Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-099

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 12 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 11
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔99 وَلَمَّا فَرَغَ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى عَنْ تَقْسِيمِ الْبَيَانِ، شَرَعَ فِي بَيَانِ السُّنَّةِ الْفِعْلِيَّةِ اقْتِدَاءً بِفَخْرِ الْإِسْلَامِ. وَكَانَ يَنْبَغِي أَنْ يَذْكُرَهَا بَعْدَ السُّنَّةِ الْقَوْلِيَّةِ مُتَّصِلًا كَمَا فَعَلَهُ صَاحِبُ التَّوْضِيحِ. فَقَالَ: فَصْلٌ، أَفْعَالُ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ سِوَى الزَّلَّةِ أَرْبَعَةُ أَقْسَامٍ: مُبَاحٌ، وَمُسْتَحَبٌّ، وَوَاجِبٌ، وَفَرْضٌ. وَلَمَّا فَرَغَ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللهُ، اور جب فارغ ہوئے مصنف رحمہ اللہ، عَنْ تَقْسِيمِ الْبَيَانِ، بیان کی تقسیم سے جب مصنف فارغ ہوئے، شَرَعَ فِي بَيَانِ السُّنَّةِ الْفِعْلِيَّةِ، تو شروع ہوئے سنتِ فعلیہ کے بیان میں، اقْتِدَاءً بِفَخْرِ الْإِسْلَامِ، اقتداء کرتے ہوئے فخر الإسلام کی، وَكَانَ يَنْبَغِي أَنْ يَذْكُرَهَا بَعْدَ السُّنَّةِ الْقَوْلِيَّةِ مُتَّصِلًا، اور مناسب یہ تھا کہ اس کو ذکر کرتے سنتِ قولیہ کے بعد ملا کر، كَمَا فَعَلَهُ صَاحِبُ التَّوْضِيحِ، جیسے کہ صاحبِ توضیح نے کیا ہے بھئی۔ مصنف نے تو سنتِ فعلیہ کو یہاں ذکر کیا، شارح فرماتے ہیں کہ مناسب یہ تھا کہ سنتِ قولیہ کے بعد اس کو ذکر کرتے بھئی۔ فَصْلٌ، أي هذا فصلٌ، أَفْعَالُ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ سِوَى الزَّلَّةِ أَرْبَعَةُ أَقْسَامٍ، پیغمبر کے افعال سوائے زلت کے، زلت یعنی لغزش بھئی، لغزش۔ تو پیغمبر کے افعال زلت کے علاوہ أَرْبَعَةُ أَقْسَامٍ، وہ چار قسم پر ہیں، مُبَاحٌ، وَمُسْتَحَبٌّ، وَوَاجِبٌ، وَفَرْضٌ، مباح، مستحب، واجب، اور فرض، چار قسم پر ہیں زلت کے علاوہ۔ زلت کو نکال دیا بھئی، کیوں؟ جواب آگے دے رہے ہیں: وَإِنَّمَا اسْتَثْنَى الزَّلَّةَ، اور مصنف نے استثناء کیا زلت کا، مصنف نے زلت کا استثناء کیا۔ بھئی یہ پیچھے متن تھا، آپ کی کتاب میں نشان لگا ہے متن کا؟ أَفْعَالُ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ سے لے کر وَوَاجِبٌ وَفَرْضٌ یہاں تک متن ہے بھئی۔ وَإِنَّمَا اسْتَثْنَى الزَّلَّةَ لِأَنَّ الْبَابَ لِبَيَانِ اقْتِدَاءِ الْأُمَّةِ بِهِ، بھئی اور مصنف نے استثناء کیا زلت کا اس لیے کیونکہ یہ باب جو ہے لِبَيَانِ اقْتِدَاءِ الْأُمَّةِ بِهِ، امت کے اس فعل کی اقتداء کے بیان میں ہے کہ امت کیا کرے گی؟ اس فعل کی اقتداء کرے گی، اس پر عمل کرے گی، وَالزَّلَّةُ لَيْسَتْ مِمَّا يُقْتَدَى بِهِ، اور زلت تو ان افعال میں سے نہیں ہے جن کی اقتداء کی جائے بھئی، جن کی پیروی کی جائے۔ وَهِيَ اسْمٌ لِفِعْلٍ حَرَامٍ وَقَعَ فِيهِ بِسَبَبِ الْقَصْدِ لِفِعْلٍ مُبَاحٍ، زلت کی تعریف کر رہے ہیں، کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: وَهِيَ اسْمٌ لِفِعْلٍ حَرَامٍ، یہ اس فعلِ حرام کا نام ہے، وَقَعَ فِيهِ، جس میں پیغمبر واقع ہو، بِسَبَبِ الْقَصْدِ لِفِعْلٍ مُبَاحٍ، بوجہ ارادہ کرنے فعلِ مباح کے۔ پیغمبر نے تو ایک فعلِ مباح کا ارادہ کیا تھا، لیکن کس میں پڑ گئے غلطی سے؟ فعلِ حرام میں۔ جیسے آگے ذکر آئے گا بھئی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے وہ قبطی کو مکا مارا بھئی، اس سے مقصد کیا تھا؟ اس کو ادب سکھانا، اس کی اصلاح مقصد تھا، لیکن اس سے وہ مر گیا بھئی، تو اب اس کے، یہ اس کو مارنے کا ارادہ تو نہیں تھا آپ کا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: یہ نام ہے اس فعلِ حرام کا جس میں پیغمبر واقع ہو جائے بوجہ فعلِ مباح کے ارادہ کرنے کے، فَلَمْ يَكُنْ قَصْدُهُ لِلْحَرَامِ ابْتِدَاءً، پس نہیں تھا پیغمبر کا ارادہ حرام کا ابتداء سے، وَلَا يَسْتَقِرُّ عَلَيْهِ بَعْدَ الْوُقُوعِ، اور پیغمبر اس پر ثابت نہیں رہتا اس کے واقع ہونے کے بعد بھئی، کہ اسی پر رہے، ایسا بھی نہیں۔ كَمِثْلِ مَنْ أَحْنَى فِي الطَّرِيقِ فَخَرَّ مِنْهُ، جیسے اس شخص کی مثل جو جھکا یا متوجہ ہوا راستے میں، فَخَرَّ مِنْهُ، پس اس سے گر گیا۔ جو جھکا راستے میں اور گر گیا، راستے کی طرف متوجہ ہوا اور گر گیا، ثُمَّ قَامَ عَاجِلًا، پھر جلدی سے کھڑا ہو گیا۔ فَمَا كَانَ مِنْ قَصْدِهِ الْخُرُورُ، پس نہیں تھا اس کا ارادہ گرنے کا، وَمَا اسْتَقَرَّ عَلَيْهِ، اور اس پر قائم بھی نہ رہا، اس پر ثابت بھی نہ رہا، صرف فوراً اٹھ گیا۔ كَمَا كَانَ مِنْ قَصْدِ مُوسَى عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بِالضَّرْبِ تَأْدِيبَ الْقِبْطِيِّ فَقَضَى عَلَيْهِ بِالْقَتْلِ، تو جیسے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ارادہ ضرب کے ذریعے قبطی کو ادب سکھانا تھا، فَقَضَى عَلَيْهِ بِالْقَتْلِ، تو فیصلہ کر دیا ان پر قتل کے ساتھ ہی، یعنی ان کو قتل کر، اس کو قتل کر دیا۔ فَلَمْ يَكُنِ الْقَتْلُ مَقْصُودَهُ، پس قتل حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقصد نہیں تھا، وَلَمْ يَبْقَ عَلَيْهِ، اور وہ اس پر باقی بھی نہیں رہے، بَلْ نَدِمَ، بلکہ نادم ہوئے اور اللہ سے مغفرت چاہی، وَقَالَ، اور فرمایا: هَذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ، یہ شیطان کے عمل میں سے ہے۔ وَلَكِنْ هَذَا التَّقْسِيمُ بِالنِّسْبَةِ إِلَيْنَا، لیکن یہ تقسیم ہماری نسبت سے ہے، یہ تقسیم کس نسبت سے ہے؟ ہماری نسبت سے ہے، یہ جو ہم نے چار قسمیں بنائیں: مباح، مستحب، واجب، اور فرض، یہ ہماری نسبت سے ہے۔ وَإِلَّا فَفِي حَقِّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ وَاجِبًا اصْطِلَاحِيًّا، ورنہ حضور علیہ السلام کے حق میں کوئی چیز واجبِ اصطلاحی نہ تھی، کیوں؟ لِأَنَّهُ مَا ثَبَتَ بِدَلِيلٍ فِيهِ شُبْهَةٌ، اس لیے کیونکہ واجب وہ ہے جو ثابت ہو ایسی دلیل کے ذریعے جس میں شبہ ہو۔ واجب کسے کہتے ہیں بھئی؟ جو ایسی دلیل سے ثابت ہو جس میں شبہ ہو، اگر قطعی دلیل سے ثابت ہو وہ تو فرض ہوتا ہے، اگر دلیل کچھ کمزور درجے کی ہے تو اس سے جو چیز ثابت ہوگی اسے فرض نہیں قرار دیا جائے گا بلکہ واجب۔ تو واجب تو وہ ہے جو ایسی دلیل کے لیے ثابت ہو جس میں شبہ ہو، وَكَانَتِ الدَّلَائِلُ كُلُّهَا قَطْعِيَّةً فِي حَقِّهِ، اور دلائل جو تھے حضور سارے کے سارے وہ قطعی تھے حضور علیہ السلام کے حق میں۔ حضور کے حق میں تو سارے دلائل کیا تھے؟ قطعی تھے، وہاں تو کوئی شک و شبہ نہیں تھا۔ ثُمَّ إِنَّهُمُ اخْتَلَفُوا فِي اقْتِدَاءِ أَفْعَالٍ لَمْ تَصْدُرْ عَنْهُ سَهْوًا، پھر علماء نے اختلاف کیا ہے حضور علیہ السلام کے افعال کی اقتداء کے اندر، ان افعال کی اقتداء میں لَمْ تَصْدُرْ عَنْهُ سَهْوًا، جو حضور علیہ السلام سے سہواً بھول کر صادر نہیں ہوئے، وَلَمْ تَكُنْ لَهُ طَبْعًا، اور نہ ان سے بطورِ طبیعت کے، یعنی عادت کے طور پر ہوئے، وَلَمْ تَكُنْ مَخْصُوصَةً بِهِ، اور وہ اس کے ساتھ مخصوص بھی نہیں تھے۔ بھئی حضور علیہ السلام سے اگر کوئی فعل بھولے سے ہو گیا ہو، یا اسی طرح حضور علیہ السلام نے کوئی فعل کیا ہو لیکن عادت کی وجہ سے کیا ہو، عبادت وغیرہ کی وجہ سے نہیں کیا، یا حضور علیہ السلام کے ساتھ بعض افعال مخصوص تھے، بعض احکام وہ آپ ہی کے ساتھ خاص تھے جیسے چار سے زیادہ نکاحوں کی اجازت وغیرہ بھئی، تو ان کے علاوہ افعال مراد ہیں۔ ان کے علاوہ افعال میں، جو بھولے سے ہوئے اور یا عادت کے طور پر ہوئے یا حضور علیہ السلام کے ساتھ جو مخصوص تھے، ان کے علاوہ افعال بھئی مراد ہیں۔ ان میں علماء نے اختلاف کیا ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ چلو دوبارہ دیکھیے عبارت: ثُمَّ إِنَّهُمُ اخْتَلَفُوا فِي اقْتِدَاءِ أَفْعَالٍ لَمْ تَصْدُرْ عَنْهُ سَهْوًا وَلَمْ تَكُنْ لَهُ طَبْعًا وَلَمْ تَكُنْ مَخْصُوصَةً بِهِ، پھر علماء نے اختلاف کیا حضور علیہ السلام کی اقتداء میں ایسے افعال کے اندر جو صادر نہ ہوئے ہوں حضور علیہ السلام سے سہو کے طور پر، اور نہ طبیعت کے طور پر، اور نہ ان کے ساتھ مخصوص ہوں۔ ان کے علاوہ افعال کے میں کے اقتداء میں اختلاف کیا ہے۔ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: يَجِبُ التَّوَقُّفُ فِيهِ، تو بعض علماء فقہاء فرماتے ہیں کہ اس میں توقف کیا جائے گا، حَتَّى يَظْهَرَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى أَيِّ وَجْهٍ فَعَلَهُ، یہاں تک کہ یہ بات ظاہر ہو جائے کہ حضور علیہ السلام نے کس طریقے پر اس کو سرانجام دیا تھا، کس طرح یہ فعل کیا تھا، مِنَ الْإِبَاحَةِ وَالنَّدْبِ وَالْوُجُوبِ، یعنی کہ اباحت، ندب، اور وجوب، کس طریقے پر کیا تھا؟ مندوپ کے طور پر کیا تھا، یا مباح کے طور پر، یا واجب؟ جب تک دلیل قائم نہ ہو تب تک توقف کیا جائے گا۔ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: يَجِبُ اتِّبَاعُهُ مَا لَمْ يَقُمْ دَلِيلُ الْمَنْعِ، اور بعض فرماتے ہیں: واجب ہے ان افعال کا اتباع جب تک کوئی دلیلِ منع قائم نہ ہو جائے، جب تک کوئی منع کرنے والی، روکنے والی کوئی دلیل قائم نہ ہو جائے۔ وَقَالَ الْكَرْخِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: يُعْتَقَدُ فِيهِ الْإِبَاحَةُ، کے اعتقاد رکھا جائے گا ان میں مباح ہونے کا۔ امام کرخی کیا فرماتے ہیں؟ وہ افعال جو حضور علیہ السلام سے سہواً یا عادتًا صادر نہ ہوئے ہوں اور نہ آپ کے ساتھ مخصوص ہوں، یعنی کہ باقی کے جو افعال ہیں، وہ افعال ان کے کہ مباح ہونے کا اعتقاد رکھا جائے گا۔ بعضوں نے کہا: توقف کیا جائے گا، بعضوں نے کیا کہا؟ بعضوں نے کہا: اتباع واجب ہے جب تک کوئی منع کی دلیل نہ آ جائے، ان پر عمل کیا جائے گا۔ امام کرخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے مباح ہونے کا اعتقاد رکھا جائے گا، لِتَيَقُّنِهَا، بوجہ اس کے یقینی ہونے کے، اباحت کے یقینی۔ بھئی دیکھیے، چار قسمیں بنائیں: مباح، مندوپ یعنی مستحب، واجب، اور فرض۔ سب سے اعلیٰ درجہ کس کا؟ فرض کا، اس سے نچلا درجہ واجب کا، اس سے نچلا درجہ مستحب کا، اس سے نچلا درجہ مباح کا درجہ، تو اس کا درجہ سب سے کم ہے۔ تو یہ کم از کم یہ تو یقینی ہے، باقی تو درجے اوپر والے ہیں، یہ نیچے والا درجہ تو کم از کم یقینی ہے، تو اسی کا اعتقاد رکھا جائے گا بھئی، کیونکہ یہ یقینی ہے۔ إِلَّا إِذَا دَلَّ الدَّلِيلُ عَلَى الْوُجُوبِ وَالنَّدْبِ، مگر یہ کہ جس وقت دلیل کوئی قائم ہو جائے ان کے واجب ہونے اور مندوپ ہونے پر۔ وَالْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى تَرَكَ هَذَا كُلَّهُ وَبَيَّنَ مَا هُوَ الْمُخْتَارُ عِنْدَهُ، اور مصنف نے ان سب کو چھوڑ دیا، بھئی کئی اقوال آئے، لیکن مصنف کسی ایک کو بھی ذکر نہیں کریں گے، سب کو چھوڑ دیا، جو ان کے نزدیک مختار تھا، پسندیدہ تھا، اسی کو ذکر کریں گے۔ تو کہتے ہیں: مصنف نے ان سب کو چھوڑ دیا، وَبَيَّنَ مَا هُوَ الْمُخْتَارُ عِنْدَهُ، اور بیان کیا اس کو جو ان کے نزدیک پسندیدہ تھا، فَقَالَ، پس فرمایا: وَالصَّحِيحُ عِنْدَنَا، اور صحیح مذہب ہمارے نزدیک یہ ہے، أَنَّ مَا، صحیح قول ہمارے نزدیک یہ ہے کہ أَنَّ مَا عَلِمْنَا مِنْ أَفْعَالِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، کہ وہ جو ہم جان لیں حضور علیہ السلام کے افعال جو واقع ہوئے ہیں عَلَى جِهَةٍ کسی جہت، جب ہمیں معلوم ہو کہ حضور علیہ السلام کے یہ افعال کس جہت پر واقع ہوئے ہیں، کس طریقے پر حضور نے ان کو یہ فعل کیا، فرض کے طور پر یا واجب یا مستحب یا مباح کے طور پر۔ تو خود بیان بھی کر رہے ہیں: مِنَ الْوُجُوبِ أَوِ النَّدْبِ أَوِ الْإِبَاحَةِ، یعنی کہ وجوب، ندب، یا اباحت، فَنَقْتَدِي بِهِ، تو ہم بھی کیا کریں گے؟ ان کی اقتداء کریں گے، فِي إِيقَاعِهِ عَلَى تِلْكَ الْجِهَةِ، ان افعال کے واقع کرنے میں اسی جہت پر، یعنی ہم بھی کیا کریں گے؟ ان کی پیروی کریں گے ان افعال کے کرنے میں اسی طریقے پر، حَتَّى يَقُومَ دَلِيلُ الْخُصُوصِ، یہاں تک کہ کوئی دلیلِ خصوص قائم ہو جائے۔ اگر دلیلِ خصوص قائم ہوئی پھر تو ہم چھوڑ دیں گے، اس دلیلِ خصوص نے بتایا کہ حضور علیہ السلام کے ساتھ خاص تھا، یہ دلیلِ خصوص بتلائے گی، اس سے پہلے ہم بھی جن کے بارے میں ہمیں علم ہوگا، جس طریقے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سرانجام دیا یا فعل کیا، ہم بھی اسی طریقے پر ان افعال کو کریں گے۔ فَمَا كَانَ وَاجِبًا عَلَيْهِ يَكُونُ وَاجِبًا عَلَيْنَا، پس جو چیز ان پر واجب تھی وہ ہم پر واجب ہوگی، وَمَا كَانَ مَنْدُوبًا عَلَيْهِ يَكُونُ مَنْدُوبًا عَلَيْنَا، اور جو چیز ان کے لیے مستحب تھی تو وہ ہم پر بھی مستحب ہوگی، وَمَا كَانَ مُبَاحًا لَهُ يَكُونُ مُبَاحًا لَنَا، اور جو چیز ان کے لیے مباح تھی وہ ہمارے لیے مباح ہوگی، وَمَا لَمْ نَعْلَمْ عَلَى أَيَّتِ جِهَةٍ فَعَلَهُ، اور جس کا ہمیں علم نہ ہو کہ کس جہت پر حضور علیہ السلام نے یہ فعل کیا ہے، قُلْنَا، تو ہم کہیں گے: فَعَلَهُ عَلَى أَدْنَى مَنَازِلِ أَفْعَالِهِ، کہ حضور علیہ السلام نے یہ فعل کیا ہے افعال کے درجوں میں سے ادنیٰ پر، افعال کے درجوں میں سے ادنیٰ درجے پر حضور علیہ السلام نے یہ فعل کیا ہے، وَهُوَ الْإِبَاحَةُ، اور وہ ادنیٰ درجہ کیا ہے؟ اباحت ہے، کہ ہم کہیں گے کہ حضور علیہ السلام اباحت کے طریقے پر کیا ہے۔ لِأَنَّهُ لَمْ يَفْعَلْ حَرَامًا أَوْ مَكْرُوهًا الْبَتَّةَ، اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے حرام یا مکروہ نہیں کیا قطعی طور پر۔ ایک فعل کیا ہے، ہمیں نہیں پتہ یہ کس طریقے پر کیا ہے، تو ہم کیا اعتقاد رکھیں گے؟ ادنیٰ درجہ، اور وہ کون سا ہے؟ مباح ہونے کا، اتنا تو پتہ چل گیا کہ یہ مباح ہے، پیغمبر نے یہ فعل کیا ہے تو یہ مباح ہے بھئی، کیونکہ پیغمبر نے کبھی حرام یا مکروہ کام نہیں کیا بھئی۔ فَلَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ مُبَاحًا، پس ضروری ہوا کہ یہ مباح ہو۔ وَلَمَّا فَرَغَ عَنْ تَقْسِيمِ السُّنَّةِ فِي حَقِّنَا، شَرَعَ فِي تَقْسِيمِهَا فِي حَقِّهِ، اور جب مصنف رحمہ اللہ فارغ ہوئے سنت کی تقسیم سے فِي حَقِّنَا ہمارے حق میں، ہمارے حق میں جو سنت کی تقسیم جو ہے اس سے جب مصنف رحمہ اللہ فارغ ہوئے، شَرَعَ فِي تَقْسِيمِهَا فِي حَقِّهِ، تو شروع ہوئے سنت کی تقسیم میں فِي حَقِّهِ حضور علیہ السلام کے حق میں۔ حضور علیہ السلام کے حق میں جو سنت کی تقسیم ہے اس میں شروع ہوئے، ایک تو ہماری نسبت سے یہ تقسیم تھی افعال میں، سمجھ میں آیا بھئی؟ بتلا دیا: مباح ہوگا، مستحب ہوگا، واجب ہوگا، اور فرض۔ اب حضور علیہ السلام کے حق میں سنت کی جو تقسیم ہے اس کو بیان کرنے لگے ہیں، تو اس کے بیان میں شروع ہوئے: وَفِي بَيَانِ طَرِيقَتِهِ فِي إِظْهَارِ أَحْكَامِ الشَّرْعِ بِالْوَحْيِ، اور جو حضور علیہ السلام کا طریقہ تھا احکامِ شریعت کے ظاہر کرنے کا بِالْوَحْيِ کس کے ذریعے؟ وحی کے ذریعے، فَقَالَ، پس فرمایا: وَالْوَحْيُ نَوْعَانِ، وحی دو قسم پر ہے، ظَاهِرٌ وَبَاطِنٌ، ایک ظاہری وحی ہے اور ایک باطنی وحی ہے۔ فَالظَّاهِرُ ثَلَاثَةُ أَنْوَاعٍ، پس ظاہری وحی جو ہے وہ تین قسم پر ہے، الْأَوَّلُ مَا ثَبَتَ بِلِسَانِ الْمَلَكِ، پہلی وہ قسم جو ثابت ہو فرشتے کی زبان سے، فرشتے کی زبان کے ذریعے ثابت ہو، کون فرشتہ؟ وَهُوَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، حضرت جبریل علیہ السلام بھئی۔ فَوَقَعَ فِي سَمْعِهِ، پس وہ وحی واقع ہوئی حضور علیہ السلام کی سماعت میں، بَعْدَ عِلْمِهِ بِالْمُبَلِّغِ، بعد ان کے جان لینے کے مبلغ کو۔ مبلغ کو جان لینے کے بعد حضور علیہ السلام کی سماعت میں وہ وحی واقع ہوئی، یعنی مبلغ کو پہچان لینے کے بعد کہ یہ جبریل ہی ہیں، جبریل ہی ہیں، پھر حضور علیہ السلام نے وحی کو ان کی زبان سے سنا بھئی، اپنے کانوں سے اس کو سنا بھئی۔ یہ معنی ہے کہ جو فرشتے کی زبان سے ثابت ہو اور واقع ہو حضور علیہ السلام کی سماعت میں بَعْدَ عِلْمِهِ بِالْمُبَلِّغِ بعد جب کہ ان کو علم ہو کس کا؟ مبلغ کا۔ أيْ سَمِعَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بَعْدَ عِلْمِ النَّبِيِّ بِأَنَّهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، کہ یعنی سنا حضور علیہ السلام بعد جان لینے حضور علیہ السلام کے کہ یہ جبریل ہیں، بِآيَةٍ قَاطِعَةٍ قطعی نشانی کے ذریعے، کس کے ذریعے؟ بعد جب دوبارہ متن سے متن ملائیں: بعد جب جان لیا حضور علیہ السلام نے پہنچانے والے کو بِآيَةٍ قَاطِعَةٍ قطعی نشانی کے ذریعے کہ یہ کون ہیں؟ جبریل ہی ہیں، کوئی اور نہیں ہیں۔ آیۃِ قاطِعہ سے کیا مراد ہے؟ شارح بتلا رہے ہیں: تُنَافِي الشَّكَّ وَالِاشْتِبَاهَ، جو شک کو ختم کر دے، شک اور اشتباہ کو ختم کر دے، تُنَافِي الشَّكَّ وَالِاشْتِبَاهَ جو شک اور اشتباہ کو ختم کر دے، فِي أَنَّهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَوْ لَا، کہ یہ جبریل ہیں یا نہیں، بھئی پوری بات واضح ہو جائے۔ وَهُوَ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْهِ بِلِسَانِ الرُّوحِ الْأَمِينِ، اور یہ وہ ہے جو نازل کیا گیا حضور علیہ السلام پر روح الامین، ایک امانت دار فرشتے کی زبان کے ذریعے، یعنی وہ قرآن جس کو نازل کیا گیا، یہ قرآن ہے، حضور علیہ السلام فرشتے کی زبان سے سنے، آپ کے کانوں میں پڑے اور آپ قطعی نشانی سے جان جائیں کہ یہ جبریل ہی ہیں۔ تو یہ کیا ہے؟ یہ وحیِ ظاہری کی پہلی قسم ہے اور یہ قرآن ہے جو حضور علیہ السلام پر نازل کیا گیا تھا کس کی زبان میں؟ جبرائیلِ امین کی زبان کے ذریعے، یعنی "القرآن الذي" یعنی کہ قرآن، ضمیر کا مرجع بتلایا۔ یہ وہ قرآن ہے کہ "قال الله تعالى في حقه" جس کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے "قل نزله روح القدس من ربك بالحق" اے پیغمبر! آپ فرما دیجیے کہ اس قرآن کو نازل کیا ہے پاک فرشتے نے آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ۔ "والثاني ما بينه بقوله" اور دوسری قسم اس وحیِ ظاہری کی وہ ہے جس کو بیان کیا مصنف نے اپنے اس قول کے ذریعے، "أو ثبت أو ثبت عنده صلى الله عليه وسلم بإشارة الملك من غير بيان بالكلام" یا وہ جو وحی جو ثابت ہو حضور علیہ السلام کے نزدیک فرشتے کے اشارے کے ذریعے "من غير بيان بالكلام" بغیر بیان کیے کلام کے ساتھ۔ پہلی قسم میں کلام تھا بھئی اور دوسری قسم میں کلام نہیں ہے بھئی فرشتے کے اشارے کے ذریعے حضور علیہ السلام سمجھ جائیں بھئی۔ "كما قال" جیسے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا "إن روح القدس نفث في روعي" کہ بے شک روح القدس، پاک فرشتے نے پھونکا ہے، "روع"، "روع" دل کو کہتے ہیں بھئی، را کے ضمے کے ساتھ، کہ روح پاک فرشتے نے "نفث في روعي" پھونکا ہے میرے دل میں یعنی میرے دل میں انہوں نے یہ بات ڈالی ہے کہ "أن نفسا لن تموت حتى تستكمل رزقها" کہ کوئی نفس، کوئی جان ہرگز نہیں مرے گی یہاں تک کہ پورا کر لے اپنے رزق کو۔ کسی نفس پر موت نہیں آئے گی جب تک وہ اپنے مقررہ رزق کو پورا نہ کر لے۔ سمجھ میں آیا؟ احادیث میں آتا ہے کہ موت انسان کے پیچھے اس طرح نہیں بھاگتی جس طرح اس کے پیچھے اس کا رزق بھاگتا ہے۔ ایک لقمہ بھی اگر اس کے لیے مقدر کیا گیا ہے تو وہ جب تک اس کو نہیں کھا لے گا، اس وقت تک اسے موت نہیں آ سکتی بھئی۔ "والثالث ما بينه بقوله" اور تیسری قسم وہ ہے وحیِ ظاہر میں سے جس کو بیان کیا مصنف نے اپنے اس قول کے ذریعے "أو تبدى لقلبه بلا شبهة بإلهام من الله تعالى بأن أراه بنور من عنده" "أو تبدى لقلبه" یا پیغمبر کے دل کے لیے ظاہر کر دیا جائے اس کو "بلا شبهة" بغیر کسی شبہ کے "بإلهام من الله تعالى" اللہ کی طرف سے الہام کے ذریعے "بأن أراه بنور من عنده" بعیں صورت کہ اللہ دکھا دیں وہ اپنی طرف سے نور کے ذریعے بھئی، اپنی طرف سے ایک نور کے ذریعے دکھلا دیں بھئی اللہ الہام کر دیں، پیغمبر کے دل میں ڈال دیں بھئی۔ "وهذا هو المسمى بالإلهام" اور یہی وہ ہے جس کو الہام کہا جاتا ہے "ويشترك فيه الأولياء أيضا" اور اس میں اولیاء بھی مشترک ہیں، وہ بھی شریک ہیں بھئی، اولیاء بھی اس میں شریک ہیں ان کو بھی الہام ہوتا ہے۔ "وإن كان وإن كان إلهامهم يحتمل الخطأ والصواب" اگرچہ اولیاء کا الہام جو ہے وہ غلطی اور درستگی دونوں کا احتمال رکھتا ہے "وإلهامه لا يحتمل إلا الصواب" اور پیغمبر کا الہام وہ احتمال نہیں رکھتا مگر درستگی کا ہی، یعنی وہ درست ہی ہوتا ہے۔ "ولم يذكر ما كان بالهاتف" اور ذکر نہیں کیا مصنف نے اس قسم کو جو ہاتف کے ذریعے ہو، بھئی وحیِ ظاہری کی بات چل رہی ہے، ایک قسم وہ جس میں فرشتے کی زبان سے سنیں، دوسری قسم وہ جس میں فرشتے کے اشارے سے سمجھیں، تیسری قسم وہ جو اللہ کی طرف سے الہام ہو۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ ایک دو اور صورتیں بھی تو وحی کی ہیں بھئی کہ کوئی ہاتفِ غیبی، ہاتف آواز دینے والا، کوئی ہاتفِ غیبی، کوئی غیبی فرشتہ آواز دے کر کوئی بات کہے، یہ بھی ایک صورت ہے اور ایک صورت ہے کہ خواب کے اندر دکھلا دیا جائے، بتلا دیا جائے، یہ بھی صورت ہے، اس کو ذکر نہیں کیا کیا وجہ ہے؟ وہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں "ولم يذكر ما كان بالهاتف" اور ذکر نہیں کیا گیا اس قسم کو جو ہاتف کے ذریعے ہو "لأنه لم يكن من شأنه عليه الصلاة والسلام" اس لیے کیونکہ یہ حضور علیہ السلام کی شان میں سے، یعنی آپ کے حال میں سے نہیں تھا، آپ کو اس طرح وحی نہیں آتی تھی "أو لم يثبت به أحكام الشرع" یا اس کے ذریعے احکامِ شریعت ثابت نہیں ہوتے اس لیے اس کو ذکر نہیں کیا اور ہماری بحث چل رہی ہے کس کے اندر؟ وہ وحی جس کے ذریعے احکامِ شریعت ثابت ہوتے ہیں۔ "وكذا لم يذكر ما كان في المنام" اور اسی طرح ذکر نہیں کیا اس وحی کو بھی جو خواب میں ہو "لأنه كان في ابتداء النبوة لم تثبت به أحكام الشرع" اس لیے کیونکہ وہ نبوت کے ابتدا میں تھی اور اس کے لیے احکامِ شریعت ثابت نہیں ہوتے۔ "والباطن" دوسری قسم کیا ہے وحی کی؟ باطنی ہے، "ما ينال بالاجتهاد بالتأمل في الأحكام المنصوصة" وہ ہے جس کو پایا جائے اجتہاد کے ذریعے، غور و فکر کرتے ہوئے احکامِ منصوصہ میں، وہ احکام جن پر نص لائی گئی ہے بھئی، ان احکامِ منصوصہ میں غور و فکر کر کے پیغمبر ان کے ذریعے حکم نکالتا ہے بھئی جیسے قیاس میں ہوتا ہے بھئی، کس میں؟ قیاس میں۔ خود شارح بتلا رہے ہیں "بأن يستنبط علة في الحكم المنصوص" بعیں طور کہ پیغمبر استنباط کرتا ہے علت کا "في الحكم المنصوص" کس کے اندر؟ اس حکم میں جس پر نص لائی گئی ہو "ويقيس عليه ما لم يعلم حاله" اور پھر قیاس کرتا ہے اس پر اس چیز کو جس کا حال معلوم نہ ہو "بالنص" نص کے ذریعے، جس کا حال نص کے ذریعے معلوم نہیں ہے، اس کو اس پر کیا کر لیتا ہے؟ قیاس۔ "كما كان شأن سائر المجتهدين" جیسے کہ تمام مجتہدین کا حال ہے "فأبى بعضهم أن يكون هذا من حظه عليه الصلاة والسلام" پس انکار کیا ہے بعض علماء نے، فقہاء نے انکار کیا اس بات کا کہ یہ حضور علیہ السلام کے حصے میں سے ہو، کس میں ہو؟ حضور علیہ السلام کا بھی اس میں حصہ ہو یعنی آپ کیا کر لیتے ہوں؟ اجتہاد کرتے ہوں اور ایک چیز جس کے حکم کا علم نہیں تھا تو دوسرے حکم کے ذریعے علت کا پتہ چلا وہ علت یہاں ملی اور وہاں بھی یہی حکم لگا دیا، بعض کہتے ہیں یہ حضور علیہ السلام کا یہ حال نہیں بھئی اس لیے کیونکہ آپ کے پاس وحی آتی تھی ہر چیز کے بارے میں، تو یہ بعضوں نے کہا ہے۔ اوپر مذہب بیان کر دیا کہ ہمارے نزدیک کیا ہے؟ پیغمبر بھی اجتہاد کرتے ہیں بھئی۔ تو بعضوں نے انکار "فأبى بعضهم أن يكون هذا من حظه عليه السلام" اور بعضوں نے انکار کیا ہے اس بات سے کہ یہ پیغمبر کا حصہ ہو "لأن الله تعالى قال" اس لیے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں "وما ينطق عن الهوى إن هو إلا وحي يوحى" اور نہیں بات کرتا یہ پیغمبر اپنی خواہش سے، یہ پیغمبر خواہش سے کلام نہیں کرتا "إن هو إلا وحي يوحى" نہیں ہے وہ مگر وحی بھیجی ہوئی۔ یہ تو صرف بھیجی ہوئی وحی ہی ہے۔ "فكل ما تكلمه لا بد أن يكون ثابتا بالوحي" پس ہر وہ چیز جس پر وہ کلام کریں پیغمبر ضروری ہوا کہ وہ ثابت ہو وحی کے ذریعے کیونکہ اللہ خود فرما رہے ہیں کہ یہ اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتے، وہ جو بھی کلام کرتے ہیں وہ کس کے ذریعے ہوتا ہے؟ وحی کے ذریعے، تو "والاجتهاد ليس كذلك" اور اجتہاد تو ایسا نہیں ہے "فلا يكون هذا شأنه" تو یہ پیغمبر کا یہ شان نہیں ہے "والجواب" جواب یہ ہے "أن المراد بهذا الوحي هو القرآن دون كل ما تكلم به" کہ اس وحی سے مراد جو ہے وہ قرآن ہے نہ کہ ہر وہ چیز جس پر پیغمبر کلام فرمائیں۔ "وما ينطق عن الهوى إن هو إلا وحي يوحى" اس سے صرف کیا مراد ہے؟ قرآن مراد ہے، ہر کلام مراد نہیں بھئی۔ جی، لیکن یہ جواب، یہ جواب یاد رکھیے جمہور کے نزدیک پیغمبر جو بھی کلام کریں وہ سب وحی ہے بھئی، پیغمبر جو بھی کلام کریں سب وحی ہیں بھئی، تو یہ جواب کمزور ہے بھئی کہ یہ جواب دیا جائے کہ اس سے صرف قرآن مراد ہے۔ "ولئن سلم" اور اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے "أنه عام" کہ یہ عام ہے، پیغمبر جو بھی کلام کرتے ہیں وہ وحی ہوتا ہے اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو کہتے ہیں اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے کہ یہ عام ہے "فلا نسلم أن اجتهاده ليس بوحي" تو پھر ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ پیغمبر کا اجتہاد وحی نہیں ہوتا "بل هو وحي باطن باعتبار المآل والقرار عليه" بلکہ وہ باطنی وحی ہے باعتبارِ مآل، نتیجے کے اعتبار سے "والقرار عليه" اور اس پر ثابت ہونے کے، ثابت رہنے کے اعتبار سے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اجتہاد، پیغمبر بھی اجتہاد کرتے ہیں لیکن اجتہادی غلطی اگر ہو جائے تو اس پر برقرار نہیں رہتے وحی کے ذریعے بتلا دیا جاتا ہے جبکہ عام مجتہد اگر اجتہاد میں غلطی کر لے تو پھر وہ اسی طرح قیامت تک رہتی ہے بھئی۔ "وعندنا هو مامور بانتظار الوحي" اور ہمارے نزدیک پیغمبر جو ہے وہ مامور ہے وحی کے انتظار میں، مامور ہے کس کے ساتھ؟ وحی کے انتظار کے ساتھ مامور ہے کہ کوئی معاملہ اگر پیش آ جائے اور اس کے بارے میں کوئی نص نہیں آئی، اللہ کی طرف سے کوئی حکم نہیں آیا تو پیغمبر کو حکم دیا گیا ہے وحی کے انتظار کا کہ کچھ دیر تک کیا کر لیں کچھ مدت تک؟ وحی کا انتظار کر لیں، تو وہ مامور ہیں انتظارِ وحی کے ساتھ، "فيما لم يوح إليه" اس چیز میں جو ان کی طرف وحی نہیں کی گئی "أي إذا نزلت الحادثة بين يديه" یعنی جب پیش آ جائے کوئی واقعہ پیغمبر کے سامنے "يجبه عليه أن ينتظر الوحيا" تو واجب ہے ان پر کہ وہ انتظار کریں وحی کا "أولا لجوابها إلى ثلاثة أيام" تو واجب ہے ان پر کہ وہ انتظار کریں وحی کا اولاً، اس حادثے کا جواب دینے کے لیے تین دن تک بھئی، تین دن تک کیا کر لیں اس کا؟ انتظار کر لیں بھئی تین دن تک۔ لیکن علماء لکھتے ہیں کہ یہ "ثلاثة أيام" تین دن کی مدت بعض علماء نے بیان کی، اس کی کوئی دلیل نہیں ملتی بھئی کہ تین دن کس طرح انتظار کریں بھئی۔ ہاں یہ تو ٹھیک ہے ہو سکتا ہے کہ پیغمبر کیا ہوں؟ مامور ہوں کہ وہ کیا کریں؟ وحی کا انتظار کریں لیکن تین دن تک انتظار یہ دلیل، اس کی دلیل نہیں ملتی بھئی۔ "أو إلى أن يخاف فوت الغرض" یا یہ کہ پیغمبر کو خوف ہو اس غرض کے، اس مقصد کے فوت ہو جانے کا یا تو تین دن تک انتظار کر لیں یا اس حد تک جب تک کہ اس چیز کے فوت ہونے کا احتمال ہو، اس وقت تک انتظار کر لیں۔ "ثم العمل بالرأي بعد انقضاء مدة الانتظار" پھر رائے پر عمل کے ساتھ مامور ہیں مدتِ انتظار کے گزر جانے کے بعد بھئی، دیکھیے متن کیسا متن جوڑیے "وعندنا هو مامور بانتظار الوحي ثم العمل بالرأي بعد انقضاء مدة الانتظار" ہمارے نزدیک پیغمبر مامور ہے انتظارِ وحی کے ساتھ یعنی ان کو انتظارِ وحی کا حکم دیا گیا ہے "ثم العمل بالرأي بعد انقضاء مدة الانتظار" پھر ان کو رائے پر عمل کا حکم ہے بعد انقضاءِ مدتِ انتظار، مدتِ انتظار کے گزر جانے کے بعد، اس کے پورا ہو جانے کے بعد۔ "فإن كان أصاب في الرأي" پس اگر پیغمبر مصیب رہا رائے میں، یعنی حق کو، درستگی پر رہا رائے کے اندر، اجتہاد کے اندر اگر پیغمبر درستگی پر رہا "لم ينزل الوحي عليه في تلك الحادثة" تو وحی نازل نہیں ہوتی ان پر اس واقعے کے بارے میں "وإن كان أخطأ في الرأي" اور اگر پیغمبر نے غلطی کی رائے کے اندر "ينزل الوحي" تو وحی نازل ہوتی ہے "لتنبيهه على الخطأ" اس غلطی پر تنبیہ، متنبہ کرنے کے لیے، "وما تقرر على الخطأ قط" اور کبھی بھی پیغمبر ثابت نہیں رہتا غلطی پر، یعنی فوراً کس کے ذریعے بتلا دیا جاتا ہے؟ وحی کے ذریعے "بخلاف سائر المجتهدين" برخلاف باقی مجتہدین کے "فإنهم إن أخطأوا يبقى خطأهم إلى يوم القيامة" پس بے شک اگر وہ خطا کریں تو باقی رہتی ہے ان کی خطا قیامت کے دن تک، ان کی خطا قیامت کے دن تک باقی رہتی ہے۔ اچھا بھئی، یہاں زلت کا بیان آیا بھئی۔ زلت، یہ پیغمبر سے جو غلطی ہوئی، لغزش ہوئی یا اجتہادی خطا وغیرہ ہوئی بھئی، زلت کی انہوں نے تعریف بتلائی وہ نام ہے اس فعلِ حرام کا جس میں پیغمبر واقع ہو جائے "بسبب القصد لفعل مباح" بوجہ ارادہ کرنے فعلِ مباح کے۔ فعلِ مباح کا ارادہ تھا لیکن کس میں واقع ہو گئے؟ فعلِ حرام میں۔ یاد رکھیے علماء نے اس پر بحث کی ہے کہ پیغمبر سے کوئی صغیرہ ہو سکتا ہے یا اسی طرح کوئی کبیرہ یا نہیں ہو سکتا، تو اس بات پر تو سارے علماء کا اتفاق ہے کہ پیغمبر سے کبیرہ نہیں ہو سکتا، کبیرہ گناہ نہیں ہو سکتا۔ بعضوں نے اور صغیرہ کے اندر بعض کہتے ہیں صغیرہ گناہ ہو سکتا ہے، صغیرہ گناہ ہو سکتا ہے، لیکن یہ قول بھی غیر مختار ہے۔ مختار قول یہی ہے کہ پیغمبر سے نہ صغیرہ ممکن ہے اور نہ کبیرہ، اس پیغمبر کی اللہ کی طرف سے خصوصی حفاظت ہوتی ہے ہر صغیرہ و کبیرہ سے، ممکن ہی نہیں ہے کہ پیغمبر سے کوئی صغیرہ یا کبیرہ گناہ ہو جائے بھئی، ممکن ہی نہیں ہے۔ ممکن ہی نہیں ہے، یہ راجح قول ہے۔ بلکہ علمائے دیوبند کا مذہب اس میں بڑا پیارا ہے، علمائے دیوبند کا مذہب یہ ہے کہ نبوت ملنے کے بعد تو پیغمبر سے قطعاً صغیرہ، کبیرہ نہیں ہو سکتا، یہ تو سب مانتے ہیں، نبوت ملنے سے پہلے بھی پیغمبر سے کوئی صغیرہ اور کبیرہ نہیں ہو سکتا بھئی، نبوت ملنے سے پہلے بھی۔ بعضوں نے لکھا کہ نبوت ملنے سے پہلے صغیرہ ممکن ہے، ہو سکتا ہے، ہم کہتے ہیں نہیں، نبوت ملنے سے پہلے بھی نہ صغیرہ ہو سکتا ہے اور نہ کبیرہ۔ نہ صغیرہ نہ کبیرہ۔ بلکہ والد صاحب رحمہ اللہ وہ فرماتے تھے کہ نبوت ملنے سے پہلے بھی نہ صغیرہ ہو سکتا ہے، نہ کبیرہ ہو سکتا ہے اور کوئی ناپسندیدہ اور مکروہ کام بھی نہیں ہو سکتا پیغمبر سے نبوت سے پہلے بھی بھئی، کوئی ناپسندیدہ کام بھی نہیں ہو سکتا پیغمبر سے۔ اور پھر دلائل ذکر کرتے تھے۔ مثلاً روایات میں آتا ہے کہ حضور علیہ السلام کے بچپن کا زمانہ تھا، دو ساتھی تھے تو پاس ہی کہیں قریب میں میلے تماشے وغیرہ لگے بھئی، کوئی میلہ وغیرہ لگا تھا اور تو وہاں ساتھیوں نے کہا آپ کو کہ آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں، رات کو مجلسیں ہوتیں بھئی اور تو آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں۔ بڑا مجبور کیا ساتھیوں نے تو حضور علیہ السلام تیار ہو گئے کہ ٹھیک ہے آج میں آؤں گا۔ چنانچہ آپ چل پڑے بھئی۔ اب دیکھیے یہ کوئی گناہ کا کام بھی نہیں تھا، لیکن اللہ نے ناپسندیدہ چیزوں سے بھی پیغمبر کی حفاظت فرمائی، چنانچہ حضور علیہ السلام راستے میں چلتے چلتے تھک گئے، ایک جگہ بیٹھ گئے کسی جگہ ٹیک وغیرہ لگا کر اور پتہ ہی نہیں چلا وہی سو گئے، آنکھ کھلی تو صبح ہو چکی تھی۔ دوسرے دن پھر اسی نیت سے چلے، پھر اسی طرح تھکے، بیٹھے اور پھر سو گئے، پتہ ہی نہیں چلا۔ تیسرے دن بھی غالباً شاید اسی طرح ہوا اور جب تک پھر وہ تماشے ہی ختم ہو گئے بھئی۔ اسی طرح اس زمانے کے اندر بھئی عرب کے اندر نا، ننگا ہونا کوئی عیب نہیں سمجھا جاتا تھا۔ آپ نے پڑھا ہوگا کہ عرب لوگ بعض تو بیت اللہ کا طواف بھی ننگے ہو کر کرتے بھئی، ان کے ہاں یہ عیب تھا ہی نہیں، شمار ہی نہیں ہوتا تھا بھئی۔ تو بیت اللہ کی تعمیر ہو رہی تھی، حضور علیہ السلام چھوٹے سے تھے، لوگ پتھر اٹھا اٹھا کر لا رہے ہیں، حضور علیہ السلام بھی پتھر لے کر آ رہے ہیں باقوں کے ساتھ۔ چھوٹے سے ہیں۔ تہبند باندھا ہوا ہے۔ رشتہ داروں نے دیکھا تو کہا کہ آپ نے یہ پتھر لا رہے ہیں، کندھے پر رکھتے ہو بھئی یہ تہبند اتار کر کندھے پر رکھ لو، کندھے پہ بھی تکلیف نہیں ہوگی، اسانی سے پتھر لے کر آؤ گے۔ قریبی رشتہ داروں نے بھی کہا۔ تو جب کئیوں نے کہا تو حضور علیہ السلام کا ارادہ ہوا۔ چنانچہ آپ تہبند کی طرف آپ نے ہاتھ بڑھایا، کھولنے لگے تو اچانک آواز، زور سے آواز آئی، مت کھولو۔ حضور علیہ السلام چونک اٹھے، ادھر ادھر دیکھا۔ کوئی بھی دکھائی نہ دیا۔ پھر ہاتھ بڑھایا، پھر کھولنے لگے، پھر آواز آئی، مت کھولو۔ پھر آپ رک گئے، ادھر ادھر دیکھا، پھر کوئی دکھائی نہیں دیا۔ تیسری مرتبہ پھر ہاتھ بڑھایا کھولنے کے لیے، تو اب بڑی زوردار اور دہشت ناک آواز آئی، ہم تمہیں منع کر رہے ہیں اور تم پھر کھول رہے ہو۔ آپ اتنے خوفزدہ ہوئے کہ خوف سے بے ہوش ہو کر گر گئے۔ خوف سے اور پھر جب ہوش آیا، تو پھر رشتہ داروں کو یہ بات بتلائی آپ نے۔ تو دیکھیے یہ ناپسندیدہ کام تھا، اس سے بھی اور بچپن کی حالت تھی، لیکن اس سے بھی اللہ نے حضور علیہ السلام کی حفاظت فرمائی بھئی، حفاظت فرمائی۔ تو میں نے آپ کو بتلایا پیغمبر جو ہے، ہر گناہ سے معصوم ہے صغیرہ اور کبیرہ۔ صغیرہ اور کبیرہ ہر قسم کے گناہ سے پیغمبر معصوم ہے بھئی۔ تو کبیرہ کیس سے تو کبیرہ تو پیغمبر سے صادر نہیں ہو سکتا بالاتفاق بھئی۔ البتہ صغیرہ پیغمبر سے صادر ہو سکتا ہے صغیرہ گناہ یا نہیں، اس میں علماء نے اختلاف کیا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ صغیرہ گناہ پیغمبر سے ممکن ہے، ممکن ہے۔ اگرچہ مختار اور راجح قول یہی ہے، مختار قول یہی ہے کہ پیغمبر سے صغیرہ گناہ بھی نہیں ہو سکتا۔ اور یہ تو نبوت کے زمانے کے بعد ہے، نبوت ملنے کے بعد۔ کبیرہ تو بالاتفاق پیغمبر سے صادر نہیں ہو سکتا بھئی، اور صغیرہ میں بھی مختار قول یہی ہے کہ وہ پیغمبر سے صادر نہیں ہو سکتا۔ اور نبوت ملنے سے پہلے کا جو زمانہ ہے، کیا اس میں صغیرہ ممکن ہے یا نہیں؟ تو بعض کہتے ہیں اس میں صغیرہ ممکن ہے، نبوت ملنے سے پہلے کا جو زمانہ ہے، اس میں ممکن ہے پیغمبر سے صغیرہ گناہ کا ہونا۔ تو اس میں اختلاف ہے کہ پہلے ہو سکتا ہے یا نہیں، بعضوں نے کہا نبوت ملنے سے پہلے صغیرہ گناہ ہو سکتا ہے، اور بعضوں نے کیا کہا کہ نبوت ملنے سے پہلے بھی صغیرہ گناہ نہیں ہو سکتا۔ اور چنانچہ علماء دیوبند کا مسلک بھی یہی ہے، سب سے پیارا مسلک، کہ پیغمبر سے نبوت کے بعد بھی نہ کبیرہ ہو سکتا ہے، نہ صغیرہ، اور نبوت ملنے سے پہلے بھی وہ ہر قسم کے گناہ سے معصوم ہے بھئی، معصوم ہے۔ اور یاد رکھیے، یہ اختلاف امکان میں ہے، امکان میں کہ ممکن ہے صغیرہ گناہ کا ہونا یا ممکن نہیں، اس میں اختلاف ہے، وقوع کے اندر نہیں بھئی، وقوع تو نہیں، ہوا تو کوئی گناہ نہیں، لیکن کیا ممکن ہے، ہو سکتا ہے یا نہیں ہو سکتا بھئی، اس میں اختلاف ہے بھئی، وقوع کے اندر اختلاف نہیں، اس میں تو بالاتفاق کوئی گناہ نہیں ہوا، نہ کسی قسم کا بھئی صغیرہ بھی نہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی۔ چلیے بس بھئی، ہذا ہو المراد، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
84 approved lectures · 53 of 84