درس نمبر۔ 80
والثاني ما استبيح مع قيام السبب، لكن الحكم تراخى عنه، فهو أدون من الأول، لأنه من حيث أن السبب قائم، فهو من الرخص الحقيقية، ومن حيث أن الحكم تراخى عنه، كان غير أحق.
رخصت کے بارے میں بحث شروع کی تھی، گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ رخصت جو ہے، وہ چار قسم پر ہے، اور دو قسم جو ہیں وہ حقیقت میں سے ہیں، اور دو مجاز میں سے۔ دو قسم رخصت حقیقی ہے دو جگہ، اور دو جگہ مجازاً رخصت کا اطلاق ہوتا ہے۔ اور پھر جو دو قسمیں جو ہیں حقیقت کی، وہ ان میں سے ایک دوسری کے بنسبت زیادہ حقدار ہے بھئی۔ یعنی رخصت حقیقی ہونے میں ایک دوسری کے مقابلے میں زیادہ حقدار ہے، اور زیادہ لائق ہے۔
اور وہ پہلی قسم ہم نے پڑھ لی تھی کہ جو زیادہ لائق ہے، وہ جس کے ساتھ مباح والا معاملہ کیا جاتا ہے، باوجود اس کے کہ محرم اور حکم دونوں موجود ہوتے ہیں۔ یعنی دلیل اور حکم دونوں چیزیں موجود ہوتی ہیں، لیکن اس کے باوجود اس کے ساتھ مباح والا معاملہ کیا جاتا ہے۔
دوسری قسم آج آپ پڑھیں گے بھئی، کہتے ہیں: والثاني ما استبيح اور دوسری قسم رخصت کی وہ ہے جس کو مباح سمجھا جائے۔ اور یہاں یہ حقیقتاً مباح ہے بھئی۔ پچھلی میں کیا تھا؟ اس کو مباح سمجھا جاتا تھا، مباح والا معاملہ کیا جاتا تھا، حقیقتاً مباح نہیں بھئی۔ حقیقتاً مباح نہیں بھئی، کیونکہ سبب بھی موجود اور حکم بھی موجود۔ جبکہ دوسری قسم وہ حقیقتاً جو ہے وہ مباح ہو گئی بھئی۔
تو کہتے ہیں: والثاني ما استبيح مع قيام السبب اور دوسری قسم وہ ہے جس کو مباح سمجھا جائے مع قيام السبب، ساتھ سبب کے قیام ہوتے ہوئے، قيام سبب یعنی سبب کے ہوتے ہوئے، لكن الحكم تراخى عنه لیکن حکم اس سے مؤخر ہو گیا۔ بھئی پہلی قسم جو تھی اس کے اندر دلیل یعنی محرم بھی موجود ہوتا تھا، یعنی سبب، سبب بھی موجود ہوتا تھا، سبب سے کیا مراد؟ وہ دلیل محرم، حرام کرنے والی دلیل، اور اس کا حکم یعنی حرمت بھی موجود ہوتی تھی۔ جبکہ اس قسم کے اندر دلیل تو موجود ہے یعنی سبب تو موجود ہوگا، لیکن حکم کیا ہو جائے گا؟ حکم مؤخر ہو جائے گا، وہ موجود نہیں ہوگا بھئی۔
تو کہتے ہیں: فهو أدون من الأول یہ پہلی قسم سے کم درجے کی ہے، لأنه من حيث أن السبب قائم اس لیے کیونکہ اس حیثیت کے اس حیثیت سے کہ سبب تو قائم ہے، فهو من الرخص الحقيقية یہ رخصت حقیقی میں سے ہے، ومن حيث أن الحكم تراخى عنه كان غير أحق لیکن اس حیثیت سے کہ حکم اس سے مؤخر ہو گیا، تو زیادہ حقدار نہیں ہے بھئی۔
پہلی قسم میں کیا تھا؟ سبب بھی موجود ہوتا تھا یعنی محرم، اور حکم یعنی حرمت بھی موجود ہوتی تھی، لیکن اس کے باوجود شریعت کی طرف سے گنجائش ا جاتی تھی، مثلاً کلمۂ کفر زبان سے کہنے پر کسی کو مجبور کیا گیا۔ اب دلائل بھی موجود ہیں اس بات پر کہ کلمۂ کفر زبان پر نہیں آنا چاہیے، عقلی بھی اور نقلی بھی، اور اس کی حرمت بھی موجود کہ کلمہ زبان سے کہنا حرام ہے۔ لیکن اس حالتِ اکراہ کے اندر رخصت آگئی، گنجائش مل گئی کہ کلمہ اگر دل میں ایمان ہے، تو زبان سے کلمۂ کفر کہہ سکتا ہے۔
اور اس حالت میں عزیمت پر عمل اولیٰ تھا۔ یہاں تک کہ اگر وہ صبر کرے، اکراہ وغیرہ ہر چیز کو برداشت کر لے، لیکن اپنی زبان سے کلمۂ کفر نہ کہے، عزیمت پر ہی جما رہے، یہاں تک کہ دوسرے اس کو قتل کر دیں، تو وہ شہید ہوگا اور اسے ثواب ملے گا۔
جبکہ اس قسم کے اندر سبب تو موجود ہوتا ہے، لیکن حکم اس سے مؤخر ہو جاتا ہے، جیسے مسافر کو رخصت دی گئی رمضان کے اندر، وہ چاہے تو اس وقت روزے رکھے اور چاہے تو وہاں حکم مؤخر ہو گیا بھئی، شہودِ شہر تو موجود ہے، اور شہودِ شہر کی صورت میں یعنی رمضان کا مہینہ جب موجود ہو تو روزے واجب ہوتے ہیں بھئی، روزوں کی ادائیگی واجب، لیکن اس پر وجوب نہ رہا بھئی۔ وجوبِ ادا اس سے کیا ہو گئی؟ مؤخر ہو گئی دیکھو بھئی، وجوبِ ادا مؤخر۔
اور یہاں پر بھی عزیمت پر عمل اولیٰ ہے، لیکن اگر یہاں نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو، تو پھر افطار ہی افضل ہے اس کے لیے۔ یہاں تک کہ بھئی اس کو پتہ ہے مجھے تکلیف پہنچے گی اور پھر بھی یہ سفر میں روزہ رکھتا ہے، یہاں تک کہ وہ ہلاک ہو گیا اس کی وجہ سے، تو کہتے ہیں یہ گناہگار ہوا، اس نے گویا اپنے نفس کو خود قتل کیا۔ شریعت نے اس کو رخصت دی تھی، اس نے اس پر عمل نہیں کیا۔ تو پہلی قسم کے اندر دیکھو اگر وہ مرتا تھا وہ شہید تھا اور اس کو عظیم اجر ملتا تھا، جبکہ یہاں پر اگر وہ ہلاک ہوتا ہے، اسے علم ہے میں روزہ رکھوں گا مجھے تکلیف پہنچے گی، میں ہلاکت میں پڑ جاؤں گا، مصیبت میں، پھر بھی وہ روزہ رکھ رہا ہے، تو گویا اپنے آپ کو خود ہلاک کرنے والا ہے، تو اس صورت میں کیا ہوگا؟ گناہگار ہوگا اگر وہ ہلاک ہو جاتا ہے بھئی۔ فرق سمجھ میں آیا بھئی؟
كالمسافر، جیسے کہ مسافر ہے، أي كإفطار المسافر، شارح نے مسافر سے پہلے افطار مضاف محذوف نکالا، كإفطار المسافر، اس لیے کیونکہ بات رخصت کی چل رہی ہے، تو یہاں مسافر یہ تو خود رخصت کی مثال نہیں ہے، ہاں افطارِ مسافر کس کی مثال ہے؟ رخصت کی مثال ہے، تو مضاف محذوف نکالا تاکہ مثال ممثل لہ کے مطابق ہو جائے۔
كإفطار المسافر، جیسے کہ مسافر کا افطار ہے، يرخص له، اس کے لیے رخصت ہے، فإن السبب وهو شهود الشهر موجود في حقه، کیونکہ سبب جو ہے وہ اس مہینے کی موجودگی جو ہے، مہینے کی کا حاضر ہونا موجود ہے اس کے حق میں، ولكن حكمه وهو وجوب أداء الصوم تراخى عنه، لیکن اس کا حکم جو ہے وهو وجوب أداء الصوم، اداۓ صوم کا واجب ہونا تراخى عنه، یہ اس سے مؤخر ہو گیا، إلى إدراك عدة من أيام أخر، یہاں تک کہ وہ کچھ اور ایام پا لے بھئی، رمضان کے بعد کچھ اور ایام پا لے، پھر کیا کر لے اس میں؟ روزے رکھ لے بھئی، اس وقت مؤخر ہو گیا بھئی، اداۓ روزہ اس پر ضرور واجب نہیں ہے اب۔
تو کہتے ہیں بھئی ترا، حکم اس سے مؤخر ہو گیا إلى إدراك عدة من أيام أخر، چند اور ایام کے پا لینے تک، یہاں تک کہ یہ چند اور ایام پا لے یعنی رمضان کے بعد کچھ اور ایام پا لے تو اس میں کیا کر لے؟ ان روزوں کی قضا کر لے بھئی۔
وحكمه أن الأخذ بالعزيمة أولى، اور حکم اس قسم کا یہ ہے کہ عزیمت کو لے لینا یہ اولیٰ ہے، یعنی عزیمت پر عمل کرنا یہ اولیٰ ہے، لكمال سببه، سببه پر لکیر ہے بھئی؟ یہ بھی متن کا حصہ ہے بھئی سببه، لكمال سببه، بموجب سبب کے کامل ہونے کے، بھئی یہ دلیل ذکر کر رہے ہیں، عزیمت پر عمل اولیٰ کیوں ہے؟ لكمال سببه، پہلی دلیل کیا ذکر کی؟ کہ سبب کامل ہے۔ بھئی وہ کیا؟ کہتے ہیں: وهو شهود الشهر، وہ اس مہینے کی کا حاضر ہونا، موجود ہونا ہے، حتى كان الصوم في السفر أفضل من الإفطار عندنا، یہاں تک کہ سفر میں روزہ رکھنا یہ افضل ہے افطار کے سے ہمارے نزدیک، وعند الشافعي رحمه الله الإفطار أفضل، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک افطار افضل ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک افطار افضل ہے۔ لیکن یہ درست نہیں مولانا، حق یہ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے کہ سفر کے اندر روزہ افضل ہے۔ ہاں اگر تکلیف پہنچنے کا خطرہ ہو کہ مجھے تکلیف ہوگی، بہت زیادہ مشقت ہوگی روزے کی وجہ سے، پھر ان کے نزدیک افطار بہتر ہے، اور اس صورت میں تو ہمارے نزدیک بھی پھر افطار بہتر ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کا بعینہٖ وہی مذہب ہے جو ہمارا ہے بھئی۔
وعند الشافعي رحمه الله الإفطار أفضل، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک افطار افضل ہے، لقوله عليه السلام، حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے: أولئک العصاة أولئک العصاة، عصاة جمع ہے عاصی کی بھئی، عاصی: نافرمان، گناہگار بھئی۔
بھئی احادیث مبارکہ میں آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال چلے فتح مکہ کے لیے، تمام صحابہ ہمراہ ہیں بھئی، تو ایک مقام پر پہنچے بھئی، اور قدیم زمانے میں تو سفر کی اور بھی زیادہ مشقت تھی، اور پھر خصوصاً عرب کا صحرائی، ریگستانی علاقہ، وہاں تو شدید گرمی پڑتی تھی، تو چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا گیا کہ روزے کی وجہ سے لوگ بہت تکلیف میں مبتلا ہو گئے ہیں بھئی۔
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع ملی، تو آپ نے پانی منگوایا بھئی، کیونکہ صحابہ دیکھتے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو، اور پھر اس کو لے لیا کرتے تھے بھئی۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، بعض روایات میں عصر کا وقت تھا بھئی، صحابہ کی بہت سے صحابہ کی بہت بری حالت بھئی، سخت گرمی، سفر، روزہ، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور پھر پانی کو کا برتن بلند کیا تاکہ سارے دیکھ لیں بھئی، اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پانی پی لیا، روزہ توڑ دیا بھئی۔ تو صحابہ نے بھی، بہت سے صحابہ نے بھی روزہ توڑ دیا بھئی۔
چند ایک تھے، ان کو ان کی ہمت ہوگی کہ ہم روزہ رکھ لیتے ہیں، لیکن بہتر یہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسا فرمایا ہے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ بعض نے ابھی تک روزہ رکھا ہے، روزہ نہیں توڑا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا: اولئک العصاة اولئک العصاة، یہ گناہگار ہیں، یہ گناہگار ہیں۔
تو یہ پہلی دلیل ہے بھئی امام شافعی رحمہ اللہ کے، لیکن میں نے بتایا امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ مذہب ہی نہیں ہے بھئی، تو یہ دلیل کے طور پر ان کی طرف سے ذکر کرنا، تو اسی طرح حضور علیہ، بقولہٖ حضور علیہ السلام کا یہ قول جو ہے: ليس من امبر امصيام فامسفر۔
بھئی یہ ایک قبیلے کی لغت ہے، وہ الف لام کے بجائے الف میم پڑھتے ہیں بھئی۔ بھئی ہم تو الف لام پڑھتے ہیں بھئی، عام آپ کتابوں میں جو پڑھتے ہیں الف لام معرفہ بنانے کے لیے لاتے ہیں، مثلاً رجل کو معرفہ بنانا ہے الف لام لائیں گے الرجل، اور بعض کے طریقہ کیا تھا؟ وہ الف لام کے بجائے الف میم لاتے تھے، تو رجل کو معرفہ وہ کس طرح پڑھیں گے؟ ام رجل، تو یہاں بھی اسی طرح ہے بھئی۔
یہ آگے ليس من البر، البر ہے البر، اور آگے الصيام ہے، میم کی جگہ لام پڑھیں تو آپ کو معنی سمجھ میں آ جائے گا۔ فامسفر، یہ کیا ہے فی الحقیقت؟ في السفر بھئی۔
تو حضور علیہ السلام کا دوسرا قول یہ ہے: ليس من امبر امصيام فامسفر، بالکل اسی طرح پڑھیں جیسے الف لام کی صورت میں پڑھتے تھے، لیکن لام کی جگہ میم پڑھتے جائیں۔ ليس من امبر امصيام فامسفر، نہیں ہے نیکی میں سے، نیکی میں سے نہیں ہے، کیا نہیں ہے نیکی میں سے؟ الصيام في السفر، سفر میں روزہ رکھنا۔ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ہے بھئی۔
بہت سے حدیث میں الف لام کے ساتھ بھی، یہ حدیث اسی طرح مذکور ہے بھئی۔
تو بہرحال یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں ایک مرتبہ، وہی سفر ہوگا یا کسی اور میں، کہ ایک شخص جو ہے اس پر لوگوں نے ہجوم کیا ہوا ہے، سفر میں تھے، لوگ اس کے گرد صحابہ جمع ہیں اور سایا کر رہے ہیں، حضور علیہ السلام کو پتہ بتلایا گیا ہوگا کہ یہ کوئی صحابی ہیں اور روزے کی شدت سے ان کی حالت خراب ہو گئی ہے تو اب سایا کر رہے ہیں اور لوگ صحابہ ان کے پاس جمع ہو گئے ہیں، تو اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ليس من امبر امصيام فامسفر بھئی۔ اور چونکہ یہ لوگ ان کی یہ لغت تھی تو حضور علیہ السلام نے بھی انہی کی لغت میں کلام کیا، انہی کے طریقے پر کلام کیا، کہ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔
قلنا، ہم جواب دیتے ہیں: كان ذلك محمولا على حالة الجهاد، کہ یہ جو ہے محمول ہے جہاد کی حالت پر۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب تو میں نے بتایا وہ بھی یہی مذہب ہے، لیکن مصنف کو جو روایت پہنچی بھئی، کیونکہ بعض روایت میں یہ بھی آیا کہ ان کا یہ مذہب ہے کہ افطار افضل ہے، حالانکہ حق کیا ہے؟ ان کے نزدیک بھی روزہ ہی افضل ہے۔
تو ان کے مطابق دو دلیلیں ذکر کر دیں کہ وہ امام شافعی رحمہ اللہ کی یہ دلیلیں ذکر کرتے ہیں بھئی، روایت کرنے والے، تو جواب دیا بھئی کہ ہمارے نزدیک یہ محمول ہیں حالتِ جہاد پر۔ بھئی حالتِ جہاد کے اندر تو روزہ نہ رکھنا افضل ہے، ان کے نزدیک بھی اور ہمارے نزدیک بھی، کیونکہ روزہ رکھے گا تو ضعف ہو جائے گا، اور اس کی وجہ سے پورے طور پر صحیح طرح طریقے سے مقابلہ نہ کر سکے گا دشمن سے۔
ولتردد في الرخصة، یہ دوسری دلیل ہے بھئی، کس چیز کی دلیل؟ کہ عزیمت پر عمل کرنا اولیٰ ہے۔ حکم تو یہ ہے، عزیمت پر عمل کرنا اولیٰ ہے، اور دلیل ذکر کی تھی: لكمال سببه، بموجب سبب کے کامل ہونے کے کہ اس کا سبب کامل طور پر یعنی رمضان کا مہینہ موجود ہے۔ اور دوسرا ولتردد في الرخصة، اور رخصت میں تردد ہونے کی وجہ سے، رخصت میں تردد ہونے کی وجہ سے۔
بھئی دیکھیے، رخصت جو ہے مقصد اس کا سہولت ہے بھئی، رخصت کیوں دی گئی؟ اس کا سبب کیا ہے؟ سہولت، لیکن یہاں پر سہولت دیکھا جائے تو من وجہ عزیمت کے اندر ہے، اور من وجہ رخصت کے اندر ہے۔ دونوں میں، ایک طرف ہے عزیمت کہ روزہ رکھا جائے، دوسری طرف ہے رخصت کہ کیا کیا جائے؟ روزہ نہ رکھا جائے۔ دونوں میں من وجہ سہولت ہے اور من وجہ مشکل ہے۔
عزیمت کے اندر بھی من وجہ مشکل ہے تو من وجہ سہولت، اور رخصت یعنی افطار کے اندر بھی من وجہ مشکل ہے اور من وجہ سہولت ہے، آسانی ہے۔ کس طرح؟
بھئی عزیمت میں تو یہ مشکل ہے، اس وقت سفر میں ہے، سفر میں روزہ رکھے گا تو کچھ مشکل تو ہوگی لازمی بات ہے بھئی۔
اور آسانی یہ ہے اس میں کہ اس وقت تمام لوگ روزہ رکھ رہے ہیں، تو جب سب لوگوں کے ساتھ یہ روزہ رکھے گا تو اتنا مشکل نہیں لگتا۔ بھئی سب لوگ جب ایک مشکل کام کو سرانجام دے رہے ہیں بھئی، عربی میں کہتے ہیں بھئی: البلية إذا عمت طابت، مصیبت جب عام ہو جاتی ہے تو خوشگوار لگنے لگتی ہے، بھئی جب سب لوگ ایک مشکل میں مبتلا ہوں، تو وہ مشکل زیادہ معلوم نہیں ہوتی بھئی۔ خود ایک انسان اکیلا مبتلا ہو، باقی نہ مبتلا ہوں، پھر تو بڑا مشکل لگتا ہے، لیکن اگر سب اس میں مبتلا ہوں تو پھر وہ کوئی مشکل، مشکل دکھائی ہی نہیں دیتی، چنانچہ عربی میں کیا کہتے ہیں: البلية إذا عمت طابت، جب مشکل عام ہو جائے، تو خوشگوار لگنے لگتی ہے۔
تو چنانچہ یہاں دیکھو بھئی، عزیمت کے اندر من وجہ مشکل ہے، من وجہ سہولت ہے، مشکل کیا ہے کہ اس وقت سفر میں ہے، تکلیف ہوگی، سہولت کیا ہے کہ سارے روزہ رکھ رہے ہیں، تو اس کو روزہ رکھنا اتنا دشوار معلوم نہیں ہوگا، اور رخصت میں بھی اسی طرح ہے، من وجہ مشکل ہے اور من وجہ سہولت ہے۔ سہولت تو یہ ہے، روزہ نہیں رکھے گا بھئی، سہولت آ گئی یا نہیں آ گئی؟ بعد میں جب قیام کرے گا تب رکھے۔ اور مشکل بھی ہے رخصت سے من وجہ، مشکل یہ ہے کہ جب بعد میں رکھے گا، تو اس وقت تو باقی لوگ روزہ نہیں رکھ رہے بھئی، یہ اکیلا روزے رکھنے میں مصروف ہوگا، تو وہ رکھنا بڑا مشکل لگتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھو عزیمت میں بھی من وجہ سہولت ہے، اور رخصت میں بھی من وجہ سہولت ہے بھئی، اس وجہ سے یہاں عزیمت پر عمل اولیٰ ہے، کیونکہ من وجہ اس کے اندر بھی سہولت آ گئی بھئی۔
ولتردد في الرخصة، اور رخصت میں تردد ہونے کی وجہ سے، فالعزيمة تؤدي معنى الرخصة من وجه، پس عزیمت جو ہے، وہ ادا کر دیتی ہے رخصت کا معنی من وجہ۔
عزیمت ہی کے اندر کیا اگئی من وجہ؟ سہولت اگئی بھئی، تو وہی رخصت والا معنی اس عزیمت نے ادا کر دیا بھئی۔
دلیلیں سمجھ میں ائیں دو بھئی؟ پہلی دلیل کیا تھی؟ عزیمت ہم نے کہا عزیمت پر عمل کرنا اولیٰ ہے یہاں پر بھی روزہ ہی رکھنا چاہیے اس کو۔ پہلی دلیل کیا؟ لكمال سببه کیونکہ ان کا سبب کامل طور پر موجود ہے۔ یعنی جس سے وجوب ا رہا ہے یعنی رمضان کا مہینہ۔ اور دوسری دلیل کیا ذکر کی؟
کیونکہ رخصت میں تردد رخصت تو ہوتی ہے سہولت کے لیے اور جس طرح یہاں سہولت رخصت میں ہے اسی طرح عزیمت میں بھی کیا ہے؟ سہولت ہے، تو لہذا رکھ لے اولیٰ ہے۔ "عطف على قوله لكمال سببه" یہ عطف ہے بھئی "لتردد" اس کا یہ عطف ہے مصنف کے قول "لكمال سببه" پر "فهو دليل ثان لكون عزيمة أولى" تو یہ دوسری دلیل ہے عزیمت کے اولیٰ ہونے کی "وذلك لأن الرخصة إنما هو لليسر" یہ اس وجہ سے کیونکہ رخصت جو ہے وہ سہولت کے لیے ہوتی ہے "واليسر كما يكون في الإفطار وهو الظاهر" اور رخصت جس طرح کے افطار میں ہوگا اور وہ تو ظاہر ہے۔ افطار میں کیا ہوگی؟ سہولت ہوگی یا نہیں روزہ نہ رکھے؟ سہولت ہے۔ "كذلك يكون في الصوم" اسی طرح روزہ رکھنے میں بھی کیا ہوگی؟ سہولت ہوگی "لأجل موافقة المسلمين وشركته مع سائر الناس" بوجہ باقی مسلمانوں کی موافقت کے اور اس کے شریک ہونے تمام لوگوں کے ساتھ وہی کہ یہ بھی کیا ہوا تمام لوگوں کے ساتھ شریک ہو گیا "فإن البلية إذا عمت طابت" اس لیے کیونکہ مشکل اور مصیبت جب عام ہو جائے یعنی سب اس میں جب مبتلا ہوں "طابت" وہ خوشگوار لگتی ہے "فما ظنك بالعبادة" تو اپ کا کیا گمان ہے عبادت کے بارے میں؟ جب مصیبت میں عام لوگ سب لوگ اس میں مبتلا ہوں تو وہ اتنی مشکل معلوم نہیں ہوتی، تو عبادت کے بارے میں اپ کا کیا خیال ہے؟ وہ تو بطریق اولیٰ جب سب لوگ اگرچہ مشکل ہے لیکن جب چونکہ سب رکھ رہے ہیں تو وہ ذرا بھی مشکل معلوم نہیں ہوگی۔
"ثم بعد ذلك يعسر عليه الصوم في الإقامة" پھر اس کے بعد بھئی، مشکل ہو جائے گا اس پر روزہ رکھنا "في الإقامة" کس وقت؟ اقامت کی حالت میں بعد میں روزہ رکھنا مشکل ہو جائے گا "إذا رأى سائر الناس يفطرون" جب وہ دیکھے گا کہ تمام لوگ تو کیا کر رہے ہیں؟ افطار کر رہے ہیں یعنی انہوں نے روزہ نہیں رکھا ہوا اور اس کو روزہ رکھنا پڑے گا "وما أحسن هذه الدقة للحنفية" اور کتنا کیا خوب ہے یہ گہرائی احناف کے لیے بھئی! کتنی گہری اور باریک بات ہے احناف کی یہ! "ولقد جربناها مراراً" اور تحقیق ہم نے اس کا بہت مرتبہ تجربہ کیا ہے بھئی۔
شارح کیا فرماتے ہیں کہ احناف کی یہ باریک اور گہری بات کیا خوب ہے، کتنی اچھی بات ہے! ہم خود اس کا بہت مرتبہ تجربہ کر چکے ہیں کہ بعد میں روزے رکھنا بڑا مشکل کام ہوتا ہے جب سب افطار میں ہوں اور ہم کیا ایک شخص کیا کر رہا ہو؟ روزے۔ وہ بڑا مشکل کام ہے اور اج کل تو ویسے بھی بھئی سفر ایک ادھ دن کا ہوتا ہے اپ کا۔ قدیم زمانے میں تو کئی کئی دن سفر ہوتا تھا بھئی، کئی کئی دن۔ تو بہت سے روزے جمع ہو جاتے تھے، پھر وہ ایک ادھ روزہ تو چلو اتنا مشکل نہ ہو، زیادہ ہو جائیں پھر تو بہت مشکل ہو جاتا ہے بھئی۔
"إلا أن يضعفه الصوم" مگر یہ کہ روزہ اس کو کمزور کر دے۔ بھئی پیچھے کہا تھا کہ عزیمت پر عمل کرنا اولیٰ ہے "إلا أن يضعفه الصوم" مگر یہ کہ روزہ اس کو کیا کر دے؟ ضعیف کمزور کر دے، پھر ہمارے نزدیک بھی افطار افضل ہے بھئی پھر روزہ نہ رکھے، پھر عزیمت پر عمل اولیٰ نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں "استثناء من قوله" یہ استثناء ہے مصنف کے قول "الأخذ بالعزيمة أولى" سے "يعني أن عندنا العزيمة أولى في كل حين" یعنی کہ ہمارے نزدیک ہمارے نزدیک بھی "العزيمة" پڑھیں بھئی، یہ "أن" کا اسم ہے یعنی ہمارے نزدیک بھی "العزيمة أولى في كل حين" عزیمت اولیٰ ہے ہر وقت میں "إلا أن يضعفه الصوم" مگر یہ کہ روزہ اس کو کمزور کر دے "فحينئذ الفطر أولى بالاتفاق" تو اس وقت فطر اولیٰ ہے بالاتفاق بھئی۔
بھئی فطر! یہ ایسا لفظ ہے جس کا اردو میں کوئی مترادف نہیں ہے بھئی۔ ایک تو ہے روزہ روزہ۔ روزے کی ضد کیا ہے؟ اردو میں اس کا کوئی مترادف نہیں۔ ہاں پنجابی میں ہے بھئی پنجابی میں کھوجا کہتے ہیں کھوجا، روزہ ہے یا کھوجا ہے۔ استعمال ہوتا ہے یا نہیں بھئی؟ ہاں، تو فطر کا اردو میں کوئی مترادف، وہ حالت جس میں روزہ نہ ہو اس کو فطر کہتے ہیں۔ ایک تو روزہ ہے اور جو اس کی ضد ہے اسے کیا کہیں گے؟ فطر کہیں گے۔
"فحينئذ الفطر أولى بالاتفاق" تو اس وقت فطر یعنی کھوجا جو ہے وہ اولیٰ ہے بالاتفاق "كما إذا كان معه الجهاد أو مشاغل أخر" جیسے کہ جس وقت اس کے ساتھ جہاد ہو یا دوسرے مشغلے ہوں، جہاد وغیرہ یا اس جیسے کوئی مشکل کام دینی کام کے لیے نکلا ہے تو اس صورت میں مشکل پیش ائے گی جہاد کے اندر روزے کی وجہ سے تو روزہ نہ رکھے۔ "فإن صام ومات يموت آثماً" پس اگر اس نے روزہ رکھا اور مر گیا "يموت آثماً" تو وہ مرے گا اس حال میں کہ گناہگار ہوگا، تو گناہگار ہو کر مرے گا۔
"وأما أتم نوعي المجاز فما وضع عنا من الإصر والأغلال" اور باقی زیادہ تام ہے جو مجاز کی دو قسموں میں سے "نوعي المجاز" نون اضافت سے گر گیا۔ مجاز کی دو انواع میں سے جو زیادہ تام ہے، بھئی حقیقت کے اعتبار سے رخصت دو قسم پر تھی ایک دو رخصت حقیقی اور ایک رخصت مجازی۔ حقیقت کے اعتبار سے دو قسمیں گزر گئیں جن میں سے ایک زیادہ لائق تھی دوسرے کے مقابلے میں کہ اس کو حقیقت کہا جائے۔ اسی طرح مجاز کے اعتبار سے بھی دو قسمیں ہیں بھئی رخصت کی لیکن ان میں سے ایک دوسرے کے مقابلے میں زیادہ تام ہے بھئی، تو جو تام ہے پہلے اس کو ذکر کریں گے بھئی۔
تو کہتے ہیں "وأما أتم نوعي المجاز" اور باقی مجاز کی دو قسموں میں سے جو زیادہ تام ہے یعنی مجاز ہونے میں جو زیادہ تام ہے "فما" وہ ہے "وضع عنا" وہ جو ہم سے دور کر دیے گئے، ہم سے ہٹا دیے گئے، ہم سے ختم کر دیے گئے "من" بیان ہے "ما" کا، کیا چیز جو ہم سے ختم کر دی گئی؟ "من الإصر والأغلال" اصر کہتے ہیں بوجھ کو بھئی بوجھ کو، سختی کو۔ "والأغلال" بھئی اغلال جمع ہے غل کی، غل وہ گلے میں پہنایا جانے والا طوق بھئی، یا اسی طرح بیڑی جو قیدی کو پہنائی جاتی ہے یا قیدی کے گلے میں جو طوق ڈالا جاتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ غل کہتے ہیں بھئی۔
وہ جو ہم سے دور کر دیے گئے یعنی کہ بوجھ اور طوق، بوجھ اور طوق۔ بھئی مراد یہ ہے گزشتہ امتوں میں بعض احکام بڑے سخت تھے بھئی، بڑی مشقت اور مشکل والے احکام تھے، لیکن اس امت سے اللہ تعالی نے اس امت پر خصوصی فضل فرمایا کیونکہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے جو خاتم النبیین ہیں جن کے لیے تمام کائنات کو تخلیق کیا گیا، تو ان کی اکرام کرتے ہوئے تکریم کرتے ہوئے سخت احکامات کو اس امت سے اٹھا لیا گیا بھئی۔ یہ ہیں رخصت بھئی، ان کے لیے وہ حکم تھے ہمارے لیے یہ حکم نہیں، تو رخصت اگئی یا نہیں اگئی؟ کہتے ہیں بھئی کہنا تو اس کو نسخ کہنا چاہیے تھا لیکن مجازاً اس کو کیا کہہ دیتے ہیں؟ رخصت۔ سمجھ میں ایا بھئی؟ اگے تفصیل ارہی ہے بھئی، تفصیل ارہی ہے کون کون سے مشکل احکام تھے، وہ سارے وہی بیان کریں گے اگے بھئی۔
"أي سقط عنا" یعنی ہم سے ساقط ہو گئے، وہ جو بوجھ اور مشکل کام تھے ہم سے ساقط ہو گئے "ولم يشرع في حقنا ما كان في الشرائع السابقة" اور مشروع نہیں ہوئے ہمارے حق میں وہ جو تھے سابقہ شریعتوں کے اندر "من المحن الشاقة والأعمال الثقيلة" محن جمع ہے محنت کی، ازمائش ازمائش "من المحن الشاقة" جو تکلیف دہ ازمائشیں تھیں "والأعمال الثقيلة" اور جو بوجھل اعمال تھے بھئی، وہ اعمال جو بوجھل تھے بوجھ تھے بڑے مشکل تھے مراد۔ "والإصر والإصر هو الشدة" اور اصر جو ہے یہ شدت ہے، میں نے بتلایا بھئی اصر کا کیا معنی ہے؟ بوجھ اور سختی بھئی "هو الشدة" وہ سختی ہے "والأغلال جمع غل" اور اغلال غل کی جمع ہے "أي المواثيق اللازمة كالغل" یعنی وہ مواثیق جمع ہے میثاق کی اور یہ عہد کو کہتے ہیں، عہد بھئی معاہدہ قول و قرار "المواثيق اللازمة" یعنی وہ عہد اور وہ قول و قرار جو لازم تھے یعنی وہ احکام جو لازم تھے مراد یہ ہے بھئی "كالغل" جیسے کہ بیڑی ہوتی ہے بھئی، جیسے بیڑی لازم ہوتی ہے قیدی سے اس سے وہ اس سے جان نہیں چھڑا سکتا اسی طرح بعض احکام بھی بڑے مشکل تھے اور وہ ان امتوں پر لازم تھے بھئی۔
"والأظهر" اور زیادہ ظاہر یہ ہے "أنهما جميعاً كناية عن الأمور الشاقة" کہ یہ دونوں جو ہیں کنایہ ہیں مشکل امور سے بھئی "وإن خص المفسرون البعض بالإصر والبعض بالأغلال" اگرچہ تخصیص کیا ہے مفسرین نے بعض کو اصر کے ساتھ اور بعض کو اغلال کے ساتھ۔ بھئی متن میں کیا ایا؟ "فما وضع عنا من الإصر والأغلال" وہ جو ہم سے دور کر دیے گئے یعنی کہ بوجھ اور اور طوق۔ اور مراد اس سے کیا ہیں؟ وہ مشکل احکام مراد ہیں۔ پھر مفسرین نے تخصیص کی، بعض ان میں سے احکام تھے تھے دونوں ہی مشکل، انہوں نے کہا ان میں سے یہ یہ جو ہیں یہ اصر میں داخل ہیں اور یہ یہ جو قسمیں ہیں یہ اغلال میں داخل ہیں۔ شارح فرماتے ہیں نہیں بھئی، یہ اگرچہ مفسرین نے تخصیص کی ہے کہ اس کا یہ یہ اصر میں ہے یہ اغلال میں ہے، لیکن زیادہ ظاہر یہی ہے کہ دونوں سے مراد مشکل امور ہیں مشکل احکام جو گزشتہ امتوں میں تھے اور ہم پر وہ حکم نہیں ہے بھئی۔
یہ معنی ہے "وإن خص المفسرون البعض بالإصر والبعض بالأغلال" اگرچہ خاص کیا مفسرین نے بعض کو اصر کے ساتھ اور بعض کو اغلال کے ساتھ "وذلك مثل قطع الأعضاء الخاطئة" اور وہ جیسے کہ کاٹنا خطاکار اعضاء کو، گناہ کرنے والے اعضاء کو کاٹنا بھئی۔ یہ بعض امتوں گزشتہ امتوں پر بعض پر حکم تھا بھئی۔ "وقرض مواضع النجاسة" اور قرض، قرض کا معنی کاٹنا "وقرض مواضع النجاسة" نجاست کی جگہوں کو کاٹنا، بھئی نجاست کہیں لگ جاتی تھی، پہلا حکم کیا بتایا؟ گناہ کرنے والے اعضاء کو کاٹنا، زبان سے جھوٹ بولا زبان کاٹنی پڑے گی، ہاتھ سے چوری کی ہاتھ کاٹنا پڑے گا۔ سمجھ میں ایا بھئی؟ تو جس عضو کے ذریعے گناہ کیا جاتا ہے اس کو کاٹنا پڑتا، اسی طرح نجاست کی جگہوں کو کاٹنا پڑتا بھئی، نجاست کپڑے پر لگ گئی تو دھونے سے پاک نہیں ہوگا اس کپڑے کا حصہ ہی کاٹ کر الگ کرنا پڑے گا بھئی یا بدن پر لگ گئی۔
"وقتل النفس بالتوبة" اور نفس کو قتل کرنا توبہ کے لیے توبہ کی وجہ سے، بھئی توبہ کی صورت کیا ہوتی تھی کہ اپنے اپ کو قتل کرے ختم کرے پھر ہی اس کی توبہ ہوتی تھی بھئی۔ "وعدم جواز الصلاة في غير المسجد" اور نماز کا جائز نہ ہونا مسجد کے علاوہ میں، بھئی اپ کے لیے تو سہولت ہے بھئی جہاں وقت اتا ہے نماز کا مسجد ہو یا نہ ہو بھئی، نماز ادا کر سکتے ہیں جبکہ ان کے لیے مسجد کے علاوہ دوسری جگہ پر کسی جگہ پر بھی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں تھی بھئی۔ "وعدم التطهير بالتيمم" اور پاک نہ ہونا تیمم کے ذریعے، بھئی ان کے لیے پاکی پانی ہی کے ذریعے ضروری ہوتی تھی، اپ کے لیے حکم اگیا اپ سہولت اور اسانی والا بھئی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی وجہ سے بھئی اللہ نے یہ حکم نازل فرمایا، وہ واقعہ اپ پڑھ چکے ہوں گے، تو تیمم کی اجازت دی گئی کہ پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو بھئی، کتنی بڑی سہولت اگئی بھئی، کتنی سہولت اگئی جس کا اپ تصور نہیں کر سکتے بھئی۔
"وحرمة أكل الصائم بعد النوم" اور روزے دار کا کھانے کا حرام ہونا سونے کے بعد، نیند کے بھئی روزے دار بھئی افطار کرتا تھا افطار کے بعد جب پھر رات کو سو جاتا بھئی بس اس کے بعد پھر کھانا پینا حرام ہوتا تھا بھئی، روزہ شروع ہو گیا اس کے بعد اگلے دن افطار تک۔ اب تو سہولت بھئی اگئی کتنی سہولت کہ سحری تک اپ طلوع فجر تک ارام سے کھاتے ہیں پیتے ہیں اور پھر صبح صادق سے غروب افتاب تک روزہ ہوتا ہے بھئی۔
"وحرمة الوطء في ليالي رمضان" اور صحبت کا حرام ہونا رمضان کی راتوں میں، رمضان کی راتوں میں بھی پہلے کیا تھا؟ صحبت کیا تھی؟ حرام تھی، پھر اس کے بعد یہ حکم ختم کر دیا گیا۔ "ومنع الطيبات عنهم بالذنوب" اور پاکیزہ چیزوں کا منع کرنا ان سے گناہوں کی وجہ سے، بھئی ان پر چیزیں حلال ہوتیں لیکن گناہوں کی وجہ سے بعض پاکیزہ چیزیں کیا کر دی جاتی تھیں؟ حلال چیزوں کو ان کے لیے گناہوں کی وجہ سے حرام کر دیا جاتا تھا۔ "وكون الزكاة ربع المال" اور زکوۃ کا چوتھائی مال ہونا، بھئی ہمارے نزدیک تو چالیسواں حصہ دینا پڑتا ہے زکوۃ میں، ان کے نزدیک چوتھا حصہ۔ چالیسواں حصہ مثلاً 100 میں سے ہمیں کتنے دینے پڑتے ہیں؟ ڈھائی روپے دینے پڑتے ہیں، ان کے نزدیک 100 میں سے چوتھا حصہ یعنی 25 روپے دینے پڑتے بھئی، تو کتنا فرق ہے بھئی!
"وعدم صلاحية الزكاة والغنائم لشيء إلا للحرق بالنار المنزلة من السماء" اور زکوۃ اور غنیمتیں جو ہیں ان کا صلاحیت نہ رکھنا کسی بھی چیز کی "إلا للحرق بالنار" مگر اگ سے جلنے کا "المنزلة من السماء" وہ اگ جو اسمان سے اتاری جاتی۔ بھئی اس امت کے لیے اسانی کر دی گئی، زکوۃ کا مال حلال کر دیا گیا غریبوں کو دیں وہ ان کو کھا سکتے ہیں ان کے لیے پاکیزہ ہے اور غنیمتیں مال غنیمتیں جو حاصل ہوتی ہیں جہاد کے اندر وہ حلال کر دی گئیں، پہلی امتوں کے اندر ایسا نہیں تھا بھئی، یہ زکوۃ اور غنیمتیں ان سب کو اکٹھا کر کے ایک جگہ جمع کر دیا جاتا تھا اور اللہ کی طرف سے اوپر سے اگ اترتی اور اس سارے کو جلا کر ختم کر دیتی تھی بھئی۔
یہ معنی ہے "وعدم صلاحية الزكاة والغنائم" اور غنیمتوں اور زکوۃ کا صلاحیت نہ رکھنا "لشيء" کسی بھی چیز کا یعنی وہ کسی چیز کے قابل نہ تھیں "إلا للحرق بالنار المنزلة من السماء" مگر اسمان سے اتاری ہوئی اگ کے ذریعے جلنے کے۔ "ومجازاة حسنة بحسنة لا بعشر" اور بدلہ ایک نیکی کا ایک نیکی کے ساتھ "لا بعشر" نہ کہ 10 کے ساتھ۔ بدلہ دینا بھئی، ہماری امت میں تو ہمارے لیے تو اللہ نے کیا حکم نازل فرما دیا؟ ایک نیکی کرو گے 10 گنا اجر ملے گا، کم از کم 10 گنا ضرور ملے گا اور زیادہ کی کوئی حد نہیں 700 گنا بھی ہو سکتا ہے اور اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے ایک نیکی کا اجر بھئی، ان کے لیے ایک نیکی کرتے تھے تو ایک ہی اجر لکھا جاتا تھا بھئی۔
یہ معنی ہے "ومجازاة حسنة بحسنة لا بعشر" اور بدلہ ایک نیکی کا ایک نیکی کے ساتھ نہ کہ 10 کے ساتھ "وكتابة ذنب الليل بالصبح على الباب" اور لکھا جانا رات کے گناہ کا صبح کے وقت دروازے پر، بھئی بعض امتیں ایسی تھیں وہ رات کو جو گناہ کرتے تھے صبح ان کے دروازے پر لکھا ہوتا تھا بھئی، تو دیکھو کتنی مشکل بات بھئی، کتنی رسوائی کی بات! اور اس امت پر اللہ نے فضل کیا اور اللہ تعالی نے فضل فرمایا اور تمام گناہوں پر پردے ڈال دیے گئے بھئی، الا یہ کوئی حد سے زیادہ جرات کرے تو اللہ اس کو رسوا فرما دیتے ہیں ورنہ اللہ کی عظیم رحمت ہے بھئی کہ تمام سب کے گناہوں پر پردے ڈال رکھے ہیں بھئی۔ "ووجوب خمسين صلاة"
فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ اور پچاس نمازوں کا فرض ہونا ہر دن رات میں۔ ہم پر تو پانچ نمازیں ہیں، کہتے ہیں بنی اسرائیل پر پچاس نمازیں تھیں دن رات میں بھئی۔
وَحُرْمَةِ الْعَفْوِ عَنِ الْقِصَاصِ اور جیسے کہ قصاص معاف کر دینے کا حرام ہونا قصاص سے بھئی۔ بھئی، اب تو آسانیاں ہیں، قاتل سے کوئی قصاص لینا چاہے۔ جس نے جان بوجھ کر قتل کیا ہو چاہے اس سے قصاص لے لے اور چاہے کیا کرے؟ اسے معاف کر دے۔ جبکہ پہلے معاف کرنے کی گنجائش نہیں تھی، معاف کرنا حرام تھا، ہر صورت میں کیا کرنا پڑتا؟ قصاص ہی لینا پڑتا تھا۔ بلکہ بعض شارحین نے تو لکھا کہ قتلِ خطا کے اندر بھی قصاص واجب ہوتا تھا بھئی، قتلِ عمد میں بھی اور قتلِ خطا میں بھی ہر ایک میں قصاص ہی لینا پڑتا تھا۔
وَعَدَمِ مُخَالَطَةِ الْحَائِضَاتِ فِي أَيَّامِهَا اور مخالطت کا نہ ہونا حائضہ عورتوں کے ساتھ ان کے ایام میں۔ بھئی، اب تو ایامِ حیض کے اندر بھی عورت اسی طرح گھر میں ہے، ساتھ ہے سب کے لیکن پہلے جو تھی اس طرح رہنے کی اجازت نہیں تھی، ایامِ حیض میں کیا حکم تھا کہ عورت جدا ہو جائے، الگ رہے سب سے بھئی۔
وَتَحْرِيمِ الشُّحُومِ وَالْعُرُوقِ فِي اللَّحْمِ شحوم بھئی چربیاں، عروق رگیں بھئی، یہ خون کی رگیں جو بدن میں ہوتی ہیں۔ وَتَحْرِيمِ الشُّحُومِ وَالْعُرُوقِ فِي اللَّحْمِ چربیاں اور جو رگیں ہیں گوشت کے اندر ان کا حرام کرنا بھئی۔ بھئی، یہ حرام تھیں بھئی، اب تو گوشت کے اندر جو چربی یا رگیں وغیرہ ہیں ان کا حکم اسی طرح گوشت کی طرح حلال ہے ان کا کھانا، لیکن پہلے جو تھیں وہ حرام تھیں بھئی، حرام۔
وَتَحْرِيمِ السَّبْتِ اور ہفتے کے دن کے حرام ہونا بھئی، حرام کرنا۔ ہفتے کے دن یہاں تک کہ آپ پڑھ چکے بھئی، شکار کھیلنا بھی بنی اسرائیل کے لیے حرام تھا اور پھر ان میں سے وہ چند لوگوں نے حیلے کے ذریعے شکار کیا تھا اور پھر ان کی صورتیں مسخ کر دی گئیں بھئی۔
وَفَرْضِيَّةِ الصَّلَاةِ فِي اللَّيْلِ اور نماز کا فرض ہونا رات کے اندر بھئی۔ نماز کا رات کے اندر فرض ہونا بھئی۔ جی، تہجد کا بھئی، یہ تہجد فرض تھی بعض امتوں پر۔ وَأَمْثَالُ ذَلِكَ كَثِيرٌ اور اس کی مثالیں بہت زیادہ ہیں فَرُفِعَ كُلُّ هَذَا عَنْ أُمَّتِنَا تَخْفِيفًا وَتَكْرِيمًا پس یہ سب ہم سے اٹھا لیے گئے ہماری امت سے اسانی کرتے ہوئے اور تکریم کرتے ہوئے عزت کے طور پر بھئی، اس امت پر اسانی اور اس کی عزت کرتے ہوئے اللہ نے یہ مشکل احکام ہم سے اٹھا لیے۔
فَسُمِّيَ ذَلِكَ رُخْصَةً مَجَازًا تو اس کو مجازاً رخصت کہا جاتا ہے۔ یہ جو قسم ہے اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ رخصت۔ اس کو مجازاً رخصت کہا جاتا ہے لِأَنَّ الْأَصْلَ لَمْ يَبْقَ مَشْرُوعًا لَنَا قَطُّ اسی کیونکہ ان کی جو اصل ہے یعنی عزیمت، اصل سے کیا مراد ہے؟ عزیمت، وہ کبھی بھی ہمارے لیے مشروع نہ نہیں رہی بھئی۔ یہ حکم کبھی ہماری امت کے لیے تھا ہی نہیں ان میں سے کہ پہلے آیا ہو اور پھر بعد میں کیا کر دیا گیا ہو؟ منسوخ کر دیا گیا ہو، یہ احکام ہماری امت کے تھے ہی نہیں۔ تو ان کو مجازاً رخصت کہا جاتا ہے۔
وَلَوْ عَمِلْنَا بِهِ أَحْيَانًا أَثِمْنَا وَعُوتِبْنَا اگر ہم ان پر کبھی عمل کر لیں تو گناہگار ہوں گے اور ہم پر نار عتاب ہوگا، ناراضگی ہوگی۔ وَكَانَ الْقِيَاسُ فِي ذَلِكَ اور قیاس اس قسم کے اندر یہ تھا أَنْ يُسَمَّى نَسْخًا کہ اس کو کیا کہنا چاہیے؟ نسخ کہنا چاہیے وَإِنَّمَا سَمَّيْنَاهُ رُخْصَةً مَجَازًا مَحْضًا اور اس کو ہم نے رخصت کہا محض مجاز کے طور پر بھئی، مجازِ محض کے طور پر۔
بات سمجھ میں آئی بھئی؟ جی۔ یہ تو ہمارے حق میں کبھی مشروع ہوئے ہی نہیں، تو ان کو رخصت مجازاً کہا جا رہا ہے۔ مشروع ہوتے پھر اس کے بعد رخصت آتی تو اس کو کیا کہتے؟ پہلے یہ حکم ہوتا ہمارا لیے پھر سہولت آتی تو ہم اس کو رخصت کہتے، لیکن یہ تو شروع سے تھا ہی نہیں ہماری امت میں ان میں سے کوئی بھی حکم نہیں تھا، تو ان کو مجازاً رخصت کہا جاتا ہے۔
وَالنَّوْعُ الرَّابِعُ مَا سَقَطَ عَنِ الْعِبَادِ مَعَ كَوْنِهِ مَشْرُوعًا فِي الْجُمْلَةِ اور چوتھی قسم وہ جو ہم سے ساقط وہ جو ساقط ہو گئی عَنِ الْعِبَادِ بندوں سے مَعَ كَوْنِهِ مَشْرُوعًا فِي الْجُمْلَةِ باوجود اس کے مشروع ہونے کے فی الجملہ مجموعی اعتبار سے۔ چوتھی قسم وہ جو بندوں سے ساقط ہو گئی لیکن اس کے باوجود مجموعی اعتبار سے کہیں نہ کہیں وہ مشروع ہے بھئی۔ بھئی دیکھیے، جیسے مسافر سفر کے اندر اس وہ پوری نماز نہیں پڑھتا، بلکہ چار کے بجائے کتنی پڑھے گا؟ دو۔ یہ جو قصر ہے، یہ یہ رخصت ہے بھئی رخصت۔
تو یہاں اس وقت رخصت کا حکم با بھئی عزیمت باقی ہی نہیں رہی، اس وقت پوری وہ پڑھ ہی نہیں سکتا۔ تو رخصت حقیقتًا یہ یہ تو دراصل عزیمت ہے بھئی، کیا ہے؟ یہ بات پہلے بھی گزر چکی ہے گزشتہ سبق میں بھئی، کیونکہ اسی نے بھئی کس کا کس کی جگہ لے لی؟ عزیمت، عزیمت تو یہ ہے نہ کہ عزیمت الگ ہو، رخصت الگ ہو، پھر آپ کو اختیار دیا جائے کہ بھئی چار کے بجائے چار پڑھنا چاہو تو یہ عزیمت ہے، دو پڑھنا چاہو تو؟ رخصت۔ لیکن یہاں تو حکم ہی یہ آ گیا کہ پڑھنی ہی کتنی پڑہیں گی؟ دو پڑھنی پڑیں گی، اگر چار پڑھیں گے تو یہ ہوگی ہی نہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ چار پڑھ ہی نہیں سکتے بھئی۔
تو یہ تو عزیمت ہو چکی، لیکن اس کو مجازاً کیا کہہ دیا گیا؟ رخصت کہہ دیا گیا اور پھر لہٰذا اس کو رخصت کے بجائے رخصتِ اسقاط کہا جاتا ہے، کیا کہا جاتا ہے؟ رخصتِ اسقاط زیادہ تر اس پر بولا جاتا ہے کیونکہ دراصل یہ تو رخصت ہے ہی نہیں، کیا بن چکی؟ یہ تو عزیمت ہے بھئی۔
اور پھر دیکھیے، یہ آپ سفر پر نکلے، آپ تو قصر کر رہے ہیں، لیکن جو مقیم ہے وہ سارے کیا کر رہے ہیں؟ وہ وہ پوری نماز پڑھ رہے ہیں، پوری نماز پڑھ رہے ہیں، تو فی الجملہ عزیمت ابھی بھی موجود ہے۔ آپ تو مسافر ہیں آپ پر تو نہیں، لیکن باقیوں کے لیے عزیمت ابھی بھی موجود ہے، اس وجہ سے اس کا درجہ مجاز ہونے میں کم ہوا بھئی۔
اس کا اس کو مجازاً ہم رخصت کہتے ہیں لیکن مجاز ہونے میں اس کا درجہ کیا ہو گیا؟ کم۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہر جگہ سے ختم ہو جانا چاہیے تھا عزیمت کو، لیکن عزیمت ابھی بھی موجود ہے۔ آپ قصر کر رہے ہیں لیکن باقی لوگ مقیم جو ہیں وہ کیا کر رہے ہیں؟ وہ عزیمت پر عمل کر رہے ہیں، تو عزیمت ابھی بھی موجود ہے لہٰذا معلوم ہوا اس کا درجہ کم ہو گیا رخصت ہونے کا۔
وَالنَّوْعُ الرَّابِعُ مَا سَقَطَ عَنِ الْعِبَادِ مَعَ كَوْنِهِ مَشْرُوعًا فِي الْجُمْلَةِ اور چوتھی قسم وہ ہے جو ساقط ہو جائے بندوں سے باوجود اس کے مشروع ہونے کے فی الجملہ مجموعی اعتبار سے، أَيْ فِي بَعْضِ الْمَوَاضِعِ سِوَى مَوْضِعِ الرُّخْصَةِ یعنی بعض دوسری جگہوں میں سوائے رخصت کے مقام میں، رخصت کے مقام کے علاوہ میں دوسری جگہوں کے اندر عزیمت ابھی بھی موجود ہے، مشروع ہے۔ فَمِنْ حَيْثُ أَنَّهُ لَمْ يَبْقَ فِي مَوْضِعِ الرُّخْصَةِ پس اس حیثیت سے أَنَّهُ لَمْ يَبْقَ فِي مَوْضِعِ الرُّخْصَةِ کہ اصل جو ہے یعنی عزیمت، وہ باقی نہیں ہے کس جگہ پر؟ رخصت کے مقام میں، رخصت کے مقام میں اس حیثیت سے کہ اصل یعنی عزیمت باقی نہیں ہے كَانَ مِنْ قِسْمِ الْمَجَازِ یہ کس کی قسم ہے؟ مجاز کی قسم ہے بھئی۔
بھئی میں نے بتلایا تھا، رخصت تو حقیقتًا اس کو کہیں گے نہ کہ ایک طرف عزیمت بھی پائی جا رہی ہو اور ایک طرف رخصت بھی پائی جا رہی ہو، یہ رخصتِ حقیقی ہے کیونکہ اس کے مقابلے میں کیا موجود ہے؟ عزیمت۔ جبکہ یہاں پر تو رخصت نے کس کی جگہ لے لی؟ عزیمت کی جگہ لے لی، اب اس کے مقابلے میں کوئی اور عزیمت ہے؟ اور کوئی عزیمت ہے ہی نہیں، یہ خود ہی عزیمت ہے تو اس کو رخصت کہنا مجازاً ہے بھئی، کیا ہے؟ مجازاً ہے۔ یہ معنی ہے کہ فَمِنْ حَيْثُ أَنَّهُ لَمْ يَبْقَ فِي مَوْضِعِ الرُّخْصَةِ كَانَ مِنْ قِسْمِ الْمَجَازِ اس حیثیت سے کہ عزیمت رخصت کے مقام میں باقی ہی نہ رہی یہ مجاز کی قسم ہے، وَمِنْ حَيْثُ أَنَّهُ بَقِيَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ اور اس حیثیت سے کہ وہ عزیمت جو ہے وہ باقی ہے دوسری جگہوں میں كَانَ أَنْقَصَ فِي الْمَجَازِيَّةِ تو یہ مجاز ہونے میں کم درجے کا ہوا، فَيَكُونُ شَبِيهًا بِالْقِسْمِ الْأَوَّلِ تو یہ مشابہ ہوا پہلی قسم کے، کس کے مشابہ ہوا؟ پہلی قسم کے مشابہ ہو گیا۔
كَقَصْرِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ جیسے کہ نماز کا قصر جو ہے سفر کے اندر فِيهِ مُسَامَحَةٌ اس میں تسامح ہوا ہے بھئی، مصنف سے کہتے ہیں، وَالْأَوْلَى أَنْ يَقُولَ اور بہتر یہ تھا کہ یوں کہتے كَسُقُوطِ إِكْمَالِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ نماز کو پورا کرنے کا ساقط ہونا سفر میں، نماز میں سفر میں پوری نہیں کریں گے بلکہ پورا کرنا ساقط ہو گیا، دو رکعت پڑھیں گے، لِيُوَافِقَ قَرِينَهُ تاکہ یہ موافق ہو جائے اپنے ساتھی کے بھئی۔
بھئی دیکھیے، اگلی مثال آ رہی ہے، اگلے متن میں دیکھیں سُقُوطِ حُرْمَةِ الْخَمْرِ، دیکھو سقوط کے ساتھ ذکر کیا اس کو سُقُوطِ حُرْمَةِ الْخَمْرِ، تو لہٰذا یہ جو پچھلے متن میں آیا كَقَصْرِ الصَّلَاةِ، اس کو بھی سقوط کے ساتھ ذکر کرنا چاہیے تھا اور کس طرح کہنا چاہیے تھا؟ كَسُقُوطِ إِكْمَالِ الصَّلَاةِ، اکمالِ صلاۃ کا ساقط ہونا، تو تاکہ یہ اپنے ساتھی کے بھی موافق ہو جاتا، ساتھی کون ہے؟ اگلی مثال، تاکہ دونوں ایک دوسرے جیسے ہو جاتے۔ وَيُطَابِقَ أَصْلَهُ اور تاکہ یہ اپنی اصل کے بھی مطابق ہو جاتا بھئی، کس طرح اصل؟ پیچھے تعریف دیکھیے بھئی، وَالنَّوْعُ الرَّابِعُ مَا سَقَطَ عَنِ الْعِبَادِ، تعریف کس کے ساتھ کی؟ سقط کے ساتھ، وہ جو ساقط ہو جائے، تو ممثل لہ ہوا مَا سَقَطَ عَنِ الْعِبَادِ، تو مثال بھی کیا ہونی چاہیے؟ سقوط کے ساتھ ہونی چاہیے بھئی۔
لَكِنَّهُ عَبَّرَ بِالْحَاصِلِ تَخْفِيفًا لیکن تعبیر کی اس کو مصنف نے حاصلِ معنی کے ساتھ تخفیفًا بطورِ تخفیف کے، اسانی کے۔ حاصلِ معنی بھئی، یوں کہتے كَسُقُوطِ إِكْمَالِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ، سفر میں نماز کے پورا کرنے کا، کامل کرنے کا ساقط ہو جانا، اسی کا حاصلِ معنی کیا ہوا؟ قصرِ صلاۃ، تو حاصلِ معنی کے ساتھ ذکر کیا تخفیفًا، کس لیے؟ تخفیف کے لیے، کیونکہ اگر وہ عبارت لاتے تو بات لمبی ہو جاتی اور اب کیا ہوئی عبارت مختصر ہو گئی بھئی۔
فَهُوَ عِنْدَنَا رُخْصَةُ إِسْقَاطٍ تو یہ ہمارے یہ جو قصر ہے یہ ہمارے نزدیک رخصتِ اسقاط ہے، لَا يَجُوزُ الْعَمَلُ بِعَزِيمَتِهَا اس کی عزیمت پر عمل جائز ہی نہیں ہے۔ وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ رُخْصَةُ تَرْفِيهٍ یہ رخصتِ ترفیہ ہے بھئی، رفہ یرفہ ترفیہًا کا معنی ہے آسان بنانا، سہولت دینا، تو ترفیہ کا کیا معنی ہوا؟ اسانی اور سہولت۔ ہمارے نزدیک یہ رخصتِ اسقاط ہے، کیا نام ہے اس کا؟ رخصتِ اسقاط ہے، نماز اب پوری پڑھ ہی نہیں سکتا، وہ ساقط کر دی گئی اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ رخصتِ ترفیہ ہے، سہولت والی رخصت ہے، راحت پہنچانے والی رخصت ہے بھئی۔
وَالْأَوْلَى الْإِكْمَالُ اور اولیٰ جو ہے وہ پورا کرنا ہے، ہمارے نزدیک تو اب پوری نماز ہوگی ہی نہیں بلکہ کتنی پڑھنی پڑے گی؟ قصر ہی کرنا پڑے گی، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک پوری بھی پڑھ سکتا ہے، قصر بھی کر سکتا ہے اور پوری پڑھنا اولیٰ ہے بھئی، تو ان کے نزدیک یہ رخصت سہولت کے لیے ہے، ہمارے نزدیک یہ رخصتِ اسقاط ہے، جو بقیہ نماز ہے وہ اب واجب ہی نہیں، وہ چار کے بجائے چار میں سے دو رکعتیں ہی کیا کر دی گئیں؟ ساقط کر دی گئیں بھئی۔
تو کہتے ہیں وہ فرماتے ہیں وَالْأَوْلَى الْإِكْمَالُ اور اولیٰ جو ہے پورا کرنا ہے بِقَوْلِهِ تَعَالَى اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے، وہ دلیل کے طور پر یہ قول اللہ کا ذکر کرتے ہیں، کہتے ہیں وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ اور جب تم زمین میں سفر کرو فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ کہ تم کمی کرو نماز کے اندر إِنْ خِفْتُمْ اگر تمہیں یہ خوف ہو أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا کہ تم کو آزمائش میں ڈالیں گے یعنی تکلیف دیں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا۔ اللہ قرآن میں کیا فرماتے ہیں؟ وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا اگر تم زمین میں سفر کرو تو کوئی حرج نہیں ہے کہ نماز میں کمی کر دو یعنی چار کے بجائے کتنی پڑھو؟ دو پڑھو، اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ تمہیں تکلیف دیں گے کفر کرنے والے۔
تو دیکھیے، امام شافعی رحمہ اللہ دلیل ذکر فرما رہے ہیں، کہتے ہیں عُلِّقَ الْقَصْرُ بِالْخَوْفِ قصر کو معلق کیا گیا کس کے ساتھ؟ خوف کے ساتھ، اگر تمہیں یہ خوف ہو تو کیا کر لو؟ نماز میں قصر کر لو، وَنُفِيَ فِيهِ الْجُنَاحُ اور نفی کی گئی اس کے اندر جناح یعنی گناہ کی، جناح گناہ کو کہتے ہیں، گناہ۔ کہ تم پر کوئی گناہ نہیں ہے، تم پر کوئی حرج نہیں ہے، فَعُلِمَ پس جان لیا گیا أَنَّ الْأَوْلَى هُوَ الْإِكْمَالُ کہ اولیٰ کیا ہے؟ پورا کرنا ہے بھئی، پورا کرنا۔
بھئی، اللہ نے کیا ذکر فرمایا، ان کی دلیل کیا ہوئی؟ اللہ فرما رہے ہیں اگر تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم نماز میں کمی کرو، معلوم ہوا نماز میں کمی کر دو تو کوئی گناہ نہیں، کمی کر دو تو کوئی گناہ نہیں، کوئی حرج نہیں، معلوم ہوا پوری بھی پڑھ سکتے ہیں۔ اور دوسرا کیا ذکر کیا؟ قصر کو معلق کیا گیا کس کے ساتھ؟ خوف، اگر تمہیں خوف ہو پھر کیا کرو؟ قصر کر دو اور نیز گناہ کی بھی نفی کی گئی، پس معلوم ہوا کہ پوری بھی پڑھ سکتے ہیں، تو اولیٰ پوری پڑھنا ہے وہ فرماتے ہیں، وَنَحْنُ نَقُولُ اور ہم کہتے ہیں إِنَّهُ لَمَّا نَزَلَتِ الْآيَةُ کہ جب یہ آیت نازل ہوئی قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ذکر فرمایا يَا رَسُولَ اللَّهِ اے اللہ کے پیغمبر، مَا بَالُنَا ہماری کیا شان ہے، ہماری کیا حالت ہے؟ بال حال کو کہتے ہیں، مَا بَالُنَا ہمارا کیا حال ہے؟ نَقْصُرُ کہ ہم قصر کریں وَنَحْنُ آمِنُونَ اور ہم مامون ہیں بھئی، امن میں ہیں۔
بھئی روایات میں آتا ہے احادیث مبارکہ میں کہ ایک صحابی رسول حضرت یعلىٰ ابن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ ہم سفر میں قصر کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تو فرما رہے ہیں اگر تمہیں خوف ہو کہ کافر تمہیں تکلیف دیں گے، پھر کیا کر سکتے ہو نماز میں؟ قصر کر سکتے ہو، اور اب تو ہم امن میں ہیں، جب اور امن کی حالت میں معلوم ہوا قصر نہیں کرنا چاہیے بھئی، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کہ ہاں، مجھے بھی اس سے یہ حیرت ہوئی تھی، مجھے بھی اس سے اشکال ہوا تھا جیسے تمہیں اشکال ہوا ہے، میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اے اللہ کے پیغمبر، ہم امن میں ہیں، اب تو کفار کا خوف نہیں، کیا اب بھی ہم قصر کریں گے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، یہ صدقہ ہے جو اللہ نے تمہیں عطا کیا ہے تو اس صدقے کو قبول کر لو، سمجھ میں آیا بھئی، روایت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بَالُنَا نَقْصُرُ کہ ہماری کیا حالت ہے کہ ہم قصر کریں وَنَحْنُ آمِنُونَ اور ہم امن میں ہیں، محفوظ ہیں، فَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ہَذِهِ صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ تَعَالَى بِهَا عَلَيْكُمْ کہ یہ صدقہ ہے جو عطا فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے تم کو فَاَقْبَلُوا صَدَقَتَهُ تو تم قبول کر لو اللہ کے صدقے کو، سَمَّاهُ صَدَقَةً حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو صدقہ قرار دیا، صدقہ فرمایا وَالصَّدَقَةُ بِمَا لَا يَحْتَمِلُ التَّمْلِيكَ إِسْقَاطٌ مَحْضٌ اور صدقہ ایسی چیز کے ساتھ جو تملیک کا احتمال نہ رکھے وہ اسقاطِ محض ہے۔
بھئی دیکھیے، صدقے میں تو کیا کیا جاتا ہے؟ کسی کو کسی چیز کا مالک بنایا جاتا ہے، آپ غریب محتاج کو پیسے دیتے ہیں اس کو اس کا مالک بنا دیتے ہیں، لیکن یہاں کسی چیز کا مالک بنایا جا رہا ہے؟ تو کہتے ہیں صدقہ کرنا ایسی چیز کا جو تملیک کا احتمال نہ رکھے جہاں کسی کو مالک نہیں بنایا جا سکتا
اسقاط محض، یہ کیا ہے؟ یہ اسقاط محض ہے، ساقط کر دینا ہے کسی چیز کو۔ تو یہاں بھی کیا کیا جا رہا ہے؟ ساقط کیا جا رہا ہے، نماز میں کمی کی جا رہی ہے۔ معنی سمجھ بھی آیا کہ نہیں آیا بھئی؟ کیونکہ یہاں تو کوئی چیز نہیں ہے ایسی جس کا ہمیں مالک بنایا گیا ہو، معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ اسقاط محض ہے، کمی کی جا رہی ہے ایک چیز میں۔ کہتے ہیں: "والصدقة بما لا يحتمل التمليك إسقاط محض" اور صدقہ کرنا ایسی چیز کے ساتھ جو تملیک کا احتمال نہ رکھے، یہ اسقاط محض ہے "لا يحتمل الرد عن جهة العباد" یہ احتمال نہیں رکھتا لوٹانے کا بندوں کی طرف سے، بندے اس کو رد نہیں کر سکتے "كولي القصاص" جیسے کہ ولیِ قصاص، قصاص کا جو ولی ہے۔
بھئی دیکھیے ایک شخص ہے، دوسرے کو اس نے عمداً قتل کیا تو اس کو بھی قصاص میں کیا کیا جائے گا؟ قتل کیا جائے گا، لیکن وہ جو ولیِ قصاص ہے، قصاص جس کی ولایت ہے بھئی، جو لے گا قصاص، اس نے اس کو معاف کر دیا۔ کیا کیا؟ معاف کر دیا۔ تو کیا یہ اس کو رد کر سکتا ہے؟ کہ نہیں بھئی نہیں، مجھے معافی قبول نہیں، مجھے بھی کیا کیا جائے؟ قتل۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، اس کو رد کرنے کے وہ، وہ رد نہیں کر سکتا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں پر بھی دیکھو کسی چیز کا مالک نہیں بنایا جا رہا، ایک چیز کو کیا کیا جا رہا ہے دوسرے سے؟ ساقط کیا جا رہا ہے۔ تو جب بندہ ایک چیز کو دوسرے سے ساقط کر رہا ہو، تو دوسرا اس کو رد نہیں کر سکتا۔ بھئی ویسے صدقے میں بھی تو رد کر سکتا ہے، ایک فقیر کو اپ مال لے جاتے ہیں بھئی یہ لیجیے، یہ پیسے میری طرف سے اپ رکھ لیجیے بھئی، وہ کہتا ہے نہیں میں نہیں لیتا اپ سے، تو وہ تملیک کے اندر تو وہ رد کر سکتا ہے، لیکن اسقاطِ محض کے اندر کوئی رد نہیں ہو سکتا۔ جیسے ابھی مثال گزر گئی، ولیِ قصاص کیا کرنا چاہتا ہے؟ قاتل کو معاف کر رہا ہے، اور قاتل کہتا ہے مجھے قبول نہیں، تو کیا وہ رد کر سکتا ہے اس کو؟ وہ رد نہیں کر سکتا، قصاص ساقط ہو جائے گا اس پر سے، کیونکہ یہاں تملیک ہے ہی نہیں، یہ تو اسقاطِ محض ہے۔ یہاں قبول ضروری نہیں۔ تو لہٰذا جب بندہ کسی سے کسی چیز کو ساقط کر رہا ہو، تو دوسرا اس کو رد نہیں کر سکتا، تو جب اللہ کسی سے کسی چیز کو ساقط کر رہے ہوں، تو بندہ بطریقِ اولٰی کیا ہے؟ اس کو رد نہیں کر سکتا۔
یہ معنی ہے کہ "والصدقة بما لا يحتمل التمليك إسقاط محض" صدقہ کرنا ایسی چیز کے ساتھ جو تملیک کا احتمال نہ رکھے، ایسا اسقاطِ محض ہے "لا يحتمل الرد عن جهة العباد" یہ احتمال واپس کرنے کا نہیں رکھتا بندوں کی طرف سے "كولي القصاص إذا عفا عن الجناية لا يحتمل الرد" جیسے قصاص کا ولی جو ہے، جب وہ معاف کر دے جنایت کو تو یہ رد کا احتمال نہیں رکھتا "وإن كان المتصدق ممن لا تلزم طاعته" اگرچہ وہ صدقہ کرنے والا ان لوگوں میں سے ہے کہ اس پر اس کی اطاعت بھی لازم نہیں، بھئی ولیِ قصاص جو ہے، وہ قاتل کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ میں نے اس کو معاف کر دیا۔ اگرچہ یہ جو صدقہ کرنے والا ہے یعنی ولیِ قصاص، اس کا حکم ماننا اس قاتل پر ضروری نہیں، اس قاتل پر اس کا حکم ماننا ضروری نہیں، اس پر اس کی اطاعت ضروری نہیں، پھر بھی وہ واپس کر ہی نہیں سکتا اس کے، وہ کہہ رہا ہے میں معاف کیا تو قصاص ختم ہو جائے گا، ساقط ہو جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
"وإن كان المتصدق ممن لا تلزم طاعته" اگرچہ صدقہ کرنے والا ان لوگوں میں سے ہو کہ لازم نہ ہو اس پر اس کی اطاعت "فممن تلزم طاعته وهو الله تعالى أولى بأن لا يرد" پس اس ذات کی طرف سے صدقہ جس کی اطاعت لازم ہو بھئی، اور وہ اللہ تعالیٰ ہیں، اولٰی وہ زیادہ لائق ہے "بأن لا يرد" کہ اس کو رد نہ کیا جائے بھئی، اس کو رد نہ کیا جائے، تو یہاں صدقے کو ہر حال میں قبول کرنا ہی پڑے گا، کیونکہ یہ رد کا احتمال ہی نہیں رکھتا، تو قصر ہی پڑھنا پڑے گی، چار نہیں پڑھ سکتا بھئی۔ "بأن لا يرد" ہے کہ "أن لا يراد" ہے اپ کی کتابوں میں؟ "يرد" ہونا چاہیے۔ "بأن لا يرد" یہ زیادہ لائق ہے کہ اس کو رد نہ کیا جائے۔
"وأما" جی! امامِ شافعی رحمہ اللہ کو جواب دے رہے ہیں ہم بھئی۔ انہوں نے کیا کہا تھا؟ کہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ایک تو خوف کے ساتھ معلق کیا اور دوسرا گناہ کی نفی کی، کوئی گناہ نہیں تم پر اگر تم کیا کرو؟ نماز میں قصر کرو، معلوم ہوا ضروری نہیں ہے، قصر واجب نہیں ہے۔ "وأما نفي الجناح" بھئی پھر یہ گناہ کی نفی جو کی گئی، تم پر کوئی گناہ نہیں ہے، اس کا کیا معنی ہے؟ احناف! اپ تو کیا کہتے ہو؟ احناف کا کیا مذہب ہے؟ قصر ہی کرنا پڑے گا، پوری نماز نہیں پڑھ سکتا، تو اللہ تو فرما رہے ہیں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے، معلوم ہوا اس سے تو یہی پتہ چل رہا ہے کہ پوری پڑھ سکتا ہے۔ اگر قصر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے، معلوم ہوا قصر کی گنجائش ہے، واجب نہیں۔ تو جواب دے رہے ہیں: "وأما نفي الجناح عنهم فإنما هو لتطييب أنفسهم" باقیوں سے جو گناہ کی نفی کی گئی "فإنما هو لتطييب أنفسهم" وہ ان کے نفسوں کو خوش کرنے کے لیے ہے "لأنهم كانوا مظنة أن يخطر ببالهم أن عليهم جناحاً في القصر"
بھئی! کہتے ہیں جناح، گناہ کی نفی اس لیے کی گئی تم پر کوئی گناہ نہیں، ان مومنین کے دلوں کو خوش کرنے کے لیے، کیونکہ اس موقع پر دلوں میں یہ خیال آ سکتا تھا، کہ یہ جو ہم کمی کر رہے ہیں شاید اس میں گناہ ہے بھئی، دل میں یہ گمان آ سکتا تھا، جماعت پوری نہیں پڑھ رہا، کتنی پڑھ رہا ہے؟ چار کے بجائے دو پڑھ رہا ہے، تو دل میں گمان ہو سکتا تھا کہ شاید یہ کیا ہے؟ میں گناہ کر رہا ہوں، درست نہیں، مجھے پوری پڑھنی چاہیے بھئی، تو اللہ نے کیا فرمایا؟ کوئی گناہ نہیں بھئی، اس گمان کو بھی ختم کر دیا بھئی۔
"وأما نفي الجناح عنهم فإنما هو لتطييب أنفسهم لأنهم كانوا مظنة أن يخطر ببالهم أن عليهم جناحاً في القصر" اس لیے کیونکہ وہ جائے گمان تھے اس بات کے کہ آئے، خطر یخطر کا معنی ہے دل میں کسی بات کا آنا، اور بال دل کو کہتے ہیں، "أن يخطر ببالهم" وہ جائے گمان تھے کہ ان کے دل میں یہ بات آئے "أن عليهم جناحاً في القصر" کہ ان پر گناہ ہے قصر میں، یہ گمان آ سکتا تھا، اس کو اللہ نے ختم فرما دیا کہ تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ "وبه علم" اور اس سے معلوم ہوا "أن قيد الخوف أيضاً اتفاقي لا موقوفاً عليه القصر" اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ خوف کی جو قید لگائی گئی، یہ بھی اتفاقی ہے، اور قصر اس پر موقوف نہیں ہے، "إن خفتم" اگر تمہیں خوف ہو، یہ اتفاقی قید ہے، احترازی نہیں ہے بھئی، اس پر قصر موقوف نہیں ہے بھئی۔
اچھا بھئی! مسئلے کا خلاصہ یہ ہوا، کہ ہمارے نزدیک جو ہے، یہ جو قصرِ صلاۃ ہے سفر کے دوران، چار کے بجائے کتنی رکعتیں پڑھی جاتی ہیں؟ دو رکعتیں۔ یہ ہمارے نزدیک رخصتِ اسقاط ہے، اور یہاں عزیمت پر عمل کرنا ہی جائز نہیں ہے، جبکہ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ رخصتِ ترفیہ ہے، سہولت کے لیے، آسانی کے لیے یہ رخصت ہے، اور بہتر ہے کہ پورا پڑھا جائے نماز کو بھئی، دو کے بجائے چار، لیکن اگر دو بھی پڑھ لے تو کوئی حرج نہیں کہتے ہیں۔ اور وہ کہتے ہیں دیکھیے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں کہ: "وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا" کہ جب تم سفر کرو زمین میں تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم قصر کرو نماز کے اندر اگر تمہیں خوف ہو کہ تکلیف دیں گے تمہیں کفر کرنے والے۔
تو امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیکھیے! یہاں پر قصرِ صلاۃ کو معلق کیا گیا خوف کے ساتھ، اگر تمہیں خوف ہو کہ دشمن تمہیں تکلیف دیں گے تو تم قصر کرو، اور نیز گناہ کی نفی کی گئی کہ کوئی حرج نہیں ہے اگر تم کیا کر لو؟ نماز میں قصر کر لو، اس میں کوئی گناہ نہیں۔ معلوم ہوا بہتر یہی ہے کہ پوری پڑھی جائے، لیکن اگر قصر بھی کر لے گا تو اس میں کوئی گناہ نہیں، تو بہتر کیا ہوا؟ نماز کو پورا کرنا۔
ہم کہتے ہیں، کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تھی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھا، کہ جب اب تو ہم امن میں ہیں، محفوظ ہیں، تو کیا اب بھی ہم قصر کریں؟ آیت میں تو اللہ فرما رہے ہیں کہ اگر تمہیں خوف ہو دشمنوں کا، کفار کا۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم جواب میں فرمانے لگے کہ یہ صدقہ ہے جو اللہ نے تمہیں عطا فرمایا ہے، پس اس صدقے کو کیا کر لو؟ اللہ کے اس صدقے کو تم قبول کر لو۔
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو صدقہ فرمایا، اور صدقہ ایسی چیز جو تملیک کا احتمال نہ رکھے، جس میں مالک بنانا نہیں ہے، تو یہ صدقہ دراصل کیا ہے؟ یہ دراصل اسقاط ہوتا ہے بھئی، کیا ہوتا ہے؟ اسقاط ہوتا ہے، اور اس کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ جیسے مقتول کے اولیاء اگر قاتل کو قصاص معاف کر دیں، تو یہ اسقاطِ محض ہے دیکھو، اور اس کو وہ رد نہیں کر سکتا بھئی۔
عام صدقے کو تو رد کر سکتا ہے، اگر کسی چیز کا مالک بنایا جا رہا ہے، لیکن یہ چونکہ اسقاط ہے لہٰذا اس کو وہ رد نہیں کیا جا سکتا، تو جب عام لوگوں کے اس قسم کے صدقے کو رد نہیں کیا جا سکتا، تو اللہ تعالیٰ جس کی اطاعت لازم ہے، بطریقِ اولٰی اس کے صدقے کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
اور نیز یہ جو اپ نے کہا کہ دیکھو اللہ فرما رہے ہیں تم پر کوئی حرج نہیں ہے، گناہ نہیں ہے اگر تم قصر کر لو، اس کا یہ معنی نہیں کہ پوری بھی پڑھ سکتے ہو، بلکہ یہ تو اللہ ان کے مومنین کے دلوں کو خوش کرنے کے لیے فرما رہے ہیں، کیونکہ اس مقام پر مومنین کے دلوں میں یہ گمان آ سکتا تھا کہ یہ جو ہم قصر کر رہے ہیں، شاید اس میں حرج ہے، گناہ ہے بھئی، ہم کمی کر رہے ہیں۔ تو اللہ نے فرمایا کہ تم پر کوئی حرج نہیں ہے بھئی، اس قصر کے اندر تم پر کوئی حرج نہیں ہے بھئی۔
اور نیز یہ جو حدیث میں آ گیا کہ یہ صدقہ ہے، اس سے یہ بھی پتہ چل گیا کہ یہ جو قید آئی تھی آیت کے اندر کہ اگر تمہیں خوف ہو کہ دشمن تمہیں تکلیف دیں گے، کفار تمہیں تکلیف دیں گے، یہ بھی قیدِ اتفاقی ہے۔ کیا ہے؟ قیدِ اتفاقی ہے، کیونکہ حدیث میں کیا آیا؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے، کہ ہم محفوظ ہیں، اب تو دشمن کا خوف بھی نہیں ہے، کیا ہم پھر بھی قصر کریں؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ کہ یہ اللہ کی طرف سے صدقہ ہے، اللہ کے صدقے کو قبول کر لو۔ دیکھو معلوم ہوا یہ قید بھی اتفاقی ہے بھئی، اتفاقی بھئی، احترازی قید نہیں ہے بھئی۔
چلیے بس کریں بس، هذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الكلام۔