Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-135

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 13 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 9
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔135 والجنون عطف على قوله الصغر وهو آفة تحل بالدماغ بحيث يبعث على أفعال خلاف مقتضى العقل من غير ضعف في أعضائه وتسقط به العبادات المحتملة للسقوط. گزشتہ سبق میں آپ پڑھ رہے تھے وہ امور جو اہلیت کو عارض ہوتے ہیں۔ اہلیت کو عارض ہوتے ہیں، آپ نے پڑھا وہ دو قسم کے ہیں: ایک سماوی ہیں اور دوسرے کسبی ہیں بھئی۔ اور سماوی کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا، سب سے پہلے صغر کے بارے میں پڑھ لیا، آج دوسرا جنون جو ہے اس کے بارے میں آپ کو بتلا رہے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں: والجنون عطف على قوله الصغر، جنون جو ہے عطف ہے مصنف کے قول 'الصغر' پر، پیچھے جہاں صغر کا ذکر شروع کیا تھا انہوں نے۔ وهو آفة تحل بالدماغ، اور یہ ایسی آفة ہے جو دماغ پر نازل ہوتی ہے بحيث بحيثيثية سے يبعث على أفعال خلاف مقتضى العقل کہ یہ ابھارتی ہے على أفعال ایسے افعال پر خلاف مقتضى العقل جو مقتضائے عقل کے خلاف ہوں۔ خلاف العقل کاموں پر یہ ابھارتا ہے بھئی یہ آفت بھئی، خلاف العقل کاموں پر ابھارتی ہے، من غير ضعف في أعضائه اس کے اعضا میں بغیر کسی ضعف کے۔ اعضا میں یہاں ضعف نہیں ہوتا بلکہ ضعف کس پر آیا ہے؟ آفت دماغ پر نازل ہوئی ہے جس کی وجہ سے وہ خلاف العقل کام کرتا ہے۔ وتسقط به العبادات المحتملة للسقوط، اور اس کے ذریعے وہ عبادتیں ساقط ہو جاتی ہیں جو سقوط کا احتمال رکھتی ہیں بھئی۔ تو وہ ساقط ہو جائیں گی، لا ضمان المتلفات، ہاں! جو چیزیں تلف کیں مجنون نے، کسی کی چیزیں تلف کر دیں، خراب کر دیں، توڑ دیں، ان کا ضمان ساقط نہیں ہوگا، ونفقة الأقارب اور قریبی رشتہ داروں کا نفقہ بھی ساقط نہیں ہوگا اگر یہ مالدار ہے، والدية اور دیت بھی ساقط نہیں ہوگی اگر کسی کو یہ قتل کر دیتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ كما في الصبي بعينه، جیسے کہ بعینہِ بچے کے اندر تھا۔ وكذا الطلاق والعتاق ونحوهما من المضار غير مشروع في حقه، اور اسی طرح طلاق ہے والعتاق اور آزادی ونحوهما اور اس جیسی جو چیزیں ہیں من المضار جو کس میں سے ہیں؟ ضرر دینے والی چیزوں میں سے، جو نقصان جن میں سراسر نقصان ہی ہے نفع نہیں بھئی، تو کہتے ہیں: غير مشروع في حقه اس حال میں کہ یہ مشروع نہیں ہے اس کے حق میں۔ عبادات جو سقوط کا احتمال رکھتی ہیں وہ تو مجنون سے ساقط ہو جائیں گی لیکن یہ کسی کی چیزیں تلف کر دے، قریبی رشتہ داروں کا اسی طرح جو نفقہ ہے یا کسی کی کوئی دیت ہے وہ اس سے ساقط نہیں ہوگی۔ اور اسی طرح طلاق، عتاق وغیرہ اور یہ چیزیں جن میں نقصان ہی نقصان ہے، مال ہاتھ سے جاتا ہے یا تو یہ جس میں بیوی ہاتھ سے جا رہی ہے طلاق جو ہے، تو یہ اس کے حق میں مشروع نہیں۔ اس کے حق میں مشروع نہیں بھئی، یہ چیزیں یہ کر ہی نہیں سکتا۔ لكنه إذا لم يمتد ألحق بالنوم، لیکن جب یہ لمبا نہ ہو ألحق بالنوم تو اس کو ملایا گیا ہے نیند کے ساتھ بھئی۔ نیند کے ساتھ اس کو ملایا جائے گا اگر ممتد نہ ہو، جنون ہے تھوڑی دیر کے لیے رہا، تو یہ کس کے درجے میں ہوگا؟ نوم نوم کی طرح ہوگا بھئی، نوم کی طرح، جیسے نیند کی وجہ سے نیند کی وجہ سے نماز رہ جائے تو بعد میں قضا کرنا پڑتی ہے، تو یہاں بھی اگر یہ ممتد نہیں ہوگا، تھوڑی دیر کے لیے ہے، ایک آدھ نماز رہ گئی تو بعد میں کیا کرنا پڑے گی اس کی؟ قضا کرنا پڑے گی، تفصیل آگے آ رہی ہے ساری بھئی۔ عند علمائنا الثلاثة، ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک بھئی۔ تو اس کے لیے عبادات تو ساقط ہو جائیں گی لیکن جب یہ لمبا نہ ہو تو پھر یہ نیند کے ساتھ ملایا جائے گا ہمارے تینوں علماء کے نزدیک۔ فيجب عليه قضاء العبادات كما على النائم، پس اس پر عبادات کی قضا واجب ہوگی جیسے کہ سونے والے پر ہوتی ہے إذ لا حرج في قضاء القليل، اسی کیونکہ تھوڑی قلیل کی قضا کے اندر کوئی حرج نہیں ہے، اگر وہ اس پر واجب ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ وهذا في الجنون العارضي، اور یہ جنونِ عارضی کے اندر ہوگا، وہ جنون جو عارض ہوا ہے، طاری ہوا ہے کسی شخص پر بھئی۔ خود بتلا رہے ہیں: بأن بلغ عاقلا ثم جن، بایں صورت کہ بالغ ہوا اس حال میں کہ عاقل تھا ثم جن پھر اس کے بعد کیا ہوا؟ مجنون، تو یہ جنونِ طاری ہے بھئی، بالغ ہوتے وقت مجنون نہیں تھا؛ وأما في الجنون الأصلي، اور باقی جنونِ اصلی بھئی یہ تو تھا جنونِ عارضی کہ بالغ ہوا اس وقت عقل ٹھیک تھی بعد میں جنون طاری ہوا، اور ایک ہے کہ بالغ ہوتے وقت ہی جنون تھا اس کو جنونِ اصلی کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ خود بتلا رہے ہیں: وأما في الجنون الأصلي، اور باقی جنونِ اصلی کے اندر بأن بلغ مجنونا بایں صورت کہ مجنون بالغ ہوا فعند أبي يوسف رحمه الله هو بمنزلة الصبا، فامام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ بچپنے کے درجے میں ہے حتى لو أفاق قبل مضي الشهر في الصوم، یہاں تک کہ اگر اس کو افاقہ ہو گیا مہینہ گزرنے سے پہلے فی الصوم روزے میں أو قبل تمام يوم وليلة في الصلاة، یا ایک دن رات پورا ہونے سے پہلے نماز میں لا يجب عليه القضاء، تو اس پر قضا واجب نہیں۔ اس پر قضا واجب نہیں۔ جیسے بچپن میں نماز اور روزہ رہ جائے تو وہ کسی پر واجب بچے پر واجب اس کی قضا واجب نہیں، تو یہاں جنونِ اصلی کے اندر بھی اسی طرح ہے نماز اور روزے رہ گئے چاہے ایک ماہ پورا ماہِ رمضان کا مہینہ جنون نہ رہا، تھوڑا رہا، آگے آپ چل کر پڑھیں گے بتائیں گے آپ کو کہ جنونِ عارضی کے اندر جنونِ عارضی جو بعد میں طاری ہوا اگر وہ تھوڑی دیر رہا یعنی ایک دن رات سے کم ایک دن رات سے کم تو اس کو ان نمازوں کی قضا کرنا پڑے گی۔ اور جنون اگر پورا مہینہ رمضان کا نہ رہا آخری دن بھی یہ ٹھیک ہو گیا تو اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ قضا، کیونکہ یہ جنونِ عارضی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اس میں امتداد، عدمِ امتداد کو دیکھنا ہے کہ اگر امتداد نہیں امتداد کا کیا معنیٰ؟ نماز کے مسئلے میں امتداد کا یہ معنیٰ کہ ایک دن رات پورا جو ہے یہ طاری رہے، اور روزوں کے مسئلے میں امتداد کا یہ معنیٰ کہ پورا رمضان یہ طاری رہے، یہ ہے امتداد۔ اور جو اس سے کم ہوگا، نماز کے مسئلے میں ایک دن رات سے کم اور روزے کے اندر پورے مہینے سے کم، تو جنونِ عارضی کے اندر ان کی قضا ضروری ہوگی بھئی، کیا ضروری ہوگی؟ قضا ضروری۔ یہ جنونِ عارضی ہے اور غیر ممتد ہے دیکھو ایک دن رات سے کم رہا، ایک مہینے سے کم رہا، تو کیا کرنا پڑتی ہے ان کی؟ قضا، لیکن جنونِ اصلی کے اندر امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بچپنے کی طرح ہے، کس کی طرح؟ اور اس میں صغر کے اندر تو قضا نہیں آتی تھی تو یہاں پر بھی چاہے ایک دن رات سے کم ہی کیوں نہ رہے، کیا چیز؟ جنونِ اصلی، بالغ ہوا ہی کس طریقے پر؟ مجنون تھا، اب چاہے یہ دو تین نمازیں صرف اس کے اندر آئیں یا صرف آدھا مہینہ اس کے اندر آیا رمضان کا تو بھی جو گزر چکا اس کی قضا نہیں، جنونِ عارضی کے اندر تو اس کی قضا آنی تھی لیکن جنونِ اصلی میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اس کی قضا مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ دیکھیے! فعند جنونِ اصلی کے اندر فعند أبي يوسف رحمه الله هو بمنزلة الصبا، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وہ بچپنے کے درجے میں ہے حتى لو أفاق قبل مضي الشهر في الصوم، یہاں تک کہ اگر اسے افاقہ ہو گیا مہینہ گزرنے سے پہلے ہی روزے کے اندر أو قبل تمام يوم وليلة في الصلاة، یا پورا ہونے سے ایک دن رات پہلے ہی نماز میں لا يجب عليه القضاء، تو اس پر قضا واجب نہیں۔ وعند محمد رحمه الله هو بمنزلة العارضي، اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جنونِ عارضی کے درجے میں ہے، اور جنونِ عارضی کا کیا حکم تھا؟ قضا کرنا پڑتی تھی، دیکھیے! فيجب عليه القضاء، تو اس پر قضا واجب ہوگی۔ وقيل الاختلاف على العكس، اور کہا گیا ہے کہ اختلاف برعکس ہے بھئی، امام محمد رحمہ اللہ کا وہ پہلا قول ہے جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے بارے میں لکھا گیا اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا یہ قول ہے جو امام محمد رحمہ اللہ کی طرف نسبت کی گئی، تو بعض کتابوں میں یہ قول اس طرح درج ہے اور بعض میں دوسری طرح برعکس درج ہے، اس کی طرف بھی اشارہ کر دیا۔ ثم أراد أن يبين حداً للامتداد وعدمه، پھر ارادہ کیا مصنف نے کہ وہ بیان کریں امتداد اور عدمِ امتداد کی حد کہ کسے امتداد ممتد کہیں گے اور کسے ممتد ممتد ہوگا تو اس میں قضا نہیں آئے گی، غیر ممتد کے اندر قضا آئے گی۔ ليبتني عليه وجوب القضاء وعدمه، تاکہ اس پر بنیاد ہو وجوبِ قضا کی اور عدمِ وجوبِ قضا کی۔ ولما كان ذلك أمراً غير مضبوط بين ضابطة يستخرج في كل العبادات، تو جب یہ ایک ایسا امر تھا غیر مضبوط جو ضبط شدہ جو غیر مضبوط ہے یعنی غیر مرتب ہے بين ضابطة، تو بیان کیا مصنف نے ایک ایسا ضابطہ يستخرج کہ جس کے ذریعے استخراج کیا جائے گا في كل العبادات، تمام عبادات کے اندر بھئی، یعنی تمام عبادات کا حال اس کے ذریعے معلوم ہو سکے گا بھئی۔ وحد الامتداد في الصلاة، اور امتداد کی حد نماز کے اندر أن يزيد على يوم وليلة، کہ وہ بڑھ جائیں نمازیں ایک دن اور رات پر، وہ بڑھ جائیں ایک دن اور رات پر؛ ولكن باعتبار الصلاة، آگے یہ بتلا رہے ہیں بھئی کہ پھر یہ ایک دن ایک رات پر بڑھنے کے اندر امام صاحب امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نمازوں کا اعتبار ہے، کس چیز کا اعتبار؟ یعنی اس شخص پر چھ نمازیں آ جائیں تو اب بعد میں قضا نہیں کرنا پڑے گی، چھ گزر جائیں۔ اس کو جنون طاری ہوا اس پر، اور ایک دن رات میں تو کتنی نمازیں ہیں؟ پانچ، تو وہ کہتے ہیں اعتبار نمازوں کا ہے۔ مثلاً آج زوال کے وقت وہ مجنون ہوا، آج زوال کے وقت اگلے زوال کے وقت شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اگلے زوال کے وقت 24 گھنٹے پورے ہو گئے، لہذا ابھی تک اگر جنون ہے اس کو اور پھر ٹھیک بھی ہو جائے تھوڑی دیر بعد، لیکن چونکہ 24 گھنٹے سے زیادہ وقت آ گیا بیچ میں لہذا اب اس پر قضا نہیں، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اعتبار گھنٹوں کا نہیں ہے، اعتبار نمازوں کا ہے، تو اگلے آج زوال کے وقت وہ مجنون ہوا اور اگلے دن زوال کے وقت تک کتنی نمازیں آ چکیں؟ پانچ، تو ابھی پانچ ہی ہیں، لہذا ابھی اگر یہ ٹھیک ہو گیا تو قضا آئے گی، ہاں! اگر ظہر کی نماز کا وقت بھی گزر گیا پورا یہاں تک کہ عصر کو جا کر ٹھیک ہوا اب کتنی نمازیں ہو گئیں؟ اب چھ ہو گئیں، تو دیکھو وہ نمازوں کا اعتبار کرتے ہیں کہ پھر قضا نہیں آئے گی، اگر ظہر کے وقت کے اندر اندر ٹھیک ہو گیا تو اس پر قضا آئے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ولكن باعتبار الصلاة عند محمد رحمه الله تعالى، لیکن نمازوں کے اعتبار سے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک يعني ما لم تصر الصلاة ستاً، یعنی جب تک نمازیں چھ نہ ہو جائیں لا يسقط عنه القضاءُ، تو اس سے قضا ساقط نہیں ہوگی؛ وباعتبار الساعات عندهما، اور گھنٹوں کے اعتبار سے ہے شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک حتّى لو جنّ قبل الزوال، یہاں تک کہ اگر وہ مجنون ہوا زوال سے پہلے ثم أفاق في اليوم الثاني بعد الزوال، پھر اس کو افاقہ ہوا اگلے دن زوال کے بعد، دیکھو ابھی نمازیں صرف پانچ ہی ہیں لیکن 24 گھنٹے پورے ہو چکے ہیں، تو کہتے ہیں: لا قضاء عليه عندهما، تو اس پر کوئی قضا نہیں ہے شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک لأنه من حيث الساعات أكثر من يوم وليلة، اس لیے کیونکہ یہ وقت جو ہے گھنٹوں کے اعتبار سے ایک دن اور رات سے زیادہ ہے؛ وعندهم عليه القضاء، اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اس پر قضا ہوگی ما لم يمتد إلى وقت العصر، جب تک کہ وہ ممتد نہ ہو جائے جنون إلى وقت العصر عصر کے وقت تک حتى تصير الصلاة ستاً، یہاں تک کہ نمازیں چھ ہو جائیں فيدخل في حد التكرار، تو پس داخل ہو جائے گا تکرار کی حد کے اندر، اب نمازوں کا تکرار شروع ہو رہا ہے، پانچ کے اندر تو ہر نماز ایک ایک تھی، اب جب چھٹی آئے گی تو کیا ہوگا وہ ایک نماز کا تکرار، تو یہاں سے تکرار کی حد شروع ہو رہی ہے، اس لیے وہ اس کا اعتبار کرتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک جب تک تکرار نہیں آتا تو یہ ممتد نہیں ہے، تکرار آ جائے گا تو اب کیا ہو گیا؟ ممتد ہو گیا۔ وفي الصوم باستغراق الشهر، اور روزے کے اندر پورے مہینے کو گھیر لینے سے، جنون آیا اور پورے مہینے کو گھیر لیا، پورا رمضان جنون طاری رہا تو اس پر قضا نہیں، کیونکہ یہ ممتد ہو گیا۔ اور اگر آخری دن بھی ٹھیک ہو گیا زوال سے پہلے، زوال سے پہلے، کیونکہ روزے کی نیت کس وقت تک کر سکتا ہے انسان؟ زوال کے وقت تک روزے کی نیت کر سکتا ہے، تو لہذا زوال سے پہلے ٹھیک ہوا تو نیت کا وقت چونکہ باقی تھا لہذا اب یہ غیر ممتد ہے اور اس پر قضا آئے گی، لیکن اگر زوال کے بعد ٹھیک ہوا تو یہ یہ ممتد ہے بھئی یہ ممتد ہے، لہذا اس پر قضا نہیں آئے گی۔ تو کہتے ہیں: وفي الصوم باستغراق الشهر، اور روزے کے اندر پورے مہینے کو گھیر لینے سے حتى لو أفاق في جزء من الشهر ليلاً أو نہاراً يجب عليه القضاء، یہاں تک کہ اگر اسے افاقہ ہوا مہینے کے کسی جز کے اندر رات کو یا دن کو، يجب عليه القضاء تو اس پر قضا واجب ہوگی في ظاهر الرواية، کس کے اندر؟ ظاہر الروایہ میں۔ ظاہر الروایہ کس کو کہتے ہیں؟ ظاہر الروایہ امام محمد رحمہ اللہ کی چھ کتابیں ان کے اندر جو مسئلہ آ جائے اس کو ظاہر الروایہ کہا جاتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ظاہر الروایہ، کون کون سی کتابیں ہیں؟ جامع صغیر، جامع کبیر، سیر صغیر، سیر کبیر، مبسوط اور زیادات بھئی، ان کے اندر جو مسئلہ آ جائے اس کو ظاہر الروایہ کہا جاتا ہے۔ وعن شمس الأئمة الحلواني، اور شمس الائمہ حلوانی رحمہ اللہ سے روایت ہے أنه لو كان مفيقا في أول ليلة من رمضان، کہ اگر اس کو اگر وہ اسے افاقہ ہوا رمضان کی پہلی رات میں، پہلی رات میں اسے افاقہ تھا، پہلی رات کو وہ ٹھیک تھا فأصبح مجنوناً، پس وہ صبح مجنون ہوا ثم استوعب باقي الشهر، پھر استیعاب کیا جنون نے باقی مہینے کا لا يجب عليه القضاء، تو اس پر قضا واجب نہیں ہے وهو الصحيح، اور یہی صحیح قول ہے لأن الليل لا يصام فيه، بھئی پہلی رات میں وہ ٹھیک تو تھا لیکن رات کے اندر تو روزہ نہیں رکھا جاتا بھئی، صبح کے وقت تو وہ مجنون تھا بھئی جب روزہ شروع ہوا۔ وهو الصحيح، اور یہ صحیح ہے لأن الليل لا يصام فيه اس لیے کہ رات کے اندر روزہ نہیں رکھا جاتا فكان الإفاقة والجنون فيه سواءً، تو افاقہ اور جنون اس کے اندر برابر ہیں۔ ولو أفاق في يوم من رمضان، اور اگر اسے افاقہ ہوا رمضان کے اندر فإن كان قبل الزوال يلزمه القضاء، اگر وہ زوال سے پہلے تھا يلزمه القضاء تو اس پر قضا لازم ہوگی ولو كان بعده لا يلزمه في الصحيح، اور اگر زوال کے بعد افاقہ ہوا تو پھر قضا اس پر لازم نہیں صحیح قول کے مطابق۔ وفي الزكاة باستغراق الحول، اور زکوۃ کے اندر بھئی حول کہتے ہیں سال کو بھئی، استیعاب کر لے، وہ گھیر لے سال کے گزرنے کو یعنی پورے سال کو گھیر لے، یعنی زکوۃ تب نہیں آئے گی اس پر۔ والجنون عطف على قوله الصغر وهو آفة تحل بالدماغ بحيث يبعث على أفعال خلاف مقتضى العقل من غير ضعف في أعضائه وتسقط به العبادات المحتملة للسقوط. گزشتہ سبق میں آپ پڑھ رہے تھے وہ امور جو اہلیت کو عارض ہوتے ہیں۔ اہلیت کو عارض ہوتے ہیں، آپ نے پڑھا وہ دو قسم کے ہیں: ایک سماوی ہیں اور دوسرے کسبی ہیں بھئی۔ اور سماوی کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا، سب سے پہلے صغر کے بارے میں پڑھ لیا، آج دوسرا جنون جو ہے اس کے بارے میں آپ کو بتلا رہے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں: والجنون عطف على قوله الصغر، جنون جو ہے عطف ہے مصنف کے قول 'الصغر' پر، پیچھے جہاں صغر کا ذکر شروع کیا تھا انہوں نے۔ وهو آفة تحل بالدماغ، اور یہ ایسی آفة ہے جو دماغ پر نازل ہوتی ہے بحيث بحيثيثية سے يبعث على أفعال خلاف مقتضى العقل کہ یہ ابھارتی ہے على أفعال ایسے افعال پر خلاف مقتضى العقل جو مقتضائے عقل کے خلاف ہوں۔ خلاف العقل کاموں پر یہ ابھارتا ہے بھئی یہ آفت بھئی، خلاف العقل کاموں پر ابھارتی ہے، من غير ضعف في أعضائه اس کے اعضا میں بغیر کسی ضعف کے۔ اعضا میں یہاں ضعف نہیں ہوتا بلکہ ضعف کس پر آیا ہے؟ آفت دماغ پر نازل ہوئی ہے جس کی وجہ سے وہ خلاف العقل کام کرتا ہے۔ وتسقط به العبادات المحتملة للسقوط، اور اس کے ذریعے وہ عبادتیں ساقط ہو جاتی ہیں جو سقوط کا احتمال رکھتی ہیں بھئی۔ تو وہ ساقط ہو جائیں گی، لا ضمان المتلفات، ہاں! جو چیزیں تلف کیں مجنون نے، کسی کی چیزیں تلف کر دیں، خراب کر دیں، توڑ دیں، ان کا ضمان ساقط نہیں ہوگا، ونفقة الأقارب اور قریبی رشتہ داروں کا نفقہ بھی ساقط نہیں ہوگا اگر یہ مالدار ہے، والدية اور دیت بھی ساقط نہیں ہوگی اگر کسی کو یہ قتل کر دیتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ كما في الصبي بعينه، جیسے کہ بعینہِ بچے کے اندر تھا۔ وكذا الطلاق والعتاق ونحوهما من المضار غير مشروع في حقه، اور اسی طرح طلاق ہے والعتاق اور آزادی ونحوهما اور اس جیسی جو چیزیں ہیں من المضار جو کس میں سے ہیں؟ ضرر دینے والی چیزوں میں سے، جو نقصان جن میں سراسر نقصان ہی ہے نفع نہیں بھئی، تو کہتے ہیں: غير مشروع في حقه اس حال میں کہ یہ مشروع نہیں ہے اس کے حق میں۔ عبادات جو سقوط کا احتمال رکھتی ہیں وہ تو مجنون سے ساقط ہو جائیں گی لیکن یہ کسی کی چیزیں تلف کر دے، قریبی رشتہ داروں کا اسی طرح جو نفقہ ہے یا کسی کی کوئی دیت ہے وہ اس سے ساقط نہیں ہوگی۔ اور اسی طرح طلاق، عتاق وغیرہ اور یہ چیزیں جن میں نقصان ہی نقصان ہے، مال ہاتھ سے جاتا ہے یا تو یہ جس میں بیوی ہاتھ سے جا رہی ہے طلاق جو ہے، تو یہ اس کے حق میں مشروع نہیں۔ اس کے حق میں مشروع نہیں بھئی، یہ چیزیں یہ کر ہی نہیں سکتا۔ لكنه إذا لم يمتد ألحق بالنوم، لیکن جب یہ لمبا نہ ہو ألحق بالنوم تو اس کو ملایا گیا ہے نیند کے ساتھ بھئی۔ نیند کے ساتھ اس کو ملایا جائے گا اگر ممتد نہ ہو، جنون ہے تھوڑی دیر کے لیے رہا، تو یہ کس کے درجے میں ہوگا؟ نوم نوم کی طرح ہوگا بھئی، نوم کی طرح، جیسے نیند کی وجہ سے نیند کی وجہ سے نماز رہ جائے تو بعد میں قضا کرنا پڑتی ہے، تو یہاں بھی اگر یہ ممتد نہیں ہوگا، تھوڑی دیر کے لیے ہے، ایک آدھ نماز رہ گئی تو بعد میں کیا کرنا پڑے گی اس کی؟ قضا کرنا پڑے گی، تفصیل آگے آ رہی ہے ساری بھئی۔ عند علمائنا الثلاثة، ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک بھئی۔ تو اس کے لیے عبادات تو ساقط ہو جائیں گی لیکن جب یہ لمبا نہ ہو تو پھر یہ نیند کے ساتھ ملایا جائے گا ہمارے تینوں علماء کے نزدیک۔ فيجب عليه قضاء العبادات كما على النائم، پس اس پر عبادات کی قضا واجب ہوگی جیسے کہ سونے والے پر ہوتی ہے إذ لا حرج في قضاء القليل، اسی کیونکہ تھوڑی قلیل کی قضا کے اندر کوئی حرج نہیں ہے، اگر وہ اس پر واجب ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ وهذا في الجنون العارضي، اور یہ جنونِ عارضی کے اندر ہوگا، وہ جنون جو عارض ہوا ہے، طاری ہوا ہے کسی شخص پر بھئی۔ خود بتلا رہے ہیں: بأن بلغ عاقلا ثم جن، بایں صورت کہ بالغ ہوا اس حال میں کہ عاقل تھا ثم جن پھر اس کے بعد کیا ہوا؟ مجنون، تو یہ جنونِ طاری ہے بھئی، بالغ ہوتے وقت مجنون نہیں تھا؛ وأما في الجنون الأصلي، اور باقی جنونِ اصلی بھئی یہ تو تھا جنونِ عارضی کہ بالغ ہوا اس وقت عقل ٹھیک تھی بعد میں جنون طاری ہوا، اور ایک ہے کہ بالغ ہوتے وقت ہی جنون تھا اس کو جنونِ اصلی کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ خود بتلا رہے ہیں: وأما في الجنون الأصلي، اور باقی جنونِ اصلی کے اندر بأن بلغ مجنونا بایں صورت کہ مجنون بالغ ہوا فعند أبي يوسف رحمه الله هو بمنزلة الصبا، فامام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ بچپنے کے درجے میں ہے حتى لو أفاق قبل مضي الشهر في الصوم، یہاں تک کہ اگر اس کو افاقہ ہو گیا مہینہ گزرنے سے پہلے فی الصوم روزے میں أو قبل تمام يوم وليلة في الصلاة، یا ایک دن رات پورا ہونے سے پہلے نماز میں لا يجب عليه القضاء، تو اس پر قضا واجب نہیں۔ اس پر قضا واجب نہیں۔ جیسے بچپن میں نماز اور روزہ رہ جائے تو وہ کسی پر واجب بچے پر واجب اس کی قضا واجب نہیں، تو یہاں جنونِ اصلی کے اندر بھی اسی طرح ہے نماز اور روزے رہ گئے چاہے ایک ماہ پورا ماہِ رمضان کا مہینہ جنون نہ رہا، تھوڑا رہا، آگے آپ چل کر پڑھیں گے بتائیں گے آپ کو کہ جنونِ عارضی کے اندر جنونِ عارضی جو بعد میں طاری ہوا اگر وہ تھوڑی دیر رہا یعنی ایک دن رات سے کم ایک دن رات سے کم تو اس کو ان نمازوں کی قضا کرنا پڑے گی۔ اور جنون اگر پورا مہینہ رمضان کا نہ رہا آخری دن بھی یہ ٹھیک ہو گیا تو اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ قضا، کیونکہ یہ جنونِ عارضی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اس میں امتداد، عدمِ امتداد کو دیکھنا ہے کہ اگر امتداد نہیں امتداد کا کیا معنیٰ؟ نماز کے مسئلے میں امتداد کا یہ معنیٰ کہ ایک دن رات پورا جو ہے یہ طاری رہے، اور روزوں کے مسئلے میں امتداد کا یہ معنیٰ کہ پورا رمضان یہ طاری رہے، یہ ہے امتداد۔ اور جو اس سے کم ہوگا، نماز کے مسئلے میں ایک دن رات سے کم اور روزے کے اندر پورے مہینے سے کم، تو جنونِ عارضی کے اندر ان کی قضا ضروری ہوگی بھئی، کیا ضروری ہوگی؟ قضا ضروری۔ یہ جنونِ عارضی ہے اور غیر ممتد ہے دیکھو ایک دن رات سے کم رہا، ایک مہینے سے کم رہا، تو کیا کرنا پڑتی ہے ان کی؟ قضا، لیکن جنونِ اصلی کے اندر امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بچپنے کی طرح ہے، کس کی طرح؟ اور اس میں صغر کے اندر تو قضا نہیں آتی تھی تو یہاں پر بھی چاہے ایک دن رات سے کم ہی کیوں نہ رہے، کیا چیز؟ جنونِ اصلی، بالغ ہوا ہی کس طریقے پر؟ مجنون تھا، اب چاہے یہ دو تین نمازیں صرف اس کے اندر آئیں یا صرف آدھا مہینہ اس کے اندر آیا رمضان کا تو بھی جو گزر چکا اس کی قضا نہیں، جنونِ عارضی کے اندر تو اس کی قضا آنی تھی لیکن جنونِ اصلی میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اس کی قضا مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ دیکھیے! فعند جنونِ اصلی کے اندر فعند أبي يوسف رحمه الله هو بمنزلة الصبا، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وہ بچپنے کے درجے میں ہے حتى لو أفاق قبل مضي الشهر في الصوم، یہاں تک کہ اگر اسے افاقہ ہو گیا مہینہ گزرنے سے پہلے ہی روزے کے اندر أو قبل تمام يوم وليلة في الصلاة، یا پورا ہونے سے ایک دن رات پہلے ہی نماز میں لا يجب عليه القضاء، تو اس پر قضا واجب نہیں۔ وعند محمد رحمه الله هو بمنزلة العارضي، اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جنونِ عارضی کے درجے میں ہے، اور جنونِ عارضی کا کیا حکم تھا؟ قضا کرنا پڑتی تھی، دیکھیے! فيجب عليه القضاء، تو اس پر قضا واجب ہوگی۔ وقيل الاختلاف على العكس، اور کہا گیا ہے کہ اختلاف برعکس ہے بھئی، امام محمد رحمہ اللہ کا وہ پہلا قول ہے جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے بارے میں لکھا گیا اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا یہ قول ہے جو امام محمد رحمہ اللہ کی طرف نسبت کی گئی، تو بعض کتابوں میں یہ قول اس طرح درج ہے اور بعض میں دوسری طرح برعکس درج ہے، اس کی طرف بھی اشارہ کر دیا۔ ثم أراد أن يبين حداً للامتداد وعدمه، پھر ارادہ کیا مصنف نے کہ وہ بیان کریں امتداد اور عدمِ امتداد کی حد کہ کسے امتداد ممتد کہیں گے اور کسے ممتد ممتد ہوگا تو اس میں قضا نہیں آئے گی، غیر ممتد کے اندر قضا آئے گی۔ ليبتني عليه وجوب القضاء وعدمه، تاکہ اس پر بنیاد ہو وجوبِ قضا کی اور عدمِ وجوبِ قضا کی۔ ولما كان ذلك أمراً غير مضبوط بين ضابطة يستخرج في كل العبادات، تو جب یہ ایک ایسا امر تھا غیر مضبوط جو ضبط شدہ جو غیر مضبوط ہے یعنی غیر مرتب ہے بين ضابطة، تو بیان کیا مصنف نے ایک ایسا ضابطہ يستخرج کہ جس کے ذریعے استخراج کیا جائے گا في كل العبادات، تمام عبادات کے اندر بھئی، یعنی تمام عبادات کا حال اس کے ذریعے معلوم ہو سکے گا بھئی۔ وحد الامتداد في الصلاة، اور امتداد کی حد نماز کے اندر أن يزيد على يوم وليلة، کہ وہ بڑھ جائیں نمازیں ایک دن اور رات پر، وہ بڑھ جائیں ایک دن اور رات پر؛ ولكن باعتبار الصلاة، آگے یہ بتلا رہے ہیں بھئی کہ پھر یہ ایک دن ایک رات پر بڑھنے کے اندر امام صاحب امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نمازوں کا اعتبار ہے، کس چیز کا اعتبار؟ یعنی اس شخص پر چھ نمازیں آ جائیں تو اب بعد میں قضا نہیں کرنا پڑے گی، چھ گزر جائیں۔ اس کو جنون طاری ہوا اس پر، اور ایک دن رات میں تو کتنی نمازیں ہیں؟ پانچ، تو وہ کہتے ہیں اعتبار نمازوں کا ہے۔ مثلاً آج زوال کے وقت وہ مجنون ہوا، آج زوال کے وقت اگلے زوال کے وقت شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اگلے زوال کے وقت 24 گھنٹے پورے ہو گئے، لہذا ابھی تک اگر جنون ہے اس کو اور پھر ٹھیک بھی ہو جائے تھوڑی دیر بعد، لیکن چونکہ 24 گھنٹے سے زیادہ وقت آ گیا بیچ میں لہذا اب اس پر قضا نہیں، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اعتبار گھنٹوں کا نہیں ہے، اعتبار نمازوں کا ہے، تو اگلے آج زوال کے وقت وہ مجنون ہوا اور اگلے دن زوال کے وقت تک کتنی نمازیں آ چکیں؟ پانچ، تو ابھی پانچ ہی ہیں، لہذا ابھی اگر یہ ٹھیک ہو گیا تو قضا آئے گی، ہاں! اگر ظہر کی نماز کا وقت بھی گزر گیا پورا یہاں تک کہ عصر کو جا کر ٹھیک ہوا اب کتنی نمازیں ہو گئیں؟ اب چھ ہو گئیں، تو دیکھو وہ نمازوں کا اعتبار کرتے ہیں کہ پھر قضا نہیں آئے گی، اگر ظہر کے وقت کے اندر اندر ٹھیک ہو گیا تو اس پر قضا آئے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ولكن باعتبار الصلاة عند محمد رحمه الله تعالى، لیکن نمازوں کے اعتبار سے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک يعني ما لم تصر الصلاة ستاً، یعنی جب تک نمازیں چھ نہ ہو جائیں لا يسقط عنه القضاءُ، تو اس سے قضا ساقط نہیں ہوگی؛ وباعتبار الساعات عندهما، اور گھنٹوں کے اعتبار سے ہے شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک حتّى لو جنّ قبل الزوال، یہاں تک کہ اگر وہ مجنون ہوا زوال سے پہلے ثم أفاق في اليوم الثاني بعد الزوال، پھر اس کو افاقہ ہوا اگلے دن زوال کے بعد، دیکھو ابھی نمازیں صرف پانچ ہی ہیں لیکن 24 گھنٹے پورے ہو چکے ہیں، تو کہتے ہیں: لا قضاء عليه عندهما، تو اس پر کوئی قضا نہیں ہے شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک لأنه من حيث الساعات أكثر من يوم وليلة، اس لیے کیونکہ یہ وقت جو ہے گھنٹوں کے اعتبار سے ایک دن اور رات سے زیادہ ہے؛ وعندهم عليه القضاء، اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اس پر قضا ہوگی ما لم يمتد إلى وقت العصر، جب تک کہ وہ ممتد نہ ہو جائے جنون إلى وقت العصر عصر کے وقت تک حتى تصير الصلاة ستاً، یہاں تک کہ نمازیں چھ ہو جائیں فيدخل في حد التكرار، تو پس داخل ہو جائے گا تکرار کی حد کے اندر، اب نمازوں کا تکرار شروع ہو رہا ہے، پانچ کے اندر تو ہر نماز ایک ایک تھی، اب جب چھٹی آئے گی تو کیا ہوگا وہ ایک نماز کا تکرار، تو یہاں سے تکرار کی حد شروع ہو رہی ہے، اس لیے وہ اس کا اعتبار کرتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک جب تک تکرار نہیں آتا تو یہ ممتد نہیں ہے، تکرار آ جائے گا تو اب کیا ہو گیا؟ ممتد ہو گیا۔ وفي الصوم باستغراق الشهر، اور روزے کے اندر پورے مہینے کو گھیر لینے سے، جنون آیا اور پورے مہینے کو گھیر لیا، پورا رمضان جنون طاری رہا تو اس پر قضا نہیں، کیونکہ یہ ممتد ہو گیا۔ اور اگر آخری دن بھی ٹھیک ہو گیا زوال سے پہلے، زوال سے پہلے، کیونکہ روزے کی نیت کس وقت تک کر سکتا ہے انسان؟ زوال کے وقت تک روزے کی نیت کر سکتا ہے، تو لہذا زوال سے پہلے ٹھیک ہوا تو نیت کا وقت چونکہ باقی تھا لہذا اب یہ غیر ممتد ہے اور اس پر قضا آئے گی، لیکن اگر زوال کے بعد ٹھیک ہوا تو یہ یہ ممتد ہے بھئی یہ ممتد ہے، لہذا اس پر قضا نہیں آئے گی۔ تو کہتے ہیں: وفي الصوم باستغراق الشهر، اور روزے کے اندر پورے مہینے کو گھیر لینے سے حتى لو أفاق في جزء من الشهر ليلاً أو نہاراً يجب عليه القضاء، یہاں تک کہ اگر اسے افاقہ ہوا مہینے کے کسی جز کے اندر رات کو یا دن کو، يجب عليه القضاء تو اس پر قضا واجب ہوگی في ظاهر الرواية، کس کے اندر؟ ظاہر الروایہ میں۔ ظاہر الروایہ کس کو کہتے ہیں؟ ظاہر الروایہ امام محمد رحمہ اللہ کی چھ کتابیں ان کے اندر جو مسئلہ آ جائے اس کو ظاہر الروایہ کہا جاتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ظاہر الروایہ، کون کون سی کتابیں ہیں؟ جامع صغیر، جامع کبیر، سیر صغیر، سیر کبیر، مبسوط اور زیادات بھئی، ان کے اندر جو مسئلہ آ جائے اس کو ظاہر الروایہ کہا جاتا ہے۔ وعن شمس الأئمة الحلواني، اور شمس الائمہ حلوانی رحمہ اللہ سے روایت ہے أنه لو كان مفيقا في أول ليلة من رمضان، کہ اگر اس کو اگر وہ اسے افاقہ ہوا رمضان کی پہلی رات میں، پہلی رات میں اسے افاقہ تھا، پہلی رات کو وہ ٹھیک تھا فأصبح مجنوناً، پس وہ صبح مجنون ہوا ثم استوعب باقي الشهر، پھر استیعاب کیا جنون نے باقی مہینے کا لا يجب عليه القضاء، تو اس پر قضا واجب نہیں ہے وهو الصحيح، اور یہی صحیح قول ہے لأن الليل لا يصام فيه، بھئی پہلی رات میں وہ ٹھیک تو تھا لیکن رات کے اندر تو روزہ نہیں رکھا جاتا بھئی، صبح کے وقت تو وہ مجنون تھا بھئی جب روزہ شروع ہوا۔ وهو الصحيح، اور یہ صحیح ہے لأن الليل لا يصام فيه اس لیے کہ رات کے اندر روزہ نہیں رکھا جاتا فكان الإفاقة والجنون فيه سواءً، تو افاقہ اور جنون اس کے اندر برابر ہیں۔ ولو أفاق في يوم من رمضان، اور اگر اسے افاقہ ہوا رمضان کے اندر فإن كان قبل الزوال يلزمه القضاء، اگر وہ زوال سے پہلے تھا يلزمه القضاء تو اس پر قضا لازم ہوگی ولو كان بعده لا يلزمه في الصحيح، اور اگر زوال کے بعد افاقہ ہوا تو پھر قضا اس پر لازم نہیں صحیح قول کے مطابق۔ وفي الزكاة باستغراق الحول، اور زکوۃ کے اندر بھئی حول کہتے ہیں سال کو بھئی، استیعاب کر لے، وہ گھیر لے سال کے گزرنے کو یعنی پورے سال کو گھیر لے، یعنی زکوۃ تب نہیں آئے گی اس پر۔ بھولے ہوئی چیزوں کے علاوہ اور چیزوں کو وہ جانتا ہے یا نہیں باقی ساری چیزیں؟ ہاں بھولا تو ایک بات ہے باقی چیزیں تو اس کو یاد ہیں، تو باقی چیزوں کو وہ جانتا ہے۔ فَبِقَوْلِهِ لَا بِآفَةٍ تو مصنف کا قول جو تھا لَا بِآفَةٍ، يَخْرُجُ الْجُنُونُ اس قول کی وجہ سے جنون نکل گیا اس نسیان کی تعریف سے، کیونکہ وہ آفت کی وجہ سے ہے۔ وَبِقَوْلِنَا مَعَ عِلْمِهِ النَّوْمُ وَالْإِغْمَاءُ اور ہمارا متن میں جو قول تھا مَعَ عِلْمِهِ ساتھ اس کے کہ یہ اور چیزوں کو جانتا ہے، اور چیزوں کو اس سے نوم اور بے ہوشی نکل گئی کیونکہ نیند اور بے ہوشی کے اندر تو کسی بھی چیز، کوئی بھی چیز ذہن میں نہیں ہوتی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ وَهُوَ لَا يُنَافِي الْوُجُوبَ فِي حَقِّ اللَّهِ تَعَالَىٰ اور یہ وجوب کے منافی نہیں ہے فِي حَقِّ اللَّهِ تَعَالَىٰ اللہ کے حق میں۔ وجوب کے، یاد رکھیے بات کس کی چل رہی ہے؟ نسیان کے، بھول جانا۔ تو یہ وجوب کے منافی نہیں ہے اللہ کے حق میں یعنی حقوق اللہ کے اندر یہ وجوب کے منافی نہیں، حقوق اللہ کے اندر وجوب آئے گا۔ ایک آدمی کو یاد ہی نہیں رہا کہ میں نے عصر کی نماز پڑھی ہے یا نہیں پڑھی، بھول گیا بھئی۔ آپ کیا کہتے ہیں بعد میں اس پر قضا آئے گی یا نہیں آئے گی؟ قضا آئے گی، لازمی بات ہے۔ تو لہذا یہ بھول جانا، یہ وجوب کے منافی نہیں، وجوب آئے گا اور بعد میں کیا کرنا پڑے گی؟ قضا کرنا پڑے گی۔ یہ معنی ہے کہ یہ جو نسیان ہے یہ منافی نہیں ہے وجوب کے اللہ کے حق میں۔ فَلَا تَسْقُطُ الصَّلَاةُ وَالصَّوْمُ إِذَا نَسِيَهُمَا پس ساقط نہیں ہوگی نماز اور روزہ جب ان دونوں کو بھول جائے۔ بَلْ يَلْزَمُ الْقَضَاءُ بلکہ اس پر قضا لازم ہوگی۔ لَكِنَّهُ إِذَا كَانَ غَالِبًا كَمَا فِي الصَّوْمِ وَالتَّسْمِيَةِ فِي الذَّبِيحَةِ وَسَلَامِ النَّاسِي يَكُونُ عَفْوًا لیکن جب وہ غالب ہو، یہ نسیان کیا ہو؟ غالب ہو، كَمَا فِي الصَّوْمِ جیسے روزے کے اندر، وَالتَّسْمِيَةِ فِي الذَّبِيحَةِ اور ذبیحے کے اندر اللہ کا نام لینے میں، وَسَلَامِ النَّاسِي اور بھولے ہوئے کا سلام يَكُونُ عَفْوًا تو یہ معاف ہے۔ یہ کیا ہے؟ معاف ہے۔ بھئی دیکھیے، بتلائیں گے آپ کو۔ کہ نسیان جو ہے یہ وجوب کے منافی نہیں، وجوب تو آئے گا۔ لیکن جب نسیان غالب ہو تو وہ چیز پھر معاف ہوگی۔ مثلاً روزے کے اندر، روزے کے اندر انسان بھول کر کھا پی لے، آپ کیا کہتے ہیں؟ روزہ ٹوٹا کہ نہیں ٹوٹا؟ روزہ نہیں ٹوٹا بھئی۔ اس لیے کیونکہ اس موقع پر نسیان غالب ہے، وجہ یہ کہ انسانی طبیعت ویسے ہی کھانے اور پینے کو چاہتی ہے بھئی۔ تو چونکہ طبیعت ویسے ہی چاہتی ہے اس لیے ذہن میں رہا ہی نہیں کہ میرا روزہ ہے، کھانے کی چیز دیکھی اور کھا لی، بعد میں یاد آیا کہ میرا تو روزہ تھا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو اور اسی طرح کسی جانور کو ذبح کرنے لگا، اس وقت اللہ کا نام لینا بھول گیا۔ آپ نے پڑھا ہے جان بوجھ کر چھوڑے تو ہمارے نزدیک ذبیحہ حلال نہیں لیکن اگر بھولے سے رہ جائے تو ذبیحہ حلال۔ وجہ اس کی یہ کہتے ہیں کہ جانور جب ذبح کرنے لگا ہے تو یہ ہیبت اور خوف کا وقت ہے بھئی۔ جانور کو ذبح کرنے کے وقت یہ کونسا وقت ہے؟ ہیبت اور، تو اس ہیبت اور خوف کی وجہ سے بعض اوقات انسان کے ذہن میں اللہ کا نام نہیں رہتا، اس سے ذہن اس کی طرف متوجہ نہیں رہتا، تو اس وجہ سے یہ معاف ہے بھئی۔ لہذا بھولا ہوا جو ہے اس کا ذبیحہ حلال ہے۔ اسی طرح کوئی نماز کے اندر بھولے سے سلام پھیر دے، کس وقت؟ مثلاً قعدہ اولیٰ میں بیٹھا تھا، دو رکعتوں کے بعد، چار رکعت والی نماز ہے، تو پہلے قعدے کے اندر اس نے بھولے سے سلام پھیر دیا۔ یاد رکھیے، یہ اگر اس نے کوئی کلام وغیرہ اور کوئی نماز کے منافی عمل نہیں کیا تو اسی پر، اسی کو پورا کر لے، یہ سلام معاف ہے بھئی۔ یہ سلام کیا ہے؟ معاف ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ دیکھیے، کہتے ہیں لَكِنَّهُ إِذَا كَانَ غَالِبًا لیکن جب یہ نسیان جب غالب ہو كَمَا فِي الصَّوْمِ جیسے کہ روزے میں ہے، وَالتَّسْمِيَةِ فِي الذَّبِيحَةِ اور ذبیحے کے اندر اللہ کا نام لینے میں ہے، وَسَلَامِ النَّاسِي اور بھولے ہوئے کا سلام يَكُونُ عَفْوًا تو یہ معاف ہے۔ فَفِي الصَّوْمِ يَمِيلُ النَّفْسُ بِالطَّبْعِ إِلَى الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ پس روزے کے اندر نفس جو ہے وہ مائل ہوتا ہے بعتبار طبیعت کے ہی کھانے اور پینے کی طرف، فَأَوْجَبَ ذَلِكَ نِسْيَانًا فَيُعْفَى پس اس چیز نے نسیان کو ثابت کیا پس وہ معاف ہوگا، وَلَا يَفْسُدُ صَوْمُهُ بِهِ اور اس سے اس کا روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ وَفِي الذَّبِيحَةِ يُوجِبُ الذَّبْحُ هَيْبَةً وَخَوْفًا يَتَنَفَّرُ الطَّبْعُ عَنْهُ اور ذبیحے کے اندر ذبح کرنا جو ہے يُوجِبُ الذَّبْحُ ذبح کرنا یہ واجب کرتا ہے، ثابت کرتا ہے ہیبت اور خوف کو يَتَنَفَّرُ الطَّبْعُ عَنْهُ جس سے طبیعت نفرت کرتی ہے، بھاگتی ہے، وَتَتَغَيَّرُ حَالَتُهُ اور اس کی حالت بدل جاتی ہے، فَتَكْثُرُ الْغَفْلَةُ عَنِ التَّسْمِيَةِ پس بکثرت ہوتی ہے غفلت کس سے؟ اللہ کا نام لینے سے، فَيُعْفَى النِّسْيَانُ فِيهِ عِنْدَنَا تو اس کے اندر بھی نسیان معاف ہے ہمارے نزدیک بھئی۔ وَفِي سَلَامِ النَّاسِي اور بھولے ہوئے کا سلام بھئی، تَشْتَبِهُ الْقَعْدَةُ الْأُولَى بِالثَّانِيَةِ غَالِبًا کہ قعدہ اولیٰ وہ مشابہ ہوتا ہے قعدہ ثانیہ کے ساتھ غالباً اکثر بھئی، زیادہ، فَيُسَلِّمُ بِالنِّسْيَانِ تو وہ کیا کر دیتا ہے؟ سلام پھیر دیتا ہے بھولے سے، فَيُعْفَى مَا لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ تو یہ معاف ہے جب تک کہ وہ اس میں کلام نہ کر لے کوئی، نماز کے منافی کام نہ کر لے۔ وَإِنَّمَا قَيَّدَ بِقَوْلِهِ إِذَا كَانَ غَالِبًا ماتن نے متن میں قید لگائی کون سی؟ إِذَا كَانَ غَالِبًا جب نسیان غالب ہو، لِيَخْرُجَ السَّلَامُ وَالْكَلَامُ فِي الصَّلَاةِ نَاسِيًا تاکہ نکل جائے وہ سلام اور کلام جو نماز میں ہو نَاسِيًا بھولے سے۔ بھولے سے۔ بھئی، ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے، آپ کو پتہ نہیں تھا، آپ پہنچے جاتے ہی آپ نے کہا "السلام علیکم"، اس کی بھی توجہ نہ رہی اس نے کہہ دیا "وعلیکم السلام"، آپ کیا حکم لگائیں گے؟ یاد رکھیں، نماز اس کی ٹوٹ گئی بھئی۔ یا بھولے سے نماز میں کسی سے کوئی بات شروع کر دی، تھوڑی سی بھی بات کی نماز ٹوٹ جائے گی فوراً۔ بھئی کیوں؟ یہ کیوں معاف نہیں ہے؟ بھئی ہم نے کہا إِذَا كَانَ غَالِبًا جب وہ نسیان کیا ہو؟ غالب ہو، ایسے موقع پر معاف ہے، جو غالب نہ ہو وہ معاف نہیں۔ یہاں پر جو قعدہ اولیٰ تو قعدہ ثانیہ کی طرح تھا، وہاں تو اشتباہ کا خطرہ تھا، لہذا اس لیے بھولے سے اس نے سلام پھیر دیا، لیکن نماز کے اندر یہ رکوع میں ہے، قیام میں ہے، سجدے میں ہے، یہ حالتیں ہر وقت اس کو یاد کرواتی ہیں کہ تم نماز میں ہو، کسی سے کلام نہیں کرنا۔ لہذا پھر وہ کلام کرتا ہے تو اس طرح بہت قلیل ہوتا ہے، یہ غالب نہیں ہے، جب غالب نہیں ہے تو اس کی وجہ سے نماز ٹوٹ جائے گی۔ یہ معنی ہے کہ وہ مصنف نے مقید کیا اپنے قول إِذَا كَانَ غَالِبًا کے ساتھ لِيَخْرُجَ السَّلَامُ وَالْكَلَامُ فِي الصَّلَاةِ نَاسِيًا تاکہ نکل جائے وہ سلام اور کلام جو نماز میں ہے نَاسِيًا بھولے سے، لِأَنَّهُ لَا يَغْلِبُ فِي هَٰذَا ذَٰلِكَ اس لیے کیونکہ ان کے اندر یہ چیز، نسیان غالب نہیں ہے، إِذْ حَالَةُ الصَّلَاةِ وَهَيْئَتُهَا مُذَكِّرَةٌ لِهَٰذَا النِّسْيَانِ اس لیے کیونکہ نماز کی حالت اور نماز کی ہیئت جو ہے، صورت جو ہے، وہ اس کو یاد کروانے والی ہے لِهَٰذَا النِّسْيَانِ اس نسیان سے، فَلَا يُعْفَى عِنْدَنَا تو یہ ہمارے نزدیک معاف نہیں ہے۔ وَلَا يُجْعَلُ عُذْرًا فِي حُقُوقِ الْعِبَادِ اور یہ نسیان جو ہے اس کو عذر نہیں قرار دیا جائے گا حقوق العباد کے اندر، فَإِنْ أَتْلَفَ مَالَ إِنْسَانٍ نَاسِيًا پس اگر تلف کر دیا کسی انسان کا مال بھولے سے، يَجِبُ عَلَيْهِ الضَّمَانُ تو اس پر ضمان واجب ہوگا۔ وَالنَّوْمُ یہ پانچواں سبب آگیا اسبابِ سماوی میں سے بھئی۔ وَالنَّوْمُ عَطْفٌ عَلَىٰ مَا قَبْلَهُ نوم یہ اس کا عطف ہے اپنے سے ماقبل پر یعنی صغر پر یا اسی نسیان پر۔ وَهُوَ عَجْزٌ عَنْ اسْتِعْمَالِ الْقُدْرَةِ اور وہ عاجز آنا ہے قدرت کے استعمال سے، یعنی انسان اپنی قدرت استعمال نہیں کر سکتا بھئی۔ کس کی تعریف ہو رہی ہے؟ نوم کی۔ کہتے ہیں تعریفٌ بالحکم والاثر وحدہ، یہ تعریف ہے حکم اور اثر کے ساتھ وحدہ اکیلے۔ یہ نیند کی تعریف نہیں کی مصنف نے، نیند کا حکم بیان کر دیا کہ انسان اپنے قدرت کے استعمال پر قادر نہیں رہتا۔ تو یہ تعریف بالحکم اور بالاثر ہے اکیلے ہی۔ الصحيح، صحیح یہ ہے کہ أَنَّهُ فَتْرَةٌ طَبِيعِيَّةٌ تَحْدُثُ لِلْإِنْسَانِ بِلَا اخْتِيَارٍ کہ یہ وہ کمزوری، وہ طبعی کمزوری ہے جو پیش آتی ہے انسان کو بغیر کسی اختیار کے۔ یہ وہ طبعی کمزوری ہے جو پیش آتی ہے انسان کو بغیر کسی اختیار کے۔ فترت کا معنی میں نے کیا کیا؟ کمزوری۔ فَأَوْجَبَ تَأْخِيرَ الْخِطَابِ وَلَا يَمْنَعُ الْوُجُوبَ پس یہ ثابت کرتا ہے خطاب کے مؤخر کرنے کو، اس کی وجہ سے خطاب کیا ہوگا؟ خطاب مؤخر ہو جائے گا، وَلَا يَمْنَعُ الْوُجُوبَ اور یہ وجوب کو نہیں روکتی। نیند ہے نہ نیند، نیند کی وجہ سے خطاب مؤخر ہو جائے گا۔ کیا معنی؟ آپ نے پڑھا ہے ایک نفسِ وجوب ہے، ایک وجوبِ ادا ہے۔ ظہر کا وقت آتے ہی نفسِ وجوب آئے گا، ظہر کی نماز واجب ہو جائے گی، اور پھر جیسے ہی نفسِ وجوب آتا ہے ساتھ ہی اللہ کی طرف سے حکم آ جاتا ہے کہ یہ جو واجب ہے نماز، ادا کرو۔ تو اس سے کیا آئے گی؟ ادا، تو اب اس پر ادا بھی واجب۔ یاد ہے ذہن میں بحث کہ نہیں بھئی؟ تو اب یہاں پر دیکھیے، نیند کی وجہ سے، نیند کی وجہ سے وجوب تو نہیں رکے گا، ظہر کے وقت سویا ہوا ہے، ظہر کا وقت داخل ہوا تو وقت داخل ہوتے ہی کیا آ جائے گا؟ نفسِ وجوب آ جائے گا، لیکن خطاب مؤخر ہے کیونکہ یہ سویا ہوا ہے۔ جب بیدار ہوگا اس وقت خطاب متوجہ ہوگا اس کی طرف کہ نماز ادا کرو، صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے فَأَوْجَبَ تَأْخِيرَ الْخِطَابِ پس یہ ثابت کرے گی نیند جو ہے یہ ثابت کرے گی خطاب کے مؤخر کرنے کو، وَلَا يَمْنَعُ الْوُجُوبَ اور یہ وجوب کو نہیں روکتی، فَيَثْبُتُ عَلَيْهِ نَفْسُ الْوُجُوبِ لِأَجْلِ الْوَقْتِ پس ثابت ہو جائے گا اس پر نفسِ وجوب تو وقت کی وجہ سے، وَلَا يَثْبُتُ عَلَيْهِ وَجُوبُ الْأَدَاءِ لِعَدَمِ الْخِطَابِ فِي حَقِّهِ ہاں وجوبِ ادا اس پر ثابت نہیں ہوگا بوجہ خطاب کے نہ ہونے کے اس کے حق میں، فَإِنِ انْتَبَهَ فِي الْوَقْتِ يُؤَدِّي وَإِلَّا يَقْضِي پس اگر اگر وہ بیدار ہو گیا اس وقت کے اندر ہی يُؤَدِّي تو ادا کر دے، وَإِلَّا يَقْضِي ورنہ کیا کرے اس کی؟ قضا کرے گا۔ وَيُنَافِي الْإِخْتِيَارَ حَتَّىٰ بَطَلَتْ عِبَارَتُهُ فِي الطَّلَاقِ وَالْعَتَاقِ وَالْإِسْلَامِ وَالرِّدَّةِ اور یہ نیند جو ہے یہ اختیار کے منافی ہے، نیند کے اندر بندے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا، لہذا یہ اختیار کے منافی ہے حَتَّىٰ بَطَلَتْ عِبَارَتُهُ یہاں تک کہ اس سونے والے کی عبارت باطل ہوگی، اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا فِي الطَّلَاقِ کس کے اندر؟ نیند کے اندر بی بی کو کہہ دیتا ہے "تجھے طلاق ہے"، بھئی اس بیچارے کو پتہ ہی نہیں، تو لہذا اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ اسی طرح عتاق آزادی ہے بھئی، غلام کو کہہ دیتا ہے "تو آزاد ہے" نیند کے اندر، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ وَالْإِسْلَامِ اور اسی طرح اسلام، مسلمان ہونا نیند کے اندر اس کا بھی کوئی اعتبار نہیں، وَالرِّدَّةِ اور مرتد ہونا۔ اس پر لکیر لگی ہوئی ہے بھئی؟ جی، یہ متن نہیں ہے بھئی، یہ غلط لکیر لگی ہے بھئی، اور مرتد ہونا۔ فَلَوْ طَلَّقَ أَوْ أَعْتَقَ أَوْ أَسْلَمَ أَوِ ارْتَدَّ فِي النَّوْمِ لَا يَثْبُتُ حُكْمُ شَيْءٍ پس اگر اس نے طلاق دے دی یا آزاد کر دیا یا یہ مسلمان ہوا یا یہ مرتد ہوا نیند کے اندر لَا يَثْبُتُ حُكْمُ شَيْءٍ تو کسی چیز کا حکم ثابت نہیں ہوگا مِنْهُ اس سے۔ وَلَمْ يَتَعَلَّقْ بِقِرَاءَتِهِ وَكَلَامِهِ وَقَهْقَهَتِهِ فِي الصَّلَاةِ حُكْمٌ اور متعلق نہیں ہوگا اس کی قرات سے اور اس کے کلام سے اور اس کے قہقہے سے فِي الصَّلَاةِ نماز میں حُكْمٌ کوئی حکم۔ کوئی حکم متعلق نہیں ہوگا اس کی قرات سے، کلام سے اور قہقہے سے نماز کے اندر بھئی۔ بھئی نماز شروع کی، نماز شروع کی، کئی دن سے سویا ہی نہیں تھا، اسے پتہ ہی نہیں چلا، نماز میں کھڑے کھڑے سو گیا۔ اب اس حالت میں وہ قرات کر رہا ہے، یاد رکھیے اس قرات کا کوئی اعتبار نہیں۔ ابھی آپ کو بتلایا کہ سوئے ہوئے کی عبارت کا کوئی اعتبار نہیں، لہذا اس سے فرض ادا نہیں ہوگا۔ اسی طرح نماز کے اندر بھئی یہ کہتے ہیں کہ سویا ہوا ہے، نیند میں اس نے کوئی اور کلام کر دیا، اس کا بھی کوئی اعتبار نہیں ہے، اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی۔ اسی طرح نیند میں اس نے قہقہہ لگا دیا بھئی، تو یاد رکھیے اس قہقہے کا بھی کوئی اعتبار نہیں، یہ معنی ہے وَلَمْ يَتَعَلَّقْ بِقِرَاءَتِهِ وَكَلَامِهِ وَقَهْقَهَتِهِ فِي الصَّلَاةِ حُكْمٌ اور متعلق نہیں ہوگا کوئی حکم اس کی قرات سے، اس کے کلام سے اور اس کے قہقہے سے نماز میں۔ فَإِذَا قَرَأَ النَّائِمُ فِي صَلَاتِهِ پس جب قرات کی سونے والے نے اپنی نماز میں، لَمْ تَصِحَّ قِرَاءَتُهُ تو اس کی قرات صحیح نہیں ہے، وَلَا يُعْتَدُّ قِيَامُهُ وَرُكُوعُهُ اور کوئی اعتبار نہیں ہے اس کے قیام کا، وَرُكُوعُهُ اس کے رکوع کا، وَسُجُودُهُ اور اس کے سجدہ کرنے کا، لِصُدُورِهَا لَا عَنْ اخْتِيَارٍ بوجہ ان چیزوں کے صادر ہونے کے لَا عَنْ اخْتِيَارٍ بغیر کسی، یہ چیزیں تو اس نے بغیر کسی اختیار کے کی ہیں حالانکہ نماز میں رکوع، سجدہ اور قیام وغیرہ وہ اختیار کے ساتھ ضروری تھیں، اس نے بغیر اختیار کے کی ہیں لہذا ان کا کوئی اعتبار نہیں۔ وَكَذَا إِذَا تَكَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ لَمْ تَفْسُدْ صَلَاتُهُ اور اسی طرح جب اس نے کلام کیا نماز کے اندر نیند میں تو اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی، لِأَنَّهُ لَيْسَ بِكَلَامٍ حَقِيقَةً کیونکہ یہ حقیقتاً کلام ہے ہی نہیں۔ وَإِذَا قَهْقَهَ فِي الصَّلَاةِ اور جب اس نے قہقہہ لگایا نماز کے اندر، لَا يَكُونُ حَدَثًا نَاقِضًا لِلْوُضُوءِ تو یہ ایسا حدث نہیں ہے جو وضو کو توڑ دے، تو یہ حدث ناقض للوضوء نہیں ہے بھئی۔ لیکن دیگر علماء لکھتے ہیں کہ صحیح قول یہ ہے کہ نماز کے اندر اگر نیند کی حالت میں بھی کلام کیا تو نماز فاسد ہو جائے گی، نماز فاسد ہو جائے گی۔ اور اگر قہقہہ لگایا نماز میں نیند کی حالت میں تو بعض کہتے ہیں نماز نہیں فاسد ہوگی، ہاں وضو ٹوٹ جائے گا، جائے جا کر وضو کر کے آئے اور پھر اسی نماز پر بنا کر سکتا ہے، اور بعض کہتے ہیں نہیں پھر بھی نماز ٹوٹ جائے گی، تو کلام اور قہقہے کے اندر یہ ہے کہ نماز ٹوٹ جائے گی، دیگر کہتے ہیں بھئی دیگر فقہاء علماء۔ وَالْإِغْمَاءُ عَطْفٌ عَلَىٰ مَا قَبْلَهُ اور اغماء بھئی اس کا بھی ماقبل پر عطف ہے، یہ چھٹی سماوی اسباب میں سے جو عارض ہوتے ہیں اہلیت پر بھئی، یہ چھٹی چیز ہے۔ وَلَمَّا كَانَ مُشْتَبِهًا بِالْجُنُونِ عَرَّفَهُ لِلْإِمْتِيَازِ اور جب یہ اغماء، بے ہوشی جو ہے یہ مشابہ تھی کس کے ساتھ؟ جنون کے ساتھ مشابہ تھی تو عَرَّفَهُ لِلْإِمْتِيَازِ تو اس کی تعریف کی امتیاز اس کو جدا کرنے کے لیے، ممتاز کرنے کے لیے، فَقَالَ پس فرمایا: وَهُوَ ضَرْبُ مَرَضٍ وَفَوْتُ قُوَّةٍ يُضْعِفُ الْقُوَىٰ وَلَا يُزِيلُ الْحِجَى وہ ایک قسم کا مرض ہے، یہ اغماء کیا ہے بے ہوشی؟ ایک قسم کا مرض ہے وَفَوْتُ قُوَّةٍ اور فوت ہونا ہے ایسی فوت ہونا ہے قوت کا يُضْعِفُ الْقُوَىٰ ایسی قوت جو کیا کر دے؟ قوتوں کو کمزور کر دے، وَلَا يُزِيلُ الْحِجَى ہاں عقل کو دور نہ کرے، عقل کو ختم نہ کرے۔ بھئی جنون کے اندر تو سرے سے عقل ہی ختم ہو جاتی ہے، اس میں عقل تو ختم نہیں البتہ ساری قوتیں کیا ہو گئیں؟ کمزور ہو گئیں، جی۔ تو یہ معنی ہے یہ ایک نوع کا مرض ہے اور قوت کا فوت ہو جانا ہے جو قوتوں کو کمزور کر دیتا ہے وَلَا يُزِيلُ الْحِجَى أَيِ الْعَقْلَ اور عقل جو ہے اس کو زائل نہیں کرتا، بِخِلَافِ الْجُنُونِ فَإِنَّهُ يُزِيلُهُ بخلاف جنون کے کیونکہ وہ کیا کرتا ہے عقل کو زائل کر دیتا ہے، وَهُوَ كَالنَّوْمِ اور یہ بے ہوشی نیند کی طرح ہے، حَتَّىٰ بَطَلَتْ عِبَارَتُهُ یہاں تک کہ اس شخص کی عبارت کیا ہو جائے گی؟ جیسے نیند میں اس کے عبارت کا کوئی اعتبار نہیں تھا طلاق وغیرہ کا تو اس بے ہوشی میں بھی کوئی اعتبار نہیں ہے۔ بَلْ أَشَدُّ مِنْهُ بلکہ یہ بے ہوشی نیند سے بھی زیادہ سخت ہے، بڑھ کر ہے، سوئے ہوئے کو تو ہلائیں گے وہ جاگ جائے گا، بے ہوش کو تو ہلائیں وہ اسی طرح رہے گا تو یہ اس سے بڑھ کر ہے بھئی۔ أَيْ بَلِ الْإِغْمَاءُ أَشَدُّ مِنَ النَّوْمِ فِي فَوْتِ الْإِخْتِيَارِ بلکہ اغماء یہ تو نیند سے بھی بڑھ کر ہے، نیند سے بھی زیادہ ہے اختیار کے فوت کر دینے میں، فَكَانَ حَدَثًا بِكُلِّ حَالٍ تو یہ حدث ہے ہر حال میں، ایسا نیند میں تو آپ نے پڑھا تھا کہ نماز کی حالت میں نیند آ جائے تو یہ ناقض للوضوء نہیں، ہاں ٹیک لگا کر سوئے گا کہہ دیں قیدیں آپ نے بھئی، مستجیعاً وغیرہ تو وہ قیدوں کے ساتھ بھئی، مستجیعاً مستنداً الیٰ شئ لا ازیل لا سقط تو وہ قیدیں آپ نے پڑھیں، ان کا نیند میں تو اعتبار تھا، لیکن یہ نیند سے بھی بڑھ کر ہے، لہذا اس میں کسی قید کا اعتبار نہیں۔ بس، اغماء آتے ہی کیا ہو جائے گا؟ وضو ٹوٹ جائے گا۔ تو کیا، یہ معنی ہے فکان حدثاً بکل حال، تو یہ حدث ہے ہر حال میں، ای سواء کان مستجیعاً او متتقعاً او قائماً او قاعداً او راکعاً او ساجداً، چاہے وہ اس نے وہ پہلو پر ہو، او متتقعاً یا تکیہ لگائے ہوئے ہو، او قائماً یا کھڑا ہوا ہو، او قاعداً یا بیٹھا ہو، او راکعاً یا رکوع کیے ہوئے ہو، او ساجداً یا سجدہ کیے ہوئے ہو۔ بخلاف النوم بخلاف نیند کے، فانہ لا ینقض اس لیے کیونکہ وہ نہیں توڑتی، الا اذا کان مستجیعاً او متتقعاً، یہ مگر یہ کہ وہ پہلو پر لیٹا ہو، او متتقعاً یا تکیہ لگائے ہوئے ہو، او مستنداً، اور یا ٹیک لگائے ہوئے ہو۔ لا ما اذا کان قائماً او قاعداً او راکعاً او ساجداً، نہ کہ وہ جب کہ وہ کھڑا ہو یا بیٹھا ہو یا رکوع کیے ہوئے ہو یا سجدہ کیے ہوئے ہو۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ جی۔ وقد یحتمل الامتدادا، اور یہ بے ہوشی یہ احتمال رکھتی ہے امتداد کا بھی، وإن کان الاصل فیہ عدم الامتداد، اگرچہ اصل اس کے اندر عدم امتداد ہے، بے ہوشی عام طور پر تھوڑی دیر رہتی ہے، زیادہ نہیں رہتی، تو اصل اس میں عدم امتداد ہے، ہاں! احتمال ہے کہ طویل بڑی دیر تک رہے۔ فان لم یمتد الحق بالنام، اگر یہ بے ہوشی ممتد نہ ہو، تو اس کو کس کے ساتھ ملایا جائے گا؟ نوم کے ساتھ فی وجوب قضاء الصلوٰۃ نمازوں کی قضاء کے، جیسے نیند میں قضاء واجب ہوتی تھی، تو اس میں بھی قضاء واجب۔ وان امتد، اور اگر یہ طویل ہو جائے یہ بے ہوشی، فیلحق بالجنون، تو یہ کس کے ساتھ ملحق ہوگی؟ جنون کے ساتھ، فیسقط بہ الاداء، تو اس کی وجہ سے ادا ساقط ہو جائے گی، یعنی وجوبِ ادا نہیں آئے گا۔ کما فی الصلوٰۃ، جیسے کہ نماز میں ہے، اذا زاد علی یوم و لیلۃ، جب وہ بڑھ جائے ایک دن اور رات پر، بے اعتبار الصلاۃ عند محمد رحمہ اللہ، وببے اعتبار الساعات عندہما، جب وہ بڑھ جائے ایک اور دن ایک دن اور رات پر بے اعتبار نماز کے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، وببے اعتبار الساعات اور گھنٹوں کے اعتبار سے عندہما کن کے نزدیک؟ شیخین رحمہ اللہ کے نزدیک، آپ پہلے پڑھ چکے بھئی شروع میں کہ امام محمد رحمہ اللہ کس کا اعتبار کرتے ہیں؟ امتداد اور غیر امتداد کا کس کے اندر؟ وہ جو جنون میں ذکر ہوا تھا، امتداد اور عدم امتداد۔ جی؟ نماز میں کب ممتد ہے، قضاء نہیں کرنا پڑے گی، اور کب غیر ممتد ہے، قضاء کرنا پڑے گی؟ ان کے نزدیک چھ نمازیں ہیں، آ گئیں تو ممتد ہو جائے گا، ورنہ غیر ممتد۔ اور شیخین رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ وہ گھنٹوں کا اعتبار کرتے ہیں کہ پورے چوبیس گھنٹے گزر جائیں تو یہ ممتد ہو گیا اور اس سے کم ہو تو غیر ممتد ہے۔ تو یہاں پر بھی، یہ جو بے ہوشی ہے، اگر یہ ممتد ہو جائے، تو پھر یہ جنون والا حکم اس میں آ جائے گا، جیسے جنون میں جہاں قضاء تھی، وہاں قضاء ہو جیسے جنون کے اندر قضاء نہیں آتی، اس کے اندر بھی قضاء نہیں آئے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کما بیننا فی الجنون، جیسے کہ ہم نے بیان کیا جنون کے اندر، وعند الشافعی رحمہ اللہ اذا اغمی علیہ وقت صلاۃ کاملۃ، کہ جب اس پر بے ہوشی طاری ہو ایک پوری نماز کا وقت، لا یجب القضاء، تو اس پر قضاء واجب نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک پوری نماز کا وقت بھی بے ہوشی میں گزر گیا تو وہ نماز اس پر اس کی قضاء واجب نہیں۔ ولاکن نستحسن بالفرق بین الامتداد وعدمہ، لیکن ہم نے استحسان کیا فرق کرتے ہوئے بین الامتداد وعدمہ، امتداد اور عدم امتداد میں فرق کرتے ہوئے، لان عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ اغمی علیہ یوماً ولیلۃ فقضى الصلاۃ، اس لیے کیونکہ حضرت عمار ابن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ ان پر بے ہوشی طاری ہوئی ایک دن اور رات، تو انہوں نے نمازوں کی قضاء کی۔ وابن عمر و ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما اغمی علیہ اکثر من یوم ولیلۃ فلم یغض الصلاۃ، اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما جو ہیں، ان پر بے ہوشی طاری ہوئی ایک دن رات سے زیادہ، فلم یغض الصلاۃ، تو انہوں نے نماز کی قضاء نہیں کی۔ وامتدادہ فی الصوم نادر، اور اس بے ہوشی کا ممتد ہونا روزے میں نادر ہے۔ روزے کے لیے تو امتداد کیا تھا؟ پورا مہینہ جنون رہے، جنون کے اندر یہ تھا۔ اب بے ہوشی کے اندر کہتے ہیں یہ امتداد نادر ہے، کہ اتنا بے ہوش رہے ایک مہینے تک کوئی آدمی بے ہوش رہے، بھئی یہ بڑا نادر ہے۔ لہذا فلا یعتبر، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ روزے میں پورا مہینہ بھی بے ہوش رہا، تو بھی قضاء کرنا پڑے گی، کیونکہ پورا مہینہ بے ہوش رہنا بڑا نادر ہے، بہت نادر ہے۔ اور احوال جو ہیں، احکام جو ہیں، وہ اکثر پر احوال پر مبنی ہوتے ہیں، نادر چیزوں پر احکام کی بنیاد نہیں ہوتی بھئی۔ تو کہتے ہیں وامتدادہ فی الصوم نادر فلا یعتبر، اور اس بے ہوشی کا ممتد ہونا روزے کے اندر نادر ہے، پس اس کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا، حتی لو اغمی علیہ فی جمیع الشہر، یہاں تک کہ اگر اس پر بے ہوشی طاری ہوئی تمام مہینہ، ثم افاق بعد مضيه، پھر اس کو افاقہ ہوا مہینے کے گزر جانے کے بعد، یلزمہ القضاء، تو اس پر قضاء لازم ہے۔ وإذا کان امتدادہ فی الصوم نادر، اور جب اس کا ممتد ہونا روزے کے اندر نادر ہے، ففی الزکاۃ اولی ان یندر استغراقہ الحول، تو زکوٰۃ کے اندر بدتریں اولیٰ ہے کہ نادر ہوگا اس کا گھیر لینا پورے سال کو۔ جب ایک ماہ کا، پورے مہینے کی بے ہوشی نادر ہے، تو زکوٰۃ میں تو امتداد کس سے آتا تھا؟ پورے سال کا احاطہ کرنے سے، تو پورے سال کا احاطہ کر لے بے ہوشی، یہ تو اس سے بھی بڑھ کر نادر ہوگا، اور اس جیسے، جب روزے میں ساقط ہوتے تھے، تو زکوٰۃ تو بدتریں اولٰ ساقط نہیں ہوگی، کیونکہ ایک مہینے کی بے ہوشی جب نادر ہے، تو سال بھر کی بے ہوشی تو اس سے بھی بڑھ کر نادر ہے، بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی۔ ھذا هو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
113 approved lectures · 106 of 113