Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-075

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 11 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 17
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔75 والحكم إذا أضيف إلى مسمى هذا ابتداء وجه ثان من الوجوه الفاسدة وهو يتضمن مفهوم الوصف والشرط. يعني أن الحكم إذا أسند إلى شيء موصوف بوصف خاص أو علق بشرط كان دليلا على نفيه. پہلے متن دیکھ لیجیے۔ والحكم إذا أضيف إلى مسمى، اور جب حکم کی نسبت کی جائے کسی ایسے مسمى کی طرف، بوصف خاص، جو موصوف ہو کسی وصف خاص کے ساتھ، یعنی جس کے ساتھ کوئی خاص وصف ذکر کیا گیا ہو۔ أو علق بشرط، یا اس کو معلق کیا گیا ہو کسی شرط کے ساتھ۔ یعنی جب حکم کی نسبت ایسے مسمى کی طرف ہو جس کے ساتھ کوئی وصف ذکر ہے خاص وصف، یا حکم کی نسبت ایسے مسمى کی طرف ہے جس کو کسی شرط کے ساتھ معلق کیا گیا ہے، كان دليلا على نفيه، تو یہ جو ہے، یہ وصف اور تعلیق جو ہیں، ان میں سے ہر ایک دليلا على نفيه، وہ دلیل ہوگا اس حکم کی نفی پر۔ یعنی وہ حکم نہیں پایا جائے گا عند عدم الوصف أو الشرط، جس وقت وصف یا شرط نہ ہوں بھئی۔ جب کسی مسمى، جب کوئی ایسی چیز جس پر کوئی حکم لگایا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس کا کوئی خاص وصف ذکر ہے، تو یہ وصف بتلائے گا کہ یہ حکم، یہ وصف ہے تو یہ حکم ہے، یہ وصف نہیں تو حکم بھی نہیں، یا اسی طرح کسی چیز پر کوئی حکم لگایا گیا اور اس کے اس کو معلق کر دیا گیا شرط کے ساتھ، تو وہ یہ شرط بتلائے گی کہ یہ شرط ہے تو حکم ہے، شرط نہیں تو حکم بھی نہیں بھئی۔ دیکھیے اب بھئی، کہتے ہیں: والحكم إذا أضيف إلى مسمى، جب حکم کی نسبت کی جائے کسی مسمى کی طرف، یعنی کسی چیز کی طرف بھئی۔ هذا ابتداء وجه ثان من الوجوه الفاسدة، یہ ابتداء ہے دوسری وجہ کی وجوہِ فاسدہ میں سے۔ بھئی، وجوہِ فاسدہ کا ذکر چل رہا تھا، کچھ اور وجوہ جو اور فقہاء کے نزدیک دلیل ہیں، ہمارے نزدیک دلیل نہیں بھئی۔ ان میں سے ایک کا ذکر پہلے ہو چکا اور وہ کیا تھا؟ پہلی قسم کیا تھی؟ جی، وہ مفہومِ لقب تھا بھئی، کیا تھا؟ مفہومِ لقب، یعنی جب کسی چیز کے علم کے ساتھ اس کی تصریح کی جائے، تو علم کے ساتھ یہ تصریح کرنا خصوص پر دلالت کرتا ہے، معلوم ہوا یہ حکم اسی کے ساتھ خاص ہے، اوروں سے حکم کی کیا کر دے گا؟ نفی کر دے گا بھئی۔ اب دوسری وجہ بتلا رہے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: هذا ابتداء وجه ثان من الوجوه الفاسدة، یہ ابتداء ہے دوسری وجہ کی وجوہِ فاسدہ میں سے۔ وهو يتضمن مفهوم الوصف والشرط، اور یہ متضمن ہے مفہومِ وصف اور مفہومِ شرط کو۔ يعني أن الحكم إذا أسند إلى شيء، یہ اوپر وہ متن کا ترجمہ اب کر رہے ہیں۔ اوپر متن میں کیا تھا؟ والحكم إذا أضيف إلى مسمى، یہ بتلا رہے ہیں: يعني أن الحكم إذا أسند إلى شيء، جب حکم جو ہے اس کی نسبت کی جائے، اس کا اسناد کیا جائے کسی چیز کی طرف، موصوف بوصف خاص، ایسی چیز جو موصوف ہو کسی خاص وصف کے ساتھ، أو علق بشرط، یا اس کو معلق کیا جائے کسی شرط کے ساتھ، كان دليلا على نفيه، تو یہ جو وصف اور یہ جو تعلیق ہیں، یہ دلیل ہوں گے على نفيه، اس حکم کی نفی پر، کب؟ آگے متن میں آ رہا ہے: عند عدم الوصف أو الشرط، جس وقت وصف یا شرط نہ ہوں بھئی۔ دیکھیے اب شرح میں بتلا رہے ہیں: أي كان كل من، دیکھا "كان" کہ مفرد کی ضمیر ہے بھئی، كان دليلا، تو "كان" کے اندر مفرد کی ضمیر ہے، وہ اس کا اسم ہے۔ بھئی، پیچھے تو دو چیزیں ذکر ہوئیں: وصف یا تعلیق۔ وصف اور تعلیق، تو بتلایا: أي كل واحد کی تاویل میں ہے۔ أي كل من الوصف والتعليق، ہر ایک وصف اور تعلیق میں سے دالا على نفي الحكم، متن میں کیا آیا تھا؟ نفيه، "ه" ضمیر کا مرجع بتلایا: على نفي الحكم، وہ حکم کی نفی پر دلالت کریں گے یہ دونوں عند عدم الوصف أو الشرط، جس وقت وصف یا شرط معدوم ہوں۔ عند الشافعي رحمه الله، امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک۔ بھئی، امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب کسی حکم، جب کسی چیز پر حکم لگایا گیا اور اس کے ساتھ کوئی خاص وصف ذکر ہے، تو یہ وصف بھی شرط کے درجے میں ہے۔ یہ وصف ہے تو حکم ہے، وصف نہیں تو حکم بھی نہیں۔ اسی طرح اگر کسی چیز پر حکم لگایا گیا اور اس کو معلق کر دیا گیا کسی شرط کے ساتھ، تو شرط ہے تو حکم ہوگا، شرط نہیں تو حکم بھی نہیں ہوگا۔ حتى لم يجوز نكاح الأمة عند طول الحرة، یہاں تک کہ وہ جائز قرار نہیں دیتے باندی کے نکاح کو عند طول الحرة، "طول" کا معنی قدرت، أي عند قدرة الحرة، جب آزاد عورت کی قدرت ہو بھئی۔ بھئی، گزشتہ سبق میں میں یہ بیان کر چکا ہوں، آگے اللہ تعالیٰ کا قول دیکھیے شرح میں آ رہا ہے، اس کو دیکھ لیں، اللہ فرماتے ہیں: ومن لم يستطع منكم طولا، اور جو تم میں سے استطاعت نہیں رکھتا طولا، قدرت بھئی، قدرت کی نہیں رکھتا، أن ينكح المحصنات المؤمنات، کہ وہ نکاح کرے پاک دامن مومنہ عورتوں سے، فمن ما ملكت أيمانكم، تو پس پھر ان سے جس کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہیں، من فتياتكم المؤمنات، یعنی کہ مومنہ باندیاں بھئی، یعنی کہ مومنہ باندھی، یعنی ان سے پھر نکاح کر لو۔ اب دیکھیے، یہاں پر باندی سے نکاح کی اجازت دی گئی لیکن شرط ذکر کر دی گئی، کس وقت؟ جب آزاد عورت سے نکاح کی قدرت نہ ہو۔ بھئی، آزاد عورت ہے، اس کے نفقے وغیرہ کا خرچہ زیادہ ہوگا، اور باندی کا تو کم ہوگا بھئی۔ تو آزاد عورت کا نفقہ اور مہر زیادہ ہوگا اور باندی کا کم ہوگا، تو جو شخص قدرت نہیں رکھتا، اس کے پاس اتنا مال نہیں ہے کہ آزاد عورت سے نکاح کر سکے، تو پھر کس سے نکاح کر لے؟ باندی سے نکاح کر لے۔ تو باندی سے نکاح کی اجازت دی گئی لیکن اس کے ساتھ شرط ذکر کر دی گئی کہ جب آزاد عورت سے نکاح کی قدرت نہ ہو۔ تو چنانچہ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ شرط چونکہ ساتھ ذکر کر دی گئی، تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ شرط ہے تو اجازت ہے، یہ شرط نہیں تو نکاح کی اجازت بھی نہیں، اور پھر آگے جو باندیاں ہیں، ان کے ساتھ من فتياتكم المؤمنات، مومنات کی قید لگا دی گئی، کن سے نکاح کر سکتا ہے؟ کن باندیوں سے؟ مومنات سے، معلوم ہوا مومنہ باندی ہو تو نکاح جائز ہے، مومنہ نہیں تو نکاح بھی جائز نہیں بھئی، یہ امامِ شافعی رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ حتى لم يجوز نكاح الأمة عند طول الحرة، یہاں تک کہ وہ جائز قرار نہیں دیتے باندی سے نکاح کو آزاد عورت کی قدرت کے وقت، ونكاح الأمة الكتابية لفوات الشرط، اور وہ جائز قرار نہیں دیتے کس کے؟ کتابیہ باندی کے نکاح کو لفوات الشرط والوصف، بوجہ فوت ہونے شرط اور وصف کے، المذكورين في النص، جو کہ مذکور ہیں نص کے۔ یہ دو چیزیں جب فوت ہوں گی، جو بھی چیز فوت ہوگی وہاں نکاح کی اجازت نہیں، اگر شرط نہ پائی جائے تو بھی نکاح کی اجازت نہیں، اگر ایک آدمی کو قدرت ہے تو وہ باندی سے نکاح نہیں کر سکتا، اور اگر وصف نہ ہو، یعنی باندی مومنہ نہ ہو تو بھی نکاح جائز نہیں ہوگا۔ جو کہ مذکور ہیں نص کے اندر، وهو قوله تعالى، اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ومن لم يستطع منكم طولا أن ينكح المحصنات المؤمنات فمن ما ملكت أيمانكم من فتياتكم المؤمنات، یعنی تمہاری مومنہ باندیاں۔ جو مومن باندیاں ہیں بھئی، جو تمہاری مومن باندیاں ہیں۔ بھئی، فتيات کا لفظ آیا، فتيات جمع ہے فتاة کی، فتاة، اور فتاة مونث ہے فتى کی، اور فتى کہتے ہیں جوان کو بھئی، جوان۔ تو جوان مرد ہو تو فتى، جوان عورت ہو تو فتاة، تو باندیوں کو بھی فتى اور فتاة کہہ دیا جاتا ہے، چاہے ان کی عمر زیادہ ہی کیوں نہ ہو، بھئی کیوں؟ ان کو فتى اور فتاة کیوں کہا جاتا ہے؟ یہ تو جوان کو کہتے ہیں، وجہ اس کی یہ بھئی کہ بھئی ان کی عمر چاہے زیادہ بھی ہو، پھر بھی ان کی جیسے بڑی عمر کے آدمی کی عزت کی جاتی ہے، اس طریقے سے ان کی عزت نہیں کی جاتی، بلکہ جیسے نوجوان کو کام سے کام لیا جاتا ہے اور کام کا کہا جاتا ہے، اسی طرح ان سے کام لیا جاتا ہے بھئی، اس لیے ان کو فتى اور فتاة کہہ دیتے ہیں بھئی۔ تو فتيات سے کیا مراد ہیں؟ باندیاں۔ أي من لم يستطع منكم زيادة وقدرة، یعنی جو شخص تم میں سے استطاعت نہیں رکھتا زیادہ اور قدرت، أن ينكح الحرائر المؤمنات، کہ وہ نکاح کر لے آزاد مومنہ عورتوں سے، لأجل زيادة مهرھن ونفقتهن، بوجہ ان کے مہر کے زیادہ ہونے کے اور ان کے نفقے کے زیادہ ہونے کے، في معاشهن، ان کے گزر بسر میں، فلينكح مملوكة من مملوكات أيمانكم، پس چاہیے اس کو کہ وہ نکاح کر لے مملوكة من مملوكات أيمانكم، کسی ایک، کسی باندی سے، کسی مملوکہ سے، مملوكات أيمانكم، جو تمہارے داہنے ہاتھوں کی مملوکہ ہیں، ان میں سے کسی ایک مملوکہ سے نکاح کر لے۔ آگے شارح فرما رہے ہیں: أي أيمان إخوانكم، آیت میں تو کیا آیا؟ فمن ما ملكت أيمانكم، جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہیں، شارح فرما رہے ہیں کہ بھئی، أيمان کے بعد إخوان کا لفظ مضاف محذوف ہے بھئی، كم ضمیر کی طرف وہ مضاف ہے۔ وجہ یہ کہ اگر آیت کے ظاہر کو دیکھا جائے، تو تم نکاح کر لو کس سے؟ جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہیں، یعنی جو تمہاری باندیاں ہیں، اور اپنی باندی سے تو نکاح جائز نہیں، اپنی باندی سے تو نکاح جائز نہیں۔ آزاد کر دو، پھر بے شک نکاح کر لو، لیکن باندی ہو اور اسی حالت، تمہاری ہو اور تم اسی حالت میں اس سے نکاح بھی کرنا چاہو، یہ نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو شارح نے بتلایا کہ كم ضمیر سے پہلے إخوان کا لفظ محذوف ہے، یعنی اپنے مسلمان بھائیوں کی باندیوں سے کیا کر لو؟ نکاح کر لو بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ إذ لا يجوز نكاح أمة أصلا، اس لیے کیونکہ باندی، اپنی جو باندی ہے اس سے نکاح جائز ہی نہیں ہے سے، من إمائكم المؤمنات، دیکھو، آیت میں آیا تھا: من فتياتكم المؤمنات، شارح ترجمہ کر رہے ہیں: من إمائكم المؤمنات بھئی، إماء، أمة کی جمع ہے، اپنی مومن باندیوں سے۔ فالله تعالى، پس اللہ تعالیٰ جو ہیں، انہوں نے قد نص على أنه إن لم يستطع الحرة، انہوں نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر کوئی شخص استطاعت نہ رکھے آزاد عورت کی، فلينكح أمة، تو اسے چاہیے کہ باندی سے نکاح کر لے، ثم قيد الأمة بالمؤمنة، پھر مقید کیا اللہ تعالیٰ نے باندی کو مومنہ کی قید سے، فلو عملنا بالوصف والشرط جميعا، پس اگر ہم عمل کریں وصف اور شرط دونوں پر، حك منا، تو ہم یہ حکم لگائیں گے، أن طول الحرة مانع للأمة، کہ آزاد عورت کی قدرت یہ مانع ہے باندی سے، وأن الأمة الكتابية أيضا لا يجوز نكاحها للمؤمن، اور یہ حکم لگائیں گے کہ جو کتابیہ باندی ہے، یعنی اہل کتاب میں سے جو ہے، اس کے ساتھ بھی جائز نہیں ہے نکاح کرنا مومن کے لیے، ما لم تصر مؤمنة، جب تک وہ مومنہ نہ ہو جائے بھئی۔ وعندنا جاز نكاح الأمة الكتابية والمؤمنة على طول الحرة وعدمه جميعا، اور ہمارے نزدیک کتابیہ باندی سے بھی نکاح جائز ہے اور مومنہ سے بھی جائز ہے، على طول الحرة وعدمه، آزاد عورت کی قدرت ہونے اور نہ ہونے، دونوں صورتوں میں۔ ان کے نزدیک آزاد عورت کی قدرت ہو تو باندی سے نکاح جائز نہیں، ہمارے نزدیک قدرت ہو پھر بھی نکاح جائز ہے، ہاں البتہ یہ شرط ہے ہمارے نزدیک کہ اگر آزاد عورت پہلے سے نکاح میں ہو، تو پھر نہیں جائز، تو آزاد عورت پہلے سے نکاح میں نہ ہو، پھر کیا ہے؟ باندی سے بھی نکاح جائز ہے بھئی۔ بھئی، یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ آسان سی بات ہے بھئی۔ وحاصله، اور أي حاصل ما قال الشافعي رحمه الله تعالى، اور حاصل اس کا جو فرمایا ہے امامِ شافعی رحمہ اللہ نے، شيئان، وہ دو چیزیں ہیں: الأول أنه ألحق الوصف بالشرط، پہلی بات یہ کہ انہوں نے ملایا ہے وصف کو شرط کے ساتھ، کہ وصف بھی کس کی طرح ہے؟ شرط کی طرح ہے، في كونه موجبا للحكم عند وجوده وغير موجب عند عدمه، بھئی، وصف کو ملایا ہے شرط کے ساتھ کس چیز میں؟ آگے وہ ذکر کر رہے ہیں: في كونه موجبا، اس شرط کے حکم کو ثابت کرنے والا ہونا جب شرط پائی جائے، شرط جب پائی جائے گی تو وہ حکم کو ثابت کرے گی، وغير موجب عند عدمه، اور جب شرط نہیں ہوگی تو وہ حکم کو بھی ثابت نہیں کرے گی، تو اس چیز کے اندر وصف کو بھی شرط کے ساتھ ملا دیا، کہ وصف ہوگا تو حکم ہوگا، وصف نہیں تو حکم بھی نہیں، جس طرح شرط ہے تو حکم ہے، شرط نہیں تو حکم بھی نہیں۔ ألا ترى، کیا آپ دیکھتے نہیں، أن من قال لامرأته، کہ جس شخص نے اپنی بیوی سے کہا: أنت طالق راكبة، تجھے طلاق ہے اس حال میں کہ تو تو سوار ہو، فكأنه قال، پس گویا کہ اس نے یوں کہا: أنت طالق إن كنت راكبة، کہ تجھے طلاق ہے اگر تو سوار ہو۔ تو دیکھیے، کہنے والے نے تو راكبة کو صفت کے طور پر ذکر کیا، لیکن یہ صفت بھی کس کے درجے میں ہے؟ شرط کے درجے میں ہے، کہا تو اس نے کہا: أنت طالق راكبة، لیکن گویا کس طرح کہا اس نے؟ إن كنت راكبة فأنت طالق بھئی، گویا اس نے یوں کہا بھئی۔ تو اس لیے معلوم ہوا، وصف کس کے درجے میں ہے؟ شرط بھئی۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بات وصف کی چل رہی ہے کہ وصف شرط کے درجے میں ہے، اور آپ نے جو مثال پیش کی: أنت طالق راكبة، تجھے طلاق ہے اس حال میں کہ تو سوار ہو، یہ راكبة، یہ تو حال واقع ہو رہا ہے، وصف نہیں، اور بات کس کی چل رہی ہے؟ وصف کی کہ وصف شرط کے درجے میں ہے، تو جواب یہ کہ وصف سے مراد وصفِ نحوی نہیں مراد بھئی، بس صفت مراد ہے، اور چاہے وہ حال کی صورت میں ہو، کیونکہ حال بھی کیا ہوتا ہے دراصل؟ وصف ہی ہوتا ہے بھئی۔ فكما أن الطلاق يتوقف على الركوب في صورة الشرط، پس جیسے کہ طلاق موقوف ہوتی ہے سوار ہونے پر شرط کی صورت میں، فكذا في صورة الوصف، اسی طرح وصف کی صورت میں بھی ہوگی۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے: إن ركبت فأنت طالق، تو کب طلاق ہوگی؟ سوار ہونے پر طلاق ہوگی، ویسے نہیں، کیونکہ شرط ہے، اور اگر وہ یہ کہہ دیتا ہے: أنت طالق راكبة، تو اس صورت میں بھی کب طلاق ہوگی؟ جب وہ سوار ہوگی تب طلاق ہوگی، معلوم ہوا وصف کس کے درجے میں ہے؟ شرط کے درجے میں ہے۔ تو یہ پہلی بات امامِ شافعی رحمہ اللہ کی کہ انہوں نے ملایا ہے وصف کو شرط کے ساتھ، والثاني، اور دوسری بات یہ، أنه اعتبر التعليق بالشرط عاملا في منع الحكم دون السبب، کہ انہوں نے اعتبار کیا ہے کہ تعلیق بالشرط، یہ عمل کرنے والی ہے منعِ حکم کے اندر نہ کہ سبب کے اندر۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ کا مذہب بیان ہو رہا ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک ہے سبب، ایک ہے حکم۔ أنت طالق ہے سبب، اور جس کا حکم کیا ہے؟ اس سے کیا واقع ہو جائے گی؟ طلاق۔ تو أنت طالق ہے سبب اور وقوعِ طلاق ہے حکم، وہ فرماتے ہیں: یہ شرط جو ہوتی ہے، یہ حکم سے مانع ہوتی ہے، سبب سے مانع نہیں، یہ ت- أنت طالق بھئی، اس پر کیا داخل کی؟ شرط، مثلاً خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: إن دخلت الدار فأنت طالق، اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ تو آپ انت طالق یہ ہے سبب اور اس سے کیا ہوا کرتی ہے؟ طلاق۔ تو وقوع طلاق اس کا حکم ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جو شرط ساتھ ذکر ہوئی ان دخلت الدار، اگر تو اس گھر میں گئی، اس شرط نے انت طالق کو نہیں روکا اس نے اس کے حکم کو روک دیا۔ انت طالق تو آ گیا، پایا گیا، کہنے والے نے زبان سے کہہ دیا اور اگر ویسے کہا جاتا تو اس سے طلاق واقع ہو جاتی لیکن یہاں پر طلاق واقع نہیں ہو رہی یعنی اس کا حکم نہیں پایا جا رہا کیونکہ مانع آ گیا اور وہ مانع کیا ہے؟ شرط ہے، وہ مانع شرط ہے۔ شرط اس سے مانع ہے۔ تو جب تک وہ گھر میں نہیں جائے گی وقوع طلاق بھی نہیں ہو گا۔ انت طالق تو پایا جا رہا ہے لیکن وقوع طلاق نہیں پایا جا رہا۔ کس کی وجہ سے؟ مانع کیا چیز موجود ہے؟ شرط ہے۔ تو شرط مانع ہوتی ہے حکم سے نہ کہ سبب سے۔ سبب تو اس نے زبان سے کہہ دیا ہے انت طالق کا لفظ۔ تو سبب تو پایا جا رہا ہے لیکن حکم نہیں۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک شرط مانع بنتی ہے کس سے؟ حکم سے نہ کہ سبب سے بھئی۔ جبکہ آگے احناف کا مذہب بیان ہو گا۔ احناف کا مذہب یہ ہے کہ شرط سبب ہی سے مانع ہو جاتی ہے۔ شرط سبب ہی کو نہیں آنے دیتی۔ خاوند نے اگرچہ کہہ دیا ہے ان دخلت الدار فانت طالق، لیکن شرط نے اس سبب کو سبب بننے سے ہی روک دیا۔ اس شرط نے اس سبب کو سبب بننے سے ہی روک دیا، گویا یوں سمجھو سبب ہے ہی نہیں۔ گویا یوں سمجھو انت طالق اس وقت کہا ہی نہیں، جب گھر میں اس گھر میں وہ عورت داخل ہو گی تو اس وقت گویا انت طالق پایا جائے گا اور جیسے ہی پایا جائے گا ساتھ ہی حکم یعنی وقوع طلاق بھی پایا جائے گا۔ اختلاف سمجھ میں آیا؟ عند الشافعی شرط مانع ہوتی ہے صرف حکم سے نہ کہ سبب سے جبکہ عند الاحناف شرط مانع ہوتی ہے سبب سے یعنی وہ اس کو سبب بننے ہی نہیں دیتی۔ شرط سبب کو سبب بننے ہی نہیں دیتی تو گویا سبب پایا ہی نہیں گیا۔ تو یہ سبب کب پایا جائے گا؟ جب شرط پائی جائے گی تو اس وقت انت طالق بھی ہو گا اور اس وقت اس کا حکم یعنی وقوع طلاق بھی ہو گا۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کا حاصل یہ ہے کہ انہوں نے ایک تو وصف کو شرط کے ساتھ ملایا ہے والثاني اور دوسرا یہ کہ انه اعتبر التعليق بالشرط عاملاً في منع الحكم دون السبب کہ انہوں نے اعتبار کیا ہے اس بات کا کہ شرط کے ساتھ معلق کرنا یہ عمل کرنے والا ہے منع حکم کے اندر یعنی حکم کو روکنے والا ہے دون السبب نہ کہ سبب کو۔ تو یہ شرط تعلیق بالشرط عمل کرنے والی ہے منع حکم کے اندر نہ کہ منع سبب میں۔ ففي قوله پس کسی شخص کے اس قول کے اندر ان دخلت الدار فانت طالق، اگر تو اس گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق ہے۔ تو اس قول کے اندر السبب وهو انت طالق، سبب کیا ہے؟ انت طالق، والبعد وهو وقوع الطلاق اور حکم جو ہے وہ طلاق کا واقع ہونا ہے والتعليق بالشرط اور تعلیق بالشرط اعني دخول الدار یعنی کہ دخول دار، انما عمل في منع الحكم دون السبب، اس نے منع حکم میں عمل کیا نہ کہ سبب میں۔ فانه قد وجد حساً ولا مرد له، اس لیے کیونکہ سبب تو حساً پایا جا رہا ہے ولا مرد له اور اس کے لیے لوٹنا نہیں، یہ لوٹایا نہیں جا سکتا۔ زبان سے اس نے انت طالق کہہ دیا ہے یا نہیں کہہ دیا؟ تو یہ تو حساً موجود ہے، ہم نے اپنے کانوں سے سنا ہے، حساً پایا گیا اور اس کو واپس لوٹایا نہیں جا سکتا۔ احناف تو کہتے ہیں اس کا وجود ہی گویا نہیں ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کیسے وجود نہیں ہے؟ اس کا حساً وجود پایا گیا اور اس کے واپس لوٹنے کی گنجائش، ایک دفعہ پایا گیا آپ پھر کہیں کہ ختم ہو گیا؟ نہیں بھئی، جب ایک دفعہ پایا گیا تو اب اس کو آپ کہیں نہیں پایا گیا ختم ہو گیا، یہ نہیں کہہ سکتے بھئی۔ یہ سبب پایا گیا بھئی۔ بھئی کوئی شخص اپنی بیوی سے انت طالق کہہ دے تو کیا یہ الفاظ واپس ہو سکتے ہیں؟ ان الفاظ کے واپس ہونے کی کوئی صورت نہیں۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ بھی یہاں فرماتے ہیں کہ اس شخص نے انت طالق کا لفظ طلاق کے شرط کے ساتھ معلق کرتے ہوئے انت طالق کہا ہے اور جب انت طالق کہا ہے تو وہ موجود ہے، اس کے واپس ہونے کی کوئی صورت نہیں، لہذا انت طالق یہاں سبب تو موجود ہے اس کو موجود ہی ماننا پڑے گا کیونکہ اس کے واپسی کی کوئی صورت نہیں، البتہ صرف حکم جو ہے وہ نہیں آئے گا شرط نہ ہونے کی وجہ سے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو انت طالق جو ہے سبب موجود ہے اور مانع شرط صرف کس چیز میں بن رہی ہے؟ حکم کے واقع ہونے میں یعنی طلاق کے واقع ہونے میں مانع بنے گی بھئی۔ فانه قد وجد حساً، اس لیے کیونکہ وہ سبب حساً پایا گیا ہے ولا مرد له اور اس کے لیے لوٹنا نہیں ہے فلا يعلق عليه إلا وقوع الطلاق، لہذا شرط پر معلق نہیں کیا جائے گا مگر صرف وقوع طلاق کو۔ احناف کے نزدیک تو سبب بھی معلق ہو گیا شرط پر، سبب انت طالق پایا ہی نہیں جا رہا جب تک شرط یعنی دخول دار نہ ہو۔ تو شوافع کہتے ہیں نہیں سبب سے تو وہ مانع بن ہی نہیں سکتی، سبب تو اس نے زبان سے کہا ہے، پایا گیا ہے حساً، تو لہذا صرف یہ کس میں مانع بنے گی؟ حکم سے یعنی سبب پایا گیا لیکن حکم یعنی وقوع طلاق نہیں پایا جائے گا جب تک شرط نہ پائی جائے بھئی۔ فيكون عدم الحكم لاجل عدم الشرط، تو عدم حکم جو ہے وہ عدم شرط کی وجہ سے ہے۔ عدم حکم عدم شرط کی وجہ سے۔ بائی شرط جب ذکر ہوئی ساتھ تو معلوم ہوا طلاق تب واقع ہو گی جب یہ شرط ہو گی اور جب تک شرط نہیں تب تک وقوع طلاق بھی نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں عدم حکم جو ہے وہ عدم شرط کی وجہ سے ہے، عدماً شرعياً اور کون سا عدم ہے؟ عدم شرعی، لا عدماً اصلاً نہ کہ عدم اصلی۔ احناف کے نزدیک یہ عدم اصلی ہے۔ عدم اصلی جب تک کسی چیز کا وجود ہی نہ آیا ہو ابھی۔ ایک چیز پائی ہی نہیں گئی، یہ کیا ہے؟ عدم اصلی۔ اور ایک ہے آئے اور آ کر پھر ختم ہو جائے، یہ بھی عدم ہے لیکن یہ عدم اصلی نہیں۔ عدم اصلی تو کس کو کہتے ہیں؟ جو ابھی چیز پائی ہی نہیں گئی، پیدا ہی نہیں ہوئی، اس کا ابھی وجود ہی نہیں ہے تو یہ جو اولاً عدم ہے یہ کہلاتا ہے عدم اصلی۔ تو احناف کے نزدیک یہاں مانع کیا ہے؟ عدم اصلی ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں عدم اصلی نہیں بلکہ عدم شرعی ہے یعنی مفہوم مخالف۔ کیا ہے؟ مفہوم مخالف۔ بھئی ایک چیز کو کسی شرط کے ساتھ مقید کیا جائے تو شرط ہو گی تو وہ چیز ہو گی، شرط نہیں تو حکم بھی نہیں۔ بھئی شرط میں تو صرف اتنا ذکر آیا، شرط ہو گی تو یہ حکم بھی ہو گا اور اس کا مفہوم مخالف کیا نکلا؟ شرط نہیں تو حکم بھی نہیں۔ حالانکہ یہ ذکر نہیں ہے لیکن مفہوم مخالف خود ہی یہ نکل آیا کہ شرط نہیں تو حکم بھی نہیں۔ تو یہ مفہوم مخالف سے کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہو گی بھئی، یہ جو مفہوم مخالف ہے اور یہ ایک شرعی حکم ہے ان کے نزدیک باقاعدہ بھئی۔ تو یہ عدم کون سا ہوا؟ عدم شرعی یعنی شریعت اس کو معدوم شمار کرتی ہے، شریعت اس طلاق کو معدوم شمار کرتی ہے ان کے نزدیک جب تک شرط نہ پائی جائے۔ شرط ہے تو یہ والا حکم ہے، شرط نہیں تو یہ والا حکم بھی نہیں ہے، تو یہ عدم کون سا آیا؟ عدم شرعی بھئی، کیونکہ سبب تو موجود ہے لیکن شریعت اس کا اعتبار نہیں کر رہی، اس کی وجہ سے حکم واقع نہیں ہو رہا۔ تو کہتے ہیں یہ عدم شرعی ہے لا عدماً اصلاً نہ کہ عدم اصلی، على ما قلنا بناء پر اس کے جو ہم نے کہا۔ فينتفي الحكم بانتفاء الشرط ضرورةً، پس حکم منتفی ہو گا شرط کے منتفی ہو جانے کی وجہ سے ضرورۃً یقینی طور پر، بدیہی۔ یقینی بات ہے جب شرط نہیں تو حکم بھی نہیں، بدیہی بات ہے بھئی جس میں غور و فکر کی بھی کہتے ہیں ضرورت نہیں۔ ويكون هذا التعليق نظير التعليق الحسي، اور یہ تعلیق مثال ہو گی تعلیق حسی کی بھئی۔ بھئی دیکھیے، یہاں وقوع طلاق معلق ہو گیا کس پر؟ شرط پر۔ معلق تعلیق کا معنی ہوتا ہے لٹکنا، لٹکنا۔ تو وقوع طلاق لٹک گیا کس پر؟ شرط پر۔ شرط پائی جائے گی تو وقوع طلاق ہے، شرط نہیں تو طلاق بھی نہیں۔ تو حکم معلق ہو گیا شرط پر اور کیا یہاں ہمیں آنکھوں سے دکھائی دیتا ہے؟ نہیں، یہ تو ایک عقلی بات ہے سمجھی جانے والی، خارج میں اس کا اپنا الگ وجود نہیں۔ اور اگر خارج میں واقعی کوئی کسی چیز کسی دوسری چیز سے لٹکی ہوئی ہو تو یہ تعلیق حسی ہو گی بھئی، کیا ہو گی؟ تعلیق حسی، یعنی جو ہمیں آنکھوں سے دکھائی دے۔ تو کہتے ہیں یہ تعلیق بھی تعلیق حسی کی طرح ہی ہے، یہ تعلیق عقلی جو ابھی ہم نے بیان کی کہ حکم معلق ہو گیا کس کے ساتھ؟ شرط کے ساتھ، یہ کس کی طرح ہے؟ تعلیق حسی کی طرح ہے، کہتے ہیں جیسے ایک لالٹین ہے اس کو رسی کے ذریعے لٹکا دیا جائے۔ آپ لالٹین یہ وزن رکھنے والی چیز ہے اور جو چیز وزن رکھنے والی ہو اس کا حکم یہ ہے کہ وہ نیچے کو جائے گی، نیچے کو گرے گی۔ لیکن اس رسی نے لالٹین کو نیچے گرنے سے روک دیا۔ یہ لالٹین نیچے کیوں گرتی ہے؟ کیونکہ اس کا وزن ہوتا ہے، تو وزنی ہونا یہ سبب ہے اور نیچے گرنا یہ حکم ہے۔ وزنی ہونا سبب اور نیچے گرنا حکم، تو رسی نے کیا کیا؟ وزن کو ختم کر دیا یا حکم یعنی نیچے گرنے کو ختم کیا؟ حکم یعنی نیچے گرنے کو ختم کیا، لالٹین کا وزن نہیں اس نے ختم کیا بھئی۔ تو چیز جیسے حسی چیز کے اندر رسی حکم سے مانع ہوتی ہے نہ کہ سبب سے، اسی طرح عقلی کے اندر بھی شرط جو ہے وہ حکم سے مانع ہو گی، سبب سے مانع نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں ويكون هذا التعليق نظير التعليق الحسي، اور یہ تعلیق جو ہے تعلیق حسی کی نظیر ہو گی كتعليق القنديل بالحبل، قندیل کہتے ہیں بھئی لالٹین کو۔ كتعليق القنديل بالحبل، جیسے کہ لٹکانا لالٹین کو رسی سے فانه لا يؤثر في إزالة ثقله، اس لیے کیونکہ یہ رسی جو ہے یہ اثر نہیں ڈالتی في إزالة ثقله کس کے اندر؟ اس کے بوجھ کو دور کرنے میں، یہ اس کا وزن ختم نہیں کرتی، وإنما يؤثر في إزالة سقوطه اور یہ اثر ڈالتی ہے اس کے سقوط کو زائل کرنے میں یعنی اس کو گرنے نہیں دیتی، اس کے گرنے کو زائل کر دیتی ہے۔ وتصح تأدية هذا الحكم العدمي إلى غيره، امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب بیان ہو رہا ہے کہ صحیح ہے متعدی کرنا اس حکم کو العدمی جو معدوم ہے إلى غيره غیر کی طرف۔ بھئی امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی حکم نہیں پایا گیا اور یہ عدم کون سا ہے؟ عدم اصلی ہے یا عدم شرعی؟ عدم شرعی ہے یعنی ایک چیز کا وجود تو ہے لیکن شریعت اس کا اعتبار نہیں کر رہی کہ یہ حکم نہیں پایا جائے گا جب تک یہ شرط نہیں پائی جائے گی، تو لہذا اس کو متعدی کرنا دوسری جگہ کی طرف بھی صحیح ہے۔ دوسری جگہ کی طرف بھی صحیح ہے، جبکہ ہمارے نزدیک یہ عدم اصلی ہے ایک چیز کا وجود ہی نہیں، جب وجود ہی نہیں ہے تو متعدی کرنے کا کیا معنی؟ لہذا اس کو دوسری چیز کی طرف متعدی بھی نہیں کیا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں اور صحیح ہو گا متعدی کرنا اس حکم کو جو کہ معدوم ہے إلى غيره غیر کی طرف ونحن نخالفه في جميع هذا، اور ہم ان کے مخالف کرتے ہیں اس سب کے اندر۔ یعنی ہمارے نزدیک وصف شرط کے درجے میں نہیں اور نہ انتفائے شرط انتفائے حکم پر دلالت کرتا ہے بھئی۔ انہوں نے کیا کہا؟ کہ شرط حکم کو روکتی ہے سبب کو نہیں روکتی، ہم کہتے ہیں نہیں بھئی شرط سبب ہی کو روک دیتی ہے، تو ان تمام چیزوں میں ہم ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ حتى أبطل تعليق الطلاق والعتاق بالملك، عتاق بھئی عین کے فتحے کے ساتھ ہے بھئی۔ یہاں تک کہ باطل قرار دیا ہے امام شافعی رحمہ اللہ نے طلاق کو معلق کرنے کو اور عتاق کو معلق کرنے کو بالملک ملکیت کے ساتھ۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے طلاق اور عتاق کو ملکیت کے ساتھ معلق کرنے کو باطل قرار دیا ہے۔ حتى أبطل تعليق الطلاق والعتاق بالملك، بھئی امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب بیان ہو رہا ہے اسی پر تفریع بیان ہو رہی ہے حتى أبطل تعليق الطلاق والعتاق بالملك، یہاں تک کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے ملکیت کے ساتھ طلاق کو معلق کرنا اور ملکیت کے ساتھ عتاق کو معلق کرنے کو باطل قرار دیا ہے بھئی۔ بھئی دیکھیے، ملکیت ہو تو وہاں تو حکم کو معلق کرنا صحیح ہو گا۔ مثلاً بھئی ایک شخص کی بیوی ہے تو اسے ملک نکاح حاصل ہے، اب وہ اسے انت طالق بھی کہہ سکتا ہے، طلاق واقع ہو جائے گی اور اسے یہ بھی کہہ سکتا ہے ان دخلت الدار فانت طالق، طلاق کو معلق بھی کر سکتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص کا غلام ہے اگر وہ اس کا غلام کا مالک ہے، غلام اس کی ملک ہے پھر تو وہ اسے کہہ سکتا ہے انت حر، وہ آزاد ہو جائے گا یا اسے یہ بھی کہہ سکتا ہے ان دخلت الدار فانت حر، اگر تو اس گھر میں چلا گیا تو تو کیا ہے؟ آزاد ہے۔ کوئی مثلاً کوئی شرط بنا لو، کوئی صورت ہو۔ تو اپنی ملک ہو پھر تو حکم لگا، حکم کو واقع کرنا بھی ٹھیک اور اس کو معلق کرنا بھی ٹھیک۔ لیکن اگر اپنی ملکیت نہ ہو مثلاً کسی اجنبیہ سے کوئی شخص کہتا ہے ان دخلت الدار فانت طالق، اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، تو پھر تو یہ وہ ویسے اس اجنبیہ کو طلاق دینے کا حق رکھتا ہے بھئی؟ وہاں ملک نکاح ہی نہیں ہے انت طالق کہے گا وہ بھی لغو ہو جائے گا اور انت طالق ان دخلت الدار کہے گا وہ بھی کیا ہو جائے گا؟ لغو ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر اپنا غلام نہیں ہے اسے دس دفعہ کہے انت حر، وہ آزاد نہیں، تو جب اسے آزاد انت حر کے ذریعے نہیں کر سکتا تو اس کی آزادی کو کسی شرط پر معلق بھی نہیں کر سکتا بھئی۔ یہ تو بالاتفاق مذہب ہے اسی طرح ہمارا بھی اور شوافع کا بھی کہ اگر ملکیت نہیں ہے تو وقوع حکم بھی صحیح نہیں اور تعلیق بھی صحیح نہیں اور اگر ملکیت ہے تو وقوع حکم بھی صحیح ہے اور تعلیق بھی صحیح۔ البتہ اس بات میں اختلاف ہے کہ اگر اجنبیہ کے یوں کہا جائے ان نکحتک فانت طالق، اگر میں نے تجھ سے نکاح کیا تو تجھے طلاق ہے، کیا اس صورت میں طلاق معلق ہو گی یا معلق نہیں؟ ہمارے نزدیک طلاق معلق ہو جائے گی اس لیے کیونکہ اس شخص نے اگرچہ اجنبیہ سے کہا ہے لیکن اس حکم کے ساتھ اس نے شرط کیا لگا دی؟ اس کو معلق کس کے ساتھ کیا؟ ملکیت کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ ملکیت کے ساتھ۔ اس وقت تو ملک نہیں لیکن حکم کی اس نے معلق کر دیا ملکیت کے ساتھ ان نکحتک فانت طالق، اگر میں نے تجھ سے نکاح کیا یعنی اگر تجھ پر مجھے ملک نکاح حاصل ہو گئی تو تجھے کیا ہے؟ طلاق ہے۔ تو لہذا اب اس صورت میں ہمارے نزدیک یہ تعلیق صحیح ہو جائے گی اس لیے کیونکہ اس حکم کے کو وہ معلق کس کے ساتھ کر رہا ہے؟ ملکیت کے ساتھ معلق کر رہا ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ تعلیق صحیح نہیں۔ اسی طرح غلام کے اندر کوئی شخص اگر کسی اجنبی کسی اور کا غلام ہے اسے کہتا ہے ان ملکتک فانت حر، اگر میں تیرا مالک ہوا تو تو آزاد ہے۔ تو اگر ویسے اجنبی غلام کو انت حر کہيں یا تعلیق کریں تو وہ باطل ہو جاتی ہے لغو ہو جاتی ہے۔ تو یہاں پر بھی انت حر لغو ہونا چاہئے لیکن اس انت حر کی وہ تعلیق کس کے ساتھ کر رہا ہے؟ اس کی نسبت کس کی طرف کر رہا ہے؟ ملکیت کی طرف۔ تو لہذا ہمارے نزدیک یہ تعلیق صحیح ہو جائے گی۔ چنانچہ اگر اس شخص، یہ شخص اس غلام کا مالک بنا تو وہ غلام آزاد ہو جائے گا۔ اسی طرح اجنبیہ سے کہا تھا ان نکحتک فانت طالق، تو نکاح اگر اس سے کر لیا تو فوراً کیا واقع ہو جائے گی؟ طلاق واقع ہو جائے گی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ملکیت کے ساتھ طلاق کو معلق کرنا، عتاق کو معلق کرنا یہ درست ہی نہیں ہے۔ کیوں درست نہیں ہے؟ وہی ان کا ضابطہ ہے۔ ہمارے نزدیک درست کیوں ہے؟ وہی وجہ ہمارا اپنا ضابطہ ہے۔ ان کا ضابطہ کیا تھا؟ کہ شرط جو ہے یہ حکم سے مانع ہوتی ہے، سبب سے مانع نہیں ہوتی۔ سبب تو گویا ابھی ہی پایا جا رہا ہے البتہ حکم نہیں پایا جا رہا۔ تو اس نے اجنبیہ سے کیا کہا ہے ایک شخص نے؟ ان نکحتک فانت طالق، اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں انت طالق اس وقت پایا جا رہا ہے لیکن وقوع طلاق سے یہ کیا بنے گا؟ مانع اور انت طالق اس وقت پایا جائے تو کیا اس اجنبیہ کو طلاق وہ دے سکتا ہے؟ صرف اکیلا انت طالق کہے تو بھی طلاق لغو چلی جاتی ہے۔ تو اس وقت بھی سبب تو پایا جا رہا ہے لیکن ملک نکاح ہی نہیں ہے بھئی، تو یہ سبب ہی سبب نہیں بن سکتا بھئی، یہ لغو چلا گیا بھئی۔ کیا ہوا یہ؟ لغو چلا گیا۔ کیونکہ ان کے نزدیک ضابطہ کیا ہے؟ شرط کس چیز سے مانع ہوتی ہے؟ حکم سے مانع ہوتی ہے، سبب سے مانع نہیں ہوتی۔ سبب گویا ابھی پایا جا رہا ہے انت طالق اور یہ شخص حق رکھتا ہے کہ اس اجنبیہ کو انت طالق کہے؟ یہ تو انت طالق کہنے کا حق ہی نہیں رکھتا بھئی، تو لہذا جب اس کو انت طالق سے اس وقت طلاق واقع کرنے کا حق نہیں ہے تو اس کو معلق کرنے کا بھی حق نہیں ہے، کیونکہ سبب تو ابھی ہی پایا جا رہا ہے اور اس وقت تو ملک نکاح نہیں ہے، جب ملک نکاح نہیں سبب ہے، تو اس سبب کا کوئی اعتبار ہی نہیں ہے، یہ سبب بنے گا ہی نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اپنی بیوی ہو، اسے انت طالق تو کہہ سکتا ہے انسان، لیکن اجنبیہ ہے تو وہاں انت طالق طلاق کا سبب ہی نہیں بنے گا، کیونکہ ملکیت ہی نہیں۔ تو انت طالق وہیں پر صحیح ہو گا جہاں ملکیت بھی ہو۔ تو یہاں پر بھی انت طالق تو ہے گویا، سبب تو ہے، اور یہ سبب سبب اس وقت بن ہی نہیں سکتا کیونکہ ملک نکاح نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ اسی طرح غلام سے کہا، کیا کہا؟ ان ملکتک فانت حر، اگر میں تیرا مالک بنا تو تو آزاد ہے۔ اب امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک انت حر تو ابھی سبب موجود ہے اور حریت جو وقوع حریت جو ہے جو اس کا حکم ہے، وہ نہیں پایا جائے گا۔ لیکن اس وقت تو سبب سبب بن ہی نہیں سکتا بھئی، کیونکہ اسے اس پر ملکیت ہی حاصل نہیں بھئی۔ اب صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ جبکہ ہمارے نزدیک، یہ سبب اس وقت پایا ہی نہیں جا رہا، یہ سبب پایا ہی کب جائے گا؟ جب شرط پائی جائے گی۔ اور شرط اس نے کیا ذکر کی ہے؟ ان ملکتک، جب مالک ہوگا، اور جب مالک ہوگا اس وقت انت حر پایا جائے گا اور اس وقت وہ سبب بنے گا یا نہیں بنے گا؟ اس وقت سبب بن جائے گا بھئی۔ اسی طرح عورت سے کہا ان نکحتک فانت طالق، تو یہاں پر انت طالق اس وقت ہمارے نزدیک گویا ہے ہی نہیں، یہ پایا ہی کس وقت جائے گا؟ جب شرط، جب اس سے نکاح کرے گا، اور جب نکاح کرے گا تو اس وقت کیا پایا گیا؟ انت طالق کا لفظ پایا گیا اور پھر جب وہ پایا گیا تو اس سے کیا ہو جائے گی؟ طلاق واقع ہو جائے گی۔ صورت اچھی طرح واضح ہو گئی؟ جی ہاں۔ یہ معنی ہے حتٰی ابطل تعلیق الطلاق والعتاق بالملک، یہاں تک کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے ملکیت کے ساتھ طلاق کی تعلیق اور عتاق کی تعلیق کو باطل قرار دیا ہے۔ تفریع لما ذھب الیہ الشافعی رحمہ اللہ، یہ تفریع ہے اس کی جس کی طرف امام شافعی رحمہ اللہ گئے ہیں۔ ای اذا قال لاجنبیۃ، جب کہا کسی شخص نے اجنبیہ سے ان نکحتک فانت طالق، اگر میں نے تجھ سے نکاح کیا تو تجھے طلاق ہے، او ان ملکتک فانت حرۃ، یا کسی غیر کی باندی سے کہا ان ملکتک فانت حرۃ، اگر میں تیرا مالک ہوا تو تو آزاد ہے، یبطل ھذا الکلام عندہ، تو یہ کلام باطل ہو جائے گا امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، لانھ قد وجد السبب، اسی کیونکہ سبب پایا گیا، کیونکہ شرط صرف کس چیز سے مانع ہے؟ حکم سے، اور سبب تو پایا جا رہا ہے، گویا انت طالق یا انت حرۃ پایا جا رہا ہے۔ اور وہ اپنے محل سے ملاقات نہیں کر رہا۔ اس کا محل کیا تھا؟ ملکیت، انت حرۃ اسی کو کہہ سکتا ہے جس کے جو اس کی مملوکہ ہو، اور انت طالق اسی کو کہہ سکتا ہے جو اس کی بیوی ہے یعنی اس کی منکوحہ یعنی جس میں اسے ملک نکاح ہے۔ تو سبب تو پایا جا رہا ہے اور اس کا محل اس وقت نہیں پایا جا رہا، تو لہذا اس کا کلام کیا ہو جائے گا؟ لغو ہو جائے گا۔ لانھ قد وجد السبب، اسی کیونکہ سبب پایا گیا، وھو قولہ انت طالق وانت حرۃ، اور وہ اس کہنے والے کا قول انت طالق اور انت حرۃ ہے، یہ سبب ہے، یہ تو پایا گیا۔ ولم يتصل ولم يصادف المحل، صادف يصادف کے معنی ہوتے ہیں ملاقات کرنا، ولم يتصل اور یہ ملا نہیں، ولم يصادف المحل اور اس نے اپنے محل سے ملاقات نہیں کی، یعنی یہ ملک میں واقع نہیں ہوا یہ کلام اپنی ملک میں، فيلغو، تو یہ کیا ہو جائے گا؟ لغو ہو جائے گا۔ فصار کما اذا قال لاجنبیۃ، تو یہ اسی طرح ہو جائے گا جیسے اس نے کسی اجنبیہ سے کہا ہو ان دخلت الدار فانت طالق، اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، وھو باطل بالاتفاق، اور یہ تو بالاتفاق باطل ہے اجنبیہ سے یہ کہنا، تو یہاں بھی کہتے ہیں اسی طرح صورت بن جائے گی۔ وجوز التکفیر بالمال قبل الحنث، اور امام شافعی رحمہ اللہ نے جائز قرار دیا ہے مال کے ساتھ کفارہ دینے کو قبل الحنث، حانث ہونے سے پہلے۔ بھئی دیکھئے، قسم کا کفارہ، قسم کا کفارہ کیا ہے؟ کہ ایک غلام یا باندی کو آزاد کیا جائے یا 10 مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے یا ان کو کپڑے پہنائے جائیں، اور اگر ان دونوں کی قدرت نہ ہو تو پھر 3 مسلسل روزے رکھے جائیں۔ اگر ان کی قدرت نہ ہو، اگر ان کی قدرت ہے پھر روزوں کی اجازت نہیں بھئی۔ تو یہ کفارہ ہے۔ اب اس میں 3 چیزیں ذکر ہوئیں، غلام کا آزاد کرنا یہ بھی مالی کفارہ ہوا، اور مسکینوں کو کھانا کھلانا یہ بھی کیا ہے؟ مالی کفارہ ہے، اور 3 روزے رکھنا یہ تو بدنی کفارہ، بدنی عبادت ہو گئی بھئی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر کوئی شخص حانث ہونے سے پہلے ہی کفارہ بالمال دے، مال کے ساتھ کفارہ ادا کرے تو یہ جائز ہے۔ یہ جائز ہے۔ روزے تو پہلے نہیں رکھ سکتا بھئی حانث ہونے سے پہلے، لیکن حانث ہونے سے پہلے ہی کیا کر دیتا ہے؟ کفارہ بالمال، غلام یا باندی آزاد کر دیتا ہے یا 10 مسکینوں کو کھانا کھلا دیتا ہے یا ان کو کپڑے پہنا دیتا ہے، تو وہ فرماتے ہیں یہ جائز ہے اور یہ کفارہ بن جائے گا، چنانچہ حانث ہونے کے بعد دوبارہ کفارہ نہیں دینا پڑے گا، یہی کفارہ کافی ہو جائے گا۔ جبکہ احناف کا مذہب یہ ہے کہ حانث ہونے سے پہلے کفارہ دینا جائز ہی نہیں۔ لہذا اگر پہلے دے بھی دیا، وہ کفارہ شمار ہی نہیں ہوگا، حانث ہونے کے بعد دوبارہ کفارہ ادا کرنا پڑے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ جی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ جو ہیں، مال کے ساتھ کفارہ دینے کو جائز قرار دیتے ہیں قبل الحنث حانث ہونے سے پہلے ہی۔ تفریع اخر لہ، یہ دوسری تفریع ہے امام شافعی رحمہ اللہ کی، ای اذا حلف واللہ لا افعل کذا، اگر ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں یہ کام نہیں کروں گا، ولم يحنث بعد، اور اس کے بعد وہ حانث بھی نہیں ہوا یعنی ابھی اس نے قسم بھی نہیں توڑی، وکفر بالمال، اور اس نے کفارہ دیا مال کے ساتھ، يصح عندہ، تو صحیح ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، ويعبأ بھا، اور اس کا اعتبار کیا جائے گا بعد الحنث، حانث ہونے کے بعد بھی، یعنی یہی کافی ہو جائے گا، حانث ہونے کے بعد بھی اس کا اعتبار کیا جائے گا۔ لانھ قد وجد السبب، اسی کیونکہ تحقیق سبب پایا گیا، وھو الیمین، اور وہ قسم ہے۔ بھئی یاد رکھئے، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جو کفارہ آیا، اس کفارے کا سبب یمین ہے، قسم ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک کفارے کا سبب حانث ہونا ہے۔ تو ان کے نزدیک جب قسم کھا لی تو سبب پایا گیا، اور جب سبب پایا جائے تو کفارہ دینا صحیح ہو جائے گا بھئی۔ کفارہ دینا صحیح ہو جائے گا، جبکہ ہمارے نزدیک کفارے کا سبب کیا ہے؟ حانث ہونا، اور ابھی حانث ہونا سبب ہی نہیں ہے، تو لہذا کفارہ ادا کرے تو وہ ادا بھی نہیں ہو گا۔ لانھ قد وجد السبب، اسی کیونکہ سبب پایا گیا، وھو الیمین، اور وہ قسم ہے، اذ عندہ الیمین سبب للکفارۃ، اسی کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک قسم وہ کفارے کا سبب ہے، والحتث شرط لھا، اور حانث ہونا اس کے لیے شرط ہے بھئی، یہ شرط ہے۔ والتعلیق بالشرط مقدر، بھئی حانث ہونا اس کے لیے شرط ہے، کس طرح شرط ہے؟ کہتے ہیں بھئی تقدیرًا، تقدیرًا گویا اس نے یوں کہا، یہ دیکھیے آگے ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں والتعلیق بالشرط مقدر، اور تعلیق بالشرط جو ہے مقدر ہے، فکانھ قال، گویا کہ اس شخص نے یوں کہا فکانھ قال الحالف، گویا کہ قسم کھانے والے نے یوں کہا ان حنثت فعلی کفارۃ یمین، اگر میں حانث ہو گیا تو مجھ پر قسم کا کفارہ ہے۔ اگر میں حانث ہو گیا تو مجھ پر قسم کا کفارہ ہے۔ تو سبب تو پایا گیا، سبب کیا ہے کفارے کا ان کے نزدیک؟ قسم، قسم پائی گئی، تو لہذا اس کے بعد اس کو ادا کرنا صحیح ہو جائے گا۔ فاذا وجد السبب يصح الحکم مرتبا علیہ، پس جب سبب پایا جائے تو صحیح ہے تو صحیح ہے حکم اس حال میں کہ اس پر مرتب ہو یعنی اس پر مرتب، تو اس پر مرتب ہو کر حکم بھی صحیح ہو گا۔ جب سبب صحیح ہے، جب سبب پایا گیا ہے تو اس پر مرتب ہو کر حکم بھی صحیح ہو جائے گا۔ کہتے ہیں جیسے احناف آپ کا بھی تو یہی مذہب ہے، سبب پایا جائے تو حکم صحیح ہو جاتا ہے۔ مثلاً آپ کے نزدیک زکوٰۃ کا سبب وہ نصاب کے بقدر مال کا مالک ہونا ہے۔ زکوٰۃ کا سبب کیا ہے؟ نصاب کے بقدر مال کا مالک ہونا، اور شرط حولان حول ہے، سال کا گزرنا۔ لہذا ایک شخص سال کے شروع میں نصاب کے بقدر مال کا مالک ہوا تو سبب پایا گیا لیکن ابھی شرط پوری نہیں، شرط پوری ہو گی جب سال گزر جائے اور وہ مال اس کے پاس موجود ہے نصاب کے بقدر، تو اب زکوٰۃ کیا ہوگی؟ اسے ادا کرنا پڑے گی۔ لیکن اگر وہ سال کے بیچ میں ہی کسی وقت زکوٰۃ ادا کر دیتا ہے، تو عند الاحناف زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، کیونکہ سبب زکوٰۃ کا پایا گیا، اگرچہ ابھی شرط نہیں پائی گئی لیکن سبب تو پایا گیا بھئی، نصاب بھئی، نصاب پایا گیا ہے بھئی، نصاب پایا گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ تو جیسے وہاں سبب کے ہوتے ہوئے حکم کا ہونا صحیح تھا، یہاں بھی سبب کے ہوتے ہوئے کفارے کا ادا ہونا صحیح ہے بھئی۔ وعندنا الیمین سبب للبر، اور ہمارے نزدیک قسم جو ہے وہ سبب ہے پورا کرنے کا، قسم بھئی وہ ہمارے نزدیک حانث ہونے کا سبب نہیں ہے، قسم تو کس چیز کا سبب ہے؟ پورا کرنے کا، قسم کس لیے کھائی جاتی ہے؟ تاکہ اس کو پورا کیا جائے۔ وانما ینعقد سببا للکفارۃ بعد الحنث، اور یہ قسم منعقد ہو گی سبب ہو کر کفارے کے لیے حانث ہونے کے بعد، یعنی کفارے حانث ہونے کے بعد یہ کفارے کے لیے سبب بنے گی، اس سے پہلے یہ سبب نہیں، فکان الحنث سببا لھا، تو حنث، حانث ہونا وہ اس کفارے کے لیے سبب ہو گا۔ تو ہمارے نزدیک حانث ہونا سبب ہے، اور حانث ہونے سے پہلے کفارہ ادا کرے تو سبب سے پہلے حکم پایا گیا اور سبب سے پہلے تو حکم نہیں پایا جا سکتا، وہ ادا نہیں ہو گا۔ وانما قید بالمال، اور ماتن نے جو ہے مال کی قید لگائی یا امام شافعی رحمہ اللہ نے، وانما قید بالمال، اور امام شافعی رحمہ اللہ نے تکفیر کو مال کے ساتھ مقید کیا ہے کہ کفارہ بالمال حانث ہونے سے پہلے دے سکتا ہے، معلوم ہوا روزے اس سے پہلے نہیں رکھ سکتا، تو یہ مال کی قید کیوں لگائی؟ وہ وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں وانما قید بالمال، اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اس تکفیر کو مال کے ساتھ مقید کیا ہے لان نفس الوجوب ینفک عن وجوب الاداء فیہ علی زعمھ، اسی کیونکہ نفس وجوب جو ہے وہ جدا ہو جاتا ہے عن وجوب الاداء، وجوب ادا سے فیہ ای فی المال، کس کے اندر؟ مال کے اندر، علی زعمھ، ان کے گمان کے مطابق بھئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیکھیے، نفس وجوب وجوب ادا سے جدا ہو جاتا ہے مال کے اندر۔ نفس وجوب اور وجوب ادا، بھئی نفس وجوب یہ جیسے ہی آپ کسی کے ساتھ یہ بیع کرتے ہیں ایجاب و قبول ہوتا ہے، ایجاب و قبول کرتے ہی مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے اور اس پر اس کے ثمن واجب ہو جاتے ہیں بھئی۔ تو یہ ہے نفس وجوب، ثمن کا وجوب اس پر آ گیا، ثمن اس پر واجب ہو گئے۔ لیکن ادائیگی ابھی ضروری نہیں، ادائیگی تب واجب ہو گی جب وہ بائع مطالبہ کرے اور کہے لاؤ بھئی پیسے دے دو، تو جب وہ مطالبہ کرے گا تو ادا بھی واجب ہو جائے گی، اب ادائیگی اس پر کیا ہو گئی؟ واجب ہو گئی۔ تو یہ ہے وجوب ادا، ادا کا واجب ہونا۔ تو نفس وجوب اور چیز ہے، وجوب ادا اور چیز۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیکھو بیع مالی عقد ہے اور اس کے اندر وجوب ادا نفس ادا سے جدا ہو سکتا ہے، مثلاً آپ اور میں بیع کرتے ہیں اور بیع میں ہی طے کر لیتے ہیں، میں آپ سے کہتا ہوں کہ بھئی میں ایک ماہ کے بعد پیسے ادا کروں گا۔ تو ایک ماہ جب تک پورا نہیں ہوتا، اس وقت تک مجھ پر وجوب ادا نہیں، نفس وجوب تو عقد کرتے ہی مجھ پر آ گیا لیکن وجوب ادا کب آئے گا؟ ایک ماہ بعد۔ تو کہتے ہیں دیکھو مال کے اندر نفس وجوب سے وجوب ادا الگ ہو جایا کرتا ہے، جبکہ بدنی جو عبادتیں ہیں ان کے اندر نفس وجوب وجوب ادا سے جدا نہیں ہوتا، جیسے ہی ظہر کا وقت آتا ہے ظہر کی نماز واجب ہو جاتی ہے، وجوب نفس وجوب آتا ہے اور نفس وجوب کے ساتھ ہی وہاں پھر وجوب ادا بھی آ جاتا ہے، تو باقی بدنی عبادتوں کے اندر نفس وجوب وجوب ادا سے جدا نہیں ہوتا جبکہ مال کے اندر نفس وجوب سے وجوب ادا جدا ہو جاتا ہے۔ وانما قید بالمال، اور مقید کیا ہے اس کفارے کو مال کے ساتھ لان نفس الوجوب ینفک عن وجوب الاداء فیہ، اسی کیونکہ نفس وجوب وہ جدا ہو جاتا ہے وجوب ادا سے مال کے اندر علی زعمھ، امام شافعی رحمہ اللہ کے گمان پر، کالثمن المؤجل، جیسے کہ وہ ثمن مؤجل یعنی وہ ثمن جس کی مدت مقرر ہو، یثبت نفس وجوبھ بمجرد الذمۃ، ثابت ہو جاتا ہے نفس وجوب محض ذمہ سے ہی، اس کے ذمے سے ہی کیا ہو جاتا ہے؟ محض نفس، نفس وجوب اس پر آ جاتا ہے، ولا يثبت وجوب الاداء اور وجوب ادا ثابت نہیں ہوتا الا عند حلول الأجل، حلول کا معنی وقت ہونا، اجل مدت۔ اور لیکن وجوب ادا نہیں ہوگا، وہ ثابت نہیں ہوگا مگر عند حلول الأجل، مدت کے وقت ہونے پر۔ ففي الكفارة المالية أيضا۔ تو دیکھو! مال کے اندر نفس وجوب سے وجوب ادا جدا ہو جاتا ہے۔ ففي الكفارة المالية أيضا يمكن أن يثبت نفس الوجوب بالحلف، کہ نفس وجوب جو ہے وہ ثابت ہو جائے قسم کے ساتھ۔ کفارۂ مالیہ میں بھی کیا ممکن ہے؟ کہ ثابت ہو جائے۔ نفس وجوب تو، بھئی دیکھئیے۔ ان کے نزدیک کفارے کا سبب کیا چیز ہے؟ یمین سبب ہے۔ اور سبب آتا ہے تو سبب کے آتے ہی کیا آ جاتا ہے؟ نفس وجوب آ جاتا ہے۔ تو نفس وجوب تو کفارے کا اسی وقت آ گیا اور وجوب ادا کب آئے گا؟ حانث ہونے کے بعد۔ حانث ہونے کے بعد بھئی۔ بھئی، ایک ہے سبب۔ سبب کے آتے ہی وجوب آ جایا کرتا ہے۔ جیسے نماز کے لیے سبب کیا ہے؟ وقت ہے۔ تو ہر نماز کا وقت اس کے وجوب کا سبب ہے۔ جیسے ہی ظہر کا وقت آئے گا، ظہر کی نماز آپ پر واجب۔ جیسے ہی عصر کا وقت آئے گا، عصر کی نماز آپ پر واجب۔ جیسے ہی مغرب کا وقت آئے گا، مغرب کی نماز آپ پر، یہ ہے نفس وجوب۔ اور یہ عبادت ہے اور عبادت میں نفس وجوب کے ساتھ ہی فوراً کیا آ جاتا ہے؟ وجوب ادا بھی آ جاتا ہے۔ تو لہٰذا وہاں ادائیگی بھی پھر فوراً، فوری ضروری ہوتی ہے بھئی، اس وقت کے اندر ہی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو بھئی، جب سبب پایا جائے تو نفس وجوب آ جاتا ہے۔ تو یہاں پر بھی کفارے کا سبب کس کو وہ قرار بناتے ہیں؟ قسم کو۔ تو قسم تو پائی گئی ہے، تو اس میں بھی یہاں وہ کہتے ہیں نفس وجوب آ چکا ہے۔ اور وجوب ادا کب آئے گا؟ حانث ہونے کے بعد۔ جب نفس وجوب آ چکا ہے، تو کفارہ بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ففي الكفارة المالية أيضا يمكن، پس کفارۂ مالیہ کے اندر بھی ممکن ہے أن يثبت نفس الوجوب بالحلف، کہ ثابت ہو جائے نفس وجوب قسم سے ہی۔ ووجوب الاداء يكون بعد حنثه، اور وجوب ادا کب ہوگا؟ حانث ہونے کے بعد۔ بخلاف البدنية، بخلاف بدنی کے، یعنی روزے وغیرہ کے۔ فإن نفس الوجوب لا ينفك عنه وجوب الاداء، بخلاف بدنی عبادت کے، کہ اس میں نفس وجوب جدا نہیں ہوتا وجوب ادا سے۔ فيكونان معا بعد الحنث، پس یہ دونوں اکٹھے ہی ہوں گے حانث ہونے کے بعد۔ یعنی اگر روزے کے ساتھ کفارہ دینا چاہتا ہے، وہاں تو نفس وجوب وجوب ادا سے جدا نہیں ہو سکتا۔ تو لہٰذا وہاں پر حانث ہونے کے بعد ہی، جب شرط پوری ہو جائے گی، نفس وجوب بھی آ جائے گا اور وجوب ادا بھی آ جائے گا۔ تو لہٰذا بدنی عبادت یعنی کفارہ، یعنی روزہ رکھنا چاہتا ہے، وہ حانث ہونے کے بعد رکھ سکتا ہے۔ وہ کفارہ، حانث ہونے سے پہلے نہیں۔ ونحن نقول، اور ہم کہتے ہیں: هذا الفرق ساقط، یہ فرق ساقط ہے۔ اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ لأن ذات المال إنما تقصد في حقوق العباد، کیونکہ ذات مال جو ہے، اس کا ارادہ کیا جاتا ہے حقوق العباد میں۔ ہم کہتے ہیں بھئی، آپ نے کفارے کو قیاس کیا کس پر؟ بیع پر۔ بھئی، وہ تو بیع وغیرہ میں، جو مال میں نفس وجوب وجوب ادا سے جدا ہوتا ہے، وہ حقوق العباد کے اندر ہے بھئی۔ کس کے اندر؟ حقوق العباد کے اندر نفس وجوب وجوب ادا سے جدا ہو جاتا ہے۔ لیکن حقوق اللہ کے اندر نفس وجوب وجوب ادا سے جدا نہیں ہوتا بھئی۔ نفس وجوب، اس لیے، وجہ اس کی یہ ہے بھئی، حقوق العباد کے اندر نفس وجوب وجوب ادا سے اس لیے جدا ہو جاتا ہے، کیونکہ وہاں مال ہی مقصود ہوتا ہے۔ بندے کا مقصود ہی کیا ہوتا ہے وہاں پر؟ مال مقصود ہوتا ہے۔ جبکہ حقوق اللہ کے اندر، ہم زکوۃ دیتے ہیں، یہاں مال مقصود نہیں ہے، یہ ادا والا فعل مقصود ہے۔ کیا فعل مقصود ہے؟ اللہ کو ہمارے مال کی کوئی حاجت نہیں، تو یہاں مال مقصود نہیں، بلکہ کیا مقصود ہے؟ ادا، یہ ادا والا فعل پایا جانا چاہیے بھئی۔ تو جب یہاں حقوق العباد سے یہ فرق آ گیا، حقوق العباد میں مال مقصود ہوتا ہے اور حقوق اللہ میں ادا مقصود ہوتی ہے۔ تو لہٰذا اس کو قیاس کرنا حقوق اللہ پر درست نہیں۔ وہاں تو نفس وجوب وجوب ادا سے جدا ہو جائے گا، لیکن یہاں تو ادا کا فعل مقصود ہے، لہٰذا یہاں نفس وجوب وجوب ادا سے جدا نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ونحن نقول، ہم کہتے ہیں: هذا الفرق ساقط، یہ فرق ساقط ہے۔ لأن ذات المال إنما تقصد في حقوق العباد، اسی کیونکہ ذات مال جو ہے وہ اس کا ارادہ کیا جاتا ہے حقوق العباد کے اندر۔ وأما في حقوق الله تعالى، اور باقی اللہ کے حقوق میں، فالمقصود هو الاداء، مقصود جو ہے وہ ادا ہوتی ہے۔ فيكون كالمدني، تو یہ بھی کس کی طرح ہوا؟ یہ کفارۂ مال بھی کس کی طرح، کفارہ بالمال بھی کس کی طرح ہوا؟ بدنی کی طرح ہی ہوا۔ لا ينفك فيه نفس الوجوب عن وجوب الاداء، جدا نہیں ہوگا اس میں نفس وجوب وجوب ادا سے بھئی۔ اور وجوب ادا تو آپ بھی مانتے ہیں حانث ہونے کے بعد آتا ہے۔ تو لہٰذا نفس وجوب بھی حانث ہونے کے بعد ہی آئے گا بھئی، اس سے پہلے نہیں آئے گا بھئی۔ خلاصہ ایک دفعہ پھر سن لیں، انشاء اللہ اس سے بات بالکل واضح ہو جائے گی۔ اگر کوئی اشتباہ وغیرہ ہے، انشاء اللہ وہ بھی ختم ہو جائے گا بھئی۔ بھئی دیکھئیے! یہاں پر ذکر یہ ہوا کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جب کسی چیز کے ساتھ کوئی خاص وصف ذکر کیا جائے یا اس کے ساتھ کوئی شرط ذکر کی جائے، یعنی اس کو شرط کے ساتھ معلق کر دیا جائے، تو اس صورت میں وہ وصف موجود ہوگا تو حکم بھی موجود ہوگا۔ اسی طرح وہ شرط موجود ہوگی تو حکم پایا جائے گا۔ اور اگر شرط نہیں تو حکم بھی نہیں، یہ وہ مفہوم مخالف کا یہاں اعتبار کرتے ہیں کہ شرط نہیں ہے تو حکم بھی نہیں ہے۔ اسی طرح وصف بھی شرط کے درجے میں ہے، تو لہٰذا اگر وہ وصف خاص نہیں ہوگا تو وہ حکم بھی نہیں ہوگا بھئی۔ دوسری بات وہ یہ اعتبار کرتے ہیں کہ یہ جو شرط ہوتی ہے، یہ حکم سے مانع ہوتی ہے، سبب سے مانع نہیں ہوتی بھئی۔ مثلاً شوہر اپنی بیوی سے کہتا ہے: انت طالق، تو اس صورت میں یہ انت طالق، یہ ہے سبب اور وقوعِ طلاق، یہ اس کا حکم ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے: ان دخلت الدار فانت طالق، اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ تو یہاں اس نے طلاق کو معلق کر دیا شرط کے ساتھ اور شرط مانع ہوتی ہے ان کے نزدیک حکم سے، نہ کہ سبب سے۔ تو ان کے نزدیک گویا انت طالق اس وقت موجود ہے، لیکن اس کا حکم یعنی وقوعِ طلاق نہیں ہو رہا، کس وجہ سے؟ کیونکہ شرط نہیں پائی جا رہی بھئی۔ کیونکہ شرط نہیں پائی جا رہی۔ تو لہٰذا معلوم ہوا، یہ جو عدم ہے، یہ عدمِ شرعی ہے بھئی۔ کون سا عدم ہے؟ یعنی انت طالق تو موجود، لیکن حکم نہیں آ رہا۔ کیوں نہیں آ رہا حکم؟ کیونکہ شرط نہیں پائی جا رہی۔ تو لہٰذا انت طالق سبب موجود ہے اور حکم نہیں آ رہا، تو یہ عدمِ شرعی ہوا، یعنی شریعت اس کا اعتبار نہیں کرتی۔ انت طالق موجود ہے، لیکن شریعت اس کا اعتبار نہیں کرتی، یعنی اس کی وجہ سے اس کا حکم نہیں، تو یہ ایک باقاعدہ شرعی حکم ہوا بھئی۔ کیا ہوا؟ شرعی حکم ہوا بھئی۔ اور لہٰذا جب یہ ایک شرعی حکم ہے، تو یہ شرعی حکم قیاس کے ذریعے دوسری جگہ بھی متعدی کیا جا سکتا ہے، دوسری جگہ بھی ثابت کیا جا سکتا ہے بھئی۔ قیاس میں بھی کیا کیا جاتا ہے؟ ایک شرعی حکم جو ایک چیز کا شرعی حکم ہے، اس کو دوسری چیز کی طرف متعدی کر دیا جاتا ہے، دوسری چیز پر بھی وہی شرعی حکم لگا دیا جاتا ہے علتِ جامعہ کی وجہ سے، یعنی ایسی علت جو دونوں کے اندر پائی جا رہی ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں پر یہ عدمِ شرعی ہے بھئی، وہ سبب موجود ہے، لیکن حکم نہیں آ رہا، حکم کا شریعت اعتبار نہیں کر رہی کیونکہ شرط نہیں پائی جا رہی۔ جبکہ ہمارے نزدیک جو ہے شرط جو ہوتی ہے، حکم کے ساتھ ساتھ سبب کے لیے بھی مانع ہوتی ہے۔ حکم کے لیے بھی مانع اور سبب کے لیے بھی مانع، لہٰذا جب شوہر نے اپنی بیوی سے کہا: ان دخلت الدار فانت طالق، اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ تو یہاں پر یہ شرط مانع بن گئی سبب سے ہی۔ یہ انت طالق یہاں سبب ہی نہیں بنے گا سرے سے، اس لیے کیونکہ شرط نہیں پائی جا رہی۔ تو یہ سبب ہی نہیں، تو یہ گویا کہ موجود ہی نہیں ہے۔ جب شرط پائی جائے گی، دخولِ دار پایا جائے گا، تو اس وقت پھر یہ انت طالق بھی پایا جائے گا اور پھر اس کی وجہ سے اس وقت طلاق بھی واقع ہو جائے گی بھئی۔ تو ہمارے نزدیک یہ عدم عدمِ اصلی ہے۔ عدمِ اصلی میں نے بتلایا کسے کہتے ہیں کہ ایک چیز کا سرے سے وجود ہی نہ ہو۔ پھر اس کے بعد جب وجود آ گیا۔ تو یہ جو وجود سے پہلے ہے، یہ ہے عدمِ اصلی۔ وجود کے بعد پھر ختم ہو جائے وہ چیز، تو بھی عدم آ جائے گا، لیکن وہ عدم پھر عدمِ اصلی نہیں ہے۔ تو یہاں پر ہمارے نزدیک سبب پایا ہی نہیں جا رہا، شرط اس کے سبب بننے سے ہی مانع ہو گئی، تو گویا اس کا وجود ہی نہیں، تو یہ عدمِ اصلی ہے۔ جب یہ عدمِ اصلی ہے، تو لہٰذا اس کو متعدی بھی نہیں کیا جائے گا بھئی، کیونکہ متعدی تو کس کو کیا جاتا ہے؟ شرعی حکم کو ایک چیز سے دوسری چیز کی طرف متعدی کیا جاتا ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ ایک شرعی حکم ہے، لہٰذا اس کو باقاعدہ متعدی کیا جا سکتا ہے، جبکہ ہمارے نزدیک یہ عدمِ اصلی ہے، ایک چیز کا وجود ہی نہیں ہے، ایک حکم ہے ہی نہیں سرے سے، تو اس کو متعدی کیا کیا جائے گا ایک چیز سے دوسری چیز کی طرف بھئی؟ فرق سمجھ میں آ گیا؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک شرط مانع ہوتی ہے صرف کس چیز سے؟ حکم سے۔ جبکہ ہمارے نزدیک شرط مانع ہوتی ہے حکم اور سبب دونوں سے، تو گویا سبب پایا ہی نہیں گیا سرے سے بھئی۔ تو چنانچہ اسی پر پھر تفریع کرتے ہوئے کہا آگے مصنف نے کہ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی اجنبیہ سے کہے: ان ملکك، ان نکحتك فانت طالق، اگر میں تجھ سے نکاح کر لوں تو تجھے طلاق ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر یہ شرط کس چیز سے مانع بنے گی؟ حکم سے۔ اور سبب سے مانع نہیں، سبب پایا جائے گا۔ اور سبب پایا گیا انت طالق اس وقت، اور انت طالق اس وقت سبب بن ہی نہیں سکتا، کیونکہ وہ عورت اس کی منکوحہ ہی نہیں ہے۔ اجنبیہ کو انت طالق وہ کہہ ہی نہیں سکتا۔ شرط کو ہٹا دیں ذرا بالکل سرے سے، اس عورت اجنبیہ کو اگر وہ انت طالق کہے تو اس کا کوئی اعتبار ہوگا؟ کوئی طلاق واقع ہوگی؟ نہیں، کیونکہ یہ اس وقت محل ہی نہیں ہے، عورت اس کے نکاح میں ہی نہیں، تو یہ لغو، جیسے انت طالق جب، انت طالق صرف اکیلا کہے بغیر شرط کے تو جیسے وہ لغو چلا جائے گا، اسی طرح یہ تعلیق بھی کیا ہو جائے گی؟ لغو چلی جائے گی، کیونکہ شرط صرف حکم سے مانع ہوتی ہے، سبب سے مانع نہیں، سبب گویا اس وقت بھی موجود ہے، انت طالق گویا اس وقت بھی موجود ہے اور اس وقت اگر انت طالق ہو، وہ تو سبب بن ہی نہیں سکتا، صلاحیت ہی نہیں، کیوں نہیں صلاحیت؟ کیونکہ عورت اس کے منکوحہ ہی نہیں ہے بھئی۔ جبکہ ہمارے نزدیک بھئی، یہ سب، شرط جو ہوتی ہے، وہ سبب اور حکم دونوں سے مانع ہوتی ہے، تو اس وقت گویا انت طالق پایا ہی نہیں گیا۔ ہمارے، بھئی اگر پایا جاتا واقعی، اس نے لغو چلا جانا تھا، کیونکہ یہ عورت اس کی منکوحہ ہی نہیں ہے، لیکن اس وقت یہ پایا ہی نہیں گیا، اس وقت اس نے انت طالق گویا کہا ہی نہیں، کیونکہ شرط مانع ہے اس سے بھئی۔ ہاں، جس وقت وہ اس سے نکاح کر لے گا، اس نے کیا کہا تھا؟ ان نکحتك، اگر میں تجھ سے، تو جب نکاح کر لے گا اس وقت پھر تو مل کے نکاح پائی جائے گی اور پھر اس وقت گویا انت طالق پایا جائے گا اور اس کی وجہ سے کیا واقع ہو جائے گی؟ طلاق واقع ہو جائے گی بھئی۔ صورت اچھی طرح واضح ہو گئی بھئی؟ نیز اسی پر انہوں نے تفریع کرتے ہوئے کہا تھا کہ کفارہ بالمال حانث ہونے سے پہلے ادا کرنا جائز ہے بھئی، کفارہ بالمال۔ بھئی، روزے کا، قسم کا کفارہ جو ہے کہ 10 مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے یا ان کو کپڑے پہنائے جائیں یا ایک غلام یا باندی کو آزاد کیا جائے۔ اور اگر ان کی استطاعت نہ ہو تو پھر 3 مسلسل روزے رکھے جائیں بھئی، 3 مسلسل روزے۔ تو 3 مسلسل روزے، یہ تو بدنی عبادت ہوئی اور یہ جو غلام آزاد کرنا، مسکینوں کو کھانا کھلانا یا ان کو کپڑے پہنانا، یہ مالی عبادت ہے۔ مالی عبادت، تو وہ دونوں کے اندر فرق کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، یاد رکھو! ان کے نزدیک یہ کفارے کا سبب یہاں پر قسم ہے بھئی۔ کیا چیز سبب ہے؟ قسم ان کے نزدیک سبب ہے، اور حانث ہونا اس کے لیے شرط ہے بھئی۔ حانث ہونا اس کے لیے شرط۔ تو قسم جب سبب ہے، تو سبب پایا جا رہا ہے۔ جب سبب پایا جا رہا ہے، تو سبب کی وجہ سے آپ جانتے ہیں نفسِ وجوب آ جایا کرتا ہے۔ جیسے وقت جو ہے نماز کے لیے سبب ہے۔ وقت کیا ہے نماز کے لیے؟ وقت پایا جائے گا، تو نفسِ وجوب آ جائے گا، نفسِ وجوب۔ اور پھر اس کے ساتھ ہی، لیکن عبادت، نماز جو ہے عبادت ہے اور عبادتِ بدنی، یعنی اس میں باقاعدہ افعال و ارکان سر انجام دینا پڑتے ہیں بھئی، تو اس کے اندر نفسِ وجوب وجوبِ ادا سے جدا نہیں ہو سکتا بھائی। تو جوں ہی نفسِ وجوب آئے گا، ساتھ ہی کیا آ جائے گا؟ وجوبِ ادا بھی آ جائے گا بھئی، کہ ادا کرو اس کو، مطالبہ آ جائے گا من جانب اللہ بھئی، حکم آ جائے گا اللہ کی طرف سے کہ اس کو اب کیا کرو؟ ادا کرو، تو ادائیگی بھی واجب ہو جائے گی بھئی، ادائیگی بھی واجب۔ تو ان کے نزدیک جو ہے، قسم کا اس، جو کفارے کا سبب ہے، وہ قسم ہے اور حانث ہونا اس کے لیے شرط ہے۔ تو لہٰذا اگر کوئی شخص یہ کفارہ بالمال حانث ہونے سے پہلے ہی ادا کرنا چاہے، تو ادا ہو جائے گا بھئی، اس لیے کیونکہ سبب موجود ہے اور جب سبب موجود ہو، تو نفسِ وجوب آ چکا ہے اس شخص پر کفارے کا۔ نفسِ وجوب، اور جب نفسِ وجوب آ چکا ہے، تو سبب پایا جا چکا ہے، تو لہٰذا اب اس کی ادائیگی بھی کرے گا، تو ادا ہو جائیں گے، جیسے بھئی، احناف کے نزدیک زکوۃ کا نفسِ وجوب جو ہے وہ کس سے آتا ہے؟ نصاب کے بقدر مال کا مالک ہونے سے، نفسِ وجوب آ جاتا ہے اور سال کا گزرنا اس کے لیے شرط ہے، تو لہٰذا اگر سال گزرنے سے پہلے ہی کوئی شخص زکوۃ ادا کرتا ہے، تو وہ زکوۃ ادا ہو جائے گی، کیونکہ نفسِ وجوب پایا گیا، سبب پایا گیا ہے جس کی وجہ سے نفسِ وجوب آ چکا، لہٰذا وہ ادا ہو جائے گی بھئی۔ تو وہ فرماتے ہیں، یہاں پر بھی اسی طرح سبب موجود ہے، قسم ہے سبب، وہ سبب موجود ہے، حانث ہونے سے پہلے ہی وہ کفارہ دیتا ہے، تو نفسِ وجوب پایا گیا تھا، لہٰذا کیا ہو جائے گا؟ ادا ہو جائے گا۔ وہ دراصل اس کو قیاس کرتے ہیں بیع وغیرہ پر بھئی، کہ بیع وغیرہ کے اندر دیکھئیے، نفسِ وجوب وجوبِ ادا سے جدا ہو جاتا ہے۔ بیع وغیرہ میں نفسِ وجوب وجوبِ ادا سے جدا ہو جاتا ہے۔ آپ کو میں نے بتلایا کہ اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ بیع کرتا ہے، تو ایجاب و قبول کرتے ہی اس پر ثمن کا وجوب آ گیا، ثمن اس پر واجب ہو گئے۔ لیکن ادائیگی ضروری نہیں، ادائیگی اس وقت واجب ہوگی جب وہ مطالبہ کرے گا۔ لہٰذا اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ بیع کرتا ہے، ایجاب و قبول کرتا ہے اور اس میں یہ طے کر لیتے ہیں کہ پیسے وہ ایک مہینے کے بعد دے گا، تو دیکھئیے، عقد کرتے ہی نفسِ وجوب آ گیا اور وجوبِ ادا کب آئے گا؟ ایک مہینے کے بعد جب مدت پوری ہو جائے گی۔ تو وہ فرماتے ہیں: دیکھو! مال کے مسئلے میں نفسِ وجوب وجوبِ ادا سے علیحدہ ہو جاتا ہے۔ تو یہاں بھی کفارہ بالمال ادا کر رہا ہے، مال کی بات ہے اور مال کے اندر نفسِ وجوب وجوبِ ادا سے جدا ہو جاتا ہے۔ لہٰذا یوں کہا جائے کہ قسم کی وجہ سے نفسِ وجوب آیا تھا اور حانث ہونے کی وجہ سے وجوبِ ادا آئے گا بھئی، حانث ہونے کی وجہ سے وجوبِ ادا آئے گا۔ تو نفسِ وجوب جب آ چکا ہے، تو اس وقت وہ ادائیگی بھی کفارہ بھی صحیح ہو جائے گا اگر ادا کر دیتا ہے۔ چنانچہ حانث ہونے کے بعد دوبارہ اسے کفارہ ادا نہیں کرنا پڑے گا بلکہ وہ جو پہلے ادا کیا تھا اسی کا اعتبار کیا جائے گا، کفارہ ادا ہو گیا۔ جبکہ ہمارے نزدیک بھئی ہم کہتے ہیں کہ اپ کا یہ دونوں میں فرق کرنا درست نہیں ہے۔ اپ نے جو بات کی مال کی وہ حقوق العباد کے اندر کی اور حقوق العباد کے اندر مقصود ہی مال ہوا کرتا ہے۔ جب مال مقصود ہے تو وہاں ٹھیک ہے نفس وجوب وجوب ادا سے جدا ہو جائے گا۔ لیکن عبادت مالی جو ہے اس کے اندر وہ بھی عبادت ہے، وہاں مال مقصود نہیں ہوتا وہاں وہ ادا کا فعل مقصود ہوتا ہے کہ یہ شخص اس چیز کو ادا کرے۔ تو فعل ادا مقصود ہوا بھئی وہاں پر بھی۔ جیسے عبادت بدنی کے اندر فعل ادا فعل مقصود ہوتا ہے، یہاں بھی کیا مقصود ہوا؟ فعل۔ تو یہ بھی کس کی طرح ہوا؟ عبادت بدنی کی طرح ہوا، یہ کفارہ بالمال بھی عبادت بدنی کی طرح ہوا، اور عبادت بدنی میں تو اپ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ نفس وجوب وجوب ادا سے جدا نہیں ہوتا، لہٰذا یہاں بھی نفس وجوب وجوب ادا سے جدا نہیں ہوگا بھئی۔ لہٰذا اور وجوب ادا تو کس وقت اتا ہے؟ اپ بھی مانتے ہیں قسم کے اندر، وجوب ادا کب ائے گا؟ حانث ہونے کے بعد۔ تو لہٰذا اور اس سے نفس وجوب تو جدا ہو نہیں سکتا، لہٰذا ماننا پڑے گا کہ کفارے کے اندر بھی حانث ہونے کے بعد ہی نفس وجوب ائے گا وجوب ادا کے ساتھ ہی۔ وجوب ادا کس کے بعد آ رہا ہے؟ حانث ہونے کے بعد اور ہم نے بتایا کہ نفس وجوب یہاں وجوب ادا سے جدا نہیں ہوتا اور وجوب ادا آ رہا ہے حانث ہونے کے بعد تو نفس وجوب بھی اسی وقت ائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو اسی وقت نفس وجوب ائے گا، اس سے پہلے نفس وجوب بھی نہیں، جب نفس وجوب اس سے پہلے ہے ہی نہیں تو لہٰذا اس سے پہلے وہ کفارہ ادا کرے گا تو وہ وہ ادا بھی نہیں ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی اچھی طرح بھئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الكلام۔
84 approved lectures · 29 of 84