Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-035

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 13 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 7
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔35 وإنه يوجب الحكم فيما يتناول قطعا بيان لحكمه بعد بيان معناه. فقوله يوجب الحكم رد على من قال إنه مجمل لاختلاف أعداد الجمع، فلا يكون موجبا أصلا، بل يجب التوقف حتى يقوم الدليل على معين. بھئی گزشتہ سبق میں عام کی بحث ہم نے شروع کی تھی۔ عام کی تعریف گزر گئی بھئی۔ [ عطسۃ ] یرحمک اللہ۔ عام کی تعریف گزر گئی، آج کے سبق میں عام کا حکم ہم پڑھیں گے بھئی۔ تو عام کا حکم بتلا رہے ہیں مصنف کہ: وإنه يوجب الحكم کہ عام جو ہے، وہ حکم کو ثابت کر دیتا ہے فيما يتناوله، ما سے مراد افراد ہیں بھئی، ان افراد میں يتناوله جن کو وہ شامل ہوتا ہے قطعا قطعی طور پر۔ قطعی طور پر، اس قطعا کا تعلق يوجب سے ہے، حکم کو ثابت کر دیتا ہے قطعی طور پر، حکم کو کیا کر دیتا ہے؟ قطعی طور پر ثابت کر دیتا ہے بھئی۔ تو عام کا کیا حکم بیان ہوا؟ کہ وہ جن افراد کو شامل ہوتا ہے ان میں حکم کو قطعی طور پر کیا کر دیتا ہے؟ ثابت کر دیتا ہے قطعی طور پر۔ دیکھیے آگے شرح آرہی ہے۔ جی، شارح بتلاتے ہیں: بيان لحكمه بعد بيان معناه کہ یہ جو ہے یہ عام کے حکم کا بیان ہے اس کے معنی کے بیان کے بعد، پہلے اس کا معنی بیان کر دیا کہ عام کسے کہتے ہیں، اس کے بعد اب کیا بیان کر رہے ہیں یہ؟ اس کا حکم بیان کر رہے ہیں۔ فقوله يوجب الحكم رد على من قال کہتے ہیں جو ماتن نے کہا يوجب الحكم کہ عام کیا کرتا ہے حکم کو؟ ثابت کرتا ہے۔ کہتے ہیں یہ رد ہے ان علماء پر جو یہ کہتے ہیں کہ عام مجمل ہے بھئی۔ دیکھیے، بات یاد رکھیے، بعض علماء کہتے ہیں کہ عام مجمل ہے اور لہذا اس کے اس کے اندر توقف کیا جائے گا بھئی، توقف کیا جائے گا۔ مجمل اس لحاظ سے ہے وہ کہتے ہیں کہ جمع کے اعداد مختلف ہیں بھئی۔ دیکھیے، ایک جمع قلة ہے، ایک جمع کثرة ہے۔ جمع قلة اسے کہتے ہیں جس کا اطلاق تین سے لے کر دس تک ہوتا ہے۔ اور جمع کثرة جو ہے اس کا اطلاق 11 سے لے کر ما لا نهاية تک ہوتا ہے بھئی، اور بعض کہتے ہیں 10 سے لے کر ما لا نهاية تک اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ تو جمع قلة کسے کہتے ہیں جس کا اطلاق کتنے سے کتنے پر ہوتا ہے؟ تین سے 10 تک بھئی، اور جمع کثرة جس کا اطلاق 11 سے ما لا نهاية تک، جبکہ بعض نے بعض علماء نے لکھا ہے کہ جمع کثرة کا اطلاق تین سے لے کر ما لا نهاية تک ہوتا ہے۔ تو معلوم ہوا تین سے لے کر 10 تک یہ صرف جمع قلة کے افراد ہیں، جبکہ تین سے 10 تک اور اس سے اوپر یہ سارے جمع کثرة کے بھی افراد ہیں بھئی۔ معلوم ہوا دوسرے قول کے مطابق دونوں کی ابتدا کس سے ہو رہی ہے؟ جمع قلة کی ابتدا بھی تین سے اور جمع کثرة کی ابتدا بھی تین سے ہو رہی ہے بھئی۔ اچھا، یہ علماء کہتے ہیں کہ یہ جو عام جو ہے یہ مجمل ہے بھئی، اس لیے کیونکہ جمع کے افراد مختلف ہیں بھئی۔ تین بھی جمع کا فرد ہے، چار بھی جمع کا فرد ہے، پانچ بھی جمع کا فرد ہے، اسی طرح چھ بھی جمع کا فرد ہے بھئی، تو جمع قلة کے افراد کتنے ہوئے تین سے لے کر 10 تک۔ اور جمع کثرة کے تو تین سے لے کر ما لا نهاية تک تمام اعداد کیا ہیں جمع کثرة کے افراد ہیں بھئی۔ تو جمع کثرة ان کے جمع کے اعداد جو ہیں مختلف ہیں تو لہذا کوئی بھی عدد اس سے مراد لینا صحیح ہے بھئی۔ جو جو بھی اس کے افراد میں سے ہیں ان میں سے کسی بھی فرد کو مراد لینا صحیح ہے اور اب یہاں مثلاً اب عام آتا ہے جمع ہے تو اس کے افراد مختلف ہوئے، اب کسی ایک فرد کو بھی مراد دیا جا سکتا ہے، لیکن کسی ایک فرد کو مراد دیا جائے گا تو ترجیح بلا مرجح لازم آئے گی بھئی۔ آپ تین مراد لیتے ہیں، بھئی چار اور پانچ کیوں نہیں مراد لیتے؟ چار، چار مراد لیتے ہیں تو بھئی تین کیوں نہیں مراد لیا؟ پانچ، چھ، سات کیوں نہیں مراد لیے بھئی؟ تو لہذا اس صورت میں اگر کسی ایک عدد کو ہم ترجیح اس کے مراد قرار دیں گے تو کیا لازم آئے گا؟ ترجیح بلا مرجح بھئی، ترجیح بلا مرجح لازم آئے گا۔ تو لہذا کسی ایک کو بھی اولویت حاصل نہیں ہے لہذا یہ مجمل ہوا بھئی، لہذا اس کے اندر توقف کیا جائے گا، کیا کیا جائے گا؟ ہاں، تو یہ حکم کو ثابت نہیں کرتا بلکہ اس میں توقف کیا جائے گا۔ پھر یاد رکھیے ان علماء کے دو گروہ ہیں بھئی۔ بعض یہ کہتے ہیں کہ عمل کے اندر بھی توقف ہوگا اور اعتقاد یعنی علم کے اندر بھی توقف ہوگا۔ عمل میں بھی توقف کیا جائے گا، عمل بھی نہیں کیا جائے گا، اور اعتقاد بھی نہیں رکھا جائے گا اس میں بھی توقف کیا جائے گا جب تک کہ کسی متعین عدد پر دلیل قائم نہ ہو جائے کہ یہ مراد ہے، تین مراد ہے یا چار مراد ہے یا پانچ مراد ہے، تو جب تک کسی متعین عدد پر کوئی دلیل نہ قائم ہو جائے، اس وقت تک نہ اس پر نہ اس کا اعتقاد رکھا جائے گا اور نہ اس پر عمل کیا جائے گا، دونوں میں توقف کیا جائے گا۔ جبکہ ان میں سے بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ نہیں اعتقاد میں تو توقف کیا جائے گا لیکن عمل واجب ہوگا، کیا کیا جائے گا اس پر؟ عمل کیا جائے گا بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ بعض علماء نے کیا لکھا کہ جمع کے اعداد کیا ہیں؟ مختلف ہیں، اس لیے عام کیا ہے؟ حکم کو ثابت نہیں کرے گا بلکہ یہ مجمل ہوا اس کے اندر کیا کیا جائے گا؟ توقف کیا جائے گا بھئی، توقف، پھر اس میں میں نے بتایا دو گروہ ہیں۔ بعض کہتے ہیں عمل کے اعتبار سے بھی توقف ہے اور اعتقاد کے اعتبار سے بھی توقف ہے، بعض کہتے ہیں نہیں اعتقاد کے اعتبار سے تو توقف ہے عمل کے اعتبار سے توقف نہیں بلکہ عمل کیا جائے گا۔ تو مصنف رحمہ اللہ نے جب فرمایا کہ: وإنه يوجب الحكم کہ یہ عام کیا کر دیتا ہے؟ حکم کو ثابت کر دیتا ہے قطعی طور پر، تو لہذا یہ جو حکم کو ثابت کرتا ہے، يوجب الحكم یہ رد ہو گیا ان علماء کا جنہوں نے یہ کہا تھا کہ یہ مجمل ہے۔ انہوں نے تو کہا تھا توقف کیا جائے گا، لیکن انہوں نے کیا کہا مصنف نے کہ یہ حکم کو ثابت کر دیتا ہے۔ جی، اور جنہوں جواب ان کو یہ دیتے ہیں کہ بھئی جب اس کی یہ جو عام ہے اس کو محمول کیا جائے گا تمام افراد پر، جب تمام افراد پر محمول کر لیا تو لہذا اس صورت میں ترجیح بلا مرجح بھی لازم نہیں آیا اور اجمال بھی باقی نہ رہا بھئی، بلکہ کیا مراد لے لیا ہم نے اس سے؟ اس کے عام کے تمام افراد مراد لے لیے جن جن پر یہ صادق آتا تھا بھئی، تمام افراد مراد لے لیے۔ سمجھ میں آیا؟ دیکھو مثلاً بھئی، مثلاً بھئی میں کہتا ہوں درجہ رابعہ کے طلباء کو انعام دیا جائے گا۔ اب درجہ رابعہ کے طلباء یہ جمع ہے مولانا، اور جمع کیا ہے؟ اس کا اطلاق تین پر بھی ہوتا ہے، چار پر بھی ہوتا ہے، پانچ پر بھی ہوتا ہے، تو کہتے ہیں کوئی بھی اس سے مراد، ہو سکتا ہے تین مراد ہوں، ہو سکتا ہے چار مراد ہوں، ہو سکتا ہے پانچ مراد ہوں، تو لہذا جب تک کوئی دلیل نہیں قائم ہو جاتی اس وقت، اس وقت تک کیا کیا جائے گا؟ توقف کیا جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ توقف کیا جائے گا۔ ہم کہتے ہیں نہیں، بلکہ کیا کیا جائے گا؟ تمام پر محمول کیا جائے گا کہ تمام طلباء مراد ہیں بھئی، سب کو کیا کیا جائے گا؟ انعام دیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: فقوله يوجب الحكم ماتن کا قول يوجب الحكم جو ہے، رد على من قال یہ رد ہے ان علماء پر جنہوں نے یہ کہا کہ إنه مجمل لاختلاف أعداد الجمع کہ عام جو ہے وہ مجمل ہے جمع کے اعداد کے مختلف ہونے کی وجہ سے، فلا يكون موجبا أصلا لہذا یہ مثبت نہیں ہوگا قطعی طور پر، یعنی یہ قطعی طور پر حکم کو ثابت کرنے والا، یعنی سرے سے حکم کو ثابت کرنے والا ہی نہیں ہے بھئی سرے سے، بل يجب التوقف بلکہ توقف واجب ہے حتى يقوم الدليل على معين یہاں تک کہ کیا ہو جائے؟ کسی متعین پر، کسی متعین عدد پر کوئی دلیل قائم ہو جائے، تو مصنف نے ان کا رد کر دیا کہ نہیں بھئی ہم اس کو کس پر محمول کرتے ہیں؟ تمام افراد پر محمول کر لیتے ہیں، اس صورت میں ترجیح بلا مرجح بھی لازم نہیں آتی، لہذا اس صورت میں ترجیح بھی لازم نہیں آتی کہ بعض ہم نے تین یا چار یا پانچ کوئی ایک مراد لیتے تو ترجیح لازم آتی بھئی، لیکن ہم نے تمام افراد مراد لے لیے تو ترجیح بھی لازم نہ آئی اور اجمال بھی باقی نہ رہا بھئی۔ وفقوله فيما يتناوله رد على من قال لا يوجب الفرد إلا الواحدة ولا الجمع إلا الثلاث، والباقي موقوف على قيام الدليل. اب جبکہ بعض علماء، یاد رکھیے، اس بات کی طرف گئے ہیں کہ عام جو ہے وہ اگر مفرد ہو تو وہ ایک ہی فرد کو شامل ہوگا، اور عام جب جمع ہو تو اس صورت میں وہ تین کو شامل ہوگا بھئی۔ بھئی، یاد رکھیے، عام دو قسم پر ہے۔ کبھی تو وہ مفرد کا صیغہ ہوگا، یعنی اسم جنس ہوگا۔ کیا ہوگا؟ اسم جنس ہوگا۔ اسم جنس ہوگا مولانا، اسم جنس، اور آپ نے پڑھا ہے بھئی، اسم جنس کا اطلاق قلیل اور کثیر پر ہوتا ہے، یعنی ایک پر بھی اس کا اطلاق ہو سکتا ہے قلیل، ادنیٰ فرد ایک ہے مولانا، ایک، اور تمام افراد بھی اس سے مراد لیے جا سکتے ہیں بھئی، تمام افراد۔ پڑھا ہے یا نہیں؟ پچھلے سال آپ نے بھئی، طلاق کی بحث میں بھی خصوصاً پڑھا ہوگا کہ مصدر وہ اسم جنس ہے اور اس کا اطلاق ایک فرد یعنی ایک طلاق پر بھی ہو سکتا ہے اور تمام مجموعے پر بھی اس کا اطلاق ہو سکتا ہے کہ وہ بھی فرد حکمی ہے اس کا، تو اسم جنس جو ہوتا ہے اس کا اطلاق ایک فرد پر بھی ہو سکتا ہے اور سارے تمام سارے مجموعے پر بھی ہو سکتا ہے بھئی، کیونکہ ایک وہ فرد حقیقی ہے اور مجموعہ کیا ہے؟ فرد حکمی، یعنی سارے مجموعہ ایک ہی جنس کا ہے، ایک ہی فرد ہے گویا کہ۔ تو لہذا عام جو ہے وہ اسم جنس بھی ہو سکتا ہے اور جمع کا صیغہ بھی ہو سکتا ہے، اور اسم جنس کا بھی اطلاق کس پر ہوتا ہے؟ جیسے ایک فرد حقیقی پر ہوتا ہے، اسی طرح اس کا اطلاق تمام افراد پر بھی ہوتا ہے بعتبار فرد حکمی کے بھئی، اور جمع کا اطلاق بھی اسی طرح کم از کم کتنے افراد پر ہوتا ہے؟ تین افراد پر ہوتا ہے۔ اب وہ فرماتے ہیں اب یہ بعض علماء، کہتے ہیں کہ بھئی دیکھیے جب اسم جنس بولا جائے یعنی مفرد بولا جائے تو اس میں احتمال ہے ایک فرد مراد ہو، اور احتمال ہے کہ تمام افراد مراد ہوں، اسی طرح جمع کا صیغہ بولا جائے تو اس صورت میں ہو سکتا ہے اس سے تین افراد مراد ہوں، چار مراد ہوں، پانچ مراد ہوں، کوئی بھی فرد کیا ہو سکتے ہیں اس میں سے؟ مراد ہو سکتے ہیں۔ تو کہتے ہیں جب لفظ آ گیا کلام کے اندر لفظ آیا اور لفظ تو معنی لفظ کو معنی سے خالی کرنا تو ٹھیک نہیں ہے، جب کلام میں آیا کچھ نہ کچھ تو اس کا معنی ضرور ہوگا، بالکل لغو تو اس کو قرار، لغو تو اس کو قرار نہیں دیا جا سکتا، کچھ نہ کچھ معنی تو اس کا ہوگا، اب یہ معنی یا تو اس سے کیا مراد لے لیں گے اگر مفرد ہے؟ ایک بھی مراد ہو سکتا ہے اور تمام افراد بھی، لیکن ایک تو کم از کم قطعی طور پر اس سے مراد ہے، کیونکہ معنی سے تو یہ خالی نہیں، جب معنی سے خالی نہیں کچھ نہ کچھ تو مراد ہے اب ایک تو قطعی ہے البتہ تمام کا احتمال ہے اس کے اندر، جبکہ اسی طرح جمع کے اندر بھئی، جمع کا اطلاق کم از کم کتنے پر ہوتا ہے؟ تین افراد پر، تو تین تو قطعی مراد ہوں گے اس جمع سے، ہاں تین سے زیادہ کا بھی اس کے اندر کیا ہے؟ احتمال ہے۔ لہذا اس میں اسم جنس کے اندر ایک کو تو وہ قطعی طور پر شامل ہوگا اور مجموعے کا اس میں احتمال، جمع کے اندر وہ تین کو تو قطعی طور پر شامل ہوگا، ہاں تین سے زیادہ کا اس میں احتمال ہے، تو لہذا کہتے ہیں اس صورت کے اندر جو قطعی ہو وہ مراد، جو یقینی ہو وہ مراد لینا بہتر ہے بنسبت اس کے جس کا صرف احتمال ہے، جس کا صرف شک ہے مولانا، جو مشکوک ہے، تو یقینی مراد لینا بہتر ہے یا مشکوک مراد لینا بہتر ہے بھئی؟ یقینی مراد لینا بہتر ہے، تو وہ کہتے ہیں لہذا جب یہ مفرد ہوگا تو ایک مراد لے لیں گے کیونکہ ایک یقینی ہے۔ کیونکہ ایک سے تو کم ہو ہی نہیں سکتا، ایک اس پر تو ضرور ہوگا اس سے مراد، تو ایک یقینی ہوا، وہ مراد لے لیں گے۔ اور جمع کے اندر تین چونکہ یقینی ہے کم از کم تو لہذا جمع کی صورت میں تین مراد لے لیں گے، اور باقی کا صرف احتمال ہے، باقیوں کے مراد لینے کے لیے کوئی نہ کوئی دلیل ہونی چاہیے، بغیر دلیل کے باقی مراد نہیں ہو سکتے بھئی۔ تو لہذا وہ کہتے ہیں کہ یقینی کو مراد لینا بہتر ہے مشکوک کے مقابلے میں، تو وہ یقینی مراد لیتے ہیں اور وہ مفرد سے کیا مراد لیں گے؟ ایک، اور جمع سے کیا مراد لیں گے؟ تین مراد لیں گے۔ ہم جواب دیتے ہیں بھئی ان کو کہ یہ تو آپ لغت میں قیاس کر رہے ہیں، کیا کر رہے ہیں؟ لغت میں قیاس کر رہے ہیں، اور لغت میں قیاس جاری نہیں ہوتا بھئی، یاد رکھیے لغت میں قیاس کرنا باطل ہے، کہ بھئی اسم جنس بولا جائے اور اس سے آپ کہیں ایک فرد مراد ہوگا کیونکہ ایک تو یقینی ہے باقی تو یقینی نہیں، جمع میں تین افراد مراد ہوں گے کیونکہ تین تو یقینی ہیں باقی تو یقینی نہیں، یہ ایک لغت کی بات ہے، زبان کی بات ہے مولانا، کہ اس میں جنس میں آپ کہہ رہے ہیں کتنا مراد ہونا چاہیے؟ ایک، جمع میں کتنے مراد ہونے چاہئیں؟ تین، یہ تو عربی زبان کی بات ہے، تو اور زبان کو آپ جانتے ہیں مولانا کہ اس کے قیاس کے ذریعے ثابت کرنا صحیح، قیاس کے ذریعے ثابت کرنا صحیح نہیں ہے، بلکہ اس میں تو ہم ان کے استعمال کو دیکھیں گے مولانا، کس چیز کے لیے کس معنی کے لیے اس لفظ کو وضع کیا گیا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہذا ماتن نے جب کہا بھئی فيما يتناوله کہ یہ حکم کو ثابت کرتا ہے فيما ان افراد کے اندر يتناوله جن کو وہ عام کیا ہوتا ہے؟ جن کو وہ عام شامل ہوتا ہے، تو فيما يتناوله کے ذریعے رد ہو گیا ان علماء کا جنہوں نے کیا کہا تھا کہ مفرد کی صورت میں کتنا مراد ہوگا؟ ایک، اور جمع کی صورت میں تین، کہتے ہیں نہیں بھئی ان تمام افراد کو شامل ہوگا بھئی جن کے اوپر یہ صادق آتا ہے۔ تو کہتے ہیں: وقوله فيما يتناوله رد على من قال لا يوجب الفرد إلا الواحدة ولا الجمع إلا الثلاثة اور مصنف رحمہ اللہ کا قول فيما يتناوله یہ رد ہے ان علماء پر جنہوں نے یہ کہا کہ ثابت نہیں کرتا مفرد مگر ایک ہی کو، یعنی اسم جنس وہ ایک ہی کو ثابت کرتا ہے، ولا الجمع إلا الثلاثة اور ثابت نہیں کرتی جمع مگر الثلاثة، مگر کتنے افراد کو؟ تین افراد کو بھئی۔ والباقي موقوف على قيام الدليل اور باقی کس پر موقوف ہے؟ قیامِ دلیل، دلیل کے قائم ہونے پر موقوف ہیں، ہم کہتے ہیں بھئی نہیں، یہ تو آپ کیا کر رہے ہیں؟ لغت کے اندر قیاس کر رہے ہیں اور لغت کے اندر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے بھئی۔ وقوله قطعا رد على الشافعي رحمه الله تعالى حيث ذهب إلى أن العام ظني لأنه... جی۔ یاد رکھیے، ہمارے نزدیک عام جو ہے وہ قطعی ہے مولانا، عام کیا ہے؟ ابھی آپ نے پڑھا کہ: وإنه يوجب الحكم فيما يتناوله قطعا کہ یہ ان تمام افراد کو جن پر یہ صادق آتا ہے ان میں حکم کو ثابت کر دیتا ہے قطعی طور پر، تو عام ہمارے نزدیک قطعی ہے۔ جی، یاد رکھیے، ہمارے نزدیک عام قطعی ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عام ظنی ہے بھئی، ظنی۔ ہمارے نزدیک عام قطعی اس لیے ہے کہ کہ عموم کے صیغوں کی دلالت عموم پر باعتبار وضع کے ہے بھئی۔ ہمارے نزدیک عام قطعی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے نزدیک یہ جو عموم کے صیغے ہیں، ان کی دلالت عموم پر باعتبار وضع کے ہے، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ بات بتواتر منقول ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین عام کے سے کے عموم پر استدلال کرتے تھے اور کسی قرینے کے محتاج نہیں ہوتے تھے بھئی۔ معلوم ہوا لفظ کی دلالت اپنے معنی پر ایا عام یوں کہیں عام کی دلالت عموم پر باعتبار وضع کے ہے، اگر باعتبار وضع کے نہ ہوتی یہ دلالت تو پھر وہ کسی قرینے کے محتاج ہوتے بھئی، وہ عام کے ذریعے استدلال کرتے ہیں کس چیز پر؟ عموم پر اور بغیر کسی قرینے کے احتیاج کے بھئی۔ معلوم ہوا یہ عام کی دلالت عموم پر باعتبار وضع کے ہے، اگر باعتبار وضع کے نہ ہوتی تو وہ کس چیز کے محتاج ہوتے؟ عموم پر دلالت کے لیے کسی قرینے کے محتاج ہوتے بھئی، کسی قرینے کے۔ لیکن وہ کسی قرینے کی طرف نہیں جاتے بلکہ اس کے بغیر ہی عام کے ذریعے عموم پر استدلال کرتے ہیں، معلوم ہوا اس عام کی دلالت عموم پر باعتبار وضع کے ہے۔ اور صیغے کی دلالت کسی معنی پر باعتبار وضع کے یہ قطعی ہوا کرتی ہے، یہ کیا ہوتی ہے؟ قطعی ہوتی ہے، تو وہ ثابت ہوا کہ عام جو ہے وہ کیا ہے؟ قطعی ہے کہ اس کی دلالت بھی اپنے عموم پر باعتبار وضع کے ہے جو قطعی ہوتی ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ کیا بات ذکر کی؟ ہمارے نزدیک عام قطعی اس لیے ہے کیونکہ اس عام کی دلالت عموم پر کس اعتبار سے ہے؟ باعتبار وضع کے ہے اور بتواتر یہ بات منقول ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین عام سے عموم پر استدلال کرتے تھے اور کسی قرینے کے محتاج نہیں ہوتے تھے بھئی۔ اور اگر عام کی دلالت اپنے عموم پر باعتبار وضع کے نہ ہوتی تو پھر وہ کس چیز کے محتاج ہوتے؟ کسی قرینے کے محتاج ہوتے اور وہ کسی قرینے کی طرف محتاج نہیں، اس کے بغیر ہی کیا کرتے ہیں؟ عام کے ذریعے عموم پر استدلال کرتے ہیں، معلوم ہوا عام کی دلالت عموم پر کس اعتبار سے ہے؟ وضع کے اعتبار سے ہے بھئی، وضع کے اعتبار سے ہے۔ لفظ کی دلالت معنی موضوع لہ پر وہ کسی قرینے کی محتاج نہیں ہوتی بھئی، سمجھ میں آیا؟ جب اس معنی کے لیے وضع ہے تو خود بخود اس پر دلالت کرے گا، کسی قرینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ سمجھ میں آیا؟ تو ثابت ہوا کہ عام کی دلالت اپنے عموم پر یہ باعتبار وضع کے ہے اور باعتبار وضع کے جو دلالت ہوا کرتی ہے وہ قطعی ہوا کرتی ہے، تو ثابت ہوا کہ عام کیا ہے؟ قطعی ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عام ظنی ہے بھئی، عام قطعی نہیں۔ بلکہ امام شافعی رحمہ اللہ بھی اور جمہور فقہاء بھئی، جمہور فقہاء فرماتے ہیں کہ عام ظنی ہے مولانا، لیکن عند الاحناف بھئی، ہمارے نزدیک عام کیا ہے؟ قطعی ہے، خاص کی طرح قطعی ہے۔ تو مصنف نے جب قطعا کہا تو اس کے ذریعے رد ہو گیا، کہتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کا، اس لیے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں اس بات کی طرف گئے ہیں کہ عام ظنی ہے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی عام ایسا نہیں جس سے بعض افراد کو خاص نہ کر لیا گیا ہو، بھئی آپ جانتے ہیں بھئی، آپ نے گزشتہ سال بھی پڑھا ہو گا کہ عام دو قسم پر ہے، ایک کیا ہے؟ عام مخصوص البعض ہے بھئی اور ایک عام غیر مخصوص البعض ہے بھئی۔ عام مخصوص البعض وہ عام جس میں سے بعض افراد کو نکال لیا گیا ہو اور عام غیر مخصوص البعض جس میں سے بعض افراد کو نہ نکالا گیا ہو بھئی۔ مثلاً ابھی جو میں نے مثال ذکر کی بھئی، مثلاً میں کہتا ہوں درجہ رابعہ کے طلباء کو انعام دیا جائے۔ دیکھیے، میں نے کسی کا استثناء کیا؟ کسی کو نکالا اس حکم سے؟ نہیں، کسی کو نہیں نکالا اس حکم سے، تو یہ عام ہے غیر مخصوص البعض ہے بھئی۔ دیکھو عام کیا تھا اس کے اندر؟ درجہ رابعہ کے طلباء، اس کے کئی افراد ہیں مولانا اور عام بھی کس کو کہتے ہیں؟ جو افراد کو شامل ہوتا ہے۔ اور ان پر کیا حکم لگایا میں نے ان کے لیے؟ کہ ان کو کیا دیا جائے؟ انعام دیا جائے، تو اس حکم سے میں نے کسی کو بھی نہیں نکالا، تو یہ عام غیر مخصوص البعض ہے اور بعض اوقات کیا کیا جاتا ہے؟ اس عام کے حکم سے بعض افراد کو نکال لیا جاتا ہے، مثلاً میں اس کے ساتھ ہی کہتا ہوں، پہلے میں نے کیا کہا؟ کہ درجہ رابعہ کے طلباء کو انعام دیا جائے مگر زید، عمر اور بکر کو نہیں، ان کو انعام نہ دیا جائے، تو دیکھو جو وہ بھی درجہ رابعہ کے فرض کریں طلباء ہیں، میں نے سب کے لیے ایک حکم دیا لیکن پھر اس میں سے تین افراد زید، عمر، بکر کو اس حکم سے نکال دیا بھئی۔ یعنی ان کو انعام نہ دیا جائے، تو یہ کیا ہوا؟ عام مخصوص البعض، یعنی بعض افراد کو اس میں اس کے حکم میں سے نکال لیا گیا بھئی، باقیوں کے لیے تو حکم ہو گیا کہ انہیں انعام دیا جائے لیکن ان کو انعام دینے کے حکم سے نکال دیا کہ ان کو انعام نہ دیا جائے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ عام مخصوص البعض کہتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھیے، کوئی بھی عام ایسا نہیں ہے جس میں سے بعض افراد کو نکال نہ لیا گیا ہو بھئی، الا یہ کہ کوئی دلیل قائم ہو جائے اس بات پر کہ اس عام کے میں کسی فرد کی تخصیص نہیں۔ کسی فرد کی تخصیص نہیں، اگر دلیل قائم ہو جائے اس کی بات تو الگ ہے، جیسے مولانا، قرآن میں اللہ تعالیٰ کیا فرماتے ہیں؟ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ، اللہ ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔ آب یہ ایسا عام ہے، ہر چیز کو جاننے والے ہیں، کوئی ایک فرد بھی اس حکم سے باہر نہیں ہے بھئی، کوئی ایک چیز بھی اللہ کے علم سے باہر نہیں ہے، ہر چیز اللہ کے علم میں ہے بھئی، ہر چیز اللہ کے علم، تو یہ ایسا عام ہے جس میں سے کسی ایک فرد کو بھی خاص نہیں کیا گیا اور یہ دلیل شرعی سے ثابت ہے، کس کے ذریعے؟ ہاں، تو اگر کوئی ایسا عام ہے جس میں جہاں جس میں دلیل شرعی سے ثابت ہو جائے کہ اس میں کسی فرد کی تخصیص نہیں ہے اس کی بات تو الگ ہے، الہ ورنہ اس کے علاوہ جتنے عام ہیں ان سب میں کیا کیا گیا ہے؟ کسی نہ کسی فرد کی تخصیص کی گئی ہے، یعنی بعض افراد کو اس حکم سے نکال دیا گیا ہے، جیسے دیکھیے مولانا، قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ، اللہ تعالیٰ نے تمام بیوع کو حلال قرار دیا ہے۔ اس سے کیا معلوم ہوا مولانا؟ وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ، تمام بیوع حلال ہیں، لیکن آگے اللہ فرماتے ہیں: وَحَرَّمَ الرِّبٰوا، اللہ نے ربوا کو حرام قرار دیا ہے، دیکھو پہلے بیوع، پہلے تمام بیوع کے لیے کیا حکم دیا گیا؟ حلال ہونے کا حکم ان کے بارے میں بتلایا گیا، لیکن پھر اس میں سے چند افراد کو نکال لیا گیا کہ وہ حلال نہیں ہے، ربوا حرام ہے، اللہ نے ربوا کو حرام قرار دیا ہے بھئی، تو لہٰذا تو بیع ربوا اس سے خارج ہو گئی اس حکم سے، عام بیوع کا حکم کیا ہوا؟ وہ حلال ہیں اور بیع ربوا کا کیا حکم ہو گیا؟ وہ حرام ہے بھئی، وہ حرام ہے۔ تو دیکھو، اس عام سے کیا کر لیا گیا؟ بعض افراد کی تخصیص کر لی گئی، باقی ہر بیع حلال رہی لیکن وہ بیع جس کے اندر ربوا ہو وہ کیا بن گئی؟ حرام بن گئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ، اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال قرار دیا ہے وَحَرَّمَ الرِّبٰوا، اس کے ذریعے تخصیص کر دی گئی، جس بیع کے اندر ربوا ہے اسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار، وہ تو اس حلت کے حکم سے اس کو نکال دیا گیا، یہ تخصیص ہو گئی مولانا، کیا ہو گئی؟ تخصیص، اسے تخصیص کہتے ہیں کہ اس عام کے حکم سے بعض افراد کو نکال دیا جائے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی عام ایسا نہیں جس سے بعض افراد کی تخصیص نہ کر لی گئی ہو، الا یہ وہ الا وہ عام کہ جس کے بارے میں باقاعدہ شرعی دلیل سے ثابت ہو جائے کہ اس سے کسی فرد کی تخصیص نہیں، باقی ہر عام سے کسی نہ کسی فرد کی تخصیص کر لی گئی ہے، جب تخصیص کر لی گئی ہے تو معلوم ہوا ہر عام میں تخصیص کا احتمال ہے۔ ہر عام کے اندر کوئی بھی عام آ جائے مولانا، کسی بھی عام کے بارے میں شرعی حکم آ جائے، اب اگر چاہے ہمیں تخصیص کا پتہ نہ ہو پھر بھی اس میں تخصیص کا احتمال آ گیا، کیونکہ ہر عام سے کیا کیا گیا ہے؟ بعض افراد کی تخصیص کی گئی ہے، اب معلوم ہوا ہر عام میں تخصیص کا احتمال ہے، تو ایک عام آئے اور اس سے کسی کی تخصیص نہیں لیکن پھر بھی وہ یقینی نہ رہا، کیونکہ ہو سکتا ہے بعض افراد کی کیا کر لی گئی ہو اس کے اس سے تخصیص کر لی گئی ہو، بعد میں اس کے حکم سے نکال دیا گیا ہو، ہاں وہ الگ بات ہے ہمیں علم ہی نہ ہو، ہم واقف ہی نہ ہوں اس پر بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں عام قطعی نہیں ہے، اس لیے کیونکہ عام کے اندر کیا احتمال آ گیا؟ ہر عام کے اندر؟ کہ اس میں سے بعض افراد کو کیا کر لیا گیا ہو؟ خاص کر لیا گیا ہو، اس حکم سے نکال دیا گیا ہو اور ہو سکتا ہے ہم اس پر واقف نہ ہوں بھئی، جب یہ احتمال آ گیا تو عام قطعی نہ رہا بلکہ کیا بن گیا؟ ظنی بن گیا بھئی، ظنی بن گیا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ ظنی بن گیا۔ جیسے دیکھیے مولانا، ابھی میں نے مثال جو ذکر کی تھی آپ کو سمجھانے کے لیے، میں نے کیا کہا؟ کہ درجہ رابعہ کے طلباء کو انعام دیا جائے مگر زید، عمر، بکر، خالد کو نہ دیا جائے، یاد رکھیے یہ عام مخصوص البعض ہوا مولانا، تو عام غیر مخصوص البعض کا تو یہ حکم ہے وہ قطعی ہے، ہاں عام مخصوص البعض یعنی جس سے بعض افراد کو نکال لیا گیا ہو وہ ہمارے نزدیک ظنی ہے مولانا، وہ ہمارے نزدیک وہ کیا ہے؟ جو تو غیر مخصوص البعض جو ہے وہ قطعی ہے لیکن مخصوص البعض ظنی ہے بھئی۔ کس طرح؟ ظنی کس طرح ہے؟ کیا حکم بیان ہوا یہاں پر درجہ رابعہ کے طلباء کے لیے؟ کہ انہیں انعام دیا جائے، لیکن میں نے کیا کیا؟ تین افراد کو اس میں سے خاص کیا، اس میں سے نکال دیا مولانا، زید، عمر، بکر کو نہ دیا جائے، معلوم ہوا کوئی وجہ ہو گی، جو زید، عمر، بکر کو میں کہہ رہا ہوں انعام نہ دیا جائے، اس حکم سے نکال دیا، اس کی کوئی نہ کوئی وجہ ہو گی، کوئی علت ہو گی۔ تو اب ہر طالب علم میں احتمال آ گیا، ہو سکتا ہے اس میں بھی وہ وجہ پائی جائے، اگر اس میں پائی گئی تو اس کو بھی نکال دیں گے، اس پر اس کو بھی حکم سے اسے بھی انعام نہیں دیں گے، دوسرے طالب علم کے بارے میں احتمال، اس میں بھی احتمال ہے، ہو سکتا ہے اس میں بھی وہی وجہ ہو جو زید، عمر، بکر میں تھی، تو اس کو بھی کیا کر دیں گے؟ حکم سے نکال دیں گے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ہر طالب علم میں احتمال آ گیا یا نہیں آ گیا کہ ہو سکتا ہے اس میں بھی یہ وجہ ہو؟ تو لہٰذا اب عمل تو کیا جائے گا لیکن احتمال تو آ گیا دوسرا کہ ہو سکتا ہے اس میں یہ وجہ ہو، تو لہٰذا قطعی نہ رہا بلکہ کیا بن گیا؟ ظنی بن گیا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ظنی بن گیا اور اس میں سے پھر جب علت کا جب پتہ لگ جائے تو پھر افراد پھر باقی افراد کی بھی شرعی حکم ہے مولانا، کوئی شرعی حکم ہے تو پھر اس میں سے جب علت کا پتہ لگ گیا باقی افراد کی بھی تخصیص کی جائے گی مولانا، قیاس یا خبر واحد کے ذریعے، کیونکہ عام مخصوص البعض کیا ہے؟ ظنی ہے اور قیاس اور خبر واحد بھی کیا ہیں؟ ظنی ہیں، تو لہٰذا اب عام اس عام سے قیاس یا خبر واحد کے ذریعے اور افراد کی بھی تخصیص جائز ہو جائے گی مولانا اور اس میں سے اور افراد بھی نکالے جا سکتے ہیں۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا باقی افراد اس سے نکالتے جائیں گے، جس میں بھی قیاس یا کس کے خبر واحد کے ذریعے کیا آ جائے؟ تخصیص خبر واحد یا قیاس کے ذریعے کی جائے گی، تو اور اگر اس دوسرے میں بھی علت کا پتہ لگ گیا یا دوسرے کے بارے میں خبر واحد آ گئی تو لہٰذا اس کو بھی اس فرد کو بھی حکم سے نکال دیں گے، اس تخصیص کرتے جائیں گے، کرتے جائیں گے، یہاں تک کہ تین افراد رہ جائیں جمع کے اندر، اب تخصیص نہیں کی جائے گی، کیوں؟ اس لیے کیونکہ وہ عام جمع کا صیغہ ہے، اب بھی آپ تخصیص کرو گے تو پھر تو وہ عام ہی کیا ہو جائے گا؟ اس پر عمل ہی باقی نہیں رہے گا بھئی، اس کے تو افراد ہی کم از کم کتنے ہونے چاہئیں؟ تین، یہ جمع کے اندر ہے مولانا اور مفرد کے اندر، مفرد کے اندر تخصیص کرتے جائیں گے، یعنی اس میں جنس کے اندر یہاں تک کہ ایک فرد رہ جائے، جب ایک رہ جائے گا اس کے بعد تخصیص نہیں کی جا سکتی ورنہ تو اس پر عمل ہی باقی نہیں رہے گا بھئی، عمل باقی نہیں رہے گا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عام ظنی ہے، اس لیے کیونکہ کوئی بھی عام ایسا نہیں ہے جس میں سے بعض افراد کو نکال نہ لیا گیا ہو، بعض افراد کی تخصیص نہ کر لی گئی ہو، تو لہٰذا تو ہر عام کے اندر احتمال آ گیا کہ ہو سکتا ہے اس میں سے بعض افراد کو خاص کر لیا گیا ہو، اگرچہ ہمیں اس کا علم نہ ہو بھئی، لہٰذا یہ قطعی نہ رہا بلکہ کیا بن گیا؟ ظنی بن گیا۔ ہم جواب میں کہتے ہیں کہ یہ تو احتمال ہے بغیر دلیل کے، یہ احتمال کیا ہے؟ بھئی ایک عام ہے اس سے بعض افراد کو خاص نہیں کیا گیا لیکن آپ کہتے ہیں احتمال ہے کہ ہو سکتا ہے بعض افراد کو کیا کر لیا گیا ہو؟ خاص کر لیا گیا ہو لیکن ہمیں علم نہ ہو، یہ تو بغیر دلیل کے احتمال ہے اور بغیر دلیل کے جو احتمال ہو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ یہ تو پھر ہر چیز کے اندر احتمال آ جائے گا، مثلاً دیکھیے، آپ نے کام آپ نے مثلاً زید کو دیکھا تھا، احتمال لیکن احتمال تو ہے ہو سکتا ہے آپ نے نہ دیکھا ہو، یہ کتاب آپ کی ملکیت ہے مولانا جو آپ کے سامنے ہے لیکن یہ بھی احتمال تو ہے کہ ہو سکتا ہے یہ آپ کی ملکیت نہ ہو بھئی، آپ نے ایک کام ایک فعل سرانجام دیا لیکن احتمال تو یہ بھی ہو سکتا احتمال ہے ہو سکتا ہے آپ نے یہ فعل سرانجام نہ دیا ہو، بات سمجھ میں آئی؟ آپ نے کھانا کھایا مولانا، لیکن احتمال ہے ہو سکتا ہے آپ نے نہ کھایا ہو بھئی، تو یہ احتمال تو پھر ہر چیز کے اندر آ جائے گا لیکن یہ احتمال بغیر دلیل کے ہے اور بغیر دلیل کے احتمال کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ بغیر دلیل کے احتمال کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ ہاں! جب کسی شرعی دلیل کے ذریعے عام سے بعض افراد کو نکال دیا گیا، کیا کیا گیا؟ شرعی دلیل کے ذریعے بعض افراد کو نکال دیا گیا، جیسے مولانا، ابھی میں نے آیت ذکر کی تھی بھئی: وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ، اللہ نے بیع کو حلال قرار دیا ہے وَحَرَّمَ الرِّبٰوا، اور ربوا کو، تو دیکھو ربوا کو اس حلت والے حکم سے نکال دیا گیا اور اللہ نے کیا فرمایا کہ ربوا کیا ہے؟ حرام ہے، تو یہ جو ربوا کی تخصیص کی گئی اور حلت کے حکم سے اس کو نکال دیا گیا، یہ کس کے ذریعے ہوا؟ باقاعدہ شرعی دلیل کے ذریعے ہے مولانا، اس کا ذکر خود نص کے اندر آ گیا، آیت کے اندر آ گیا، تو اب ربوا کیا ہوا؟ اب ربوا تو حرام ہوا، لیکن باقی بیوع میں اس عام پر عمل کیا جائے گا اور باقی بیوع کیا ہو گئیں؟ حلال ہو گئیں۔ باقی بیوع حلال ہو گئیں، لیکن ہر ہر فرد کے اندر احتمال آ گیا ہو سکتا ہے یہ اس یہ بھی ربوا میں داخل ہو، یہ والی بھی کیا ہے؟ ہو سکتا ہے کس کے اندر داخل ہو؟ ربوا میں داخل ہو، اس سے اگلا فرد ہے بیع کا اس کو آپ نے غور کیا، دیکھا، لیکن احتمال تو ہے ہو سکتا ہے یہ بھی کس میں داخل ہو؟ جب ربوا میں ہو گا تو یہ کیا ہو گا؟ حلت کے حکم سے تو یہ اب احتمال آیا، لیکن یہ جو احتمال آیا یہ ویسے ہی آیا یا وہ شرعی دلیل کی وجہ سے آیا تھا؟ اس شرعی دلیل کی وجہ سے آیا تھا وہ جو اللہ ہی نے فرمایا کہ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا، اللہ تعالیٰ نے ربوا کو حرام قرار دیا ہے، تو اس یہ احتمال معتبر ہے، کیونکہ یہ بغیر کسی دلیل کے پیدا نہیں ہوا بلکہ کس کی وجہ سے پیدا ہوا ہے؟ باقاعدہ ایک شرعی دلیل سے پیدا ہوا ہے، لہٰذا اس صورت میں اب عام قطعی نہ رہا بلکہ کیا بن گیا؟ ظنی بن گیا، کیونکہ یہ احتمال معتبر ہے، یہ احتمال بغیر دلیل کے پیدا نہیں ہوا بلکہ کس کی وجہ سے پیدا ہوا ہے؟ باقاعدہ ایک شرعی دلیل کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، بات سمجھ میں آئی؟ تو ہم امام شافعی رحمہ اللہ سے کہتے ہیں بھئی، کہ آپ نے جو کہا کہ ہر عام سے تخصیص کا احتمال، ہر عام میں تخصیص کا احتمال ہے، یہ بغیر یہ احتمال بغیر دلیل کے ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں اور باقی وہ عام جس سے بعض افراد کو خاص کر لیا جائے، وہاں بھی احتمال تخصیص کا آتا ہے لیکن وہ احتمال کسی وجہ سے ہے؟ باقاعدہ ایک شرعی دلیل کی وجہ سے ہے، لہٰذا اس کا تو اعتبار ہے لیکن اس احتمال کا اعتبار نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ سو کہتے ہیں: "وَقَوْلُهُ: ”قَطْعِيًّا“ "اور ماتن کا قول جو ہے، یعنی "قَطْعِيًّا" "رَدٌّ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ"، یہ رد ہے امام شافعی رحمہ اللہ پر، اور میں نے بتلایا کہ جمہور فقہاء پر مولانا! جمہور فقہاء کے نزدیک بھی کیا ہے؟ عام کیا ہوتا ہے؟ ظنی ہوتا ہے۔ یہ رد ہے امام شافعی رحمہ اللہ پر "حَيْثُ ذَهَبَ" اس طور کہ وہ گئے ہیں "إِلَى أَنَّ الْعَامَّ ظَنِّيٌّ" کہ عام جو ہے وہ ظنی ہے "لِأَنَّهُ مَا مِنْ عَامٍّ إِلَّا وَقَدْ خُصَّ مِنْهُ الْبَعْضُ" اس لیے کہ کوئی بھی ایسا عام نہیں ہے مگر یہ کہ اس میں سے بعض افراد کو خاص کر لیا گیا ہے "فَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ مَخْصُوصًا مِنْهُ الْبَعْضُ وَإِنْ لَمْ نَقِفْ عَلَيْهِ"، نَقِفْ لفظ ہے بھئی! پس احتمال ہے کہ ہو سکتا ہے یہ عام جو ہے مخصوص ہو، اس میں سے بعض بھئی! یعنی بعض کو اس میں سے خاص کر لیا گیا ہو، بعض افراد کو "وَإِنْ لَمْ نَقِفْ عَلَيْهِ" اگرچہ ہم اس پر واقف نہ ہوں "فَيُوجِبُ الْعَمَلَ لَا الْعِلْمَ" تو جب یہ ظنی ہوا تو یہ عمل کو تو ثابت کرتا ہے، عمل کو تو واجب کرتا ہے "لَا الْعِلْمَ"، علم کو واجب... یعنی عمل تو کیا جائے گا وہ فرماتے ہیں ظنی ہو گیا، عمل تو کیا جائے گا لیکن اعتقاد واجب نہیں ہے "كَخَبَرِ الْوَاحِدِ وَالْقِيَاسِ" جیسے کہ خبر واحد اور قیاس ہیں، جنس سے وہ ظنی ہیں اسی طرح یہ عام بھی کیا ہے؟ ظنی ہے۔ "وَنَقُولُ" اور ہم کہتے ہیں "هَذَا احْتِمَالٌ نَاشِئٌ بِلَا دَلِيلٍ" کہ یہ احتمال پیدا ہوا ہے بغیر کسی دلیل کے "وَهُوَ لَا يُعْتَبَرُ" اور یہ معتبر نہیں ہے "وَإِذَا خُصَّ عَنْهُ الْبَعْضُ كَانَ احْتِمَالًا نَاشِئًا عَنْ دَلِيلٍ فَيَكُونُ مُعْتَبَرًا" اور جب مخصوص کر لیا جائے اس میں سے بعض افراد کو "كَانَ احْتِمَالًا نَاشِئًا عَنْ دَلِيلٍ" تو یہ ایسا احتمال ہے جو دلیل سے پیدا ہوا ہے "فَيَكُونُ مُعْتَبَرًا" تو یہ احتمال کیا ہے؟ معتبر ہوگا "فَعِنْدَنَا الْعَامُّ قَطْعِيٌّ" پس ہمارے نزدیک عام جو ہے وہ قطعی ہے "فَيَكُونُ مُسَاوِيًا لِلْخَاصِّ" پس یہ برابر ہوگا خاص کے۔ بھئی! خاص جیسے قطعی تھا، اسی طرح ہمارے نزدیک عام بھی کیا ہے؟ قطعی ہے۔ خاص کے اندر جیسے اعتقاد واجب تھا اور اسی طرح عمل بھی واجب تھا، اسی طرح عام کے اندر بھی اعتقاد بھی واجب ہے اور عمل بھی واجب ہے۔ تو لہذا یہ عام جو ہے وہ خاص کے مساوی ہوا "حَتَّى يَجُوزَ نَسْخُ الْخَاصِّ بِهِ"، یہاں تک کہ جائز ہے خاص کا نسخ "بِهِ" یعنی "بِالْعَامِّ"، "هٰذَا" ضمیر کا مرجع بتلا دیا، کس کے ذریعے خاص کا نسخ جائز ہے؟ عام کے ذریعے مولانا! عام کے ذریعے، یہاں تک کہ عام کے ذریعے خاص کا نسخ بھی جائز ہے، اس لیے کیونکہ آپ جانتے ہیں مولانا! کہ ناسخ جو ہے اس کے لیے ضروری ہے وہ منسوخ کے برابر ہو قوت کے اندر یا اس سے بہتر ہو۔ ایک حکم کو کیا قرار دیا جائے؟ ایک حکم کو منسوخ قرار دیا جا رہا ہے، دوسرے کو اس کے لیے ناسخ قرار دیا جا رہا ہے، تو یہ دوسرا یہ تب ہی ناسخ بن سکتا ہے جبکہ یہ دلیل بھی قوت کے اندر بھئی اس کے برابر ہو کم از کم یا اس سے بہتر ہو۔ اگر یہ ناسخ جسے آپ بنا رہے ہیں، کمزور درجے کی ہے دلیل بھئی! تو یہ پھر ناسخ نہیں بن سکتی مولانا! بات سمجھ میں آئی؟ جیسے آیت کے اندر ایک حکم آ گیا، اب خبر واحد کے ذریعے اس کو منسوخ قرار دینا صحیح نہیں ہے، بلکہ ضروری ہے مولانا! کہ جو دوسری دلیل جس کو آپ ناسخ بنا رہے ہیں، وہ منسوخ کے برابر ہونی چاہیے کم از کم، یا اس سے کیا ہونی چاہیے قوت کے اندر؟ اس سے زیادہ قوی ہو تو پھر اس صورت میں یہ ناسخ بن جائے گی بھئی! تو ہمارے نزدیک جیسے خاص قطعی تھا، اسی طرح عام بھی قطعی ہے، تو یہ اس کے برابر ہوا، لہذا عام کے ذریعے خاص کا نسخ جائز ہے مولانا! عام کے ذریعے خاص کا... کیونکہ یہ بھی قطعی ہے خاص کی طرح، تو یہ اس کے برابر درجے کا ہوا۔ تو کہتے ہیں: "حَتَّى يَجُوزَ نَسْخُ الْخَاصِّ بِهِ" یعنی "بِالْعَامِّ"، یہاں تک کہ خاص کا نسخ جائز ہے عام کے ذریعے "لِأَنَّهُ يُشْتَرَطُ فِي النَّاسِخِ أَنْ يَكُونَ مُسَاوِيًا لِلْمَنْسُوخِ أَوْ خَيْرًا مِنْهُ" اس لیے کہ شرط لگائی گئی ہے ناسخ کے اندر "أَنْ يَكُونَ مُسَاوِيًا لِلْمَنْسُوخِ" کہ وہ شرط ہے ناسخ کے اندر کہ وہ مساوی ہونا چاہیے منسوخ کے "أَوْ خَيْرًا مِنْهُ" یا اس سے بہتر ہونا چاہیے، یعنی اس سے قوی ہونا چاہیے بھئی! یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کوئی مشکل تو نہیں؟ جی آگے دیکھیے: "كَحَدِيثِ الْعُرَنِيِّينَ نُسِخَ بِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”اسْتَنْزِهُوا عَنِ الْبَوْلِ“" جیسے کہ عرنیین کی حدیث جو ہے وہ منسوخ ہے حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے: "اسْتَنْزِهُوا عَنِ الْبَوْلِ"، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: "اسْتَنْزِهُوا عَنِ الْبَوْلِ"، بچو تم پیشاب سے! تو یہ حدیث عرینہ جو ہے، حدیث عرنیین جو ہے وہ منسوخ ہے اس حدیث کی وجہ سے بھئی! یاد رکھیے! عرینہ ایک قبیلہ ہے عرب کا، اس قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ جو ہے مدینہ منورہ آئے مسلمان ہو کر، سات یا آٹھ افراد تھے، لیکن مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہ آئی اور یہ بیمار ہو گئے بھئی! ان کے رنگ زرد پڑ گئے اور ان کے پیٹ پھول گئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پھر حکم دیا کہ بھئی مدینہ منورہ کے پاس مسلمانوں کی جو صدقے کی اونٹنیاں ہیں، ان کے پاس جا کر رہیں اور ان اونٹنیوں کا دودھ بھی پیئیں اور ان کا پیشاب بھی پیئیں تو انہیں شفاء حاصل ہوگی بھئی! سمجھ میں آیا؟ حدیث میں آتا ہے بھئی: "اشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا" کہ تم لوگ پیو ان اونٹنیوں کے دودھ میں سے بھی اور ان کے... ان کے پیشاب میں سے بھی۔ جی تو یہ سات یا آٹھ افراد تھے بھئی، یہ وہاں جا... یہ مدینہ منورہ سے چھ میل کے فاصلے پر مسلمانوں کی صدقے کی اونٹنیاں تھیں وہاں رکھی جاتی تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ چرواہے بھی مقرر فرمائے تھے، یہ لوگ وہاں جا کر رہنے لگے اور جلدی انہیں اس طریقے سے شفاء حاصل ہو گئی، لیکن انہوں نے پھر یہ... بد عہدی کی بھئی! کہ وہ چرواہے کو قتل... چرواہے جو تھے ان کو قتل کر دیا اور اونٹنیوں کو بھگا کر لے گئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہوئی تو آپ نے صحابہ کو ان کے پیچھے دوڑایا کہ جاؤ بھئی انہیں پکڑ کر لے کر آؤ، صحابہ گئے بھئی اور انہیں پکڑ کر لے آئے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں اور ان کی آنکھیں گرم سلائیوں سے پھوڑ دی جائیں اور انہیں شدید گرمی کے اندر دھوپ میں بھئی ریت پر ڈال دیا جائے، چنانچہ ان کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا اور وہ تڑپ تڑپ کر سارے مر گئے بھئی! تڑپ تڑپ کر... اور ان کے ساتھ یہ سخت سلوک کس لیے کیا گیا؟ ہاتھ پاؤں تو اس لیے کاٹے گئے کیونکہ یہ ڈاکو تھے مولانا! اور ڈاکو کی یہی سزا ہے کہ اس کے ہاتھ پاؤں کو کاٹا جاتا ہے، اور ان کی آنکھوں میں... ان کی آنکھیں گرم سلائیوں سے پھوڑ دی گئیں اس لیے کیونکہ انہوں نے چرواہوں کے ساتھ اسی طرح کیا تھا، بڑے ظالمانہ طریقے سے ان کو قتل کیا تھا بھئی! ان کی آنکھوں میں اور ان کی زبان پر کانٹے چبھوئے تھے بھئی، کانٹے... کیکر کے کانٹے کبھی دیکھے ہیں آپ حضرات نے بھئی؟ بڑے بڑے کانٹے ہوتے ہیں بھئی! تو ان کی... انہوں نے بھی اسی طرح چرواہوں کو بڑے ظالمانہ طریقے سے قتل کیا تھا، چنانچہ ان کے ساتھ بھی اسی طرح کرنے کا حکم دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ اب دیکھیے بھئی! یہاں حدیث میں آیا بھئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ان سے کیا فرما رہے ہیں؟ "اشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا" کہ پیو تم ان اونٹنیوں کے دودھ میں سے بھی اور ان کے پیشاب میں سے بھی بھئی! تو دیکھیے یہ حدیث بھئی خاص ہے ابل کے پیشاب کے ساتھ، اور اس سے پتہ لگتا ہے کہ ابل کا جو پیشاب ہے، وہ طاہر ہے اور اس کا... اور حلال ہے مولانا! کیا ہے؟ حلال بھئی! اس کا پینا جائز ہے۔ سمجھ میں آیا؟ یہ حدیث کیا ہے؟ خاص ہے، کس چیز کے ساتھ؟ اونٹ کے پیشاب کے ساتھ، کہ معلوم ہو وہ کیا ہے؟ پاک ہے اور حلال ہے، اس کا پینا جائز ہے بھئی! جبکہ ایک دوسری حدیث ہے مولانا! اس حدیث میں آتا ہے، جیسے کہ متن میں آیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "اسْتَنْزِهُوا عَنِ الْبَوْلِ فَإِنَّ عَامَّةَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنْهُ"، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ پیشاب سے بچو اس لیے کیونکہ اکثر عذاب قبر اسی کی وجہ سے ہوتا ہے بھئی! اکثر عذاب قبر اسی کی وجہ سے ہوتا ہے بھئی! اب دیکھیے یہ حدیث مولانا عام ہے، اس میں کسی خاص چیز کے پیشاب کی... کا ذکر نہیں ہے، بلکہ کیا آیا؟ "اسْتَنْزِهُوا عَنِ الْبَوْلِ" کیا کرو؟ پیشاب سے بچو بھئی! تو اس میں جنس آیا مولانا! اس پر الف لام داخل ہوا محض، تو یہ شامل ہوا ہر پیشاب کو کہ ہر چیز کے پیشاب سے بچو۔ تو اور وہ پہلی حدیث کیا تھی؟ وہ خاص تھی، کس چیز کے ساتھ؟ اونٹ کے پیشاب کے ساتھ، اور یہ دوسری حدیث کیا ہے؟ یہ عام ہے "اسْتَنْزِهُوا عَنِ الْبَوْلِ"، اس کے اندر کسی خاص چیز کے پیشاب کا ذکر آیا؟ نہیں! بلکہ مطلق ہے مولانا! عام ہے، یہ ہر پیشاب کو شامل ہوئی، تو اب دیکھیے ایک طرف وہ خاص ہے اس سے پتہ لگ رہا ہے کہ یہ... اونٹ کا پیشاب کیا ہے؟ حلال ہے، چنانچہ اسی وجہ سے امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ماکول اللحم جانوروں کا پیشاب پاک ہے بھئی! وہ کیا فرماتے ہیں؟ وہ ماکول اللحم وہ جانور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے بھئی! اونٹ ہے، بھیڑ، بکری ہے، گائے وغیرہ، یہ ماکول اللحم جانور جو ہیں، ان کا پیشاب پاک ہے بھئی! جبکہ دوسری... تو یہ حدیث خاص ہے مولانا! پہلی حدیث جو ہے، جو اہل عرینہ والی ہے، اور دوسری حدیث عام ہے بھئی! تو ایک حدیث میں خاص آیا اور دوسری حدیث میں عام آیا، اور مسئلہ یہ ذکر ہو رہا ہے کہ عام جو ہے خاص کی طرح قطعی ہے مولانا! عام کیا ہے خاص کی طرح؟ قطعی ہے، لہذا عام کے ذریعے خاص کا نسخ جائز ہے، چنانچہ یہاں پر بھی ہم کہتے ہیں کہ یہ جو خاص جو ہے... حدیث ہے، تو اس کے لیے یہ عام حدیث کیا بن جائے گی؟ ناسخ بن جائے گی، کیونکہ عام بھی اسی درجے کا ہوتا ہے جس درجے کا خاص ہوتا ہے، لہذا عام کے ذریعے خاص کا نسخ جائز ہے، تو یہاں یہ دوسری حدیث اول کے لیے کیا بن جائے گی؟ ناسخ بن جائے گی بھئی! معلوم ہوا کہ ماکول اللحم جانوروں کا پیشاب بھی پاک نہیں ہے، کیونکہ دوسری حدیث میں کیا ہے؟ "اسْتَنْزِهُوا عَنِ الْبَوْلِ" پیشاب سے تم بچو، کیونکہ اکثر عذاب قبر کس کی وجہ سے ہوتا ہے؟ پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے بھئی، پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے۔ تو یہ حدیث عام ہے، اس میں کس... اس میں ماکول اللحم اور غیر ماکول اللحم کی کوئی قید موجود نہیں ہے، معلوم ہوا یہ ماکول اللحم جانوروں کے پیشاب کو بھی شامل ہے اور غیر ماکول اللحم جانوروں کے پیشاب کو بھی شامل ہے، تو یہ عام حدیث جو ہے، یہ ناسخ بن جائے گی پہلی خاص حدیث کے لیے بھئی! جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی! خاص تو قطعی ہوتا ہے، لیکن عام قطعی نہیں، لہذا دوسری حدیث پہلی کے لیے ناسخ بھی نہیں بن سکتی بھئی! مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ بس مسئلہ صرف اتنا ہی بیان ہوگا، اسی کی شارح تفصیل بیان کریں گے کہ پہلی حدیث خاص ہے، دوسری حدیث عام ہے، اور عام بھی خاص کی طرح قطعی ہوتا ہے، لہذا اس عام کے ذریعے پہلے خاص... وہ عام جو ہے خاص کے لیے کیا بن جائے گا؟ ناسخ بن جائے گا، کیونکہ دونوں برابر درجے کے ہیں، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک میں نے بتلایا، یہ عام خاص کے لیے ناسخ نہیں بن سکتا، اس لیے کیونکہ ان کے نزدیک خاص تو قطعی ہے، لیکن عام کیا ہے؟ ظنی ہے، لہذا ظنی قطعی کے لیے ناسخ نہیں بن سکتا، بلکہ ناسخ کے لیے ضروری ہے کہ وہ منسوخ ہی کے درجے کا ہو یا اس سے زیادہ قوی ہو بھئی! مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اب دیکھیے مولانا کتاب پر بھئی! "كَحَدِيثِ الْعُرَنِيِّينَ نُسِخَ بِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”اسْتَنْزِهُوا عَنِ الْبَوْلِ“" جیسے کہ حدیث عرنیین جو ہے وہ منسوخ ہے حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے: "اسْتَنْزِهُوا عَنِ الْبَوْلِ" کہ تم لوگ بچو پیشاب سے! "وَعُرَنِيُّونَ قَبِيلَةٌ يُنْسَبُونَ إِلَى عُرَيْنَةَ تَصْغِيرُ عَرَنَةَ الَّتِي هِيَ وَادٍ بِعَرَفَاتٍ" اور عرنیون یہ قبیلہ ہے جو منسوب ہے عرینہ کی طرف بھئی، تصغیر عرنہ، یہ تصغیر ہے عرنہ کی "الَّتِي هِيَ وَادٍ بِعَرَفَاتٍ" جو کہ ایک وادی ہے عرفات کے اندر بھئی! عرفات کے اندر ایک وادی ہے عرنہ بھئی! تو اسی کی تصغیر عرینہ ہے مولانا! جو قبیلے کا نام ہے، اور اس قبیلے والوں کو کیا کہیں گے؟ عرنی بھئی! سمجھ میں آیا؟ عرنی! جیسے جہینہ قبیلہ ہے، اس قبیلے والوں کو کیا کہتے ہیں؟ جہنی بھئی! بالکل اسی طرح منسوب ہے۔ "وَحَدِيثُهُمْ مَا رَوَى أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ"، جی! "رَحِمَهُ اللهُ" ہے؟ "رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" ہونا چاہیے بھئی! صحابی ہیں۔ انس، نون پر بھی فتحہ ہے، یاد رکھنا! اور ان کی حدیث جو ہے، وہ جو روایت کی ہے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے "أَنَّ قَوْمًا مِنْ عُرَيْنَةَ أَتَوُا الْمَدِينَةَ" کہ ایک قوم جو... عرینہ میں سے، یعنی کچھ لوگ جو ہیں عرینہ میں سے "أَتَوُا الْمَدِينَةَ" وہ مدینہ منورہ آئے "فَلَمْ تُوَافِقْهُمْ" پس وہ مدینہ ان کو موافق نہ آیا "فَاصْفَرَّتْ أَلْوَانُهُمْ" پس زرد ہو گئے ان کے رنگ "وَانْتَفَخَتْ بُطُونُهُمْ" اور پھول گئے ان کے پیٹ "فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنْ يَخْرُجُوا إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ وَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا" تو حکم دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہ وہ نکلیں صدقے کے اونٹوں کی طرف اور پیئیں ان... ان کے دودھ میں سے بھی اور ان کے پیشاب میں سے بھی "فَصَحُّوا" تو وہ تندرست ہو گئے "ثُمَّ ارْتَدُّوا" پس پھر وہ مرتد ہوئے "فَقَتَلُوا الرُّعَاةَ" پس انہوں نے چرواہوں کو قتل کر دیا، رعاة جمع ہے راعی کی، پس انہوں نے چرواہوں کو قتل کر دیا "وَسَاقُوا الْإِبِلَ" اور ہانک لے گئے اونٹوں کو، اونٹوں کو ہانکا بھئی! یعنی انہیں لے گئے، دیکھا ان کے رنگ زرد پڑ گئے اور پیٹ پھول گئے بھئی! مدینہ منورہ یاد... یاد رکھیے مدینہ منورہ کی مثال بھٹی کی طرح ہے بھئی! جیسے بھٹی میں کسی... کسی دھات کے اندر میل کچیل کو نہیں چھوڑتی، اس سے دور کر دیتی ہے میل کچیل کو، جیسے سونے کو پگھلایا جائے میل کچیل کو اس سے الگ کر لیا جاتا ہے، تو اسی طرح مدینہ کی مثال بھی بھٹی کی طرح ہے، یہ بھی اپنے اندر میل کچیل کو برداشت نہیں کرتا، اس کو الگ کر دیتا ہے، تو یہ لوگ جو تھے دیکھو یہ بد باطن لوگ تھے، تو ان کو بھی مدینہ نے اپنے اندر نہیں رہنے دیا، یہ بیمار ہو گئے بھئی! انہیں نکلنا پڑا وہاں سے۔ تو کہتے ہیں انہوں نے اونٹ چرواہوں کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک لے گئے "فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَثَرِهِمْ قَوْمًا" پس بھیجا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے قوم کو "فَأُخِذُوا" پس ان کو پکڑا گیا "فَأَمَرَ بِقَطْعِ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلِهِمْ وَسَمْلِ أَعْيُنِهِمْ وَتَرْكِهِمْ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ حَتَّى مَاتُوا" پس حکم... حکم دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کے کاٹنے کا اور ان کی... سمل کہتے ہیں پھوڑنا، اور ان کی آنکھوں کے پھوڑنے کا، "وَتَرْكِهِمْ"، سَمْلِ أَعْيُنِهِمْ، قَطْعِ پر عطف ہے مولانا! بِقَطْعِ أَيْدِيهِمْ وَبِسَمْلِ أَعْيُنِهِمْ وَتَرْكِهِمْ، اس کا بھی اسی پر عطف ہے "وَتَرْكِهِمْ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ" اور ان کے چھوڑ دینے کا حکم دیا، سخت گرمی کے اندر "حَتَّى مَاتُوا" یہاں تک کہ وہ مر گئے بھئی! یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ "فَهَذَا حَدِيثٌ خَاصٌّ بِبَوْلِ الْإِبِلِ" پس یہ حدیث جو ہے خاص ہے، کس کے ساتھ؟ ابل کے... یعنی اونٹ کے پیشاب کے ساتھ "يَدُلُّ عَلَى طَهَارَتِهِ وَحِلِّهِ" دلالت کرتی ہے یہ حدیث اونٹ کے پیشاب کے پاک ہونے پر، اور اس کے حلال ہونے پر "وَبِهِ تَمَسَّكَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللهُ فِي أَنَّ بَوْلَ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ طَاهِرٌ وَيَحِلُّ شُرْبُهُ لِلتَّدَاوِي وَغَيْرِهِ" اور اسی کے ذریعے استدلال کیا ہے امام محمد رحمہ اللہ نے کہ پیشاب اس جانور کا جس کے گوشت کو کھایا جاتا ہے "طَاهِرٌ" وہ کیا ہے؟ پاک۔ وہ پاک ہے ”وَيَحِلُّ شُرْبُهُ لِلتَّدَاوِي وَغَيْرِهِ“ اور حلال ہے اس کا پینا علاج کے وغیرہ کے لیے، بطورِ علاج وغیرہ کے اس کا پینا جائز ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ اسی حدیث سے استدلال کرتے ہیں۔ ”وَعِنْدَهُمَا“ اور شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ”هُوَ مَنْسُوخٌ بِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ اسْتَنْزِهُوا مِنَ الْبَوْلِ“ کہ یہ جو ہے مولانا، یہ حدیث منسوخ ہے حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے ”اسْتَنْزِهُوا مِنَ الْبَوْلِ“ کہ بچو تم لوگ پیشاب سے، سمجھ میں آیا بھئی؟ ”وَهُوَ عَامٌّ لِمَأْكُولِ اللَّحْمِ وَغَيْرِهِ“ اور یہ حدیث عام ہے یہ جی ”لِمَأْكُولِ اللَّحْمِ وَغَيْرِهِ“ ماکول اللحم کے لیے بھی اور ماکول اللحم اور غیرِ ماکول اللحم عام، ان سب کو شامل ہے۔ ”فَقَدْ نُسِخَ الْخَاصُّ بِهَذَا الْعَامِّ“ پس تحقیق منسوخ کر دیا خاص کو اس عام کے ذریعہ۔ ”فَبَوْلُ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ وَغَيْرُهُ كُلُّهُ نَجَسٌ حَرَامٌ“ پس پیشاب اس جانور کا جس کے گوشت کو کھایا جاتا ہے وغیرہِ اور اس کے علاوہ کا یعنی جن کا گوشت نہیں کھایا جاتا ”كُلُّهُ“ سب کے سب جو ہیں ”نَجَسٌ حَرَامٌ“ وہ کیا ہیں؟ نجس ہیں، حرام ہیں۔ ”لَا يَحِلُّ شُرْبُهُ وَاسْتِعْمَالُهُ لِلتَّدَاوِي وَغَيْرِهِ“ حلال نہیں ہے ان کا پینا اور ان کا استعمال کرنا بطورِ علاج کے علاج وغیرہ کے طور پر اس کا استعمال اور اس کا پینا حلال نہیں ہے ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ“ رحمہ اللہ، کس کے نزدیک؟ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔ ”وَيَحِلُّ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ فِي التَّدَاوِي لِلضَّرُورَةِ عَلَى مَا عُرِفَ“ اور حلال ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ”فِي التَّدَاوِي“ کس کے اندر؟ دوا کے طور یعنی علاج کے طور پر ”لِلضَّرُورَةِ“ بنا بر ضرورت کے ”عَلَى مَا عُرِفَ“ بنا بر اس کے جیسا کہ جانا گیا، یعنی جیسا کہ آپ فقہ میں جان چکے ہیں بھئی۔ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک تو کیا ہے؟ ماکول اللحم جانوروں کا پیشاب پاک ہے، حلال ہے۔ جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک نجس ہے نجس ہے، حرام ہے، نہ ویسے استعمال جائز، نہ بطورِ علاج کے بطورِ علاج کے بھی اس کا استعمال جائز نہیں۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ ویسے تو یہ نجس، حرام ہے لیکن ضرورت کی بنا پر کیا ہو جائے گا؟ حلال ہو جائے گا، بطورِ دوا کے اس کا استعمال کرنا جائز ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آئی بھئی؟ اب یہ جو دوسری حدیث ہے مولانا ”اسْتَنْزِهُوا مِنَ الْبَوْلِ“، اس کا واقعہ بھی ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَقِصَّةُ هَذَا الْحَدِيثِ النَّاسِخِ مَا رُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ اور اس ناسخ حدیث کا قصہ وہ جو روایت کیا گیا ہے حضور علیہ السلام جو ہے ”لَمَّا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ صَحَابِيٍّ صَالِحٍ“ کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے ایک نیک صحابی کے دفن سے ”ابْتُلِيَ بِعَذَابِ الْقَبْرِ“۔ اچھا، ”لَمَّا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ صَحَابِيٍّ صَالِحٍ“ جب فارغ ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے نیک صحابی کے دفن سے ”ابْتُلِيَ بِعَذَابِ الْقَبْرِ“ تو اس کو مبتلا کر دیا گیا کس میں؟ عذابِ اس کو مبتلا کیا گیا عذابِ قبر میں۔ تو ”فَجَاءَ إِلَى امْرَأَتِهِ“ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بیوی کے پاس تشریف لائے ”فَسَأَلَهَا عَنْ أَعْمَالِهِ“ پوچھا جو ہے اس کے عمل کے بارے میں پوچھا کہ یہ کیا عمل کرتے تھے؟ کیا کرتے تھے کہ ان کو عذابِ قبر میں مبتلا کر دیا گیا ہے؟ ”فَقَالَتْ“ تو بیوی کہنے لگی: ”كَانَ يَرْعَى الْغَنَمَ“ کہ یہ جو ہیں غنم بھیڑ بکری کو کہتے ہیں جیسے میں نے بتلایا شاة کا لفظ بھی کیا ہے؟ بھیڑ بکری دونوں پر بولا جاتا ہے، وہ بیوی کہنے لگی ”كَانَ يَرْعَى الْغَنَمَ“ کہ یہ بھیڑ بکریاں چراتے تھے ”وَلَا يَتَنَزَّهُ مِنْ بَوْلِهِ“ اور بچتے نہیں تھے ان کے پیشاب سے، یعنی اس میں احتیاط نہیں کرتے تھے۔ ”فَحِينَئِذٍ قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ تو اس وقت حضور علیہ السلام نے کہا فرمایا: ”اسْتَنْزِهُوا مِنَ الْبَوْلِ فَإِنَّ عَامَّةَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنْهُ“ کہ تم لوگ پیشاب سے بچو، اس لیے کہ اکثر عذابِ قبر اسی سے ہوتا ہے۔ ”فَهُوَ بِحَسَبِ شَأْنِ النُّزُولِ أَيْضًا خَاصٌّ“۔ اچھا، یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ بھئی آپ نے کہا یہ حدیث عام ہے لیکن پھر تو یہ حدیث بھی خاص ہوئی بھئی، اس میں بھی تو ماکول اللحم جانور کے پیشاب مراد ہے بھئی، کیا مراد ہے؟ کس سے دیکھو نا کہ ذکر آیا کہ یہ بھیڑ بکریاں چراتے تھے اور ان کے پیشاب سے احتیاط نہیں کرتے تھے، تو معلوم ہوا یہ تو انہی کے بارے میں حضور فرما رہے ہیں ”اسْتَنْزِهُوا عَنِ الْبَوْلِ“۔ تو شارح اس کو کیسے کہہ رہے ہیں؟ کہتے ہیں بھئی ٹھیک ہے اگرچہ شانِ نزول کے اعتبار سے یہ حدیث خاص ہے۔ شانِ نزول کہتے ہیں وہ خاص سبب، وہ خاص جزئی واقعہ جس کی وجہ سے آپ کوئی آیت نازل ہوئی بھئی۔ تو کہتے ہیں اگرچہ یہ حدیث بھی شانِ نزول کے اعتبار سے کیا ہے؟ خاص، تو اس جزئی واقعے کے اعتبار سے خاص ہے، لیکن اعتبار تو جو ہے وہ عمومِ الفاظ کا اعتبار ہوگا، حدیث کے اندر جو لفظ ہیں ان کا اعتبار کیا جائے گا اگرچہ شانِ نزول خاص ہے۔ اس حدیث کے ورود کا سبب کیا ہے؟ ایک خاص واقعہ ہے، لیکن اعتبار الفاظ کا کیا جائے گا اور حدیث میں جو الفاظ آئے ہیں وہ عام ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ ”اسْتَنْزِهُوا عَنِ الْبَوْلِ“، دیکھو یہاں ماکول اللحم کا ذکر موجود ہے؟ نہیں، مطلق بول کا ذکر آیا، یہ شامل ہے بولِ ماکول اللحم کو بھی اور اس کے علاوہ سب کو مولانا، تو اعتبار عمومِ الفاظ کا ہے، وہ خصوصِ سبب کا اعتبار نہیں۔ ”فَهُوَ بِحَسَبِ شَأْنِ النُّزُولِ أَيْضًا خَاصٌّ بِبَوْلِ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ“ تو یہ حدیث شانِ نزول کے اعتبار سے یہ بھی خاص ہے ”بِبَوْلِ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ“ کس چیز کے ساتھ خاص ہے؟ ماکول اللحم کے بول کے ساتھ ”كَمَا كَانَ الْمَنْسُوخُ خَاصًّا بِهِ“ جیسے کہ منسوخ خاص تھا اسی کے ساتھ ”وَلَكِنَّ الْعِبْرَةَ لِعُمُومِ اللَّفْظِ“ لیکن اعتبار جو ہے وہ عمومِ لفظ کا ہے ”وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَى كَوْنِ حَدِيثِ الْعُرَنِيِّينَ مَنْسُوخًا بِهَذَا الْحَدِيثِ“۔ یہاں سے دراصل مصنف جو ہیں ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں بھئی۔ وہ کہتے ہیں وہ وہ چیز جو دلالت کرتی ہے اس بات پر کہ حدیثِ عرنیین منسوخ ہے اس حدیث کے ذریعہ ”أَنَّ الْمُثْلَةَ الَّتِي تَضَمَّنَهَا حَدِيثُ الْعُرَنِ“ بھئی پہلے مثلہ سمجھ لو بھئی۔ مثلہ، مثلہ کہتے ہیں بھئی شکل و صورت کو بگاڑ دینا۔ مثلہ کسے کہتے ہیں؟ شکل و صورت کو بگاڑ دینا بھئی، کہ کسی شخص کے انسان اس کی ناک، کان، آنکھیں، ہونٹ وغیرہ کاٹ کر اس کا حلیہ بگاڑ دیتا ہے، اس کو کہتے ہیں مثلہ بھئی، کیا کہتے ہیں؟ اس کو مثلہ کہتے ہیں بھئی۔ اور دیکھیے، اس حدیث سے اہلَ عرینہ کی جو حدیث ہے اس میں مثلہ کیا گیا، وہ جن کو پکڑا گیا تھا ان کا کیا کیا گیا؟ مثلہ کیا گیا، ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئیں بھئی۔ اور مثلہ بالاتفاق منسوخ ہے بھئی، مثلہ کیا ہے؟ بالاتفاق، ابتدائے اسلام میں تو جائز تھا بعد میں کیا کر دیا گیا اسے؟ منسوخ کر دیا گیا۔ تو کہتے ہیں شارح فرماتے ہیں کہ وہ چیز جو دلالت کرتی ہے اس بات پر کہ حدیثِ عرنیین منسوخ ہے وہ یہ کہ مثلہ جو ہے مثلہ، جو جس کا ذکر اس حدیثِ اہلِ عرینہ میں آیا تھا مولانا، وہ مثلہ بالاتفاق منسوخ ہے۔ جب وہ منسوخ ہے معلوم ہوا کہ وہ جو ساتھ دوسرا حکم بیان ہوا وہ بھی کیا ہے؟ کون سا دوسرا حکم بیان ہوا تھا؟ ”اشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا“ وہ بھی منسوخ ہوا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَى كَوْنِ حَدِيثِ الْعُرَنِيِّينَ مَنْسُوخًا بِهَذَا الْحَدِيثِ“۔ یہاں سے دراصل مصنف جو ہیں ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں بھئی۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ آپ نے حدیث ”اسْتَنْزِهُوا عَنِ الْبَوْلِ“ جو ہے اس کو ناسخ قرار دیا اور حدیث ”اشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا“ کو منسوخ قرار دیا، لیکن ناسخ تو اس کو تبھی قرار دیا جا سکتا ہے جب تاریخ کا علم ہو، یہ علم ہو کہ ”اشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا“ حدیث مقدم تھی اور یہ ”اسْتَنْزِهُوا عَنِ الْبَوْلِ“ کیا ہے؟ مؤخر ہے، تبھی اس کو ناسخ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ علم ہی نہ ہو تو پھر اس کو ناسخ قرار بھی نہیں دیا جا سکتا۔ تو شارح فرماتے ہیں بھئی کہ یہ جو حدیثِ عرنیین کے منسوخ ہونے پر یہ چیز بھی دلالت کرتی ہے کہ اس حدیث کے اندر مثلے کا ذکر آیا ہے اور مثلہ بالاتفاق منسوخ ہے، جب مثلہ منسوخ ہے تو ”اشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا“ بھی کیا ہوا؟ منسوخ ہوا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ جب حدیث کا ایک جز منسوخ ہے معلوم ہوا دوسرا جز بھی کیا ہے؟ منسوخ ہے بھئی، تو یہ چیز دلیل ہے اس بات کی کہ وہ پہلا حکم بھی کیا ہو چکا ہے؟ منسوخ، دوسرا حکم بالاتفاق منسوخ ہے تو پہلا حکم بھی منسوخ ہے بھئی۔ مگر بعض علماء نے اس جواب کو پسند نہیں فرمایا بھئی، اس لیے کیونکہ اس حدیث کے اندر دو حکم ہیں مولانا، ایک ”اشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا“ اور دوسرا کس چیز کا ذکر موجود ہے؟ مثلے کا ذکر موجود ہے، تو یہ دو الگ الگ حکم ہوئے اور ایک حکم کے منسوخ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ دوسرا حکم بھی کیا ہو؟ منسوخ ہو، تو یہ دلیل کے طور یہ کوئی قوی دلیل نہیں ہے بھئی، ایک حکم منسوخ ہو، ہو سکتا ہے بھئی ایک ہی منسوخ ہوا ہے دوسرا منسوخ نہ ہوا ہو بھئی، تو یہ کوئی قوی جواب نہیں بھئی۔ تو اور علماء نے بہت سے جوابات دیے ہیں مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ بہت سے جوابات دیے ہیں۔ ایک جواب یہ مولانا کہ وہ حدیثِ عرینہ جو ہے وہ وہ مبیح ہے مولانا، مبیح، اس سے اباحت کا پتہ چلتا ہے۔ اور حدیث ”اسْتَنْزِهُوا عَنِ الْبَوْلِ“ یہ حدیث محرم ہے مولانا، اس سے حرمت کا پتہ چلتا ہے، ”اسْتَنْزِهُوا عَنِ الْبَوْلِ“ پیشاب سے بچو، تو اس سے کس چیز کا پتہ لگا؟ حرمت کا، تو پہلی حدیث ہوئی مبیح، دوسری حدیث کیا ہوئی؟ محرم، اور مسلمہ قانون ہے کہ عند التعارض محرم کو ترجیح ہوتی ہے مبیح پر بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ علمِ حدیث کا مسلمہ قانون ہے مولانا کہ عند التعارض مبیح پر محرم کو ترجیح ہوتی ہے کیونکہ احتیاط اسی میں ہے، ایک سے اباحت کا پتہ چل رہا ہے، ایک سے حرمت کا پتہ چل رہا ہے، تو احتیاط یہ ہے کہ کس پر عمل کیا جائے؟ حرمت پر عمل کر لیا جائے بھئی۔ نیز شارح نے جواب دیا بھئی کہ مثلے کے منسوخ ہونے سے پتہ چلا کہ باقی حصہ بھی حدیث کا کیا ہے؟ منسوخ ہے کیونکہ تقدم و تاخر کا علم نہیں ہے، کون سی حدیث مقدم ہے اور کون سی مؤخر، تاریخ کا علم نہیں، لیکن بہرحال مثلے کے منسوخ ہونے سے پتہ چل گیا کہ دوسرا حصہ بھی کیا ہے حدیث کا؟ منسوخ ہے مولانا۔ لیکن حق یہ ہے مولانا کہ یہ حدیثِ عرینہ مقدم ہے اس لیے کیونکہ یہ واقعہ چھ ہجری میں پیش آیا بھئی، چھ ہجری میں اہلِ عرینہ کا واقعہ پیش آیا بھئی۔ اور ”اسْتَنْزِهُوا عَنِ الْبَوْلِ“ بھئی یہ حدیث یہ روایت ہے مولانا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے، اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ مؤخر الاسلام ہیں بھئی، وہ آخر زمانے میں اسلام لائے ہیں، سن سات ہجری میں وہ مسلمان ہوئے ہیں بھئی۔ تو اہلِ عرینہ کا واقعہ چھ ہجری میں پیش آیا اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سات ہجری میں مسلمان ہوئے ہیں، اور یہ ”اسْتَنْزِهُوا عَنِ الْبَوْلِ“ کی حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، معلوم ہوا یہ حدیث مؤخر ہے، اور جب یہ مؤخر ہے تو اس مقدم کے لیے کیا بن سکتی ہے؟ ناسخ بن سکتی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، تو کہتے ہیں: ”وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَى كَوْنِ حَدِيثِ الْعُرَنِيِّينَ مَنْسُوخًا بِهَذَا الْحَدِيثِ“ اور وہ چیز جو دلالت کرتی ہے حدیثِ عرنیین کے منسوخ ہونے پر اس حدیث کے ذریعہ ”أَنَّ الْمُثْلَةَ الَّتِي تَضَمَّنَهَا حَدِيثُ الْعُرَنِيِّينَ مَنْسُوخَةٌ بِالإِتِّفَاقِ“ اس لیے کہ وہ مثلہ جس کو متضمن ہے حدیثِ عرنیین، یعنی جس کا ذکر حدیثِ عرنیین میں آیا ہے وہ منسوخ ہے بالاتفاق ”لأَنَّهَا كَانَتْ فِي ابْتِدَاءِ الإِسْلَامِ“ اس لیے کیونکہ مثلہ کس میں تھا؟ ابتدائے اسلام میں جائز تھا، اس کے بعد اس کو ممنوع قرار دے دیا گیا بھئی ہمیشہ کے لیے۔ جی، تفصیل کا پتہ چل گیا آپ کو بھئی؟ بھئی دیکھیے، اس حدیث کا قصہ یہ ہے، تفصیل یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں پر گزرے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے ذکر کیا کہ ان قبر والوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، چنانچہ آپ نے درخت سے دو شاخیں لیں اور اور ان شاخوں میں سے ایک کو ایک قبر پر لگا دیا اور دوسری کو دوسری قبر پر لگا دیا اور فرمایا کہ امید ہے ان کے خشک ہونے تک ان سے عذاب کم کر دیا جائے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سبز شاخیں ان درختوں پر ان قبروں پر لگا دیں تاکہ ان سے کیا کر دیا جائے عذاب کو کم کر دیا جائے یا ختم کر دیا جائے۔ اب یہ اس طرح کا واقعہ یاد رکھیے دو تین قسم کئی احادیث میں آتا ہے، تو بعض علماء فرماتے ہیں یہ ایک ہی واقعہ ہے، تھوڑا بہت ان میں فرق آتا ہے حدیث کے اندر۔ لیکن علماء فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ ایک واقعہ نہیں ہے، دو تین مرتبہ اس طرح کا واقعہ پیش آیا، دو تین، بعض کہتے ہیں ایک ہی واقعہ ہے، بعض کیا کہتے ہیں؟ دو تین واقعے پیش آئے اس طرح کے بھئی۔ پھر اس کے اندر بھی اختلاف ہے مولانا کہ یہ کفار کی قبریں تھیں یا مسلمانوں کی قبریں تھیں؟ بعض تو کہتے ہیں کفار کی قبریں تھیں، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ویسے بطورِ شفقت کے بھئی کیا فرما دیا؟ ان پر شاخ لگا دی کہ چلو کچھ دیر کے لیے کیا ہو جائے اس سے عذاب کم ہو جائے بھئی۔ لیکن جمہور محدثین کہتے ہیں نہیں، یہ مسلمانوں کی قبریں تھیں بھئی، مسلمانوں کی قبریں تھیں۔ پھر یاد رکھیے اس کے بارے میں بعض روایات میں آتا ہے کہ ان میں سے ایک قبر حضرت سعد ابن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کی تھی، جو قبیلہ اوس کے سردار تھے بھئی، انصار جو تھے مدینہ منورہ کے، انصار کے دو بڑے قبیلے تھے: اوس اور خزرج، اس میں سے اوس کے جو سردار تھے ان کا کیا نام تھا؟ حضرت سعد ابن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ، اور یہ بڑے جلیل القدر صحابی ہیں مولانا، تو بعض روایات میں آتا ہے کہ ان میں سے ایک قبر کس کی تھی؟ حضرت سعد ابن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کی تھی، اور اسی وجہ سے دیکھیے بھئی شارح کیا فرماتے ہیں؟ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب فارغ ہوئے ”مِنْ دَفْنِ صَحَابِيٍّ صَالِحٍ“ کس سے؟ ایک نیک صحابی کے دفن سے فارغ ہوئے۔ لیکن مولانا علماء نے لکھا ہے کہ یہ بات درست نہیں ہے بھئی، حضرت سعد ابن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ وہ تو بڑے جلیل القدر صحابی ہیں بھئی، یہاں تک کہ حدیث میں آتا ہے کہ جب ان کا انتقال ہوا تو ان کی موت کی وجہ سے عرشِ الٰہی جو ہے وہ لرزنے لگا تھا بھئی، اور ان کے جنازے کے اندر ہزارہا فرشتے نازل ہوئے تھے بھئی، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کے دفن کے وقت موجود تھے، حضور نے پڑھایا بھئی جنازہ، سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ موجود تھے۔ لہذا کہتے ہیں یہ کہنا کہ ان میں سے ایک، تو یہ صحابی کون تھے؟ حضرت سعد ابن معاذ، نہیں بھئی، یہ درست نہیں ہے بھئی، علامہ ابن حجر نے بڑی سختی سے اس کی تردید کی ہے کہ یہ یہ حضرت سعد ابن معاذ نہیں ہو سکتے بھئی۔ اور پھر نیز اس لیے بھی نہیں ہو سکتے مولانا کہ یہ جو قبر میں دفن کیے گئے تھے حضور علیہ السلام ان کے دفن کے وقت موجود نہیں تھے۔ چنانچہ بعض روایات میں آتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قبریں نئی بنی ہوئی تھیں، حضور نے پوچھا صحابہ سے: ”مَنْ دَفَنْتُمُ الْيَوْمَ هَاهُنَا؟“ آج تم نے کس کو یہاں دفنایا؟ حضور نے باقاعدہ پوچھا، تو جبکہ حضرت سعد کے جنازے میں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود موجود تھے۔ تو معلوم ہوا ان قبروں کے دفن کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہیں تھے، جبکہ حضرت سعد ابن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کے دفن کے وقت تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود موجود تھے، تو تو یہ انصار میں سے کوئی اور مسلمان تھے جن کو عذاب قبر ہو رہا تھا بھئی۔ তো یہاں شارح کہتے ہیں بھئی انہ علیہ السلام لما فرغ من دفن صحابی صالح۔ شارح کی عبارت سے یہ معلوم ہو رہا ہے بھئی کہ حضور علیہ السلام دفن کے وقت موجود ہیں جب حضور علیہ السلام کیا ہوئے؟ فارغ ہوئے اس کے دفن سے تو اسے عذاب قبر میں مبتلا کر دیا گیا لیکن میں نے بتایا بھئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دفن کے وقت موجود ہی نہیں تھے بلکہ میں نے حدیث کے باقاعدہ الفاظ ذکر کر دیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا من دفنتم الیوم ہاہنا آج تم نے کس کو یہاں دفن نہیں نہیں قبریں تھیں حضور نے پوچھا کن کو یہاں دفن کیا کہ وہ عذابِ قبر میں مبتلا ہے بھئی۔ چلیے بس مولانا ہذا واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
113 approved lectures · 35 of 113