درس نمبر۔117
وَلِهَذَا، أَيْ: وَلِأَجْلِ أَنَّ الْمُجْتَهِدَ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ، قُلْنَا: لَا يَجُوزُ تَخْصِيصُ الْعِلَّةِ، وَهُوَ أَنْ يَقُولَ: كَانَتْ عِلَّتِي حَقَّةً مُؤَثِّرَةً، لَكِنْ تَخَلَّفَ الْحُكْمُ عَنْهَا لِمَانِعٍ؛ لِأَنَّهُ يُؤَدِّي إِلَى تَصْوِيبِ كُلِّ مُجْتَهِدٍ.
بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ مجتہد جو ہے وہ مخطی بھی ہو سکتا ہے اور مصیب بھی ہو سکتا ہے۔ کہتے ہیں اسی بنا پر کہ مجتہد مخطی بھی ہو سکتا ہے اور مصیب بھی ہو سکتا ہے، ہم اس بات کے قائل ہوئے کہ تخصیص العلت جائز نہیں ہے بھئی۔ کیونکہ مجتہد مخطی بھی ہو سکتا ہے اور مصیب بھی ہو سکتا ہے، اسی بنا پر ہم اس بات کے قائل ہوئے کہ تخصیص العلت جائز نہیں ہے۔ تخصیص العلت جائز نہیں ہے۔
اور تخصیص العلت کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں تخصیص العلت اسے کہتے ہیں کہ مجتہد نے ایک حکم کی علت بیان کی کہ اس حکم کی یہ علت ہے۔ لیکن فلاں مقام پر مثلاً میری علت تو پائی جا رہی ہے، لیکن حکم نہیں پایا جا رہا کسی مانع کی وجہ سے۔ میری علت جو ہے حق ہے، مؤثر ہے، اسی وجہ سے یہ حکم آیا کرتا ہے۔ جہاں بھی یہ علت ہو گی وہاں یہ حکم آئے گا، لیکن فلاں مقام پر جو میری علت تو پائی جا رہی ہے اور حکم نہیں پایا جا رہا، وہ ایک مانع کی وجہ سے ہے۔ کس وجہ سے ہے؟ مانع کی وجہ سے ہے بھئی۔ ہونا تو یہ چاہیے جب آپ نے ایک علت بیان کی ہے، تو جہاں بھی وہ علت پائی جائے وہ حکم پایا جانا چاہیے۔ لیکن کسی مقام پر جب وہ حکم نہیں آتا، تو مجتہد کیا کہہ دیتا ہے کہ میری علت حق ہے، مؤثر ہے، اسی سے یہ حکم آتا ہے، لیکن جو فلاں جگہ پر یہ حکم نہیں آ رہا، یہ علت تو موجود ہے، لیکن اس کا حکم نہیں آ رہا، تو یہ حکم نہ آنے کی وجہ جو ہے وہ ایک مانع ہے، ایک مانع نے اس حکم کو آنے سے روک دیا، ورنہ حکم ضرور آتا، کیونکہ میری علت برحق ہے، درست ہے بھئی، مؤثر ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ ہے تخصیص العلت، ہمارے نزدیک یہ جائز نہیں۔ کیونکہ اس طرح تو ہر مجتہد جو ہے حق تک پہنچنے والا ہے۔ ہر مجتہد کہے گا میری علت برحق ہے، لیکن فلاں مقام پر جو حکم نہیں آ رہا وہ کسی مانع کی وجہ سے نہیں آ رہا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
وَلِهَذَا، أَيْ: وَلِأَجْلِ أَنَّ الْمُجْتَهِدَ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ۔ "هَذَا" کا مشار الیہ بتلا دیا۔ اسی وجہ سے، کس وجہ سے؟ أَيْ: وَلِأَجْلِ أَنَّ الْمُجْتَهِدَ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ، کہ مجتہد جو ہے وہ خطا بھی کرتا ہے اور مصیب بھی ہوتا ہے۔ قُلْنَا: ہم نے کہا، لَا يَجُوزُ تَخْصِيصُ الْعِلَّةِ، کہ تخصیص العلت جائز نہیں ہے۔ بھئی تخصیص العلت کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: وَهُوَ أَنْ يَقُولَ، اور وہ یہ کہ مجتہد یوں کہے۔ كَانَتْ عِلَّتِي حَقَّةً مُؤَثِّرَةً، کہ میری علت جو ہے درست ہے، مؤثر ہے، لَكِنْ تَخَلَّفَ الْحُكْمُ عَنْهَا لِمَانِعٍ، لیکن حکم اس سے پیچھے رہ گیا کسی مانع کی وجہ سے۔ علت آ گئی لیکن حکم نہیں آیا، تو یہ کسی مانع کی وجہ سے ہے۔ لِأَنَّهُ يُؤَدِّي إِلَى تَصْوِيبِ كُلِّ مُجْتَهِدٍ، اس لیے کیونکہ یہ تخصیص العلت جو ہے، یہ تو پھر پہنچا دے گی ہر مجتہد کی تصویب کی طرف۔ ہر مجتہد کو کیا قرار دینا پڑے گا؟ کہ وہ مصیب ہے۔ ہم نے تو کہا تھا کہ مجتہد مصیب بھی ہو سکتا ہے اور مخطی بھی۔ لیکن اگر تخصیص العلت کو مان لیا جائے، تو کیا خرابی لازم آئے گی؟ ہر مجتہد مصیب، اس کو مصیب قرار دینا پڑے گا، کیونکہ یہ تو ہر ایک کہہ سکتا ہے کہ میری علت برحق ہے، درست ہے، لیکن ایک مانع کی وجہ سے فلاں جگہ پر علت تو ہے لیکن حکم نہیں آ رہا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
إِذْ لَا يَعْجِزُ مُجْتَهِدٌ مَا عَنْ هَذَا الْقَوْلِ، اس لیے کیونکہ عاجز نہیں ہے مجتہد ما، کوئی بھی مجتہد، عَنْ هَذَا الْقَوْلِ اس قول سے۔ اس قول سے تو کوئی بھی مجتہد عاجز نہیں ہے، ہر ایک یہ کہہ سکتا ہے کہ میری علت برحق ہے، مؤثر ہے، لیکن فلاں جگہ پر میری علت ہے اور حکم نہیں ہے، اس کی وجہ دراصل ایک مانع آ گیا ہے۔ کیا آ گیا ہے؟ یہ تو ہر ایک، ہر مجتہد پھر یہ بات کہہ سکتا ہے بھئی۔ فَيَكُونُ كُلٌّ مِنْهُمْ مُصِيبًا فِي اسْتِنْبَاطِ الْعِلَّةِ، تو پھر تو ان میں سے ہر ایک مصیب ہو جائے گا علت کے استنباط کے اندر۔ خِلَافًا لِلْبَعْضِ، بر خلاف بعض علماء کے، کہ ان کے نزدیک تخصیص العلت کیا ہے؟ جائز ہے، انہوں نے تخصیص العلت کو جائز قرار دیا ہے۔ كَمَشَايِخِ الْعِرَاقِ وَالْكَرْخِيِّ، جیسے کہ مشائخ عراق ہیں اور امام کرخی رحمہ اللہ ہیں، فَإِنَّهُمْ جَوَّزُوا تَخْصِيصَ الْعِلَّةِ الْمُسْتَنْبَطَةِ، اس لیے کیونکہ بھئی الْمُسْتَنْبَطَةِ ہونا چاہیے، تاء ہونی چاہیے آخر میں بھئی، یہ صفت ہے الْعِلَّةِ کی۔ فَإِنَّهُمْ جَوَّزُوا تَخْصِيصَ الْعِلَّةِ الْمُسْتَنْبَطَةِ، یہ جو مشائخ عراق اور امام کرخی ہیں، انہوں نے جائز قرار دیا ہے علت مستنبطہ کی تخصیص کا، وہ علت جو مجتہد نے مستنبط کی ہے اس کی تخصیص کو ان علماء نے، ان فقہاء نے جائز قرار دیا ہے۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ کہتے ہیں وہ فرماتے ہیں: لِأَنَّ الْعِلَّةَ أَمَارَةٌ عَلَى الْحُكْمِ، کیونکہ علت جو ہے وہ علامت ہے حکم پر، فَجَازَ أَنْ تُجْعَلَ أَمَارَةً فِي بَعْضِ الْمَوَاضِعِ، پس جائز ہے کہ اس کو بعض جگہوں پر علامت بنایا گیا ہو بھئی۔
بعض جگہوں پر علامت بنایا گیا ہو بھئی، تو بعض جگہ اس کو علامت بنایا جائے، بعض جگہ علامت نہ بنایا جائے بھئی۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو علت ہوتی ہے، علت بھئی، یہ حکم پر علامت ہوتی ہے، کیا ہوتی ہے؟ یہ حقیقت میں مؤثر نہیں ہے، اصل میں تو حکم واجب کرنے والے اللہ تعالیٰ ہیں، یہ علت جو ہوتی ہے، یہ صرف علامت ہوتی ہے، یہ پہچان کرواتی ہے حکم کی بھئی۔ اس کے ذریعے ہمیں پتہ چلتا ہے حکم کا، جیسے شراب حرام تھی، کیوں حرام تھی؟ نشہ، تو اصل میں حرام قرار دینے والے اللہ ہیں، یہ نشہ اس میں مؤثر نہیں ہے، ہاں اس نشے کو علامت بنایا گیا ہے، اس کے ذریعے ہمیں پتہ چلتا ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح یہ علامت ہمیں بھنگ میں ملی، تو یہ نشہ تو علامت تھی کس چیز کی؟ حرمت کی، تو وہاں بھی پتہ چلا یہی حکم ہے شریعت کا کہ وہ بھی حرام ہے، تو یہ علامت ہے بھئی۔ اور علامت کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس کو وہ ہر جگہ پر ہی علامت ہو، ہر جگہ پر ہی، جیسے کہتے ہیں دیکھو یہ بادل علامت ہیں بارش کی بھئی، بادل آئیں گے تو بارش ہوگی، لیکن ہر جگہ پر ہی یہ بارش کی علامت ہو ضروری نہیں ہے، کبھی صرف بادل آئیں گے اور بارش نہیں ہوگی، ہاں بعض مواقع پر یہ بارش کی علامت ہیں، تو ہر جگہ پر نہیں ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
وَإِنَّمَا قُيِّدَتِ الْعِلَّةُ بِالْمُسْتَنْبَطَةِ؛ لِأَنَّ الْعِلَّةَ الْمَنْصُوصَةَ ذَهَبَ إِلَى تَخْصِيصِهَا كَثِيرٌ مِنَ الْفُقَهَاءِ، بھئی مقید کیا علت کو کس چیز کے ساتھ؟ یہ جو اوپر آیا تھا، فَإِنَّهُمْ جَوَّزُوا تَخْصِيصَ الْعِلَّةِ الْمُسْتَنْبَطَةِ، علت کے ساتھ مستنبطہ کی قید لگا دی کہ وہ علت مستنبطہ کی تخصیص کو جائز قرار دیتے ہیں۔ ایک علت منصوصہ ہے جس کا نص میں ذکر آیا ہے کہ وہ علت ہے، جیسے وہ بلی کے جھوٹے کو پاک قرار دیا گیا اور اس کی علت حدیث میں کیا ذکر کی گئی؟ طواف ذکر کی گئی کہ وہ بار بار چکر لگانے والی ہے، تمہارے پاس بار بار آنے والی ہے، تو اگر پھر بھی اس کے جھوٹے کو نجس قرار دیا جاتا تو لوگ حرج میں پڑ جاتے، تو اس کے جھوٹے کو پاک قرار دیا گیا اور علت کیا بیان کی گئی حدیث کے اندر؟ فإنهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ، کہ وہ تم پر چکر لگانے والے اور چکر لگانے والیاں ہیں بھئی۔
تو دیکھیے! یہ علت منصوصہ ہے، تو ایک علت منصوصہ ہے اور ایک علت مستنبطہ ہے جس کا مجتہد نے استنباط کیا، جیسے کہ وہ ربوا کے مسئلے میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے قدر اور جنس اور اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ نے طعام اور ثمنیت وغیرہ، تو یہ جو علت مستنبطہ ہے، ان کے اندر وہ تخصیص کو جائز قرار دیتے ہیں بھئی، اس کے اندر وہ... باقی علت منصوصہ، اس کے اندر تو اکثر فقہاء اس کی تخصیص جائز قرار دیتے ہیں بھئی، اس کی تخصیص... وجہ یہ کہ یہ جو علت مستنبطہ ہے، علت مستنبطہ، اگر اس کی تخصیص کو جائز قرار دیا جائے، تو کیا خرابی لازم آئے گی؟ ابھی میں نے بیان کر دی، ہر مجتہد کو مصیب کہنا پڑے گا، وہ کہے گا میری علت تو بالکل ٹھیک ہے، بالکل مؤثر ہے، اسی کی وجہ سے حکم آتا ہے، لیکن جو فلاں جگہ پر علت ہے اور حکم نہیں آ رہا، وہ اس کی وجہ ایک مانع پایا جا رہا ہے، تو ہر مجتہد کو مصیب کہنا پڑے گا، حالانکہ مجتہد مصیب جیسے ہو سکتا ہے، اسی طرح مخطی بھی تو ہو سکتا ہے۔ جبکہ جس علت پر نص آئی ہو، وہاں تو وہ علت برحق ہے، وہاں تو خطا کا کوئی احتمال ہی نہیں، جب اس میں خطا کا احتمال نہیں، تو وہاں لہٰذا اگر تخصیص آ بھی جائے تو کوئی خرابی لازم نہیں آتی، لیکن یہاں اگر تخصیص آ جائے تو پھر خرابی لازم آتی ہے، وہ تو ہے ہی برحق، وہ تو ہے ہی ٹھیک بھئی، اس والی کے اندر خطا کا بھی احتمال تھا جو مجتہد نے مستنبط کی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ فرق دونوں میں سمجھ میں آیا بھئی؟
کہتے ہیں: وَإِنَّمَا قُيِّدَتِ الْعِلَّةُ بِالْمُسْتَنْبَطَةِ، علت کو مقید کیا گیا مستنبطہ کی قید کے ساتھ، لِأَنَّ الْعِلَّةَ الْمَنْصُوصَةَ ذَهَبَ إِلَى تَخْصِيصِهَا كَثِيرٌ مِنَ الْفُقَهَاءِ، اس لیے کیونکہ جو علت منصوصہ ہے اس کی تخصیص کی طرف بہت سے فقہاء گئے ہیں، لِأَنَّ الزِّنَا وَالسَّرِقَةَ عِلَّةٌ لِلْجَلْدِ وَالْقَطْعِ، اس لیے کیونکہ زنا اور چوری جو ہیں وہ علت ہیں کوڑے لگنے اور ہاتھ کاٹنے کے، وَمَعَ ذَلِكَ لَا يُجْلَدُ وَلَا يُقْطَعُ فِي بَعْضِ الْمَوَاضِعِ لِمَانِعٍ، اس کے باوجود کوڑے نہیں لگائے جاتے اور ہاتھ نہیں کاٹا جاتا بعض جگہوں کے اندر کسی مانع کی وجہ سے، مثلاً بھئی، مثلاً جس پر حد واجب ہوئی ہے اس نے اقرار کیا تھا حد کا، کس زنا کا اقرار کیا تھا، یا جس پر، جس کا ہاتھ کاٹا جا رہا ہے انہوں نے خود کیا کیا تھا؟ اقرار کیا تھا، قاضی نے فیصلہ دے دیا، لیکن عین کوڑے لگنے سے پہلے یا ہاتھ کٹنے سے پہلے انہوں نے اپنے قول سے رجوع کر لیا کہ ہم نے تو چوری نہیں کی، یا میں وہ دوس... وہ شخص کہتا ہے میں نے تو زنا نہیں کیا، تو کہتے ہیں فوراً حد ساقط ہو جائے گی، بھئی کیوں حد کیوں ساقط ہو گی؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ حد ادنیٰ شبہے سے بھی ساقط ہو جاتی ہے، اس نے پہلے کہا تھا میں نے یہ جرم کیا ہے، اب کہہ رہا ہے نہیں کیا، تو شبہ آ گیا یا نہیں؟ شبہ آ گیا کہ پتہ نہیں کیا ہے یا نہیں کیا بھئی، تو ادنیٰ شبہے سے بھی حد کیا ہو جایا کرتی ہے؟ ساقط۔ یا اسی طرح دار الحرب کے اندر کوئی شخص چوری کرتا ہے یا زنا کرتا ہے، اب وہاں پر بھی کوڑے بھی نہیں لگیں گے اور ہاتھ بھی نہیں، کیوں نہیں کاٹا جائے گا؟ کیونکہ وہ تو خلیفۃ المسلمین کی ولایت میں ہی نہیں ہے بھئی، اس پر کیسے وہ کوڑے لگائے گا اس کو یا اس پر کیسے حد جاری کرے گا؟ تو دیکھو مانع آ گیا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا، تو چوری کی علت... جو چوری کی جو حد ہے وہ قطع، قطع کی علت تو چوری ہی ہے، لیکن دیکھو چوری پائی جا رہی ہے لیکن قطع والا حکم نہیں ہے۔ حد زنا کی علت زنا ہی ہے، لیکن دیکھو زنا پایا جا رہا ہے اور حد زنا نہیں ہے، تو وہ جو علت منصوصہ ہے اس میں تو غلطی کا احتمال ہی نہیں ہے، ان کی تو علت ہی یہی تھی، لیکن پھر بھی ایک مانع کی وجہ سے حکم نہ آیا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جبکہ مجتہد اگر یوں کہے گا، پھر تو ہر مجتہد کو مصیب کہنا پڑے گا بھئی، ہر ایک کہے گا میری علت برحق لیکن ایک مانع آیا جس نے حکم کو نہیں آنے دیا بھئی۔
وَذَلِكَ، أَيْ: بَيَانُ تَخْصِيصِ الْعِلَّةِ، ذَالِكَ کا مشار الیہ بیان کر دیا، یعنی تخصیص العلت کا بیان یہ ہے: أَنْ يَقُولَ، کہ یوں کہے مجتہد بھئی، یہ متن میں آ رہا ہے مولانا، پہلے بھی یہ بات گزری تھی کہ تخصیص العلت کا بیان تو آ چکا لیکن وہ شرح میں آیا تھا بھئی، متن میں نہیں، متن میں اب بیان کر رہے ہیں، أَنْ يَقُولَ: کہ یوں کہے مجتہد، كَانَتْ عِلَّتِي تُوجِبُ ذَلِكَ، کہ میری علت، تُوجِبُ، أَيْ: تُثْبِتُ ذَلِكَ، وہ اس حکم کو ثابت کرتی ہے، لَكِنَّهُ لَمْ يَجِبْ، لیکن وہ حکم ثابت نہیں ہوا، مَعَ قِيَامِهَا، باوجود اس علت کے پائے جانے کے، لِمَانِعٍ، کسی مانع کی وجہ سے، فَصَارَ الْمَحَلُّ الَّذِي لَمْ يَثْبُتِ الْحُكْمُ فِيهِ مَخْصُوصًا مِنَ الْعِلَّةِ بِهَذَا الدَّلِيلِ، تو وہ محل جس میں حکم ثابت نہیں ہوا، وہ مخصوص ہو گیا اس علت سے اس دلیل کی وجہ سے، اس کی تخصیص ہو گئی بھئی، اس محل کی تخصیص ہو گئی اس علت کی بنا پر۔ بھئی دیکھیے! حکم، یہ علت جہاں جہاں پائی جائے گی وہاں وہاں حکم آنا چاہیے، مجتہد نے اگر ایک علت بیان کی ہے تو جہاں جہاں علت پائی جائے وہاں حکم آنا چاہیے، فرض کرو پانچ جگہیں آ رہی ہیں جہاں پر یہ علت پائی جا رہی ہے، جہاں پر، لیکن یہ پانچویں جگہ اس پانچ میں سے چار جگہ تو علت بھی ہے، حکم بھی ہے، پانچویں جگہ پر علت ہے اور حکم نہیں، تو یہ جو پانچویں جگہ ہے، اس کو اس، اس محل کی اس علت سے تخصیص کر لی گئی، کیا کر لی گئی؟ کس وجہ سے تخصیص کر لی گئی؟ اس دلیل کی وجہ سے، کیا دلیل اس نے ذکر کی تھی؟ کہ مانع آ گیا، علت میری ٹھیک ہے، حکم بھی آنا چاہیے، لیکن کیا آ گیا یہاں پر؟ مانع، تو اس پانچویں محل کی تخصیص ہو گئی اس دلیل کی وجہ سے وہ جو مانع والی دلیل ذکر کی بھئی، یہ معنی ہے: فَصَارَ الْمَحَلُّ الَّذِي لَمْ يَثْبُتِ الْحُكْمُ فِيهِ مَخْصُوصًا مِنَ الْعِلَّةِ بِهَذَا الدَّلِيلِ، کہ وہ محل جس کے اندر حکم ثابت نہیں ہوا، وہ مخصوص ہو گیا اس علت سے اس دلیل کی وجہ سے، وَعِنْدَنَا عَدَمُ الْحُكْمِ بِنَاءً عَلَى عَدَمِ الْعِلَّةِ، اور ہمارے نزدیک عدم حکم جو ہے وہ بنا بر عدم علت کے ہے۔ ہمارے نزدیک عدم حکم بنا بر عدم علت کے ہو گا، انہوں نے کیا کہا تھا؟ علت پائی جا رہی ہے، لیکن حکم نہیں پایا جا رہا، تو وہ کہتے تھے علت موجود ہے، صرف کس چیز کا انکار کرتے تھے؟ حکم نہیں پایا جا رہا، اور وجہ کیا ہوتی تھی؟ مانع ہے، ہمارے نزدیک ہم یوں کہیں گے کہ علت ہی نہیں موجود، ہم کیا کہیں گے؟ تو ہم یوں کہیں گے کہ حکم کیوں نہیں ہے؟ ہم کہیں گے علت ہی نہیں ہے، جب علت ہی نہیں ہے تو بات ہی ختم ہو گئی، ہمارا تو دعویٰ ہی کیا تھا؟ ہم نے حکم کے... حکم کے لیے مؤثر کس چیز کو بنایا تھا؟ علت کو، تو جہاں علت ہو گی ہم نے کہا حکم بھی آئے گا، جہاں علت نہیں ہو گی ظاہر سی بات ہے وہاں حکم بھی نہیں، تو ہم کہیں گے یہاں پر علت ہی نہیں ہے، اس وجہ سے حکم نہیں آ رہا بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَعِنْدَنَا عَدَمُ الْحُكْمِ بِنَاءً عَلَى عَدَمِ الْعِلَّةِ، اور ہمارے نزدیک عدم حکم جو ہو گا وہ بنا بر عدم علت کے ہو گا، بِأَنْ يَقُولَ، بائیں طور کہ مجتہد یہ کہتا ہے: لَمْ تُوجَدْ فِي مَحَلِّ الْخِلَافِ الْعِلَّةُ، کہ نہیں پائی گئی محل خلاف میں علت، ہم کہیں گے اس محل خلاف میں جس میں اختلاف ہے، اس میں علت ہی نہیں پائی جا رہی بھئی، لِأَنَّهَا لَمْ تَصْلُحْ كَوْنُهَا عِلَّةً مَعَ قِيَامِ الْمَانِعِ، اس لیے کیونکہ وہ علت بننے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی مانع کے پائے جانے پائے جاتے ہوئے بھئی، جب مانع پایا جا رہا ہو، آپ یہ کہتے ہیں کہ آپ کی علت ٹھیک ہے، لیکن حکم کیوں نہیں آیا؟ مانع کی وجہ سے، مانع کی وجہ سے، تو مانع، بھئی ہونا تو یہ چاہیے تھا جہاں علت ہو آپ کی وہاں کیا آنا چاہیے؟ حکم، لیکن اگر آپ مانتے ہیں، خود بھی تسلیم کرتے ہیں کہ علت پائی جا رہی ہے لیکن حکم، معلوم ہوا اس میں جس چیز کو آپ نے علت بنایا یہ علت بننے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی، اگر یہ علت بننے کی صلاحیت رکھتی، تو جہاں کہیں دنیا میں یہ علت پائی جائے وہاں پر کیا آنا چاہیے؟ حکم آنا چاہیے، ہم نہیں مانتے مانع کی وجہ سے نہیں آیا، نہیں بھئی۔
جہاں بھی جب آپ نے اس کو علت بنایا تو جہاں بھی یہ علت پائی جائے کیا ہونا چاہیے؟ حکم آنا چاہیے بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ جواب کہہ رہے ہیں علت ہے اور حکم کیوں نہیں؟ مانع کی وجہ سے، مانع یہ ہے آپ نے گویا خود اقرار کر لیا کہ حکم ہے لیکن علت نہیں ہے۔ معلوم ہوا یہ علت بننے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی اگر یہ علت ہوتی تو جہاں یہ پائی جاتی وہاں پر حکم ضرور پایا جاتا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
یہ معنی ہیں: "لأنها لم تصلح كونها علة" اس لیے کیونکہ وہ علت ہونے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی "مع قيام المانع" ساتھ مانع کے پائے جانے کے، "فإن قيل" پس اس پر اگر یہ کہا جائے
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ "أيضاً يلزم تصويب كل مجتهد" کہ اس صورت میں بھی ہر مجتہد کو مصیب قرار دینا لازم آئے گا "إذ لا يعجز أحد عن أن يقول لم تكن العلة موجودة هاهنا" آپ نے ہمارے اوپر کیا اعتراض کیا تھا بھئی؟
جن جو تخصیص العلة کے قائلین ہیں کیا اعتراض ہم نے کیا تھا کہ آپ کی تخصیص العلة کو مان لیا جائے تو کیا خرابی لازم آئے گی؟ ہر مجتہد کو مصیب کہنا پڑے گا تو وہ کہتے ہیں اگر یہ اعتراض کریں کہ آپ کے قول پر بھی یہ خرابی لازم آتی ہے۔ آپ نے کیا کہا؟ کہ ہمارے نزدیک حکم کیوں نہیں آئے گا؟ کیونکہ علت نہیں۔ ہم کہیں گے علت ہی نہیں پائی جا رہی، تو کہتے ہیں اس صورت میں بھی تو ہر مجتہد کو مصیب کہنا پڑے گا، جہاں پر بھی ایسا ہو گا دوسرا مجتہد کیا کہہ دے گا؟ یہاں علت ہی نہیں پائی جا رہی اس لیے حکم نہیں آیا بھئی، یہ بھی تو ہر ایک کہہ سکتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟
کہتے ہیں "فإن قيل" اگر یہ اعتراض کیا جائے "على هذا أيضاً يلزم تصويب كل مجتهد" کہ اس بناء پر بھی لازم آئے گا ہر مجتہد کو مصیب قرار دینا "إذ لا يعجز أحد عن أن يقول لم تكن العلة موجودة" اس لیے کیونکہ کوئی بھی مجتہد اس بات سے عاجز نہیں ہے کہ وہ یوں کہہ دے کہ علت موجود ہی نہیں ہے یہاں پر، یہ تو ہر ایک مجتہد کہہ سکتا ہے کہ یہاں پر علت ہی نہیں ہے اس سے حکم نہیں آیا۔ "أجيبت" جواب دیا گیا "بأن في بيان المانع يلزم التناقض"
بھئی ہم کہیں گے بڑا فرق ہے ہماری اور مخالف فریق کی بات کے اندر۔ ہم نے تو کہا علت ہی نہیں ہے اس لیے حکم بھی نہیں۔
تو ہمارے کلام میں تناقض نہیں آیا۔ ہم نے پہلے کیا کہا تھا؟ جہاں علت ہو گی وہاں حکم، اب ہم کیا کہہ رہے ہیں؟ جہاں علت، یہاں علت ہی نہیں ہے اس لیے حکم بھی نہیں، ہمارے کلام میں کوئی تناقض نہیں ہے۔ لیکن ان کے کلام میں تو تناقض آ رہا ہے۔ انہوں نے کیا کہا تھا؟ یہ علت ہے معلوم ہوا جہاں علت ہو گی وہاں حکم اور اب آگے جا کر کہہ رہے ہیں علت تو ہے لیکن حکم نہیں، تو دونوں میں کیا لازم آیا؟ تناقض لازم آیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
"وأجيب" جواب دیا گیا "بأن في بيان المانع" کہ مانع کے بیان کے اندر "يلزم التناقض" تناقض لازم آتا ہے "إذا ادعى أولاً صحة العلة" کہ پہلے اس مجتہد نے دعویٰ کیا اپنی علت کے صحیح ہونے کا "ثم بعد ورود النقض" پھر اس کے بعد اعتراض کے وارد ہونے کے بعد "ادعى المانع" اس نے کس کا دعویٰ کر دیا؟ مانع کا دعویٰ کر دیا "فلا يقبل أصلاً" لہذا اس کی بات کو سرے سے قبول ہی نہیں کیا جائے گا "بخلاف بيان عدم وجود الدليل" بر خلاف دلیل کے نہ پائے جانے کو بیان کرنا "إذ لا يلزم فيه التناقض" کیونکہ اس میں تناقض لازم نہیں آتا "فلذلك يقبل" اس وجہ سے اس کو قبول کیا جائے گا۔ ان کی بات لیں تو ان کی بات میں تناقض لازم آتا ہے۔ پہلے کہہ رہے ہیں جہاں علت ہو گی وہاں حکم، اب آگے چل کے کہہ رہے ہیں علت ہے لیکن حکم نہیں ہے تو یہ تناقض آیا، ہمارے میں اس طرح نہیں۔
"وبیان ذلك في الصائم" اب مثال بیان کر رہے ہیں جس سے دونوں مذہبوں کی وضاحت ہو جائے گی "وبیان ذلك في الصائم" اور اس کا بیان جو ہے
یہ جو تخصیص العلة کا بیان ان کے نزدیک تخصیص العلة کی وجہ سے حکم نہیں آیا اور ہمارے نزدیک عدم علت کی وجہ سے حکم نہیں آیا کہتے ہیں اس کا بیان "في الصائم" روزہ دار میں ہو گا "إذا صب الماء في حلقه" جب پانی ڈالا گیا اس کے حلق میں، روزہ دار کے حلق میں کیا ڈالا گیا؟ پانی "بالإكراه" اکراہ کے ذریعے زبردستی کرتے ہوئے "أو في النوم" یا نیند میں "فإنه يفسد الصوم" تو یہ اس کے روزے کو فاسد کر دے گا "لفوات ركنه" بوجہ روزے کے رکن کے فوت ہو جانے کے کیونکہ روزے کا رکن ہی فوت ہو گیا بھئی وہ کیا ہے رکن؟ کہتے ہیں "وهو الإمساك" رکن کیا تھا بھئی؟
کیا تھا؟ کھانے، پینے اور صحبت سے رکنا، تو یہ جو رکن تھا روزے کا جب پانی حلق میں ڈال دیا چاہے اکراہ کے ذریعے چاہے وہ سویا ہوا تھا نیند میں ڈال دیا گیا تو پانی حلق سے گزر گیا پیٹ تک پہنچ گیا تو امساک نہ رہا بھئی، حالانکہ امساک تو روزے کا رکن تھا، ان سے رکا رہے تو رکنا نہ پایا گیا بھئی۔
"ويلزم عليه الناسي" اور اس پر ناسی کا اعتراض لازم آتا ہے۔
جو بھولے سے کھا پی لے بھئی، ایک تو یہ شخص ہے جس کو زبردستی کھلایا پلایا گیا یا نیند میں اس کے حلق میں پانی ڈال دیا گیا اور ایک وہ شخص ہے جس نے بھولے سے کھایا پیا ہے، بھولے سے کھایا پیا ہے، تو اب روزہ ٹوٹنے کی علت کیا ہے؟
عدمِ امساک، کیا ہے؟ عدمِ امساک، اور ناسی یہ جو بھولے سے کھا پی رہا ہے اس کا آپ بھی کہتے ہیں روزہ ہے بعد میں بھی اور ہمارے نزدیک بھی اس کا روزہ نہیں ٹوٹا، روزہ ہے، حالانکہ علت پائی جا رہی ہے عدمِ امساک پایا جا رہا ہے لیکن پھر بھی حکم روزہ ٹوٹنے کا نہیں پایا جا رہا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہاں پر وہ کہیں گے
ان کے ذمے بھی جواب، ہمارے ذمے بھی جواب۔ وہ جواب میں کہیں گے کہ یہاں مانع آ گیا۔
کیا آ گیا؟ مانع۔
علت ہماری کہیں گے بالکل ٹھیک ہے روزہ ٹوٹنے کی علت کیا ہے؟ عدمِ امساک، جہاں عدمِ امساک آئے گا وہاں روزہ ٹوٹ روزہ ٹوٹنا لازم آئے گا لیکن یہاں عدمِ امساک تو پایا گیا، علت تو پائی گئی لیکن روزہ ٹوٹنے کا حکم نہیں آیا، کیوں نہیں آیا؟ ان کے نزدیک وہ کیا کہیں گے؟ مانع آ گیا اور وہ مانع کیا ہے؟ کہتے ہیں وہ حدیث ہے کہ وہ ایک شخص نے اسی طرح بھولے سے کھا پی لیا تھا اور پھر حضور علیہ السلام کے پاس پوچھنے کے لیے آیا تو حضور نے فرمایا "أتم على صومك" کہ تم اپنے روزے کو پورا کرو "فإنما أطعمك الله وسقاك" اللہ نے تمہیں کھلایا اور پلایا ہے۔
تو دیکھیے حضور علیہ السلام فرما رہے ہیں تو اپنے روزے کو پورا کرو معلوم ہوا روزہ نہیں ٹوٹا بھئی۔
تو وہ کہتے ہیں
توجہ ہے سب کی طرف؟ وہ کہتے ہیں
روزہ ٹوٹنے کی علت کیا ہے؟ روزہ ٹوٹنے کی علت عدمِ امساک ہے اور عدمِ امساک جہاں بھی پایا جائے گا روزہ ضرور ٹوٹے گا یا حکم آ جائے گا روزہ ٹوٹنے کا لیکن جو بھولے سے کھا پی رہا ہے وہاں علت تو پائی جا رہی ہے عدمِ امساک تو ہے لیکن اس کے باوجود حکم روزہ ٹوٹنے کا نہیں آئے گا، کیوں نہیں آیا؟ مانع کی وجہ سے، گویا ان کا مطلب یہ علت موجود ہے اور حکم نہیں موجود بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
ہم جواب دیتے ہیں، ہمارے نزدیک بھی روزہ ٹوٹنے کی علت عدمِ امساک ہے، عدمِ امساک، تو اب ہم پر بھی اعتراض ہوا کہ بھولے سے جو کھا پی لے وہاں عدمِ امساک تو ہے لیکن روزہ تو نہیں ٹوٹا، حکم تو نہیں آیا، ہم کہتے ہیں نہیں یہاں عدمِ امساک ہے ہی نہیں، ہم کیا کہتے ہیں؟ عدمِ امساک ہے ہی نہیں، یہاں وہاں روزے کا رکن فوت ہوا تھا مکرہ میں اور نائم کے اندر لیکن یہاں پر عدمِ امساک ہے ہی نہیں۔
فواتِ رکن ہے ہی نہیں بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہ امساک نہ پایا جائے۔ کس طرح؟ ہم کہتے ہیں حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں؟ "فإنما أطعمك الله وسقاك" اللہ نے تمہیں کھلایا اور پلایا ہے، تو یہاں پر یہ ناسی کے کھانے اور پینے کی نسبت کس کی طرف کر دی گئی؟ اللہ کی طرف یعنی شارع کی طرف کر دی گئی یعنی صاحبِ حق کی طرف کر دی گئی، کس کی طرف؟ صاحبِ حق کی طرف کر دی گئی اور صاحبِ حق کو تو حق ہے وہ اپنا حق معاف کر سکتا ہے۔ صاحبِ حق کو تو حق ہے وہ اپنا حق معاف کر سکتا ہے، تو یہ امساک جو تھا یہ کس کا حق تھا؟ یہ اللہ کا حق تھا، اللہ ہی نے اس حق کو چھوڑ دیا، اللہ ہی نے اس کو کھلایا اور پلایا ہے، تو اس فعل کی نسبت ناسی کی طرف کی ہی نہیں جاتی بلکہ کس کی طرف کی جاتی ہے؟ شارع کی طرف یعنی اللہ کی طرف کی جاتی ہے، جب اللہ نے اس کو کھلایا اور پلایا ہے تو جنایت نہیں پائی گئی، جب جنایت نہیں پائی گئی تو روزہ بھی نہیں ٹوٹے گا، یوں سمجھیں گے یوں کہا یوں کہیں کہ عدمِ امساک پایا ہی نہیں گیا حُکماً یہ ہم حکم لگا دیں گے، کیا حکم لگا دیا جائے گا؟ کہ عدمِ امساک ہے ہی نہیں، عدمِ امساک ہوتا تو ضرور روزہ ٹوٹ جاتا لیکن عدمِ امساک تو یہاں ہے ہی نہیں۔
حکماً عدمِ امساک نہیں ہے حکماً یہ حکم لگا دیا جائے گا کیونکہ اس کی نسبت کھانے اور پینے کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس کی طرف کی؟ اللہ تعالیٰ کی طرف کی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ان کے نزدیک
ان کے نزدیک روزہ
یا یوں کہیں حکم نہ آنے کی علت کیا ہوئی؟ مانع آ گیا۔ حکم کیوں نہیں آیا ان کے نزدیک؟ مانع آ گیا علت موجود ہے، ہمارے نزدیک سرے سے علت ہی نہیں موجود تھی بھئی، ہمارے نزدیک علت ہوتی تو ضرور حکم آ جاتا لیکن یہاں علت ہے ہی نہیں بھئی، بات اچھی طرح واضح ہو گئی؟
"ويلزم عليه الناسي" اور اس پر ناسی کا اعتراض لازم آتا ہے "فإنه لا يفسد صومه مع فوات ركنه حقيقة" کیونکہ اس کا روزہ جو ہے وہ فاسد نہیں ہوتا باوجود روزے کے رکن کے فوت ہو جانے کے حقیقتًا، حقیقتًا روزے کا رکن فوت ہو رہا ہے، وہ کھا رہا ہے اور پی رہا ہے بھئی اگرچہ بھولے سے ہے، "فيجيب" "فيجيب" ہونا چاہیے بھئی "فيجيب" "فيجيب عن هذا النقض" پس جواب دیتے ہیں اس اعتراض کا "كل واحد منا" ہر ایک، ہر ایک اس کا جواب دیتا ہے "منا" ہم میں سے بھی "وممن جوز تخصيص العلة" اور وہ فقہاء بھی جو تخصیص العلة کو جائز قرار دیتے ہیں "على طبق رأيه" اپنی رائے کے مطابق۔
"طبق" اور "طبَق" دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں بمعنی مطابق کے ہے یہ بھئی۔
تو یہ اعتراض ناسی والا ہم پر بھی ہوا اور
جو تخصیص العلة کو جائز قرار دیتے ہیں ان پر بھی ہوا، وہ بھی جواب دیں گے ہم بھی اس کا جواب دیں گے۔
"فمن أجاز خصوص العلل" پس جنہوں نے خصوص العلل کو جائز قرار دیا ہے "قال" وہ کہتے ہیں "امتنع حكم هذا التعليل ثمة لمانع" کہ ممتنع ہوا اس تعلیل کا حکم "ثمة" وہاں پر، یعنی کہاں پر؟
ناسی میں۔
اس تعلیل کا حکم
رک گیا
وہاں پر کہاں پر؟ ناسی میں اس کا حکم نہیں آیا "لمانع" کس وجہ سے؟ مانع کی وجہ سے، بھئی مانع کیا ہے؟ "وهو الأثر" اور وہ اثر یعنی حدیث ہے "يعني قوله عليه الصلاة والسلام" یعنی حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے "أتم على صومك فإنما أطعمك الله وسقاك" تو پورا کر اپنے روزے کو، تمہیں تو اللہ ہی نے کھلایا ہے اور پلایا ہے "مع بقاء العلة" باوجود علت کے باقی رہنے کے۔
وہ کہتے ہیں
کہ یہاں حکم جو نہیں آیا یہ مانع کی وجہ سے نہیں آیا "مع بقاء العلة" ساتھ علت کے باقی یعنی علت تو پائی جا رہی ہے وہ تو باقی ہے لیکن حکم کیوں نہیں آ رہا؟ مانع، اور وہ مانع کیا ہے؟ حدیث۔
"وقلنا" اور ہم کہتے ہیں "امتنع الحكم لعدم العلة" کہ حکم رک گیا عدمِ علت کی وجہ سے، علت کے نہ ہونے کی وجہ سے "فكأنه لم يفطر" گویا کہ اس نے افطار کیا ہی نہیں "لأن فعل الناسي منسوب إلى صاحب الشرع" اس لیے کیونکہ ناسی کا جو فعل ہے وہ منسوب ہے صاحبِ شریعت کی طرف "فسقط عنه معنى الجناية" تو ساقط ہوا اس ناسی سے جنایت کا معنی۔
ساقط ہوا ناسی سے جنایت کا معنی یعنی جرم والا معنی اس میں پایا ہی نہیں گیا، جب اللہ خود کھلا پلا رہے ہیں تو اس نے جرم گویا کیا ہی نہیں بھئی۔
"وبقي الصوم لبقاء ركنه" اور روزہ باقی رہا "لبقاء ركنه" بوجہ اپنے رکن کے باقی رہنے کے، کیونکہ عدمِ امساک تو ہے ہی نہیں امساک ہی امساک ہے یہاں پر، تو حکماً یہ رکن باقی ہے "لا لمانع مع فوات ركنه" نہ کہ
کسی مانع کی وجہ سے ساتھ اپنے رکن کے فوت ہو جانے کے۔
یہ ان کے نزدیک تھا نا، ہمارے نزدیک روزہ ابھی بھی باقی، کیوں باقی؟ کیونکہ اس کا رکن باقی ہے، ان کے نزدیک بھی روزہ باقی لیکن باوجود کس کے؟ رکن کے فوت ہو جانے کے باوجود بھی ان کے نزدیک روزہ باقی ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
یہ معنی ہیں "مع فوات ركنه"، "لا لمانع مع فوات ركنه" یہ ان کی طرف اشارہ ہے کہ ہمارے نزدیک روزہ باقی رہا رکن کے باقی رہنے کی وجہ سے "لا لمانع مع فوات ركنه" نہ کہ اس وجہ سے جس کے قائل وہ دوسرے لوگ ہیں کہ مانع پایا گیا باوجود رکن کے، ان کے نزدیک رکن فوت ہو گیا تھا لیکن پھر بھی روزہ نہیں ٹوٹا حکم نہیں آیا، ہمارے نزدیک رکن فوت ہی نہیں ہوا بھئی۔
"كما زعم مجوز تخصيص العلة" جیسے کہ گمان کیا ہے تخصیص العلة کو جائز قرار دینے والے نے "فجعلنا ما جعله الخصم مانعاً للحكم دليلاً على عدم العلة" "فجعلنا" توجہ رکھنا عبارت پر بھئی، ہم نے قرار دیا "ما" اس چیز کو "جعله الخصم مانعاً للحكم" جس کو فریقِ مخالف نے مانع للحکم قرار دیا تھا،
جس چیز کو
جس چیز کو فریقِ مخالف نے مانع للحکم قرار دیا تھا ہم نے اس کو بنا دیا "دليلاً على عدم العلة" عدمِ علت پر دلیل، وہی چیز وہی دلیل ان کی بھی حدیث وہی حدیث ہماری بھی دلیل، لیکن انہوں نے حدیث کو دلیل بنایا کس چیز پر؟ مانع للحکم ہونے کے لیے اور ہم نے حدیث کو دلیل بنایا کس چیز کے لیے؟ عدمِ علت کے، اسی حدیث کو انہوں نے مانع للحکم کی دلیل بنایا کہ یہ مانع ہے حکم کو نہیں آنے دے رہی اور ہم نے اسی حدیث کو دلیل بنایا کس چیز کی؟ عدمِ علت کی کہ علت ہی نہیں پائی جا رہی تو حکم کہاں سے آئے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
"ويبنى على هذا" "أي على بحث تخصيص العلة" اور مبنی ہے اسی پر، کس پر بھئی؟ مشار علیہ بتلا رہے ہیں "أي بحث تخصيص العلة بالمانع" یہ جو علت کی تخصیص مانع کی وجہ سے اس کی جو بحث ہے، تخصیص العلة بالمانع کی جو بحث ہے اسی پر بنیاد ہے کس چیز کی؟ "تقسيم موانع" موانع کی تقسیم کی بھئی موانع کی۔
یہ جو "بالمانع" پر لکیر ہے متن میں
یہ متن کا حصہ نہیں یہ شرح کا حصہ ہے "ويبنى على هذا تقسيم الموانع" بھئی دیکھیے مانع کی بات پیچھے آئی تھی۔ کس کی بات آئی تھی؟ تخصیص العلة کس وجہ سے کی کے قائل وہ کس وجہ سے تھے؟ مانع کی وجہ سے، تو اب اسی مانع کی تفصیل بیان کرنے لگے ہیں صاحبِ متن کہ مانع کل پانچ قسم پر ہیں بھئی۔ کتنے قسم پر؟ پانچ، تو یہ چونکہ ربط ہے تو اب مانع کا ذکر آ چکا تھا تو اب اس کی قسمیں بھی ذکر کر رہے ہیں کہتے ہیں "ويبنى على هذا" "أي على بحث تخصيص العلة بالمانع تقسيم الموانع" اور اسی پر بنیاد ہے یعنی یہ جو تخصیص العلة بالمانع کی بحث ہے اسی پر بنیاد ہے موانع کی تقسیم کی "وهي خمسة" اور یہ موانع کتنے ہیں؟ پانچ ہیں "مانع يمنع انعقاد العلة" ایک ایک وہ مانع جو روک دیتا ہے علت کو منعقد ہونے سے ہی "كبيع الحر" جیسے کہ آزاد آدمی کی بیع۔
بھئی دیکھیے پانچ موانع بیان کریں گے۔ ایک مانع وہ ہے جو علت کو علت بننے ہی نہیں دیتا، ایک وہ مانع ہے، توجہ ہے سب کی طرف؟ ایک وہ مانع ہے جو مانع کو علت بن بننے ہی نہیں دیتا اور ایک وہ مانع ہے جو علت کو منعقد ہونے سے تو نہیں روکتا لیکن اس علت کو تام نہیں ہونے دیتا پورا نہیں ہونے دیتا، ایک مانع وہ ہے جو
علت کو علت کو علت بننے نہیں دیتا۔ منعقد ہونے ہی نہیں دیتا بھئی۔ علت منعقد ہوگی تو حکم آئے گا۔ علت نہیں منعقد تو حکم بھی نہیں۔ تو ایک مانع وہ ہے جو علت کو منعقد ہی نہیں ہونے دیتا۔ ایک مانع وہ جو علت کو منعقد تو ہونے دے رہا ہے لیکن اس کو پورا نہیں ہونے دے رہا۔ ادھوری رہتی ہے علت۔ علت جب تک پوری نہیں ہوگی تو حکم بھی لازمی بات ہے نہیں آئے گا۔ پہلی صورت میں تو علت کو علت بننے ہی نہیں دیا، منعقد ہونے ہی نہیں دیا، جب علت نہیں آئے گی تو حکم بھی نہیں۔ ایک وہ مانع ہے جو علت کو منعقد تو ہونے دیتا ہے لیکن اس کو پورا نہیں ہونے دیتا وہ ادھوری رہتی ہے، ادھوری رہتی ہے وہ علت۔ جب علت ادھوری ہے پوری نہیں ہے تو حکم پھر بھی نہیں آئے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تیسری صورت ذکر کریں گے۔ ایک وہ مانع ہے جو ابتداء حکم کو روکتا ہے کس چیز کو؟ علت پائی گئی لیکن ایک مانع آ گیا جس نے حکم کو نہیں آنے دیا، حکم کی ابتداء ہی نہیں ہو رہی۔ چوتھی قسم وہ ہے وہ مانع جو حکم کو پورا نہیں ہونے دیتا۔ علت آ گئی، علت کے بعد حکم بھی آ گیا لیکن پورا نہیں ہونے دیا اس حکم کو ادھورا، تو بھی حکم پورا نہ ہوا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی، مانع آگیا۔ اور پانچواں مانع ہے جو علت آ گئی، علت کو بھی نہیں روکتا، اس کو پورا ہونے، منعقد ہونے سے بھی نہیں روکتا، اس کو پورا ہونے سے بھی نہیں روکتا، حکم کی ابتدا کو بھی نہیں روکتا، حکم کو تام ہونے سے بھی نہیں روکتا۔ ہاں حکم کو لازم ہونے سے روک دیتا ہے۔ کس چیز سے؟ لازم ہونے۔ توجہ ہے یہ ساری متن کی تشریح کر رہا ہوں۔ متن پہ اگر آپ نظر رکھیں، یہی باتیں بیان ہوئی ہیں متن میں۔ کتنے قسم کے مانع ہیں؟ پانچ۔ ایک وہ مانع ہے جو علت کو منعقد ہی نہیں ہونے دیتا۔ دیکھو یہ ہے علت، یہ ہے حکم۔ علت آئے گی تو حکم بھی آ جائے گا۔ حکم بھی آ جائے گا۔ لیکن مانع آتے ہیں بھئی۔ موانع بعض صورتوں میں حکم سے کو روک دیتے ہیں۔ تو یہ مانع جو ہیں کہتے ہیں یہ پانچ قسم پر ہے۔ کبھی ایک مانع ایسا ہوگا جو یہ پہلی چیز علت اس کو آنے ہی نہیں دے رہا، منعقد ہی نہیں ہونے دے رہا۔ جب علت نہیں آئے گی تو حکم بھی نہیں۔ دوسرے قسم ہے علت کو منعقد تو ہونے دے رہا ہے لیکن پورا نہیں ہونے دے رہا۔ جب علت پوری نہیں ہوگی لازمی بات ہے تو حکم بھی نہیں آئے گا۔ لہذا اس نے بھی حکم کو روک دیا۔ تیسری قسم وہ ہے جو علت کو تو نہیں روکتی، علت کو منعقد بھی ہونے دے رہی ہے، علت کو پورا بھی ہونے دے رہی ہے لیکن آگے حکم کو نہیں آنے دے رہی، ابتداء حکم ہی نہیں ہو رہی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ چوتھی قسم کہ وہ مانع جو علت کو بھی منعقد ہونے سے نہیں روکتا، علت کو پورا ہونے سے بھی نہیں روکتا، ابتداء حکم کو بھی نہیں روکتا، لیکن حکم کو تام ہونے سے روک دیتا ہے۔ حکم کو تام ہونے سے تو اس صورت میں بھی حکم نہیں آئے گا۔ پانچویں قسم علت کو منعقد ہونے سے بھی نہیں روکتا، علت کو تام ہونے سے بھی نہیں روکتا، حکم کی ابتداء کو بھی نہیں روکتا، حکم کے تام ہونے کو بھی نہیں روکتا، حکم بھی تام ہو جاتا ہے لیکن حکم کے لزوم کو روک دیتا ہے۔ وہ حکم لازم نہیں ہوتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ پانچ قسم کے مانع ہیں۔ کہتے ہیں یہ پانچ ہیں مانع۔ ایک وہ مانع ہے جو روک دیتا ہے علت کے انعقاد ہی کو، بیع حُر جیسے آزاد آدمی کی بیع، پس جب بیع حُر، پس جب بیچا کسی نے آزاد آدمی کو، تو بیع منعقد ہی نہیں ہوگی بھئی۔ بھئی ایک ہے بیع، ایک ہے اس کا حکم۔ بیع علت ہے اور حکم ہے ملکیت، مشتری چیز کا مالک بن جائے گا بھئی مشتری چیز کا۔ تو یہ جو آزاد آدمی کو بیچا تو بیع منعقد ہی نہیں ہوئی۔ کیونکہ بیع کے اندر ضروری ہے بدلین کا مال ہونا، دونوں بدلین کا مال ہونا ضروری ہے اور آزاد آدمی تو مال ہی نہیں ہے لہذا بیع کہتے کس کو تھے؟ مبادلۃ المال بالمال۔ لہذا جب آزاد آدمی تو مال ہی نہیں ہے تو مبادلۃ المال بالمال پایا ہی نہیں گیا، لہذا بیع پائی ہی نہیں گئی، علت ہی منعقد نہیں ہوئی۔ تو دیکھو یہ ایسا مانع آیا جس نے حکم کو علت کو منعقد ہونے ہی نہیں دیا۔ لہذا مشتری کو ملکیت بھی حاصل نہیں ہوگی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ اگرچہ ایک آدمی نے ایک آزاد آدمی کو پکڑا، لے گیا، دوسرے کے ہاتھ بیچ دیا، اس کو اس کے حوالے کر دیا، اس سے پیسے لے لیے لیکن صورت بیع ہے، حقیقت میں تو یہ بیع ہے ہی نہیں کیونکہ بیع کے لیے اندر کیا ضروری تھا؟ بدلین کا مال ہونا ضروری تھا اور یہاں جو مبیع جو بنایا گیا جس کو وہ آزاد آدمی ہے اس میں مال، وہ مال بن ہی نہیں سکتا، وہ مال ہے ہی نہیں بھئی، تو بیع منعقد نہیں۔ تو کہتے ہیں بیع منعقد نہیں ہوگی اور ان وجدا سورتاً اگرچہ بیع صورتاً، صورتاً بیع ہے لیکن حقیقتاً اور شرعاً بیع نہیں ہے۔ اور مانع یمنع تمام العلت اور ایک وہ مانع ہے جو روک دیتا ہے علت کو پورا ہونے سے، کبیع عبد الغیر بلا اذنہ جیسے کسی دوسرے کے غلام کو بیچ دینا اس کی اجازت کے بغیر۔ بھئی ایک آدمی ہے اس نے دوسرے کے غلام کو پکڑ کر بیچ دیا۔ اب کس چیز کو بیچ رہا ہے؟ غلام کو۔ غلام میں مبیع بننے کی صلاحیت ہے، غلام تو مال ہے بھئی، کیا ہے؟ تو یہ مال ہے۔ اب لیکن یہاں پر ایک مانع آ گیا یہ بیع تام نہیں ہوئی۔ علت بات ہم کر رہے ہیں نا علت کی۔ مانع کبھی علت پچھلی صورت میں تھا علت یعنی بیع کو منعقد ہی نہیں ہونے دیا۔ دوسری قسم صورت میں ہے علت یعنی بیع کو تام نہیں ہونے دے گا مانع، تو یہاں پر بھی بیع تام نہیں، بلکہ مالک کی اجازت پر موقوف ہے۔ منعقد ہو گئی ہے بیع بھئی۔ دلیل کیا منعقد ہو گئی ہے؟ دلیل یہ کہ مالک اگر مالک کو پتہ چلا اور اس نے اجازت دے دی تو نئے سرے سے بیع کی ضرورت نہیں، وہی بیع تام ہو جائے گی۔ معلوم ہوا بیع کیا ہو چکی؟ منعقد ہو چکی، صرف تام نہیں ہوئی تھی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ فانہ ینعقد شرعاً لوجود المِحل کیونکہ وہ بیع جو ہے منعقد ہو جائے گی شرعاً وبوجہ محل کے پائے جانے کے، کیونکہ غلام کیا ہے؟ بیع کا محل ہے، وہ مال ہے ولکنہ لا یتم لیکن وہ بیع تام نہیں ہوگی مالَم یوجَد رضا المالکی جب تک مالک کی رضامندی نہ پائی جائے اور عدّو ہاذین القسمین من قبیل تخصیص العلت مسامحۃ من فخر الاسلام یہ ایک شعبے کا جواب دے رہے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں کہ یہ موانع کی بحث چل رہی ہے اور کون سے موانع بھئی جن کی وجہ سے تخصیص العلت ہوتی ہے؟ جس کی وجہ سے تخصیص العلت اور تخصیص العلت کس کو کہتے تھے؟ علت پائی جائے اور حکم نہ پائے اور یہاں پر پہلے دو مانع کے اندر تو علت ہی نہیں پائی جا رہی۔ تخصیص المانع تخصیص العلت میں تو کیا پڑھا تھا؟ علت پائی جائے لیکن کسی مانع کی وجہ سے حکم نہ پایا جائے اور یہاں تو علت ہی نہیں پائی جا رہی، کیونکہ ایک مانع اس نے علت کو آنے ہی نہیں دیا، دوسرے مانع اس نے علت کو پورا ہی نہیں ہونے دیا، جب علت ہی پوری نہیں ہے تو حکم کہاں سے آئے یا علت پائی ہی نہیں جا رہی تو حکم کہاں سے آئے؟ تو اس کو اس بحث کے اندر ذکر کرنا، کہتے ہیں یہ علامہ فخر الاسلام جو ہیں ان کے تساحات میں سے ہے، انہوں نے ذکر کیا ہے تو باقی علماء بھی ذکر کر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں و عدّو ہاذین القسمین من قبیل تخصیص العلت مسامحۃ اور شمار کرنا ان دو قسموں کو جو مانع کی پہلی دو قسمیں آئیں ان کو شمار کرنا من قبیل تخصیص العلت تخصیص العلت کے قبیل سے، مسامحہ یہ مسامحت ہے، سستی ہے، کوتاہی ہے جو نشأت من فخر الاسلام جو پیدا ہوئی کس سے؟ فخر الاسلام رحمہ اللہ سے، لأن التخصیص کیونکہ تخصیص، کیونکہ تخصیصہ وہ تخلق الحکم مع وجود العلت، اسی کیوں کیونکہ تخصیص کیونکہ تخصیص جو ہے وہ تو حکم کا پیچھے رہ جانا ہے باوجود علت کے پائے جانے کے کہ علت پائی جائے اور حکم نہ پایا حکم نہ پایا جائے و ہاہُنا لم توجد العلت اور یہاں پر تو علت ہی نہیں پائی گئی بھئی، الا أن یقال مگر یہ کہ یوں کہا جائے، یاد رکھیے الا ان یقال کے ذریعے ایک کمزور جواب ذکر کیا گیا ہے۔ مگر یہ کہ یوں کہا جائے کہ انھا وجدت صورتاً کہ علت صورتاً پائی گئی ہے، صورتاً بیع پائی گئی ہے، اگرچہ شرعاً بیع نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ وہ آزاد آدمی کو بیچا تھا، صورتاً تو بیع ٹھیک ہے نہیں تھی بھئی۔ غلام دوسرے کا بیچا تو صورتاً تو بیع ہے بھئی۔ اور بعضوں نے یہ جواب دیا کہ ٹھیک ہے یہ تخصیص کے تخصیص العلت کے سے خارج ہیں یہ دو قسمیں، لیکن چونکہ مانع کا ذکر آ رہا تھا، تو فخر الاسلام رحمہ اللہ نے پھر سارے مانع اکٹھے ذکر کر دیے تاکہ سارے قسمیں بیان ہو جائیں یہاں پر بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو کہتے ہیں یہ الا ان یقال مگر یہ کہ یوں کہا جائے انھا وجدت صورتاً کہ علت صورتاً پائی گئی ہے و ان لم تعتبر شرعاً اور اگرچہ شرعاً یہ معتبر نہیں ہے ولہذا عدل صاحب التوضیح صاحب التوضیح اور اسی وجہ سے عدل کیا صاحب توضیح نے، وہ پھر گئے۔ انہوں نے عبارت ہی بدل دی اپنی کتاب کے اندر بھئی، میں نے بیان کیا تھا توضیح احناف کی اصول فقہ میں نہایت مضبوط کتاب ہے، جگہ جگہ صاحب نور الانوار بھی اس کا حوالہ دیتے ہیں۔ یہاں دیکھو اس عبارت پہ اعتراض ہوتا تھا اعتراض کہ یہ تو دیکھو مانع کی بحث چل رہی ہے اور کون سا مانع مراد تھا؟ جو علت کے پائے جانے کے بعد حکم کو نہ آنے دے اور یہاں پہلی دو قسموں میں تو وہ مانع ہی نہیں پائی جا رہی، کیونکہ وہ مانع کس کو روک رہا ہے؟ علت کو روک رہا ہے، ایک مانع علت کو منعقد ہی نہیں ہونے دے رہا، ایک مانع علت کو تام نہیں ہونے دے رہا، تو لہذا یہاں تو علت ہی نہیں پائی گئی، تو صاحب توضیح نے اسی اعتراض سے بچنے کے لیے عبارت ہی بدلی اور انہوں نے کہا کیا کہا دیکھیے آگے ذکر کر رہے ہیں۔ ولہذا عدل صاحب التوضیح الی ان جملۃ ما یوجب عدم الحکم خمسۃ صاحب توضیح پھر گئے اس بات کی طرف کہ وہ مجموعہ تمام چیزیں وہ جملہ چیزیں جو یوجب عدم الحکم جو ثابت کرتی ہیں عدم حکم کو خمسہ پانچ ہیں۔ یہ نہیں کہا مانع پانچ ہیں، بلکہ کیا کہا؟ مانع کی بات کرتے تو پھر تو اعتراض پڑتا، انہوں نے کیا کہا؟ وہ جملہ چیزیں جو عدم حکم کو ثابت کرتی ہیں، جن کی وجہ سے حکم نہیں آتا۔ تو مانع کا لفظ ہی نہیں انہوں نے اپنی عبارت میں ذکر کیا، لہذا ان پر اعتراض بھی وارد، انہوں نے اس بحث کو دوسرے انداز میں ذکر کیا ہے کہ مجموعہ وہ چیزیں جو عدم حکم کو ثابت کرتی ہیں پانچ ہیں، لئلا یرد علیہ ھذا الاعتراض تاکہ ان پر یہ اعتراض وارد نہ ہو۔ تیسرا جو ہے وہ مانع یمنع ابتداء الحکم وہ مانع جو ابتداء حکم کو روکتا ہے، بھئی علت کے منعقد ہونے کو بھی نہیں روکا تیسری قسم، مانع آیا، لیکن اس نے علت کو منعقد ہونے سے بھی نہیں روکا، اس کو تام ہونے سے بھی نہیں روکا، ہاں کس کو روک دیا؟ ابتداء حکم کو حکم کو نہیں آنے دے رہی، تخیار شرط فی البیع جیسے کہ بیع میں خیار شرط رکھنا، مثلاً بایع نے آپ کو کوئی چیز بیچی، آپ نے اس کو مجبور کیا کہ یہ چیز مجھے بیچ دو، تو اس نے کہا ٹھیک ہے میں آپ کو بیچتا ہوں لیکن مجھے تین دن کا اختیار ہے، میں تین دن میں کیا کر سکتا ہوں؟ بیع کو فسخ کر سکتا ہوں۔ تو اب آپ اس مبیع کے مالک نہیں بنے۔ مشتری اس مبیع کا مالک نہیں بنا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ خیار شرط ایسا مانع تھا جس نے بیع کو منعقد ہونے سے بھی یہ مانع نہیں بنا، اس کے تام ہونے سے بھی مانع نہیں بنا، صرف کس چیز سے مانع بنا؟ ابتداء حکم سے مانع بن گیا، کس چیز سے؟ ابتداء حکم سے یعنی ملکیت نہیں آنے دے رہا دیکھو، مشتری کی ملکیت آنی چاہیے تھی بیع کا حکم ہی یہ ہے کہ مشتری کی ملکیت لیکن یہ مانع بن گیا، یہ خیار شرط، مشتری کی ملکیت نہیں آنے دے رہا، تو یہ حکم مانع ہوا ابتداء حکم سے یعنی ابتداء ملکیت سے۔ کخیار شرط فی البیع جیسے کہ خیار شرط ہے بیع کے اندر، فانہ وجدت العلت بتماٹھا اس کیونکہ پائی گئی ہے علت بتماٹھا پورے طور پر ولکن لم یبتدئ الحکم لیکن حکم کی ابتدا نہیں ہوئی وہو الملک للخیا وہو الملک اور وہ ملکیت ہے، اس کی ابتدا نہیں ہوئی للخیار کس وجہ سے نہیں ہوئی؟ اس خیار شرط کی وجہ سے۔ ومانع یمنع تمام الحکم اور ایک وہ مانع ہے جو تمامِ حکم کو تمام حکم کو روکتا ہے یعنی حکم کو پورا نہیں ہونے دیتا، کخیار الرویۃ جیسے خیار رؤیت، بھئی آپ ایک چیز خریدیں اور بائع نے آپ کو عیب دار چیز فروخت کی، آپ کو پتہ نہیں، آپ نے بیع کر لی۔ اور آپ اس چیز کے مالک بن گئے، بعد میں آپ کو پتہ چلا اس میں عیب کا اور یہ بھی پتہ چلا کہ یہ عیب بائع کی طرف سے ہی سے آیا ہے، تو شریعت نے آپ کو حق دیا ہے کہ آپ اس چیز کو واپس کر سکتے ہیں، اس عیب کی وجہ سے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ خیار عیب کہتے ہیں۔ خیار عیب۔ لیکن اس میں یاد رکھیے جب آپ واپس کریں، بائع کی رضامندی ضروری ہے، آپ دے رہے ہیں تو وہ بھی واپس لینے پر راضی ہو۔ اگر وہ راضی نہیں تو پھر پھر بھی آپ لوٹا سکتے ہیں، لیکن اب آپ کو قاضی کے پاس جانا پڑے گا۔ خیار رؤیت میں نہ اس کی رضامندی کی ضرورت تھی، نہ قضا قاضی کی، لیکن خیار عیب کے اندر یا تو بائع کی رضامندی ہونی چاہیے یا قضائے قاضی ہو بھئی۔ معلوم ہوا کہ بیع منعقد بھی ہو چکی ہے، تام بھی ہو چکی ہے، ملکیت کی ابتدا بھی ہو چکی ہے، ملکیت تام بھی ہو چکی ہے، آپ مالک بھی بن چکے ہیں، تام بھی ہو گئی آپ کی ملکیت، جب ہی آپ کو اس میں تصرف بھی کر سکتے ہیں۔ معلوم ہوا آپ مالک بھی بن گئے، تام بھی ہو گئی آپ کی ملکیت، جبھی آپ کو اس میں تصرف بھی کر سکتے ہیں۔
ولا يتمكن من الفسخ بدون قضاء او رضاء، لیکن یہ قادر نہیں ہے کہ فسخ کرے بغیر قضاء یا بغیر رضا کے، ولكنه يمنع لزومه، لیکن یہ مانعِ لزومِ بیع کو کیا کر دیتا ہے؟ لزومِ حکم سے مانع ہے، اس سے روک دیتا ہے، لان له ولاية الرد والفسخ، اس لیے کیونکہ اس مشتری کو واپس لوٹانے کی اور فسخ کرنے کی ولایت حاصل ہے، فلا يكون لازما، تو یہ حکم اس پر لازم نہیں ہے بھئی، یہ بیع اس پر لازم نہیں بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله اعلم بحقيقة الكلام۔