درس نمبر۔83
ولما فرغ عن بيان أقسام الكتاب شرع في بيان أقسام السنة، فقال: باب أقسام السنة. السنة تطلق على قول الرسول عليه الصلاة والسلام وفعله وسكوته وعلى أقوال الصحابة وأفعالهم. والحديث يطلق على قول الرسول عليه الصلاة والسلام خاصة.
پچھلے گزشتہ سبق میں، میں نے آپ کو یہ بحث لکھوا دی تھی، آسان اور مختصر الفاظ میں۔ اور بتلایا تھا کہ حضور صلى الله عليه وسلم کی حدیث مبارکہ جو ہے، احادیث مبارکہ، ان کے چار نام مشہور ہیں بھئی: خبر، اثر، سنت اور حدیث۔ جمہور کے نزدیک یہ نام مترادف ہیں تقریباً، لیکن بعض علماء ان میں کچھ فرق کرتے ہیں۔ اور علماء اصولِ فقه جو ہیں، وہ بھی ان میں کچھ فرق کرتے ہیں۔
اور پھر اس میں تقسیم بتلائی تھی آپ کو کہ علماء اصولِ فقه جو ہیں وہ حدیث کی تقسیم ثلاثی کرتے ہیں یعنی تین قسمیں بناتے ہیں: خبرِ متواتر، خبرِ مشہور اور خبرِ آحاد (یا خبرِ واحد کہہ لیں)۔ اور خبرِ متواتر کسے کہتے تھے؟ جس کے روایت کرنے والے ہر زمانے میں اتنے زیادہ ہوں کہ عقل ان کے اجتماع على الكذب کو محال سمجھے، یعنی عقل یہ خود فیصلہ کرے کہ اتنے لوگ جھوٹ پر جمع نہیں ہو سکتے، یقیناً یقیناً یہ بات سچی ہے۔
اور اس سے نچلا درجہ تھا خبرِ مشہور کا کہ اگر روایت کرنے والے ہر زمانے میں اتنے زیادہ تو نہ ہوں لیکن کسی زمانے میں اور کسی طبقے میں روایت کرنے والے تین سے کم نہ ہوں تو وہ خبرِ مشہور ہے۔ اور اگر کسی طبقے میں روایت کرنے والے دو یا ایک ہیں تو پھر وہ خبرِ آحاد یا خبرِ واحد ہے بھئی۔
اور ان کا حکم بھی بتلایا تھا کہ خبرِ متواتر جو ہے اس پر اعتقاد بھی واجب ہے اور عمل بھی واجب ہے۔ وہ علمِ یقینی کا فائدہ دیتی ہے، تو عمل بھی واجب اور اعتقاد بھی واجب۔ اور اس کے ذریعے کتاب الله پر زیادی بھی جائز اور کتاب الله کو منسوخ کرنا بھی جائز اس کے ذریعے بھئی۔
جبکہ خبرِ مشہور جو ہے اس کے ذریعے کتاب الله کا نسخ تو جائز نہیں، البتہ کتاب الله پر زیادی اس کے ذریعے جائز ہے۔ جبکہ خبرِ آحاد جس کا درجہ سب سے کم ہے اور اس کے ذریعے کتاب الله پر زیادی جائز نہیں۔ یعنی میں نے بتلایا تھا آپ کو بھئی خبرِ واحد کے ذریعے زیادی جائز نہیں، یعنی شرط اور واجب کے درجے میں زیادی جائز نہیں بھئی۔
شرط اور واجب کے درجے میں۔ ویسے سنت وغیرہ کے درجے میں، مستحب کے درجے میں زیادی جائز ہے لیکن واجب اور شرط کے درجے میں زیادی نہیں ہو سکتی۔ اور نیز خبرِ واحد کے پر عمل، پر اعتقاد تو واجب نہیں۔ عمل واجب ہے یا واجب نہیں، اس میں بھی علماء کا اختلاف ہے بھئی۔ اب وہی ساری تفصیل یہ صاحبِ منار بھی بیان کریں گے اور اس کی تشریح صاحبِ نور الانوار بھی کریں گے بھئی۔ دیکھیے اب کتاب پر۔
ولما فرغ عن بيان أقسام الكتاب، اور جب مصنف رحمہ الله کتاب الله کی اقسام کے بیان سے فارغ ہوئے، شرع في بيان أقسام السنة، تو وہ شروع ہوئے سنت کی اقسام کے بیان میں، فقال، پس فرمایا: باب أقسام السنة، یہ باب ہے سنت کی قسموں کے بیان میں۔ السنة تطلق على قول الرسول عليه الصلاة والسلام وفعله وسكوته، سنت جو ہے اس کا اطلاق ہوتا ہے حضور صلى الله عليه وسلم کے قول پر اور ان کے فعل پر اور ان کے سکوت پر۔ سکوت سے کیا مراد ہے؟ وہی تقریرِ نبی مراد ہے بھئی کہ پیغمبر کے سامنے کوئی کام کیا جائے اور پیغمبر اس کو دیکھ کر خاموش رہیں، یہ اس کام کے جائز ہونے کی دلیل ہوتی ہے اور اسے تقریرِ نبی کہتے ہیں بھئی۔
کیونکہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ پیغمبر کے سامنے کوئی ناجائز کام کیا جائے تو پیغمبر کبھی خاموش رہ ہی نہیں سکتا بھئی۔ پیغمبروں کی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ ناجائز کو دیکھ کر فوراً بولیں گے، اسے منع کریں گے، ٹوکیں گے۔ لیکن اگر کسی بات کو دیکھ کر پیغمبر خاموش ہے، یہ اس کام کے جائز ہونے کی دلیل ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں سنت کا اطلاق حضور علیہ السلام کے قول، فعل اور سکوت (یعنی تقریر) پر ہوتا ہے، وعلى أقوال الصحابة وأفعالهم، اور صحابہ کے اقوال اور افعال پر۔ صحابہ کے اقوال اور افعال کو بھی سنت کہتے ہیں بھئی۔
تو سنت دیکھو عام ہے، حضور علیہ السلام کے قول، فعل اور تقریر کو بھی شامل اور صحابہ کے اقوال اور افعال کو بھی شامل۔ والحديث يطلق على قول الرسول عليه الصلاة والسلام خاصة، اور حدیث جو ہے اس کا اطلاق ہوتا ہے حضور علیہ السلام کے قول پر خاص طور پر۔ حدیث کا اطلاق کس پر ہوتا ہے؟ یعنی حضور صلى الله عليه وسلم کا فعل بھی اس میں نہیں داخل، صحابہ کے اقوال اور افعال بھی نہیں داخل، صرف حضور صلى الله عليه وسلم کا قول بھئی۔
ولكن ينبغي أن يكون المراد بالسنة هاهنا هو هذا فقط، لیکن مناسب یہ ہے کہ سنت سے مراد یہاں پر یہی ہو صرف بھئی۔ یعنی سنت تو حضور صلى الله عليه وسلم کے قول، فعل، تقریر، صحابہ کے اقوال اور افعال سب پر اطلاق ہوتا ہے لیکن یہاں سنت سے کیا مراد ہے جو مصنف ذکر کر رہے ہیں؟ یہی جو حدیث کا معنیٰ کیا، حدیث کا اطلاق صرف کس پر ہوتا ہے؟ حضور صلى الله عليه وسلم کے قول پر، تو یہاں سنت سے بھی مراد صرف حضور صلى الله عليه وسلم کا قول ہی ہے۔
بھئی کیوں؟ کیا وجہ ہے؟ آپ نے کیوں یہ فرمایا کہ مناسب یہ ہے کہ سنت سے بھی یہی مراد ہو؟ کہتے ہیں: لأن المصنف رحمه الله ذكر أفعال النبي وأفعال الصحابة وأقوالهم بعد هذا الباب في فصل آخر، اسی لیے کیونکہ مصنف نے ذکر کیا ہے حضور علیہ السلام کے افعال کو اور صحابہ کے اقوال اور افعال کو اس باب کے بعد دوسری فصل میں الگ ذکر کیا ہے۔ معلوم ہوا یہاں سنت سے صرف کیا مراد ہے؟ حضور صلى الله عليه وسلم کے اقوال۔
الأقسام التي سبق ذكرها في بحث الكتاب من الخاص والعام والأمر والنهي وغير ذلك، وہ اقسام جن کا مقدم ہو چکا ذکر کتاب الله کی بحث میں، من بیان ہے بھئی وہ اقسام کا، یعنی کہ خاص اور عام اور امر اور نہی اور اس کے علاوہ جو ہیں، كلها ثابتة في السنة، یہ سب کے سب سنت میں بھی ثابت ہیں۔
بھئی کتاب الله کے اندر جتنی اقسام گزریں، وہ سب سنت کے اندر بھی ثابت ہیں، یعنی کون سی سنت؟ کون سی سنت؟ سنتِ قولیہ، یعنی حضور صلى الله عليه وسلم کے جو اقوال ہیں، ان میں بھی یہ ساری قسمیں جاری ہوتی ہیں بھئی۔ اب تک تقریباً کتاب الله کے اندر ہم نے 80 اقسام پڑھیں بھئی۔ اقسام اور آگے ان کی اقسام کی اقسام جو ہیں کتنی بنتی ہیں؟ 80 اقسام آپ پڑھ چکے ہیں۔ کہتے ہیں وہ ساری سنتِ قولی کے اندر بھی جاری ہوں گی۔
کیا کیا قسمیں پڑھی تھیں؟ مثلاً خاص، عام، مشترک، مؤول، امر، نہی وغیرہ جتنی قسمیں پیچھے پڑھیں وہ ساری سنتِ قولی میں بھی جاری ہوں گی بھئی۔ فيعلم حالها بالمقايسة عليه، پس جانا جائے گا ان کے حال کو اسی پر قیاس کرتے ہوئے۔ جو ماقبل میں کتاب الله کے اندر جس طرح گزر چکا ہے اسی طرح اسی پر قیاس کرتے ہوئے آپ قسمیں جان لیں گے، سنت میں بھی ان کو اسی طرح جانا جائے گا بھئی۔
وهذا الباب لبيان ما تختص به السنن، اور یہ باب ان چیزوں کے بیان میں ہے جو خاص ہیں سنت کے ساتھ۔ جن کے ساتھ سنت خاص ہے صرف اس میں وہ چیزیں بیان ہوں گی۔ ولم يوجد في الكتاب قط، اور وہ پائی نہیں جاتیں کتاب الله میں کبھی بھی۔
تو یہاں اب وہ چیزیں بیان نہیں ہوں گی بھئی، ان کو اسی پر قیاس کرتے ہوئے وہ 80 قسمیں آپ ان میں جان لیں گے، جبکہ یہاں صرف وہ بحثیں اور وہ باتیں کریں گے جو سنت کے ساتھ خاص ہیں، کتاب الله میں وہ نہیں ہیں بھئی۔
وذلك أربعة أقسام، اور وہ چار قسمیں ہیں، أي أربع تقسيمات، بھئی بتلایا اقسام کس معنیٰ میں ہے؟ تقسیمات کے معنیٰ میں ہے، یعنی چار تقسیمات ہیں۔ وتحت كل تقسيم أقسام متعددة، اور ہر تقسیم کے تحت متعدد اقسام ہیں۔
وهذا على طبق أصول الفقه، طبق اور طبق بھئی، طاء پر فتحہ بھی پڑھ سکتے ہیں اور کسرہ بھی، اور باء ساکن ہے، بمعنیٰ مطابق کے بھئی، مطابق۔ وهذا على طبق أصول الفقه لا أصول الحديث، اور یہ اصولِ فقہ کے مطابق ہے نہ کہ اصولِ حدیث کے۔ میں نے بتلایا تھا بھئی، ایک تقسیم ہے محدثین کی، ایک تقسیم ہے علماء اصولِ فقہ کی۔ تو یہاں پر جو بیان کریں گے کس کے مطابق بیان کریں گے؟ علماء اصولِ فقہ کے مطابق، نہ کہ علماء علمِ حدیث کے۔
تو کہتے ہیں: وهذا على طبق أصول الفقه لا أصول الحديث وإن اشتركا في بعض الأسامي والقواعد، اگرچہ یہ دونوں مشترک ہیں بعض ناموں کے اندر اور بعض قواعد میں۔ ناموں اور قواعد میں اگرچہ اشتراک ہے لیکن الگ الگ تقسیم ہے بھئی۔ وہ محدثین بھی بناتے تھے خبرِ متواتر اور خبرِ آحاد، اور پھر خبرِ آحاد کی تقسیم کرتے تھے خبرِ مشہور، خبرِ عزیز اور خبرِ غریب۔ جبکہ محدثین بھی، علماء اصولِ فقہ بھی تقسیم کرتے ہیں، خبرِ متواتر ہو گی یا خبرِ مشہور ہو گی یا خبرِ آحاد۔ لیکن فرق تھا، نام تو ایک جیسے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ علماء اصولِ فقہ کے نزدیک مشہور اور خبرِ واحد ایک دوسرے کے مقابل ہیں، جبکہ محدثین کے نزدیک خبرِ مشہور خبرِ واحد کی قسم ہے بھئی۔
یہ معنیٰ ہے: وإن اشتركا في بعض الأسامي والقواعد، اگرچہ دونوں مشترک ہیں بعض ناموں اور قواعد کے اندر۔
التقسيم الأول في كيفية الاتصال بنا من رسول الله صلى الله عليه وسلم، پہلی تقسیم ہے اتصال کی کیفیت میں، ملنے کی کیفیت میں، بنا، ہم سے، ہماری، 'نا' یہ ضمیر ہے بھئی۔ من رسول، حضور علیہ السلام سے ہم تک جو اتصال کی کیفیت ہے یعنی حضور علیہ السلام سے حدیث ہم تک کس طریقے سے پہنچی ہے۔ اس کیفیت میں۔
میں نے بتلایا تھا بھئی، ہم نے پہلی تقسیم کس اعتبار سے پڑھی تھی؟ عددِ رجال کے اعتبار سے کہ کتنے روایت کرنے والے ہیں اس حدیث کو؟ یعنی اس میں یہ بیان، یہ دیکھو کیفیتِ اتصال ہے، کس طریقے سے، کس کیفیت سے حدیث ہم تک پہنچی ہے؟ یا تو اس کے روایت کرنے والے اتنے زیادہ ہوں گے کہ ان کا جھوٹ پر جمع ہونے کو عقل محال سمجھے، یا اس سے کم ہوں گے، یا پھر کسی طبقے میں دو یا دو سے بھی کم ہوں گے، وہ تین قسمیں بھئی۔ یہ ہے کیفیتِ اتصال۔
تو کہتے ہیں: التقسيم الأول في كيفية الاتصال بنا من رسول الله صلى الله عليه وسلم، پہلی تقسیم جو ہے ہم، ہمارے ساتھ حضور صلى الله عليه وسلم کی اتصال کی کیفیت میں ہے۔ أي كيف يتصل بنا هذا الحديث منه بطريق التواتر أو غيره، کہ کیسے ملی ہمیں یہ حدیث حضور علیہ السلام سے، تواتر کے طریقے پر یا اس کے علاوہ پر؟ وهو إما أن يكون كاملاً كالمتواتر، اور پھر یہ جو اتصال ہے یا تو کامل ہو گا جیسے کہ متواتر ہے۔ وهو الخبر الذي رواه قوم، اور وہ خبر ہے یعنی وہ حدیث ہے جسے روایت کرے قوم، قوم نکرہ ہے آگے فعل آ رہا ہے تو یہ صفت بنے گا اس کی۔ ایسی حدیث، ایسی خبر: رواه قوم لا يحصى عددهم، کہ شمار نہیں کیا جا سکتا ان کے عدد کو، ولا يتوهم تواطؤهم على الكذب، اور وہم نہیں کیا جا سکتا تواطؤ، تواطؤ کا معنیٰ موافقت بھئی، ولا يتوهم تواطؤهم على الكذب، اور وہم نہیں کیا جاتا ان کے اجتماع على الكذب پر یعنی موافقت پر۔
یعنی اس میں یہ وہم نہیں ہوتا کہ ان لوگوں نے جھوٹ پر کیا کر لیا ہو گا؟ اتفاق۔ اتنے زیادہ روایت کرنے والے ہیں کہ عقل خود فیصلہ کر دیتی ہے اور بتلا دیتی ہے کہ اتنے لوگ جھوٹ پر جمع نہیں ہو سکتے۔ جب یہ سب روایت کر رہے ہیں معلوم ہوا یہ بات قطعی طور پر اسی طرح ہے جس طرح یہ روایت کر رہے ہیں۔
یہ معنیٰ ہے بھئی کہ ولا يتوهم تواطؤهم على الكذب، کہ وہم نہیں کیا جاتا ان کی موافقت کا کذب پر، لكثرتهم، بوجہ ان کی کثرت کے، م وتباين أماكنهم، اور ان کی جگہوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے۔ کوئی کہاں کا رہنے والا ہے، کوئی کہاں کا رہنے والا ہے، اور وہ سب اسی حدیث کو روایت کر رہے ہیں، معلوم ہوا یہ اسی طرح ہے بھئی۔
وعدالتهم، اور ان کے عادل ہونے کی وجہ سے۔
ولم يشترط فيه تعين عدد، اور اس میں عدد کے تعین کی کوئی شرط نہیں لگائی گئی، كما قيل إنها سبعة، جیسے کہ کہا گیا ہے کہ کتنے عدد، کتنا ہونا چاہیے؟ سات کا عدد ہونا چاہیے۔ وقيل أربعون، اور کہا گیا ہے چالیس بھئی۔ وقيل سبعون، اور کہا گیا ہے ستر بھئی۔ بعض، میں نے بتلایا تھا، بعض علماء کیا کہتے ہیں خبرِ متواتر میں کم از کم کتنی تعداد ہو؟ بعضوں نے چار کہا تھا، بعضوں نے سات، بعضوں نے دس، بعضوں نے بارہ، بعضوں نے چالیس اور بعضوں نے ستر کا قول کیا ہے۔ لیکن بتلایا تھا کہ جمہور کے نزدیک کوئی عدد متعین نہیں ہے، بس جس سے علمِ یقینی حاصل ہو جائے، جس سے بھی بھئی۔
بل كل ما يحصل به العلم الضروري فهو من أمارة التواتر، بلکہ ہر وہ جس سے حاصل ہو جائے علمِ ضروری یعنی یقینی علم، فهو من أمارة التواتر، تو یہ تواتر کی علامتوں میں سے ہے، امارت: علامت بھئی۔ تو یہ تواتر کی علامتوں میں سے ہے۔
ويدوم هذا الحد، اور دائمی رہے یہی حد۔
یہ حد کیا ہے؟ یعنی روایت کرنے والے اتنے زیادہ ہیں کہ عقل ان کے اجتماع على الكذب کو محال سمجھتی ہے، یہ حد دائمی رہنی چاہیے ہر طبقے میں، پہلے میں بھی، دوسرے میں بھی اور تیسرے میں، سب طبقات کے اندر بھئی۔
تو دیکھیے مختلف طبقات ہو گئے، مثلاً ایک پہلا طبقہ ہوا، ایک دوسرا ہوا، ایک تیسرا طبقہ ہوا بھئی، تیسرا طبقہ۔ تو پہلے طبقے میں بھی اتنے ہی روایت کرنے والے ہوں، دوسرے طبقے میں بھی اتنے ہی روایت کرنے والے ہوں، تیسرے طبقے میں بھی اتنے ہی روایت کرنے والے ہوں، یہاں تک کہ آخری نقل کرنے والے تک حدیث پہنچے۔
تو پہلے طبقے میں بھی یہی حد، آخری طبقے میں بھی یہی حد، درمیان والے میں بھی یہی حد، تو پہلا طبقہ آخری طبقے کی طرح ہوا، آخری طبقہ پہلے طبقے کی طرح ہوا، اور درمیان والا بھی ان دونوں کی طرح ہوا، کیونکہ سب میں کون سی حد ہے؟ اتنے کثیر لوگ ہیں کہ عقل ان کے اجتماع على الكذب کو محال سمجھتی ہے، تو یہ اس میں تمام طبقات برابر ہوتے ہیں بھئی۔
یہ معنیٰ ہے: فيكون آخره كأوله، تو اس کا آخر کس کی طرح ہو گا؟ اس کے اول کی طرح، وأوله كآخره، اور اس کا اول اس کے آخر کی طرح ہو گا، وأوسطه كطرفيه، اور اس کا وسط جو ہے، درمیان جو ہے وہ اس کی دونوں طرفین یعنی اول اور آخر کی طرح ہو گا، یعنی سب میں ایک ہی طرح کی کثرت ہے بھئی۔ يعني يستوي فيه جميع الأزمنة، یعنی اس میں تمام زمانے برابر ہوں گے، من أول ما نشأ ذلك الخبر، پہلے زمانے سے جس میں یہ خبر پیدا ہوئی یعنی جس وقت حضور صلى الله عليه وسلم نے فرمایا، وہ پہلے زمانے میں، إلى آخر ما بلغ إلی هذا، آخری زمانے تک۔
اول زمانے سے لے کر اخر تک اسی طرح پہنچی۔ فالاول ہو زمان ظہور الخبر، تو پہلا زمانہ کون سا ہے؟ اس خبر کے ظاہر ہونے کا زمانہ، یعنی حضور صلى الله عليه وسلم کا زمانہ، جب آپ نے یہ فرمایا۔ والآخر ہو زمان کل ناقل، زمان کل ناقل يتصور، يتصوره آخرا، اور اخر جو ہے، وہ زمانہ ہے ہر اس نقل کرنے والے کا، ہر روایت کرنے والے کا، يتصوره، جو اس حدیث کا تصور کرتا ہے، اس خبر کا، اس خبر کا تصور کرتا ہے، آخرا، اس حال میں کہ وہ اخر ہو۔
جو بھی ہو بھئی، اخر والا تو کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ تیسرے طبقے والا ہوا، چوتھے والا ہوا، پانچویں والا ہوا، یہاں تک کہ اب ہمارا زمانہ اگیا بھئی۔ ہر ہر زمانے میں تو اخری ناقل تو کوئی بھی ہو سکتا تھا۔ تیسرے زمانے والا تھا، تو وہ اخری تھا۔ چوتھے والا آیا، تو وہ اب اخری بن گیا۔ پھر پانچویں والا آیا، تو وہ اخری، یہاں تک کہ ہمارا زمانہ اگیا بھئی۔ تو جو بھی نقل کرنے والا ہے اخری حدیث کو، اخری شخص جو روایت کرنے والا ہے، اس اخری روایت کرنے والے تک حضور صلى الله عليه وسلم سے لے کر اسی طرح حدیث کثرت کے ساتھ روایت کرنے والے ہوں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو یہ بعد میں تو پھر احادیث مدون ہوگئیں بھئی۔ کیا ہوئیں؟ مدون ہوگئیں، باقاعدہ کتابوں میں یہ بخاری، ترمذی، مسلم، ابو داؤد وغیرہ ان میں درج کر دی گئیں بھئی۔ فلؤ لم یکن فی الاول کذلک كان احاد الاصل، اگر اول میں اس طرح نہ ہو ابتداء میں، تو كان احاد الاصل، تو یہ حدیث کس قسم کی ہوگی؟ خبر کس قسم کی ہوگی؟ احاد الاصل ہوگی بھئی، احاد الاصل۔ فسمی مشہورا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ پھر اس کو خبر مشہور کہیں گے، کیونکہ اول زمانے کے اندر روایت کرنے والے اتنے زیادہ نہیں۔
تو فسمی مشہورا، اس کو مشہور کہیں گے کب؟ ان انتشر فی الاوسط والآخر، اگر یہ منتشر ہو جائے بھئی، پھیل جائے، درمیان والے اور اخر والے زمانے میں۔ اول زمانے میں تو یعنی صحابہ کے زمانے میں تو یہ خبر احاد تھی۔ بعد والے زمانوں میں، تابعین اور تبع تابعین کے زمانے میں یہ پھیل گئی اور بہت زیادہ لوگ روایت کرنے والے ہوگئے۔ تابعین بھی بہت زیادہ ہیں، تبع تابعین بھی بہت زیادہ ہیں، البتہ صحابہ میں سے ایک دو اس کو روایت کرنے والے ہیں۔
تو پھر اس کو متواتر نہیں کہیں گے، کیونکہ تواتر میں تو ہم نے کیا کہا تھا؟ ہر طبقے میں روایت کرنے والے بہت زیادہ ہوں، تو پھر اس صورت میں اس کو خبر مشہور کہیں گے بھئی، کیونکہ پہلے اول زمانہ یعنی صحابہ کے زمانے میں اس کو روایت کرنے والے اتنے زیادہ نہیں ہیں بھئی۔ ولو لم یکن فی الاوسط والآخر کذلک كان منقطعا، اور اگر وہ نہ ہو درمیان والے اور اخر والے زمانے میں اس طرح، یعنی اتنے زیادہ روایت کرنے والے نہ ہوں، كان منقطعا، تو یہ حدیث کیا ہوئی؟ منقطع ہوگی بھئی، یہ حدیث کی قسم بھئی۔
کنقل القرآن والصلواۃ الخمس، جیسے کہ قرآن کی نقل، کا نقل ہے اور پانچ نمازیں۔ بھئی، قرآن دیکھیے، حضور صلى الله عليه وسلم کے زمانے سے لے کر اج تک نقل ہوتا چلا آیا ہے بھئی۔ یہ آپ تک کیسے پہنچا قرآن؟ نقل در نقل ہوتا ہوا حضور صلى الله عليه وسلم کے زمانے سے پہنچا اور اتنے زیادہ لوگ اس کو روایت کرنے والے ہیں ہر ہر زمانے میں، سینکڑوں، ہزاروں، لاکھوں حفاظ کے سینوں میں یہ قرآن محفوظ ہوتا تھا بھئی، ہر ہر زمانے کے اندر۔ کہ آپ اج 1400 سال سے زیادہ گزر چکے، لیکن قرآن بعینہٖ اسی طرح ایک ایک حرف اس کا اسی طرح ہے جس طرح حضور صلى الله عليه وسلم پر یہ نازل ہوا تھا بھئی۔ تو اس میں کسی قسم کے شک و شبہے کی گنجائش نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ بعینہٖ اسی طرح ہے، تو یہ متواتر کی مثال ہے قرآن بھئی۔
اور اسی طرح پانچ نمازیں بھئی۔ ہر ہر زمانے میں یہ بات نقل کرنے والے اور اس پر عمل کرنے والے بھئی، ہر ہر زمانے میں مسلمان کتنی نمازیں پڑھتے رہے؟ پانچ۔ اور یہ تواتر کے ساتھ یہ سلسلہ لاکھوں، کروڑوں لوگوں کے ذریعے ہر ہر طبقے سے ہوتا ہوا اج تک پہنچا۔ اب اس میں ارزرہ برابر بھی کسی قسم کے شک و شبہے کی گنجائش نہیں کہ شاید نمازیں چھ تھیں یا سات تھیں، یا ہو سکتا ہے تین تھیں۔ نہیں بھئی، اتنے لوگ نقل کر رہے ہیں، معلوم ہوا اس میں کسی قسم کے شک نہیں ہے، یہ یقینی بات ہے نمازیں اتنی ہی تھیں اور اسی طرح ہم تک ان کی روایتیں پہنچی ہیں بھئی۔
بات سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ تو کہتے ہیں: کنقل القرآن والصلواۃ الخمس، جیسے کہ قرآن کا نقل ہے اور پانچ نمازوں کا۔ مثال لمطلق المتواتر، یہ مثال ہے مطلق متواتر کی، دون متواتر السنۃ، نہ کہ متواتر السنت کی۔ بھئی، بحث تو ہماری چل رہی ہے سنت کی، سنت کی۔ اور مثال کیا ذکر کی؟ نقل قرآن۔ قرآن تو سنت میں سے نہیں۔ صلاۃ پانچ نمازیں، بھئی، یہ تو سنت میں سے نہیں۔ یہ نہیں کہا پانچ نمازوں کی حدیث، پانچ نمازوں کی حدیث ہوتی، وہ تو سنت میں سے۔ یہ صرف کیا کہہ رہے ہیں؟ پانچ نمازیں۔ تو نقل قرآن بھی سنت میں سے نہیں اور پانچ نمازیں بھی سنت میں سے نہیں، تو یہ مثال متواتر السنت کی مثال نہیں ہے، مطلق متواتر کی، کہ یہ بھی کیا ہیں؟ متواتر ہیں، تو متواتر کی مثال، مطلق متواتر کی مثال ذکر کر دی بھئی۔
متواتر السنت کی مثال کیوں نہیں ذکر کی بھئی؟ وہ آگے ذکر کر رہے ہیں بھئی، کہتے ہیں: لان فی وجود السنۃ المتواترۃ اختلافا، اس لیے کیونکہ سنت متواترہ کے وجود میں اختلاف ہے بھئی۔ قیل لم يوجد منها شيء، کہا گیا: اس میں سے کوئی بھی کوئی چیز نہیں پائی جاتی بھئی۔ بھئی، یاد رکھیے بھئی، احادیث متواترہ ہیں یا نہیں ہیں؟ علماء کا اختلاف ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں: احادیث میں سے کوئی حدیث متواتر نہیں ہے۔ یا تو خبر مشہور ہیں یا خبر احاد ہیں۔ قرآن تو ٹھیک ہے متواتر ہے، پانچ نمازیں بھی متواتر، لیکن بات چل رہی ہے اس وقت حدیث کی، احادیث میں سے کوئی حدیث متواتر نہیں ہے۔
لیکن اور جبکہ باقی علماء فرماتے ہیں بھئی کہ احادیث میں بھی متواتر احادیث موجود ہیں، اگرچہ ان کی تعداد بہت تھوڑی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تعداد ان کی تھوڑی ہے، لیکن بہرحال متواتر احادیث موجود ہیں اور باقاعدہ علماء نے اس پر کتابیں لکھی ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: لان فی وجود السنۃ المتواترۃ اختلافا، اس لیے کیونکہ سنت متواترہ کے پائے جانے میں اختلاف ہے۔ قیل لم يوجد منها شيء، کہا گیا: ان میں سے کوئی چیز نہیں پائی جاتی، یعنی کوئی حدیث متواتر نہیں ہے۔ وقیل انما الاعمال بالنيات، اور کہا گیا ہے: انما الاعمال بالنيات، یہ حدیث متواتر ہے بھئی۔ وقیل، اور کہا گیا ہے: البينۃ على المدعی واليمين على من انكر، یہ حدیث کیا ہے؟ متواتر ہے بھئی۔
تو میں نے بتلایا، علماء نے باقاعدہ کتابیں لکھی ہیں اس پر، بعض کے نزدیک تعداد کچھ ہے، بعض کے نزدیک بعضوں نے دیکھو، بعضوں نے کہا: صرف ایک حدیث ہے "انما الاعمال بالنيات"، یہ متواتر ہے۔ بعضوں نے کہا: "البينۃ على المدعی واليمين على من انكر"، صرف یہ ایک حدیث جو ہے، یہ متواتر ہے۔ اور اسی طرح ایک اور حدیث ہے بھئی، "من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار"، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا، تو اسے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لینا چاہیے۔ یعنی میری طرف نسبت کر کے جس نے جھوٹی حدیث بیان کی اپنی طرف سے، میں نے ایک بات نہیں کہی اور وہ شخص روایت کرنے والا کیا کہتا ہے؟ کہ حضور علیہ السلام نے اس طرح فرمایا تھا، تو اس قسم کے آدمی کو کیا کرنا چاہیے؟ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لینا چاہیے بھئی۔ تو بہرحال بھئی، متواتر احادیث موجود ہیں، اگرچہ ان کی تعداد بہت تھوڑی ہے بھئی۔
یہ تو تھا بھئی، تواتر لفظی کی بات چل رہی ہے۔ بعینہٖ وہی حدیث، اس حدیث کے لفظ، اس کو روایت کرنے والے اتنے زیادہ ہوں کہ عقل ان کے اجتماع علی الکذب کو محال سمجھے، وہ حدیث کے لفظ، یہ ہے تواتر لفظی۔ اور ایک ہے تواتر معنوی بھئی، اس کی بہت سی مثالیں ہیں، بہت سی احادیث ہیں۔ مثلاً مسح علی الخفین کی حدیث ہے۔ اب مسح علی الخفین کے بارے میں ایک ہی حدیث تو روایت نہیں کی گئی کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: مقیم جو ہے ایک دن رات مسح کر لے یا اور مسافر کیا کرے؟ تین دن اور، یہ حضور صلى الله عليه وسلم کے یہ لفظ روایت کرنے والے تو تواتر کی حد تک نہیں پہنچتے۔
لیکن یہ مسح علی الخفین کی حدیث اتنے صحابہ سے مروی ہے، ہر ایک اپنے اپنے لفظوں میں بیان کرتا ہے کہ ہم نے حضور صلى الله عليه وسلم کو دیکھا یا یہ عمل تھا یا اس طرح فرمایا آپ نے، تو ہر ایک اپنے اپنے لفظوں میں یہ مسح علی الخفین کو ذکر کرتا ہے۔ تو تواتر لفظی تو نہیں، لفظ تو ہر ایک کے اپنے اپنے ہیں، ہر ایک اپنے انداز میں بیان کر رہا ہے۔ لیکن ان تمام احادیث میں ایک چیز مشترک ہے کہ ان سے کیا ثابت ہو رہا ہے؟ مسح علی الخفین۔ تو یہ تواتر لفظی نہیں، اس کو تواتر معنوی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ تواتر معنوی کہتے ہیں۔ تو تواتر معنوی کی احادیث تو بہت زیادہ ہیں، لیکن تواتر لفظی والی بہت قلیل ہیں۔
یا اسی طرح، جیسے حضور صلى الله عليه وسلم کے معجزات جو بھئی، اب معجزات کے بارے میں بہت سی خبر احاد آتی ہیں۔ بعضوں میں آتا ہے حضور صلى الله عليه وسلم کے ہاتھوں سے پانی کے چشمے جاری ہوئے، بعضوں میں آتا ہے حضور صلى الله عليه وسلم جو ہے، وہ تھوڑا سا کھانا تھا اور سینکڑوں صحابہ نے کھا لیا۔ اسی طرح حضور صلى الله عليه وسلم نے انگلی کے اشارے سے چاند کے دو ٹکڑے فرما دیے، اسی طرح حضور صلى الله عليه وسلم کے اشارے پر درخت زمین کو چیرتا پھاڑتا ہوا چلتا ہوا حضور صلى الله عليه وسلم کے پاس آیا، آپ کے رسالت کی گواہی دی اور پھر اپنی جگہ پر چلا گیا۔ گوہ بھئی ایک شخص شکار کر کے لایا تھا، یہ چھپکلی کی طرح کا ایک بڑا سا جانور ہوتا ہے بھئی، ایک گز، ایک گز ڈیڑھ کے لگ بھگ بھئی، اور وہ اس نے شکار کیا ہوا تھا، مرا ہوا تھا، اور اس گوہ نے، مری ہوئی گوہ نے گواہی دی بھئی حضور صلى الله عليه وسلم کے پوچھنے پر اس شخص کے سامنے۔ اس طرح بہت سے احادیث میں حضور صلى الله عليه وسلم کے معجزات کا ذکر آتا ہے۔
تو ہر ہر معجزہ تو خبر واحد ہے۔ لیکن ان تمام سے، ان تمام خبر احاد سے ایک بات تو ثابت ہوتی ہے کہ حضور صلى الله عليه وسلم صاحب معجزات تھے۔ کیا تھے؟ صاحب معجز، معجزوں والے تھے بھئی، بڑے معجزے لے کر آئے تھے۔ تو دیکھو، یہ کیا ہوا؟ تواتر معنوی بھئی، یہ قسمیں یہ تواتر قدر مشترک وغیرہ یہ قسمیں آپ پڑھیں گے آگے انشاء اللہ جا کر، لیکن بس اتنا یاد رکھیں، ایک تواتر لفظی ہے کہ بعینہٖ وہی لفظوں میں کیا ہو؟ تواتر ہو۔ اور ایک کیا ہے؟ تواتر معنوی، کہ وہ ایک حکم یا ایک بات جو ہے، اس کے اندر کیا ہو؟ تواتر ہو بھئی۔
تو یہ جو بات بیان ہو رہی ہے کہ سنت متواترہ میں اختلاف ہے، یہ تواتر لفظی کی بات ہو رہی ہے، تواتر معنوی میں تو اختلاف ہی نہیں، وہ تو ثابت ہیں بھئی، بہت سی احادیث جن میں تواتر معنوی ہے۔ وانه يوجب علم اليقين كالعيان علما ضروريا، اور یہ واجب کرتی ہے، ثابت کرتی ہے، یہ خبر متواتر بھئی، کیا ثابت کرتی ہے؟ علم اليقين، علم یقین، یقینی علم اس سے ثابت ہوتا ہے، واجب ہوتا ہے۔ كالعيان، جیسے کہ مشاہدہ، عیان کا کیا معنی؟ مشاہدہ۔ علما ضروريا، ای كالعيان يوجب علما ضروريا، جیسے مشاہدہ علم یقینی کو ثابت کرتا ہے بھئی۔ علما ضروريا کا کیا معنی؟ علم یقینی، یا علم بدیہی بھئی، بدیہی جانتے یا نہیں بھئی؟ جس میں غور و فکر کی ضرورت نہیں ہوتی بھئی، دلیل وغیرہ کی جس میں حاجت نہیں ہوتی، ایک ظاہر سی بات ہے بھئی، اس کو بدیہی کہتے ہیں۔ تو ضروری کا معنی چاہے یقینی کے کر لیں، چاہے بدیہی کے کر لیں، ایک ہی بات ہے بھئی۔ كالعيان علما ضروريا، جیسے مشاہدہ علم یقینی کو ثابت کرتا ہے بھئی، کس کو ثابت کرتا ہے؟
بھئی، آپ کے سامنے زید آیا، آپ نے خود اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا، مشاہدہ کر لیا، اب 20 آدمی آکر آپ سے کہتے ہیں: زید نہیں آیا، کیا آپ مانیں گے ان کی بات؟ نہیں، بھئی آپ نے جب اپنی آنکھوں سے ایک چیز کو دیکھا ہے، تو مشاہدے سے یقینی علم حاصل ہوتا ہے، پھر اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں رہتا بھئی۔ تو جس طرح مشاہدے سے یقینی علم حاصل ہوتا ہے، اسی طرح خبر متواتر سے بھی یقینی علم حاصل ہوتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وانه، وانه يوجب علم اليقين، اور یہ جو ہے، علم یقینی کو واجب کرتی ہے خبر متواتر، كالعيان علما ضروريا، جیسے کہ مشاہدہ جو ہے، علم یقینی کو ثابت کرتا ہے۔ لا كما يقول المعتزلۃ، نہ جیسے کہ معتزلہ کہتے ہیں، معتزلہ ایک گمراہ فرقہ بھئی، یہ کثرت علم کی وجہ سے بھئی گمراہ ہوئے تھے بھئی، کثرت علم کی وجہ سے۔ یہ منطق اور فلسفے کے بہت ماہر تھے، تو پہلے بھی ان کا ذکر گزر چکا، انہوں نے منطق اور فلسفہ ہی کو اصل بنا لیا اور قرآن و حدیث کو ان کے تابع کر دیا۔ منطق اور فلسفے کی بات کو تو اٹل سمجھتے تھے، قرآن و حدیث میں کوئی ان کے خلاف بات آتی منطق اور فلسفے کی، تو قرآن و حدیث میں تاویل کرتے تھے، منطق اور فلسفے کو اپنی جگہ پر رکھتے تھے۔ حالانکہ ہونا کیا چاہیے تھا؟ عکس، قرآن و حدیث اصل ہیں اور منطق اور فلسفے میں جو ان کے خلاف آئے، معلوم ہوا وہ بات درست نہیں ہے۔
لا كما يقول المعتزلۃ، نہ جیسے کہ معتزلہ کہتے ہیں کہ انه يوجب عل، يوجب علم طمأنينۃ، طمأنينۃ طاء کے ضمہ کے ساتھ بھئی، اطمینان کو کہتے ہیں۔ علم، يوجب علم طمأنينۃ يرجح جانب الصدق، نہ کہ جیسے کہ معتزلہ کہتے ہیں کہ یہ جو خبر وا، خبر متواتر جو ہے، یہ اطمینان والا علم ثابت کرتی ہے، یعنی اس سے کون سا علم ثابت ہوتا ہے؟ اطمینان بھئی، اطمینان ہو جاتا ہے انسان کو کہ کیا؟ يرجح جانب الصدق، ایسا اطمینان جو صدق کی جانب کو ترجیح دیتا ہے۔ زیادہ خیال کیا ہوتا ہے؟ کہ یہ بات سچی ہوگی، صدق والی جانب راجح ہوتی ہے بھئی، ایسا اطمینان اس سے۔ تو معتزلہ کہتے ہیں بھئی، خبر متواتر سے یقینی علم نہیں حاصل ہوتا، بلکہ علم اطمینان حاصل ہوگا، جو کس کو ترجیح دے رہا ہوگا؟ جانب صدق، اطمینان والا علم ہوگا کہ بھئی اس میں یقیناً سچ والی جانب کیا ہوگی؟ سچ والی جانب راجح ہے۔ یعنی جھوٹ کا امکان اس میں کم ہوگیا، ختم نہیں ہوا، ہم تو کہتے ہیں خبر متواتر میں جھوٹ کا اور غلطی کا احتمال ہی نہیں، وہ کہتے ہیں: نہیں، سچ والی جانب راجح ہوگئی، جھوٹ یا وغیرہ کا احتمال پوری طرح یا غلطی کا احتمال پوری طرح ختم نہیں ہوا۔
کہ وہ کہتے ہیں: انه يوجب علم طمأنينۃ يرجح جانب الصدق، کہ اس کے ذریعے ایسا علم اطمینانی ثابت ہوتا ہے جو صدق کی جانب کو ترجیح دیتا ہے، ولا يفيد اليقين، اور یہ یقین کا فائدہ نہیں دیتی خبر متواتر۔ ولا كما يقوله اقوام، اور نہ جیسے کہ اور قومیں کہتی ہیں، اور لوگ کہتے ہیں کہ انه يوجب علما استدلاليا، کہ یہ ثابت کرتی ہے خبر متواتر علم استدلالی کو، ایسا علم استدلالی، ينشأ من ملاحظۃ المقدمات، جو پیدا ہوتا ہے مقدمات کے ملاحظہ کرنے سے۔ بھئی، ایک علم بدیہی ہے جس میں دلیل کی ضرورت نہیں، ایک علم استدلالی ہے جس میں کس کی ضرورت پڑتی ہے؟ دلیل کی، معتزلہ کا بھی رد کر دیا، اب بعض علماء اس طرف گئے، ہم نے تو کہا کہ خبر متواتر کے ذریعے علم ضروری یعنی علم بدیہی حاصل ہوگا، جبکہ بعض علماء کہتے ہیں: علم بدیہی نہیں، بلکہ علم استدلالی حاصل ہوگا جو کہ ينشأ من ملاحظۃ المقدمات، مقدمات کے ملاحظے سے پیدا ہوتا ہے بھئی۔ استدلالی علم کسے کہتے ہیں؟ جو کس کا محتاج ہو؟ دلیل کا، صغریٰ، کبریٰ ملانا پڑتا ہے، پھر نتیجہ نکلتا ہے، صغریٰ، کبریٰ ملیں گے تو یہ نتیجہ نکلا، تو وہ یہی کہتے ہیں کہ اس سے ایسا علم استدلالی ثابت ہوتا ہے جو مقدمات کے ملاحظہ کرنے سے پیدا ہوتا ہے، یعنی صغریٰ اور کبریٰ کے ملانے سے، یعنی دلیل سے حاصل ہوتا ہے۔ لا ضروريا، ضروری علم حاصل نہیں ہوتا، یہ بعض علماء کا بعض لوگوں کا قول ہے، اس کو بھی رد کر دیا۔ وذلك، اور یہ اس وجہ سے
بھئی ہمارا مذہب کیا بیان ہوا کہ خبر متواتر سے کون سا علم آئے گا؟ علمِ علمِ یقینی ہو گا بھئی علم یقینی۔
اس کی اب وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ کہتے ہیں یہ جو خبرِ متواتر سے علم یقینی حاصل ہوتا ہے، یہ اس وجہ سے: لِأَنَّ وُجُودَ مَكَّةَ وَبَغْدَادَ أَوْضَحُ وَأَجْلَى مِنْ أَنْ يُقَامَ عَلَيْهِ دَلِيلٌ۔ اس لیے کیونکہ مکہ اور بغداد کا وجود اس سے زیادہ واضح اور اس سے زیادہ ظاہر ہے کہ اس پر کوئی دلیل قائم کی جائے۔
بھئی دیکھیے خبرِ متواتر کے ذریعے علم یقینی حاصل ہوتا ہے۔ کیا، کون سا علم؟ علم یقینی۔ آپ کے نزدیک بھی اسی طرح ہے بھئی۔ یہ کوئی کتاب کی بات نہیں، آپ کے نزدیک بھی جب بہت سے لوگ روایت کرنے والے اس طرح ہوں، آپ کی عقل خود فیصلہ کرتی تھی، بتلا دیتی ہے کہ یہ سب یقیناً سچ بول رہے ہیں، یہ بات جھوٹی نہیں ہو سکتی۔
مثلاً بھئی لوگ آپ کو بتلاتے ہیں بھئی مکہ ایک شہر ہے اور وہاں بیت اللہ ہے۔ آپ خود کبھی گئے مکہ؟ ہو سکتا ہے آپ میں سے ایک آدھ گیا ہو لیکن جو نہیں گئے لیکن کیا آپ کو کبھی مکہ کے وجود میں شک ہوا؟ آپ نے دیکھا بھی نہیں، مشاہدہ تو نہیں کیا لیکن آپ کو قطعی اور یقینی علم حاصل ہے، جس طرح مشاہدے سے علم حاصل ہونا تھا وہی علم یہاں اس وقت آپ کو حاصل ہے۔
آپ کو بتاتے ہیں مدینہ منورہ ہے، وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کا روضہ مبارک ہے، مسجد نبوی ہے۔ آپ کے ذہن میں کبھی شک آیا؟ حالانکہ آپ نے مشاہدہ نہیں کیا۔ لیکن اتنے لوگ بتلانے والے ہیں اتنی کثرت سے کہ عقل خود بتلا دیتی ہے کہ اس بات میں کسی قسم کا شک اور شبہ نہیں۔ اسی طرح لوگ آپ کو بتلاتے ہیں بھئی بغداد ایک شہر ہے وغیرہ، تو یہ سب اس کی مثالیں ہیں بھئی کہ خبر متواتر سے کون سا علم حاصل ہوتا ہے؟ یقینی علم حاصل ہوتا ہے۔
اس وقت جو آپ کو مکہ کے بارے میں علم حاصل ہے اگر آپ وہاں چلے بھی جائیں، وہی علم ہے کوئی اس میں اضافہ نہیں ہوا۔ پہلے بھی یقینی علم تھا، اب مشاہدے کے بعد بھی یقینی۔ تو معلوم ہوا خبر متواتر سے مشاہدے جیسا علم ہی حاصل ہوتا ہے بھئی۔
یہ معنی ہے: وَذَلِكَ، کہ یہ جو خبر متواتر کے ذریعے یقینی علم حاصل ہوتا ہے: لِأَنَّ وُجُودَ مَكَّةَ وَبَغْدَادَ أَوْضَحُ وَأَجْلَى، اس لیے کیونکہ مکہ اور بغداد جو ہیں ان کا وجود زیادہ واضح اور زیادہ ظاہر ہے اس سے: مِنْ أَنْ يُقَامَ عَلَيْهِ دَلِيلٌ، اس بات سے زیادہ ظاہر اور واضح ہے کہ اس پر کوئی دلیل قائم کی جائے۔ ان پر کسی دلیل قائم کرنے کی ضرورت ہے مکہ کے وجود پر یا بغداد پر؟ نہیں، اس سے زیادہ ان کا ظاہر ہوا.
آگے بھئی: وَيَعْتَرِيَ، واؤ ہے آپ کی کتابوں میں؟ واؤ ہونا چاہیے بھئی۔ واؤ ہونا چاہیے ورنہ عبارت درست نہیں بنتی۔ وَيَعْتَرِيَ الشَّكُّ فِي إِثْبَاتِهِ، وَيَعْتَرِيَ الشَّكُّ فِي إِثْبَاتِهِ۔ اِعْتَرَى يَعْتَرِي کے معنی ہیں پیش آنا بھئی، پیش آنا۔
اچھا، اور یہ یعتری کا عطف ہے یقام پر: مِنْ أَنْ يُقَامَ، مِنْ أَنْ يَعْتَرِيَ۔ کہ اب دیکھیے يُقَامَ عَلَيْهِ دَلِيلٌ، اس کو ہٹائیں، اس پر اس کی جگہ يَعْتَرِيَ الشَّكُّ فِي إِثْبَاتِهِ رکھیں۔ مکہ اور بغداد کا وجود اس سے زیادہ واضح اور ظاہر ہے مِنْ أَنْ يَعْتَرِيَ الشَّكُّ فِي إِثْبَاتِهِ کہ شک پیش آ جائے ان کے ثابت کرنے میں۔ یعنی اس میں کسی قسم کا شک کی گنجائش نہیں ہے بھئی۔
آگے ہے: وَيُحْتَاجَ فِي دَفْعِهِ إِلَى مُقَدِّمَاتٍ غَامِضَةٍ ظَنِّيَّةٍ۔ کہ مکہ اور بغداد کا وجود اس سے زیادہ واضح اور ظاہر ہے کہ وہ محتاج ہو اس شک کے فِي دَفْعِهِ، اس شک کے دور کرنے میں إِلَى مُقَدِّمَاتٍ غَامِضَةٍ ظَنِّيَّةٍ، غامضہ گہرے بھئی، کہ وہ وہ محتاج ہو اس شک کے دور کرنے میں إِلَى مُقَدِّمَاتٍ غَامِضَةٍ ظَنِّيَّةٍ گہرے ظنی مقدمات کے۔
بھئی مکہ اور بغداد، دیکھیے تین باتیں ذکر کر رہے ہیں بھئی کہ مکہ اور بغداد کا وجود اس سے زیادہ واضح اور ظاہر ہے کہ ان پر کوئی دلیل قائم کی جائے، اور یہ کہ ان میں کسی قسم کا شک کیا ہو؟ شک آئے ان کے ثابت کرنے میں شک پیش آ جائے، اور اس سے زیادہ ظاہر اور واضح ہیں کہ وہ محتاج ہوں اس شک کے دور کرنے میں گہرے ظنی مقدمات کے۔ شک ہی نہیں پیش آتا تو شک کے دور کرنے کے لیے گہرے مقدمات کی کہاں سے ضرورت پیش آئے گی بھئی؟ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ فِي دَفْعِهِ کی ہا ضمیر شک کو راجع ہے، اس شک کے دفع کرنے میں۔
أَوْ يَكُونُ اتِّصَالاً فِيهِ شُبْهَةٌ صُورَةً۔ بھئی یہ تو خبر متواتر کی بات ختم ہوئی، اب خبر مشہور کی بات کرنے لگے ہیں۔ بھئی دیکھیے یاد رکھیے خبر متواتر میں نہ صورۃً شک ہے نہ معناً شک ہے۔ خبر مشہور جو ہے اس کے اندر صورۃً شک ہے معناً شک نہیں، جبکہ خبر واحد میں صورۃً بھی شک ہے اور معناً۔ خبر متواتر میں کیا بتلایا؟ نہ صورۃً شک نہ معناً، اور اگر صورۃً شک ہے یہ کس میں؟ خبر مشہور، اور خبر واحد میں صورۃً بھی اور معناً۔
ہاں یہ یوں کہیں خبر متواتر کے اتصال میں نہ اتصال میں، نہ صورۃً شبہ ہے اور نہ معناً شبہ۔ خبر مشہور میں کے اتصال میں صورۃً شبہ تو ہے، معناً شبہ نہیں۔ اور خبر واحد کے اندر کے خبر واحد کے اتصال میں صورۃً بھی شبہ اور معناً بھی شبہ۔
أَوْ يَكُونُ اتِّصَالاً فِيهِ شُبْهَةٌ صُورَةً یا جو ہے وہ اس خبر جو ہے اس کے اتصال کے اندر شبہ ہو صورۃً: أَيْ مِنْ حَيْثُ عَدَمِ تَوَاتُرِهِ فِي الْقَرْنِ الْأَوَّلِ، یعنی اس حیثیت سے کہ اس کا تواتر نہیں ہے پہلے زمانے میں۔ پہلے زمانے یعنی صحابہ کے زمانے کے اندر اس میں تواتر نہیں ہے: وَإِنْ لَمْ يَبْقَ ذَلِكَ مَعْنًى، اگرچہ یہ شبہ معنی کے اعتبار سے باقی نہیں، صرف کس اعتبار سے ہے شبہ؟ صورت، کس اعتبار وہ صورت کس حیثیت سے؟ کہ صحابہ کے زمانے میں میں نے بتلایا اوپر بات گزر گئی بھئی، اگر صحابہ کے زمانے میں روایت کرنے والے اتنے زیادہ نہ ہوں، بعد والے تابعین اور تبع تابعین کے اندر بھئی اگرچہ وہ خوب مشہور ہو گئی اور تواتر کی حد تک جا پہنچی، لیکن چونکہ پہلے طبقے کے اندر روایت کرنے والے اتنے زیادہ نہیں، اس لیے اس کو خبر متواتر نہیں کہیں گے بلکہ کیا کہیں گے؟ خبر مشہور۔
كَالْمَشْهُورِ، جیسے کہ مشہور ہے: وَهُوَ مَا كَانَ مِنَ الْآحَادِ فِي الْأَصْلِ، اور وہ خبر ہے جو آحاد میں سے ہے اصل میں۔ اصل میں، أَيْ فِي الْقَرْنِ الْأَوَّلِ، کس میں؟ قرن اول، پہلے، پہلے زمانے میں یہ خبر آحاد میں سے ہے، صحابہ روایت کرنے والے اتنے زیادہ نہیں ان کے زمانے میں یہ کس میں سے تھی؟ خبر آحاد میں، اور تابعین اور تبع تابعین کے زمانے میں سے یہ کس میں بن گئی؟ خبر متواتر میں سے بن گئی، لیکن اب وہ پہلے طبقے میں چونکہ روایت کرنے والے زیادہ نہیں تو اب ہم اس کو خبر متواتر نہیں کہیں گے بلکہ کیا کہیں گے؟ خبر مشہور۔
یہ معنی ہے: وَهُوَ مَا كَانَ مِنَ الْآحَادِ، اور وہ خبر ہے جو آحاد میں سے ہے: فِي الْأَصْلِ أَيْ فِي الْقَرْنِ الْأَوَّلِ، کس میں؟ پہلے زمانے میں: وَهُوَ قَرْنُ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ، اور وہ صحابہ کا زمانہ ہے: ثُمَّ انْتَشَرَ، پھر یہ پھیل گئی: حَتَّى يَنْقُلَهُ قَوْمٌ لَا يُتَوَهَّمُ تَوَاطُؤُهُمْ عَلَى الْكَذِبِ، یہاں تک کہ اب اس کو نقل کرتے ہیں ایسے لوگ، یعنی اتنے لوگ کہ وہم نہیں کیا جا سکتا ان کے ان کی موافقت علی الکذب پر۔ بعد میں یہ والے زمانہ میں اتنے ہو گئے کہ اب ان میں کذب کا احتمال نہ رہا: وَهُوَ الْقَرْنُ الثَّانِي وَمَنْ بَعْدَهُمْ، اور وہ کون سے زمانے والے ہیں؟ دوسرے زمانے والے اور جو ان کے بعد ہیں۔ یعنی قرن التابعین یعنی قرن التابعین و تبع و تبع التابعین، تابعین اور تبع تابعین کا زمانہ بھئی۔
وَلَا اعْتِبَارَ لِلشُّهْرَةِ بَعْدَ ذَلِكَ، اور اس کے بعد شہرہ کا کوئی اعتبار نہیں۔ بھئی صحابہ کے زمانے میں تو یہ خبر مشہور کیا تھی؟ خبر آحاد تھی۔ بعد میں تابعین اور تبع تابعین کے زمانے میں یہ کہاں تک پہنچ گئی؟ تواتر کی حد تک پہنچی، لیکن اب اس کو کہیں گے کیا؟ خبر مشہور، اور بعد والے زمانوں کا کہتے ہیں اعتبار نہیں۔ تابعین اور تبع تابعین تک کے زمانے کا اعتبار تو ہے، تبع تابعین کے بعد والوں کا اعتبار نہیں، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس زمانے تک ہر حدیث مشہور ہو چکی تھی۔ اس زمانے کے اندر ہی بھئی صحابہ، تابعین اور تبع تابعین بھئی، یہ اس امت کے افضل ترین طبقات ہیں بھئی، اور ان کے اندر ہی اللہ نے ایسے لوگ پیدا فرما دیے جنہوں نے اپنی ساری ساری زندگیاں اسی کے اندر لگا دیں، ایک ایک حدیث کو جمع کرتے تھے، تو احادیث جتنی بھی احادیث تھیں وہ حدِ شہرت تک پہنچ چکی تھیں اس زمانے کے اندر بھئی۔
یہ معنی ہے: وَلَا اعْتِبَارَ لِلشُّهْرَةِ بَعْدَ ذَلِكَ، اور اس کے بعد شہرت کا کوئی اعتبار نہیں ہے: فَإِنَّ عَامَّةَ أَخْبَارِ الْآحَادِ قَدِ اشْتَهَرَتْ فِي هَذَا الزَّمَانِ، اس لیے کیونکہ اکثر اخبار آحاد جو ہیں وہ مشہور ہو گئی تھیں اس زمانے میں: فَلَمْ يَبْقَ شَيْءٌ مِنْهَا آحَاداً، پس کوئی بھی چیز ان میں سے آحاد نہ رہی بھئی، سب مشہور ہو چکی تھیں۔
وَأَنَّهُ يُوجِبُ عِلْمَ طُمَأْنِينَةٍ، اور یہ واجب کرتی ہے کس کو؟ وَأَنَّهُ يُوجِبُ عِلْمَ طُمَأْنِينَةٍ، اور یہ علمِ اطمینان والے علم کو ثابت کرتی ہیں۔ دیکھیے خود بمعنی کر رہے ہیں: طمأنینۃ کا کیا معنی؟ أَيْ اطْمِئْنَانٍ يُرَجِّحُ جِهَةَ الصِّدْقِ، ایسا اطمینان جو ترجیح دیتا ہے صدق کی جانب کو کہ یہ خبر کیا ہو گی؟ سچی ہی ہو گی۔ فَهُوَ دُونَ الْمُتَوَاتِرِ وَفَوْقَ الْوَاحِدِ، تو یہ متواتر سے کم درجے کی ہے اور خبر واحد سے اوپر ہے۔ حَتَّى جَازَتِ الزِّيَادَةُ بِهِ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، یہاں تک کہ اس کے ذریعے زیادتی کرنا جائز ہے کتاب اللہ پر۔ وَلَا يُكَفَّرُ جَاحِدُهُ، اور وَلَا يُكَفَّرُ جَاحِدُهُ، کیا ترجمہ کریں گے؟ ہاں، کَفَّرَ یُکَفِّرُ کا معنی کافر قرار دینا، کفر کی نسبت کرنا، کافر بنانا نہیں کافر تو انسان کا اپنا عمل اس کو بناتا ہے، ہاں پھر علماء صرف کیا بیان کرتے ہیں؟ کفر کی نسبت اس کی طرف بیان کی جاتی ہے کہ اس نے یہ شخص یہ یہ عمل کیا اس لیے کافر ہو گیا بھئی۔
تو کہتے ہیں اس کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادی جائز ہے، یعنی شرط اور واجب کے درجے میں بھی اس کتاب اللہ پر زیادتی کی جا سکتی ہے۔ وَلَا يُكَفَّرُ جَاحِدُهُ، اور اس کے انکار کرنے والے کو کافر نہیں قرار دیا جائے گا: بَلْ يُضَلَّلُ عَلَى الْأَصَحِّ، بلکہ گمراہ قرار دیا جائے گا اصح قول کے مطابق۔ بھئی خبر متواتر کا انکار کرنے والے کو تو کافر قرار دیا جائے گا کیونکہ اس میں علم بھی واجب اور عمل بھی واجب، جبکہ خبر مشہور میں عمل تو واجب ہے علم واجب نہیں، اس سے البتہ اطمینان والا علم حاصل ہوتا ہے، لہذا اس کو اگر کوئی اس کا انکار کرتا ہے کافر تو نہیں کہیں گے لیکن گمراہ اس کو قرار دیا جائے گا۔
وَقَالَ الْجَصَّاصُ: إِنَّهُ أَحَدُ قِسْمَيِ الْمُتَوَاتِرِ فَيُفِيدُ عِلْمَ الْيَقِينِ، اور امام جصاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ متواتر کی دو قسموں میں سے ایک قسم ہے: فَيُفِيدُ عِلْمَ الْيَقِينِ، تو یہ علمِ یقین کا فائدہ دے گا۔ علمِ یقین کا فائدہ دے گی یہ خبر مشہور۔ امام جصاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں متواتر دو قسم پر ہے بھئی، اور یہ خبر مشہور بھی متواتر کی ایک قسم ہے، یہ دوسری قسم ہے اس کی، اور خبر متواتر کے انکار کرنے والے کو تو کیا کہتے ہیں؟ اس کو کافر قرار دیا جاتا ہے تو خبر مشہور کے انکار کرنے والے کو بھی کیا قرار دیں گے؟ کافر قرار دیں گے۔
یہ معنی ہے کہ یہ متواتر کی دو قسموں میں سے ایک قسم ہے: فَيُفِيدُ عِلْمَ الْيَقِينِ، تو یہ علمِ یقینی کا فائدہ دیتی ہے: وَيُكَفَّرُ جَاحِدُهُ، اور اس کے انکار کرنے والے کو کافر قرار دیا جائے گا: كَالْمُتَوَاتِرِ، جیسے کہ متواتر ہے، یعنی جیسے اس کے انکار کرنے والے کو کافر قرار دیا جاتا ہے: عَلَى مَا مَرَّ، بناء بر اس کے جو گزر گیا، جو پیچھے بیان ہو چکا۔
أَوْ يَكُونُ اتِّصَالاً فِيهِ شُبْهَةٌ صُورَةً وَمَعْنًى، یا جو ہے اس خبر کے اندر ایسا اتصال اس کے خبر کے اتصال کے اندر شبہ ہو گا صورۃً بھی اور معناً بھی: لِأَنَّهُ لَمْ يَشْتَهِرْ فِي قَرْنٍ مِنَ الْقُرُونِ الثَّلَاثَةِ، اس لیے کیونکہ وہ مشہور نہیں ہوئی پہلی تین زمانوں کے اندر، پہلے تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں وہ مشہور نہیں ہوئی: الَّتِي شَهِدَ بِخَيْرِيَّتِهِمْ، وہ تین زمانے شہد کہ حضور علیہ السلام نے گواہی دی ہے بخیریتہم ان کے خیر ہونے کے اندر بھئی۔
بھئی خبر واحد کی بات آئی، خبر واحد کے اتصال میں شبہ ہوتا ہے صورۃً بھی اور معناً بھی، کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ ان پہلے تین زمانوں میں شہرت کی حد تک نہیں پہنچی۔ پہلے تین زمانوں میں شہرت کی حد تک نہیں پہنچی، وہ تین زمانے جن کی خیر ہونے کی، بہتر ہونے کی خود حضور علیہ السلام نے گواہی دی ہے بھئی۔ چنانچہ بھئی دیکھیے یہ شہد پر حاشیہ لگا ہے اس میں آپ کے حدیث دی ہوئی ہے۔
حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: خَيْرُ الْقُرُونِ قَرْنِي، تمام زمانوں میں سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے۔ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، پھر وہ لوگ جو ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، یعنی پہلا زمانہ تو صحابہ کا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اور صحابہ کا ہوا۔ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، پھر وہ لوگ جو ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، جن کے صحابہ کے ساتھ کون ہے بعد میں؟ تابعین۔ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، پھر وہ لوگ جو ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، وہ کون تابعین کے ساتھ؟ تبع تابعین۔ تو حضور علیہ السلام نے ان کے زمانوں کے بہتر ہونے کی گواہی دی ہے، اور ان تین زمانوں کے اندر وہ خبرِ آحاد، خبرِ آحاد ہی رہی، شہرت کی حد تک نہ پہنچی، حالانکہ ان علماء نے اپنی زندگیاں لگا دیں ان کے اندر، پھر بھی یہ شہرت کی حد کو نہ پہنچ سکی، تو لہذا اس کے اندر صورۃً بھی شبہ اور معناً بھی شبہ۔
كَخَبَرِ الْوَاحِدِ، جیسے کہ خبر واحد ہے: وَهُوَ كُلُّ خَبَرٍ يَرِوِيهِ الْوَاحِدُ أَوِ الاِثْنَانِ فَصَاعِداً، اور وہ ہر وہ خبر ہے جس کو روایت ایک شخص کرے یا دو کریں یا زیادہ کریں۔ إِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ رَدّاً لِمَنْ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا، ماتن نے کیا کہا: يَرِوِيهِ الْوَاحِدُ أَوِ الاِثْنَانِ، یہ اثنان کو ساتھ کیوں ذکر کیا کہ یہ واحد کو کیوں ذکر کیا بھئی؟ واحد کو، کہتے ہیں ماتن نے یہ فرمایا رد کرتے ہوئے ان ان لوگوں کو جنہوں نے ان میں فرق کیا ہے: وَقَالَ، اور فرمایا ہے: يُقْبَلُ خَبَرُ الاِثْنَيْنِ دُونَ الْوَاحِدِ، دو کی خبر کو تو قبول کیا جائے گا، ایک کی خبر کو قبول نہیں کیا جائے گا، تو ماتن نے صراحت کر دی متن کے اندر کہ ایک کی خبر اور دو کی خبر ایک ہی درجے میں ہیں۔
وَلَا عِبْرَةَ لِلْعَدَدِ فِيهِ، اور اس میں عدد کا کوئی اعتبار نہیں ہے: بَعْدَ أَنْ يَكُونَ دُونَ الْمَشْهُورِ وَالْمُتَوَاتِرِ، بعد اس کے کہ جب یہ مشہور اور متواتر سے کم ہو۔ مشہور اور متواتر سے جب کم ہے، پھر عدد کا کوئی اعتبار نہیں ہے ایک ہے یا دو ہیں۔ یعنی فِي الْقُرُونِ الثَّلَاثَةِ لَمَّا لَمْ تَبْلُغْ رُوَاتُهُ حَدَّ الْمَشْهُورِ، یعنی تین زمانوں کے اندر جب نہیں پہنچے اس کے روایت کرنے والے مشہور کی حد تک: وَالْمُتَوَاتِرِ، اور متواتر کی حد تک: فَلَا عِبْرَةَ بَعْدَ ذَلِكَ بِأَيِّ قَدْرٍ كَانَ، تو اس کے بعد عدد کا کوئی اعتبار نہیں ہے جس قدر بھی وہ ہو: لِأَنَّ كُلَّهَا سَوَاءٌ فِي أَنْ لَا يُخْرِجَهُ عَنِ الْآحَادِيَّةِ، اس لیے کیونکہ وہ سب کے سب برابر ہیں اس بات کے اندر کہ وہ اس کو نکال نہیں سکتے آحاد ہونے سے۔ بعد والے جتنے بھی ہو جائیں وہ اس کو آحاد ہونے سے اب نہیں نکال سکتے، یہ کیا کہلائے گی خبر؟ آحاد ہی کہلائے گی، تو اس میں عدد کا کوئی اعتبار نہیں۔
وَإِنَّهُ يُوجِبُ الْعَمَلَ دُونَ الْعِلْمِ الْيَقِينِ، اور یہ جو خبر واحد ہے یہ عمل کو تو واجب کرتی ہے علم کو واجب نہیں کرتی۔ اس پر علم تو اس پر عمل تو واجب ہے اعتقاد واجب نہیں۔
میں نے آپ کو کیا بتلایا تھا؟ خبر واحد پر عمل کے واجب ہونے میں علماء کا اختلاف ہے۔ خبر متواتر پر تو علم بھی واجب، عمل بھی واجب۔ خبر مشہور پر عمل تو واجب ہے علم واجب نہیں، اس سے البتہ اطمینان والا علم حاصل ہوتا ہے اور انکار کرنے والے کو کافر قرار نہیں دیں گے۔ جبکہ خبر واحد جو ہے اس میں جمہور کے نزدیک بھئی عمل واجب ہو گا علم واجب نہیں، اور بتلایا علماء کا اختلاف ہے، آگے چل کر خود ذکر کریں گے بھئی۔ بعض علماء کہتے ہیں اس پر عمل بھی واجب نہیں، علم بھی واجب نہیں اور عمل بھی واجب بعض کہتے ہیں عمل بھی واجب اور علم بھی واجب، وہ آگے بھی اختلاف بیان ہو گا بھئی۔
پہلے احناف کا مذہب اور جمہور کا مذہب بیان کر دیا، "وَإِنَّهُ يُوجِبُ الْعَمَلَ دُونَ الْعِلْمِ الْيَقِينِيِّ" اور یہ عمل کو واجب کرتی ہے نہ کہ علمِ یقینی کو، "بِالْكِتَابِ" اس کا تعلق "يُوجِبُ" سے ہے، یہ عمل کو واجب کرتی ہے خبرِ واحد، "بِالْكِتَابِ" کتاب اللہ کی وجہ سے۔
یہ دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی، کتاب اللہ کی وجہ سے، یعنی کتاب اللہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ خبرِ واحد پر عمل کرنا واجب ہے، یہ "بِالْكِتَابِ" کیا ذکر ہو رہی ہے؟ دلیل ذکر ہو رہی ہے۔
آگے آئے گا بھئی اگلا متن دیکھیں نیچے، "وَالسُّنَّةِ" اور سنت کے ذریعے، آگے آئے گا "وَالإِجْمَاعِ وَالْمَعْقُولِ" اور اجماع اور معقول۔ چار دلیلیں ذکر کریں گے کس چیز کی؟ بھئی خبرِ واحد پر عمل واجب ہے یا عمل واجب نہیں؟ علماء کا اختلاف، مصنف کیا فرمائیں گے؟ عمل واجب ہے، اور ساتھ ہی دلیلیں بھی دیں گے بھئی، کیونکہ علماء کا اس میں اختلاف ہے، تو یہ دلیل دیں گے کہ عمل واجب ہے، کتاب اللہ سے بھی ثابت ہوتا ہے، حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے، اجماع سے بھی اور قیاس سے بھی۔
وہ بھئی کتاب اللہ سے ثابت ہوتا ہے کون، ماتن نے دلیل نہیں ذکر کی، صرف اتنا بتایا کتاب اللہ سے بھی، سنت سے بھی، اجماع سے بھی۔ کتاب اللہ کی کون سی آیت سے؟ وہ اب شارح آپ کو بتلائیں گے، کہتے ہیں "وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى" اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: "فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ"۔
"فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ" پس کیوں نہیں نکل، کیوں نہیں نکلی ہر بڑی جماعت میں سے طائفہ، ہر بڑی جماعت میں سے طائفہ کیوں نہ نکلا؟ چھوٹی جماعت، طائفہ کسے آگے آپ کو بتلائیں گے بھئی، یہ سارا شرح کے اندر آ جائے گا، فرقے سے کیا مراد ہے؟ بڑی کثیر جماعت، اور طائفہ سے کیا مراد ہے؟ چھوٹی۔
اللہ فرما رہے ہیں: "فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ" کیوں نہیں نکلی ہر بڑی جماعت میں سے چھوٹی جماعت "لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ" تاکہ وہ دین میں سمجھ پیدا کریں، "وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ" اور تاکہ وہ خبردار کریں اپنی قوم کو "إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ" جب وہ ان کی طرف لوٹیں، "لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ" تاکہ وہ بچتے، تاکہ وہ بچتے رہیں بھئی، تاکہ وہ بچتے رہیں۔
بائی دیکھیے، اللہ فرما رہے ہیں کہ ہر بڑی جماعت یعنی یہ تمام جو مسلمانوں کی جماعتیں ہیں، ان میں سے کچھ جماعت، چھوٹی جماعتوں کو یعنی کچھ مسلمانوں کو نکلنا چاہیے، اور یہ دنیا میں گھومیں پھریں، دین کا علم حاصل کریں بھئی، علماء کے پاس جائیں، دنیا کے کونے کونے میں جہاں پتہ لگے بڑا عالم ہے اس کے پاس پہنچیں، اس سے علمِ دین حاصل کریں، اور پھر واپس آ کر اپنی ان قوم والوں کو ڈرائیں اور ان کو دین کی باتیں سنائیں تاکہ یہ کیا کریں؟ اللہ کے راستے پر چلتے رہیں اور گناہوں اور برائیوں سے بچتے رہیں بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟
آئیے دیکھیے خود بیان کر رہے ہیں: "أَيْ فَهَلَّا خَرَجَ مِنْ كُلِّ جَمَاعَةٍ كَثِيرَةٍ" کیوں نہیں نکلی ہر بڑی جماعت میں سے "طَائِفَةٌ قَلِيلَةٌ مِنْ بُيُوتِهِمْ" ایک چھوٹا طائفہ اپنے، بھئی سارے تو نہیں جا سکتے نا، تمام مسلمان جائیں گے تو پھر تو زندگی کے اسباب اور گزر بسر وغیرہ وہ سارا کچھ نظام درہم برہم ہو جائے گا، تو کچھ لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟ دین کے سیکھنے کے لیے نکلنا چاہیے، اور پھر جب یہ سیکھ کر واپس آئیں تو یہ اپنی قوم والوں کو ڈرائیں، ان کو دین کی باتیں سکھائیں، ان کو آخرت کے تیاری کی ترغیب دیں، اور باقی لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟ یہ جو خبر لے کر آئے ہیں، دین کی باتیں لے کر آئے ہیں، باقیوں کو ان کی بات پر عمل کرنا چاہیے۔
کیا کرنا چاہیے؟ تو دیکھیے یہاں آگے بتلائیں گے آپ کو کہ طائفہ جو ہے، اس کا اطلاق ایک، دو اور اس سے زیادہ پر ہوتا ہے، ایک پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے، دو پر بھی ہوتا ہے اور اس سے زیادہ، اور اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ یہ جو طائفہ، ایک ہیں، دو ہیں، تین ہیں جتنے یہ نکلیں، دین سیکھ کر آئیں اور باقیوں کو آ کر خبردار کریں، ان کو سکھائیں، ان کو بتلائیں، اور باقیوں کو لیے اس پر عمل کرنا واجب ہے بھئی۔
باقیوں کے لیے اس پر عمل کرنا واجب ہے، اگر واجب نہ ہو تو پھر تو فائدہ نہیں ان کے جانے کا اور ان کے آ کر بتلانے کا، صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو معلوم ہوا اور دیکھو یہ جو ایک اور دو آ رہے ہیں یہ بیان کریں گے، اور ایک اور دو جو بیان کرتے ہیں اس کو کیا کہتے ہیں؟ خبرِ واحد، معلوم ہوا خبرِ واحد پر عمل کرنا واجب ہے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ ایک اور دو کی خبر پر عمل کرنا واجب، دیکھیے آیت میں آیا "لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ"، لعل آتا ہے ترجی کے لیے، امید کے لیے۔
کس کے لیے؟ امید کے لیے، آپ کہتے ہیں شاید زید آ جائے، آپ کو امید ہے لیکن یقین نہیں، لیکن یہاں پر لعل ترجی کے لیے نہیں کیونکہ ترجی اللہ کے لیے ممنوع ہے، جائز نہیں اللہ کی طرف ترجی کی نسبت کرنا بھئی، کیونکہ ترجی میں تو امید ہوتی ہے، پکا پتہ نہیں ہوتا، اور اللہ کے سامنے تو ہر چیز ہے، اللہ کا تو علم انتہائی کامل، یہ زمانے ہمارے لیے چیز ہیں، اللہ کے سامنے ماضی، حال، استقبال سب برابر ہیں، سب کا علم اللہ کو ہے بھئی پوری طرح، تو لہٰذا اللہ کے لیے ترجی ممنوع ہے، تو پھر لعل یہاں اپنے حقیقی معنیٰ میں تو نہ ہوا، یہ اپنے مجازی معنیٰ میں ہو گا، اور مجازاً پھر یہ طلب اور ایجاب کے لیے آئے گا، کس کے لیے؟ طلب اور ایجاب کے لیے، معلوم ہوا ان طائفہ جو باتیں لے کر آئے وہ جو دو یا تین یا جو تھے لوگ جو باتیں دین کی سیکھ کر آئے، باقیوں کے لیے ان کی باتوں پر عمل کرنا اور اس کے ذریعے بچنا واجب ہوا، کیا ہوا؟ واجب ہوا بھئی، صورت سمجھ میں آ رہی؟
تو واجب ہوا، تو معلوم، دیکھو اس سے پتہ چلا وہ ایک اور دو جو لے کر آئے ہیں وہ تو خبرِ واحد ہے، معلوم ہوا خبرِ واحد پر عمل واجب ہے بھئی۔
"أَيْ فَهَلَّا خَرَجَ مِنْ كُلِّ جَمَاعَةٍ كَثِيرَةٍ طَائِفَةٌ قَلِيلَةٌ مِنْ بُيُوتِهِمْ" پس کیوں نہیں نکلی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹا طائفہ اپنے گھروں سے "لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ" تاکہ وہ سمجھ پیدا کریں دین کے اندر، "أَيْ تَذْهَبُ هَذِهِ الْجَمَاعَةُ الْقَلِيلَةُ عِنْدَ الْعُلَمَاءِ" یعنی جائے یہ چھوٹی جماعت علماء کے پاس "وَيَسِيرُوا فِي آفَاقِ الْعَالَمِ" اور یہ سیر کریں یعنی چکر لگائیں، گھومیں "فِي آفَاقِ الْعَالَمِ" دنیا کے کناروں میں "لِأَخْذِ الْعِلْمِ" علم لینے کے لیے "وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمُ الْبَاقِيَةَ فِي الْبُيُوتِ" اور تاکہ یہ ڈرائیں، خبردار کریں، تاکہ یہ خبردار کریں اپنی اس قوم کو جو کہ باقی ہے "فِي الْبُيُوتِ" کہاں پر؟ اپنے گھروں میں جو پیچھے باقی ہیں، بھئی وہ کیوں باقی ہیں گھروں میں؟ "لِأَجْلِ تَرْتِيبِ الْمَعَاشِ" اپنے گزر بسر کی ترتیب کی وجہ سے کہ گزر بسر کے اسباب بنائیں "وَمُحَافَظَةِ الأَهْلِ وَالأَمْوَالِ عَنِ الْكُفَّارِ" اور کس لیے؟ تاکہ اپنے گھر والے اور اپنے مالوں کی حفاظت کریں کفار سے، اگر سارے چلے جائیں گے پھر تو پیچھے کفار ان کے مال و اسباب پہ قبضہ کر لیں گے، تو کچھ لوگ کیا کریں؟ دین سیکھنے جائیں اور پھر واپس آ کر جو پیچھے اپنے روزی وغیرہ کے اسباب میں مصروف تھے، اپنے گھر والوں اور مالوں کی حفاظت میں تھے کی حفاظت کر رہے تھے ان کو آ کر ڈرائیں۔
تو ان کو آ کر ڈرائیں "إِذَا رَجَعَتْ هَذِهِ الطَّائِفَةُ إِلَى هَذِهِ الْفِرْقَةِ" جب لوٹے یہ والا طائفہ اس بڑی جماعت کی طرف، اس وقت ان کو ڈرائیں بھئی، پیچھے آیا تھا نا "وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ"، اس کے لیے یہ ظرف ہے "إِذَا رَجَعَتْ"، ڈرائیں اپنی قوم کو جب یہ لوٹے یہ بڑی جماعت اس، یہ چھوٹی جماعت جب لوٹے بڑی جماعت کی طرف، "لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ" تاکہ وہ بچتے رہیں، "لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ أَيْضًا" تاکہ وہ بھی بچتے رہیں، "فَالضَّمِيرُ لِيَتَفَقَّهُوا وَلِيُنْذِرُوا وَرَجَعُوا رَاجِعٌ إِلَى الطَّائِفَةِ" تو آیت کے اندر یہ جو "لِيَتَفَقَّهُوا" آیا، "وَلِيُنْذِرُوا" آیا اور "رَجَعُوا" آیا، ان سب کی جو ضمیریں ہیں "رَاجِعٌ إِلَى الطَّائِفَةِ" یہ کس کی طرف راجع ہیں؟ طائفہ وہ چھوٹی جماعت کی طرف۔
"وَالضَّمِيرُ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ رَاجِعٌ إِلَى الْفِرْقَةِ" اور "إِلَيْهِمْ" اور "لَعَلَّهُمْ" جو آیت کے اندر آئے ان میں ضمیر راجع ہے اس فرقے یعنی بڑی جماعت کی طرف، "فَاللَّهُ تَعَالَى أَوْجَبَ الإِنْذَارَ عَلَى الطَّائِفَةِ" تو اللہ تعالیٰ نے انذار کو واجب قرار دیا، کیا کیا انذار کو؟ واجب، بھئی دیکھیے اللہ فرما رہے ہیں "فَلَوْلَا نَفَرَ" کیوں نہیں نکلی، لولا تحضیض کے لیے آتا ہے بھئی، اور یہ امر کو متضمن ہوتا ہے یعنی نکلنا چاہیے بھئی، معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ان کو نکلنا چاہیے، سیکھنا چاہیے اور پھر آ کر کیا کرنا چاہیے؟ اپنی قوم کو ڈرانا چاہیے، خبردار کرنا چاہیے، "فَاللَّهُ تَعَالَى أَوْجَبَ الإِنْذَارَ عَلَى الطَّائِفَةِ" تو اللہ تعالیٰ نے انذار یعنی ڈرانے کو واجب قرار دیا اس چھوٹی جماعت پر "وَهِيَ اسْمٌ لِلْوَاحِدِ وَلِلِاثْنَيْنِ فَصَاعِدًا" اور یہ طائفہ نام ہے ایک کا اور دو افراد کا اور زیادہ کا، ایک دو اور زیادہ، "وَأَوْجَبَ عَلَى الْفِرْقَةِ قَبُولَ قَوْلِهِمْ" اور اللہ نے واجب قرار دیا اس بڑی جماعت پر اس طائفہ کے قول کو قبول کرنے پر "وَالْعَمَلَ بِهِ" اور اس پر عمل کرنے کو واجب قرار دیا "فَثَبَتَ" پس یہ بات ثابت ہو گئی "أَنَّ خَبَرَ الْوَاحِدِ مُوجِبٌ لِلْعَمَلِ" کہ خبرِ واحد جو ہے عمل کو واجب کرنے والی ہے۔
"وَفِي الآيَةِ تَوْجِيهٌ آخَرُ" اور آیت کے اندر ایک اور توجیہ بھی ہے "فِيهِ تَعْكِسُ هَذِهِ الضَّمَائِرُ كُلُّهَا" اس صورت میں عکس ہو جائیں گی یہ ساری ضمیریں، جو طائفہ کو لوٹ رہی تھیں وہ کس کو پھر لوٹائیں گے؟ فرقہ کو، اور جو فرقہ کو لوٹ رہی تھیں وہ طائفہ کو۔
تو وہ دوسری توجیہ ہے، "وَحِينَئِذٍ لَا تَكُونُ مِمَّا نَحْنُ فِيهِ عَلَى مَا بَيَّنْتُ ذَلِكَ فِي التَّفْسِيرِ الأَحْمَدِيِّ" اور اس وقت پھر ہم یہ آیت نہیں ہو گی اس بحث میں سے جس میں ہم اس وقت ہیں، ہم کیا بحث کر رہے ہیں؟ کہ خبرِ واحد پر عمل کرنا واجب ہے، تو اگر ضمیروں کو عکس کر دیں، دوسری توجیہ لے لیں، تو پھر اس صورت میں یہ آیت اس بحث سے ہی خارج ہو جائے گی جو ہم بحث کر رہے ہیں، بنا بر اس کے جو میں نے بیان کیا ہے تفسیرِ احمدی کے اندر وہاں کہتے ہیں میں نے تفصیل بیان کی ہے۔
"وَيُمْكِنُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِالْكِتَابِ" اور یہ بھی ممکن ہے کہ کتاب اللہ سے مراد جو ہے، بھئی اوپر متن میں آیا تھا "بِالْكِتَابِ"، خبرِ واحد پر عمل کرنا واجب ہے کس کی وجہ سے؟ کتاب اللہ کی وجہ سے، اور پھر شارح نے بتلایا کہ یہ آیت مراد ہے، مصنف اس کی طرف اشارہ کر رہے ہیں "فَلَوْلَا نَفَرَ" بھئی، آگے اب بتلا رہے ہیں کہ ہو سکتا ہے یہ دوسری آیت کی طرف ان کا اشارہ ہو جو آگے وہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں "وَيُمْكِنُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِالْكِتَابِ" اور یہ بھی ممکن ہے کہ کتاب اللہ سے مراد جو ہے "هُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى" وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہو: "وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ"۔
اور جس وقت عہد لیا اللہ نے ان لوگوں سے جن کو کتاب دی تھی "لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ" کہ تم البتہ ضرور اس کو بیان کرو گے لوگوں کے لیے "وَلَا تَكْتُمُونَهُ" اور اسے چھپاؤ گے نہیں۔
ہو سکتا ہے کہتے ہیں بھئی یہ آیت مراد ہو جس میں اللہ کیا فرما رہے ہیں کہ اللہ نے جس وقت عہد لیا ان لوگوں سے جن کو کتاب دی کہ تم کیا کرو گے؟ ضرور اس کتاب کو لوگوں کے لیے بیان کرو گے اور اس کو چھپاؤ گے نہیں۔
"فَقَدْ أَوْجَبَ عَلَى كُلِّ مَنْ أُوتِيَ عِلْمَ الْكِتَابِ بَيَانَهُ" پس اللہ نے واجب کیا ہر اس شخص پر جس کو کتاب اللہ کا علم دیا گیا، کیا واجب کیا اللہ نے؟ "بَيَانَهُ" اس کو بیان، جس کو بھی کتاب اللہ کا علم دیا گیا اس کے لیے اوپر کیا واجب ہے؟ کہ وہ اس کو لوگوں کے سامنے بیان کرے، "وُوَعْظَهُ لِلنَّاسِ" اور لوگوں کے لیے پر وعظ کو اس کے پر واجب قرار دیا "وَلَا فَائِدَةَ مِنْهُ" اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا "إِلَّا قَبُولَ النَّاسِ تِلْكَ الْمَوْعِظَةَ" مگر یہ کہ لوگ کیا کریں؟ اس نصیحت کو قبول بھی کریں، اللہ نے نصیحت کو واجب قرار دیا ان لوگوں پر، اور اس کا فائدہ تبھی ہو گا نا جب لوگوں کے لیے بھی اس پر اس کو قبول کرنا واجب ہو، اگر لوگوں پر قبول کرنا واجب نہ ہو تو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ ہے؟ علم آگے ان کے سامنے بیان کرنے کا تو پھر کوئی فائدہ نہیں، تو اللہ نے واجب کیا ان پر بیان کرنا اور اسی سے ثابت ہوا کہ باقیوں کے لیے اس کو قبول کرنا بھی واجب ہے بھئی۔
"فَيَكُونُ خَبَرُ الْوَاحِدِ حُجَّةً لِلْعَمَلِ" تو خبرِ واحد کیا ہو گی؟ حجت ہو گی عمل کے لیے یعنی اس پر عمل واجب ہو گا، یہ دلیل ہو گی عمل کی، "وَالسُّنَّةِ" اور سنت بھئی، خبرِ واحد پر عمل واجب ہے کتاب اللہ کے ذریعے اور سنت کے ذریعے، یہ دوسری دلیل آئی، سنت بھئی حدیث کے ذریعے، حدیث کیا کون سی حدیث دلیل ہے؟ کہتے ہیں "وَهِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَبِلَ خَبَرَ بَرِيرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا فِي الصَّدَقَةِ" اور وہ یہ کہ حضور علیہ السلام نے حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خبر کو قبول فرمایا صدقہ کے بارے میں "حَتَّى قَالَ فِي جَوَابِهَا" یہاں تک کہ حضور علیہ السلام نے ان کے جواب میں فرمایا: "لَكِ صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ"، آپ کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ، حضور علیہ السلام حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تشریف لائے بھئی، حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گوشت جو ہیں وہ پکا رہی تھیں، گوشت ہانڈی میں ابل رہا تھا، انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوریں وغیرہ پیش کیں، حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ بھئی گوشت میں ہمارا حصہ نہیں ہے؟ تو فرمانے لگیں یا رسول اللہ یہ صدقے کا گوشت ہے، حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ بھئی تمہارے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ، اسی حدیث سے آپ نے پڑھا تھا کہ مسئلہ معلوم ہوا کہ ملکیت کے بدلنے سے حکم بدل جاتا ہے بھئی۔
جب صدقہ دینے والے نے اس گوشت کو الگ کیا تھا اس وقت وہ صدقہ تھا، جب اس نے حوالے کر دیا دوسرے شخص کو دے دیا تو جب اس کی ملکیت میں داخل ہوا اب یہ صدقہ نہ رہا بھئی، اب یہ کسی کو دے گا تو وہ صدقہ نہیں بلکہ ہدیہ ہو گا بھئی۔
تو دیکھیے حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتلایا کہ یہ صدقہ ہے، حضور علیہ السلام نے دیکھیے ان کی بات کو قبول کیا کہ ہاں بھئی ٹھیک، آپ کے لیے صدقہ ہو گا لیکن ہمارے لیے کیا ہو گا؟ ہدیہ ہو گا، دیکھو ان کی خبر کو قبول کیا حالانکہ خبر دینے والے کتنے لوگ ہیں وہاں پر؟ ایک، اور ایک کی خبر کو کیا کہتے ہیں؟ خبرِ واحد، دیکھو معلوم ہوا ایک کی بات کو بھی کیا کیا جائے گا؟ قبول کیا جائے گا اس حدیث سے معلوم ہوا۔
"وَخَبَرَ سَلْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فِي الْهَدِيَّةِ" اور قبول کیا حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خبر کو ہدیہ کے بارے میں "حَتَّى أَخَذَهَا وَأَكَلَهَا" یہاں تک کہ اس کو لے لیا اور اس کو کھایا۔
بھئی حضور علیہ السلام کے پاس صحابہ چیزیں لے کر آتے تو حضور علیہ السلام پوچھتے کہ یہ صدقہ ہے یا ہدیہ؟ اگر وہ کہتے صدقہ ہے تو حضور علیہ السلام دوسروں کو تو دے دیتے خود اس میں سے تناول نہ فرماتے تھے، لیکن اگر بتلایا جاتا یہ ہدیہ ہے تو پھر خود بھی اس میں سے حضور علیہ السلام تناول فرما لیتے تھے بھئی، تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھئی، ان کے بارے میں علماء لکھتے ہیں بھئی ان کی بڑی طویل عمر تھی بھئی، 300 یا اس سے بھی زیادہ سال ان کی عمر تھی بھئی، اس زمانے میں تو عیسائی مذہب جو تھا حق تھا، چنانچہ یہ حق کی تلاش میں عیسائی عالم کے پاس پہنچے، اس عیسائی عالم نے کہا بھئی وہ بڑا بوڑھا تھا کہ میں تو مرنے والا ہوں، میری زندگی تو ختم ہونے والی ہے لیکن یاد رکھو پیغمبرِ آخر الزماں کا ظهور ہونے والا ہے۔
ہمارے یہاں کی کتابوں کے مطابق جتنی نشانیاں تھیں وہ تقریباً پوری ہو چکی ہیں، عنقریب آخری پیغمبر وہ تشریف لانے والے ہیں، اور ایسی ایسی زمین پہ وہ تشریف لائیں گے جہاں کھجوروں کے باغات ہوں گے وغیرہ نشانیاں بتلائیں، اور تم حق اگر تلاش کرنا چاہتے ہو تو کسی طرح وہاں پہنچنے کی کوشش کرو۔
یہ پہلے بھی حق کی تلاش میں یہاں تک پہنچے تھے۔ ان کو کسی نے پکڑ کر غلام بنا کر بیچ ڈالا بھئی اور پھر یہاں سے بکتے بکتے ہوتے بالآخر مدینہ منورہ پہنچے بھئی۔ اور پھر اس عیسائی عالم نے ان کو نشانیاں بتلائی تھیں۔ کہ یہ یہ نشانیاں ہیں اس پیغمبر کی۔ ایک نشانی یہ بتلائی تھی کہ وہ پیغمبر جو ہے ہدیے کو جو ہے قبول کر لے گا، ہدیہ کھا لے گا، صدقے کو نہیں کھائے گا۔
چنانچہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کو جب پتہ چلا کہ مدینہ منورہ میں ایک شخص آیا ہے اور اس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے، تو کہا کہ وہ تو پہلے ہی انتظار میں تھے، غلام تھے، ایک دن کسی طرح موقع ملا، تو کچھ کھجوریں لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور علیہ السلام صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے، پوچھا: "یہ کیا ہے؟ صدقہ ہے یا ہدیہ ہے؟" کہا: "یہ صدقہ ہے۔" وہ تو امتحان دیکھنے آئے تھے کہ یہ پیغمبر وہی ہیں یعنی جن کی مجھے اس عیسائی عالم نے نشانیاں بتلائی تھیں اپنی کتابوں سے۔ حضور علیہ السلام نے وہ صدقہ جب سنا، تو صحابہ میں تقسیم کر دیں، خود نہیں کھائیں۔
اگلے دن یہ کسی وقت پھر موقع ملا، پھر کچھ کھجوریں لے کر خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور علیہ السلام نے پوچھا: "یہ صدقہ ہے یا ہدیہ؟" فرمایا کہ: "یہ ہدیہ ہے۔" تو اب حضور علیہ السلام نے بھی اس میں سے تناول فرمایا۔ تو پہلی نشانی اس طرح ان کو پوری ہو گئی بھئی۔
پھر اسی طرح ایک نشانی یہ بتلائی تھی کہ اس پیغمبر کی پشت پر، کمر پر، دل کی جانب جو ہے، مہرِ نبوت ہے بھئی۔ حضور علیہ السلام کی پشت پر یہ دل کے برابر میں پشت پر مہرِ نبوت تھی بھئی۔ ایک نشانی سی بنی ہوئی تھی اور وہ جو جسے مہرِ نبوت کہا جاتا ہے اور یہ کبھی کبھار بڑا سا نشان تھا، یہ کہتے ہیں کبوتر کا انڈا جو ہوتا ہے اگر آپ نے دیکھا ہو، اس کے لگ بھگ ایک علامت تھی مخصوص قسم کی اور کبھی کبھار یہ خوب ابھر آتی، واضح بہت زیادہ واضح ابھر آتی اور کبھی ذرا مدہم پڑ جاتی، لیکن واضح نشانی سی دکھائی دیتی تھی صاف بھئی۔
تو پھر اور نشانیاں بھی پوری ہو گئیں، ایک نشانی یہ رہ گئی تھی، اس عیسائی عالم نے بتلایا تھا کہ یاد رکھنا، اس پیغمبر کی پشت پر مہرِ نبوت ہو گی بھئی۔ اب باقی نشانیاں پوری ہو گئیں، مہرِ نبوت کیسے دیکھیں بھئی؟ مہرِ نبوت تو دیکھی نہیں جا سکتی، قمیض پہنی ہوئی ہے۔ تو حضرت سلمان فارسی اب موقع کی تلاش میں ہیں، ایک دن موقع ملا، آئے اور آہستہ آہستہ حضور علیہ السلام کی پشت کی جانب آ کر کھڑے ہو گئے۔ حضور علیہ السلام سمجھ گئے بھئی، آپ نے اپنی قمیضِ مبارک اٹھا دی اور آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پشتِ مبارک پر مہرِ نبوت موجود تھی بھئی۔
پھر وہ اس طرح ایمان لے آئے بھئی۔ آقا نے ان کو مکاتب وغیرہ بنایا حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کو اور حضور علیہ السلام نے پھر وہ ادائیگی کر دی جو سونا یا چاندی وغیرہ اس نے مقرر کیا تھا اور اس نے ایک شرط یہ بھی لگائی تھی کہ پتہ نہیں کتنے سو کھجور کے پودے لگاؤ اور وہ کھجور کے پودے جب بڑے ہو جائیں اور وہ جب پھل دینے لگیں گے پھر تم آزاد ہو۔ اور کھجور کا پودا تو بڑے لمبے عرصے میں پھل دیتا ہے بھئی، کئی سال میں جا کر وہ پھل دینے کے قابل ہوتا ہے، جیسے عام درخت بھی اسی طرح ہوتے ہیں۔
تو حضور علیہ السلام کو آ کر بتلایا کہ غالباً میرا خیال ہے تین سو پودے لگائے ہیں، وہ کہہ رہے تھے مالک نے مجھے کہا ہے اتنے چاندی لے کر آؤ اور اتنے کھجور کے پودے تین سو لگاؤ اور وہ جب پھل دیں گے تو پھر وہ چاندی بھی دے دو اور وہ پھل بھی دینا شروع کر دیں تو پھر تم آزاد ہو۔ تو حضور علیہ السلام بھی تشریف لائے اور وہ آپ کے ساتھ کھجور کے پودے لگاتے رہے اور چنانچہ کہتے ہیں کھجور کے پودے اسی سال پھل لے آئے بھئی۔ یہ حضور علیہ السلام کا معجزہ تھا بھئی، تو چنانچہ آپ پھر آزاد ہوئے بھئی۔ اور ان کی عمر کہتے ہیں تین سو سال یا اس سے بھی زیادہ تھی۔
حضرت والد صاحب رحمہ اللہ نے اس پر باقاعدہ پھر ایک کتاب بھی لکھی اور تحقیق بھی کی، والد صاحب رحمہ اللہ کی تحقیق یہ تھی کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر اتنی زیادہ نہیں تھی، یہ ویسے ہی مشہور ہو گئی یہ بات اور پھر اس کے بڑے دلائل ذکر فرمائے کہ صحابہ تو معمولی معمولی بات بھی حضور علیہ السلام کے سامنے ذکر فرماتے تھے۔ اگر سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر اتنی زیادہ ہوتی، تو وہ کسی نہ کسی وقت ضرور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی ذکر فرماتے بھئی۔ یہ ایک دلیل تو مجھے ان کی کتاب میں سے، آپ بڑے دلائل ذکر کیے کہ اتنی زیادہ ان کی عمر نہیں تھی، بہرحال بھئی سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ بڑے جلیل القدر صحابی اور یہی وہ صحابی ہیں جن کے مشورے پر غزوہ احزاب یعنی غزوہ خندق میں خندق کھودی گئی اور تو یہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ، دیکھو بھئی بات دور چلی گئی، وہ ہدیہ لے کر آئے اور بتلایا یہ ہدیہ ہے، اب ایک شخص بتانے والا ہے، حضور علیہ السلام نے ان کی خبر کو قبول کیا اور اس کو تناول فرما لیا، معلوم ہوا خبرِ واحد کو قبول کیا جائے گا بھئی۔
وَهُوَ أَيْضًا بَعَثَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ بِالْقَضَاءِ وَدِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ إِلَى قَيْصَرِ الرُّومِ
اور اسی طرح بھیجا حضور علیہ السلام نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اور حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کو یمن کی طرف بالقضاء، قضا کے ساتھ، یعنی ان کو قاضی بنا کر بھیجا۔ حضور علیہ السلام صحابہ کو بھیجتے قاضی بنا کر اور وہ لوگوں پر اس کے فیصلے کو اور اس کی باتوں کو ماننا واجب ہوتا تھا، حالانکہ قاضی بتلانے والا ایک شخص تھا۔ ایک شخص ہوتا صحابہ میں سے، معلوم ہوا خبرِ واحد پر عمل واجب ہے بھئی۔
وَدِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ إِلَى قَيْصَرِ الرُّومِ اور دحیہ کلبی رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیجا حضور علیہ السلام نے قیصرِ روم کی طرف بھئی۔ قیصرِ روم کہ یاد رکھیے، یہ قیصر اس کا نام نہیں تھا، نام اس کا ہرقل تھا، ہرقل۔ بھئی آج کل تو ہر ملک کے بادشاہ کو یا بادشاہ کہتے ہیں یا صدر کہتے ہیں، کوئی مخصوص نام نہیں ہے یا وزیراعظم ہوتا ہے بڑا سربراہ، مخصوص نام نہیں، قدیم زمانے میں ہر ملک کے بادشاہ کے مخصوص لقب ہوتے تھے بھئی۔
یعنی مثلاً جیسے روم اور شام کے ہر بادشاہ کو قیصر کہا جاتا تھا، اس کا اپنا نام کچھ بھی ہو، لیکن ویسے سب کو کیا کہتے تھے؟ قیصر۔ فارس کے ہر بادشاہ کو کسریٰ کہا جاتا تھا، کسریٰ۔ ترک ترکی کے ہر بادشاہ کو خاقان کہا جاتا تھا، حبشہ کے ہر بادشاہ کو نجاشی کہا جاتا تھا، چین کے ہر بادشاہ کو فغفور کہا جاتا تھا، فغفور۔ حمیر کے ہر بادشاہ کو تبع کہا جاتا تھا بھئی، تو یہ ان بادشاہوں کے لقب ہوتے تھے۔ تو کہیں ذکر ہوتا، لوگ کہتے قیصر نے اس طرح کی بات کی ہے، تو سننے والا فوراً ہی سمجھ جاتا کہ فلاں ملک کے بادشاہ کی بات ہو رہی ہے یا کسریٰ نے اس طرح کیا ہے یا نجاشی نے اس طرح کیا ہے، تو یہ ان بادشاہوں کے لقب تھے بھئی۔
یہ اس زمانے کی بڑی حکومت تھی بھئی، جیسے بھئی کچھ زمانہ پہلے، آج کل تو صرف امریکہ جو ہے یہ دنیا میں سپر پاور، اس کی طاقت چلتی ہے ہر جگہ اور وہ من مانی کرتا ہے ہر جگہ اپنی، اس کچھ سال پہلے روس بھی اسی طرح تھا بھئی، روس اور امریکہ۔ اور پھر روس جو ہے وہ افغانستان میں گھس آیا اور جہاد کی برکت سے بے سر و سامان مجاہدین نے اس دنیا کی سپر پاور کو ختم کر دیا، انشاءاللہ عنقریب یہ جو دوسری سپر پاور ہے امریکہ، اس کو بھی مجاہدین ہی ختم کر دیں گے انشاءاللہ۔ اور انشاءاللہ ختم ہونے کے قریب ہی ہے، زیادہ دور کی بات نہیں، انشاءاللہ بہت جلدی اللہ ہمیں یہ خوشخبری سننے کو نصیب فرمائیں گے کہ امریکہ بالکل ختم ہو گیا بھئی۔
تو یہ جو تھے روم اور فارس والے، روم اور فارس اس زمانے کی سپر طاقتیں تھیں بھئی۔ ان کے پاس جب روم والوں کے بادشاہ کے پاس حضور علیہ السلام نے حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیجا، اسی طرح ہم اور بھی بادشاہوں کو خطوط لکھے، تو لے جانے والے ایک یا دو صحابہ وغیرہ ہوتے تھے اور اس میں ان بادشاہوں کو ایمان کی دعوت دی گئی ہوتی تھی کہ ایمان لے آؤ، میں اللہ کا آخری پیغمبر ہوں وغیرہ، تو دیکھو ایک یا دو صحابہ کو بھیجتے تھے اور ان بادشاہوں پر واجب ہوتا تھا ان کی بات کو ماننا، معلوم ہوا خبرِ واحد پر عمل واجب ہے۔
حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالی عنہ بھئی، اللہ نے ان کو بے انتہا حسن نصیب فرمایا تھا بھئی۔ اتنا زیادہ حسن، اتنا زیادہ حسن کہ حضور علیہ السلام فرماتے تھے: "یہ میری امت کے یوسف ہیں بھئی۔" اور حضرت جبرائیل علیہ السلام جب بھی حضور علیہ السلام کے پاس کبھی انسانی صورت میں تشریف لاتے تو حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالی عنہ کی صورت میں تشریف لاتے۔ ان کا بڑا اونچا لمبا قد بھئی، حسن و جمال، اتنا لمبا قد تھا، کہتے ہیں یہ گھوڑے پر بیٹھتے تھے تو دونوں پاؤں زمین پر لگتے تھے بھئی ان کے۔ اتنا زیادہ حسن و جمال تھا کہ یہ جب چلتے تھے تو عموماً اپنے چہرے کو ڈھانپ کر چلتے تھے بھئی۔
جی، تو دیکھیے اب کتاب پر بھئی۔ کہتے ہیں: وَأَيْضًا بَعَثَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ وَمُعَاذًا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ إِلَى الْيَمَنِ بِالْقَضَاءِ اور بھیجا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کو یمن کی طرف قضا کے ساتھ، وَدِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ إِلَى قَيْصَرِ الرُّومِ اور بھیجا دحیہ کلبی کو قیصرِ روم کی طرف، بِرِسَالَةِ كِتَابٍ پیغام رسانی کے ساتھ بھئی۔ کتاب خط کو کہتے ہیں بھئی۔ پیغام رسانی یعنی خط کے ساتھ ان کو بھیجا، يَدْعُوهُ إِلَى الْإِسْلَامِ دعوت دے رہے تھے ان کو اس اس کو اسلام کی طرف، قیصرِ روم کو۔ فَلَوْ لَمْ تَكُنْ أَخْبَارُ الْآحَادِ مُوجِبَةً لِلْعَمَلِ لَمَا فَعَلَ ذٰلِكَ اگر اخبارِ آحاد وہ عمل کو واجب کرنے والی نہ ہوتیں تو حضور علیہ السلام ایسا نہ فرماتے بھئی۔
وَهٰذِهِ الْأَخْبَارُ یہ اب اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ کہ بحث چل رہی ہے کون سی؟ کہ خبرِ واحد پر عمل واجب اور اس کے دلائل ذکر ہو رہے ہیں۔ اور دلائل کے طور پر آپ نے یہ جو اتنی حدیثیں ذکر کیں، یہ سب خبرِ واحد ہیں۔ بات چل رہی ہے، اس بات کس کے لیے کرنا ہے؟ خبرِ واحد اور دلیل بھی کیا ذکر کر رہے ہیں؟ خبرِ واحد۔ بھئی پہلے خبرِ واحد پر عمل کا واجب ہونا تو ثابت ہو، پھر اس کو دلیل بھی بنا سکتے ہیں آپ، خبرِ واحد تو خبرِ واحد کے لیے خبرِ واحد ہی کو آپ دلیل بنا رہے ہیں بھئی۔
تو جواب دیں گے آگے کہ بھئی ٹھیک ہے، یہ جتنی ہم نے حدیثیں ذکر کیں، یہ خبرِ واحد ہیں، لیکن چونکہ امت نے، ساری امت نے اس کو قبول کر لیا ہے، تو یہ مشہور کے درجے میں ہو گئیں۔ تو یہ کس کے درجے میں ہوئیں؟ مشہور کے، لہذا اب اخبارِ آحاد کے ذریعے اخبارِ آحاد کو ثابت کرنا نہ ہوا، بلکہ خبرِ مشہور کے ذریعے خبرِ آحاد کو ثابت کرنا ہوا۔ کہتے ہیں: وَهٰذِهِ الْأَخْبَارُ وَإِنْ كَانَتْ آحَادًا اور یہ اخو احادیث جو ہیں، اگرچہ آحاد ہیں، لٰكِنْ لَمَّا تَلَقَّتْهُ الْأُمَّةُ بِالْقَبُولِ لیکن جب امت نے ملاقات کی ہے ان سے قبولیت کے ساتھ، یعنی امت نے جب ان کو کیا کر لیا؟ قبول کر لیا، صَارَتْ بِمَنْزِلَةِ الْمَشْهُورِ تو یہ کس کے درجے میں ہو گئیں؟ مشہور کے درجے میں ہو گئیں، فَلَا يَلْزَمُ إِثْبَاتُ خَبَرِ الْآحَادِ بِأَخْبَارِ الْآحَادِ تو اخبارِ آحاد کو اخبارِ آحاد سے ثابت کرنا لازم نہ آیا بھئی۔
وَوَقَعَ فِي بَعْضِ النُّسَخِ قَوْلُهُ اور بعض نسخوں کے اندر مصنف کا یہ قول بھی آیا ہے: وَالْإِجْمَاعِ وَالْمَعْقُولِ، عَطْفًا عَلَى الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ یہ عطف ہے کس پر؟ کتاب اور سنت پر۔ فَالْإِجْمَاعُ، اجماع... بھئی خبرِ واحد پر عمل کرنا واجب ہے، اس کی دلیل کیا ہے؟ اجماع بھی اس کی دلیل ہے اور معقول یعنی اس کی عقلی بھی دلیل ہے، وہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ فَالْإِجْمَاعُ اجماع یہ ہے: وَهُوَ أَنَّ الصَّحَابَةَ احْتَجُّوا بِأَخْبَارِ الْآحَادِ فِيمَا بَيْنَهُمْ کہ صحابہ نے انہوں نے دلیل کے طور پر ذکر کیا اخبارِ آحاد کو، حجت پیش کی کس کے ساتھ؟ خبرِ واحد کے ساتھ حجت پیش کی فِيمَا بَيْنَهُمْ آپس میں۔
وَاحْتَجَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ عَلَى الْأَنْصَارِ بِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ "الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ" اور دلیل پیش کی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے انصار پر حضور علیہ السلام کے اس قول کے ساتھ کہ: "الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ" خلفاء قریش میں سے ہیں۔ خلفاء کس میں سے ہیں؟ قریش۔ فَقَبِلُوهُ مِنْ غَيْرِ نَكِيرٍ تو انہوں نے قبول کیا اس کو بغیر انکار کے۔
بھئی حضور علیہ السلام کا انتقال ہوا بھئی، اب صحابہ میں آپس میں بحث ہو رہی ہے کہ خلیفہ کس کو بنایا جائے؟ انصار ہیں مدینہ کے رہنے والے، مہاجرین ہیں مکہ کے رہنے والے، تو اب کس میں سے خلیفہ ہو؟ اس میں اس پر موقع پر بحث جو ہو رہی تھی، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ فرمانے لگے کہ چنانچہ بحث ہو رہی تھی، حضرت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ فرمانے لگے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: "خلفاء قریش میں سے ہوں گے۔" خلفاء کس میں سے ہوں گے؟ قریش میں سے، چنانچہ سب نے تسلیم کر لیا بھئی۔
اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جب انتقال ہوا تھا بھئی، اتنا غم اتنا غم صحابہ نے کبھی نہیں دیکھا تھا بھئی۔ اتنا غم کہ صحابہ کو جیسے کچھ ہو گیا ہو بھئی، یہ محبت کی وہ انتہا تھی جو اللہ نے ان کو نصیب فرمائی تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ جیسے جلیل القدر صحابی بھئی، ان کے ہوش و حواس بھی جاتے رہے، تلوار نکال لی اور فرمانے لگے: "جس نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا ہے، میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔" حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ، دوسرے صحابہ بھئی، بعضوں کی گو گوگوائی ہی چلی گئی، بات ہی نہیں کر سکتے، کئی کئی دن تک بولنا چاہتے ہیں، نہیں بول سکتے بھئی، گوائی ختم ہو گئی۔ بعضوں کی سماعت چلی گئی بھئی، سن سنائی ہی نہیں دیتا کچھ ان کو۔ بعض صحابہ کے ہاتھ پاؤں نے جواب دے دیا، اٹھنا چاہتے ہیں، اٹھ نہیں سکتے بھئی، چلنا چاہتے ہیں، چل ہی نہیں سکتے بالکل، اتنا زیادہ غم۔
اور حضرت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ بھئی، جن کو اللہ نے ازل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کے لیے چن لیا تھا، حضرت صدیق اس موقع پر بھی اندازہ ہوتا ہے اللہ نے کتنی قوتِ برداشت ان کو دی تھی بھئی، کتنی قوتِ برداشت! صحابہ تو تسلیم کر ہی نہیں رہے تھے، یہ کیسے ہو سکتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو جائے؟ ممکن ہی نہیں ہے، حضرت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: "حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے۔"
اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "میں نے جس شخص کے سامنے بھی دین کی دعوت پیش کی، اس نے ہمیشہ کچھ پس و پیش کی، کچھ کچھ نہ کچھ بات کی، صرف ایک صدیق ایسے شخص ہیں جن کے سامنے میں نے جب دعوت پیش کی تو انہوں نے بلا چون و چرا بغیر کچھ کہے فوراً میری تصدیق کر دی بھئی۔" اور صدیق کا کیا مقام کہ کہتے ہیں قیامت کے دن جب اللہ کا دربارِ جلال و جمال منعقد ہوگا اور لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے اللہ شدید غضب کی حالت میں ہوں گے اور حساب کتاب شروع نہیں ہوا ابھی، لوگ اتنی تکلیف میں ہوں گے، انبیاء کے پاس جائیں گے کہ آپ سفارش فرمائیں، اللہ حساب کتاب شروع فرما دیں اور ہوتے ہوتے پھر حضور علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو حضور علیہ السلام پھر اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑیں گے اور اللہ کی ایسی حمد و ثناء بیان کریں گے جو اس سے پہلے کبھی کسی نے نہیں سنی اور پھر اللہ آخر میں فرمائیں گے کہ: "ہاں کہو، کیا بات ہے؟" فرمائیں اگرچہ اللہ کو سب کچھ علم ہے، فرمائیں گے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ: "اللہ آپ حساب کتاب شروع فرما دیں۔" لوگوں کے اتنے گناہ ہوں گے بھئی اتنے گناہ، اللہ فرمائیں گے: "کس سے میں حساب شروع کروں؟"
تو کہتے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کو سامنے کر دیں گے کہ اے اللہ ان سے حساب شروع فرمائے، بھئی۔
اور پھر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سامنے آئیں گے تو اللہ کا سارا وہ غضب جو ہے ختم ہو جائے گا، بھئی۔
اور روایات میں آتا ہے کہ حضور علیہ السلام فرمانے لگے: "جنت کے آٹھ دروازے ہیں، کسی شخص کو کسی دروازے سے بلایا جائے گا، کسی کو کسی شخص دروازے سے بلایا جائے گا۔" تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ فرمانے لگے: "یا رسول اللہ! ایک سوال ویسے ذہن میں آیا، کیا کوئی ایسا شخص بھی ہو گا جس کو آٹھوں دروازوں سے بلایا جائے گا، ہر ایک کہے گا ہماری طرف آؤ، ہماری طرف آؤ؟" حضور علیہ السلام نے فرمایا: "ہاں، ایسے بھی ہوں گے اور میرا گمان ہے کہ تم بھی انہی میں سے ہو۔"
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ وہ شخص، بھئی، کہ مکہ کے دولت مند ترین تاجروں میں شمار ہوتے تھے، سارا مال حضور علیہ السلام پر آپ نے خرچ فرما دیا۔
اور نوبت یہاں تک پہنچی مدینہ منورہ کے اندر ایک مرتبہ بیٹھے ہوئے ہیں صحابہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کے اندر، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ایک پھٹی ہوئی چادر ہے اور کچھ پہننے کو بھی نہیں ہے اور اس پھٹی ہوئی تہ چادر اور تہبند وغیرہ اس پر کئی پیوند لگے ہوئے ہیں، ان کو بھی سمیٹ کر بیٹھے ہوئے ہیں کہ ستر کھل نہ جائے۔ پھٹی ہوئی بوسیدہ سی چادر ہے پیوند لگے ہوئے ہیں۔
تو اس موقع پر حضور علیہ السلام پر وحی آئی اور حضور علیہ السلام حضرت صدیق کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے کہ: "اے صدیق! اللہ نے آپ کی طرف سلام بھیجا ہے، بھئی۔"
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی چیخیں نکل گئیں، دھاڑیں مار مار کر رونے لگے کہ: "یا رسول اللہ! عمومی سلام آیا ہے یا اللہ نے باقاعدہ میرا نام لے کر سلام بھیجا ہے؟" حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ: "اللہ نے باقاعدہ آپ کا نام لے کر سلام بھیجا ہے۔"
اور وہ چیخیں مار کر رونے لگے اور فرمانے لگے: "واللہ السلام۔"
اور پھر حضور علیہ السلام پوچھ رہے، پوچھنے لگے کہ: "اللہ نے یہ پیغام بھی بھیجا ہے کہ اے صدیق! ایک تمہاری وہ حالت تھی کہ مکہ کے دولت مند ترین تاجر تھے، آج تمہاری یہ حالت ہے، کیا اس حال میں بھی تم مجھ سے راضی ہو؟"
حضرت صدیق نے روتے روتے جواب دیا کہ: "ہاں، ہاں اے اللہ کے پیغمبر! میں ہر حال میں اللہ سے راضی ہوں، ہر حال میں۔"
تو یہ وہ شخص جس کے لیے دربارِ الٰہی سے باقاعدہ سلام آیا، بھئی۔
ان کا کیا مقام تھا، بھئی! غزوۂ بدر کے اندر، غزوۂ بدر میں یہ شریک تھے، ان کے بیٹے جو تھے عبدالرحمٰن ابن ابی بکر، یہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے، وہ کفار کی طرف سے لڑنے آئے تھے غزوۂ بدر میں۔
تو خیر وہاں تو وہ بچ گئے اور بعد میں پھر اللہ نے ان کو بھی اسلام لانے کی توفیق نصیب فرمائی، تو بعد میں جب وہ اسلام لے آئے ایک دن گھر پر بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے، والد سے اپنے باتیں ہو رہی ہیں۔ باتوں باتوں میں ویسے بیٹے نے محبت میں کہا کہ: "ابا جان! کیا آپ کو پتہ ہے، غزوۂ بدر کے اندر میں آپ کی طرف مخالف سمت سے لڑنے آیا تھا اور لڑائی میں کئی مرتبہ آپ میرے سامنے آئے، لیکن میں نے آپ کے والد ہونے کا احترام کیا اور آپ کو قتل نہیں کیا، چھوڑ دیا، کئی مرتبہ آپ میرے سامنے آ گئے۔"
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کا جواب سننے کے قابل ہے، کہنے لگے: "اے بیٹے! واللہ، اگر تم میرے سامنے آ جاتے تو میں سب سے پہلے تمہاری گردن اڑاتا، کیونکہ تم پیغمبر کے مقابلے میں آئے تھے، میرے محبوبِ اعظم کے مقابلے میں آئے تھے۔"
عجیب شخص تھے! انسان صحابہ کے واقعات سنتا ہے حیران ہوتا ہے کہ یہ کیسے لوگ تھے، کیسے دل اللہ نے ان کو دیے، کیسے حوصلے، کیسی ہمت اور کتنی حضور علیہ السلام کی محبت اللہ نے ان کو نصیب فرمائی تھی۔ دعا کرو اللہ تعالی ہم سب کا، ہم سب کو آخرت میں صحابہ کے ساتھ جمع فرما دے اور ان کے ساتھ ہمارا حشر فرمائے، بھئی۔
جی، اب دیکھیے کتاب پر، بھئی۔ "وَهَكَذَا أَجْمَعُوا عَلَى قَبُولِ خَبَرِ الْآحَادِ فِي طَهَارَةِ الْمَاءِ وَنَجَاسَتِهِ" اور اسی طرح جو ہے، صحابہ نے اجماع فرمایا "عَلَى قَبُولِ خَبَرِ الْآحَادِ" خبر واحد کے قبول کرنے پر "فِي طَهَارَةِ الْمَاءِ وَنَجَاسَتِهِ" پانی کے طاہر اور نجس... پانی کی طہارت یا نجاست کے بارے میں کوئی خبر دے، خبر دینے والا ایک بھی ہو، اس کی خبر کو کیا کیا جائے گا؟ قبول کیا جائے گا جبکہ وہ عادل ہو، صحابہ نے اس پر اجماع فرمایا، معلوم ہوا خبر واحد پر عمل واجب ہے۔
"وَالْمَعْقُولُ" اور عقلی دلیل جو ہے، کہتے ہیں: "هُوَ أَنَّ الْمُتَوَاتِرَ وَالْمَشْهُورَ لَا يُوجَدَانِ فِي كُلِّ حَادِثَةٍ" کہ متواتر اور مشہور تو ہر واقعے کے اندر نہیں پائی جاتیں، "فَلَوْ رُدَّ خَبَرُ الْوَاحِدِ" اگر خبر واحد کو رد کر دیا جائے "فِيهَا" اس واقعے کے اندر بھی "لَتَعَطَّلَتِ الْأَحْكَامُ" تو احکام ہی کیا ہو جائیں؟ معطل ہو جائیں، بھئی! کسی چیز پر عمل ہی نہیں ہو سکے گا، کیونکہ ہر واقعے، ہر مسئلے کے بارے میں تو خبر متواتر اور خبر مشہور ہیں ہی نہیں، تو لازمی بات ہے کیا کرنا پڑے گا؟ خبر واحد کو بھی قبول کرنا پڑے گا، بھئی۔ یہ ہوئی عقلی دلیل۔ چلیے بس، بھئی، ہٰذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔