Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-079

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 11 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 17
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔79 والثالث سنة وهي الطريقة المسلوكة في الدين وحكمها أن يطالب المرء بإقامتها من غير افتراض ولا وجوب. عزیمت کی چار اقسام ہم پڑھ رہے تھے۔ پہلی قسم جو ہے، وہ فرض، دوسری قسم واجب۔ آج تیسری قسم ہم پڑھیں گے بھئی سنت بھئی۔ کہتے ہیں: والثالث سنة اور تیسری قسم جو ہے وہ سنت ہے۔ وهي الطريقة المسلوكة في الدين اور یہ وہ طریقہ ہے المسلوكة جس پر چلا جائے في الدين دین کے اندر۔ تو دین کے اندر وہ طریقہ جس پر چلا جائے، یہ وہ سنت ہے۔ وحكمها اور حکم اس کا جو ہے، أن يطالب المرء بإقامتها کہ مطالبہ کیا جائے گا آدمی سے اس کے قائم کرنے کا۔ حکم کیا ہے سنت کا؟ کہ آدمی سے اس کے قائم کرنے کا، یعنی اس پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا من غير افتراض ولا وجوب بغیر فرض ہونے اور واجب ہونے کے۔ یعنی یہ فرض بھی نہیں ہے، واجب بھی نہیں ہے اور اب، لیکن آدمی سے اس کے مطالبہ کیا جائے گا اس پر عمل کرنے کا۔ فاخترض بقوله أن يطالب عن النفل پس ماتن نے احتراز کیا اپنے قول أن يطالب کے ذریعے نفل سے، کیونکہ نفل میں مطالبہ نہیں ہوتا، نفل انسان کی مرضی ہے، پڑھے یا نہ پڑھے۔ وبقوله من غير افتراض ولا وجوب عن الفرض والواجب اور اپنے قول جو ہے غير افتراض اور ولا وجوب کے ذریعے احتراز کیا ماتن نے فرض اور واجب سے، کہ یہ فرض بھی نہیں ہے اور واجب بھی نہیں۔ وكان ينبغي أن يذكر هذه القيودات في التعريف اور مناسب یہ تھا کہ مصنف ذکر کرتے ان قیودات کو تعریف کے اندر بھئی الا أنه اكتفى عنها بالحكم لیکن انہوں نے اکتفا کیا ان سے حکم پر بھئی۔ بھئی دیکھیے، پہلے تعریف کی سنت کی: وهي الطريقة المسلوكة في الدين۔ اور آگے پھر حکم کے اندر کیا بتلایا؟ کہ آدمی سے اس کا مطالبہ کیا جائے گا اس کے کرنے کا بغیر واجب اور بغیر فرض کے طور پر، یعنی واجب کے طور پر بھی نہیں ہوگا اور فرض کے طور پر بھی نہیں ہوگا بھئی مطالبہ۔ تو یہ تعریفات، کہتے ہیں یہ قیودات کو مصنف کو تعریف کے اندر ذکر کرنی چاہیے تھیں، لیکن انہوں نے حکم میں ان کو ذکر کرکے اسی پر اکتفا کر لیا۔ اسی پر کیا کر لیا؟ اکتفا کر لیا۔ولكن قالوا لیکن علماء فرماتے ہیں: إن هذا التعريف والحكم لا يصدقان إلا على سنة الهدى، والتقسيم الآتي إنما هو لمطلق السنة۔ بھئی ایک سنت کی یہ تعریف کی۔ اب آگے تقسیم کریں گے، ایک سنتِ ہدیٰ ہے اور ایک سنتِ سنتِ زوائد ہے بھئی۔ تو آگے تقسیم جو ہے وہ مطلق سنت کی ہے، تو اور پیچھے جو تعریف کی وہ کس کی تھی؟ وہ سننِ ہدیٰ کی تھی، کس کی؟ سننِ ہدیٰ کی۔ سننِ ہدیٰ کی تعریف کی، یہ شبہ پڑتا تھا شاید یہ جو پیچھے تعریف کی گئی، یہ شاید مطلق سنت کی تعریف ہے۔ شارح نے بتلا دیا، آگے بتلائیں گے آپ کو کہ یہ جو تعریف کی، یہ کس کی تعریف کی ہے؟ سننِ ہدیٰ کی، اور آگے جو تقسیم کریں گے، وہ اس سننِ ہدیٰ کی تقسیم نہیں ہے بلکہ مطلق سنت کی۔ ولكن قالوا لیکن علماء نے فرمایا ہے کہ: إن هذا التعريف والحكم لا يصدقان إلا على سنة الهدى کہ یہ تعریف اور یہ حکم صادق نہیں آتے مگر سنتِ ہدیٰ پر، والتقسيم الآتي إنما هو لمطلق السنة اور آنے والی تقسیم جو ہے وہ مطلق سنت کی ہے۔ إلا أن السنة تقع على طريقة النبي عليه الصلاة والسلام وغيره مگر یہ کہ سنت جو ہے، یہ واقع ہوتا ہے حضور علیہ الصلاة والسلام کے طریقے پر بھی اور آپ کے علاوہ اور یعنی صحابہ کے طریقے پر بھی۔ یعنی سنت کا لفظ واقع ہوتا ہے، یعنی بولا جاتا ہے بھئی، حضور علیہ السلام کے طریقے پر بھی اور صحابہ کے طریقے پر بھی بولا جاتا ہے۔ یعنی الصحابة بتلایا غیر سے کیا مراد ہے؟ صحابہ۔ يقال کہا جاتا ہے: سنة أبي بكر رضي الله تعالى عنه بھئی، حضرت ابو بکر صدیق کا طریقہ، تو کہتے ہیں ان کی سنت ہے بھئی، وعمر یعنی سنة عمر، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی سنت کہتے ہیں، وسنة الخلفاء الراشدين اور خلفائے راشدین کی سنت۔ وقال الشافعي رحمه الله: مطلقها طريقة النبي عليه الصلاة والسلام۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلقِ سنت بولا جائے، ساتھ کوئی قید ذکر نہ ہو، صرف سنت کا لفظ بولا جائے تو اس سے کیا مراد لیتے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مطلقها أي مطلق السنة طريقة النبي کہ مطلقِ سنت وہ حضور علیہ السلام کا طریقہ ہے، یعنی إذا يطلق لفظ السنة بلا قرينة کہ جب اطلاق کیا جائے لفظِ سنت کا بغیر کسی قرینے کے لا يطلق على طريقة الصحابة تو پھر اس کا اطلاق صحابہ کے طریقے پر نہیں ہوتا كما روي جیسے روایت کیا گیا ہے أن سعيد بن المسيب رحمه الله تعالى روایت کیا گیا ہے قال انہوں نے فرمایا، سعید ابن المسیب رحمہ اللہ بڑے جلیل القدر تابعی گزرے ہیں بھئی، وہ فرماتے ہیں: ما دون الثلاث من الدية لا ينصف وهو السنة۔ بھئی یاد رکھیے، کسی نے کسی دوسرے کو غلطی سے قتل کر دیا، تو کتنی دیت دینا پڑے گی؟ 100 اونٹ بھئی، کتنی ہے؟ 100 اونٹ۔ یاد رکھیے عورت کی دیت مرد سے نصف ہے ہر مسئلے کے اندر، ہر دیت میں عورت جو ہے، اس کا نصف واجب ہوگا جتنا مرد میں واجب ہوتا ہے۔ مثلاً ایک موقع پر مرد میں 100 اونٹ واجب ہوتے ہیں، تو عورت کے لیے 50 اونٹ واجب ہوں گے۔ یعنی ایک شخص نے غلطی سے مرد کو قتل کیا، تو 100 اونٹ آئیں گے اس پر، اور اگر غلطی سے عورت کو قتل کیا ہے تو 50 اونٹ آئیں گے۔ اسی طرح ہر چیز میں جتنی جتنی دیت واجب ہوتی ہے، عورت میں اس سے نصف دیت آئے گی۔ مثلاً ایک ہاتھ کے اندر مرد کا ایک ہاتھ غلطی سے کاٹ دیا، تو اس میں 50 اونٹ دیت ہے، عورت کے اندر، اگر عورت کا ہاتھ غلطی سے کاٹا تو اس میں 25 اونٹ۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، جیسے سعید ابن المسیب رحمہ اللہ کا قول ذکر ہو رہا ہے کہ ثلث سے کم ہو دیت تو پھر اس کی تنصیف نہیں ہوگی۔ کل دیت کتنی ہے؟ 100 اونٹ۔ ثلث یعنی ثلث تیسرا حصہ، تیسرے حصے سے کم دیت آ رہی ہوگی کسی جگہ تو اس کی تنصیف نہیں ہوگی، مرد عورت اس میں برابر ہیں۔ مثلاً ایک جگہ پر 25 اونٹ آ رہے ہیں تو یہ ثلث سے کم ہے، تو لہذا عورت کے لیے بھی 25 اونٹ ہوں گے اور مرد کے لیے بھی، ہاں ثلث سے بڑھ جائے جب دیت، تو پھر وہاں پر عورت کے لیے کتنی ہوگی؟ مرد سے نصف ہوگی۔ روایت کیا گیا ہے أن سعيد بن المسيب رحمه الله تعالى قال سعید ابن المسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ما دون الثلث من الدية لا ينصف کہ ثلث سے جو کم دیت ہے لا ينصف اس کی تنصیف نہیں کی جائے گی وهو السنة اور یہ سنت ہے، انہوں نے صرف اتنا فرمایا: وهو السنة یہ سنت ہے۔ فأراد بها سنة النبي عليه الصلاة والسلام ارادہ کیا اس کے ذریعے انہوں نے حضور علیہ الصلاة والسلام کی سنت کا۔ تو دیکھو سنت کا لفظ مطلق ذکر کیا اور کس کا ارادہ کیا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا، تو یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی بات چل رہی ہے بھئی۔ وهي اور وہ یہ ہے سنت کہ أن الدية إذا لم تبلغ الثلث جبکہ دیت ثلث کو نہ پہنچے فالرجل والأنثى فيه سواء تو مرد اور عورت اس میں برابر ہیں وإذا بلغت الثلث فصاعدا اور جب ثلث کو پہنچ جائے یا اس سے زیادہ ہو جائے يؤخذ للمرأة نصف ما يؤخذ للرجل لیا جائے گا عورت کے لیے نصف اس کا جو لیا جاتا ہے مرد کے لیے وإذا أريدت سنة غير النبي عليه الصلاة والسلام يقال: هذه سنة الشيخين أو سنة أبي بكر رضي الله تعالى عنه ونحوه اور جب حضور علیہ الصلاة والسلام کے علاوہ کسی اور کی سنت مراد ہو، اس کا جب ارادہ کیا جائے، تو اس وقت کیا کہتے ہیں؟ مطلق نہیں کہتے بلکہ نسبت کی جاتی ہے کہ مثلاً کہتے ہیں: سنة الشيخين یہ شیخین رضی اللہ تعالی عنہما کی سنت ہے یا حضرت ابو بکر صدیق وغیرہ ان کی سنت ہے بھئی۔ ہم جواب دیتے ہیں کہ نہیں، مطلق کے ذریعے حضور علیہ السلام کی سنت مراد نہیں ہوگی بلکہ جو ہم کہتے ہیں، حضرت سعید ابن المسیب نے یہ جو کہا نا: وهو السنة، اس سے مراد زید ابن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کی سنت ہے بھئی، سنت۔ تو لہذا بلکہ یہ ہماری دلیل بن گئی، پہلے آپ اپنی دلیل بنا رہے تھے کہ مطلق بولا اور کس کی سنت مراد لی؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، ہم کہتے ہیں نہیں، بلکہ اس سے کس کی سنت مراد ہے؟ زید ابن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کی اس مسئلہ کے اندر وہ امام ہیں سعید ابن المسیب کے، یہ تو ہماری دلیل بن گئی کہ مطلق بولا لیکن حضور علیہ السلام کا طریقہ نہیں مراد بلکہ حضرت زید ابن ثابت رضی اللہ عنہ۔ وهي نوعان اور یہ دو قسم پر ہے، سنت یعنی مطلقِ سنت، یعنی مطلقِ سنت دو قسم پر ہے لا التي مضى تعريفها نہ کہ وہ سنت جس کی تعریف گزر گئی۔ وہ کون، تعریف کس کی گزری تھی؟ سنتِ ہدیٰ کی۔ تو وہ نہیں، بلکہ مطلقِ سنت دو قسم پر ہے۔ أي مطلق یہ کس کی، کون دو قسم پر ہے؟ مطلقِ سنت، لا التي مضى تعريفها وحكمها نہ کہ وہ سنت جو گزر گئی جس کی تعریف اور اس کا حکم۔ تو یہ مطلقِ سنت على نوعين دو قسم پر ہے۔ الأول سنة الهدى پہلی قسم سنتِ ہدیٰ ہے۔ بھئی یاد رکھیے، سنتِ ہدیٰ وہ جس کی تعریف پیچھے گزر گئی، وہ دین کا وہ طریقہ جس پر چلا جائے اور آدمی سے کیا کیا جائے؟ اس پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا جائے بغیر فرض اور واجب کے بھئی، یعنی واجب کے طریقے پر یا فرض ہونے کے طریقے پر مطالبہ نہ ہو بلکہ اس کے علاوہ طریقے پر۔ اور ایک سننِ زوائد ہے۔ یاد رکھیے، سننِ زوائد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جو عادات تھیں بھئی، بیٹھنے میں، قیام میں، لباس وغیرہ میں جو عادتیں تھیں، وہ سننِ زوائد۔ تو کہتے ہیں وہ پہلی قسم سنتِ ہدیٰ ہے وتاركها يستوجب إساءة اور اس کا چھوڑنے والا مستحق ہوتا ہے إساءة برائی کا، اس کا چھوڑنے والا برائی إساءة کہتے ہیں برائی کو بھئی، غلط کام کو، اس کا چھوڑنے والا برائی کا مستحق ہوتا ہے۔ اس کا چھوڑنے والا برائی کا مستحق ہوتا ہے۔ اس کا چھوڑنے والا برائی کا مستحق ہوتا ہے۔ کیا معنیٰ بھئی برائی کا مستحق؟ أي جزاء إساءة یعنی برائی کے بدلے کا مستحق ہوتا ہے، برائی کرنے والے کو جو بدلہ دیا جاتا ہے یا غلط کام کرنے والے کو جو بدلہ دیا جاتا ہے، اس کا مستحق ہوتا ہے، یعنی جیسے غلط کام کرنے والے کو ملامت کیا جاتا ہے، اس پر اظہارِ ناراضگی کیا جاتا ہے، اس کا مستحق ہوتا ہے سنت کو چھوڑنے والا، یعنی آخرت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ناراضگی کا اظہار فرمائیں گے اور اسے ملامت کیا جائے گا کہ کیوں اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو، کی سنتوں کو چھوڑا بھئی۔ اور یہ بھی اس وقت ہے اگر وہ اصرار کے ساتھ چھوڑتا ہے بھئی، اگر کبھی کبھار رہ جائے کسی وجہ سے اس پر ملامت نہیں بلکہ اصرار پر بھئی ملامت ہوگی کہ کیوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو چھوڑ دیا۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ وتاركها يستوجب إساءة اور اس کو چھوڑنے والا برائی کا مستحق ہوتا ہے أي جزاء إساءة یعنی برائی کے بدلے کا مستحق ہوتا ہے، برائی کی جزا کا مستحق ہوتا ہے كاللوم جیسے ملامت ہے والعتاب اور ناراضگی ہے۔ أو سمي جزاء الإساءة إساءة بھئی، شارح نے بتلایا، إساءة سے پہلے کیا لفظِ مضاف محذوف ہے؟ جزاء۔ یا کہتے ہیں، جزاء کا لفظ بھی محذوف نہیں ہے، إساءة سے ہی جزائے إساءة مراد ہے۔ إساءة سے ہی جزائے إساءة مراد ہے، جیسے کہتے ہیں اللہ کے اس قول میں ہے: وجزاء سيئة سيئة مثلها برائی کا بدلہ اسی کے مثل برائی ہے۔ برائی کا بدلہ وجزاء سيئة برائی کا بدلہ، سيئة مثلها اسی کے مثل برائی ہے۔ بھئی دیکھیے، برائی کا بدلہ ایک شخص نے غلطی کی، اب اگر اس سے بدلہ لیا جاتا ہے، کیا یہ بدلہ غلطی ہے؟ یہ تو دوسرے کا حق ہے۔ تو یہ جو بدلہ لیا، یہ تو برائی نہیں ہے لیکن قرآن میں اس پر بھی سيئة کے لفظ کا اطلاق کیا گیا۔ اس پر بھی سيئة، تو سيئة بول کر کیا مراد ہے دراصل؟ ہاں وہ تو برائی نہیں ہے لیکن اس پر سیئہ کے لفظ کا اطلاق کیا گیا کیونکہ اس سے سیئہ کے پڑوس میں آ رہا تھا بھئی، تو ایک چیز دوسرے کے جوار میں واقع ہوتی ہے، پڑوس میں، تو اسی لفظ کو اس کے لیے بھی استعمال کر لیا جاتا ہے، حالانکہ جو بدلہ لیا جا رہا ہے، وہ تو سیئہ نہیں ہے بھئی، تو وہاں جیسے سیئہ بول کر جزائے سیئہ مراد ہے، یہاں بھی إساءة بول کر جزائے إساءة مراد ہے۔ أو سمي جزاء الإساءة إساءة یا نام رکھا گیا جزائے اساءت کا اساءت ہی، كما في قوله تعالى جیسے کہ اللہ تعالی کے اس قول کے اندر ہے: وجزاء سيئة سيئة مثلها برائی کا بدلہ برائی ہے اسی کے مثل، كالجماعة والأذان والإقامة جیسے کہ جماعت ہے بھئی، جماعت کے ساتھ نماز بھئی، اسی طرح اذان اور اسی طرح اقامت، یہ سب سنتِ ہدیٰ کی مثالیں ہیں۔ فإن هؤلاء كلها من جملة شعائر الدين وأعلام الإسلام، شعائر اور اعلام کا ایک معنیٰ ہے، علامتیں علامتیں بھئی۔ فإن هؤلاء كلها من جملة شعائر الدين وأعلام الإسلام اس لیے کیونکہ یہ سب جو ہیں دین کے شرائع، دین کے علامتوں میں سے ہیں اور اسلام کے جملہ علامتوں میں سے ہیں۔ دین کی جملہ علامتوں میں سے ہیں یہ اور اسلام کے جملہ علامتوں میں سے ہیں یہ چیزیں بھئی، ولهذا قالوا اور اسی وجہ سے فقہاء نے فرمایا ہے: إذا أصر أهل مصر على تركها کہ جب اصرار کریں أهل مصر کسی شہر والے على تركها اس کے چھوڑنے پر، ان سنتوں کے اور ان شعائر کو چھوڑنے پر، يقاتلوا بالسلاح من جانب الإمام تو ان سے قتال کیا جائے گا، لڑائی کی جائے گی اسلحے کے ساتھ امام یعنی خلیفہ کی جانب سے۔ یہ شعائر ہیں اسلام کی علامتیں ہیں بھئی، یہ اذان، یہ جماعت، یہ اقامت وغیرہ، یہ سب کیا ہیں؟ اسلام کی علامتیں ہیں، تو اگر کسی شہر والے ان کو چھوڑنے پر اصرار کرتے ہیں، یعنی اصرار کا معنیٰ جانتے ہو یا نہیں؟ دوام، استمرار کے ساتھ چھوڑتے ہیں، تو ان کے ساتھ لڑائی کی جائے گی اسلحے کے ساتھ امام کی جانب سے وقد وردت في كل منها آثار لا تحصى اور تحقیق آئے ہیں ان میں سے ہر ایک کے بارے میں آثار بھئی، احادیث لا تحصى جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا، ان میں اتنی احادیث وارد ہوئی ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ والثاني الزوائد اور دوسری قسم سننِ زوائد ہے وتاركها لا يستوجب إساءة اور اس کا چھوڑنے والا وہ برائی کا مستحق نہیں ہوتا كسيَر النبي عليه الصلاة والسلام في لباسه وقعوده وقيامه سير جمع ہے سیرت کی، سیرت طریقے کو کہتے ہیں، كسير النبي عليه السلام جیسے کہ حضور علیہ السلام کے طریقے تھے في لباسه اپنے لباس میں وقعوده اور اپنے بیٹھنے میں وقيامه اور اپنے قیام میں۔ فإن هؤلاء كلها لا تستر منه عليه الصلاة والسلام على وجه العبادة وقصد القربة بل على سبيل العادة کیونکہ یہ سب چیزیں جو ہیں، یہ حضور علیہ السلام کا لباس، بیٹھنا، قیام وغیرہ، یہ حضور علیہ السلام سے ان کا صدور جو ہے عبادت کے طریقے پر نہیں ہوا وقصد القربة اور قربت کے ارادے سے نہیں ہوا، یعنی اللہ کی قربت کے ارادے سے حضور علیہ السلام سے ان کا صدور نہیں ہوا، بل على سبيل العادة بلکہ عادت کے طریقے پر ہوا، یہ حضور علیہ السلام کی عادت تھی، یوں بیٹھتے تھے، یوں کھڑے ہوتے تھے، یوں لباس پہنتے تھے وغیرہ بھئی۔ فَإِنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ كَانَ يَلْبَسُ جُبَّةً حَمْرَاءَ أَوْ خَضْرَاءَ أَوْ بَيْضَاءَ طَوِيلَةَ الْكُمَّيْنِ، اس لیے کہ حضور علیہ السلام جو ہیں وہ پہنتے تھے سرخ جبہ بھئی۔ سرخ جبہ اور اسی طرح سبز جبہ اور سفید بھی، طَوِيلَةَ الْكُمَّيْنِ لمبی آستینوں والا۔ سرخ اور سبز بھئی یہ وہ گہرا سرخ اور گہرا سبز مراد نہیں ہے، ہلکا یا دھاری دار بھئی جو مردانہ قسم کا ہو وہ مراد ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی، وہ پہنتے تھے، وَرُبَّمَا يَلْبَسُ عِمَامَةً سَوْدَاءَ أَوْ حَمْرَاءَ اور بسا اوقات پہنتے تھے عِمَامَةً سَوْدَاءَ سیاہ پگڑی وَحَمْرَاءَ اور سرخ، سرخ پگڑی۔ وَكَانَ مِقْدَارُهَا سَبْعَةُ أَذْرُعٍ اور اس کی مقدار جو ہوتی تھی سات گز ہوتی تھی، سات گز۔ گز شرعی گز مراد ہے بھئی، ڈیڑھ فٹ کا، ڈیڑھ فٹ کا۔ تو سات شرعی گز کتنے ہوئے؟ یہ بھئی یہ شرعی گز ڈیڑھ فٹ کا ہے اور عام گز وہ تین فٹ کا ہوتا ہے بھئی۔ تو یعنی ساڑھے تین گز بھئی، عام رائج گز جو ہیں ساڑھے تین۔ اور میٹر ہوں تو وہ اس سے بھی کم ہو جائیں گے، کیونکہ میٹر جو ہے وہ گز سے تین انچ بڑا ہوتا ہے بھئی۔ وَكَانَ مِقْدَارُهَا سَبْعَةُ أَذْرُعٍ أَوْ اثْنَا عَشَرَ ذِرَاعًا اور اس کی مقدار سات گز ہوتی یا 12 گز ہوتی أَوْ أَقَلَّ أَوْ أَكْثَرَ یا اس سے کم ہوتی یا اس سے زیادہ۔ وَكَانَ يَقْعُدُ مُحْتَبِيًا تَارَةً اور کبھی کبھار آپ بیٹھتے تھے احتباء کرتے ہوئے، احتباء بھئی۔ احتباء اس کو کہتے ہیں بھئی، یوں بیٹھنا کہ یوں بیٹھنا بھئی کہ انسان نیچے بیٹھے اور دونوں پاؤں نیچے زمین پر رکھے ہوں بھئی۔ گھٹنے اپنے سامنے کھڑے ہیں پھر ان کو کبھی یوں ہاتھ سے ہاتھ گھٹنوں کے گرد باندھ بھی لیتا ہے انسان بھئی یا چادر وغیرہ سے بھی باندھ لیتا ہے۔ احتباء میں مختلف صورتیں ہیں۔ تو یہ کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نیچے تشریف فرما ہوتے اور اپنے پاؤں اپنے سامنے کھڑے کیے ہوتے بھئی۔ پھر اس میں بھی دیکھو بھئی، ایک تو یہ ہے کہ بالکل گھٹنوں کو اپنے سینے کے ساتھ ملا کر رکھا ہے اور ایک ذرا پاؤں ذرا الگ کر کے رکھے ہیں بھئی۔ اگر آپ نے دیکھا ہو بھئی دیہات میں بڑے بوڑھوں کو، جب بیٹھتے ہیں سادہ سے انداز میں، ذہن میں اب آ گئی صورت بھئی؟ تو وہ جس طرح وہ بیٹھتے ہیں تو عرب میں بھی اسی طرح سادہ لوگ، سادہ زندگی اور اسی طرح وہ بیٹھتے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس طرح بیٹھتے تھے بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو گھٹنے یعنی اپنے سامنے کھڑے ہوتے اور پاؤں نیچے زمین پر اور پھر جی اس طرح وہ تشریف فرما ہوتے۔ وَكَانَ يَقْعُدُ مُحْتَبِيًا تَارَةً تو یہ احتباء ہے اس طرح بیٹھنا بھئی۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی احتباء کی صورت میں بیٹھتے تھے وَمُرَبِّعًا اور کبھی کبھار مربّع، مربّع یہ چوکڑی مار کر بیٹھنا بھئی، چار زانو بیٹھنا بھئی۔ اس کو مربّعاً اور متربّعاً بھی کہتے ہیں بھئی۔ وَمُرَبِّعًا لِلْعُذْرِ اور کبھی چوکڑی مار کر بیٹھتے لِلْعُذْرِ عذر کی وجہ سے۔ وَعَلَى هَيْئَةِ التَّشَهُّدِ أَكْثَرَ اور اکثر جو ہیں وہ تشہد کی حالت پر بیٹھتے تھے بھئی، جس طرح نماز میں تشہد کے اندر انسان بیٹھتا ہے اکثر اس طرح بیٹھتے۔ فَهَذَا كُلُّهَا مِنْ سُنَنِ الزَّوَائِدِ تو یہ سب کس میں سے ہیں؟ سننِ زوائد میں سے ہیں۔ يُثَابُ الْمَرْءُ عَلَى فِعْلِهَا ثواب ملے گا، ثواب دیا جائے گا آدمی کو ان کے کرنے پر وَلَا يُعَاقَبُ عَلَى تَرْكِهَا اور اس کو سزا نہیں دی جائے گی ان کو چھوڑنے پر۔ بھئی سننِ ہدیٰ کے چھوڑنے پر تو ملامت تھی اور ناراضگی کا اظہار تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ناراضگی کا اظہار فرمائیں گے کہ میرے طریقے پر کیوں عمل نہیں کیا تم نے اور جبکہ سننِ زوائد کے اندر اس کے چھوڑنے پر سزا بھی نہیں اور ملامت بھی نہیں۔ وَهُوَ فِي مَعْنَى الْمُسْتَحَبِّ اور یہ مستحب کے معنیٰ میں ہے إِلَّا أَنَّ الْمُسْتَحَبَّ مَا أَحَبَّهُ الْعُلَمَاءُ وَهَذَا مَا اعْتَادَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مگر مستحب وہ ہے جس کو پسند کیا ہو علماء نے اور یہ وہ ہے جو عادت تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ وَالرَّابِعُ النَّفْلُ اور چوتھی قسم جو ہے وہ نفل ہے عزیمت میں سے وَهُوَ مَا يُثَابُ الْمَرْءُ عَلَى فِعْلِهِ وَلَا يُعَاقَبُ عَلَى تَرْكِهِ اور وہ عزیمت ہے کہ ثواب دیا جائے گا آدمی کو اس کے کرنے پر اور سزا نہیں دی جائے گی اس کے چھوڑنے پر۔ عَرَّفَهُ بِحُكْمِهِ اتِّبَاعًا لِلْسَّلَفِ تعریف کی اس کے حکم کے ساتھ اتباع کرتے ہوئے سلف کی۔ نفل کی تعریف نہیں کی، حکم بیان کر دیا مَا يُثَابُ الْمَرْءُ عَلَى فِعْلِهِ وَلَا يُعَاقَبُ عَلَى تَرْكِهِ سلفِ صالحین بھئی، بزرگوں کا اتباع کرتے ہوئے وہ اسی طرح نفل کی کیا کر دیتے ہیں؟ تعریف کے بجائے اس کا حکم ہی بیان کر دیتے ہیں۔ وَفِي ذِكْرِ نَفْيِ الْعِقَابِ دُونَ الذَّمِّ وَالْعِتَابِ تَنْبِيهٌ بھئی ماتن نے کہا وَلَا يُعَاقَبُ عَلَى تَرْكِهِ نفل کے چھوڑنے پر سزا نہیں دی جائے گی، تو ماتن نے عقاب سزا کی نفی کی مذمت اور عتاب کی نفی نہیں کی، کیوں بھئی؟ کہنا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کے کرنے پر ثواب ملے گا اور اگر چھوڑ دے گا تو اس کے مذمت یا اس پر اظہارِ ناراضگی نہیں ہوگا، کہتے ہیں وجہ اس کی اس بات پر تنبیہ کرنے کے لیے کہ اس کا علم نہیں ہے کہ نفل نہ پڑھنے پر انسان کو ملامت کیا جائے گا یا ملامت نہیں کیا جائے گا۔ یہ تو علم ہے کہ سزا نہیں ملے گی لیکن ملامت ہوگی یا ملامت نہیں ہوگی چونکہ اس کا علم نہیں لہٰذا اس کو ذکر بھی نہیں کیا۔ وَفِي ذِكْرِ نَفْيِ الْعِقَابِ عقاب کی نفی کے ذکر میں دُونَ الذَّمِّ وَالْعِتَابِ نہ کہ عتاب اور ذم کے تَنْبِيهٌ اس میں تنبیہ ہے عَلَى اس بات پر أَنَّهُ لَا يُدْرَى حَالُ الذَّمِّ وَالْعِتَابِ کہ معلوم نہیں ہے مذمت اور عتاب کا حال، مذمت اور عتاب کا حال معلوم نہیں ہے۔ لیکن علماءِ محققین لکھتے ہیں بھئی کہ نفل کے چھوڑنے پر بھی ملامت اور ناراضگی نہیں ہوگی بھئی، نفل انسان کا اپنا حق ہے، اس کی مرضی ہے، شریعت نے اختیار دیا ہے۔ وَالزَّائِدُ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ لِلْمُسَافِرِ نَفْلٌ لِهَذَا الْمَعْنَى اور زائد دو رکعت پر مسافر کے لیے وہ نفل ہیں اس معنیٰ کی وجہ سے۔ بھئی دیکھیے، مسافر مسافر سفر کے اندر قصر کرتا ہے نماز کے اندر یعنی چار رکعت کے بجائے کتنے پڑھتا ہے؟ دو رکعت پڑھتا ہے، دو رکعت بھئی۔ سفر کے احکام معلوم ہیں یا نہیں بھئی؟ مسافر کب بنے گا اور کس طرح بنے گا؟ جی 48 میل کی مسافت کا جو ہے وہ ارادہ کرے تو شہر کے آخری مکانات سے جدا ہوتے ہی وہ کیا بن جائے گا؟ مسافر بن جائے گا، مسافر بھئی۔ اب ایک شخص مسافر تھا، اس پر دو رکعت تھیں ظہر کی، اس نے دو کے بجائے چار پڑھ لیں بھئی، آپ کیا حکم لگائیں گے بھئی؟ یاد رکھیے اگر درمیان میں اس نے قعدہ کیا ہے، تشہد کے لیے بیٹھا تھا تو پہلی دو رکعتیں فرض ہو گئیں، اگلی دو رکعتیں نفل ہو گئیں لیکن اگر وہ درمیان میں بیٹھا ہی نہیں تو پھر اس کی نماز ہی فاسد ہو جائے گی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مسافر کو دو ہی پڑھنا پڑیں گی وہ چار نہیں پڑھ سکتا بھئی۔ وَالزَّائِدُ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ لِلْمُسَافِرِ نَفْلٌ لِهَذَا الْمَعْنَى اور وہ جو زائد ہیں دو رکعتوں پر مسافر کے لیے وہ نفل ہیں لِهَذَا الْمَعْنَى اس معنیٰ کی وجہ سے، بھئی کون سا معنیٰ؟ کہ أَنَّهُ يُثَابُ عَلَى فِعْلِهِ وَلَا يُعَاقَبُ عَلَى تَرْكِهِ کہ اس کو ثواب ملے گا اس کے کرنے پر اور سزا نہیں دی جائے گی اس کو اس کے چھوڑنے پر۔ وَلَا يُقَالُ یہاں سے ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں بھئی، اعتراض یہ ہے کہ بھئی فقہاء تو فرماتے ہیں جس نے چار پڑھ لیں درمیان میں تشہد بھی کیا اور دو کے بجائے چار پڑھ لیں تو دو تو فرض ہوئے اور دو نفل ہوئے، فقہاء تو فرماتے ہیں اس نے برا کیا بھئی، فقہاء کیا فرماتے ہیں؟ اس نے برا کیا۔ اور آپ کیا کہہ رہے ہیں کہ یہ نفل ہیں اس پر اس کو ثواب ملے گا، کہتے ہیں ہاں بھئی یہ نفل ہیں اس پر اس کو ثواب ملے گا لیکن فقہاء جو فرماتے ہیں کہ اس نے برا کیا وہ اس اعتبار سے کہ اس نے سلام میں تاخیر کر دی، چاہیے تو کیا تھا؟ کہ دو کے بعد کیا کرتا؟ سلام پھیرتا پھر نفل دو پڑھتا اس نے سلام کو مؤخر کر دیا اور نیز اس وجہ سے کہ اس نے نفلوں کو فرضوں کے ساتھ ملا دیا بھئی، چاہیے تو کیا تھا؟ نفلوں کے الگ نیت کرتا، الگ تکبیرِ تحریمہ کے ساتھ ان کو ادا کرتا۔ وَلَا يُقَالُ یہ نہ کہا جائے أَنَّهُ يُخَالِفُ مَا ذَكَرَهُ الْفُقَهَاءُ کہ یہ تو مخالف ہے اس کے جو ذکر کیا ہے فقہاء نے أَنَّهُ لَوْ صَلَّى أَرْبَعًا کہ اگر اس مسافر نے چار رکعت پڑھیں وَقَعَدَ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ اور وہ بیٹھا دو رکعت پر یعنی درمیان میں تَمَّ فَرْضُهُ وَأَسَاءَ تو اس کا فرض پورا ہو گیا اور اس نے برا کیا لِأَنَّ هَذِهِ الْإِسَاءَةَ لَيْسَتْ بِاعْتِبَارِ نَفْسِ الرَّكْعَتَيْنِ اس لیے کیونکہ یہ جو برا ہے یہ نفس دو رکعت کی ذات کے اعتبار سے نہیں ہے یہ برا بَلْ لِتَأْخِيرِ السَّلَامِ بلکہ سلام کو مؤخر کرنے کی وجہ سے وَاخْتِلَاطِ النَّفْلِ بِالْفَرْضِ اور نفلوں کے فرضوں کے ساتھ ملنے کی وجہ سے۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں لَمَّا شَرَعَ عَنِ النَّفْلِ عَلَى هَذَا الْوَصْفِ وَجَبَ أَنْ يَبْقَى كَذَلِكَ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب نفل کو شروع کیا ہے اس وصف پر تو واجب ہوا کہ وہ باقی بھی رہیں اسی طرح۔ یاد رکھیے بھئی ہمارے نزدیک ہمارا مذہب یہ ہے کہ نفل جب تک شروع نہیں کیے وہ نفل ہیں، آپ کی مرضی ہے پڑھیں یا نہ پڑھیں لیکن جب ایک دفعہ شروع کر دیے اب واجب ہو گئے آپ پر، اب ان کو پورا کرنا ضروری، اگر آپ کو درمیان میں توڑنا پڑے یہ نماز تو پھر آپ کو کیا کرنا پڑے گی اس کی؟ قضاء۔ کیونکہ یہ پہلے تو نفل تھے مرضی تھی پڑھیں یا نہ پڑھیں، جب ایک دفعہ شروع کر دیے اب واجب بن گئے بھئی۔ اسی طرح روزہ نفلی روزہ آپ پر ضروری نہیں ہے، آپ رکھیں یا نہ رکھیں لیکن اگر ایک دفعہ شروع کر دیا اور پھر کسی وجہ سے توڑنا پڑا تو اب یہ واجب بن چکا ہے، پھر کیا کرنا پڑے گی اس کو آپ؟ آپ کو اس کی قضا کرنا پڑے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، جیسے شروع میں اس کا شروع کرنا ضروری نہیں تھا اس کو پورا کرنا بھی ضروری نہیں، تو لہٰذا اگر درمیان میں توڑ بھی دیتا ہے تو اس کی قضا اس پر واجب نہیں ہوگی بھئی، یہ کس کا مذہب ہے؟ امام شافعی رحمہ اللہ کا۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں لَمَّا شَرَعَ عَنِ النَّفْلِ عَلَى هَذَا الْوَصْفِ جب شروع کیا نفل کو اس وصف پر وَجَبَ أَنْ يَبْقَى كَذَلِكَ تو واجب ہے کہ وہ اسی طرح باقی رہیں یعنی أَنَّهُ لَا يَلْزَمُ فِي حَالِ الْبَقَاءِ كَمَا كَانَ لَمْ يَلْزَمْ قَبْلَ الِابْتِدَاءِ یعنی کہ لازم نہیں ہے بقاء کی حالت میں بھی نفل كَمَا كَانَ لَمْ يَلْزَمْ قَبْلَ الِابْتِدَاءِ جیسے کہ وہ لازم نہیں تھے ابتداء سے پہلے، جیسے پہلے وہ ضروری نہیں تھے بعد میں بھی بقاء کے اعتبار سے بھی ضروری نہیں۔ فَإِنْ شَرَعَ فِي النَّفْلِ اگر شروع ہوا کوئی شخص نفلوں میں لَا يَلْزَمُ إِتْمَامُهُ تو اس پر لازم نہیں ہے اس کو پورا کرنا وَلَوْ أَفْسَدَهُ اور اگر اس نے اس کو فاسد کر دیا، توڑ ڈالا درمیان میں لَا يَلْزَمُ قَضَاؤُهُ تو اس پر اس کی قضا لازم نہیں ہے سَوَاءٌ كَانَ صَوْمًا أَوْ صَلَاةً برابر ہے کہ چاہے وہ روزہ ہو یا نماز ہو۔ قُلْنَا ہم کہتے ہیں إِنَّمَا أَدَّاهُ کہ وہ جو اس نے ادا کر دیا، ہم کہتے ہیں وہ جو اس نے ادا بھئی نفل شروع کیے مثلاً نفل نماز شروع کی بھئی، ایک رکعت کے بعد اس نے نفل توڑ دیے، تو ہم کہتے ہیں وہ جتنی ادا کر چکا ہے اس کی حفاظت واجب ہے، اس کی حفاظت واجب ہے اور اس کی حفاظت نہیں ہو سکتی مگر یہ کہ اس کو پورا کیا جائے بھئی۔ اس کی حفاظت نہیں ہو سکتی جو پڑھ چکا ہے مگر یہ کہ کیا کہا جائے کہ باقی بھی اس پر لازم ہے، تبھی ان کی حفاظت ہو سکتی ہے نا۔ بھئی دیکھیے، نماز اور روزہ، نماز جب تک دو رکعتیں پوری نہیں کریں گے کوئی اس کو نماز نہیں کہتا۔ ایک رکعت پر اگر کوئی ختم کر دیتا ہے توڑ دیتا ہے تو کیا آپ کہیں گے اس نے نماز پڑھی ہے یا نفل پڑھے ہیں؟ نہیں، دو ہوں گے تو پھر کہیں گے اس نے کیا کیا ہے؟ نماز پڑھی ہے، نفل پڑھے ہیں بھئی۔ اور روزہ؟ اسی طرح روزہ جب تک صبح سے لے کر شام تک نہیں ہوتا اس وقت تک کوئی بھی اس کو روزہ نہیں کہتا، کسی کو اگر درمیان میں نفلی روزہ رکھا اور درمیان میں اس کو توڑنا پڑا تو کوئی بھی نہیں کہے گا کہ اس نے روزہ رکھا ہے۔ معلوم ہوا یہ پورا کیا جائے تو پھر اس کو نماز کہتے ہیں، روزے کو پورا کیا جائے تو اس کو روزہ کہتے ہیں، جب تک پورا نہیں نماز نہیں، جب تک پورا نہیں روزہ نہیں بھئی۔ تو قُلْنَا ہم کہتے ہیں إِنَّمَا أَدَّاهُ کہ بے شک وہ جو اس نے ادا کر دیا، کچھ حصہ ادا کر دیا یا نہیں بھئی؟ آگے تو پھر اس نے وہ تو کچھ حصہ جو اس نے ادا کر دیا ہے وَجَبَتْ صِيَانَتُهُ تو اس کی حفاظت واجب ہے وَلَا سَبِيلَ إِلَيْهَا اور کوئی راستہ نہیں ہے اس کی حفاظت کی طرف إِلَّا بِإِلْزَامِ الْبَاقِي مگر یہ کہ باقی کو کیا قرار دیا جائے؟ اس کی حفاظت تبھی ہوگی جبکہ باقی کو کیا قرار دیا جائے؟ لازم۔ اگر باقی کو لازم قرار نہ دیا جائے ابھی یہ نماز توڑ دے تو ماقبل والی نماز ہوئی نہیں، دو رکعتیں تو پوری نہیں ہوئیں تو باقی کی حفاظت نہ رہی، وہ عبادت رہی نہیں، ختم ہو گئی بھئی۔ تو اس کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ باقی کو بھی کیا قرار دیا جائے؟ لازم اس پر قرار دیا جائے۔ لِأَنَّ الصَّلَاةَ وَالصَّوْمَ مِمَّا اس لیے کیونکہ نماز اور روزہ مما ان چیزوں میں سے ہیں لَمْ يُفِدْ حُكْمَهُ جو فائدہ نہیں دیتے اپنے حکم کا، جو اپنے حکم کا فائدہ نہیں دیتے إِلَّا إِذَا كَانَ تَامًّا مگر جس وقت یہ پورے ہوں بِكَوْنِهِ شَفْعًا أَوْ صَوْمَ يَوْمٍ اس صورت کہ وہ جفت ہوں یا ایک دن کا روزہ ہو۔ شَفْعٌ جفت کو کہتے ہیں جوڑا بھئی، یعنی دو رکعتیں جب تک نہ ہوں یا پورے دن کا جب تک روزہ نہ ہو تب تک ان کو نماز یا روزہ نہیں کہتے یعنی ان پر پھر ثواب اس وقت ہی ملے گا جب پورا کرے گا اس سے پہلے نہیں۔ فَإِنْ أَدَّى بَعْضَ الصَّلَاةِ أَوْ الصَّوْمِ یا اگر اس نے ادا کیا بعض صلاۃ، نماز کا کچھ حصہ أَوْ الصَّوْمِ یا روزے کا کچھ حصہ اس نے ادا کر دیا ہے فَعَلَيْهِ أَنْ يُتِمَّهُ تو اس پر واجب ہے کہ وہ اس کو پورا کرے وَإِلَّا يَلْزَمُ إِبْطَالُ عَمَلِهِ ورنہ لازم آئے گا اس کا اپنے عمل کو باطل کرنا، اس نے کیا کیا ہے؟ اپنے عمل کو اگر درمیان میں چھوڑ دے اور پورا نہیں کرتا تو کیا لازم آئے گا؟ اس نے اپنے عمل کو باطل کر دیا وَهُوَ حَرَامٌ اور یہ تو حرام ہے لِقَوْلِهِ تَعَالَى اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: "وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالِكُمْ" اللہ نہی فرما رہے ہیں کہ نہ باطل کرو اپنے عملوں کو، معلوم ہوا باطل کرنا حرام ہے بھئی۔ وَإِنْ أَفْسَدَهُ يَجِبُ أَنْ يَقْضِيَهُ اور اگر یہ اس کو فاسد کر دیتا ہے تو واجب ہے کہ یہ اس کی قضا کرے لِتَكُونَ فِيهِ صِيَانَةٌ تاکہ اس کے اندر اس کی حفاظت ہو جائے بھئی۔ وَلَا يُقَالُ لَيْسَ فِيهِ إِبْطَالُ الْعَمَلِ بَلْ امْتِنَاعٌ عَنْهُ یہ نہ کہا جائے کہ اس کے اندر تو ابطالِ عمل ہے ہی نہیں بلکہ امتناع عن العمل ہے۔ امتناع کا معنیٰ باز رہنا۔ عمل پورا ہی نہیں ہوا بھئی، پورا ہوتا تو پھر آپ کہتے ابطالِ عمل ہے، اب کیا کر رہا ہے اس کو؟ باطل کر رہا، یہ تو ابھی عمل پورا ہی نہیں ہوا تو یہ گویا رک گیا اس سے، کیا ہوا؟ تو یہ اللہ تو فرما رہے ہیں "وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالِكُمْ" اپنے عملوں کو باطل نہ کرو اور یہ تو ابھی عمل بنا ہی نہیں ہے بھئی جب تک پورا نہیں ہوتا، تو یہاں ابطالِ عمل ہے ہی نہیں بلکہ کیا ہے؟ امتناع عن العمل ہے، عمل سے رکنا ہے، باز رہنا ہے، تو یہ تو جواب دے رہے ہیں مصنف کہ یہ نہ کہا جائے کہ یہ ابطالِ عمل اس میں نہیں ہے بلکہ امتناع عن العمل ہے لِأَنَّنَا نَقُولُ کیونکہ ہم کہتے ہیں ان الاجزاء المؤدیۃ کہ وہ اجزاء جو ادا کر دیے گئے لما كان له عرضۃ جب ان کے اندر یہ صلاحیت ہے ان تصیر عبادۃ بعد التمامی کہ وہ عبادت بن جائیں پورا ہونے کے بعد۔ ابھی تو ٹھیک ہے، وہ عبادت نہیں۔ لیکن اگر اگر ان کو پورا کیا جاتا تو کیا بن جاتے یہ؟ پھر یہ عبادت بن جاتے، تو ان میں صلاحیت تھی کہ یہ پورا ہونے کے بعد عبادت بن جائیں ولم یتمہا اور اس نے اس کو پورا نہیں کیا فكانہ ابطلہا گویا کہ اس نے کیا کر دیا اس کو؟ باطل کر دیا۔ وہو كالنظر صارا للہ تعالی تسمیۃ لا فعلا اور یہ جو ہے، یہ منت کی طرح ہے— ہو ضمیر کس کو راجع؟ شرح میں بتلائیں گے دیکھئے آگے، ای الشروع۔ ہو ضمیر کس کو راجع کی؟ شروع کو، یہ جو شروع کیا تھا نماز کو، بھئی نفل کو یا روزے کو۔ لیکن بہتر یہ ہے اس ضمیر کو، ہو ضمیر کو لوٹایا جائے جو پچھلے متن میں آیا، ما اداہ وہ جو اس نے ادا کر دیا، یہ جو اس نے ادا کر دیا كالنظر یہ کس کی طرح ہے؟ منت کی طرح ہے بھئی۔ صار للہ تعالی جو کس کے لئے ہو گئی؟ اللہ کے لئے۔ تسمیۃ ذکر کرنے کے اعتبار سے لا فعلا نہ کہ فعل۔ بھئی ایک آدمی کہتا ہے، للہ علی ان اصلی رکعتین کہ اللہ کے لئے مجھ پر واجب ہے کہ میں کیا کروں گا؟ دو رکعت پڑھوں گا، دو رکعت نفل۔ تو اب یہ دو رکعت پڑھنا اس پر واجب ہو گئے، ضروری ہو گئے۔ واجب ہو گئے۔ اور یہ کس کا حق ہیں؟ اللہ کا حق ہیں، اس نے خود اپنے اوپر واجب کیے ہیں، بھئی اللہ نے تو نہیں واجب کیے تھے، لیکن اس نے خود اپنے اوپر واجب کر لئے۔ تو یہ اب اللہ کا حق ہوئے، اللہ کے لئے ہوئے اور اس نے کوئی فعل کیا ہے یا صرف زبان سے کہا ہے؟ تو دیکھو صرف زبان سے کہنے کی وجہ سے یہ اس پر کیا ہو گئے؟ واجب، اگرچہ اس نے کوئی فعل نہیں کیا بھئی، فعل نہیں کیا۔ اور یہ کہہ رہے ہیں متن میں، وہو كالنظر یہ جو اس نے ادا کر دیا بھئی، کچھ روزہ شروع کر دیا یا نفل شروع کر دیے، تو یہ جو اس نے ادا کر دیا ہے، ماتن فرماتے ہیں یہ کس کی طرح ہے؟ یہ کس کی طرح ہے؟ منت کی طرح ہے، جو اس نے ادا کیا تھا وہ اللہ کے لئے ہو گیا شروع کرنے سے، جب شروع کیا، بھئی جیسے ہی نفل شروع کیے، اگر اختتام تک پہنچا دے گا تو یہ عبادت ہے یا نہیں بھئی؟ جی۔ تو یہ جب اس نے شروع کیا تو یہ اللہ کے لئے ہو گئے شروع کرنے کی وجہ سے، جیسے کہ وہ منت کی وجہ سے جس چیز کی منت مانی گئی ہے وہ بھی کس کے لئے ہو جاتی ہے؟ اللہ کے لئے، لیکن وہ جس کی منت مانی گئی وہ اللہ کے لئے ہوئی صرف ذکر کرنے کے اعتبار سے، اس نے صرف کیا کیا ہے ابھی؟ صرف ذکر، وہ ذکر کرنے کے اعتبار سے اللہ کے لئے ہوئی اور یہ جس کو اس نے ادا کیا ہے، یہ بھی اللہ کے لئے ہے، لیکن یہ ذکر کے اعتبار سے یا فعل کے اعتبار سے ہے؟ یہ فعل کے اعتبار سے ہے۔ وہ منت میں جس چیز کی منت مانی تھی، وہ بھی اللہ کے لئے ہوئی، لیکن وہ صرف ذکر کرنے کے اعتبار سے، ابھی اس نے صرف ذکر کیا ہے اور یہ جو ادا کر چکا ہے یہ بھی اللہ کے لئے ہے کس اعتبار سے؟ فعل کے، اس کا کچھ فعل وہ کر چکا ہے بھئی، تو وہ منت بھی اللہ کے لئے، وہ ذکر کے اعتبار سے، یہ جو شروع ادا کر چکا یہ بھی اللہ کے لئے فعل کے اعتبار سے اور آپ بتائیے ذکر کے اعتبار سے ایک چیز اللہ کے لئے ہو، وہ اعلیٰ ہے یا فعل کے اعتبار سے جو اللہ کے لئے ہو وہ اعلیٰ ہو گی بھئی؟ جو فعل کے اعتبار سے جو ہے، وہ اعلیٰ ہو گی۔ تو جب ادنیٰ میں جب ادنیٰ جو ہے، اس کی حفاظت ضروری ہے، منت میں صرف ذکر کیا تھا اور ذکر کیا ہے؟ صرف ذکر کے اعتبار سے اللہ کے لئے ہونا، یہ ادنیٰ درجہ، اور دوسرا کیا ہے؟ فعل کے اعتبار سے اللہ کے لئے ہونا، وہ ہے اعلیٰ، تو ادنیٰ درجے کی جب حفاظت ضروری ہے، آپ کہتے ہیں اس کو پورا کرنا ضروری ہے، تو جو اعلیٰ حالت ہے اس کو بطریقِ اولیٰ پورا کرنا ضروری ہو گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ وہو كالنظر اور وہ جو ہے یعنی جس کو ادا کر چکا ہے كالنظر وہ منت کی طرح ہے صار للہ وہ منت جو کس کے لئے ہو؟ اللہ کے لئے ہو تسمیۃ باعتبار تسمیہ کے لا فعلا نہ کہ باعتبار فعل کے ای الشروع مقیس علی النظر یعنی یہ شروع کرنا جو ہے اس کو قیاس کیا گیا ہے نظر، منت پر لان النظر صار للہ تعالی من حیث الذكر اس لئے کیونکہ منت وہ اللہ کے لئے ہو گئی ذکر کی حیثیت سے لا من حیث الفعل نہ کہ فعل کی حیثیت سے بان قال بعین طور کہ وہ یوں کہتا ہے للہ علی ان اصلی رکعتین اللہ کے لئے مجھ پر واجب ہے کہ میں دو رکعتیں پڑھوں ثم وجب لصینتہ ابتداء الفعل پھر واجب ہوا لصینتہ ای لصینۃ النظر نظر کی حفاظت کے لئے واجب ہوا، کیا واجب ہوا؟ ابتداء الفعل۔ بھئی منت مانی ہے، بعد میں وہ نفل پڑھنا پڑیں گے یا نہیں اس کو؟ شروع کرنا پڑے گا یا نہیں ان کو؟ تو یہ معنی ہوا کہ ان منت کی حفاظت کے لئے واجب ہوا ابتداء الفعل، اس فعل کی ابتداء۔ ابھی تو اس نے صرف ذکر کیا ہے لیکن پھر اس کی ابتداء بھی اس پر کیا ہو جائے گی؟ اور کیوں واجب ہو گی؟ اس منت کی، اس تسمیہ کی حفاظت کے لئے۔ ای ثم وجب لصینۃ هذا الذكر ابتداء الفعل باجماع بیننا وبينكم پھر واجب ہو جائے گا اس ذکر کی حفاظت کے لئے، یہ جو اس نے زبان سے منت مانی تھی، اس ذکر کی حفاظت کے لئے واجب ہو جائے گا ابتداء الفعل، کیا واجب ہو گا؟ اس فعل کی ابتداء واجب ہو جائے گی باجماع بیننا وبینكم ہمارے اور تمہارے درمیان بالاجماع۔ فاذا وجب لتعظیم ذكر اسم اللہ تعالی ابتداء الفعل فی النظر پس جب واجب ہوئی اللہ کے اللہ تعالی کے نام کے ذکر کی تعظیم کی وجہ سے، اللہ تعالی کے نام کے ذکر کی تعظیم کی وجہ سے جب واجب ہوا جب واجب ہوئی فعل کی ابتداء منت میں بالاتفاق فلان يجب لصینۃ ابتداء الفعل بقاءہ اولى تو یہ کہ واجب ہو، تو واجب ہو، کیا واجب ہو؟ بقاءہ، ہا ضمیر راجع ہے فعل کو، بقائے فعل واجب ہو، کس لئے واجب ہو؟ لصینۃ ابتداء الفعل درمیان میں بتلایا، ابتداءِ فعل کی حفاظت، تو لہذا ابتداءِ فعل کی حفاظت کے لئے بقائے فعل کا واجب ہونا بطریقِ اولیٰ ہو گا بھئی۔ دوبارہ ادھر نظر کریں بھئی، ادھر دیکھیں۔ جب تسمیہ کی حفاظت کے لئے ابتداءِ فعل واجب ہوا تسمیہ کی حفاظت کے لئے ابتداءِ فعل واجب ہوا، تو ابتداءِ فعل کے لئے بقائے فعل بطریقِ اولیٰ واجب ہو گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ تو یہ بطریقِ اولیٰ ہو گا بالاہتمام والدوام۔ بالاہتمام والدوام، اہتمام اور دوام کے اعتبار سے۔ دوام وہی بقا مراد ہے، بقا۔ بھئی دیکھیے! ایک ہے ذکر، ایک ہے فعل۔ کس میں اہتمام زیادہ؟ آپ کا ایک ساتھی آیا اور آپ اسے کہتے ہیں، میں آپ کے لئے چائے لاتا ہوں، زبان سے کہا۔ اور ایک یہ ہے کہ آپ باقاعدہ اٹھ گئے چائے لینے کے لئے، کس میں اہتمام زیادہ ہے بھئی؟ باقاعدہ فعل، جو فعل ہے، تو ایک ہے ذکر، ایک ہے فعل بھئی، اہتمام کس کے اندر زیادہ؟ فعل میں اہتمام زیادہ بھئی، معلوم ہوا ذکر میں اہتمام کم۔ اچھا، اور دوسرا ہے ابتداء اور ابقاء۔ یا یوں کہیں دوام۔ ایک ہے ابتداء، ایک ہے دوام۔ کسی فعل کو شروع کرنا شروع کرنا آسان ہوتا ہے یا اس کو شروع کے بعد پورا کرنا آسان ہوتا ہے؟ یوں کہہ لیں، ایک چیز کو شروع کرنا مشکل ہوتا ہے یا شروع کے بعد اس کو پورا کرنا مشکل ہوتا ہے؟ شروع کرنا مشکل ہے بھئی، جب ایک نیا کام شروع کرنے لگیں تو مشکل دکھائی دیتا ہے اور ایک دفعہ جب شروع کر دیں، پھر تو آسان ہی معلوم ہوتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ تو ایک ہے ابتداءِ فعل، ایک ہے دوامِ فعل، ان دونوں میں سے آسان کون سا ہے؟ دوامِ فعل۔ اور ایک ہے تسمیہ اور ایک ہے فعل، ان دونوں میں سے اہتمام کس میں زیادہ؟ فعل میں اہتمام زیادہ ہے۔ تو دیکھیے اب کہتے ہیں لان الدوام اسہل من الابتداء فی اليسر اس لئے کیونکہ دوام یعنی باقی رکھنا اسہل یہ زیادہ آسان ہے من الابتداء کس سے؟ ابتداء سے، فی اليسر سہولت میں، آسانی میں۔ والفعل والفعل، اسی پر عطف کر دیتے ہیں دوام پر بھئی، والفعل اولى من التسمیۃ فی الاہتمام اور فعل اولیٰ ہے کس سے؟ تسمیہ سے، فی الاہتمام کس چیز میں؟ اہتمام کے اندر بھئی۔ اہتمام کے اندر۔ حاصل یہ کہ دو چیزیں ہیں یہاں پر، ایک ہے تسمیہ، ایک ہے فعل۔ تسمیہ اور فعل میں سے اعلیٰ کون؟ فعل، اور ادنیٰ کون؟ تسمیہ، یہ یاد رکھنا بھئی، فعل اعلیٰ، تسمیہ ادنیٰ۔ اچھا، اس کے بعد دو اور چیزیں ہیں، ایک ہے ابتداءِ فعل، ایک ہے ابقائے فعل، ان دونوں میں سے مشکل کون سا؟ ابتداءِ فعل مشکل اور ابقائے فعل آسان۔ تو منت کے اندر اس نے ذکر کس کو کیا؟ تسمیہ، ذکر کیا صرف۔ اور تسمیہ یہ ادنیٰ ہے یا فعل ادنیٰ تھا؟ تسمیہ، تو ادنیٰ چیز کی حفاظت کے لئے آپ نے مشکل کام کا حکم دیا یعنی ابتداءِ فعل کا۔ ادنیٰ چیز کی حفاظت کے لئے مشکل کام یعنی ابتداءِ فعل کا حکم دیا گیا، تو اعلیٰ چیز کے لئے آسان چیز کا حکم بطریقِ اولیٰ دیا جائے گا۔ اعلیٰ چیز کیا؟ فعل، اس کے لئے آسان چیز کیا؟ بقا، ابقائے فعل یا ابقائے فعل، اس کا بطریقِ اولیٰ وہ اس پر واجب ہو گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ ورخصۃ، عطف علی قولہ عزیمۃ، جی۔ رخصۃ، کہتے ہیں یہ عطف ہے مصنف کے قول عزیمۃ پر بھئی، جہاں سے بحث شروع کی تھی، وہاں پر آیا تھا المشروعات علی نوعین مشروعات دو قسم پر ہیں، عزیمۃ ایک عزیمت ہے ورخصۃ اور دوسری رخصت ہے۔ ولم یعرفہا بھئی آگے متن میں دیکھئے، وہی اربعد انواع چار قسموں پر ہے، فوراً تقسیم شروع کر دی۔ بھئی پہلے چیز کی تعریف کی جاتی ہے پھر تقسیم کی جاتی ہے، جیسے کافیہ والے شروع میں کیا کرتے ہیں؟ الكلمۃ لفظ وضع لمعنى مفرد پہلے تعریف کرتے ہیں، پھر اس کے بعد بتلاتے ہیں، وہی اسم وفعل وحرف بھئی، پھر قسمیں، تو پہلے مصنف کو تعریف کرنی چاہئے تھی رخصت کی، اس کے بعد اس کی قسمیں بتلانی چاہئے تھیں۔ تو جواب دیں گے کہ بھئی رخصت کی چار قسمیں ہیں اور کوئی ایک حقیقتِ متحدہ اس کی ہے ہی نہیں جس کی تعریف کی جائے، ساری الگ الگ چیزیں ہیں۔ تو ایک تعریف اس کی ممکن ہی نہیں ہے، جب ایک ممکن ہی نہیں ہے تو مجبورا تعریف کو چھوڑ کر کیا بیان کرنا شروع کر دیا؟ قسمیں، یہ اسی طرح ہے جیسے صاحبِ کافیہ مستثنیٰ کی بحث میں مستثنیٰ کی تعریف کرنے کے بجائے اولاً کیا کر دیتے ہیں؟ تقسیم، متصل اور منقطع بھئی، اور پھر ہر ایک کی الگ الگ تعریف کرتے ہیں، کیونکہ وہاں ایک تعریف دونوں کی ہے ہی نہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ ولم یعرفہا بھئی، اور اس کی تعریف نہیں کی لانہا ليست بمشترکۃ معنًى اس لئے کیونکہ یہ مشترکِ معنوی نہیں ہے۔ بھئی مشترک، ایک مشترکِ لفظی ہے، ایک مشترکِ معنوی۔ مشترکِ معنوی وہ وہ کلی کو کہتے ہیں، کس کو کہتے ہیں؟ کلی، کلی، جس کے افراد کثیر ہوں، یہ مشترکِ معنوی ہے، جیسے انسان، انسان کے بہت سارے افراد ہیں، تو انسان کیا ہے؟ مشترکِ معنوی، زید پر بھی صادق آ رہا ہے، عمرو پر بھی، بکر پر بھی، خالد پر بھی، سب پر صادق آ رہا ہے، تو اشتراک ہے یا نہیں ان کے اندر انسان ہونے میں؟ تو یہ مشترکِ معنوی ہے اور ایک مشترکِ لفظی، وہ کسے کہتے ہیں؟ کہ ایک لفظ ہے اور اس کو الگ الگ معانی کے لئے الگ الگ وضع کیا گیا بھئی، تو یہ کیا ہے؟ مشترکِ لفظی، تو کہتے ہیں یہ مشترکِ معنوی ہے ہی نہیں یعنی اس کی مشترکِ معنوی کس کو کہتے ہیں؟ حقیقت ایک ہوتی ہے، افراد زیادہ ہوتے ہیں، اس کی کوئی ایک حقیقت ہے ہی نہیں رخصت کی کہ آگے پھر اس کے افراد زیادہ ہوں، بلکہ ہر ایک کی حقیقت ایک دوسرے سے الگ الگ ہے، اس لئے بھئی اس کی تعریف نہیں کی ولم یعرفہا لانہا ليست بمشترکۃ معنًى اس لئے کیونکہ یہ مشترکِ معنوی نہیں ہے وليست لها حقیقت متحدۃ توجد فی جميع انواعہا علی السویۃ اور اس کی کوئی ایسی حقیقتِ متحدہ نہیں ہے جو پائی جائے اس کی تمام انواع کے اندر علی السویۃ برابری کے طریقے پر بل قسمہا اولاً الى الانواع بلکہ تقسیم کیا اس کو پہلے انواع کی طرف ثم عرف كل نوع على حدۃ پھر تعریف کی ہر نوع کی علیحدہ، پھر تعریف کی ہر نوع کی علیحدہ۔ اچھا، وتقسيمہا باعتبار، بھئی سوال پیدا ہوا کہ جب اس کی ایک تعریف نہیں ہو سکتی تو تقسیم کیسے کر رہے ہیں؟ اشکال سمجھ میں آیا؟ جی۔ جب ایک تعریف ہی نہیں ہو سکتی تو تقسیم کیسے ہو سکتی ہے؟ تقسیم تو ایک جیسی چیز ہو پھر اس کی تقسیم کی جاتی ہے، جواب دے رہے ہیں کہ بھئی کہ تقسیم اس اعتبار سے ہے کہ جن جن چیزوں پر رخصت کا لفظ بولا جاتا ہے، ان کے اعتبار سے ہے، جن جن چیزوں پر رخصت کا لفظ بولا جاتا ہے وہ چار قسم پر ہیں، تو اس اعتبار سے تقسیم کر رہے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں وتقسيمہا باعتبار ما يطلق عليه اسم الرخصۃ اور اس کی تقسیم جو ہے ان چیزوں کے اس کے چیزوں کے اعتبار سے ہے جن پر رخصت کے نام لفظ کا رخصت کے اسم کا اطلاق کیا جاتا ہے، رخصت کا لفظ ان پر بولا جاتا ہے۔ فقال پس فرمایا، وہی اربعۃ انواع اور یہ چار قسم پر ہیں نوعان من الحقیقۃ دو قسمیں کس میں سے ہیں؟ حقیقت میں سے ہیں، احدہما احق من الآخر وہ جو حقیقت میں دو قسمیں ہیں، ان میں سے ایک زیادہ زیادہ زیادہ حقدار ہے دوسری سے، یعنی ایک دوسری سے زیادہ مناسب ہے۔ یعنی ان میں سے ایک دوسری کے مقابلے میں زیادہ لائق ہے کہ اس کو کیا کہا جائے؟ حقیقت کہا جائے، دونوں برابر درجے کی نہیں ہیں، دو قسمیں حقیقت میں سے ہیں لیکن دو دو بھی برابر نہیں، ایک زیادہ لائق ہے کہ اس کو کیا کہا جائے دوسری کے مقابلے میں؟ جی، حقیقت کہا جائے، یعنی ان میں سے ایک زیادہ مناسب ہے کہ اس پر حقیقت کا اطلاق کیا جائے دوسری کے مقابلے میں۔ ونوعان من المجاز اور دو قسمیں مجاز میں سے ہیں، احدہما اتم من الآخر مجاز کے اندر بھی جو دو قسمیں ہیں ان میں سے ایک دوسری سے زیادہ تام ہے۔ یعنی ایک معلوم ہوا مجاز کے اندر جو دو قسمیں ہیں، ایک ان میں سے مجاز ہونے میں دوسری کے مقابلے میں تام ہے یعنی ایک ان میں سے پورے طور پر مجاز ہے، ایک پورے طور پر مجاز نہیں ہے۔ وتفصيلہ تفصیل اس کی یہ ہے، ان الرخصۃ الحقيقية هي التي تبقى عزيمتہا معمولۃ بھئی دیکھیے! انہوں نے کہا رخصت چار قسم پر ہے، دو قسمیں کس میں سے ہیں؟ حقیقت میں سے، اور دو قسمیں کس میں سے؟ مجاز میں سے۔ بھئی مجاز کسے کہتے ہیں؟ جس کے مقابلے میں کوئی حقیقت ہو۔ بھئی دیکھیے! یہاں ایک ہے رخصت اور ایک عزیمت۔ اگر عزیمت بھی موجود ہے اور اس کے ساتھ ساتھ رخصت بھی، اگر عزیمت بھی موجود ہے اور اس کے ساتھ ساتھ رخصت بھی ہے، تو یہ ہے حقیقتاً رخصت۔ یہ کیا ہے؟ حقیقت کیونکہ اس کا مقابل عزیمت پورے طور پر موجود ہے، تو اور تو رخصت بھی اس کے مقابلے میں پورے طور پر موجود آ گئی بھئی، تو یہ ہے حقیقتاً رخصت۔ اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے بھئی، کہ عزیمت کا وجود رہتا ہی نہیں۔ یہ رخصت ہی اس کے قائم مقام ہو جاتی ہے۔ عزیمت کا وجود رہتا ہی نہیں، یہ رخصت ہی کیا ہو جاتی ہے؟ جیسے بھئی سفر میں چار کے بجائے دو پڑھنا۔ اب یہاں رخصت ہی رخصت ہے۔ اب اگر آپ چار پڑھیں گے تو چار نہیں ہوں گے، کیونکہ رخصت ہی کس کے قائم مقام ہو گئی؟ عزیمت کے۔ تو کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے دو حکم برابر ہوتے ہیں۔ ایک کو کہتے ہیں عزیمت، دوسرا اس کے مقابلے میں ہے رخصت۔ جیسے بھئی کسی نے دوسرے نے تلوار نکالی مشرک نے مسلمان پر کہ بھئی کلمہ کفر زبان سے کہو۔ کلمہ کفر کہو۔ تو اب کلمہ کفر بھئی، اس کی تو کسی حال میں اجازت نہیں بھئی۔ لیکن اس وقت شریعت نے رخصت دے دی بھئی، کہ اگر یہ کہنا چاہتا ہے تو زبان سے کلمہ کفر کہہ دے، لیکن دل میں کیا ہونا چاہیے؟ تصدیق ہونی چاہیے بھئی، دل میں ایمان ہونا چاہیے۔ تو یہاں پر رخصت آ گئی۔ لہٰذا وہ کلمہ کفر زبان سے کہہ سکتا ہے، گنجائش آ گئی اس کے لیے۔ لیکن دوسری طرف عزیمت بھی اپنی جگہ پر اسی طرح ہے۔ چنانچہ اگر اس نے نہ کہا اور اس نے اس کو قتل کر دیا تو عظیم اجر ملے گا اس کو بھئی۔ دیکھو عزیمت اپنی جگہ پر ابھی بھی موجود۔ عزیمت کیا تھی؟ کہ کبھی بھی کسی حال میں کلمہ کفر زبان پر نہ آئے۔ تو عزیمت موجود، اس کے ساتھ ساتھ رخصت بھی موجود ہے بھئی۔ تو صورت سمجھ میں آ گئی؟ بعض احوال میں رخصت کے ساتھ عزیمت اسی طرح موجود ہوتی ہے۔ بعض احوال میں رخصت کیا ہو جاتی ہے؟ عزیمت کے قائم مقام ہو جاتی ہے۔ تو لہٰذا اب وہ صورتیں بنیں گی۔ بعض صورتوں میں حقیقت یعنی عزیمت پورے طور پر باقی ہوتی ہے، بعض صورتوں میں من وجہ باقی ہوتی ہے اور من وجہ ختم ہو جاتی ہے۔ اور بعض صورتوں کے اندر بھئی، رخصت جب عزیمت کے قائم مقام ہو جاتی ہے تو پھر عزیمت بالکل ختم ہو جاتی ہے اور بعض صورتوں میں پھر بھی کچھ نہ کچھ باقی رہتی ہے۔ اس اعتبار سے چار قسمیں بنیں گی بھئی دیکھیے بھئی۔ وَتَفْصِيلُهُ تفصيل اس کی یہ ہے کہ أَنَّ الرُّخْصَةَ الْحَقِيقِيَّةَ کہ رخصت حقیقی جو ہے هِيَ الَّتِي تَبْقَى عَزِيمَتُهَا مَعْمُولَةً وہ ہے، رخصت حقیقی وہ ہے کہ باقی ہو اس کی عزیمت بھی معمول ہو کر، یعنی اس پر بھی کیا ہو سکتا ہو؟ عمل ہو سکتا ہو۔ فَكُلَّمَا كَانَتِ الْعَزِيمَةُ ثَابِتَةً كَانَتِ الرُّخْصَةُ أَيْضًا فِي مُقَابَلَتِهَا حَقِيقَةً تو جب تک جو ہے عزیمت ثابت رہے گی اس وقت تک رخصت بھی اس کے مقابلے میں حقیقت ہو گی۔ فَفِي الْقِسْمَيْنِ الْأَوَّلَيْنِ پس پہلی دو قسموں کے اندر لَمَّا كَانَتِ الْعَزِيمَةُ مَوْجُودَةً مَعْمُولَةً فِي الشَّرِيعَةِ جب عزیمت بھی موجود ہے اور معمول ہے شریعت میں، یعنی اس پر عمل کیا جاتا ہے كَانَتِ الرُّخْصَةُ فِي مُقَابَلَتِهَا أَيْضًا حَقِيقَةً ثَابِتَةً تو رخصت بھی اس کے مقابلے میں حقیقتِ ثابتہ ہو گی۔ پہلی دو قسموں میں کیا ہے؟ عزیمت بھی اپنی جگہ ہو گی اور رخصت بھی اپنی جگہ پر۔ تو رخصت عزیمت کے مقابلے میں آ گئی، اس لیے یہ حقیقتً رخصت ہے۔ اور بعض جگہ تو رخصت نے باقاعدہ عزیمت کی جگہ پکڑ لی تھی، گویا خود ہی عزیمت جیسی بن گئی تھی بھئی۔ تو وہاں وہ رخصت حقیقتً نہ رہی بلکہ مجازاً ہوئی بھئی۔ تو کہتے ہیں لَمَّا كَانَتِ الْعَزِيمَةُ مَوْجُودَةً مَعْمُولَةً فِي الشَّرِيعَةِ كَانَتِ الرُّخْصَةُ فِي مُقَابَلَتِهَا أَيْضًا حَقِيقَةً ثَابِتَةً جب عزیمت موجود ہو، معمول ہو شریعت کے اندر تو رخصت بھی اس کے مقابلے میں حقیقت ہو گی۔ ثُمَّ فِي الْقِسْمِ الْأَوَّلِ مِنْهُمَا پھر ان دو قسموں میں سے پہلی قسم کے اندر لَمَّا كَانَتِ الْعَزِيمَةُ مَوْجُودَةً مِنْ جَمِيعِ الْوُجُوهِ جب عزیمت موجود ہو تمام اعتبارات سے كَانَتِ الرُّخْصَةُ أَيْضًا حَقِيقَةً مِنْ جَمِيعِ الْوُجُوهِ تو رخصت بھی حقیقت ہو گی تمام وجوہ کے اعتبار سے۔ پہلی قسم میں عزیمت تمام، ہر اعتبار سے موجود ہے تو رخصت بھی ہر اعتبار سے حقیقت ہے۔ بِخِلَافِ الْقِسْمِ الثَّانِي برخلاف دوسری قسم کے فَإِنَّ الْعَزِيمَةَ فِيهِ مَوْجُودَةٌ مِنْ وَجْهٍ دُونَ وَجْهٍ اس کے اندر عزیمت جو ہے وہ من وجہ موجود ہے نہ کہ من وجہٍ، فَلَا تَكُونُ الرُّخْصَةُ أَحَقَّ أَيْضًا تو اس صورت میں رخصت بھی زیادہ حقدار نہیں کہ اس کو حقیقت کہا جائے بھئی۔ ایک میں زیادہ حقدار ہے اور ایک میں زیادہ حقدار نہیں بھئی۔ وَفِي الْقِسْمَيْنِ الْآخَرَيْنِ اور دوسری دو قسموں کے اندر لَمَّا فَاتَتِ الْعَزِيمَةُ مِنَ الْبَيْنِ جب عزیمت فوت ہو گئی بیچ میں سے، عزیمت بالکل ختم ہو گئی۔ مسافر اب چار پڑھ ہی نہیں سکتا، پڑھنی ہی کتنی پڑھیں گی؟ دو۔ تو عزیمت بیچ میں سے فوت ہو گئی وَلَمْ تَكُنْ مَوْجُودَةً اور وہ موجود ہی اب نہیں ہے كَانَتِ الرُّخْصَةُ فِي مُقَابَلَتِهَا مَجَازًا تو رخصت اس کے مقابلے میں مجازاً ہے۔ حقیقتً تو اس کے مقابلے میں ہی نہیں ہے، حقیقتً تو یہ خود ہی کیا بن چکی ہے؟ عزیمت بن چکی ہے۔ لیکن ہم اس کو کیا کہہ رہے ہیں؟ رخصت۔ تو یہ رخصت کس طریقے پر کہہ رہے ہیں؟ مجازاً کہہ رہے ہیں۔ بِمَعْنَى أَنَّ إِطْلَاقَ الرُّخْصَةِ عَلَيْهَا مَجَازٌ بمعنیٰ کہ اس پر رخصت کا اطلاق جو ہے مجازاً ہے، ان دونوں پر مجازاً ہے۔ إِذْ هِيَ صَارَتْ بِمَنْزِلَةِ الْعَزِيمَةِ اسی، کیونکہ یہ کس کے درجے میں ہو گئی؟ یہ اس عزیمت کے درجے میں ہو گئی هِيَ صَارَتْ بِمَنْزِلَةِ الْعَزِيمَةِ یہ عزیمت کے درجے میں ہو گئی قَائِمَةً مَقَامَهَا اس حال میں کہ یہ اس کے قائم مقام ہے۔ ثُمَّ فِي الْقِسْمِ الْأَوَّلِ مِنْهُمَا پھر ان میں سے دو میں سے جو پہلی قسم ہے لَمَّا فَاتَتِ الْعَزِيمَةُ مِنْ تَمَامِ الْعَالَمِ یہ جو مجاز کی دو قسمیں ہیں، ان میں عزیمت کیا ہوئی تھی؟ ختم ہو گئی تھی۔ پھر ان میں تفصیل ہے کہ ان میں سے جو پہلی قسم ہے لَمَّا فَاتَتِ الْعَزِيمَةُ مِنْ تَمَامِ الْعَالَمِ جب عزیمت پورے عالم سے ہی ختم ہو گئی وَلَمْ تَكُنْ مَوْجُودَةً فِي شَيْءٍ مِنَ الْمَوَادِّ اور وہ پائی نہیں جا رہی کسی چیز کے اندر بھی من المواد، مادوں میں سے، یعنی کسی بھی صورت میں وہ کسی بھی اعتبار سے وہ نہیں پائی جا رہی كَانَتِ الرُّخْصَةُ أَتَمَّ الْمَجَازِ تو رخصت پورے طور پر، پورے طور پر مجاز ہے بھئی۔ لَا شَبَهَ لَهُ مِنَ الْحَقِيقَةِ أَصْلًا اس کی کوئی مشابہت نہیں ہے حقیقت کے ساتھ سرے سے ہی۔ عزیمت کیا ہوئی؟ بالکل ختم ہو گئی، اس کا وجود ہی نہ رہا۔ اس کی جگہ جو حکم آ گیا شریعت کا، اب اس کو ہم رخصت کہہ رہے ہیں، جیسے دو رکعت پڑھنی ہے سفر میں، لیکن دراصل یہ کیا ہے؟ یہ عزیمت ہے، حکم ہی یہ ہے شریعت کا اس حالت میں۔ چار پڑھو گے وہ تو ہوں گے ہی نہیں، تو اس کو ہم کیا کہہ رہے ہیں؟ رخصت کہہ رہے ہیں۔ اور حالانکہ یہ تو رخصت نہیں، یہ تو کیا ہے؟ عزیمت ہی ہے بھئی۔ تو اس کو جو ہم رخصت کہہ رہے ہیں، وہ کس طریقے پر کہہ رہے ہیں؟ مجاز کے طریقے پر۔ اور اس نے چونکہ پورے طور پر عزیمت کی جگہ لے لی ہے، لہٰذا یہ بھی پورے طور پر مجاز ہے۔ یہ بھی کیا ہے؟ پورے طور پر۔ اگر حقیقت بعض اعتبارات سے پائی جائے، پھر تو اس نے اس کی جگہ پورے طور پر نہیں لی۔ تو یہ بعض اعتبارات سے جب وہ پائی جا رہی ہے تو پھر بھی اس کو تو مجاز تو کہیں گے، اس نے اس کی جگہ تو لی ہے، لیکن بعض اعتبارات سے عزیمت ابھی بھی پائی جا رہی ہے تو اس کے مجاز ہونے میں کمی آ جائے گی۔ کیا آ جائے گی؟ تو جب پوری جگہ لے لے، عزیمت بالکل ختم ہو جائے تو یہ پورے طور پر مجاز ہے۔ اور اگر عزیمت من وجہ ابھی بھی موجود ہو تو پھر یہ پورے طور پر مجاز نہیں ہے۔ تو یہ معنیٰ ہے کہ جب عزیمت پورے عالم سے ختم ہو جائے اور نہ پائی جائے کسی بھی چیز کے اندر مادوں میں سے كَانَتِ الرُّخْصَةُ أَتَمَّ الْمَجَازِ تو رخصت جو ہے زیادہ تام مجاز ہے۔ لَا شَبَهَ لَهُ، بھئی میں نے بتلایا تھا ایک شَبَهٌ ہے اور ایک شِبْهٌ۔ شِبْهٌ کا کیا معنیٰ؟ مِثْلٌ۔ اور شَبَهٌ کا معنیٰ؟ مشابہت بھئی، یہ مصدر ہے۔ تو دیکھ لیجیے آپ لَا شِبْهَ لَهُ أي لا مثل له، یہ بات یہاں بنتی نہیں۔ اور لَا شَبَهَ لَهُ أي لا مشابهة له تو اس کی کوئی مشابہت نہیں ہے مِنَ الْحَقِيقَةِ أَصْلًا حقیقت کے ساتھ سرے سے ہی۔ بِخِلَافِ الْقِسْمِ الثَّانِي بخلاف قسمِ ثانی کے فَإِنَّهُ لَمَّا وُجِدَتِ الْعَزِيمَةُ فِي بَعْضِ الْمَوَادِّ كَانَتِ الرُّخْصَةُ أَنْقَصَ فِي مَجَازِيَّتِهَا دوسری قسم کے اندر جب عزیمت پائی گئی بعض مادوں کے اندر تو رخصت جو ہے وہ کم ہوئی مجاز ہونے میں، اپنے مجاز ہونے میں وہ کم ہو گئی کہ حقیقت بھی کچھ نہ، عزیمت بھی کچھ نہ کچھ پائی جا رہی ہے۔ أَمَّا أَحَقُّ نَوْعَيِ الْحَقِيقَةِ فَمَا اسْتُبِيحَ باقی وہ جو زیادہ لائق ہے حقیقت کی دو انواع میں سے فَمَا پس وہ ہے اسْتُبِيحَ جس کو مباح سمجھا جائے۔ جس کو کیا سمجھا جائے؟ مباح سمجھا جائے۔ آگے متن میں آ رہا ہے مَعَ قِيَامِ الْمُحَرِّمِ وَقِيَامِ حُكْمِهِ جَمِيعًا ساتھ محرم کے قیام کے، یعنی محرم بھی ہو۔ وَقِيَامِ حُكْمِهِ جَمِيعًا اور ساتھ اس کا حکم بھی ہو۔ محرم اور اس کا حکم دونوں قائم ہوں۔ بھئی یاد رکھیے۔ محرم سے مراد ہے دلیلِ محرم۔ محرم سے کیا مراد؟ بھئی وہ دلیل جس سے حرمت ثابت ہو، وہ کیا ہے؟ محرم، حرام کرنے والی ہے۔ اور حکم کیا ہو گا پھر؟ جب دلیل حرمت کی قائم ہے تو حکم کیا ہو گا؟ وہ چیز حرام ہو گی۔ تو حرمت ہے حکم، محرم ہے وہ دلیل، اور حرمت ہے اس کا حکم۔ اب دیکھیے۔ کلمہ کفر پر کسی شخص کو مجبور کیا گیا۔ ایک شخص نے تلوار نکالی، اچھا اکراہ بھی یہی سمجھ لیں۔ یاد رکھیے اکراہ کسی پر زبردستی کرنا، کسی کو مجبور کرنا کسی فعل پر، یہ دو قسم پر ہے۔ ایک کو اکراہِ ملجی کہتے ہیں، ملجی۔ اور دوسرے کو اکراہِ غیر ملجی۔ اکراہِ ملجی وہ ہے جس میں قتل یا عضو تلف کر دینے کی دھمکی ہو کہ میں تمہیں قتل کر دوں گا یا میں تمہارے ہاتھ پاؤں توڑ ڈالوں گا۔ یہ ہے اکراہِ ملجی۔ اور جس کو دھمکی دی گئی ہے اس کو یقین ہے کہ اگر میں نے ایسا نہ کیا تو یہ مجھے قتل کر دے گا یا میرے ہاتھ پاؤں توڑ دے گا۔ اگر اسے یقین ہے کہ نہیں یہ تو ویسے ہی کہہ رہا ہے پھر بھی اکراہِ ملجی نہیں ہے بھئی۔ لفظوں پہ پھر نہیں دیکھنا آپ نے بھئی، صرف لفظ اس نے کہے ہیں تو لفظوں سے کچھ نہیں، اس کو بھی یقین ہو کہ اگر میں نے ایسا نہ کیا تو یہ ایسا کر گزرے گا۔ یہ ہے اکراہِ ملجی۔ اور ایک ہے اکراہِ غیر ملجی جس میں قتل یا عضو کو کاٹنے یا توڑنے کی دھمکی نہ ہو۔ وہ ہے اکراہِ غیر ملجی۔ مثلاً ایک آدمی نے دوسرے سے کہا بھئی کہ میں تمہاری زبردست پٹائی کرواؤں گا، تم زبان سے کلمہ کفر کہو۔ تو یاد رکھیے اب اجازت نہیں ہے کلمہ کفر کہنے کی کیونکہ یہ اکراہِ غیر ملجی ہے۔ ہاں اکراہِ ملجی کے اندر شریعت نے گنجائش دی ہے، اکراہِ غیر ملجی میں گنجائش نہیں ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے ایک شخص نے تلوار نکالی اور دوسرے سے کہا اس مومن سے کہ زبان سے کلمہ کفر کہو ورنہ یا تو میں تمہیں، دھمکی دی کہ میں تمہیں قتل کر دوں گا یا دھمکی دی کہ میں تمہارے ہاتھ یا پاؤں کاٹ ڈالوں گا، جو بھی دھمکی اس نے دی۔ تو یہ اکراہِ ملجی ہے یا غیر ملجی؟ یہ اکراہِ ملجی ہے۔ اور اکراہِ ملجی کے اندر شریعت نے گنجائش دے دی، رخصت آ گئی کہ وہ زبان سے کلمہ کفر کہہ سکتا ہے بشرطیکہ دل میں ایمان ہو بھئی، تصدیق ہو بھئی۔ اب دیکھیے دلیل بھی موجود ہے، کلمہ کفر نہیں کہنا چاہیے زبان سے بھئی اس بات پر، نقلی دلائل بھی موجود، عقلی دلائل بھی موجود ہیں، کفر و شرک سے منع کیا گیا ہے بھئی، نیز یہ عالم بتلاتا ہے کہ اس کا بنانے والا ایک ہی ہے بھئی۔ تو یہ عقلی اور نقلی دلائل بھی موجود ہیں، دلیل بھی موجود اور اس کا حکم بھی موجود ہے۔ کیا حکم؟ کہ یہ چیزیں کہنا زبان سے حرام ہے، کفر و شرک حرام ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے پھر شریعت کی طرف سے گنجائش آ گئی۔ تو محرم اور اس کا حکم یعنی حرمت بھی موجود ہیں، اس کے باوجود شریعت کی طرف سے کیا آ گئی؟ رخصت، کہ وہ کیا کہہ سکتا ہے؟ زبان سے کلمہ کفر کہہ سکتا ہے بشرطیکہ دل کے اندر ایمان ہو۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے متن پر۔ کہتے ہیں أَمَّا أَحَقُّ نَوْعَيِ الْحَقِيقَةِ فَمَا اسْتُبِيحَ باقی حقیقت کی دو انواع میں سے جو زیادہ حقدار ہے، جو زیادہ مناسب ہے فَمَا پس وہ ہے اسْتُبِيحَ جو کیا ہو؟ جو مباح ہو جائے، مباح کر دی جائے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی مباح کیسے ہو جائے گی؟ مباح تو ابھی بھی نہیں ہو سکتی، محرم بھی موجود، دلیل بھی موجود اور اس کا حکم یعنی حرمت بھی موجود، تو یہ مباح تو نہیں ہو سکتی۔ تو جواب دیں گے بھئی، شارح بتلائیں گے أَيْ عُومِلَ مُعَامَلَةَ الْمُبَاحِ یعنی اس کے ساتھ مباح والا معاملہ کیا جائے گا، مباح نہیں ہو جائے گی وہ بلکہ کلمہ کفر مباح نہیں ہو جائے گا، ہاں اس کے ساتھ مباح والا معاملہ کیا جائے گا فِي سُقُوطِ الْمُؤَاخَذَةِ، بھئی کیا معنیٰ مباح والا معاملہ کیا جائے گا؟ کہتے ہیں فِي سُقُوطِ الْمُؤَاخَذَةِ یعنی اس سے مؤاخذہ ساقط ہو جائے گا، یعنی اب جیسے مباح پر مؤاخذہ نہیں آخرت میں، یہ کلمہ کفر بھی کس کی طرح ہو گیا؟ مباح جیسا ہو گیا تو اس پر بھی آخرت میں مؤاخذہ نہیں ہو گا بھئی، آخرت میں اس پر گرفت نہیں ہو گی بھئی۔ أَيْ عُومِلَ مُعَامَلَةَ الْمُبَاحِ فِي سُقُوطِ الْمُؤَاخَذَةِ یعنی اس کے ساتھ مباح والا معاملہ کیا جائے گا مؤاخذے کے ساقط ہونے کے اندر لَا أَنَّهُ يَصِيرُ مُبَاحًا فِي نَفْسِهِ نہ یہ کہ خود یہ اپنی ذات کے اعتبار سے کیا بن گیا؟ مباح بن گیا۔ کیوں؟ وجہ آگے جو آ رہی ہے مَعَ قِيَامِ الْمُحَرِّمِ وَقِيَامِ حُكْمِهِ جَمِيعًا ساتھ پائے، ساتھ پائے جانے محرم اور اس کے حکم دونوں کے، یعنی جب یہ دونوں پائے جا رہے ہوں۔ بھئی حکم کیا ہے؟ کہتے ہیں وَهُوَ الْحُرْمَةُ وہ حرمت ہے۔ فَلَمَّا كَانَ الْمُحَرِّمُ وَالْحُرْمَةُ كِلَاهُمَا مَوْجُودَيْنِ پس جب محرم اور حرمت جو ہیں دونوں موجود ہیں فَالِاحْتِيَاطُ وَالْعَزِيمَةُ فِي الْكَفِّ عَنْهُ تو احتیاط اور عزیمت کس کے اندر ہے؟ فِي الْكَفِّ عَنْهُ اس سے رک جانے میں ہے۔ کلمہ کفر سے رک جانے میں احتیاط اور عزیمت ہے، کیونکہ محرم بھی موجود اور اس کا حکم بھی موجود، تو احتیاط اسی میں ہے، عزیمت اسی میں ہے کہ یہ کلمہ زبان سے نہ کہے۔ وَمَعَ ذَلِكَ يُرَخَّصُ فِي مُبَاشَرَةِ الطَّرَفِ الْمُقَابِلِ اور اس کے باوجود اس کو رخصت دے دی گئی فِي مُبَاشَرَةِ الطَّرَفِ الْمُقَابِلِ، مباشرۃ کا معنیٰ سرانجام دینا، طرفِ مقابل بھئی کیا ہے یہاں پر؟ ایک طرف ہے کلمہ کفر سے رکنا، دوسرا مقابل کیا ہو گا؟ کلمہ کفر کہنا۔ تو کلمہ کفر نہ کہنا احتیاط اور عزیمت تو اسی میں ہے، لیکن اس کو رخصت دے دی گئی طرفِ مقابل یعنی کلمہ کفر کے کہنے کی، یہ معنیٰ ہے وَمَعَ ذَلِكَ يُرَخَّصُ فِي مُبَاشَرَةِ الطَّرَفِ الْمُقَابِلِ اور اس کے باوجود اس کو رخصت دی گئی طرفِ مقابل کے سرانجام دینے میں، یعنی اس کے کرنے کی اس کو اجازت دے دی گئی۔ فَكَانَ هُوَ أَحَقَّ بِإِطْلَاقِ اسْمِ الرُّخْصَةِ عَلَيْهِ مِنَ الْوُجُوهِ الْبَاقِيَةِ تو یہ قسم جو ہے یہ زیادہ حقدار ہے کہ اطلاق کیا جائے اس پر رخصت کے نام کا باقی کے وجوہ کے مقابلے میں، باقیوں کے مقابلے میں اس پر رخصت کے نام کا اطلاق کیا جائے یہ زیادہ اس کے لائق ہے۔ كَالْمُكْرَهِ عَلَى إِجْرَاءِ كَلِمَةِ الْكُفْرِ، ایک ہے مُكْرِهٌ اکراہ کرنے والا اور ایک مُكْرَهٌ جس پر اکراہ کیا جائے۔ كَالْمُكْرَهِ عَلَى إِجْرَاءِ كَلِمَةِ الْكُفْرِ جیسے کہ جس کو مجبور کیا گیا ہے کلمہ کفر کے کہنے پر، أَيْ كَتَرَخُّصِ مَنْ أُكْرِهَ عَلَى إِجْرَاءِ كَلِمَةِ الْكُفْرِ جیسے کہ رخصت اس شخص کو جس کو مجبور کیا گیا ہے کلمہ کفر کے کہنے پر بِمَا ایسی چیز کے ساتھ يَخَافُ عَلَى نَفْسِهِ أَوْ عَلَى عُضْوٍ مِنْ أَعْضَائِهِ جس سے اس کو خوف ہے اپنی جان کا یا اپنے اعضا میں سے کسی عضو کا، یعنی کون سا اکراہ ہونا چاہیے؟ اکراہِ ملجی، لَا بِمَا دُونَهُ نہ کہ اس سے کم درجے کا، یعنی اکراہِ غیر ملجی میں نہیں۔ فَإِنَّهُ رُخِّصَ لَهُ إِجْرَاؤُهَا عَلَى اللِّسَانِ بِشَرْطِ أَنْ يَكُونَ قَلْبُهُ مُطْمَئِنًّا بِالْإِيمَانِ پس اس کو رخصت دے دی گئی اس کلمہ کفر کو جاری کرنے کی زبان پر بشرطیکہ اس کا دل مطمئن ہو ایمان کے ساتھ، مَعَ أَنَّ الْمُحَرِّمَ لِلشِّرْكِ باوجود اس کے کہ شرک سے جو محرم ہے، یعنی شرک سے جو روکنے والی دلیل ہے۔ بھئی! وہ کیا ہے؟ میں نے بتلایا تھا عقلی دلائل بھی ہیں اور نقلی بھی۔ عقلی کیا ہے؟ وَهُوَ حُدُوثُ الْعَالَمِ اس جہان کا حادث ہونا۔ ایک ہے حادث، ایک ہے قدیم۔ قدیم صرف اللہ کی ذات و صفات ہیں اور حادث باقی تمام چیزیں حادث ہیں۔ معلوم ہوا ان کا پہلے وجود نہیں تھا پھر ان کا وجود آیا اور پھر جب ان کا وجود آیا تو ان کو وجود دینے کے لیے کسی ذات کی ضرورت ہے بغیر کسی ذات کے ان کا وجود خود بخود تو ہو نہیں سکتا، معلوم ہوا اس عالم کے بنانے والی ایک ذات موجود ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں وَهُوَ حُدُوثُ الْعَالَمِ اور وہ اس عالم کا حادث ہونا ہے، یہ ہے محرم یعنی دلیل عقلی۔ وَالنُّصُوصُ الدَّالَّةُ عَلَيْهِ اور وہ نصوص جو اس پر دلالت کرنے والی ہیں جو نقلی دلائل ہیں قرآن و حدیث کے بھئی۔ بھئی! انہوں نے حدوث عالم ایک دلیل ذکر کر دی۔ ایک بڑی دلیل، واضح دلیل، بڑی توحید پر بہت دلائل موجود ہیں بھئی، توحید پر۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے پوچھا گیا، "توحید کی کیا دلیل ہے؟" فرمایا، "شہد کی مکھی۔ اس کے ایک سرے پر شفا ہے تو دوسرے سرے پر تکلیف ہے، یہی توحید کی علامت ہے۔" امام شافعی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا، "توحید کی کیا دلیل ہے؟" فرمایا کہ، "شہتوت کا پتا، شہتوت کا پتا۔ اسی پتے کو کوئی جانور کھاتا ہے تو مینگنی بنتی ہے، اسی پتے کو بکری کھاتی ہے تو دودھ بنتا ہے، اسی پتے کو شہد کی مکھی کھاتی ہے تو شہد بنتا ہے، اسی پتے کو ریشم کا کیڑا کھاتا ہے تو ریشم بنتا ہے، یہ دلیل ہے توحید کی بھئی۔" سمجھ میں آیا بھئی؟ صحرا کے اندر کسی جگہ پر کچھ قدموں کے نشانات آپ کو کہیں پر بھی دکھائی دے جائیں، وہ قدموں کے نشانات بتلا دیتے ہیں یہاں سے کوئی گزرا ہے۔ تو یہ سارا عالم خود بخود بتا دیتا ہے کہ اس کو بنانے والی کوئی ایک ذات موجود ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں بھئی! کیونکہ محرم، شرک سے جو محرم ہے وہ دلیل بھی موجود ہے وَهُوَ حُدُوثُ الْعَالَمِ وَالنُّصُوصُ الدَّالَّةُ عَلَيْهِ وہ حدوث عالم ہے اور وہ نصوص جو اس پر دلالت کرنے والی ہیں، وَالْحُرْمَةُ محرم للشرک وَالْحُرْمَةُ اور حرمت۔ درمیان میں محرم للشرک کے بارے میں بتایا وہ کیا کیا ہیں۔ أَنَّ الْمُحَرِّمَ لِلشِّرْكِ وَالْحُرْمَةَ كِلَاهُمَا مَوْجُودَانِ باوجود اس کے کہ محرم للشرک اور حرمت دونوں موجود ہیں، بلا ریب و بلا شک و شبہ۔ وَمَعَ ذَلِكَ يُرَخَّصُ لَهُ باوجود اس کے، اور اس کے ساتھ پھر اس کو رخصت دے دی گئی، لِأَنَّ حَقَّهُ فِي نَفْسِهِ يَفُوتُ عِنْدَ الِامْتِنَاعِ صُورَةً وَمَعْنًى اس لیے کیونکہ اس انسان کا حق جس پر اکراہ کیا گیا ہے، اس کا حق فِي نَفْسِهِ اس کی ذات کے اعتبار سے يَفُوتُ وہ فوت ہو جاتا ہے عِنْدَ الِامْتِنَاعِ باز رہنے کے وقت بھئی۔ اگر وہ کلمہ کفر نہیں کہے گا تو اس انسان اپنی ذات کے اعتبار سے اس کا حق بالکل فوت ہو جائے گا، صُورَةً وَمَعْنًى صورتًا بھی اس کا حق فوت ہو جائے گا اور معنًى بھی اس کا حق فوت ہو جائے گا بھئی۔ بھئی! کس طرح صورتًا اور معنًى دونوں طرح حق فوت ہو گا؟ کہتے ہیں، أَمَّا صُورَةً فَبِتَخْرِيبِ الْبُنْيَةِ باقی صورتًا جو ہے، تخریب کا معنی ہے خراب کرنا، بگاڑنا۔ بنیا کہتے ہیں ساخت کو بھئی، ساخت، ڈھانچہ۔ بھئی وہ کیا کرے گا دوسرا؟ اگر یہ نہیں مانے گا تو کیا کرے گا وہ؟ مثلاً اسے قتل کر دیتا ہے یا اس کا ہاتھ یا پاؤں کاٹ دیتا ہے تو دیکھو اس کا، اس کے ڈھانچے کو بگاڑ دیا۔ کیا کیا؟ تو دیکھو صورتًا بھی اس کا حق فوت ہوا اس آدمی کا، اس کے ڈھانچے کو اس نے بگاڑ دیا۔ اور معنًى بھی اس کا حق فوت ہوا، کس طرح کہتے ہیں؟ کہتے ہیں، فَبِزُهُوقِ الرُّوحِ روح کے نکل جانے سے۔ پھر اس کے، قتل کر دیتا ہے مثلاً تو اس کی روح نکل جائے گی بھئی، تو صورتًا بھی اس کا حق فوت اور معنًى بھی اس کا حق کیا ہو گیا؟ فوت۔ تو لہذا اگر یہ کلمہ کفر زبان سے نہیں کہتا، تو اس آدمی کا وہ دوسرا اس کو قتل کرتا ہے یا ہاتھ پاؤں کاٹتا ہے تو صورتًا بھی اس مرد اس مکرہ کا حق فوت ہوا اور معنًى بھی اس کا حق فوت ہوا۔ لیکن اگر اس کے بجائے وہ زبان سے کلمہ کفر کہہ دیتا ہے تو صورتًا تو صورتًا تو حق اللہ فوت ہو گیا لیکن معنًى حق اللہ ابھی بھی باقی ہے بھئی، کس طرح؟ دل میں تصدیق تو ہے۔ زبان سے اگر فوت ہو گیا حق اللہ لیکن دل میں تصدیق تو ہے۔ تو لہذا کلمہ کفر نہ کہنے میں اس انسان کا صورتًا بھی حق فوت ہوتا ہے اور معنًى بھی، اور کہہ دینے کی صورت میں صرف حق اللہ صورتًا فوت ہوتا ہے معنًى فوت نہیں ہوتا، اس لیے شریعت نے اجازت دے دی بھئی۔ کہتے ہیں، أَمَّا صُورَةً فَبِتَخْرِيبِ الْبُنْيَةِ باقی صورتًا جو ہے جو اس کا حق کا فوت ہونا ہے فَبِتَخْرِيبِ الْبُنْيَةِ وہ ڈھانچے کے بگاڑنے کے ذریعے ہے، وَأَمَّا مَعْنًى اور باقی معنًى جو اس کے حق کا فوت ہونا ہے فَبِزُهُوقِ الرُّوحِ وہ روح کے نکل جانے سے ہے، وَفِي الْإِقْدَامِ عَلَيْهَا اور اس پر پیش قدمی کرنے سے، کلمہ کفر پر وہ کیا کر لیتا ہے؟ پیش قدمی، وَفِي الْإِقْدَامِ عَلَيْهَا اور اس کلمہ کفر پر پیش قدمی کرنے پر لَا يَفُوتُ حَقُّ اللَّهِ تَعَالَى مَعْنًى حق اللہ جو ہے معنًى فوت نہیں ہوتا، معنوی اعتبار سے ابھی بھی باقی ہے لِأَنَّ التَّصْدِيقَ بَاقٍ کیونکہ تصدیق باقی ہے بھئی۔ وَإِفْطَارِهِ فِي رَمَضَانَ متن کیا آیا تھا پیچھے بھئی؟ كَالْمُكْرَهِ عَلَى إِجْرَاءِ كَلِمَةِ الْكُفْرِ یہ افطار کا عطف اجراء پر ہے، كَالْمُكْرَهِ عَلَى إِفْطَارِهِ فِي رَمَضَانَ جیسے کسی شخص کو مجبور کیا گیا ہے رمضان میں افطار کرنے پر کہ روزہ نہ رکھو یا روزہ توڑو۔ أَيْ إِذَا أُكْرِهَ الصَّائِمُ بِمَا فِيهِ إِلْجَاءٌ عَلَى إِفْطَارِهِ جب مجبور کیا گیا روزہ دار کو بما ایسی چیز کے ساتھ فِيهِ إِلْجَاءٌ جس میں مجبور کرنا تھا بھئی یعنی اکراہ ملجی کے ساتھ اس کو مجبور کیا گیا عَلَى إِفْطَارِهِ اس کے روزے کے افطار پر فِي رَمَضَانَ رمضان کے اندر، يُبَاحُ لَهُ الْإِفْطَارُ تو اس کے لیے افطار جو ہے مباح ہو جائے گا مَعَ أَنَّ الْمُحَرِّمَ باوجود اس کے، بھئی وہ یہ ساری اسی کی مثالیں چل رہی ہیں محرم بھی موجود اور حرمت بھی موجود۔ محرم کیا ہے؟ رمضان کا مہینہ موجود ہے اور رمضان کا مہینہ ہو تو افطار کی اجازت نہیں بلکہ کیا کرنا پڑے گا؟ رکھنا پڑے گا۔ تو محرم بھی موجود اور اس کا حکم یعنی حرمت بھی موجود، لیکن اس کے باوجود شریعت نے رخصت دے دی اس کو۔ مَعَ أَنَّ الْمُحَرِّمَ وَهُوَ شُهُودُ رَمَضَانَ وَالْحُرْمَةَ كِلَاهُمَا مَوْجُودَانِ باوجود اس کے کہ محرم اور وہ رمضان کے مہینے کا حاضر ہونا اور حرمت یہ دونوں موجود ہیں، لِأَنَّ حَقَّهُ يَفُوتُ رَأْسًا وَحَقُّ اللَّهِ بَاقٍ بِالْخَلَفِ اس لیے کیونکہ اس کا حق جو ہے وہ فوت ہو جائے گا رأسًا پورے طور پر، اس کا حق فوت ہو جائے گا پورے طور پر وَحَقُّ اللَّهِ تَعَالَى بَاقٍ بِالْخَلَفِ اور اللہ کا حق جو ہے وہ باقی رہے گا بالخلف، خلیفہ کے ساتھ، نائب کے ساتھ۔ حق اللہ کا تو نائب ہے لیکن حق العبد کا نائب یہاں کوئی نہیں، حق اللہ کا نائب کیا ہے، کیا خلیفہ ہے؟ اس کی قضا کر سکتا ہے بعد میں بھئی، قضا کر لے اس روزے کی پھر۔ وَإِتْلَافِهِ مَالَ الْغَيْرِ اور اسی طرح اس کا تلف کرنا غیر کے مال کو، اس کا بھی اسی پر عطف ہے جیسے ایک شخص کو مجبور کیا گیا کہ وہ کیا کرے؟ غیر کے مال کو تلف کرے، تباہ کرے، اس کو برباد کرے، تو اب دیکھیے یہاں محرم بھی موجود کہ یہ غیر کا مال ہے، اور حرمت بھی موجود ہے غیر کا مال اس کے لیے جائز نہیں تلف کرنا۔ لیکن پھر بھی شریعت نے کہا کہ اگر اکراہ ملجی کے ساتھ کسی کو مجبور کیا گیا ہے تو وہ دوسرے کے مال کو کیا کر سکتا ہے؟ تلف کر سکتا ہے، تباہ کر سکتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اگر نہیں کرے گا تو اس کا مکرہ کا اپنا اپنی حق پورے طور پر فوت ہو جائے گا، لیکن اگر کر لیتا ہے تو دوسرے کا حق پورے طور پر فوت نہیں بلکہ اس کا قائم مقام موجود ہے، وہ کیا؟ بعد میں اس کو ضمان دے دے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے وَإِتْلَافِهِ مَالَ الْغَيْرِ اور اس کا مکرہ کا تلف کرنا غیر کے مال کو، أَيْ إِذَا أُكْرِهَ عَلَى إِتْلَافِ مَالِ الْغَيْرِ جب اس کو مجبور کیا گیا غیر کے مال کو تلف کرنے پر، رُخِّصَ لَهُ ذَلِكَ تو اس کو اس کی رخصت دے دی گئی، مَعَ أَنَّ الْمُحَرِّمَ وَالْحُرْمَةَ كِلَاهُمَا مَوْجُودَانِ باوجود اس کے کہ محرم اور حرمت دونوں موجود ہیں، لِأَنَّ حَقَّهُ يَفُوتُ رَأْسًا اس لیے کیونکہ اس کا اپنا حق تو فوت ہو جائے گا رأسًا، سرے سے ہی یعنی پورے طور پر ہی، وَحَقُّ الْمَالِكِ بَاقٍ بِالضَّمَانِ اور مالک کا حق جو ہے باقی ہے ضمان کے ساتھ۔ وَتَرْكِ الْخَائِفِ عَلَى نَفْسِهِ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ اور چھوڑ دینا الْخَائِفِ عَلَى نَفْسِهِ اپنی جان کا خوف رکھنے والے کا، اپنی جان کا خوف رکھنے والے کا چھوڑ دینا، کس چیز کو چھوڑ دینا؟ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ امر بالمعروف۔ بھئی ایک بھئی ویسے تو حکم دیا گیا ہے ہر حال میں امر بالمعروف کا کہ نیکی کی تلقین کرو دوسروں کو، لیکن ایک شخص ہے وہ جابر سلطان کے سامنے کھڑا ہے، اب جابر سلطان نے کوئی اس پر تلوار تو نہیں نکالی ہوئی لیکن اسے خوف ہے کہ اس وقت اگر میں نے امر بالمعروف کیا، کوئی نیکی کی بات کی تو یہ مجھے کیا کر دے گا؟ قتل کروا دے گا۔ اب یہاں اکراہ تو نہیں ہے لیکن اس کو اپنی جان کا خوف ہے تو اس صورت میں امر بالمعروف کو ترک کرنے کی شریعت نے اجازت دے دی۔ امر بالمعروف کو شریعت نے ترک کرنے کی اجازت دے دی بھئی۔ یہ معنی ہے وَتَرْكِ الْخَائِفِ عَلَى نَفْسِهِ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ اور اپنی جان کا خوف رکھنے والے کا چھوڑ دینا امر بالمعروف کو، سمجھ میں آیا بھئی؟ جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا یہ کوئی آسان کام نہیں بھئی، یہ اللہ نے اس زمانے کے اندر آپ کو بھی دکھلایا کس طرح لال مسجد والوں کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ جابر سلطان کے سامنے، پوری دنیا کے سامنے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہو گئے، اپنی جانیں قربان کر دیں بھئی، اور کتنا عظیم مقام ملا ہو گا جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ عَطْفٌ عَلَى الْمُكْرَهِ یہ عطف ہے کس پر؟ مکرہ پر عطف ہے، بھئی ماقبل میں نے عطف بتلایا تھا افطار اور اتلاف کا عطف کس پر تھا؟ وہاں عطف تھا اجراء پر، اور اب عطف کس پر ہے؟ مکرہ پر عطف ہے، مکرہ پر کیوں عطف ہے؟ بھئی وہ جو پچھلی صورتیں تھیں، وہ مکرہ کی صورتیں تھیں كَالْمُكْرَهِ عَلَى إِجْرَاءِ كَلِمَةِ الْكُفْرِ، كَالْمُكْرَهِ عَلَى إِفْطَارِهِ فِي رَمَضَانَ، كَالْمُكْرَهِ عَلَى إِتْلَافِهِ مَالَ الْغَيْرِ اور یہ جو ہے یہ الْخَائِفِ عَلَى نَفْسِهِ یہ بھئی یہ مکرہ تو ہے ہی نہیں، بادشاہ نے کوئی تلوار نکالی ہوئی ہے؟ نہیں اس نے کہا اس نے تو کہا کچھ بھی نہیں، لیکن اس کو خوف ہے اگر میں کہوں گا تو کیا کر دے گا مجھے یہ؟ قتل کر دے گا۔ تو کہتے ہیں عَطْفٌ عَلَى الْمُكْرَهِ یہ مکرہ پر عطف ہے، أَيْ إِذَا تَرَكَ الْخَائِفُ عَلَى نَفْسِهِ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ یعنی جب چھوڑ دیا اپنی جان کا خوف رکھنے والے نے امر بالمعروف کو لِلسُّلْطَانِ الْجَائِرِ جابر سلطان کی وجہ سے، جائر بمعنی جابر کے، ظالم بھئی، جابر سلطان کی وجہ سے، جَازَ لَهُ ذَلِكَ تو جائز ہے اس کے لیے یہ، یعنی یہ چھوڑنا اس کے لیے جائز، مَعَ أَنَّ الْمُحَرِّمَ باوجود اس کے کہ محرم، بھئی محرم کیا ہے؟ وَهُوَ الْوَعِيدُ عَلَى تَرْكِ الْأَمْرِ اور وہ وعید ہے امر بالمعروف کے چھوڑنے پر جو وعیدیں آئی ہیں احادیث میں بھئی، مَعَ مَعَ مُوجَبِهِ قَائِمٌ جی، اس کا عطف پچھلے سے ہے مَعَ أَنَّ الْمُحَرِّمَ مَعَ مُوجَبِهِ قَائِمٌ باوجود اس کے کہ محرم ساتھ اپنے موجب یعنی اپنے حکم کے ساتھ موجود ہے، حرمت بھی ہے اور محرم بھی ہے، لِأَنَّ حَقَّهُ يَفُوتُ رَأْسًا اس لیے کیونکہ اس کہنے والے کا حق تو پورے طور پر فوت ہو جائے گا، وَحَقُّ اللَّهِ تَعَالَى بَاقٍ بِاعْتِقَادِ حُرْمَةِ التَّرْكِ اور اللہ کا حق تو باقی ہے اس اعتقاد کے ساتھ کہ یہ چھوڑنا حرام ہے، کہ دل میں کیا اعتقاد رکھے؟ کہ میں چھوڑ تو رہا ہوں لیکن یہ امر بالمعروف کو چھوڑنا حرام ہے، یہ اعتقاد ہے تو دیکھو حق اللہ باقی ہے ابھی بھی۔ وَجِنَايَتِهِ عَلَى الْإِحْرَامِ اور اسی طرح مکرہ کی جنایت کرنا احرام پر بھئی، مکرہ کی جنایت احرام پر، بھئی آپ جانتے ہیں احرام کے اندر بہت سی پابندیاں انسان پر لاگو ہو جاتی ہیں، مثلاً بال نہیں کاٹ سکتا، ناخن نہیں کاٹ سکتا، بیوی سے صحبت نہیں کر سکتا، خوشبو نہیں لگا سکتا وغیرہ بھئی۔ اب ایک شخص ہے وہ حالت احرام کے اندر تھا، دوسرے نے راستے میں کہیں ملا، اس نے تلوار نکالی کہ چلو بھئی یہ کام جو خلاف احرام تھا یہ کرو، مثلاً شکار کھیلو وغیرہ بھئی، تو اب یہ اس نے جنایت کروائی ہے اس پر احرام کے اندر بھئی، تو شریعت نے یہ رخصت دے دی کہ اس کے لیے گنجائش ہے بھئی، مثلاً شکار کی، شکار کہا، کیا کرو؟ شکار کھیلو، تو پھر اس کے بھئی یہاں پر اگر یہ عمل نہیں کرتا تو اس بیچارے کا حق پورے طور پر فوت ہو جائے گا، لیکن اگر عمل کر لیتا ہے تو پھر حق اللہ پھر بھی باقی ہے، کس طرح؟ اس کا کیا کرے؟ ضمان بعد میں دے دے گا بھئی۔ أَيْ وَكَجِنَايَةِ الْمُكْرَهِ عَلَى إِحْرَامِهِ جیسے کہ مکرہ کی جنایت، بتلایا بھئی جِنَايَتِهِ متن میں آیا تھا، ھا ضمیر کس کو راجع ہے؟ مکرہ کو، كَجِنَايَةِ الْمُكْرَهِ عَلَى إِحْرَامِهِ جیسے مکرہ کی جنایت اپنے احرام پر، يُبَاحُ لَهُ مَا أُكْرِهَ عَلَيْهِ تو مباح ہو گا اس کے لیے وہ وہ چیز جس پر اس کو مجبور کیا گیا ہے، مَعَ قِيَامِ الْمُحَرِّمِ ساتھ مَعَ قِيَامِ الْمُحَرِّمِ وَحُكْمِهِ جَمِيعًا باوجود قائم ہونے محرم اور اس کے حکم دونوں کے، لِأَنَّ حَقَّهُ يَفُوتُ رَأْسًا اس لیے کیونکہ اس کا حق تو فوت ہو جائے گا پورے طور پر، وَحَقُّ اللَّهِ تَعَالَى بَاقٍ بِأَدَاءِ الْغُرْمِ اور اللہ کا حق باقی ہے ضمان کی ادائیگی کے ساتھ۔ لَا يَخْلُو هَذَا اللَّفْظُ عَنِ انْتِشَارٍ اور یہ لفظ خالی نہیں ہے انتشار سے بھئی، بھئی دیکھیے یہ جنایت یہ بھی مکرہ والی صورت ہے، ماقبل بھی مکرہ والی صورتیں تھیں، درمیان میں وَتَرْكِ الْخَائِفِ عَلَى نَفْسِهِ آیا یہ مکرہ نہیں ہے۔ تو لہٰذا اب اس ضمیر جِنَايَتِهِ کی ھا ضمیر کو درمیان میں ایک اجنبی کے آنے کے باوجود اس ضمیر کو کس کی طرف لوٹانا؟ مکرہ کی طرف لوٹانا اس میں کیا ہے؟ انتشار ہے بھئی، انتشار ہے بھئی، کیونکہ ذہن تو یہی کہتا ہے شاید یہ الْخَائِفِ عَلَى نَفْسِهِ کی طرف ضمیر راجع ہے بھئی۔ لَا يَخْلُو هَذَا اللَّفْظُ عَنِ انْتِشَارٍ خالی نہیں ہے یہ لفظ انتشار سے، وَلَوْ أَرْجَعَ ضَمِيرَهُ إِلَى الْخَائِفِ يَخْرُجُ عَنِ الِانْتِشَارِ قَلِيلًا اور اگر اس ضمیر کو لوٹا دیا جائے خائف کی طرف تو پھر یہ نکل جائے گا انتشار سے تھوڑا سا، پورے طور پر پھر بھی نہیں نکلے گا، وَجِنَايَتِهِ ھا ضمیر کس کو لوٹائیں؟ الْخَائِفِ عَلَى نَفْسِهِ وہ جسے اپنے نفس کا خوف ہے، بھئی مکرہ کو بھی تو اپنے نفس کا خوف ہی تھا، تو یہ بھی مکرہ ہے۔ لیکن ھا ضمیر کس کو لوٹا دی؟ خائف علی نفسہ کو، تو وہ اس وہ شخص جسے اپنے نفس کا خوف ہے اس کی جنایت کرنا عَلَى الْإِحْرَامِ کس پر؟ وہ شخص جسے اپنے نفس کا خوف ہے۔ اب کہتے ہیں انتشار تھوڑا سا کم ہو گیا، پورے طور پر پھر بھی نہیں ختم، کیونکہ مراد اس سے کون ہے؟ مکرہ ہی ہے، ضمیر لوٹائی خائف کو اور مراد کون ہے؟ کیونکہ مکرہ کو بھی تو اپنے نفس کا کیا ہوتا ہے؟ خوف ہوتا ہے، لیکن بھئی اس میں تو صرف وہ صورت آئی کہ جب اس نے قتل کی دھمکی دی ہو، اگر عضو کاٹنے کی دھمکی دی ہو وہ صورت تو نکل گئی حالانکہ اس کا بھی یہی حکم ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا اگر ھا ضمیر راجع کریں مکرہ کی طرف تو پھر تو ہے انتشارِ ضمائر، اور اگر راجع کریں الْخَائِفِ عَلَى نَفْسِهِ کی طرف تو پھر انتشار کچھ کم ہو جاتا ہے لیکن بہرحال ختم نہیں ہوتا پورے طور پر۔ ان الاجزاء المؤدیۃ کہ وہ اجزاء جو ادا کر دیے گئے لما كان له عرضۃ جب ان کے اندر یہ صلاحیت ہے ان تصیر عبادۃ بعد التمامی کہ وہ عبادت بن جائیں پورا ہونے کے بعد۔ ابھی تو ٹھیک ہے، وہ عبادت نہیں، لیکن اگر ان کو پورا کیا جاتا تو کیا بن جاتے یہ؟ پھر یہ عبادت بن جاتے، تو ان میں صلاحیت تھی کہ یہ پورا ہونے کے بعد عبادت بن جائیں ولم یتمہا اور اس نے اس کو پورا نہیں کیا فكانہ ابطلہا گویا کہ اس نے کیا کر دیا اس کو؟ باطل کر دیا۔ وہو كالنظر صارا للہ تعالی تسمیۃ لا فعلا اور یہ جو ہے، یہ منت کی طرح ہے— ہو ضمیر کس کو راجع؟ شرح میں بتلائیں گے دیکھئے آگے، ای الشروع۔ ہو ضمیر کس کو راجع کی؟ شروع کو، یہ جو شروع کیا تھا نماز کو، بھئی نفل کو یا روزے کو۔ لیکن بہتر یہ ہے اس ضمیر کو، ہو ضمیر کو لوٹایا جائے جو پچھلے متن میں آیا، ما اداہ وہ جو اس نے ادا کر دیا، یہ جو اس نے ادا کر دیا كالنظر یہ کس کی طرح ہے؟ منت کی طرح ہے بھئی۔ صار للہ تعالی جو کس کے لئے ہو گئی؟ اللہ کے لئے۔ تسمیۃ ذکر کرنے کے اعتبار سے لا فعلا نہ کہ فعل۔ بھئی ایک آدمی کہتا ہے، للہ علی ان اصلی رکعتین کہ اللہ کے لئے مجھ پر واجب ہے کہ میں کیا کروں گا؟ دو رکعت پڑھوں گا، دو رکعت نفل۔ تو اب یہ دو رکعت پڑھنا اس پر واجب ہو گئے، ضروری ہو گئے۔ واجب ہو گئے۔ اور یہ کس کا حق ہیں؟ اللہ کا حق ہیں، اس نے خود اپنے اوپر واجب کیے ہیں، بھئی اللہ نے تو نہیں واجب کیے تھے، لیکن اس نے خود اپنے اوپر واجب کر لئے۔ تو یہ اب اللہ کا حق ہوئے، اللہ کے لئے ہوئے اور اس نے کوئی فعل کیا ہے یا صرف زبان سے کہا ہے؟ تو دیکھو صرف زبان سے کہنے کی وجہ سے یہ اس پر کیا ہو گئے؟ واجب، اگرچہ اس نے کوئی فعل نہیں کیا بھئی، فعل نہیں کیا۔ اور یہ کہہ رہے ہیں متن میں، وہو كالنظر یہ جو اس نے ادا کر دیا بھئی، کچھ روزہ شروع کر دیا یا نفل شروع کر دیے، تو یہ جو اس نے ادا کر دیا ہے، ماتن فرماتے ہیں یہ کس کی طرح ہے؟ یہ کس کی طرح ہے؟ منت کی طرح ہے، جو اس نے ادا کیا تھا وہ اللہ کے لئے ہو گیا شروع کرنے سے، جب شروع کیا، بھئی جیسے ہی نفل شروع کیے، اگر اختتام تک پہنچا دے گا تو یہ عبادت ہے یا نہیں بھئی؟ جی۔ تو یہ جب اس نے شروع کیا تو یہ اللہ کے لئے ہو گئے شروع کرنے کی وجہ سے، جیسے کہ وہ منت کی وجہ سے جس چیز کی منت مانی گئی ہے وہ بھی کس کے لئے ہو جاتی ہے؟ اللہ کے لئے، لیکن وہ جس کی منت مانی گئی وہ اللہ کے لئے ہوئی صرف ذکر کرنے کے اعتبار سے، اس نے صرف کیا کیا ہے ابھی؟ صرف ذکر، وہ ذکر کرنے کے اعتبار سے اللہ کے لئے ہوئی اور یہ جس کو اس نے ادا کیا ہے، یہ بھی اللہ کے لئے ہے، لیکن یہ ذکر کے اعتبار سے یا فعل کے اعتبار سے ہے؟ یہ فعل کے اعتبار سے ہے۔ وہ منت میں جس چیز کی منت مانی تھی، وہ بھی اللہ کے لئے ہوئی، لیکن وہ صرف ذکر کرنے کے اعتبار سے، ابھی اس نے صرف ذکر کیا ہے اور یہ جو ادا کر چکا ہے یہ بھی اللہ کے لئے ہے کس اعتبار سے؟ فعل کے، اس کا کچھ فعل وہ کر چکا ہے بھئی، تو وہ منت بھی اللہ کے لئے، وہ ذکر کے اعتبار سے، یہ جو شروع ادا کر چکا یہ بھی اللہ کے لئے فعل کے اعتبار سے اور آپ بتائیے ذکر کے اعتبار سے ایک چیز اللہ کے لئے ہو، وہ اعلیٰ ہے یا فعل کے اعتبار سے جو اللہ کے لئے ہو وہ اعلیٰ ہو گی بھئی؟ جو فعل کے اعتبار سے جو ہے، وہ اعلیٰ ہو گی۔ تو جب ادنیٰ میں جب ادنیٰ جو ہے، اس کی حفاظت ضروری ہے، منت میں صرف ذکر کیا تھا اور ذکر کیا ہے؟ صرف ذکر کے اعتبار سے اللہ کے لئے ہونا، یہ ادنیٰ درجہ، اور دوسرا کیا ہے؟ فعل کے اعتبار سے اللہ کے لئے ہونا، وہ ہے اعلیٰ، تو ادنیٰ درجے کی جب حفاظت ضروری ہے، آپ کہتے ہیں اس کو پورا کرنا ضروری ہے، تو جو اعلیٰ حالت ہے اس کو بطریقِ اولیٰ پورا کرنا ضروری ہو گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ وہو كالنظر اور وہ جو ہے یعنی جس کو ادا کر چکا ہے كالنظر وہ منت کی طرح ہے صار للہ وہ منت جو کس کے لئے ہو؟ اللہ کے لئے ہو تسمیۃ باعتبار تسمیہ کے لا فعلا نہ کہ باعتبار فعل کے ای الشروع مقیس علی النظر یعنی یہ شروع کرنا جو ہے اس کو قیاس کیا گیا ہے نظر، منت پر لان النظر صار للہ تعالی من حیث الذكر اس لئے کیونکہ منت وہ اللہ کے لئے ہو گئی ذکر کی حیثیت سے لا من حیث الفعل نہ کہ فعل کی حیثیت سے بان قال بعین طور کہ وہ یوں کہتا ہے للہ علی ان اصلی رکعتین اللہ کے لئے مجھ پر واجب ہے کہ میں دو رکعتیں پڑھوں ثم وجب لصینتہ ابتداء الفعل پھر واجب ہوا لصینتہ ای لصینۃ النظر نظر کی حفاظت کے لئے واجب ہوا، کیا واجب ہوا؟ ابتداء الفعل۔ بھئی منت مانی ہے، بعد میں وہ نفل پڑھنا پڑیں گے یا نہیں اس کو؟ شروع کرنا پڑے گا یا نہیں ان کو؟ تو یہ معنی ہوا کہ ان منت کی حفاظت کے لئے واجب ہوا ابتداء الفعل، اس فعل کی ابتداء۔ ابھی تو اس نے صرف ذکر کیا ہے لیکن پھر اس کی ابتداء بھی اس پر کیا ہو جائے گی؟ اور کیوں واجب ہو گی؟ اس منت کی، اس تسمیہ کی حفاظت کے لئے۔ ای ثم وجب لصینۃ هذا الذكر ابتداء الفعل باجماع بیننا وبينكم پھر واجب ہو جائے گا اس ذکر کی حفاظت کے لئے، یہ جو اس نے زبان سے منت مانی تھی، اس ذکر کی حفاظت کے لئے واجب ہو جائے گا ابتداء الفعل، کیا واجب ہو گا؟ اس فعل کی ابتداء واجب ہو جائے گی باجماع بیننا وبینكم ہمارے اور تمہارے درمیان بالاجماع۔ فاذا وجب لتعظیم ذكر اسم اللہ تعالی ابتداء الفعل فی النظر پس جب واجب ہوئی اللہ کے اللہ تعالی کے نام کے ذکر کی تعظیم کی وجہ سے، اللہ تعالی کے نام کے ذکر کی تعظیم کی وجہ سے جب واجب ہوا جب واجب ہوئی فعل کی ابتداء منت میں بالاتفاق فلان يجب لصینۃ ابتداء الفعل بقاءہ اولى تو یہ کہ واجب ہو، تو واجب ہو، کیا واجب ہو؟ بقاءہ، ہا ضمیر راجع ہے فعل کو، بقائے فعل واجب ہو، کس لئے واجب ہو؟ لصینۃ ابتداء الفعل درمیان میں بتلایا، ابتداءِ فعل کی حفاظت، تو لہذا ابتداءِ فعل کی حفاظت کے لئے بقائے فعل کا واجب ہونا بطریقِ اولیٰ ہو گا بھئی۔ دوبارہ ادھر نظر کریں بھئی، ادھر دیکھیں۔ جب تسمیہ کی حفاظت کے لئے ابتداءِ فعل واجب ہوا تسمیہ کی حفاظت کے لئے ابتداءِ فعل واجب ہوا، تو ابتداءِ فعل کے لئے بقائے فعل بطریقِ اولیٰ واجب ہو گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ تو یہ بطریقِ اولیٰ ہو گا بالاہتمام والدوام۔ بالاہتمام والدوام، اہتمام اور دوام کے اعتبار سے۔ دوام وہی بقا مراد ہے، بقا۔ بھئی دیکھیے! ایک ہے ذکر، ایک ہے فعل۔ کس میں اہتمام زیادہ؟ آپ کا ایک ساتھی آیا اور آپ اسے کہتے ہیں، میں آپ کے لئے چائے لاتا ہوں، زبان سے کہا۔ اور ایک یہ ہے کہ آپ باقاعدہ اٹھ گئے چائے لینے کے لئے، کس میں اہتمام زیادہ ہے بھئی؟ باقاعدہ فعل، جو فعل ہے، تو ایک ہے ذکر، ایک ہے فعل بھئی، اہتمام کس کے اندر زیادہ؟ فعل میں اہتمام زیادہ بھئی، معلوم ہوا ذکر میں اہتمام کم۔ اچھا، اور دوسرا ہے ابتداء اور ابقاء۔ یا یوں کہیں دوام۔ ایک ہے ابتداء، ایک ہے دوام۔ کسی فعل کو شروع کرنا شروع کرنا آسان ہوتا ہے یا اس کو شروع کے بعد پورا کرنا آسان ہوتا ہے؟ یوں کہہ لیں، ایک چیز کو شروع کرنا مشکل ہوتا ہے یا شروع کے بعد اس کو پورا کرنا مشکل ہوتا ہے؟ شروع کرنا مشکل ہے بھئی، جب ایک نیا کام شروع کرنے لگیں تو مشکل دکھائی دیتا ہے اور ایک دفعہ جب شروع کر دیں، پھر تو آسان ہی معلوم ہوتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ تو ایک ہے ابتداءِ فعل، ایک ہے دوامِ فعل، ان دونوں میں سے آسان کون سا ہے؟ دوامِ فعل۔ اور ایک ہے تسمیہ اور ایک ہے فعل، ان دونوں میں سے اہتمام کس میں زیادہ؟ فعل میں اہتمام زیادہ ہے۔ تو دیکھیے اب کہتے ہیں لان الدوام اسہل من الابتداء فی اليسر اس لئے کیونکہ دوام یعنی باقی رکھنا اسہل یہ زیادہ آسان ہے من الابتداء کس سے؟ ابتداء سے، فی اليسر سہولت میں، آسانی میں۔ والفعل والفعل، اسی پر عطف کر دیتے ہیں دوام پر بھئی، والفعل اولى من التسمیۃ فی الاہتمام اور فعل اولیٰ ہے کس سے؟ تسمیہ سے، فی الاہتمام کس چیز میں؟ اہتمام کے اندر بھئی۔ اہتمام کے اندر۔ حاصل یہ کہ دو چیزیں ہیں یہاں پر، ایک ہے تسمیہ، ایک ہے فعل۔ تسمیہ اور فعل میں سے اعلیٰ کون؟ فعل، اور ادنیٰ کون؟ تسمیہ، یہ یاد رکھنا بھئی، فعل اعلیٰ، تسمیہ ادنیٰ۔ اچھا، اس کے بعد دو اور چیزیں ہیں، ایک ہے ابتداءِ فعل، ایک ہے ابقائے فعل، ان دونوں میں سے مشکل کون سا؟ ابتداءِ فعل مشکل اور ابقائے فعل آسان۔ تو منت کے اندر اس نے ذکر کس کو کیا؟ تسمیہ، ذکر کیا صرف۔ اور تسمیہ یہ ادنیٰ ہے یا فعل ادنیٰ تھا؟ تسمیہ، تو ادنیٰ چیز کی حفاظت کے لئے آپ نے مشکل کام کا حکم دیا یعنی ابتداءِ فعل کا۔ ادنیٰ چیز کی حفاظت کے لئے مشکل کام یعنی ابتداءِ فعل کا حکم دیا گیا، تو اعلیٰ چیز کے لئے آسان چیز کا حکم بطریقِ اولیٰ دیا جائے گا۔ اعلیٰ چیز کیا؟ فعل، اس کے لئے آسان چیز کیا؟ بقا، ابقائے فعل یا ابقائے فعل، اس کا بطریقِ اولیٰ وہ اس پر واجب ہو گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ ورخصۃ، عطف علی قولہ عزیمۃ، جی۔ رخصۃ، کہتے ہیں یہ عطف ہے مصنف کے قول عزیمۃ پر بھئی، جہاں سے بحث شروع کی تھی، وہاں پر آیا تھا المشروعات علی نوعین مشروعات دو قسم پر ہیں، عزیمۃ ایک عزیمت ہے ورخصۃ اور دوسری رخصت ہے۔ ولم یعرفہا بھئی آگے متن میں دیکھئے، وہی اربعد انواع چار قسموں پر ہے، فوراً تقسیم شروع کر دی۔ بھئی پہلے چیز کی تعریف کی جاتی ہے پھر تقسیم کی جاتی ہے، جیسے کافیہ والے شروع میں کیا کرتے ہیں؟ الكلمۃ لفظ وضع لمعنى مفرد پہلے تعریف کرتے ہیں، پھر اس کے بعد بتلاتے ہیں، وہی اسم وفعل وحرف بھئی، پھر قسمیں، تو پہلے مصنف کو تعریف کرنی چاہئے تھی رخصت کی، اس کے بعد اس کی قسمیں بتلانی چاہئے تھیں۔ تو جواب دیں گے کہ بھئی رخصت کی چار قسمیں ہیں اور کوئی ایک حقیقتِ متحدہ اس کی ہے ہی نہیں جس کی تعریف کی جائے، ساری الگ الگ چیزیں ہیں۔ تو ایک تعریف اس کی ممکن ہی نہیں ہے، جب ایک ممکن ہی نہیں ہے تو مجبورا تعریف کو چھوڑ کر کیا بیان کرنا شروع کر دیا؟ قسمیں، یہ اسی طرح ہے جیسے صاحبِ کافیہ مستثنیٰ کی بحث میں مستثنیٰ کی تعریف کرنے کے بجائے اولاً کیا کر دیتے ہیں؟ تقسیم، متصل اور منقطع بھئی، اور پھر ہر ایک کی الگ الگ تعریف کرتے ہیں، کیونکہ وہاں ایک تعریف دونوں کی ہے ہی نہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ ولم یعرفہا بھئی، اور اس کی تعریف نہیں کی لانہا ليست بمشترکۃ معنًى اس لئے کیونکہ یہ مشترکِ معنوی نہیں ہے۔ بھئی مشترک، ایک مشترکِ لفظی ہے، ایک مشترکِ معنوی۔ مشترکِ معنوی وہ وہ کلی کو کہتے ہیں، کس کو کہتے ہیں؟ کلی، کلی، جس کے افراد کثیر ہوں، یہ مشترکِ معنوی ہے، جیسے انسان، انسان کے بہت سارے افراد ہیں، تو انسان کیا ہے؟ مشترکِ معنوی، زید پر بھی صادق آ رہا ہے، عمرو پر بھی، بکر پر بھی، خالد پر بھی، سب پر صادق آ رہا ہے، تو اشتراک ہے یا نہیں ان کے اندر انسان ہونے میں؟ تو یہ مشترکِ معنوی ہے اور ایک مشترکِ لفظی، وہ کسے کہتے ہیں؟ کہ ایک لفظ ہے اور اس کو الگ الگ معانی کے لئے الگ الگ وضع کیا گیا بھئی، تو یہ کیا ہے؟ مشترکِ لفظی، تو کہتے ہیں یہ مشترکِ معنوی ہے ہی نہیں یعنی اس کی مشترکِ معنوی کس کو کہتے ہیں؟ حقیقت ایک ہوتی ہے، افراد زیادہ ہوتے ہیں، اس کی کوئی ایک حقیقت ہے ہی نہیں رخصت کی کہ آگے پھر اس کے افراد زیادہ ہوں، بلکہ ہر ایک کی حقیقت ایک دوسرے سے الگ الگ ہے، اس لئے بھئی اس کی تعریف نہیں کی ولم یعرفہا لانہا ليست بمشترکۃ معنًى اس لئے کیونکہ یہ مشترکِ معنوی نہیں ہے وليست لها حقیقت متحدۃ توجد فی جميع انواعہا علی السویۃ اور اس کی کوئی ایسی حقیقتِ متحدہ نہیں ہے جو پائی جائے اس کی تمام انواع کے اندر علی السویۃ برابری کے طریقے پر بل قسمہا اولاً الى الانواع بلکہ تقسیم کیا اس کو پہلے انواع کی طرف ثم عرف كل نوع على حدۃ پھر تعریف کی ہر نوع کی علیحدہ، پھر تعریف کی ہر نوع کی علیحدہ۔ اچھا، وتقسيمہا باعتبار، بھئی سوال پیدا ہوا کہ جب اس کی ایک تعریف نہیں ہو سکتی تو تقسیم کیسے کر رہے ہیں؟ اشکال سمجھ میں آیا؟ جی۔ جب ایک تعریف ہی نہیں ہو سکتی تو تقسیم کیسے ہو سکتی ہے؟ تقسیم تو ایک جیسی چیز ہو پھر اس کی تقسیم کی جاتی ہے، جواب دے رہے ہیں کہ بھئی کہ تقسیم اس اعتبار سے ہے کہ جن جن چیزوں پر رخصت کا لفظ بولا جاتا ہے، ان کے اعتبار سے ہے، جن جن چیزوں پر رخصت کا لفظ بولا جاتا ہے وہ چار قسم پر ہیں، تو اس اعتبار سے تقسیم کر رہے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں وتقسيمہا باعتبار ما يطلق عليه اسم الرخصۃ اور اس کی تقسیم جو ہے ان چیزوں کے اس کے چیزوں کے اعتبار سے ہے جن پر رخصت کے نام لفظ کا رخصت کے اسم کا اطلاق کیا جاتا ہے، رخصت کا لفظ ان پر بولا جاتا ہے۔ فقال پس فرمایا، وہی اربعۃ انواع اور یہ چار قسم پر ہیں نوعان من الحقیقۃ دو قسمیں کس میں سے ہیں؟ حقیقت میں سے ہیں، احدہما احق من الآخر وہ جو حقیقت میں دو قسمیں ہیں، ان میں سے ایک زیادہ زیادہ زیادہ حقدار ہے دوسری سے، یعنی ایک دوسری سے زیادہ مناسب ہے۔ یعنی ان میں سے ایک دوسری کے مقابلے میں زیادہ لائق ہے کہ اس کو کیا کہا جائے؟ حقیقت کہا جائے، دونوں برابر درجے کی نہیں ہیں، دو قسمیں حقیقت میں سے ہیں لیکن دو دو بھی برابر نہیں، ایک زیادہ لائق ہے کہ اس کو کیا کہا جائے دوسری کے مقابلے میں؟ جی، حقیقت کہا جائے، یعنی ان میں سے ایک زیادہ مناسب ہے کہ اس پر حقیقت کا اطلاق کیا جائے دوسری کے مقابلے میں۔ ونوعان من المجاز اور دو قسمیں مجاز میں سے ہیں، احدہما اتم من الآخر مجاز کے اندر بھی جو دو قسمیں ہیں ان میں سے ایک دوسری سے زیادہ تام ہے۔ یعنی ایک معلوم ہوا مجاز کے اندر جو دو قسمیں ہیں، ایک ان میں سے مجاز ہونے میں دوسری کے مقابلے میں تام ہے یعنی ایک ان میں سے پورے طور پر مجاز ہے، ایک پورے طور پر مجاز نہیں ہے۔ وتفصيلہ تفصیل اس کی یہ ہے، ان الرخصۃ الحقيقية هي التي تبقى عزيمتہا معمولۃ بھئی دیکھیے! انہوں نے کہا رخصت چار قسم پر ہے، دو قسمیں کس میں سے ہیں؟ حقیقت میں سے، اور دو قسمیں کس میں سے؟ مجاز میں سے۔ بھئی مجاز کسے کہتے ہیں؟ جس کے مقابلے میں کوئی حقیقت ہو۔ بھئی دیکھیے! یہاں ایک ہے رخصت اور ایک عزیمت۔ اگر عزیمت بھی موجود ہے اور اس کے ساتھ ساتھ رخصت بھی، اگر عزیمت بھی موجود ہے اور اس کے ساتھ ساتھ رخصت بھی ہے، تو یہ ہے حقیقتاً رخصت۔ یہ کیا ہے؟ حقیقت کیونکہ اس کا مقابل عزیمت پورے طور پر موجود ہے، تو اور تو رخصت بھی اس کے مقابلے میں پورے طور پر موجود آ گئی بھئی، تو یہ ہے حقیقتاً رخصت۔ یہ معنی ولو ارجع ضمیرہ الى الخائف اگر لوٹائے اس کی ضمیر کو خائف کی طرف تو يخرج عن الانتشار قليلا تو یہ تھوڑا سا انتشار سے نکل آئے گا ولو قدمہ علی قولہ اور اگر اس کو یہ مقدم کر دیتے، یہ جو وجنایتہ علی الاحرام والی مثال تھی، اس کو اگر یہ مقدم کر دیتے علی قولہ اپنے قول وترک الخائف اس پر کیا کر دیتے؟ مقدم کر دیتے فی الذکر ذکر کے اندر لكان اولى تو یہ البتہ بہتر تھا باتصال امثلۃ المكره كلها۔ کس وجہ سے؟ مکرہ کی سارے مثالوں کے مل جانے کی وجہ سے یہ بہتر ہوتا بھئی۔ وتناول المضطر مال الغير اور مجبور کا کھا لینا غیر کے مال کو، بھئی ایک شخص ہے۔ شدید بھوک کی حالت میں، کوئی چیز کھانے کو نہیں، یہ اسے یقین ہے کہ اگر میں نہیں کھاؤں گا تو میں مر جاؤں گا بھئی۔ اس حالت میں اسے غیر کا مال ملا بھئی، غیر کی کوئی کھانے کی چیز وہ اس کو اٹھا لیتا ہے، اس سے کوئی چیز خرید کر کھا لیتا ہے یا اسے ہی کھا لیتا ہے، تو شریعت نے گنجائش دے دی۔ وجہ اس کی یہ کہ اگر ایسا نہیں کرے گا، تو اس کا حق پورے طور پر فوت ہو جائے گا، یہ مر جائے گا۔ اور اگر کر لیتا ہے، تو دوسرے کا حق پورے طور پر فوت نہیں، اس کا نائب ابھی بھی موجود، کیا کرے اسے بعد میں؟ ضمان دے دے اسے۔ یہ معنی ہے وتناول المضطر مال الغير اور کھا لینا مجبور کا غیر کے مال کو ای كتناول الشخص المضطر بالمخمصۃ جیسے کھا لینا اس شخص کا جو مجبور ہے بالمخمصۃ، مخمصہ کہتے ہیں شدید بھوک کو، شدید بھوک کی وجہ سے حیث يرخص له تناول طعام الغير اس حیثیت سے کہ رخصت دے دی گئی اس کو دوسرے کے طعام کو کھانے کی لان حقہ يفوت بالموت عاجلا اس لئے کیونکہ اس کا حق تو فوت ہو جائے گا موت کی وجہ سے جلدی ہی وحق المالک مرعي بالضمان بعدہ اور مالک کا جو اس کھانے کا جو مالک ہے اس کا حق اس کی تو رعایت ہو جائے گی ضمان کے ذریعے اس کے بعد بھی مع ان المحرم والحرمۃ كلاهما موجودان معا باوجود اس کے کہ محرم اور حرمت دونوں موجود ہیں اکٹھے ہی۔ وحكمہ ای حکم هذا النوع الاول من الرخصۃ اور حکم اس کا یعنی یہ رخصت میں سے جو پہلی قسم ہے اس کا حکم یہ ہے کہ ان الاخذ بالعزيمۃ اولى کہ عزیمت کو لے لینا اولیٰ ہے، عزیمت پر عمل کرنا اولیٰ ہے حتٰی لو صبر وقُتل یہاں تک کہ اگر اس نے صبر کیا اور اس کو قتل کر دیا گیا فی صورت الاكراہ کس صورت میں؟ اکراہ کی صورت میں كان شہیدا تو یہ کیا ہوگا؟ شہید، لانه بذل نفسہ لاقامۃ حق اللہ تعالى اس لئے کیونکہ اس نے اپنی جان خرچ کر دی اللہ کا حق قائم کرنے میں وكذا لو امر بالمعروف فی صورت الخوف اور اسی طرح اگر اس نے امر بالمعروف کیا خوف کی صورت میں او لم يتناول مال الغير یا اس نے نہیں کھایا غیر کے مال کو ومات اور مر گیا لم یمت اثما تو یہ گناہ گار ہو کر نہیں مرے گا بل شہیدا بلکہ شہید ہوگا وان عمل بالرخصۃ ایضا يجوز له اور اگر اس نے رخصت پر عمل کیا ہے تو یہ بھی اس کے لیے جائز ہے علی ما حررتُ بناء بر اس کے جو میں نے تحریر کیا کہ یہاں باوجود محرم اور حکم کے ہونے کے اس کے ساتھ کون سا معاملہ کیا جاتا ہے؟ مباح والا معاملہ کیا جاتا ہے تو یہاں عمل جائز ہو جاتا ہے۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقۃ الكلام۔
84 approved lectures · 33 of 84