درس نمبر۔142
بسم الله الرحمن الرحيم
سب سے پہلے تو آپ حضرات کو اپنی طرف سے اور مولانا کی طرف سے مبارکباد دیتا ہوں، یہ بڑی سعادت مندی کی بات ہے کہ الحمد للہ آپ کے استاد محترم کو اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق نصیب فرمائی ہے کہ نور الانوار جیسی مشکل بھی اور طویل کتاب بھی ایک سال کے اندر مکمل ہو رہی ہے۔ دیگر مدارس کے اندر 50، 60 یا 100 صفحے ہو جاتے ہیں، الحمد للہ اس میں آپ بھی بڑے خوش نصیب ہیں اور آپ کے استاد صاحب بھی بڑے خوش نصیب ہیں۔ اور آپ کے استاد اور میں خادم بھی اس لیے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ کے استاد ہمارے استاد زادے ہیں۔ ٹھیک ہے نہیں؟ ان کا ہمارے اوپر بہت زیادہ حق ہے، جیسے یہ الحمد للہ لے کر کے چل رہے ہیں ان کی ترقی کے لیے آپ نے اور دعا کرنی ہے۔ انشاء اللہ۔
اور حضرت کو تو اس لیے بلایا ہے کہ یہ یہ استاد زادہ کے لیے دعا کریں گے۔ الحمد للہ جیسے انہوں نے سلسلہ شروع کیا ہے کہ کوئی بھی کتاب ایسی نہیں کہ جو انہوں نے شروع کی ہو اور پھر مکمل نہ کی ہو۔ یہ اللہ کی طرف سے خاص توفیق ہے۔
الحمد للہ یہ آپ کے سامنے اصول فقہ کی کتاب آج مکمل ہو رہی ہے جس کی ابتداء روز اول سے آپ کے استاد نے یوں کروائی تھی کہ اس کے اندر بنیادی طور پر اصول فقہ جو چار ہیں ان کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا تھا۔ اور ان چار ہونے کی وجہ ملا جیون رحمۃ اللہ علیہ نے شروع میں ذکر فرمائی تھی کہ استدلال کرنے والا جو مستدل ہے وہ استدلال کرے گا وحی سے یا غیر وحی سے۔ اگر وحی سے استدلال کرے گا تو پھر دو حال سے خالی نہیں، وہ وحی متلو ہوگی یا غیر متلو ہوگی یعنی جس کی نماز میں تلاوت کی جا سکتی ہوگی یا نہیں۔ اگر وہ وحی متلو ہے تو وہ کتاب اللہ اور اگر وحی غیر متلو ہے تو وہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ اور اگر غیر وحی سے مستدل استدلال کرے گا تو پھر دو حال سے خالی نہیں، یا تو وہ جمیع کا قول ہوگا یا بعض کا قول ہوگا۔ اگر جمیع کا قول ہے تو وہ اجماع، ورنہ قیاس۔
قیاس کے اندر آپ نے ساری تفصیل پڑھی، قیاس کے مباحث میں سے ایک بحث آئی تھی اہلیت کی، کہ انسان کب مکلف ہوتا ہے؟ جب اس کے اندر اہلیت موجود ہو۔ اہلیت کی سب سے بڑی دلیل عقل موجود ہونا۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اس اہلیت پر کوئی امور عارض ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے انسان کی وہ اہلیت وقتی طور پر ختم ہو جاتی ہے۔ ان کو امور معترضہ کے نام کے ساتھ مصنف نے اس بحث قیاس کے اندر ذکر فرمایا اور اس کی پھر تفصیل فرماتے ہوئے دو قسمیں ذکر فرمائی تھیں: ایک عوارض سماویہ اور ایک عوارض غیر سماویہ۔
عوارض سماویہ آپ کے سامنے 11 قسمیں اس کی ذکر فرمائیں جس میں نسیان ہے یا نوم ہے یا حیض ہے، نفاس ہے، جنون ہے، صغر ہے، ٹھیک ہے؟ اور عوارض غیر سماویہ کی سات اس کی تعداد ذکر فرمائی تھی، ان میں سے آخری جو چیز ہے وہ اکراہ ہے، اکراہ جو عبارت آپ نے پڑھی۔ یہ عوارض غیر سماویہ جو علامہ نے ملا جیون رحمۃ اللہ علیہ نے سات ذکر فرمائے ہیں ان میں سے آخری عارض ہے یہ۔ اکراہ کی تعریف بھی آپ نے پڑھ لی الحمد للہ کہ جس میں انہوں نے ذکر فرمایا اکراہ کا مطلب ہوتا ہے کہ کسی کو کسی کام کرنے پر مجبور کر دینا۔
تو یہ اس کی بھی تین صورتیں ذکر آپ کے سامنے بیان فرمائی تھیں، ایک تو یہ کہ انسان کی رضا بھی وہاں ختم ہو جائے اور اختیار بھی ختم ہو جائے اس کو اکراہ ملجی کہتے ہیں۔ انسان جب اس حالت تک پہنچتا ہے تو پھر اس کے کسی قول، فعل کا اعتبار نہیں ہوتا۔ اکراہ ملجی جو ہے نا اس میں پھر وہ عند اللہ ماخوذ اور مجرم نہیں ٹھہرتا کہ وہ اس کی رضا بھی نہیں پائی جا رہی اور اس کا اختیار بھی نہیں ہے۔ دوسری قسم وہ تھی کہ جس میں رضا ہو اختیار نہ ہو، تیسری قسم وہ ہے جس میں اختیار ہو رضا نہ ہو۔ پہلی قسم اکراہ ملجی اور آخری دو قسم جو ہیں وہ اکراہ غیر ملجی کی ذکر فرمائی تھیں۔
آخر میں مصنف علیہ الرحمہ جو پڑھی گئی عبارت ہے بات کو سمیٹتے ہوئے یہاں لا کر ختم کرتے ہیں کہ دیکھو، اب یہاں پر علامہ تفصیل فرما رہے ہیں مکراہ بہ جس کی وجہ سے اکراہ کیا جاتا ہے، جس کے ساتھ اکراہ کیا جا رہا ہے اس کی حرمت کے اعتبار سے علامہ اس کی چار قسمیں ذکر فرما رہے ہیں۔ منار کے اندر، متن کے اندر چار قسمیں ذکر فرمائی ہیں مکراہ بہ کی حرمت کے اعتبار سے۔ وہ چار قسمیں کیسی ہیں، کیسے بنیں گی؟ فرمایا وہ ایسے بنیں گی: پہلی قسم ایسی ہے کہ جس کے اندر رخصت جو ہے، رخصت کا احتمال نہیں ہے، اس کے اندر رخصت نہیں ہے۔ اس کی مثال دے رہے ہیں، دو مثالیں دی ہیں انہوں نے: ایک مثال دی ہے کہ کسی مرد کو زنا کرنے پر مجبور کیا گیا کہ تم زنا کرو۔ اب یہ ایسی حالت نہیں ہے کہ جس میں یہ کہا جائے کہ اس کو رخصت مل گئی ہے، کیونکہ اگر اس میں اس کو رخصت مل جائے، ایک طرف تو نسب کے ضیاع کا خوف ہے، نسب کے ضیاع کا خوف اس وجہ سے ہے کہ جو حرام نطفے سے پیدا ہونے والا بچہ ہوگا اس کا نفقہ والد کے ذمے نہیں ہے اور دوسری طرف سے ایسے بچے کی تربیت والدہ کے ذمے بھی نہیں ہے، تو وہ اس کے ضیاع کا قوی ترین اندیشہ ہے۔ اس لیے چونکہ اس زنا سے جو مرد کو مجبور کیا گیا ہے زنا پر اگر اس میں رخصت مان لی جائے تو پھر اس صورت کے اندر لازم یہ آئے گا کہ فراش کا ضائع ہونا اور نسب کا ضائع ہونا لازم آئے گا اور اس سے منع کیا گیا ہے۔
بخلاف عورت کے اکراہ کے، عورت کے اکراہ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اگر کسی عورت کو جبراً اس کے ساتھ زنا کر دیا گیا تو اس کے لیے اس کا گناہ اس سے مرتفع ہو جائے گا، اس کے حق میں کچھ نہ کچھ قدرے رخصت کا درجہ پایا جائے گا اور وہ گنہگار نہیں ہے اور اس کے حق میں فراش اور وہ بچے کا نسب ضائع اس وجہ سے نہیں ہوگا کہ بچہ اگرچہ ماء زنا سے پیدا ہوا ہے لیکن اس کی نسبت والدہ کی طرف تو ہوگی، وہ منسوب إلى والدہ تو ہے۔ اس لیے پہلی صورت کی ذکر فرما رہے ہیں کہ مرد کو جب زنا پر مجبور کیا جائے اور اس کو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس جبر اور اس اکراہ کی وجہ سے اس کی حرمت ختم ہو جائے گی، مرد کے حق میں وہ حرمت ختم نہیں ہوگی۔
اسی پہلی قسم کی دوسری مثال دی ہے کہ کسی مسلمان کو قتل کرنا، کہ کوئی بندہ کسی کو کہے بھئی: "تم فلاں مسلمان کو گولی مارو ورنہ میں تمہیں گولی مار دوں گا۔" تو یہ جو ہے، یہ اس میں بھی رخصت نہیں ہے، کیونکہ آپ نے اکراہ ملجی میں پڑھا ہے کہ جہاں پہ جان کے جانے کا اندیشہ ہو یا کسی عضو کے تلف ہونے کا اندیشہ ہو تو اس صورت کے اندر بندہ مجبور ہو جاتا ہے، اس کو اکراہ ملجی بولتے ہیں۔ اسی طرح چلو اس کی جان تو نہیں جا رہی، دوسرے کی جان جا رہی ہے تو اس کی جان اور دوسرے کی جان برابر ہوگی۔ ٹھیک ہے؟ اس لیے اس کو یعنی کہ جیسے اپنی ذات کو قتل کرنا اس کے لیے جائز نہیں ہے، اسی طرح غیر کو قتل کرنا بھی اس صورت سے جائز نہیں ہوگا اور اس کو رخصت نہیں ملے گی کہ لو جی! اگر میں اس کو قتل نہ کرتا تو میں قتل ہو جاتا، یہ اس کے حق میں رخصت نہیں ہے۔
مکراہ بہ کی حرمت کے اعتبار سے پہلی قسم آپ کے سامنے آ گئی کہ جس کے اندر رخصت کا احتمال نہیں ہے۔ دوسری قسم ذکر فرما رہے ہیں متن کے اندر کہ جس کے اندر رخصت کا احتمال ہے، عذر کی وجہ سے بھی اور بغیر عذر کے بھی جس میں رخصت آ سکتی ہے، اس کی مثال علامہ یہ دے رہے ہیں جس طرح کہ انسان حالت مخمصہ میں ہو، انسان کے پیٹ میں کوئی چیز نہیں ہے اور اس کو پتہ ہے کہ میں اگر نہیں کوئی چیز کھاؤں گا یا پیوں گا تو میں مر جاؤں گا، تو جان کو بچانے کی خاطر اس کے سامنے خنزیر کا گوشت ہے یا شراب کا پانی ہے، تو اب اس کے لیے اس حالت کے اندر اس بات کی اجازت ہے، یہ ایسی حالت ہے اکراہ کی کہ جس کی وجہ سے اس کو اس بات کی اجازت دے دی گئی ہے کہ جان بچانے کی خاطر اب تیرے لیے رخصت ہے، تو اس کو اتنا استعمال کر سکتا ہے جتنے کی جس سے تیری جان بچ جائے۔
تیسری قسم ذکر فرما رہے ہیں حرمۃ لا تحتمل السقوط، مکراہ بہ کی ایک ایسی حرمت ہے جو سقوط کا احتمال نہیں رکھتی، جس میں جس میں سقوط کا احتمال نہیں ہے، رخصت کا احتمال تو ہے، سقوط کا احتمال نہیں ہے۔ اس کی مثال، جس طرح کہ کلمہ کفر کا جاری کرنا، کوئی بندہ کسی کو سامنے بندوق رکھ کے کہتا ہے بھئی: "کلمہ کفر بولو ورنہ میں تمہاری گردن اڑا دوں گا، تمہیں قتل کر دوں گا۔" تو کلمہ یعنی ایمان کا سقوط، ایمان کا سقوط کسی صورت میں نہیں ہے کہ کلمہ کفر انسان بول جائے ایسا کسی صورت میں اس کی اجازت، یعنی اس میں احتمال سقوط نہیں ہے ایمان میں، لیکن ایک خاص حالت میں رخصت ہے کہ بندہ اس حالت میں مجبور ہو گیا، اگر نہیں بولتا تو قرآن نے فرما دیا کہ إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَانِ وَلَـكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ، کہ ایک تو یہ ہے کہ کفر کا کلمہ اس حالتِ جبر میں بول جائے اور کفر کو کفر ہی سمجھے، اس کو اچھا نہ سمجھے، تو اس میں اگرچہ ایمان کی یہ حالت یہ کسی بھی صورت کے اندر محتملِ سقوط نہیں ہے، ایسا نہیں ہے کہ آپ کو یہ اجازت دے دی جائے کہ کسی وقت آپ ایمان کو چھوڑ کے بیٹھ سکتے ہیں، نہیں، اس میں سقوط کا احتمال نہیں ہے لیکن رخصت کا احتمال ہے۔
چوتھی مثال یہ دے رہے ہیں کہ مکراہ بہ کی وہ حرمت جو سقوط کا بھی احتمال رکھتی ہے، لیکن اکراہ کے بعد وہ سقوط جو ہے وہ ساقط نہیں ہوگا، سقوط کا احتمال تو رکھتی ہے، تیسری قسم میں سقوط کا احتمال نہیں ہے اور چوتھی قسم میں سقوط کا احتمال ہے، لیکن وہ سقوط باقی نہیں رہتا۔ اس کی مثال یہ ہے جس طرح کوئی بندہ کسی کو مجبور کر کے کہے کہ: "فلاں آدمی کا مال کھاؤ ورنہ میں تمہیں قتل کر دوں گا۔" ٹھیک ہے؟ اس میں ٹھیک ہے، ایک رخصت کے درجے میں ایک اس کو مل گئی اجازت، یہاں پہ سقوط ہو گیا اس کے اس کا مال کھانے کے حق میں اس کی اجازت آ گئی، لیکن یہ کہ جب یہ اکراہ ختم ہو جائے گا، ختم ہونے کے بعد جتنا مال اس نے اس حالت میں اس کا کھایا ہے یہ اس کو واپس کرنا ہوگا۔ تو چوتھی قسم وہ بن گئی کہ جس کے اندر سقوط کا احتمال ہے لیکن سقوط کی بقاء نہیں ہے۔
آخری متن کی آخری سطر میں علامہ صاحب منار یہ فرماتے ہیں کہ آخری جو دو قسمیں ہیں کہ کلمہ کفر، کلمہ کفر کا اکراہ کیا گیا کہ تم کلمہ کفر بولو ورنہ میں تمہیں قتل کر دوں گا، تم فلاں آدمی کا مال کھاؤ ورنہ میں تمہیں قتل کر دوں گا، ان دونوں صورتوں کے اندر اگر انسان صبر کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھے گا اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دے گا تو یہ بندہ شہید کہلائے گا۔ ٹھیک ہے؟ اور یہ کرنا زیادہ اولیٰ ہے۔ یہ کرنا کیا ہے؟ و الرابع إذا صبر في هذين، اچھا وإذا صبر في هذين القسمين حتى قتل صار شهيداً، یہ آخری دو قسمیں جو ہیں نا ایک تو یہ کہ جس میں سقوط کا احتمال نہیں، دوسرا جس میں سقوط کا احتمال ہے، ان دونوں قسموں میں اگر انسان صبر کر جاتا ہے اور اس کو قتل کر دیا جاتا ہے وہ اللہ کے ہاں شہید ہے، اس کا بہت بڑا درجہ ہے۔ اس عبارت کو سمیٹنے کے بعد، اچھا وجہ اس کی بتا رہے ہیں لأنه يكون باذلاً نفسه لإعزاز دين الله، یہ کیوں شہید ہے؟ اس لیے کہ یہاں یہ جان کی جو قربانی دے رہا ہے وہ دین کی عزت کے لیے دے رہا ہے، اسی طرح لإقامة الشرع، شرعیت کو قائم کرنے کے لیے وہ قربانی دے رہا ہے اس لیے عند اللہ یہ ماجور ہوگا، اس کو ثواب ملے گا اور شہادت کا مرتبہ ملے گا۔
آخری میں جا کے ملا جیون رحمۃ اللہ علیہ دعا آپ کے لیے بھی، ہم سب کے لیے بھی کر رہے ہیں، میں وہ دعائیہ کلمات بھی پڑھ دیتا ہوں پھر حضرت سے دعا کی درخواست کروں گا۔ آخر میں چل کے یہ کہتے ہیں: اللهم ادخلنا، یا ادخلنی کہتے ہیں ہم ادخلنا پڑھتے ہیں، اللهم ادخلنا في زمرة الشهداء وا سلوكني فيعدة السعداء يوم لا ينفع مال ولا بنون ولا ينجي بأس ولا حصون بحرمة نبينا وشفيعنا محمد صلى الله عليه وعلى آله وأصحابه وأهل بيته وأزواجه وذرياته وسلم يقول العبد المفتقر إلى الله الغني الشيخ أحمد المدعو بشيخ جيون ابن أبي سعيد ابن عبيد الله ابن عبد الرزاق ابن خاصة خدا الحنفي المكي الصالحي ثم الهندي اللكنوي قد فرغت من تسويد نور الأنوار في شرح المنار بسبع شهر جمادى الأولى سنة 1105 من هجرة النبوية صلى الله عليه وسلم في حرم الشريف للمدينة المنورة. یہ سن 1105 جمادی الأولى کی یعنی سات تاریخ تھی، سن 1105 تھا اس وقت انہوں نے یہ تالیف شروع کی تھی، فی البلدۃ المطہرۃ مدینہ منورہ میں، اچھا وكان اختتام یہاں پہ ہوا۔ جمادی الأولى 7 تاریخ کو سن 1105 میں، وكان ابتداؤها في غرة الشهر المولد من ربيع الأول، ربیع الأول کے اسی سال سن 1105 ربیع الأول، ربیع الأول، ربیع الثانی، جمادی الأولى، یہ تقریباً دو مہینے کے عرصے میں في مدة كان عمري 58 سنة، میری عمر اس وقت 58 برس تھی، والمرجو من جناب الله تعالى ببركة رسوله صلى الله عليه وسلم أن يجعله خالصاً لوجهه الكريم وينفع به المبتدئين وسائر المسلمين الطالبين ذوي الخلق العظيم والإشفاق العميم ربنا افتح بيننا وبين قومنا بالحق وأنت خير الفاتحين. والله أعلم بالصواب وإليه المرجع والمآب. اب حضرت سے درخواست ہے کہ آپ کو کچھ نصیحت بھی فرمائیں اور پھر دعا فرمائیں۔
تھوڑا سا قریب آ جائیں۔
نحمده ونصلّي على رسوله الكريم أما بعد!
فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم
يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ
وقال النبي صلى الله عليه وسلم:
من سلك طريقاً يلتمس فيه علماً سهّل الله له به طريقاً إلى الجنة.
صدق الله مولانا العظيم وصدق رسوله النبي الكريم.
اللہ رب العزت والجلال کا بہت بڑا احسان اور فضل ہے کہ اس فتنے کے دور میں، قرب قیامت کے دور میں اللہ رب العزت والجلال اپنے دین کے سیکھنے کا، پڑھنے پڑھانے کا نیک ماحول عطا فرما دے یہ اللہ تعالیٰ کا خاص انعام ہے۔
ہمارے ایک بزرگ استاد فرمانے لگے کہ: "علم دین کی نعمت کسپی نہیں ہے، وہبی ہے، خالص اللہ پاک کی عطا ہے۔"
اللہ رب العزت والجلال کا مبارک ارشاد: يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَن يَشَاءُ، کہ اللہ رب العزت والجلال جس کو چاہتے ہیں حکمت عطا کرتے ہیں۔ يُؤْتِي باب افعال کا صیغہ ہے، آتا يُؤْتِي إیتاءً فهو مُؤْتٍ، ایتاء کا معنیٰ ہے دینا۔ تو اللہ رب العزت والجلال فرماتے ہیں کہ جس کو چاہتے ہیں حکمت عطا کرتے ہیں۔
صاحب جلالین رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام میں حکمت کی تفسیر کی ہے: العلم النافع المؤدي إلى العمل، کہ حکمت اس علم نافع کا نام ہے جو آدمی کو عمل تک پہنچا دے۔
میرے دوستو! علم دین سے مقصود کوئی معلومات میں اضافہ نہیں ہے بلکہ یہ زندگیوں میں انقلاب برپا کرنے والا علم ہے، اللہ پاک کی رضا اور خوشنودی کے جذبے سے بھرنے والا علم ہے۔
ہمارے گاؤں میں تبلیغی جماعت والے بھئی بیان کر رہے تھے، بڑا اچھا جملہ کہہ گئے، کہنے لگے: "علم قطرہ ہے، عمل سمندر ہے، کہ علم قطرہ ہو لیکن عمل کے ساتھ ہو تو وہ سمندر ہے، بیڑا پار ہونے کے لیے کافی ہے۔"
یہ ہمارے طلباء ہیں، اللہ آپ حضرات کو سب کو اللہ خوب برکتوں سے نوازے۔ حضرت استاذی کے آخری سبق کے بعد پھر مزید کوئی ضرورت نہیں، یہ تو ٹوٹی پھوٹی باتیں، یہ بھی حضرت استاذی کی توجہ کے صدقے میں ہمارے حضرت شیخ رحمہ اللہ علیہ کی یادگار حضرت استاذ محترم حضرت مولانا زہیر صاحب دامت برکاتہم العالیہ، اللہ ان کی پرخلوص مساعی کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ یہ خاص اللہ تعالیٰ کا انعام ہے یہ لگانا۔
محنت بقدرِ ہمت، جتنی ہمت ہے اتنی کوشش لگا دے، پھر نتیجہ
یہ سب اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے۔ اللہ آپ سے کام لیں گے، کیا لیں گے؟ یہ تو تصور سے باہر ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ کے دین کے چوکیدار ہیں۔ چوکیدار کو معلوم نہیں ہوتا میں نے کیا خدمت کرنی ہے۔ مالک کو معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے کیا خدمت لینی ہے۔
افغانستان میں، میرا خیال ہے، 20-25 ہزار طالبان طلباء شہید ہوئے، سب کے ذہن میں یہ تھا کہ ہم دورۂ حدیث کرنے کے بعد، دورۂ حدیث کرنے کے بعد کسی مسجد، مدرسے میں بیٹھ کر پڑھائیں گے، خدمت کریں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے دورۂ حدیث کرنے سے پہلے ہی سب کا دورہ کروا دیا، جہاں سب نے پہنچنا ہے وہاں اللہ نے پہنچا دیا۔
اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی فرمائے۔ دین کے جتنے بھی شعبے ہیں، سب برحق ہیں۔ تعلیم ہے، تبلیغ ہے، جہاد ہے، سب برحق ہیں۔ عرض کروں اپنے بڑوں کے بارے میں، جہاں تک ہو سکے ان کا ادب و احترام کریں۔ بڑوں میں کوئی اختلافِ رائے ہو بھی جائے، چھوٹوں کے لیے یہ ہے کہ اپنے بڑوں کے ادب و احترام میں کوئی فرق نہ آنے پائے۔ ادب کی برکت سے، ادب کی برکت سے، عرض کروں، علم قطرہ ہو گا اللہ اس کو سمندر کر دیں گے۔
بڑے حضرات ہیں نا، ہمارے اکابر حضرات، بڑے مٹے ہوئے تھے۔ میں ایک مرتبہ مدرسہ صولتیہ میں، مکہ مکرمہ میں، یہ حج کے مسائل ذرا بڑے گہرے مسائل ہوتے ہیں، بار بار پڑھنے پڑھانے کے باوجود، لیکن پھر جب تک عملی مشق نہ ہو، عملی طور پر وہاں پر مسائل سے گزرے نہیں تو اس وقت تک ان کا استحضار مشکل ہوتا ہے۔
میں مدرسہ صولتیہ میں بیٹھا ہوا، تو وہاں پر ایک بڑی عمر کے بزرگ تشریف لائے۔ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق اعظمی دامت برکاتہم العالیہ، وہ بھی تشریف فرما تھے۔ حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب دامت برکاتہم العالیہ، وہ تشریف لائے۔ فرمانے لگے، وہ فرمانے لگے کہ میں حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کا بھی شاگرد ہوں، حضرت شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی شاگرد ہوں، دونوں بڑی ہستیوں کے شاگرد تھے۔
حضرت شاہ صاحب، حضرت شاہ صاحب کو اللہ نے جو مقام عطا فرمایا، وہ اپنے اساتذہ کی خدمت میں سنا ہی ہے۔ مجھے مدینہ منورہ میں ہمارے ایک بزرگ حضرت مولانا عبدالمجید صاحب دامت برکاتہم العالیہ، حضرت مفتی زین العابدین صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ ان کے داماد ہیں، فرمانے لگے حضرت مفتی عبدالمجید صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ خیر المدارس کے بڑے اکابر حضرات میں سے تھے۔ تو حضرت فرماتے ہیں کہ حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے منہ سے دودھ نکل رہا تھا۔ فرماتے ہیں کہ وہ دودھ کیا تھا؟ وہ ان کا علم تھا۔ کہتے ہیں اتنا دودھ نکلا کہ پورا کفن دودھ سے بھر گیا۔
بڑی ہستی تھی، بہت بڑی! لیکن اپنے آپ کو کتنا مٹا رکھا ہے، کتنا اپنے آپ کو! یہ ملفوظ میں نے وہی سنا حضرت سے۔ فرماتے ہیں کہ حضرت شاہ صاحب فرماتے تھے، حضرت شاہ صاحب فرماتے تھے کہ میرے دو دوست ہیں، ایک باوفا دوست اور ایک بےوفا دوست۔
فرماتے کہ علم، علم یہ میرا بےوفا دوست ہے، کبھی کبھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔ باقی رہی جہالت، وہ تو یارِ غار ہے، ہر وقت ساتھ رہتی ہے۔ کتنے بڑے آدمی! کتنا اپنے آپ کو مٹایا، پھر اللہ نے کہاں ان کو پہنچایا ہے!
ایک اور بات فرمانے لگے، بڑے حضرات ہیں نا بڑے! بزرگوں کے عجیب عجیب برکات، جامعہ مدنیہ میں حضرت ڈاکٹر صاحب جو ہیں، علیم چشتی صاحب دامت برکاتہم العالیہ تشریف لائے، فرمانے لگے کہ حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ، حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ، فرمایا ہمارے ساتھی تھے، حضرت شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ حضرت کی خدمت میں سبق پڑھ رہے تھے تو اچانک گھڑی کو دیکھ لیا۔ وہ گھڑی کو دیکھ لیا۔ تو حضرت شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ حضرت کی نظر لگ گئی۔ تو حضرت، حضرت فرمانے لگے، تنبیہ فرمائی، فرمایا ہم سبق پڑھا رہے ہیں، یہ گھڑی کو دیکھتے ہیں! حضرت کے جملے کا ایسا اثر ہوا کہ پھر پوری زندگی گھڑی پہنی ہی نہیں۔
فرمایا حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ بڑی اچھی سی گھڑی، ایک بڑی اچھی گھڑی لے کر آئے تو حضرت کو پیش کی، حضرت کمرے سے باہر نکلے، کسی کو ہدیہ کر دی، فرمایا۔
اللہ تعالیٰ قبول فرمائے، اللہ تعالیٰ اپنی بارگاہ میں۔ تو حضرت علامہ، یہ حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ، دیوبند میں کچھ اختلافِ رائے ہو گیا، ہو جاتا ہے، بڑوں میں اختلافِ رائے ہو جاتا ہے، اس میں بھی اللہ نے کتنی اپنی رحمت کے سمندر چھپا رکھے ہوتے ہیں۔ بڑوں کی بھول ہوتی ہے نا، اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سمندر ہوتے ہیں۔
دیکھو حضرت آدم علیہ السلام، جنت میں وہ درخت کا دانہ اور پھل کھایا نا، بھول کر کھایا تھا نا بھول کر! ہمارے استاد یہاں فرمایا کرتے تھے "وَلَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِيْنَ"، فرمایا اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ ہو جاؤ گے خلافِ اولیٰ کام کرنے والوں میں سے، یہاں ظالمین کا یہ معنی ہے، انبیاء ہیں نا یار! اور بھی ہیں، لیکن یہ ہمارے استاد حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد تھے، وہ یہاں پر اس انداز سے معنی کرتے تھے۔ بڑوں کی بھول ہے نا، اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے کتنے سمندر ہیں! وہ کوئی گناہ نہیں تھا، یاد رکھنا۔ "فَنَسِیَ اٰدَمُ وَلَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًا"، یہ بڑوں کی بھول، یہ بھئی کہہ لیں کتنی برکت ہے! فرمایا جو آپ چلے، چار مہینے لگا رہے ہیں، یہ حضرت کے دانے کی تو برکت ہے نا! ہم جو قدوری، کنز پڑھ رہے ہیں، یاد رکھیں، یہ بھی حضرت کے دانے کی برکت ہے۔ حضرت دانہ نہ کھاتے تو ہم یہاں کیسے پہنچتے؟ بڑے حضرات!
اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی فرمائے۔ وہ گناہ نہیں ہے، گناہ کے لیے تو تین شرطیں ہیں، ہمارے حضرت قاری صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے فرمایا، گناہ کے لیے تین شرطیں ہیں: فعل حرام ہو، علم بالحرمت بھی ہو، اور قصداً بھی ہو۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قبطی کو مارا اور وہ ڈھیر ہو گیا۔ لیکن فرمایا اب یہ فعل حرام تھا، علم بالحرمت بھی تھا، لیکن قصداً نہیں تھا۔ اس لیے یہ تو گناہ نہیں کہیں گے، یہ زلت ہے، لغزش، لغزشِ تابی کہہ لیں۔
تو بہرحال، بڑوں میں کوئی ہو بھی، ہم چھوٹوں کے لیے یہ ہے کہ ادب و احترام میں کوئی فرق نہ آنے پائے۔ یہ بعض دفعہ میں عرض کروں، مجالس میں اور تو کچھ نہیں، لیکن وہاں دورے میں کچھ طلباء آتے ہیں، کوشش ہوتی ہے جہاں تک ہو سکے ان کے دل میں اپنے بڑوں کا ادب و احترام ہو۔ اگر بڑوں کا ادب و احترام ہو گا، محبت ہو گی، بہت سے گناہوں سے خود بخود بچ جائیں گے۔
مجھے پشاور جامعہ عثمانیہ سے ایک طالب علم نے خط میں، محبت کا اظہار فرمایا، کہ میں آپ کے پاس دورہ کرنے سے پہلے ہم اپنے ہی بڑوں کی غیبت کرتے رہتے تھے۔ لیکن اللہ کا شکر ہے، اب سے اپنے بڑوں کے بارے میں سوائے ادب و احترام کے کچھ نہیں ہے۔ اپنے بڑوں کے بارے میں جہاں تک ہو سکے، زبان کو خاموش رکھنا ہے۔ کوئی بات سمجھ میں نہیں آ رہی، آپ دیکھیں گھر میں کوئی والدین کا اختلاف ہو جائے، بچے کیا کرتے ہیں؟ ایک ابا کی طرف، ایک اماں کی طرف؟ نہیں، نہیں! بچے وہ رونا شروع کر دیتے ہیں، ان کے رونے کی برکت سے اللہ والدین کو ٹھنڈا کر دیتے ہیں۔
بڑوں کے بارے میں کوئی تھوڑا بہت ہو بھی جائے، تو ہم چھوٹوں کے لیے یہ ہے، ان کے لیے رو رو کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کے قلوب کو خیر پر مجتمع فرما دے۔ پھر بھی اگر کوئی تھوڑا بہت ہو جاتا ہے اختلافِ رائے، لیکن الحمدللہ، اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی رحمت ہوتی ہے۔
یہ لال مسجد کے مسئلے میں بھی تو، ہمارے حضرت قاری صاحب، تشریف لائے۔ لال مسجد، لال مسجد کے مسئلے میں بھی تو تھوڑا بہت ہوا تھا۔ الحمدللہ ہماری وہاں پر حاضری ہوئی، حضرت مولانا عبدالعزیز صاحب دامت برکاتہم العالیہ، حضرت مولانا غازی عبدالرشید شہید رحمۃ اللہ علیہ، وہ اپنے، اپنے جذبے میں مخلص تھے وہ۔
مجھے مولانا عبدالعزیز صاحب دامت برکاتہم العالیہ جامعہ مدنیہ میں تشریف لائے، فرمانے لگے میرے بھئی غازی عبدالرشید شہید کو قبر میں دفن کیا گیا، 10-10 میل کے فاصلے سے لوگ آئے کہ ان کی قبر کی خوشبو ہم نے اپنے گاؤں میں سونگھی ہے۔ اخلاص کی برکت سے اللہ نے قبولیت عطا فرما دی۔
ہمارے اکابر حضرات کچھ، ان کی نظر کچھ مصالح پر تھی، جیسے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میدان میں جا رہے تھے نا کربلا میں، بعض صحابہ نے روکا بھی، مصالح کی وجہ سے۔ وہ روکنے میں مخلص تھے، اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میدان کے اندر اترنے میں مخلص تھے۔ ان کو اترنے کا پورا پورا ثواب مل گیا، ان کو روکنے کا پورا پورا ثواب مل گیا۔ ایسے ہی ہمارے اکابر حضرات کچھ مصالح کی وجہ سے روک بھی رہے تھے، ان کا روکنا بھی وہ شفقت کے، شفقت پر مبنی تھا وہ۔
اللہ تعالیٰ سب کو اللہ، ہماری جتنی بھی جماعتیں ہیں، سب برحق ہیں۔ جو جہاں ہیں، میں بہت گنہگار سا آدمی ہوں، لیکن اللہ کا شکر ہے، اور اگر یہ تھوڑی بہت کام میں، کوئی تھوڑی بہت اگر کوئی یہ دو چار ساتھیوں کی خدمت کا موقع مل رہا ہے، اگر یہ کوئی برکت کی چیز ہے، میں ساتھیوں سے عرض کرتا رہتا ہوں، اور تو وجہ نہیں، ایک تو اپنے اساتذہ کی دعا ہے، اور دوسرا اپنے اکابر حضرات، اپنے بڑوں سے محبت کا نتیجہ ہے۔ سب کا ادب و احترام، کبھی کسی کے بارے میں کوئی ایسا، اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے، کوئی ایسا لفظ نہ نکلے کہ ان کے، ان کی شان سے دور ہو۔ یہ اس سے انشاء اللہ برکت بھی ہو گی، اپنے بڑوں کے، ہماری کیا حیثیت ہے؟
ہمارے حضرت شیخ موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ کتنی بڑی ہستی تھے! بہت بڑی ہستی تھے! بعض دفعہ بڑے حضرات پر، علامہ تفتازانی، سب ان کے اوپر رد بھی فرماتے ہیں، بڑے زوردار انداز سے رد فرماتے ہیں۔ لیکن آخر میں پھر یہ جملہ ان کی ہے، کہ طلباء میں کوئی ان کی کوئی عظمت میں فرق نہ آنے پائے، فوراً کہتے مولانا وہ تو بہت اونچے آدمی تھے، بہت بڑے علامہ تھے وہ! پھر ان کی طرف سے ہدیہ بھی کرتے رہتے، صدقہ خیرات بھی کرتے تھے۔ یہ شان تھی ان کی۔ یعنی کہنے کے بعد یہ نہیں، الحمدللہ، فوراً ان کی محبت، ادب و احترام، اس کا بھی ایک جملہ آخر میں فوراً بول دیتے تھے۔ تو بڑے اونچے آدمی تھے۔
اللہ اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، آپ حضرات شکر کریں، اللہ نے جو نعمت اللہ نے آپ کو نصیب فرما رکھی ہے نا، بس آخر میں ایک بات پوری کر دوں تو دوسری طرف چلا گیا۔
حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ، دیوبند میں کچھ اختلافِ رائے ہوا، تو حضرت شاہ صاحب ڈابھیل تشریف لے گئے۔ حضرت کی مسند پر شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ رونق افروز ہوئے۔ حضرت کی کتنی بڑی ہستی! کہتے ہیں جب حضرت کا انتقال ہوا نا انتقال، حضرت کا سانولا رنگ تھا، لیکن جب انتقال ہوا تو کفن پہنا رکھا تھا، لیکن حضرت کے چہرے پر اتنا نور برس رہا تھا کہ یعنی حضرت کے چہرے میں اور کفن کی سفیدی میں کوئی فرق محسوس نہیں ہو رہا تھا، اتنا نور برس رہا تھا۔ اس طرح حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینی رحمۃ اللہ علیہ، بڑے حضرات تھے، بہت!
سب بڑے ہیں، ایک مشہور واقعہ ہے نا، دیوبند میں کوئی صاحب ملنے کے لیے آئے، فرمایا بڑے مولوی صاحب سے ملنا ہے۔ جن کے پاس گئے، فرمایا وہ ہیں بڑے مولوی صاحب۔ ان کے پاس گئے، آپ بڑے مولوی صاحب؟ فرمایا نہیں، وہ ہیں بڑے مولوی صاحب۔ ان کے پاس گئے، کہا نہیں وہ ہیں بڑے مولوی صاحب۔ دیوبند کا پورا انہوں نے چکر لگا لیا، لیکن ان کو بڑے مولوی صاحب نہیں ملے۔ حضرت مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمانے لگے کہ دیوبند میں ہر ایک اپنے، دوسرے کو اپنے سے بڑا سمجھنے والے تھے، تو نتیجے میں سب بڑے تھے وہ!
یعنی حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ فرمانے لگے، دین کا کوئی بھی کام کرنے کے بعد یہ جذبہ حاصل ہو جائے: یا اللہ! میں نے کچھ نہیں کیا، فرمایا اس کو سب کچھ مل گیا ہے۔ ان کی بارگاہ میں عجز و انکساری بڑی پسند ہے، اپنے آپ کو مٹانا، اپنے آپ کو جھکانا، یہ بہت پسند ہے اللہ تعالیٰ کو۔
تو حضرت شاہ صاحب دیوبند تشریف لے گئے، چھٹیوں میں گھر تشریف لاتے، تو حضرت شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ حضرت کی مسند پر رونق افروز ہوئے، تو حضرت شاہ صاحب سے ملنے کے لیے تشریف لے جاتے۔ حضرت شاہ صاحب اتنے خوش ہوتے، اتنے خوش ہوتے، اپنے ہاتھ سے چائے پکا کر حضرت مدنی کو پلاتے۔ پھر اگلا جملہ انہوں نے فرمایا، فرمایا یہ احترام ہے ایک شیخ الحدیث کا اپنی مسند پر بیٹھنے والے دوسرے شیخ الحدیث کا۔
میں عرض کروں، اللہ مجھے معاف فرمائے، میری نفسانیت کا یہ عالم ہے، میں ایک جگہ پڑھاؤں، خدمت کروں، پھر میری جگہ پر کوئی دوسرے بھئی خدمت شروع کر دیں، پتہ نہیں کتنے وساوس آئیں گے، اور پتہ نہیں کتنی غیبتوں کا سلسلہ ہو گا، ان کو کیا آتا ہے؟ اللہ، اللہ تعالیٰ بچائے!
اس لیے ہمارے حضرت مفتی رشید احمد صاحب لدھیانوی رحمہ اللہ تعالیٰ فرمانے لگے، مولوی کے مخلص ہونے کی نشانی یہ ہے، وہ دوسرے مولوی کو کام کرتا ہوا دیکھ کر خوش ہو جائے۔ جلنے کی ضرورت نہیں ہے۔
جامعہ الرشید میں تھے، حضرت مفتی عبدالرحیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ فرمانے لگے، حضرت نے اخلاص کے تھرمامیٹر بنا رکھے تھے، ان میں سے ایک یہ بھی تھا، فرمایا مولوی کے مخلص ہونے کی نشانی یہ ہے، وہ دوسرے مولوی کو کام کرتا ہوا دیکھ کر خوش ہو جائے، جلنے کی ضرورت نہیں ہے۔
میں عرض کروں، پھر یہ کچھ اندر کی بیماریاں ہوتی ہیں، ان کے لیے اپنے بڑوں کے سائے کی ضرورت ہوتی ہے۔ میرے شیخ ہیں، مربی ہیں، جامعہ اشرفیہ کے شیخ الحدیث حضرت صوفی صاحب دامت برکاتہم العالیہ، حضرت شیخ صاحب نے پوچھا کہ حضرت! میں، بعض ساتھی کام میں آگے بڑھ جاتے ہیں کام میں، کوئی پڑھنے پڑھانے میں، کوئی اور کسی اور نعمت میں آگے بڑھ جاتے ہیں، تو ان کے بارے میں دل میں حسد اور جلن محسوس ہوتا ہے، اس کا کیا علاج ہے؟ تو حضرت فرمانے لگے، نام لے کر ان کے حق میں دعائے خیر کریں، نام لے کر ان کے حق میں دعائے خیر کریں۔ آپ کی دعا ان کے حق میں قبول ہو گئی، کام وہ کرے گا، ثواب آپ کو ملے گا۔
حضرت سے پھر پوچھا کہ حضرت! میں دعا تو کر رہا ہوں، لیکن سوئیاں اب بھی چبھ رہی ہیں، کیا کروں؟ تو حضرت فرمانے لگے، یہ غیر اختیاری ہے، معاف ہے۔ اس پر توجہ نہ دیں، بس اپنے کام میں لگے رہیں۔ کچھ دنوں کے بعد وہ حالت بھی ٹھیک ہو گئی۔
میں عرض کروں اپنے، یعنی حضرت حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرمانے لگے، کسی کو بڑا بنانے کا فائدہ یہ ہوتا ہے، سارا بوجھ بڑے پہ چلا جاتا ہے، چھوٹوں کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے بڑوں سے رہنمائی لیں، ان کے مشورے پر عمل کریں، بھاگتے ہوئے جنت میں جائیں۔
تو اللہ قبول فرمائے، اللہ تعالیٰ آپ حضرات کی ماشاء اللہ خوب اللہ برکتوں سے نوازے، محنت بقدرِ ہمت، جتنی ہمت ہے اتنی کوشش، لگے رہیں۔ گھبرائیں نہیں، بعض طلباء ذہن کے اعتبار سے کمزور ہوتے ہیں، میں عرض کروں، ذہن کمزور ہو لیکن طلب میں کمزوری نہ ہو۔ ہمارا نام طالب علم ہے نا، یہ عنوان بھی طلب پر دلالت کر رہا ہے، کہ بس طالب علم میں طلب ہو، پھر انشاء اللہ کسی چیز کی کمی نہیں، علم قطرہ بھی ہو گا اللہ اس کو سمندر کر دیں گے۔
میں چترال میں تھا، تو وہاں پر ہمارے قاری عبدالرحمٰن صاحب چترال میں، ان کی کئی، بڑا مدرسہ انہی کا ہی ہے، کئی شاخیں ہیں۔ یہاں پڑھتے رہے ہیں، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ جامعہ اشرفیہ سے فارغ ہوئے، کس درجے میں پاس ہوئے؟ کہنے لگے میں تو درجہ مقبول میں پاس ہوا تھا، بس اللہ نے اساتذہ کی دعائیں ہیں کہ ان کی برکت سے اللہ نے یہاں قبول فرما رکھا ہے، الحمدللہ کئی ان کے مدرسے ہیں، شاخیں ہیں الحمدللہ۔
تو اپنے اساتذہ کی دعاؤں کے ساتھ، ان کے ادب و احترام کے ساتھ، محنت بقدرِ ہمت، جتنی ہمت اتنی کوشش لگا دیں، پھر اللہ، بس پھر انشاء اللہ کسی چیز کی کمی نہیں، علم قطرہ بھی ہو گا اللہ اس کو سمندر کر دیں گے۔
اللہ تعالیٰ سب کو قبول فرمائے، اللہ تعالیٰ سب کو اللہ اپنی رضا اور خوشنودی سے نوازے، اللہ تعالیٰ سب کو اللہ برکتوں سے نوازے، اللہ قبول فرمائے، اللہ تعالیٰ قبول فرمائے، اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔
اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وبارك وسلم، ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار.
یا اللہ! یا اللہ! یا اللہ! ہمارے یہاں پر اکابر حضرات تشریف فرما ہیں، حضرت استادِ محترم حضرت شیخ الحديث مفتی زکریا صاحب دامت برکاتہم العالیہ، حضرت استادِ محترم حضرت مولانا محبوب الٰہی صاحب دامت برکاتہم العالیہ، یا اللہ! یا اللہ! ہمارے اساتذہِ کرام، یا اللہ! ان کے اس سائے، شفقت میں برکت نصیب فرما، صحت و تندرستی عطا فرما، گھر والوں کو، بچوں کو، سب کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔
ہمارے جتنے بھی طلباء کرام تشریف فرما ہیں، یا اللہ! ایک ایک کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما، ان کے علم میں، عمل میں، اخلاص میں برکت نصیب فرما۔ یا اللہ! ہمارے یا اللہ! اس جامعہ کو یا اللہ! قیامت تک آباد فرما۔
یا اللہ! ہمارے یہاں جتنے بھی اکابر شیوخ یا اللہ تشریف فرما ہیں، سب کی عمر میں، صحت میں، سائے، شفقت میں برکت نصیب فرما۔ جتنے بھی طلباء کرام پڑھ رہے ہیں، ایک ایک کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ یا اللہ! ان کی نیک صلاحیتوں کو اپنے دین کی سربلندی کے لیے، اشاعت کے لیے قبول فرما، ان کے اہل خانہ کو خیر و برکت سے مالا مال فرما۔
وصلى الله تعالى على خير خلقه محمد وعلى آله وأصحابه اجمعين، برحمتك يا ارحم الراحمين.