درس نمبر۔139
وَالسُّكْرُ عَطْفٌ عَلَى الْجَهْلِ، وَهُوَ إِنْ كَانَ مِنْ مُبَاحٍ أَيْ حَصَلَ مِنْ شُرْبِ شَيْءٍ مُبَاحٍ كَشُرْبِ الدَّوَاءِ الْمُسْكِرِ مِثْلُ الْبَنْجِ وَالْأَفْيُونِ عَلَى رَأْيِ الْمُتَقَدِّمِينَ دُونَ الْمُتَأَخِّرِينَ، وَشُرْبِ الْمُكْرَهِ وَالْمُضْطَرِّ أَيْ شُرْبِ الْمُكْرَهِ بِالْقَتْلِ أَوْ بِقَطْعِ الْعُضْوِ الْخَمْرَ وَشُرْبِ الْمُضْطَرِّ لِلْعَطَشِ إِيَّاهُ فَهُوَ كَالْإِغْمَاءِ.
بحث چل رہی تھی ان امور کی جو عارض ہوتے ہیں اہلیت پر بھئی۔ کس پر پیش آتے ہیں؟ اہلیت پر پیش آتے ہیں، اور آپ نے پڑھا وہ دو قسم کے ہیں: کچھ سماوی ہیں یعنی جن میں بندے کا کوئی دخل نہیں، اور کچھ اکتسابی ہیں یعنی جن کے حصول میں بندے کا دخل ہے، تو سماوی ختم ہو گئے تھے اور وہ امور جن میں بندے کا دخل ہے وہ شروع کیے تھے ہم نے گزشتہ سبق میں اور ان میں سے ایک جو ہے جہل گزرا تھا بھئی، جہل بالتفصیل بھئی۔
اب یہ دوسرا بیان کر رہے ہیں: والسکر یعنی نشہ بھئی، نشہ۔ تو کہتے ہیں والسکر عطف علی الجہل، سکر جو ہے اس کا عطف ہے جہل پر، وهو إن كان من مباح، یاد رکھیے یہ جو سکر نشہ ہے یا تو کسی مباح چیز جائز چیز سے نشہ ہوگا یا کسی ممنوع، حرام چیز سے نشہ ہوگا۔ کسی ممنوع اور حرام۔ اگر جائز چیز سے نشہ ہو تو یہ اغماء کی طرح ہے۔ مثلاً کوئی دوائی پی بھئی دوائی کے اندر نشہ تھا اس سے نشہ ہو گیا۔ تو اس صورت میں یہ جائز چیز سے نشہ ہوا، تو یہ اغماء کی طرح ہے بے ہوشی کی طرح ہے۔
اور جس طرح بے ہوشی کے اندر بھئی انسان کے وہ تصرفات وغیرہ صحیح نہیں، اسی طرح یہاں پر بھی اگر وہ اس دوائی کی وجہ سے جو نشہ چڑھا اس نے طلاق دے دی بیوی کو یا غلام کو آزاد کیا وغیرہ اس طرح کے کوئی تصرفات کیے تو وہ نافذ نہیں ہوں گے بھئی، وہ نافذ نہیں ہوں گے۔
لیکن اگر نشہ ہوا کسی ممنوع چیز سے جیسے شراب پی یا کوئی اور نشہ آور مشروب پیا، تو اس صورت میں یاد رکھیے شرعی احکام اس پر لاگو ہوں گے۔ پہلی صورت میں تو لاگو نہیں تھے اب کیا ہوں گے؟ لاگو ہوں گے بطور زجر کے، بطور ڈانٹ کے، کہ تم نے ایک حرام کام کیا ہے اور اس حرام کام کی وجہ سے اب تم پر شرعی احکام لاگو نہ ہوں ایسا نہیں ہوگا بلکہ تم پر لاگو ہوں گے، لہٰذا اس نشے کے اندر جس میں اسے بالکل کوئی ہوش نہیں ہے شراب پی ہے، وہ طلاق دے یا آزاد کرے غلام کو یا کوئی اقرار وغیرہ کرے یہ سب نافذ ہوں گے بھئی، سب کیا ہوں گے؟ نافذ ہوں گے۔ اس میں بیوی کو طلاق دی طلاق بھی ہو جائے گی، غلام کو آزاد کیا اس سے چاہے بالکل ہوش نہیں ہے پھر بھی یہ زجراً کیا ہو جائیں گے؟ سب نافذ ہو جائیں گے بھئی۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ جی، اب دیکھیے کتاب پر: کہتے ہیں وهو إن كان من مباح، اور اگر نشہ جو ہے کسی مباح چیز سے ہوا، أي حصل من شرب شيء مباح، یعنی کسی مباح چیز کے پینے سے حاصل ہوا، كشرب الدواء المسكر، جیسے نشہ آور دوا کے پینے سے، مثل البنج والأفيون، جیسے بھنگ اور افیون ہے بھئی، على رأي المتقدمين، یہ متقدمین کی رائے کے مطابق ہے بھئی، انہوں نے اس کو کس میں شمار کیا ہے؟ کہ اس سے اگر نشہ ہو تو اس صورت میں یہ اغماء کی طرح ہے، متاخرین کی رائے اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں نہیں یہ کس کے اندر داخل ہے؟ ممنوع چیزوں کے اندر داخل ہیں ان سے نشہ چڑھتا ہے انسان کو لہٰذا ان کے اندر اس کے تصرفات نافذ ہوں گے بھئی۔ یہی کہہ رہے ہیں على رأي المتقدمين متقدمین کی رائے میں، دون المتأخرين نہ کہ متاخرین کے۔ وشرب المكره والمضطر، اور اس طرح مکراہ اور مضطر کا پینا، مکراہ وہ جس پر کسی نے زبردستی کی ہے تلوار نکالی کہ میں تمہاری گردن اڑاتا ہوں یا ہاتھ کاٹتا ہوں شراب پیو، تو اب یہ پی لیتا ہے، وہ بھی اسی قسم کے اندر داخل ہے کیونکہ وہ اپنی مرضی سے نہیں پی رہا بھئی، لہٰذا اس کے بھی تصرفات نافذ نہیں ہوں گے بھئی۔
اور اسی طرح اگر کوئی شخص مجبور ہو گیا، مضطر، مجبور بھئی، یعنی شدید پیاس لگ گئی اور کوئی چیز پینے کے لیے نہیں صرف شراب موجود ہے اور اس کی اتنی حالت خراب ہو گئی کہ اسے یقین ہے کہ اب میں نے یہ بھی نہ پی تو میں مر جاؤں گا، تو اس صورت میں آپ پڑھ چکے ہیں شریعت اجازت دے دیتی ہے بھئی، تو جب شریعت نے اجازت دے دی تو وہ چیز حرام رہی ہی نہیں بلکہ کیا بن گئی؟ حلال بن گئی، جب حلال چیز پی تو نشہ ہو گیا تو اس صورت میں یہ اغماء کی طرح ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
أي شرب المكره بالقتل أو بقطع العضو، یعنی پی لینا زبردستی کیے ہوئے شخص کا جس پر اکراہ کیا گیا بھئی، بالقتل، قتل کے ساتھ، أو بقطع العضو، یا عضو کے کاٹنے کے ساتھ، یعنی اکراہ کامل ہو، تو اس کو اس کا شرب، یہ آگے آ رہا ہے نا الخمر، یہ مفعول ہے شرب کے لیے، شرب المكره الخمر، پینا مکراہ کا کس چیز کو؟ شراب کو، اسی طرح وشرب المضطر للعطش إياه، اور پی لینا مجبور کا پیاس کی وجہ سے إياه، شراب کو، فهو كالإغماء، تو یہ اغماء کی طرح ہے مدہوشی کی طرح ہے۔ یعنی يجعل مانعاً، یعنی اس کو کیا قرار دیا جائے گا؟ مانع قرار دیا جائے گا بھئی، یعنی اس کے تصرفات نافذ نہیں ہوں گے۔
ففيمنع صحة الطلاق والعتاق وسائر التصرفات، تو یہ روک دے گا طلاق، عتاق اور باقی تمام تصرفات کے صحیح ہونے کو، کوئی بھی تصرف اس کا نافذ نہیں، ففيمنع صحة الطلاق والعتاق وسائر التصرفات، یہ سارا متن ہے بھئی۔ ففيمنع صحة الطلاق والعتاق وسائر التصرفات، یہ متن ہے بھئی۔ تو یہ روک دے گا ان سب تصرفات کو كالإغماء، كذلك جیسے کہ اغماء اسی طرح۔
وإن كان من محظور، اور اگر وہ نشہ جو ہے وہ کسی ممنوع چیز سے ہوا، محظور بمعنی ممنوع کے، أي حصل من شرب شيء محرم كالخمر والسكر ونحوه، یعنی حاصل ہوا کسی حرام چیز کے پینے سے جیسے کہ شراب ہے، والسکر، سکر یہ ایک نشہ آور مشروب ہے جو کھجور سے بنتا ہے بھئی، تو جیسے خمر اس نے پی یا سکر پی، ونحوه یا اس جیسی چیز، تو یہ چیزیں حرام ہیں، فلا ينافي الخطاب بالإجماع، تو یہ جو نشہ جو حاصل ہوا اس حرام چیز کے پینے سے، یہ منافی نہیں ہے خطاب کے بالاجماع، یہ بالاجماع خطاب کے منافی نہیں، یعنی اللہ کا خطاب، شریعت کا خطاب اس کی طرف بھی متوجہ ہے۔
پہلے کی طرف تو متوجہ نہیں تھا اسی لیے اس پر شرعی احکام بھی لاگو نہیں، اس کی طرف احکام اس کی طرف خطاب متوجہ، جب خطاب متوجہ ہے گویا اس کو بھی ہر چیز کا حکم دیا جا رہا ہے اور اس کے بھی تمام تصرفات کیا ہوں گے؟ لاگو ہوں گے۔ لأن قوله تعالى، اس لیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے: لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى، کہ تم قریب نہ جاؤ نماز کے اس حال میں کہ تم نشے میں ہو، إن كان خطاباً في حال، یہ وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ یہ نشہ جو ہے خطاب کے منافی نہیں۔
نشہ خطاب کے منافی نہیں، نشے کے اندر بھی یہ خطاب کا اہل ہے اس کو خطاب ہو رہا ہے اس کو حکم دیا جا رہا ہے اللہ کی طرف سے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ اب بیان کرنے لگے ہیں کس طرح، کہتے ہیں: إن كان خطاباً في حال السكر فهو المطلوب، اگر یہ خطاب ہے نشے کی حالت میں تو یہی مطلوب ہے۔ ہمارا دعویٰ بھی کیا ہے؟ مطلوب دعویٰ وہی، کیا دعویٰ ہے؟ کہ یہ جو نشہ حرام چیز سے آیا، یہ خطاب کے منافی نہیں، پھر بھی کیا ہوگا؟ شرعی خطاب اس کی طرف متوجہ ہوگا، احکام اس پر لاگو ہوں گے، دعویٰ یہ ہے، تو کہتے ہیں اگر یہ خطاب ہے اس کے نشے کی حالت میں فهو المطلوب، وہ تو یہی مطلوب ہے کہ أنه لا ينافي الخطاب، کہ یہ نشہ جو ہے خطاب کے منافی نہیں، وإن كان في حال السهو، اور اگر یہ سہو کہتے ہیں جو نشہ ختم ہو جائے یعنی ہوش میں ہو انسان کس میں ہو؟ سہو، اور اگر یہ خطاب ہے ہوش کی حالت میں، نشے میں نہیں ہے انسان اس کو خطاب ہو رہا ہے جو کس میں ہے؟ ہوش، فهو فاسد، پھر تو یہ فاسد بن جائے گا، یہ بات ہی درست نہیں رہے گی بھئی، کس طرح درست نہیں رہے گی؟ کہتے ہیں: إذ يصير المعنى، کیونکہ معنی یہ ہو جائے گا: إذا سكرتم، ہے تو آدمی ہوش میں نا، گویا اس کو کیا کہا جا رہا ہے: إذا سكرتم فلا تقربوا الصلاة، جب تم نشے میں آ جاؤ، نشہ تمہیں ہو جائے تو تم نماز کے قریب نہ جاؤ، یہ تو اسی طرح ہوا كقوله للعاقل، جیسے کہ شخص کسی عاقل کو کہتا ہے، عقل رکھنے والے کو کہتا ہے: إذا جننت فلا تفعل كذا، جب تو مجنون ہو جائے تو ایسا نہ کرنا، حالانکہ یہ بات درست تھی نہیں، وہ کیسے بھئی؟ جب مجنون ہو جائے گا اس کو کیا پتا ہوگا؟ تو یہاں پر بھی اگر یہ کہا جائے یہ خطاب کس حالت میں ہے؟ ہوش والے کو ہے اور کیا کہا جا رہا ہے؟ جب تم نشے میں ہو جاؤ تو پھر نماز کے قریب نہ جانا، پھر تو یہ بات ہی درست، یہ تو اسی طرح ہو گیا جیسے کسی شخص کو عقل والے کو کہا جائے جب تو مجنون ہو جائے تو ایسا نہ کرنا۔
وهو إضافة الخطاب إلى حال مناف له، اور یہ نسبت ہو جائے گی خطاب کی ایسی حالت کی طرف جو خطاب کے منافی ہے، تو یہ تو خطاب کے منافی حالت کی طرف کیا ہو جائے گی؟ نسبت ہو جائے گی، فلا يجوز، تو یہ جائز نہیں بھئی۔ وتلزمه أحكام الشرع، اور اس پر یہ جو اس نے ممنوع حرام چیز سے نشہ کیا ہے اس پر شرعی احکام اس کو اس پر لازم ہو جائیں گے، وتصح عباراته في الطلاق والعتاق والبيع والشراء والإقرار، اور اس کی عبارتیں صحیح ہوں گی طلاق میں، شراب کی وجہ سے نشہ چڑھا ہے طلاق دے گا تو طلاق واقع ہو، اس کی ساری عبارتیں صحیح ہیں طلاق میں بھی، والعتاق آزادی میں بھی، والبيع، اور بیع کے اندر بھی والشراء، اور شرائع نہیں الشراء ہونا چاہیے بھئی، بیع والشراء، بیع اور شراء کے اندر، والإقرار، اور اقراروں کے اندر، کہ اس حالت میں کسی چیز کا اقرار بھی کرے گا وہ اقرار اس پر کیا ہوگا؟ لازم ہوگا، نشے میں ہے کہتا ہے میں نے زید کے بیس لاکھ روپے دینے ہیں، یہ اس پر کیا ہو گیا؟ لازم، زید اب قاضی کے پاس جا کر اس سے وصول کر سکتا ہے۔
زجراً له، بھئی یہ کیوں اس پر شرعی احکام لاگو ہوں گے اور اس کی عبارتیں صحیح ہوں گی؟ کہتے ہیں: زجراً له، اس کو ڈانٹ کے لیے، اس کی ڈانٹ کے لیے عن ارتكاب المنهي عنه، اس منہی عنہ ممنوعہ چیز کے ارتکاب سے ڈانٹ کے طور پر کہ اس نے ممنوعہ چیز کا ارتکاب کیا ہے، وتنبيه له، اور اس کو اس بات پر تنبیہ کرنے کے لیے على أن مثل هذا السكر المحرم لا يكون عذراً له في إبطال أحكام الشرع، کہ اس قسم کا حرام نشہ جو ہے یہ اس کا عذر نہیں بن سکتا شرعی احکام کو باطل کرنے میں، شرعی احکام بھی کیا ہوں گے اس پر اب لاگو ہوں گے، اس نے حرام کام کیا۔
إلا الردة والإقرار بالحدود الخالصة، مگر مرتد ہونا اور خالص حدود کا اقرار کرنا، کس کا اقرار کرنا؟ مرتد ہونے کا اعتبار نہیں، اس حالت میں اگر مرتد ہو جائے شراب پی کر، اس کا اعتبار نہیں، اس کو مرتد نہیں کہیں گے۔ اور خالص حدود کا اقرار کر لے یعنی جس میں صرف حق اللہ ہے حق العبد نہیں ہے، بعض حدود میں حق اللہ ہے صرف، بعض میں حق اللہ کے ساتھ ساتھ حق العبد بھی ہے، مثلاً بھئی قصاص ہے، کسی پر تہمت لگا دی اس میں بھی حد آتی ہے تہمت لگا دی، لیکن اس میں جس پر تہمت لگائی اس کا بھی حق ہے اور اللہ کا بھی حق ہے، جبکہ بعض جو ہیں وہ صرف اللہ کا حق ہیں جیسے کسی نے زنا کیا تو اس پر بھی حد آتی ہے لیکن یہ صرف کیا ہے خالص اللہ کا، تو یہاں پر جو ہے اس حرام نشے کی صورت میں اس کے مرتد ہونے کا اور خالص حدود کے اقرار کا اعتبار نہیں ہے بھئی، وہ صحیح نہیں ہے۔
فإنه إذا ارتد السكران، اس لیے کیونکہ جب نشے والا نشہ نشے والا شخص جو جو نشے میں ہے وہ جب مرتد ہو جائے وتكلم بكلمة الكفر، اور اس نے کلام کیا کلمہ کفر پر، کلمہ کفر زبان سے کہا لا يحكم بكفره، تو اس کے کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا، لأن الردة عبارة عن تبدل الاعتقاد، اس لیے کیونکہ مرتد ہونا یہ عبارت ہے اعتقاد کے بدلنے سے، اعتقاد کا بدلنا کیا کہلاتا ہے؟ مرتد ہونا، وهو غير معتقد لما يقوله، اور وہ نشے میں جو آدمی ہے وہ تو اس چیز کا اعتقاد ہی نہیں رکھتا جو وہ کہہ رہا ہے، اس کو پتا ہی نہیں ہوش ہی نہیں ہے، تو مرتد ہونا کس کو کہتے تھے؟ اعتقاد کو اعتقاد کا بدلنا، اور یہاں وہ تو نشے میں ہے اسے اعتقاد کا پتا ہی کچھ نہیں بھئی۔
اس لیے کیونکہ وہ اعتقاد نہیں رکھنے والا اس چیز کا جو وہ کہہ رہا ہے، وكذا إذا أقر بالحدود الخالصة لله، اسی طرح جب اس نے اقرار کیا ان حدود کا جو خالص اللہ کے لیے ہیں كشرب الخمر والزنا، جیسے شراب کا پینا والزنا زنا کرنا لا يحد، اس کو حد نہیں لگائی جائے گی، لأن الرجوع عنه صحيح، کیونکہ ان سے رجوع کرنا بھی صحیح، کوئی اقرار کر لے زنا کا آپ پڑھ چکے ہیں۔ کہ عین حد سے پہلے بھی اگر وہ رجوع کر لے تو حد اس سے ساقط ہو جائے گی، کیونکہ شبہ آ گیا اور ادنیٰ شبہے سے بھی حد کیا ہوتی ہے؟ ساقط ہو جاتی ہے۔
تو کہتے ہیں: لأن الرجوع عنه صحيح، اس لیے کیونکہ جو خالص اللہ کا حق ہے یہ والی جو حدود ہیں، یہ رجوع کرنا ان سے صحیح ہے، والسكر دليل الرجوع، اور یہ نشہ رجوع کی دلیل ہے، نشہ کس چیز کی دلیل ہے؟ کیونکہ نشے میں انسان کبھی کچھ کہتا ہے کبھی کچھ کہتا ہے، کبھی ایک بات کرتا ہے کبھی اس کے مخالف کرتا ہے تو یہ نشہ ہی اس کے رجوع کی دلیل ہے، بخلاف ما لو أقر بالحدود الغير الخالصة لله، برخلاف اس کے کہ اس نے اگر اقرار کیا ان حدود کا جو خالص اللہ کے لیے نہیں ہیں كالقذف أو القصاص، جیسے کہ قذف ہے کسی پر زنا کی تہمت لگائے أو القصاص یا قصاص ہے، اب ان میں یاد رکھیے اللہ کا بھی حق اور بندے کا بھی حق، فإنه لا يصح رجوعه، اس لیے ان سے رجوع کرنا صحیح نہیں ہے إذ صاحب الحق يكذبه، اس لیے کیونکہ یہاں بندے کا بھی حق ہے تو وہ جو حق والا بندہ ہے يكذبه وہ کیا کر دے گا اس کو؟ یہ رجوع کرے گا وہ کہے گا نہیں نہیں یہ کیا کر رہا ہے؟ جھوٹ بول رہا ہے، فيؤاخذ بالحد والقواعد، پس اس کا مؤاخذہ کیا جائے گا یہاں پر حد اور قصاص کے ساتھ، وبخلاف ما إذا زنى في حال سكره، اور برخلاف اس کے اس نشے والے نے زنا کر لیا اپنے نشے کی حالت میں وثبت، اور وہ زنا کیا ہوا؟ ثابت بھی ہو گیا من غير إقرار فيه، بغیر اس میں اس کے اقرار، اقرار کے بغیر ہی وہ ثابت ہو گیا چار گواہوں کے ذریعے، فإنه يحد صاحياً، پس اس کو بھی حد لگائی جائے گی صاحیاً جب وہ ہوش میں ہو بھئی، جب وہ ہوش میں آ جائے، کیا کیا جائے گا اس پر؟ اس پر، صاحیاً اسی صحو سے ہے بھئی ہوش میں آنا، ہوش۔
والهزل، عطف علی ما قبله، ہزل یہ تیسرا آ گیا امورِ اکتسابہ میں سے، پہلا جہل تھا، دوسرا سکر نشہ، تیسرا کیا ہے؟ ہزل، ہزل مذاق کو کہتے ہیں، کس کو کہتے ہیں؟ مذاق، بطور مذاق کے بھئی دو آدمی آپس میں بیع کرتے ہیں کہ ہم لوگوں کے سامنے کیا کریں گے؟ بیع کریں گے اور ہوگی نہیں، میرے اور تمہارے درمیان بیع نہیں ہوگی ویسے لوگوں کو دکھانے کے لیے ہم کیا کرتے ہیں؟ بیع کرتے، یا مرد اور عورت کہ ہم دونوں لوگوں کے سامنے کیا کر لیں گے؟ نکاح کر لیں گے لیکن ہوگا نہیں تمہارے اور میرے درمیان نکاح نہیں ہوگا، یہ ہے مذاق بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب اس کی تفصیل بیان کریں گے بھئی، طویل تفصیل ہے بھئی۔
جی، کہتے ہیں: والهزل عطف على ما قبله، مذاق ہزل جو ہے اس کا عطف ہے ماقبل پر، وهو أن يراد بالشيء ما لم يوضع له، اور وہ یہ کہ ارادہ کیا جائے کسی چیز کے ذریعے یعنی کسی لفظ کے ذریعے ما لم يوضع له اس چیز کا جس کو اس کے لیے وضع نہیں کیا گیا۔ یعنی موضوع لہ کا ارادہ نہ کیا جائے اس چیز کے ذریعے، ولا ما يصلح له اللفظ استعارة، اور نہ اس چیز کا جس کی لفظ صلاحیت رکھتا ہے بااعتبار استعارے کے یعنی مجاز کے، یعنی نہ تو موضوع لہ کا ارادہ کیا جائے یعنی معنی حقیقی کا ارادہ بھی نہ
ہو اور معنی مجازی کا ارادہ بھی نہ ہو صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ بھئی، آپ کہتے ہیں: "شیر"، شیر کا ایک تو حقیقی معنی ہے، وہ جنگلی درندہ، بھئی، اور ایک شیر کا مجازی معنی ہے، بہادر آدمی، لیکن آپ "شیر" بول کر کیا مراد لے لیتے ہیں؟ بکری مثلاً مراد لے لی، کوئی چیز مراد لے لے، کوئی بھی چیز مراد لے لے، جو نہ اس کا حقیقی معنی ہے اور نہ مجازی، تو یہ ہزل میں آگیا، کس میں آگیا؟ ہزل میں آگیا بھئی۔
یعنی لا يكون اللفظ محمولا على معناه الحقيقي أو المجازي، یعنی لفظ نہ تو محمول ہو اپنے معنی حقیقی پر، بلکہ يکون لعبا محضا، لعب کہتے ہیں کھیل کو، بلکہ محض کھیل ہی ہو، مذاق کے طور پر، کھیل کے طور پر۔ ولكن عبارة لا تخلو عن تمحل، لیکن مصنف کی عبارت خالی نہیں ہے تمحل سے، تکلف سے بھئی، تکلف کچھ کرنا پڑے گا متن کی عبارت میں۔
متن میں دیکھیے کیا ہے: ولا ما صلح له اللفظ، ولا ما، ہاں، بتلائیں گے آپ کو، کہتے ہیں: یہ جو "لا" ہے نہ "لا"، اس کو "ما" کے بعد ہونا چاہیے تھا: وما لا صلح له، بات سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ بعد میں، کیوں؟ کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ پیچھے آیا تھا: ما لم يوضع له، اسی پر اس "ما" کا بھی عطف ہے، اسی پر اس کا بھی عطف ہے اور اس کے بعد نفی والی چیز ہے، اس کے بھی بعد کیا ہونی چاہیے؟ نفی والی چیز بعد میں ہونی چاہیے، کیونکہ ارادہ کیا ہے؟ مقصد کیا ہے؟ بتلانا کیا چاہتے ہیں مصنف؟ وهو أن يراد بشيء، کیا کیا جائے؟ ارادہ کیا جائے ایک چیز کے ذریعے، کس چیز کا ارادہ کیا جائے؟ ما لم يوضع له، جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا، اس کا بھی ارادہ، جس کے لیے اس کو وضع نہیں کیا گیا۔ ایسی چیز کا ارادہ کیا جائے جس کے لیے اس لفظ کو وضع، اور یا ارادہ کیا جائے ایک چیز کے ذریعے ما لا صلح له اللفظ، ایسی چیز کا کہ لفظ اس کی صلاحیت بطور مجاز کے نہ رکھے۔
تو دیکھو، ارادہ کرنا ہے یا ارادہ نہ کرنا ہے؟ ارادہ کرنا ہے ایسی چیز کا جس کے لیے لفظ وضع نہیں ہے یا ارادہ کرنا ہے ایسی چیز کا کہ لفظ میں اس کی صلاحیت نہیں ہے، تو ارادہ کرنا ہے یا ارادہ نہ کرنا ہے؟ ارادہ کرنا ہے بھئی، ٹھیک ہے؟ تو "ما" کے بعد نفی آرہی ہے، ارادہ کرنا ایسی چیز کا جس کے لیے لفظ وضع نہیں، جس کے لیے، جس میں لفظ، جس کی لفظ صلاحیت نہیں رکھتا، تو ارادہ کرنا ہے یا ارادہ نہ کرنا ہے؟ ارادہ کرنا ہے، اور "لا" کو "ما" پر مقدم ذکر کیا گیا، یہاں تو معنی یہ بن گیا کہ ارادہ کیا جائے ایسی چیز کا جس کے لیے لفظ کو وضع نہیں کیا گیا، اور ارادہ نہ کیا جائے "ما" ایسی چیز کا، ارادہ نہ کیا جائے، حالانکہ دونوں جگہ کیا مراد ہے؟ ارادہ کرنا مراد ہے، تو کہتے ہیں: ولكن العبارة لا تخلو عن تمحل، لیکن یہ عبارت جو ہے متن کی، یہ خالی نہیں ہے تکلف سے، کچھ تکلف کرنا پڑے گا۔
والأولى، اور بہتر یہ ہے أن يقول، کہ یوں کہتے مصنف: وما لا يصلح له بھئی، "ما" کے بعد "لا" کو لے کر آتے، بتاخير كلمة لا، "لا" کلمے کو مؤخر کرتے ہوئے، ليکون معطوفا على قوله: ما لم يوضع له، تاکہ یہ معطوف ہو جائے مصنف کے قول "ما لم يوضع له" پر، أو أن يقول، یا بہتر یہ تھا کہ یوں کہے: ولا صلح له، "ما" کو سرے سے ذکر ہی نہ کریں، اب دیکھیے، پیچھے آیا تھا "لم يوضع" اور اسی پر "لا صلح" کا بھی عطف ہو جائے گا، فعل منفی پر فعل منفی، اور دونوں "ما" کے تحت آگئے بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟
بحذف كلمة ما، کلمہ "ما" کو حذف کرتے ہوئے یوں کہتے: "لا صلح له"، ليکون معطوفا على قوله: لم يوضع له، تاکہ یہ معطوف ہو جائے مصنف کے قول "لم يوضع له" پر۔ وهو ضد الجد، یہ جو ہزل ہے نہ مذاق، یہ "جد" کی ضد ہے، جد کہتے ہیں سنجیدگی کو، ایک ہے مذاق، اس کی ضد کیا ہے؟ سنجیدگی بھئی، تو یہ ضد ہے یہ ہزل سنجیدگی کی، بھئی، سنجیدگی کسے کہتے ہیں؟ وہ بھی بتا رہے ہیں، کہتے ہیں: وهو أن يراد بشيء ما وضع له أو ما يصلح له اللفظ استعارة، وہ یہ کہ ارادہ کیا جائے ایک چیز کے ذریعے "ما" اس چیز کا وضع له، جس کے لیے اس لفظ کو وضع کیا گیا، یعنی معنی موضوع لہ، یعنی معنی حقیقی کا ارادہ کریں، أو ما يصلح له اللفظ استعارة، یا وہ جس کی لفظ بطور استعارہ، یعنی بطور مجاز کے صلاحیت رکھتا ہے، یعنی سنجیدگی یہ ہے کہ لفظ سے اسی معنی کا ارادہ کریں جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے یا اس کے معنی مجاز، معنی حقیقی یا معنی مجاز میں سے دو میں سے ایک کا ارادہ کیا جائے تو یہ ہے سنجیدگی بھئی۔
وإنه ينافي اختيار الحكم، اور یہ جو ہزل ہے نہ ہزل، یہ منافی ہے حکم کے اختیار کے، والرضاء به، اور اس حکم پر راضی ہونے کے، بھئی، جب دو آدمیوں نے آپس میں طے کر لیا کہ بھئی، دیکھو ہم لوگوں کے سامنے بیع کریں گے، لیکن درحقیقت تمہارے اور میرے درمیان بیع نہیں ہوگی، اب دیکھیے، لوگوں کے سامنے آکر ایک نے کہا: میں نے یہ گاڑی تمہیں دس لاکھ میں بیچ دی، دوسرے نے کہا: میں نے یہ گاڑی آپ سے دس لاکھ میں خرید لی، اب بیع، بیع کا حکم کیا ہے؟ مشتری کیا بن جاتا ہے مبیع کا؟ مالک بن جاتا ہے، لیکن یہاں وہ مبیع کا مالک نہیں بنے گا، کیوں نہیں بنے گا؟ اس لیے کیونکہ یہ دونوں جو عقد کرنے والے ہیں، یہ اس بیع کے حکم پر راضی نہیں ہیں، پہلے طے کیا یا نہیں کیا کہ تم بیع نہیں ہوگی؟ کیونکہ اگر بیع ہو گئی پھر تو وہ مالک بن جائے گا، تو یہ ان کی رضامندی کے، تو یہ جو مذاق ہے، یہ اس حکم کے اختیار کرنے اور حکم پر راضی ہونے کے خلاف ہے، معلوم ہوا دونوں اس کے حکم پر راضی نہیں، آپس میں پہلے سے طے کر چکے ہیں، صورت سمجھ میں آرہی ہے؟
تو یہ ان کی حکم کو اختیار کرنے سے، وہ جو عقد کے بعد حکم آئے گا، اس حکم کے اختیار کرنے سے اور اس پر راضی ہونے کے یہ مذاق کیا ہے؟ منافی، معلوم ہوا دونوں حکم کو اختیار نہیں کرنا چاہتے، دونوں حکم پر راضی نہیں ہیں، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ معنی ہے وإنه ينافي اختيار الحكم والرضاء به، اور یہ جو مذاق جو ہے، یہ منافی ہے حکم کو اختیار کرنے سے اور اس حکم پر راضی ہونے سے، ولا ينافي الرضاء بالمباشرة، اور یہ منافی نہیں ہے مذاق بھئی، کس کے منافی نہیں ہے؟ الرضاء بالمباشرة، مباشرت کا کیا معنی؟ سرانجام دینا، سرانجام دینے میں رضامندی کے منافی نہیں ہے، بھئی، لوگوں کے سامنے آکر وہ ایجاب و قبول کر رہے ہیں یا نہیں کر رہے؟ سرانجام تو دے رہے ہیں بھئی، تو سرانجام یہ جو مذاق ہے، سرانجام دینے پر راضی ہیں، سرانجام دینے پر راضی ہونے کے منافی نہیں ہے مذاق، البتہ اس کے حکم کے منافی ہے، صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ کیونکہ سرانجام تو دے رہے ہیں لوگوں کے سامنے، دونوں ایجاب و قبول کر رہے ہیں، تو معلوم ہوا سرانجام دینے پر دونوں راضی ہیں، اس بیع کو کرنے پر دونوں راضی، لیکن اس کے حکم پر راضی نہیں، یہ خلاصہ ہوا بھئی، کرنے پر راضی، لیکن حکم پر راضی نہیں۔
يعني أن الهزل لا يختار الحكم ولا يرضى به، یعنی وہ جو مذاق کرنے والا ہے، وہ حکم کو اختیار نہیں کرتا اور نہ اس پر راضی ہوتا ہے، ولكنه يرضى بمباشرة السبب، لیکن وہ راضی ہے اس کے سبب کو سرانجام دینے پر، إذ التلفظ إنما هو عن رضا، اس لیے کیونکہ جب دونوں آپ بیع کریں گے تو اپنی زبان سے کہہ رہے ہیں یا نہیں کہہ رہے بیع؟ ایجاب و قبول کر رہے ہیں، تو کرنے پر دونوں راضی ہیں، یہ معنی ہے إذ التلفظ إنما هو عن رضا واختيار صحيح، اس لیے کیونکہ تلفظ جو ہے إنما هو عن رضا واختيار صحيح، یہ رضامندی سے ہے اور صحیح اختیار سے ہے، ولكنه غير قاصد ولا راض للحكم، لیکن وہ ارادہ کرنے والا نہیں ہے اور راضی نہیں ہے حکم پر، فصار الهزل بمعنى خيار الشرط أبدا، تو یہ جو ہے، مذاق جو ہے، یہ خیارِ شرط کے معنی میں ہوا، وہ خیارِ شرط ابداً جو کہ ہمیشہ کے طور پر ہو۔
یعنی وہ خیارِ شرط جو مؤبد ہو، یہ اس کے معنی میں ہوا بھئی، یہ مذاق کس کے معنی میں ہوا؟ وہ خیارِ شرط جو مؤبد ہو، بھئی دیکھیے، میں اور آپ بیع کرتے ہیں، میں اور آپ بیع کرتے ہیں، میں نے کہا: یہ گاڑی میں نے آپ کو دس لاکھ میں فروخت کر دی، لیکن شرط یہ ہے کہ مجھے تین دن کا اختیار ہے، اگر میں ان تین دن میں بیع فسخ کرنا چاہوں تو بیع فسخ کر سکتا ہوں، آپ نے قبول کر لیا، بیع ہو گئی میرے اور آپ کے درمیان، بیع ہو گئی ہے یا نہیں ہو گئی؟ ایجاب و قبول ہوا، لیکن کیا آپ گاڑی کے مالک بنے؟ آپ نے پڑھا ہے، خیارِ شرط کے اندر مشتری مبیع کا مالک نہیں بنتا، تو یہاں پر بھی ہزل بھی اسی طرح ہے، سرانجام دونوں نے دیا بیع کو، لیکن دوسرا اس کا مالک، جیسے خیارِ شرط میں مالک نہیں بنتا، اس میں بھی مالک نہیں، نیز، جب انہوں نے آپس میں مذاق کیا کہ یہ گاڑی میں نے تمہیں دس لاکھ میں بیچ دی، اس نے کہا: میں نے گاڑی تم سے دس لاکھ میں خرید لی لوگوں کے سامنے، تو انہوں نے مذاق کیا، اور کوئی مدت متعین کی؟ جی؟ کوئی مدت کا تو ذکر ہی نہیں ہے، اور جب مدت ذکر نہ ہو تو وہ کلام مؤبد شمار ہوتا ہے، آپ کہتے ہیں: میں زید سے بات نہیں کروں گا، بڑے غصے میں لڑائی ہوئی ہے کچھ ہوا، آپ لوگوں کے ساتھ یا یوں کہتے ہیں: میں زید کے کمرے میں نہیں جاؤں گا اب، کیا معنی ہوتا ہے آپ کا؟ ایک دو دن بعد چلے جائیں گے یا معنی ہوتا ہے کبھی، ابد کی بات کر رہے ہیں آپ؟ ابد کی، تو جو کلام جس میں وقت کی قید نہ ہو، وہ مؤبد شمار ہوتا ہے، تو یہاں پر بھی جو ہزل کیا وہ کس قسم کا ہے؟ وہ مؤبد عقد ظاہر کر رہے ہیں، تو یہاں پر خیار، یہ ہزل بھی کس کی طرح ہے؟ خیارِ شرط کی طرح، لیکن کون سے خیارِ شرط کی طرح جو مؤبد ہو، جس میں وقت کی قید نہ ہو۔
فصار الهزل بمعنى خيار الشرط أبدا، تو ہزل جو ہے وہ ابدی خیارِ شرط، اس خیارِ شرط کے معنی میں ہوا، جی، فصار الهزل بمعنى خيار الشرط أبدا، تو یہ ہزل جو ہے خیارِ شرط کے معنی میں ہوا ابداً، جو کہ وہ خیارِ شرط جو ابدی طریقے پر ہو یعنی، یعنی مؤبد ہو في البيع، بیع میں، لعدم الرضاء بحكم البيع لا بعدم الرضاء بنفس البيع، بوجہ حکمِ بیع پر راضی نہ ہونے کے نہ کہ نفسِ بیع پر راضی نہ ہونے کے، بھئی، خیارِ شرط، خیارِ شرط میں نفسِ بیع پر تو دونوں راضی ہیں، لیکن حکمِ بیع پر دونوں راضی، جس نے خیار رکھا ہے وہ حکمِ بیع پر راضی نہیں، صورت سمجھ میں آرہی ہے، وہ مالک بن رہا ہے کہ نہیں بن رہا؟ مالک نہیں بن رہا، معلوم ہوا حکمِ بیع پر وہ راضی نہیں، نفسِ بیع پر وہ، یہی بات بیان کر رہے ہیں: لعدم الرضاء بحكم البيع بوجہ راضی نہ ہونے بیع کے حکم پر، لا بعدم الرضاء بنفس البيع نہ یہ کہ نفسِ بیع پر وہ راضی نہیں ہیں، ولكن بينهما فرق، لیکن ان دونوں میں فرق ہے، کچھ فرق بھی ہے، یہ نہیں کہ یہ جو ہزل بالکل خیارِ شرط کی طرح ہے، بلکہ کچھ فرق بھی ہے، من حيث، اس حیثیت سے کہ أن الهزلا يفسد البيع، کہ ہزل جو ہے وہ بیع کو فاسد کر دیتا ہے، وخيار الشرط لا يفسده، اور خیارِ شرط بیع کو فاسد نہیں کرتا، وہاں خیار آجاتا ہے لیکن ہزل مذاق میں کیا تو بیع ہوئی نہیں، بیع ہی کیا ہو گئی؟ فاسد ہو گئی۔
وشرطه، أي شرط الهزل، ضمیر کا مرجع بتایا کہ شرطہ کی "ہ" ضمیر ہزل کو راجع ہے، ہزل کی شرط یہ ہے: أن يكون صريحا مشروطا باللسان، کہ وہ ہزل جو ہے، وہ جو ہے، وہ صریح ہونا چاہیے، مشروطاً باللسان، وہ صریح ہونا چاہیے، مشروط ہو زبان کے ساتھ بھئی، مشروط ہے کس کے ساتھ؟ صریح ہونا چاہیے، مشروط ہونا چاہیے زبان کے ساتھ، یعنی عقد کرنے سے پہلے دونوں نے صراحتاً زبان کے ساتھ ایک دوسرے سے یہ کہا ہو کہ دیکھو ہم عقد کریں گے، لیکن ہوگا نہیں عقد آپس میں، ہم صرف کیا کر رہے ہیں؟ ویسے ہی مذاق کے طور پر کر رہے ہیں، یہ پہلے سے باقاعدہ زبان سے کیا کہنا چاہیے؟ یہ کہنا ضروری ہے، یہ طے کرنا ضروری ہے، اگر پہلے سے زبان سے طے نہیں کیا پھر لوگوں کے سامنے مذاق کے طور پر بیع کر رہے ہیں، ان کا انداز بتلا رہا ہے کہ وہ مذاق کر رہے ہیں، دلالتِ حال ہے، زبان سے طے نہیں کیا لیکن کیا ہے؟ دلالتِ حال، وہ دلالتِ حال کوئی فائدہ نہیں دے گی، یاد رکھیے، وہ بیع منعقد ہو جائے گی جس طرح بھی کریں گے، چاہے مذاق ہی میں کیوں نہ کریں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ کیوں؟ اس لیے کہ یہاں پر جہاں صرف دلالتِ حال ہے، انداز مذاق والا ہے، پتہ چل رہا ہے مذاق کر رہے ہیں، تو مذاق پر کیا چیز دلالت کر رہی ہے؟ دلالتِ حال، اور دوسری طرف ایجاب و قبول زبان سے ہو رہا ہے، وہ صریح ہے، ایک کی صرف دلالت ہے اور ایک چیز صریح ہے، تو وہ دلالت صریح کے مقابلے میں نہیں آسکتی بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ لہذا وہاں عقد ہو جائے گا، لیکن یہاں کیا کہہ رہے ہیں؟ باقاعدہ پہلے زبان سے طے کیا کہ ہم مذاق کریں گے، اب یہ بھی صریح ہوا، آگے عقد بھی کیا ہوا؟ صریح ہوا، تو اب مقابل بن سکتا ہے بھئی۔
بأن يذكر العاقدان قبل العقد، بعیں طور کہ ذکر کر دیں وہ دونوں عقد کرنے والے عقد سے پہلے ہی، کیا ذکر کر دیں؟ أنهما يهزلان في العقد، کہ وہ دونوں مذاق کر رہے ہیں عقد کے اندر، ولا يثبت ذلك بدلالة الحال فقط، اور یہ صرف دلالتِ حال سے ثابت نہیں ہوگا بھئی، یہ جو ہزل ہے۔
إلا أنه لم يشترط ذكره في العقد بخلاف خيار الشرط، مگر یہ کہ شرط نہیں ہے اس کو ذکر کرنا عقد کے اندر بخلاف خیارِ شرط کے، بھئی، ہزل ہے خیارِ شرط کی طرح، لیکن ایک تو یہ فرق بتلا دیا انہوں نے کہ ہزل بیع کو فاسد کر دیتا ہے اور خیارِ شرط بیع کو فاسد، اور دوسرا بتلا رہے ہیں متن کے اندر کہ نیز، ہزل جو ہے خیارِ شرط کی طرح ویسے تو ہے، لیکن ہزل میں شرط نہیں ہوتی کہ اس کو عقد میں ذکر کیا جائے گا، لیکن خیارِ شرط تبھی آئے گا جبکہ اس کو بیع میں ذکر کیا جائے، تو اس کے خیارِ شرط میں شرط ہے اس کو بیع میں ذکر کرنا، تبھی خیار حاصل ہوگا ایک کو، ورنہ ویسے خیار حاصل نہیں ہوگا۔ یہ معنی ہے إلا أنه لم يشترط ذكره في العقد بخلاف خيار الشرط، مگر یہ کہ ہزل جو ہے شرط نہیں ہے اس کو ذکر کرنے کی عقد کے اندر بخلاف خیارِ شرط کے، بھئی کیوں؟ خیارِ شرط کو ذکر کرنے کی شرط ہے، ہزل کے ذکر کرنے کی شرط نہیں، بھئی اس لیے کیونکہ خیارِ شرط میں تو بتلانا ہی مقصد ہوتا ہے لوگوں کو کہ یہ بیع ہمارے درمیان تام نہیں ہے، اور مذاق کے اندر تو لوگوں کو بتلانا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم بیع صحیح کر رہے ہیں، اگر وہاں کہیں گے ہم مذاق کر رہے ہیں پھر تو بات ہی کچھ نہ رہی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
لأن غرضهما من البيع هزلا، اس لیے کیونکہ ان دونوں کی غرض جو ہے وہ بیع کی بطورِ مذاق کے، أن يعتقد الناس ذلك بيعا، کہ لوگ اس کو بیع شمار کریں، وليس بيع في الحقيقة، اور حال یہ ہے کہ وہ حقیقت میں بیع نہیں ہے، وهذا لا يحصل بذكره في العقد، اور یہ حاصل نہیں ہو سکتا ذکر کرتے ہوئے اس کو عقد میں، اگر عقد میں، بھئی، بیع ہم دونوں میں نہیں ہے، لیکن لوگ سمجھیں کہ بیع ہے، لیکن اگر وہاں ذکر بھی کر دیں گے ہم مذاق کر رہے ہیں پھر تو لوگ بھی نہیں، وہ لوگوں کو بھی پتہ چل جائے گا اور وہ تو ان کے مقصد کے خلاف ہو جائے گا، وأما خيار الشرط، اور باقی خیارِ شرط جو ہے، فالغرض منه إعلام الناس بأن البيع ليس باتا بل معلقا بالخيار، اس میں تو غرض ہی یہ ہوتی ہے لوگوں کو بتلانا، اطلاع دینا ہوتی ہے کہ بیع جو ہے وہ تام نہیں ہے، ليس باتاً بیع بت یعنی قطعی نہیں ہے، بل معلقاً بالخيار، بلکہ معلق بالخیار ہے، وذلك إنما يحصل بذكره في عين العقد، اور یہ مقصد اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب عینِ، جب خیارِ شرط کو ذکر کر دیا جائے عینِ عقد کے اندر۔
والتلجئة كالهزل، اور تلجئہ جو ہے یہ بھی ہزل کی طرح ہے، تلجئہ فُعْلَۃٌ وزن ہے، لَجَّأَ يُلَجِّئُ تَلْجِئَةً، مجبور کرنا، أَلْجَأَ يُلْجِئُ اِلْجَاءً کا کیا معنی ہوتا ہے؟ دوسرے کو مجبور کرنا، تو کہتے ہیں: والتلجئة مجبور کرنا، كالهزل، یہ بھی کس کی طرح ہے؟ مذاق کی طرح ہے، فلا ينافي الأهلية، لہذا یہ بھی اہلیت کے منافی نہیں، جیسے مذاق اہلیت کے منافی نہیں تھا، تو یہ تلجئہ دوسرے کو مجبور کرنا بھی، بھئی، مجبور کیا دوسرے کو، کوئی ایسی بات کہہ دی کہ دوسرے کے، لوگوں کے سامنے اس طرح کرنا پڑے گا، لوگوں کے سامنے اس طرح عقد ہم کریں گے اور کوئی ایسی دھمکی وغیرہ دے دی کہ وہ مجبور ہو گیا لوگوں کے سامنے عقد کرنے پر، تو یہ ہے تلجئہ، مجبور کرنا۔
اور آپ کو بتلائیں گے کہ مذاق عام ہے، تلجئہ خاص ہے، ہے تو دونوں کا حکم ایک ہی، جیسے مذاق کی صورت میں اہلیت ختم نہیں ہوتی، اسی طرح تلجئہ کے اندر بھی اہلیت ختم، ہاں، فرق یہ کہ مذاق عام ہے، مذاق کے اندر یہ بھی ہو سکتا ہے دوسرے کو کسی وجہ سے مجبور کر دیا جائے، ہو سکتا ہے بغیر مجبور کیے ہی ویسے ہی مذاق کر لیں، جبکہ تلجئہ کے اندر تو ہے ہی کیا؟ مجبور کرنا، تو یہ خاص ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: فلا ينافي الأهلية، فلا تنافي ہونا چاہیے بھئی، فلا تنافي الأهلية، لہذا یہ تلجئہ جو ہے اہلیت کے منافی نہیں، فلا تنافي الأهلية، یاد رکھیے یہ متن ہے بھئی، یہ متن ہے۔
وهي في اللغة تلجئة، کہتے کس کو ہیں؟ کہتے ہیں یہ عربی زبان کے اندر مأخوذةٌ مأخوذةٌ من الإلجاءِ، یہ کس سے مأخوذ ہے؟ إلجاء سے، أي الإضطرارِ، مجبور کرنا بھئی۔
فحاصلها حاصل اس کا یہ ہے تلجئے کا، أن يلجئ شيءٌ، یہ کہ مجبور کر دے کوئی چیز، إلى أن يأتي أمراً، کہ کوئی شخص ایسا لائے، یعنی کرے، أمراً ایسا امر، باطناً ہے آپ کی کتابوں میں؟ باطناً نہیں بھئی یہ کتابت کی غلطی ہے۔ باطنهُ ہو بھئی باطنهُ۔ باطنهُ۔
تو عبارت کیا بن گئی؟ أن يلجئ شيءٌ إلى أن يأتي أمراً باطنهُ بخلافِ ظاهرهِ۔ جی، اور أمراً ہے نکرہ، أمراً کیا ہے؟ نکرہ، اور نکرہ کے بعد آیا باطنهُ بخلافِ ظاهرهِ، پورا جملہ اسمیہ۔ اور جملہ اسمیہ جملہ کس کے حکم میں ہوتا ہے؟ نکرہ، یہ لہٰذا یہ صفت بنے گا کس کی؟ امر کی، اور موصوف سے پہلے کیا لفظ لے کر آتے ہیں ترجمے میں؟ ایسا یا ایسی کا، دیکھیے ترجمہ بھئی۔
حاصل اس تلجئے کا یہ ہے، أن يلجئ شيءٌ، کہ مجبور کر دے کوئی چیز، إلى أن يأتي أمراً، کہ کرے کوئی شخص ایسا امر، ایسی چیز کرے، باطنهُ بخلافِ ظاهرهِ، کہ اس امر کا باطن اس کے ظاہر کے خلاف ہو، باطن میں پیچھے تو اس نے دھمکی دی ہوئی ہے بھئی، تو باطن اس کے ظاہر کے خلاف، ظاہر تو یہ بتلا رہا ہے کہ یہ اپنی مرضی سے عقد کر رہا ہے، لیکن باطن اس کے خلاف ہے، باطن میں اس نے کیا دی ہوئی ہے؟ دھمکی دی ہوئی ہے، وہ مجبوری میں کر رہا ہے، اپنی رضامندی سے یہ عقد نہیں کر رہا، معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟
کہ وہ کرے أمراً باطنهُ بخلافِ ظاهرهِ، ایسا امر جو جس کا باطن اس کے ظاہر کے خلاف ہو، فيظهرُ بحضورِ الخلقِ، ہاں فيظهرُ، فيظهرُ بحضورِ الخلقِ، تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے لوگوں کے سامنے، أنهما يعتقدا يعتقدانِ البيعَ بينهما لأجلِ مصلحةٍ دعت إليهِ، کہ یہ دونوں عقد کر رہے ہیں بیع کا آپس میں لأجلِ مصلحةٍ، ایک ایسی مصلحت کی وجہ سے دعت إليهِ، جس نے جس نے، جس نے اس کی طرف اپنی طرف دعوت دی ہے بھئی، جس نے اپنی طرف، یعنی دونوں جو عقد کر رہے ہیں، بات توجہ ہے سبق کی طرف کہ نہیں؟
پیچھے دی ہوئی ہے دھمکی، سامنے لوگوں کے کر رہے ہیں عقد، تو لوگ تو کیا سمجھیں گے؟ یہ کسی مصلحت کی وجہ سے عقد کر رہے ہیں، ایک کو ایک چیز کی ضرورت ہوگی، چاہیے ہوگی، اسی لیے کیا کر رہا ہے؟ عقد کر رہا ہے، تو یہ کسی مصلحت کے، یہ معنی ہے کہ دونوں عقد کر رہے ہیں بیع کی آپس میں لأجلِ مصلحةٍ دعت إليهِ، ایک مصلحت کی وجہ سے جس نے اپنی طرف بلایا، ولم يكن في الواقعِ بينهما بيعٌ، اور واقع میں ان کے درمیان بيع نہیں ہوتی بھئی، لوگ تو یہ سمجھتے ہیں۔
والهزلُ، سمجھ میں آیا؟ اس نے پیچھے دھمکی دی تھی کہ لوگوں کے سامنے یوں کرنا، ٹھیک ہے؟ عقد نہیں ہوگا، لیکن تمہیں یہ کرنا پڑے گا، لوگوں کے سامنے اس طرح بیع کرنا پڑے گا، لوگوں کو دکھانا پڑے گا، یہ معنی ولم يكن في الواقعِ بينهما بيعٌ، واقع میں ان کے درمیان بیع نہیں ہوتی، والهزلُ أعمُّ منها، اور ہزل کیا ہے؟ تلجئہ سے عام، کیونکہ ہزل میں مجبور کرنا بھی ہو سکتا ہے اور اور غیر بغیر مجبوری کے بھی، جبکہ تلجئہ میں مجبور کرنا ہے۔
تو کہتے ہیں ولكنَّ الحكمَ فيهما سواءٌ، لیکن حکم ان دونوں کے اندر جو ہے برابر ہے۔ ولكنَّ الحكمَ فيهما سواءٌ، لیکن حکم ان دونوں میں برابر ہے، في أنهُ لا ينافي الأهليةَ، اس بات کے اندر کہ یہ اہلیت کے منافی نہیں ہے بھئی، ثمَّ اعلم، پھر جان لیجیے، أنَّ مبنى هذا الهزلِ على أن يتفقَ العاقدانِ في السرِّ أن يظهرا العقدَ، بھئی بھئی، یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ یہ جو ہزل ہے، ہزل کے اندر بتلایا کہ باطن کے اندر پہلے سے دونوں زبان سے آپس میں کیا کریں؟ طے کریں کہ ہم مذاق کریں گے اب، لوگوں کے سامنے ہم نے مذاق کرنا ہے، حقیقت میں بیع نہیں ہوگی۔
اب پہلے تو انہوں نے طے کر لیا ہم مذاق کریں گے، پھر لوگوں کے سامنے انہوں نے ایجاب و قبول بھی کر لیا، عقد جو بھی عقد تھا وہ انہوں نے کر لیا لوگوں کے سامنے، اس کے بعد پھر چار احوال ہو سکتے ہیں، یا تو دونوں اس بات پر اتفاق کریں گے کہ ہاں بعد میں بھی کہیں گے بھئی یہ تو ہم مذاق کر رہے تھے، بعد میں بھی کیا کہتے ہیں؟ مذاق، یا بعد میں دونوں کہتے ہیں نہیں نہیں، کوئی مذاق نہیں، دونوں ہی کہتے ہیں ہم سنجیدگی سے بیع کر رہے تھے، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تیسری صورت دونوں کہتے ہیں بھئی ہمارے ذہن میں کچھ بھی نہیں تھا، نہ مذاق تھا نہ سنجیدگی تھی، ہم خالص ذہن تھے، ہمارا ذہن خالی تھا، چوتھی صورت کے اختلاف کرتے ہیں دونوں آپس میں، ایک کہتا ہے کہ ہم مذاق کر رہے تھے، دوسرا کہتا ہے نہیں ہم سنجیدگی سے کر رہے تھے بیع، تو اولاً تو انہوں نے طے کیا مذاق، اور پھر کیا کیا؟ عقد، اور عقد کے بعد اب کتنی صورتیں بن گئیں؟ چار، یا دونوں کس پر اتفاق کریں گے؟ مذاق پر ہی، یا دونوں کہ ہماری بناء اسی مذاق یہ بیع کی بنیاد کس پر تھی؟ اس مذاق پر تھی، ہم مذاق کر رہے تھے، یا دونوں کیا کریں گے؟ کہیں گے کہ ہم کوئی اس ہم نے کوئی مذاق نہیں، ہم سنجیدگی سے بیع کر رہے تھے، اعراض کریں گے اس مذاق سے، تیسری صورت دونوں کیا تھے؟ خالی الذہن تھے، خاليَ الذهنِ نہیں لفظ بھئی، خاليَ الذهنِ نہ پڑھنا کبھی عربی عبارت میں بھی آئے، یا پر ضمہ نہیں آتا بھئی، قاضی کی طرح ہے، قاضی، خالی، اور اس کے کیا اعراب پڑھا ہے آپ نے؟ ہاں یہاں پر قاضی قاضی میں پڑھا آپ نے جری تقدیری، ضمہ بھی تقدیری، اور صرف فتحہ لفظی آتا ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو خاليَ الذهنِ حالتِ رفعی میں بھی، حالتِ جری میں بھی، حالتِ نصبی میں خاليَ الذهنِ پڑھیں گے۔
صورت سمجھ، جیسے حدیث کی کتاب ہے بھئی شرحُ معاني الآثارِ، شرحُ معاني الآثارِ، اچھا، تو یہ معاني الآثارِ بھئی، کوئی اس کو بعض معانيُ الآثارِ پڑھتے ہیں، نہیں بھئی، معانيُ الآثارِ نہیں، یا پر ضمہ اور کسرہ نہیں آ سکتا بھئی اعراب میں، ہاں جاری مجرائے صحیح ہو پھر آ سکتا ہے، جاری مجرائے صحیح ہو تو پھر آ سکتا ہے، یعنی ماقبل ساکن ہو یا یائے مشدد ہو۔
یائے مشدد جس کے آخر میں آئے وہ بھی جاری مجرائے صحیح ہوتا ہے، لہٰذا اس پر بھی رفع اور جر آ سکتا ہے، ذهنِيٌّ، ذهنِيٌّ دیکھو، یہاں پر یہ یائے مشدد ہے، دو یا ہیں، پہلی یا ساکن ہے اور دوسری یا متحرک، اور پہلی یا ساکن ہوئی تو یا آخری یا سے پہلے ایک ساکن حرف آیا، تو یہ جاری مجرائے صحیح ہوا بھئی، ظبيٌ کی طرح، دلوٌ کی طرح۔
تو کتنی صورتیں یہاں بنتی ہیں؟ چار، یا تو دونوں کس پر اتفاق کریں گے؟ اسی مذاق پر ہی، یا دونوں سنجیدگی پر، یا دونوں کیا ہوں گے؟ خالی الذہن ہوں گے، یا ایک کیا کہے گا؟ ہم مذاق کر رہے تھے، اور ایک کہے گا ہم سنجیدگی سے بیع کر رہے تھے۔
کہتے ہیں ثمَّ اعلم، پھر جان لیجیے، أنَّ مبنى هذا الهزلِ، کہ بنیاد اس ہزل کی جو ہے، على أن يتفقَ العاقدانِ في السرِّ، اس بات پر ہے کہ دونوں عقد کرنے والے اتفاق کر لیں في السرِّ، پوشیدہ حالت میں، أن يظهرا، دو الف ہیں العقد اور یظهر کے درمیان؟ دو الف ہونے چاہئیں، ایک العقد کا الف، ایک يظهرا کا الف بھئی، کیونکہ یہ تثنیہ کا صیغہ ہے۔
ان دونوں عقد کرنے والوں نے راز داری میں اتفاق کیا أن يظهرا، کہ دونوں کیا کریں گے؟ ظاہر کریں گے، العقدَ عقد کو، بحضورِ الناسِ لوگوں کی موجودگی میں، ولا عقدَ بينهما في الواقعِ، اور واقع میں ان دونوں کے درمیان کوئی عقد نہیں ہوگا، فعقدا بحضورِ الناسِ، پس دونوں نے عقد کر لیا لوگوں کی موجودگی میں، ثمَّ بعدَ تفرقِ الناسِ، پھر لوگوں کے جدا ہو جانے کے بعد، لوگوں کے جانے کے بعد، عقد ہو گیا، بات گزر گئی، لا يخلو عن أربعِ حالاتٍ بينهما في كلِّ عقدٍ، تو خالی نہیں ہے چار حالات سے ان کے درمیان ہر عقد میں، یعنی چار حالتوں میں سے کوئی ایک حالت ضرور آئے گی، وقد بينها المصنفُ رحمهُ اللهُ بالتفصيلِ فقال، اور تحقیق بیان کیا مصنف نے اس کو، ان چاروں کو تفصیل سے، فقال پس فرمایا، فإن تواضعا على الهزلِ بأصلِ البيعِ، یاد رکھیے اب یہاں تین صورتیں بنیں گی۔
تین، بیع کے مسئلے میں، بیع کے مسئلے میں، بیع کے اندر دیکھیے، یہاں پر یا تو دونوں نے آپس میں طے کیا تھا مذاق کریں گے اصلِ بیع کے بارے میں ہی، کس کے بارے میں؟ ہم بیع کریں گے لیکن بیع ہوگی نہیں ہمارے درمیان، تو یہ مذاق کس اتفاق کس کے بارے میں کیا ہے؟ کیا مذاق کس کے بارے میں کریں گے؟ اصلِ بیع، سِرے سے بیع ہوگی نہیں ہمارے درمیان، دوسری صورت ثمن کے اندر مذاق کرتے ہیں کہ بیع تمہارے اور میرے درمیان ہوگی، لیکن ثمن ہوں گے ایک ہزار، لوگوں کے سامنے دو ہزار ذکر کرنے ہیں، تو اصلِ بیع میں مذاق نہیں کر رہے، وہ بیع کر رہے ہیں، صرف کس میں وہ مذاق کر رہے ہیں؟ ثمن، تیسری صورت کہ یہ دوسری صورت کیا تھی؟ ثمن ثمن کی مقدار کہیں، مقدار، ثمن کی مقدار میں مذاق کریں گے، تیسرا ثمن کی جنس میں مذاق کرتے ہیں کہ ذکر لوگوں کے سامنے درہم کریں گے، لیکن طے میرے اور تمہارے درمیان اتنے دینار ہیں، اتنے، تو کتنی صورتیں بنیں مذاق کس میں؟ یا تو اصلِ بیع میں مذاق کریں گے، یا کس کے اندر؟ ثمن کی مقدار میں، یا ثمن کی جنس میں، اور سب ہر ایک کے اندر پھر چار چار صورتیں ہیں، یعنی اس عقد کے بعد آپس میں کیا کریں گے؟ کہ اتفاق کریں گے کہ مذاق کیا تھا، یا کیا کریں گے؟ اس مذاق سے اعراض کریں گے اور کہیں گے ہم نے سنجیدگی سے عقد کیا ہے، یا کیا کہیں گے دونوں؟ ہم خالی الذہن تھے، یا چوتھی صورت کیا ہے؟ ایک کہے گا کہ میں سنجیدگی سے عقد کیا ہے، دوسرا کہتا ہے نہیں نہیں ہم مذاق کر رہے تھے بھئی۔
فإن تواضعا، تفاعل باب ہے، تواضعا تواضعا تثنیہ کا صیغہ ہے، اگر دونوں نے اتفاق کیا، تواضع کا کیا معنیٰ؟ تواضع کا معنیٰ اتفاق کرنا ہے ہاں، فإن تواضعا پس اگر ان دونوں نے اتفاق کیا على الهزلِ کس پر؟ مذاق پر، بأصلِ البيعِ کس چیز کے بارے میں؟ اصلِ بیع کے بارے میں مذاق پر دونوں نے اتفاق کیا، یہ کب کی بات ہو رہی ہے؟ یہ پہلے کی بات ہو رہی ہے، عقد کرنے سے پہلے اتفاق کر رہے ہیں آپس میں کہ ہم مذاق کریں گے، کس چیز کے بارے میں؟ اصلِ بیع، یہ معنی، فإن تواضعا على الهزلِ بأصلِ البيعِ، پس اگر دونوں نے اتفاق کیا اصلِ بیع کے بارے میں مذاق کرنے پر، أي اتفقا في السرِّ، یعنی راز داری میں دونوں نے اتفاق کیا، على أن يظهرا البيعَ، یہاں دیکھو دو الف ہیں بھئی، یہ کہ دونوں ظاہر کریں گے بیع کو، بحضورِ الناسِ لوگوں کی موجودگی میں، ولا يكونُ بينهما أصلُ البيعِ، اور ان دونوں کے درمیان اصلِ بیع نہیں ہوگی، سِرے سے بیع ہوگی نہیں بس، فعقدا بحضورتهم، پس دونوں نے عقد کر لیا لوگوں کی موجودگی میں، فتفرقَ المجلسُ، اور مجلس کیا ہوئی؟ متفرق ہو گئی، ثمَّ جاءا، پھر دونوں آئے، اب اس کے بعد والی صورتیں ہیں، واتفقا على البناءِ، اور دونوں نے اتفاق کیا بناء پر، کس چیز پر؟ بناء پر، اسی مذاق پر ہم بناء کر رہے تھے، ہمارے اس عقد کی بنیاد اسی پر تھی، بناء کا معنی کیا ہوتا ہے؟ بنیاد رکھنا، بنیاد رکھنا، تو یاد رکھیے آگے دو تین لفظ، دو لفظ خصوصاً، ایک بناء کا لفظ آئے تو بناء کا کیا معنی ہوگا؟ اسی جو طے کیا تھا جو مذاق تھا اسی پر بنیاد کر رہے ہیں، یعنی مذاق کر رہے تھے، ہم دونوں کیا کر رہے تھے؟ بعد میں بھی کہتے ہیں ہم مذاق کر رہے تھے، تو بناء کا یہ معنی ہوگا، اسی پر بنیاد ہے، اسی مذاق پر ہمارے اس عقد کی بنیاد ہے، اور ایک آئے گا اعراض لفظ، اعراض کا معنی ہے کیا؟ رخ پھیرنا، تو دونوں اعراض کرتے ہیں اس مذاق سے، ہم مذاق نہیں کر رہے تھے بلکہ کیا کر رہے تھے؟ سنجیدہ، تو جہاں بھی بناء کا لفظ آئے کیا معنی ہوگا؟ اسی مذاق پر بنیاد ہے، اور اعراض کا لفظ آئے تو کیا معنی ہوگا؟ سنجیدگی، یعنی یہ اس مذاق سے اعراض کر رہے ہیں بھئی۔
ثمَّ جاءا، پھر دونوں آئے، واتفقا على البناءِ، اور دونوں نے اتفاق کر لیا بناء پر، أي أنهما كانا بانيينِ على تلكَ المواضعةِ والهزلِ، کہ وہ دونوں بنیاد رکھنے والے تھے اسی مواضعت پر، وہی اتفاق، مواضعت کیا ہے؟ وہ جو پیچھے اتفاق کیا چھپ کر کہ ہم مذاق کریں گے، وہ جو اتفاق کیا، والهزلِ وہی ہزل بھئی جو انہوں نے کہ وہ دونوں بنیاد رکھنے والے ہیں اسی اتفاق اور مذاق پر، فيفسدُ البيعُ، پھر بیع کیا ہو جائے گی؟ بعد میں بھی یہ دونوں کہہ رہے ہیں ہم مذاق ہی کر رہے تھے تو بیع فاسد ہو جائے گی لازمی بات ہے، ولا يوجبُ الملكَ، اور یہ بیع ملکیت کو ثابت نہیں کرے گی، وإن اتصلَ بهِ القبضُ، اگرچہ اس بیع کے ساتھ قبضہ بھی مل جائے، مشتری مبیع پر قبضہ بھی کر لے پھر بھی ملکیت کو یہ ثابت نہیں کرے گی، لعدمِ الرضا، بموجب رضامندی کے نہ ہونے کے، پہلے یہی طے کیا تھا اور بعد میں بھی اسی پر دونوں متفق ہیں، تو حتى لو كانَ المبيعُ عبداً، یہاں تک کہ مبیع اگر غلام ہوا، فأعتقه المشتري بعدَ القبضِ، پھر اس کو مشتری نے قبضے کے بعد آزاد بھی کر دیا، لا ينفذُ، تو اس کا یہ اعتاق نافذ کیوں؟ کیونکہ بیع ہوئی نہیں، دونوں بیع ہی فاسد ہو گئی بتلایا، توجہ ہے سبق کی طرف؟ کب اتفاق کر رہے ہیں اب یہ؟ عقد کے بعد، اور کس چیز پر اتفاق کر رہے ہیں؟ ہم مذاق کر رہے ہیں، ہم کیا کر رہے تھے؟ ہماری بنیاد اسی مذاق پر تھی اس عقد کی، تو مذاق جب مذاق کر رہے تھے تو بیع کیا ہوئی؟ فاسد، جب بیع فاسد ہوئی مشتری مالک نہیں بنا، جب مالک نہیں بنا تو اس کا آزاد کرنے کا کوئی اعتبار ہی نہیں، وہ کون ہوتا ہے آزاد کرنے والا؟ غلام تو بائع کا ہے، اس کا ہے ہی نہیں، یہ مالک بنا ہی نہیں تو اس کا آزاد کرنا بھی نافذ نہیں، كالبيعِ بشرطِ الخيارِ أبداً، جیسے کہ بیع کی جائے خیارِ شرط کے ساتھ ابداً، کس طریقے پر؟ ابد کے طریقے پر، فإنهُ يمنعُ ثبوتَ الملكِ معَ كونِ البيعِ صحيحاً، کہتے ہیں بھئی دیکھیے، بیع کرو خیارِ شرط کے ساتھ، بیع کرو تو تو مشتری مالک بنے گا مبیع کا؟ توجہ ہے بھئی؟ مشتری مبیع کا مالک نہیں بنے گا، اب خیارِ شرط کے ساتھ جو بیع کی جائے وہ صحیح ہوتی ہے یا صحیح نہیں ہوتی؟ صحیح، تو بیع صحیح خیارِ شرط کے ساتھ بیع صحیح ہونے کے باوجود مشتری مالک نہیں بنتا، تو ہزل کے اندر تو بیع ہی فاسد ہے سِرے سے، وہاں بطریقِ اولیٰ مشتری مبیع کا مالک نہیں بنے گا، یہ معنی ہے فإنهُ يمنعُ ثبوتَ الملكِ معَ كونِ البيعِ صحيحاً، پس یہ جو خیارِ شرط ہے یہ روک دیتا ہے ملکیت کے ثبوت کو باوجود اس کے کہ بیع صحیح ہے، ففي الفاسدِ أولى، تو بیع فاسد میں بطریقِ اولیٰ جو ہے وہ روک دے گی کس چیز سے؟ کہ ملکیت کو ثابت کرے بھئی، وإن اتفقا على الإعراضِ، اور اگر دونوں نے اتفاق کیا کس چیز پر؟ اعراض پر، کہ دونوں کیا کر رہے تھے؟ ہم نے کوئی ہم کوئی مذاق طے نہیں، ہم تو کیا تھے؟ سنجیدہ تھے، أي على أنهما أعرضا عنِ المواضعةِ المتقدمةِ، یا اس بات پر دونوں نے اتفاق کیا کہ ان دونوں نے اعراض کیا ہے اس مواضعتِ متقدمہ پر، وہ جو پہلے اتفاق کیا تھا اس سے دونوں نے اعراض کیا ہے، وعقدا، یہاں بھی دو الف ہونے چاہئیں، ایک عقدا کا الف، ایک البيع کا الف، عقدا تثنیہ کا صیغہ ہے بھئی، کہ ان دونوں نے اعراض کیا ہے اس گزشتہ اتفاق سے، وعقدا البيعَ على سبيلِ الجدِّ، اور دونوں نے بیع کا عقد کیا ہے کس طریقے پر؟ سنجیدگی کے طریقے پر، فالبيعُ صحيحٌ والهزلُ باطلٌ، تو بیع صحیح ہے اور ہزل کیا ہے؟ باطل ہے، جی دو صورتیں آ گئیں بھئی، وإن اتفقا، اور اگر دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا، على أنهُ لم يحضرهما شيءٌ، کہ ان کوئی بھی چیز حاضر نہیں تھی ان دونوں کے پاس، عندَ البيعِ، بیع کے وقت بھئی، بیع کے وقت کیا تھی؟ کوئی بھی چیز ذہن میں حاضر نہیں تھی، من البناءِ، بھئی کون سی چیز؟ کہتے ہیں من البناءِ على المواضعةِ والإعراضِ، یعنی کہ اس اتفاق پر بناء، یہ بھی حاضر نہیں تھا، والإعراضِ، اور اعراض بھی، خالص ذہن تھے نا، نہ اتفاق ذہن میں تھا اور نہ اعراض ذہن میں تھا، نہ اتفاق ذہن میں تھا اور نہ، جی، تو یہ جو من البناءِ یہ بیان ہے شيءٌ کا، کوئی بھی چیز ان کے ذہن میں حاضر نہیں تھی، بھئی کوئی بھی چیز کیا معنی؟ یعنی نہ وہ نہ تو وہ اتفاق تھا ہمارے ذہن میں اور نہ ہمارے ذہن میں اعراض تھا، من البناءِ على المواضعةِ والإعراضِ، یعنی کہ وہ اس اتفاق پر بناء اور اعراض یہ دونوں حاضر نہیں تھے، بل كانا خاليَيِ الذهنِ عنه، بلکہ دونوں اس سے خالص ذہن تھے۔
یہ ایک صورت، یہ تیسری آ گئی، یہ چوتھی صورت یہ آگے، وفي البناء والاعراض یہ دونوں نے اختلاف کیا بناء اور اعراض کے اندر بھئی۔ فقال احدهما دونوں میں سے ایک کہتا ہے آگے کیا ہے آپ کی کتابوں میں بیننا نہیں بھئی، بناینا، بناینا ماضی کا صیغہ ہے بھئی۔ یہ بیننا کتابت کی غلطی ہے، بناینا کریں اس کو، نون پہلے ہے یا بعد میں۔ فقال احدهما دونوں میں سے ایک کہتا ہے بیننا العقد علی المواعدۃ المتقدمۃ کہ ہم نے بنیاد رکھی ہے عقد کی اس گزشتہ اتفاق پر۔ وقال الاخر وعقدنا علی سبیل الجد اور دوسرا کہتا ہے کہ ہم نے عقد کیا ہے سنجیدگی کے طریقے پر۔ فالعقد صحیح عند ابی حنیفہ رحمہ اللہ تو یہ عقد امام صاحب کے نزدیک صحیح ہے، خلافا لهما بخلاف صاحبين کہ ان کے نزدیک یہ عقد کیا ہے؟ یہ عقد صحیح نہیں بھئی۔ ان کے نزدیک یا یہ بیع بھی کیا ہے فاسد، امام صاحب فرماتے ہیں نہیں عقد صحیح۔ بھئی پیچھے دو صورتیں گزریں، ایک صورت وہ تھی جس میں بعد میں بھی دونوں نے کس پر اتفاق کیا کہ ہم کیا کر رہے تھے؟ مذاق، تو اس وقت بیع فاسد تھی بالاتفاق۔ اور دوسری صورت تھی بعد میں دونوں کہتے ہیں ہم تو کیا کر رہے تھے؟ سنجیدگی، اس صورت میں بیع دونوں کی نافذ ہو جائے گی، خود کہہ رہے ہیں ہم کیا کر رہے تھے؟ سنجیدگی سے بیع کر رہے تھے، دونوں کی بیع نافذ دونوں کے نزدیک۔ تیسری صورت اور چوتھی صورت کہ دونوں کہتے ہیں ہم خالص ذہن تھے یا دونوں میں سے دونوں آپس میں اختلاف، ایک کہتا ہے ہم سنجیدہ تھے، دوسرا کہتا ہے ہم مذاق کر رہے تھے، تو اس صورت میں امام صاحب فرماتے ہیں عقد صحیح ہو جائے گا۔ عقد کیا ہو جائے گا؟ صحیح۔ اور صاحبين فرماتے ہیں کہ عقد فاسد ہو جائے گا۔ وجہ اس کی کیا؟ وجہ بھی سمجھ لیں بھئی۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ دیکھیے کہ عقد کے اندر اصل کیا ہے؟ اس کو صحیح ہونا چاہیے یا فاسد ہونا چاہیے؟ صحیح ہونا چاہیے۔ اصل تو یہ ہے اس کو صحیح ہونا چاہیے بھئی۔ اصل۔ اور تو اصل یہ ہے کہ عقد کو صحیح ہونا چاہیے جب تک کوئی مغير کوئی بدلنے والی چیز نہ آئے جو صحت کو کس سے بدل دے؟ فساد سے۔ اور یہاں پر جب دونوں خالص ذہن ہیں تو کوئی مغير آیا؟ کوئی چیز جس صحت کو بدلنے والی ہو۔ جب انہوں نے کہا تھا ہم دونوں مذاق کر رہے تھے۔ اس وقت ہم نے کیا کہا تھا؟ عقد فاسد ہو گیا، دونوں نے بعد میں کیا کہا؟ ہم مذاق کر رہے تو عقد کو ہم نے کیا قرار دیا؟ کیوں فاسد قرار دیا؟ عقد تو صحیح ہونا چاہیے تھا، زبان سے ایک چیز کہہ رہے ہیں عقد کر رہے ہیں، عقد ہونا چاہیے، لیکن ہم نے اس کو فاسد کیوں قرار دیا؟ کیونکہ مغير آ گیا تھا، ایک چیز آ گئی تھی جس نے اس صحت کو فساد سے بدل دیا، کیونکہ وہ دونوں کر رہے ہیں، دونوں کی مرضی ہے، وہ عقد نہیں کر رہے، ویسے ہی دکھلاوہ کر رہے ہیں، مذاق کر رہے ہیں بھئی۔ تو مغير آ گیا۔ یہاں پر تو دونوں خالص ذہن ہیں، کوئی مغير ہی نہیں ہے جو اس صحت کو بدل دے فساد سے، لہذا دونوں میں عقد کیا ہو جائے گا؟ صحیح۔ تو دونوں جب خالص ذہن ہوں تب بھی عقد صحیح، اور دونوں میں سے ایک کہہ رہا ہے ہم مذاق کر رہے تھے اور دوسرا کہتا ہے ہم سنجیدہ تھے، اس صورت میں بھی امام صاحب فرماتے ہیں عقد صحیح ہو جائے گا۔ بھئی کیوں؟ اب تو ایک تو کہہ رہا ہے کیا کر رہا ہے؟ کہ ہم مذاق کر رہے تھے، تو یہ تو مغير ہے، مغير اور دوسرا کیا کہہ رہا ہے؟ صحیح، تو کہتے ہیں بھئی یہاں پر دونوں ایک مغير لا رہا ہے اور دوسرے بنیاد رکھ رہا ہے اصل پر، عقد میں بھی اصل ہے کیا ہونا چاہیے؟ صحیح۔ تو ایک دلیل بنا رہا ہے اصل کو اور ایک مغير کو، تو اصل اولی ہے، اس کو ترجیح ہوگی، لہذا عقد منعقد ہو گیا، دونوں کے درمیان بیع ہو گئی، مشتری مبیع کا مالک بن گیا۔ صورت سمجھ میں اگئی، لہذا اگر اس نے بیع غلام آزاد کیا تو غلام بھی کیا ہو گیا؟ آزاد ہو گیا بھئی۔ جبکہ صاحبين فرماتے ہیں کہ بیع فاسد، دونوں خالص ذہن ہوں یا دونوں میں اختلاف ہو۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر وہ جو پہلے دونوں نے اتفاق کیا تھا کہ ہم مذاق کریں گے، تو وہ اتفاق اصل ہے۔ امام صاحب نے تو ابدلا اصل بنایا کہ عقد میں اصل عقد میں اصل کیا ہے؟ صحیح ہونا۔ انہوں نے اصل کس چیز کو بنایا صاحبين نے؟ اس مذاق کو۔ تو جب دونوں خالص ذہن ہیں، اصل میں تو کیا تھا دونوں نے اتفاق کیا ہوا تھا، لہذا عقد کیا ہو جائے گا؟ فاسد ہو جائے گا۔ اور دوسری صورت جب ایک کیا کر رہا ہے؟ ایک کہہ رہا ہے ہم سنجیدہ تھے، دوسرا کیا کہہ رہا ہے؟ ہم مذاق کر رہے ہیں، تو جو کہہ رہے ہیں نا ہم مذاق کر رہے تھے، اس کی بنیاد ہے اصل پر۔ صاحبين کے نزدیک اصل کیا ہے؟ وہ جو آپس میں اتفاق کیا تھا، مذاق کے بارے میں تو صاحبين کے نزدیک اصل وہ اتفاق ہے، اور امام صاحب کے نزدیک اصل کیا ہے عقد کے اندر؟ صحیح ہونا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے، تو فالعقد صحيح عند ابی حنیفہ رحمہ خلافا لهما، تو عقد صحیح ہے امام صاحب کے نزدیک بخلاف صاحبين کے، فجعل ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی رحمۃ واسعۃ صحت الإيجاب اولی تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے قرار دیا ایجاب کے صحیح ہونے کو اولی۔ امام صاحب نے صحت ایجاب کو اولی قرار دیا، ایجاب وہی بھئی وہ جو ایجاب و قبول کرتے ہیں بیع کے اندر، تو ایجاب بول کر عقد مراد ہے، کیا مراد ہے؟ عقد مراد ہے، تو امام صاحب نے عقد کے صحیح ہونے کو اولی قرار دیا کہ عقد صحیح ہوگا۔ لان صحت هي الاصل فی العقود، اس لیے کیونکہ صحیح ہونا یہی اصل ہے عقود عقدوں میں، فیحمل علیہ ما لم يوجد مغير، پس اسی صحت پر ہی محمول کیا جائے گا، جب تک کوئی مغير نہ پایا جائے بدلنے والا جو بدل دے کس کی طرف؟ فساد کی طرف، وهو فيما إذا اتفق علی انهما كانا خالی الذھن، اور یہ جو عدم مغير ہے یہ اس صورت میں ہے، مغير کا نہ ہونا یہ اس صورت میں ہے جس وقت دونوں نے اتفاق کیا اس بات پر کہ دونوں خالی الذہن۔ جب دونوں خالی الذہن ہیں تو مغير ہے یا عدم مغير ہے یہاں پر بھئی؟ عدم مغير، یہاں پر مغير نہیں ہے، لہذا عقد صحیح ہو جائے گا، واما اذا اختلاف اور باقی جس وقت دونوں نے کیا کیا؟ اختلاف کیا۔ فمدع الاعراض، متماسک بالأصل، تو وہ جو اعراض کا دعویٰ کر رہا ہے۔ اعراض کا دعویٰ کرنے والا کیا معنی؟ مذاق کا، مذاق کا دعویٰ کر رہا ہے یا سنجیدگی کا؟ شاباش۔ تو وہ جو اعراض کا مدعی ہے، یہ جو سنجیدگی کی بات کر رہا ہے، وہ متماسک بالأصل، وہ استدلال کر رہا ہے کس چیز کو؟ اس نے دلیل بنایا اصل کو، اس کو فهو اولی، وہ کیا ہے؟ اولی۔ وہما اعتبار المواعدۃ المتقدمۃ، اور صاحبين نے اعتبار کیا اس گزشتہ اتفاق کا۔ وہ کہتے ہیں اصل کیا ہے؟ وہ گزشتہ اتفاق ہے۔ لان البناء علیھا، اس لیے کیونکہ اس بیع کی بنیاد اسی پر ہے، هو الظاہر، اس لیے، جی، لان البناء علیھا هو الظاہر، اس لیے کیونکہ اسی اتفاق پر بناء کا ہونا ہی ظاہر ہے۔ ترجمے پر نظر ہے؟ لان البناء علیھا هو الظاہر، اس لیے کیونکہ بناء ہونا اس اتفاق پر، یہی اصل ہے، یہی ظاہر ہے، یہی ظاہر ہے۔ وفی صورۃ عدم حضور شيء، پس کسی چیز کے حاضر نہ ہونے کی صورت میں، یعنی جب ذہن میں کوئی چیز حاضر نہیں، تكون المواعدۃ هو الاصل، تو وہ اتفاق کیا ہوگا؟ اصل ہوگا۔ وفی صورۃ الاختلاف، اور اختلاف کی صورت میں یرجح قول من بناء علی المواعدۃ، ترجیح دی جائے گی، اس شخص کے قول کو بنا علی المواعدۃ جس نے بنیاد کس پر رکھی؟ اس مواعدات پر جس نے بنیاد رکھی، کس پر رکھی؟ مواعدات پر، کیا معنی؟ جس نے کہا ہم مذاق کر رہے تھے، اس کو، کیونکہ اصل کیا ہے یہاں پر؟ وہ مذاق اصل ہے، تو جس نے اس اصل پر بنیاد رکھی اس کا قول ترجیح پا جائے گا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی، تو یہ معنی ہے وفی صورۃ الاختلاف يرجح، يرجح پڑھ لیں ترجیح پا جائے گا، یا يرجح پڑھ لیں ترجیح راجح ہو جائے گا قول من بناء علی المواعدۃ اس شخص کا قول جس نے بنیاد کس پر رکھی، مواعدات، فہذہ اربعۃ اقسام للمواعدۃ باصل البیع، فہذہ اربعۃ اقسام للمواعدۃ، تو یہ چار قسمیں ہیں مواعدات کی بھئی، چاروں بیان ہو گئیں باصل البیع، مواعدہ کیا کس چیز پر؟ اصل بیع، تو یہ اصل بیع میں مواعدات کی چار قسمیں تھیں، ترجمہ سمجھ میں آیا؟ فہذہ اربعۃ اقسام للمواعدۃ باصل البیع، تو یہ اصل بیع میں مواعدات کی چار قسمیں ہیں۔ وان کان ذالک فی القدر، اور اگر یہ مذاق جو ہے، ذالک، ذالک کی ذی اشارہ کس کی طرف ہے؟ ہزل کی طرف، اور اگر وہ مذاق جو ہے فی القدر، کس کے اندر ہو؟ ثمن کی مقدار میں ہو، بإن يقول بایع طور کے دونوں یوں کہتے ہیں کہ ان البیع بيننا وبينك تام کہ میرے اور ہمارے اور تمہارے درمیان بیع کیا ہوگی؟ تام ہوگی۔ ولکن نواضع فی القدر، لیکن ہم اتفاق کرتے ہیں مقدار میں۔ ونظہر بحضور الخلق، اور ہم ظاہر کریں گے لوگوں کی موجودگی میں، کہ ان الثمن الفانی، کہ ثمن کتنے ہیں؟ 2000 ہیں۔ وفی الواقع يكون الثمن الفا، اور واقع میں ثمن کتنے ہوں گے؟ 1000، یہ دونوں خفیہ طور پر طے کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں فہذہ ایضا اربعۃ اقسام تو یہ بھی چار قسم پر ہے، ف ان اتفق علی الاعراض، پس اگر دونوں نے اتفاق کیا کس پر؟ اعراض پر، (یعنی سنجیدگی پر)، كان الثمن الفين، تو ثمن کتنے ہوں گے؟ دو ہزار۔ بھئی پہلے طے کیا تھا ثمن ہوں گے 1000، لیکن ہم عقد لوگوں کے سامنے کتنے پر کریں گے؟ 2000، تو جب اس مذاق سے دونوں نے اعراض کر لیا تو لوگوں کے سامنے کتنے ذکر کیے؟ 2000، تو بیع بھی کتنے میں ہو گئی؟ 2000 میں ہی ہو گئی۔ لانھما لما اعرض عن المواعدۃ اسی کیونکہ جب دونوں نے اعراض کیا اس اتفاق سے، والھزل، اس اتفاق اور اس مذاق سے، يكون الاعتبار بالتسمية تو اعتبار کس چیز کا ہے؟ تسمیہ کا ہے، وہ جو ذکر کیا انہوں نے اسی کا اعتبار ہے جو لوگوں کے سامنے ذکر کیا، وھذا القسم لظهورہ لم یذكر فی بعض النسخ، اور یہ قسم جو ہے، ظاہر ہونے کی وجہ سے اس کو ذکر نہیں کیا گیا بعض نسخوں میں، متن کے بعد نسخوں میں یہ عبارت نہیں ہے کیونکہ کہتے ہیں یہ صورت بڑی ظاہر تھی۔ وان اتفق علی انه لم يحضرھما شيء، اور اگر دونوں نے اتفاق کیا اس بات پر کہ کوئی چیز حاضر نہیں تھی، (یعنی ان کے ذہن میں کوئی چیز حاضر نہیں تھی، نہ مذاق تھا اور نہ سنجیدگی)، او اختلفا یا دونوں نے کیا کیا؟ اختلاف کیا۔ فالھزل باطل تو یاد رکھیے مذاق باطل ہے، والتسميۃ صحيحۃ، اور وہ تسمیہ (یعنی ذکر کرنا جو ذکر کیے پیسے)، وہ صحیح ہے عندہ، کس کے نزدیک؟ امام صاحب کے نزدیک۔ و عندھما العمل بالمواعدۃ واجب، اور صاحبين کے نزدیک عمل بالمواعدۃ کیا ہے؟ واجب ہے۔ تو امام صاحب کے نزدیک کتنے ثمن آئیں گے؟ 2000، صاحبين کے نزدیک کتنے آئیں گے؟ 1000۔ تو کہتے ہیں والالف الذي هزلا به باطل، اور وہ ہزار الذي هزلا به، وہ ایک ہزار جس کے ساتھ دونوں نے مذاق کیا، باطل، وہ کیا ہیں؟ باطل۔ صاحبين کے نزدیک ثمن 1000 آئیں گے اور وہ جو 1000 ہے جس کے ساتھ مذاق کیا ہے وہ باطل ہیں بھئی، کیونکہ انہوں نے کہا تو 2000 نا، تو یہ اس میں سے 1000 باطل ہیں۔ فیکون الثمن عندہ الفين، تو ثمن جو ہیں امام صاحب کے نزدیک 2000 ہوں گے، وعندھما الف، اور صاحبين کے نزدیک 1000، بناء علی ما تقدم من اصلہ و اصلھما، بناء کرتے ہوئے اس کے جو پہلے گزرا من اصلہ، امام صاحب کی اصل اور صاحبين کی اصل۔ ہر ایک نے اپنی اصل پر بناء کی۔ امام صاحب کے نزدیک اصل کیا ہے؟ عقد کو صحیح رکھا جائے، عقد کو صحیح ہونا چاہیے۔ صاحبين کے نزدیک اصل کیا ہے؟ مواعدات اصل ہے۔ تو امام صاحب اپنی اصل پر چلے اور وہ اپنی اصل پر چلے اور اس کے مطابق یہ صورت بن گئی۔ وان اتفق علی البناء علی المواعدۃ، اور اگر دونوں نے اتفاق کیا علی البناء علی المواعدۃ، کس چیز پر اتفاق کیا؟ بناء علی المواعدت پر، اس وہ جو اتفاق کیا تھا اس پر ہم بناء کر رہے ہیں، یعنی کیا کر رہے ہیں؟ مذاق، بعد میں بھی دونوں کہتے ہیں عقد کے بعد ہم مذاق کر رہے تھے۔ فالثمن الفان عندہ، تو یہاں پر ثمن 2000 آئیں گے امام صاحب کے نزدیک۔ پہلے تو کیا ذکر تھا؟ اصل بیع کے اندر جب کہا تھا نا کہ ہم دونوں مذاق کر رہے ہیں۔ تو بیع ہی فاسد تھی۔ اور یہاں امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ بیع صحیح ہو جائے گی اور ثمن 2000 آئیں گے۔ بیع کیوں صحیح ہوگی؟ کیونکہ بیع تو کر ہی صحیح رہے ہیں، بیع کے بارے میں تو انہوں نے کہا ہے ہم بیع میں مذاق نہیں کر رہے، صرف کس میں مذاق کر رہے ہیں؟ ثمن میں۔ ثمن آنے تو چاہیے تھے 1000، لیکن ائے 2000 ہی آئیں گے امام صاحب فرماتے ہیں، کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ وجہ سمجھ لو۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ بیع کے اندر جب کسی ایسی چیز کی مبیع کے ساتھ جب غیر مبیع کی شرط لگا دی جائے بیع کے اندر قبول کرنے کے لیے۔ بیع کے اندر، بیع بیع کے اندر قبول کرنے میں مبیع کے ساتھ غیر مبیع کی بھی قبول کرنے کی شرط لگا دی جائے تو بیع فاسد ہو جاتی ہے، کیا ہو جاتی ہے؟ فاسد۔ اور یہ ذکر کتنا کر رہے ہیں؟ عقد تو صحیح ہے، عقد میں کوئی مذاق کر رہے ہیں یہ؟ مذاق صرف کس میں کر رہے ہیں؟ ثمن، اور ثمن ذکر کتنے کیے؟ کیے 2000 ذکر اور چاہتے کتنا تھا؟ چاہتے 1000 تھے، تو گویا 1000 تو اس میں سے ثمن ہو گئے، یہ جو 2000 ذکر کیے ہیں اکٹھے، اس میں سے 1000 تو کیا ہو گئے؟ اور ثمن کے ساتھ اس 1000 کو بھی قبول کرنا پڑے گا ساتھ یا نہیں کرنا پڑے گا؟ ایجاب ایک کو تو اسی طرح قبول کرنا پڑتا ہے، دوسرے کو قبول کرنا پڑے گا، تو یہ 1000 تو ہیں ثمن اور یہ 1000 غیر، نہ ثمن ہے، نہ مبیع تو ثمن کے ساتھ غیر ثمن کو قبول کرنے کی شرط لگا دی گئی۔ ثمن کے ساتھ غیر ثمن، جیسے وہ بنتا تھا، مبیع کے ساتھ غیر مبیع کو قبول کرنے کی شرط تو یہاں بھی وہی صورت بن گئی کہ 2000 اس نے قبول تو اکٹھا ہی کرنا ہے، تو گویا ایک غیر ثمن چیز کو کیا کرنا پڑ رہا ہے؟ قبول کرنا پڑ رہا ہے، صورت سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں فالثمن الفان عنده، تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ ضروری ہوا کہ ثمن 2000 ہی ہوں، 1000 کو ثمن نہیں بنا سکتے، 1000 کو ثمن بناؤ گے تو بیع فاسد ہو جائے گی، لہذا مجبورا کیا کرنا پڑے گا؟ دو کے 2000 جو ذکر کیے سارے کو ثمن قرار دینا پڑے گا تاکہ بیع صحیح رہے، عقد صحیح رہے، کیونکہ عقد کے صحیح رکھنے پر تو دونوں کا اتفاق ہے کہ عقد ہے، مذاق صرف کس میں کر رہے ہیں؟ ثمن میں، تو عقد کو تو صحیح رکھنا ہے، اور عقد کو صحیح رکھنے کی پھر ایک ہی صورت ہے کہ کیا کیا جائے؟ جتنا ذکر کر رہے ہیں سارے کو ثمن قرار دیا جائے، اس میں سے 1000 ثمن ہیں، 1000 ثمن نہیں۔ ایسا نہیں کر سکتے۔ فالابدا ان يكون الثمن الفين، تو ضروری ہو کہ ثمن 2000 ہوں صحت العقد تاکہ عقد صحیح ہو جائے۔ وعندھما الثمن الفن، صاحبين کے نزدیک ثمن جو ہیں وہ 1000 ہیں۔ ثمن 1000 ہیں، وہ 1000 بیچ سے اس نے ذکر کیا۔ کہتے ہیں لان غرضه من ذکر الالف ھزلا، اسی کیونکہ اس نے جو مذاق کے طور پر 1000 ذکر کیا، اس کا مقصد یہ ہے، وہ المقابلة بالمبيع، وہ صرف کیا کر رہا ہے؟ مبیع کے مقابلے میں لا رہا ہے، اس کو اس نے مبیع کا صرف مقابلہ کر رہا ہے، فكان ذكره وسکوت عنه سواء، لہذا اس ایک ہزار کو ذکر کرنا وہ جو زائد ہے، اور اس سے خاموشی کرنا، سوا، وہ کیا ہیں؟ برابر ہیں۔ مبیع کا مقابلہ تو آ گیا بھئی، وہ تو، تو کما فی النکاح، جیسے کس کے اندر ہوتا ہے؟ نکاح کے اندر بھئی، جیسے نکاح میں آگے آئے گا کہ وہاں پر جو طے کیا مہر ہمارے درمیان 1000 ہوگا، لیکن لوگوں کے سامنے کتنا ذکر کریں گے؟ 2000 ذکر کریں گے۔
کریں گے، تو وہاں پر آپ کو بتلائیں گے کہ مہر ایک ہزار، بعد میں بھی جب دونوں اتفاق کرتے ہیں تو مہر کتنا ہو گا؟ ایک ہزار ہی ہو گا۔ تو صاحبین فرماتے ہیں: یہاں بھی اسی طرح ہے۔ یہاں بھی اسی طرح ہے۔
کہتے ہیں: "وهو رواية عن أبي حنيفة رحمه الله" اور یہی ایک روایت ہے امام صاحب سے بھی بھئی۔ امام صاحب کا ایک تو متن میں آ گیا کہ ان کے نزدیک دو ہزار ثمن ہوں گے، صاحبین کے نزدیک ایک ہزار ثمن ہوں گے۔ امام صاحب سے بھی ایک یہی روایت ہے کہ ثمن کتنے ہو جائیں گے؟ ایک ہزار ہی ہوں گے۔ صورت بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں بھئی؟
"وإن كان ذلك في الجنس" اور اگر وہ مذاق جو تھا، ہزل جو تھا "في الجنس" کس کے اندر ہوا؟ جنس کے اندر۔ کس کے اندر؟ جنس میں۔ یعنی ہم لوگوں کے سامنے درہم ذکر کریں گے، لیکن ہمارے اور تمہارے درمیان بیع کس کے اندر ہے؟ دیناروں میں۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: "وإن كان ذلك في الجنس" اور اگر وہ مذاق ثمن کی جنس میں ہوا "بأن يواضعا" بعینہٖ اس صورت کہ دونوں نے اتفاق کر لیا "على أن نعقد بحضور الخلق" کہ ہم کیا کریں گے؟ "أن نعقد بحضور الخلق" ہم عقد کریں گے لوگوں کی موجودگی میں "على مائة دينار" سو دینار پر "والعقد بيننا وبينكم على مائة درهم" اور ہمارے اور تمہارے درمیان عقد کتنے پر ہے؟ سو درہم پر ہے۔ "فالبيع جائز على كل حال" تو بیع جائز ہے ہر حال میں۔ بیع جائز ہے ہر حال میں۔ یاد رکھیے! اس صورت میں مذاق کا کوئی اعتبار نہیں، جو لوگوں کے سامنے ذکر کریں گے عقد اسی پر منعقد ہو گا۔ عقد کیا ہو گا؟ چاہے بعد میں اتفاق کریں سنجیدگی کے بارے میں، چاہے مذاق کے بارے میں، چاہے خالی ذہن ہوں، چاہے ایک مذاق کا کہے اور ایک سنجیدگی کا کہے۔ چاروں صورتوں میں جو کہہ رہے ہیں لوگوں کے سامنے عقد اسی پر منعقد ہو گا۔
یہ معنی ہے "فالبيع جائز على كل حال" تو بیع جائز ہے ہر حال میں "من الأحوال الأربعة" چار احوال میں سے "سواء اتفقا على الإعراض" برابر ہے کہ وہ دونوں اتفاق کریں اعراض پر، اعراض یعنی کس پر؟ سنجیدگی پر "أو على البناء" یا کس پر؟ بناء یعنی مذاق پر "أو على أنه لم يحضرهما شيء" یا اس بات پر کہ دونوں کے ذہن میں کوئی چیز حاضر نہیں تھی "أو اختلفا في البناء والإعراض استحساناً" یا دونوں اختلاف کریں بناء اور اعراض کے اندر استحساناً، تو یہ بیع جائز ہے استحساناً بھئی۔
"لأن البيع لا يصح بلا تسمية البدل" اسی کیونکہ بیع صحیح نہیں ہے بدل کی ذکر کیے بغیر۔ بھئی یاد رکھیے! آپ جانتے ہیں بھئی، بیع بغیر ذکرِ ثمن کے ہو سکتی ہے؟ جی؟ بیع بغیر ذکرِ ثمن کے ہو ہی نہیں سکتی، لہذا وہ بیعِ فاسد ہو جائے گی۔ تو یہاں پر بھی اگر یہ کہا جائے وہ پیچھے طے کس چیز کو کیا؟ دیناروں کو، یا جو بھی بنا لیں۔ طے کیا تھا بیع ہے دراصل دیناروں میں اور لوگوں کے سامنے ہم کیا ذکر کریں گے؟ درہم ذکر کریں گے۔ ہے اصل میں دیناروں میں، لوگوں کے سامنے درہم ذکر کریں گے۔ تو اصل میں کس چیز پر بیع ہے؟ دیناروں پر۔ اور عقد کے وقت انہوں نے دینار ذکر کیے؟ دینار تو سرے سے ذکر ہی نہیں کیے، جب دینار ذکر نہیں کیے تو مبیع بغیر ثمن کے ذکر ہو گیا بھئی۔ پچھلی صورت میں تو صرف مقدار میں کمی بیشی تھی، وہ چیز تو وہی تھی، درہم تو وہی ذکر تھے بھئی، اس فرق سمجھ میں آیا بھئی؟
کہتے ہیں: "لأن البيع" یہ اس وجہ سے کیونکہ بیع جو ہے "لا يصح بلا تسمية البدل" بدل کے ذکر کیے بغیر صحیح نہیں "وهما جدا في أصل العقد" اور دونوں نے سنجیدگی کی ہے اصلِ عقد میں۔ بھئی دونوں نے کیا مذاق کس کے بارے میں کر رہے ہیں؟ جنس میں، ثمن کی جنس میں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا، تو اگر جنس میں اتفاق ہو، جنس میں اگر مذاق ہو تو اصلِ بیع کے اندر، اصلِ بیع دونوں کر رہے ہیں یا نہیں؟ اصلِ بیع میں تو مذاق نہیں، بیع ہے۔ صرف مذاق کس چیز میں ہے؟ جنس میں مذاق کر رہے ہیں۔ تو اصلِ عقد تو ہونا چاہیے بھئی، کیونکہ اس میں سنجیدہ ہیں۔ اور اس کے صحیح کرنے کی یہی صورت ہے، وہ جو مذاق میں ذکر کیا تھا اس کو ہم یہاں مان نہیں سکتے کیونکہ ذکر ہی نہیں۔ لہذا عقد کے صحیح کرنے کی ایک ہی صورت ہے کہ جو ذکر کر رہے ہیں وہی ثمن مقرر ہو گیا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: "وهما جدا في أصل العقد" اور دونوں نے سنجیدگی کی ہے اصلِ عقد میں "فلا بد من تصحيحه" لہذا ضروری ہے اس عقد کی تصحیح "وذلك بالانعقاد بما سميا" اور وہ کس صورت میں ہو گی وہ تصحیح؟ کہ وہ جو ذکر کیا اسی پر بیع کا انعقاد ہو۔ "وهذا بالاتفاق بين أبي حنيفة وصاحبيه" اور یہ بالاتفاق ہے امام صاحب اور صاحبین کے درمیان۔ "وجه الفرق لهما" صاحبین کے نزدیک فرق کی وجہ یہ ہے، "وجه الفرق لهما" صاحبین کے نزدیک فرق کی وجہ یہ ہے "بين المواضعة في القدر والمواضعة في الجنس" مواضعت فی القدر اور مواضعت فی الجنس کے اندر فرق کی وجہ صاحبین کے نزدیک یہ ہے۔ بھئی دیکھیے! اوپر مقدار کے اندر جہاں انہوں نے مذاق کیا تھا، کس میں؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ مقدار میں انہوں نے مذاق کیا تھا اور دونوں نے عقد کے بعد بھی اتفاق کیا کہ ہم مذاق کر رہے تھے۔ ذکر ہم نے دو ہزار کیے ہیں، لیکن ہمارے درمیان طے کتنے تھے؟ ایک ہزار۔ امام صاحب فرماتے تھے دو ہزار ہی آئیں گے۔ صاحبین فرماتے تھے ایک ہزار آئیں گے۔ یہاں پر مواضعت ہے جنس کے اندر، یہاں پر بھی جو ذکر کریں گے وہی آ جائیں گے۔ تو امام صاحب کے تو پہلے بھی وہی بات تھی، قدر میں بھی جو ذکر تھا وہی آتا تھا، جنس میں جو ذکر ہے وہی آئے گا۔ صاحبین کے نزدیک وہاں وہ جو طے تھا پہلے سے وہ مذاق والے وہ آ جاتے تھے، جو ذکر ہوتا تھا وہ نہیں، لیکن یہاں پر صاحبین بھی فرماتے ہیں جو ذکر ہے وہی آئے گا بھئی جنس کے اندر بھئی۔ وجہ کیا ہے؟ فرق کی ان دونوں میں؟ تو وہ وجہ ذکر کر رہے ہیں، امام صاحب کے لیے تو فرق کی وجہ کی ضرورت نہیں تھی، انہوں نے تو فرق کیا ہی نہیں، صاحبین نے فرق کیا، وہ وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: "وجه الفرق لهما" صاحبین کے نزدیک فرق کی وجہ جو ہے "بين المواضعة في القدر والمواضعة في الجنس" مواضعت فی القدر اور مواضعت فی الجنس میں فرق کی وجہ صاحبین کے نزدیک یہ ہے "حيث اعتبر البيع في الأول منعقداً بألف" اس حیثیت سے کہ اعتبار کیا گیا بیع میں، بیع کا اعتبار کیا گیا پہلی صورت میں کہ وہ منعقد ہوئی ہے ایک ہزار پر، یعنی وہ فی القدر میں، مواضعت فی القدر میں انہوں نے صاحبین نے جو ذکر کیا تھا ایک ہزار پر، ابھی پہلی صورتیں ذکر کر رہے ہیں "وفي الثاني بما سميا" اور دوسری صورت یعنی مواضعت فی الجنس میں اعتبار کیا گیا بیع کا کہ وہ منعقد ہوئی ہے بما سمیا، جو دونوں نے ذکر کیا ہے۔ اس کی وجہ، فرق کی وجہ یہ ہے "أن العمل" یہاں سے اب خبر آ گئی بھئی "أن العمل بالمواضعة مع الجد في أصل العقد ممکن في الأول" اس لیے کیونکہ عمل کرنا بالمواضعة کس پر؟ مواضعت یعنی وہ جو اتفاق کیا تھا، یعنی مذاق، یعنی کہ یعنی مذاق پر عمل کرنا "مع الجد في أصل العقد" ساتھ سنجیدگی کے اصلِ عقد میں۔
بھئی یہاں کون سی صورتیں ذکر ہو رہی ہیں؟ قدر اور جنس۔ قدر اور جنس میں مذاق والی صورتیں ہیں، اصلِ بیع میں دونوں مذاق نہیں کر رہے، اصلِ بیع تو کر رہے ہیں دونوں، صرف مذاق کس میں کر رہے ہیں؟ یا قدر میں یا جنس میں۔ تو اوپر والی صورت جو قدر والی ہے وہاں بھی عمل مواضعت پر کرنا ممکن ہے "مع الجد في أصل العقد" ساتھ سنجیدگی کے کس کے اندر؟ اصلِ عقد میں تو دونوں سنجیدہ تھے اوپر قدر والی صورت میں، اور مذاق کس میں کر رہے تھے؟ صرف قدر میں، صرف قدر میں۔ تو اس پر عمل ممکن تھا، اصلِ عقد رہے، اصلِ عقد بھی رہا اور قدر کے اندر جو مذاق تھا وہ بھی آ گیا۔ تو اصلِ عقد کو برقرار رکھتے ہوئے اس کو صحیح رکھتے ہوئے بھی اس پر مواضعت پر عمل ممکن تھا "إذ يبقى من المسمى ما يصلح ثمناً" اس لیے کیونکہ وہ جو ذکر کیا گیا مسمیٰ تھا، وہ باقی رہتا تھا، اس میں سے اتنی مقدار جو صلاحیت رکھتی تھی ثمن بننے کی "وهو الألف" اور وہ ایک ہزار۔ اور وہ کتنے ہیں؟ ایک ہزار۔
توجہ ہے سبق کی طرف کہ نہیں ہے؟
صورت وہ ذکر کر رہے ہیں کہ جب دونوں نے مذاق کس کے بارے میں طے کیا صرف؟ صرف مقدار میں۔ اور اصلِ بیع میں کوئی مذاق کر رہے ہیں؟ نہیں، اصلِ بیع میں سنجیدہ۔ تو وہاں پر اصلِ بیع کو برقرار رکھا جائے، اس میں سنجیدگی اور ساتھ ساتھ مقدار میں مذاق پر بھی عمل ہو جائے یہ ممکن ہے۔ کیوں؟ کس طرح؟ کہ وہاں انہوں نے ذکر کتنے کیے تھے ثمن؟ دو ہزار، اور طے کتنے کیے تھے؟ ایک۔ تو دو ہزار ذکر کیے، دو ہزار میں سے اگر ایک ہزار پر عمل نہ بھی ہوا لیکن ایک ہزار تو اسی میں سے باقی ہیں اور وہی ثمن بن گئے، تو اسی مسمیٰ میں سے کچھ بدل بن گیا، اسی مسمیٰ جو لوگوں کے سامنے ذکر کر رہے ہیں اسی میں سے کیا بن گیا؟ بدل بھی آ گیا اسی میں سے، تو وہاں پر اسی مسمیٰ ہی پر عمل ہوا۔ اسی مسمیٰ ہی پر عمل ہوا۔ جبکہ یہاں پر جبکہ یہاں پر جہاں جنس ہے، یہاں تو مسمیٰ دراہم ہیں اور طے کیا ہوئے تھے؟ دینار، تو یہاں اگر دیناروں کو مان لیں تو مسمیٰ پہ سرے سے عمل ہی نہیں رہے گا۔ جو ذکر کر رہے ہیں اس پر تو سرے سے حالانکہ اس پر تو عمل ضروری ہے بھئی، لہذا اس وجہ سے وہ فرماتے ہیں کہ جنس کی صورت میں جو ذکر کیا وہ سارا آ جائے گا اور مقدار کی صورت میں جو طے کیا تھا وہ آ جائیں گے۔
کہتے ہیں: "إذ يبقى من المسمى ما يصلح ثمناً" اس لیے کیونکہ باقی رہے گا مسمیٰ میں سے وہ جو صلاحیت رکھتا ہے ثمن بننے کی "وهو الألف" اور وہ ایک ہزار ہے۔ ایک ہزار اسی مسمیٰ میں سے باقی رہ جائے گا "واشتراط قبول الألف الآخر" اور وہ جو دوسرے ہزار کو قبول کرنے کی شرط لگائی گئی تھی بظاہر لوگوں کے سامنے "وإن كان شرطاً" وہ اگرچہ شرط تھی "لكن لا مطالب له من جهة العبد" لیکن بندے کی طرف سے اس کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہیں۔ جب دونوں آپس میں کیا کر رہے ہیں اتفاق؟ کہ لوگوں کے سامنے ہم نے دو ہزار ذکر کیے ہیں، لیکن ہمارا طے کتنا تھا؟ ایک ہزار۔ اب ایک ہزار تو اسی مسمیٰ میں سے آ گیا اور ایک ہزار وہ اگرچہ شرط کے طور پر ذکر ہیں لیکن صاحبین کے نزدیک وہ لغو ہو گئے، کیوں؟ کیونکہ اس ایک ہزار کا مطالبہ کرنے والا کوئی نہیں، مشتری ابھی بھی کہہ رہا ہے کہ ہم نے یہ جو ایک ہزار ذکر کیے بطور کس کے کیے تھے؟ مذاق کے، تو وہ اس کا مطالبہ کرنے والا ہی نہیں، لہذا یہ شرط بھی کس کی طرح ہوئی؟ لا شرط کی طرح۔ یہ معنی ہے کہتے ہیں: "وإن كان شرطاً لكن لا مطالب له من جهة العبد" اگرچہ یہ شرط ہے لیکن کوئی اس کا مطالبہ کرنے والا نہیں ہے بندے کی طرف سے "فلا يفسد البيع" لہذا یہ بیع فاسد نہیں ہو گی۔ کون سی صورت ذکر ہو رہی ہے؟ وہ قدر والی، اس میں ایک ہزار ثمن آ جائیں گے، ایک ہزار لغو ہو جائیں گے اور بیع صحیح ہو جائے گی۔
"وبخلاف الثاني" کہتے ہیں: برخلاف ثانی کے، کون سی صورت؟ جب جنس میں ہو "إذ لو اعتبرت المواضعة فيه" اس لیے کیونکہ اگر اس کے اندر مواضعت کا اعتبار کیا جائے "بعدم المسمى" کہ مسمیٰ کو معدوم کر دیا جائے۔ ذکر کیا کر رہا ہے لوگوں کے سامنے؟ درہم، اور طے کیا کیے تھے؟ اگر یہاں دیناروں کو مان لیا جائے اور مسمیٰ کو سرے سے باطل کر دیا جائے تو عقد ہی دیناروں میں، عقد میں تو دیناروں کا ذکر ہی نہیں تھا، تو مبیع بغیر ثمن کے رہ جائے گا۔ مبیع بغیر ثمن کے رہ جائے گا اور مبیع تو بغیر ثمن کے صحیح نہیں، لہذا جو مسمیٰ ہے اسی کو ماننا پڑے گا تاکہ عقد صحیح رہے ورنہ عقد فاسد ہو جائے گا۔
"إذ لو اعتبرت المواضعة فيه" اس لیے کیونکہ دوسری صورت میں اگر مواضعت کا اعتبار کیا جائے "بعدم المسمى" عدمِ مسمیٰ کے ساتھ "فيوجب خلو العقد عن الثمن في البيع" اور واجب کیا جائے عقد کے خالی ہونے کو ثمن سے بیع کے اندر "وهو يفسد البيع" اور وہ تو بیع کو وہ بیع کو فاسد کر لے گا "فلذا وجبت التسمية" فلہٰذا واجب ہو گی تسمیہ، یعنی جو ذکر کیا ہو وہی واجب ہو گا "ولم يعتبر العمل بالمواضعة" اور مواضعت پر عمل کا اعتبار نہیں ہو گا۔
"وإن كان في الذي لا مال فيه" یہ تو بیع کی بات چل رہی تھی جس کے اندر مال ہے بھئی، بیع کے اندر کیا ہے؟ وہ عقد جس کے اندر مال تھا اور مقصود بھی تھا، کیا تھا؟ بیع میں مال مقصود بھی ہوتا ہے۔ اب وہ عقد ذکر کر رہے ہیں جس میں مال ہو ہی نہ، وہ عقد بطورِ مذاق کے کریں۔ وہ عقد، مثلاً طلاق ہے، آزاد کرنا ہے عتاق آزادی ہے، اس قسم کا عقد وہ کیا کریں بطورِ مذاق کے؟ پہلے سے کچھ اور طے کر لیں اور پھر لوگوں کے سامنے اس کو ذکر کریں، اب اس کی کیا صورت ہو گی بتلا رہے ہیں۔ کہتے ہیں: "وإن كان" "وإن كان في الذي لا مال فيه" اور اگر مذاق کیا اس عقد کے اندر جس میں مال نہیں ہوتا "كالطلاق والعتاق واليمين" جیسے کہ طلاق ہے، جیسے بیوی سے کہتا ہے: میں لوگوں کے سامنے طلاق دوں گا، لیکن ہو گی نہیں، یا عتاق، غلام کو کہتا ہے: میں لوگوں کے سامنے آزاد کروں گا، لیکن تو آزاد نہیں ہو گے، یا یمین، یمین سے مراد یہ قسم کھانا نہیں ہے، وہ تعلیق ہے تعلیق بھئی، تعلیق بھی کس کی طرح ہے؟ یمین کی طرح، آپ پڑھ چکے بھئی، کیونکہ جیسے یمین کسی کو کسی چیز سے روکنے کے لیے ہوتی ہے قسم، اسی طرح تعلیق بھی کسی چیز سے روکنے کے لیے بھئی، روکنے یا کرنے کے لیے۔ تو مثلاً بیوی سے کہتا ہے: میں لوگوں کے سامنے کہوں گا اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، لیکن یہ تعلیق یاد رکھنا ہو گی نہیں۔ یا غلام کو کہتا ہے: میں لوگوں کے سامنے کہوں گا کہ اگر اس نے یہ کام کیا تو یہ آزاد ہے، لیکن یاد رکھنا یہ تعلیق ہو گی نہیں۔ صورتیں سمجھ میں آ گئیں؟ تو یہ ان صورتیں جن میں مال نہ ہو جیسے طلاق ہے، عتاق ہے اور یمین ہے "فذلك صحيح" تو یہ سب صحیح ہیں "والهزل باطل" اور مذاق باطل ہے "بالحديث" حدیث کی وجہ سے۔ یہ سب اگر طلاق دی، ہو جائے گی، آزاد کیا، آزاد ہو جائے گا، تعلیق کی تو تعلیق ہو جائے گی۔
یہ حدیث کی وجہ سے ہے "وهو قوله عليه الصلاة والسلام" اور حضور علیہ الصلاة والسلام کا یہ قول ہے "ثلاث جدهن جد وهزلهن جد" تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان کی سنجیدگی بھی سنجیدگی ہے اور ان کا مذاق بھی سنجیدگی ہے "النكاح والطلاق واليمين" ایک نکاح ہے، مذاق میں بھی نکاح کیا تو ہو جائے گا "والطلاق" اور طلاق ہے بھئی "واليمين" اور قسم ہے۔ "وفي بعض الروايات" اور بعض روایات کے اندر جو یہ آیا ہے، اس میں تو آیا نہ نکاح، طلاق اور یمین، بعض روایات میں آیا ہے "النكاح والعتاق واليمين" نکاح، عتاق اور یمین ہے، ان میں مذاق بھی سنجیدگی ہے۔
"وصورة المواضعة فيه" اور اس میں مواضعت کی صورت یہ ہے "أن يواضعا" کہ یہ دونوں اتفاق کر لیں عقد کرنے والے "على أن ينكحها" کہ وہ شخص کیا کرے گا اس عورت سے؟ نکاح کرے گا "ويطلقها" اور اور اسے طلاق دے گا "أو يعتقها" یا آزاد کرے گا "بحضور الناس" لوگوں کے موجودگی میں "وليس في الواقع كذلك" اور واقع میں ایسا نہیں ہو گا۔
"والمراد باليمين" اور یمین سے کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں، کہتے ہیں: "التعليق" یمین سے مراد تعلیق "بأن يواضع الرجل مع امرأته أو عبده" بعینہٖ طور کہ اتفاق کر لیتا ہے کوئی شخص اپنی بیوی سے یا اپنے غلام سے "أن يعلق طلاقها أو عتاقه" کہ وہ اس بیوی کی طلاق کو معلق کرے گا یا غلام کی آزادی کو معلق کرے گا "علانية" علانیہ طور پر لوگوں کے سامنے "ولا يكون في الواقع كذلك" اور واقع میں ایسا نہیں ہو گا "وليس المراد به اليمين بالله تعالى" متن میں جو یمین آئی اس سے کیا مراد ہے؟ تعلیق مراد۔
کوئی اور بات ہے، اس سے مراد اللہ کی قسم مراد نہیں ہے، إذ لا يتصور المعاهدة فيها، اسی، کیونکہ جو اللہ کی قسم ہے، اس کے اندر معاهدہ کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔
ففي هذه الصور، پس ان صورتوں کے اندر، في كل حال من الأحوال، ہر حال میں، احوال میں سے ہر حال کے اندر، يلزم العقد، عقد لازم ہو جائے گا، ويبطل الهزل، اور ہزل باطل ہو گا۔
ويلحق بهذه الصور العفو عن القصاص والنذر ونحوه، اور ملحق ہیں اسی صورت کے ساتھ، العفو عن القصاص، قصاص سے معاف کر دینا۔ مذاق میں بھی قصاص معاف کیا تو قصاص کیا ہو جائے گا؟ معاف۔ والنذر، منت، اور مذاق میں بھی منت مانی تو کیا ہو جائے گی؟ منت ہو جائے گی، ونحوه، اور اس جیسی چیزیں۔
وإن كان المال فيه تبعًا، اور اگر مذاق جو ہے اس کے اندر مال تبعًا تھا، ایسا عقد کر رہے ہیں جس میں مال، عقد بیع کے اندر تو مال اصل ہوتا ہے، لیکن بعض عقد ایسے ہیں جن میں مال اصل نہیں، جیسے نکاح۔ نکاح کے اندر مال اصل نہیں ہے بھئی، نکاح کے اندر وہ عورت اصل ہے، کہ انسان اس کو طلب کرتا ہے، تاکہ حلال طریقے سے اپنی شہوت پوری کرے اور اولاد کا سلسلہ قائم ہو، اولاد حاصل کرے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو وہاں بھی مہر آتا ہے، لیکن وہاں پر مال اصل مقصود نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں: وإن كان المال فيه تبعًا، اگرچہ اس کے اندر مال، اگر اس مذاق میں مال تبعًا ہو، كالنكاح، جیسے کہ نکاح ہے۔ فإن المهر فيه ليس بمقصود، اسی کیونکہ اس نکاح کے اندر مہر مقصود نہیں ہوتا، وإنما المقصود ابتغاء البضع، بضع کہتے ہیں فرج المرأة کو بھئی، وإنما المقصود ابتغاء البضع، اور مقصود اس میں جو ہے بضع ہے۔
فإن هزلا بأصله، پس اس میں اگر دونوں نے مذاق کیا کس کے اندر؟ اصل میں۔ کس میں؟ اصل میں۔ کیا معنی اصل میں؟ نکاح کریں گے لیکن نکاح ہوگا نہیں ہمارے درمیان۔ بأن يقول لها، بأن، طور کے وہ شخص اس عورت سے کہتا ہے: إني أنكحك بحضور الخلق، کہ میں تجھ سے نکاح کروں گا لوگوں کی موجودگی میں، وليس بيننا نکاح، اور ہمارے درمیان نکاح نہیں ہوگا۔ فالعقد لازم والهزل باطل، تو عقد لازم ہو جائے گا، یعنی نکاح ہو جائے گا، والهزل باطل، اور مذاق باطل۔
سواء اتفقا على البناء أو الإعراض أو عدم حضور شيء منهما أو اختلفا فيه، برابر ہے کہ دونوں اتفاق کریں علی البناء، کس پر؟ مذاق پر، یعنی، أو الإعراض، یا اتفاق کریں اعراض پر، یعنی کیا کریں؟ سنجیدگی کا، أو عدم حضور شيء منهما، یا ان دونوں میں سے کسی چیز کے بھی حاضر نہ ہونے کا کہیں، أو اختلفا فيه، یا یا اختلاف کریں۔
وإن هزلا في القدر، اور اگر دونوں نے مذاق کیا فی القدر، مقدار میں، یعنی مہر کی مقدار میں، بأن يزوجها علانية بألفين، کہ بأن طور کے نکاح کرتا ہے اس سے علانیہ طور پر لوگوں کے سامنے ایک دو ہزار پر، ويكون المهر فی الواقع ألفًا، اور مہر واقع میں کتنا ہوگا؟ ایک ہزار۔
فإن اتفقا على الإعراض، پس اگر دونوں نے بعد میں اعراض پر اتفاق کر لیا کہ ہم تو کیا تھے؟ سنجیدہ تھے۔ فالمهر ألفان بالاتفاق، تو مہر دو ہزار ہی ہوگا بالاتفاق، لأن لهما ولاية الإعراض عن الهزل، اسی کیونکہ دونوں کو ولایت حاصل ہے کہ وہ مذاق سے کیا کر سکتے ہیں؟ اعراض۔ جب وہ دونوں کہہ رہے ہیں ہم نے ہم سنجیدہ تھے، جو ہم نے ذکر کیا وہی مراد ہے، تو دو ہزار ہی آ جائیں گے۔
وإن اتفقا على البناء، اور اگر دونوں نے اتفاق کیا بنا پر کہ ہم نے بنا کیا اسی مذاق پر، فالمهر ألف بالاتفاق، تو مہر کتنا ہوگا؟ ایک ہزار ہوگا بالاتفاق، لأن ذکر أحد الألفين كان على سبيل الهزل، اسی کیونکہ دو ہزار میں سے ایک کا جو ذکر ہے، دو ہزار جو ذکر کیے ان میں سے ایک ہزار کا ذکر علی سبیل الهزل، وہ کس طریقے پر ہے؟ مذاق کے طریقے پر ہے، والمال لا يثبت مع الهزل، اور مال تو مذاق کے ساتھ ثابت نہیں ہوتا، تو لہذا ایک ہی ہزار ثابت ہوں گے۔
والفرق لأبي حنيفة بينه وبين البيع، اور فرق امام صاحب کا اس نکاح کے درمیان اور بیع کے درمیان، یہاں پر امام صاحب فرماتے ہیں کہ دونوں نے اتفاق کیا مذاق پر تو ایک ہزار مہر آئے گا، اور بیع کے اندر دونوں اتفاق کرتے تھے مذاق پر تو بھی بیع قیمت کتنی آتی تھی ثمن؟ دو ہزار ہی، تو وہاں دو ہزار ہی آتے تھے اور یہاں ایک ہزار، وجہ کیا ہے؟ تو کہتے ہیں فرق کی وجہ امام صاحب کے نزدیک اس نکاح کے درمیان اور بیع کے درمیان: حيث أوجب الألفين في البيع والألف في النكاح، اس حیثیت سے کہ امام صاحب نے دو ہزار واجب کیے تھے بیع میں اور ایک ہزار واجب کیا ہے نکاح میں، تو فرق کی وجہ کیا ہے؟ کہتے ہیں فرق کی وجہ یہ ہے: أنه، یہ خبر آ گئی، أنه لو يجعل الثمن ألفين، کہ اگر ثمن کو کیا کیا جائے؟ اگر قرار دیا جائے ثمن دو ہزار، لكان شرطًا فاسدًا، تو یہ کیا ہو جائے گی؟
بھئی، بیع کتنا ہے؟ ایک ہزار، اور ذکر کتنا کر رہے ہیں؟ دو ہزار، تو یہ کیا ہو جائے گی؟ شرط فاسد ہو گئی، اور آپ جانتے ہیں کہ بیع کے اندر شرط فاسد لگائی جائے تو بیع باطل ہو جاتی ہے، نکاح کے اندر شرط فاسد لگائی جائے تو نکاح صحیح رہتا ہے اور شرط کیا ہوتی ہے؟ فاسد۔ تو وہاں بیع کو صحیح رکھنے کے لیے ہمیں ضروری تھا کہ مانا جائے پورے دو ہزار ہی کو، ورنہ اگر ایک ہزار زائد کو مانیں گے کہ ایک ہزار زائد ہے تو وہ شرط فاسد بن جائے گی اور پھر پوری بیع ہی کیا ہو جائے گی؟ فاسد۔ یہاں پر ایک ہزار کو اگر زائد بھی مان لو تو اس سے وہ زیادہ سے زیادہ یہ بن جائے گی، کیا بنے گی؟ شرط فاسد، اور شرط فاسد سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا، لہذا کوئی حرج نہیں۔
تو کہتے ہیں: اگر لو يجعل الثمن ألفين، اگر لو لم يجعل ہونا چاہیے بھئی، لو لم يجعل الثمن ألفين، اگر دو اگر ثمن کو دو ہزار قرار نہ دیا جائے، لكان شرطًا فاسدًا، تو پھر تو وہ کیا بن جائے گا؟ اگر ایک ہزار قرار دیتے ہو اور ایک ہزار کو زائد قرار دیتے ہو، پھر تو کیا بن جائے گا؟ شرط فاسد، لہذا کیا ضروری ہوا؟ کہ دو ہزار ہی کو کیا قرار دیا جائے؟ ثمن، یہ معنی ہے، أنه لو لم يجعل الثمن ألفين، اگر دو ہزار پورے کو ثمن قرار نہ دیا جائے، لكان شرطًا فاسدًا، تو وہ کیا بن جائے گا؟ شرط فاسد بن جائے گا، وهو يؤثر في فساد البيع، اور وہ مؤثر ہوگا کس کے اندر؟ فسادِ بیع کے اندر بھئی، ولا يؤثر في فساد النكاح، اور یہ شرط فاسد فسادِ نکاح میں مؤثر نہیں، لا في أصل العقد ولا في الصداق، نہ تو اصل عقد کے اندر یہ فساد شرط مؤثر ہوگا اور نہ فی الصداق، نہ مہر کے اندر، صداق کس کو کہتے ہیں؟ مہر۔ تو اصل عقد کے اندر بھی اگر شرط فاسد آئے، اس سے نکاح پہ کوئی اثر نہیں پڑتا، مہر پر بھی کوئی اثر نہیں پڑتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو ضابطہ آپ نے پڑھ لیا کہ نکاح کے اندر شرط فاسد لگانے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا، لہذا آپ کسی سے نکاح کر رہے ہیں، وہ عورت نکاح میں شرط لگا دیتی ہے: اس شرط پہ نکاح کروں گی، مجھے ہر ہفتے میں فلم دکھانے لے کے جاؤ گے۔ ہاں قبول کر لیں، کوئی حرج نہیں ہے بھئی، کیونکہ آپ پڑھ چکے ہیں شرط فاسد نکاح میں ہو تو شرط فاسد اور نکاح صحیح ہے بھئی، اس کو کوئی پورا کرنے کی ضرورت نہیں بھئی۔
وإن اتفقا على أنه لم يحضرهما شيء، اور اگر دونوں نے اتفاق کیا اس بات پر کہ أنه لم يحضرهما شيء، کہ دونوں کے ذہن میں کوئی بھی چیز حاضر نہیں تھی، بات چل رہی ہے نکاح کی، ایک صورت ذکر ہوئی جب دونوں نے پہلی صورت ذکر ہوئی کس کے اندر؟ اصل عقد میں مذاق کیا تھا، اصل عقد تو عقد منعقد ہو گیا تھا، آپ نے پڑھا، مذاق کیا ہوا؟ باطل، چاروں صورتوں میں، اور اگر اختلاف مذاق کس کے بارے میں کریں؟ قدر میں، یعنی مہر کی مقدار میں، تو پھر اتفاق کریں اگر اعراض پر تو جو ذکر کیا وہی مہر آ جائے گا، وہ تو دونوں کی مرضی ہے، اور اگر دونوں اتفاق کریں کس پر؟ مذاق پر، تو پھر جو مذاق میں طے کیا تھا وہی آئے گا، جو ذکر کر رہے ہیں وہ نہیں آئے گا۔
تیسری صورت: اور اگر دونوں اتفاق کرتے ہیں على أنه لم يحضرهما شيء، اس بات پر کہ کوئی چیز ان کے ذہن میں حاضر نہیں تھی، أو اختلفا، یا دونوں کیا کرتے ہیں؟ اختلاف، ایک کہتا ہے ہم سنجیدہ تھے، دوسرا کہتا ہے ہم مذاق کر رہے تھے، فالنكاح جائز بألف، تو نکاح ایک ہزار پر جائز ہو جائے گا، في رواية محمد عن أبي حنيفة، جو امام صاحب سے امام محمد رحمہ اللہ کی روایت ہے اس میں، وقيل: بألفين، اور کہا گیا کہ نکاح جائز ہو جائے گا کتنے پر؟ دو ہزار پر ہو جائے گا ان دو صورتوں میں، في رواية أبي يوسف رحمه الله عنه بھئی، جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں امام صاحب سے۔
وجه الرواية الثانية، دوسری روایت کی وجہ، پہلی روایت میں تو کیا آیا؟ نکاح ایک ہزار پر ہی ہو جائے گا، دوسری روایت میں کیا آیا؟ دو، یہ دو ہزار پر کیوں ہوگا؟ دوسری روایت میں، اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وجه الرواية الثانية، دوسری روایت کی وجہ جو ہے، هو القياس على البيع، وہ کس پر قیاس ہے؟ بیع، بیع کے اندر جیسے وہاں جو ذکر ہوتا تھا وہ آ جاتے تھے، یہاں پر بھی اسی طرح وہی آ جائے گا۔
ووجه الرواية الأولى، دوسری روایت کی وجہ کیا ہے؟ یہ ایک ہزار کیوں آئے گا؟ کہتے ہیں: وهو الاستحسان، وہ استحسان ہے، أن المهر في النكاح تابع، کہ مہر جو ہے وہ نکاح میں تابع ہوا کرتا ہے، اصل مقصود نہیں ہوتا، تابع ہوتا ہے، فلا يجوز ترجيح جانب التسمية على الهزل، لہذا جائز نہیں ہے کہ تسمیہ کو ترجیح دی تسمیہ کی جانب کو ترجیح دی جائے کس پر؟ مذاق پر بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ایک ذکر کر رہے ہیں آپس میں، ایک آپس میں پہلے سے طے کیا تھا مذاق میں بھئی، تو اب ایک ہے تسمیہ، ایک مذاق، تو یہاں پر ہم نے کیا کہا؟ کتنے آئیں گے؟ پہلی روایت کے مطابق ہزار آئیں گے، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ایک ہے تسمیہ، ایک ہے مذاق، اور مہر جو ہے وہ تابع ہوا کرتا ہے، لہذا کوئی وجہ نہیں ہے کہ تسمیہ کو ترجیح دی جائے کس پر؟ مذاق پر بھئی، لہذا ایک ہزار ہی آئیں گے بھئی۔
لأنه يكون المهر حينئذ مقصودًا بذاته، کیونکہ اگر کس کو ترجیح دی جائے؟ تسمیہ کو، جو ذکر کر رہے ہیں، کتنے ذکر کر رہے ہیں؟ دو ہزار، اگر اس کو ترجیح دی جائے اور کہا جائے دو ہزار آئیں گے، تو پھر اس صورت میں تو مہر مقصود بالذات بن جائے گا نکاح کے اندر، حالانکہ مہر تو مقصود بالذات نہیں، وہو خلاف الأصل، اور یہ تو خلاف اصل ہے، بخلاف البيع، بخلاف بیع کے، لأن الثمن مقصود فيه، اس لیے کیونکہ بیع میں تو ثمن مقصود ہوتے ہیں، فيكون تصحيحه أيضًا مقصودًا، تو اس کے اندر بیع کی تصحیح بھی مقصود ہوگی، فيرجح جانب التسمية على الهزل، تو ترجیح دی جائے گی کس کو؟ تسمیہ کی جانب کو کس پر؟ مذاق پر۔
وإن كان في الجنس، اور اگر مذاق کس میں کیا؟ جنس میں، مہر کی بات چل رہی ہے قدر میں جو مذاق کیا وہ صورت گزر گئی، اب کس میں؟ جنس، کہ ہم لوگوں کے سامنے مہر کو ذکر کریں گے دینار اور طے کیا ہوں گے؟ درہم، بأن تواضعا على الدنانير، بأن طور کے دونوں نے اتفاق کیا دیناروں پر، والمهر في الحقيقة دراهم، اور مہر جو ہے حقیقت کے اندر دراہم تھے، فإن اتفقا على الإعراض، اگر دونوں نے اتفاق کیا کس پر؟ اعراض پر، ہم سنجیدہ تھے، پھر تو جو ذکر کر رہے ہیں وہی آئے گا، فالمهر ما سميا، تو مہر وہی ہوگا جو انہوں نے ذکر کیا، وإن اتفقا على البناء، اور اگر دونوں نے اتفاق کیا بنا پر، ایک صورت، واتفقا على أنه لم يحضرهما شيء، یا اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں کے ذہن میں کوئی چیز حاضر نہیں، أو اختلفا، یا اختلاف، تینوں صورتوں میں يجب مهر المثل، کیا واجب ہوگا؟ مہرِ مثل واجب ہوگا۔
کیوں؟ اگر دونوں نے اتفاق کیا بنا پر، کس پر؟ تو پھر ذکر تو ہیں دراہم، طے کیا تھے؟ دینار، تو چیز مہر تو عقد میں تو وہ ذکر ہی نہیں، اور جب نکاح بغیر مہر ذکر کیے ہو کیا جائے تو نکاح فاسد ہوتا ہے یا مہرِ مثل آتا ہے؟ تو بس مہرِ مثل آ جائے گا، اسی طرح خالص ذہن ہیں تو بھی کیا آ جائے گا؟ مہرِ مثل، اور دونوں اختلاف کرتے ہیں تو بھی کیا آئے گا؟ مہرِ، یہ معنی ہے، کہتے ہیں: في الصور، فيجب مهر المثل في الصور الثلاث، مہرِ مثل واجب ہوگا تینوں صورتوں میں، أما في الأولى، باقی پہلی صورت میں کون سی؟ جب اتفاق کیا ہے مذاق پر، فبالإجماع، تو بالاجماع مہرِ مثل آئے گا، لأنهما قصدا الهزل بالمسمى، قصدا بھئی، دو الف ہونے چاہئیں، اس لیے کیونکہ دونوں نے ارادہ کیا ہے مذاق کرنے کا بالمسمى، کس کے ذریعے؟ مسمى جو ذکر کر رہے ہیں وہ مذاق کر رہے ہیں، والمال لا يجب به، اور مذاق کی وجہ سے مال واجب نہیں، وما كان مهرًا في الواقع لم يذكر في العقد، اور وہ چیز جو مہر تھی واقع کے اندر اس کو تو ذکر ہی نہیں کیا گیا عقد میں، فكأنه تزوجها بلا مهر، تو گویا کہ خاوند نے بیوی سے نکاح کیا بلا مہر کے ہی، فيجب مهر المثل، تو کیا واجب ہوگا؟ مہرِ مثل، بخلاف البيع، بخلاف کس کے؟ بیع کے، إذ لا يصح بدون الثمن، کیونکہ بیع تو بغیر ثمن کے صحیح ہوتی ہی نہیں تھی، فيجب المسمى، تو وہاں پر کیا واجب ہو جاتا تھا؟ بیع کے اندر جو ذکر کرتے تھے وہ آتا تھا، یہاں پر جو ذکر کر رہے ہیں وہ نہیں آئے گا بلکہ کیا آ جائے گا؟ مہرِ مثل۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کیونکہ یہ تو ارادہ نہیں ہے اس کا۔
وأما في الأخريين، اور باقی باقی دو صورتوں میں جب ذہن میں کوئی چیز نہ ہو یا دونوں اختلاف کریں مذاق اور سنجیدگی میں، ففي رواية محمد عن أبي حنيفة رحمه الله، تو امام محمد رحمہ اللہ کی جو روایت ہے امام صاحب سے: يجب مهر المثل لما ذكرنا، مہرِ مثل واجب ہوگا اسی وجہ سے جو ہم نے ذکر کیا، وفي رواية أبي يوسف رحمه الله، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق: يجب المسمى، کیا واجب ہوگا؟ مسمى واجب ہوگا جو ذکر کر رہے ہیں، ترجيحًا لجانب الجد، ترجیح دیتے ہوئے سنجیدگی کی جانب کو، كما في البيع، جیسے کس کے اندر تھا؟ بیع کے اندر تھا بھئی۔ چلیے بس، فهذا هو المراد، والله أعلم بحقيقة الكلام۔