Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-093

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 11 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 13
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔93 ولما كان هذا بيان المعارضة الحقيقية التي حكمها التساقط، فالآن شرع في بيان معارضة صورية حكمها الترجيح أو التوفيق، فقال: ”وللمخلص عن المعارضة إما أن يكون من قبل الحجة بأن لم يعتدلا، بأن كان أحدهما مشهوراً والآخر آحاداً، ولما كان هذا بيان المعارضة الحقيقية، اور جب یہ بیان تھا اس معارضة حقيقية کا التي حكمها التساقط، جس کا حکم تساقط تھا۔ جس کا حکم کیا تھا؟ تساقط تھا کہ وہ دو دلیلیں دونوں ساقط ہو جاتی تھیں اور اس سے نچلی دلیل کی طرف ہم جاتے تھے۔ فالآن شرع في بيان معارضة صورية، پس اب شروع ہوئے معارضة صورية کے بیان میں، یعنی جہاں صورتاً معارضة آتا ہے حقيقتاً معارضة نہیں ہوتا۔ حكمها الترجيح أو التوفيق، حکم اس معارضة صورية کا جو ہے وہ ترجیح ہے یا توفیق۔ ترجیح یعنی ایک کو ترجیح ہوتی ہے، أو التوفيق یا توفیق، توفیق وہی تطبیق کے معنی میں ہے بھئی، کہ ان دونوں میں کیا کیا جائے گا؟ موافقت کی جائے گی، ان دونوں کو جمع کیا جائے گا، کوئی ایسی صورت اختیار کی جائے گی کہ دونوں پر عمل ہو جائے۔ فقال، پس فرمایا: والمخلص عن المعارضة، اور معارضے سے چھٹکارا جو ہے، إما أن يكون من قبل الحجة، یا تو وہ دلیل کی جانب سے ہی ہوگا، بأن لم يعتدلا، بایں صورت کہ دونوں برابر نہیں ہوں گی۔ دو دلیلوں میں بظاہر ٹکراؤ ہے، معارضة ہے، ایک سے مثلاً حلت کا پتہ چل رہا ہے، دوسری سے حرمت کا پتہ چل رہا ہے، لیکن اس یہ جو معارضة ہے، اس کا اس سے چھٹکارا انہی دلیلوں کے ذریعے ہی ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ دونوں برابر درجے کی ہیں ہی نہیں، ایک قوی ہے، دوسری اس کے مقابلے میں ضعیف ہے، تو لازمی بات ہے قوی کو ترجیح ہوگی، تو یہ صورتاً معارضة تھا، حقيقتاً معارضة تھا ہی نہیں بھئی۔ بأن كان أحدهما مشهوراً والآخر آحاداً، بایں صورت کہ ان دونوں میں سے ایک جو ہے وہ مشہور ہو اور دوسرا آحاد ہو، ایک خبر مشہور ہے، دوسری خبر آحاد ہے، تو لازمی بات ہے کس کو ترجیح ہوگی؟ خبر مشہور کو۔ أو يكون أحدهما نصاً والآخر ظاهراً، اور بایں بایں صورت کہ ان دونوں میں سے ایک جو ہے وہ نص ہوگی اور دوسری ظاہر، تو ظاہر بھی ظهور کے اعتبار سے قسم، نص بھی، لیکن ظاہر سے نص قوت میں بڑھ کر ہے بھئی، کیونکہ اسی کے لیے کلام کو چلایا جاتا ہے اسی مقصد کے لیے، تو لہٰذا نص کو ترجیح ہوگی۔ فيترجح الأعلى على الأدنى، تو ترجیح پا جائے گی اعلیٰ جو ہے وہ ادنیٰ پر، وقد مر مثاله غير مرة، اور تحقیق گزر چکی ہے اس کی مثال ایک مرتبہ سے زائد بھئی، غير مرة، مرة کا معنی ایک مرتبہ، غير مرة، ایک دفعہ سے کے علاوہ، یعنی ایک سے زائد مرتبہ گزر چکی ہے اس کی مثال۔ أو من قبل الحكم، یا جو معارضے سے چھٹکارا ہوگا وہ حکم کی جانب سے ہوگا، بأن يكون أحدهما حكم الدنيا والآخر حكم العقبیٰ، بایں صورت کہ ان دونوں میں سے ایک دنیا کا حکم ہوگا اور دوسرا آخرت کا حکم، كآيتي اليمين في سورة البقرة والمائدة، جیسے کہ دو آیتیں ہیں قسم کی سورۃ بقرہ اور سورۃ مائدہ، سورۃ مائدہ اور سورۃ بقرہ میں جو دو آیتیں آتی ہیں قسم کے بارے میں۔ فإنه تعالى قال في سورة البقرة، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا سورۃ بقرہ کے اندر: ﴿لا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ﴾، اللہ مواخذہ نہیں فرماتے تمہارا، اللہ تمہیں پکڑتے نہیں ہیں ﴿بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ﴾ وہ جو لغو ہیں، بےہودہ ہیں ﴿فِي أَيْمَانِكُمْ﴾ تمہاری قسموں میں، اللہ تمہاری بےہودہ قسموں پر تمہیں نہیں پکڑتے، ﴿وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ﴾، لیکن وہ مواخذہ فرماتے ہیں تمہارا اس پر جس کا ارادہ کیا ہو تمہارے دلوں نے، جس کا ارادہ کیا ہو تمہارے دلوں نے، اس پر مواخذہ فرماتے ہیں، اس پر پکڑ فرماتے ہیں۔ فقوله، اب یہاں یہ سمجھ لیں بھئی، قسم تین قسم پر ہے: ایک یمین لغو ہے، ایک یمین غموس ہے، اور ایک یمین منعقدہ ہے۔ یمین لغو تو یہ ہے کہ انسان ماضی کی کسی بات پر قسم اٹھائے اور اس کا گمان یہ ہے کہ بات اسی طرح ہے جس طرح وہ بیان کر رہا ہے، حالانکہ بات اس طرح نہیں ہوتی بھئی، اور اس پر وہ قسم اٹھا لیتا ہے، تو اب قسم تو یہ بھی جھوٹی ہوئی، لیکن اس کو اس کا اپنا کیا گمان ہے؟ کہ میں صحیح قسم اٹھا رہا ہوں بھئی، تو یہ یاد رکھیے یہ یمین لغو ہے اور اس پر اللہ مواخذہ نہیں فرمائیں گے، کیونکہ یہ بھول ہوئی ہے اس سے، غلطی ہوئی ہے بھئی۔ اور ایک یمین غموس ہے، یمین غموس وہ جس میں انسان ماضی کی کسی بات کو بتلاتے ہوئے اس پر قسم اٹھاتا ہے اور جھوٹی قسم اٹھاتا ہے، اسے بھی پتہ ہے مسئلہ اس طرح نہیں ہے، پھر بھی جھوٹی قسم اٹھا لیتا ہے بھئی، یہ ہے یمین غموس بھئی۔ تو یمین لغو بھی ماضی کے فعل پر قسم اٹھائی جا رہی ہے اور یمین غموس بھی، لیکن یمین لغو میں غلطی ہے، اس کا اپنا گمان ہے شاید اسی طرح ہے، جبکہ یمین غموس میں اسے پتہ ہوتا ہے کہ اس طرح نہیں ہے اور پھر جھوٹی قسم اٹھاتا ہے، یہ ہے یمین غموس۔ اور ایک یمین منعقدہ ہے جو مستقبل کے میں کے کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر قسم اٹھائی جائے بھئی، اور اسے پھر پورا کرنا ضروری، اگر اسے توڑے گا تو پھر کفارہ دینا پڑے گا قسم کا بھئی، یہ ہے یمین منعقدہ جو مستقبل کے کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر اٹھائی جائے۔ تو کہتے ہیں: فقوله بما كسبت، پس اللہ تعالیٰ کا قول ﴿بِمَا كَسَبَتْ﴾، شامل للغموس والمنعقدة جميعا، یہ شامل ہے یمین غموس اور یمین منعقدہ دونوں کو۔ لغو کے اندر تو یمین لغو آ گئی اور ﴿وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ﴾ اس میں یمین غموس بھی داخل اور یمین منعقدہ بھی داخل، فيفهم أن في الغموس مؤاخذة، تو یہ بات مفہوم ہوئی کہ یمین غموس میں بھی کیا ہے؟ مواخذہ ہے، کیونکہ وہ ﴿بِمَا كَسَبَتْ﴾ میں ہے نا، اور اس پر تو اللہ فرما رہے ہیں کہ اس پر مواخذہ فرماتے ہیں، تو معلوم ہوا یمین غموس پر مواخذہ ہوگا۔ وقال في سورة المائدة، اور سورۃ مائدہ میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿لا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الأَيْمَانَ﴾، اللہ نہیں پکڑتے تمہیں تمہاری بےہودہ قسموں پر، لیکن مواخذہ فرمائیں گے، پکڑیں گے تمہیں جو تم نے باندھ، مضبوط باندھی ہیں قسمیں، جو تم نے مضبوط باندھی ہیں قسمیں، ان پر مواخذہ فرمائیں گے بھئی۔ عَقَدَ کے معنی ہوتے ہیں گرہ باندھنے کے بھئی، عَقَّدَ اسی میں دیکھیے حروف بڑھ گئے تو معنی ہوا مضبوط باندھنا، پختہ باندھنا بھئی، تو ﴿عَقَّدْتُمُ الأَيْمَانَ﴾ جو تم نے مضبوط باندھی ہو قسموں میں سے، جو تم نے مضبوط باندھی ہیں جو قسمیں، جن قسموں کو تم نے مستحکم کیا ہے، اس پر اللہ مواخذہ فرمائیں گے، جو مضبوط باندھی ہیں بھئی۔ اب کہتے ہیں اس کے ذریعے مراد صرف یمین منعقدہ ہے، کیا مراد ہے؟ یمین منعقدہ، کیونکہ عقد کا کیا معنی تھا؟ گرہ لگانا، تو گرہ لگائی پھر اس میں جیسے کھلنے کی صورت ہوتی ہے، یہاں پر بھی یمین کو پورا کرنے کی صورت ممکن ہے بھئی، قسم اٹھا لیتا ہے اور کس بارے میں اٹھاتا ہے؟ مستقبل کے کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر، تو اس میں پورا ہونے کی صورت ہوتی ہے کہ انسان اس کو کیا کر لے؟ پورا کر لے بھئی، جی، چنانچہ اسی وجہ سے فرماتے ہیں: فإن المراد بما عقدتم المنعقدة فقط، پس مراد جو ہے ﴿بِمَا عَقَّدْتُمُ﴾ سے صرف منعقدہ ہے۔ جب ﴿عَقَّدْتُمُ الأَيْمَانَ﴾ میں صرف کون سی قسم داخل ہوئی؟ یمین منعقدہ، تو معلوم ہوا باقی دو قسمیں یعنی یمین لغو اور یمین غموس یہ ﴿بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ﴾ کے اندر داخل ہو گئیں، کس میں داخل ہوئیں؟ معلوم ہوا اس آیت سے کہ یمین یمین غموس پر مواخذہ نہیں، یمین لغو پر تو پہلے بھی گزر چکا کہ اس پر مواخذہ نہیں، یہاں پر ایک اور قسم بھی اس میں آ گئی، کون سی؟ غموس، معلوم ہوا یمین غموس پر بھی مواخذہ نہیں اور صرف کس پر مواخذہ ہے؟ یمین منعقدہ پر۔ والغموس هاهنا داخل في اللغو، پس یمین غموس یہاں پر لغو میں داخل ہے، فيفهم أن لا مؤاخذة في الغموس، تو یہ بات سمجھ میں آئی کہ یمین غموس پر مواخذہ نہیں ہوگا۔ اب ایک آیت سے، سورۃ بقرہ والی آیت سے پتہ چلا کہ یمین غموس پر مواخذہ فرماتے ہیں اللہ، کیونکہ اس کو باقاعدہ ارادے کے ساتھ، ﴿بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ﴾ جس کا تمہارے دل ارادہ کریں، باقاعدہ ارادے سے انسان جھوٹی قسم اٹھاتا ہے، تو اس پر مواخذہ ہے، یمین غموس پر مواخذہ ہے، سورۃ بقرہ کی آیت نے بتلایا، اور سورۃ مائدہ کی آیت سے پتہ چلا کہ یمین غموس پر مواخذہ نہیں ہے۔ فلما تعارضت الآيتان في حق الغموس، پس جب دونوں آیتیں یہ دونوں آیتیں باہم متعارض ہوئیں یمین غموس کے حق میں، حملنا آية البقرة على المؤاخذة الأخروية وآية المائدة على المؤاخذة الدنيوية، پس جب دونوں آیتیں باہم متعارض ہوئیں یمین غموس کے حق میں، حملنا آية البقرة، تو ہم نے محمول کیا آیت بقرہ کو علی المؤاخذة الأخروية، کس پر محمول کیا؟ مواخذہ اخرویہ پر، یعنی آخرت میں اللہ مواخذہ فرمائیں گے، یہ جو مواخذہ ذکر ہوا سورۃ بقرہ کی آیت میں، وآية المائدة على المؤاخذة الدنيوية، اور آیت مائدہ جو ہے اس کے اندر اس کو ہم نے کس پر محمول کیا؟ مواخذہ دنیاویہ پر، کہ دنیا میں کیا ہے؟ اللہ مواخذہ فرماتے ہیں بھئی۔ بھئی، اب یہ بھی سمجھ لیں کہ آیت بقرہ کو مواخذہ اخرویہ پر کیوں محمول کیا؟ اور آیت مائدہ کو مواخذہ دنیاویہ پر کیوں محمول کیا؟ وجہ یہ کہ آیت مائدہ جو ہے ﴿بِمَا عَقَّدْتُمُ الأَيْمَانَ﴾ اس کے آگے کیا ہے؟ ﴿فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ﴾، تو آگے کفارے کا ذکر ہے، معلوم ہوا یہ کون سا مواخذہ ہے؟ کفارہ کہاں دینا پڑتا ہے؟ دنیا میں دینا پڑتا ہے، تو معلوم ہوا اس سے دنیاوی مواخذہ مراد ہے۔ جبکہ سورۃ بقرہ والے مواخذے کو ہم نے مواخذہ اخرویہ پر محمول کیا، کیوں؟ وجہ یہ کہ وہاں پر مواخذہ مطلقاً ذکر ہے، یہاں تو ساتھ کفارے کا ذکر تھا اور وہاں پر مواخذہ مطلقاً ذکر ہے، اور ضابطہ آپ پڑھ چکے ہیں: ”المطلق إذا يطلق يراد به الفرد الكامل“، کہ جب مطلق کا اطلاق کیا جائے تو اس صورت میں اس سے مراد اس کا فرد کامل ہوتا ہے، اور کامل درجے کا مواخذہ کون سا ہے؟ دنیا کا یا آخرت کا بھئی؟ آخرت کا ہے، اس لیے اس کو کس پر محمول کیا؟ مواخذہ اخرویہ پر بھئی، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ فعلِمَ أن في، بھئی، سورۃ بقرہ کی آیت کو ہم نے کس پر محمول کیا؟ مواخذہ اخرویہ پر، اور اس سے کیا پتہ چلا تھا؟ کہ یمین غموس پر مواخذہ فرماتے ہیں اللہ، معلوم ہوا کب فرمائیں گے؟ آخرت میں یمین غموس پر مواخذہ فرمائیں گے، تو آخرت کا حکم بیان ہوا وہاں پر، اور یہاں اس سے پتہ چلا کہ دنیا میں مواخذہ صرف کس پر ہے؟ یمین منعقدہ پر ہے، یمین غموس پر مواخذہ نہیں، یعنی دنیا میں نہیں ہے بھئی، تو اس آیت کو محمول کیا ہم نے مواخذہ دنیاویہ پر محمول کیا، تو معلوم ہوا یمین غموس پر دنیا میں مواخذہ نہیں اور آخرت میں مواخذہ ہے، دو آیتوں میں تعارض تھا نا، اس سے پتہ چلا تھا یمین غموس میں مواخذہ ہے، دوسرے سے پتہ چلا کہ یمین غموس میں مواخذہ نہیں، تو تطبیق آ گئی بھئی دونوں آیتوں میں کس طرح؟ کہ جس میں ہے مواخذہ نہیں، اس سے مراد ہے دنیا میں مواخذہ نہیں، اور جس میں ہے مواخذہ ہے، اس سے کیا مراد ہے؟ کہ آخرت میں مواخذہ ہے۔ فعلم أن في الغموس مؤاخذة أخروية وهي الإثم، لا مؤاخذة دنيوية وهي الكفارة، پس یہ بات معلوم ہوئی کہ یمین غموس کے اندر اخروی مواخذہ ہے اور وہ گناہ ہے، نہ کہ دنیاوی مواخذہ اور وہ کفارہ ہے۔ وقد حررت فيما سبق بأطول من هذا، شارح فرماتے ہیں: تحقیق میں تحریر کر چکا ہوں اس سے ماقبل میں اس سے بھی طویل، یہ جو ابھی میں نے بحث لکھی یمین یہ سورۃ بقرہ سورۃ مائدہ کی آیت کی جو بحث بیان کی اس سے پہلے میں اس سے بھی زیادہ طویل یہ بیان کر چکا ہوں حقیقت اور مجاز کی بحث میں۔ أو من قبل الحال، یا مواخذے سے جو چھٹکارا ہوگا وہ حال کی جانب سے ہوگا، کس کی جانب سے؟ حال، یعنی حالت پر، یعنی ایک آیت میں ایک حالت کا بیان ہے تو دوسری میں دوسری حالت کا بیان ہے، تو جب حالت الگ الگ ہوئی تو تعارض بھی ختم ہوا بھئی۔ بأن يحمل أحدهما على حالة والآخر على حالة، بایں طور کہ محمول کیا جائے گا ان دو محمول کیا جائے ان دونوں میں سے ایک کو ایک حالت پر والآخر على حالة اور دوسرے کو دوسری حالت پر، كما في قوله تعالى: حتى يطهرن، بالتخفيف والتشديد، جیسے کہ اللہ کے اس قول میں ہے: ﴿حَتَّى يَطْهُرْنَ﴾، تخفیف اور تشدید کے ساتھ۔ بھئی، ہماری قرأت میں تو ہے ﴿حَتَّى يَطْهُرْنَ﴾، اور بعض قرأتوں میں یہ تشدید کے ساتھ آیا ہے: ﴿حَتَّى يَطَّهَّرْنَ﴾، ﴿حَتَّى يَطَّهَّرْنَ﴾۔ دیکھیے، یہ تفصیل بیان کر رہے ہیں: فإن في قوله تعالى، پس بےشک اللہ کے اس قول کے اندر: ﴿وَلا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ﴾، اور ان عورتوں کے یعنی بیویوں کے قریب نہ جاؤ ﴿حَتَّى يَطْهُرْنَ﴾ یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں، قَرَأَ بعضهم، اس آیت میں بعض نے پڑھا ہے، بعض نے پڑھا ہے ﴿يَطْهُرْنَ﴾ بالتخفيف، ﴿يَطْهُرْنَ﴾ پڑھا ہے تخفیف کے ساتھ، أي لا تقربوا الحائضات حتى يطهرن، اور تم قریب نہ جاؤ حائضہ عورتوں کے ﴿حَتَّى يَطْهُرْنَ﴾ یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں، یعنی جب تمہاری بیویاں حیض کی حالت میں ہوں تو اس وقت ان کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں، اور پاک ہو جائیں بانقظاع دمهن، ان کے خون کے رکنے کے سبب سے، جب وہ حیض سے پاک ہو جائیں، کس طرح پاک ہوں گی بھئی؟ خون کے رک حیض کے خون کے رکنے کی وجہ سے، سواء اغتسلن أو لا، برابر ہے کہ وہ غسل کریں یا نہ کریں، بھئی خون رک گیا، حیض آ رہا تھا ناپاکی کی حالت تھی، تو اللہ فرما رہے ہیں ان کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں، اور جیسے ہی خون رکا پاک ہو گئیں یا نہیں ہو گئیں بھئی؟ پاک ہو گئیں بھئی، تو جیسے ہی خون رکے پھر ان کے پاس جا سکتے ہو، یعنی ان سے صحبت کر سکتے ہو، چاہے غسل کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ غسل کریں گی پھر تو خوب پاکی حاصل ہو جائے گی، اور آیت میں تو صرف کیا ذکر ہے؟ جب پاک ہو جائیں، اور پاکی کس سے حاصل ہو گئی؟ خون کے رکنے سے ہی بھئی۔ وقرأ بعضهم: ﴿يَطَّهَّرْنَ﴾ بالتشديد، اور بعض نے پڑھا ہے اس کو ﴿يَطَّهَّرْنَ﴾ تشدید کے ساتھ، یعنی جب خوب پاک ہو جائیں، أي لا تقربوهن حتى يغتسلن، جب خوب پاک ہو جائیں، اور خوب پاکی کس طرح حاصل ہوگی؟ کہ خون رک جائے اور پھر اس کے بعد وہ غسل بھی کر لیں، تو یہی معنی بیان کر رہے ہیں: أي لا تقربوهن حتى يغتسلن، کہ ان کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ غسل کر لیں، فتعارض بين القراءتين، فَتَعَارَضَ بَيْنَ الْقِرَاءَتَيْنِ یہ پھر وہ کل والی ترکیب کی طرح ترکیب آئی بھئی، أَيْ فَتَعَارَضَ التعارضُ بَيْنَ الْقِرَاءَتَيْنِ، أَيْ فَيَقَعُ التعـ يقعُ التعارضُ بَيْنَ الْقِرَاءَتَيْنِ، تو تعارض واقع ہو گیا دونوں قراءتوں میں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کل میں نے ضابطہ بیان کیا تھا کہ جب کسی فعلِ معروف کے فاعل یا فعلِ مجہول کے نائب فاعل کا پتہ نہ چل رہا ہو تو پھر فاعل یا نائب فاعل کس کو بناتے ہیں؟ اسی فعل کے مصدر کو، یعنی اس کے اندر جو ضمیر ہوتی ہے وہ اسی فعل کے مصدر کو لوٹا دیتے ہیں۔ تو عبارت کیا بن گئی؟ فَتَعَارَضَ التعارضُ، اور پھر ترجمہ کس طرح کرتے ہیں؟ فَيَقَعُ التعارضُ یا حَصَلَ التعارضُ۔ تو تعارض واقع ہوا بَيْنَ الْقِرَاءَتَيْنِ دو قراءتوں کے درمیان، وَهُمَا بِمَنْزِلَةِ آيَتَيْنِ اور یہ دونوں دو آیتوں کے درجے میں ہیں۔ بھئی یہ ضابطہ پہلے بھی بیان ہو چکا کہ ایک ہی آیت میں دو قراءتیں آ جائیں تو یہ دو آیتوں کے درجے میں ہوتی ہیں، کس کے درجے میں؟ دو آیتوں کے درجے میں۔ تو کہتے ہیں: وَهُمَا بِمَنْزِلَةِ آيَتَيْنِ اور یہ دو آیتوں کے درجے میں ہیں، فَوَجَبَتِ التَّطْبِيقُ بَيْنَهُمَا تو ان میں ان دونوں کے درمیان تطبیق واجب ہوئی، یعنی کوئی ایسی صورت اختیار کی جائے کہ دونوں پر عمل ہو جائے۔ بِأَنْ تُحْمَلَ قِرَاءَةُ التَّخْفِيفِ عَلَى مَا إِذَا انْقَطَعَ لِعَشَرَةِ أَيَّامٍ بایں صورت کے محمول کیا جائے تخفیف والی قراءت کو، تخفیف والی قراءت کون سی تھی؟ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ، اس کو محمول کیا جائے کہ جب وہ پاک ہو جائیں تو ان کے پاس جا سکتے ہو، تو اس سے کون سی اور پاک ہونا صرف کس صورت میں تھا جب خون رک جائے، تو کون سی حالت بیان ہو رہی ہے؟ کہتے ہیں: عَلَى مَا إِذَا انْقَطَعَ لِعَشَرَةِ أَيَّامٍ جس وقت کہ خون منقطع ہو جائے 10 دن کے وقت بھئی، 10 دن کے پورا، بھئی دیکھیے حیض کی اکثر مدت ہے ہی 10 دن، تو جب 10 دن کے پورا ہونے پر خون رکے تو پاک ہو گئی، اب بغیر غسل کیے ہی خاوند اس سے صحبت کر سکتا ہے وجہ یہ کہ اب آگے خون آنے کا احتمال ہی نہیں، یعنی حیض کا خون، اگر آئے گا بھی تو وہ حیض کا خون نہیں ہو گا استحاضہ کا ہو گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: إِذَا انْقَطَعَ لِعَشَرَةِ أَيَّامٍ جس وقت خون منقطع ہو 10 دن کے پورا ہو کے پورا ہونے کے وقت، إِذْ لَا يَحْتَمِلُ الْحَيْضُ الْمَزِيدَ عَلَىٰ هَٰذَا، مزید مصدر ہے بھئی، اسی کیونکہ احتمال نہیں رکھتا حیض الْمَزِيدَ عَلَىٰ هَٰذَا اس سے اس پر زیادتی کا، حیض اس سے زائد ہونے کا احتمال نہیں رکھتا، فَبِمُجَرَّدِ انْقِطَاعِ الدَّمِ پس محض خون کے رک جانے سے ہی، حِينَئِذٍ اس وقت، يَحِلُّ الْوَطْءُ حلال ہو گا صحبت کرنا، وَتُحْمَلُ قِرَاءَةُ التَّشْدِيدِ عَلَىٰ مَا اور محمول کیا جائے گا تشدید والی قراءت کو، تشدید والی قراءت کیا تھی بھئی؟ حَتَّىٰ يَطَّهَّرْنَ یہاں تک کہ وہ خوب پاک ہو جائیں، تو اس قراءت کو محمول کیا جائے گا عَلَىٰ مَا إِذَا انْقَطَعَ لِأَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ أَيَّامٍ جس وقت خون منقطع ہو جائے 10 دن سے کم وقت میں، 10 دن سے کم میں، إِذْ يَحْتَمِلُ عَوْدُ الدَّمِ اسی کیونکہ یہ احتمال ہے خون کے لوٹنے کا کہ شاید ویسے کچھ دیر کے لیے خون رکا ہے حیض کا اور پھر جاری ہو جائے گا پھر لوٹے گا، اس میں ابھی یہ احتمال ہے۔ فَلَا يُؤَكَّدُ انْقِطَاعُهُ تو اس کا خون کا منقطع ہونا رک جانا یہ پکا نہیں ہو گا پختہ نہیں ہو گا، إِلَّا أَنْ تَغْتَسِلَ مگر إِلَّا أَنْ تَغْتَسِلَ ہونا چاہیے بھئی، إِلَّا أَنْ تَغْتَسِلَ مگر یہ کہ وہ عورت کیا کر لے؟ غسل کر لے، أَوْ يَمْضِيَ عَلَيْهَا وَقْتُ صَلَاةٍ كَامِلَةٍ یا گزرے اس پر ایک پوری نماز کا حکم نماز کا وقت، لِيُحْكَمَ بِطَهَارَتِهَا تاکہ حکم لگایا جائے اس کے پاک ہونے کا، تاکہ کیا حکم لگایا جائے؟ اس کے پاک ہونے کا حکم لگایا جائے بھئی۔ بھئی 10 دن سے کم کے اندر خون رکا ہے اور ابھی بھی احتمال ہے شاید خون پھر شروع ہو جائے، تو لہٰذا اب جب تک غسل نہ کر لے خاوند اس سے صحبت نہ کرے یا غسل نہ کرے تو کم از کم غسل وغیرہ جتنا اس پر وقت نہ گزر جائے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یعنی پوری نماز کا ایک وقت اس پر گزر جائے، وَلَٰكِنْ يَرِدُ عَلَيْهِ لیکن اس پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے، أَنَّ قَوْلَهُ تَعَالَىٰ کہ اللہ تعالی کا قول: فَإِذَا تَطَهَّرْنَ، فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ کہ اللہ کا قول جو آیا ہے: فَإِذَا تَطَهَّرْنَ پس جب وہ خوب پاک ہو جائیں فَأْتُوهُنَّ تو ان کے پاس آؤ، یعنی ان سے پھر صحبت کر سکتے ہو، بَعْدَ ذَٰلِكَ جو اس کے بعد آ رہا ہے آگے، اس آیت کے اس آیت کے بعد آگے اللہ کیا فرماتے ہیں؟ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ، بَعْدَ ذَٰلِكَ اس آیت کے بعد، لَيْسَ إِلَّا بِالتَّشْدِيدِ وہ تو نہیں ہے مگر تشدید کے ساتھ ہی۔ یہاں تو تخفیف نہیں ہے بھئی، یہ تو کس کے ساتھ آیا ہے؟ تَطَهَّرْنَ تشدید کے ساتھ ہی آیا ہے، تو کیا معنی؟ پس جب وہ خوب پاک ہو جائیں تو پھر ان کے پاس آؤ، فَهُوَ يُؤَكِّدُ جِهَةَ الْاغْتِسَالِ عَلَى التَّقْدِيرَيْنِ تو یہ تو پکا کرتی ہے یہ پکا کرتا ہے اللہ کا یہ قول جِهَةَ الْاغْتِسَالِ غسل کرنے کی جہت کو عَلَى التَّقْدِيرَيْنِ دونوں تقدیروں پر، یعنی چاہے حیض 10 دن پر رکا ہو یا 10 دن سے کم، دونوں تقدیروں پر یہ غسل کو پکا کرتا ہے کیونکہ کیا فرما رہے ہیں اللہ؟ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ جب وہ خوب پاک ہو جائیں، اور خوب پاکی تو کس طرح آئے گی کہ خون بھی رکے اور پھر اس کے بعد وہ غسل بھی کر لے، تو یہ تو اس آیت اس سے اگلے لفظوں سے تو یہ پتہ چل رہا ہے کہ جب کہ دونوں صورتوں میں جو ہے کیا کرنا ضروری ہے؟ غسل کرنا ضروری ہے۔ إِلَّا أَنْ يُقَالَ مگر یہ کہ یہ کہا جائے، يَدُلُّ عَلَى اسْتِحْبَابِ الْغُسْلِ دُونَ الْوُجُوبِ کہ یہ جو ہے، یہ دلالت کرتا ہے غسل کے مستحب ہونے پر نہ کہ اس کے واجب ہونے پر، کہ مستحب یہ ہے 10 دن میں بھی اگر رکے تو پھر مستحب یہی ہے کہ کیا کر لے؟ غسل کر لے، أَوْ يُحْمَلُ تَطَهَّرْنَ حِينَئِذٍ عَلَى طَهُرْنَ یا یہ کہ محمول کیا جائے تَطَهَّرْنَ کو اس وقت طَهُرْنَ پر، یعنی مزید فیہ کو کس پر محمول کر لیا جائے؟ مجرد پر محمول کر لیا جائے، یعنی خوب پاک ہونے کے بجائے یہ ہے تو تَطَهَّرْنَ لیکن کس معنی میں ہے؟ طَهُرْنَ کے معنی میں ہے، یعنی جب وہ پاک ہو جائیں، اور یہ تو ہوتا ہی ہے کہ ایک کلامِ عرب میں کہ مزید کس معنی میں استعمال ہو جاتا مزید کس معنی میں استعمال ہو جاتا ہے؟ مجرد کے معنی میں، كَتَبَيَّنَ بِمَعْنَىٰ بَانَ جیسے کہ تَبَيَّنَ کس معنی میں؟ بَانَ کے معنی میں۔ أَوْ مِنْ قِبَلِ اخْتِلَافِ الزَّمَانِ یا معارضے سے جو چھٹکارا ہے مِنْ قِبَلِ اخْتِلَافِ الزَّمَانِ زمانے کے اختلاف کی جانب سے ہو گا۔ دو آیتوں میں تعارض آ رہا ہے لیکن اس معارَضہ صورتًا ہے حقیقۃً نہیں، کیونکہ دونوں کا زمانہ الگ الگ ہے، ایک پہ حکم اور زمانے میں تھا، دوسری میں حکم دوسرے زمانے میں دوسرے زمانے میں ہے، تو تعارض ہے ہی نہیں، صورتًا تعارض ہے حقیقۃً نہیں، تو یہاں بھی دیکھو معارضے سے چھٹکارا ہوا اور یہ چھٹکارا کس طرف سے آیا؟ زمانے کی جانب سے کہ دونوں کا زمانہ الگ الگ ہے بھئی۔ أَوْ مِنْ قِبَلِ اخْتِلَافِ الزَّمَانِ یا معارضے سے چھٹکارا جو ہے زمانے کے اختلاف کی جانب سے ہو گا صَرِيحًا، اور یہ اختلافِ زمان کس طرح ہو گا؟ صریحًا صراحۃً ہو گا بھئی، صراحۃً بھئی، آگے ایک صورت آئے گی دلالۃً کہ کوئی چیز اس پر دلالت کرے گی اور ایک یہ کہ صراحۃً لفظوں میں اس کا ذکر آ جائے بھئی۔ فَإِنَّهُ إِذَا عُلِمَ التَّارِيخُ فَلَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ الْمُتَأَخِّرُ نَاسِخًا لِلْمُتَقَدِّمِ پس جب جان تاریخ معلوم ہو تو ضروری ہوا کہ بعد والی بعد والا جو ہے وہ ناسخ ہو پہلے کے لیے، كَقَوْلِهِ تَعَالَىٰ جیسے اللہ تعالی کا قول ہے: وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ، وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ اور حمل والیاں جو ہیں جو حاملہ عورتیں ہیں، أَجَلُهُنَّ ان کی مدت جو ہے أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ کہ وہ جنم دے دیں اپنے حمل کو۔ حاملہ عورتوں کی عدت کیا ہے؟ ان کی مدت کیا ہے؟ وضعِ حمل ہے یعنی کہ اپنے حمل کو جنم دے دیں۔ یہ جو آیت ہے، نَزَلَتْ بَعْدَ الْآيَةِ الَّتِي فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ یہ نازل ہوئی ہے اس آیت کے بعد جو سورۂ بقرہ میں ہے، اور وہ یہ ہے: وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ اور وہ لوگ جو تم میں سے مر جائیں جن کا انتقال ہو جائے، وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا اور وہ چھوڑ دیں بیویاں، مرد کا انتقال ہو گیا اور پیچھے کس کو چھوڑا؟ بیوی کو، يَتَرَبَّصْنَ تو یہ بیویاں جو ہیں يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ یہ روکیں گی اپنے نفسوں کو أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا چار ماہ 10 دن، یعنی ان کی عدت کتنی ہے؟ وہ لوگ جن کا انتقال ہو جائے اور بیویاں پیچھے رہ جائیں تو وہ ان کی عدت چار ماہ 10 دن ہے، چار ماہ 10 دن، تو یہ آیت پہلے نازل ہوئی اور وہ حمل والوں کی عدت جس میں بیان ہوئی وہ آیت بعد میں نازل ہوئی۔ فَإِنَّ هَٰذِهِ الْآيَةَ تَدُلُّ عَلَىٰ پس یہ آیت جو ہے دلالت کرتی ہے کہ أَنَّ عِدَّةَ مُتَوَفَّى الزَّوْجِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ یہ آیت بھئی، یہ جو پہلے نازل ہوئی تھی جس میں عدت کتنی بیان ہوئی چار ماہ 10 دن، یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ عدت متوفی الزوج کی، یعنی وہ عورت جس کے خاوند کا انتقال ہو چکا اس کی عدت چار ماہ 10 دن ہے، سَوَاءٌ كَانَتْ حَامِلَةً أَوْ لَا چاہے وہ حاملہ ہو یا حاملہ نہ ہو، بھئی پہلے یہ آیت نازل ہوئی تھی نہ وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ، جن لوگوں کا انتقال ہو جائے اور بیویاں پیچھے چھوڑ جائیں تو وہ کب کتنے عرصے تک اپنے اپ کو روکیں گی؟ چار ماہ 10 دن، اور اس میں کوئی حمل یا حاملہ یا غیر حاملہ کی قید ہے؟ نہیں، معلوم ہوا سب کی یہی عدت ہے چاہے حاملہ ہو چاہے غیر، تو بحث ہماری ہے اس وقت حاملہ کے بارے میں، اس میں تعارض آئے گا، تو غیر حاملہ کی عدت تو چار ماہ 10 دن ہے، اور حاملہ کی بھی کتنی معلوم ہوئی اس سے؟ چار ماہ 10 دن ہی معلوم ہوئی، وَالْآيَةَ الْأُولَىٰ اس پچھلے هَٰذِهِ الْآيَةَ پر عطف ہے، وَالْآيَةَ الْأُولَىٰ تَدُلُّ عَلَىٰ اور دوسری پہلی آیت جو ہے وہ دلالت کر رہی ہے اس بات پر أَنَّ عِدَّةَ الْحَامِلِ وَضْعُ الْحَمْلِ کہ حاملہ کی عدت جو ہے وہ وضعِ حمل ہے، سَوَاءٌ كَانَتْ مُطَلَّقَةً أَوْ مُتَوَفَّى الزَّوْجِ چاہے وہ مطلقہ ہو یا اس کے خاوند کا انتقال ہوا ہو۔ پہلی آیت جو متن میں پہلے ہے، زمانے کے اعتبار سے بعد میں ہے، زمانے کے اعتبار سے، یعنی وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ، اس سے کیا پتہ چلا کہ حاملہ عورتوں کی عدت کتنی ہے؟ وضعِ حمل ہے، چاہے خاوند نے طلاق دی ہو، چاہے خاوند کا انتقال ہوا ہو، دونوں صورتوں میں حاملہ عورت کی عدت کتنی ہے؟ وضعِ حمل ہے، یہ اس پہلی آیت جو متن میں ذکر ہے، یعنی جو زمانے کے اعتبار سے مؤخر ہے اس سے پتہ چلا۔ فَبَيْنَهُمَا عُمُومٌ وَخُصُوصٌ مِنْ وَجْهٍ تو ان دونوں آیتوں کے درمیان عموم و خصوص من وجہ ہے۔ ان دونوں آیتوں میں عموم و خصوص من وجہ ہے، عموم و خصوص من وجہ کس کو کہتے ہیں؟ جہاں دو مادے اختلاف کے ہوں اور ایک مادہ اجتماع کا ہو، اجتماع کا مادہ کون سا ہے؟ وہ حاملہ جس کے خاوند کا انتقال ہوا ہو، بھئی دیکھیے، پہلے کون سی آیت نازل ہوئی تھی؟ وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ، اس میں وفات کا ذکر ہے، معلوم ہوا جس عورت کے خاوند کا انتقال ہو جائے تو اس کی عدت چار ماہ 10 دن ہے اس آیت سے معلوم ہوا، اور یہ کتنی قسم کی عورتیں ہو سکتی ہیں؟ دو، یا حاملہ ہو گی یا غیر حاملہ، اب یہ یاد رکھنا بھئی، کتنی عورتیں اس میں آئیں؟ دو، یا حاملہ ہو گی یا غیر حاملہ، اچھا، دوسری آیت سے پتہ چلا کہ حمل والیوں کی عدت وضعِ حمل ہے، اس میں بھی دو عورتیں قسم کی داخل، کون سی؟ ایک وہ حاملہ جس کو خاوند نے طلاق دی ہے، ایک وہ حاملہ جس کے خاوند کا انتقال ہوا ہے، تو پہلی آیت میں کون سی دو داخل تھیں؟ حاملہ بھی اور غیر حاملہ بھی، دوسری میں داخل ہیں ایک حاملہ مطلقہ اور ایک حاملہ متوفی الزوج، دو داخل ہوئیں، تو دونوں کے اندر حاملہ متوفی الزوج آ گئیں بھئی، جس کے خاوند کا انتقال ہوا ہو اس میں وہ اس میں دو صورتیں تھیں نہ، یا وہ مطلقہ ہو گی یا متوفی الزوج، اور پھر اس میں بھی دونوں یا حاملہ ہوں گی یا غیر حاملہ بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں دو مادے ہیں افتراق کے، ایک مادہ ہے اجتماع کا، اجتماع کا مادہ یعنی جو اس کو یہ دونوں شامل ہوں، وہ عورت جو حاملہ ہے اور جس کے خاوند کا انتقال ہوا ہے، وہ عورت جو حاملہ ہے اور اس کے خاوند کا وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ اس میں بھی وہ داخل، اور وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ اس میں بھی یہ داخل ہے بھئی، اس میں بھی داخل، جبکہ وہ حاملہ جس کو صرف طلاق ملی ہے، وہ أُولَاتُ الْأَحْمَالِ میں تو داخل ہے، حاملہ ہے اور طلاق دی گئی، اور وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ اس میں نہیں داخل کیونکہ اس کو تو طلاق دی ہے دی گئی ہے خاوند کا انتقال نہیں ہوا تو اس میں نہیں داخل، یہ ایک مادہ افتراق کا آیا، دوسرا اسی طرح، غیر حاملہ جس کے خاوند کا انتقال ہوا، یہ دوسری آیت میں تو داخل ہے پہلی آیت میں داخل غير حاملہ ہے اور خاوند کا انتقال ہوا تو غیر حاملہ ہے تو أُولَاتُ الْأَحْمَالِ میں تو یہ داخل نہیں، تو یہ مـ یہ بھی کون سا مادہ ہوا؟ افتراق والا۔ تو کہتے ہیں: فَبَيْنَهُمَا عُمُومٌ وَخُصُوصٌ مِنْ وَجْهٍ تو ان دونوں آیتوں کے درمیان عموم و خصوص من وجہ ہے، فَتَعَارَضَا بَيْنَهُمَا فَتَعَارُضٌ بَيْنَهُمَا فِي الْمَادَّةِ الْاجْتِمَاعِيَّةِ تو ان دونوں کے درمیان تعارض جو ہے وہ مادہ اجتماعِیَّہ کے اندر ہے، مادہ اجتماعِیَّہ کے اندر تعارض ہے، کون سا مادہ اجتماعِیَّہ؟ حاملہ ہو اور خاوند کا انتقال ہوا ہو، اس کو یہ دونوں آیتیں شامل ہیں، اب ایک آیت بتلا رہی ہے کہ یہ جو حاملہ ہے اور جس کے خاوند کا انتقال ہوا ہے اس کی عدت وضعِ حمل ہے، دوسری آیت بتلا رہی ہے کہ یہ حاملہ جس کے خاوند کا انتقال ہوا ہے اس کی عدت چار ماہ 10 دن ہے بھئی، یہ معنی ہے: فَتَعَارُضٌ بَيْنَهُمَا فِي الْمَادَّةِ الْاجْتِمَاعِيَّةِ تو تعارض ان دونوں آیتوں کے درمیان وہ مادہ اجتماعِیَّہ کے اندر ہے، وَهِيَ الْحَامِلُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا اور یہ وہ حاملہ ہے کہ اس کا خاوند جسے چھوڑ مرا ہے، فَعَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ يَقُولُ پس حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: تَعْتَدُّ بِأَبْعَدِ الْأَجَلَيْنِ إِحْتِيَاطًا کہ یہ عورت جو حاملہ ہے اور خاوند کا انتقال ہو چکا، یہ عدت گزارے گی بِأَبْعَدِ الْأَجَلَيْنِ دو عدتوں میں سے جو دو مدتوں میں سے جو لمبی ہوئی۔ اگر وضع حمل چار ماہ 10 دن سے پہلے ہو گیا تو یہ چار ماہ 10 دن پورے کرے گی عدت میں۔ اور اگر چار ماہ 10 دن پورے ہو گئے اور ابھی بھی یہ حاملہ ہے، جنم نہیں دیا تو پھر عدت کیا ہوگی؟ وضع حمل، جو لمبی مدت ہوئی بھئی۔ تو یہ فرماتے ہیں: احتیاطاً، بطورِ احتیاط کے ”فَإِنْ كَانَ وَضْعُ الْحَمْلِ مِنْ قَرِيبٍ“ یعنی اگر وضعِ حمل قریب میں ہوا تو ”فَتَعْتَدُّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا“ یہ عدت گزارے گی چار ماہ 10 دن۔ ”وَإِنْ كَانَ وَضْعُ الْحَمْلِ مِنْ بَعِيدٍ“ اور اگر وضعِ حمل دور ہوا ”فَتَعْتَدُّ بِهِ“ تو اس کو عدت کے طور پر پورا کرے گی ”لِعَدَمِ الْعِلْمِ بِالتَّارِيخِ“ بوجہ تاریخ کے علم نہ ہونے کے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ فرمایا کس وجہ سے؟ کہ ان کو تاریخ معلوم نہیں تھی کہ کون سی آیت پہلے نازل ہوئی ہے اور کون سی بعد میں، تو احتیاط اسی میں ہے جو لمبی عدت ہے اس کو پورا کر لے۔ ”وَابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ يَقُولُ“ اور حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ”تَعْتَدُّ بِوَضْعِ الْحَمْلِ“ کہ عدت گزارے گی وضعِ حمل کے ساتھ ”وَقَالَ“ اور انہوں نے فرمایا ”مُحْتَجًّا عَلَى عَلِيٍّ“ اس سے دلیل پکڑتے ہوئے حضرت حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے خلاف ”مَنْ شَاءَ بَاهَلْتُهُ“ جو چاہے تو میں اس سے مباہلہ کر لوں۔ جو چاہے تو میں اس سے مباہلہ، میں اس سے مباہلے کے لیے تیار ہوں اس بات پر۔ مباہلہ اس کو کہتے ہیں کہ دونوں فریق جمع ہو جائیں اور پھر اپنا سچ، اپنے سچا ہونے کا دعویٰ کریں اور یہ دعا کریں کہ اے اللہ! ہم میں سے جو جھوٹا ہے اس پر لعنت فرما۔ ہم میں سے جو، تو جھوٹے پر لعنت کو طلب کیا جاتا ہے، یہ ہے مباہلہ بھئی۔ بات سمجھ میں اگئی بھئی؟ تو وہ فرماتے ہیں ”مَنْ شَاءَ بَاهَلْتُهُ“ جو چاہے میں اس سے مباہلہ کر لوں یعنی میں مباہلے کے لیے بھی تیار ہوں۔ یہ کس بات پر؟ کہ ”أَنَّ سُورَةَ النِّسَاءِ الْقُصْرَى“ ”أَعْنِي سُورَةَ الطَّلَاقِ الَّتِي فِيهَا قَوْلُهُ“ کہ سورۂ نساء، چھوٹی سورۂ نساء، ”سُورَةَ النِّسَاءِ الْقُصْرَى“ چھوٹی سورۂ نساء، ”أَعْنِي سُورَةَ الطَّلَاقِ“ یعنی سورۂ طلاق، ”الَّتِي فِيهَا قَوْلُهُ“ وہ جس کے اندر اللہ کا یہ قول ہے ”وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ“، یہ والی جو سورۃ ہے یہ ”نَزَلَتْ“ یہ نازل ہوئی ”بَعْدَ الَّتِي فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ“ اس کے بعد جو اس آیت کے بعد جو کس میں ہے؟ سورۂ بقرہ میں ہے۔ ”فَلَمَّا عُلِمَتِ التَّارِيخُ“ پس جب تاریخ معلوم ہو گئی ”كَانَ قَوْلُهُ“ تو اللہ تعالی کا قول ”وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ“ ”نَاسِخًا“ تو اللہ کا یہ قول کیا ہوا؟ جب یہ بعد میں ہے تاریخ کا پتہ چل گیا تو یہ کیا ہوگا؟ یہ ناسخ ہوا، نسخ کرنے والا ہوا ”لِقَوْلِهِ“ اللہ کے قول ”وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ“ اس کو کیا کرنے والا ہوا؟ اس کے لیے یہ ناسخ ہوا۔ ”فِي قَدْرِ مَا تَنَاوَلَهُ“ اتنی مقدار میں جتنے کو یہ شامل ہے۔ جتنے کو بھئی جتنی صورتیں ایک آیت میں تھیں دوسری آیت میں وہ ساری صورتیں تو نہیں تھیں؟ افتراقی مادے تھے یا نہیں؟ ایک آیت بعض صورتوں کو شامل تھی جو دوسری اس کو شامل نہیں، اور دوسری بعض صورتوں کو شامل تھی کہ پہلی آیت اس کو شامل نہیں۔ اور ایک صورت تھی جس کو دونوں آیتیں شامل تھیں، تو وہ اتنی مقدار میں اس کو منسوخ کر دیا۔ بعد والی بھئی، بعد والی آیت نے پہلی آیت کو کیا کیا؟ منسوخ کیا اور صرف اسی کو منسوخ کرے گی نا جو اس دوسری آیت کے اندر جن کا حکم اگیا اور پہلی بھی اس کو شامل تھی؟ صورت سمجھ میں اگئی؟ پہلے وہ حکم تھا، اب پہلے کیا تھا؟ حاملۂ متوفیٰ الزوج، پہلی آیت ”وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ“ اس میں حاملۂ متوفیٰ الزوج بھی داخل تھی اور ”وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ“ میں بھی یہ اگئی، تو اس نے صرف اتنی مقدار میں اس آیت کے حکم کو منسوخ کر دیا، باقی ساری صورتیں نہیں کیونکہ باقی صورتیں تو ”وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ“ میں تو غیر ”وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ“ والی ہیں ہی نہیں، ان کو تو منسوخ نہیں کر سکتی ہے؟ جس کو یہ شامل ہی نہیں ہے، صورت سمجھ میں اگئی؟ یہ معنی ہے کہ یہ اس کے لیے ناسخ ہوگی ”فِي قَدْرِ مَا تَنَاوَلَهُ“ اتنی مقدار میں جس کو یہ دوسری آیت شامل ہے۔ ”فَيُعْمَلُ بِهِ“ پس اس پر عمل کیا جائے گا ”وَهَكَذَا قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ اور اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی فرمایا کہ ”لَوْ وَضَعَتْ وَزَوْجُهَا عَلَى السَّرِيرِ لَانْقَضَتْ عِدَّتُهَا“، حضرت عمر فرماتے ہیں ”لَوْ وَضَعَتْ“ یہ جو حاملۂ متوفیٰ الزوج جو ہے، حاملہ ہے اور ان کے خاوند کا انتقال ہوا ہے، ”لَوْ وَضَعَتْ“ اگر اس نے جنم دے دیا ”وَزَوْجُهَا عَلَى السَّرِيرِ“ اس حال میں کہ اس کا خاوند ابھی چارپائی پر پڑا ہے یعنی، جنازے کی چارپائی پر خاوند کا انتقال ہوا ہے ابھی اس کو دفنایا بھی نہیں، انتقال کے بعد تھوڑی دیر بعد ہی اس کی بیوی نے بچے کو جنم دے دیا تو ”لَانْقَضَتْ عِدَّتُهَا“ تو اس کی عدت پوری ہو گئی ”وَحَلَّ لَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ“ اور اب اس کے لیے جائز ہوا کہ یہ نکاح کر لے، اس سے عدت پوری ہو گئی یہ آگے نکاح کر سکتی ہے۔ ”وَبِهِ أَخَذَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ جَمِيعًا“ اور اسی کو لیا ہے امام اعظم ابو حنیفہ اور امام شافعی رحمہما اللہ دونوں نے۔ ”أَوْ دَلَالَةً“ اس کا عطف وہ پیچھے صریحاً جو ایا تھا ”مِنْ قِبَلِ اخْتِلَافِ الزَّمَانِ صَرِيحًا“ یا جو معارضے سے چھٹکارا ہوگا، زمانے کے اختلاف کی جانب سے ہوگا ”دَلَالَةً“، زمانے کا اختلاف کس سے پتہ چل رہا ہے؟ دلالت سے پتہ چل رہا ہے، صراحتاً پتہ نہیں۔ ”عَطْفًا عَلَى قَوْلِهِ صَرِيحًا“ یہ عطف ہے مصنف کے قول ”صَرِيحًا“ پر ”أَيْ مِنْ قِبَلِ اخْتِلَافِ الزَّمَانِ دَلَالَةً“ یعنی وہ معارضے سے چھٹکارا جو ہے وہ زمانے کے اختلاف کی جانب سے ہی ہوگا دلالۃً، اور وہ اختلاف کس طور پر ہو؟ دلالت کے اعتبار سے ہو، ”كَالْحَاظِرِ وَالْمُبِيحِ“ جیسے کہ حاطر اور مبیح۔ حاطر، ظ کے ساتھ بھئی، اس کا حظر کے معنی ہیں منع کرنے کے۔ حاطر، منع کرنے والی، منع کرنے والی دلیل بھئی، دلیل مراد ہے یہاں؟ ”كَالْحَاظِرِ وَالْمُبِيحِ“ یعنی اور مبیح، مباح کرنے والی، تو حاطر سے مراد یہاں ہے محرم بھئی، کیا مراد ہے؟ روکنے والی دلیل وہی ہوگی نا جو حرام قرار دینے والی ہے ایک چیز کو، تو حاطر اور مبیح سے کیا مراد ہوئے؟ حرام کرنے، محرم اور مبیح۔ ”فَإِنَّهُمَا“ یا یوں کہیں محرم اور محلل، تو حاطر اور مبیح ”فَإِنَّهُمَا إِذَا اجْتَمَعَا فِي حُكْمٍ يَعْمَلُونَ عَلَى الْحَاظِرِ وَيَجْعَلُونَهُ مُؤَخَّرًا دَلَالَةً عَنِ الْمُبِيحِ“ اس لیے کیونکہ جب یہ دونوں جمع ہو جائیں کسی حکم میں، بھئی یاد رکھیے مشہور ضابطہ ہے ہمارا پہلے بھی بیان ہو چکا، کہ جب ایک مسئلے کے اندر محرم دلیل بھی ا جائے اور مبیح دلیل بھی ا جائے تو محرم کو ترجیح ہوتی ہے۔ ”فَإِنَّهُمَا إِذَا اجْتَمَعَا فِي حُكْمٍ“ اس لیے کیونکہ جب یہ دونوں حاطر اور مبیح جمع ہو جائیں کسی حکم میں ”يَعْمَلُونَ عَلَى الْحَاظِرِ“ تو عمل کرتے ہیں عمل کرتے ہیں کس پر بھئی؟ علماء فقہاء کس پر عمل کرتے ہیں؟ حاطر پر یعنی محرم پر عمل کرتے ہیں ”وَيَجْعَلُونَهُ مُؤَخَّرًا“ اور اس کو مؤخر قرار دیتے ہیں ”دَلَالَةً“ باعتبار دلالت کے، تو اس کو مؤخر قرار دیتے ہیں ”عَنِ الْمُبِيحِ“ کس سے؟ مبیح سے، باعتبار دلالت کے۔ ”وَبِذَلِكَ“ اور یہ اس وجہ سے ”لِأَنَّ الْإِبَاحَةَ أَصْلٌ فِي الْأَشْيَاءِ“ کہ مباح ہونا اصل ہے چیزوں میں۔ بھئی میں نے بتلایا تھا بعض علماء فرماتے ہیں چیزوں کے اندر اصل ہے مباح ہونا، ہر چیز مباح ہے الا یہ کہ اس کی حرمت پر کوئی دلیل قائم ہو جائے۔ جب تک حرمت پر دلیل نہیں ائے گی چیز کیا ہوگی؟ حلال ہوگی، حلال ہوگی۔ تو معلوم ہوا اباحت اصل ہے چیزوں میں، اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ حرمت اصل ہے کہ ہر چیز حرام ہے الا یہ کہ کوئی دلیل اکر بتلائے کہ یہ حلال ہے۔ بعضوں نے کہا توقف ہے، توقف کیا جائے گا جب تک حلت یا حرمت پر کوئی دلیل نہ قائم ہو جائے، توقف کیا جائے گا۔ جب کہ مختار مذہب یہی ہے کہ ہمارے نزدیک بھی اور اسی طرح شوافع کے نزدیک بھی، اباحت اصل ہے چیزوں میں بھئی، جب تک کوئی دلیل نہ ائے گی اس وقت تک چیز حرام نہیں ہوگی۔ ”لِأَنَّ الْإِبَاحَةَ أَصْلٌ فِي الْأَشْيَاءِ“ اس لیے کیونکہ مباح ہونا اصل ہے چیزوں میں ”فَلَوْ عَمِلْنَا بِالْمُحَرِّمِ“ ”فَلَوْ عَمِلْنَا بِالْمُحَرِّمِ“ پس اگر ہم عمل کر لیں محرم پر ”كَانَ النَّصُّ الْمُبِيحُ مُوَافِقًا لِلْإِبَاحَةِ“ بھئی دیکھیے یہاں صورت یہ بنتی ہے: اصل ہے چیزوں میں اباحت اور دو دلیلیں ہمارے پاس ا گئیں ایک چیز کے بارے میں، ایک بتلاتی ہے کہ یہ چیز حلال ہے، دوسری بتلاتی ہے کہ یہ چیز حرام، دو دلیلیں ا گئیں۔ اب ایک صورت تو یہ کہ ہم کہیں محرم مقدم اور مبیح مؤخر، کون مقدم؟ محرم مقدم، تو اصل تھی چیزوں میں اباحت، معلوم ہوا وہ چیز پہلے جائز تھی۔ وہ چیز کیا تھی؟ پہلے جائز تھی، حلال تھی۔ پھر کون آئی؟ دو دلیلیں اب ارہی ہیں، اصل کے اعتبار سے وہ چیز کیا تھی؟ حلال تھی، پھر پہلی دلیل آئی، کس کو مقدم رکھا ہے ہم نے؟ محرم کو مقدم رکھا، محرم دلیل آئی اس نے اس اباحت کو منسوخ کر دیا اور وہ چیز حرام ہوئی، پھر اس کے بعد کون سی دلیل آئی؟ مبیح دلیل آئی اس نے پھر اس چیز کو کیا کر دیا؟ مباح کر دیا اور حرمت کو منسوخ کر دیا، تو دو دفعہ نسخ ایا، دو دفعہ نسخ ایا۔ اور ایک صورت یہ کہ مبیح کو مقدم رکھیں، کس کو مقدم رکھیں؟ اب دیکھیے چیزوں میں اصل کیا تھا؟ اصل اباحت، اب پہلی دلیل ارہی ہے کس کو مقدم کیا؟ اباحت والی دلیل کو، تو چیز پہلے مباح تھی اب دلیل بھی ا گئی کہ یہ چیز کیا ہے؟ مباح، تو دونوں سے ایک ہی حکم معلوم ہو رہا ہے کوئی نسخ ایا؟ نہیں، تو دونوں کی اباحت اصل کے اعتبار سے بھی اباحت کا پتہ چل رہا تھا دلیل نے بھی بتلایا مباح ہے، پھر اس کے بعد اب کون سی دلیل ائے گی؟ محرم ائے گی وہ ان دونوں کی سے جو اباحت تھی ثابت اس کو ختم کر دے گی، منسوخ کر دے گی، تو اس صورت میں ایک ہی دفعہ نسخ ایا، ایک ہی مرتبہ نسخ ایا بھئی، صورت سمجھ میں اگئی؟ دیکھیے اب بیان کریں گے کہ کون سی صورت ٹھیک ہے ان میں سے۔ تو کہتے ہیں ”فَلَوْ عَمِلْنَا بِالْمُحَرِّمِ“ اگر ہم محرم پر عمل کر لیں یعنی اس کو مؤخر رکھیں ”كَانَ النَّصُّ الْمُبِيحُ مُوَافِقًا لِلْإِبَاحَةِ الْأَصْلِيَّةِ“ تو وہ نص جو مباح کرنے والی ہے وہ موافق ہوئی اباحتِ اصلیہ کے، کس کو مقدم رکھا ہے؟ نصِ مبیح کو، عمل کس پر کر رہے ہیں؟ محرم جو مؤخر ہوتی ہے اس پر عمل کیا جاتا ہے نا؟ تو معلوم ہوا محرم کو ہم نے مؤخر رکھا ہے، تو ”كَانَ النَّصُّ الْمُبِيحُ مُوَافِقًا لِلْإِبَاحَةِ الْأَصْلِيَّةِ“ تو وہ نص جو مباح کرنے والی ہے وہ موافق ہو گئی کس کے ساتھ؟ اباحتِ اصلیہ کے موافق ہو گئی ”وَاجْتَمَعَتَا“ اور دونوں جمع ہو گئیں، اباحتِ اصلیہ بھی اور نصِ مبیح سے بھی اباحت ا گئی بھئی، ”ثُمَّ يَكُونُ النَّصُّ الْمُحَرِّمُ نَاسِخًا لِلْإِبَاحَتَيْنِ مَعًا“ پھر نصِ محرم بعد میں اکر وہ منسوخ کرے گی دونوں اباحتوں کو اکٹھا ہی، تو ایک ہی دفعہ نسخ ائے گا۔ صورت سمجھ میں ارہی ہے؟ ”وَهُوَ مَعْقُولٌ“ اور یہ ایک معقول بات ہے، عقل میں انے والی ہے کہ پہلے چیز مباح تھی بعد میں کیا کر دیا گیا اس کو؟ حرام کر دیا گیا۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا عَمِلْنَا بِالْمُبِيحِ“ بخلاف اس کے کہ جب ہم عمل کریں کس پر؟ مبیح پر پہلے عمل کر لیں یعنی اس کو مؤخر رکھیں۔ ”لِأَنَّهُ حِينَئِذٍ يَكُونُ النَّصُّ الْمُحَرِّمُ نَاسِخًا لِلْإِبَاحَةِ الْأَصْلِيَّةِ“ تو اس صورت میں نصِ محرم جو ہے ”يَكُونُ النَّصُّ الْمُحَرِّمُ نَاسِخًا“ نصِ محرم کیا ہوگی؟ وہ ناسخ ہوگی اباحتِ اصلیہ کے ”ثُمَّ يَكُونُ النَّصُّ الْمُبِيحُ نَاسِخًا لِلْمُحَرِّمِ“ پھر نصِ مبیح جو ہے وہ ناسخ بنے گی کس کے لیے؟ محرم کے لیے ”فَيَلْزَمُ تَكْرَارُ النَّسْخِ“ تو لازم ائے گا نسخ کا تکرار کہ پہلے اباحت اصل تھی پھر محرم آئی اس نے اباحت کو منسوخ کیا پھر مبیح آئی اس نے حرمت کو منسوخ کیا تو دو دفعہ نسخ ایا ”وَهُوَ غَيْرُ مَعْقُولٍ“ اور یہ غیر معقول بات ہے بھئی، یہ کوئی معقول بات نہیں، عقل میں انے والی نہیں کہ دو دفعہ، پہلے اباحت تھی پھر حرام کیا گیا پھر حلال کر دیا گیا۔ صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ تو اصل بھی یہی ہے کہ عدمِ تکرار ہو بھئی، اصل کیا ہے؟ عدمِ تکرار، تو اگر محرم کو مؤخر رکھتے ہیں تو تکرارِ نسخ نہیں۔ اور اگر ہم مبیح کو مؤخر رکھتے ہیں تو تکرارِ نسخ ائے گا اور اصل کیا ہے؟ عدمِ تکرار ہونا چاہیے بھئی۔ ”وَهَذَا أَصْلٌ كَبِيرٌ لَنَا“ اور یہ ہمارا بڑا ضابطہ ہے، کون سا بڑا ضابطہ ہے؟ کہ جب حاطر اور مبیح جمع ہو جائیں تو کس کو ترجیح ہوگی؟ حاطر کو یعنی محرم کو، تو اس چیز کو حرام قرار دیا جائے گا۔ ”يَتَفَرَّعُ عَلَيْهِ كَثِيرٌ مِنَ الْأَحْكَامِ“ متفرع ہوتے ہیں اس پر بہت سے احکام یعنی بہت سے احکام اس سے نکلتے ہیں ”وَهَذَا عَلَى قَوْلِ مَنْ جَعَلَ الْإِبَاحَةَ أَصْلًا فِي الْأَشْيَاءِ“ اور یہ اس قول پر ہے اس ان لوگوں کے ان فقہاء کے قول پر ہے جنہوں نے اباحت کو اصل قرار دیا ہے چیزوں میں ”وَقِيلَ الْحُرْمَةُ أَصْلٌ فِيهَا“ اور کہا گیا ہے کہ حرمت اصل ہے چیزوں میں ”وَقِيلَ التَّوَقُّفُ أَوْلَى“ اور کہا گیا ہے توقف اولٰی ہے ”حَتَّى يَقُومَ دَلِيلُ الْإِبَاحَةِ أَوِ الْحُرْمَةِ“ یہاں تک کہ مباح ہونے یا حرام ہونے کی کوئی دلیل قائم ہو جائے ”وَقَدْ طَوَّلْتُ الْكَلَامَ فِيهِ فِي التَّفْسِيرِ الْأَحْمَدِيِّ“ اور تحقیق میں نے طویل کلام کیا ہے اس بحث کے کے بارے میں تفسیر احمدی کے اندر۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
84 approved lectures · 47 of 84