درس نمبر۔36
وإذا أوصى بخاتم لإنسان، ثم بالفص منه لآخر؛ أن الحلقة للأول، والفص بينهما، تأكيد لمقدمة مفهومة مما قبل، وهي أن العام مساوٍ للخاص مسألة فقهية.
بھئی، ماقبل سے ایک مقدمہ مفہوم ہوا، بھئی۔ کہ عام خاص کے برابر ہے، اس کے مساوی ہے۔ کیونکہ خاص کا حکم پہلے گزرا تھا کہ خاص کیا ہے ہمارے نزدیک؟ قطعی ہے۔ اب قریب میں عام کا حکم گزرا، عام کے بارے میں بھی بتلا دیا، وہ بھی ہمارے نزدیک قطعی ہے۔ تو اس سے ایک مقدمہ مفہوم ہو گیا کہ عام خاص کے، جب دونوں قطعی ہیں تو عام کیا ہوا؟ خاص کے برابر ہوا، اس کے مساوی ہو گیا۔
اب اس مقدمے کی تائید کے طور پر ایک فقهی مسئلہ ذکر فرما رہے ہیں کہ فقهی مسئلے سے بھی اس مقدمے کی تائید ہوتی ہے کہ خاص اور عام دونوں آپس میں کیا ہیں؟ برابر ہیں۔ کس کے ذریعے تائید ہوتی ہے؟ یہ جو فقهی مسئلہ ذکر کریں گے اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ خاص اور عام آپس میں برابر ہیں، بھئی۔
فقهی مسئلہ بھئی یہ ہے، کہتے ہیں کہ ایک شخص ہے، وہ مثلاً وہ وصیت کرتا ہے ایک انگوٹھی کی ایک شخص کے لیے کہ "میرے مرنے کے بعد یہ انگوٹھی مثلاً بھئی بڑی قیمتی انگوٹھی ہے، تو اس نے وصیت کر دی میرے مرنے کے بعد یہ انگوٹھی زید کو دے دینا، بھئی۔" پھر اس کے بعد بھئی، بعد میں وہ الگ کلام کے ذریعے اس انگوٹھی کا جو نگ ہے اس کی وصیت کسی اور کے لیے کر دیتا ہے، بھئی۔ کہ اس کا، اس انگوٹھی کا جو نگینہ ہے مثلاً وہ عمرو کو دے دینا۔ وہ یہ وصیت اس نے بعد میں کی، بھئی۔ پہلی وصیت انگوٹھی کی وصیت کس کے لیے کی تھی؟ زید کے لیے کی تھی اور بعد میں، چاہے اسی وقت تھوڑی دیر ٹھہر کر کر لے، چاہے سال بعد کر دے بھئی وصیت، مطلب جدا کلام کے ذریعے اس نے پھر بعد میں نگ کی، نگینے کی وصیت کس کے لیے کر دی؟ عمرو کے لیے مثلاً وصیت کر دی۔
تو فر، کہتے ہیں بھئی اس صورت میں جو انگوٹھی کا جو حلقہ ہو گا، وہ صرف موصیٰ لہُ اول کے لیے ہو گا جس کے لیے پہلے وصیت کی تھی، یعنی زید کے لیے صرف، زید کو اس انگوٹھی کا حلقہ دیا جائے گا اور جو نگینہ ہے، وہ دونوں کے درمیان مشترک ہو گا، بھئی۔ نگینہ کیا ہو گا دونوں کے درمیان؟ مشترک ہو گا۔
کہتے ہیں اس فقهی مسئلے سے بھی تائید ہوتی ہے کہ خاص اور عام آپس میں کیا ہیں؟ برابر۔ کس طرح بھئی تائید ہوتی ہے؟ دیکھو، وجہ سمجھ لو۔ وجہ یہ بھئی کہ جب ایک شخص نے وصیت کی کہ مثلاً "میری یہ انگوٹھی کس کو دے دی جائے میرے مرنے کے بعد؟ زید کو دے دی جائے۔" تو کہتے ہیں یہاں اس نے لفظِ انگوٹھی ذکر کیا اور انگوٹھی کا لفظ عام کی طرح ہے۔ عام تو نہیں ہے، لیکن عام کی طرح ہے۔ عام اس لیے نہیں ہے کیونکہ عام وہ ہوتا ہے جو افراد کو شامل ہوتا ہے، جبکہ انگوٹھی تو کیا ہے؟ ایک ہی فرد پر بولی جاتی ہے، بھئی۔ بات سمجھ میں آئی، بھئی؟ تو یہ ایک ہی فرد کو شامل ہے، لیکن پھر بھی یہ عام کی طرح ہے۔ کس اعتبار سے؟ کہ انگوٹھی کا لفظ حلقے اور نگینے دونوں کو شامل ہے۔ انگوٹھی کا لفظ حلقے اور نگینے دونوں کو شامل ہے، تو یہ عام کی طرح ہو گیا، جیسے عام افراد کو شامل ہوتا ہے، یہاں یہ بھی کتنی چیزوں کو شامل ہو گیا؟ دو چیزوں کو شامل ہوا، بھئی۔ تو یہ عام ہے، مولانا۔ انگوٹھی کیا ہے؟ عام کی طرح ہے، بھئی۔
پھر بعد میں اس نے کہا کہ "یہ نگینہ جو ہے، یہ عمرو کو دے دیا جائے۔" تو نگینہ، مولانا، خاص ہے کیونکہ وہ صرف اس نگ پر ہی بولا جاتا ہے، کسی اور چیز پر نہیں، تو یہ خاص ہوا، بھئی۔
تو پہلے ایک عام آیا تھا، مولانا، بعد میں خاص آ گیا۔ اب دیکھو، عام کیا تقاضا کرتا ہے؟ عام تقاضا کر رہا ہے کہ حلقہ بھی زید کا ہو اور نگینہ بھی کیونکہ انگوٹھی لفظ کہا اور انگوٹھی شامل ہے حلقے کو بھی اور نگینے کو بھی۔ تو یہ تقاضا کر رہا ہے دونوں چیزیں کس کی ہونی چاہئیں؟ زید کی، یہ کس نے تقاضا کیا؟ عام نے، کس نے؟ عام نے، اور خاص بعد میں الگ کلام کے ذریعے اس نے الگ وصیت کی کہ "یہ نگینہ کس کو دیا جائے؟ عمرو کو دیا جائے"، تو یہ خاص، خاص تقاضا کرتا ہے کہ نگینہ کس کو دے دیا جائے؟ عمرو کو دے دیا جائے۔
تو اب خاص اور عام میں تعارض آیا، مولانا۔ حلقے میں تو تعارض نہیں، حلقہ تو صرف کس کا ہو گا؟ زید کا، یعنی موصیٰ لہُ اول ہی کا ہو گا، لیکن نگینہ، اس کے اندر خاص اور عام میں تعارض آ رہا ہے۔ عام چاہتا ہے کہ یہ کس کا ہو؟ زید کا۔ خاص کیا چاہتا ہے یہ کس کا ہو؟ عمرو کا ہو، تو لہٰذا اور خاص اور عام دونوں آپس میں کیا ہیں؟ برابر ہیں، مساوی ہیں، ترجیح کی کوئی وجہ نہیں ہے، لہٰذا اس انگوٹھی کو، یہ نگینہ بھی کیا ہو جائے گا؟ دونوں کے درمیان مشترک ہو جائے گا، بھئی، تاکہ خاص اور عام برابر ہو جائیں، بھئی۔ صورتِ مسئلہ سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی، بھئی؟
دیکھیے بھئی، اب یہی ذکر۔ تو دیکھو، اب اس سے کہتے ہیں اس فقهی مسئلے سے بھی تائید ہوتی ہے کہ خاص عام کے برابر ہے، بھئی۔
کہتے ہیں: وإذا أوصى بخاتم لإنسان، جب وصیت کی کسی شخص نے انگوٹھی کی کسی انسان کے لیے، ثم بالفص منه، پھر نگینے کی منه، یعنی ہا ضمیر راجع ہے خاتم کو، اسی انگوٹھی میں سے جو نگینہ ہے، بھئی، اس کی وصیت کی لآخر، کسی دوسرے شخص کے لیے، تو کہتے ہیں: أن الحلقة للأول والفص بينهما، حلقہ کس کے لیے ہو گا؟ پہلے شخص کے لیے ہو گا اور نگینہ ان دونوں کے درمیان مشترک ہو گا۔ کہتے ہیں: تأكيد لمقدمة مفهومة مما قبل، یہ تائید ہے اس مقدمہ کی جو مفہوم ہو رہا ہے ماقبل سے، وهي أن العام مساو للخاص، اور وہ مقدمہ یہ ہے کہ عام جو ہے، وہ خاص کے مساوی ہے، تو یہ اس مقدمے کی تائید ہے بمَسْأَلَةٍ فِقْهِيَّةٍ۔ بمَسْأَلَةٍ فِقْهِيَّةٍ کا تعلق تائید سے ہے، تائید ہے کس کے ذریعے؟ مسئلہ فقهیہ کے ذریعے اس مقدمہ مفہومہ کی تائید ہے۔
وهي أنه إذا أوصى أحد بخاتمه لإنسان، اور وہ یہ کہ جب وصیت کی کسی ایک شخص نے اپنی انگوٹھی کی کسی انسان کے لیے، ثم أوصى بكلام مفصول بعده، پھر وصیت کی ایسے کلام کے ذریعے جو الگ ہے، جو مفصول ہے، جدا ہے، بعدہ، اس پہلی، پہلی وصیت کے بعد۔ سمجھ میں آیا؟ تو اس پہلی وصیت کے بعد پھر کلامِ مفصول کے ذریعے وصیت کی بفص ذلك الخاتم بعينه، اسی معین انگوٹھی کے نگینے کی، لإنسان آخر، کسی دوسرے انسان کے لیے، فتكون الحلقة للموصى له الأول، تو اس صورت میں حلقہ جو ہو گا وہ موصیٰ لہُ اول کے لیے ہو گا خاصۃً، خاص طور پر۔ الأول، یہ صفت ہے موصیٰ لہُ کی اور وہ مجرور ہے، اس پر حرفِ جار داخل ہوا ہے، تو یہ صفت بھی مجرور ہو گی۔ فتكون الحلقة للموصى له الأول خاصة، تو حلقہ جو ہو گا خاص طور پر موصیٰ لہُ اول کے لیے ہو گا، والفص مشتركا بين الأول والثاني على السواء، اور نگینہ جو ہے وہ مشترک ہو گا موصیٰ لہُ اول اور موصیٰ لہُ ثانی کے درمیان علی السواء، برابری پر، برابری کے طریقے پر۔
وذلك لأن الخاتم عام، اور اس کی وجہ یہ ہے کیونکہ خاتم کا لفظ عام ہے، أي كالعام، یعنی کہ عام کی طرح ہے، لأن العام المصطلح هو ما يشمل أفرادا، اس لیے کہ اصطلاحی عام وہ ہے جو شامل ہوتا ہے افراد کو، والخاتم لا يصدق إلا على فرد واحد، اور جبکہ انگوٹھی جو، تو عام اصطلاحی وہ ہے جو افراد کو شامل ہوتا ہے، والخاتم لا يصدق إلا على فرد واحد، اور انگوٹھی تو صادق نہیں آتی مگر ایک ہی فرد پر، ولكنه كالعام، لیکن یہ کس کی طرح ہے؟ عام کی طرح ہے، يشمل الحلقة والفص كلیهما، یہ حلقے اور نگینے دونوں کو شامل ہوتی ہے۔
والفص خاص بمدلوله فقط، جبکہ فص کا لفظ جو نگینہ ہے، وہ خاص ہے صرف اپنے مدلول کے ساتھ ہی، بھئی۔ یعنی فص کا لفظ صرف اپنے مدلول، یعنی صرف نگینے کے ساتھ ہی یہ خاص ہے جس پر یہ دلالت کر رہا ہے۔
فإذا ذكر الخاص بعد العام، یا یوں کہیں فإذا ذكر الخاص بعد العام بكلام مفصول، جب وصیت کرنے والے نے خاص کو ذکر کیا عام کے بعد الگ کلام کے ذریعے، وقع التعارض بينهما في حق الفص، تو ان دونوں کلاموں میں تعارض واقع ہوا نگینے کے حق میں، فيكون الفص للموصى لهما جميعا، تو وہ جو نگینہ ہے جو ہے للموصى لهما، وہ دونوں موصیٰ لہُ جو ہیں، ان کے لیے ہو گا، للموصى لهما جميعا، وہ دونوں جو موصیٰ لہُ ہیں ان کے لیے ہو گا تسوية للعام مع الخاص، برابری کرنے کے لیے عام اور کی خاص کے ساتھ، بھئی۔ عام کی خاص کے ساتھ برابری کرنے کے لیے۔
بخلاف ما إذا أوصى، ہاں، یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں، بھئی۔ یہ تو تھا کلامِ مفصول کی صورت میں، جب اس نے دوسری وصیت جو کی وہ الگ کلام کے ذریعے کی ہے۔ پہلے کلام کے ساتھ دوسرا کلام ملا ہوا نہیں تھا، لیکن اگر اس نے کلامِ موصول کے ساتھ یہ وصیت کی، بھئی، مثلاً درمیان میں وقفہ نہیں، مسلسل کلام، اس نے یوں کہا "میری یہ انگوٹھی زید کو دے دینا اور نگینہ عمرو کو دے دینا۔" دیکھو، کلامِ موصول ہے، ملا ہوا ہے۔ "میری یہ انگوٹھی زید کو دے دینا اور نگینہ عمرو کو دے دینا۔" تو کہتے ہیں یاد رکھیے، اس صورت میں یہ تخصیص ہو جائے گی۔ اب صرف حلقہ جو ہے، وہ زید کو ملے گا اور نگینہ عمرو کو ملے گا۔ کس کو ملے گا؟ عمرو کو ملے گا، اسی لیے کیونکہ یہ اس نے کلامِ موصول کے ساتھ کہا، تو یہ تخصیص ہو گئی۔ کیا ہو گئی؟ تخصیص ہو گئی، تخصیص کس کو کہتے تھے؟ کہ عام میں سے، کے افراد میں سے بعض افراد کو اس حکم سے نکال دیا جائے، تو یہاں بھی کہا کہ "یہ انگوٹھی"، جب کہا "کس کے لیے ہے؟ زید کے لیے ہے۔" تو آگے نگینے کو اس سے کیا کر دیا؟ نکال دیا، معلوم ہوا زید کے لیے وہ صرف حلقہ چاہتا ہے، یہ آگے آنے والا کلام بتلا رہا ہے۔ زید کو وہ صرف کیا دینا چاہتا ہے؟ حلقہ دینا چاہتا ہے، بھئی۔ حلقہ دینا چاہتا ہے، بھئی۔
اس لیے کیونکہ تخصیص کے لیے شرط ہے، مولانا، یاد رکھنا، بھئی۔ تخصیص کے لیے شرط ہے کہ وہ جو مخصص ہے، دلیلِ مخصص، وہ ملی ہوئی ہو اس عام کے ساتھ۔ تخصیص کے لیے کیا شرط ہے؟ کہ وہ دلیلِ مخصص جو تخصیص کر رہی ہے جو دلیل، بھئی، تخصیص کس سے آ رہی ہے؟ "اور یہ حلقہ کس کو، یہ نگینہ کس کو دے دینا؟ عمرو کو دے دینا۔" یہ دلیلِ مخصص ہوئی نا، یہ تخصیص اسی سے تو آ رہی ہے جب کلامِ موصول کے ساتھ کہا، اور تخصیص کے لیے کیا شرط ہے کہ وہ دلیلِ مخصص کیا ہونی چاہیے؟ عام کے ساتھ ملی ہوئی ہونی چاہیے، اگر ملی ہوئی نہیں، جدا ہے، تو یاد رکھو پھر اس صورت میں یہ تخصیص نہیں کہلاتا، یہ نسخ کہلاتا ہے۔ کیا کہلاتا ہے؟ نسخ کہلاتا ہے، بھئی۔
کس طرح؟ بھئی، پہلے ایک حکم بیان کیا تھا، پھر بعد میں ایک اور حکم بیان کر رہا ہے، معلوم ہوا کچھ، پہلے اس نے کہا تھا "یہ انگوٹھی کس کو دے دی جائے؟ زید کو دے دی جائے۔" معلوم ہوا اس نے انگوٹھی اور نگینہ دونوں مراد لیے ہیں۔ اس کا حکم کس کے لیے لگا دیا؟ زید کے لیے کہ یہ زید کو دی جائے میرے مرنے کے بعد۔ بعد میں وہ کہہ رہا ہے "یہ نگینہ کس کو دے دیا جائے؟" کلامِ مفصول کے ذریعے کہہ رہا ہے، معلوم ہوا پہلے جب اس نے انگوٹھی کا لفظ کہا تھا مثلاً ایک دن پہلے یا دو دن پہلے اس نے کہا تھا، معلوم ہوا اس وقت جب اس کی مراد انگوٹھی سے حلقہ بھی تھا اور نگینہ بھی تھا۔ اگر ایک مراد ہوتا تو وہ اسی وقت تصریح کر دیتا، لیکن اس نے اس وقت تصریح نہیں کی، معلوم ہوا اس وقت جو انگوٹھی کا لفظ بولا اس سے کیا مراد ہے؟ حلقہ بھی مراد اور نگینہ بھی مراد ہے، اب بعد میں وہ کیا کرنا چاہتا ہے؟ بعض افراد کو اس حکم سے نکالنا چاہتا ہے، تو یہ اس کو نسخ کا، بعض افراد کے اندر اس حکم کو منسوخ کرنا چاہتا ہے، یعنی نگینے میں کیا کرنا چاہتا ہے؟ منسوخ کرنا چاہتا ہے، نگینے کو بھی حکم پہلے کس کے لیے تھا؟ زید کے لیے، لیکن اب اس حکم کو منسوخ کرنا چاہتا ہے، نگینے کو کس کے لیے کرنا چاہتا ہے؟ عمرو کے لیے کرنا چاہتا ہے، لیکن یہاں نسخ نہیں ہو گا، مولانا، اس لیے کیونکہ وصیت کا نفاذ ہوتا ہے انسان کے مرنے کے بعد، بھئی۔ انسان کے مرنے کے بعد وصیت کا نفاذ ہوتا ہے، تو گویا کہ نفاذ کے وقت دونوں ملے ہوئے ہیں، دونوں کیا ہیں؟ ملے ہوئے ہیں، تو خاص، تو یہاں تعارض آیا تھا، تو ہم نے لہٰذا نگینے کو دونوں میں مشترک قرار دے دیا۔ لیکن اگر وہ کلامِ موصول کے ساتھ کہتا ہے، اب تخصیص کی شرط پوری ہو گئی، تخصیص میں کیا شرط تھی؟ کہ دلیلِ مخصص کس کے ساتھ ملی ہوئی ہو؟ عام کے ساتھ ملی ہوئی ہو، وہ دلیل جس کی وجہ سے تخصیص آ رہی ہے، تخصیص کس دلیل کی وجہ سے آ رہی ہے؟ اس نے جو یہ کہا، یہ نگینہ، پہلے کہا "یہ انگوٹھی زید کو دے دینا میرے مرنے کے بعد اور یہ نگینہ میرے مرنے کے بعد عمرو۔" تو یہ جو ثانی کلام ہے، یہ دلیلِ مخصص ہے، یہ تخصیص کر رہی ہے نگینے کو ماقبل حکم سے نکال رہی ہے، بھئی، یہ دلیلِ مخصص ہے۔
تو یہاں تخصیص کی شرط پوری ہو گئی، مولانا، تو یہ، یہ تخصیص ہو گی، بھئی، یہ نسخ نہیں ہو گا، بھئی، تخصیص۔ معلوم ہوا اس نے جو پہلے جملے کے اندر عام ذکر کیا انگوٹھی، اس انگوٹھی سے صرف اس کی مراد حلقہ ہے، نگینہ مراد ہی نہیں۔ کیا ہے؟ اگلا کلام اس کا خود بتلا رہا ہے، وہ سارا کلام مسلسل کرتا چلا جا رہا ہے، پہلے اس نے کہا "یہ انگوٹھی کس کے لیے ہے؟ زید کے لیے ہے اور یہ نگینہ کس کے لیے ہے؟" معلوم ہوا اس نے جو انگوٹھی کا لفظ ذکر کیا تھا، اس سے اس کی مراد پوری انگوٹھی ہے، نگینے اور حلقے سمیت، کہ صرف حلقہ اس کی مراد ہے؟ معلوم ہوا پہلے، وہاں صرف حلقہ مراد ہے اور آگے بتلایا کہ نگینہ اس میں داخل نہیں، نگینہ کس کو دے دینا؟ عمرو کو دے دینا، تو لہٰذا اس صورت میں تخصیص آ جائے گی، یعنی عام کے بعض افراد کو اس حکم سے تخصیص میں نکال لیا جاتا ہے، تو وہاں بھی گویا کہ وہاں صرف حلقہ مراد ہے، نگینہ اس حکم میں داخل ہی نہیں ہے، تو حلقہ صرف زید کو مل جائے گا اور نگینہ وہ کس کو مل جائے گا؟ کیونکہ تعارض ہی نہیں آیا، مولانا، عام بولا انگوٹھی، لیکن مراد صرف کیا ہے؟ صرف حلقہ، اور بعد میں کیا کہا؟ نگینہ، تو وہ عام ہے، یہ خاص ہے، لیکن کیا عام سے صرف کیا مراد؟ حلقہ، خاص سے صرف کیا مراد؟ نگینہ، تعارض کوئی آیا؟ نہیں، تو تعارض ہی نہیں آیا، تو یہ فرق ہوتا ہے، مولانا، تخصیص کے اندر اور نسخ کے اندر، بھئی۔ تخصیص کے اندر جو عام بولا جاتا ہے، اولِ امر سے ہی اس کے بعض افراد ہی مراد ہوتے ہیں، سارے افراد مراد ہی نہیں ہوتے، جبکہ نسخ کے اندر جو عام بولا جائے گا اس کے اندر پہلے تمام افراد مراد تھے، پھر بعد میں کیا کیا گیا؟ بعض افراد کو اس حکم سے، ان سے اس حکم کو ہٹا دیا گیا۔ فرق سمجھ میں آ گیا اچھی طرح؟ تو جب وہ کلامِ مفصول کے ساتھ کہے گا تو اس صورت میں کیا ہو گا دونوں کے اندر؟ تعارض آئے گا اور جب کلامِ موصول کے ساتھ کہے گا تو اس صورت میں کیا ہو جائے گی؟ تخصیص ہو گی، تو خاص اور عام میں تعارض ہی نہیں آئے گا، جب تعارض نہیں آئے گا تو بس حلقہ پہلے کے لیے اور نگینہ کس کے لیے ہو جائے گا؟ دوسرے کے لیے۔ مسئلہ سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گیا، بھئی؟ دیکھیے اب کتاب پر۔
تو کہتے ہیں: بخلاف ما إذا أوصى بالفص بكلام موصول، بخلاف اس کے کہ جب اس نے وصیت کی نگینے کی کلامِ موصول کے ساتھ، فإنه يكون بيانا، تو اس صورت میں یہ بیان بنے گا، لأن المراد بالخاتم فيما سبق، اس لیے کہ مراد جو ہے انگوٹھی سے ماقبل کے اندر، الحلقة فقط، وہ صرف حلقہ ہی ہو گا، فتكون الحلقة للأول والفص للثاني، تو اس صورت میں حلقہ موصیٰ لہُ اول کے لیے ہو گا اور نگینہ موصیٰ لہُ ثانی کے لیے ہو گا۔
یہاں تک پوری بات سب کو سمجھ میں آ گئی، اچھی طرح؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، چاہے کلامِ مفصول کے ساتھ کہے، چاہے کلامِ موصول کے ساتھ کہے، دونوں صورتوں میں نگینہ موصیٰ لہُ ثانی کے لیے ہو گا اور موصیٰ لہُ اول کو صرف حلقہ دیا جائے گا، جبکہ ہم نے کہا تھا نہیں، کلامِ مفصول کے ساتھ کہا تو نگینے میں دونوں شریک ہوں گے، اور اگر کلامِ موصول کے ساتھ کہا تو نگینہ صرف کس کا ہو جائے گا؟ موصیٰ لہُ ثانی کا ہو جائے گا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بھئی دیکھو، یہ وصیت کر رہا ہے اور وصیت کا نفاذ موت کے وقت ہوتا ہے، تو چاہے وہ الگ کلام کرے، چاہے
ملا کر کرے۔ اس کے نفاذ کے وقت دونوں اکٹھے حکم نافذ ہو رہے ہیں۔ نفاذ کیا ہو رہا ہے دونوں کا؟ وصیت ایک سے اج کرے، ایک 10 سال بعد کرے، لیکن دونوں نے نافذ کب ہونا ہے؟ موت کے وقت۔ نفاذ کے وقت دونوں کو گویا کہ حکماً کیا ہو چکے ہیں؟ مقارنت آ گئی ان میں۔ کیا آ گئی؟ مقارنت آ گئی۔ سمجھ میں آیا؟ اور جب مقارنت ہو، کلامِ موصول ہو، اس صورت میں کیا حکم بتلایا تھا آپ نے؟ اس صورت میں تفصیل ہے تو حلقہ پہلے کے لیے ہوگا اور نگینہ کیونکہ اس وقت اگر کلامِ موصول میں صورت میں کہے پھر تو اشکال ہی کوئی نہیں۔ کلامِ مفصول کی صورت میں بھی اشکال نہیں رہتا اس لیے کیونکہ دونوں کا نفاذ کس وقت ہونا ہے؟ موت کے وقت۔ گو وہاں جا کر دونوں گویا مل گئے، آپس میں مقارنت آ گئی اور جب مقارنت آئی تو اس صورت میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ حلقہ پہلے کے لیے ہوگا اور نگینہ کس کے لیے ہوگا؟ دوسرے کے لیے۔ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں مولانا! کس پر؟ کہتے ہیں جیسے کسی شخص کے لیے رقبہ کی وصیت کی۔ مثلاً ایک آدمی نے وصیت کی: "میرے مرنے کے بعد میرا یہ جو غلام ہے زید کو دے دیا جائے۔" تو غلام کے رقبہ کی وصیت اس نے کس کے لیے کر دی؟ زید کے لیے۔ رقبہ سے مراد ذات ہے یعنی ذات اس غلام کی وصیت زید کے لیے کر دی۔ اور پھر کہتا ہے: "اور اس غلام کی خدمت عمر کے لیے ہے۔ میرے مرنے کے بعد یہ غلام کس کی خدمت کرے؟ عمر کی خدمت کرے۔" تو دیکھو اس نے رقبہ کی وصیت کی ہے زید کے لیے اور خدمت کی وصیت کس کے لیے کی ہے؟ عمر کے لیے کی ہے۔ تو یہ چاہے کلامِ مفصول کے ساتھ کہے، چاہے کلامِ موصول کے ساتھ کہے، دونوں صورتوں کے اندر خدمت زید کے لیے ہوگی اور خدمت نہیں ذات جو ہے وہ زید کے لیے ہوگی اور خدمت کس کے لیے ہوگی؟ عمر کے لیے۔ تو جیسے وہاں کلامِ موصول اور مفصول دونوں برابر ہیں، اسی طرح انگوٹھی اور نگینے میں بھی یہ دونوں کلام کیا ہوں گے آپس میں؟ برابر۔ یعنی چاہے الگ کہے، چاہے ملا کر کہے، دونوں صورتوں میں اسی طرح ہوگا جیسے ذات اور خدمت کے اندر تھا بھئی۔ ہم کہتے ہیں آپ کا یہ قیاس قیاس مع الفارق ہے مولانا! فارق کا معنی ہے مختلف، مختلف۔ یعنی ایک مختلف چیز پر کیا کر لینا؟ اس کے ساتھ قیاس کرنا، حالانکہ قیاس تو ایک جیسی چیز کا دوسری چیز پر کیا جاتا ہے، اسی کی طرح کی چیز پر۔ لیکن آپ تو کیا کر رہے ہیں؟ ایک جیسی چیز نہیں ہے بلکہ مختلف چیز ہے، ان میں فرق ہے مولانا! فرق کیا ہے؟ ہم کہتے ہیں بھئی دیکھئے، انگوٹھی کا لفظ نگینے اور حلقے دونوں کو شامل تھا۔ انگوٹھی کا لفظ لیکن دوسری صورت جو آپ ذکر کر رہے ہیں، وہاں ایک چیز ہے رقبہ، ایک ہے خدمت۔ رقبہ ذات کے قبیل سے ہے، خدمت وصف کے قبیل سے ہے، تو رقبہ کا لفظ خدمت کو شامل ہی نہیں ہے کہ اس میں سے بعد میں اس کو نکالا جائے بھئی۔ جبکہ یہاں تو کیا تھا؟ انگوٹھی کا لفظ نگینے کو شامل تھا، بعد میں اس کو کیا کیا گیا؟ اس حکم سے وہ نکال رہا ہے۔ تو انگوٹھی کا لفظ تو وہاں خاص اور عام میں تعارض آ جاتا ہے، جبکہ یہاں رقبہ کا لفظ خدمت کو شامل ہی دونوں کی جنس ہی الگ ہیں، رقبہ بولا تو رقبہ ہی مراد ہوتی ہے، خدمت اس سے مراد نہیں اور خدمت بولا تو خدمت ہی مراد ہے، رقبہ مراد نہیں۔ تو یہاں تعارض ہی نہیں آئے گا۔ جب اس نے کہا: "یہ رقبہ زید کے لیے ہے"، تو کیا خدمت بھی آ گئی بیچ میں؟ خدمت الگ چیز ہے بھئی۔ تو لہٰذا، اور بعد میں خدمت کا کہا، وہاں چاہے کلامِ مفصول سے کہے، چاہے کلامِ موصول سے کہے مولانا، تعارض کسی صورت میں بھی نہیں آتا کیونکہ یہ پہلے مسئلے کی طرح نہیں، جبکہ انگوٹھی کے مسئلے میں جب اس نے کیا کہا: "انگوٹھی زید کے لیے ہے"، تو اس میں نگینہ آ چکا تھا۔ پھر آگے پھر اسی نگینے کا ذکر کر رہا ہے تو تعارض آ گیا۔ جبکہ پہلے دوسری صورت میں رقبہ والی صورت میں جب رقبہ ذکر کیا خدمت آئی ہی نہیں، آگے پھر الگ خدمت ذکر کر دی تو کوئی تعارض آیا؟ نہیں۔ تو وہاں چاہے کلامِ مفصول سے کہے، چاہے کلامِ موصول سے کہے، وہاں کوئی فرق، وہاں تعارض نہیں آتا بھئی۔ وعند أبي يوسف رحمه الله يكون الفصل للثاني البتة، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک نگینہ جو ہے وہ موصى له الثاني کے لیے ہوگا البتة قطعی طور پر، سواء أتى بكلام موصول أو مفصول، برابر ہے کہ وہ لے کر آئے کلامِ موصول کو یعنی ملائے ہوئے کلام کو، أو مفصول یا مفصول جدا کلام کو، لأن الوصية إنما تلزم بعد مماته لا في حياته، اس لیے کہ وصیت جو ہے وہ لازم ہوتی ہے وصیت کرنے والے کی موت کے بعد، نہ کہ اس کی زندگی میں، فكان الموصول والمفصول سواء، تو اس صورت میں موصول اور مفصول دونوں کیا ہیں؟ برابر ہیں، كما في الوصية بالرقبة لإنسان وبخدمتها لآخر، جیسے کہ اس وصیت میں ہے جو کسی غلام کی رقبہ کی ہو کسی انسان کے لیے اور اس کی خدمت کے لیے ہو کسی دوسرے کے لیے، جیسے کہ اس وصیت کے اندر ہے بھئی، اس میں جیسے کلامِ موصول اور مفصول دونوں کیا ہیں؟ برابر ہیں بھئی۔ قلنا، ہم جواب میں کہتے ہیں: الوصية بالرقبة لا تتناول الخدمة، کہ رقبہ کی وصیت یہ شامل نہیں ہے خدمت کو، لأنهما جنسان مختلفان، اس لیے کہ یہ دونوں کیا ہیں؟ دو مختلف جنسیں ہیں مولانا! رقبہ ذات کے قبیل سے ہے اور خدمت صفات کی صفت کے قبیل سے ہے، بخلاف الخاتم، بر خلاف انگوٹھی کے، فإنه يتناول الفصل لا محالة، اس لیے کہ وہ نگینے کو شامل ہے قطعی طور پر، فيكون كالقياس مع الفارق، تو یہ کیا ہوا؟ کس کی طرح ہو جائے گا؟ قیاس مع الفارق کی طرح ہو جائے گا اس انگوٹھی کے مسئلے کو قیاس کرنا کس پر؟ رقبہ والے مسئلے پر، یہ کس کی طرح ہوا؟ قیاس مع الفارق کی طرح، کیونکہ دونوں ایک جیسے ہیں ہی نہیں، دونوں میں فرق ہے، دونوں مختلف ہیں بھئی۔ یہاں تک اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ثم إن في هذا المقام عامين اختلف فيهما الشافعي رحمه الله تعالى مع أبي حنيفة رحمه الله تعالى، ظنا منه بأنهما مخصوصان عند أبي حنيفة رحمه الله وليس كذلك. پھر کہتے ہیں اس مقام پر عامین دو ایسے عام ہیں، اختلف فيهما الشافعي جس میں اختلاف کیا ہے امام شافعی رحمہ اللہ نے، مع أبي حنيفة امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ، ظنا منه، گمان کرتے ہوئے اپنی طرف سے یہ گمان کرتے ہوئے، بأنهما مخصوصان عند أبي حنيفة کہ یہ دونوں مخصوص ہیں امام صاحب کے نزدیک، وليس كذلك، اور حالانکہ ایسا نہیں ہے، واقعہ ایسا، واقعے میں ایسا نہیں ہے بھئی۔ بھئی دیکھیے! یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ یہاں پر دو عام ہیں جس میں امام شافعی رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے اختلاف کیا ہے بھئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ گمان ہے کہ یہ شاید امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ کیا ہیں؟ یہ عام مخصوص ہیں، یعنی ان میں سے بعض افراد کو کیا کر لیا گیا ہے؟ خاص کر لیا گیا ہے، حالانکہ کہتے ہیں واقعہ ایسا نہیں، وہ عام امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک مخصوص ہیں ہی نہیں۔ مخصوص ہیں۔ تو دو عام ہیں، ان میں کس نے اختلاف کیا؟ امام شافعی رحمہ اللہ نے، کس سے؟ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے، کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ کا کیا گمان ہوا؟ کہ شاید امام صاحب کے نزدیک یہ مخصوص ہیں، تو انہوں نے اختلاف کیا اس کے اندر۔ حالانکہ شارح بتلاتے ہیں واقعہ ایسا نہیں، امام صاحب کے نزدیک وہ مخصوص ہیں ہی نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تقرير الأول: جی، پہلے مسئلہ سمجھ لو بھئی۔ یاد رکھیے! قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ. "وَلَا تَأْكُلُوا" اور تم نہ کھاؤ، "مِمَّا" اس ذبیحے میں سے، ما سے مراد ذبیحہ ہے، "لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ" جس پر ذکر نہ کیا گیا ہو اللہ کا نام۔ تو اس ذبیحے کو نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ اب یاد رکھیے! یہاں تین مذاہب ہیں بھئی۔ پہلا مذہب عند الأحناف بھئی۔ عند الأحناف اگر کوئی جانور ذبح کیا جائے اور ذبح کرنے والا جان بوجھ کر اللہ کا نام نہ لے، تو اس صورت میں وہ حرام ہے، اس جانور کا کھانا حرام ہے بھئی، اس ذبیحے کا کھانا حرام ہے۔ اور اگر بھولے سے رہ جاتا ہے بھئی، اللہ کا نام لینا وہ بھول گیا بھئی، تو اس صورت میں اس کا کھانا، اس ذبیحے کا کھانا حلال ہے بھئی۔ تو عند الأحناف عمداً عمداً اگر جان بوجھ کر وہ تسمیہ چھوڑتا ہے تو وہ حظر ذبیحہ حرام اور اگر بھولے سے چھوڑتا ہے تو وہ حلال۔ جبکہ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی، چاہے جان بوجھ کر چھوڑ دے، چاہے بھولے سے رہ جائے تسمیہ، دونوں صورتوں میں وہ ذبیحہ حرام ہے بھئی۔ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک جان بوجھ کر تسمیہ چھوڑے یا بھولے سے چھوڑے، دونوں صورتوں میں وہ ذبیحہ کیا ہوگا؟ حرام ہوگا، کیونکہ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ. جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ چاہے جان بوجھ کر بسم اللہ کو چھوڑے، چاہے بھولے سے چھوڑے، دونوں صورتوں میں وہ جانور، وہ ذبیحہ حلال ہے بھئی۔ تین مذاہب سمجھ میں آ گئے بھئی؟ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی جان بوجھ کر چھوڑے یا بھولے سے چھوڑے، دونوں صورتوں میں ذبیحہ حرام۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی چاہے جان بوجھ کر چھوڑے، چاہے بھولے سے چھوڑے، پھر بھی ذبیحہ حلال۔ جبکہ عند الأحناف بھئی جان بوجھ کر چھوڑے تو ذبیحہ حرام اور اگر بھولے سے چھوڑے تو ذبیحہ حلال ہے بھئی۔ اب بات بحث یہ چل رہی ہے بھئی، ذکر کیا شارح نے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے دو عاموں کے اندر اختلاف کیا ہے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا گمان یہ ہے کہ شاید امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اس میں تخصیص کے قائل ہیں، جبکہ واقعہ ایسا نہیں ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اس میں تخصیص کے قائل نہیں ہیں بھئی۔ اب پہلے کی تقریر ذکر کرنے لگے ہیں بھئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بھئی قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، اور نہ کھاؤ تم اس ذبیحے میں سے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو بھئی۔ اور یہاں پر کلمہِ "ما" آیا، ما، ما سے کیا مراد ہے میں نے بتلایا، ذبیحہ۔ نہ کھاؤ اس ذبیحے کو جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ یہ ما عام ہے مولانا، چاہے جان بوجھ کر کیا کیا جائے؟ تسمیہ کو چھوڑا جائے یا بھولے سے چھوڑا جائے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ما عام ہے، یہ شامل ہوا جس پر عمداً تسمیہ کو چھوڑ دیا جائے یا ناسیاً کیا کیا جائے؟ چھوڑ دیا جائے بھئی، عامداً ہو یا ناسیاً ہو۔ لہٰذا جس پر تسمیہ کو چھوڑ دیا گیا، اس کا کھانا جائز نہیں ہونا چاہیے۔ چاہے عامداً ہو، چاہے ناسیاً ہو۔ اس آیت سے کیا معلوم ہو رہا ہے اے احناف؟ کہ تسمیہ جس ذبیحے پر، جو ذبیحہ متروک التسمیہ ہے، اس کا کھانا کیا ہونا چاہیے؟ "لَا تَأْكُلُوا" نہ کھاؤ اس کو، اس کو کیا ہونا چاہیے؟ حرام ہونا چاہیے، چاہے عامداً تسمیہ کو چھوڑا ہے، چاہے ناسیاً، یہ ما کا عموم تقاضا کر رہا ہے۔ لیکن اے احناف! تم نے اس میں سے تخصیص کر دی اور ناسی کو نکال دیا بھئی، کہ اگر بھولے سے کوئی کیا کر دیتا ہے؟ تسمیہ کو چھوڑ دیتا ہے، تو اس کا کھانا تمہارے نزدیک حلال ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا تم نے تخصیص کی ہے اس کے اندر، کیا کی ہے؟ تخصیص کی ہے، اس حکم سے نکال دیا ناسی کو بھئی۔ تو ہم بھی اس میں تخصیص کرتے ہیں۔ جس نے جان بوجھ کر تسمیہ کو چھوڑا، اس کی ہم تخصیص کر دیتے ہیں، قیاس کرتے ہوئے ناسی پر۔ کس پر قیاس کرتے ہوئے؟ جیسے ناسی کا ذبیحہ حلال ہے، اسی طرح جو عامداً تسمیہ کو چھوڑ دیتا، عمداً تسمیہ کو چھوڑ دیتا ہے، اس کا ذبیحہ بھی کیا ہے؟ ایک تو یہ قیاس ہماری دلیل ہے، ہم اس عامد کو کس پر قیاس کر لیتے ہیں؟ ناسی پر۔ دوسری خبرِ واحد ہماری دلیل ہے بھئی، حدیث میں آتا ہے حضور علیہ السلام نے فرمایا: المسلم يذبح على اسم الله سمى أو لم يسم، کہ مسلمان جو ہے وہ اللہ ہی کے نام پر ذکر، ذبح کرتا ہے، اللہ کا نام لے یا اللہ کا نام نہ لے۔ حدیث میں کیا آتا ہے خبرِ واحد کے اندر بھئی؟ کہ مسلمان اللہ ہی کے نام پر ذبح کرنے والا ہے، اللہ کا نام وہ زبان سے ذکر کرے یا ذکر نہ کرے۔ تو کہتے ہیں کہ اے احناف! تم نے جیسے ناسی کی تخصیص کی تھی، اسی طرح ہم عامد کی بھی تخصیص کر دیتے ہیں اور دو دلیلیں ہیں۔ پہلی دلیل کیا؟ کہ ہم اس کو کس پر قیاس کرتے ہیں؟ ناسی پر، دوسری دلیل کیا ہے؟ خبرِ واحد ہے مولانا! اور خبرِ واحد کے ذریعے بھی تخصیص جائز ہے جب عام مخصوص البعض ہو بھئی، تو یہ عام مخصوص البعض ہے اور عام مخصوص البعض ظنی ہوتا ہے اور خبرِ واحد بھی ظنی ہے اور قیاس بھی ظنی ہے، تو قیاس اور خبرِ واحد کے ذریعے آگے اس کے اندر تخصیص کی جا سکتی ہے بھئی۔ بات ان کی سمجھ میں آئی بھئی؟ دیکھیے بھئی! اب یہی بات ذکر کریں گے بھئی۔ کہتے ہیں تقرير الأول، پہلے کی، عام کی تقریر یہ ہے کہ أن في قوله تعالى، اللہ تعالیٰ کے اس قول کے اندر: وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، اور نہ کھاؤ تم اس ذبیحے میں سے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، كلمة ما عامة، اس اللہ کے اس قول میں کلمہِ ما جو ہے وہ عام ہے، لكل ما لم يذكر اسم الله عليه عامدا أو ناسيا، ہر اس ذبیحے کو، ہر، عام ہے بھئی یعنی ہر اس ذبیحے کے لیے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، عامداً ہو اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو عامداً أو ناسياً بھئی، جان بوجھ کر یا بھولے سے، فينبغي أن لا يحل متروك التسمية أصلا، پس مناسب یہ ہے کہ حلال نہیں ہونا چاہیے متروک التسمیہ کو، جس پر تسمیہ کو چھوڑ دیا گیا اس کو حلال نہیں ہونا چاہیے اصلاً قطعاً بھئی، قطعاً اس کو حلال نہیں ہونا چاہیے، كما ذهب إليه مالك رحمه الله، جیسے کہ اس کی طرف گئے ہیں امام مالک رحمہ اللہ، ولكنكم خصصتم الناسي من هذا، لیکن اے احناف! تم نے خاص کر دیا ناسی کو اس میں سے، من هذا اس عام میں سے، تم نے اس عام میں سے کیا کیا ہے؟ ناسی کو خاص کر دیا ہے، وقلتم، اور تم نے یہ کہا ہے: إنه يجوز متروك التسمية ناسيا، کہ جائز ہے متروک، متروک التسمیہ ناسیاً جو ہو، بھولے سے جس پر تسمیہ کو کیا کر دیا گیا ہو؟ چھوڑ دیا گیا ہو اس کا کھانا جائز ہے، والآية محمولة على التعمد، اور تم کیا کہتے کہ آیت صرف کس پر محمول ہے؟ عامد پر محمول ہے، جان بوجھ کر چھوڑنے والے پر محمول ہے کہ اس کا ذبیحہ حلال نہیں۔ تقریر سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی ساری بات چل رہی ہے۔ تو کہتے ہیں تم نے کہا کہ متروک التسمیہ ناسیاً جائز ہے والآية محمولة على العامد فقط، اور آیت فقط عامد پر محمول ہے، قلنا، یاد رکھیے یہ قلنا سے احناف کی بات نہیں ہے، یہ وہی شوافع کی بات چل رہی ہے۔ قلنا، ہم شوافع، تو ہم شوافع بھی کہتے ہیں کہ إنا، یہاں إنا ہونا چاہیے بھئی، سمجھ میں آیا؟ إنا ہونا چاہیے بھئی، ہلکا سا نشان اس کو کاٹیں نہیں یہ نہیں کہ ہو سکتا ہے اور بھی کوئی تاویل ممکن ہو، بہرحال یہاں میرے نزدیک بھئی یہی بہترین حل مجھے سمجھ میں آیا کہ إنا ہو یہاں پر بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو قلنا ہم کہتے ہیں: إنا نخص العامد منه أيضا، کہ ہم اے، ہم شوافع بھی اس میں سے عامد کی بھی تخصیص کر لیتے ہیں، بالقياس على الناسي، کس پر قیاس کرتے ہوئے؟ ناسی پر قیاس کرتے ہوئے، وبخبر الواحد، اور کس کے ذریعے؟ خبرِ واحد کے ذریعے، وهو قوله عليه السلام، اور وہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: المسلم يذبح على اسم الله سمى أو لم يسم، کہ مسلمان جو ہے وہ اللہ ہی کے نام پر ذبح کرتا ہے، سمى أو لم يسم اللہ کا نام وہ ذکر کرے یا ذکر نہ کرے، ذکر نہ کرے بھئی۔ فلم يبق، یہاں سے وہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں بھئی، شوافع ہی بھئی، اعتراض یہ ہوتا ہے کہ اے امام شافعی رحمہ اللہ! متروک التسمیہ کے دو ہی افراد تھے، بسم اللہ چھوڑنے کی دو ہی صورتیں تھیں، یا جان بوجھ کر چھوڑے گا یا بھولے سے چھوڑے گا، تو آپ نے جب دونوں کو نکال دیا تو اس صورت میں اس آیت پر عمل ہی باقی نہ رہا؟
متروک التسمیہ کی تو دونوں صورتیں ہی صورتیں تھیں، کہ یا بھولے سے چھوڑے گا یا جان بوجھ کر۔ اور آپ نے کہا کہ جیسے بھولے والے کو تم نے نکالا ہے، ہم نے کس کی تخصیص کر دی آگے؟ جان بوجھ کر جو چھوڑتا ہے اس کی بھی تخصیص کر دی۔ تو اس آیت سے کے تو دونوں ہی افراد نکل گئے، اب گویا اس آیت پر عمل ہی نہ رہا، گویا کہ یہ منسوخ ہے۔ گویا کہ یہ منسوخ، تو آپ اس کو منسوخ کر رہے ہیں، کس کے ذریعے؟ خبر واحد اور قیاس کے ذریعے، حالانکہ خبر واحد اور قیاس کے ذریعے تو منسوخ نہیں کر سکتے۔
تو امام شافعی رحمہ اللہ اس کے جواب دے رہے ہیں مولانا، کہ نہیں بھئی! آیت پر اب بھی عمل ہے، آیت پر اب بھی عمل ہے۔ کس طرح عمل ہے؟ کہتے ہیں دیکھیں، اب بھی وہ ذبیحہ اس میں باقی ہے جسے بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، تو آیت کا معنی یہ ہوا کہ وہ ذبیحہ حلال نہیں ہے جسے بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔ تو عمل ہو گیا یا نہیں بھئی؟ وہ بھی تو متروک التسمیہ ہے، اس پر بھی تو اللہ کا نام نہیں لیا گیا اور اللہ فرما رہے ہیں: جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، اسے مت کھاؤ۔ تو جسے بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہے، اس پر تو بت کا نام لیا گیا ہے، اللہ کا نام نہیں لیا گیا، تو اس کو کھانا حرام ہوا، تو آیت پر اب بھی عمل ہے۔ آیت اب بھی معمول بہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟
تو کہتے ہیں: "فلم يبق فی الآية إلا ما كان مذبوحاً بأسماء الأصنام"، پس باقی نہیں رہا آیت کے اندر مگر وہ ذبیحہ جس کو ذبح کیا گیا ہو بتوں کے نام پر۔ یہاں تک تقریر اور اعتراض سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ پہلا اعتراض، پہلے جو عام، جس میں اختلاف کیا امام شافعی رحمہ اللہ نے بھئی۔ احناف کی تقریر آگے آئے گی متن کے اندر بھئی، لیکن پہلے ان کے قیاس کا جواب دے دیا جائے اور اس خبر واحد جو انہوں نے پیش کی بھئی۔
قیاس کا تو جواب ہم یہ دیتے ہیں، کہ آپ نے کیا کیا؟ عامد کو کس پر قیاس کیا؟ ناسی پر، آپ کا یہ قیاس درست نہیں ہے، یہ قیاس مع الفارق ہے مولانا۔ اس لیے کہ ناسی معذور ہے، اس کو عذر نسیان ہے۔ کیا ہے؟ معذور ہے، عذر نسیان کی وجہ سے اس نے تو بسم اللہ چھوڑی ہے، جب کہ عامد کا تو کوئی عذر نہیں ہے، لہذا یہاں پر اب آپ غیر معذور کو معذور پر قیاس کر رہے ہیں، حالانکہ غیر معذور کو معذور پر قیاس نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ جواب سمجھ میں آیا بھئی؟ قیاس کا یہ جواب ہوا۔
اور باقی خبر واحد، یہ آپ کے حاشیے میں دیا ہوا ہے مولانا، خبر واحد کے اوپر یہ حدیث کے اوپر حاشیہ دیا ہے، 18 نمبر حاشیہ بھئی۔ "قال العينى فی شرح الهداية"، علامہ عینی فرماتے ہیں مولانا، ہدایت کی شرح میں کہ "إن هذا الحديث رواه الدارقطني"، کہ اس حدیث کو دارقطنی نے بھی روایت کیا ہے، اور "بهذا اللفظ"، ان لفظوں کے ساتھ۔ انہوں نے جو یہ حدیث روایت کی ہے اس میں تھوڑے لفظ زائد ہیں، وہ اگر لفظ زائد ہیں تو ان ان لفظوں کے اعتبار سے پھر یہی حدیث احناف کی دلیل بن جاتی ہے، شوافع کی دلیل ہی نہیں بنتی۔ وہ حدیث یہ ہے وہ لفظ زائد یہ آئیں گے۔ حدیث یہ ہے مولانا: "المسلم يذبح على اسم الله سمى أو لم يسم ما لم يتعمد"، یہ لفظ بھی ہیں اس میں اس روایت میں، جب تک وہ ارادہ نہ کرے، یعنی بسم اللہ کو چھوڑنے کا ارادہ نہ کرے۔ "أي ما لم يتعمد ترك التسمية"، جب تک وہ بسم اللہ کو چھوڑنے کا ارادہ نہ کرے، تو مسلمان اللہ ہی کے نام پر ذبح کرتا ہے جب تک وہ چھوڑنے کا ارادہ نہ کرے، جب بسم اللہ کو چھوڑ دے گا تو پھر گویا اس نے اللہ کے نام پر ذبح نہیں کیا، تو یہ تو ہماری تائید ہو گئی اس حدیث کے ذریعے، جب جان بوجھ کر چھوڑے گا معلوم ہوا وہ پھر اللہ کا نام لینے والا نہیں ہے، تو اس کا ذبیحہ بھی حلال نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ "وهكذا الرواية فی الدر المنثور"، کہتے ہیں: اور اسی طرح روایت ہے در منشور کے اندر بھی، "فهذا الحديث حينئذ صار مؤيداً لمذهبنا"، تو اس صورت میں یہ حدیث مؤید ہوئی ہم احناف کے مذہب کی، "لا لمذهب الشافعى"، نہ کہ شوافع کے مذہب کی بھئی۔ یہ تو تھی پہلے عام کی تقریر۔ بتلایا تھا دو عام ہیں۔
دوسرے عام کی تقریر: "وتقرير الثاني"، اور دوسرے عام کی تقریر یہ ہے کہ "أن فی قوله تعالى"، اللہ تعالیٰ کے اس قول میں "ومن دخله كان آمناً"، اور جو کوئی اس بیت اللہ کے اندر داخل ہوا "كان آمناً"، وہ امان والا ہے، اس کو امان ہے، اس کو کچھ نہ کہا جائے۔ اور یہ ضمیر "دخله" کی "ہ" ضمیر تو بیت اللہ کو راجع، لیکن مراد حرم ہے، حرم سارا۔ یاد رکھیے! بیت اللہ کے ارد گرد چند کلومیٹر کا علاقہ جو ہے، چند بعض طرف دو تین میل، بعض طرف آٹھ دس میل، اس طرح یہ جو سارا علاقہ ہے یہ حرم کہلاتا ہے، جس کی باقاعدہ حد مقرر ہے۔ یہ علاقہ حرم کہلاتا ہے اور اس حرم کے اندر شکار وغیرہ کھیلنا اور کسی کو تکلیف دینا اور اس کی سختی سے ممانعت ہے، یہ بیت اللہ کی عظمت کی وجہ سے اس سارے خطے کی تعظیم ہے اور اس کے اندر اس کے اندر عبادت کا بھی بڑا ثواب ہے بھئی، اور گناہ کا بھی وبال بھی اس میں زیادہ ہے بھئی، تو یہ حرم کہلاتا ہے۔ تو بیت اللہ، ضمیر تو بیت اللہ کو راجع ہے، جو بیت اللہ میں داخل ہو جائے یعنی خانہ کعبہ میں، وہ امان والا ہے، لیکن سارے حرم ہی کا یہ حکم ہے بھئی، میں نے بتلا دیا آگے آخر میں کتاب کے اندر بھی آ جائے گا۔
تو معنی کیا ہو گیا؟ یعنی جو حرم میں داخل ہوا وہ امان والا ہے۔ اب دیکھیے! حرم میں امان لے کوئی شخص، ایک آدمی مثلاً اس نے باہر کسی کو قتل کیا اور پھر بھاگ کر حرم میں چلا گیا۔ ایک صورت، دوسری صورت: ایک آدمی نے دوسرے کا ہاتھ یا پاؤں کاٹا، اعضاء کو کاٹا اور بھاگ کر حرم میں چلا گیا، دوسری صورت۔ تیسری صورت: کہ حرم کے اندر تھا کوئی، اس نے کیا کیا؟ کسی دوسرے کو قتل کر دیا۔ تین صورتیں آ گئیں، تین صورتیں۔ ایک وہ جس نے باہر قتل کیا اور پھر پناہ کہاں پر لی؟ حرم میں۔ تو یاد رکھیے! عند الاحناف اس کو حرم میں کچھ بھی نہیں کہا جائے گا، ہاں اس کو ہم مجبور کریں گے، کسی طرح یہ حرم سے نکلے پھر اس سے قصاص لیں گے۔ کس طرح؟ سب کو کہہ دیں گے نہ اس کے ساتھ کوئی معاملہ کرو، نہ اس کے ساتھ کوئی بات چیت کرے، نہ اسے کوئی کھانے پینے کی چیز دے، نہ اس کے ساتھ بیع و شراء کرے، یہاں تک کہ وہ مجبور ہو جائے حرم سے نکلنے پر اور جب نکلے گا تو پکڑیں گے اور اس سے قصاص لیں گے۔ اس کو حرم میں امان ہے اس آدمی کو۔
دوسرا: کسی کے اعضاء کاٹ کر بھاگ کر چلا گیا حرم میں، احناف کا مذہب یہ ہے: اس کو حرم ہی میں پکڑ کر اس سے قصاص لے لیا جائے گا، ہاتھ کاٹا اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیا جائے گا، کسی کا پاؤں کاٹا تھا اس کا بھی پاؤں کاٹ دیا جائے گا۔ اس کو امان نہیں ہے حرم کے اندر۔
تیسرا وہ شخص جس نے حرم کے اندر ہی رہتے ہوئے کسی کو قتل کیا، احناف کا مذہب یہ: اس کو بھی امان نہیں، اس کو وہی حرم ہی میں پکڑ کر اندر ہی اس سے قصاص لے لیا جائے، اس کو قتل کر دیا جائے۔
تو شوافع کہتے ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اے احناف! "ومن دخله كان آمناً"، "مَن" عام تھا، یہ تینوں کو شامل تھا، چاہے باہر سے قتل کر کے حرم میں چلا جائے، یا حرم کے اندر کسی کو قتل کرے، یا کسی کے باہر اعضاء کاٹے اور بھاگ کر حرم چلا گیا، ان تینوں کو آیت نے "مَن" آیا اور "مَن" عام ہے، ان سب کو شرطوں کو شامل ہے، ان سب کو امان ہونی چاہیے حرم میں، لیکن آپ نے دو افراد کی تخصیص کر دی، ان کو اس حکم سے نکال دیا کہ ان کو امان نہیں ہے۔ ایک وہ جو کسی کے اعضاء کاٹ کر بھاگ کر حرم چلا جائے، آپ نے کہا اسے بھی امان نہیں، وہی پکڑ کر اسے قصاص لے لو۔ اور جو حرم کے اندر قتل کر دے اے احناف! آپ نے کہا اسے بھی امان نہیں، اسے بھی وہی حرم کے اندر ہی پکڑ کر اس سے قصاص لے لیا جائے، تو آپ نے دو افراد کی تخصیص کر دی۔ دو افراد کی تخصیص کر دی، تو ہم تیسرے فرد کی تخصیص کرتے ہیں کہ جو کسی کو باہر قتل کر کے اندر چلا جائے، اس کو بھی امان نہیں ہے حرم کے اندر، اور اسے وہی پر قصاص لے لیا جائے گا، اور یہ تیسرے کی تخصیص ہم نے کس کے ذریعے کی؟ قیاس اور خبر واحد کے ذریعے، کس کے ذریعے؟ قیاس اور خبر واحد کے ذریعے، آپ نے دو افراد کی تخصیص کی تھی، ہم انہی پر یہ تیسرے کو بھی قیاس کر لیتے ہیں اور اس کو بھی اس حکم سے نکال دیتے ہیں۔
نیز حدیث آ رہی ہے آگے بھئی دو تین سطروں کے بعد بھئی کتاب ہی کے اندر، کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: "الحرم لا يعيذ عاصياً ولا فاراً بدم"، حرم جو ہے وہ پناہ نہیں دیتا عاصیاً نافرمان کو، گناہگار کو، "ولا فاراً"، اور نہ اس شخص کو جو بھاگنے والا ہے، "فر يفر" کے معنی بھاگنا، "فاراً" اسی سے اسم فاعل ہے، "ولا فاراً بدم"، اور نہ وہ شخص جو بھاگنے والا ہے "بدم" خون کی وجہ سے، قتل کی وجہ سے۔ حدیث میں کیا آیا؟ کہ حرم جو ہے کسی گناہگار کو، نافرمان کو اور خون کی وجہ سے بھاگنے والے کو پناہ نہیں دیتا، تو اس حدیث سے معلوم ہوا جو قتل کر کے حرم میں چلا جائے پناہ لینے کے لیے، اسے پناہ نہیں ہے، اسے وہی پر پکڑ کر کیا کیا جائے؟ قصاص اس سے لے لیا جائے۔ تو قیاس اور خبر واحد کے ذریعے ہم نے تیسرے فرد کی بھی تخصیص کر دی۔
اس پر ان پر اشکال ہوتا ہے کہ اس صورت میں تو آیت پر عمل ہی باقی نہ رہا بھئی، تین ہی افراد تھے تینوں نکل گئے، تو وہ آگے پھر جواب دیں گے کہ جواب دیں گے کہ یہ یعنی حرم پناہ دینے والا ہے جہنم کے عذاب سے، پناہ دینے والا ہے، امان دینے والا ہے جہنم کے عذاب سے بشرطیکہ ایمان ہو، ایمان ہو، حرم میں چلا گیا تو اللہ اس کو اس کی جہنم کے عذاب سے کیا کریں گے؟ حفاظت فرمائیں گے بھئی۔ تو ابھی بھی آیت پر عمل باقی ہے کہ ابھی بھی امان حرم جو ہے امان کی جگہ ہے، اور کس چیز سے امان ہے؟ جہنم کے عذاب سے بشرطیکہ ایمان ہو بھئی کفر نہ ہو۔
تقریر سمجھ میں آ گئی؟ جی، دیکھیے! کہتے ہیں: "وتقرير الثاني"، اور دوسری تقریر یہ ہے کہ "أن في قوله تعالى"، کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں "ومن دخله كان آمناً"، اور جو داخل ہوا حرم میں بیت اللہ میں، یعنی مراد میں نے بتلایا سارے حرم کا یہی حکم ہے، اور جو بیت اللہ میں داخل ہوا "كان آمناً"، وہ امان والا ہے، "كلمة مَن أيضاً عامة"، کلمہ "مَن" جو ہے یہ بھی عام ہے، "شاملة لمن دخل في البيت بعد قتل إنسان"، یہ شامل ہے اس ان کو جو داخل ہو جائیں بیت اللہ میں کسی انسان کو قتل کرنے کے بعد، "أو بعد قطع أطرافه"، یا اس کے اس کے اطراف یعنی اعضاء کو کاٹنے کے بعد، جو داخل ہو بیت اللہ میں کسی انسان کو قتل کرنے کے بعد یا سی کسی کے اعضاء کو کاٹنے کے بعد، "أو دخل في البيت ثم قتل فيه أحداً"، یا بیت اللہ میں داخل ہوا پھر اس کے اندر کیا کیا اس نے؟ قتل کیا، "ثم قتل فيه أحداً"، پھر اس میں کسی ایک کو قتل کر دیا، "فينبغي أن يكون كل من هؤلاء آمناً"، پس مناسب یہ ہے کہ کہ ان میں سے ہر ایک کو امان والا ہونا چاہیے، "وأنتم خصصتم من هذا"، اور تم نے اے احناف! تخصیص کی ہے اس میں سے، کس کی تخصیص کی ہے؟ کس کس کو ہم نے نکالا تھا؟ دو افراد کو، انہی کو ذکر کرنے لگے ہیں۔ ایک وہ شخص "من قتل في البيت بعد الدخول"، جس نے بیت اللہ کے اندر قتل کیا داخل ہونے کے بعد، "ومن دخل فيه بعد قطع أطرافه"، اور ایک وہ شخص جو داخل ہو بیت اللہ میں کسی کے اعضاء کو کاٹنے کے بعد، ان کی تم نے تخصیص کی، "وقلتم"، اور تم نے کہا "إنه يقتص من هذين في البيت"، کہ قصاص لیا جائے گا ان دو سے بیت اللہ ہی کے اندر، "قلنا"، ہم کہتے ہیں، یہ تقریر امام شافعی رحمہ اللہ کی چل رہی ہے، "قلنا"، تو ہم شوافع کہتے ہیں "إنا نخص"، یہاں بھی "إنا" ہونا چاہیے بھئی، "إنا نخص الصورة الثالثة أيضاً"، ہم تیسری صورت کی بھی تخصیص کرتے ہیں، "وهو"، اور وہ یہ "أن من دخل في البيت بعد أن قتل إنساناً"، کہ جو شخص بیت اللہ میں داخل ہوا بعد اس کے کہ اس نے قتل کیا تھا کسی انسان کو، یعنی باہر قتل کر کے کہاں چلا گیا؟ بیت اللہ میں، "فيقتص منه"، تو کہتے ہیں شوافع کہ اس سے بھی کیا کیا جائے گا؟ قصاص لیا جائے گا، "بالقياس على الصورة الأولى"، قیاس کرتے ہوئے پہلی دو صورتوں پر، اور نیز کس کی وجہ سے؟ "وبخبر الواحد"، خبر واحد کی وجہ سے، "وهو قوله عليه السلام"، اور وہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: "الحرم لا يعيذ عاصياً ولا فاراً بدم"، کہ حرم جو ہے وہ پناہ نہیں دیتا گناہگار کو، نافرمان گناہگار کو، "ولا فاراً بدم"، اور نہ وہ اس سے جو بھاگنے والا ہے قتل کی وجہ سے، خون کی وجہ سے۔
تو اس پر اشکال پھر ہوا کہ بھئی اس طرح تو آیت میں کوئی بھی فرد باقی نہ رہے گا، تو جواب اسی کا دے رہے ہیں کہ "لم يبق تحت هذا العام إلا الآمنون من عذاب النار"، کہ باقی نہ رہا اس عام کے تحت مگر وہ جو وہ جو امان والا ہے کس سے؟ "من عذاب النار"، جہنم کے عذاب سے بھئی۔
بھئی اس کا بھی ہم جواب پہلے دیں گے، انہوں نے کس کو دلیل بنایا؟ قیاس کو اور خبر واحد کو بھئی، قیاس کو اور خبر واحد کو۔
اچھا آگے مولانا، احناف کی تقریر آنے والی ہے، لیکن پہلے ان کے قیاس اور خبر واحد کا جواب دے دیں مولانا۔ آپ نے کیا کہا؟ کہ جو قتل کر کے حرم میں جائے، اس کو بھی آپ نے اس حکم سے نکالا ہے کس پر قیاس کرتے ہوئے؟ جو حرم کے اندر قتل کرتا ہے۔
تو حرم کے اندر جو قتل کرے، اسے وہی حرم میں قصاص لیا جاتا ہے، تو آپ نے کہا جو باہر سے قتل کر کے حرم میں بھاگ کر جائے اس کو اس پر قیاس کریں گے اور اس سے بھی حرم کے اندر ہی کیا کیا جائے گا اس سے؟ قصاص لیا جائے گا۔ ہم کہتے ہیں: یہ قیاس مع الفارق ہے مولانا، دونوں الگ الگ ہیں، ایک کا دوسرے پر قیاس کرنا درست نہیں۔ اس لیے کیونکہ جو شخص باہر قتل کر کے حرم میں جا رہا ہے وہ حرم میں پناہ چاہتا ہے، اور پناہ کسی معظم سے ہی کسی قابل تعظیم بھئی بڑی چیز سے ہی پناہ طلب کی جاتی ہے بھئی، کسی معمولی چیز سے پناہ طلب؟ تو معلوم ہوا بیت اللہ کی تعظیم کر رہا ہے، کیا کر رہا ہے؟ بیت اللہ کی عظمت ہے اس کے دل میں جبھی تو وہ بھاگ کر وہاں پناہ لینا چاہتا ہے بھئی، تو لہذا بیت اللہ کی تعظیم کر رہا ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ اسے حرم کے اندر قصاص نہ لیا جائے۔ جب کہ جو حرم کے اندر قتل کر رہا ہے مولانا، وہ تو حرم کی عظمت کو پامال کر رہا ہے، اس نے حرم کے تقدس کا بھی لحاظ نہیں کیا حرم کے اندر بھئی! کیا کر رہا ہے؟ قتل کر رہا ہے، تو وہ تو حرم کے تقدس کو کیا کر رہا ہے؟ پامال کر رہا ہے، لہذا اس سے تو حرم کے اندر ہی قصاص لینا چاہیے، جس نے حرم کی عظمت کا ذرا بھر لحاظ بھی نہیں کیا، تو اسے حرم کے اندر ہی کیا کرنا چاہیے؟ قصاص لینا چاہیے۔ تو یہ جو حرم کے اندر قتل کرتا ہے، یہ مختلف ہوا اس شخص سے جو حرم کے باہر قتل کر کے حرم میں جاتا ہے، وہ حرم کی تعظیم کر رہا ہے اور یہ کیا کر رہا ہے؟ حرم کی کے تقدس کو پامال کر رہا ہے، تو دونوں الگ ہوئے، تو ایک کو دوسرے پر قیاس کرنا صحیح نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
نیز دوسرا کس پر قیاس کیا آپ نے؟ نہیں، دو افراد تھے نا جن پر قیاس کیا، بتایا پہلے کے ساتھ کسے اور اس میں تو فرق ہے اس پر تو قیاس نہیں کر سکتے، دوسرا کیا فرض تھا؟ کسی کے اعضاء کاٹ کر حرم چلا جائے، جو ہم کہتے ہیں یہ بھی قیاس مع الفارق ہے اس پر قیاس کرنا، اس لیے کیونکہ اعضاء کے ساتھ مال والا برتاؤ کیا جاتا ہے، اعضاء کے ساتھ کون سا برتاؤ کیا جاتا ہے؟ مال والا، انہیں مال کی طرح سمجھا جاتا ہے جیسے مال انسان کی حفاظت کرتا ہے، اسی طرح اعضاء ہاتھ پاؤں کے ذریعے بھی انسان اپنی حفاظت کرتا ہے، اپنی جان کی۔ بھئی مال کے ذریعے آپ بھئی آپ کو کھانا ملتا ہے، کھانا، پینا، گھر بناتے ہیں، اپنی حفاظت کا سامان کرتے ہیں، کس کے ذریعے؟ مال کے ذریعے، اسی طرح اعضاء کے ذریعے، ہاتھ پاؤں کے ذریعے بھی کیا کرتا ہے انسان؟ اپنی حفاظت کرتا ہے، تو یہ مال کی طرح ہوئے تو مال والا حکم ہے، اور بالاتفاق حرم کے اندر...
متروک التسمیہ کی تو دونوں صورتیں ہی صورتیں تھیں، کہ یا بھولے سے چھوڑے گا یا جان بوجھ کر۔ اور آپ نے کہا کہ جیسے بھولے والے کو تم نے نکالا ہے، ہم نے کس کی تخصیص کر دی آگے؟ جان بوجھ کر جو چھوڑتا ہے اس کی بھی تخصیص کر دی۔ تو اس آیت سے کے تو دونوں ہی افراد نکل گئے، اب گویا اس آیت پر عمل ہی نہ رہا، گویا کہ یہ منسوخ ہے۔ گویا کہ یہ منسوخ، تو آپ اس کو منسوخ کر رہے ہیں، کس کے ذریعے؟ خبر واحد اور قیاس کے ذریعے، حالانکہ خبر واحد اور قیاس کے ذریعے تو منسوخ نہیں کر سکتے۔
تو امام شافعی رحمہ اللہ اس کے جواب دے رہے ہیں مولانا، کہ نہیں بھئی! آیت پر اب بھی عمل ہے، آیت پر اب بھی عمل ہے۔ کس طرح عمل ہے؟ کہتے ہیں دیکھیں، اب بھی وہ ذبیحہ اس میں باقی ہے جسے بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، تو آیت کا معنی یہ ہوا کہ وہ ذبیحہ حلال نہیں ہے جسے بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔ تو عمل ہو گیا یا نہیں بھئی؟ وہ بھی تو متروک التسمیہ ہے، اس پر بھی تو اللہ کا نام نہیں لیا گیا اور اللہ فرما رہے ہیں: جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، اسے مت کھاؤ۔ تو جسے بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہے، اس پر تو بت کا نام لیا گیا ہے، اللہ کا نام نہیں لیا گیا، تو اس کو کھانا حرام ہوا، تو آیت پر اب بھی عمل ہے۔ آیت اب بھی معمول بہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟
تو کہتے ہیں: "فلم يبق فی الآية إلا ما كان مذبوحاً بأسماء الأصنام"، پس باقی نہیں رہا آیت کے اندر مگر وہ ذبیحہ جس کو ذبح کیا گیا ہو بتوں کے نام پر۔ یہاں تک تقریر اور اعتراض سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ پہلا اعتراض، پہلے جو عام، جس میں اختلاف کیا امام شافعی رحمہ اللہ نے بھئی۔ احناف کی تقریر آگے آئے گی متن کے اندر بھئی، لیکن پہلے ان کے قیاس کا جواب دے دیا جائے اور اس خبر واحد جو انہوں نے پیش کی بھئی۔
قیاس کا تو جواب ہم یہ دیتے ہیں، کہ آپ نے کیا کیا؟ عامد کو کس پر قیاس کیا؟ ناسی پر، آپ کا یہ قیاس درست نہیں ہے، یہ قیاس مع الفارق ہے مولانا۔ اس لیے کہ ناسی معذور ہے، اس کو عذر نسیان ہے۔ کیا ہے؟ معذور ہے، عذر نسیان کی وجہ سے اس نے تو بسم اللہ چھوڑی ہے، جب کہ عامد کا تو کوئی عذر نہیں ہے، لہذا یہاں پر اب آپ غیر معذور کو معذور پر قیاس کر رہے ہیں، حالانکہ غیر معذور کو معذور پر قیاس نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ جواب سمجھ میں آیا بھئی؟ قیاس کا یہ جواب ہوا۔
اور باقی خبر واحد، یہ آپ کے حاشیے میں دیا ہوا ہے مولانا، خبر واحد کے اوپر یہ حدیث کے اوپر حاشیہ دیا ہے، 18 نمبر حاشیہ بھئی۔ "قال العينى فی شرح الهداية"، علامہ عینی فرماتے ہیں مولانا، ہدایت کی شرح میں کہ "إن هذا الحديث رواه الدارقطني"، کہ اس حدیث کو دارقطنی نے بھی روایت کیا ہے، اور "بهذا اللفظ"، ان لفظوں کے ساتھ۔ انہوں نے جو یہ حدیث روایت کی ہے اس میں تھوڑے لفظ زائد ہیں، وہ اگر لفظ زائد ہیں تو ان ان لفظوں کے اعتبار سے پھر یہی حدیث احناف کی دلیل بن جاتی ہے، شوافع کی دلیل ہی نہیں بنتی۔ وہ حدیث یہ ہے وہ لفظ زائد یہ آئیں گے۔ حدیث یہ ہے مولانا: "المسلم يذبح على اسم الله سمى أو لم يسم ما لم يتعمد"، یہ لفظ بھی ہیں اس میں اس روایت میں، جب تک وہ ارادہ نہ کرے، یعنی بسم اللہ کو چھوڑنے کا ارادہ نہ کرے۔ "أي ما لم يتعمد ترك التسمية"، جب تک وہ بسم اللہ کو چھوڑنے کا ارادہ نہ کرے، تو مسلمان اللہ ہی کے نام پر ذبح کرتا ہے جب تک وہ چھوڑنے کا ارادہ نہ کرے، جب بسم اللہ کو چھوڑ دے گا تو پھر گویا اس نے اللہ کے نام پر ذبح نہیں کیا، تو یہ تو ہماری تائید ہو گئی اس حدیث کے ذریعے، جب جان بوجھ کر چھوڑے گا معلوم ہوا وہ پھر اللہ کا نام لینے والا نہیں ہے، تو اس کا ذبیحہ بھی حلال نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ "وهكذا الرواية فی الدر المنثور"، کہتے ہیں: اور اسی طرح روایت ہے در منشور کے اندر بھی، "فهذا الحديث حينئذ صار مؤيداً لمذهبنا"، تو اس صورت میں یہ حدیث مؤید ہوئی ہم احناف کے مذہب کی، "لا لمذهب الشافعى"، نہ کہ شوافع کے مذہب کی بھئی۔ یہ تو تھی پہلے عام کی تقریر۔ بتلایا تھا دو عام ہیں۔
دوسرے عام کی تقریر: "وتقرير الثاني"، اور دوسرے عام کی تقریر یہ ہے کہ "أن فی قوله تعالى"، اللہ تعالیٰ کے اس قول میں "ومن دخله كان آمناً"، اور جو کوئی اس بیت اللہ کے اندر داخل ہوا "كان آمناً"، وہ امان والا ہے، اس کو امان ہے، اس کو کچھ نہ کہا جائے۔ اور یہ ضمیر "دخله" کی "ہ" ضمیر تو بیت اللہ کو راجع، لیکن مراد حرم ہے، حرم سارا۔ یاد رکھیے! بیت اللہ کے ارد گرد چند کلومیٹر کا علاقہ جو ہے، چند بعض طرف دو تین میل، بعض طرف آٹھ دس میل، اس طرح یہ جو سارا علاقہ ہے یہ حرم کہلاتا ہے، جس کی باقاعدہ حد مقرر ہے۔ یہ علاقہ حرم کہلاتا ہے اور اس حرم کے اندر شکار وغیرہ کھیلنا اور کسی کو تکلیف دینا اور اس کی سختی سے ممانعت ہے، یہ بیت اللہ کی عظمت کی وجہ سے اس سارے خطے کی تعظیم ہے اور اس کے اندر اس کے اندر عبادت کا بھی بڑا ثواب ہے بھئی، اور گناہ کا بھی وبال بھی اس میں زیادہ ہے بھئی، تو یہ حرم کہلاتا ہے۔ تو بیت اللہ، ضمیر تو بیت اللہ کو راجع ہے، جو بیت اللہ میں داخل ہو جائے یعنی خانہ کعبہ میں، وہ امان والا ہے، لیکن سارے حرم ہی کا یہ حکم ہے بھئی، میں نے بتلا دیا آگے آخر میں کتاب کے اندر بھی آ جائے گا۔
تو معنی کیا ہو گیا؟ یعنی جو حرم میں داخل ہوا وہ امان والا ہے۔ اب دیکھیے! حرم میں امان لے کوئی شخص، ایک آدمی مثلاً اس نے باہر کسی کو قتل کیا اور پھر بھاگ کر حرم میں چلا گیا۔ ایک صورت، دوسری صورت: ایک آدمی نے دوسرے کا ہاتھ یا پاؤں کاٹا، اعضاء کو کاٹا اور بھاگ کر حرم میں چلا گیا، دوسری صورت۔ تیسری صورت: کہ حرم کے اندر تھا کوئی، اس نے کیا کیا؟ کسی دوسرے کو قتل کر دیا۔ تین صورتیں آ گئیں، تین صورتیں۔ ایک وہ جس نے باہر قتل کیا اور پھر پناہ کہاں پر لی؟ حرم میں۔ تو یاد رکھیے! عند الاحناف اس کو حرم میں کچھ بھی نہیں کہا جائے گا، ہاں اس کو ہم مجبور کریں گے، کسی طرح یہ حرم سے نکلے پھر اس سے قصاص لیں گے۔ کس طرح؟ سب کو کہہ دیں گے نہ اس کے ساتھ کوئی معاملہ کرو، نہ اس کے ساتھ کوئی بات چیت کرے، نہ اسے کوئی کھانے پینے کی چیز دے، نہ اس کے ساتھ بیع و شراء کرے، یہاں تک کہ وہ مجبور ہو جائے حرم سے نکلنے پر اور جب نکلے گا تو پکڑیں گے اور اس سے قصاص لیں گے۔ اس کو حرم میں امان ہے اس آدمی کو۔
دوسرا: کسی کے اعضاء کاٹ کر بھاگ کر چلا گیا حرم میں، احناف کا مذہب یہ ہے: اس کو حرم ہی میں پکڑ کر اس سے قصاص لے لیا جائے گا، ہاتھ کاٹا اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیا جائے گا، کسی کا پاؤں کاٹا تھا اس کا بھی پاؤں کاٹ دیا جائے گا۔ اس کو امان نہیں ہے حرم کے اندر۔
تیسرا وہ شخص جس نے حرم کے اندر ہی رہتے ہوئے کسی کو قتل کیا، احناف کا مذہب یہ: اس کو بھی امان نہیں، اس کو وہی حرم ہی میں پکڑ کر اندر ہی اس سے قصاص لے لیا جائے، اس کو قتل کر دیا جائے۔
تو شوافع کہتے ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اے احناف! "ومن دخله كان آمناً"، "مَن" عام تھا، یہ تینوں کو شامل تھا، چاہے باہر سے قتل کر کے حرم میں چلا جائے، یا حرم کے اندر کسی کو قتل کرے، یا کسی کے باہر اعضاء کاٹے اور بھاگ کر حرم چلا گیا، ان تینوں کو آیت نے "مَن" آیا اور "مَن" عام ہے، ان سب کو شرطوں کو شامل ہے، ان سب کو امان ہونی چاہیے حرم میں، لیکن آپ نے دو افراد کی تخصیص کر دی، ان کو اس حکم سے نکال دیا کہ ان کو امان نہیں ہے۔ ایک وہ جو کسی کے اعضاء کاٹ کر بھاگ کر حرم چلا جائے، آپ نے کہا اسے بھی امان نہیں، وہی پکڑ کر اسے قصاص لے لو۔ اور جو حرم کے اندر قتل کر دے اے احناف! آپ نے کہا اسے بھی امان نہیں، اسے بھی وہی حرم کے اندر ہی پکڑ کر اس سے قصاص لے لیا جائے، تو آپ نے دو افراد کی تخصیص کر دی۔ دو افراد کی تخصیص کر دی، تو ہم تیسرے فرد کی تخصیص کرتے ہیں کہ جو کسی کو باہر قتل کر کے اندر چلا جائے، اس کو بھی امان نہیں ہے حرم کے اندر، اور اسے وہی پر قصاص لے لیا جائے گا، اور یہ تیسرے کی تخصیص ہم نے کس کے ذریعے کی؟ قیاس اور خبر واحد کے ذریعے، کس کے ذریعے؟ قیاس اور خبر واحد کے ذریعے، آپ نے دو افراد کی تخصیص کی تھی، ہم انہی پر یہ تیسرے کو بھی قیاس کر لیتے ہیں اور اس کو بھی اس حکم سے نکال دیتے ہیں۔
نیز حدیث آ رہی ہے آگے بھئی دو تین سطروں کے بعد بھئی کتاب ہی کے اندر، کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: "الحرم لا يعيذ عاصياً ولا فاراً بدم"، حرم جو ہے وہ پناہ نہیں دیتا عاصیاً نافرمان کو، گناہگار کو، "ولا فاراً"، اور نہ اس شخص کو جو بھاگنے والا ہے، "فر يفر" کے معنی بھاگنا، "فاراً" اسی سے اسم فاعل ہے، "ولا فاراً بدم"، اور نہ وہ شخص جو بھاگنے والا ہے "بدم" خون کی وجہ سے، قتل کی وجہ سے۔ حدیث میں کیا آیا؟ کہ حرم جو ہے کسی گناہگار کو، نافرمان کو اور خون کی وجہ سے بھاگنے والے کو پناہ نہیں دیتا، تو اس حدیث سے معلوم ہوا جو قتل کر کے حرم میں چلا جائے پناہ لینے کے لیے، اسے پناہ نہیں ہے، اسے وہی پر پکڑ کر کیا کیا جائے؟ قصاص اس سے لے لیا جائے۔ تو قیاس اور خبر واحد کے ذریعے ہم نے تیسرے فرد کی بھی تخصیص کر دی۔
اس پر ان پر اشکال ہوتا ہے کہ اس صورت میں تو آیت پر عمل ہی باقی نہ رہا بھئی، تین ہی افراد تھے تینوں نکل گئے، تو وہ آگے پھر جواب دیں گے کہ جواب دیں گے کہ یہ یعنی حرم پناہ دینے والا ہے جہنم کے عذاب سے، پناہ دینے والا ہے، امان دینے والا ہے جہنم کے عذاب سے بشرطیکہ ایمان ہو، ایمان ہو، حرم میں چلا گیا تو اللہ اس کو اس کی جہنم کے عذاب سے کیا کریں گے؟ حفاظت فرمائیں گے بھئی۔ تو ابھی بھی آیت پر عمل باقی ہے کہ ابھی بھی امان حرم جو ہے امان کی جگہ ہے، اور کس چیز سے امان ہے؟ جہنم کے عذاب سے بشرطیکہ ایمان ہو بھئی کفر نہ ہو۔
تقریر سمجھ میں آ گئی؟ جی، دیکھیے! کہتے ہیں: "وتقرير الثاني"، اور دوسری تقریر یہ ہے کہ "أن في قوله تعالى"، کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں "ومن دخله كان آمناً"، اور جو داخل ہوا حرم میں بیت اللہ میں، یعنی مراد میں نے بتلایا سارے حرم کا یہی حکم ہے، اور جو بیت اللہ میں داخل ہوا "كان آمناً"، وہ امان والا ہے، "كلمة مَن أيضاً عامة"، کلمہ "مَن" جو ہے یہ بھی عام ہے، "شاملة لمن دخل في البيت بعد قتل إنسان"، یہ شامل ہے اس ان کو جو داخل ہو جائیں بیت اللہ میں کسی انسان کو قتل کرنے کے بعد، "أو بعد قطع أطرافه"، یا اس کے اس کے اطراف یعنی اعضاء کو کاٹنے کے بعد، جو داخل ہو بیت اللہ میں کسی انسان کو قتل کرنے کے بعد یا سی کسی کے اعضاء کو کاٹنے کے بعد، "أو دخل في البيت ثم قتل فيه أحداً"، یا بیت اللہ میں داخل ہوا پھر اس کے اندر کیا کیا اس نے؟ قتل کیا، "ثم قتل فيه أحداً"، پھر اس میں کسی ایک کو قتل کر دیا، "فينبغي أن يكون كل من هؤلاء آمناً"، پس مناسب یہ ہے کہ کہ ان میں سے ہر ایک کو امان والا ہونا چاہیے، "وأنتم خصصتم من هذا"، اور تم نے اے احناف! تخصیص کی ہے اس میں سے، کس کی تخصیص کی ہے؟ کس کس کو ہم نے نکالا تھا؟ دو افراد کو، انہی کو ذکر کرنے لگے ہیں۔ ایک وہ شخص "من قتل في البيت بعد الدخول"، جس نے بیت اللہ کے اندر قتل کیا داخل ہونے کے بعد، "ومن دخل فيه بعد قطع أطرافه"، اور ایک وہ شخص جو داخل ہو بیت اللہ میں کسی کے اعضاء کو کاٹنے کے بعد، ان کی تم نے تخصیص کی، "وقلتم"، اور تم نے کہا "إنه يقتص من هذين في البيت"، کہ قصاص لیا جائے گا ان دو سے بیت اللہ ہی کے اندر، "قلنا"، ہم کہتے ہیں، یہ تقریر امام شافعی رحمہ اللہ کی چل رہی ہے، "قلنا"، تو ہم شوافع کہتے ہیں "إنا نخص"، یہاں بھی "إنا" ہونا چاہیے بھئی، "إنا نخص الصورة الثالثة أيضاً"، ہم تیسری صورت کی بھی تخصیص کرتے ہیں، "وهو"، اور وہ یہ "أن من دخل في البيت بعد أن قتل إنساناً"، کہ جو شخص بیت اللہ میں داخل ہوا بعد اس کے کہ اس نے قتل کیا تھا کسی انسان کو، یعنی باہر قتل کر کے کہاں چلا گیا؟ بیت اللہ میں، "فيقتص منه"، تو کہتے ہیں شوافع کہ اس سے بھی کیا کیا جائے گا؟ قصاص لیا جائے گا، "بالقياس على الصورة الأولى"، قیاس کرتے ہوئے پہلی دو صورتوں پر، اور نیز کس کی وجہ سے؟ "وبخبر الواحد"، خبر واحد کی وجہ سے، "وهو قوله عليه السلام"، اور وہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: "الحرم لا يعيذ عاصياً ولا فاراً بدم"، کہ حرم جو ہے وہ پناہ نہیں دیتا گناہگار کو، نافرمان گناہگار کو، "ولا فاراً بدم"، اور نہ وہ اس سے جو بھاگنے والا ہے قتل کی وجہ سے، خون کی وجہ سے۔
تو اس پر اشکال پھر ہوا کہ بھئی اس طرح تو آیت میں کوئی بھی فرد باقی نہ رہے گا، تو جواب اسی کا دے رہے ہیں کہ "لم يبق تحت هذا العام إلا الآمنون من عذاب النار"، کہ باقی نہ رہا اس عام کے تحت مگر وہ جو وہ جو امان والا ہے کس سے؟ "من عذاب النار"، جہنم کے عذاب سے بھئی۔
بھئی اس کا بھی ہم جواب پہلے دیں گے، انہوں نے کس کو دلیل بنایا؟ قیاس کو اور خبر واحد کو بھئی، قیاس کو اور خبر واحد کو۔
اچھا آگے مولانا، احناف کی تقریر آنے والی ہے، لیکن پہلے ان کے قیاس اور خبر واحد کا جواب دے دیں مولانا۔ آپ نے کیا کہا؟ کہ جو قتل کر کے حرم میں جائے، اس کو بھی آپ نے اس حکم سے نکالا ہے کس پر قیاس کرتے ہوئے؟ جو حرم کے اندر قتل کرتا ہے۔
تو حرم کے اندر جو قتل کرے، اسے وہی حرم میں قصاص لیا جاتا ہے، تو آپ نے کہا جو باہر سے قتل کر کے حرم میں بھاگ کر جائے اس کو اس پر قیاس کریں گے اور اس سے بھی حرم کے اندر ہی کیا کیا جائے گا اس سے؟ قصاص لیا جائے گا۔ ہم کہتے ہیں: یہ قیاس مع الفارق ہے مولانا، دونوں الگ الگ ہیں، ایک کا دوسرے پر قیاس کرنا درست نہیں۔ اس لیے کیونکہ جو شخص باہر قتل کر کے حرم میں جا رہا ہے وہ حرم میں پناہ چاہتا ہے، اور پناہ کسی معظم سے ہی کسی قابل تعظیم بھئی بڑی چیز سے ہی پناہ طلب کی جاتی ہے بھئی، کسی معمولی چیز سے پناہ طلب؟ تو معلوم ہوا بیت اللہ کی تعظیم کر رہا ہے، کیا کر رہا ہے؟ بیت اللہ کی عظمت ہے اس کے دل میں جبھی تو وہ بھاگ کر وہاں پناہ لینا چاہتا ہے بھئی، تو لہذا بیت اللہ کی تعظیم کر رہا ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ اسے حرم کے اندر قصاص نہ لیا جائے۔ جب کہ جو حرم کے اندر قتل کر رہا ہے مولانا، وہ تو حرم کی عظمت کو پامال کر رہا ہے، اس نے حرم کے تقدس کا بھی لحاظ نہیں کیا حرم کے اندر بھئی! کیا کر رہا ہے؟ قتل کر رہا ہے، تو وہ تو حرم کے تقدس کو کیا کر رہا ہے؟ پامال کر رہا ہے، لہذا اس سے تو حرم کے اندر ہی قصاص لینا چاہیے، جس نے حرم کی عظمت کا ذرا بھر لحاظ بھی نہیں کیا، تو اسے حرم کے اندر ہی کیا کرنا چاہیے؟ قصاص لینا چاہیے۔ تو یہ جو حرم کے اندر قتل کرتا ہے، یہ مختلف ہوا اس شخص سے جو حرم کے باہر قتل کر کے حرم میں جاتا ہے، وہ حرم کی تعظیم کر رہا ہے اور یہ کیا کر رہا ہے؟ حرم کی کے تقدس کو پامال کر رہا ہے، تو دونوں الگ ہوئے، تو ایک کو دوسرے پر قیاس کرنا صحیح نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
نیز دوسرا کس پر قیاس کیا آپ نے؟ نہیں، دو افراد تھے نا جن پر قیاس کیا، بتایا پہلے کے ساتھ کسے اور اس میں تو فرق ہے اس پر تو قیاس نہیں کر سکتے، دوسرا کیا فرض تھا؟ کسی کے اعضاء کاٹ کر حرم چلا جائے، جو ہم کہتے ہیں یہ بھی قیاس مع الفارق ہے اس پر قیاس کرنا، اس لیے کیونکہ اعضاء کے ساتھ مال والا برتاؤ کیا جاتا ہے، اعضاء کے ساتھ کون سا برتاؤ کیا جاتا ہے؟ مال والا، انہیں مال کی طرح سمجھا جاتا ہے جیسے مال انسان کی حفاظت کرتا ہے، اسی طرح اعضاء ہاتھ پاؤں کے ذریعے بھی انسان اپنی حفاظت کرتا ہے، اپنی جان کی۔ بھئی مال کے ذریعے آپ بھئی آپ کو کھانا ملتا ہے، کھانا، پینا، گھر بناتے ہیں، اپنی حفاظت کا سامان کرتے ہیں، کس کے ذریعے؟ مال کے ذریعے، اسی طرح اعضاء کے ذریعے، ہاتھ پاؤں کے ذریعے بھی کیا کرتا ہے انسان؟ اپنی حفاظت کرتا ہے، تو یہ مال کی طرح ہوئے تو مال والا حکم ہے، اور بالاتفاق حرم کے اندر...
اور دوسرا آپ نے کیا کہا تھا؟ اعضاء والے کو بھی ہم نے تخصیص کی تھی جو اعضاء کاٹ کر حرم میں داخل ہوتا ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں بھئی! اعضاء کے ساتھ مال والا برتاؤ کیا جائے گا، وہ اس آیت کے تحت داخل ہی نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لہذا ہم نے تخصیص کی ہی نہیں۔ جب تخصیص کی ہی نہیں تو عام اسی طرح قطعی رہا۔ تو اس میں سے خبر واحد اور قیاس کے ذریعے آپ کا تخصیص کرنا بھی صحیح نہیں۔ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ جی، دیکھیے اب۔
کہتے ہیں: "وكذا الذي عليه قصاص في الطرف لم يخص من الآمن" اور اسی طرح وہ شخص جس پر قصاص ہو طرف کے اندر، یعنی عضو کے اندر، "لم يخص من الآمن" اس کی بھی تخصیص نہیں کی گئی "آمن" میں سے، "إذ المراد بالآمن آمن الذات" اس لیے کہ "آمن" سے کیا مراد ہے؟ آمن الذات مراد ہے۔ "والأطراف" اس پر... اس کا عطف "الذات" پر نہ کرنا، مولانا! وہ مضاف الیہ ہے "آمن" کے لیے، اور "أطراف" یہ مبتدا ہے، آگے خبر آ رہی ہے: "والأطراف كأنها ليست من الذات بل من المال" اور اطراف گویا کہ وہ ذات میں سے ہیں ہی نہیں بلکہ کس میں سے ہیں؟ مال میں سے ہیں، کیونکہ میں نے بتایا کہ اعضاء کے ساتھ کس کا برتاؤ کیا جاتا ہے؟ مال والا برتاؤ کیا جاتا ہے، کیونکہ جیسے مال کے ذریعے انسان اپنے نفس کی حفاظت کرتا ہے، اسی طرح اعضاء کے ذریعے بھی اپنے نفس کی حفاظت کرتا ہے۔
"وكذا القاتل بعد الدخول فيه" اور اسی طرح وہ جو قتل کرنے والا... قتل کرنے والا ہے بعد الدخول فيه، بیت اللہ میں یا حرم میں داخل ہونے کے بعد، وہ بھی اس کے اندر... "آمن" سے اس کی تخصیص نہیں کی گئی، بھئی! "إذ معنى قوله" اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے قول کا معنی یہ ہے: "ومن دخله كان آمنا" یہ جو اللہ کا قول ہے: "ومن دخله كان آمنا" کا معنی کیا ہے؟ "معناه: من دخله بعد ما صار مباح الدم" کہ وہ شخص جو داخل ہو حرم میں بعد اس کے جبکہ وہ مباح الدم ہو گیا تھا، "بردة" مرتد ہونے کی وجہ سے، "أو زنى" یا زنا کی وجہ سے، "أو قصاص" یا قصاص کی وجہ سے، تو وہ شخص جو داخل ہوا مباح الدم ہو کر وہ مراد ہے، "لا أنه باشر هذه" لا أنه باشر هذه الأمور بعد الدخول، نہ یہ کہ وہ سرانجام دینے والا ہو ان امور کو، باشر کا معنیٰ: سرانجام دینے والا۔ نہ یہ کہ وہ... باشر کا معنیٰ سرانجام دینا... نہ یہ کہ وہ سرانجام دینے والا ہو ان امور کو داخل ہونے کے بعد، تو وہ مراد نہیں ہے، مولانا! یہ وہ... "فهو خارج عن مضمون الآية" تو وہ کیا ہوا؟ آیت کے مضمون سے ہی خارج ہوا، "لا أنه مخصوص منها" نہ یہ کہ وہ اس سے مخصوص ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
"لا يقال" جی، یہاں سے ایک اعتراض اور اس کا جواب ذکر کر رہے ہیں۔ اعتراض یہ کہ بھئی! "ومن دخله" میں 'ه' ضمیر بیت اللہ کو راجع ہے۔ کس کو راجع ہے؟ اس لیے کیونکہ ماقبل میں آتا ہے: "إن أول بيت وضع للناس"، ماقبل میں "بيت" کا ذکر ہے، حرم کا ذکر نہیں ہے۔ تو "دخله" کی 'ه' ضمیر بھی کس کو راجع ہوگی؟ بیت ہی کو راجع ہوگی۔ تو بیت اللہ میں جو داخل ہوا وہ امان والا ہے، آیت میں تو یہ ذکر ہوا، اور بحث چل رہی ہے حرم کے اندر جو کیا کرتا ہے؟ داخل ہوتا ہے۔ مسئلہ کس سے متعلق ہے؟ حرم میں پناہ لینے والے سے، اور آیت میں کس کا ذکر ہے؟ بیت اللہ میں داخل ہونے والا۔ کہتے ہیں: نہیں بھئی! یہ اعتراض نہ کیا جائے۔ اس لیے کیونکہ ٹھیک ہے اگرچہ 'ه' ضمیر بیت اللہ کو راجع ہے، لیکن حرم اور بیت اللہ کا ایک ہی حکم ہے۔
حرم اور بیت اللہ کا ایک ہی حکم ہے، کیونکہ دوسری آیت میں، دوسری جگہ اللہ فرماتے ہیں: "أولم يروا أنا جعلنا حرما آمنا" کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن والی جگہ بنایا ہے بھئی؟ معلوم ہوا... امن والی جگہ بنایا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا حرم بھی کیا ہے؟ بیت اللہ کی طرح ہے، وہ بھی جو اس میں داخل ہوگا وہ بھی کیا ہے؟ امان والا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
"لا يقال" یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ "إن ضمير دخله راجع إلى البيت والمقصود بيان آمن الحرم" کہ "دخله" کی ضمیر جو ہے وہ راجع ہے بیت اللہ کی طرف اور مقصود تو یہاں پر حرم میں امان لینے والے کا بیان ہے، "لأنا نقول إن حكمهما واحد" اس لیے کیونکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ان دونوں کا حکم ایک ہی ہے، "بدليل قوله تعالى: أولم يروا أنا جعلنا حرما آمنا" اللہ تعالیٰ کے اس قول کی دلیل کی وجہ سے: "أولم يروا أنا جعلنا حرما آمنا" کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے بنایا ہے حرم کو امان والا؟ مسئلہ سمجھ میں آ گیا سب کو؟ اچھی طرح؟ چلیے بس مولانا! هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔