درس نمبر۔21
ولما فرغ عن بيان أنواع الأداء شرع في تقسيم القضاء فقال: ”والقضاء أنواع أيضا بمثل معقول وبمثل غير معقول وما هو في معنى الأداء“، وفي هذا التقسيم أيضا مسامحة وكأنه قيل: والقضاء أنواع؛ قضاء محض وهو إما بمثل معقول أو بمثل غير معقول، وقضاء في معنى الأداء.
دعاء بھی کرو اللہ وقت میں برکت ڈال دیں جی، اچھے طریقے سے سبق ہو جایا کرے بھئی۔ وقت کی برکت بڑی واضح چیز ہے، لوگ واضح محسوس کرتے ہیں، پتہ چلتا ہے بھئی۔ والد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے اوقات میں بڑی برکت تھی بھئی، بڑی برکت تھی۔
وقت میں برکت کا یہ معنی ہے کہ انسان تھوڑے سے وقت میں ہی بہت سا کام کر لیتا ہے بھئی، یہ وقت میں برکت اللہ ڈال دیتے ہیں، وقت کو اس کے لیے طویل فرما دیتے ہیں بھئی۔ چنانچہ طلباء خود ذکر کرتے ہیں کہ روزانہ آتے تھے سبق، ہمیں ظہر سے عصر تک سبق ہوتا تھا ان کا ترمذی کا۔ اور روزانہ سبق ہوتا، وہ لکھواتے تھے بھئی۔ کسی طالب علم کو ویسے بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی، جتنے طلباء بیٹھے ہوتے ان پر لازمی ہوتا تھا کہ وہ تقریر لکھیں بھئی۔
وہ بڑی قیمتی باتیں ہوتی تھیں، بڑے قیمتی دلائل ہوتے تھے بھئی، تو وہ جانتے تھے طلباء ان کو یاد نہیں رکھ سکتے، تو ان کا حکم ہوتا تھا سب لکھو بھئی۔ تو مستقبل کے لیے ہر ایک کے پاس ان کی وہ تقریر محفوظ ہو جاتی، اگرچہ یہ طریقہ تھا بڑا مشکل۔ لکھواتے ہوئے رفتار بالکل ختم ہو جاتی ہے، انسان کے سبق کی رفتار نہیں رہتی۔ لیکن پھر بھی اتنی برکت ہوتی تھی کہ بڑے اطمینان سے پوری ترمذی ختم ہو جاتی بھئی۔ اور جتنی تقریر اور علماء کرتے ہیں اس سے کئی گنا زیادہ ان کی تقریر ہوتی تھی بھئی، اور اس سے کئی گنا زیادہ دلائل ان کے ہوتے تھے بھئی۔ لیکن پھر بھی بڑے اطمینان سے سال کے اندر ترمذی ختم ہو جاتی۔
اور ترمذی ویسے ہی نہیں، اب تو جتنی بھی کتابیں دیکھ لیں اپ، کہیں بھی چلے جائیں، کسی بھی مدرسے میں چلے جائیں، ابتداء میں کچھ احادیث پر بحث کی جاتی ہے پھر تلاوت چلتی ہے بھئی۔ ہزار صفحے سے بھی بڑی کتاب ہے اور باریک لکھی ہوئی ہے، بے انتہا باریک لکھی ہوئی ہے، تو اس کو سال میں ختم کرنا وہ تلاوت کے ذریعے ختم کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے بھئی۔ تلاوت چلتی ہے بڑی مشکل سے امتحان کے قریب جا کر کچھ ختم ہو جاتی ہے۔ استاد درمیان میں بولتا ہی نہیں ہے، کوئی ایک ادھا لفظ کہیں بول دیا یہ معنی ہے اس کا، چلو بھئی۔ ترجمہ نہیں ہوتا کوئی حدیث کا، اور ان کی اتنی لمبی تقریر بھی ہوتی اور اس میں ہر ہر حدیث کا ترجمہ بھی کرتے جاتے تھے۔ بحثیں تو ہوتی ہی تھیں، پوری ترمذی کی ایک ایک حدیث کا اختتام تک ترجمہ بھی ساتھ ساتھ ہوتا جاتا تھا۔
تو طلباء بتاتے ہیں کاپیاں ہم لکھتے تھے، با اوقات ایسا بھی ہوتا کئی طلباء نے ہمیں خطوط میں یہ بات بتلائی بھئی، کہ ہم نے خود نوٹ کیا۔ کئی دفعہ ایسا ہوا حضرت شیخ رحمہ اللہ تشریف لاتے بہت دیر سے آتے بھئی۔ وقت آدھے سے بھی زیادہ گزر چکا ہے، آتے فرماتے بھئی جلدی جلدی لکھو آج ہم نے زیادہ پڑھنا ہے۔ ان کے تو ایک ایک جملے پر طلباء کی نظر ہوتی تھی، ان کا کوئی جملہ ویسے نہیں ہوتا تھا۔ کہتے ہیں جب حضرت شیخ یہ فرماتے زیادہ لکھنا ہے، ہم حیران ہوتے یہ تو وقت اتنا تھوڑا سا ہے زیادہ کیسے لکھ سکتے ہیں بھئی، بہت تھوڑا وقت رہتا تھا۔
تو کہتے ہیں حضرت شیخ لکھوانا شروع کرتے، سبق شروع ہو جاتا اور جب عصر کا وقت ہوتا سبق اپنے وقت پر بند ہو جاتا، نماز کا وقت ہونے والا ہے۔ تو کہتے ہیں اس وقت پھر صفحات ہم گنتے، روزانہ کتنے لکھتے ہیں آج کتنے لکھے ہیں، حیرت کی بات ہوتی اس دن ہم نے زیادہ صفحے لکھے ہوتے تھے بھئی۔ جتنی واضح برکت ہوتی تھی۔
جی، تو دیکھیے آگے سبق بھئی۔
ولما فرغ عن بيان أنواع الأداء شرع في تقسيم القضاء فقال: ”والقضاء أنواع أيضا بمثل معقول وبمثل غير معقول وما هو في معنى الأداء“، وفي هذا التقسيم أيضا مسامحة وكأنه قيل: والقضاء أنواع؛ قضاء محض وهو إما بمثل معقول أو بمثل غير معقول، وقضاء في معنى الأداء.
یہاں سے اب قضاء کی انواع بیان کریں گے بھئی، ابھی تک ادا کی قسمیں بیان ہو رہی تھیں وہ ختم ہوئیں تو اب قضاء کی قسمیں بیان کرنے لگے ہیں۔ "ولما فرغ عن بيان أنواع الأداء شرع في تقسيم القضاء" اور جب مصنف رحمہ اللہ ادا کی انواع کے بیان سے فارغ ہوئے تو وہ شروع ہو گئے قضاء کی تقسیم کے اندر، "فقال" پس فرمایا "والقضاء أنواع أيضا" اور قضاء بھی کئی قسم پر ہے، "بمثل معقول وبمثل غير معقول وما هو في معنى الأداء" ایک قضاء ہے کس کے ساتھ؟ بمثل معقول کے ساتھ، اور ایک قضاء ہے بمثل غیر معقول کے ساتھ، اور ایک وہ ہے اور ایک قضاء وہ ہے "هو في معنى الأداء" جو کس کے معنی میں ہو؟ ادا، ہے قضاء لیکن کس کے معنی میں ہے؟ ادا کے معنی میں ہے بھئی، ادا کے معنی میں ہے۔
بھئی قضاء، قضاء کس کو کہتے تھے؟ مثل واجب کو سپرد کرنا، یہ کیا تھا؟ قضاء۔ اب یہ جو مثل واجب کو سپرد کیا جائے گا، اگر اس کے مثل ہونا عقل بھی بتلا دے کہ یہ اسی کے مثل ہے تو اس کو کہیں گے قضاء بمثل معقول، قضاء بمثل معقول۔ مثلاً ایک شخص کا رمضان کا روزہ رہ گیا تو بعد میں اسی جیسا روزہ رکھے گا تو یہ روزہ بھی اسی روزے کی طرح ہے، یا ایک شخص کی ظہر کی نماز رہ گئی تو بعد میں وہ اس کی قضاء کرتا ہے، اسی طرح چار رکعت پڑھے گا تو یہاں عقل کیا بتلاتی ہے کہ یہ یہ چار رکعتیں بھی اسی واجب یعنی چار رکعتوں کی طرح ہیں۔ تو روزہ جو قضاء کر رہا ہے وہ بھی اس پہلے روزے کی طرح ہے اور یہ بھی اسی کی طرح، تو یہ کیا ہے؟ قضاء بمثل معقول۔
اور کبھی قضاء بمثل غیر معقول ہوتی ہے بھئی، یعنی عقل کے اندر اس کے مثل ہونا سمجھ میں نہیں آتا، عقل اس کا ادراک نہیں کر سکتی کہ یہ کس اعتبار سے اس کے مثل ہے، جیسے شریعت نے حکم دیا ہے شیخ فانی کے بارے میں، وہ شخص جو بہت بوڑھا ہو گیا روزے نہیں رکھ سکتا شریعت نے کیا کہا؟ ہر روزے کے بدلے میں کیا کر دو؟ نصف صاع گندم، فدیہ دے دو نصف صاع گندم کسی کو دے دو۔ اب یہ جو نصف صاع گندم دے رہا ہے روزے کے بدلے میں، روزے کے بدلے میں، تو یہ نصف صاع گندم کس اعتبار سے روزے کے مثل ہے؟ عقل سے یہ پتہ نہیں چلتا بھئی، تو یہ قضاء ہوئی مثل معقول کے ساتھ یا مثل غیر معقول کے ساتھ؟ مثل غیر معقول۔
نماز کے قضاء ہوئی تھی اسی طرح کی نماز پڑھے گا تو وہ اس کے مثل ہے، عقل سے عقل بھی کہتی ہے یہ اسی کی طرح ہے، واجب بھی کتنی ہوئی تھی مثلاً ظہر کی؟ چار رکعت، یہ پڑھ بھی چار رکعت رہا ہے، وہ بھی اسی طرح تھی اس میں قیام تھا، رکوع تھا، سجدے تھے، اس میں بھی قیام ہے، رکوع ہے، سجدے ہیں، ہر لحاظ سے اسی کی طرح ہے۔ صرف وقت بدل گیا ہے، روزہ ایک قضاء ہوا تھا بعد میں اسی طرح روزہ رکھتا ہے تو عقل بھی بتلاتی ہے یہ اس کے مثل ہے، اس میں بھی کیا تھا؟ فجر سے لے کر فجر سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور جماع سے اپنے اپ کو روکنا تھا، اس میں بھی اسی طرح ہے، تو یہ ہر لحاظ سے اسی طرح ہیں صرف وقت بدل گیا کہ وہ وقت تھا رمضان کے مہینے کا اور یہ وقت دوسرا ہے۔
تو یہاں عقل مثل ہونے کا بتلا دیتی ہے، لیکن جو فدیہ دے رہا ہے شیخ فانی روزے کے لیے وہ عقل اس کا ادراک نہیں کر سکتی کہ یہ کس اعتبار سے اس کے مثل ہے، واجب تو ہوا تھا روزہ اور یہ کیا دے رہا ہے؟ یہ فدیہ دے رہا ہے، تو یہ کس اعتبار سے اس کے مثل ہے؟ عقل اس کا ادراک نہیں کر سکتی، تو یہ ہوئی قضاء بمثل غیر معقول بھئی۔
تو انہوں نے کیا کہا؟ قضاء کی کئی قسمیں ہیں، ایک قضاء بمثل معقول اور ایک قضاء بمثل غیر معقول "وما هو في معنى الأداء" اور ایک وہ قضاء جو کس کے معنی میں ہو؟ ادا کے معنی میں ہو بھئی، یہ تیسری قسم بھی آگے آ رہی ہے بھئی کہ مثلاً کسی نے کیا کیا؟ تکبیراتِ عید کی تکبیرات جو ہیں رکوع کے اندر وہ قضاء کرتا ہے، کیا کرتا ہے؟ رکوع کے اندر، بھئی ایک شخص عید کی نماز میں آ کر شامل ہوا اور عید کی نماز میں رکوع کے اندر آ کر شامل ہوا بھئی، اب وہ عید کی نماز میں ہر رکعت میں تین تکبیرات واجب ہیں بھئی، اب جب یہ رکوع میں شامل ہوا تو تین تکبیرات اس کی رہ چکی تھیں تو شریعت کا حکم ہے کہ کہ رکوع کے اندر ہی وہ تکبیرات کہہ لو، ہاتھ اٹھانے کی ضرورت نہیں کیا کر لو؟ رکوع میں ہی وہ تکبیرات کہہ لو۔
تو اب دیکھیے، یہ تکبیرات قضاء ہیں، کیا ہیں؟ کیونکہ ان کا محل کب تھا؟ ان کو کس وقت کہنا تھا؟ قیام میں، لیکن یہ کب کہہ رہا ہے؟ رکوع کے اندر، تو محل بدل گیا لہٰذا یہ قضاء ہے، لیکن یہ قضاء اس قضاء کے اندر بھی ادا والا معنی ہے اس اعتبار سے کہ رکوع بھی تو قیام کی طرح ہے کیونکہ اس میں انسان کا نصف اسفل، نچلا آدھا دھڑ تو قیام کی ہی حالت میں ہے بھئی، اوپر والا دھڑ تو آدھا جھکا دیا لیکن باقی آدھا دھڑ تو کیا ہے؟ اسی طرح قیام کی طرح ہی ہے، تو لہٰذا اس میں ادا والا معنی بھی آ گیا کہ ان کا محل کہاں تھا؟ قیام میں تھا اور ابھی بھی من وجہ کیا ہے؟ قیام ہے بھئی، تو یہ ہے تو قضاء لیکن اس میں کون سا معنی آ گیا؟ ادا والا معنی آ گیا، بات سمجھ میں آ گئی کہ نہیں آئی بھئی؟
تو یہ معنی ہے کہ "وما هو في معنى الأداء" اور ایک وہ قضاء ہے جو ادا کے معنی میں ہو، کہتے ہیں "وفي هذا التقسيم أيضا مسامحة" شارح فرما رہے ہیں کہ اس تقسیم کے اندر بھی مسامحت ہے، "وكأنه قيل" گویا کہ یوں کہا گیا "والقضاء أنواع" کہ قضاء کئی قسم پر ہے، "قضاء محض" بھئی اور علماء نے اور تقسیم کی، انہوں نے پہلے قضاء مطلق کی دو قسمیں بنائیں، کہ قضاء مطلق دو قسم پر ہے: ایک قضاء محض اور ایک قضاء فی معنی الاداء، ایک قضاء محض اور ایک قضاء فی معنی الاداء، قضاء محض وہ جس میں ادا کا معنی کسی بھی لحاظ سے نہ ہو، اور قضاء فی معنی الاداء نام سے ہی پتہ چل رہا ہے جس میں ادا والا معنی ہو، وہ قضاء جس میں ادا والا معنی ہو، تو دونوں میں تناقص ہے یا نہیں بھئی؟ ایک وہ قضاء جس میں ادا والا معنی ہے، ایک وہ قضاء جس میں ادا والا معنی نہیں ہے۔
اور پھر اس قضاء محض کے آگے دو قسمیں بنائیں جس میں ادا والا معنی نہیں ہے، کہ یہ دو قسم پر ہے: ایک بمثل معقول اور ایک بمثل غیر معقول بھئی، تو اس طرح تقسیم کی بھئی، اور پھر مثل معقول اور مثل غیر معقول میں بھی تناقص ہے، ایک وہ جس میں مثل ہونے کا عقل ادراک کر سکتی ہے، ایک وہ جس میں مثل ہونے کا عقل ادراک نہیں کر سکتی، تو ان میں بھی تناقص ظاہر ہے، تو قسموں میں تناقص ہوا کرتا ہے، اور شارح نے یہاں تینوں قسمیں اکٹھی ذکر کر دیں، مثل معقول اور مثل غیر معقول اور ایک وہ قضاء جو فی معنی الاداء، تو مثل معقول اور بمثل غیر معقول ان میں تو تناقص ہے، لیکن وہ جو فی معنی الاداء ہے اس کا ان سے تناقص کا پتہ نہیں چل رہا، حالانکہ قسموں میں آپس میں کیا ہوتا ہے؟ تناقص ہوتا ہے، تو شارح آگے بتلائیں گے یوں تقسیم کرنی چاہیے تھی، جواب یہ کہ بھئی شارح کی یہی مراد ماتن کی یہی مراد ہے، ماتن کی یہی مراد ہے لیکن چونکہ متن ہے مختصر بات کرتے ہیں تو بس جو حاصلِ کلام تھا اسی کو ذکر کر دیا، اس صورت میں بھی تین قسمیں بننی تھیں اب بھی تین قسمیں بن گئیں بھئی۔
کہتے ہیں "وكأنه قيل" گویا کہ یوں کہا گیا کہ "والقضاء أنواع" کہ قضاء کئی قسم پر ہے "قضاء محض" ایک کیا ہے؟ قضاء محض ہے، آگے چند لفظوں کے بعد آ رہا ہے "وقضاء في معنى الأداء" اور دوسری کیا ہے؟ قضاء فی معنی الاداء ہے، پھر قضاء محض کی تقسیم کی تھی وہ بیچ میں ہی بتا دی، کیا؟ کہ "وهو إما بمثل معقول أو بمثل غير معقول" کہ وہ قضاء محض وہ مثل معقول کے ساتھ ہو گی یا مثل غیر معقول کے ساتھ ہو گی، جی، اور دوسری قسم کیا بتائی تھی؟ "وقضاء في معنى الأداء"، "ويعنى بالقضاء المحض" اور مراد جو ہے قضاء محض کے ذریعے "ما لا يكون فيه معنى الأداء أصلا" کہ وہ وہ قضاء ہے کہ جس کے اندر نہ ہو ادا والا معنی اصلاً، سرے سے ہی، "لا حقيقة ولا حكما" نہ تو حقیقۃً ادا والا معنی ہو اور نہ حکماً، حکم بھی نہ لگایا گیا ہو اس پر ادا ہونے کا، "وبما هو في معنى الأداء" اس کا عطف کس پر ہے؟ "بما هو"، اس کا عطف ہے جی؟ کس پر عطف ہے؟ "بالقضاء المحض" پر، مراد قضاء محض سے کیا بتلایا؟ قضاء محض سے کیا مراد ہے؟ جس کے اندر ادا کا معنی سرے سے ہی نہ ہو، "ويعنى بما هو في معنى الأداء" اور مراد اس قضاء سے جو ادا کے معنی میں ہو "أن يكون بخلافه" جو اس کے خلاف یعنی قضاء محض کے خلاف ہو، یعنی جس کے اندر ادا والا معنی پایا جائے۔
"والمراد بالمثل المعقول" اور مثل معقول سے مراد یہ ہے کہ "أن تدرك مماثلته بالعقل مع قطع النظر عن الشرع" کہ ادراک ہو سکے یعنی جانا جا سکے اس کی مماثلت کو عقل کے ذریعے قطع نظر شریعت سے، شریعت سے قطع نظر عقل بھی کیا کر سکے؟ اس کی مماثلت کا ادراک کر سکے، جیسے بھئی قضاء نماز پر ظہر کی نماز آپ قضاء پڑھ رہے ہیں، شریعت سے قطع نظر اپ کی عقل بھی بتلاتی ہے کہ یہ یہ مثل ہے اس اصل کے، یہ جو یہ ہے مثل کس کے؟ اصل کے، وہ بھی چار تھیں رکعتیں یہ بھی چار، جو واجب کی یہ اسی واجب کی مثل ہے۔
یہ معنی ہے کہ مراد مثل معقول سے یہ ہے کہ "أن تدرك مماثلته بالعقل مع قطع النظر عن الشرع" کہ اس کی مماثلت کا ادراک عقل کے ذریعے بھی ہو سکے قطع نظر شریعت سے، "وبغير المعقول" اور مراد جو ہے بمثل غیر معقول سے کہ "أن لا تدرك المماثلة إلا شرعا" کہ وہاں مماثلت کا ادراک نہ ہو سکے یعنی مماثلت کا پتہ نہ چل سکے "إلا شرعا" مگر کس اعتبار سے؟ شریعت کے اعتبار سے، جیسے فدیے کا مثل ہونا روزے کے یہ عقل نہیں بتلا سکتی، البتہ کس نے بتایا؟ شریعت نے بتلایا کہ یہ اس کا مثل ہے، اسی لیے شریعت نے اس کا حکم اس کا حکم دیا بھئی، معلوم ہوا یہ اس کا مثل، تو یہاں مماثلت کا ادراک جو ہے شرعاً ہوا، تو "ويكون العقل قاصرا عن درك كيفيته" اور عقل جو ہو وہ قاصر ہو اس کی کیفیت کے جاننے سے، درک اور درک دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں بھئی، را کو ساکن بھی اور فتحہ بھی، اس لیے اور عقل جو ہے وہ قاصر ہوتی ہے اس کی کیفیت کو جاننے سے، "لا أن العقل يناقضه" یہ نہیں کہ عقل اس کے مناقض ہو بھئی، اس کی نفی کرے، عقل اس کا ادراک نہیں کر سکتی، یہ نہیں کہ عقل اس کی نفی کرتی ہے۔
سمجھ میں آئی بات؟ کہ یہ اس کے عقل اس کی نفی کرے ایسا نہیں ہوتا، ہاں عقل اس کو جان نہیں سکتی بھئی، یہ نفی تو یہ ہے نہ کہ عقل کیا کہے؟ یہ کسی بھی اعتبار سے مثل، یہ تو اس کی ضد ہے، یہ تو کیا ہے؟ اس کے ضد ہے، یہ تو اس کا مماثل، تو عقل تو غیر معقول کا یہ معنی نہیں کہ عقل اس کی نفی کرے بلکہ بلکہ معنی یہ ہے کہ عقل اس کا ادراک نہ کر سکے، اسے جان نہ سکے کہ کس اعتبار سے مماثلت ہے بھئی۔
"وهذا القضاء" اور یہ جو قضاء ہے، کون سی بھئی؟ بمثل غیر معقول، "لا بد فيه من سبب جديد بالاتفاق" اس کے اندر ضروری ہے سبب جدید کا ہونا بالاتفاق بھئی، بھئی آپ نے پڑھا کہ ہمارے نزدیک قضاء کا سبب بھی وہی ہے جو ادا کا سبب تھا، یعنی جس نص سے ادا آئی ہے اسی نص سے قضاء بھی آئی ہے، لیکن یہ جو قضاء بمثل غیر معقول ہے اس کے اندر سبب جدید کا ہونا بالاتفاق ضروری ہے بھئی، بالاتفاق ہونا، کیونکہ اس میں ایک نیا مثل شریعت بتلاتی ہے جو ہمیں پہلے پتہ ہی نہیں ہوتا، تو شریعت نص آئے گی تو پتہ چلے گا، نص ہی نہیں آئے گی تو ہمیں کیسے پتہ چلے گا یہ اس کا مثل ہے بھئی، تو اس کے اندر نئی نص کا ہونا ضروری ہے۔
مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ رہا ہے؟
وإنما الخلاف في القضاء بمثل معقول اور اختلاف تو جو ہے وہ صرف قضا بمثل معقول کے اندر ہے۔ کون سا اختلاف؟
کہ بھئی اس کے وجوب کا سبب وہی نص ہے یا کوئی نیا سبب ہے؟ ہمارے نزدیک جس نص سے اداء آئی تھی، اسی نص سے قضا بھی واجب ہے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک قضا کے لیے نص جدید کا ہونا، تو یہ جو اختلاف ہے، یہ مثل قضا بمثل معقول کے اندر ہے۔ بمثل غیر معقول میں تو بالاتفاق نئی نص کا ہونا ضروری ہے۔
تو یہ معنی ہے۔ جی، كالصوم للصوم جیسے کہ روزہ روزے کے لیے، هذا نظير للقضاء بمثل معقول یہ مثال ہے اس قضا کی جو کس کے ساتھ ہو؟ روزے کی قضا کس کے ساتھ؟ جیسے کہ روزہ ہے للصوم کس کے لیے؟ روزہ۔ یعنی ایک روزہ رہ گیا تھا اس کے لیے قضا کیا کرتے ہیں؟ روزہ ہی رکھتے ہیں، تو یہ مثل معقول ہے۔ کہتے ہیں هذا نظير للقضاء بمثل معقول یہ مثال ہے اس قضا کی جو مثل معقول کے ساتھ ہو۔ أي كقضاء الصوم للصوم بھئی شارح نے متن میں آیا تھا كالصوم للصوم شارح نے کاف اور الصوم کے درمیان قضاء کا لفظ بڑھا دیا۔ صوم سے پہلے قضاء کا لفظ بڑھا دیا، کیا کہا؟ كقضاء الصوم للصوم تاکہ مثال ممثل لہ کے مطابق ہو جائے۔ ممثل لہ کون ہے؟ کس کی مثال بیان کی جا رہی ہے؟ قضا بمثل معقول کی، تو لہذا یہ بھی قضا ہوگی تو یہ اس کی مثال بنے گی، اس لیے قضا کا لفظ بڑھا دیا بھئی۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ كقضاء الصوم للصوم جیسے قضا کرنا روزے کی روزے کے لیے فإنه أمر معقول اس لیے کیونکہ یہ عقل میں آنے والی بات ہے لأن الواجب لا يسقط عن الذمة إلا بالأداء اس لیے کیونکہ واجب جو ہوتا ہے وہ ساقط نہیں ہوتا ذمے سے مگر ادا کے ذریعے ہی أو بإسقاط صاحب الحق یا اس صاحب حق کے ساقط کر دینے سے وما لم يوجد أحدهما يبقى في ذمته اور جب تک ان دونوں میں سے کوئی ایک چیز نہ پائی جائے تو وہ چیز باقی رہے گی اس شخص کے ذمے۔ وہ چیز اس شخص کے ذمے باقی رہے گی۔
بھئی، آپ نے میرے پیسے دینے ہیں مثلاً؟ تو یہ پیسے آپ کے ذمے واجب ہیں۔ تو اگر دے دیں تو پھر آپ کا ذمہ فارغ ہوگا یا میں اس کو معاف کر دوں تب آپ کا ذمہ فارغ ہوگا۔ اور اگر ان دونوں میں سے کوئی صورت نہ پائی گئی تو آپ کا ذمہ بھی فارغ نہیں۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے کہ جب ایک شخص پر روزہ واجب ہو گیا یا ظہر کی نماز واجب ہو گئی، تو اس روزے کو کیا کرے گا؟ روزہ رکھے گا تو اس کا ذمہ فارغ ہوگا یا اللہ اس کو معاف کر دیں جو صاحب حق ہیں جنہوں نے واجب کیا ہے، تو پھر روزہ اس کے ذمے سے ساقط ہوگا۔ یا وہ نماز اسی طرح وہ نماز رہ گئی تھی، نماز پڑھ لے گا تو ذمے سے ساقط ہوگی یا اللہ معاف فرما دیں تو پھر ساقط ہوگی، ویسے ساقط نہیں ہوگی۔
تو یہاں پر بھی یہ مثل معقول ہے بھئی، عقل میں آنے والی بات ہے کہ دو چیزوں میں سے تو کوئی بھی نہیں پائی گئی۔ اس نے نماز پڑھی بھی نہیں اور اللہ تعالی نے بھی معاف نہیں فرمائی، اس پر کوئی دلیل نہیں کہ اللہ نے معاف فرما دی ہو۔ تو جب ایک چیز اس کے ذمے واجب تھی اور اس نے ادا بھی نہیں کی اور اللہ صاحب حق یعنی اللہ نے معاف بھی نہیں کی، تو وہ ابھی بھی کیا ہونی چاہیے؟ اس کے ذمے باقی ہونی چاہیے۔ جیسے آپ مثلاً میرے پیسے ابھی آپ نے نہیں دیے اور نہ میں نے معاف کیے ہیں، تو عقل کیا کہتی ہے؟ آپ کے ذمے یہ پیسے باقی ہونے چاہئیں بھئی، ختم نہیں ہونے چاہئیں، تو یہ عقل میں آنے والی بات ہے۔
یہ معنی ہے کہ فإنه أمر معقول اس لیے کیونکہ یہ عقلی بات ہے، یہ عقلی بات ہے لأن الواجب لا يسقط عن الذمة إلا بالأداء اس لیے کیونکہ واجب جو ہے وہ ساقط نہیں ہوتا ذمے سے مگر ادا کے ذریعے ہی أو بإسقاط صاحب الحق یا صاحب حق کے ساقط کر دینے سے۔ جی، وما لم يوجد أحدهما اور جب ان دونوں میں سے کوئی ایک چیز بھی نہیں پائی گئی تو يبقى في ذمته وہ چیز کیا ہونی چاہیے؟ اس کے ذمے میں باقی ہونی چاہیے۔
والفدية له اس کا فدیہ کا عطف ہے الصوم پر، كالصوم۔ تو یہ بھی کاف کے تحت ہے۔ اور جیسے کہ والفدية له فدیہ دینا له، ها ضمیر روزے کو راجع ہے، روزے کے لیے هذا نظير للقضاء بمثل غير معقول یہ مثال ہے اس قضا کی جو مثل غیر معقول کے ساتھ ہو فإن الفدية بمقابلة الصوم لا يدركه عقل اس لیے کیونکہ فدیہ روزے کے مقابلے میں ہو، یہ اس کا ادراک عقل نہیں کر سکتی إذ لا مماثلة بينهما صورة اس لیے کیونکہ ان دونوں کے درمیان کوئی مماثلت اور مشابہت نہیں ہے باعتبار صورت کے۔ صورت کے اعتبار سے کوئی مشابہت نہیں، روزہ اور چیز اور فدیہ اور چیز۔
وهو ظاهر اور یہ بات ظاہر ہے ولا معنى اور معنی کے اعتبار سے بھی ان میں مشابہت نہیں ہے بھئی۔ کیوں؟ لأن الصوم تجويع النفس اس لیے کیونکہ وہ روزہ جو ہے وہ نفس کو بھوکا رکھنا ہے والفدية إشباع اور فدیہ کیا ہے؟ جی، والفدية إشباع، فدیہ کا عطف صوم پر ہے۔ والفدية إشباع اور فدیہ جو ہے وہ پیٹ کا بھرنا ہے۔ روزہ نفس کو بھوکا رکھنا ہے اور فدیہ پیٹ کا بھرنا ہے۔ بھئی، آپ فدیہ دیتے ہیں تاکہ غریب اور مسکین کی حاجت پوری ہو جائے بھئی، تو اس کو آپ نے گویا سیر کر دیا۔ تو روزہ ہے نفس کو بھوکا رکھنا اور فدیہ ہے نفس کو کسی دوسرے کے نفس کو سیر کرنا، اس کو بھرنا۔
تو کہتے ہیں لہذا دونوں میں معنی کے اعتبار سے بھی کوئی مشابہت نہیں ہے بھئی، صورت کے اعتبار سے بھی نہیں اور معنی کے اعتبار سے بھی نہیں۔ وهذه الفدية لكل اب مقدار ذکر کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں وهذه الفدية لكل يوم هو نصف صاع من بر اور یہ فدیہ جو ہے ہر دن کے لیے وہ نصف صاع ہے گندم میں سے، نصف صاع بھئی۔
صاع کا لفظ آیا مولانا، صاع بھئی۔ صاع جانتے ہو کتنی مقدار کو کہتے ہیں بھئی؟ اوزان شرعیہ آپ کو معلوم ہونے چاہئیں بھئی، یاد ہونے چاہئیں بھئی۔ لکھ لیجیے بھئی، قیمتی بات آپ کو بتلاؤں بھئی اوزان شرعیہ۔
یاد رکھیے! آٹھ چاول کے دانے ہوں، تو یہ ایک رتی بنتی ہے۔ جلدی جلدی لکھو بھئی۔ آٹھ چاول کے دانے ہوں تو یہ ہوئی ایک رتی۔ آٹھ رتیاں ہوں تو یہ ہوا ایک ماشہ۔ آٹھ رتیاں ہوں تو ایک ماشہ۔ 12 ماشے ہوں تو یہ ہوا ایک تولہ۔ 12 ماشے ہوں تو یہ ہوا ایک تولہ۔
آج کل تو گرام چلتے ہیں بھئی، تو یہ ایک تولہ برابر ہوتا ہے 11.664 گرام۔ 11.664 گرام بھئی۔
اچھا! اور 80 تولے ہوں تو یہ بنتا ہے ایک سیر بھئی۔ 80 تولے ہوں تو یہ بنتا ہے ایک سیر۔ بھئی، پہلے یہاں سیر رائج تھے، اب تو کلو چلتے ہیں۔ کلو سیر سے کچھ زائد ہوتا ہے۔ تو سیر کتنے تولے کا تھا؟ 80 تولے کا۔ اب کلو چل رہا ہے، کلو لگ بھگ 86 تولے ہے بھئی۔ تقریباً 86 تولے ہے، پورا تو نہیں 86 تولے، لیکن تقریباً 86 تولے ہے، تو سیر اور کلو میں تقریباً چھ تولے کا فرق ہوا بھئی۔
یہاں تک لکھ لیا بھئی؟ اب یاد رکھیے! پانچ جو کے دانے ہوں، تو یہ بنتا ہے ایک قراط۔ قراط کئی جگہ وزن کا ذکر آیا ہوگا بھئی۔ تو یہ کتنا وزن ہوتا ہے؟ پانچ جو کے دانے ہوں تو یہ وزن کیا کہلاتا ہے؟ ایک قراط کہلاتا ہے بھئی، ایک قراط بھئی۔
ایک قراط بھئی۔ 20 قراط ہوں، 20 قراط ہوں، تو یہ ہے برابر ہے ایک دینار کے بھئی۔ ایک دینار کے برابر ہے۔
اور یہ دینار، اسی کا دوسرا نام مثقال ہے۔ تو یہ ایک دینار، ایک مثقال، یہ ایک ہی چیز ہے بھئی۔ مثقال ث کے ساتھ، قاف دو نقطوں والا۔ یہ ایک مثقال بھئی۔
تو ایک دینار اور ایک مثقال کیا ہوئے؟ برابر ہیں بھئی۔ یہ تو میں نے قراط میں وزن بتلایا دینار کا، کتنے قراط ہوں؟ 20 قراط۔
ماشوں کے اعتبار سے، وہ تولوں کے یہ والے حساب سے، ساڑھے چار ماشے کے برابر ہوتا ہے ایک دینار بھئی، ساڑھے چار ماشے۔
تو یہ درہم، یہ دینار کا وزن آپ کو پتہ لگ گیا بھئی، دینار سونے کا ہوا کرتا تھا بھئی۔
درہم کا بھی سنو بھئی! 14 قراط ہوں تو یہ ایک درہم بنتا ہے بھئی۔ 14 قراط ہوں تو یہ ایک درہم بنتا ہے۔
اور ماشوں کے اعتبار سے یہ درہم برابر ہے تین ماشے، تین ماشے، ایک رتی اور خمس رتی۔ تین ماشے، ایک رتی اور خمس رتی، رتی کا پانچواں حصہ بھئی، رتی کا پانچواں حصہ۔ یعنی تین ماشے اور سوا رتی سے کچھ کم بھئی، یہ درہم ہے۔
درہم چاندی کا ہوتا تھا، درہم 14 قراط کا ہے اور دینار 20 قراط کا، تو دیکھو دینار اس سے بڑا ہے بھئی۔ دینار کا وزن زیادہ ہوتا تھا بھئی۔
اسی طرح ایک وزن آپ پڑھتے ہیں اوقیہ بھئی، اوقیہ۔ اوقیہ لفظ آپ پڑھتے ہوں گے، اوقیہ نہیں ہے بھئی، اوقیہ ہے، اوقیہ۔ یا مشدد ہے اور شروع کے ہمزہ پر پیش ہے، اوقیہ۔
یاد رکھیے! اوقیہ برابر ہے ساڑھے دس تولے کے۔ ساڑھے دس تولے۔ یعنی 40 درہم کے برابر یہ وزن ہوا۔ 40 درہموں میں ایک اوقیہ کتنا وزن ہے؟ ساڑھے دس تولے، یعنی کہ 40 تولے بھئی، 40 درہم بھئی، درہم بھئی۔
اچھا! اب رطل وزن یاد رکھو، ایک رطل برابر ہوتا ہے پونے 34 تولے کے بھئی۔ ایک رطل برابر ہوتا ہے پونے 34 تولے کے۔ پونے 34 تولے۔
دو رطل ہوں تو یہ کہلاتا ہے مد، م د بھئی۔ دو رطل ہوں تو یہ وزن کہلاتا ہے مد۔
چار مد ہوں تو یہ ہوتا ہے ایک صاع بھئی۔ چار مد ہوں تو یہ ہوتا ہے ایک صاع بھئی۔ یعنی دواس یہ بنا 270 تولے کا ایک صاع، 270 تولے کا ایک صاع ہوا۔
سیروں کے حساب سے بھی لکھ لو صاع بن گیا تین سیر، تین سیر چھ چھٹانک، یعنی ڈیڑھ پاؤ۔ تین سیر چھ چھٹانک، یہ ایک صاع ہے مولانا، صاع۔
اور 60 صاع ہوں تو یہ ایک وسق بنتا ہے، و س ق دو نقطوں والا بھئی۔ 60 صاع ہوں تو یہ ایک وسق بنتا ہے، وسق بھئی۔
وسق بنتا ہے۔ منوں کے حساب سے یہ وزن ہوا پانچ من، پانچ من اڑھائی سیر بھئی۔ پانچ من اڑھائی سیر۔
اور 12 وسق ہوں تو یہ بنتا ہے ایک کر۔ 12 وسق ہوں تو یہ بنتا ہے ایک کر بھئی۔ کر وزن بھی آئے گا کئی جگہ آپ کتابوں میں پڑھیں گے، کر کا ذکر آ جائے گا، آپ کو پتہ ہونا چاہیے۔ 12 وسق ہوں تو کتنا بنتا ہے؟ ایک کر بنتا ہے بھئی۔
پھر یاد رکھیے! صاع کے بارے میں میں نے کیا بتلایا؟ یہ کتنے اہ کتنے مد کا ہے صاع؟ چار مد کا۔
یاد رکھیے! صاع تین قسم پر ہے بھئی، صاع تین قسم پر ہے۔
صاع تین قسم پر ہے۔ ایک صاع ہاشمی ہے۔ ایک صاع ہاشمی ہے۔ یہ برابر ہوتا ہے 32 رطل کے، یہ برابر ہے 32 رطل کے۔
ایک صاع حجازی ہے۔ ایک صاع حجازی ہے۔ یہ برابر ہے پانچ رطل اور ثلث رطل کے، پانچ رطل اور رطل کا تیسرا حصہ۔ یہ کیا ہے؟ صاع حجازی۔
اور تیسرا ہے صاع عراقی۔ صاع عراقی، یہی صاع حنفی ہے بھئی، یہی صاع حنفی ہے۔ یہ برابر ہے آٹھ رطل کے، یہ برابر ہے آٹھ رطل کے۔
بس بھئی تفصل ختم ہوئی بھئی۔
دیکھا بھئی؟ اوزان شرعیہ کا پتہ چل گیا بھئی۔ اب آپ فقہ کی انشاءاللہ کوئی کتاب اٹھائیں، کہیں زکوۃ کا ذکر آتا ہے، مثقال میں وزن آ جائے، مثقال میں آ جائے، دراہم میں آ جائے، دینار میں آ جائے، آپ فوراً حساب لگا سکتے ہیں، یہ اتنے تولے بنتے ہیں بھئی، اتنے تولے۔ یا اتنے تولے، ماشے وغیرہ یہ بنتے ہیں بھئی۔
اور صاع کے بارے میں میں نے بتلایا کہ صاع جو ہیں تین ہیں مولانا، ایک صاع ہاشمی ہے جو 32 رطل کا ہوتا ہے، یہ بڑا صاع ہے۔ ایک سب سے چھوٹا صاع ہے جو صاع حجازی کہلاتا ہے اور وہ پانچ رطل اور ثلث رطل ہے یعنی رطل کا تیسرا حصہ، اور ایک صاع عراقی ہے، یہی صاع حنفی کہلاتا ہے صاع حنفی بھئی، اور یہ آٹھ رطل کا ہے۔ اوپر میں نے کیا لکھوایا تھا؟ جہاں صاع، صاع چار مد کا ہے اور ایک مد میں کتنے رطل تھے؟ دو رطل تھے، تو کتنے رطل بن گئے؟ آٹھ رطل۔ یہ صاع، تو دراصل علماء کا، فقہاء کا اختلاف ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کا جو صاع تھا وہ کون سا تھا بھئی؟
عند الاحناف ہمارے فقہاء کی تحقیق کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جو صاع تھا وہ صاع عراقی تھا اور وہ آٹھ رطل کا ہوتا ہے۔ لہذا اب ہم جہاں بھی صاع کا ذکر آئے گا، ہم اس سے کیا مراد لیتے ہیں؟ صاع عراقی یعنی آٹھ رطل والا مراد لیتے ہیں۔
یہاں تک تفصیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، اب دیکھیے بھئی ذرا، کتاب پر دوبارہ دیکھیے، کہتے ہیں وهذه الفدية لكل يوم هو نصف صاع من بر اور یہ فدیہ ہر دن کے لیے وہ نصف صاع ہے گندم میں سے، نصف صاع، کتنا ہو گیا؟ جی؟ چار رطل، اچھا تولوں میں بتاؤ بھئی؟ 135 تولے بھئی، 135 اور سیروں کے حساب سے بتاؤ بھئی؟ ڈیڑھ سیر اور تین چھٹانک بھئی، تو آپ سنتے رہتے ہیں بھئی۔ وہ کیا کہتے ہیں؟ کہ فترانہ وغیرہ کتنا ہے؟ پونے دو سیر، یہ لگ بھگ پونے دو سیر ہے، پورا پونے دو سیر نہیں ہے بھئی، اس سے کچھ کم ہے، لیکن کیا کہتے ہیں یہ؟ پونے دو سیر بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اب آج آپ کو پوری تحقیق ہو گئی یہ کتنا ہوتا ہے بھئی۔ بھئی دیکھو نا! کتنا کہا؟ ڈیڑھ سیر اور تین چھٹانک، اچھا ایک پاؤ میں کتنے چھٹانک ہوتے ہیں؟
چار چھٹانک ہو گئے نا ایک پاؤ میں؟ تو ڈیڑھ سیر اور تین چھٹانک، چار چھٹانک ہوتے تو پورے پونے دو ہوتے لیکن یہ پورے پونے دو نہیں، اس سے تھوڑے سے کم ہیں بھئی کم ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: یہ نصف صاع ہے من گندم میں سے او دقیقۃ ہے آپ کی کتابوں میں؟ او دقیقیہ ہونا چاہیے، بھئی یہ تا نہیں ہے حا ہے بھئی۔ ضمیر ہے ضمیر۔ آگے سویقۃ بھی ہے؟ سویقۃ نہیں سویقیہ حا ہے بھئی ضمیر۔
تو کہتے ہیں یہ نصف صاع ہے گندم میں سے او دقیقیہ او سویقیہ یا اس کے آٹے میں سے، او سویقیہ یا اس کے ستو میں سے۔ نصف صاع گندم دے دیں یا نصف صاع گندم کا آٹا دے دیں یا نصف صاع گندم کے ستو دے دیں۔ او زبیب یا نصف صاع کیا دے دیں؟ کشمش دے دیں۔ او صاع من تمر یا ایک صاع ہے کس میں سے؟ کھجور میں سے، او شعیر یا کس میں سے؟ جو میں سے۔ جو یا کھجور دینی ہے تو پورا صاع بھئی، تین سے چھ چھٹانک اور باقی جو چیزیں ذکر ہوئیں وہ دینی ہے تو نصف صاع بھئی۔
للشیخ الفانی کس کے لیے؟ شیخ فانی کے لیے۔ شیخ فانی کہتے ہیں بہت بوڑھے کو بھئی۔ بہت بوڑھے کو بھئی فانی اس لیے اس کو کہتے ہیں کہ اتنا بوڑھا ہو گیا ہے کہ اس کی قوتیں، قوت اور قدرت فنا ہو چکی ہے بھئی۔ اب یہ کتنے والا، کتنی عمر والا شیخ فانی کہلائے گا؟ تو بعضوں نے لکھا ہے 50 سال والا کیا ہے شیخ فانی، لیکن یہ درست نہیں ہے مولانا، یہ دیکھا جائے گا بھئی جب وہ عاجز ہے روزوں سے تو اب اسے کہیں گے یہ شیخ فانی ہے۔ روزے وغیرہ رکھنے سے، ہاں تو دارومدار عجز پر ہے اسی لیے مصنف آگے ذکر کرتے ہیں الذی یعجز عن الصوم، وہ شیخ فانی جو روزوں سے عاجز ہو، روزوں سے عاجز ہو۔
لأجل قولہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے، بھئی دیکھو عبارت ملاؤ پیچھے: وہذہ الفدیۃ للشیخ الفانی، یہ فدیہ کس کے لیے ہے؟ شیخ فانی کے لیے ہے، لأجل قولہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے، تو یہ جو شیخ فانی ہوگا اس کے لیے ہے جائز بھئی اللہ کے اس قول کی وجہ سے: وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مساكين، اور وہ لوگ جو اس روزے کی طاقت نہیں رکھتے، وعلى الذين يطيقونه اور وہ لوگ جو روزے کی طاقت نہیں رکھتے، فدية ان پر کیا ہے؟ فدیہ ہے۔ کیا فدیہ ہے؟ طعام مساكين یعنی کہ مسکین کو کھانا کھلانا ہے، مسکین کو کھانا کھلانا ہے یعنی ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کو کیا کرے؟ کھانا کھلائے بھئی۔
کہتے ہیں: على أن تكون كلمة لا مقدرة، بنا بر اس کے کہ کلمہ لا یہاں مقدر ہے آیت کے اندر، وعلى الذين لا يطيقونه، تو یہ يطيقونه سے پہلے کیا مقدر ہے؟ لا بھئی، تو وہ لوگ جو روزے کی طاقت نہیں رکھتے ان کے اوپر فدیہ ہے یعنی ایک مسکین کا کھانا۔ تو کہتے ہیں: على أن تكون كلمة لا مقدرة، بنا بر اس کے کہ کلمہ لا یہاں مقدر ہے، أي لا يطيقونه، أو تكون الهمزه فيه للسلب، یا اس کے یا اس بنا پر کہ اس کے اندر جو ہمزہ ہے وہ سلب کے لیے ہے، کس کے لیے ہے؟ بھئی کبھی کبھار باب افعال کا ہمزہ آپ نے خاصیات ابواب پڑھی ہوں گی، باب افعال کا ہمزہ کبھی کبھار سلب کے لیے آتا ہے، کس کے لیے؟ تو دیکھو أطاق يطیق باب افعال میں آیا بھئی، تو اس کا کیا معنی ہے؟ طاقت کا سلب ہونا، جس میں طاقت نہ ہو، أطاق کا کیا معنی ہوگا؟ جس میں طاقت نہ ہو۔
اور مثال سن لیں بھئی، قیمتی مثال بھئی ہمیشہ یاد رکھیں بھئی۔ جیسے مولانا، فلوس عربی میں پیسوں کو کہتے ہیں لیکن اسی کو باب افعال میں لے گئے، أفلس يفلس إفلاسا فهو مفلس، مفلس کسے کہتے ہیں؟ پیسوں والا یا جس کے پاس نہ ہوں؟ جس کے پاس نہ ہوں، تو دیکھا یہاں بھی ہمزہ دراصل کس لیے آیا بھئی؟ سلب کے لیے، أفلس يفلس۔ تو اسی طرح یہ أطاق يطیق بھی سلب کے لیے ہے بھئی، أي يسلبون الطاقة یعنی جن کی طاقت کیا کر لی گئی ہو؟ طاقت سلب کر لی گئی ہو۔
ليدل، بھئی یہ کہتے ہیں یہ دو تاویلیں ہم نے کیوں کیں؟ اس سے پہلے لا کو مقدر یا تو اس سے پہلے لا مقدر ہے یا ہمزہ کس لیے ہے؟ سلب کے لیے ہے، یہ دو تاویلیں ہم نے اس لیے کیں ليدل على الشيخ الفاني تاکہ نص کس پر دلالت کرے؟ شیخ فانی پر، کیونکہ ہم نے یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ فدیہ کا حکم صرف کس کے لیے ہے؟ شیخ فانی اور اس کے لیے یہ تاویل کرنا پڑے گی کہ يطيقونه سے پہلے لا مقدر ہے یا اس کا ہمزہ کس کے لیے ہے؟ سلب کے لیے ہے۔
فدیے کے بارے میں بھئی ایک اور بات یاد رکھیں۔ کہ شیخ فانی کو روزے نہیں رکھ سکتا تو وہ کیا کرے؟ فدیہ دے دے، فدیہ دے دے، سمجھے؟ تو یہ فدیہ اس کے حق میں کہتے ہیں روزے کے قائم مقام ہو جائے گا بھئی، اور اس فدیے کے ذریعے اسے، فدیہ ادا کرے گا تو اسے ثواب مل جائے گا جیسے کہ روزے کی وجہ سے اسے ثواب ملتا تھا کیونکہ شریعت نے اسے کیا کیا ہے اس کا قائم مقام بنایا ہے تو اسے ثواب مل جائے گا۔ جیسے مٹی کو پانی کا قائم مقام کر دیا گیا ہے تاکہ اس کے استعمال سے طہارت حاصل ہو جائے جیسے پانی سے کیا حاصل ہوتی تھی؟ تو جیسے پانی سے طہارت حاصل ہوتی تھی اسی طرح مٹی کو قائم مقام کیا گیا تو اس سے بھی وہ طہارت حاصل ہو گئی۔ تو جیسے روزے سے ثواب حاصل ہوتا تھا اسی طرح اس کے قائم مقام فدیے کو کر دیا گیا شیخ فانی کے لیے تاکہ اس سے بھی اسے وہ ثواب حاصل ہو جائے۔
کہتے ہیں: وأما إذا حملت على ظاہرھا، اور اگر اس آیت کو اس کے ظاہر پر ہی محمول کیا جائے، فہی منسوخۃ، تو پھر یہ آیت کیا ہے؟ منسوخ ہے۔ پھر تو ظاہر کے اعتبار سے تو یہ ترجمہ بنتا ہے: وعلى الذين يطيقونه فدية، اور وہ لوگ جو روزے کی طاقت رکھتے ہیں ان کے لیے فدیہ ہے کہ ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔ تو کہتے ہیں یہ حکم منسوخ ہے بھئی، یہ حکم کیا ہے؟ منسوخ ہے، تو پھر یاد رکھیے اس صورت میں فدیے کا ثبوت اجماع صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے ہوگا، صحابہ کے اجماع سے بھئی فدیے کا ثبوت ہوگا۔
تو کہتے ہیں: وأما إذا حملت على ظاہرھا، اور اگر اس آیت کو محمول کیا جائے اس کے ظاہر پر ہی، فہی منسوخۃ، تو یہ منسوخ ہے، على ما قيل، بنا بر اس کے جو کہا گیا ہے، إن في بدء الإسلام كان المطيق مخيرا، کہ اسلام کی ابتدا کے اندر طاقت رکھنے والے کو اختیار ہوتا تھا، بين أن يصوم وبين أن يہدي، اس کے درمیان کہ وہ روزہ رکھے یا وہ فدیہ دے دے۔ ابتدائے اسلام میں کیا ہوتا تھا؟ اختیار ہوتا تھا بھئی، اختیار ہوتا تھا، چاہے تو روزہ رکھے، چاہے تو کیا کرے؟ فدیہ دے، تو یہ ابتدائے اسلام سے متعلق ہے کہ وہ لوگ جو طاقت رکھتے ہیں وہ بھی کیا کر سکتے ہیں؟ فدیہ دے سکتے ہیں لیکن پھر بعد میں اس کو کیا کر دیا گیا؟ منسوخ کر دیا گیا بھئی منسوخ کر دیا گیا۔
تو کہتے ہیں: ثم نسخت بدرجات، پھر اس کو منسوخ کر دیا گیا درجات کے ساتھ یعنی درجہ بدرجہ اس کو کیا کر دیا گیا؟ منسوخ کر دیا گیا، على ما حررتہ في التفسير الأحمدي، اسی اس طریقے پر جو کہ میں نے تحریر کیا ہے تفسیر احمدی کے اندر بھئی، اس طریقے پر یہ درجہ بدرجہ منسوخ کر دیا گیا بھئی۔ کس طرح درجہ بدرجہ منسوخ ہوا مولانا؟ یہ آپ حاشیے میں ذرا دیکھ لیجیے بھئی۔ بڑی پیاری تفصیل بیان کی ہے۔
قولہ على ما حررتہ إلى آخرہ، قال في التفسير الأحمدي: مصنف رحمہ اللہ تفسیر احمدی کے اندر فرماتے ہیں: اچھا، وإن أردت زيادة توضيح للمقام فاستمع لما ذكره الإمام الزاھد حيث قال: وقد كان فرض الصوم في السنة في يوم واحد، کہتے ہیں یہ روزے کا فرض جو تھا سال کے اندر ایک دن تھا بھئی، یعنی سال میں ایک روزہ فرض تھا، ایک روزہ، وہو يوم عاشوراء، اور وہ کس دن تھا؟ یوم عاشورا کو بھئی دسویں محرم، ثم نسخت فرضيتہ بصوم ثلاثة أيام، ثلاثة أيام البيض، پھر اس کی فرضیت منسوخ ہو گئی تین ایام بیض کے روزوں کی وجہ سے، پہلے ایک روزہ تھا پھر کیا ہوئے؟ ایام بیض کے تین روزے فرض کر دیے گئے بھئی، في كل شہر، ہر مہینے میں، ایام بیض 13، 14، 15 تاریخ، یعنی ہر مہینے کی 13، 14 اور 15 کو روزہ رکھنے کا حکم آیا۔
ثم نسخت فرضيتہ بصوم شہر رمضان، پھر ان روزوں کی فرضیت بھی منسوخ ہو گئی رمضان کے مہینے کے روزوں کی وجہ سے، لكن مع اختيار الصائم، مگر مگر کس کے ساتھ؟ روزہ رکھنے والے کے، ہاں، رمضان کے روزے کی فرضیت منسوخ ہوئی پھر رمضان کے روزے آئے لیکن اختیار ہوتا تھا روزہ رکھنے والے کو، إن شاء صام وإن شاء أفطر، چاہے تو روزہ رکھے اور چاہے تو افطار کرے، وأعطى لكل يوم نصف صاع من حنطة مسكيناً، اور بال ہر دن کے لیے نصف صاع گندم میں سے کسی مسکین کو، كما قال الله تعالى، جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وعلى الذين يطيقونه، أي يطيقون الصيام، یعنی وہ وہ لوگ جو روزے کی طاقت رکھتے ہیں، ولا يصومون، اور روزہ نہیں رکھتے، فدية طعام مساكين، ان پر کیا ہے؟ فدیہ ہے، ایک مسکین کا کھانا۔
ثم أخبر، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی، أن الصوم خير من الإطعام، کہ روزہ کیا ہے؟ کھانا کھلانے سے یعنی فدیہ دینے سے بہتر ہے، كما قال الله تعالى، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وأن تصوموا خير لكم، اور تمہارا روزے رکھنا تمہارے لیے بہتر ہے، دیکھو۔
ثم نسخ الاختيار، پھر اس اختیار کو کیا کر دیا گیا؟ منسوخ کر دیا گیا بھئی، یہاں وہ آیت حاشیے میں درج نہیں مولانا، وہ ہے آیت فمن شهد منكم الشهر فليصمه، فمن شهد منكم الشهر فليصمه، فليصمه، تو جو تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو اسے چاہیے کہ روزے رکھے، امر آ گیا امر بھئی، امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے، تو اختیار ختم ہوا وجوب آ گیا۔
پھر یاد رکھیے بھئی: تو کہتے ہیں: وشرع صوم النهار مع صوم الليل، مشروع ہوا دن کا روزہ رات کے روزے کے ساتھ، بھئی ابتدا میں صرف دن کا روزہ نہیں ہوتا تھا رات کا بھی روزہ ہوتا تھا، دیکھیے خود تفصیل بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں: وكان الرجل يفطر بعد غروب الشمس إلى أن يصلي العشاء، اور کوئی آدمی جو ہے وہ افطار کرتا تھا غروب آفتاب کے بعد عشاء کی نماز پڑھنے تک، ثم حرم عليه الأكل والشرب والجماع إلى ما بعد غروب الشمس، پھر اس کے اوپر حرام کر دیا جاتا تھا کھانا پینا اور جماع غروب، إلى ما بعد غروب الشمس من الغد، اگلے دن کے غروب آفتاب کے بعد تک بھئی، بس مغرب سے عشاء تک اس میں روزہ نہیں، باقی رات آگے اور اگلا پورا دن کیا ہوتا تھا؟ اگلے مغرب تک روزہ ہوتا تھا۔
ثم نسخ صوم الليل بقولہ، پھر یہ رات کا روزہ بھی منسوخ کر دیا گیا اللہ کے اس قول کے ساتھ: علم الله أنكم كنتم تختانون أنفسكم، اللہ کو معلوم ہے کہ تم اپنے نفسوں کو کیا کرتے ہو؟ اپنے نفسوں کے ساتھ خیانت کرتے ہو، فتاب عليكم، تو اللہ نے تم پر رجوع کیا، تم پر عنایت فرمائی، وعفا عنكم، اور تمہیں معاف کر دیا، تو یہ حکم آیا، وصار الصوم من طلوع الفجر الثاني إلى غروب الشمس فرضا، اور فجر ثانی کے طلوع سے لے کر غروب آفتاب تک روزہ کیا کر دیا گیا؟ یہ روزہ فرض ہو گیا مولانا، واستقر الأمر على هذا، اور اسی پر معاملہ کیا ہوا؟ برقرار رہا۔
جی، تفصیل کا پتہ چل گیا بھئی؟ اچھا، اب دیکھیے کتاب پر بھئی۔
وقضاء تكبيرات العيد في الركوع، اور قضا کرنا عید کی تکبیرات کو رکوع کے اندر، هذا نظير للقضاء الذي هو شبيه بالأداء، یہ مثال ہے اس قضا کی جو مشابہ ہے ادا کے ساتھ، یعنی أن من أدرك الإمام في صلاة العيد في الركوع، یعنی جس نے امام کو پایا عید کی نماز میں رکوع کے اندر، وفاتت عنه التكبيرات الواجبة، اور اس شخص سے فوت ہو گئیں عید کی تکبیرات واجبہ، وہ تکبیرات واجبہ اس سے کیا ہو گئیں؟ رکوع میں جا کے شامل ہوا ہے، فإنه يكبر في الركوع عندنا، تو وہ جو ہے وہ تکبیر کہے گا رکوع میں ہی ہمارے نزدیک، من غير رفع يد، بغیر ہاتھوں کو اٹھائے، بھئی یہ اس وقت ہے اگر خوف ہے، اول تو نیت کر کے کھڑے کھڑے فوراً کیا کر لے؟ تین تکبیرات کہہ لے، لیکن اگر خوف ہے میں تین تکبیرات کہوں گا جب تک امام کیا ہو جائے گا؟ رکوع سے اٹھ جائے گا تو بس پھر رکوع میں چلا جائے اور رکوع کے اندر وہ تین تکبیرات کہہ لے، تین کیا کر لے؟ تکبیرات کہہ لے، من غير رفع يد، ہاتھوں کو اٹھائے بغیر بھئی، ہاتھ نہیں اٹھانے بھئی، کیوں؟ کہتے ہیں، اچھا ہاتھ نہیں اٹھانے ہیں، وہ آگے ذکر آ رہا ہے، تو کہتے ہیں رکوع میں تکبیرات کہے گا کیوں؟ لأن الركوع فرض، اس لیے کہ رکوع کیا ہے؟ فرض ہے، والتكبيرات واجبة، اور تکبیرات کیا ہیں؟ واجب ہیں، فيراعى حالهما على حسب ما يمكن، تو ان دونوں کی حالت کی رعایت رکھی جائے گی بقدر الامکان مولانا، بقدر الامکان ان دونوں کی رعایت رکھی جائے گی بھئی۔
تو رکوع بھی ہو گیا اور اس کے اندر کیا آ گئیں؟ تکبیرات بھی آ گئیں مولانا۔ وأما رفع اليد في التكبيرات، اور باقی یہ ہاتھوں کا اٹھانا تکبیرات کے اندر، ووضعها على الركبتين، اور اسی طرح ہاتھوں کا رکھنا دونوں گھٹنوں پر پھر رکوع، کس کے اندر؟ رکوع کے اندر، فكلاهما سنة، یہ دونوں کیا ہیں؟ رکوع میں ہاتھ دونوں ہم گھٹنوں پر رکھتے ہیں یہ بھی سنت، تکبیرات میں جو ہم ہاتھ اٹھاتے ہیں کانوں تک یہ بھی کیا ہے؟ سنت، فلا يترك أحدهما بالآخر، تو دونوں میں سے کسی ایک ایک کو دوسرے کی وجہ سے نہیں چھوڑا جائے گا بھئی، ایک کو دوسرے کی وجہ سے نہیں چھوڑا جائے گا یعنی اب رکوع میں ہو تو گھٹنوں پر ہی ہاتھ رکھو، اب ہاتھ اٹھانے کی ضرورت نہیں، اس سنت کے لیے اس سنت کو نہیں چھوڑا جائے گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
وهذا قضاء من حيث الذات، اور یہ قضا ہے ذات کی حیثیت، اعتبار سے، لأن محلها القيام، اس لیے کیونکہ ان تکبیرات کا محل کیا تھا؟ قیام تھا، قیام کی حالت میں ہونا چاہیے تھا، قبل الركوع، رکوع سے پہلے، وقد فات، لیکن وہ محل کیا ہو چکا؟ فوت ہو چکا، تو اب رکوع میں پڑھ رہے ہیں، ادا کر رہے ہیں تو یہ کیا ہے؟ قضا ہے، ادا نہیں ہے بلکہ قضا۔
ولكنه شبيه بالأداء، لیکن یہ قضا ادا کے بھی مشابہ ہے، کہتے ہیں: لأن الركوع يشبه القيام، اس لیے کہ رکوع کیا ہے؟ قیام کے مشابہ ہے، لقيام نصف الأسفل على حاله، بوجہ کھڑے رہنے کے نچلے نصف کا اپنی حالت پر، بھئی بدن کا جو نچلا نصف حصہ ہے وہ کیا ہے؟ اپنی حالت پر ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ کمر کو آپ نے جھکا دی لیکن پاؤں تو اسی طرح سیدھے ہیں جس طرح قیام میں تھے، تو یہ رکوع من وجہ گویا قیام ہے، تو یہ رکوع کس کے مشابہ ہوا؟ قیام کے مشابہ ہوا، سمجھ میں آیا بھئی؟
تو یہ قضا بھی کس کے مشابہ ہوئی؟ ادا کے، کیوں مشابہ ہوئی؟ کیونکہ رکوع کے اندر بھی کیا ہے، رکوع کی کس کے ساتھ مشابہت ہے؟ قیام کے ساتھ مشابہت ہے، تو رکوع میں ادا کی تو گویا کہ قیام میں ہی ادا کی بھئی، تو یہ ادا کے ساتھ مشابہت آ گئی۔
ولأن من أدرك الإمام في الركوع، اور اس لیے کہ جس نے امام کو رکوع میں پا لیا، فقد أدرك الركعة مع جميع أجزائها من القيام والقراءة تقديرا، تو تحقیق اس نے پوری رکعت کو پا لیا اس کے سارے اجزا سمیت قیام اور قرائت میں سے تقدیرًا، سارے رکعت کو کیا کیا اس نے؟ اس نے کیا کیا رکعت کو؟ اپنے تمام اجزا کے ساتھ پا لیا تقدیرًا بھئی، تقدیرًا یعنی شریعت نے یہ حکم لگا دیا جس نے رکوع کو پا لیا گویا اس نے رکعت کو سارے اجزا سمیت قرائت، قیام سمیت پا لیا۔
فالاحتياط أن يؤتى بها فيه، پس احتیاط اسی کے اندر ہے کہ لایا جائے ان تکبیرات کو فیہ، ای فی الرکوع، کس کے اندر؟ رکوع کے اندر ہی ان تکبیرات کو ادا کیا جائے۔
وعند أبي يوسف رحمه الله لا تقضى هذه التكبيرات في الركوع، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ان تکبیرات کو قضا نہیں کیا جائے گا رکوع کے اندر، لأنه قد فات محلها، اس لیے کہ ان کا محل فوت ہو چکا ہے، كما لا تقضى القراءة والقنوت فيه، جیسے کہ قضا نہیں کی جاتی قرائت اور قنوت کی رکوع کے اندر، جیسے قرائت رہ جاتی ہے لیکن اس کی قضا رکوع میں نہیں کی جاتی، اور جیسے قنوت رہ جائے دعائے قنوت، رکوع میں شریک ہو گئے تو اب رکوع میں قنوت کی قضا نہیں کی جائے گی بھئی، تو اسی طرح یہاں پر بھی ان تکبیرات کی قضا نہیں کی جائے گی بھئی۔
مسئلہ یہاں تک سب کو سمجھ میں آ گیا بھئی۔
و وجوب الفدیۃ فی الصام للاحتیاط اور فدیے کا جو وجوب ہے نماز کے اندر للاحتیاط وہ احتیاط کی وجہ سے ہے۔
جواب سوال مقدر یہ جواب ہے ایک سوال مقدر کا تقریر ہو تقریر اس کی یہ ہے کہ ان الفدیۃ فی الصام للشیخ الفانی لما کان ثابتۃ بنف بن بنف غیر معقول کہ جب فدیہ شیخ فانی کے لیے روزے میں جب یہ ثابت تھا ایسی نس کے لیے جو غیر معقول ہے یعنی جس کا ادراک عقل بھئی عقل یہ اس بات عقل خود ادراک کر سکتی ہے کہ فدیہ مثل ہے کس کا؟ روزے کا۔
سمجھ میں آیا؟ تو لیکن شریعت نے بتلا دیا کہ شیخ فانی کے لیے فدیہ کیا ہے مثل ہے روزے کا مثل ہے۔ تو یہ اب نس سے ثابت ہوا تو یہ معقول ہوا یا غیر معقول بھئی یہ جو بیان کیا نس نے بھئی غیر معقول یعنی عقل اس کا ادراک نہیں کر سکتی تو ینبغی ان تقصر علیہ تو مناسب تھا اے احناق کہ تم اس پر انحصار کرتے۔
کیا کرتے؟ انحصار کرتے و لم تقیس علیہ اور تم اس پر قیاس نہ کرتے مما توا علیہ صلاۃ وہ شخص جو کہ مر گیا ہے اس حال میں کہ اس پر نماز ہے (یعنی اس کے ذمے فرض نماز باقی ہے اس حال میں کہ کوئی مر گیا ہے) مع انکم قل قلتم باوجوہ مگر اس کے باوجود تم تم نے کہا ہے کہ انہ اذا مات کہ جب کوئی شخص مر جائے و علیہ صلاۃ اور اس پر نماز ہو و اوصی بالفدیہ اور وہ فدیے کی وصیت کر دے یجب علی الوارث تو وارث پر واجب ہے ان یفدی بعوض کل صلاۃ
ما یفدی لکل صام علی الاصح تو وارث پر واجب ہے کہ وہ فدیہ دے ہر نماز کے عوض میں ما وہ مقدار یفدی لکل صام جو فدیہ دیتا تھا کس کے لیے؟ ہر روزے کے لیے علی الاصح اصح قول کے مطابق بھئی۔
بھئی یہ سوال سوال اعتراض ہوتا ہے احناف پر بھئی کہ شیخ فانی کے بارے میں جو فدیے کا حکم آیا وہ ایسی نس کے لیے ہے جس کا جو کیا ہے غیر معقول ہے اور قیاس معقول میں تو کیا جا سکتا ہے غیر معقول میں قیاس بھئی جب ایک چیز کی وجہ سے عقل فیصلہ ہی نہیں کر سکتی عقل کو اس کا ادراک ہی نہیں کر سکتی تو اس حکم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ متعددی بھی نہیں کیا جا سکتا بھئی۔
حکم کا متعددی کرنا تو تب ہی ہوگا جب عقل اس کا ادراک بھی کر سکے بھئی۔
مثلا دیکھو شراب حرام ہے۔ اور کیا وجہ ہے اس کی؟ نشہ ہے۔ یہی نشہ کس کے اندر نظر اتا ہے؟ ہیروئن کے اندر تو اس پر بھی کیا حکم لگ گیا؟ حرام ہونے کا حکم لگ گیا بھئی۔
اب دیکھو یہ عقل نے بتلایا ہے کہ نہیں بھئی کہ شراب کے حرام ہونے کی وجہ کیا ہے؟
نشہ ہے اور وہی نشہ کس میں ہے؟ تو عقل ایک چیز کا ادراک کر رہی ہے تو حکم بھی متعددی کرے گی ایک چیز کا وہ ادراک کر ہی نہیں سکتی تو حکم بھی وہاں پر متعددی تو یہ بھی نس غیر معقول تھی اس کا ادراک عقل نہیں کر سکتی لہذا یہ اپنے مورث پر بند رہنی چاہیے اس پر کسی دوسری چیز کو قیاس نہیں کرنا چاہیے لیکن اے احناف تم کیا کرتے ہو؟
نماز کو کس پر قیاس کر لیتے ہو؟
روزے پر قیاس کر لیتے ہو۔
بھئی روزے پر کیسے قیاس کرتے ہو کہ وہاں روزہ رکھنے سے عاجز تھا تو کیا دے دیتا تھا؟
فدیہ۔
اسی طرح ایک شخص کی نمازیں باقی تھیں۔
اس کا انتقال ہوا لیکن اس نے وصیت کر دی تھی کہ میرے ذمے اتنی نمازیں باقی ہیں میری طرف سے فدیہ دے دینا تو اپ اے احناف کہتے ہو کہ وارث پر واجب ہے کہ یہ کیا کرے؟
فدیہ دے۔
فدیہ دے بھئی فدیہ دے۔
معلوم ہوا اس کو تم نے کس پر قیاس کیا؟
روزے پر کیونکہ نماز کا تو یہ حکم نہیں ہے کہ اس میں کیا دیا جائے اس کے بدلے میں؟ فدیہ دیا جائے تو تم نے اس کو قیاس کیا روزے پر اور روزے میں تو خود یہ حکم کیا تھا؟ غیر معقول تھا عقل اس کا ادراک نہیں کر سکتی تھی کہ روزے کا بدل فدیہ کیسے بنتا ہے بھئی؟ عقل اس کا ادراک خود نہیں کر سکتی۔
تو جب یہ حکم غیر معقول تھا تو اس پر دوسری چیز کو قیاس کرنا بھی صحیح نہیں لیکن تم نے قیاس کیا ہے۔
اعتراض سمجھ میں اگیا بھئی؟
تو فاجابت تو اس کا جواب دیا بھئی۔
بانہ وجوب الفدیہ فی قضاء الصلاۃ للاحتیاط لا للقیاس کہ یہ جو فدیے کا وجوب ہے قضاء صلاۃ کے اندر یہ احتیاط کی وجہ سے ہے قیاس کی وجہ سے نہیں۔
ہم نے احتیاطا یہ کہا کہ واجب ہے وارث کیا کرے؟ فدیہ دے دے۔
احتیاطا یہ کہا۔
دیکھیں خود ذکر کر رہے ہیں۔
کہتے ہیں وذالک لان نص الصوم یحتمل ان يكون مخصوصا بالصوم اس لیے کہ روزے کی جو نس ہے اس میں یہ احتمال ہے کہ ہو سکتا ہے یہ مخصوص ہو روزے کے ساتھ۔
کِس کے ساتھ مخصوص ہو؟
کیا آیا روزے کے بارے میں اس کے بدلے کیا دے دے شیخ فانی روزے کے بدلے؟
فدیہ دے دے تو اس میں یہ احتمال ہے ہو سکتا ہے یہ حکم کس کے ساتھ مخصوس ہو؟ روزے کے ساتھ روزے میں کوئی ایسی علت ہے کوئی وجہ ہے جس کی وجہ سے یہ ہے اس کا حکم ہے اور یہ حکم کسی اور میں نہیں پایا جاتا تو کسی اور کا یہ حکم بھی نہیں ہے۔
یہ ایک احتمال ہے۔
دوسرا احتمال ہے ہو سکتا ہے یہی علت کس کے اندر ہو؟
نماز میں بھی ہو۔
احتمال ہے یا نہیں بھئی؟
مستل عاجز ا جانا جیسے روزے میں عاجز آ جانا تھا تو فدیہ آ جاتا تھا تو نماز میں بھی عاجز آ جائے تو کیا آ جائے گا؟
لیکن یہ ایک احتمال ہے کوئی قطعی بات ہے۔
ہو سکتا ہے۔
کہ یہ وجوب فدیہ جو ہے یہ صرف کس کے ساتھ خاص ہو؟
روزے کے ساتھ اور احتمال ہے کہ شاید یہ عام ہو اس کی علت اور وہ جب نماز میں آئے تو نماز کے لیے بھی کیا آ سکتا ہو؟
احتمال آیا یا نہیں آ گیا؟
احتمال آیا تو ہم نے احتیاطا کیا کہا؟
کہ دے دے فدیہ۔
امید ہے اللہ تعالی قبول فرما لیں گے بھئی۔
ہم نے بھی کوئی قطعی بات نہیں احتیاطا قیاس کی وجہ سے نہیں کہا ہم نے ورنہ ہم یہ نہ کہتے کہ امید ہے اللہ قبول فرما لیں گے۔
سمجھ میں آئی بات بھئی؟
کہتے ہیں لان نص الصوم یحتمل ان يكون مخصوصا بالصوم اس لیے کہ روزے کی نس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ہو سکتا ہے وہ مخصوص ہو روزے کے ساتھ ہی و یحتمل ان يكون معلول علت عامۃ توجد فی الصلاۃ یعنی العجز اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ نس معلول ہو ایسی علت کے ساتھ جو عام ہے اور پائی جاتی ہے نماز کے اندر بھی یعنی العجز یعنی کہ عجز تو جیسے عجز روزے میں تھا تو یہ عجز اس کی وجہ عجز تھی اور عجز تو کیا ہے ایک عام علت ہے جو کس کے اندر اگئی؟
نماز میں بھی آ سکتی ہے۔
تو کہتے ہیں والصلاۃ نظیر الصوم اور دوسری بات یہ کہ نماز جو ہے وہ روزے کے مثل ہیں کیونکہ دونوں عبادتیں ہیں دونوں ارکان اسلام میں سے ہیں بھئی۔
دونوں کیا ہیں؟
عبادتیں ہیں تو نماز کس کی مثل ہوئی؟
روزے کی مثل ہوئی بل اہم منہ فی شان و رفعت بلکہ نماز روزے سے زیادہ اہم ہے شان اور بلندی کے اعتبار سے۔
فامرنا بالفدیہ عن جانب الصلاۃ تو ہم نے حکم دے دیا نماز کی طرف سے فدیے کا فان کفنت عنہ اللہ تعالی فبھا فان کفنت ای فدیہ اگر کافی ہوا فدیہ عنہ ای عن الصلاۃ پس اگر وہ فدیہ کافی ہوا نماز کی طرف سے عند اللہ اللہ کے نزدیک فبھا تو بڑی اچھی بات ہے۔
و الا اور اگر ایسا نہ ہو فلہ ثواب الصدقہ تو اس کے لیے کیا ہوگا؟
ثواب صدقہ تو بہرحال ہو گئی بھئی صدقے کا ثواب تو مل ہی جائے گا ولہذا قال محمد رحمہ اللہ اور اسی وجہ سے امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا ہے فزیادت اپنی کتاب زیادت کے اندر تجزیہ ان شاء اللہ تعالی۔
تجزئ ای فدیہ وہ فدیہ کافی ہوگا اس شخص کے لیے اگر اللہ اللہ تعالی نے چاہا۔
یہ کیا ہوگا کافی ہوگا اس شخص کے لیے اگر اللہ تعالی نے چاہا بھئی۔
دیکھو اس کو کس کے ساتھ معلق کر دیا؟
مشیت کے ساتھ اللہ کی مشیت کے ساتھ اگر اللہ نے چاہا تو کیا ہو جائے گا؟
کافی ہو جائے گا یہ ان شاء اللہ کا لفظ یہ اللہ کی مشیت کے ساتھ معلق کرنا یہ بتلا رہا ہے کہ یہ حکم ہم نے قیاس کی وجہ سے نہیں دیا بلکہ احتیاط کی وجہ سے کہ احتیاط ہے بہتر ہے دے دو قبول ہو گیا تو اس آدمی کا نفع ہی نفع ہے قبول نہ بھی ہوا تو بہرحال اس سے کیا ہے صدقے کا ثواب تو مل ہی جائے گا۔
تو کہتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ نے زیادت میں یوں فرمایا کہ تجزیہ ان شاء اللہ تعالی کہ اس کے لیے کافی ہو جائے گا اگر اللہ تعالی نے چاہا اور بالمسائل القیاسیہ لا تعلقی بال مشیت اور حالانکہ مسائل قیاسیہ جو ہیں ان کو کبھی بھی مشیت کے ساتھ معلق نہیں کیا جا سکتا تو یہاں ان شاء اللہ کا لفظ بتلا رہا ہے کہ یہ حکم قیاس کی وجہ سے نہیں دیا گیا بلکہ احتیاط کی وجہ سے دیا گیا۔
کما اذا تطوع بہ به الوارث بہ دو مرتبہ ہے بھئی ایک مرتبہ ہونا چاہیے کما اذا تطوع بہ الوارث فی قضاء الصوم من غیر ایصاء جیسے کہ مارنا تطوع کہتے ہیں اپنی طرف سے دینا۔
اپنی طرف سے دینا۔
جیسے کہ اپنی طرف سے دیا بہ وہ فدیہ مارنا فدیہ بمعنے فدا کی تاویل میں کر لیں اس کو جیسے کہ وارث نے اپنی طرف سے فدیہ دیا بھئی فی قضاء الصوم کس کے اندر؟
روزے کی قضا میں من غیر ایصاء بغیر اس میت کی وصیت کے۔
اس نے کوئی وصیت نہیں کی تھی لیکن وارث نے خود کیا کر دیا؟ اپنی طرف سے فدیہ روزے کے بدلے جتنے روزے تھے اس کے ف اس کا فدیہ دے دیا تو نرجو ہم امید نرجو القبول منہ تو ہم اس کی طرف سے قبول کرنے کی امید کرتے ہیں ان شاء اللہ اگر اللہ نے چاہا۔
تو یہاں بھی بھئی اگر شیخ فانی روزہ نہیں رکھ سکتا تو اس کے لیے وہ کیا کرے گا؟
فدیہ دے اور اگر فدیہ نہیں دیا انتقال ہو گیا تو اگر وصیت کی تھی پھر تو دے دیں گے پھر تو اس کی ٹھیک ہے یہ بدل بن جائے گا بھئی روزے کا مثل ہے۔
لیکن اگر اس نے وصیت نہیں کی وارث خود اپنی طرف سے دیتا ہے پھر بھی قطعی نہیں کہ اس کے لیے کافی ہوگا یا کافی ہاں ہم امید کرتے ہیں کہ امید ہے اللہ اسے کیا کر لیں گے اس کی طرف سے قبول فرما لیں گے۔
تو یہاں جیسے ہم نے اس کو اگر اللہ نے چاہا مشیت کے ساتھ یہ معلق ہے وہاں بھی وہ اسی طرح مشیت کے ساتھ معلق ہے۔
تو کہتے ہیں فکذا ہذا تو یہ بھی اسی طرح ہے۔
یہ بھی اسی طرح ہے۔
کتصدق بالقیمۃ عند فوات ایام التضحیۃ۔
جیسے کہ صدقہ کرنا قیمت کا عند فوات ایام التضحیۃ قربانی کے ایام کے فوت ہو جانے کے وقت بھئی۔
قربانی کے ایام کے فوت ہو جانے کے بعد بھئی۔
تضحیہ یاد رکھیے ذبح یذبح تضحیۃ مصدر ہے تفعیلۃ کے وزن پر بھئی۔
قربانی کرنا۔
بھئی پچھلے مسئلے کے اندر کیا بیان ہوا تھا؟
کہ نماز کے اندر جو ہم نے فدیے کے وجوب کا حکم کیا ہے وہ قیاس کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ کس کی وجہ سے کیا ہے؟
احتیاط کی وجہ سے یہ حکم ہم نے لگایا بھئی۔
تو کہتے ہیں اسی طرح ہے اسی کے طرح کا ایک مسئلہ اور بیان کر رہے ہیں کہتے ہیں کتصدق بالقیمۃ عند فوات ایام التضحیۃ جیسے کہ صدقہ کرنا قیمت کا قربانی کے ایام کے فوت ہو جانے کے وقت بھئی۔
قربانی کے ایام کے فوت ہو جانے کے بعد بھئی۔
بھئی دیکھیے ایک شخص ہے اس پر قربانی واجب ہے یا ایک فقیر ہے مثلا اس نے اس کے پاس کوئی بکری ہے اس نے منت مانی کہ میں اس بکری کی قربانی کروں گا بھئی اور یا اس نے قربانی کی نیت سے کوئی جانور خریدا اور پھر اسے ہلاک کر دیا بھئی۔
اس بکری کو جو اس کے پاس تھی اسے ہلاک کیا یا جو خریدی تھی اس کو کیا کر دیا؟
ہلاک کر دیا۔
قربانی سے پہلے ہی بھئی تو پھر اس صورت میں اس پر ہم حکم لگاتے ہیں کہ اب اس پر چونکہ قربانی واجب تھی اور جانور کو تو اس نے ہلاک کر دیا ہے لہذا کیا کرے؟
اس کی قیمت صدقہ کرے کیونکہ اس پر قربانی واجب تھی۔
یا اگر قربانی کے ایام گزر گئے اور وہ بکری وہ جانور بھیڑ بکری اسی طرح باقی ہے تو پھر اس کی عین ہی کو کیا کرنا پڑے گا؟
عین جانور ہی کو صدقہ کرے کیا کرے؟
صدقہ کرے قربانی کے ایام کے گزر جانے کے بعد تو یہ مسئلہ جو ہے کہتے ہیں احتیاط کی وجہ سے ہے قیاس کی وجہ سے یہ جو ہم نے حکم لگایا کہ اس کی قیمت صدقہ کرے یا عین جانور کو صدقہ کرے یہ کس بنا پر ہے قیاس کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ کس وجہ سے ہے؟
احتیاط کی وجہ سے ہے احتیاط کی وجہ سے تو اس پر ایک اعتراض کرتے ہیں بھئی اس دراصل متن میں اس اعتراض کا جواب دے رہے ہیں بھئی۔
اعتراض یہ ہوتا ہے کہ وہ چیز جو شرعا وہ چیز جو مشروع ہے جس کا حکم دیا گیا ہے لیکن اس کا ادراک عقل کے ذریعے نہ ہو سکے ایک چیز جس کا کیا دیا گیا ہے حکم دیا گیا ہے لیکن عقل کے ذریعے اس کا ادراک اس کی علت کا پتہ نہ چل سکے وہ جب وہ فوت ہو جائے تو پھر اس کی کوئی قضا یا خلیفہ نہیں ہوتا۔
کیونکہ وہ مدرک بالعقل ہی نہیں ہے اس کی سمجھ میں آیا بھئی وہ حکم کیا ہے مدرک بالعقل عقل ہی نہیں ہے تو اس کا خلیفہ یا اس کی نائب یا اس کی قضا بھی واجب اس کی قضا نہیں ہوگی بھئی۔
تو لہذا یہاں پر یہ جو قربانی ہے یہ بھی غیر معقول ہے یعنی عقل اس کی اس کی وجہ کا ادراک نہیں کر سکتی بھئی۔
ادراک نہیں کر سکتی۔
کہ یہ ہو سمجھ میں آیا؟ کیونکہ اس کے اندر کہتے ہیں جانور کا ہلاک کرنا ہے۔
تو مناسب تو یہ ہے یہ جائز ہی نہیں ہونا چاہیے جانور کو کیا کر رہے ہیں تلف کر رہے ہیں آپ ہلاک کر رہے ہیں ذبح کر رہے ہیں اس کو تو لہذا اس یہ جب فوت ہو اس کی علت کا پتہ نہیں بھئی۔
علت کا یعنی عقل اس کا ادراک نہیں کر سکتی تو جب یہ غیر معقول ہوا تو مناسب یہ ہے کہ اس کی قضا بھی جب یہ فوت ہو جائے اس کی قضا بھی نہیں ہونی چاہیے لیکن اے احناف آپ کیا کہتے ہو؟
کہ اگر یہ فوت ہو جائے قربانی نہ کر سکے تو پھر اس صورت میں کیا کرنا پڑے گا کہ اس قیمت کا صدقہ کرنا پڑے گا یا اگر وہ جانور موجود ہے تو اسی کو کیا کرنا پڑے گا؟
صدقہ کرنا پڑے گا حالانکہ قربانی کیا ہے؟
غیر معقول ہے عقل کے ذریعے اس کے حکم کی علت کا ادراک اس حکم کی علت کا ادراک نہیں ہو سکتا بھئی۔
اچھا تو یہ نہیں ہونا چاہیے لیکن آپ نے وجوب کا کہا کہ اس واجب کرے وہ صدقہ کرے بھئی۔
تو جواب دیتے ہیں کہ یہ مسئلہ بھی پچھلے مسئلے کی طرح ہے بھئی۔
یہاں پر ہم جو کہا نا کہ وہ قیمت صدقہ کرے یا وہ جانور صدقہ کرے یہ ہم نے قضا کی وجہ سے نہیں کہا کہ یہ اس کی قضا ہے بلکہ یہ احتیاطا کہا کیا کہا؟
احتیاطا کہا جیسے پچھلے مسئلے کے اندر احتیاطا ہم نے کہا تھا کہ نماز کے لیے کیا ہے فدیہ دے دے امید ہے اللہ تعالی کیا کر لیں گے اسے قبول فرما لیں گے بھئی۔
مسئلہ پتہ لگ گیا بھئی؟
اب دیکھیے بھئی کہتے ہیں کتصدق بالقیمۃ جیسے کہ قیمت کا صدقہ کرنا ہے عند فوات ایام التضحیۃ قربانی کے ایام کے فوت ہو جانے کے وقت ایق وجوب التصدق بھئی وجوب کا لفظ نکالا شراح کے اندر بھئی شارح نے بھئی کہ متن میں کتصدق آیا تھا انہوں نے کہا کق وجوب التصدق بھئی تشبیہ کو دراصل صحیح کرنے کے لیے کاف آیا نا کاف تشبیہ کے لیے آتا ہے بھئی تو یہ صدقہ کرنا کس کی طرح ہے؟
متن پر ذرا نظر رکھو کتصدق یہ صدقہ کس کی طرح ہے؟
و وجوب فدیہ کی طرح تو یہ صدقہ کرنا وجوب فدیہ کی طرح نہیں ہے بلکہ وجوب صدقہ کیا ہے وجوب فدیہ کی طرح ہے تو دونوں میں اب یہ بھی وجوب وہ بھی وجوب تو دونوں میں کیا آ گئی؟
مشابہت آ گئی بھئی۔
تو وجوب التصدق بالقیمۃ الشاة جیسے کہ بکری کی قیمت کے صدقہ کرنے کا وجوب جو ہے ان نظرہا الفقیر اگر اس قربانی کی منت اچھا بھئی ک وجوب التصدق جیسے کہ صدقہ کرنے کا واجب ہونا کس چیز کا صدقہ کرنا؟ بقیمۃ الشاة کس کی؟
ہاں شاة یاد رکھو بکری کو نہیں کہتے بھئی شاة کا لفظ یہ بھیڑ بکری دونوں پر بولا جاتا ہے جیسے غنم کا لفظ بھیڑ اور بکری دونوں کو شامل ہوتا ہے اسی طرح شاة کا لفظ بھی بھیڑ اور بکری دونوں کو شامل ہوتا ہے یہ ہمیشہ یاد رکھنا بھئی۔
تو اس میں بھیڑ بکری اہ اس میں بھیڑ بکری دونوں کے مذکر مونث دونوں اس میں داخل ہو گئے۔ اگر صرف بکرا بکری کی جنس مراد لینی ہے آپ نے، تو اس کے لیے لفظ ہے معز۔ اب جب معز لفظ کہا، تو بکرا یا بکری تو مراد ہو سکتی ہے، اس سے بھیڑ یا دنبہ مراد نہیں ہو سکتا۔ تو معز صرف بکرے بکری کے لیے عربی میں لفظ ہے۔ اور اگر پھر بکرے بکری میں سے صرف بکرے کا لفظ بولنا ہے، تو اس کے لیے عربی میں لفظ ہے تیسن۔
تا دو نقطوں والی، یا اور سین بھئی، تیسن۔
اور اگر صرف بکری مراد لینی ہے، تو اس کے لیے عربی میں لفظ ہے عنز، عین نون زا بھئی، عنز۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو عنز صرف بکری اور تیس صرف بکرا، معز بکرا اور بکری دونوں میں سے جو بھی مراد لیں دونوں اس میں داخل ہیں بھئی۔ اور شاة اور غنم کا لفظ بھیڑ اور بکری دونوں کے لیے۔
پھر اگر اس میں سے صرف بھیڑ اور دنبے کی جنس مراد لے لینی ہے، تو اس کے لیے لفظ ہے ضأن بھئی۔ ضاد الف نون بھئی، ضاد الف نون، الف پر ہمزہ ڈال دیں یہ ہمزہ ہے دراصل، ضأن بھئی۔ اور اگر پھر بھیڑ اور دنبہ یہ تو مذکر مونث دونوں پر بولا جاتا ہے ضأن، اگر صرف مذکر مراد لینا ہے، تو اس کے لیے لفظ ہے کبش۔
کاف چھوٹا، با، شین، کبش بھئی۔
یہ مذکر کے لیے کبش، اور مونث کے لیے لفظ ہے نعجة بھئی، نعجة۔ نون، عین، جیم، گول ہا، نعجة بھئی۔
پھر وہ ایک دنبہ ہوتا ہے بھئی وہ جس کی دم بڑی سی ہوتی ہے بھئی، وہ چربی والی دم بڑی بھئی، اس کو عربی میں کہتے ہیں خروف بھئی، خروف۔ مذکر خروف، مونث خروفة۔
تو شاة کا لفظ کیا ہے؟ بھیڑ اور بکری دونوں پر بولا جاتا ہے۔ كوجوب التصدق بقيمة الشاة جیسے کہ بھیڑ بکری کی قیمت کے صدقہ کرنے کا وجوب ہے ان نذرها الفقير، اگر اس قربانی کی منت کس نے مانی ہے؟ فقیر نے۔ منت ماننے اس لیے او اشترٰها یا اس کو خریدا ہے۔ بھئی فقیر کے ساتھ منت کا لفظ ذکر کیا اس لیے کہ فقیر ہے جو صاحبِ نصاب نہیں ہے، اس پر تو قربانی واجب ہی نہیں۔ ہاں اگر وہ منت مان لیتا ہے کہ میں قربانی کروں گا تو اس صورت میں قربانی کیا ہو جائے گی اس پر؟ واجب۔ یا سمجھ میں آیا؟ تو مثلاً اس کے پاس بکری گھر میں ہی ہے ایک، اس نے منت مان لی اگر میرا یہ کام ہوا تو میں اس بکری کی کیا کروں گا؟ قربانی کروں گا۔ وہ کام ہو گیا تو اس بکری کی قربانی کرنا اب اس پر واجب ہو گیا۔ یا اس نے قربانی کی نیت سے جانور خرید لیا، تو پہلے تو قربانی واجب نہیں تھی یہ فقیر ہے، تو لیکن اب جب جانور کو خرید لیا اس نے قربانی کی نیت سے تو قربانی اس پر کیا ہو گئی؟ واجب ہو گئی۔
اسی لیے کہا ان نذرها اگر اس بھیڑ بکری کی منت یعنی قربانی کی منت، اس بھیڑ بکری کے قربانی کی منت مانے کون؟ وہ فقیر۔ او اشترٰها یا کیا کر لے اس بھیڑ بکری کو وہ؟ خرید لے قربانی کی نیت سے۔ و استهلكها اور پھر اسے کیا کر دے؟ ہلاک کر دے۔ اس کا تعلق دونوں سے ہے، ان نذرها اور اشترٰها دونوں سے استہلاک کا تعلق ہے۔ بکری گھر میں تھی اس نے منت مان لی، یا بکری اس نے خریدی قربانی کی نیت سے، تو دونوں صورتوں میں اب اس پر قربانی ہے لیکن اس نے کیا کر دیا؟ اس گھر والی بکری کو یا خریدی ہوئی بکری کو ہلاک کر دیا۔
تو اس صورت میں کس چیز کا وجوب آیا؟ بقيمة الشاة، قیمتِ شاة کے صدقہ کرنے کا وجوب اس پر آیا۔ او بعين الشاة اس کا عطف بقيمة الشاة پر ہے، یا عینِ شاة کا صدقہ کرنا اس پر واجب ہو گا۔ عینِ شاة کا صدقہ کرنا واجب ہو گا کب؟ ان بقيت حيةً اگر وہ بھیڑ بکری باقی رہی زندہ رہتے ہوئے، زندہ ہی باقی رہی عند فوات ايام التضحية، عند کا تعلق تصدق سے ہے، یہ تصدق کے لیے ظرف ہے۔ تصدق کا واجب ہونا تو تصدق کس چیز کا؟ ایک صورت یہ تھی کہ قیمت کا صدقہ کرنا واجب ہے، اور دوسری صورت کیا ہے؟ عینِ بکری کا، بھیڑ بکری کا صدقہ کرنا واجب ہے کب؟ عند فوات ايام التضحية، جبکہ قربانی کے ایام کیا ہو جائیں؟ فوت ہو جائیں اس وقت بھئی۔
للإحتياط، ايضاً للإحتياط، یہ بھی یہ جو وجوب آیا، یہ بھی کس وجہ سے ہے؟ احتیاط کی وجہ سے ہے، احتیاط کی وجہ سے ہے۔ كالفدية للصلاة جیسے کہ فدیہ کس کے لیے تھا؟ نماز کے لیے کہ جیسے وہ احتیاط کے طور پر تھا تو یہ بھی احتیاط کے طور پر ہے۔ فهو تشبيه بالمسألة المتقدمة تو یہ تشبیہ ہے بھئی مسئلہ گزشتہ پہلے والے مسئلے کے ساتھ۔ و جواب عن سؤال مقدر اور یہ جواب ہے سوالِ مقدر کا، تقريره تقریر اس کی یہ ہے کہ ان ما لا يعقل شرعاً کہ وہ وہ حکم جس کا تعقل نہ ہو سکے شرعاً بھئی، اي مشروعاً اس حال میں کہ وہ کیا ہے؟ وہ حکم جو مشروع ہے یعنی وہ چیز جس کا حکم دیا گیا ہے اور اس کا تعقل نہیں ہو سکتا لا يكون له قضاء و خلف عند الفوات، تو اس کا اس کی قضا یا خلیفہ نہیں ہو گا خلف، خلیفہ قائم مقام بھئی، نائب۔ اس کے قضا یا نائب نہیں ہو گا فوت ہو جانے کے وقت۔ و التضحية اي إراقة الدم في ايام النحر غير معقولة، اور خون کا اور قربانی کرنا اي إراقة الدم یعنی خون کا بہانا في ايام النحر کس کے اندر؟ قربانی کے ایام میں غیر معقولة یہ بھی کیا ہے؟ یہ قربانی بھی غیر معقول ہے لأنه إتلاف الحيوان اس لیے کیونکہ یہ جانور کو تلف کرنا ہے فينبغي أن لا يجوز قضاؤها بالتصدق بعين الشاة او بالقيمة بعد فوات ايامها، پس مناسب یہ ہے کہ اس کی قضا جائز نہیں ہونی چاہیے صدقہ کرنے کے ذریعے عینِ شاة کو یا اس کی قیمت کو بعد فوات ایامہا بعد قربانی کے ایام کے فوت ہو جانے کے بعد۔ فاَجاب تو مصنف نے ماتن نے اس کا جواب دیا بان وجوب التصدق بالقيمة او بالشاة کہ یہ جو قیمت یا بھیڑ بکری کے صدقہ کرنے کا وجوب ہے بعد فوات الايام ان ایام کے فوت ہو جانے کے بعد للإحتياط لا للقضاء، یہ احتیاط کے طور پر ہے قضا کے طور پر، قضا کے لیے یہ نہیں ہے۔ و ذلك لأن التضحية بعد ايامها تحتمل ان تكون اصلاً بنفسها، اس لیے کہ قربانی اپنے ایام کے اندر یہ احتمال رکھتی ہے کہ یہ اصل ہے خود ہی، اپنی ذات کے اعتبار سے کیا ہے؟ اصل ہے، قربانی ہی اصل ہے ان ایام میں حکم۔ و تحتمل ان تكون خلفاً اور یہ بھی احتمال رکھتی ہے کہ یہ قائم مقام ہے بان يكون التصدق بعين الشاة او بقيمتها اصلاً، بایں طور کہ عینِ شاة یا اس کے یا قیمتِ شاة کا صدقہ کرنا یہ اصل ہو۔ یہ کیا ہو؟ بھئی اس قربانی ان ایام کے اندر کیا کرتے ہیں ہم؟ جانور کی قربانی کرتے ہیں۔
تو اس کے اندر بھئی یہ غیر معقول ہے، اس کی وجہ عقل میں نہیں آتی۔ تو اس میں احتمال آیا کہ ہو سکتا ہے یہ قربانی ہی اصل ہو ان ایام کے اندر، یہ قربانی ہی کیا ہو؟ اور یہ بھی احتمال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس بکری کو یا اس کی قیمت کو صدقہ کرنا کیا ہے؟ وہ اصل ہے، اور یہ جو قربانی اس کا صدقہ اصل ہے اور قربانی اس کا نائب ہے، یہ بھی احتمال ہے۔ تو کتنے احتمال آ گئے؟ دو احتمال۔ پہلا احتمال کیا کہ ہو سکتا ہے ان ایام میں قربانی خود ہی اصل ہے، اور دوسرا احتمال کہ ہو سکتا ہے قربانی اصل نہیں ہے، اصل تو کیا ہے؟ ان کی قیمت یا عینِ جانور کو صدقہ کرنا اصل ہے اور قربانی کیا ہے اس کے نائب ہے۔ یہ ہم نے کیوں کہا کہ ہو سکتا ہے صدقہ کرنا اصل ہو عینِ جانور کا یا اس کی قیمت کا؟ وجہ یہ مولانا کہ عباداتِ مالیہ جو ہیں ان کے اندر عین کا صدقہ کرنا اصل ہوتا ہے۔ عباداتِ مالیہ میں اصل کیا ہے؟ عین کو ہی صدقہ کیا جائے جب تک ہے، اگر نہیں ہے تو پھر کیا کرے اس کی قیمت؟ تو عباداتِ مالیہ کے اندر عین کا صدقہ کرنا اصل ہے۔ تو یہاں پر بھی احتمال آیا، ہو سکتا ہے بھئی یہ ایام ہیں، ہو سکتا ہے قربانی خود ہی اصل ہو، ہو سکتا ہے بھئی یہ تو مالی عبادت ہے اور مالی عبادتوں میں اصل تو کیا ہے؟ عین کا صدقہ کرنا، تو عین کا صدقہ کرنا اصل تھا، لیکن یہ ان ایام میں اس قربانی کو کیا بنا دیا گیا اس کا؟ قائم مقام بنا دیا گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو دونوں میں اصل ہونے کا احتمال ہو گیا۔ و إنما انتقل إلى التضحية بعارض الضيافة تو دونوں میں اصل کیا اصل ہو؟ عینِ جانور کا یا اس کی قیمت کا صدقہ کرنا اصل ہے و إنما انتقل إلى التضحية بعارض الضيافة اور پھر یہ منتقل ہوا قربانی کرنے کی طرف ضیافت کے عارض کی وجہ سے، مہمان نوازی کے عارض کی وجہ سے، مہمان نوازی کے عارض کی وجہ سے۔ بھئی اصل تو تھا کہ عینِ جانور یا اس کی قیمت کو کیا کیا جائے؟ صدقہ کیا جائے، لیکن پھر یہ حکم منتقل ہوا اپنے نائب کی طرف، قربانی کرنے کی طرف، کس وجہ سے؟ عارض کی وجہ سے، اور وہ عارض کیا ہے؟ ضیافت ہے، ضیافت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ مہمان نوازی فرماتے ہیں اپنے بندوں کی بھئی، تو اس مہمان نوازی کی وجہ سے اصل تو تھا صدقہ کرنا، لیکن اس مہمان نوازی کے عارض کی وجہ سے یہ حکم اصل سے منتقل ہو گیا کس کی طرف؟ قربانی کی طرف، کہ قربانی کرو، صدقہ نہ کرو بلکہ کیا کرو؟ کس وجہ سے یہ حکم منتقل ہوا اصل سے فرع کی طرف؟ مہمان نوازی کے عارض کی وجہ سے۔ لأن الناس أضياف الله تعالى في هذه الأيام اس لیے کہ لوگ جو ہیں وہ اللہ کے مہمان ہیں ان ایام کے اندر و الضيافة إنما تكون بأطيب الطعام اور مہمان نوازی جو ہوتی ہے وہ عمدہ ترین کھانے کے ذریعے ہوتی ہے و هو عند الله تعالى اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو ہے اللحم المزكى۔
مزكى یہ زا کے ساتھ ہونا چاہیے مولانا، ذال نہیں۔ آپ کی کتابوں میں کس کے ساتھ ہے؟ ذال کے ساتھ نہیں۔ زا کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ اگر یہ ذال کے ساتھ ہو تو دو احتمال: یا تو یہ لفظ ہے مذكى، یا یہ ہے مذكي۔ مذكى پڑھیں یا مذكي پڑھیں دونوں اس میں مفعول ہیں مولانا۔ مذكي ہے مرمي کے وزن پر مجرد کے باب سے اسم مفعول ہے، اور اگر مذكى پڑھیں تو پھر ثلاثی مزید سے یہ اسم مفعول ہے۔ اور دونوں کا معنی ہے ذبح کیا ہوا، دونوں کا کیا معنی ہے؟ ذبح شدہ۔ اور یہ صفت بن رہی ہے گوشت کی۔ وہ گوشت جو ذبح شدہ ہے۔ بھئی گوشت ذبح شدہ ہوتا ہے یا وہ جانور ذبح شدہ ہے؟ جانور، تو یہ صفت درست نہیں ہے بھئی۔ ہاں زا ہو تو زا کا معنی ہوتا ہے پاکیزہ، زا کا کیا معنی ہے؟ اور وہ معنی یہاں پر درست بنتے ہیں، تو وہ ذال کے ساتھ نہیں ہے زا کے ساتھ ہے۔ المزكى زا کے ساتھ ہو تو اس کے معنی ہے پاکیزہ بھئی، اور اس کی اگلی صفت کے ساتھ بھی مناسبت بن گئی۔ وہ گوشت جو پاکیزہ ہے المراق منه الدم جس سے خون کو بہا دیا گیا ہے، کیا کیا گیا ہے؟ بھئی خون نجس ہے، ذبح کا حکم کس لیے دیا گیا؟ تاکہ یہ نجس خون کیا ہو جانور سے نکل جائے۔ تو لہٰذا تو جب اس سے جانور سے خون نکل گیا ذبح کیا گیا اس سے خون نکال دیا گیا بہا دیا گیا تو باقی کیا رہا؟ پاکیزہ گوشت رہ گیا۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو اس کو مزكى زا کے ساتھ ہونا چاہیے بھئی۔
تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ پاکیزہ گوشت ہے المراق منه الدم جس سے خون کو بہا دیا گیا ہے ليكون أول تناول الناس من طعام الضيافة المكرمة تاکہ لوگوں کا پہلا کھانا جو ہے وہ معزز مہمان نوازی کے کھانے میں سے ہو جائے۔ بھئی عید کے دن مستحب یہ ہے کہ انسان پہلے کچھ نہ کھائے، قربانی کے گوشت کو کھائے بھئی۔ پہلا کھانا عید کے دن عید کے دن کیا ہونا چاہیے؟ قربانی کا گوشت ہونا چاہیے۔ سمجھ میں آیا؟ پہلا کھانا۔
و هو عند الله اللحم المزكى المراق منه الدم اور وہ مہمان نوازی کس کے ذریعے ہونی چاہیے؟ پاکیزہ ترین کھانے کے ذریعے عمدہ ترین کھانے کے ذریعے ہونی چاہیے اور وہ اللہ کے نزدیک وہ گوشت وہ پاکیزہ گوشت ہے المراق منه الدم جس سے خون بہا دیا گیا ہے۔ خون کیا کر دیا گیا ہے؟ خون نکال دیا گیا ہے بھئی، خون تو نجس ہے، قربانی ذبح کیا تو خون نکل گیا بھئی۔ تو وہ پاکیزہ گوشت ہے جس سے خون کو بہا دیا گیا ہے ليكون أول تناول الناس من طعام الضيافة تاکہ لوگوں کا پہلا کھانا جو ہے من طعام الضيافة المكرمة وہ معزز مہمان نوازی کے کھانے میں سے ہو، لوگوں کا پہلا کھانا کس میں سے ہو؟ مہمان نوازی کے معزز مہمان نوازی کے کھانے میں سے ہو۔ فما دامت الأيام موجودةً پس جب تک یہ ایام موجود تھے قلنا ہم نے یہ کہا کہ ان التضحية اصل برأسها کہ قربانی ہی اصل ہے برأسها اي باستقلالها مستقلاً بھئی، قربانی ہی مستقلاً کیا ہے؟ اصل۔ بھئی دیکھو، ہم نے کہا کہ احتمال تھا ہو سکتا ہے یہ قربانی اصل ہو، اور ہو سکتا ہے کیا اصل ہو؟ صدقہ کرنا اصل ہو، کیونکہ عباداتِ مالیہ میں اصل کیا ہے؟ صدقہ کرنا ہے۔ پھر اس اصل سے ہم منتقل ہوئے کس کی طرف؟ قربانی کی طرف، کس وجہ سے؟ اس لیے کہ یہ اللہ کی مہمان نوازی کے ایام ہیں، اللہ اپنی مخلوق کی کیا فرمانا چاہتے ہیں؟ انسانوں کی مسلمانوں کی مہمان نوازی فرمانا چاہتے ہیں۔ تو ہم نے اب ہم منتقل ہو گئے کس کی طرف؟ قربانی کی طرف اور ہم نے یوں کہا کہ گویا کہ قربانی خود ہی اصل ہے ان ایام میں، دراصل تو یہ کیا ہے؟ نائب ہے، لیکن ہم نے کیا کہا اس ضیافت اللہ کے عارض کی وجہ سے اس کی طرف منتقل ہوئے اور کہا کہ گویا قربانی خود ہی ان ایام میں اصل ہے، تو ان ایام میں قربانی ہی کی جائے گی صدقہ نہیں کیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اس جانور کا یا اس کی قیمت کا صدقہ نہیں کیا جائے گا۔
تو کہتے ہیں فما دامت الأيام موجودةً پس جس جب تک وہ ایام موجود تھے قلنا ہم نے کہا ان التضحية اصل برأسها کہ قربانی ہی اصل ہے مستقلاً و عملنا بالمنصوص اور ہم نے عمل کیا منصوص پر، منصوص کس کے نص آئی جس کے بارے میں نص آئی ہو بھئی۔ تو نص کس بارے میں آئی ہے کہ کیا کرو؟ قربانی کرو، تو ہم نے عمل کیا منصوص پر۔ و إذا فاتت الأيام اور جب وہ ایام فوت ہو گئے صرنا إلى الأصل تو ہم پھر کس کی طرف پھر گئے؟ ہم اصل کی طرف پھر گئے۔ و قلنا اور ہم نے کہا ان التصدق بعين الشاة او بقيمتها هو الأصل کہ صدقہ کرنا عینِ شاة کو یا اس کی قیمت کو یہی اصل ہے فحكمنا به تو ہم نے اس کا کیا کر دیا؟ اسی اصل کا حکم کر دیا۔ ثم إذا جاء العام الثاني پھر جب اگلا سال آ گیا لم ننتقل من هذا الحكم پھر ہم اس حکم سے دوبارہ قربانی کی طرف منتقل نہیں ہوئے۔ پھر ہم دوبارہ اس حکم سے بھئی اس نے جانور کی قیمت صدقہ نہیں کی یا اس جانور کو صدقہ نہیں کیا یہاں تک کہ اگلے سال پھر قربانی کے ایام آ گئے، لیکن کہتے ہیں اب ہم جب ہم نے ایک مرتبہ کس کو اصل قرار دیا؟ جب ہم نے کس کا دیا حکم دے دیا؟ صدقہ کرنے کا حکم دے دیا تو اب ہم دوبارہ قربانی کی طرف منتقل نہیں ہوں گے، اس لیے کیونکہ صدقہ کرنے کا جو ہم نے حکم دیا ہے وہ نائب ہونے کی وجہ سے نہیں دیا بلکہ اصل ہونے کی وجہ سے دیا ہے، تو اب اصل سے نائب کی طرف ہم انتقال نہیں کریں گے کیونکہ اصل خود ممکن ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں ثم إذا جاء العام الثاني پھر جب اگلا سال آ گیا لم ننتقل من هذا الحكم ہم نہیں منتقل ہوئے اس حکم سے و لم نقل بقضائها اور ہم نے قول نہیں کیا اس کے ادا کرنے کا على ما كان في العام الأول اس طریقے پر جس طرح کے وہ کس میں تھا؟ سالِ اول میں تھا کہ قربانی کرو، نہیں ہم نے کہا وہ تو نائب تھا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ مسئلہ سب کو سمجھ میں آ گیا بھئی؟
ثم لما فرغ المصنف رحمه الله من بيان انواع القضاء في حقوق الله تعالى شرع في بيان انواعه في حقوق العباد، پھر جب مصنف رحمہ اللہ فارغ ہوئے بھئی قضا کی انواع کے بیان سے في حقوق الله تعالى اللہ تعالیٰ کے حقوق میں جو قضا کی انواع ہیں ان کے بیان سے جب یہ فارغ ہوئے شرع في بيان انواعه في حقوق العباد تو وہ شروع ہوئے اس قضا کی انواع کے اندر جو کس کے اندر ہیں؟ حقوق العباد کے اندر ہیں ان میں شروع ہوئے۔ فقال پس فرماتے ہیں و منها ضمان المغصوب بالمثل و هو السابق او بالقيمة۔
بھئی اس پر لکیر ہے، یہ متن ہے بھئی۔
اور اس میں سے بھئی ضمان المغصوب بالمثل وہ مغصوب چیز کا ضمان دینا ہے کس کے ساتھ؟ مثل کے ساتھ و هو السابق اور یہ پہلے ہے او بالقيمة یا کس کے ساتھ؟ قیمت کے ساتھ۔ بھئی آپ جانتے ہیں بھئی، چیزیں صرف دو قسم پر ہیں، کچھ مثلیات ہیں جن کا مثل ملنا ممکن ہوتا ہے، اور کچھ اس کے علاوہ جتنی ہیں وہ ذوات القیم ہیں، قیمت والی ہیں بھئی۔ تو جن کا مثل ممکن ہو وہ کیا کہلاتی ہیں؟ مثلیات، جن کا مثل ممکن نہیں وہ کیا کہلاتی ہیں؟ ذوات القیم بھئی، تو مثلی سمجھ میں آیا بھئی؟ جس کا بھی مثل ملنا ممکن ہو وہ کیا ہے؟ مثلیہ، جس کا مثل ملنا ممکن نہ ہو وہ کیا ہے؟ ذوات القیم بھئی۔
میرا نام خضر ہے، میں کراچی پاکستان سے ہوں۔ میں عربی، فارسی، اردو، پشتو اور پشتو کی کئی بولیاں بول سکتا ہوں۔
اچھا! تو دیکھیے ایک شخص کسی نے کیا کیا؟ دوسرے کی کوئی چیز غصب کی، اور غصب جب کیا اس پر کیا ضروری ہے؟ اسی چیز کو لوٹائے۔ لیکن وہ چیز اس کے پاس ہلاک ہو گئی، تو اب کیا دینا پڑے گا؟ اس کا بدل دینا پڑے گا۔ تو بدل، اگر وہ مثلیات میں سے ہے تو کیا بدل دے گا؟ مثل بدل دے گا، اور اگر وہ ذوات القیم میں سے ہے تو کیا بدل دے گا؟ قیمت بدل دے گا۔ تو مثل بھی بطورِ ضمان کے آتا ہے اور قیمت بھی کیا آتی ہے؟ بطورِ ضمان کے۔
لیکن مثل جو ہے وہ صورتاً بھی اس چیز کی طرح ہے جو ہلاک کی اس نے، اور معناً بھی اس چیز کی طرح ہے۔ صورتاً تو ظاہر ہے مثلاً گندم ہلاک کی تھی، بدلے میں کیا دے رہا ہے؟ گندم ہی دے رہا ہے، تو یہ بھی اسی گندم کی طرح ہے۔ اور معناً بھی یہ اسی گندم کی طرح ہے، یعنی اس کی جو قیمت تھی، اس کی بھی وہی قیمت ہے۔
تو لہذا یہ جو مثل دے رہا ہے، یہ مثل ہے، یہ کیا ہے؟ قضاۓ کامل ہے۔ یہ کیا ہے؟ قضاۓ کامل۔ کامل قضا ہے کہ وہ چیز دے رہا ہے جو صورتاً بھی پہلی چیز کی طرح ہے اور معناً بھی پہلی چیز کی طرح ہے۔ اور اگر قیمت دیتا ہے، تو قیمت صورتاً تو اس چیز کی طرح نہیں، لیکن معناً کیا ہے؟ اسی چیز کی طرح ہے کہ اس کی بھی یہی قیمت تھی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو معناً اس کی طرح ہوئی بھئی۔
تو یہ کیا ہوئی؟ جب قیمت دے گا یہ کیا ہے؟ قضاۓ قاصر ہے۔ یہ کیا ہے؟ قضاۓ قاصر۔ بھئی مثل دے رہا ہے نا، وہی چیز تو ہلاک ہو چکی ہے اور مثل دے دیا جاۓ، یہ کیا کہلاتا ہے؟ یہ قضا ہے۔ تو سمجھ میں آیا؟ تو اگر مثل وہ صورتاً بھی وہی ہے، تو پھر یہ کیا ہے؟ قضاۓ کامل۔ اور اگر قیمت دے رہا ہے تو یہ کیا ہے؟ قضاۓ قاصر۔
تو لہذا، قضاۓ کامل جو ہے، جب تک قضاۓ کامل پر عمل ممکن ہے، قضاۓ قاصر کی طرف ہم نہیں جائیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو معلوم ہوا، مثل بطورِ ضمان کے دینا اور قیمت بطورِ ضمان کے دینا، ان میں سے جب تک مثل دے سکتا ہے، قیمت کی طرف ہم نہیں جائیں گے۔ اسی لیے کہا، کیا کہا؟ دیکھیے عبارت دوبارہ متن کی: "وَمِنْهَا ضَمَانُ الْمَغْصُوبِ بِالْمِثْلِ" اور قضا کی قسموں میں سے کیا ہے؟ "ضَمَانُ الْمَغْصُوبِ بِالْمِثْلِ" مغصوب چیز کا ضمان دینا مثل کے ساتھ، "وَهُوَ السَّابِقُ" اور یہ پہلے ہے، یعنی پہلے کس پر کوشش کی جاۓ گی عمل کرنے کی؟ مثل کے ساتھ ضمان دینے پر، "أَوْ بِالْقِيمَةِ" یا کس کے ساتھ ضمان دیا جاۓ گا؟ قیمت کے ساتھ۔
"أَيْ مِنْ أَنْوَاعِ الْقَضَاءِ ضَمَانُ الشَّيْءِ الْمَغْصُوبِ بِالْمِثْلِ" قضا کی انواع میں سے جو ہے مغصوب چیز کا ضمان دینا ہے بالمثل، مثل کے ساتھ، "فِيمَا إِذَا غَصَبَ مِثْلِيًّا" اس صورت میں جبکہ غاصب نے کس کو غصب کیا تھا؟ مثلی چیز کو، "وَاسْتَهْلَكَهُ" اور اسے ہلاک کر دیا، "وَوُجِدَ الْمِثْلُ فِيمَا بَيْنَ النَّاسِ" اور اس کا مثل لوگوں کے درمیان پایا بھی جاتا ہے، تو اس صورت میں کیا، کس چیز کے ساتھ ضمان دے گا؟ مثل کے ساتھ۔ "أَوْ بِالْقِيمَةِ" یا قیمت کے ساتھ مثال، ضمان دے گا، "فِيمَا لَمْ يَكُنْ لَهُ مِثْلٌ" ان چیزوں کے اندر بھئی، یہ اوپر بھی جو "فِيمَا" آیا، "مَا" سے مراد وہ چیز بھئی، "وَفِيمَا" ان چیزوں کے اندر، "لَمْ يَكُنْ لَهُ مِثْلٌ" بھئی، کہ جبکہ اس چیز جسے اس نے غصب کیا ہے، اس کا مثل نہ ہو۔ "أَوْ كَانَ لَهُ مِثْلٌ" لیکن، یا اس کا مثل تو تھا، "وَلَكِنِ انْصَرَمَ عَنْ أَيْدِي النَّاسِ" لیکن وہ چیز کیا ہوئی؟ لوگوں کے ہاتھوں سے ختم ہو گئی، منقطع ہو گئی۔
تو اس بھئی، تھی تو وہ مثلی، ضمان کے طور پر مثل ہی دینا چاہیے تھا، لوگوں میں اس کی دستیاب بھی تھی، لیکن اب کیا ہو چکی؟ ختم ہو گئی، اب وہ ملتی نہیں، تو لہذا مثل دینا ممکن نہ رہا، تو ہم پھر کس کی طرف چلے گئے؟ قیمت کی طرف، تو قیمت کے ساتھ ضمان دے گا۔ "فَهَذَا نَظِيرُ الْقَضَاءِ بِـمِثْلٍ مَعْقُولٍ" تو یہ قضا کی نظیر ہے، اس قضا کی نظیر ہے جو کس کے ساتھ ہو؟ مثلِ معقول کے ساتھ، یعنی یہ مثلِ معقول ہے، اس کا عقل کیا کر سکتی ہے؟ ادراک کر سکتی ہے، گندم کے بدلے گندم دے رہے ہیں، تو عقل بھی کہہ رہی ہے کہ یہ کیا ہے؟ اس کے مثل ہے، گندم ہی آنی چاہیے۔
"لِأَنَّ الْمِثْلَ وَالْقِيمَةَ كِلَاهُمَا مِثْلٌ مَعْقُولٌ" اس لیے کہ گندم، اس لیے کہ مثل اور قیمت یہ دونوں کیا ہیں؟ مثلِ معقول ہیں، "أَمَّا الْأَوَّلُ فَظَاهِرٌ" اول یعنی جو مثل ہے، وہ اس، اس کا مثلِ معقول ہونا تو ظاہر ہے، "إِذْ هُوَ مِثْلٌ صُورَةً وَمَعْنًى" اس لیے کہ وہ اسی کی طرح ہے صورت کے اعتبار، وہ مثل ہے صورت کے اعتبار سے بھی اور معنیٰ کے اعتبار سے بھی۔ "وَأَمَّا الثَّانِي" اور باقی جو دوسرا ہے، "فَهُوَ أَيْضًا مِثْلٌ مَعْنًى وَإِنْ لَمْ يَكُنْ صُورَةً" دوسرا یعنی قیمت، وہ بھی مثل ہے معنیٰ کے اعتبار سے، اگرچہ صورت کے اعتبار سے نہیں ہے۔
"وَلَكِنَّ الْأَوَّلَ كَامِلٌ وَالثَّانِيَ قَاصِرٌ" لیکن اول جو ہے وہ کامل ہے اور ثانی کیا ہے؟ قاصر ہے۔ "وَلِهَذَا قَالَ" اور اسی وجہ سے ماتن نے فرمایا: "وَهُوَ السَّابِقُ" یہ کیا ہے؟ یہ مثل کے ساتھ ضمان دینا یہ سابق ہے، یہ پہلے ہے۔ "أَيِ الْمِثْلُ الصُّورِيُّ سَابِقٌ عَلَى الْمِثْلِ الْمَعْنَوِيِّ" یعنی مثلِ صوری وہ پہلے، سابق ہے مثلِ معنوی پر، "فَمَا دَامَ وُجِدَ الْمِثْلُ الصُّورِيُّ" جب تک مثلِ صوری پایا جاۓ گا، "لَمْ يَنْتَقِلْ إِلَى الْمِثْلِ الْمَعْنَوِيِّ" تو یہ منتقل نہیں ہوگا کس کی طرف؟ مثلِ معنوی کی طرف۔
"فَفِيهِ تَنْبِيهٌ" تو کہتے ہیں یہ جو ماتن کا کلام تھا، اس کے اندر تنبیہ ہے اس بات پر، "عَلَى" اس بات پر، "أَنَّ الْقَضَاءَ بِـمِثْلٍ مَعْقُولٍ نَوْعَانِ: كَامِلٌ وَقَاصِرٌ" کہ قضا جو ہے مثلِ معقول کے ساتھ، وہ قضا جو مثلِ معقول کے ساتھ ہوتی ہے "نَوْعَانِ" وہ کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم پر ہے، "كَامِلٌ وَقَاصِرٌ" ایک کامل ہے اور ایک قاصر۔ بھئی! ماتن نے یہ کہا نہیں، لیکن اپنی عبارت ایسی لے کر آۓ جس سے کیا پتہ چل گیا کہ قضاۓ کامل ہے اور ایک قاصر، اسی لیے کہا جو کامل ہے وہ سابق ہے، وہ پہلے ہے، معلوم ہوا وہ کامل ہے اور بعد والی قاصر ہے۔ تو اس بات پر متنبہ کرنے کے لیے اس قسم کی عبارت لاۓ۔
اس پر ایک اشکال ہوتا ہے بھئی، وہ اشکال آگے ذکر کرنے لگے ہیں بھئی، کہ بھئی اگر یہاں پر ماتن نے اس بات پر تنبیہ کر دی کہ حقوق العباد کے اندر جو مثل ہم دیتے ہیں وہ دو قسم پر ہے، ایک کیا ہے؟ کامل ہے اور ایک قاصر ہے۔ یہ تو پھر حقوق اللہ کے اندر بھی وہاں بھی ان کو متنبہ کرنا چاہیے تھا، کیونکہ حقوق اللہ جیسے نماز قضا کر دی، نماز قضا ہوئی کسی کی، اب وہ بعد میں اس کی قضا کرتا ہے، تو اگر جماعت کے ساتھ کرے گا، تو یہ کیا ہوئی؟ قضاۓ کامل، اگر بغیر جماعت کے قضا کرتا ہے، تو یہ کیا ہوئی؟ قضاۓ قاصر، تو وہاں بھی یہ دو قسمیں بنتی ہیں، تو وہاں پر کیوں نہیں تنبیہ کی؟
تو آگے بتلائیں گے، کہتے ہیں نہیں بھئی، وہاں پر ایسا نہیں ہے، وہاں قضاۓ قاصر یا کامل نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں "لَا يُقَالُ" یہ نہ کہا جاۓ، "مِثْلُ هَذَا مُتَحَقِّقٌ فِي حُقُوقِ اللَّهِ تَعَالَى أَيْضًا" کہ اس طرح تو حقوق اللہ کے اندر بھی ثابت ہے، "فَإِنَّ قَضَاءَ الصَّلَاةِ بِالْجَمَاعَةِ كَامِلٌ" اس لیے کہ نماز کی قضا کرنا جماعت کے ساتھ یہ کامل ہے، "وَقَضَاءَهَا مُنْفَرِدًا قَاصِرٌ" اور اس نماز کی قضا کرنا اکیلے یہ کیا ہے؟ قاصر ہے۔ "فَلِمَ لَمْ يَتَعَرَّضْ لَهُ؟" تو پھر کیوں اس کے درپے نہیں ہوۓ؟ اس کے پیچھے نہیں پڑے؟ یعنی اس بات کو انہوں نے وہاں کیوں نہیں چھیڑا اور ذکر نہیں کیا؟
"لِأَنَّا نَقُولُ" اس لیے کہ ہم کہتے ہیں، "عِنْدَهُمْ" فقہاء کے نزدیک جو ہے، "قَضَاءُ الصَّلَاةِ مُنْفَرِدًا كَامِلٌ" کہ نماز کی قضا کرنا اکیلے، یہ بھی کیا ہے؟ کامل ہے، "وَبِالْجَمَاعَةِ أَكْمَلُ" اور جماعت کے ساتھ کیا ہے؟ اکمل ہے، قاصر کوئی بھی نہیں ہے۔ وجہ یہ مولانا، کہ ادا کے اندر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا وہ ادائے کامل تھی، بغیر جماعت کے ادا نماز ادا کرتا ہے وہ کیا تھی؟ قاصر تھی، اس لیے کہ وہ جماعت، نماز مشروع ہی جماعت کے ساتھ تھی، ادا مشروع ہی کس طریقہ پر تھی؟ جماعت کے ساتھ، لیکن قضا، قضا جو ہے وہ جماعت کے ساتھ مشروع نہیں ہے، لہذا بغیر جماعت کے پڑھے پھر بھی کامل ہے، ہاں جماعت کے ساتھ کئی آدمیوں کی قضا ہوئی ہے وہ جماعت کے ساتھ پڑھ لیتے ہیں، تو یہ کیا ہے؟ اکمل ہے، تو قاصر کسی کو بھی ہم نہیں کہہ سکتے بھئی۔
"وَلَا يَقِيسُونَ حَالَ الْقَضَاءِ عَلَى حَالِ الْأَدَاءِ" اور فقہاء جو ہیں وہ قیاس نہیں کرتے قضا کی حالت کو کس پر؟ ادا کے حال، قضا کے حال کو ادا کے حال پر۔
"وَضَمَانُ النَّفْسِ وَالْأَطْرَافِ بِالْمَالِ" اور نفس کا ضمان دینا، "وَضَمَانُ النَّفْسِ وَالْأَطْرَافِ بِالْمَالِ" اور ضمان دینا نفس اور اعضاء کا، اطراف اعضاء، بالمال کس کے ساتھ؟ مال کے ساتھ، "هَذَا نَظِيرٌ لِلْقَضَاءِ بِـمِثْلٍ غَيْرِ مَعْقُولٍ" یہ نظیر ہے، مثال ہے اس قضا کی جو کس کے ساتھ ہو؟ مثلِ غیر معقول کے، "فَإِنَّ ضَمَانَ النَّفْسِ الْمَقْتُولَةِ خَطَأً" اس لیے کہ ضمان اس نفس کا جس کو قتل کیا گیا ہے خطأً، نفس کی صفت مقتولہ مؤنث لاۓ کیونکہ نفس کا لفظ عربی میں مؤنث سماعی ہے۔ "فَإِنَّ ضَمَانَ النَّفْسِ الْمَقْتُولَةِ خَطَأً" اس لیے کہ ضمان دینا اس نفس کا جس کو قتل کیا گیا ہے غلطی سے، "بِكُلِّ الدِّيَةِ" پوری دیت کے ساتھ، "وَالْأَطْرَافِ" اس کا عطف نفس پر ہے، اور ضمان دینا ان اعضاء کا، "الْمَقْطُوعَةِ خَطَأً" جن کو کاٹا گیا ہے غلطی سے، "بِكُلِّ الدِّيَةِ أَوْ بَعْضِهَا" پوری دیت کے ساتھ یا بعض، بعض دیت کے ساتھ، "غَيْرُ مُدْرَكٍ بِالْعَقْلِ" یہ عقل کے ذریعے ان کا ادراک نہیں ہو سکتا، سمجھ میں آیا بھئی؟
یہ جو بھئی دیکھو، قتلِ عمد ہے، کسی کو جان بوجھ کر آلہٴ قتل سے قتل کرے، تو اس قاتل کو بھی کیا کیا جاتا ہے قصاص میں؟ قتل کیا جاتا ہے۔ تو یہاں مساوات کی وجہ سے، قاتل نے بھی جان بوجھ کر قتل کیا تھا، اور مقتول کے اولیاء بھی اس کو کیا کر رہے ہیں؟ جان بوجھ کر قتل کر رہے ہیں، مساوات آ گئی یا نہیں آ گئی؟ لیکن اگر کوئی کسی کو غلطی سے قتل کر دیتا ہے، تو قصاص نہیں آۓ گا، اس لیے کہ اگر قصاص آیا، تو مقتول کے اولیاء تو قتل کریں گے اس کو جان بوجھ کر، اور اس نے تو جان بوجھ کر نہیں کیا، اس سے تو کیا ہوا ہے؟ غلطی سے، تو مساوات لہذا نہیں رہتی، اس لیے وہاں قصاص کا حکم نہیں ہے۔ پھر کیا کیا جاۓ بھئی؟ کہتے ہیں پھر اس صورت میں اللہ تعالیٰ نے مال کو واجب کیا، اگر کسی نفس کو غلطی سے قتل کیا ہے، تو پوری دیت سو اونٹ دینے پڑیں گے بھئی، سمجھ میں آیا؟ یا دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار دینے پڑیں گے۔
اور اگر کیا کیا؟ عضو کاٹا ہے، تو پھر اعضاء کے اندر تفصیل آپ فقہ کی کتابوں میں پڑھ چکے ہیں، اگر جن سے نفع ہی ختم ہو جاتا ہے، مثلاً دونوں ہاتھ کاٹ دیے، تو پکڑنے کا جن سے نفع ہی ختم ہوا، کسی چیز کو پکڑ ہی نہیں سکتا، اٹھا ہی نہیں سکتا، تو پوری دیت آۓ گی۔ ایک ہاتھ کاٹا، تو پوری دیت آئی یا بعض دیت آئی؟ یعنی نصف دیت۔ نصف دیت آئی یعنی بعض دیت آ گئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو تفصیل دوسری کتابوں میں مذکور ہے بھئی۔
تو انہوں نے کہا، ضمان دینا اس نفس کا جس کو قتل کیا گیا ہے غلطی سے پوری دیت کے ساتھ، اور ان اعضاء کا ضمان دینا جن کو کاٹا گیا ہے غلطی سے پوری دیت کے ساتھ یا بعض، بعض میں پوری آۓ گی جب دونوں اعضاء کاٹیں یا بعض میں نصف آۓ گی بھئی، یہ چیز جو ہے، یہ جو ضمان ہے، "غَيْرُ مُدْرَكٍ بِالْعَقْلِ" یہ مدرک بالعقل نہیں ہے، "إِذْ لَا مُـمَاثَلَةَ بَيْنَ الْآدَمِيِّ الْمَالِكِ الْمُتَبَذِّلِ وَبَيْنَ الْمَالِ الْمَمْلُوكِ الْمُبْتَذَلِ" اس لیے کہ کوئی مماثلت نہیں ہے اس آدمی کے درمیان جو مالک ہے، خرچ کرنے والا ہے، اور اس مال کے درمیان جو مملوک ہے اور جسے خرچ کیا جاتا ہے۔ بھئی، دونوں آدمی اور مال میں تو کوئی مماثلت نہیں ہے، آدمی اور مال میں تو مماثلت نہیں ہے، تو اس کو اس کا مثل کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ آدمی تو مالک ہے، مال مملوک ہے، آدمی خرچ کرنے والا ہے، مال کیا، مال کیا ہے؟ اس کو خرچ کیا جاتا ہے، تو دونوں میں کوئی مماثلت نہیں ہے۔
تو، تو عقل سے یہ پتہ نہیں چلتا اس کا بھئی، کہ یہ اس کو مثل کیوں بنایا گیا۔ کہتے ہیں "وَإِنَّمَا شَرَعَهَا اللَّهُ تَعَالَى لِئَلَّا تَهْدُرَ النَّفْسُ الْمُحْتَرَمَةُ مَجَّانًا" اس کو مشروع کیا اس دیت کو اللہ تعالیٰ نے تاکہ کہیں ضائع نہ ہو جاۓ نہ وہ نفس جو محترم ہے مجاناً مفت میں، ویسے ہی مفت میں وہ جان اور اعضاء کیا ہیں؟ ضائع نہ ہو جائیں، تو لہذا اب اللہ تعالیٰ نے دیت دینے کا حکم دیا۔ "إِذِ الْقِصَاصُ إِنَّمَا شُرِعَ إِذَا كَانَ عَمْدًا" اس لیے کہ قصاص اس وقت مشروع ہے جب وہ عمداً ہو، "لِتَحْصِيلِ الْمُسَاوَاةِ" چاہے تو فعل پڑھ لیں، چاہے تو مصدر پڑھ لیں "لِتَحَصُّلِ الْمُسَاوَاةِ"، "لِتَحْصِيلِ الْمُسَاوَاةِ" تاکہ کیا حاصل ہو جاۓ؟ مساوات، یا "لِتَحَصُّلِ الْمُسَاوَاةِ" مساوات کو حاصل کرنے کے لیے قصاص مشروع ہوا ہے۔
"وَأَدَاءُ الْقِيمَةِ فِيمَا إِذَا تَزَوَّجَ عَلَى عَبْدٍ بِغَيْرِ عَيْنِهِ" اور ادا کرنا قیمت کا اس صورت میں جب نکاح کیا ایک شخص نے "عَلَى عَبْدٍ بِغَيْرِ عَيْنِهِ" کسی غیر معین غلام پر، کسی عورت سے نکاح کیا اور اسے کہا کہ میں تمہیں بطورِ مہر کے کوئی غلام دے دوں گا، کوئی ایک غلام دوں گا، تو کوئی متعین غلام ذکر کیا؟ نہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں "هَذَا نَظِيرٌ لِلْقَضَاءِ الَّذِي فِي مَعْنَى الْأَدَاءِ" یہ مثال ہے اس قضا کی جو کس معنیٰ میں ہے؟ ادا کے معنیٰ میں ہے، "وَلِهَذَا عَبَّرَ عَنْهُ بِلَفْظِ الْأَدَاءِ" اور اسی وجہ سے ماتن نے اس کو تعبیر کیا لفظِ ادا کے ساتھ، اوپر کیا کہا؟ "أَدَاءُ الْقِيمَةِ"۔ تو اس قضا، یہ ہے تو قضا، لیکن کس معنیٰ میں ہے؟ ادا کے معنیٰ میں ہے، اسی لیے اس کو تعبیر کیا ماتن نے لفظِ ادا کے ساتھ۔ "إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ امْرَأَةً عَلَى عَبْدٍ بِغَيْرِ عَيْنِهِ" جب نکاح کیا کسی آدمی نے کسی عورت سے کسی ایسے، کسی غیر معین غلام پر، "فَحِينَئِذٍ إِنِ اشْتَرَى عَبْدًا وَسَطًا" پس اس وقت اگر اس شخص نے متوسط درجے کا غلام خریدا، "وَسَلَّمَهُ إِلَيْهَا" اور اس کو، غلام کو اس عورت کے سپرد کر دیا، "فَلَا خَفَاءَ أَنَّهُ أَدَاءٌ" تو پھر تو اس بات میں کوئی خفا نہیں ہے کہ یہ کیا ہے؟ ادا۔ بات بھی کس کی کی تھی؟ غلام کی، اور دے بھی کیا رہا ہے؟ غلام ہی دے رہا ہے، عینِ واجب ہی دے رہا ہے، تو یہ ادا ہے مولانا۔
بھئی! وسط لفظ آیا، وسط بھئی۔ یاد رکھو، ایک ہے وسط، ایک ہے وسط۔ وسط کسے کہتے ہیں؟ بھئی دیکھو، یہ مثلاً یہ میز ہے، ایک گز لمبائی ہے اس کی۔ فرض کرو کتنی ہے؟ ایک گز۔ تو ایک کنارے سے دوسرے کنارے کے درمیان جو بھی جگہ ہے وہ وسط ہے، کیونکہ دو کناروں کے درمیان ہے، وہ کیا ہے؟ وسط ہے۔ جہاں پر بھی کوئی چیز پڑی ہو آپ کہیں گے یہ میز کے وسط میں پڑی ہے، چاہے کنارے کے بالکل قریب ہی کیوں نہ ہو، لیکن ہے تو کنارے کے اندر ہی بھئی، تو اس کو کیا کہیں گے؟ وسط۔
اور ایک ہے وسط، وسط ہے کہ عین درمیان میں ہے اس کے، ایک گز کی میز ہے اس کے عین درمیان میں کوئی چیز ہے تو ہم کیا کہیں گے؟ یہ وسط میں ہے، سمجھ میں آئی بات؟ تو وسط کا معنیٰ ہے درمیان، اور وسط کا معنیٰ ہے درمیانہ، تو یہ صفت جب بھی آۓ وسط پڑھنا ہے، کیا پڑھنا ہے؟ وسط، تو یہاں بھی "عَبْدًا وَسَطًا"، صفت ہے نا عبد کی؟ تو وسط پڑھنا ہے۔ تو یہ یاد نہیں رہتا مولانا کہ کون سا عین درمیان ہے اور کون سا ذرا کناروں کے بیچ مراد ہے، تو اس کے لیے یاد رکھیے: "الساکن متحرک و المtermمتحرک ساکن" بھئی، ساکن جو ہے وہ متحرک ہے اور جو متحرک ہے وہ کیا ہے؟ ساکن ہے۔ دیکھو "الساکن متحرک"، ساکن کون سا تھا؟ وسط، سین ساکن ہے، تو ساکن جو ہے متحرک ہے، یعنی دونوں کناروں کے بیچ کہیں بھی ہو سکتا ہے، "والمتحرک" اور جس میں سین پر حرکت ہے، وہ کیا ہے؟ ساکن، عین درمیان میں ہے۔
تو کہتے ہیں "فَحِينَئِذٍ إِنِ اشْتَرَى عَبْدًا وَسَطًا" پس اس وقت اگر اس نے غلام متوسط درجے کا غلام خریدا "وَسَلَّمَهُ إِلَيْهَا" اور اس کے حوالے کر دیا، "فَلَا خَفَاءَ" تو اس میں کوئی خفا نہیں ہے "أَنَّهُ أَدَاءٌ" یہ کیا ہے؟ ادا ہے۔ "وَإِنْ أَدَّى إِلَيْهَا قِيمَةَ عَبْدٍ وَسَطٍ" اور اگر اس نے ادا کی اس عورت کو متوسط درجے کے غلام کی قیمت، "فَهَذَا قَضَاءٌ" تو یہ کیا ہے؟ قضا ہے۔ "لَكِنَّهُ فِي مَعْنَى الْأَدَاءِ" لیکن یہ قیمت بھی کسی، قضا بھی کس معنیٰ میں ہے؟ ادا کے معنیٰ میں ہے۔
کیوں؟ کہتے ہیں "لِأَنَّ الْعَبْدَ مَعْلُومُ الذَّاتِ" اس لیے کہ غلام جو ہے ذات، معلوم الذات تو ہے، "لَكِنَّهُ مَجْهُولُ الصِّفَةِ" لیکن مجهول الصفت، غلام معلوم الذات اور مجهول الصفت ہے۔ بھئی ذات تو معلوم ہے، غلام کی بات کی ہے، بھیڑ بکری کی بات نہیں کی، لیکن صفت معلوم نہیں، اعلیٰ غلام، متوسط غلام یا ادنیٰ غلام۔ تو ذات کے اعتبار سے معلوم ہے، صفت کے اعتبار سے مجهول ہے، "فَلَا بُدَّ فِي قَطْعِ الْمُنَازَعَةِ بَيْنَهُمَا مِنْ أَنْ يُسَلِّمَهَا عَبْدًا وَسَطًا" پس ضروری ہے ان دونوں میں جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے کہ وہ اس عورت کے سپرد کرے متوسط درجے کا غلام، "وَالْوَسَطُ لَا يَتَحَقَّقُ إِلَّا بِالتَّقْوِيمِ" اور متوسط کا تحقق نہیں ہو سکتا مگر قیمت لگانے کے ذریعے، تو متوسط درجے کے غلام کا پتہ کس سے چلے گا؟ قیمت لگوانے سے، "لِيَكُونَ قَلِيلُ الْقِيمَةِ أَدْنَى وَكَثِيرُ الْقِيمَةِ أَعْلَى" تاکہ تھوڑی قیمت والا ادنیٰ ہو اور زیادہ قیمت والا اعلیٰ ہو، اور متوسط درجے والا متوسط ہو۔
تو کہتے ہیں تاکہ تھوڑی قیمت والا ادنیٰ ہو اور زیادہ قیمت والا اعلیٰ ہو، "وَأَوْسَطُهَا بَيْنَ بَيْنَ" اور متوسط درجے والا کیا ہو؟ بین بین ہو، یعنی درمی، متوسط ہو۔ "فَكَانَ الْمَرْجِعُ إِلَى التَّقْوِيمِ" تو رجوع کرنا پھر بھی قیمت لگانے کی طرف ہی ہے، غلام بھی دے تو پھر بھی رجوع کس کی طرف کیا جاۓ گا؟ قیمت کی طرف بھی دیا جاۓ گا، قیمت کی طرف کیا جاۓ گا رجوع، تو بعین اعتبار قیمت اصل ہوئی، بعین اعتبار کیا ہوئی؟ قیمت اصل ہوئی، تو اس میں کس چیز کا معنیٰ آ گیا؟
ادا کا، دیکھیے آگے ذرا۔ فلہذا کانت القیمۃ فی معنی الاداء، اسی وجہ سے قیمت کس کے معنی میں ہے؟ ادا کے معنی میں ہے۔ بھئی وجہ یہ نا کہ غلام دیتا ہے تو یہ کیا ہے؟ ادا۔ قیمت دیتا ہے تو یہ ہے قضا، لیکن غلام کی ادائیگی میں بھی رجوع کس کی طرف کرنا پڑتا ہے؟ قیمت کی طرف۔ تو قیمت کے اندر بھی ادا والے معنی آ گئے۔ کون سے معنی آ گئے؟ ادا، کیونکہ غلام کا پتہ بھی کس سے چلے گا؟ قیمت ہی سے پتہ چلے گا، تو رجوع تو بہرحال ہمیں قیمت ہی کی طرف کرنا پڑے گا، تو قیمت ہی گویا اصل میں آ رہی ہے، تو لہذا یہ ادا ہوئی۔ تو دراصل تو ہے قضا، لیکن معنی کس کا آ گیا؟ ادا کا آ گیا، کیونکہ غلام جو اصل ہے اس کے دینے میں بھی ہمیں کس کی طرف جانا پڑتا ہے؟ قیمت کی طرف جانا پڑتا ہے۔ حتی تجبر علی القبول کما لو اتاہا بالمسمی، یہاں تک کہ مجبور کیا جائے گا اس عورت کو قبول کرنے پر کما لو اتاہا بالمسمی، جیسے کہ وہ اس اس کو اس کے پاس لایا ہو مسمی ذکر کیے ہوئے غلام کو۔ بھئی! اگر کسی معین غلام کے پر نکاح کیا تھا کہ زید کا وہ غلام جو ہے وہ کیا کروں گا میں تمہیں بطورِ مہر کے دوں گا، اور وہ غلام خرید کر لایا اور پھر بیوی کو دے رہا ہے، تو بیوی کو مجبور کیا جائے گا یا نہیں قبول کرنے پر؟ کیا جائے گا، کیونکہ عین ذات کے اعتبار سے وہی غلام ہے، تو یہاں پر بھی قیمت جو ہے اس میں کون سا معنی آ گیا؟ ادا والا معنی آ گیا، لہذا قیمت دیتا ہے، عورت قبول نہیں کرتی، کہتے ہیں قبول کرنے پہ مجبور کیا جائے گا۔ کیا کیا جائے گا؟ کیونکہ قیمت کے اندر بھی کون سا معنی ہے؟ ادا والا معنی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں حتی تجبر علی القبول، یہاں تک کہ اس عورت کو مجبور کیا جائے گا قبول کرنے پر کما لو اتاہا بالمسمی، جیسے کہ وہ اس کے پاس لایا ہو مسمی یعنی اس ذکر کیے ہوئے غلام کو۔ تفریع علی کونہا فی معنی الاداء، یہ تفریع ہے ہاں قیمت، ہا ضمیر قیمت کو راجع کریں، یہ تفریع ہے علی کونہا فی معنی الاداء، اس قیمت کے ادا کے معنی میں ہونے پر تفریع ہے کہ وہ قیمت بھی ادا کے معنی میں ہے۔ ای تجبر المرأۃ علی قبول القیمۃ، یعنی مجبور کیا جائے گا عورت کو قیمت کے قبول کرنے پر کما لو اتاہا بالعبد المسمی، جیسے کہ وہ اس کے پاس لائے اس غلام کو جس کو اس نے ذکر کیا تھا تجبر علی قبول العبد، تو اس عورت کو کیا کیا جائے گا؟ مجبور کیا جائے گا اس غلام کو قبول کرنے پر فکذا تجبر علی قبول القیمۃ، تو اسی طرح یہاں بھی عورت کو مجبور کیا جائے گا قیمت کے قبول کرنے پر۔ چلیے بس مولانا، ہذا ہو المراد واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔