درس نمبر۔96
ثم لما كان بيان التغيير منقسما إلى الشرط والاستثناء، وقد مضى بيان الشرط في بحث الوجوه الفاسدة، ترك ذكره واشتغل ببحث الاستثناء. فقال: والاستثناء يمنع التكلم بحكمه بقدر المستثنى.
ثم لما كان بيان التغيير منقسما إلى الشرط والاستثناء، پھر جب بیانِ تغییر جو ہے وہ تقسیم ہوا شرط اور استثناء کی طرف۔ بھئی، بتلایا تھا پیچھے بیانِ تغییر کہ شرط اور استثناء، یہ کس قبیل سے ہیں؟ بیانِ تغییر۔ تو پیچھے ذکر ہو چکا کہ بیانِ تغییر تقسیم ہوتا ہے شرط اور استثناء کی طرف۔ وقد مضى بيان الشرط في بحث الوجوه الفاسدة، اور تحقیق گزر چکا شرط کا بیان وجوہِ فاسدہ کی بحث کے اندر، ترك ذكره، تو مصنف نے آگے اس کے ذکر کو چھوڑ دیا، واشتغل ببحث الاستثناء، اور مشغول ہو گئے استثناء کی بحث میں۔
بھئی، بیانِ تغییر بتلایا تھا کہ اس کی دو قسم پر ہے: ایک شرط اور ایک استثناء ہے۔ شرط کی بحث پیچھے بیان ہو چکی وجوہِ فاسدہ کے اندر، البتہ استثناء کی بحث بیان نہیں ہوئی تھی، وہ باقی تھی، تو اب مصنف اس کو بیان کرنے لگے ہیں کہ استثناء کا ذکر آ گیا، تو اب اسی کی بحث کرنے لگے ہیں۔ فقال، پس فرمایا: والاستثناء يمنع التكلم بحكمه بقدر المستثنى، استثناء جو ہے وہ روک دیتا ہے تکلم کو ساتھ اس کے حکم کے بقدرِ المستثنى، مستثنى کے بقدر، مستثنى کے بقدر۔
بھئی، ادھر توجہ کیجیے۔ ایک شخص کہتا ہے: "لزيد علي ألف درهم إلا مائة"، "لزيد علي ألف درهم إلا مائة"، بھئی، اس پر کتنے پیسے واجب ہو جائیں گے؟ 900، 900 اس پر واجب ہوں گے۔ یہ، بھئی، اس نے تو کہا تھا: "لفلان علي ألف درهم"، اس نے تو ألف کا ذکر کیا تھا، یہ 900 کیوں واجب ہوئے؟ یہ "إلا مائة" کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ "إلا مائة" کا جو استثناء آیا، اس نے 100 کے وجوب کو روک دیا، بھئی، 100 کے وجوب کو روک دیا۔
اگر وہ یہ نہ کہتا "إلا مائة"، صرف یہ کہتا: "لزيد علي ألف درهم"، تو اس پر کتنے واجب ہوتے؟ اس پر پورے ہزار واجب ہو جاتے، پورے ہزار۔ تو اب اپ کو یہ بتلا رہے ہیں کہ یہ جو استثناء ہوتا ہے، یہ اتنی مقدار پر تکلم اور اس کے حکم دونوں کو روک دیتا ہے، مستثنى کے بقدر। یہ جو مستثنى ہوتا ہے، یہ اپنے بقدر تکلم اور اس کے حکم دونوں کو روک دیتا ہے۔
توجہ سے سننا، بھئی! مستثنى، "إلا مائة"، یہ اپنے بقدر تکلم کو اور اس کے حکم کو روک دیتا ہے۔ یعنی گویا اس پر تکلم بھی نہیں ہوا اور جب تکلم نہیں ہوا تو اس کا حکم بھی نہیں، حکم تبھی آتا ہے نہ جب ایک چیز پر تکلم کیا جائے تو اس سے حکم بھی ثابت ہوگا کوئی، اگر تکلم ہی نہیں تو حکم بھی نہیں۔ تو استثناء کیا کرتا ہے، یہ جو مستثنى اپنی مقدار کے اندر تکلم کو بھی روک دیتا ہے، گویا اس پر تکلم ہوا ہی نہیں۔ یعنی 900 تک، یہ ما بقیہ جو ہے، اس پر تو تکلم ہوا ہے اور یہ 900 سے لے کر ہزار تک جو ہے، یہ والا 100، اس پر تکلم بھی نہیں ہوا اور اس کا حکم، یعنی اس کا وجوب بھی نہیں ہے، بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو استثناء تکلم کو روک دیتا ہے اور جب تکلم روکے گا تو اس کا حکم بھی رک جائے گا۔
جیسے شرط کے اندر تھا، بھئی، ہمارا مذہب کیا تھا کہ کوئی شخص اگر اپنی بیوی سے کہے: "إن دخلت الدار فأنت طالق"، تو یہ شرط یہ جزا کو واقع ہونے سے روکتی ہے، یعنی طلاق کو واقع ہونے سے روک دیتی ہے اور گویا یہ "أنت طالق" پر ابھی تکلم ہی نہیں کیا کہنے والے نے، یہ جب وہ عورت اس گھر کے اندر جائے گی تو اس وقت گویا خاوند "أنت طالق" کہے گا اور اسی وقت فوراً کیا ہو جائے گی؟ طلاق ہو جائے گی۔ تو جیسے شرط جزا سے تکلم کو روک دیتی ہے، اسی طرح مستثنى بھی اپنی مقدار میں تکلم کو روک دیتا ہے اور جب تکلم کو روک دیا تو ساتھ ساتھ اس کے حکم کو بھی روک دیا، بھئی۔
تو کہتے ہیں: والاستثناء يمنع التكلم بحكمه بقدر المستثنى، اور استثناء یہ روک دیتا ہے تکلم کو بحكمه، أي مع حكمه، یہ با کس معنی میں ہے؟ مع کے۔ تکلم کو روک دیتا ہے مع حكمه، ساتھ اس تکلم کے حکم کے بقدر المستثنى، مستثنى کے بقدر متعلق بالتكلم، یہ بقدر المستثنى جار مجرور ہے، یہ متعلق ہے تکلم سے، کہ مستثنى، دوبارہ دیکھیں ترجمہ: مستثنى روک دیتا ہے تکلم کو، کتنے تکلم کو؟ بقدر المستثنى، مستثنى کے بقدر। تو یہ استثناء مستثنى کے بقدر تکلم کو بھی روک دیتا ہے بحكمه، ساتھ اس کے حکم کے۔
كأنه قال، گویا کہ ماتن نے یوں کہا: "والاستثناء يمنع التكلم بقدر المستثنى مع حكمه"، کہ استثناء یہ روک دیتا ہے تکلم بقدر المستثنى کو ساتھ اس کے حکم کے، يعني كأنه لم يتكلم بقدر المستثنى أصلا، گویا کہ اس نے مستثنى کے بقدر تکلم کیا ہی نہیں سرے سے، فجعل تكلما بالباقي بعده، تو اس کو تکلم بالباقي قرار دیا گیا اس کے بعد، أي بعد الاستثناء، استثناء کے بعد۔
تو گویا کہ اس نے تکلم بالباقي کیا ہے، استثناء کے بعد جو باقی بچ گیا ہے، گویا صرف اس پر ہی تکلم کیا ہے، گویا اس نے یہ کہا ہی نہیں کہ میرے اوپر ایک ہزار ہیں سوائے 100 کے، بلکہ اس نے کہا ہی کیا؟ میرے اوپر 900 ہیں، میرے اوپر 900 ہیں، بھئی۔ تو یہ معنی ہے: فجعل تكلما بالباقي بعده، تو استثناء کو تکلم بالباقي قرار دیا گیا ہے بعده، أي بعد الاستثناء، استثناء کے بعد اس کو تکلم بالباقي قرار دیا گیا ہے۔
فإذا قال له: علي ألف درهم إلا مائة، پس اگر کسی شخص نے کہا کہ فلاں کے مجھ پر ایک ہزار درہم ہیں سوائے 100 کے، یا 100 کم ایک ہزار درہم ہیں، فكأنه قال: له علي تسعمائة، تو گویا کہ اس نے یوں کہا: اس کے مجھ پر 900 ہیں۔ فقدر المائة كأنه لم يتكلم به ولم يحكم عليه، پس 100 کی مقدار گویا اس نے اس پر تکلم کیا ہی نہیں اور اس پر حکم بھی نہیں لگایا، 900 سے لے کر ہزار تک کا جو 100 ہے، گویا اس مقدار پر اس نے تکلم بھی نہیں کیا اور اس پر حکم بھی نہیں لگایا کہ یہ مجھ پر واجب ہیں۔
كما كان في التعليق بالشرط لم يتكلم بالجزء حتى وجدت الشرط، جیسے کہ تعلیق بالشرط کے اندر تھا لم يتكلم بالجزء، کہ جزا پر تکلم ہی نہیں کیا جب تک کہ شرط پائی جائے، بھئی، اس وقت تک گویا اس پر تکلم ہی نہیں کیا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔
وعند الشافعي رحمه الله يمنع الحكم بطريق المعارضة، کہ استثناء حکم کو روک دیتا ہے معارضہ کے طریقہ پر۔ ہمارے نزدیک تو استثناء تکلم بالباقي کے درجے میں ہے، استثناء کس کے درجے میں ہے؟ تکلم کے، کہ اس نے جو ما بقیہ گویا اسی پر تکلم کیا ہے، باقی کسی چیز پر تکلم ہی نہیں کیا، گویا اس نے کہا ہی 900 ہے، کہا ہی 900 ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک استثناء حکم کو روکتا ہے معارضے کے طریقہ پر، کس طریقہ پر؟ معارضے۔
یاد رکھیے، إلا سے پہلے اگر نفی ہو تو بعد میں اثبات ہوگا، اور إلا سے پہلے اگر اثبات ہو تو ما بعد کی نفی ہوگی، ما بعد کی نفی ہوگی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نفی سے استثناء یہ اثبات ہے اور اثبات سے استثناء یہ نفی ہے، یعنی ما قبل میں اثبات ہو تو ما بعد میں نفی ہوگی، تو لہٰذا یہاں پر گویا اس نے پہلے اس 900 سے لے کر ہزار تک کا جو 100 تھا، اس کا اس نے پہلے اثبات کیا ہے اور پھر اس کے بعد اس کی نفی کی ہے، تو اسی 100 کا اثبات ہو رہا ہے، اسی 100 کی نفی ہو رہی ہے، تو دونوں میں تعارض آیا، بھئی، دونوں میں کیا آیا؟ تعارض۔ تو وإذا تعارضا تساقطا، جب دونوں متعارض ہو گئے اور برابر درجے کے ہیں تو دونوں ساقط ہو گئے، لہٰذا یہ 100 واجب نہ ہوں گے، ان کا حکم نہیں آئے گا، بھئی۔
تو ان کے نزدیک بھی استثناء حکم کو روکتا ہے، ہمارے نزدیک بھی استثناء حکم کو روکتا ہے، لیکن ہمارے نزدیک یہ کس کی طرح ہے؟ تکلم بالباقي کی طرح، اور ان کے نزدیک یہ کس طریقہ پر ہے؟ معارضے کے طریقہ پر ہے۔
یعنی أن المستثنى قد حكم عليه أولا في الكلام السابق، یعنی مستثنى جو ہے تحقیق اس پر حکم لگایا گیا پہلے گزشتہ کلام میں، ثم أخرج بعد ذلك بطريق المعارضة، پھر اس کو نکال دیا گیا اس کے بعد معارضے کے طریقہ پر، فكان تقدير قوله: تو اس شخص کے قول کی تقدیر یوں ہوگی، گویا اس نے یوں کہا ہے: "لفلان علي ألف درهم إلا مائة فإنها ليست علي"، فإنها... بھئی، ان کے نزدیک نفی سے استثناء یہ اثبات ہے اور اثبات سے استثناء یہ نفی، اور یہاں پر ما قبل میں ہے اثبات، "لفلان علي ألف درهم"، یہ کیا ہے؟ اثبات۔ تو "إلا مائة" یہ مستقل کلام کے درجے میں ہے، کس کے درجے میں ہے؟ مستقل کلام کے درجے میں ہے، گویا اس نے یوں کہا: "فإنها، أي فإن المائة ليست علي"، کہ 100 مجھ پر نہیں ہیں، بھئی، یہ 100 مجھ پر نہیں ہیں، باقاعدہ مستقل کلام کے درجے میں ہے یہ، نفی آئی باقاعدہ، بھئی۔
فإن صدر الكلام يوجبها، پس بے شک صدرِ کلام، یعنی کلام کا اول حصہ جو ہے، يوجبها، وہ اس مائہ کو واجب کرتا ہے، والاستثناء ينفيها، اور استثناء اس 100 کی نفی کرتا ہے، فتعارضا فتساقطا، تو دونوں باہم متعارض ہوئے تو دونوں ساقط ہو گئے۔
وقيل: اور کہا گیا ہے... بھئی، ہمارے نزدیک بھی استثناء حکم کو روک دیتا ہے اپنی مقدار میں، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی وہ روک دیتا ہے، لیکن ہمارے نزدیک تکلم بالباقي کے طریقہ پر اور ان کے نزدیک معارضے کے طریقہ پر، تو ثمرۂ اختلاف کیسے ظاہر ہوگا، بھئی؟ "لفلان علي ألف درهم إلا مائة"، ہمارے نزدیک بھی 900، ان کے نزدیک بھی 900، تو یہاں تو اختلاف کے ہونے کے باوجود کوئی فرق نظر نہیں آیا، کہتے ہیں: بعض صورتوں میں ثمرۂ اختلاف ظاہر ہوگا، جہاں پر مستثنى، مستثنى منہ کی جنس میں سے نہ ہو، بھئی، وہاں ثمرۂ اختلاف ظاہر ہوگا، بھئی۔
تو کہتے ہیں: وقيل فائدته تظهر فيما إذا استثنى خلاف جنسه، کہ اس کا فائدہ، اس اختلاف کا فائدہ ظاہر ہوگا اس صورت میں جب استثناء کیا مستثنى منہ کے خلافِ جنس کا، كقوله: جیسے کسی شخص کا یہ قول: "لفلان علي ألف درهم إلا ثوبا"، فلاں کے مجھ پر ایک ہزار درہم ہیں سوائے ایک کپڑے کے، فعندنا لا يصح الاستثناء، تو ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے استثناء، لأنه لا يصح بيانا، اس لیے کیونکہ یہ بیان نہیں صحیح، یہ بیان نہیں بن سکتا، بھئی، جس کا بیان ہونا صحیح نہیں۔ بھئی، استثناء کیا تھا ہمارے نزدیک؟ بیانِ تغییر ہے نہ، تو یہ یہاں بیان بن ہی نہیں سکتا، بھئی، کیونکہ یہ اس کی جنس میں سے ہی نہیں ہے، اس کی جنس ہی الگ ہے، ما قبل میں دراہم ذکر ہیں تو استثناء کس کا ہے؟ کپڑے کا ہے۔
وعنده يصح، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک صحیح ہوگا، فينقص من الألف قدر قيمة الثوب، پس کم کیا جائے گا ہزار میں سے کپڑے کی قیمت کے بقدر، لأن عمل الاستثناء كالدليل المعارض، اس لیے کیونکہ استثناء کا عمل دلیلِ معارض جیسا ہے، وهو بحسب الإمكان، اور وہ امکان کے بقدر ہوگی، والإمكان هاهنا في نفي مقدار قيمته، اور امکان یہاں، یعنی یہاں ممکن ہے کس طریقہ پر؟ کہ اس کپڑے کی قیمت کی نفی کر دی جائے، کپڑے کی قیمت کی مقدار نفی کر دی جائے اس ہزار میں سے۔
ولا يخلو هذا عن خدشة، اور یہ خدشے سے خالی نہیں ہے، بھئی، شارح کیا فرماتے ہیں: یہ خدشے سے خالی نہیں ہے، بھئی، اس لیے کیونکہ آپ نے کہا کہ استثناء جو ہے، وہ حکم کو روکتا ہے معارضے کے طریقہ پر، اور معارضے میں یہ ضروری ہے کہ جس چیز کا اثبات ہو، اسی کی نفی ہو، تو یہاں اثبات اگر دراہم کا ہے تو نفی تو کپڑے کی ہو رہی ہے، تو یہاں تو معارضہ بنتا ہی نہیں، بھئی، معارضہ بنتا ہی نہیں۔ تو یہ مقام خدشے سے خالی نہیں، یعنی اعتراض سے خالی نہیں۔
لإجماع أهل اللغة على أن الاستثناء من النفي إثبات ومن الإثبات نفي، امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، بھئی، وہ فرماتے ہیں بعلتِ اہل زباں، یعنی عربی زبان والوں کے اجماع کی وجہ سے اس بات پر کہ أن الاستثناء من النفي إثبات ومن الإثبات نفي، کہ نفی سے استثناء یہ اثبات ہے اور اثبات سے استثناء نفی ہے، هذا دليل للشافعي، یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل ہے، على أن عمل الاستثناء بطريق المعارضة، اس بات پر کہ استثناء کا عمل جو ہے وہ معارضے کے طریقہ پر ہوتا ہے، لأن النفي والإثبات يتعارضان معا، اس لیے کیونکہ نفی اور اثبات، وہ اکٹھے باہم متعارض ہوتے ہیں ایک دوسرے کے، ولأن قوله: اور اس لیے کہ یہ قول جو ہے "لا إله إلا الله"، للتوحيد، یہ کس لیے ہے؟ توحید کے لیے ہے، ومعناه النفي والإثبات، اور اس کا معنی نفی اور اثبات کے ہیں، یعنی اس میں نفی بھی ہے اور اثبات بھی ہے۔
کس طرح، بھئی؟ "لا إله إلا الله"، أي لا إله موجود، کوئی معبود موجود نہیں ہے، پھر إلا آیا، ما قبل میں نفی ہے کہ اثبات؟ ما قبل میں نفی، تو ما بعد میں کیا ہوگا؟ اثبات، أي الله موجود، کہ اللہ موجود، تو باقی معبوداں معبودوں کی نفی ہو جائے گی اور اللہ کا اثبات ہو جائے گا، بھئی، یہ ان کی دلیل چل رہی ہے، بھئی، امام شافعی رحمہ اللہ کی۔
تو اس کا معنی نفی اور اثبات ہے، فلو كان تكلما بالباقي لكان نفيا لغيره لا إثباتا له، یہ ہم پر اعتراض کر رہے ہیں کہ اے احناف، آپ نے تو کیا کہا تھا؟ کہ استثناء استثناء حکم کو روک دیتا ہے اور کلام کس درجے میں ہوتا ہے استثناء کے بعد؟ تکلم بالباقي کے درجے میں ہوتا ہے، اے احناف، یہ کلمۂ توحید میں آپ کی یہ بات نہیں چل سکتی، اس لیے کیونکہ یہاں باقی معبودان کی جس طرح نفی کی گئی ہے، اسی طرح اللہ کی ذات کا اثبات بھی ضروری ہے، اور یہاں پر اگر آپ اس کو تکلم بالباقي پر رکھیں، کس پر؟ تکلم بالباقي پر رکھیں، تو پھر اس صورت میں باقی معبودوں کی نفی تو ہو گئی، اللہ کی ذات کا اثبات نہ ہوا۔
ہم نے کہا نفی اور اثبات دونوں چیزیں ہیں تو اس میں یہ دونوں باتیں آ جائیں گی: باقی معبودوں کی نفی اور اللہ کی ذات کا اثبات، اور اگر آپ کی بات لی جائے کہ استثناء کے بعد کلام اسی طرح ہوتا ہے جیسے تکلم بالباقي ہو، تو پھر اس صورت میں اللہ کے علاوہ باقی معبودوں کی نفی تو ہو جائے گی، لیکن اللہ کا اثبات نہ ہوگا، بھئی، کس طرح؟ بھئی، پھر یہ اس معنی میں ہوگا: "لا إله غير الله"، "لا إله غير الله"، یہ تکلم بالباقي ہے، بھئی، گویا یوں کہا گیا، کیا کہا گیا؟ "لا إله غير الله"، کیا معنی ہوا؟ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اللہ کے علاوہ باقی معبودوں کی نفی ہو گئی، اللہ کی ذات کا اثبات نہ ہوا، صراحتاً صراحتاً۔
ضمناً تو اثبات ہو گیا، جب اللہ کے علاوہ باقی کی نفی کی تو خود بخود اللہ کی ذات کا اثبات ہو گیا، لیکن یہ تو ضمناً آیا، صراحتاً تو نہیں، صراحتاً تو صرف کیا ہو رہا ہے؟ اللہ کے علاوہ باقی معبودوں کی نفی ہو رہی ہے، بس۔ اللہ کے علاوہ باقی معبودوں کی صرف نفی ہو رہی ہے۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اگر آپ کی بات مانی جائے تو پھر باقی اللہ کے علاوہ باقی معبودوں کی نفی تو ہو جائے گی، لیکن صراحتاً اللہ کی ذات کا اثبات نہ ہوگا اس کے اندر، بھئی۔ تو کہتے ہیں تقریر معلوم ہوا بات وہی ہے جو ہم نے کی کہ استثناء وہ...
ماقبل میں نفی ہو تو مابعد میں اثبات، اور ماقبل میں اثبات ہو تو مابعد میں نفی ہو۔
فلو كان التكلم بالباقي لكان نفيا لغيره لا إثباتا له، اگر استثناء یہ تكلم بالباقي ہو تو اس صورت میں یہ اللہ کے علاوہ کی نفی تو ہوگی لا إثباتا له اللہ کی ذات کا اثبات نہ ہوگا، لأن المعنى حينئذٍ، کیونکہ اس وقت معنیٰ یہ ہوگا۔ کس وقت؟ جب یہ تكلم بالباقي ہو تو اس وقت معنیٰ یہ ہوگا: لا إله غير الله، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ فيكون نفيا لغير الله، تو یہ اللہ کے علاوہ کی نفی ہوگی، لا إثباتا لله الذي هو المقصود، تو اثبات نہ ہوگا اس اللہ کا جو کہ مقصود ہے۔
بخلاف ما لو حملنا على سبيل المعارضة، بخلاف اس کے اگر ہم اس کو محمول کریں على سبيل المعارضة، کس پر؟ معارضے کے طریقے پر، إذ يكون المعنى حينئذٍ، اس لیے کیونکہ معنیٰ جو ہے حينئذٍ اس وقت یوں ہوگا: لا إله إلا الله، فإنه موجود، کوئی معبود نہیں ہے سوائے اللہ کے، فإنه موجود، وہ موجود ہے۔ تو دیکھو اللہ کی ذات کا، لا إله موجود، کوئی معبود موجود نہیں ہے إلا الله سوائے اللہ کے، فإنه موجود۔ تو دیکھو پیچھے بھی آیا تھا: لفلان علي ألف درهم إلا مائة فإنها ليست علي، تو ان کے نزدیک مابعد میں مستقل کلام ہے گویا کہ۔ مابعد میں؟ إلا مائة تو مستقل نہیں لیکن وہ فرماتے ہیں گویا کہ مستقل کلام ہے، ماقبل میں اگر نفی ہے تو مابعد میں مستقلا اثبات ہے، پورا کلام ہے۔ اور ماقبل میں اگر اثبات ہے تو مابعد میں مستقلا نفی ہے جیسے فإنها ليست علي، یہاں مستقلا نفی پورا کلام ہے۔ اسی طرح یہاں پر ہے لا إله إلا الله فإنه موجود، دیکھو إلا الله سے کیا بنایا انہوں نے؟ ماقبل میں نفی ہے تو مابعد میں مستقلا اثبات والا پورا کلام بنا لیا بھئی۔
ولنا، اور ہماری دلیل قوله تعالى، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: فلبث فيهم ألف سنة إلا خمسين عاما، پس رہے ان میں نوح علیہ السلام اپنی قوم میں، ہاں نوح علیہ السلام اپنی قوم میں رہے ألف سنة ایک ہزار سال إلا خمسين عاما مگر 50، یعنی 50 سال کم ایک ہزار سال تک حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم میں رہے۔ ولنا، اور ہماری دلیل جو ہے قول تعالى، اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: فلبث فيهم ألف سنة إلا خمسين عاما، حضرت نوح علیہ السلام جو ہے رہے اپنی قوم کے اندر ایک ہزار سال علاوہ 50 کے۔ ہمارے نزدیک بھئی استثناء کیا کس کی طرح ہے؟ تكلم بالباقي کی طرح اور ایک ہزار سے 50 کم کرو کتنے رہ گئے؟ 950، تو گویا یوں کہا گیا کہ نوح علیہ السلام اپنی قوم میں 950 سال باقی رہے۔
اور شوافع نے کہا تھا اے احناف! کلمہ توحید کے اندر دیکھو ہمارا مذہب واضح ہو جاتا ہے، وہاں تكلم بالباقي کریں تو صرف نفی رہ جاتی ہے اثبات نہیں رہتا اور ہماری دلیل اس طریقے پر چلیں تو نفی کے ساتھ ساتھ کیا آ جائے گا؟ اثبات بھی آ جائے گا۔ اب ہم دلیل ان کے جواب میں دے رہے ہیں، ہم کہتے ہیں بھئی شوافع آپ نے کیا کہا تھا؟ کہ استثناء میں معارضے کی صورت بنتی ہے، یہاں معارضے کی صورت آپ نہیں بنا سکتے۔ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم میں رہے ایک ہزار سال إلا خمسين عاما مگر 50 سال۔ یہاں ہماری بات تو چل جائے گی لیکن شوافع کی تقریر نہیں چل سکتی، اس کا معنیٰ کیا ہوا؟ تكلم بالباقي، ہزار سے 50 کم کریں کتنا ہوا؟ تو گویا یوں کہا گیا کہ وہ ان میں 950 سال رہے۔ یوں کہا گیا، باقی پر ہی تکلم کیا گیا ہے، ألف پر تکلم ہی نہیں کیا گیا۔
اور اگر آپ کی بات مانی جائے تو معارضے کی صورت بنتی ہی نہیں یہاں، کیوں؟ کیونکہ پہلے خبر دی گئی حضرت نوح علیہ السلام ان میں کتنے سال رہے؟ ایک ہزار سال رہے۔ آگے نفی کس کی کی جا رہی ہے؟ 50، تو گویا کہ ماقبل میں اس 50 کا اثبات ہے اور مابعد میں اس 50 کی، حضرت نوح علیہ السلام ان میں 50 سال پہلے کیا کہا گیا؟ رہے، بعد میں کیا کہا گیا؟ ان میں 50 سال نہیں رہے اور یہ معارضہ آیا اور معارضہ خبر کے اندر آیا اور خبر کے اندر تو معارضہ صحیح نہیں ہے، تو کذب لازم آتا ہے۔ کیا لازم آتا ہے؟ پہلے کہا گیا 50 سال ان میں رہے، خبر دی گئی ہے یا نہیں؟ پھر کیا کہا گیا؟ 50 سال ان میں، معارضہ تبھی بنے گا نا ایک ہی چیز کا اثبات ہو اور ایک ہی چیز کی، تو معارضہ انشاء کے اندر تو ہو سکتا ہے ٹھیک ہے، ایک ہی چیز کا اثبات ایک ہی چیز کی نفی تعارض آ جائے گا لیکن خبر کے اندر تو معارضہ چل ہی نہیں سکتا۔ اگر آپ یہ کہتے ہیں پہلے ہے ان 50 سال کا اثبات بعد میں ہے ان 50 سال کی نفی، تو کذب لازم آیا۔
تو پہلے إلا سے پہلے یہ ان 50 کا اثبات ہے، مراد کتنے ہیں اس سے؟ 950، مراد کتنے ہیں؟ 950 اور ذکر کتنے ہیں؟ ہزار، تو یہ 950 سے اوپر والے جو 50 ہیں پہلے ان کا اثبات ہے ألف سنة، ان کا کیا ہے؟ اثبات، اور إلا خمسين عاما کے یہ جو إلا کے بعد ہے اس کے اندر اس کی نفی ہے، تو انہی 50 سال کا پہلے اثبات ہے کہ یہ سال بھی ان میں رہے اور بعد میں ہے کہ یہ 50 سال ان میں نہیں رہے، تو إلا سے پہلے ہوا ان 50 سالوں کا اثبات اور إلا کے بعد ہوا ان 50 إلا کے بعد ان 50 سالوں کی نفی ہوئی بھئی اور یہ اثبات اور نفی کس میں مانا جا رہا ہے؟ خبر کے اندر، اور خبر کے اندر ایسا نہیں ہو سکتا کہ پہلے خبر دی گئی کہ یہ 50 سال ان میں رہے پھر اسی کی نفی کر دی گئی کہ یہ 50 سال ان میں نہیں رہے، معلوم ہوا اسی خبر کو جھٹلا دیا گیا، پہلی خبر کو جھٹلا دیا گیا تو یہ تو کذب لازم آیا اور کہ اللہ کی طرف جھوٹ کی نسبت لازم آئی اور اللہ کی ذات اس سے بے انتہا بلند ہے کہ اس کی طرف کذب کی نسبت کی جائے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس لیے یہاں پر یہ نفی اور اثبات والی بات نہیں چل سکتی۔
أي لبث نوح في القوم ألف سنة إلا خمسين عاما الذي كان قبل الدعوة، رہے حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم میں ایک ہزار سال تک إلا خمسين عاما الذي كان قبل الدعوة، مگر وہ 50 سال جو دعوت سے پہلے تھے، یعنی وہ 950 سال تک اپنی قوم کو دعوت دیتے رہے سوائے وہ 50 سال جو دعوت سے پہلے تھے ان کا استثناء کر دیا گیا۔ أو خمسين عاما الذي عاش فيه بعد غرقهم، یا وہ 50 سال جو ان میں رہے بعد غرقهم ان کے غرق ہونے کے بعد، تو ان 50 کا استثناء کر دیا گیا۔ فلو حملنا هذا الكلام على المعارضة، دلیل کس کی چل رہی ہے؟ احناف کی، پہلے شوافع کی دلیل تھی اب احناف کی۔ فلو حملنا هذا الكلام على المعارضة، اگر ہم محمول کریں اس کلام کو معارضے پر کہ کیا کہا جائے؟ کہ إلا سے پہلے ہے اثبات اور مابعد میں ہے نفی، تو لكان كذبا في الخبر والقصة، تو اس صورت میں کذب ہوگا خبر اور قصہ میں، کس کے اندر؟ خبر اور قصہ میں کذب ہوگا۔ بھئی! یاد رکھیے یہ ہم دلیل دیتے ہیں کہ آپ کی بات اگر مان لی جائے کہ اس استثناء کی صورت میں ماقبل میں نفی ہو تو مابعد میں اثبات ہوتا ہے اور ماقبل میں اثبات ہو تو مابعد میں نفی ہوتی ہے، اگر آپ کی یہ بات مان لی جائے تو پھر اس صورت میں یہاں جھوٹ لازم آئے گا، کیونکہ یہاں گویا پہلے یہ کہا گیا کہ ان میں وہ والے 50 سال وہ ان میں رہے 950 سے ہزار تک کا جو 50 ہے پہلے اس کا کیا ہوا؟ اثبات، اور بعد میں اس کی نفی، تو پہلے بتلایا گیا وہ 50 سال ان میں رہے اور بعد میں کہا گیا وہ 50 سال ان میں نہ رہے، تو نفی اور اثبات کس میں آیا؟ خبر میں آیا، تو ان میں سے ایک میں تو جھوٹ لازم آیا، ان میں سے ایک بات ہوگی ایک نہیں ہوگی، تو جھوٹ لازم آیا بھئی۔ تو یہ آپ کی بات جو نفی اور اثبات والی ہے یہ انشاء کے اندر تو چل سکتی ہے خبر کے اندر نہیں چل سکتی بھئی، تو یہ آیت ہماری دلیل ہے کہ یہ تكلم بالباقي کے درجے میں ہے کہ ان میں 950 سال رہے وہ۔
وسقوط الحكم بطريق المعارضة في الإيجاب يكون لا في الأخبار، اور حکم کا ساقط ہونا معارضے کے طریقے پر في الإيجاب ایجاب میں يكون ہوگا لا في الأخبار نہ کہ اخبار۔ ایجاب کے اندر بھئی انشاء کے اندر تو آپ کے یہ حکم کا معارضے کے طریقے پر حکم کا ساقط ہونا یہ تو چل سکتا ہے لیکن اخبار کے اندر یہ نہیں چل سکتا ورنہ کیا خرابی لازم آتی ہے وہاں پر؟ جھوٹ لازم آتا ہے۔ فعلمنا، پس ہم نے جان لیا کہ أن ليس عمل الاستثناء على المعارضة كما زعم الشافعي رحمه الله، کہ استثناء کا عمل وہ معارضے کے طریقے پر نہیں ہے جیسے کہ گمان کیا امام شافعی رحمہ اللہ نے، ولأن أهل اللغة قالوا، اس لیے کیونکہ اہل لغت جو ہیں وہ انہوں نے کہا ہے: الاستثناء استخراج وتكلم بالباقي بعد الاستثناء، کہ استثناء وہ نکالنا ہے اور تكلم بالباقي ہے بعد الاستثناء، کس کے بعد؟ استثناء کے بعد۔ جس طرح امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل لغت کا اجماع ہے اس بات پر کہ استثناء من النفي اثبات ہے اور استثناء من الإثبات نفی ہے، اسی طرح اہل لغت یہ بھی فرماتے ہیں کہ استثناء نکالنا ہے اور یہ استثناء کے بعد گویا کہ تكلم بالباقي ہے بھئی، تو دونوں باتیں اہل لغت سے ثابت ہیں آپ کی بات بھی اور ہماری بات بھی، كما قالوا، جیسے کہ انہوں نے کہا ہے کہ إنه من النفي إثبات ومن الإثبات نفي، کہ استثناء نفی سے اثبات ہے اور اثبات سے نفی ہے، تو جیسے یہ بات انہوں نے کہی ہے یہ ہماری والی بات بھی اہل لغت نے ذکر کی ہے، کہی ہے۔ فلما تعارض هذان القولان من أهل اللغة طبقنا بينهما، پس جب باہم متعارض ہوئے یہ دو قول اہل لغت میں سے طبقنا بينهما تو ہم نے تطبیق دی ان دونوں کے درمیان، ان دونوں میں تطبیق دی، دونوں قول اہل لغت کے ہیں تو ہم ان میں تطبیق دیتے ہیں، فنقول، پس ہم کہتے ہیں: إنه تكلم بالباقي بوضعه، کہ یہ استثناء جو ہے یہ تكلم بالباقي ہے بوضعه اپنی وضع کے اعتبار سے، وإثبات ونفي بإشارته، اور اثبات اور نفی ہے اشارے کے اعتبار سے۔
کس اعتبار سے؟ اشارے کے اعتبار سے۔ بھئی ہماری بات بھی اہل لغت سے ثابت ہے کہ استثناء تكلم بالباقي ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ والی بات بھی اہل لغت سے ثابت ہے کہ استثناء من النفي إثبات ومن الإثبات نفي، تو ہم دونوں میں تطبیق دیتے ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ استثناء تكلم بالباقي ہے وضع کے اعتبار سے اور استثناء جو ہے اثبات اور نفی دونوں ہے بإشارته کس اعتبار سے؟ اشارے کے اعتبار سے۔ یعنی ہم تكلم بالباقي کو عبارت النص قرار دیتے ہیں اور نفی اور اثبات کو اشارة النص قرار دیتے ہیں، یہ اس کی طرح ہے بھئی، یہ اس کی طرح ہے بھئی۔ بھئی انہوں نے کہا کہ تكلم بالباقي بوضعه، کہ تكلم بالباقي ہے وضع کے اعتبار سے، تكلم بالباقي ہے وضع کا کیا معنیٰ؟ کہ اسی کے لیے اس کو بنایا گیا تھا، اس استثناء کو وضع ہی کس لیے کیا گیا ہے؟ کہ یعنی تكلم بالباقي کے لیے وضع کیا گیا ہے، تو جس چیز کے لیے وضع کیا جائے وہ ہوتی ہے مقصود بھئی، وہ کیا ہوئی؟ وہ مقصود ہوئی اسی اور عبارت النص بھی کیا ہوتی ہے؟ مقصود ہوا کرتی ہے، اس لیے ہم نے اس کو کیا قرار دیا؟ وجہ سمجھ میں آئی بھئی؟ کہ اس کو وضع ہی کس لیے کیا گیا ہے تكلم بالباقي کے لیے اور تو اس کے لیے وضع ہوا یعنی اس کا حقیقی معنیٰ ہے، تو اس کے لیے وضع ہے یعنی اس سے یہی مقصود ہوتا ہے، تو یہ کیا ہوا؟ مقصود کس میں ہوتا ہے؟ عبارت، تو یہ عبارت النص ہوا، اور اثبات اور نفی اس سے مفہوم ہوتے ہیں، اس سے سمجھ میں آتے ہیں، تو یہ کیا ہوا؟ یہ اشارہ کے درجے میں ہوا کیونکہ اس کے لیے وضع تو نہیں بھئی۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟
یہ ذرا مشکل مقام ہے توجہ سے سمجھ لینا، ہم نے تكلم بالباقي کو عبارت النص قرار دیا اور اثبات اور نفی کو اشارة النص قرار دے دیا، اشارة النص۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ بھئی دیکھیے! یہی بات جو میں نے ابھی بیان کی تكلم بالباقي اس کو ہم نے عبارت النص قرار دیا اور اثبات اور نفی کو اشارہ، بھئی عبارت النص وہ مقصود کلام کو کہتے ہیں، کس کو؟ مقصود کو کہتے ہیں اور یہاں پر بھی استثناء کو وضع کس لیے کیا گیا ہے؟ تكلم بالباقي کے لیے بھئی۔ جب کوئی کہنے والا کہتا ہے، لفلان، توجہ سے سننا بھئی، کوئی کہنے والا کہتا ہے: لفلان علي ألف درهم إلا مائة، تو اس کا مقصد کیا ہے؟ وہ اپنے اوپر کتنے واجب کرنا چاہتا ہے؟ 950، تو اس کا مقصد ہوا 950، اور 950 تكلم بالباقي ہے۔ 950 کیا ہے؟ معلوم ہوا یہ تكلم بالباقي اس کا مقصود ہے، تو یہ عبارت النص ہوا بھئی، یہ کیا ہوا؟ اور نفی اور اثبات سمجھ میں آ رہا ہے کلام سے، ماقبل میں اثبات ہے تو مابعد میں إلا کے نفی، تو کیا اس نے جو یہ کہا: لفلان علي ألف إلا مائة، کیا اس کا مقصد اثبات مائة اور نفي مائة ہے؟ جی؟ اثبات اور نفی بھی سمجھ میں تو آ رہے ہیں ٹھیک ہے آپ کی بات، ماقبل میں اثبات ہے تو مابعد میں نفی، لیکن کیا یہ اس کا مقصود ہے اثبات اور نفی؟ نہیں، ہاں باقی جو تھا وہ تو اس کا مقصود تھا لیکن یہ اثبات اور نفی اس کا مقصود، تو وہ مقصود تھا اس لیے ہم نے اس کو عبارت النص قرار دیا اور یہ غیر مقصود ہے اس لیے ہم نے اس کو اشارہ، کیونکہ یہ سمجھ میں تو آ رہا ہے کلام سے، کلام سے اس کی طرف اشارہ تو ہے، اس لیے ہم نے اس کو اشارة النص کہا بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ آگے یہی بات شارح بھی کریں گے لیکن ذرا مشکل لفظوں میں، تو میں نے آپ کو مختصر لفظوں میں بات سمجھا دی۔ کہ تكلم بالباقي کو عبارت النص کیوں قرار دیا؟ کیونکہ وہ مقصود ہے، اور اثبات اور نفی بھی سمجھ میں آ رہے ہیں لیکن وہ اس کا کہنے والے کا مقصود نہیں، وہ اثبات اور نفی نہیں کرنا چاہتا وہ مابقيه کو ثابت کر رہا ہے۔
یہ معنیٰ ہے: فنقول إنه تكلم بالباقي بوضعه وإثبات ونفي بإشارته، پس ہم کہتے ہیں کہ یہ تكلم بالباقي ہے اپنی وضع کے اعتبار سے، اثبات اور نفی ہے اشارے کے اعتبار سے، فجعلنا ما ذهبنا إليه عبارة، پس قرار دیا ہم نے اس کو جس کی طرف ہم گئے ہیں عبارت، اس کو ہم نے عبارت قرار دیا، وما ذهب هو إليه إشارة، اور جس کی طرف وہ گئے ہیں اسے ہم نے اشارہ قرار دیا، ولم يمكن عكسه، اور اس کا عکس ممکن نہیں ہے کہ ہم اپنی بات کو اشارة النص کہہ دیں اور ان کی بات کو عبارت النص کہہ دیں، یہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ ہماری جو بات ہے وہ تو مقصود ہے اور ان کی بات جو ہے وہ غیر مقصود ہے۔ وذلك، اب یہ وجہ ذکر کر رہے ہیں، میں نے آپ کو سمجھا دیا، اب یہ ذرا مشکل لفظوں میں ذکر کریں گے: لأن الاستثناء بمنزلة الغاية للمستثنى منه، اس لیے کیونکہ استثناء جو ہوتا ہے وہ غایت کے درجے میں ہوتا ہے مستثنیٰ منہ کے لیے، لأنه يدل، کیونکہ یہ دلالت کرتا ہے على أن هذا القدر ليس بمراد من الصدر، کہ اتنی مقدار مراد نہیں ہے صدر کلام سے، یعنی اول کلام سے۔
لفلان علی ألف درهم إلا مائة. یہ إلا مائة جو ہے، یہ غایہ کے درجے میں ہے جو انتہا بتلاتا ہے۔ یہ غایہ کے درجے میں یہ یہ بتلا رہا ہے کہ اتنی مقدار یعنی سو مقدار صدر کلام یعنی الف الف درہم میں سے مراد نہیں ہے۔ باقی مراد ہیں یہ مراد نہیں۔
کما ان الغایۃ لیست بمراۃ من المغیا جیسے کہ غایۃ مراد نہیں ہوتی مغیا میں سے۔ جیسے کہ غایۃ مراد نہیں ہوتی کس میں سے؟ مغیا میں سے۔
جیسے قرآن میں آتا ہے ثم اتم الصیام الی اللیل تو دیکھو لیل یہاں مراد نہیں ہے بھئی۔ تو جیسے غایۃ وہ مراد نہیں ہوتی مغیا میں سے فجعلہ فی ھذا عبارتاً پس ہم نے اس کو اس میں عبارت قرار دے دیا لانہ المقصود کیونکہ وہ مقصود ہے۔
بھئی ادھر توجہ کیجیے وہی بات جو میں نے کی تکلم بالباقی مقصود ہے۔
بتلا یہ رہے ہیں کہ یہ استثنیٰ جو ہوتا ہے یہ غایہ کے درجے میں ہوتا ہے مستثنیٰ منہ کے لیے۔ یہ یہ بتلاتا ہے کہ صدر کلام میں سے اتنی مقدار مراد نہیں ہے۔ صدر کلام میں سے اور مابقیہ مراد ہے تو وہ مقصود ہوئی۔ تو تکلم بالباقی کیا ہوا؟ مقصود ہوا۔ تکلم بالباقی یہ مراد نہیں ہے اور باقی مقصود ہے۔ تقریر سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو اس لیے ہم نے اس کو عبارت النصر کہا۔
علی ان علاوہ اس کے علی ان حکم المستثنیٰ منہ ینتھی بما بعدہ علاوہ اس کے کہ مستثنیٰ منہ کے حکم کی انتہا ہو جاتی ہے استثنیٰ کے بعد۔
مستثنیٰ منہ کے حکم کی انتہا ہو جاتی ہے استثنیٰ کے بعد کما ان الغایۃ ینتھی بہا المغیا جیسے کہ غایۃ جو ہے اس کے ذریعے انتہا ہو جاتی ہے مغیا کی۔
غایۃ کے ذریعے کیا ہوتی ہے؟ مغیا کی انتہا ہو جاتی ہے ثم اتم الصیام الی اللیل غایۃ کے ذریعے مغیا کی انتہا بھئی۔
انتہا ہو جاتی ہے روزے کی یہاں کیا ہو رہی ہے لیل پر انتہا ہو رہی ہے۔
علی ان حکم المستثنیٰ منہ ینتھی بما بعدہ کہ مستثنیٰ منہ کا حکم جو ہے اس کی انتہا ہو جاتی ہے استثنیٰ کے بعد کما ان الغایۃ ینتھی بہا المغیا جیسے کہ غایۃ کہ اس کے ذریعے انتہا ہو جاتی ہے مغیا کی۔
استثنیٰ کیا بیان کرتا ہے بھئی؟ جب استثنیٰ آئے وہ کیا بیان کرتا ہے کہ اس پر مغیا کے حکم کی انتہا ہو رہی ہے۔
کیا ہو رہی ہے؟ مغیا کے حکم کی انتہا ہو رہی ہے یعنی ما قبل میں اگر اثبات ہے تو ما بعد میں نفی ہے اور ما قبل میں اگر نفی ہے تو ما بعد میں اثبات ہے۔
تو فجعلہ فی ھذا اشارتاً تو اس کے اندر ہم نے استثنیٰ کو اشارہ قرار دیا لانہ غیر مقصود مقصوداً کیونکہ وہ مقصود نہیں ہے بھئی۔ کیونکہ وہ مقصود نہیں ہے بھئی۔
یہ جو عبارت ہے لانہ الاستثنیٰ بمنزلۃ الغایۃ للمستثنیٰ منہ سے لے کر لانہ غیر مقصوداً یہ جو دو تین سطریں ہیں شارح نے ان میں وہی بات بیان کی جو میں نے بیان کی بھئی آسان لفظوں میں۔
بھئی دو باتیں بیان کیں شارح نے۔
دیکھیے شارح فرماتے ہیں لانہ الاستثنیٰ بمنزلۃ الغایۃ للمستثنیٰ منہ کیونکہ یہ جو استثنیٰ ہوتا ہے یہ یہ جو إلا مائۃ کہا اس نے یہ استثنیٰ بمنزلۃ الغایۃ للمستثنیٰ منہ یہ مستثنیٰ منہ کے لیے غایہ کے درجے میں ہے لانہ یدلو کیونکہ یہ دلالت کرتا ہے اس بات پر علی ان ھذا القدر لیس بمراۃ من الصدر کہ اتنی مقدار مراد نہیں ہے صدر میں سے یعنی اول کلام میں سے۔
کما ان الغایۃ لیست بمراۃ من المغیا جیسے کہ غایۃ وہ مراد نہیں ہوتی کس سے؟ مغیا سے۔
تو یہ جو استثنیٰ کے ساتھ جو مقدار ذکر کی جا رہی ہے یہ صدر کلام سے یعنی مستثنیٰ منہ سے اتنی مقدار مراد نہیں باقی مراد ہے۔
باقی اور باقی آگیا باقی ہم بھی یہی تو ہم بھی تو یہی کہتے ہیں تکلم بالباقی۔
یہاں بھی کون سی بات آئی کہ ہاں ان کیا بات ثابت ہوئی کہ باقی یہ تو مراد نہیں لیکن باقی مراد ہے، باقی مراد ہے مقصود ہے مقصود کی بات آگئی اور کون مقصود ہے؟ باقی، باقی، باقی مقصود ہم بھی یہی کہہ رہے ہیں تکلم بالباقی۔
وہ مقصود ہے یعنی عبارت النصر وہ باقی مقصود ہوا یعنی وہ نصر وہ کیا ہے؟ جو مقصود ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ نصر وہ ہے نصر اور اس نصر کی عبارت کیا کہلاتی ہے؟ اسی مقصود کی عبارت النصر تو یہ بھی تکلم بالباقی بھی کیا ہوا؟ کس کے درجے میں ہوا؟ عبارت النصر کے درجے میں ہوا۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ اس لیے یہ عبارت النصر کے درجے میں ہوا۔ چنانچہ فرماتے ہیں فجعلہ فی ھذا عبارتاً پس اس کے اندر ہم نے اس کو عبارت قرار دیا لانہ المقصود کیونکہ یہ مقصود ہے۔
آگے اب وہ امام شافعی رحمتہ اللہ کی جو بات ہے کہ استثنیٰ جو ہے اثبات اور نفی کا نام ہے اور اس کو ہم نے کیا قرار دیا ہے؟ اشارۃ النصر وہ کس طرح؟ کہتے ہیں علی ان حکم المستثنیٰ منہ ینتھی بما بعدہ علاوہ اس کے کہ مستثنیٰ منہ کا حکم جو ہے اس کی انتہا ہو جاتی ہے بما بعدہ بما بعد الاستثنیٰ کس کے بعد؟ استثنیٰ کے بعد مستثنیٰ منہ مستثنیٰ منہ کون ہے؟ جو إلا سے پہلے اور مستثنیٰ کون؟ إلا کے بعد تو مستثنیٰ منہ کے حکم کی انتہا ہو جاتی ہے کہاں پر؟ استثنیٰ پر آ کر اس کے حکم کی استثنیٰ کے بعد اس حکم کی مستثنیٰ منہ کے حکم کی انتہا ہو جاتی ہے۔
یعنی ما قبل میں اگر اثبات ہے تو اس کی اب انتہا ہو گئی آگے کیا ہے؟ نفی ہے۔
اگر ما قبل میں نفی ہے تو إلا کے إلا مائۃ پر آ کر کیا ہو گئی؟ اس کا اگر ما قبل میں نفی ہے تو اس پر آ کر اس کی انتہا ہو گئی نفی کی آگے کیا ہے؟ اثبات ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو ھذا وہ اس کو نفی اور اثبات کہتے ہیں۔
اور یہ کلام سے مفہوم ہو رہا ہے بھئی۔ مفہوم ہو رہا ہے۔
کوئی کہنے والے کا مثلاً اس شخص نے کیا کہا لفلان علی الف درہم إلا مائۃ۔
تو یہاں سے نفی اور اثبات مفہوم ہوا۔
کیونکہ غایہ بتلاتی ہے کہ یہ یہاں پر آ کر مستثنیٰ منہ کے حکم کی انتہا ہو رہی ہے استثنیٰ بتاتا ہے کہ یہاں پر آ کر یہ استثنیٰ غایہ کے درجے میں ہے نا یہی بتا رہے ہیں آپ کو یہ غایہ کے درجے میں ہے یہ یہ بتلاتا ہے کہ اس پر آ کر مستثنیٰ منہ کے حکم کی انتہا ہو گئی۔
تو ما قبل میں وہ کیا کر رہا تھا؟ اپنے اوپر اثبات کر رہا ہے پیسوں کو واجب کر رہا ہے تو اس اثبات کی یہاں آ کر نفی یہاں آ کر انتہا ہو گئی وہ ختم ہوا آگے کیا ہے؟ نفی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ بھی اس سے سمجھ میں آیا۔
لیکن یہ اس کہنے والے کا مقصد نہیں۔
اس نے جو کہا لفلان علی الف درہم إلا مائۃ تو کیا اس کا مقصد نفی اور اثبات ہے؟ اسی سو کا کی نفی اور پھر اسی کا یا اسی سو کا اثبات اور پھر اس کی نفی کیا یہ اس کا مقصود ہے؟ تو یہ مقصود نہیں۔ ہاں ما ما بقیہ کیا ہے اس کا مقصود۔ تو وہ جو ما بقیہ تھا وہ ہے تکلم بالباقی جو ہماری بات ہے اس کو ہم نے اسے عبارت النصر قرار دیا اور اس کو اشارۃ النصر قرار دیا۔
یہ معنی ہے علی ان حکم المستثنیٰ منہ ینتھی بما بعدہ کہ مستثنیٰ منہ جو اس کا حکم جو ہے اس کی انتہا ہو جاتی ہے استثنیٰ کے بعد کما ان الغایۃ ینتھی بہا المغیا جیسے غایہ کے ذریعے مغیا کی انتہا ہو جاتی ہے فجعلہ فی ھذا اشارتاً پس اس چیز میں ہم نے یعنی نفی اور اثبات میں اس کو ہم نے اشارہ بنایا لانہ غیر مقصوداً کیونکہ یہ نفی اور اثبات غیر مقصود ہیں بھئی۔
پہلے پہلے بتلایا تھا کہ یہ مشکل لفظ استعمال کریں گے شارح آسان لفظوں میں یاد رکھنا کہ۔
جب کوئی شخص کہتا ہے لفلان علی الف درہم إلا مائۃ تو اس کا مقصد کیا ہے؟ وہ کتنے اپنے اوپر واجب کر رہا ہے؟ ساڑھے نو سو تو دیکھو تکلم بالباقی یعنی ساڑھے نو سو وہ اس کا مقصود ہوا۔ جب یہ مقصود ہوا تو اس کو کیا کہا جاتا ہے جو مقصود ہو؟ وہ عبارت النصر ہے بھئی۔ کیا ہے؟ عبار اور اسی إلا سے استثنیٰ اور نفی اور اثبات کا بھی پتہ چلا کہ ما قبل میں اگر اثبات ہے تو ما بعد میں نفی اور ما قبل میں اگر نفی ہے تو ما بعد میں اثبات لیکن کہنے والے کا کیا مقصود تھا یہ اثبات اور نفی؟ یہ اثبات اور نفی اس کا مقصود نہیں اس لیے ہم نے اس کو کیا قرار دیا؟ اشارۃ النصر قرار دیا۔
واما کلمۃ التوحید فقد کان المقصود نفی غیر اللہ اور باقی کلمہ توحید جو ہے تو تحقیق اس میں مقصود جو ہے غیر اللہ کی نفی ہے۔
آپ نے ہم پر اعتراض کیا کیا تھا اے شوافع؟
کہ اگر لا الہ الا اللہ کے اندر آپ کی تقریر کی جائے اے احناف تو اس صورت میں غیر اللہ کی نفی تو ہوگی لیکن اللہ کا اثبات نہیں ہوگا۔ تو جواب دے رہے ہیں کہ یہاں مقصود ہی غیر اللہ کی نفی ہے۔
مقصود ہی کیا ہے؟ غیر اللہ کی نفی ہے۔ وجہ اس کی یہ کہ اللہ کے وجود کو تو وہ لوگ بھی مانتے تھے بھئی۔
اور البتہ اللہ کے ساتھ اور چیزوں کو شریک کرتے تھے تو یہاں مقصود ہی کیا تھا؟ اللہ کے علاوہ کی نفی مقصود تھی بھئی۔
تو کہتے ہیں واما کلمۃ التوحید فقد کان المقصود نفی الغیر اللہ کہ وہاں پر مقصود ہی غیر اللہ کی نفی ہے واما وجود اللہ تعالی فقد کانوا یقرون بہ اور باقی اللہ کا وجود تو تحقیق وہ اس کا اققرار کرتے تھے لانہ کانوا مشرکین اسی لیے کیونکہ وہ شرک کرنے والے تھے یثبتون مع اللہ الہاً آخرا ثابت کرتے تھے اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو قال اللہ تعالی اللہ فرماتے ہیں ولن سالتہم من خلق السماوات والارض کہ اگر آپ ان سے پوچھیں کس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو لقولن اللہ تو البتہ وہ ضرور کہیں گے اللہ نے۔
تو دیکھو اللہ کو تو وہ بھی مانتے تھے۔ صرف مقصد کیا ہے وہاں پر؟ غیر اللہ کی نفی۔
وقد اطب في تحقیق المذہبین ہاہنا صاحب التوضیح فتامل فیہ شارح فرماتے ہیں کہ میں نے تو تقریر کر دی لیکن آپ کے علم کی پیاس یقیناً پوری طرح نہیں بجھی ہوگی تو اس کے لیے آپ توضیح کی طرف رجوع کر سکتے ہیں جہاں پر صاحب توضیح نے ان دونوں مذہبوں کی تحقیق کے اندر مفصل کلام کیا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں وقد اطب اطب کے معنی طویل کلام کرنے۔ وقد اطب فی تحقیق المذہبین اور طویل کلام کیا ہے دونوں مذہبوں کی تحقیق میں ہاہنا یہاں پر صاحب توضیح صاحب توضیح نے فتامل فیہ پس آپ اس میں غور کر لیجیے۔
وھو نوعانی اور یہ استثنیٰ دو قسم پر ہے متصل وھو الاصل ومنفصل اور دوسرا منفصل وهو ما لا یصح استخراجہ من الصدر اور وہ ہے کہ صحیح نہ ہو اس کا نکالنا صدر میں سے یعنی اول کلام سے جس کا نکالنا صحیح نہ ہو کیونکہ وہ اس میں داخل ہی نہیں ہے بھئی۔
تو کیا بتلایا انہوں نے کہ استثنیٰ کتنی قسم پر؟ دو ایک متصل اور ایک منفصل اور مستثنیٰ متصل اصل ہے اور مستثنیٰ منفصل یعنی منقطع وہ۔
یاد رکھیے وہ تو اصل میں استثنیٰ ہے ہی نہیں۔ استثنیٰ تو اس کو کہتے ہیں نا کہ ایک چیز پہلے داخل تھی پھر اس کو نکال دیا جائے اور مستثنیٰ منقطع تو پہلے سے داخل ہی نہیں تھا تو اس کو جو مستثنیٰ کہا جاتا ہے وہ مجازاً کہا جاتا ہے کیونکہ وہ إلا کے بعد آیا حرف استثنیٰ کے بعد آیا ہے اس لیے اس کو بھی کیا کہہ دیتے ہیں مستثنیٰ حالانکہ حقیقت میں تو وہ مستثنیٰ نہیں۔ مستثنیٰ تو وہ ہے جو پہلے داخل ہو پھر نکالا جائے۔
تو کہتے ہیں منفصل وہ ہے کہ صحیح نہ ہو اس کا نکالنا صدر سے یعنی اول کلام سے بین یکون علی خلاف جنس ما سبق اس طور کہ وہ ما قبل کی جنس کے خلاف ہو یعنی اس سے الگ جنس ہو تو اس میں داخل ہی نہیں تھا تو نکالنا کیا ہوا؟ تو کہتے ہیں وھذا یسمى منقطعاً فی عرف النحات اور اس کو منقطع کہتے ہیں نحویوں کے عرف میں واطلاق الاستثنیٰ علیہ مجاز لوجود حرف الاستثنیٰ ببوجہ حرف استثنیٰ کے پائے جانے کے کیونکہ حرف استثنیٰ پایا جا رہا ہے اس لیے اس کو مستثنیٰ کہہ دیتے ہیں ولکن فی الحقیقۃ کلام مستقل لیکن حقیقت میں یہ مستقل کلام ہے۔
حقیقتاً کیا ہے؟ مستقل کلام ہے۔ مثلاً دیکھیے میں آپ سے کہتا ہوں۔
جاء القوم الا زیداً آئے میرے پاس وہ لوگ سوائے زید کے یہ مستثنیٰ متصل ہے یا منقطع ہے؟
جی؟
نہیں بھئی۔ یاد رکھیے مستثنیٰ متصل اور منقطع کا پتہ اس سے چلے گا کہ پہلے یہ طے ہو جائے کہ یہ جس کا استثنیٰ کیا جا رہا ہے یہ ما قبل میں داخل تھا یا داخل نہیں تھا۔ القوم اس سے کوئی متعین لوگ مراد ہیں۔ اگر ان متعین لوگوں میں سے زید بھی ایک تھا پھر إلا کے ذریعے نکالا گیا ہے تو یہ کیا ہوا مستثنیٰ متصل اور اگر یہ متعین کچھ وہ لوگ تھے کہ زید تو ان میں پہلے سے ہی نہیں داخل تو پھر یہی کس کی مثال بن جائے گی مستثنیٰ منقطع کی مثال بن جائے گی نحب کی کتابوں میں عموماً آپ کو إلا حماراً کی مثال ملتی ہے تاکہ خوب رات واضح ہو جائے کیونکہ حمار کے تو قوم میں داخل ہونے کا امکان ہی نہیں۔ کیونکہ قوم کس کو کہتے ہیں؟ مردوں کی جماعت تین سے لے کر دس تک بھئی۔ مردوں کی جماعت بھئی۔
تو۔
اب دیکھیے میں مثلاً آپ سے کہتا ہوں جاء القوم الا زیداً آئے میرے پاس وہ لوگ سوائے زید کے، زید ان میں پہلے داخل تھا پھر إلا کے ذریعے اس کو نکال لیا گیا۔ إلا کے ذریعے نکال لیا گیا۔
تو لھذا یہ کون سا مستثنیٰ متصل ہوا۔ یہاں إلا کے بعد مستقل کلام کی حاجت ہی نہیں۔
مستقل کلام لانے کی حاجت ہی نہیں لیکن جب میں کہتا ہوں جاء القوم الا حماراً مستثنیٰ منقطع کی صورت میں تو یاد رکھیے یہ إلا کے بعد مستقل کلام ہے بھئی۔ کیا ہے؟
گویا میں نے یوں کہا جاء القوم ولکن ولکن الحمار لم یجی۔
ولکن الحمار لم یجی۔
یہاں حمار کا ما قبل سے تعلق ہی نہیں ہے بھئی۔ وہاں پر کلام ہی پورا نہیں ہو رہا تو لھذا وہاں وہ کس درجے میں ہوتا ہے؟ مستقل کلام کے درجے میں ہوتا ہے۔
صورت سمجھ میں آگئی؟ پچھلے میں تو تھا الا زیداً اس کو زید کو تو اسی قوم میں سے ہم نے نکالا تھا وہ اسی سے جڑ جائے گا بھئی۔ إلا کے ذریعے ساتھ بھئی لیکن یہاں الا حماراً تو پہلے داخل ہی نہیں تھا اس کا یہ اس سے جڑ ہی نہیں رہا تو اس کے لیے یہاں کیا مانا جاتا ہے گویا کہ یہ پورا مستقل کلام ہے گویا یوں کہا گیا ولکن الحمار لم یجی لیکن گدھے صاحب تشریف نہیں لائے بھئی۔
یہ معنی ہے ولکن فی الحقیقۃ کلام مستقل لیکن حقیقت میں یہ مستقل کلام ہے وہذا معنی قولہ اور یہی معنی ہے مصنف کے قول فجعلہ مبتداءاً فجعلہ مبتداءاً یہ مستثنیٰ منقطع کو۔
بقرار دیا جائے گا مبتداءاً یعنی الگ کلام، نیا کلام۔
مستثنیٰ منقطع کو کیا قرار دیا جائے گا؟ الگ کلام فجعلہ مبتدا تو اس کو الگ کلام قرار دیا جائے گا۔ قال اللہ تعالی اللہ تعالی فرماتے ہیں اب قرآن سے بھی اس کی مثال دے رہے ہیں مستثنیٰ منقطع کی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں فانہ عدو لی إلا رب العالمین پس بے شک یہ جو ہیں یہ تمہارے معبودان باطلہ عدو لی یہ میرے دشمن ہیں إلا رب العالمین مگر رب العالمین کہ وہ میرے دشمن نہیں ہیں۔
تو دیکھیے
انہم کے ذریعہ اشارہ کیا کس کی طرف؟ ان کے معبودانِ باطلہ کی طرف اور اللہ تو ان میں داخل نہیں، تو الا کے بعد جو رب العالمین آیا، یہ مستثنٰی منقطع ہے۔ کیا ہے؟ مستثنٰی منقطع ہے اور یہ مستقل کلام کے درجے میں ہے۔ گویا کیا کہا گیا؟ آگے وہ ذکر کریں گے۔ فإنه ليس بعدو لي، کہ وہ میرے دشمن نہیں ہیں۔ یہ جو تمہارے معبودان ہیں، یہ میرے دشمن ہیں اور اللہ جو رب العالمین ہے، وہ میرے دشمن نہیں ہیں۔
تو قال اللہ تعالیٰ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: فإنه عدو لي إلا رب العالمين حكاية عن قول إبراهيم لقومه حکایت کرتے ہوئے اس ابراہیم علیہ السلام کے قول کی اپنی قوم سے۔ أي إن هذه الأصنام التي تعبدونها إنهم عدو لي إلا رب العالمين کہ یہ میرے دشمن ہیں مگر رب العالمین۔ أي لكن رب العالمين فإنه ليس بعدو لي، پس بے شک وہ میرے دشمن نہیں۔ فإنه تعالى ليس داخلاً في الأصنام، پس بے شک اللہ تعالیٰ جو ہیں وہ داخل نہیں تھے ان اصنام، ان بتوں میں۔ فيكون كلاماً مبتدأً، تو یہ الگ کلام، الگ نیا کلام ہوگا۔
ويحتمل اور یہ بھی احتمال رکھتا ہے، اب شارح فرما رہے ہیں۔ ويحتمل أن يكون القوم عبدوا الله تعالى مع الأصنام، کہ وہ قوم اللہ کی بھی عبادت کرتے ہوں ساتھ بتوں کے، بتوں کے ساتھ ساتھ اللہ کی بھی عبادت کرتے ہوں۔ والمعنى اور معنیٰ یہ ہو فإنا كل ما عبدتموه عدو لي إلا رب العالمين، پس بے شک وہ سب جن کی تم عبادت کرتے ہو، وہ میرے دشمن ہیں سوائے رب العالمین کے۔
تو اب اس صورت میں رب العالمین پہلے داخل تھے کیونکہ وہ ان سب کی عبادت کرتے تھے اور انہی میں رب العالمین بھی ہیں۔ پھر الا کے ذریعہ اس کا، ان کا استثناء کیا گیا۔ فيكون متصلاً، تو پھر یہ متصل ہوگا۔ هكذا قيل، اسی طرح کہا گیا ہے۔
والاستثناء متى تعقب كلمات معطوفة بعضها على بعض واستثناء، متى تعقب، جب وہ پیچھے آئے، كلمات، ایسے کلمات کے، معطوفة، جو کہ معطوف ہوں، بعضها على بعض، ان میں سے بعض، بعض پر۔ جب استثناء ایسے کلمات کے بعد آئے کہ جن میں سے بعض کا بعض پر عطف کیا گیا ہو، یعنی ان کا ایک دوسرے پر عطف کیا گیا ہو۔
آگے متن میں آ رہا ہے ينصرف إلى الجميع، تو یہ استثناء پھر جائے گا سب کی طرف، یعنی سب سے استثناء ہوگا۔ سب سے استثناء ہوگا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے اب پھر عبارت بھئی، عبارت میں نے کیسے پڑھی؟ والاستثناء متى تعقب كلمات معطوفة بعضها على بعض، كلمات، بھئی یہ میں نے جر کیوں پڑھا؟ یاد رکھیے مفعول ہے، یہ نصب ہے، منصوب ہے۔ یہ اس کا جمع مؤنث سالم، اس کا نصب آتا ہی کس شکل میں ہے؟ کسرہ کی صورت میں بھئی۔ تو متى تعقب كلمات، جب پیچھے آئے استثناء، کس کے پیچھے آئے؟ کلمات کے، تو یہ مفعول ہوا اور معطوفة یہ صفت ہے کلمات کی، وہ منصوب تھا تو صفت بھی کیا ہوئی؟ منصوب۔
ایسے کلمات کہ معطوف ہیں، کون معطوف ہیں؟ بعضها على بعض، یہ بعضها نائب فاعل ہے معطوفة کا بھئی۔ کیونکہ آپ پڑھ چکے کہ جیسے فعلِ معروف یا، کے لیے فاعل یا فعلِ مجہول کے لیے نائب فاعل کا ہونا ضروری، اسی طرح صفت کے صیغوں کے لیے بھی فاعل یا نائب فاعل کا ہونا ضروری۔
تو استثناء جب پیچھے آئے ایسے کلمات کے کہ عطف کیا گیا ہو ان میں سے بعض کا بعض پر۔ بأن يقول، بائیں طور کہ یوں کہتا ہے کوئی کہنے والا: لزيد علي ألف ولعمرو علي ألف ولبكر علي ألف إلا مائة، زید کے مجھ پر ایک ہزار ہیں اور عمرو کے ایک ہزار ہیں اور بکر کے ایک ہزار ہیں سوائے ایک سو کے۔ تو دیکھیے، کئی کا، لفظوں کا عطف ایک دوسرے پر کیا گیا اور استثناء آخر میں ایک ہی ذکر ہوا۔
فينصرف إلى الجميع، تو یہ استثناء پھر جائے گا سب کی طرف، یعنی یہ سب، ہر ہر ہزار میں سے سو کا استثناء ہو جائے گا۔ کالشرط، جیسے کہ شرط کہ کئی معطوف، معطوف علیہ آئیں اور شرط آخر میں ہو تو شرط ان سب سے جڑ جاتی ہے اور سب کو معلق کر دیتی ہے۔
عند الشافعي رحمہ اللہ، یہ استثناء پھر جائے گا سب کی طرف، کس کے نزدیک؟ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک کہ ان کا مذہب ہے۔ فيكون استثناء المائة من كل ألف من الالوف عند الشافعي رحمہ اللہ، تو یہ مائۃ کا استثناء ہر ہزار میں سے ہوگا ان ہزاروں میں سے، ان ہزاروں میں سے ہر ہزار سے یہ مائۃ کا استثناء ہوگا عند الشافعی رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک۔ كما يكون مثل هذا في الشرط، جیسے کہ یہ کس میں ہوتا ہے؟ جیسے کہ شرط میں اس کے مثل ہوتا ہے۔ بأن يقول، بائیں طور کہ یوں کہتا ہے کہنے والا: هند طالق وزينب طالق وعمرة طالق إن دخلت الدار، إن دخلت الدار پڑھ لیں یا إن دخلتِ الدار پڑھ لیں۔
کہ کوئی شخص کیا کہتا ہے کہ ہند کو بھی طلاق ہے اور زینب کو بھی طلاق ہے اور عمرہ کو بھی طلاق ہے إن دخلت الدار، اگر وہ اس گھر میں داخل ہوئیں۔ اگر وہ اس گھر میں داخل ہوئیں بھئی۔ تو دیکھیے کئی معطوف، معطوف علیہ آ گئے اور آخر میں شرط آئی، تو شرط نے ان سب کو معلق کر دیا۔ اس دخولِ دار کے ساتھ بھئی۔
فيكون طلاق كل من الزوجات معلقاً بدخول الدار، تو ہر زوجہ کی طلاق جو ہے وہ معلق ہو گئی دخولِ دار کے ساتھ۔ اچھا بھئی! میں نے کیا پڑھا؟ إن دخلت الدار، دخلت صیغہ پڑھا۔ اگر وہ داخل ہوئیں، ہی ضمیر اور پیچھے تین کا ذکر آیا تھا، تو یہ جماعت بن گئی اور جمع بتاویلِ جماعت واحد مؤنث کے حکم میں ہوتی ہے، ہوتی ہے تو اس کی طرف ہی ضمیر لوٹائی گئی بھئی۔
یا آپ چاہیں تو اس کو إن دخلتِ الدار پڑھ لیں۔ کوئی شخص مثلاً کسی اور عورت سے کہہ رہا ہے إن دخلتِ الدار، اگر تو اس گھر میں گئی تو میری بیوی ہند کو بھی طلاق، زینب کو بھی طلاق اور عمرہ کو بھی طلاق، تو إن دخلت الدار پڑھ لیں یا إن دخلتِ الدار پڑھ لیں۔
وهذا لأن كلا من الاستثناء والشرط بيان تغيير، اور یہ اس وجہ سے کہ استثناء اور شرط دونوں میں سے ہر ایک وہ بیانِ تغییر ہے۔ فينبغي أن يكون حكمهما متحداً، پس مناسب یہ ہے کہ ان دونوں کا حکم متحد ہونا چاہیے۔
بات چل رہی ہے امام شافعی رحمہ اللہ کی، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ استثناء جب کئی معطوفوں کے بعد آ جائے تو وہ سب کے ساتھ جڑ جائے گا، وہ استثناء سب سے ہو جائے گا، جیسے کہ شرط آخر میں آتی ہے تو وہ سب کو کیا کر دیتی ہے؟ معلق کر دیتی ہے۔
ہم کہتے ہیں کہ شرط جو ہے وہ تو سب کو معلق کر دیتی ہے، لیکن استثناء صرف آخر والے سے جڑے گا، باقیوں سے نہیں جڑے گا۔ لہٰذا صرف بکر جو تھا، اس پر تو نو سو واجب ہوں گے۔ باقی عمرو اور زید پر ہمارے نزدیک پورے پورے ہزار ہی واجب ہو جائیں گے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو اب ہمارا مذہب بیان ہوگا۔ وعندنا ينصرف الاستثناء إلى ما يليه، کہ ہمارے نزدیک استثناء پھر جائے گا اس کی طرف جو اس کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ صرف اس کے ساتھ جڑے گا۔ بخلاف الشرط، بخلاف شرط کے، لأنه مبدل، کیونکہ وہ بدلنے والی ہے، وہ سب سے جڑے گی۔
بھئی استثناء صرف آخر والے سے کیوں جڑے گا؟ اور شرط سب سے جڑتی ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ وہ وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: لأن الاستثناء يخرج الكلام من أن يكون عاملاً في الجميع، اسی لیے کیونکہ استثناء وہ نکال دیتا ہے کلام کو اس بات سے کہ وہ عمل کرنے والا ہو سارے میں، کہ وہ عمل کرنے والا ہو سارے میں۔
فينبغي أن لا يصح، تو مناسب یہ ہے اس کو صحیح ہی نہیں ہونا چاہیے۔ ولكن لضرورة عدم استقلاله يتعلق بما قبله، لیکن اس کے عدمِ مستقل ہونے کی ضرورت کی بنا پر اس کو، اس کا، یہ متعلق ہو جاتا ہے اپنے سے ماقبل کے ساتھ۔
بھئی بات یہ چل رہی ہے کہ ہمارے نزدیک استثناء صرف اپنے ساتھ والے سے جڑے گا، ماقبل میں جو اس کے معطوف اور معطوف علیہ ہیں، ان کے ساتھ نہیں جڑے گا بھئی، نہیں جڑے گا۔ وجہ یہ کہ استثناء کی صورت میں کلام اپنے پورے طور پر عمل نہیں کرتا۔
اور حالانکہ کلام کو پورے طور پر عمل کرنے والا ہونا چاہیے۔ بھئی ایک شخص کہتا ہے: لزيد علي ألف درهم، اس پر کتنے واجب ہوں گے؟ استثناء نہیں ہے، بغیر استثناء کے ایک ہزار واجب ہوں گے۔ لیکن اگر وہ کہتا ہے: لزيد علي ألف درهم إلا مائة، اب کتنے واجب ہوں گے؟ نو سو واجب ہوں گے۔ تو لزيد علي ألف درهم اس نے پورے طور پر اپنا عمل اور اپنا اثر نہیں دکھایا۔ حالانکہ ہونا کیا ہے؟ اصل کیا ہے؟ کلام کو پورے طور پر عمل کرنے والا ہونا چاہیے، وہ اس کا اثر پورے طور پر ظاہر ہونا چاہیے، لیکن یہ استثناء کیا کر دیتا ہے؟ اس کلام کو پورے طور پر عمل کرنے سے روک دیتا ہے۔
تو اصل تو یہی ہے کہ کلام کو پورے طور پر اثر دکھانا چاہیے۔ لہٰذا استثناء کو اس کے ساتھ جوڑنا ہی نہیں چاہیے تاکہ یہ پورے طور پر اپنا اثر دکھائے۔ ایک عاقل بالغ کا کلام ہے تو اس کو پورے طور پر اثر دکھانا چاہیے۔ اور لہٰذا استثناء کو تو اس کے ساتھ جوڑنا ہی نہیں چاہیے، کیونکہ استثناء کو جب جوڑیں گے تو یہ پورے طور پر اپنا اثر نہیں دکھائے گا۔ لیکن مجبوری ہے، اس کو جوڑنا پڑتا ہے کیونکہ إلا مائة یہ پورا کلام ہی نہیں۔ جب یہ پورا کلام نہیں، یہ چاہتا ہے کہ میں اپنے سے ماقبل سے جڑا رہوں، تو مجبورا جوڑنا پڑتا ہے۔
تو اس کو جو جوڑا گیا ہے وہ ضرورت کی بنا پر ہے اور ضرورت صرف آخر والے سے جوڑ دیں تو ضرورت پوری ہو جاتی ہے، لہٰذا سب کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت نہیں ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
جبکہ اس کے مقابلے میں شرط جو ہوتی ہے، وہ کلام کو اپنے عمل سے نہیں روکتی، صرف اس کو مؤخر کر دیتی ہے شرط کے پائے جانے تک۔ شرط کے پائے جانے تک۔ مثلاً اس شخص نے کیا کہا تھا؟ هند طالق وزينب طالق وعمرة طالق إن دخلت الدار، ان تینوں کو طلاق ہے اگر تو اس گھر میں داخل ہوئی۔
تو اب دیکھیے إن دخلت الدار میں ہند کی طلاق، زینب کی طلاق اور عمرہ کی طلاق، ان میں سے کسی کو روکا نہیں، صرف اس کو کیا کیا ہے؟ مؤخر کیا ہے۔ تو اس وجہ سے شرط چونکہ کلام کو پورے طور پر عمل کرنے سے روکنے والی نہیں ہے، صرف مؤخر کرنے والی ہے، اس لیے اس کو تو ہم سب کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں، لیکن استثناء تو کیا کرتا ہے؟ کلام کو پورے طور پر عمل کرنے سے روک دیتا ہے، لہٰذا اس کو ہم نے سب کے ساتھ نہیں جوڑا تاکہ باقی کلام تو پورے طور پر اثر کرتا رہے اور صرف آخری کے ساتھ ضرورت کی بنا پر جوڑ دیا جاتا ہے۔
یہ معنیٰ ہے: وعندنا ينصرف الاستثناء إلى ما يليه، اور پھر جائے گا استثناء اس چیز کی طرف جس کے ساتھ وہ ملا ہوا ہے، بخلاف الشرط، بخلاف شرط کے، لأنه مبدل، کیونکہ وہ بدلنے والی ہے، یعنی تنجیز سے کس کی طرف؟ تعلیق کی طرف، تنجیز کا کیا معنیٰ ہے؟ واقع کرنا اور تعلیق کا معنیٰ؟ معلق کرنا۔ تو اگر ویسے أنت طالق کہے گا تو طلاق ہو جائے گی، لیکن إن دخلت الدار ساتھ لگائے گا تو طلاق کیا ہو جائے گی؟ معلق۔ تو شرط صرف کیا کرتی ہے؟ تنجیز سے تعلیق کی طرف کلام کو بدل دیتی ہے۔
لأن الاستثناء يخرج الكلام من أن يكون عاملاً في الجميع، اس لیے کیونکہ استثناء وہ روک دیتا ہے کلام کو اس بات سے کہ وہ عمل کرنے والا ہو سارے میں، یعنی سارے کلام میں۔ فينبغي أن لا يصح، تو مناسب یہ ہے کہ وہ صحیح نہ ہو، ولكن لضرورة عدم استقلاله يتعلق بما قبله، لیکن اس کے مستقل نہ ہونے کی ضرورت کی بنا پر یہ متعلق ہو جاتا ہے اپنے سے ماقبل کے ساتھ، وهي تندفع بصرفه إلى الأخيرة، اور یہ دور ہو جاتی ہے، یعنی یہ ضرورت، یہ ضرورت دور ہو جاتی ہے بصرفه إلى الأخيرة، یہ آخر والے کی طرف اس کو پھیرنے سے ہی۔ استثناء کو صرف آخر والے کی طرف پھیر دیں، اس سے جوڑ دیں تو اس سے بھی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ بخلاف الشرط، بخلاف شرط کے، فإنه لا يخرج اصل الحكم، کہ وہ نہیں نکالتی اصلِ حکم کو، من أن يكون عاملاً، اس بات سے کہ وہ عمل کرنے والا ہو، وإنما يتبدل به الحكم من التنجيز إلى التعليق، اور اس کے ذریعہ حکم بدل جاتا ہے تنجیز سے تعلیق کی طرف صرف۔ صرف اس کے ذریعہ حکم تنجیز سے تعلیق کی طرف بدل جاتا ہے۔ فيصلح أن يكون متعلقاً لجميع ما سبق، تو پس یہ صلاحیت رکھتی ہے کہ یہ متعلق ہو جائے ان سب سے جو اس سے ماقبل میں ہے، لوجود شرکت العطف، وجہ عطف کی شرکت کے پائے جانے کے۔ ولكنه لا يخفى عليك، لیکن آپ پر یہ بات مخفی نہیں، أنه عد الشرط والاستثناء فيما قبل، کہ مصنف نے شمار کیا تھا شرط اور استثناء کو اس سے پہلے، من بيان التغيير، کس میں سے شمار کیا تھا شرط اور استثناء کو؟ بیانِ تغییر میں سے! وها هنا عد الشرط من التبديل، اور یہاں پر شرط کو شمار کیا ہے کس میں سے؟ بیانِ تبدیل میں سے، اوپر آیا نا لأنه مبدل۔ لیکن کہتے ہیں: ولا مضايقة فيه بعد حصول المقصود، لیکن اس میں کوئی حرج نہیں ہے، مقصد حاصل ہو جانے کے بعد۔
مقصد حاصل ہو جانے کے بعد اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ اس کو مبدل کہہ دیا جائے۔ یہ بھئی! ماتن نے یہ نہیں کہا کہ یہ شرط بیانِ تبدیل ہے۔ مبدل کہا، تو اس سے وہ اصطلاحی بیانِ تبدیل نہیں مراد، مبدل لغوی معنیٰ میں ہے، یعنی بدلنے والی ہے، شرط کیا ہے؟ بدلنے والی ہے، یعنی اس نے کلام کو تنجیز سے تعلیق کی طرف بدل دیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو تنجیز کی طرف، تو یہاں مصنف کی مراد وہ بیانِ تبدیل ہے ہی نہیں کہ ان پر اعتراض کیا جائے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔