے ممانعت اور اباحت کے درمیان۔ کفارات کے سبب کیا چیزیں ہیں؟ وہ چیزیں جو دائر ہیں ممانعت اور اباحت کے درمیان، یعنی من وجہ وہ ممنوع ہوتی ہیں، من وجہ مباح ہوتی ہیں۔ کفارات کا سبب کیا ہیں؟ وہ چیزیں جو من وجہ ممنوع ہوتی ہیں، حظر کا معنیٰ ممنوع، من وجہ ممنوع ہوتی ہیں اور من وجہ کیا ہوتی ہیں؟ مباح ہوتی ہیں بھئی۔ بھئی دیکھیے! رمضان میں کوئی جان بوجھ کر کھا لے یا پی لے آپ کیا حکم دیتے ہیں؟ شریعت نے بتلایا کہ اس پر کفارہ آئے گا، آپ بتلاتے ہیں اس کو مسئلہ کہ بھئی تمہیں ساٹھ روزے رکھنا پڑیں گے اور ایک قضاء بھی کرنا پڑے گی۔ ساٹھ روزے تو کفارہ ہیں اور ایک جو روزہ توڑا اس کی قضاء بھی الگ سے کرنا پڑے گی۔ تو یہ ساٹھ روزے آئے، یہ کیا ہیں؟ کفارہ۔ اس کفارے کا سبب کیا ہے؟ وہ جو اس نے کھایا پیا تھا، اور وہ جو کھانا پینا تھا من وجہ مباح تھا، من وجہ ممنوع تھا۔ مباح کس طرح تھا؟ بھئی اپنی چیز کھا رہا ہے، کیا کھا رہا ہے؟ اپنا مال کھا رہا ہے، اپنا مال کھانا تو انسان کے لیے کیا ہوتا ہے؟ مباح ہوتا ہے، تو اس اعتبار سے مباح تھا کھانا، لیکن دوسرے اعتبار سے دیکھا جائے تو بھئی اس وقت تم روزے کی حالت میں ہو، اس وقت تو کھانا ٹھیک نہیں۔ تو اس اعتبار سے یہ کام ممنوع تھا، تو من وجہ وہ کام ممنوع تھا، من وجہ مباح تھا، تو یہ جو عمل تھا یہ کفارے کا سبب ہے۔ تو کفارات کا سبب کیا چیز ہوا کرتی ہے؟ وہ چیز جو من وجہ کیا ہوتی ہے؟ مباح، اور من وجہ ممنوع ہوتی ہے۔ یہ معنیٰ ہے وأمر دائر بين الحظر والإباحة، اور وہ چیز جو دائر ہو ممانعت اور اباحت کے درمیان بھئی۔ فالعقوبات أعم من الحدود، بھئی دیکھیے! پہلے آیا أسباب العقوبات، سزاؤں کے اسباب، اور اس کے بعد کیا آیا؟ حدود، تو یاد رکھیے! حدود عقوبات کے اندر بھی داخل تھیں، کس میں؟ سزائیں، حدود بھی کس میں سے ہیں؟ سزاؤں میں سے ہی ہیں نا، تو سزائیں عام ہیں کیونکہ سزائیں تو کئی قسم پر، قصاص بھی سزا ہے لیکن وہ حدود میں سے تو نہیں، اسی طرح قاضی تعزیر بھئی، تعزیر اپنی طرف سے جو قاضی سزا دیتا ہے وہ بھی تو سزائیں ہیں لیکن وہ بھی حدود کے اندر داخل نہیں بھئی، تو عقوبات کے بعد حدود کو ذکر کیا تو یہ اس کو کیا کہتے ہیں؟ تخصیص بعد التعمیم، کیا کہتے ہیں؟ تخصیص بعد التعمیم، کہ ایک چیز جو پہلے بھی داخل تھی اس کو بعد میں خاص طور پر الگ ذکر کیا جائے۔ فالعقوبات أعم من الحدود، پس عقوبات جو ہیں وہ زیادہ عام ہیں حدود سے، لأنه يشمل القصاص أيضاً، اس لیے کیونکہ وہ قصاص کو بھی شامل ہیں، والكفارة نوع آخر، اور کفارہ دوسری نوع ہے، فسبب القصاص هو القتل العمد، پس قصاص کا سبب وہ قتلِ عمد ہے، وسبب حد الزنى هو الزنى، اور حدِ زنا کا سبب زنا ہے، وسبب قطع اليد هو السرقة، اور قطعِ ید ہاتھ کاٹنے کا جو سبب ہے وہ چوری ہے، يقال حد السرقة، کیا کہا جاتا ہے؟ حدِ سرقہ، چوری، دیکھو نسبت اضافت کی جاتی ہے اس کی طرف، وسبب الكفارة هو أمر دائر بين الحظر والإباحة، اور کفارے کا سبب وہ امر ہے جو دائر ہو ممانعت اور اباحت کے درمیان، وذلك لأنها لما كانت دائرة بين العبادة والعقوبة، بھئی دیکھیے! بھئی یہ کیوں کہا آپ نے کہ کفارے کا سبب وہ چیز ہے جو من وجہ ممنوع ہو اور من وجہ مباح ہو؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ کفارہ خود بھی عقوبت اور قضاء کے درمیان دائر ہوتا ہے۔ کفارہ کیا تھا روزہ توڑنے کا؟ ساٹھ روزے مسلسل رکھنا پڑیں گے۔ اب ساٹھ روزوں کو دیکھا جائے تو من وجہ یہ عبادت ہیں اللہ کی، اور دوسری طرف دیکھا جائے تو یہ سزا بھی ہیں، تو ان دیکھو کفارے میں عبادت کا بھی پہلو ہوتا ہے اور سزا کا بھی پہلو ہوتا ہے، تو ان کا جو سبب ہے اس میں بھی دونوں پہلو ہوں گے، دو پہلو ہوں بھئی اباحت والا بھی اور ممانعت والا بھی۔ وذلك لأنها لما كانت دائرة بين العبادة والعقوبة، اس لیے کیونکہ کفارہ جب وہ خود دائر ہے عبادت اور عقوبت یعنی سزا کے درمیان، فسببها لا بد أن يكون أمراً دائراً بين الحظر والإباحة، تو پس اس کفارے کا جو سبب ہے ضروری ہوا کہ وہ بھی ایسا امر ہو جو دائر ہو ممانعت اور اباحت کے درمیان، لتكون العبادة مضافة إلى صفة الإباحة، تاکہ عبادت جو ہے اس کی نسبت کس کی طرف کی جائے؟ اباحت والی صفت کی طرف، والعقوبة مضافة إلى صفة الحظر، اور سزا کی نسبت کس کی طرف کی جائے؟ ممانعت والی صفت کی طرف۔ کالقتل خطأً، جیسے قتل کرنا غلطی سے، فإنه من حيث الصورة رمي إلى الصيد، اس لیے کیونکہ یہ صورت کے اعتبار سے رمی کا معنیٰ پھینکنا یعنی تیر پھینکنا إلى الصيد، کس کی طرف؟ شکار، تو یہ صورت کے اعتبار سے تو یہ شکار کی طرف تیر پھینکنا ہے، وهو مباح، اور یہ کیا ہے؟ مباح ہے شکار کو تیر مارنا تو، ومن حيث ترك التثبت محظور، اور اس حیثیت سے کہ اس میں تحقیق کو چھوڑنا ہے، محظور، یہ ممنوع ہے۔ بھئی دیکھیے! ایک آدمی نے ایک شکار پر تیر چلایا، وہ سمجھ رہا تھا یہ شکار ہے، لیکن قریب جا کر دیکھا تو کوئی انسان مرا پڑا تھا۔ اب دیکھا جائے تو یہ شکار پر تیر چلا رہا ہے صورت کے اعتبار سے، یہ مباح کام کر رہا ہے، کوئی حرام کام نہیں، تو یہ مباح ہوا۔ اور دوسری طرف اس پر کیا ضروری تھی؟ تحقیق ضروری تھی کہ یہ واقعی شکار ہے، کوئی انسان تو نہیں ہے، اس نے اس کو چھوڑ دیا، تو اس اعتبار سے یہ ممنوع ہوا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ومن حيث ترك التثبت، تثبت کا معنیٰ تحقیق کرنا بھئی، ومن حيث ترك التثبت محظور، اور تحقیق کو چھوڑنے کے اعتبار سے یہ ممنوع تھا، محظور أي ممنوع، یہ ممنوع تھا، لأنه قد أصاب آدمياً وأتلفه، اس لیے کیونکہ یہ تو آدمی کو جا لگا وأتلفه، اور اس کو کیا کر دیا؟ تلف کر دیا، ہلاک کر دیا، فتجب فيه الكفارة، تو اس کے اندر کفارہ واجب ہو گا۔ والإفطار عمداً في رمضان، اور جان بوجھ کر افطار کرنا رمضان میں، فإنه مباح، تو یہ مباح ہے، من حيث اتثال ما هو مملوك لمالكه، اس حیثیت سے کہ اتثال آیا اس چیز کے ساتھ جو اس مالک کی مملوک ہے، کس چیز کو کھا رہا ہے؟ اپنی مملوک چیز کو کھا رہا ہے، ومحظور، اور یہی چیز ممنوع بھی ہے، من حيث أنه جناية على الصوم، اس حیثیت سے کہ یہ تو جنایت ہے، جرم ہے روزے پر، الصوم المشروع، وہ روزہ جو مشروع ہے بھئی، فيصلح أن يكون سبباً للكفارة، تو پس یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ یہ کفارے کا سبب بنے۔ وإنما يعرف السبب، اور سبب کو جانا جائے گا۔ بھئی آگے اب ضابطہ بتلا رہے ہیں کہ ہم نے تو کچھ چیزیں آپ کو بیان کر دیں کہ یہ سبب ہیں اور دوسری چیزیں ان کے مسببات ہیں۔ اب پتہ کیسے چلے گا؟ ضابطۂ کلی بتلا رہے ہیں کہ بھئی سبب وہ ہوتا ہے کہ جس کی طرف چیز کی نسبت کی جاتی ہو، وہ اس کا کیا ہوتا ہے؟ سبب ہوتا ہے، تو یہ اسی کے لیے سبب کا پتہ چلے گا۔ کہتے ہیں وإنما يعرف السبب، پھر سبب کو جانا جائے گا، بيان كلي لمعرفة السبب، یہ ضابطے کا بیان ہے سبب کے پہچاننے کے لیے، بعد بيان تفصيله، اس کے تفصیل کے بیان، تفصیل بیان کرنے کے بعد اب ضابطے کا بیان ہے سبب کو جاننے کے لیے، لیعلم منه ما لم یعلم قبله، تاکہ جان لیا جائے اس کے ذریعے اس کو بھی جس کو پہلے سے نہیں جانا گیا، أي إنما يعرف كونه الشيء سبباً للحكم، یعنی جانا جائے گا کسی چیز کا کسی حکم کے لیے سبب ہونے کو، کس کو جانا جائے گا؟ بنسبة الحكم إليه، کس طریقہ پر؟ حکم کی اس کی طرف نسبت کے ذریعے، وتعلقه به، اور اس کے ساتھ حکم کے تعلق کی وجہ سے، فالمنسوب إليه والمتعلق به يكون سبباً للمنسوب والمتعلق البتة، پس جس کی طرف نسبت کی گئی ہے اور جس کے ساتھ اس کا تعلق ہے وہ سبب ہو گا اس منسوب کا اور اس متعلق کا قطعاً، لأن الأصل في إضافة الشيء إلى الشيء وتعلقه به أن يكون مسبباً له، اس لیے کیونکہ اصل یہ ہے کسی چیز کی کسی دوسری چیز کی طرف نسبت کرنے میں، ایک چیز کی جب دوسری چیز کی طرف نسبت اور اضافت کی جائے اور اس کے ساتھ اس کو جوڑا جائے، تو اس میں اصل یہ ہے کہ أن يكون مسبباً له، کہ یہ اسی کا مسبب ہو، وحادثاً به، اور اسی کے ذریعے پیدا ہو بھئی، كما يقال، جیسے کہا جائے: كسب فلان، فلاں کی کمائی، فلاں کی کمائی، دیکھو کمائی کی نسبت فلاں کی کر دی، معلوم ہوا وہ کیا ہے؟ وہ اس کا سبب ہے اور یہ کمائی اس کا مسبب ہے۔ وحينئذٍ يرد علينا، اور اس وقت ہم پر وارد ہوتا ہے، آگے پھر ایک اعتراض وارد ہوتا ہے، آپ نے کیا کہا؟ کہ سبب کا پتہ کس سے چلے گا؟ جب چیز کی نسبت اس کی طرف کسی چیز کی طرف کی جا رہی ہے، معلوم ہوا وہ اس کا سبب ہے، جیسے صومِ رمضان، روزے کی نسبت کس کی طرف کی گئی؟ اضافت کس کی طرف؟ رمضان کی طرف، معلوم ہوا رمضان اس کا سبب، حجِ بیت اللہ، حج کی نسبت کس کی طرف کی گئی؟ بیت اللہ، معلوم ہوا بیت اللہ اس کا سبب ہے۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی بسا اوقات شرط کی طرف بھی اضافت کر دی جاتی ہے، جیسے کہتے ہیں صدقۃ الفطر، صدقۂ فطر، حالانکہ صدقۂ فطر کا سبب ابھی پڑھا آپ نے، وہ رأس ہے، کیا ہے؟ رأس، اور فطر یعنی وہ فطر کا وقت پا لینا یعنی عید کا دن پا لینا وہ تو اس کے لیے شرط ہے، اصل سبب کون ہے؟ رأس، تو آپ تو کبھی کبھار شرط کی طرف بھی اضافت، شرط کی طرف بھی تو اضافت کر دی جاتی ہے، اور آپ نے تو ہمیں کیا بتایا؟ اضافت کے ذریعے تو سبب کا پتہ چلتا ہے، سبب کی طرف اضافت ہوتی ہے، تو جواب دیں گے کہ شرط کی طرف بھی مجازاً کبھی کبھار نسبت کر دی جاتی ہے، لیکن اصل یہ ہے ہونی کس کی طرف چاہیے نسبت اور اضافت؟ سبب کی طرف بھئی۔ وحينئذٍ يرد علينا، اور اس وقت ہم پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے: أنكم ربما أضفتم إلى الشرط، کہ آپ لوگ بسا اوقات نسبت کر دیتے ہیں شرط کی طرف بھی، فكيف يطرد هذا، تو کیسے ہو گا عام یہ قانون؟ فقالت جواب دیا۔ و إنما يضاف إلى الشرط مجازا کہ اضافہ کی جاتی ہے شرط کی طرف مجازاً كصدقة الفطر جیسے کہ صدقۃ الفطر وحجة الإسلام اور جیسے حجِ اسلام بھئی۔ فإن الفطر وهو يوم عيد شرط للصدقة اس لیے کہ فطر جو ہے وہ یومِ عيد ہے، وہ شرط ہے صدقے کے لیے۔ والسبب هو الرأس الذي يمونه ويلي عليه اور سبب وہ تو وہ رأس سر ہے، وہ ذات ہے جس پر جس کا یہ خرچ اٹھاتا ہے اور جس پر اس کو ولایت حاصل ہے۔ والصدقة تضاف إليهما جميعا اور صدقہ کی ان دونوں کی طرف نسبت کی جاتی ہے، ان دونوں کی طرف اضافت کی جاتی ہے۔ بھئی! صدقۃ الفطر بھی کہتے ہیں اور صدقۃ الرأس بھی کہتے ہیں۔ ہاں! صدقۃ الفطر یہ مشہور زیادہ ہے اور صدقۃ الرأس یہ کم استعمال ہوا ہے بہت کم بھئی، تو صدقۃ المشہور یہ ہے زیادہ، لیکن یہ شرط ہے اس کے لیے۔ وكذا الإسلام شرط للحج اور اسی طرح اسلام جو ہے وہ حج کی شرط ہے، والسبب هو بيت الله تعالى اور سبب وہ بیت اللہ ہے، والحج يضاف إليهما جميعا اور حج کی ان دونوں کی طرف نسبت کی جاتی ہے جیسے حجۃ البيت بھی کہتے ہیں، حجۃ بیت اللہ اور حجۃ الإسلام بھی کہتے ہیں، دونوں کی طرف اضافت کی جاتی ہے لیکن اسلام شرط ہے اور بیت اللہ اس کے لیے سبب ہے۔ چلیے بھئی، کتاب اللہ کا طویل حصہ مکمل ہوا بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام بھئی۔
84 approved lectures · 35 of 84