النهي عن التأفیف يوقف به على حرمة الضرب بدون الاجتهاد، في المثال مسامحة، والأولى أن يقول: كحرمة الضرب الذي يوقف عليه من النهي عن التأفیف، والمقصود واضح.
گزشتہ سبق کے آخر میں آپ نے دلالۃ النص پڑھا بھئی۔ ثابت بدلالۃ النص بھئی، دلالۃ النص سے جو حکم ثابت ہو اس کی بحث تھی بھئی۔
آگے اب اس کی مثال ذکر کر رہے ہیں "النهي عن التأفیف" جیسے کہ اف کہنے سے کہ نہی ہے، اف کہنے سے جو روکا گیا ہے، "يوقف به" واقف ہوا جاتا ہے اس کے ذریعے "على حرمة الضرب" کس چیز پر؟ جب اف کہنے سے روکا گیا ہے تو اسی سے پتہ چلتا ہے، اسی کے ذریعے واقفیت ہوتی ہے، کس چیز پر؟ حرمتِ ضرب پر، "بدون الاجتهاد" بغیر کسی اجتہاد کے۔
عربی زبان جاننے والا خود ہی یہ بات سمجھ جاتا ہے کہ جب اف کہنے سے بھی منع کیا گیا ہے تو ضرب و شتم سے بطریقِ اولى منع کیا گیا ہے بھئی۔
"في المثال مسامحة" کہتے ہیں شارح: مثال کے اندر مسامحت ہے۔ بھئی، بحث کس کی چل رہی ہے؟ "الثابت بدلالة النص" وہ چیز جو کس کے ذریعے ثابت ہو؟ دلالۃ النص۔ تو، جی، یہاں لے کر آئے كاف۔ كاف مثل کے معنی میں ہے۔
اور تو یہ مثال ہوئی۔ اور کس کی مثال ہوئی؟ دلالۃ النص کی، اور دلالۃ النص کی کیا مثال ہے؟ النهي عن التأفیف، یہ دلالۃ النص سے معلوم ہو رہی ہے یا حرمتِ ضرب معلوم ہو رہی ہے؟ حرمتِ النهي عن التأفیف، یہ تو براہِ راست عبارت سے معلوم ہو رہا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دلالۃ النص سے کس چیز کا پتہ چلا؟ حرمتِ ضرب کا پتہ چلا۔
تو یوں کہنا چاہیے تھا، انہوں نے کہا "كالنهي عن التأفیف" جیسے کہ النهي عن التأفیف ہے، یعنی یہ مثال کس کی ہے؟ دلالۃ النص کی، حالانکہ یہ دلالۃ النص کی مثال یہ نہیں بلکہ آگے جو حرمتِ ضرب، تو اسی لیے کہا "والأولى" بہتر یہ تھا "أن يقول" یوں کہتے مصنف: "كحرمة الضرب" تاکہ بھئی مثال ممثل لہ کے مطابق ہو جائے بھئی۔ یہ مثال ہے دلالۃ النص کے لیے جو چیز ثابت ہوئی۔ "كحرمة الضرب الذي" جیسے کہ اس ضرب کی حرمت "يوقف عليه" جس پر واقف ہوا جاتا ہے "من النهي عن التأفیف" کس کے ذریعے؟ النهي عن التأفیف، النهي عن التأفیف کے ذریعے پتہ چلتا ہے حرمتِ ضرب کا۔
"والمقصود واضح" اور مقصد کیا ہے؟ واضح۔
تو کہتے ہیں یہ مثال کے اندر مصنف نے چشم پوشی کی اور وسعت سے کام لیتے ہوئے اس انداز میں عبارت کو ذکر کر دیا۔ ہونا یوں چاہیے تھا "كحرمة الضرب" کے طریقے پر عبارت ہونی چاہیے تھی، لیکن بہرحال کہتے ہیں "بل المقصود واضح" مقصد کیا ہے؟ واضح ہے، لہذا کوئی حرج نہیں اس کے اندر بھئی۔
یعنی أن قوله تعالى، یعنی کہ اللہ تعالی کا قول جو ہے "فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ" کہ اپنے والدین کو اف بھی نہ کہو، "معناه الموضوع له" اس کا معنیِ موضوع لہ کیا ہے؟ کیا آگے بیان کر رہے ہیں: فلا، بھئی کیا معنی ہے؟ "فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ" والدین کو اف بھی نہ کہو، یہی معنی ہے نا؟ یہی، یعنی النهي عن التكلم بأف، یعنی کہ اف کہنے سے نہی ہے بھئی، فقط بس۔ "وهو ثابت بعبارة النص" اور یہ کس کے ذریعے ثابت ہے؟ یہ اف کہنے سے جو نہی ہے، روکا گیا ہے، یہ عبارت النص سے ثابت ہے۔
تو یہ ہوا اس کا لغوی معنی۔ بھئی انہوں نے بتلایا تھا پچھلے سبق میں آپ نے پڑھا تھا۔ متن میں کیا آیا تھا؟ "فما ثبت بمعنى النص" وہ جو ثابت ہو کس کے ذریعے؟ معنیِ نص، انہوں نے بتلایا تھا معنیِ نص سے، یہ معنیِ لغوی نہیں مراد بلکہ کون سا معنی مراد ہے؟ معنیِ التزامی مراد ہے، وہی بیان کر رہے ہیں۔
کہتے ہیں یہ جو معنی ہے "النهي عن التكلم بأف" یہ ہے ثابت بعبارة النص، یہ معنیِ لغوی ہے اس کا۔ "ومعناه اللازم الذي هو الإيلام" اور اس کا معنیِ لازم کیا ہے؟ ایلام، ایلام نہیں بھئی، یہاں ہونا چاہیے النهي عن الإيلام۔ پیچھے کیا تھا؟ النهي عن التكلم، نہی ہے کیا کہنے سے؟ اف کہنے سے، اس کے ساتھ کیا لازم ہے؟ کہ نہی ہے تکلیف دینے سے، تکلیف دینے سے روکا گیا ہے۔ وہاں کیا تھا؟ اف کہنے سے روکا گیا، اس کے ساتھ کیا لازم ہے؟ اف کہنے سے بھی روکا گیا، تو یہاں یوں ہونی چاہیے عبارت بھئی: "الذي هو النهي عن الإيلام" وہ جو تکلیف دینے سے روکا گیا ہے، "هو دلالة النص" وہ کیا ہے؟ دلالۃ النص، تو یہ ہے معنیِ لازم اس کا۔
نہی، اف کہنے سے جو روکا گیا، یہ ہے ثابت کس سے؟ عبارت النص سے، اور اس کے ساتھ لازم کیا ہے کہ تکلیف دینے سے روکا گیا ہے، یہ ہے دلالۃ النص۔ "وما ثبت منه" اور جو دلالۃ النص سے ثابت ہے "هو حرمة الضرب والشتم" وہ پٹائی کرنے اور گالی دینے کی حرمت ہے۔
بھئی دیکھیے، نص کا ایک ظاہری لغوی معنی ہے، اس لغوی معنیٰ کی دلالت ہوتی ہے پھر کس پر؟ التزامی معنی پر، اور یہ التزامی معنی یہ کیا ہے؟ دلالۃ النص، یہ کیا ہے؟ دلالۃ النص۔ والدین کو اللہ فرما رہے ہیں اف نہ کہو۔ اف معلوم ہوا کیا معنی ہے، اف نہ کہو ان کو تکلیف نہ دو، تکلیف یہ ہے دلالۃ النص بھئی، دلالۃ النص۔ ان کو اف نہ کہو، یہ کس سے ثابت ہے؟ عبارت النص، اور اس کے ساتھ لازم کیا ہے؟ کہ ان کو تکلیف نہ دو، یہ ہے دلالۃ النص۔ اور انہوں نے بات متن میں کیا کی تھی؟ الثابت بدلالة النص، اس پھر اس دلالۃ النص سے آگے کیا ثابت ہوتا ہے؟ دلالۃ النص کیا ہے؟ کہ ان کو تکلیف نہ دو، اس سے آگے پھر کیا ثابت ہوا؟ کہ ان کو ان کی پٹائی کرنا بھی حرام، ان کو گالی دینا بھی حرام، تو یہ دیکھو، یہ جو یہ ہے ثابت بدلالۃ النص بھئی، پٹائی کرنا اور گالی دینے کا حرام ہونا یہ ثابت ہوا کس سے؟ دلالۃ النص سے۔
لیکن یہ شارح یہ تقریر کر رہے ہیں بھئی۔ شارح نے دلالۃ النص کس کو بنایا؟ ان کو تکلیف نہ دو، یہ کیا ہے؟ اور پھر اس دلالۃ النص سے کیا ثابت ہے؟ حرمتِ ضرب و شتم بھئی، یہ کیا ہے، کس سے ثابت؟ ہاں، جبکہ اور علماء لکھتے ہیں یہ حرمتِ ضرب و شتم یہی دلالۃ النص ہے، یہی کیا ہے؟ وہ اسی کو دلالۃ النص کہتے ہیں بھئی۔
جی، "والأمثلة الشرعية التي ذكرها القوم مذكورة في المطولات" اور دُسر شرعی مثالیں جن کو ذکر کیا ہے اور لوگوں نے یعنی اور علماء نے جس کو ذکر کیا ہے "مذكورة في المطولات" وہ مذکور ہیں مطولات، مطول طویل کیا ہوا یعنی بڑی کتابوں میں، کس کے اندر؟ جی، تو وہ اور کہتے ہیں یہ ایک مثال انہوں نے ذکر کر دی اور مثالیں جو ہیں وہ ذکر کی گئی ہیں بڑی کتابوں میں، اگر آپ کو تحقیق کا شوق ہے تو کہتے ہیں وہاں آپ ان کو دیکھ سکتے ہیں۔
"والثابت به كالثابت بالإشارة إلا عند التعارض" اور جو اس کے ذریعے ثابت ہو یعنی کس کے ذریعے؟ دلالۃ النص کے ذریعے، "كالثابت بالإشارة" یہ کس کی طرح ہے؟ الثابت بالإشارۃ، وہ جو اشارۃ النص سے ثابت ہے یہ بھی اسی کی طرح ہے، اور جو اشارۃ النص سے ثابت ہوتا تھا وہ کیا تھا؟ قطعی تھا، تو معلوم ہوا یہ بھی جو دلالۃ النص سے ثابت ہو گا وہ بھی کیا ہو گا؟ قطعی ہو گا، تو معلوم ہوا وہ بھی قطعی، یہ بھی قطعی، معلوم ہوا دونوں برابر درجے کے ہیں۔ "إلا عند التعارض" مگر تعارض کے وقت، تعارض کے وقت پھر اشارۃ النص کو ترجیح ہو گی کس پر؟ دلالۃ النص پر بھئی، ورنہ یہ دونوں قطعی ہیں۔
"يعني أن الدلالة أيضاً كالإشارة في كونها قطعية، لكن الإشارة أولى عند التعارض" یعنی دلالت بھی اشارے کی طرح ہے قطعی ہونے کے اندر، لیکن اشارہ جو ہے وہ اولى ہے، یعنی اشارۃ النص اولى ہے تعارض کے وقت بھئی۔
"ومثاله قوله تعالى: وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ" اور جس نے قتل کر دیا کسی مومن کو غلطی سے، تو آزاد کرنا ہے ایک گردن کو ایسی گردن جو مومن ہو۔ بھئی کسی نے اگر غلطی سے کسی مسلمان کو قتل کر دیا غلطی سے، مثلاً گولی چلائی شکار پر اور لگ گئی کسی مسلمان کو، تو وہ مارا گیا بھئی، تو اس صورت میں "فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ" تو کیا کرنا پڑے گا بطورِ کفارے کے؟ ایک غلام، ایک مومن غلام یا باندی کو آزاد کرنا پڑے گا۔
"فإنه لما أوجب الكفارة على الخاطئ بعبارة النص" پس جب اللہ تعالیٰ نے واجب کیا کفارے کو "على الخاطئ" خطا کرنے والے پر "بعبارة النص" کس کے ذریعے؟ عبارت النص کے ذریعے بھئی، یہ کفارہ کس سے ثابت ہے؟ عبارت النص سے بھئی، اوپر واضح لفظوں میں یہی بیان کیا گیا بھئی، تو جب اللہ تعالیٰ نے غلطی کرنے والے پر کفارہ واجب کیا عبارت النص سے، تو دیکھیے بھئی کیوں واجب کیا؟ کیونکہ اس نے ایک جرم کیا۔ اگرچہ غلطی سے ہو گیا، لیکن جرم تو ہو گیا۔ اب ایک شخص ہے وہ جان بوجھ کر قتل کرتا ہے کسی کو، کسی مومن کو، تو کس کا جرم بڑا ہے؟ وہ غلطی کرنے والے کا یا جان بوجھ کر کرنے والے کا؟ جان بوجھ کر کرنے والے کا جرم بڑا ہے، تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب چھوٹے مجرم پر کفارہ ہے تو بڑے مجرم پر بطریقِ اولى کیا آئے گا؟ کفارہ، چنانچہ وہ فرماتے ہیں جو جان بوجھ کر قتل کرے اس پر بھی کفارہ آئے گا، اسے بھی ایک غلام یا باندی کو کیا کرنا پڑے گا؟ آزاد کرنا پڑے گا، یہ وہ کس کے ذریعے ثابت کرتے ہیں؟ دلالۃ النص کے ذریعے،
تو کہتے ہیں: "فإنه لما أوجب الكفارة على الخاطئ بعبارة النص، وهو أدنى حالاً" اس حال میں کہ وہ ادنیٰ حال والا ہے یعنی جنایت کے اندر، جنایت میں وہ ادنیٰ حالت والا ہے، "فالأولى أن تجب على العامد" تو اولى یہ ہے کہ عامد، عامد جان بوجھ کر بھئی کرنے والا، تو جان بوجھ کر کرنے والے پر بھی واجب ہو "وهو أعلى حالاً" اس حال میں کہ وہ اعلى حالت والا ہے، کس چیز میں؟ جنایت میں۔
"وبهذا تمسك الشافعي رحمه الله تعالى رحمة واسعة في وجوب الكفارة على العامد" اور اسی کے ذریعے استدلال کیا ہے امام شافعی رحمہ اللہ نے کفارے کے واجب کرنے میں عامد پر، وہ اسی طریقے سے اسی طرح استدلال کرتے ہوئے جان بوجھ کر قتل کرنے والے پر بھی کیا واجب کرتے ہیں؟ کفارہ، جبکہ ہمارے نزدیک غلطی سے جو قتل کرے اس پر تو کفارہ ہے، جو جان بوجھ کر قتل کرے اس پر کفارہ نہیں ہے بھئی۔
"ونحن نقول: إنه يعارضه قوله تعالى" اور ہم کہتے ہیں "إنه يعارضه" کہ یہ جو ہے اس کے معارض ہے بھئی اللہ کا قول،
یہ آیت جو ہے اس سے اگرچہ دلالۃ النص کے طریقے پر کفارہ ثابت ہو رہا ہے کس کے لیے؟ عامد کے لیے بھی، تو دوسری آیت اس کے معارض ہے، وہاں اشارۃ النص سے ثابت ہو رہا ہے کہ اس پر کفارہ نہیں ہے، تو اس سے ثابت ہوا دلالۃ النص سے کہ کفارہ ہے عامد پر، جبکہ دوسری آیت سے اشارۃ النص سے ثابت ہوا کہ اس پر کفارہ نہیں، اب دلالۃ النص بھی قطعی، اشارۃ النص بھی قطعی، لیکن جب تعارض آئے پھر کس کو ترجیح ہے؟ اشارۃ النص، تو لہذا اشارۃ النص پر عمل ہو گا اور لہذا جان بوجھ کر قتل کرنے والے پر کفارہ نہیں آئے گا۔
اور ہم کہتے ہیں کہ اس کے معارض ہے اللہ تعالیٰ کا یہ قول: "وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا" جس نے قتل کیا کسی مومن کو جان بوجھ کر، تو اس کا بدلہ جو ہے وہ جہنم ہے، اس حال میں کہ خالدًا فیہا، وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔ "فإنه يدل بإنشارة النص" کہ یہ پس یہ آیت جو ہے دلالت کرتی ہے اشارۃ النص سے کے طریقے پر کہ "على أنه ليس عليه الكفارة" کہ اس شخص پر کفارہ نہیں ہے، "وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا" جس نے جان بوجھ کر مومن کو قتل کیا اس کا اس کا بدلہ جہنم ہے، تو اس میں دیکھو کفارے کا ذکر نہیں ہے بھئی۔
بھئی اشارۃ النص سے کس طرح ثابت کرتے ہیں؟ کہ یہاں اس پر کفارہ نہیں ہے۔ کہتے ہیں دیکھیے آیت میں اللہ فرما رہے ہیں "فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ" اس کی جزا کیا ہے؟
جی، اس کی جزا جہنم ہے۔
اور جزا اسمٌ للكافي، جزا اس چیز کا نام ہے جو کافی ہو، بدلہ، بدلہ کس کو کہتے ہیں؟ جو کافی ہو جائے، جو پورا ہو جائے، جو کافی ہو اسی کو بدلہ کہتے ہیں۔ "وأيضاً هو كل المذكور" اور نیز وہ سارا کا سارا جو مذکور ہے بھئی، اس کا بدلہ اللہ کیا ذکر فرما رہے ہیں؟ جو جان بوجھ کر مومن کو قتل کرے اس کا بدلہ کیا ہے؟ جہنم بھئی، اور بدلہ کس کو کہتے ہیں؟ جو پورا ہو، جو کافی ہو جائے، معلوم ہوا اس کا پورا بدلہ کیا ہے؟ جہنم ہے۔
"وأيضاً هو كل" نیز وہ سارا کا سارا مذکور ہے، یعنی یہی سارا اس کا بدلہ ہے کہ اس کو جہنم میں ڈالا جائے گا، یہی اس کا پورا بدلہ ہے، پورا بدلہ۔ اگر
اگر اس کے ساتھ کفارے کو بھی مانا جائے، تو پورا بدلہ کیا ہوا؟ جہنم بھی اور ساتھ اس کے دو چیزیں ہو گئیں، تو دو چیزیں ہو گئیں، تو پھر تو اس صورت میں کیا ماننا پڑے گا؟ کہ یہ جو ذکر ہوا یہ اس کا پورا بدلہ نہیں ہے، یہ کچھ یہ ہے اور کچھ وہ کفارہ ہے، اس کے ساتھ کفارہ بھی ملے گا تو پورا بدلہ ہو جائے گا، حالانکہ اللہ فرما رہے ہیں "فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ" اس کی کیا سزا ہے؟ اس کے اس کا بدلہ جہنم ہے اور، تو یہ معلوم ہوا یہ اس کا پورا بدلہ ہے بھئی، الفاظ سے واضح طور پر پتہ چل رہا ہے۔
تو لہذا معلوم ہوا اس پر کفارہ نہیں آئے گا۔ "فعلم أنه لا جزاء له سوى جهنم" اس سے معلوم ہوا کہ اس پر کوئی بدلہ نہیں ہے سوائے جہنم کے۔ "ولا يقال" یہ اعتراض نہ کیا جائے "لو كان كذلك" جی، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ کوئی مشکل تو نہیں؟ "ولا يقال" اور یہ اعتراض نہ کیا جائے "لو كان كذلك" کہ اگر اسی طرح ہوتا "لما وجب عليه الدية والقصاص" تو پھر تو قاتل پر دیت اور قصاص بھی نہیں آنا چاہیے تھا۔ جان بوجھ کر جو قتل کرتا ہے اگر اس کا پورا بدلہ جہنم ہے تو پھر تو اس پر قصاص نہیں آنا چاہیے تھا، اس پر دیت نہیں آنی چاہیے تھی۔
بھئی کس کی بات چل رہی ہے؟ جان بوجھ کر قتل کر رہا ہے، اور جو جان بوجھ کر قتل کرتا ہے اس پر قصاص آتا ہے، انہوں نے ساتھ دیت کو بھی ذکر کر دیا۔
دیت کو بھی، یاد رکھیے اگر والد اپنے بیٹے کو قتل کر دے تو اس صورت میں اولاً قصاص آتا، لیکن قصاص ساقط ہو جاتا ہے شبہے کی وجہ سے، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے، صحابی سے فرمایا تھا: "أنت ومالك لأبيك" ان کے والد نے آ کر شکایت کی کہ یہ جب یہ چھوٹا تھا میں اس پہ خرچ کرتا تھا اور اب جب یہ بڑا ہو گیا اور میں ضعیف ہو گیا تو یہ اپنے مال کو مجھ سے چھپا کر، روک کر رکھتا ہے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابی کو بلوایا اور فرمایا: "أنت ومالك لأبيك" تم اور تمہارا مال دونوں کس کے ہیں؟ تمہارے والد کے ہیں بھئی۔
تو اس سے حدیث کی وجہ سے معلوم ہوا بیٹا بھی گویا کس کی طرح ہوا؟ مملوک کی طرح بھئی، مملوک کی طرح، مملوک تو نہیں، لیکن حدیث کی وجہ سے شبہ تو آ گیا، لہذا اور قصاص کیا ہے شبہے کی وجہ سے، جیسے حدود ادنى شبہے سے ساقط ہو جاتی ہیں، اسی طرح قصاص بھی شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جایا کرتا ہے، تو والد نے جب اپنے بیٹے کو جان بوجھ کر قتل کیا تو اولاً قصاص متوجہ ہوا، لیکن پھر وہ قصاص شبہے کی وجہ سے ساقط ہو گیا، نیز اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے: "فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ" والدین کو تکلیف نہ دو، معلوم ہوا والدین کو تکلیف دینا اولاد کے لیے جائز نہیں ہے بھئی، اور اگر والد کو قصاصاً قتل کیا جائے تو والد کو تکلیف ہوگی یا نہیں بھئی؟ تکلیف ہوگی، اور اس تکلیف کا سبب کون بن رہا ہے گویا؟ اس تکلیف کا سبب وہ بیٹا بن رہا ہے، بیٹے کے قصاص میں قتل کیا جا رہا ہے، تو اس وجہ سے قصاص نہیں آئے گا بلکہ پھر وہاں والد پر دیت واجب ہو جائے گی، کیا واجب ہو جائے گی؟ دیت واجب ہو جائے گی۔
تو اسی لیے کہا دیت کو بھی ساتھ ذکر کیا انہوں نے قصاص کے ساتھ بھئی۔
تو اشکال یہ کیا کہ آپ نے کہا کہ جہنم اس کا پورا بدلہ ہے، پھر تو اس پر قاتل جو جان بوجھ کر قتل کرے اس پر قصاص اور دیت نہیں آنی چاہیے۔ نہیں آنی چاہیے، تو جواب دیں گے بھئی کہ وہ جو جہنم ہے وہ ہے اس کے فعل کی جزا، جو اس نے فعلِ قتل کیا، اس فعل کی پوری جزا کیا ہے؟ جہنم ہے، اور یہ جو قصاص اور دیت ہے یہ محل کی جزا ہے، یعنی جس شخص کی اس نے جان لی، یعنی وہ جو مقتول ہے، اس مقتول کی جزا کے طور پر اس پر کیا آئے گا؟ قصاص اور یا دیت آئے گی، تو ایک ہے جزا فعل کی، کون سا فعل کیا؟ قتل، تو قتل کے فعل کی جزا جہنم ہی ہے، اور باقی جو محل ہے اس کی بھی تو جزا چاہیے بھئی، ایک جان گئی ہے تو پھر اس کی جزا کے طور پر دیت یا قصاص آئے گا بھئی، فرق سمجھ میں آ گیا بھئی؟
"ولا يقال" اور یہ نہ کہا جائے "لو كان كذلك" اگر ایسا ہوتا "لما وجب عليه الدية والقصاص" تو قاتل پر دیت اور قصاص واجب نہ ہوتے "لأنا نقول" اس لیے کیونکہ ہم کہتے ہیں "ذلك جزاء المحل" یہ محل کی جزا ہے، یعنی مقتول کی جزا ہے، دیت اور قصاص۔ "وأما جزاء الفعل فهو الكفارة في الخطأ، وجهنم في العامد" اور باقی فعل کی جزا جو ہے وہ قتلِ خطا کے اندر کفارہ ہے اور قتلِ عمد میں جہنم ہے۔ "ولو سلم ذلك فالقصاص ثبت بنص آخر" اور اگر یہ اس بات تسلیم کر لی جائے، یہ بات آپ یہ اعتراض آپ کا، اعتراض کو انہوں نے یہ کیا تھا نا کہ پھر تو قصاص یا دیت نہیں آنا چاہیے اگر یہ پورا بدلہ ہے، تو کہتے ہیں ایک جواب دے دیا، دوسرا کہتے ہیں اگر آپ کی بات تسلیم کر لی جائے تو پھر اس صورت میں قصاص جو ہے وہ دوسری نص سے ثابت ہوگا بھئی، وہ کیا؟ اللہ قرآن میں کیا فرماتے ہیں: "أن النفس بالنفس" جان کے بدلے جان ہے بھئی، تو اس کے ذریعے ثابت ہوگا بھئی قصاص۔
"ولهذا صح إثبات الحدود والكفارات بدلالة النصوص دون القياس" لہذا صحیح ہے حدود اور کفارات کو ثابت کرنا "بدلالة النص" کس کے ذریعے؟ دلالۃ النص کے ذریعے، "دون القياس" نہ کہ قیاس۔
بھئی قیاس تو ظنی ہے، اور دلالۃ النص انہوں نے ابھی آپ کو بتلایا وہ ہے قطعی، اور حدود اور کفارات وہ کہتے ہیں دلالۃ النص سے تو ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ دلالۃ النص قطعی ہے، لیکن قیاس کے ذریعے وہ ثابت نہیں ہو سکتے کیونکہ قیاس ظنی ہے۔
تو کہتے ہیں چونکہ دلالۃ النص قطعی ہے، لہذا صحیح ہے ثابت کرنا حدود اور کفارات کو دلالۃ النصوص کے ذریعے نہ کہ قیاس کے ذریعے۔ "أي لأجل أن الدلالة قطعية" یعنی اس وجہ سے کہ دلالت قطعی ہے "والقياس ظني" اور قیاس ظنی ہے، "يصح إثبات الحدود والكفارات بالأول دون الثاني" صحیح ہے حدود اور کفارات کو ثابت کرنا اول کے ذریعے یعنی کس کے ذریعے؟ دلالۃ النص کے ذریعے، "دون الثاني" نہ کہ دوسرے یعنی قیاس کے ذریعے۔ "وهذا إذا كان القياس بعلة مستنبطة" اگر یہ اس وقت ہے جب قیاس ایسی علت کے ذریعے ہو جس کو جس کا استنباط کیا۔
بھئی دیکھیے، قیاس جو ہے اس کی علت کبھی قیاس کی علت کبھی نص کے اندر ذکر ہوگی، قیاس کی بات کر رہا ہوں، ایک حکم کی علت جو ہے نص کے اندر ذکر ہوگی بھئی۔ ایک آپ قیاس کر رہے ہیں، بعض اوقات علت خود مجتہد قیاس کر کے نکالتا ہے، مجتہد کیا کرتا ہے؟ جیسے بھئی وہ سود کی علت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کیا نکالی؟ جنس اور قدر، دوسرے ائمہ نے اور چیزیں نکالیں، تو وہ خود مجتہد نے علت اپنے قیاس کر کے قیاس، غور و فکر کر کے وہ خود علت نکالی بھئی۔
تو یہ علت ہوئی کس طرح نکالی گئی؟ استنباط کے ذریعے، اور کبھی نہ کبھی علت جو ہے نص کے اندر ذکر ہوگی، جب علت نص کے، جب علت مجتہد استنباط کے ذریعے معلوم کرے تو اس صورت میں پھر قیاس ظنی ہے بھئی۔ جب علت کون نکالے؟ مجتہد، اور اگر علت نص کے اندر ذکر ہو تو یاد رکھنا پھر یہ قیاس قطعی ہوتا ہے، یہ بات پہلے بھی گزر چکی ہے کتاب کے شروع میں بھئی۔
علت اگر کون نکالے؟ مجتہد، تو قیاس کیا ہوگا؟ ظنی، اور اگر علت کون، کہاں پر ذکر ہے؟ نص کے اندر ذکر ہے، تو پھر یہ قیاس قطعی ہوگا۔ جیسے بھئی وہ مثال آئی تھی
ایامِ حیض میں خاوندوں کو بیوی سے کے پاس جانے سے منع کیا گیا اور علت کیا ذکر کی گئی؟ أذى، گندگی ہے بھئی، تو دیکھو علت ذکر ہے یہاں پر، اور یہی علت ہمیں ملی لواطت کے اندر بھی بھئی، لہذا اس کو بھی کیا قرار دیا؟ حرام قرار دیا گیا، اور یہ علت کس سے، کس میں ذکر تھی؟ نص میں، لہذا یہ جو قیاس ہے، یہ کس قسم کا ہوا؟ قطعی ہوا بھئی، فرق سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہی بیان کر رہے ہیں۔
کہتے ہیں: "وهذا إذا كان القياس" انہوں نے کہا نا قیاس کے ذریعے حدود اور کفارات کو ثابت کرنا صحیح نہیں کیونکہ قیاس کیا ہے؟ ظنی ہے، کہتے ہیں: "وهذا إذا كان القياس بعلة مستنبطة" یہ اس وقت ہے جس وقت قیاس کس کے ذریعے ہو؟ علتِ مستنبطہ کے ذریعے ہو، وہ علت جس کا مجتہد نے استنباط کیا ہے، "وأما إذا كان بعلة منصوصة" اور جس وقت قیاس جو ہے علتِ منصوصہ کے ساتھ یعنی وہ علت جو نص میں لائی گئی ہے، جس پر نص لائی گئی ہے، "فهو يساوي الدلالة في القطعية" تو پھر اس صورت میں یہ قیاس برابر ہوگا دلالت کے، "في القطعية" قطعی ہونے میں۔ "في القطعية والإثبات" قطعی ہونے میں اور ثابت کرنے کے اندر، تو پھر اس کے ذریعے حدود اور کفارات کو ثابت کرنا صحیح ہو سکتا ہے، صحیح ہوگا بھئی۔
"مثال إثبات الحدود بالدلالة" حدود کو ثابت کرنے کی مثال "بالدلالة" دلالۃ النص کے ذریعے، "إثبات حد الزنا بالرجم على غير ماعز رضي الله تعالى عنه" وہ ثابت کرنا ہے حدِ زنا کو "بالرجم" رجم کے ساتھ "على غير ماعز" علاوہ حضرت ماعز رضی اللہ تعالی عنہ کے "الذي ثبت عليه بالعبارة" جن پر حد کو ثابت کیا کس نے؟ "الذي ثبت عليه بالعبارة" "بالعبارة" ہونا چاہیے تھا بھئی، جن پر حد ثابت ہوئی کس کے ذریعے؟ عبارت النص کے ذریعے،
بھئی دیکھیے، صحابہ عجیب لوگ تھے بھئی، جن کا ذکر بھی کیا جائے تو ایک عجیب قسم کی لذت اور سرور دل کے اندر محسوس ہوتا ہے، یہ وہ لوگ تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ازل سے ہی سرورِ کونین، رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کے لیے چن لیا تھا، اور کس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر انہوں نے گردنیں کٹوائیں، اپنے ماں باپ، اولاد، کاروبار، مال وغیرہ ہر چیز کو ٹھکرا دیا، جہاں پر پیغمبر کی ذات آئی وہاں پر ہر حال میں دین کو، پیغمبر کو، اسلام کو انہوں نے ترجیح دی بھئی، کسی چیز کی پروا نہیں کی، نہ اپنے رشتہ داروں کی، نہ اپنی اولاد کی، نہ اپنے مال کی، سب کچھ ٹھکرا دیا بھئی، عجیب لوگ تھے بھئی، عجیب انسان، ان کے واقعات پڑھتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے، یوں معلوم ہوتا ہے یہ انسان نہیں فرشتے تھے گویا بھئی۔
فرشتے تھے۔
حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالی عنہ بھئی، جلیل القدر صحابی ہیں، اور اتنے دانا اور اتنی جرات اور اتنے بہادر، اور کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو جب زخمی کر دیا گیا اور آپ موت کے قریب پہنچ گئے، آپ نے کمیٹی بنائی کہ یہ صحابہ مل کر طے کر دیں کسی کو میرے بعد جس کو بھی خلیفہ بنانا ہے بھئی، بسترِ مرگ پر آپ نے یہ کمیٹی بنا دی اور فرمایا کہ اگر ابو عبیدہ زندہ ہوتے تو مجھے یہ کمیٹی بنانے کی ضرورت نہیں تھی بھئی، میں ان کو اپنی جگہ خلیفہ بنا دیتا بھئی، اتنے جلیل القدر صحابی تھے بھئی حضرت ابو عبیدہ، اور یہ والدین کے اتنے فرماں بردار تھے بھئی، سردار تھے بھئی، لیکن فرماں برداری کا یہ عالم تھا کہ انسان حیران رہتا ہے۔
سردار ہوئے ایک آدمی بھئی سوچیں تو سہی، اور عربوں کے اندر تکبر کتنا تھا، آپ نے یہ بھی پڑھا کہ ساری دنیا کو وہ اپنے سامنے عجم کہتے تھے بھئی، کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے کسی چیز میں، ہر چیز پر اپنی اس طرح وہ ناز کرتے تھے بھئی، اور سردار ہیں بھئی، لیکن والدین کی فرماں برداری کا یہ عالم تھا، کہتے ہیں بھری مجلس کے اندر والد آ کر ڈانٹ دیتا، تھپڑ بھی مار دیتا، مجال ہے کہ چوں چراں کریں، خاموشی سے سر جھکا کر وہیں کھڑے رہتے بھئی، عجیب! حتی کہ پورے عرب میں یہ بطورِ ضرب المثل کے مشہور تھے، لوگ پورے عرب میں کہا کرتے تھے، والدین کی اطاعت تو ایسی کرنی چاہیے جیسی ابو عبیدہ کرتا ہے بھئی۔
لیکن یہی والد جس کے حد درجے اطاعت کرتے تھے، یہی والد جب پیغمبر کے مقابلے میں آیا بھئی، تو پھر حالت دیکھیے، ابو عبیدہ جب اسلام لے آئے بھئی، اسلام میں داخل ہو گئے، پھر سب سے بڑھ کر محبت حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گئی، غزوہ بدر کے اندر بھئی یہ بھی شریک تھے۔
اور غزوہ بدر میں اور ان کے والد قریش کی طرف سے لڑنے آئے تھے بھئی، چنانچہ کفار کو عبرت ناک شکست ہوئی بھئی، اور 70 کے لگ بھگ 70 جو ہیں مشرکین ان کو مسلمانوں نے گرفتار کر لیا اور اتنے ہی کہ ان کو قتل کر دیا، تو ان 70 جو گرفتار کیے گئے ان میں ابو عبیدہ کے والد بھی تھے۔
اور ان کو خود ابو عبیدہ نے گرفتار کیا تھا اور اونٹ پر پھر باندھ کر لے کر آ رہے ہیں، وہ والد جس کے سامنے کبھی سر نہیں اٹھایا، آج ان کو وہ پیغمبر کے مقابلے میں آئے، سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں آئے تو وہی بیٹا ان کو باندھ کر لے کر آ رہا ہے۔
اب لاتے لاتے راستے میں مدینہ کی طرف آ رہے ہیں، والد جنگ میں شکست ہوئی تھی اور پھر تکلیف میں بھی تھے، باندھا ہوا ہے، اونٹ پر ہیں، اور بیٹا اونٹ لے کر چل رہا ہے بھئی، تو ان کے والد نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی گستاخی کی، کوئی برے کلمات کہے، وہی بیٹا جو آج تک کبھی والد کے سامنے زبان نہیں کھولی، مارنے پر بھی زبان نہیں کھولی، آج وہی بیٹا کہتا ہے: خبردار ابا جان! میرے محبوبِ اعظم کے بارے میں کوئی لفظ آپ کی زبان پر نہ آئے بھئی، باپ خاموش ہو گیا۔
پھر کچھ دیر بعد پھر اس نے کوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی، کوئی گالیاں وغیرہ دیں بھئی، پھر بیٹا ایک دم بول پڑا: ابا جان! خبردار، میں آپ کو آخری مرتبہ کہہ رہا ہوں کہ اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی نہ ہو، باپ پھر خاموش ہو گیا۔
پھر کچھ دیر آگے چلے، پھر باپ بولا کہ بیٹا کیا ہے، پھر اس نے کوئی گالیاں وغیرہ دیں، حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ جنہوں نے کبھی آج تک والد کے سامنے بھئی سر نہیں اٹھایا، تیسری مرتبہ جب باپ نے پھر اسی طرح گستاخی کی، کہتے ہیں تلوار نکالی اور اسی وقت باپ کی گردن اڑا دی بھئی، عجیب بھئی! عجیب! انسان حیران ہوتا ہے بھئی، محبت کا کون سا درجہ ہے یہ بھئی!
پورے لشکر میں کہتے ہیں کہرام مچ گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک بھی بات پہنچی، صحابہ کہہ رہے ہیں: ابو عبیدہ، یہ تم نے کیا کیا ایک قیدی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر قتل کر دیا، اور قتل بھی اپنے باپ کو کیا ہے؟
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلوایا: ابو عبیدہ، کیا، کیوں قتل کیا؟ کہا: یا رسول اللہ، انہوں نے آپ کی شان میں گستاخی کی تھی، میری غیرتِ محبت نے گوارا نہیں کیا، میں نے گردن اڑا دی۔
اللہ کی طرف سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آئی کہ اے پیغمبر، ابو عبیدہ سے کہہ دو کہ جو کچھ تم نے کیا، ٹھیک کیا۔
تو یہ ایسے لوگ تھے بھئی۔
اب
یہاں حضرت ماعز رضی اللہ تعالی عنہ کا ذکر آ رہا ہے بھئی، حضرت ماعز، ان سے زنا سرزد ہوا اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے بھئی، اور آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ، مجھ سے زنا ہو گیا ہے، مجھے پاک کر دیجیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اعراض کیا، رخ موڑ لیا اور کہا بھئی جاؤ توبہ کرو، استغفار کرو۔
وہ کچھ واپس چلے، پھر دل نے چین نہ لینے دیا، پھر واپس آئے۔ یا رسول اللہ، مجھ سے زنا ہو گیا، مجھے پاک کر دیجیے۔
پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا: جاؤ بھئی توبہ کرو، استغفار کرو۔
پھر واپس گئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض کیا ان سے بھئی، تو یہ واپس چلے گئے، پھر کچھ دیر بعد پھر چند قدم چلے، پھر خیال آیا بھئی، پھر واپس آئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس، تیسری مرتبہ پھر کہا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھیجا، پھر چوتھی مرتبہ پھر آئے بھئی،
تو جب چوتھی مرتبہ یہ اقرار کر چکے تو اب بھئی زنا کے اندر چار گواہ چاہیے بھئی، تو یہاں ان کی چار مرتبہ اپنے اوپر شہادت ہو گئی، اپنے چار مرتبہ، تو لہذا یہ چار گواہوں کے قائم مقام ہو گیا، تو اب شرعی دلیل پوری ہو گئی، چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا بھئی، رجم کرنے کا۔
اور چنانچہ بھئی ان کو مدینہ منورہ سے باہر پھر ان کو رجم کیا گیا بھئی۔
صفیں بنائی جاتی ہیں اور پھر جو ایک صف والے پتھر مار چکے مار لیتے ہیں، پھر دوسری صف والے مارتے ہیں، پھر تیسری صف والے، اسی طرح بھئی، چنانچہ بعد میں جب ان کو رجم کر دیا گیا،
تو دو صحابی آپس میں گفتگو کر رہے ہیں، ایک دوسرے سے کہنے لگا کہ بھئی اس پر اللہ نے دیکھو پردہ ڈالا تھا، اس نے خود آ کر اپنی زبان سے اقرار کیا اور اپنے، خود اپنے بارے میں آ کر بتلایا، اللہ نے تو اس پر پردہ ڈال دیا تھا، اس نے خود بتلایا، چنانچہ کتے کی طرح یہ مارا گیا بھئی۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم پاس سے گزر رہے تھے، انہوں نے آپ، ان کی یہ بات سن لی، خاموش رہے، بڑی تکلیف ہوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کہ یہ کیسی بات کی انہوں نے۔
کچھ آگے چلے کہتے ہیں وہاں ایک گدھا مرا ہوا پڑا تھا اور پھول گیا تھا، کافی وقت گزر گیا تھا اس کو مرے ہوئے، یہاں تک کہ ایک ٹانگ بھی اوپر کو اٹھ گئی تھی، بدن پھول گیا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس پہنچے، فرمایا: بھئی کدھر ہیں وہ دو آدمی؟ وہ حاضر ہوئے: جی یا رسول اللہ، ہم حاضر ہیں۔ فرمایا: اس کو کھاؤ۔ کہا: یا رسول اللہ، اس کو کون کھا سکتا ہے؟ فرمایا: کہ جو تم نے ابھی اپنے بھئی کے بارے میں بات کی تھی، وہ اس کے کھانے سے بھی اس سے بھی بڑھ کر سخت بات کی تھی، اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے، عجیب بھئی! کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے، ماعز اس وقت جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہا ہے بھئی۔
تو یہ عجیب صحابہ، عجیب لوگ تھے بھئی، اسی طرح ایک اور عورت آئی بھئی، صحابیات بھی عجیب عورتیں ہیں، اور کہا: یا رسول اللہ، مجھ سے زنا ہو گیا ہے، مجھے پاک کر دیجیے۔
تو
اس پر کو بھی اسی طرح لوٹایا بھئی، اس نے پھر آخر میں کہا کہ یا رسول اللہ، آپ مجھے واپس لوٹا رہے ہیں، واللہ میں زنا کی وجہ سے حاملہ ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جب تک وضعِ حمل نہ ہو اس وقت تک تمہیں رجم نہیں کیا جا سکتا، جاؤ جب بچے کو جنم دے دو پھر آ کر بتلانا، چنانچہ وہ چلی گئیں بھئی، اور پھر جب بچے کو جنم دیا تو آئیں کہ میں نے بچے کو جنم دے دیا، اب مجھے پاک کر دیجیے، دیکھو کتنا عرصہ گزر گیا لیکن وہ گناہ جو کیا چین نہیں لینے دے رہا بھئی،
کہ دنیا کی حد سے زیادہ دیکھو یہ تکلیف، اس کو تو میں برداشت کر لوں گی، آخرت کی تکلیف نہیں برداشت کر سکتی، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی جاؤ، بچے کو دودھ پلاؤ، جب وہ کھانے پینے لگے تو پھر آنا، پھر چلی گئیں بھئی، پھر جب وہ بچہ کچھ کھانے کے قابل ہو گیا، دودھ چھڑا لیا اس کا، پھر اس کو لے کر آئیں بھئی، اور بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا بھی تھا کہ یا رسول اللہ، دیکھیے اب یہ کھانے پینے لگا ہے، اب مجھے پاک کر دیجیے۔
تو چنانچہ ان کو بھی پھر رجم کر دیا گیا بھئی۔
تو صحابہ کے بارے میں بھئی دیکھیے، ان سے غلطیاں بھی ہوئیں، بڑی بڑی غلطیاں دیکھو، لیکن ہمارے علماء دیوبند کا کتنا پیارا مذہب ہے اس بارے میں!
وہ فرماتے ہیں، ہمارے اکابرین فرماتے ہیں کہ صحابہ سے جو غلطیاں ہوں اس پر دل میں کبھی برا خیال نہیں آنا چاہیے کہ صحابی ہو کر کیسے زنا ہو گیا، کبھی نہیں آنا چاہیے اس طرح کی بات کو ذہن کے اندر بھئی۔
یوں سمجھو، یہ اللہ نے ان سے تکوینی طور پر یہ گناہ کروائے بھئی، اللہ نے تکوینی طور پر یہ گناہ کروائے،
تاکہ بعد والے لوگوں کے لیے راستہ، ان کو طریقہ سمجھ میں آ جائے بھئی، کہ اگر کوئی یہ جرم کرے گا تو اس کی پھر یہ سزا ہوگی، اس طرح اس کو سزا دیں گے بھئی، کوئی یہ جرم کرے گا تو اس کو اس طرح سزا دیں گے بھئی، تو یہ جو ان سے گناہ ہوئے بھی، یہ تکوینی طور پر اللہ نے کروائے یہ بتانے کے لیے تاکہ کہ اس صورت میں کیا کیا جائے گا اور اس صورت میں کیا کیا جائے گا، شریعت کے احکام بھئی تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنی زندگی میں نافذ کر کے دکھائیں اور لوگ دیکھ لیں، اور تاکہ باقی امت کے لیے طریقہ ان کو سمجھ میں آ جائے، شرعی حکم کا پتہ چل جائے بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ گناہ ان سے اللہ نے تکوینی طور پر کروائے اور دکھایا کہ دیکھو یہ صحابہ وہ لوگ ہیں جن سے کوئی بھی گناہ ہو جائے تو پھر وہ گناہ ان کو چین نہیں لینے دیتا، یہ خود اپنے آپ کو پیش کر رہے ہیں حضور کے سامنے کہ یا رسول اللہ، ہم پر اپنی شریعت کو نافذ کیجیے، بعد والوں کو بتا دیجیے کہ یہ حکم ہو تو اس طرح عمل کرنا پڑے گا، یوں کرنا پڑے گا بھئی۔
تو یہ وہ حضرت ماعز رضی اللہ تعالی عنہ ہیں بھئی۔ اب دیکھیے، حضرت ماعز رضی اللہ تعالی عنہ جو ہیں ان پر تو حدِ زنا ثابت ہوئی یعنی رجم ثابت ہوا، عبارت النص سے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو کیا کر دو؟ رجم کر دو، عبارت النص سے ان پر یہ حدِ زنا ثابت ہوئی بھئی۔
اور کیوں ثابت ہوئی؟ ان کے کیوں یہ حدِ زنا ان پر، ان کو رجم کرنے کا حکم دیا گیا؟ کیوں؟ کیونکہ انہوں نے زنا کیا تھا، اور یہ معنی، یہ چیز جب کسی اور میں پائی جائے گی تو اس کا بھی کیا حکم ہوگا؟ اس کو بھی رجم کیا جائے گا بھئی، تو حضرت ماعز رضی اللہ تعالی عنہ پر جو یہ حد ثابت ہوئی رجم کی، یہ ثابت ہوئی عبارت النص سے، اور کسی اور پر جو ثابت ہوگی وہ کس کے ذریعے ہوگی؟ دلالۃ النص کے ذریعے بھئی۔
بات سمجھ میں آ گئی سب کو؟ دیکھیے بھئی اب کتاب پر۔
کہتے ہیں: "مثال إثبات الحدود بالدلالة إثبات حد الزنا بالرجم على غير ماعز" اور دلالت کے ذریعے حدود کو ثابت کرنے کی مثال، وہ ثابت کرنا ہے حدِ زنا کو رجم کے ساتھ "على غير ماعز" علاوہ حضرت ماعز کے، حضرت ماعز کے علاوہ پر جو ثابت کیا جائے حدِ زنا کو رجم کے ساتھ، وہ کس کے ذریعے ہوگا؟ دلالۃ النص کے ذریعے، جبکہ حضرت علاوہ حضرت ماعز رضی اللہ تعالی عنہ کے "الذي ثبت عليه بالعبارة" وہ حضرت ماعز جن پر ثابت ہوئی تھی، ان پر کس کے ذریعے ثابت ہوئی تھی؟ عبارت النص کے ذریعے، "لأن ماعزاً إنما رجم لأنه زانٍ محصنٌ" اس لیے کیونکہ حضرت ماعز رضی اللہ تعالی عنہ جو ہیں ان کو رجم کیا گیا "لأنه زانٍ محصنٌ" اس وجہ سے کیونکہ وہ زانی تھے محصن یعنی محصن، پاکدامن یعنی یوں کہیں شادی شدہ بھئی، وہ شادی شدہ محصن زانی تھے، اس وجہ سے ان کو رجم کیا گیا، "لا لأنه ماعزٌ أو صحابيٌ" اس وجہ سے نہیں کہ وہ ماعز تھے یا صحابی، کیوں رجم کیا گیا؟ شادی شدہ تھے اور زنا کیا تھا، تو یہی بات جب کہیں اس کے کسی اور میں ملے گی تو اس میں کو بھی کیا کریں گے؟ رجم، لیکن حضرت ماعز میں یہ رجم ثابت ہوا کس کے ذریعے؟ عبارت النص میں، کے ذریعے، اور کسی دوسرے میں دلالۃ النص کے ذریعے۔
"فكل من كان كذلك يرجم" پس جو کوئی بھی ایسا ہوا اس کو رجم کیا جائے گا، "ولكن ثبت الرجم على كل زانٍ محصن بنص آخر أيضاً" لیکن یہ جو رجم ہے، یہ ہر زانیِ محصن پر ثابت ہے دوسری نص کے ذریعے بھی،
یعنی یہ صرف جو یہ جو اس کی یہی ایک دلیل نہیں ہے حضرت ماعز رضی اللہ تعالی عنہ کا واقعہ، بلکہ یہ جو شادی شدہ زانی ہو اس کو جو رجم کیا جائے گا اس کی ایک اور دلیل بھی ہے، وہ نص کے ذریعے بھی ثابت ہے باقاعدہ، کس کے ذریعے؟ نص کے ذریعے بھی، یعنی دو دلیلیں ہیں بھئی، ایک نص ہے اور ایک دلالۃ النص ہے بھئی، اور وہ نص کیا بھئی؟ نص، یہ آپ کے حاشیے میں دی ہے بھئی، "بنص آخر" کے اوپر حاشیہ دیا ہے بھئی، 13 نمبر میری کتاب میں حاشیہ ہے، کہتے ہیں: "وهي آية منسوخة التلاوة" یہ وہ آیت ہے جس کی تلاوت منسوخ ہے، تلاوت منسوخ ہے، "وباقٍ حكمها" اور اس کا حکم باقی ہے، وہ یہ بھئی: "الشيخ والشيخة إذا زنيا فارجموهما" شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت، "إذا زنيا" جب یہ دو زنا کر لیں "فارجموهما" تو پس ان دونوں کو رجم کر دو "نكالاً من الله" بطورِ سزا کے اللہ کی طرف سے۔
شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت جب یہ دونوں زنا کر لیں تو ان کو رجم کر دو اللہ کی طرف سے بطورِ سزا کے، معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یاد رکھیے یہ قرآن کی آیت تھی، لیکن پھر اس کی تلاوت منسوخ کر دی گئی بھئی، اسی وجہ سے قرآن میں آپ کو یہ آیت نہیں ملے گی، تو یہ آیت ہے تلاوت منسوخ ہے، لیکن حکم ابھی بھی باقی ہے بھئی، شادی شدہ کوئی مرد یا عورت زنا کریں تو ان کو کیا کیا جائے گا؟ رجم ہی کیا جائے گا بھئی۔
آیت کا معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟
بھئی یہ وہ آیت ہے جس کے بارے میں
ایک اعتراض بھئی، جو غلام احمد پرویز نے کیا تھا، والد صاحب حضرت مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ ان کا اور پرویز غلام احمد پرویز کا مناظرہ ہوا بھئی ایک مرتبہ، غلام احمد پرویز بھئی منکرِ حدیث بھئی، حدیث کا انکار کرنے والا،
حدیث کا انکار کرنے والا بھئی، یہ حدیث کا انکار کرتا تھا اور یہ کہتے تھے قرآن ہی کافی ہے بھئی،
قرآن ہی کافی ہے۔
تو یہ حدیث کا انکار کرنے والے لوگوں میں سے تھا بھئی، اور اس کی بڑی پارٹی تھی اور باقاعدہ، باقاعدہ حکومت کی طرف سے بجٹ میں ان کا حصہ رکھا جاتا تھا، اتنا اثر و رسوخ تھا ان لوگوں کا بھئی، اتنا اثر تھا بھئی،
سمجھ میں آیا؟ یہ لاہور ہی کے اندر یہ گلبرگ کے اندر یہ رہتا تھا اور ابھی بھی وہاں اس کا وہ ٹرسٹ ہے، اور لوگ ان کی جماعت والے ہیں بھئی، لیکن یہ حدیث کا انکار کرتے ہیں بھئی، یہ کہتے ہیں قرآن کافی ہے، حدیث کی کوئی ضرورت نہیں، حضور علیہ السلام کا کام صرف قرآن پہنچانا تھا، آگے اس کی تشریح وغیرہ کی ضرورت نہیں،
حدیث کیا ہے احادیث بھئی؟ وہی قرآن کی تفسیر اور شرح ہے نا؟ تو اور یہ بات تو واضح ہے قرآن کے اندر ہر چیز تو صراحتاً ذکر نہیں بھئی، تو وہ کہتے ہیں نہیں قرآن کافی ہے، حدیث کی کوئی ضرورت نہیں، حضور علیہ السلام کا کام صرف اتنا تھا کہ وہ کتاب کو یعنی قرآن کو امت تک پہنچائیں اور ان کا کام نہیں تھا، گویا دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر کی مثال ایک ڈاکیے کی سی تھی جس کا کام خط پہنچانا ہوتا ہے اور کوئی عمل دخل اس کا نہیں ہوتا،
اور یہ باجماعِ امت بھئی یہ کافر ہیں منکرینِ حدیث بھئی، تمام علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ منکرینِ حدیث کافر ہیں بھئی،
اور اس کو اس کی کتابیں اگر کبھی دیکھیں، اتنی کمال کی تحریر ہے کہ انسان اس میں بہتا چلا جاتا ہے، کمال درجے کا قلم ہے اس شخص کا بھئی، کمال درجے کا،
کہ انسان ایک دفعہ پڑھنا شروع کرتا ہے تو بس اس کی ہاں میں ہاں ملاتا چلا جاتا ہے، اور تو یہ جو فتنہ اسی طرح فتنے برپا کرنے والے لوگ ہوتے ہیں ان میں صلاحیت ہوتی ہے باقاعدہ، لیکن یہ اس صلاحیت کو غلط راستے کی طرف لے جاتے ہیں بھئی، ورنہ آپ اپنے ساتھ کوئی آدمی کوئی پارٹی بنانا چاہے، کوئی آسان کام ہے؟ کوئی بھی نہیں ملتا ساتھ، اس میں کوئی کمال ہوتا ہے تو لوگ اس کے ساتھ ملتے ہیں، تو اس کو بھی اللہ نے بڑا زوردار قلم نصیب فرمایا تھا، اتنا زوردار کہ آپ ابھی تو آپ کو پڑھنا نہیں چاہیے، یاد رکھیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ اس کی باتیں بہت اثر کرتی ہیں، ہاں جب آپ پڑھ لیں پورا،
تو اس کے بعد اگر موقع ملتا ہے، اس نیت سے کہ ہم بھی ان فتنوں کا مقابلہ کریں، جواب دیں، کہیں پر کوئی ہم پہ اعتراض کرے تو ہم اس کا جواب دے سکیں، اس نیت سے اور پھر ساتھ اپنے علماء کی کتابوں کو بھی ملائے تو پھر دیکھ، پھر دیکھ لیں، لیکن ابھی نہیں دیکھنا چاہیے آپ کو بھئی۔
تو یہ منکرینِ حدیث بھئی، یہ کہتے تھے قرآن کافی ہے، حدیث کی کوئی ضرورت نہیں، ہاں اپنے مطلب کی کوئی حدیث ہوتی تھی اس کو مان لیتے تھے، جو مطلب کے خلاف اس کو مانتے ہی نہیں تھے بھئی، بخاری، مسلم، ترمذی وغیرہ نہیں بھئی نہیں، ہمارے مطلب کی جو ہے اس کو ماننا ہے، جو مطلب کی نہیں ہے اس کو نہیں ماننا بھئی۔
تو یہ اس کا مناظرہ ہوا بھئی والد صاحب رحمہ اللہ سے،
اور ملتان کے اندر بھئی، اور ملتان کا جو بار روم تھا جو وکیلوں کا مرکز ہوتا ہے جہاں وہ سارے جمع ہوتے ہیں، وہاں پر،
تو سارے وکلاء اور یہ دنیاوی اعتبار سے بڑے بڑے یہ لوگ جمع ہوتے تھے، ایک دن یہ تقریر کرتا تھا، ایک دن پھر اگلے دن والد صاحب رحمہ اللہ وہاں جاتے اور اس کی باتوں کا رد فرماتے اور اس کے جو جو اعتراضات ہوتے تھے ان کے جوابات دیتے تھے۔
انہی میں والد صاحب فر، ذکر فرماتے تھے کہ ایک دن اس نے بڑا ہی مشکل اعتراض کر دیا، سارے علماء اس کا اعتراض سن کر پریشان ہو گئے، باقی تو اس کی ویسی باتیں ہوتی تھیں، اس کے ہم آرام سے جواب دے دیتے تھے، علماء کی، علماء نے ہر چیز کا واضح جواب دیا ہے، بشرطیکہ کوئی محنت کرے اور مطالعہ کرے ان چیزوں کا۔
تو ایک ایسا اعتراض اس نے ایک دن کر دیا جو کسی نے آج تک ذکر ہی نہیں کیا تھا کتابوں وغیرہ میں، کہیں اس کا ذکر نہیں تھا، وہ آ کر اعتراض کرنے لگا، تقریر کر رہا ہے، کہنے لگا بھئی: دیکھو یہ علماء نے اپنی طرف سے رجم کی سزا نکالی ہے، شادی، زنا کرنے والے کے بارے میں تو اللہ قرآن میں فرماتے ہیں ان کو 100 کوڑے لگاؤ، بس، یہ رجم یہ علماء نے اپنی طرف سے بنا رکھا ہے، اور کہتے ہیں کہ وہ آیت ذکر کرتے ہیں دلیل کے طور پر: "الشيخ والشيخة إذا زنيا فارجموهما نكالاً من الله" یہ آیت علماء نے اپنی طرف سے گھڑ رکھی ہے۔
تو کہتے ہیں یہ آیت ہی نہیں ہے، پھر کہنے لگا: اگر یہ آیت تسلیم بھی کر لی جائے فرض کریں ہم مان لیتے ہیں اس کو آیت بھئی، تو بھی "الشيخ والشيخة"، شیخ کا معنی ہوا بوڑھا شخص، بوڑھا آدمی، اور الشیخۃ کا معنی ہوا بوڑھی عورت، تو آیت کا تو ترجمہ یہ بن رہا ہے کہ بوڑھا مرد یا بوڑھی عورت زنا کریں تو ان کو کیا کیا جائے؟ رجم کیا جائے، یہ شادی شدہ کا معنی کہاں سے نکالتے ہیں؟ بڑے لوگ کہتے ہیں لوگوں پہ اس کی تقریر کا اثر ہوا کہ واقعی شیخ تو بوڑھے آدمی کو عربی میں کہتے ہیں بھئی، اور الشیخۃ بوڑھی عورت کو کہتے ہیں، علماء بھی سارے پریشان ہو گئے، یہ کیسا اعتراض اس نے کر دیا بھئی!
والد صاحب فرماتے ہیں: لیکن پھر اللہ نے میرے دل میں بات ڈال دی الحمدللہ، اور اگلے دن میں گیا اور وہاں تقریر کی، اور میں نے کہا
کہ یہ شخص عربی سے واقف ہی نہیں ہے، بس اردو میں اس کو اگر اللہ نے تقریر، قلم دے دیا ہے اس کو کیا معلوم عربی کی باریکیوں کا، اور فرمانے لگے کہ
"الشيخ" اور "الشيخة" کے معنی پر اور بھی اقوال ذکر کیے مفسرین وغیرہ کے کہ وہ اس کا یہ معنی کرتے ہیں، یہ معنی شادی شدہ کا معنی کرتے ہیں، پھر فرمانے لگے کہ بھئی میں زیادہ دور کی بات نہیں کرتا، المنجد تو یہاں بھی موجود ہوگی، آپ لوگوں کے پاس بھی موجود ہوگی، عربی کی لغت جو ہے جو ہو، مشہور ہے، ہر جگہ ہوتی ہے، آپ لوگوں کے پاس بھی لائبریری میں ہوگی، ابھی منگوائیے میں آپ کو دکھاتا ہوں، کہتے ہیں المنجد منگوائی گئی، میں نے اس میں دکھایا ان کو، دیکھو بھئی کیا لکھا ہے شیخ کا معنی؟ الشیخ کا معنی لکھا ہوا تھا بھئی، یعنی اس قسم کے الفاظ تھے، الشیخ من له الزوجة، وہ شخص جس کی بیوی ہو، یعنی بی، شادی شدہ، اور الشیخۃ کا کیا معنی ہے؟ من لها الزوج، جس کا خاوند ہو، میں نے کہا یہ دیکھو بھئی، المنجد والا تو کہتا ہے کہ شیخ کہتے ہیں شادی شدہ کو، اور شیخہ بھی کہتے ہیں شادی شدہ کو، اور یہ
منکرِ حدیث کیا کہتا ہے؟ بوڑھے کو، بوڑھے کو بھی کہتے ہیں، لیکن شادی شدہ کو بھی عربی میں کہتے ہیں الشيخ والشيخة، پھر فرمانے لگے کہ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ میں اس سے بھی بڑھ کر آپ کو ایک عجیب نقطہ آپ کو بتلاؤں، قرآن کے اندر بھی جہاں بھی شیخ کا لفظ ذکر آیا ہے ہمیشہ اس کا اطلاق شادی شدہ ہی پر ہوا ہے، غیر شادی شدہ پر کہیں اس کا اطلاق نہیں ہوا، تو کہتے ہیں قرآن سے بھی میں نے مثالیں دیں، دیکھو یہاں پر شیخ کا لفظ آیا فلاں کے لیے، اور وہ شادی شدہ تھے بھئی، اور لوگوں کی تسلی ہوئی، کہتے ہیں چنانچہ اس طرح اس کو وہاں عبرت ناک شکست ہوئی اور اسے وہاں سے بھاگنا پڑا بھئی۔
تو یہ
کچھ مزید فائدے کی بات تھی، میں نے کہا آپ کو بتلا دوں بھئی۔
اچھا بھئی، اب دیکھیے آگے کتاب پر بھئی: "وإثبات حد قطع الطريق على من كان رضءاً لهم بدلالة قوله تعالى: وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا"
بھئی یہ آیت پیچھے اسباق کے اندر ذکر ہو چکی ہے کہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: "إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ" کہ بدلہ ان لوگوں کا جو جنگ کرتے ہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور فساد مچاتے ہیں زمین کے اندر، ان کا بدلہ یہ ہے کہ ان کو قتل کیا جائے يا سولی دی جائے يا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیے جائیں، "أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ" یا ان کو زمین سے ان کی نفی کر دی جائے بھئی، ظاہر ہے ارض سے یعنی قید میں ڈالا جائے یا جلا وطن کیا جائے جیسے کہ اور علماء لکھتے ہیں۔
تو دیکھیے، تو معلوم ہوا اس آیت سے
کے ذریعے ڈاکو کی حد ثابت ہے کہ اس کے ہاتھ اور پاؤں کو مخالف سمت سے کاٹا جائے گا، کیونکہ "وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا" وہ زمین میں کیا کرتے ہیں؟ فساد مچاتے ہیں۔
فساد مچاتے ہیں۔
تو کہتے ہیں ڈاکوؤں پر جو حد ثابت ہوئی، وہ تو عبارت النص سے ہوئی، کس سے؟ وہ کیا کرتے ہیں؟ زمین میں فساد مچاتے ہیں۔
اور ان پر حد ثابت ہوئی کہ فساد مچاتے ہیں کہ ان کی وجہ سے لوگوں کا سفر کرنا دشوار ہو جاتا ہے، جب لوگ راستوں میں ڈاکے ڈالیں گے تو لوگوں کا سفر کیا ہو جائے گا؟ دشوار ہو جائے گا، اور یہی معنی پائے جا رہے ہیں ان کے مددگاروں میں بھی، ڈاکوؤں کے جو مددگار ہیں، ان کی وہ بھی سبب بن رہے ہیں کس چیز کا؟ ان کی وجہ سے بھی لوگوں کا سفر کرنا مشکل، تو لہذا ڈاکوؤں کے لیے جو سزا ثابت ہوئی ان کے ہاتھ اور پاؤں کو مخالف سمت سے کاٹنا، وہ تو ثابت ہوئی عبارت النص سے، اور ان کے جو مددگار ہیں ان میں بھی وہی معنی پایا گیا، تو ان کے لیے یہ سزا ثابت ہوئی دلالۃ النص کے ذریعے بھئی، ڈاکو ایک ہیں ڈاکو، ایک ان کے مددگار، تو ڈاکوؤں کے لیے سزا ثابت ہوئی عبارت النص سے، اور کی کہ وجہ کیا؟ کہ وہ ان کی وجہ سے لوگوں کا سفر کرنا دشوار ہوتا ہے، اور یہی معنی کس کے اندر پایا جا رہا ہے؟ ان کے مددگاروں کے اندر بھی پایا جا رہا ہے، تو ان کے بھی ہاتھ اور پاؤں کو مخالف سمت سے کاٹا جائے گا، ان پر بھی یہ حد ثابت ہو گئی کس کے ذریعے؟ دلالۃ النص کے ذریعے،
تو یہ معنی ہے "وإثبات حد قطع الطريق" اور ثابت کرنا قطعِ طریق یعنی راستہ کاٹنا یعنی ڈاکہ ڈالنے کی حد، ڈاکہ ڈالنے کی حد کو ثابت کرنا "على من كان" اس شخص پر "رضءاً لهم" جو ان کا مددگار ہے، "بدلالة قوله تعالى" اللہ تعالیٰ کے اس قول کی دلالت کی وجہ سے ہے: "وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا"۔
"ومثال إثبات الكفارات بالدلالة إثبات الكفارة على امرأة وطئت عمداً في نهار رمضان"
بھئی دیکھیے، ایک مرتبہ ایک صحابی آئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس، ایک دیہاتی تھے بھئی،
اور آپ جانتے ہیں روزے کے اندر کھانے، پینے اور بیوی سے صحبت کرنے سے روکا گیا ہے، تو ایک دیہاتی صحابی تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور فرمانے لگے: یا رسول اللہ، میں تو تباہ ہو گیا، حضور نے پوچھا: کیا ہوا؟ کہا: یا رسول اللہ، میں نے رمضان میں دن کے وقت بیوی سے صحبت کر لی۔
تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ بھئی ایک غلام یا باندی آزاد کرو، کہنے لگا: یا رسول اللہ، میں تو بہت غریب ہوں، غلام اور باندی تو بہت ہی کوئی امیر ہوتا تھا اس کو ہی میسر ہوتے تھے، میں تو بہت غریب ہوں، میں کہاں سے غلام یا باندی آزاد کروں؟
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اچھا، کہ یوں کرو کہ
60 مسکینوں کو کھانا کھلاؤ، 60 مسکینوں کو،
نہیں، حضور نے فرمایا کہ 60 روزے رکھو، 60 روزے رکھو،
تو کہنے لگا: یا رسول اللہ، روزے کی وجہ سے ہی تو اس مسئلے میں مبتلا ہوا ہوں، 60 روزے میں کیسے رکھوں گا مسلسل بھئی؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا، یوں کرو 60 مسکینوں کو کھانا کھلا دو،
کہنے لگا: یا رسول اللہ، میں تو بہت غریب ہوں، میرے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں، کیسے میں 60 مسکینوں کو کھانا کھلاؤں گا؟
تو فرمایا: اچھا، بیٹھ جاؤ بھئی، چنانچہ وہ بیٹھ گئے بھئی، کچھ دیر گزری تھی کہ ایک شخص جو ہے کھجوروں کا ایک بڑا ٹوکرا، بہت سی کھجوریں لے آیا بھئی، جو کافی بڑی مقدار تھی بھئی اتنے کے برابر بنتا تھا جو 60 مسکینوں کو
کھانا کھلانے کا جتنا خرچہ ہے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھئی وہ کدھر ہے وہ دیہاتی جو آیا تھا؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ، میں حاضر ہوں، فرمایا: یہ لو، یہ لے جاؤ اور یہ 60 مسکینوں کو یہ کھلا دو ان میں تقسیم کر دو فقراء میں، کہنے لگا: یا رسول اللہ، مدینہ منورہ میں سب سے غریب میں خود ہوں، ہم سے بڑھ کر تو کوئی غریب ہے ہی نہیں یہاں پر، کیا میں اپنے بیوی بچوں کو نہ کھلا دوں؟ فرمایا: ہاں جاؤ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسکرا دیے ہیں، اور فرمایا: اچھا جاؤ بھئی اپنے بیوی بچوں ہی کو کھلا دو، لیکن تمہارے بعد اور کسی کے لیے یہ کافی نہیں ہوگا اس طرح کرنا بھئی، فقراء ہی کو کھلانا پڑے گا بھئی۔
تو یہ صحابی تھے بھئی، اب دیکھیے،
ان پر کفارہ ثابت ہوا،
کفارہ ثابت ہوا،
تو ان پر تو کفارہ ثابت ہوا، وہ تو عبارت النص سے ثابت ہوا،
اور ان کے علاوہ کسی پر ثابت ہوگا، تو وہ کس سے ہوگا؟ دلالۃ النص، کیونکہ کفارہ ان پر کیوں ثابت ہوا تھا؟ کیونکہ انہوں نے دن میں روزے کی حالت میں بیوی سے صحبت کی تھی، تو یہ معنی جب کسی اور میں پایا جائے گا تو اس پر بھی یہ کفارہ واجب ہو جائے گا بھئی، کفارہ واجب، اسی طرح ان کی جو بیوی ہیں، ان صحابی پر تو کفارہ عبارت النص سے ثابت ہوا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کفارہ دو، اور ان کی بیوی جن کے ساتھ صحبت کی گئی، جن کے ساتھ انہوں نے صحبت کی، ان پر کفارہ دلالۃ النص سے ثابت ہوگا، تو ان کی بیوی پر اور دیگر لوگوں پر کفارہ کس طریقے سے ثابت ہوگا؟ دلالۃ النص سے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: "ومثال إثبات الكفارات بالدلالة" اور کفاروں کا ثابت کرنے، کفاروں کے ثابت کرنے کی مثال دلالۃ النص کے ذریعے، "إثبات الكفارة على امرأة وطئت عمداً في نهار رمضان" وہ کفارے کو ثابت کرنا ہے اس عورت پر "وطئت" جس پر
جس کے ساتھ صحبت کر لی گئی ہو "عمداً" جان بوجھ کر "في نهار رمضان" کس میں؟ رمضان کے مہینے میں،
یعنی جو کرنے والا ہے صحبت خاوند اس پر بھی آئے گا اور اس کی بیوی پر بھی آئے گا، تو سب کا اسی میں آ گیا ذکر، بیوی عورت کا بھی ذکر آ گیا، آگے مردوں کا بھی ذکر آ رہا ہے، اس عورت پر جس سے صحبت کر لی گئی ہو جان بوجھ کر رمضان میں دن کے وقت، "بدلالة النص" یہ کفارہ جو اس عورت پر ثابت ہوا کس کے ذریعے ہوگا؟ دلالۃ النص کے ذریعے، "بدلالة نص ورد في الأعرابي" وہ دلالۃ النص اس نص کی دلالت سے جو وارد ہوئی ہے کس کے بارے میں؟ اس دیہاتی کے بارے میں بھئی، اعرابی، اعرابی دیہاتی کو کہتے ہیں۔
تو یہ "ورد" نکرہ ہے، اور یہ "نص" کے بعد، اوہو، "ورد" فعل ہے، اور "نص" جو ہے یہ نکرہ ہے، نکرہ کے بعد فعل آیا تو
اس کے یہ اس کے لیے صفت بنے گا بھئی، "بدلالة نص ورد في الأعرابي" ایسی نص کی دلالت کی وجہ سے جو وارد ہوئی دیہاتی کے بارے میں "حين جامع في رمضان عمداً" جب انہوں نے صحبت کی رمضان کے اندر جان بوجھ کر،
جان بوجھ کر،
یہ نص تو وارد ہوئی ہے اس اعرابی کے بارے میں جنہوں نے صحبت کی تھی رمضان میں جان بوجھ کر، اس نص کی دلالت سے کفارہ ثابت ہوا کس پر؟ وہ عورت جس کے ساتھ جان بوجھ کر رمضان میں دن میں صحبت کی گئی ہو، "وعلى كل من يفعل الجماع سواه" اسی طرح اور علیٰ، ہر اس شخص پر جو جماع کرتا ہے ان کے علاوہ،
اس دیہاتی کے علاوہ اور جو بھی کوئی رمضان کے اندر دن کے وقت اپنی بیوی سے روزے کی حالت میں صحبت کرے گا، اس پر یہ کفارہ واجب ہوگا، کس کے ذریعے ثابت ہوگا؟ دلالۃ النص کے ذریعے،
"لأنه إنما وجبت عليه الكفارة لفساد صومه" اس لیے کیونکہ ان پر جو کفارہ واجب ہوا تھا "لفساد صومه" ان کے روزے کے فاسد ہونے کی وجہ سے تھا، "لا لأنه أعرابي مخصوص أو رجل" اس وجہ سے نہیں کہ وہ کوئی مخصوص دیہاتی تھے یا کوئی مرد تھے اس وجہ سے،
بلکہ ان کا کفارہ کیوں آیا تھا ان پر؟ کیونکہ ان کا روزہ کیا ہوا تھا؟ فاسد ہوا تھا،
"وإثبات الكفارة على من أكل أو شرب عمداً بدلالة هذا النص الوارد في الجماع" اسی طرح
یہ تو تھا صحبت کرنے والے پر کفارہ واجب ہوگا اس نص کی دلالت کی وجہ سے، اسی طرح اگر رمضان کے اندر دن میں روزے کی حالت میں کوئی شخص جان بوجھ کر کھا لیتا ہے کچھ یا پی لیتا ہے، تو اس پر بھی یہی کفارہ آئے گا، اور یہ بھی کس طریقے پر آئے گا؟ دلالۃ النص، کیونکہ اس دیہاتی صحابی پر جو کفارہ آیا تھا وہ کس وجہ سے تھا؟ کہ انہوں نے جان بوجھ کر اپنا روزہ فاسد کیا تھا، تو جو جان بوجھ کر کھائے پیئے گا وہ بھی کیا کر رہا ہے؟ جان بوجھ کر اپنے روزے کو فاسد، تو ان پر جب کفارہ تھا تو ان میں بھی یہی معنی پایا گیا، تو ان پر بھی کیا آ جائے گا؟ کفارہ آ جائے گا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ جو کفارہ آئے گا یہ کس طریقے پر آئے گا؟ دلالۃ النص کے ذریعے
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، "رمضان میں دن کے وقت روزے کی حالت میں خاوند نے اگر اپنی بیوی سے صحبت کی، تب تو کفارہ آئے گا۔ اگر کھائے یا پیے تو اس صورت میں کفارہ نہیں آئے گا بھئی! کیونکہ حدیث میں صرف صحبت کا ذکر ہے، اس پر کفارے کا ذکر ہے۔ کھانے پینے کا ذکر ہی نہیں۔"
"فالعلم عنده ليس إفساد الصوم" پس علت جو ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک "ليس إفساد الصوم بل بل الجماع فقط" کہ وہ روزے کو فاسد کرنا نہیں ہے بلکہ صرف جماع ہے۔ "ولہذا قالوا" اور اسی وجہ سے علماء فرماتے ہیں، اسی وجہ سے علماء فرماتے ہیں کہ "إن إن عد أمثال هذه الأحكام في الدلالة" کہ ان احکام کو اگر شمار کیا جائے دلالت کے اندر، ان احکام جیسوں کو، "إن عد أمثال هذه الأحكام في الدلالة" کہ اگر ان احکام جیسوں کو شمار کیا جائے دلالت کے اندر، "لا يحسن" تو یہ اچھا نہیں ہے۔ ان جیسے احکام کو دلالت میں شمار کیا، اگر کیا جائے تو یہ اچھا نہیں ہے۔ کیوں؟ "لأن الشافعي رحمة الله لم يعرف هذا" کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کو، کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کو نہیں پہچانا "مع أنه من أهل اللسان" باوجود یہ کہ وہ اہل زبان تھے بھئی۔
امام شافعی رحمہ اللہ بھئی، وہ تو عربی النسل ہیں، سید ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سے ہیں، وہ وہ عربی ان کی مادری زبان ہے، وہ اس کا انکار کر رہے ہیں، معلوم ہوا یہ دلالۃ النص نہیں بھئی۔ کیوں؟ بھئی دلالۃ النص کی تعریف میں آپ نے پڑھا تھا "لغة لا اجتهادًا"، اس کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ لغت سے ہی چلتا ہے، وہاں اجتہاد کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ تو معلوم ہوا دلالۃ النص کا ایسی چیز ہوتی ہے کہ ہر وہ زبان جاننے والا اس کو پہچان لیتا ہے، اور امام شافعی رحمہ اللہ جو زبان والے بھی ہیں، مجتہد بھی ہیں، وہ اس کا کیا کر رہے ہیں؟ انکار کر رہے ہیں، معلوم ہوا ان کو ان کو اس کا علم نہ ہو سکا، معلوم ہوا یہ دلالۃ النص میں سے نہیں، اگر یہ دلالۃ النص میں سے ان جیسے یہ جو احکام ہم نے ذکر کیے، دلالۃ النص میں سے ہوتے تو وہ اہل زبان ہیں، ان کو ضرور پتہ چلتا۔ تو بہتر یہ ہے کہ کہتے ہیں ان کو دلالۃ النص میں نہ شمار کیا جائے، بلکہ ان کو قیاس میں شمار کیا جائے، کس میں؟ قیاس میں۔ تو ٹھیک ہے، امام شافعی رحمہ اللہ ایک بات کو تسلیم کرتے ہیں یا تسلیم نہیں کرتے، ہم ان کا عکس کریں، لیکن دلالۃ النص وہ تو ہر عربی زبان جاننے والا اس کو پہچان لیتا ہے، کسی پر وہ بات مخفی نہیں رہتی بھئی۔
تو کہتے ہیں "لأن الشافعي رحمة الله لم يعرف هذا مع أنه من أهل اللسان فكان ينبغي أن يعد في القياس" تو مناسب یہ ہے کہ ان کو شمار کیا جائے قیاس کے اندر، "ومثلها كثير لنا وله" اور اس قسم کی مثالیں بہت سی ہیں ہمارے لیے بھی اور ان کے لیے بھی، یعنی جس میں ہمارے علماء کیا کہتے ہیں یہ دلالۃ النص سے ثابت ہے، اور وہ امام شافعی رحمہ اللہ کیا کرتے ہیں اس کا؟ انکار کرتے ہیں بھئی، تو ان کو شمار قیاس میں کرنا چاہیے بھئی۔
"والثابت به لا يحتمل التخصيص لأنه لا عموم لا عموم له" اور وہ حکم جو ثابت ہو دلالۃ النص کے ذریعے "لا يحتمل التخصيص" وہ تخصیص کا احتمال نہیں رکھتا "لأنه لا عموم له" اس لیے کیونکہ اس میں کوئی عموم نہیں ہے بھئی۔
بھئی دلالۃ النص میں عموم نہیں، بھئی عموم اور خصوص تو لفظ کی قسمیں لفظ کے اندر جاری ہوتا ہے بھئی، عموم اور خصوص بھئی، لفظ عام ہوگا یا لفظ خاص ہوگا، تو یہ لفظ کی صفات ہیں، معنی کی صفات نہیں، جب معنی کی صفات نہیں اور دلالۃ النص وہ تو کس سے ثابت ہے؟ معنی کے ذریعے ثابت ہے، تو اس میں عموم اور خصوص نہیں آئے گا بھئی، تو تخصیص بھی نہیں آئے گی۔
تو کہتے ہیں "إذ العموم والخصوص من عوارض ألفاظ" اس لیے کیونکہ عموم اور خصوص جو ہیں وہ الفاظ کے عوارض ہیں بھئی، "وهذا معنى لازم للموضوع له لا للفظه" اور یہ جو معنی ہے یعنی یہ دلالۃ النص، یہ تو لازم ہے کس کے ساتھ؟ معنیِ موضوع لہ کے ساتھ لازم ہے "لا للفظه" نہ کہ اس کے لفظ کے ساتھ۔ وہی دلالت بھئی بتلایا تھا یا نہیں؟ ایک معنیِ موضوع لہ ہے، اس کے ساتھ کیا؟ اف کہنے سے روکا گیا، اس کے ساتھ کیا لازم تھا؟ کہ ان کو تکلیف نہ دو، تو دیکھو یہ معنیِ موضوع لہ کے ساتھ لازم ہے تکلیف نہ دینا، لفظ کے ساتھ لازم نہیں۔
"ولأن العلة كالأذى مثلاً" اور اس وجہ سے کہ علت یعنی کہ اذیت دینا،
اذیت کا کیا معنی ہے یہاں؟ اذیت دینا۔
مثلاً مثال کے طور پر "إذا ثبت كونه علة للحرمة" جب ثابت ہو گیا اس کا علت ہونا حرمت کے لیے،
بھئی اذیت، یہ ثابت ہوا اذیت یہ علت ہے حرمت کی۔ بھئی اف کہنے میں کیا تھی؟ والدین کی اذیت تھی، تو اف کہنے سے منع کیا گیا۔ تو اسی طرح مارنے اور گالی دینے میں بھی اذیت ہے، تو اس کی بھی حرمت آ گئی۔ معلوم ہوا اس حرمت کی علت کیا ہے؟ اذیت۔ تو جب یہ ثابت ہو گیا اس کا علت ہونا حرمت کے لیے "لا يحتمل أن يكون غير علة" تو یہ احتمال نہیں رکھتی کہ وہ علت نہ ہو "بأن يوجد الأذى" بایں طور کہ اذیت تو پائی جائے "ولم توجد الحرمة" اور حرمت نہ پائی جائے "فأينما وجدت العلة وجدت الحرمة" پس جہاں بھی علت پائی جائے گی، حرمت پائی جائے گی "ولا يسمى هذا تعميمًا" اور اس کو تعمیم نہیں کہتے۔
بھئی دیکھیے، انہوں نے کہا اوپر کہ دلالۃ النص کے ذریعے جو حکم ثابت ہوتا ہے اس میں تخصیص کا احتمال نہیں ہوتا، اس لیے کیونکہ وہاں عموم ہے ہی نہیں، عموم ہوگا تو پھر تخصیص بھی جائز ہوگی، عموم ہی نہیں تو تخصیص بھی نہیں۔ بھئی جیسے بھئی طلاق وہی ہوگی نا جہاں نکاح ہوگا، نکاح نہیں تو طلاق بھی نہیں، تو تخصیص بھی وہی ہوتی ہے جہاں عموم پایا جائے، اور جہاں عموم ہی نہیں ہے وہاں تخصیص بھی نہیں، تو یہاں اس دلالۃ النص کے اندر عموم ہی نہیں، جب عموم نہیں تو تخصیص بھی نہیں۔
اور کہتے ہیں دیکھیے کہ جب ایک چیز کا پتہ لگ گیا یہ علت ہے، جب یہ پتہ چل گیا، یہ اذیت یہ علت ہے حرمت کی، اذیت یہ علت ہے کس چیز کی؟ حرمت کی، تو جس چیز کے اندر بھی یہ علت ہوگی، جس چیز میں بھی اذیت ہوگی وہ سب حرام ہو جائیں گی بھئی اس کے لیے اس شخص کے لیے۔
اف کہنے میں بھی کیا تھی؟ اذیت، وہ تو براہِ راست نص میں ہی آ گیا، لیکن اس کے بعد یہ علت جہاں جہاں پائی جائے گی وہاں پر حرمت والا حکم آتا جائے گا، ضرب کے اندر بھی اذیت ہے والدین کے لیے، گالی دینے میں بھی اذیت ہے، تو ان سب کے اندر بھی یہ حکم آ جائے گا۔
اور جب یہ علت ہونا اس کا ثابت ہو گیا تو یہ نہیں ہو سکتا کہیں یہ علت پائی جائے اور حرمت والا حکم نہ آئے۔ جہاں بھی یہ علت آئے گی حرمت والا حکم ضرور آ جائے گا۔ اور تخصیص کا معنی تو ہوتا ہے بعض چیزوں کو حکم سے نکال دینا، اس کا اگر تخصیص یہاں جائز ہو تو معنی ہوگا بعض جگہ ایسی بھی ہیں جہاں پر اذیت تو ہے لیکن حرمت والا حکم نہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہو سکتا بھئی۔ جب علت یہ چیز ہے تو وہ جہاں بھی پائی جائے گی وہ علت بنے گی اور حرمت والا حکم آئے گا، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ علت پائی جائے اور پھر وہ حکم نہ پایا جائے بھئی۔
اگر علت پائی جائے اور حکم نہ پایا جائے، پھر تو معلوم ہوا یہ علت ہی نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو تخصیص کا معنی تو ہوتا ہے بعض افراد کو اس حکم سے نکال دیا جائے، بعض افراد کو حکم سے نکال دیا جائے، تو اگر یہاں تخصیص مانی جائے، مان لی جائے تو کیا معنی کرنا پڑے گا؟ کہ بعض جگہ پر علت ہے اور حرمت والا حکم نہیں، جب علت ہے اور حکم والا حرمت والا حکم نہیں، معلوم ہوا یہ علت ہی نہیں ہے۔ صورت، تو یہ علت ہی نہیں ہے، تو لہذا ایسا نہیں ہو سکتا، لہذا جہاں بھی علت پائی جائے گی، حرمت والا حکم ضرور آئے گا، اور اس کو کہتے ہیں تعمیم نہیں کہتے، اس کو شمول کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ شمول، یہ کہ اپنی تمام صورتوں کو شامل ہوگی، جہاں بھی علت وہاں حکم آئے گا، اور جہاں علت نہیں وہ والا حکم بھی نہیں، ہاں یہ نہیں ہو سکتا کہ علت پائی جائے اور حکم نہ پایا جائے بھئی۔
معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟
یہ معنی ہے کہ "إذا ثبت كونه علة للحرمة لا يحتمل أن يكون غير علة بأن يوجد الأذى ولم توجد الحرمة فأينما وجدت العلة وجدت الحرمة ولا يسمى هذا تعميمًا"۔
"وأما الثابت باقتضاء النص فما لا يعمل النص إلا بشرط تقدمه عليه"، "تقدمه" کے بعد "عليه" کا لفظ ہے بھئی؟ علیہ کا لفظ ہونا چاہیے، یہ کتابت کی غلطی ہے بھئی۔ "بشرط تقدمه عليه، فإن ذلك أمر اقتضاه النص لصحة ما تناوله فصار هذا مضافًا إلى النص بواسطة المقتضى"۔
اچھا بھئی، توجہ سے سننا، یہ مشکل مقام ہے ذرا بھئی۔
ابھی متن ہی کو آگے شرح میں بھی تقریر کریں گے، اس متن کو حل کرنے کے لیے دو تقریریں کریں گے، وہیں پر ہم کر لیتے ہیں پہلے، اس کے بعد پھر شرح کی طرف جائیں گے، شرح کی طرف۔
دیکھیے بھئی، "وأما الثابت باقتضاء النص" اور باقی وہ جو ثابت ہے نص کے تقاضا کرنے کی وجہ سے،
بھئی چار چیزیں پہلے سمجھ لیں۔
ایک ہے مقتضی، ایک ہے مقتضا، ایک ہے اقتضا، اور ایک ہے حکمِ مقتضا۔ ایک ہے حکمِ مقتضا۔ کتنی چیزیں؟ چار چیزیں۔
ایک مقتضی، ایک مقتضا، ایک ایک اقتضا، اور ایک حکمِ مقتضا، حکمِ مقتضا۔
بھئی دیکھیے، مثال ذہن میں رکھیں، ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے "أعتق عبدك عني بألف" تم اپنے غلام کو میری طرف سے آزاد کر دو 1000 درہم کے بدلے میں، 1000 درہم کے بدلے میں۔ اب دیکھیے یہ غلام تو مخاطب کا ہے، لیکن یہ کہنے والا کہہ رہا ہے کہ میری طرف سے آزاد کر دو، تو یہ غلام اب اس کی طرف سے آزاد نہیں ہو سکتا الا یہ کہ یہاں پر دو چیزیں مانی جائیں، ایک بیع اور دوسری توکیل۔
ایک بیع اور توکیل، یعنی گویا کہنے والے نے یوں کہا کہ بھئی اپنا غلام میرے ہاتھ فروخت کر دو اور پھر تم میری طرف سے وکیل بن کر اس کو کیا کر دو؟ آزاد کر دو، تو لہذا اس نے تو صرف یہ کہا، "میری طرف سے آزاد کر دو"، لیکن اس کلام نے تقاضا کیا، کس چیز کا تقاضا کیا اپنے اس کلام نے اپنے صحیح ہونے کے لیے تقاضا کیا، یہ کلام تبھی صحیح ہو سکتا ہے، وہ غلام اس کہنے والے کی طرف سے تبھی آزاد ہو سکتا ہے کہ اس سے پہلے کیا مانا جائے؟ بیع اور توکیل کو مانا جائے۔
تو یہ کلام جو ہے "أعتق عبدك عني بألف"، یہ ہوا مقتضی، اس نے تقاضا کیا اپنے صحیح ہونے کے لیے، کس چیز کا تقاضا کیا؟ بیع اور توکیل کا، تو بیع اور توکیل ہوئے مقتضا۔ بیع اور توکیل کیا ہیں؟ وہ کلام جس نے تقاضا کیا وہ ہے مقتضی، تقاضا کرنے والا، اور جس چیز کا تقاضا کیا، وہ کیا ہے؟ بیع اور توکیل، وہ ہے مقتضا، جن کا تقاضا کیا گیا۔
اچھا، اور یہ مقتضا کیوں آیا؟ کیونکہ نص نے اس کا تقاضا کیا، نص نے کیا کیا؟ تو یہ تقاضا کرنے کی وجہ سے آتا ہے مقتضا، وہ نص ہے تقاضا کرنے والی، اور نص کے تقاضا کرنے کی وجہ سے کون آیا؟ مقتضا۔ دیکھیے بھئی، مثال سے وضاحت ہوگی۔ دیکھیے مثلاً یہ دو چیزیں میرے سامنے پڑی ہیں، ایک یہ چیز پڑی ہے، ایک یہ چیز سامنے پڑی ہوئی ہے بھئی، نظر آ رہی ہے سب کو بھئی؟ جی، یہ دو چیزیں پڑی ہیں اور درمیان میں فاصلہ ہے دونوں کے بھئی۔ اب ان میں سے یہ پہلی چیز ہے سمجھیں یہ ہے مقتضی، دوسری چیز ہے مقتضا، اور درمیان میں فاصلہ ہے۔ اچھا، یہ مقتضی یہ وہ نص ہے، اس نص نے تقاضا کیا، کیا آنا چاہیے؟ مقتضا آنا چاہیے، تو مقتضی اور مقتضا کے درمیان جو ربط ہے وہ کیا ہے؟ اقتضا، وہ کیا ہے؟ تقاضا کرنا، نص نے تقاضا کیا تو مقتضا آیا،
درمیان میں ربط کیا ہے؟ اقتضا ہے، تقاضا کرنا، بھئی یہ تقاضا کرنا پایا جائے گا تو ایک کو مقتضی کہیں گے، دوسرے کو مقتضا، اگر تقاضا کرنا ہی نہیں ہے تو مقتضی مقتضا کہاں سے آئے بھئی؟ تقاضا کرنا ہے تو تقاضا کرنے والا ہوا مقتضی اور جس کا تقاضا کیا گیا وہ ہے مقتضا۔ اچھا، تو پھر
یہ نص ہوئی مقتضی، اس نے کیا تقاضا، تو کون آیا؟ مقتضا آیا، اور پھر بیع اور توکیل مانیں گے اور پھر بیع اور توکیل کا حکم ثابت ہوگا، کیا ہوگا؟ اس کا حکم ثابت ہوگا، بیع بھی مان لیں گے، توکیل بھی پھر مان لیں گے اور وہ غلام آزاد کرے گا تو وہ غلام کہنے والے کی طرف سے آزاد ہوا اب، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ ہے اس کا حکم بھئی۔
مقتضی کون؟ نص، "أعتق عبدك عني بألف"، یہ ہے مقتضی۔ پھر دوسری چیز کیا ہے؟ اس نے کیا کیا؟ تقاضا کیا، تقاضا کیا تو تیسری چیز کیا آ گئی؟ مقتضا آ گیا۔ جب مقتضا کیا ہے؟ بیع اور توکیل، اس کو ماننا پڑے گا، جب مقتضا آ گیا، بیع اور توکیل آ گئی تو ان کا حکم بھی ثابت ہوگا، یوں سمجھیں کہ بیع ہو گئی، وہ دوسرا یہ یہ کہنے والا اس چیز کا مالک بن گیا اور پھر توکیل بھی آ گئی اور وہ کہنے والا کیا ہوا؟ جس دوسرا اس کا کیا بن گیا؟ وکیل بن گیا، اب وہ آزاد کرے گا تو وہ یہ جو "أعتق عبدك عني بألف" یہ جس نے کہا تھا، اس کی طرف سے اب یہ غلام آزاد ہو جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ چار چیزیں ہیں یہاں پر۔
تو ایک کیا ہے؟ مقتضی، ایک کون ہے؟ مقتضا، اور جو درمیان میں ربط وہ کیا ہے؟ اقتضا، اور پھر جو مقتضا سے ثابت ہوگا وہ کیا ہے؟ اس کا حکم بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے، انہوں نے کہا متن میں "وأما الثابت باقتضاء النص"، یہاں دو تقریریں کریں گے، پہلی تقریر کے مطابق "الثابت باقتضاء النص" اس سے مراد لیں گے مقتضا۔
کیا مراد لیں گے؟
بھئی دیکھیے،
مقتضی کے بعد مقتضا آیا، کیوں، کس وجہ سے؟ درمیان میں کیا ربط تھا؟ نص نے تقاضا کیا تو مقتضا آیا، اور یہ مقتضی بن گئی اور وہ کیا بن گیا؟ مقتضا بن گیا، نص نے تقاضا کیا، تو یہی بات کر رہے ہیں "وأما الثابت باقتضاء النص"، باقی وہ جو ثابت ہے نص کے تقاضا کرنے کی وجہ سے،
نص کے تقاضا کرنے کی وجہ سے کون ثابت ہے؟ مقتضا ثابت ہوا نا، نص نے تقاضا کیا تو کون آ گیا؟ مقتضا، تقاضا کرنے کی وجہ سے نص مقتضی ہوئی اور جو چیز آ گئی وہ کیا بن گئی؟ تو سمجھ بھی آ رہی ہے بات کہ مشکل ہے؟ کہتے ہیں "وأما الثابت باقتضاء النص" باقی وہ چیز جو نص کے تقاضا کرنے کی وجہ سے ثابت ہے، یعنی یعنی کون؟ مقتضا، یعنی مقتضا جو ہے، اب اس سارے کو اٹھا کر ادھر مقتضا رکھ لیں، مقتضا جو ہے "فما" پس وہ چیز ہے "لا يعمل النص" کہ نص عمل نہیں کرتی
کس چیز کا عمل نہیں کرتی؟
اپنا یعنی اپنا معنی ثابت نہیں کرتی۔
اس نے کیا کہا تھا؟ "أعتق عبدك عني عني بألف" اپنے غلام کو میری طرف سے 1000 کے بدلے، یہ غلام کے اگر اگر بیع اور توکیل نہ مانی جائے نا تو اگر وہ غلام آزاد کرے گا تو اس کی طرف سے ہی آزاد ہوگا، کہنے والے کی طرف سے آزاد نہیں ہوگا۔ لہذا ضروری ہوا کہ کہنے والے کی طرف سے آزاد کرنے کے لیے ضروری ہوا کہ کیا مانو؟ بیع بھی مانو اور توکیل بھی مانو، تو نص ہے، نص کیا ہے؟ "أعتق عبدك عني بألف"، یہ نص یہ عمل نہیں کرتی، یعنی اس کا معنی نہیں ثابت ہو سکتا، وہ غلام اس کی طرف سے آزاد نہیں ہو سکتا کب تک؟ "إلا بشرط تقدمه" مگر یہ
"بتقدمه"، ہا ضمیر راجع ہے "ما" کو۔ "بشرط تقدمه" وہ چیز "لا يعمل النص" کہ نص عمل نہیں نص کے عمل نہ کرنے کا کیا معنی؟
کہ نص کا اپنا معنی نہیں ثابت ہوتا، وہ تو کہہ رہا ہے میری طرف سے غلام آزاد کر، آپ بیع اور توکیل کے بغیر کہیں تو پھر یہ اس کی طرف سے ہوگا؟ نہیں، وہ تو اسی کی طرف سے ہو جائے گا، تو نص عمل نہیں کرتی، کیا معنی؟ اپنا معنی ثابت نہیں کر سکتی "إلا بشرط تقدمه" مگر یہ کہ وہ چیز اس پر مقدم ہو جائے۔
وہ چیز کس کی تعریف کر رہے ہیں؟ مقتضا کی، "ما ثبت أما الثابت باقتضاء النص"، توجہ سے سننا، مشکل مقام ہے، "أما الثابت باقتضاء النص" کیا مراد لیا اس سے ہم نے؟ مقتضا، تو اب یہ مقتضا کی تعریف ہو رہی ہے، مقتضا کس چیز کا نام ہے؟ کہتے ہیں "فما" پس مقتضا جو ہے "ما" وہ چیز ہے "لا يعمل النص" کہ نص عمل نہیں کرتی، یعنی اپنے معنی ثابت نہیں کر سکتی "إلا بشرط تقدمه" مگر یہ کہ وہ چیز اس پر مقدم ہو جائے۔
وہ چیز مقتضا وہ چیز ہے کہ نص عمل نہیں کر سکتی جب تک یہ چیز اس پر مقدم نہ ہو جائے بھئی۔
کون تھا مقتضا؟
بیع اور توکیل، کیا تھے؟ ان کی تعریف کر رہے ہیں، کہ یہ جو مقتضا وہ چیز ہے کہ نص عمل نہیں کرے گی، یعنی اپنے معنی کو ثابت نہیں کرے گی، جب تک یہ بیع اور توکیل یعنی یہ مقتضا اس پر مقدم نہ مان لیں آپ، جب یہ مقدم مانیں گے پھر اس کے بعد یہ غلام کہنے والے کی طرف سے آزاد ہوگا ورنہ نص اپنا عمل نہیں کرے گی، غلام کہنے والے کی طرف سے آزاد نہیں، اب معنی سمجھ میں آ گیا؟ اچھی طرح؟
تو کہتے ہیں مقتضا جو ہے "ما" وہ چیز ہے "لا يعمل النص" کہ نص عمل نہیں کرتی "إلا بشرط تقدمه عليه" مگر یہ کہ وہ چیز مقدم ہو "عليه" اس نص پر۔
وہ چیز کیا ہو؟ نص، بیع اور توکیل کیا ہوں؟ اس نص پر مقدم ہوں، تب ہی "أعتق عبدك عني بألف" یہ اپنا اثر دکھائے گا، اپنا حکم ثابت کرے گا، ورنہ اس کے بغیر ثابت نہیں، یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی سب کو؟
اچھا، "فإن ذلك أمر فإن ذلك أمر اقتضاه النص" اس لیے کیونکہ یہ ایسی چیز ہے
"فإن ذلك"، ذلك کے ذریعے اشارہ ہے، تعریف کس کی چل رہی ہے؟ مقتضا کی، تو اسی کی طرف اشارہ ہے۔
وہ جو ثابت باقتضاء النص ہے بھئی، ثابت باقتضاء النص ہم نے کیا مراد لیا؟ مقتضا، "فإن ذلك" اس لیے کیونکہ وہ یعنی مقتضا جو ہے "أمر" ایسی چیز ہے، ایسا امر ہے "اقتضاه النص" "اقتضاه النص" جس کا تقاضا کس نے کیا ہے؟ نص نے تقاضا کیا ہے "لصحة ما تناوله" اس معنی کے صحیح ہونے کے لیے جس کو وہ نص شامل ہے۔ "فصار هذا مضافًا إلى النص" پس یہ اقت- یہ مقتضا جو ہے
یہ منسوب ہوا نص کی طرف
یا یہ حکم منسوب ہوا نص کی طرف "بواسطة المقتضى" مقتضا کے واسطے سے۔
بھئی دیکھیے، دو تقریریں کریں گے، پہلی تقریر بھئی، پہلی تقریر۔
کہتے ہیں "وأما الثابت باقتضاء النص" اور باقی وہ جو ثابت ہے نص کے تقاضا کرنے کی وجہ سے۔
بھئی چار چیزیں پہلے سمجھ لیں۔
ایک ہے مقتضی، ایک ہے مقتضا، ایک ہے اقتضا،
اور ایک ہے حکمِ مقتضا۔
ایک ہے حکمِ مقتضا۔ کتنی چیزیں؟ چار چیزیں۔
ایک مقتضی، ایک مقتضا، ایک ایک اقتضا، اور ایک حکمِ مقتضا، حکمِ مقتضا۔
بھئی دیکھیے، مثال ذہن میں رکھیں، ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے "أعتق عبدك عني بألف" تم اپنے غلام کو میری طرف سے آزاد کر دو 1000 درہم کے بدلے میں، 1000 درہم کے بدلے میں۔ اب دیکھیے یہ غلام تو مخاطب کا ہے، لیکن یہ کہنے والا کہہ رہا ہے کہ میری طرف سے آزاد کر دو، تو یہ غلام اب اس کی طرف سے آزاد نہیں ہو سکتا الا یہ کہ یہاں پر دو چیزیں مانی جائیں، ایک بیع اور دوسری توکیل۔
ایک بیع اور توکیل، یعنی گویا کہنے والے نے یوں کہا کہ بھئی اپنا غلام میرے ہاتھ فروخت کر دو اور پھر تم میری طرف سے وکیل بن کر اس کو کیا کر دو؟ آزاد کر دو، تو لہذا اس نے تو صرف یہ کہا، "میری طرف سے آزاد کر دو"، لیکن اس کلام نے تقاضا کیا، کس چیز کا تقاضا کیا اپنے اس کلام نے اپنے صحیح ہونے کے لیے تقاضا کیا، یہ کلام تبھی صحیح ہو سکتا ہے، وہ غلام اس کہنے والے کی طرف سے تبھی آزاد ہو سکتا ہے کہ اس سے پہلے کیا مانا جائے؟ بیع اور توکیل کو مانا جائے۔
تو یہ کلام جو ہے "أعتق عبدك عني بألف"، یہ ہوا مقتضی، اس نے تقاضا کیا اپنے صحیح ہونے کے لیے، کس چیز کا تقاضا کیا؟ بیع اور توکیل کا، تو بیع اور توکیل ہوئے مقتضا۔ بیع اور توکیل کیا ہیں؟ وہ کلام جس نے تقاضا کیا وہ ہے مقتضی، تقاضا کرنے والا، اور جس چیز کا تقاضا کیا، وہ کیا ہے؟ بیع اور توکیل، وہ ہے مقتضا، جن کا تقاضا کیا گیا۔
اچھا، اور یہ مقتضا کیوں آیا؟ کیونکہ نص نے اس کا تقاضا کیا، نص نے کیا کیا؟ تو یہ تقاضا کرنے کی وجہ سے اتا ہے مقتضا، وہ نص ہے تقاضا کرنے والی، اور نص کے تقاضا کرنے کی وجہ سے کون آیا؟ مقتضا۔ دیکھیے بھئی، مثال سے وضاحت ہوگی۔ دیکھیے مثلاً یہ دو چیزیں میرے سامنے پڑی ہیں، ایک یہ چیز پڑی ہے، ایک یہ چیز سامنے پڑی ہوئی ہے بھئی، نظر آ رہی ہے سب کو بھئی؟ جی، یہ دو چیزیں پڑی ہیں اور درمیان میں فاصلہ ہے دونوں کے بھئی۔ اب ان میں سے یہ پہلی چیز ہے سمجھیں یہ ہے مقتضی، دوسری چیز ہے مقتضا، اور درمیان میں فاصلہ ہے۔ اچھا، یہ مقتضی یہ وہ نص ہے، اس نص نے تقاضا کیا، کیا آنا چاہیے؟ مقتضا آنا چاہیے، تو مقتضی اور مقتضا کے درمیان جو ربط ہے وہ کیا ہے؟ اقتضا، وہ کیا ہے؟ تقاضا کرنا، نص نے تقاضا کیا تو مقتضا آیا،
درمیان میں ربط کیا ہے؟ اقتضا ہے، تقاضا کرنا، بھئی یہ تقاضا کرنا پایا جائے گا تو ایک کو مقتضی کہیں گے، دوسرے کو مقتضا، اگر تقاضا کرنا ہی نہیں ہے تو مقتضی مقتضا کہاں سے آئے بھئی؟ تقاضا کرنا ہے تو تقاضا کرنے والا ہوا مقتضی اور جس کا تقاضا کیا گیا وہ ہے مقتضا۔ اچھا، تو پھر
یہ نص ہوئی مقتضی، اس نے کیا تقاضا، تو کون آیا؟ مقتضا آیا، اور پھر بیع اور توکیل مانیں گے اور پھر بیع اور توکیل کا حکم ثابت ہوگا، کیا ہوگا؟ اس کا حکم ثابت ہوگا، بیع بھی مان لیں گے، توکیل بھی پھر مان لیں گے اور وہ غلام آزاد کرے گا تو وہ غلام کہنے والے کی طرف سے آزاد ہوا اب، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ ہے اس کا حکم بھئی۔
مقتضی کون؟ نص، "أعتق عبدك عني بألف"، یہ ہے مقتضی۔ پھر دوسری چیز کیا ہے؟ اس نے کیا کیا؟ تقاضا کیا، تقاضا کیا تو تیسری چیز کیا آ گئی؟ مقتضا آ گیا۔ جب مقتضا کیا ہے؟ بیع اور توکیل، اس کو ماننا پڑے گا، جب مقتضا آ گیا، بیع اور توکیل آ گئی تو ان کا حکم بھی ثابت ہوگا، یوں سمجھیں کہ بیع ہو گئی، وہ دوسرا یہ کہنے والا اس چیز کا مالک بن گیا اور پھر توکیل بھی آ گئی اور وہ کہنے والا کیا ہوا؟ دوسرا اس کا کیا بن گیا؟ وکیل بن گیا، اب وہ آزاد کرے گا تو وہ یہ جو "أعتق عبدك عني بألف"، یہ جس نے کہا تھا، اس کی طرف سے اب یہ غلام آزاد ہو جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ چار چیزیں ہیں یہاں پر۔
تو ایک کیا ہے؟ مقتضی، ایک کون ہے؟ مقتضا، اور جو درمیان میں ربط وہ کیا ہے؟ اقتضا، اور پھر جو مقتضا سے ثابت ہوگا وہ کیا ہے؟ اس کا حکم بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے، انہوں نے کہا متن میں "وأما الثابت باقتضاء النص"،
یہاں دو تقریریں کریں گے، پہلی تقریر کے مطابق "الثابت باقتضاء النص"، اس سے مراد لیں گے مقتضا۔
کیا مراد لیں گے؟
بھئی دیکھیے،
مقتضی کے بعد مقتضا آیا، کیوں، کس وجہ سے؟ درمیان میں کیا ربط تھا؟ نص نے تقاضا کیا تو مقتضا آیا، اور یہ مقتضی بن گئی اور وہ کیا بن گیا؟ مقتضا بن گیا، نص نے تقاضا کیا، تو یہی بات کر رہے ہیں "وأما الثابت باقتضاء النص"، باقی وہ جو ثابت ہے نص کے تقاضا کرنے کی وجہ سے،
نص کے تقاضا کرنے کی وجہ سے کون ثابت ہے؟ مقتضا ثابت ہوا نا، نص نے تقاضا کیا تو کون آ گیا؟ مقتضا، تقاضا کرنے کی وجہ سے نص مقتضی ہوئی اور جو چیز آ گئی وہ کیا بن گئی؟ تو سمجھ بھی آ رہی ہے بات کہ مشکل ہے؟ کہتے ہیں "وأما الثابت باقتضاء النص" باقی وہ چیز جو نص کے تقاضا کرنے کی وجہ سے ثابت ہے، یعنی یعنی کون؟ مقتضا، یعنی مقتضا جو ہے، اب اس سارے کو اٹھا کر ادھر مقتضا رکھ لیں، مقتضا جو ہے "فما" پس وہ چیز ہے "لا يعمل النص" کہ نص عمل نہیں کرتی
کس چیز کا عمل نہیں کرتی؟
اپنا یعنی اپنا معنی ثابت نہیں کرتی۔
اس نے کیا کہا تھا؟ "أعتق عبدك عني عني بألف"، اپنے غلام کو میری طرف سے 1000 کے بدلے، یہ غلام اگر اگر بیع اور توکیل نہ مانی جائے نا تو اگر وہ غلام آزاد کرے گا تو اس کی طرف سے ہی آزاد ہوگا، کہنے والے کی طرف سے آزاد نہیں، لہذا ضروری ہوا کہ کہنے والے کی طرف سے آزاد کرنے کے لیے ضروری ہوا کہ کیا مانو؟ بیع بھی مانو اور توکیل بھی مانو، تو نص ہے، نص کیا ہے؟ "أعتق عبدك عني بألف"، یہ نص یہ عمل نہیں کرتی، یعنی اس کا معنی نہیں ثابت ہو سکتا، وہ غلام اس کی طرف سے آزاد نہیں ہو سکتا کب تک؟ "إلا بشرط تقدمه" مگر یہ
"بتقدمه"، ہا ضمیر راجع ہے "ما" کو۔ "بشرط تقدمه" وہ چیز "لا يعمل النص" کہ نص عمل نہیں نص کے عمل نہ کرنے کا کیا معنی؟
کہ نص کا اپنا معنی نہیں ثابت ہوتا، وہ تو کہہ رہا ہے میری طرف سے غلام آزاد کر، آپ بیع اور توکیل کے بغیر کہیں تو پھر یہ اس کی طرف سے ہوگا؟ نہیں، وہ تو اسی کی طرف سے ہو جائے گا، تو نص عمل نہیں کرتی، کیا معنی؟ اپنا معنی ثابت نہیں کر سکتی "إلا بشرط تقدمه" مگر یہ کہ وہ چیز اس پر مقدم ہو جائے۔
وہ چیز کس کی تعریف کر رہے ہیں؟ مقتضا کی، "ما ثبت أما الثابت باقتضاء النص"، توجہ سے سننا، مشکل مقام ہے، "أما الثابت باقتضاء النص" کیا مراد لیا اس سے ہم نے؟ مقتضا، تو اب یہ مقتضا کی تعریف ہو رہی ہے، مقتضا کس چیز کا نام ہے؟ کہتے ہیں "فما" پس مقتضا جو ہے "ما" وہ چیز ہے "لا يعمل النص" کہ نص عمل نہیں کرتی، یعنی اپنے معنی ثابت نہیں کر سکتی "إلا بشرط تقدمه" مگر یہ کہ وہ چیز اس پر مقدم ہو جائے۔
وہ چیز مقتضا وہ چیز ہے کہ نص عمل نہیں کر سکتی جب تک یہ چیز اس پر مقدم نہ ہو جائے بھئی۔
کون تھا مقتضا؟
بیع اور توکیل، کیا تھے؟ ان کی تعریف کر رہے ہیں، کہ یہ جو مقتضا وہ چیز ہے کہ نص عمل نہیں کرے گی، یعنی اپنے معنی کو ثابت نہیں کرے گی، جب تک یہ بیع اور توکیل یعنی یہ مقتضا اس پر مقدم نہ مان لیں آپ، جب یہ مقدم مانیں گے پھر اس کے بعد یہ غلام کہنے والے کی طرف سے آزاد ہوگا ورنہ نص اپنا عمل نہیں کرے گی، غلام کہنے والے کی طرف سے آزاد نہیں، اب معنی سمجھ میں آ گیا؟ اچھی طرح؟
تو کہتے ہیں مقتضا جو ہے "ما" وہ چیز ہے "لا يعمل النص" کہ نص عمل نہیں کرتی "إلا بشرط تقدمه عليه" مگر یہ کہ وہ چیز مقدم ہو "عليه" اس نص پر۔
وہ چیز کیا ہو؟ بیع اور توکیل کیا ہوں؟ اس نص پر مقدم ہوں، تب ہی "أعتق عبدك عني بألف" یہ اپنا اثر دکھائے گا، اپنا حکم ثابت کرے گا، ورنہ اس کے بغیر ثابت نہیں، یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی سب کو؟
اچھا، "فإن ذلك أمر فإن ذلك أمر اقتضاه النص" اس لیے کیونکہ یہ ایسی چیز ہے
"فإن ذلك"، ذلك کے ذریعے اشارہ ہے، تعریف کس کی چل رہی ہے؟ مقتضا کی، تو اسی کی طرف اشارہ ہے۔
وہ جو ثابت باقتضاء النص ہے بھئی، ثابت باقتضاء النص ہم نے کیا مراد لیا؟ مقتضا، "فإن ذلك" اس لیے کیونکہ وہ یعنی مقتضا جو ہے "أمر" ایسی چیز ہے، ایسا امر ہے "اقتضاه النص" جس کا تقاضا کس نے کیا ہے؟ نص نے تقاضا کیا ہے "لصحة ما تناوله" اس معنی کے صحیح ہونے کے لیے جس کو وہ نص شامل ہے۔ "فصار هذا مضافًا إلى النص" پس یہ اقت- یہ مقتضا جو ہے
یہ منسوب ہوا نص کی طرف
یا یہ حکم منسوب ہوا نص کی طرف "بواسطة المقتضى" مقتضا کے واسطے سے۔
ایک ہے مقتضی، ایک ہے مقتضا، اور مقتضی میں تعلق کس وجہ سے آیا؟ اقتضا کی، اس نے نص نے اس کا تقاضا کیا تو مقتضا آیا، تو مقتضا کی نسبت ہے نص کی طرف، کس کے واسطے سے؟ اقتضا کے واسطے سے، یہی بیان کر رہے ہیں "فصار هذا" پس یہ جو مقتضا ہے "مضافًا إلى النص" یہ منسوب ہے کس کی طرف؟ نص کی طرف "بواسطة المقتضى" کس کے واسطے سے؟ بھئی میں نے کیا بتایا؟ یہ مقتضا منسوب ہے نص کی طرف، یعنی مقتضی کی طرف کس کے واسطے سے؟ اقتضا کے واسطے سے، اور یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ "بواسطة المقتضى"، یاد رکھیے المقتضى پھر مصدر ہے اقتضا کے معنی میں۔
کس کے معنی میں؟ اقتضا کے معنی میں ہے بھئی، یہ مصدر ہے بھئی۔
تو کیا کیا کیا معنی ہو گیا؟ "فصار هذا مضافًا إلى النص بواسطة الاقتضاء"، تو یہ جو مقتضا ہے یہ منسوب ہوا نص کی طرف یعنی مقتضی کی طرف کس کے واسطے سے؟ اقتضا کے واسطے سے، وہی بات جو میں نے پہلے بیان کی تھی۔ یہاں تک معنی اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ یہ ایک تقریر تھی بھئی۔
اب اس کو ذرا پہلے دیکھ لیں شرح میں۔
کہتے ہیں "في هذه العبارة توجيهان" اس عبارت کے اندر دو توجیہیں ہیں، "أحدهما" ایک توجیہ ان میں سے یہ ہے "أن يكون الثابت باقتضاء النص هو المقتضى"، میں نے کیا بتایا تھا الثابت باقتضاء النص کا کیا معنی ہے؟ مقتضا، یہی بیان کر رہے ہیں، ایک توجیہ یہ ہے کہ الثابت باقتضاء النص جو ہے "هو المقتضى" وہ کیا ہو؟ وہ مقتضا ہو۔
"اسم المفعول" یعنی کہ اسمِ مفعول، مقتضا اسمِ مفعول ہو بھئی۔
بھئی مقتضی اور مقتضا آئیں گے عبارت میں، مقتضی ایک آدھ جگہ آئے گا، تو بہرحال جہاں بھی مقتضا پڑھوں آپ اعراب لگاتے چلے جائیں بھئی، ورنہ پھر آپ کو بعد میں مشکل پیش آئے گی، جہاں میں مقتضا پڑھوں اس پر اعراب لگا دیں، اور جہاں مقتضی پڑھوں وہاں بھی اعراب لگاتے جانا۔
تو ان دو توجیہات میں سے ایک توجیہ یہ ہے کہ الثابت باقتضاء النص جو ہے "هو المقتضى" وہ کیا ہے؟ مقتضا، یعنی تعریف کس کی کی جا رہی ہے؟ مقتضا کی بھئی، اسم المفعول یعنی کہ اسمِ مفعول ہے کی۔ "والاقتضاء مصدر على معناه" اور اقتضا مصدر ہے اپنے ہی معنی پر۔ بھئی دیکھیے، پھر متن پہ آئیے۔
"وأما الثابت باقتضاء النص"، ترجمہ کیا کیا تھا میں نے؟ وہ جو ثابت ہے نص کے تقاضا کرنے کی وجہ سے، اقتضا کا کیا معنی کر رہا ہوں میں؟ تقاضا کرنا، تو معنی مصدری ہی کر رہا ہوں یا نہیں کر رہا؟ وہی معنیِ مصدری، آگے دوسری تقریر کے اندر اس اقتضا کو مقتضا اسمِ مفعول کے معنی میں لیں گے۔
تو ابھی ہم کس معنی کون سا معنی کر رہے ہیں اقتضا کا؟ وہی مصدری معنی کر رہے ہیں بھئی، یہی بیان کر رہے ہیں کہ "والاقتضاء مصدر على معناه" اور اقتضا جو ہے وہ مصدر ہے اپنے ہی معنی پر "ويكون المعنى" اور معنی یہ ہو گیا "وأما المقتضى"،
متن میں کیا آیا تھا؟ "أما الثابت باقتضاء النص" اور اس نص کے تقاضا کر، وہ جو نص کے تقاضا کرنے کی وجہ سے ثابت ہے، اور وہ کیا تھا؟ مقتضا، تو شارح آگے الثابت باقتضاء النص سارے کو اٹھا کر اس کی جگہ کیا لفظ لے آئے؟ مقتضا ہی لے آئے، دیکھیے: "ويكون المعنى" معنی یہ ہوا، "وأما المقتضى" اور باقی مقتضا جو ہے "فما" وہ چیز ہے "لم يعمل النص" کہ نص عمل نہیں کر سکتی
یعنی اپنا معنی ثابت نہیں کر سکتی "إلا بشرط تقدمه على النص" مگر یہ کہ وہ چیز مقدم ہو "على النص" کس پر؟ بھئی متن میں، میں نے آپ کو لکھوایا تھا "بشرط تقدمه" کے بعد کیا لفظ بڑھا دیں؟ علیہ کا لفظ بڑھا دیں، تو دیکھیے اور علیہ کی ہا ضمیر نص کو میں نے راجع کی تھی، شارح اسی کو ذکر کر رہے ہیں "على النص"، ہا ضمیر کس کو راجع؟ نص کو، معلوم ہوا دیکھا، انہوں نے شرح میں بھی ذکر کیا، متن میں یہ لفظ ہے، یہ اور دیگر نسخوں کے اندر بھی موجود ہے بھئی جو منار کے نسخے ہیں، تو یہاں شرح سے بھی پتہ چل گیا آپ کو علیہ کا لفظ ہونا چاہیے۔ تو وہ مقتضا جو ہے "فما" وہ چیز ہے "لم يعمل النص" کہ نص عمل نہیں کرتی "إلا بشرط تقدمه على النص" مگر اس شرط پر مگر یہ اس چیز کے نص پر مقدم ہونے کی شرط پر کہ وہ چیز نص پر مقدم ہوگی تو نص اپنا معنی میں عمل کرے گی۔
"فإن ذلك المقتضى"، بھئی پچھ متن میں کیا آیا تھا؟ "فإن ذلك أمر" "فإن ذلك أمر"، میں نے بتلایا تھا ذلك سے کس کی طرف اشارہ ہے؟ مقتضا کی طرف، شارح دیکھیے ذلك کے بعد مشارٌ الیہ نکالیں گے، بتائیں گے۔
"فإن ذلك المقتضى" اس لیے کیونکہ وہ مقتضا بھئی "أمر" وہ ایسی چیز ہے "اقتضاه النص" جس کا کس نے تقاضا کیا؟ نص نے تقاضا کیا ہے "لصحته" ہے "لصحته" نہیں ہونا چاہیے بھئی "لصحة"، یہ متن کی شرح چل رہی ہے، متن میں بھی آیا "لصحة"، یہاں بھی لام ہونا چاہیے، با نہیں بھئی۔ "لصحة"
جس کا نص نے تقاضا کیا ہے "لصحة ما تناوله" اس معنی کے صحیح ہونے کے لیے جس کو وہ نص شامل ہے۔ "فصار هذا"، پیچھے متن میں آئیے بھئی، "فصار هذا" پس ہو گیا یہ، کون بھئی؟ اشارہ کس کی طرف تھا؟ مقتضا کی طرف، یہ مقتضا منسوب ہوا نص یعنی مقتضی کی طرف، کس کے واسطے سے؟ اقتضا کے واسطے سے، دیکھیے تو هذا کا مشارٌ الیہ بتائیں گے
شرح کے اندر، "فصار هذا أى المقتضى" پس ہو گیا یہ، یعنی کون؟ مقتضا "مضافًا إلى النص" منسوب کس کی طرف؟ نص کی طرف "بواسطة الاقتضاء" کس کے واسطے سے؟ متن میں کیا آیا تھا؟ "بواسطة المقتضى"، میں نے کیا بتلایا تھا مقتضا کا کیا معنی کریں؟ اقتضا، وہی بتلا دیا ہے انہوں نے "بواسطة الاقتضاء" کہ منسوب ہے نص کی طرف اقتضا کے واسطے سے۔ "فحينئذ" تو پس اس وقت یہ جو توجیہ ہم نے کی "يكون قوله" مصنف کا قول جو ہے "المقتضى" جو متن میں آخر میں آیا "بواسطة المقتضى" "بمعنى الاقتضاء" یہ کس معنی میں لینا ہوگا؟ یہ اقتضا کے معنی میں ہوگا۔
"ونسخة تقدمه بالإضافة أولى من تقدم بالماضي"، بھئی متن میں دیکھیے۔
"إلا بشرط تقدمه"،
یہاں تو ہے "بشرط" شرط مضاف "تقدمه" مضافٌ الیہ، شرط مضاف ہے تقدم کی طرف، اور تقدم مضاف ہے ہا ضمیر کی طرف بھئی۔
یعنی جب مضاف ہے تو شرط پہ تنوین نہیں پڑھنی، "بشرط تقدمه"۔
اور بعض نسخوں میں آیا ہے "تقدمه" کے بجائے صرف "تقدم" کا لفظ آیا ہے، کیا آیا ہے؟ منار کے بعض نسخوں میں "تقدم" کا، تو "تقدم" پھر ہم نے تو ابھی جو پڑھا "تقدم" مصدر پڑھا نا "بشرط تقدمه"، بعضوں میں کیا آیا؟ "تقدم"، پھر وہاں پر کہتے ہیں وہاں یوں پڑھیں گے "بشرطٍ تقدم"۔
"بشرطٍ تقدم"،
تو اس صورت میں پھر شرطٍ پر تنوین آئے گی کیونکہ یہ مضاف نہیں، اس کے بعد تو کیا آ رہا ہے؟ فعل آ رہا ہے۔
شارح فرماتے ہیں "ونسخة تقدمه بالإضافة أولى" "تقدمه" والا نسخہ جو ہے جو اضافت کے ساتھ ہے، یہ بہتر ہے "من تقدم بالماضي" کس نسخے سے؟ "تقدم" ماضی کے ساتھ جو آیا، اس سے یہ بہتر ہے بھئی۔
"ويكون تعريفًا للمقتضى"، تو یہ کس کی تعریف ہوئی؟ مقتضا، ہاں تو "ويكون تعريفًا للمقتضى"، تو یہ مقتضا کی تعریف ہوگی "لا للحكم الثابت به" نہ کہ اس حکم کی جو مقتضا کے ذریعے ثابت ہے۔
یہ تعریف کس کی ہوئی؟ مقتضا کی تعریف ہوئی نہ کہ وہ حکم جو مقتضا سے ثابت ہے۔
"فيخالف قرينه"،
تو یہ اپنے ساتھی کے مخالف ہوا۔
یعنی کون بھئی اس کا ساتھی؟ کہتے ہیں "أعني الثابت بدلالة النص"۔
یعنی کہ ثابت بدلالۃ النص۔ اچھا، متن پہ ذرا آؤ۔
"أما الثابت باقتضاء النص"، کیا معنی کیا ہم نے اس کا؟ معلوم ہوا یہ مقتضا کی تعریف ہو رہی ہے۔
مقتضا کی، اور ایک چیز جو مقتضا سے ثابت ہوتی ہے، وہ اس کا حکم ہے۔
حکم کی تعریف یہ نہیں ہے، مقتضا سے ثابت ہونے والے حکم کی تعریف نہیں ہے بلکہ یہ خود کس کی تعریف ہے؟ مقتضا کی۔
اور اس سے پیچھے کس کو ذکر کیا تھا ماتن نے؟ تیسری قسم کون سی ذکر کی تھی؟ "وأما الثابت بدلالة النص"، وہ چیز جو دلالۃ النص سے ثابت ہے، وہ کس کی تعریف تھی؟ حکم کی۔
دلالۃ النص کے لیے کیا ثابت ہوگا اس کا؟ حکم، تو وہ تعریف تھی حکم کی، دلالۃ النص سے جو چیز ثابت ہے، اور یہ تعریف ہوئی خود مقتضا کی، مقتضا سے ثابت ہونے والے حکم کی تعریف نہیں، تو یہ اس کے مخالف ہو گیا، وہاں تعریف تھی دلالۃ النص سے ثابت ہونے والے حکم کی، تو چاہیے تھا کہ یہاں بھی اسی طرح ہوتے، مقتضا سے ثابت ہونے والے حکم کی تعریف کی جاتی، تو یہ لیکن یہاں پر عین کس کی تعریف کر دی؟ مقتضا، تو یہ اس کے مخالف ہوا بھئی۔
یہ معنی ہے "فيخالف قرينه"، تو یہ مخالف ہوا اپنے ساتھی "أعني الثابت بدلالة النص"، یہ اس کے مخالف ہوا۔ "وثانيهما" دوسری توجیہ ان میں سے یہ ہے
دوسری توجیہ ذرا متن پہ ہی رہنا، اب متن پہ ہی میں دوبارہ آپ کو سمجھاتا ہوں بھئی۔
دوسری توجیہ کہ متن میں آیا "وأما الثابت باقتضاء النص"، یہ اقتضا بمعنی مقتضا کے ہے۔
یہ اقتضا کس معنی میں ہے؟ مقتضا کے معنی میں ہے۔
بھئی آپ کو یہ بات میں پہلے بھی بتا چکا ہوں، یاد رکھیے،
کتابوں میں عبارت آتی ہے "هذا مصدر مبني للفاعل"،
اور کبھی آتا ہے "هذا مصدر مبني للمفعول"، تو اس کا کیا معنی ہوتا ہے؟
عموماً رائج غلطی ہے، شائع غلطی ہے، علماء کہتے ہیں اس کا معنی یہ ہوا، یہ مصدر اسم اگر لکھا ہو "مبني للفاعل"، تو کہتے ہیں یہ مصدر اسم فاعل کے معنی میں ہے،
اور لکھا ہو "مصدر مبني للمفعول"، تو کہتے ہیں یہ مصدر ہے کس کے معنی میں؟ اسم مفعول کے معنی میں، لیکن یہ معنی اس کا نہیں ہے بھئی، "مصدر مبني للفاعل" کا معنی یہ ہے کہ یہ مصدرِ معروف ہے، اور "مصدر مبني للمفعول" کا معنی ہے یہ مصدرِ مجہول ہے۔ سمجھ میں آئی بات؟ دیکھیے، قیمتی نقطہ ہمیشہ یاد رکھیں، یہ جو گردانیں آپ پڑھتے ہیں مثلاً صرفِ صغیر، "ضرب يضرب ضربًا فهو ضارب وضُرب يضرب ضربًا فذاك مضروب"، اب یہ صرفِ صغیر ہے، صرفِ صغیر انتہائی مختصر، ہر گردان سے صرف ایک ایک صیغہ لیتے ہیں، دیکھو "ضرب" پورے ماضی کے 14 صیغوں میں سے صرف پہلا صیغہ لیا ماضی معروف میں، اور "يضرب" فعل مضارع کے 14 صیغوں میں سے صرف ایک لیا، آگے "ضربًا" مصدر ذکر کر دیا، اور یہ مصدر ہے منصوب ہے مفعولِ مطلق ہونے کی وجہ سے، کیونکہ مفعولِ مطلق کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل ہی کے معنی میں ہوتا ہے، تو یہاں بھی "ضربًا"، "يضرب" ہی کے معنی میں ہے، تو لہذا یہ مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے منصوب، کوئی آپ سے پوچھے یہ منصوب کیوں پڑھتے ہیں؟ کیا جواب دیں گے؟ مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ اچھا، بھئی آگے پھر کیا آیا؟ "فهو" "فهو ضارب"، یہ اسمِ فاعل آ گیا، دیکھو اسمِ فاعل کی گردان میں سے صرف ایک صیغہ آیا، آگے کیا آیا بھئی؟ "وضُرب" "وضُرب"، یہ فعلِ ماضی مجہول میں سے صرف پہلا صیغہ لیا پوری گردان میں سے، "ويُضرب"، پورے مضارع مجہول میں سے ایک صیغہ لیا، پھر آگے آ گیا "ضربًا"، بھئی یہ "ضربًا" دوبارہ کیوں ذکر؟ یہ تو مختصر گردان ہے، ایک ایک صیغہ لینا ہے، "ضربًا" ایک دفعہ گزر چکا تھا، تو یاد رکھیے یہی نقطہ ہے اس کے اندر کہ وہ "ضربًا" جو تھا وہ مصدرِ معروف تھا، یہ "ضربًا" جو ہے یہ مصدرِ مجہول ہے بھئی، اور مصدرِ معروف کا کیا معنی کیا تھا آپ نے؟ "ضربًا" پٹائی کرنا، اور مصدرِ مجہول "ضربًا" کا کیا معنی کریں گے؟ پٹائی کیے جانا۔
پٹائی کیے جانا، یعنی پٹائی ہونا یوں کہہ لیں، پٹائی ہونا، تو پٹائی کرنا اور چیز ہے، پٹائی ہونا اور اور چیز ہے بھئی۔
تو یہ نقطہ ہے اس کے اندر بھئی، اور عربی کے اندر چونکہ مصدرِ معروف اور مصدرِ مجہول کا وزن ایک ہی ہے، الگ نہیں، اردو میں تو آپ نے الگ کر دیے، پٹائی کرنا اور پٹائی پٹائی کیے جانا یا پٹائی ہونا، تو اردو میں تو فرق ہو گیا تھا، لیکن عربی میں چونکہ ایک ہی وزن ہے، تو چنانچہ علماء کو پھر بعض جگہ بتانا پڑتا ہے کہ یہ مصدر کیا ہے؟ مبنی للفاعل ہے، یعنی یہ مصدر معروف ہے، کبھی بتانا پڑتا ہے کہ یہ مصدر مبنی للمفعول، کون سا ہے؟ مصدرِ مجہول ہے بھئی۔
نیز
بھئی "مبني للفاعل" کا یہ معنی میں نے بتلا دیا، یہ معنی نہ کرنا کہ یہ اسمِ فاعل کے معنی میں ہے، کیونکہ یہ عبارت آپ کو بعض اوقات فعل کے ساتھ بھی ملے گی، صیغہ لکھا ہوگا مثلاً "يضرب" اور آگے لکھا ہوگا "مبني للفاعل"، کیا معنی؟
کہ یہ معروف "يضرب" پڑھنا، "يُضرب" نہ پڑھنا، اور کبھی اسی طرح "يُضرب" لکھا ہوگا، اعراب تو اعراب میں تو غلطی ہو سکتی ہے، لہذا وہ لفظوں میں تصریح کر دیتے ہیں "مبني للمفعول" کہ یہ مبنی للمفعول ہے، کیا معنی؟ یعنی مجہول "يُضرب" پڑھنا، اس کو "يضرب" نہ پڑھنا بھئی۔
تو لہذا "مصدر مبني للفاعل" کا کیا معنی؟ یہ مصدرِ معروف ہے، اور "مصدر مبني للمفعول" کا کیا معنی؟ یہ مصدرِ مجہول ہے۔ ہاں، پھر مصدر کبھی کبھار اسمِ فاعل یا اسمِ مفعول کے معنی میں بھی ہوتا ہے، وہ الگ چیز ہے بھئی۔
سمجھ میں آئی بات؟ تو جہاں لکھا ہو "مصدر مبني للفاعل"، یہ ضروری نہیں کہ وہ اسمِ فاعل کے معنی میں ہو، ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی، وہ الگ چیز ہے۔ تو مصدر پھر کبھی کبھار کس معنی میں ہوتا ہے؟ اسمِ فاعل یا اسمِ مفعول کے معنی میں ہوتا ہے۔
اور لیکن پھر یاد رکھنا،
اسمِ فاعل کے معنی میں مصدرِ معروف ہوگا صرف، جو مصدرِ معروف ہے، وہ کس کے معنی میں ہوگا؟ اسمِ فاعل، مصدرِ مجہول نہیں، اور اسمِ مفعول کے معنی میں صرف مصدرِ مجہول ہوگا۔ اگر کہہ دیا جائے یہ مصدر اسمِ فاعل کے معنی میں ہے، تو آپ سمجھ گئے یہ کون سا مصدر ہے؟ مصدرِ کیا کہا جائے اگر یہ اسمِ فاعل کے معنی میں ہے، تو معلوم ہوا یہ مصدرِ معروف ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ کیا ہے؟ یہ اسمِ مفعول کے معنی میں ہے، آپ سمجھ گئے یہ کون سا مصدر ہے؟ مصدرِ مجہول، کیونکہ اسمِ فاعل کے معنی میں مصدرِ معروف ہو سکتا ہے، اور اسمِ مفعول کے معنی میں مصدرِ مجہول ہو سکتا ہے، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
اب دیکھیے عبارت بھئی، "وأما الثابت باقتضاء النص"، دوسری تعریف، بھئی پہلی تعریف کے مطابق پہلے ہم نے کس کی تعریف کی تھی پہلی توجیہ کے مطابق؟ مقتضا کی، اب دوسری تعریف کے مطابق مقتضا سے ثابت ہونے والے حکم کی تعریف کریں گے۔
مقتضا سے ثابت ہونے والے حکم، اب یہ اپنے ساتھی کا مخالف نہیں ہوگا، ماقبل میں بھی دلالۃ النص سے ثابت ہونے والے حکم کی تعریف کی تھی، یہاں بھی مقتضا سے ثابت ہونے والے حکم کی تعریف ہوگی۔ کس طرح دیکھیے، کہ یہاں اب "وأما الثابت باقتضاء النص"، یہ جو اقتضا کا لفظ آیا یہ ہے بمعنی مقتضا کے، کس معنی میں؟ مقتضا کے معنی میں ہے۔
بھئی، یعنی مصدر کو کس معنی میں لے لیا؟ اسمِ مفعول کے معنی میں لے لیا، اور اسمِ مفعول کے معنی میں کون سے مصدر کو لیتے ہیں؟ مصدرِ معلوم ہوا یہ مصدرِ مجہول ہے۔ تو کہتے ہیں باقی وہ جو ثابت ہے "باقتضاء النص"، اقتضا کو کس معنی میں لے لیا؟ مقتضا، تو مقتضا کا لفظ یہاں لے ائے، وہ چیز جو ثابت ہے یعنی وہ حکم جو ثابت ہے "بمقتضى النص" کس سے؟ مقتضائے نص سے۔
"فما" پس وہ چیز ہے، وہ حکم ہے، اب "ما" سے کیا مراد؟ حکم، وہ حکم ہے "لا يعمل النص" کہ عمل نہیں کرتی نص
"فيه"
یہاں "فيه" پھر محذوف نکالنا پڑے گا اس توجیہ کے مطابق۔
کیا نکالنا پڑے گا؟ فیہ۔ کیوں؟
بھئی اس لیے کیونکہ "ما" موصولہ ہے نا "فما"، یہ "ما" موصولہ ہے، آگے اس کا کیا ذکر ہو رہا ہے؟ صلہ، اور صلے کے اندر عائد کا ہونا ضروری، کیونکہ صلہ جملہ ہوتا ہے اور جملے کو جس چیز سے بھی جوڑا جائے کیا ضروری؟ ربط، عائد کا ہونا ضروری۔ پچھلی تقریر میں "بشرط تقدمه" ہا ضمیر کس کو ہم نے لوٹائی تھی؟ اسی "ما" کو لوٹائی تھی، وہ عائد تھا۔ اب اس تقریر کے مطابق عائد نہیں ہو سکتا یہ، لہذا کون سا نسخہ اختیار کرنا پڑے گا یہاں؟ "بشرط تقدم"۔
ورنہ معنی صحیح نہیں بنے گا۔
اچھا، دیکھیے ذرا، "فما" کس کی تعریف کر رہے ہیں؟ وہ حکم جو کس سے ثابت ہے؟ مقتضا سے، اس کی تعریف کر رہے ہیں، پس وہ حکم جو مقتضائے نص سے ثابت ہے "فما" پس وہ حکم ہے "لا يعمل النص" کہ نص عمل نہیں کرتی "فيه" اس میں
وہ حکم ہے کہ جس میں نص عمل نہیں کرتی، "فيه" کی ہا ضمیر کس کو راجع؟ "ما" کو، اور پھر یاد رکھو، اس "فيه" کی ہا ضمیر سے پہلے اثبات مصدر محذوف ماننا پڑے گا، "فيه أي في إثباته"، "فيه" فی گہری بات ہے، توجہ سے سن لو بھئی۔
بس، وہ حکم وہ حکم جو مقتضائے نص سے ثابت ہے، وہ حکم ہے کہ "لا يعمل النص فيه أي في إثباته" کہ نص عمل نہیں کرتی "في إثباته" اس کے ثابت کرنے میں۔
نص کیا تھی؟ "أعتق عبدك عني بألف"، یہ نص عمل نہیں کرتی "في إثباته"
اس حکم کے ثابت کرنے میں، یعنی یوں کہو، یہ حکم اس نص سے ثابت نہیں ہوتا۔
معنی سمجھ میں آ گیا؟ نص اس کے اثبات میں عمل نہیں کرتی بھئی، خود توجہ سے سنو، نص اس کے ثابت کرنے میں عمل نہیں کرتی، یعنی نص اس کو ثابت نہیں کرتی، کیا معنی ہوا؟ نص اس کو ثابت نہیں کرتی، کس کو نہیں ثابت کرتی، کس کی بات ہو رہی ہے؟ وہ حکم جو مقتضا سے ثابت ہوا۔
وہ حکم جو مقتضا سے ثابت ہوا، اس کی تعریف کر رہے ہیں نا؟ وہ حکم ہے کہ نص اس کو ثابت نہیں کرتی "إلا بشرط" مگر ایک ایسی شرط کے ساتھ "تقدم عليه" کہ جو اس نص پر کیا ہو؟
توجہ ہے؟
پھر دیکھیے بھئی، ادھر میری طرف توجہ کریں، یہ ہے دیکھیے، یہ ہے فرض کریں یہ ایک چیز، یہ ہے مقتضی، یہ اس کے ساتھ والی چیز ہے مقتضا، اور پھر مقتضا سے آگے یہ ایک تیسری چیز ہے، یہ ہے مقتضا سے ثابت ہونے والا حکم، صورت سمجھ میں آ گئی؟
کہہ رہے ہیں، تو یہ جو مقتضا سے ثابت ہونے والا حکم ہے، اس کی اب تعریف ہو رہی ہے، کہتے ہیں مقتضا سے ثابت ہونے والا حکم وہ حکم ہے کہ یہ جو پہلی چیز یعنی نص، یہ اس حکم کو ثابت نہیں کرتی
جب تک اس نص سے پہلے اس مقتضا کو نہ مانیں،
جب نص سے پہلے اس مقتضا کو مانیں گے تو اس مقتضا سے پھر اس کا حکم بھی ثابت ہو جائے گا، تو نص اس حکم کو ثابت تو کر رہی ہے، لیکن کس کے واسطے سے؟ مقتضا، نص نے تقاضا کیا مقتضا کا اور پھر مقتضا سے اس کا حکم آ گیا بھئی، تو نص نے کس کا اولاً تقاضا کیا؟ مقتضا، اور پھر مقتضا کے بعد کیا آ گیا اس کا؟ حکم، تو یہ نص اس نقتضا کے حکم کو ثابت نہیں کر سکتی جب تک اس نص پر مقتضا مقتضا کو پہلے نہ مان لیا جائے، جب اس کو پہلے مان لیں گے تو پھر اس نص بھی کیا کرے گی؟ اس مقتضا کے حکم کو ثابت کر دے گی، اب عبارت سمجھ میں آ گئی؟ یہی بات دیکھیے بھئی، "وأما الثابت باقتضاء النص" اور باقی وہ جو حکم ثابت ہے مقتضائے نص سے "فما" پس وہ حکم ہے "لا يعمل النص" کہ نص عمل نہیں کرتی "فيه أي في إثباته" اس کے ثابت کرنے میں، یعنی نص اسے ثابت نہیں کرتی "إلا بشرط تقدم عليه" مگر ایک ایسی شرط کے ساتھ جو اس نص پر ایک شرط جو نص پر مقدم ہو، نص سے پہلے کیا ماننا پڑے گا؟ بیع اور توکیل، توکیل کو ماننا پڑے گا یعنی مقتضا کو، جب اس کو مان لیں گے تو پھر مقتضا سے ثابت ہونے والا جو حکم ہے، نص اس کو بھی کیا کر دے گی؟ ثابت کر دے گی بھئی۔
"فإن ذلك"، بھئی ذلك کس کی طرف پہلے اشارہ تھا؟ مقتضا کی طرف، اب ہاں ذلك اشارہ ہے اس شرط کی طرف۔
"فإن ذلك"، اشارہ ہے کس کی طرف؟ اس لیے کیونکہ یہ جو شرط ہے جس کا انہوں نے کہا نا کہ اس کا نص پر مقدم ہونا ضروری ہے، اور وہ شرط کیا چیز ہے؟ وہ مقتضا ہی تو ہے،
بس کیونکہ یہ جو شرط ہے یعنی یہ جو مقتضا ہے "أمر" یہ ایک ایسی چیز ہے "اقتضاه النص" جس کا نص نے خود کیا کیا ہے؟ تقاضا کیا ہے "لصحة ما تناوله" اس معنی کے صحیح ہونے کے لیے جس کو نص شامل۔
نص جس معنی کو شامل ہے، نص کس معنی کو شامل تھی؟
نص میں وہ کیا کہہ رہا تھا؟ "اپنے غلام کو میری طرف سے"، اور یہ اس کی طرف سے آزاد نہیں ہو سکتا جب تک پہلے کیا نہ ماننا پڑے؟ بیع اور توکیل یعنی مقتضا کو نہ مانے بھئی، تو خود نص نے اس تقاضا کیا ہے اس کا اپنے معنی کے صحیح ہونے کے لیے، "فصار هذا مضافًا إلى النص"، اب تو اب یہ هذا کا اشارہ جو ہے، پہلے کس کی طرف تھا؟ مقتضا، اب یہ مقتضا کے سے ثابت ہونے والے جس کی تعریف چل رہی ہے، اسی کی طرف اشارہ ہے، یعنی مقتضا سے ثابت ہونے والا حکم، پس یہ جو مقتضا سے ثابت ہونے والا حکم جو ہے "هذا مضافًا إلى النص"، کیا ہوا؟ نص کی طرف منسوب ہوا "بواسطة المقتضى"، کس کے واسطے سے؟ مقتضا کے واسطے سے۔
یہ معنی، یہ جو حکم ثابت ہوا، یہ بھی کس کی طرح منسوب ہے؟
یہ بھئی تعریف کس کی چل رہی ہے؟ وہ حکم جو کس سے ثابت؟ مقتضا سے ثابت ہوا، یہ حکم بھی منسوب ہے کس کی طرف؟ نص ہی کی طرف منسوب ہے، لیکن کس کے واسطے سے؟ مقتضا، مقتضا کے درمیان میں مقتضا کا واسطہ ہے، تو ہم یہ کہیں گے اس حکم کو بھی نص ہی نے ثابت کیا، لیکن کس کے واسطے سے؟ نص نے تقاضا کیا مقتضا کا، اور مقتضا نے پھر تقاضا کیا مقتضا سے کیا ثابت ہوا اس کا؟ حکم ثابت، تو یہ حکم بھی گویا نص ہی سے ثابت ہے، لیکن کس کے واسطے سے؟ اب عبارت سمجھ میں آ گئی؟ "فصار هذا مضافًا إلى النص"، پس یہ حکم منسوب ہوا نص کی طرف "بواسطة المقتضى"، کس کے واسطے سے؟ مقتضا کے واسطے سے۔ پہلے مقتضا کس معنی میں تھا؟ اقتضا، اب مقتضا اپنے ہی معنی میں ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟
اب دیکھیے شرح کے اندر دوسری تقریر۔
"وثانيهما"، اور ان توجیہات میں سے دوسری یہ ہے "أن يكون الاقتضاء بمعنى المقتضى" کہ متن میں جو اقتضا مصدر آیا تھا، وہ کس معنی میں ہو؟ مقتضا کے معنی میں ہو "وهو تعريف للحكم الثابت بالمقتضى لا للمقتضى"، اور یہ تعریف ہو اس حکم کی جو مقتضا سے ثابت ہے، نہ کہ خود مقتضا، یہ خود پچھلی توجیہ کے مطابق تعریف کس کی تھی؟ مقتضا، اب کس کی تعریف ہے؟ حکم کی، حکم جو جو مقتضا سے تھا، یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ یہ تعریف ہے اس حکم کی جو مقتضا سے ثابت ہے، نہ کہ مقتضا کی۔ "وقوله تقدم" اور ماتن کا قول "تقدم" "صيغة فعل ماضٍ"، یہ کس کا صیغہ ہے؟ فعلِ ماضی کا، پہلے ہم نے کیا کیا تھا؟ مصدر بنایا تھا اور ہا ضمیر مضاف کی۔
"والمعنى" اور معنی یہ ہوا، اب وہی پورے متن کو دوبارہ ذکر کریں گے، "وأما الحكم الثابت بمقتضى النص"، اور باقی وہ حکم جو ثابت ہے کس سے؟ مقتضائے نص سے، متن میں کیا آیا تھا؟ "باقتضاء النص"، اس کو انہوں نے کس سے بدل دیا؟ "بمقتضى النص"، وہ حکم جو ثابت ہے مقتضائے نص سے "فما" پس وہ حکم ہے "لم يعمل النص فيه"، دیکھو وہ "فيه" جو میں نے آپ کو بتلایا تھا، کہ نص اس میں عمل نہیں کرتی "أي في إثباته" اس کے ثابت کرنے میں "إلا بشرط تقدم ذلك الشرط على النص" مگر اس شرط پر مگر مگر ایک ایسی شرط کے ساتھ "تقدم ذلك الشرط على النص" کہ وہ شرط نص پر مقدم ہو، وہ شرط کون ہے؟ وہی "وهو المقتضى" وہی مقتضا ہے۔ "فإن ذلك الشرط"،
ذلك کا مشارٌ الیہ بتایا، "فإن ذلك الشرط" اس لیے کیونکہ وہ شرط جو ہے، شرط سے کون مراد ہے؟ مقتضا بھئی، وہ شرط جو ہے یعنی مقتضا جو ہے "أمر اقتضاه النص" وہ ایک ایسی چیز ہے جس کا نص نے تقاضا کیا ہے "لصحة ما تناوله" اس معنی کے صحیح ہونے کے لیے جس کو وہ نص شامل ہے۔ "فصار هذا"، پس ہو گیا یہ،
هذا کے ذریعے کس کی طرف پہلے اشارہ تھا؟ مقتضا، اب کس کی طرف اشارہ ہے؟ حکم، یہی بیان کر رہے ہیں "فصار هذا أي الحكم الذي نحن في تعريفه"، پس ہو گیا یہ یعنی وہ حکم جس کی ہم تعریف میں ہیں اس وقت، جس کی تعریف ہم کر رہے ہیں، یہ حکم ہو گیا "مضافًا إلى النص" کس کی طرف مضاف؟ نص کی طرف "المقتضي" جو تقاضا کرنے والی ہے مقتضی، تو یہ حکم مضاف ہوا نصِ مقتضی کی طرف "بواسطة المقتضى" کس کے واسطے سے؟ مقتضا کے واسطے سے "فإن النص المقتضي دال على المقتضى" اس لیے کیونکہ نصِ مقتضی جو ہے وہ دلالت کرنے والی ہے مقتضا پر "وهو دال على حكمه" اور وہ دلالت کر رہا ہے کس پر؟ اپنے حکم پر۔
بھئی انہوں نے کہا نا،
وہ حکم منسوب ہوا کس کی طرف؟
نص کی طرف یعنی مقتضی کی طرف کس کے واسطے سے؟ مقتضا کے واسطے سے، اسی کو بیان کر رہے ہیں، کیونکہ نصِ مقتضی نے پہلے کس کا تقاضا کیا؟ مقتضا، اور پھر مقتضا سے کیا ثابت ہوا اس کا؟ حکم، یہی بات بیان کر رہے ہیں "فإن النص المقتضي دال على المقتضى" اس لیے کیونکہ نصِ مقتضی جو ہے وہ دلالت کرنے والی ہے مقتضا پر "وهو دال على حكمه" اور وہ دلالت کر رہا ہے اپنے حکم پر۔ "فحينئذ يكون قوله" اس صورت کے اندر ماتن کا قول جو ہے "فإن ذلك أمر"
"دليلاً لقوله إلا بشرط تقدم"، یہ جو متن میں دیکھیے بھئی،
"فإن ذلك أمر اقتضاه النص"،
یہ جو ہے کہتے ہیں یہ دلیل ہے کس کی؟ "إلا بشرط تقدم" کی۔
"إلا بشرط تقدم"،
توجہ ہے؟
دیکھیے،
بھئی یہ مقتضا کیوں مانا نص سے پہلے آپ نے؟ نص نے خود اس کا تقاضا کیا۔ انہوں نے کہا تو کیا کہا؟ "إلا بشرط تقدم"،
حکم وہ ہے کہ نص عمل نہیں کرتی یعنی نص اسے ثابت نہیں کرتی
مگر یہ کہ اس نص سے پر کیا مقدم ہو؟ ایک شرط یعنی کہ مقتضا مقدم ہو، بھئی کیوں یہ شرط کیوں مقدم ہوگی؟ وجہ کیا ہے اس کی؟ علت ذکر کر دی "فإن ذلك أمر اقتضاه" کیونکہ یہ نص خود کیا کر رہی ہے اس کا؟ تقاضا کر رہی ہے، تو یہ اسی کی دلیل ہے بھئی، یہ شرط کیوں مقدم ہوگی؟
کیونکہ نص نے خود کیا کیا ہے اس کا؟ تو یہ "فإن ذلك أمر اقتضاه النص" یہ اسی کی دلیل ہے، اس تقدمِ شرط کی دلیل ہے، یہی بات بیان کر رہے ہیں "فحينئذ يكون قوله فإن ذلك أمر دليلاً لقوله إلا بشرط تقدم"، اس صورت میں ماتن کا قول "فإن ذلك أمر" یہ ماتن کے قول "إلا بشرط تقدم" کی دلیل ہے۔ "ويكون حمل قوله" اور ماتن کا یہ جو قول ہے
دیکھیے، متن میں
"وأما الثابت باقتضاء النص" اور باقی وہ حکم جو ثابت ہے مقتضائے نص سے "فما" پس وہ حکم ہے، یہ خبر ہے اس کی۔
"أما الثابت باقتضاء النص" یہ کیا ہے؟ مبتدا، اور "فما لم يعمل النص إلا بشرط تقدمه عليه" یہ کیا ہے اس کی؟ خبر ہے۔
اب
آگے جو آیا "فصار هذا مضافًا إلى النص بواسطة المقتضى"، کہتے ہیں یہ ربط بتلا رہا ہے دونوں کے اندر ورنہ حمل صحیح نہیں۔
ورنہ حمل صحیح نہیں۔
کیوں؟
کیا کہتے ہیں؟
دیکھیے، انہوں نے کہا، وہ حکم
جس کا تقاضا کون کر رہا ہے؟
بھئی متن پر نظر رکھو۔
"وأم-" تم نے کہا ہاں غلط میں کہہ گیا، "وأما الثابت باقتضاء النص"، وہ چیز جو مقتضا- وہ حکم جو مقتضائے نص سے ثابت ہے، وہ حکم جو نص سے ثابت ہے، آگے کہتے ہیں وہ حکم ہے کہ نص اس کو ثابت نہیں کرتی۔
پیچھے بات ہو رہی تھی وہ حکم جو کس سے ثابت ہے؟ اور آگے کہہ رہے ہیں وہ حکم ہے جو کس سے ثابت جس کو کون ثابت کر رہا ہے؟ نص ثابت کر رہی، پیچھے کہا وہ حکم جو مقتضا سے ثابت ہے، اب کہہ رہے ہیں وہ حکم ہے کہ نص جسے ثابت نہیں کرتی مگر یہ کہ اس نص سے پہلے ایک شرط مانی جائے، جب اس شرط کو مان لو گے تو نص اس حکم کو ثابت کر دے گی، تو معلوم ہوا یہ حکم تو کس سے ثابت ہوا؟ نص سے، اور تعریف کس کی کر رہے ہیں؟ وہ وہ حکم جو کس سے ثابت ہے؟ مقتضائے نص سے، تو دیکھو ربط نہیں جڑ رہا بھئی۔
تعریف کر رہے ہیں اس حکم کی جو ثابت ہو کس سے؟ مقتضا سے، اور آگے بیان کیا کر رہے ہیں؟ نص اس کو ثابت کر رہی ہے، پیچھے کہا وہ حکم جو مقتضا سے ثابت ہے، اب کہہ رہے ہیں وہ حکم ہے کہ نص جسے ثابت نہیں کرتی، مگر یہ کہ اس نص سے پہلے ایک شرط مانی جائے، جب اس شرط کو مان لو گے تو نص اس حکم کو ثابت کر دے گی، تو معلوم ہوا یہ حکم تو کس سے ثابت ہوا؟ نص سے، اور تعریف کس کی کر رہے ہیں؟ وہ وہ حکم جو کس سے ثابت ہے؟ مقتضائے نص سے، تو دیکھو ربط نہیں بنتا، کہتے ہیں "فصار هذا مضافًا إلى النص بواسطة المقتضى"، یہ ربط بتلا رہا ہے، یہ ربط مانو گے تو حمل صحیح ہوگا، یہ ربط نہیں مانو گے تو حمل بھی صحیح نہیں۔ کیوں؟
یہاں یہ کیا بتلا رہے ہیں؟ "فصار هذا مضافًا إلى النص بواسطة" کہ یہ حکم بھی نص ہی کی طرف مضاف ہے، یعنی نص ہی سے ثابت ہے، لیکن کس کے واسطے سے؟ ہاں، اب ربط آ گیا۔
وہ نص جو مقتضا کے ذریعے ثابت ہے، وہ نص ہی کے ذریعے ثابت ہے،
لیکن کس کے واسطے سے؟ مقتضا کے واسطے سے۔
صورت سمجھ میں، اب ربط آ گیا یا نہیں آ گیا؟
تو کہتے ہیں "وأما الثابت بواسطة قوله" اور
جی پیچھے "ويكون حمل قوله" اور ماتن کے قول کا حمل، کون سے قول کا حمل؟ بھئی آپ جانتے ہیں یا نہیں؟ خبر کا مبتدا پر حمل ہوتا ہے، "فما لم يعمل" کا عطف ہو رہا ہے کس پر؟ "فما لا يعمل النص"، یہ خبر ہے نا؟ اس کا حمل ہو رہا ہے کس پر؟ "أما الثابت" پر، تو کہتے ہیں "يكون حمل قوله" ماتن کا جو قول ہے "فما لم يعمل النص"، اس کا حمل کس پر؟ "على قوله" ماتن کے قول "وأما الثابت" اس پر جو ہے، "بواسطة قوله" یہ کس قول کے ماتن کے اس قول کے واسطے سے ہے "فصار هذا"، اس کے واسطے سے ہے "وإلا فلا ارتباط بينهما" ورنہ ان دونوں میں کوئی ربط نہیں ہے بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔