Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-120

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 12 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 11
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔120 ثم بعد الفراغ من دفع النقض شرع في المعارضة الواردة على العلة المؤثرة. فقال: "وأما المعارضة فنوعان، وهي إقامة الدليل على خلاف ما أقام الدليل عليه الخصم، فإن كان هو ذلك الدليل الأول بعينه فهو النوع الأول وإلا فهو النوع الثاني. فالنوع الأول معارضة فيها مناقضة، وهي القلب". علتِ مؤثرہ پر ہونے والے اعتراضات بھئی! علتِ مؤثرہ۔ بتلایا تھا علتِ طردیہ پر تو چار قسم کے اعتراضات ہو سکتے ہیں، جبکہ علتِ مؤثرہ پر مناقضہ اور فسادِ وضع کا اعتراض نہیں ہو سکتا، اس لیے کیونکہ مناقضہ اور فسادِ وضع کے اندر علت کو توڑا جاتا ہے، اور علتِ مؤثرہ کی تاثیر تو کتاب اللہ، سنت یا اجماع سے ثابت ہو چکی ہے، لہذا علتِ مؤثرہ کو توڑنا گویا کہ کتاب اللہ یا حدیث یا اجماع کو توڑنا ہے، حالانکہ ان کو تو نہیں توڑا جا سکتا، وہ قطعی دلیلیں ہیں۔ تو اس کے بعد پھر ممانعت رہ گیا تھا اور اسی طرح صورتاً مناقضہ آ سکتا ہے اس پر، حقیقتاً، حقیقتِ مناقضہ کا اعتراض تو نہیں ہو سکتا، لیکن صورتاً مناقضہ آ سکتا ہے اس پر، اور اس کے جواب دینے کے چار طریقے بتلائے تھے بھئی۔ اب معارضہ بیان کریں گے کہ علتِ مؤثرہ پر جو ہے معارضہ کا اعتراض ہو سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ثم بعد الفراغ من دفع النقض، پھر جب مصنف رحمہ اللہ نقض کی دفع سے فارغ ہوئے کہ کس طرح جو نقضِ صوری جو ہے اس کو چار طریقوں سے دفع کیا جائے گا، اس کے بیان سے جب فارغ ہوئے، شرع في المعارضة الواردة على العلة المؤثرة، تو شروع ہوئے اس معارضے کے بیان میں جو وارد ہوتا ہے علتِ مؤثرہ پر۔ فقال، پس فرمایا: وأما المعارضة فنوعان، اور باقی معارضہ جو ہے وہ دو قسم پر ہے۔ وهي، معارضہ کہتے کس کو ہیں؟ پہلے اس کی تعریف کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وهي إقامة الدليل على خلاف ما أقام الدليل عليه الخصم. وہ دلیل قائم کرنا ہے اس حکم کے خلاف پر جس پر خصم نے، یعنی مقابل نے دلیل قائم کی تھی۔ معارضہ کسے کہتے ہیں؟ بھئی دیکھیے، معلل نے تعلیل کی، ایک حکم اور علت بیان کی کہ یہ علت ہے اور یہ اس کا حکم ہے۔ تو اس نے حکم پر دلیل قائم کی کہ حکم اس طرح ہے اور اس پر دلیل بنائی۔ آپ دوسرے، اس کے خلاف جو حکم ہے اس پر دلیل قائم کر دیتے ہیں۔ اس کی دلیل سے تعرض نہیں کرتے، نہ اس کے حکم سے، بلکہ کیا کر دیتے ہیں؟ اس کے خلاف جو حکم ہے، اس نے جس حکم پر دلیل قائم کی تھی، اس کے حکم کے خلاف جو حکم ہے آپ اس پر کیا کر دیتے ہیں؟ دلیل قائم۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ معلل نے کیا کیا تھا؟ ایک حکم پر دلیل قائم کی کہ یہ حکم اس طرح ہے، اس کی دلیل یہ ہے۔ آپ اس کے حکم یا دلیل کو نہیں چھیڑتے، صرف کیا کرتے ہیں؟ اس کے مخالف حکم پر آپ دلیل قائم کر دیتے ہیں کہ اگر آپ کے پاس یہ دلیل ہے اور اس سے یہ حکم ثابت ہو رہا ہے تو ہمارے پاس یہ دلیل ہے اور اس سے اس کا مخالف حکم ثابت ہو رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ ہے معارضہ۔ یہی بات کر رہے ہیں، دیکھیے: وهي إقامة الدليل على خلاف ما أقام الدليل عليه الخصم. یہ دلیل قائم کرنا ہے اس حکم کے خلاف پر جس پر فریقِ مخالف نے دلیل قائم کی تھی۔ اس کی دلیل کو نہیں چھیڑا ہم نے، اس کے حکم کو نہیں چھیڑا، بس صرف کیا کیا؟ اس کے خلاف جو حکم، اس کے حکم کے خلاف جو حکم تھا اس پر ہم نے دلیل قائم کر دی بھئی، دلیل قائم کر دی۔ اب اس میں یاد رکھیے: فإن كان هو ذلك الدليل الأول بعينه فهو النوع الأول، وإلا فهو النوع الثاني. دو صورتیں ہیں پھر یہاں پر بھئی معارضے میں۔ معارضے میں کیا کیا جاتا ہے؟ جس حکم پر معلل نے دلیل قائم کی تھی، آپ کیا کرتے ہیں اس کے مخالف حکم پر دلیل قائم کر دیتے ہیں۔ پھر اس میں دو صورتیں ہیں۔ یا تو آپ بعینہِ وہی دلیل جو اس نے قائم کی تھی اسی کو اپنی دلیل بنا لیتے ہیں بھئی، اسی کو کیا کر لیتے ہیں؟ اپنی دلیل بنا لیتے ہیں، یا نئی دلیل قائم کرتے ہیں، دو صورتیں ہیں۔ یا تو اسی کی دلیل کے ذریعے کیا کرتے ہیں آپ؟ اپنا حکم ثابت کرتے ہیں، حکمِ مخالف۔ اس نے اس دلیل کے ذریعے ایک حکم ثابت کیا تھا، آپ اسی کے ذریعے کیا کرتے ہیں؟ دوسرا حکم ثابت کر دیتے ہیں، تو یہ ہے پہلی قسم معارضے کی، اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر یہ دوسری قسم ہے بھئی، دوسری قسم ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور یہ جو پہلی قسم ہے یاد رکھیے، جس میں کیا کرتے ہیں؟ اسی کی دلیل کو مخالف حکم کے لیے دلیل بنا لیتے ہیں، اس کو کہتے ہیں "معارضہ ایسا معارضہ جس کے اندر مناقضہ بھی ہے"۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ ایسا معارضہ جس کے اندر مناقضہ بھی ہے۔ نقض کا معنی توڑنا تھا نہ، توڑنا؟ تو یہ ہے تو معارضہ، معارضہ کس کو کہتے تھے؟ اس نے جس حکم پر دلیل قائم کی آپ اس کے مخالف حکم پر، تو معارضہ تو یہ ہے ہی، ساتھ مناقضہ بھی ہے، مناقضہ کس طرح؟ کہ اس نے دلیل بنائی تھی ایک حکم کے لیے، آپ نے اس کی دلیل توڑ دی کہ یہ اس حکم کے لیے دلیل نہیں ہے بلکہ اس حکم کے لیے دلیل ہے، تو دیکھو اس میں مناقضہ بھی آ گیا۔ کیا آ گیا؟ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ جو ہم نے اسی کی دلیل کو استعمال کیا، اس سے اس کی دلیل باطل کر رہے ہیں ہم ساتھ گویا، تو بیچ میں کیا آ گیا، ضمناً کیا آ گیا؟ مناقضہ بھی آ گیا۔ کہتے ہیں: فالنوع الأول معارضة فيها مناقضة. تو پہلی قسم وہ ایسا معارضہ ہے، دیکھیے، معارضة نکرہ ہے۔ نکرہ کے بعد فعل آتا تھا، اس کے لیے کیا بنتا تھا؟ صفت۔ کیوں، صفت کیوں بنتا تھا؟ کیونکہ نکرہ کے بعد فعل آیا اور فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ بنے گا اور جملہ نکرہ ہوا کرتا ہے، تو ماقبل میں بھی نکرہ، آگے جو جملہ آیا ہے وہ بھی نکرہ ہے، تو نکرہ کے بعد نکرہ آئے تو اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ اور معلوم ہوا جملہ نکرہ ہوتا ہے۔ اور جس طرح جملہ فعلیہ نکرہ ہوتا ہے، اسی طرح جملہ اسمیہ بھی نکرہ ہے۔ تو یہاں پر دیکھیے، جملہ اسمیہ صفت بن رہا ہے۔ معارضة ہے موصوف اور آگے فيها مناقضة، یہ پورا جملہ اسمیہ ہے، فيها خبرِ مقدم اور مناقضة مبتدائے مؤخر، مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہو کر یہ صفت بنے گا کس کی؟ معارضة کی، اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے تھے؟ ایک میں نے کیا بتلایا؟ موصوف سے پہلے "ایسا" کا لفظ لے آئیں۔ تو دیکھیے: فالنوع الأول معارضة فيها مناقضة، پہلی قسم ایسا معارضہ جس کے اندر مناقضہ ہو۔ وهي القلب، اور یہی قلب ہے بھئی۔ یہی، اسی کا نام قلب ہے في اصطلاح الأصوليين والمناظرة معا، علمائے اصول کے نزدیک اور علمائے مناظرہ دونوں کے نزدیک، دونوں اس کو کیا کہتے ہیں؟ قلب کہتے ہیں، قلب۔ فهو من حيث إنه يدل على نقيض مدعى المعلل، بھئی وہی بات بیان کر رہے ہیں کہ معارضہ اس کو کیوں کہتے ہیں، مناقضہ کیوں کہتے ہیں۔ معارضہ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس کے حکم کے خلاف پر آپ نے دلیل قائم کی، اور مناقضہ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ جب آپ نے اسی کی دلیل کو استعمال کیا تو گویا اس کی دلیل کو باطل کر دیا یا توڑ دیا بھئی۔ تو کہتے ہیں: فهو من حيث إنه يدل على نقيض مدعى المعلل، تو یہ اس حیثیت سے کہ یہ دلالت کرتا ہے معلل کے دعویٰ کی نقیض پر، على نقيض مدعى المعلل، معلل کا جو دعویٰ تھا، یعنی جو حکم اس نے ثابت کیا تھا، اس کی نقیض پر یہ کیا کرتا ہے؟ یہ دلالت کرتا ہے، يسمى معارضة، اس کو کیا کہتے ہیں؟ معارضہ۔ ومن حيث إن دليله لم يصلح دليلا، اور اس حیثیت سے کہ اس کی دلیل جو ہے وہ دلیل بننے کی صلاح، لم يصلح دليلا له، اس کی دلیل اس کے لیے دلیل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی، آگے آ رہا ہے کچھ لفظوں کے بعد: لخلل في الدليل، کس وجہ سے؟ دلیل میں خلل کی وجہ سے، تو اس کا تعلق یہ لم يصلح سے ہے کہ أن دليله لم يصلح دليلا له لخلل في الدليل، اس کی اپنی دلیل جو ہے وہ اس کے لیے دلیل بننے کی صلاحیت کیوں نہیں رکھتی؟ لخلل في الدليل، بوجہ دلیل میں خلل کے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ومن حيث إن دليله لم يصلح دليلا له، اس حیثیت سے کہ اس کی دلیل جو ہے وہ صلاحیت نہیں رکھتی اس کے لیے دلیل بننے کی، بل صار دليلا للخصم، بلکہ یہ خصم کی دلیل، یعنی مقابل کی دلیل بن گئی، يسمى مناقضة، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مناقضہ کہتے ہیں، لخلل في الدليل، بوجہ دلیل میں خلل کے پائے جانے کے، میں نے بتلا دیا اس کا تعلق لم يصلح سے ہے۔ ولكن المعارضة أصل فيه، اچھا بھئی! اس کو ہم نے کیا نام رکھا؟ معارضہ جس کے اندر کیا ہے؟ مناقضہ۔ بھئی آپ نے اس کا یہ نام کیوں نہیں رکھا: "ایسا مناقضہ جس کے اندر معارضہ ہے"؟ نام آپ نے کیا رکھا؟ ایسا معارضہ جس میں مناقضہ، اس کا عکس کیوں نہیں کیا؟ یوں کہتے: "ایسا مناقضہ جس کے اندر معارضہ ہے"۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں بھئی کہ یہاں پر جو نقض آیا وہ ضمناً آیا، نقضِ حقیقی تو ہم بیان کر چکے ہیں علتِ مؤثرہ پر وارد ہی نہیں ہو سکتا بھئی۔ نقضِ حقیقی تو علتِ مؤثرہ پر، کیونکہ علتِ مؤثرہ کی تاثیر تو قرآن، حدیث اور اجماع سے ثابت ہے، تو لہذا وہاں پر علت کو توڑا ہی نہیں جا سکتا، لیکن یہاں پر جو نقض آ رہا ہے وہ ضمناً آ رہا ہے، اور اصل کیا ہے؟ معارضہ۔ تو اصل کے، ہم نے اصل رکھا اور ضمناً جو چیز آ رہی تھی اس کو ضمناً ہی رکھا، ہر ایک کو اپنے درجے پر رکھا، اسی لیے ہم نے اس کا نام کیا رکھا؟ ایسا معارضہ، کیونکہ یہ اصل ہے۔ معارضہ کیا ہے؟ اصل۔ تو ایسا معارضہ جس میں کیا ہے؟ مناقضہ ہے۔ ولكن المعارضة أصل فيه والنقض ضمني، لیکن معارضہ اس کے اندر اصل ہے اور نقض ضمنی ہے، لأن النقض قصدي لا يرد على الدليل المؤثر، اس لیے کیونکہ نقضِ قصدی، یعنی بالارادہ جو نقض ہے وہ وارد نہیں ہوتی على الدليل المؤثر، کس پر؟ اس دلیل پر جو مؤثر ہو، دلیل سے کیا مراد ہے؟ علت، اس علت پر جو مؤثر ہو اس پر نقضِ قصدی، یعنی بالارادہ نقض وارد نہیں ہو سکتا، ولذلك سمي معارضة فيها المناقضة، اسی وجہ سے اس کو، اسی لیے سمي اس کو موسوم کیا گیا معارضة فيها المناقضة، ایسا معارضہ کہ جس کے اندر مناقضہ ہے، ولم يسم مناقضة فيها المعارضة، اور اس کو موسوم نہیں کیا گیا ایسا مناقضہ جس کے اندر معارضہ ہو، اس نام سے موسوم نہیں کیا گیا۔ وهو نوعان، اور یہ دو قسم پر ہے: أحدهما قلب العلة حكما والحكم علة. یہ دو قسم پر ہے بھئی، ایک قسم کیا ہے؟ قلب العلة حكما والحكم علة. قلب کا معنی پلٹنا، پلٹنا۔ تو یہاں پر ایک صورت یہ ہے کہ معلل نے ایک چیز کو علت بنایا تھا، ایک چیز کو حکم بنایا تھا، ہم قلب کر دیتے ہیں، پلٹ دیتے ہیں، الٹا دیتے ہیں، ان کی علت کو حکم قرار دے دیتے ہیں اور ان کے حکم کو علت قرار دے دیتے ہیں۔ تو ان میں یہ دو قسم پر ہے: أحدهما قلب العلة حكما والحكم علة، اور علت کو پلٹ دینا ہے حکم کی طرف اور حکم کو، یعنی علت کو الٹا کر حکم بنا دینا اور حکم کو علت۔ وهو مأخوذ من قلب القصعة، اور یہ ماخوذ ہے قلب القصعة سے۔ قصعة کہتے ہیں پیالے کو بھئی، پیالہ۔ پیالے کو جیسے الٹایا جائے بھئی، پیالہ ایک سیدھا پڑا ہوا ہے، ایک اس کا اوپر والا حصہ ہے، ایک نیچے، نیچے والا حصہ ہے، تو اس کو الٹا دیا جائے، الٹا رکھ دیا تو جو اوپر والا حصہ تھا وہ نیچے چلا گیا اور جو نیچے والا تھا وہ اوپر۔ یہاں بھی اسی طرح تھا، ایک ہے علت، ایک ہے حکم، علت اعلیٰ ہے، حکم ادنیٰ، کیونکہ علت سے ہی تو حکم ثابت ہوا کرتا ہے، تو علت تھی اوپر، حکم تھا نیچے، ہم نے اس کو پلٹا دیا بھئی، حکم کو علت بنا دیا اور علت کو حکم، تو جو حکم تھا پہلے اب وہ اوپر آ گیا، علت بن گیا، اور جو اوپر تھی علت وہ نیچے چلی گئی، کیا بن گئی؟ حکم بن گئی۔ تو کہتے ہیں: وهو مأخوذ من قلب القصعة، اور یہ ماخوذ ہے پیالے کے الٹنے سے، أي جعل أعلاها أسفلها وأسفلها أعلاها، یعنی اس کے اوپر کو نیچے کر دینا اور نیچے کو اوپر کر دینا، فالعلة أعلى والحكم أسفل، پس علت جو ہے وہ اعلیٰ ہے، یعنی اوپر ہے، والحكم أسفل، اور حکم نیچے ہے، وهو لا يتحقق، جی! یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ یہ جہاں پر ہم علت کو حکم بنا دیتے ہیں اور حکم کو علت بناتے ہیں، یہ صرف اسی جگہ میں ہو سکے گا جب اس نے علت ایسی، ایسے وصف کو بنایا ہو جس میں حکم بننے کی بھی صلاحیت ہے، کیونکہ آپ نے اسی کی علت کو کیا بنانا ہے؟ حکم بنانا ہے، تو وہ حکم بن سکے بھئی، تو پھر ایسا ہو سکتا ہے، اگر حکم بن ہی نہیں سکتا تو پھر وہاں پر تو ایسا نہیں کر سکتے، کیونکہ ہم نے کیا کرنا تھا؟ ان کے حکم کو علت بنانا تھا، تو ان کا حکم ایسا ہونا چاہیے جو کیا بن سکے؟ علت، اور ان کی علت کیا ہونی چاہیے جو حکم بن سکے، وہیں پر ہو گا۔ کہتے ہیں: وهو لا يتحقق إلا إذا جعل الوصف في القياس حكما شرعيا يقبل الانقلاب، اور یہ قلب ثابت نہیں ہو سکتا مگر جب بنایا جائے وصف کو قیاس میں ایسا حکمِ شرعی جو قبول کر لے انقلاب کو، جو پلٹنے کو قبول کر لے، لا الوصف المحض الذي لا يقبله، نہ کہ وصفِ محض جو اس انقلاب کو قبول نہ کرتا ہو، كقولهم، أي الشافعية، جیسے کہ شافعیہ کا قول ہے: إن الكفار جنس يجلد بكرهم مائة فيرجم ثيبهم كالمسلمين، کہ کفار ایک جنس ہیں، کفار کیا ہیں؟ ایک جنس ہیں، يجلد بكرهم مائة، ان کے جو بکر ہیں، یعنی غیر شادی شدہ جو ہیں، ان کو سو کوڑے لگائے جائیں گے، فيرجم ثيبهم كالمسلمين، تو پھر رجم کیا جائے گا ان کے ثیب کو، یعنی شادی شدہ کو۔ کفار ایک جنس ہیں بھئی، کفار کیا ہیں؟ اور اس کے تحت دو انواع آ گئیں: ایک شادی شدہ، ایک غیر شادی شدہ۔ تو جب ان کے غیر شادی شدہ کو سو کوڑے لگیں گے تو ان کے شادی شدہ کو رجم کیا جائے گا، سنگسار کیا جائے گا۔ تو کوڑے لگ، سو کوڑے جو لگیں گے غیر شادی شدہ کو، اس کو انہوں نے علت بنایا، اور جو رجم کیا جائے گا اس کو انہوں نے حکم بنایا۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ علت کس کو بنایا؟ سو کوڑے لگنے کو، اور حکم کیا بنایا؟ رجم کرنا۔ جب ان کے غیر شادی شدہ کو سو کوڑے لگیں گے تو پھر ان کے شادی شدہ کو رجم کیا جائے گا، تو علت کیا ذکر کی؟ سو کوڑے۔ اور حکم کیا ذکر کیا؟ رجم کو ذکر کیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ان میں دو انواع آ گئیں: ایک شادی شدہ، ایک غیر شادی شدہ، یہ ایک جنس ہیں، اور غیر شادی شدہ کو سو کوڑے لگیں گے، تو شادی شدہ اگر ان میں سے کوئی زنا کر لے تو اس کا جرم بڑھ گیا، جب جرم بڑھ گیا تو اس کو کیا لگنے چاہئیں؟ اس کو، اس کو رجم کیا جانا چاہیے۔ تو انہوں نے سو کوڑوں کو علت قرار دیا اور رجم کو اس کا حکم، جیسے جس طرح کے مسلمانوں میں ہے، کہتے ہیں اسی طرح وہاں بھی ہو گا۔ یعنی أن الإسلام ليس بشرط للإحصان، یعنی کہ اسلام جو ہے شرط نہیں ہے احصان کے لیے۔ احسان رجم کے لیے کئی شرائط ہیں بھئی فقہاء بیان کرتے ہیں۔ رجم کس پر آئے گا؟ کس شخص پر؟ کہ وہ زنا کرے تو پھر اس کو رجم کیا جائے گا۔ پانچ چھ شرائط ذکر کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو، مسلمان ہو اور پھر اس کا نکاح، نکاح صحیح ہوا ہو کسی عورت سے اور پھر اس کے ساتھ اس نے صحبت بھی کی ہو بھئی۔ اور بیوی میں بھی یہی صفات پائی جائیں، یعنی وہ بھی مسلمان ہو اسی طرح بھئی۔ وہ بھی آزاد ہو اسی طرح۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ پھر اگر باندی کے ساتھ نکاح کیا ہے یا غیر مسلمہ یعنی یہودی یا عیسائی عورت سے شادی سے نکاح کیا تھا تو پھر اس صورت میں رجم نہیں آئے گا۔ تو رجم کی پانچ چھ شرائط۔ پہلے کیا؟ آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو، مسلمان ہو اور صحیح نکاح صحیح کیا ہو کسی عورت سے اور پھر اس کے ساتھ صحبت بھی کی ہو اور عورت میں بھی یہی شرائط پائی جائیں۔ اور انہی میں ایک شرط کیا تھی؟ اسلام کی بھی بھئی، تو معلوم ہوا وہ عورت بھی کیا ہونی چاہیے؟ مسلمان بھی ہو، آزاد بھی ہو وغیرہ بھئی۔ تو پھر اس کے بعد، تو ان میں ایک شرط اسلام کی بھی آ گئی۔ تو دیکھو معلوم ہوا، یعنی امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک: أن الإسلام ليس بشرط للإحصان، اسلام وہ احسان کے لیے شرط، شرط نہیں ہے احسان رجم کے لیے۔ فكما أن المسلمين يرجم بعضهم ويجلد بعضهم فكذا الكفار، پس جیسے کہ مسلمان جو ہیں ان میں سے بعض کو رجم کیا جاتا ہے اور بعض کو کوڑے لگائے جاتے ہیں تو کہتے ہیں: فكذا الكفار، اسی طرح کفار ہیں۔ فجعل جلد المائة علة لرجم الثيب، تو امام شافعی رحمہ اللہ نے، شوافع نے 100 کوڑوں کو علت بنایا، کس لیے؟ ثیب کو، ثیب کے رجم کے لیے، بالقياس على المسلمين، کس پر قیاس کرتے ہوئے؟ مسلمانوں پر۔ وهو في الواقع حكم شرعي، اور یہ واقع میں حکم شرعی ہے۔ یہ جلد المائة یا 100 کوڑے، اس کو انہوں نے علت بنایا لیکن حقیقت میں یہ کیا ہے؟ حکم شرعی ہے۔ وعندنا لما كان الإسلام شرطا للإحصان، ہمارے نزدیک جب اسلام وہ شرط ہے احسان کے لیے، یعنی احسان رجم بھئی۔ ایک احسان قذف بھی ہے یاد رکھیے۔ احسان القذف، قذف کی حد جس پر لگے کہ حد قذف، اس میں نکاح اور صحبت کی شرط نہیں ہے۔ عاقل ہو، آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو، مسلمان ہو بھئی۔ اچھا، تو کہتے ہیں ہمارے نزدیک جب اسلام شرط ہے احسان کے لیے، والكفار ليس عليهم إلا الجلد، اور کفار جو ہیں ان پر صرف کوڑے ہی ہیں، بكرا كان أو ثيبا، چاہے وہ غیر شادی شدہ ہوں، چاہے ہمارے نزدیک کفار پر صرف 100 کوڑوں کی سزا ہے اگر ان میں کوئی زنا کر لے، چاہے وہ شادی شدہ ہو چاہے غیر، کیونکہ رجم وہیں پر آئے گا نہ جہاں پر کس کے ساتھ؟ مسلمان ہو اور مسلمان عورت کے ساتھ نکاح کیا ہو، وہ شرط یہاں نہیں پائی جا رہی۔ تو لہذا: عارضناهم بالقلب، تو ہم نے معارضہ کیا ان شوافع کا بالقلب، قلب کے ذریعے۔ فنقول، پس ہم کہتے ہیں: المسلمون إنما يجلد بكرهم مائة لأنه يرجم ثيبهم، کہ مسلمان جو ہیں ان کے غیر شادی شدہ کو کوڑے لگائے جاتے ہیں 100، کیوں؟ لأنه يرجم ثيبهم، کیونکہ ان کے شادی شدہ کو رجم۔ عبارت پر غور نظر ہے؟ پیچھے بھی آیا تھا: يجلد بكرهم مائة فيرجم ثيبهم، وہاں 'فا' لائے تھے۔ معلوم ہوا ماقبل میں علت تھی، مابعد میں حکم۔ اب وہ لے کر آئے ہیں: لأنه يرجم، معلوم ہوا ماقبل میں حکم ہے اور مابعد میں علت ہے کہ کوڑے لگائے جائیں گے ان کے غیر شادی شدہ کو، کیوں کوڑے لگائے جائیں گے؟ کیونکہ ان کے شادی شدہ کو، مسلمانوں کے شادی شدہ کو رجم کیا جاتا ہے۔ تو دیکھو رجم کرنا علت اور کوڑے لگانا حکم۔ غير أنا لا نسلم، یہ بات ہمیں تسلیم نہیں ہے کہ أن الجلد علة للرجم في المسلمين، کہ کوڑے لگانا یہ علت ہے مسلمانوں کے رجم میں، بل الرجم علة، بلکہ رجم جو ہے علت ہے۔ بل الرجم علة للجلد، بلکہ رجم جو ہے وہ علت ہے کوڑے لگنے کے لیے فيهم، ان میں، مسلمانوں میں۔ فهذه معارضة، تو یہ ایسا، یہ پس یہ معارضہ ہے، لأنها، اب بیان کر رہے ہیں بھئی یہ معارضہ کس طرح ہے اور مناقضہ کس طرح ہے؟ کہتے ہیں: لأنها تدل على خلاف مدعى المعلل الذي هو رجم ثيبهم، اس لیے کیونکہ یہ معلل کے دعویٰ کے خلاف جو ہے دلالت کر رہا ہے۔ اس کا دعویٰ کیا تھا؟ الذي هو رجم ثيبهم، کہ کیا کیا جائے گا؟ کفار کے شادی شدہ کو کیا کیا جائے گا؟ رجم کیا جائے گا، تو یہ اس کے خلاف دعویٰ ہے، ہو گیا ہمارا بھئی۔ وفيها مناقضة، اور اس کے اندر مناقضہ بھی ہے لدليلهم، ان کی دلیل کا، یعنی ان کی دلیل کا مناقضہ بھی ہے بأن أنه لا يصلح علة، کہ وہ علت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ تو اسی چیز کو جس کو انہوں نے علت بنایا تھا ہم نے کیا بنا دیا؟ حکم بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ان کی دلیل کو بھی باطل کر دیا اور خلاف پر دلیل بھی قائم کر دی۔ تو خلاف پر دلیل قائم کی، یہ ہوا معارضہ، اور انہی کی دلیل کو استعمال کیا، یہ کیا ہوا؟ مناقضہ بھئی۔ والمخلص منه، اور اس سے چھٹکارا جو ہے، معارضے سے چھٹکارا کیسے ہو گا بھئی؟ معارضہ بھی بیان کر دیا، مثال بھی ذکر کر دی اور اس سے چھٹکارا کیسے؟ چھٹکارا یہ کہ آپ کلام کو تعلیل کے، اپنے دعویٰ کو تعلیل کی صورت میں پیش ہی نہ کریں بلکہ اپنے دعویٰ کو استدلال کی صورت میں پیش کریں۔ اگر آپ کس سے بچنا چاہتے ہیں؟ یہ قلب سے، قلب سے۔ اگر آپ قلب سے بچنا چاہتے ہیں قلب کے اعتراض سے، تو شروع سے ہی خیال رکھنا، دعویٰ کرتے وقت تعلیل والا انداز اختیار نہ کرنا بلکہ کون سا انداز اختیار کرنا؟ استدلال والا، استدلال والا انداز اختیار کرنا بھئی۔ معنیٰ یہ کہ قلب کا، جو اوپر آیا نہ متن میں: والمخلص منه، قلب سے چھٹکارا اس سے رہائی، اس چھٹکارے کا یہ معنیٰ نہیں کہ اگر آپ پر کوئی قلب کا اعتراض کر دیں تو پھر اس کا جواب کیسے دیا جائے گا؟ اس سے چھٹکارا کیسے ہو گا؟ بلکہ معنیٰ یہ ہے کہ ابتداءً ہی اگر آپ چاہتے ہیں کہ قلب سے بچ جائیں تو پھر یہ طریقہ اختیار کریں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہتے ہیں: والمخلص منه، اور چھٹکارا جو ہے قلب سے، يعني أن من أراد أن لا يرد على علته القلب في المآل، کہ جس کا ارادہ یہ ہو کہ وارد نہ ہو اس کی علت پر قلب انجام کار میں، فطريقه من الابتداء، تو اس کا طریقہ ابتداء سے یہ ہے أن يخرج الكلام مخرج الاستدلال، کہ لایا جائے کلام کو مخرج الاستدلال، کس طریقے پر؟ استدلال کے طریقے پر کلام کو لایا جائے، تعلیل کے طریقے پر نہ لایا جائے بھئی، نہ لایا جائے۔ یعنی دلیل لمی نہ ذکر کی جائے، دلیل انی ذکر کی جائے۔ دلیل لمی اور دلیل انی جانتے ہو کہ نہیں جانتے بھئی؟ ایک ہے علت، ایک ہے معلول۔ علت کے ذریعے معلول پر استدلال کرنا، یہ ہے دلیل لمی۔ جیسے آگ اور دھواں۔ آگ ہے علت اور دھواں ہے معلول۔ تو آگ کے ذریعے دھوئیں پر استدلال کرنا، آپ کہیں کہ دھواں موجود ہے، کیوں بھئی؟ کیا دلیل ہے آپ کے پاس؟ کہتے ہیں کیونکہ آگ موجود ہے، آگ اس کی علت ہے، جب علت موجود ہے تو معلول ضرور پایا جائے گا، ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا علت ہو اور معلول نہ پایا جائے بھئی۔ تو آپ نے آگ یعنی علت کو دلیل بنایا کس چیز پر؟ معلول پر، یہ کیا ہے؟ دلیل لمی ہے اور اس کو تعلیل بھی کہتے ہیں۔ جس میں علت اور معلول کا ذکر آتا ہے، علت کے ذریعے استدلال کیا جاتا ہے معلول پر۔ اس کے مقابلے میں دلیل انی ہے۔ دلیل انی میں جو ہے معلول کے ذریعے استدلال کیا جاتا ہے کس پر؟ علت پر۔ آپ کہتے ہیں آگ موجود ہے، بھئی کیا دلیل ہے آپ کے پاس آگ ہے؟ آپ کہتے ہیں بھئی وہ سامنے دھواں آپ دیکھ رہے ہیں، معلوم ہوا نیچے کہیں آگ لگی ہے بھئی۔ تو آپ نے دھوئیں کے ذریعے دلیل بنائی کس کس چیز پر؟ آگ پر، تو اس کو یاد رکھیے یہ دلیل انی ہے اور اس کو استدلال بھی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ استدلال۔ تو یہاں کہتے ہیں استدلال کے انداز میں کلام کریں، تعلیل یعنی دلیل لمی کے انداز میں اپنا دعویٰ نہ ذکر کریں۔ تو کہتے ہیں ابتداء سے اس کا طریقہ یہ ہے: أن يخرج الكلام مخرج الاستدلال فإنه يمكن أن يكون الشيء دليلا على شيء وذلك الشيء يكون دليلا عليه، بھئی دیکھیے! آپ نے کہا دھواں موجود ہے، یہ بتلا رہا ہے کہ آگ ہے، آگ ہے۔ آپ نے دھوئیں کے ذریعے کس کو ثابت کیا؟ آگ کو۔ وہ اگر آپ کا دعویٰ قلب بھی کر دے، پلٹ بھی دے، یوں کہے گا: نہیں نہیں، یوں نہیں ہے، دھوئیں کی وجہ، دھواں ہے اس لیے آگ ہے، بلکہ آگ ہے اس لیے کیا ہے؟ دھواں بھی موجود ہے۔ وہ قلب بھی کر دے، آپ کہیں گے کوئی حرج نہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے برابر ہیں، مساوی ہیں۔ جہاں آگ ہو گی وہاں دھواں ہو گا، جہاں دھواں ہو گا وہاں آگ۔ تو دیکھو قلب کا اعتراض کر بھی دے گا اور آپ کہیں گے کوئی نقصان بھی ہمیں نہیں، دونوں کیا ہیں؟ ایک دوسرے کے مساوی ہیں، برابر ہیں بھئی دونوں۔ تو جیسے دھواں آگ پر دلیل ہے، اسی طرح آگ دھوئیں پر دلیل ہے بھئی، تو اس میں نقصان کوئی نہیں ہو گا۔ فإنه يمكن أن يكون الشيء دليلا على شيء وذلك الشيء يكون دليلا عليه كالنار مع الدخان، جیسے کہ آگ ہے دھوئیں کے ساتھ، بخلاف العلية، برخلاف علیت، اگر آپ تعلیل کے انداز میں لائیں گے نہ تو علت تو ایک چیز ہوا کرتی ہے، معلول دوسری چیز۔ تو وہاں پر قلب آپ کو نقصان دے گا، لیکن اگر آپ کس طریقے پر کلام کو لے کر آئے؟ استدلال کے انداز میں، ایک چیز کو دوسری پر دلیل بنا رہے ہیں، علت معلول تو ذکر نہیں کر رہے بلکہ دلیل بنا رہے ہیں، تو وہاں پر اگر وہ قلب کر بھی دے گا تو آپ کہیں گے بھئی کوئی حرج نہیں اگر یہ دونوں، ایک پہلی پر دلیل ہے تو دوسری پہلی، دوسری پر تو دوسری پہلی پر دلیل ہو سکتی ہے۔ بخلاف العلية فإنه يتعين أن يكون أحدهما علة والآخر معلولا فالقلب يضره، برخلاف علت ہونے کے، اس لیے کیونکہ اس میں متعین ہے کہ ایک چیز علت ہو گی اور دوسری چیز معلول ہو گی، فالقلب يضره، تو قلب اس کو نقصان دے گا۔ ولكنا هذا المخلص لا ينفع هاهنا للشافعي رحمه الله، کہ لیکن کہتے ہیں یہ والا، یہ چھٹکارا جو ہے یہ نفع نہیں دے گا یہاں پر امام شافعی رحمہ اللہ کو، یہ خلاصی فائدہ نہیں دے گی امام شافعی رحمہ اللہ کو یہاں پر۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا فرمایا تھا؟ کہ کفار کے غیر شادی شدہ کو 100 کوڑے لگتے ہیں تو لہذا شادی شدہ کو کیا لگنے چاہئیں؟ ان کو، ان کو رجم کرنا چاہیے۔ تو کہتے ہیں یہاں پر ان کو فائدہ نہیں دے گا بھئی۔ کیوں فائدہ کیوں نہیں دے گا؟ اگر وہ استدلال کے انداز میں لے آئیں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ استدلال کے اندر دونوں چیزوں کا مساوی ہونا ضروری ہوتا ہے۔ جیسے آگ اور دھواں مساوی تھے، آگ سے دھوئیں کا پتہ چلتا ہے تو دھوئیں سے آگ، وہاں مساوات ضروری ہے حالانکہ یہاں پر مساوات نہیں ہے۔ رجم اور 100 کوڑوں کے اندر مساوات ضروری مساوات موجود نہیں ہے۔ رجم اور 100 کوڑوں میں مساوات موجود نہیں ہے اس لیے کیونکہ رجم وہ مہلک ہے، وہ انسان کو ہلاک کر دیتا ہے، جبکہ 100 کوڑے مہلک نہیں ہیں، نیز رجم کے اندر شادی شدہ ہونے کی شرط ہے، جبکہ 100 کوڑوں میں شادی شدہ ہونے کی شرط نہیں ہے، تو دونوں برابر ہی نہیں ہیں بھئی۔ تو وہاں ایک، ہر ایک کو دوسرے پر دلیل بنایا جائے، ایسا نہیں ہو سکتا۔ تو کہتے ہیں: ولكنا هذا المخلص لا ينفع هاهنا للشافعي رحمه الله، لیکن یہ والی خلاصی جو ہے یہ نفع نہیں دیتی یہاں پر امام شافعی رحمہ اللہ کو، إذ لا مساواة بينهما، اس لیے کیونکہ ان دونوں میں مساوات نہیں ہے، کس میں؟ کوڑوں میں اور رجم میں۔ لأن الرجم عقوبة غليظة، اس لیے کیونکہ رجم جو ہے وہ سخت سزا ہے، وله شروط، اور اس کی کئی شرائط ہیں، والجلد ليس كذلك، اور کوڑے اس طرح نہیں ہیں۔ وينفعنا، اور یہ ہمیں فائدہ دیتا ہے۔ یہ جو چھٹکارے کی صورت ہم نے خلاصی کی صورت ذکر کر دی اس سے ہمیں نفع ہو گا، ان کو کوئی نفع یہاں پر نہیں، ہمیں نفع دے گا۔ لو قلنا: الصوم عبادة تلزم بالنذر فتلزم بالشروع، اگر ہم کہیں کہ روزہ جو ہے ایک عبادت ہے، روزہ جو ہے ایسی عبادت ہے تلزم بالنذر، جو منت کی وجہ سے لازم ہو جاتی ہے، فتلزم بالشروع، تو شروع کرنے کی وجہ سے بھی لازم ہو جائے گی۔ بھئی دیکھیے! منت جب انسان کسی چیز کی مانے اور پوری ہو جائے تو وہ انسان کے لیے وہ چیز جس کی منت مانی ہے اس کو کرنا اس پر واجب ہو جاتا ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھیے منت ہمیشہ عبادت کی مانی جا سکتی ہے، غیر عبادت کی نہیں۔ اور وہ بھی ایسی عبادت جو کسی وقت انسان پر فرض بھی ہوتی ہو بھئی۔ مثلاً آپ نے 10 سپارے پڑھنے کی منت مانی ہے، اگر اے اللہ میرا یہ کام ہو گیا تو میں 10 سپارے تیرے، سے تلاوت کروں گا یا میں 100 نفل پڑھوں گا، تو یہ ٹھیک ہے۔ اس لیے کیونکہ نفل وہ نماز ہے اور نماز فرض ہے یا نہیں اسی میں سے؟ فرض بھی ہے تو یہ، اور تلاوت، تلاوت بھی نماز کے اندر فرض ہوتی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ہاں، اس کے علاوہ کسی ایسی چیز پر جو فرض نہیں ہے کسی بھی وقت میں تو پھر اس کی منت ماننا بھی صحیح نہیں ہے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ روزہ عبادت ہے۔ روزہ کیا ہے؟ اور منت ماننے سے یہ انسان پر روزہ لازم ہو جاتا ہے جب اس نے منت مانی کہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں اتنے روزے رکھوں گا، تو وہ کام ہو جائے تو اس پر وہ روزے واجب۔ تو روزہ ایک عبادت ہے جو منت کی وجہ سے لازم ہو جاتا ہے، تو لہذا شروع کرنے کی وجہ سے بھی لازم ہونا چاہیے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یاد رکھیے نفل کو انسان اگر فاسد بھی کر دے اس کی قضاء اس کے ذمے نہیں ہوتی۔ آپ نے نفلی روزہ رکھا یا نفل پڑھنا شروع کیے، درمیان میں روزہ آپ نے توڑ دیا یا وہ، نفل جو ہیں توڑ دیے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آپ پر ان کی قضاء نہیں، آپ پر ان کی قضاء نہیں، جبکہ ہمارے نزدیک کہ شروع کرنے سے پہلے تو یہ نفل تھے، جب شروع کر دیا اب کیا بن گئے؟ واجب۔ لہذا اب اگر آپ نے روزہ توڑ دیا یہ نفلی، تو آپ کو بعد میں قضاء کرنا پڑے گی۔ آپ نے اگر یہ نفل درمیان میں توڑ دیے تو ان دو رکعتوں کی آپ کو بعد میں کیا کرنا پڑے گی؟ قضاء کرنا پڑے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ہم کہتے ہیں کہ روزہ ایسی عبادت ہے جو منت کی وجہ سے لازم ہو جاتا ہے، تو لہذا شروع کی وجہ سے بھی اس کو لازم ہو جانا چاہیے بھئی۔ لہذا شروع کی وجہ سے بھی یہ لازم، جس طرح منت کی وجہ سے روزہ لازم ہو جاتا ہے، اس طرح شروع کر دینے سے بھی کیا ہو جائے گا؟ لازم ہو جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ کیونکہ دونوں میں قربت مقصود ہے، جیسے منت کے اندر اللہ کا قرب مقصود ہوتا ہے، اسی طرح نفل کے ذریعے بھی کیا مقصود ہوتا ہے؟ اللہ کا قرب مقصود ہوتا ہے۔ تو ہم کہتے ہیں: الصوم عبادة تلزم بالنذر فتلزم بالشروع، کہ روزہ ایسی عبادت ہے جو منت سے لازم ہو جاتی ہے تو یہ شروع کرنے سے بھی لازم ہو جائے گا۔ إذ لو قلب الخصم فيقول، پس اگر خصم یعنی فریق مخالف جو ہے قلب بھی کر لے فیقول، پس یوں کہے: إنما يلزم بالنذر لأنه يلزم بالشروع، کہ روزہ جو ہے منت سے لازم ہو جاتا ہے، لأنه يلزم بالشروع، اس لیے کیونکہ وہ شروع کرنے کی وجہ سے لازم ہوتا ہے۔ بھئی ہم نے علت کس کو بنایا تھا؟ منت کی وجہ سے لازم ہونا، اس کو علت بنایا اور شروع کی وجہ سے لازم ہونا، اس کو کیا بنایا؟ حکم بنایا کہ روزہ، توجہ ہے سبق کی طرف؟ روزہ کس چیز کی وجہ سے لازم ہوتا ہے؟ منت کی وجہ سے، تو جب منت کی وجہ سے لازم ہو رہا ہے تو شروع کرنے کی وجہ سے بھی لازم ہونا چاہیے۔ تو علت کس کو بنایا؟ منت کی وجہ سے لازم ہونے کو، اور حکم کس کو قرار دیا؟ شروع کر دینے کی وجہ سے لازم ہونے کو بھئی، کہ شروع بھی کر دے گا تو وہ روزہ بعد میں اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ پورا کرنا پڑے گا۔ اگر یہاں پر مقابل اس کو قلب بھی کہہ کر دے، کیا کہے؟ ہم نے جس کو حکم بنایا تھا اس کو علت بنا لے اور علت کو حکم، کیا کہے؟ کہ روزہ شروع کرنے کی وجہ سے لازم ہوتا ہے اسی وجہ سے منت کی وجہ سے بھی کیا ہو جائے گا؟ لازم ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ انہوں نے ہماری علت کو حکم بنا دیا اور حکم کو علت، اگر وہ یوں کر بھی دے ہم کہیں گے کوئی حرج نہیں۔ دونوں میں برابری ہے، دونوں میں کیا ہے؟ برابری ہے بھئی۔ تو یوں کہہ اگر وہ قلب بھی کر دے قسم پس یوں کہے گا إنما يلزم بالنظر لأنه يلزم بالشروع کی روزہ جو ہے یہ لازم ہوتا ہے عبادت کی وجہ سے لأنہ يلزم بالشروع اسی کیونکہ شروع کرنے کی وجہ سے لازم ہو جاتا ہے قلنا بینہما مساوات تو ہم کہیں گے کہ ان دونوں کے درمیان مساوات ہے برابری ہے یمکن أن يستدل بحال كل منهما علی الاخری اخری ممکن ہے کہ استدلال کیا جائے ان دونوں میں سے ہر ایک کے حال کے ذریعے دوسرے پر ولا ضير فيه اور اس میں کوئی نقصان نہیں ہے بھئی، اگر آپ قلب بھی کر دیں تو ہمیں کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ دونوں مساوی ہیں ایک سے جس طرح دوسرے پر ایک کو دوسرے پر دلیل بنایا جا سکتا ہے تو دوسرے کو بھی پہلے پر دلیل بنایا جا سکتا ہے۔ والثانی دوسری قسم بھئی پہلی قسم چل رہی ہے وہ معارضہ جس میں مناقضہ بھی ہو اور اس کی ایک قسم تھی قلب بھئی وہ گزر گئی اب اسی وہ معارضہ جس کے اندر مناقضہ بھی ہو اس کی دوسری قسم تو کہتے ہیں و الثانی قلب الوصف شاہدا علی الخصم بعد أن کان شاہدا لہ۔ دوسری قسم یہ ہے کہ وصف یعنی علت کو پلٹ دینا۔ پلٹ کر کیا بنا دینا؟ شاہد یعنی دلیل بنا دینا علی الخصم مقابل پر۔ بھئی دوسری صورت یہ کہ فریق مو یعنی معلل نے ایک حکم بیان کیا تھا اور ایک اس پر دلیل ذکر کی۔ ایک اس پر دلیل ذکر کی۔ کہ یہ دلیل ہے اس سے یہ حکم ثابت ہو رہا ہے۔ ہم بعینہ انہی کی دلیل کو پکڑ کر کہتے ہیں نہیں اس سے اس کا ضد اس کے دوسرا مخالف حکم ثابت ہو رہا ہے۔ پہلی قسم میں تو ہم نے علت کو حکم بنا دیا تھا اور حکم کو علت یہاں پر دوسری صورت ہے کہ انہوں نے جس اپنے دعوے کے لیے جس دلیل کو ذکر کیا تھا ہم کہیں نہیں یہ تو دلیل آپ کی نہیں ہے بلکہ یہ ہماری دلیل ہے اس سے تو اس سے مخالف دعوی ثابت ہوتا ہے بھئی۔ تو ان ان کی دلیل پہلے ہمارے خلاف تھی اب یہی دلیل ہمارے حق میں بن گئی اور ان کے خلاف ہو گئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی۔ تو کہتے ہیں دوسری قسم قلب الوصف شاہدا قلب الوصف شاہدا علی الخصم وصف کو پلٹ دینا دلیل بنا کر علی الخصم کس کے خلاف؟ فریق وصف کو فریق مخالف کے خلاف دلیل بنا کر پلٹ دینا بعد أن کان شاہدا لہ بعد اس کے کہ وہ دلیل لہ اس کے لیے تھی۔ ایک دلیل اس کے لیے تھی آپ نے اسی دلیل کو کیا کیا پلٹ کر اس کے مخالف بنا دیا بھئی۔ لہو ائی للخصم ضمیر کا مرجع بتلایا فریق مخالف کے لیے۔ فہو كقلب الجراب۔ تو کہتے ہیں یہ جراب کے پلٹنے کی طرح ہے۔ جرا جراب بھئی چمڑے وغیرہ کا تھیلا جس میں سامان وغیرہ رکھا جاتا مسافر ساتھ رکھتا تھا۔ تو جیسے اس کے پلٹنے کی طرح ہے یہ۔ بھئی دیکھیے مثلا آپ کے پاس ایک چمڑے کا تھیلا ہے۔ باہر سے اس کا رنگ نیلا ہے اندر کی طرف سے سرخ ہے۔ آپ اس کو پلٹ دیتے ہیں۔ پلٹ دیتے ہیں۔ باہر کون سا رنگ تھا؟ نیلا۔ اندر کیا تھا؟ سرخ۔ اب وہ سرخ باہر آ جائے اور نیلا اندر چلا گیا۔ یہ کیا ہوا قلب الجراب۔ آپ نے تھیلے کو الٹا دیا۔ تو وہی دلیل بھئی۔ وہ دلیل جو اس فریق نے ذکر کی تھی پہلے آپ کے خلاف تھی۔ اب اسی کو آپ نے الٹا کر کس کی طرف کر دیا؟ اس کے خلاف اس کو بنا دیا بھئی۔ یہ تو قلب الجراب کی طرح یہ ہوا۔ كقلب الجراب جیسے کہ توش دان کو الٹ دینا بجعل ظهره بطنا اس کے باہر والے حصے کو اندر والا حصہ بنا دینا و بطنه ظهرا اور اندر والے حصے کو باہر والا حصہ بنا بنا دینا فان ظہر الوصف کان اليك پس وصف جو ہے اس کے پشت کان الیك آپ کی طرف تھی۔ آپ کے خلاف تھا نا۔ آپ کے خلاف دلیل تھی۔ تو معلوم ہے آپ کی طرف پشت تھی اس وصف کی۔ اور اس معلل کی طرف اس کا رخ تھا۔ آپ نے اس کو الٹایا اس طرح کہ اب آپ کی طرف اس کا رخ ہو گیا اور معلل کی طرف اس کی پشت ہو گئی بھئی۔ فان ظہر الوصف کان اليك بس وصف کی جو پشت ہے وہ آپ کی طرف تھی۔ والوجہ الی الخصم اور چہرہ اس کا فریق مخالف کی طرف تھا۔ فان قلب بعده فصار ظهره إليه فصار ظهره إليه پس جب اس کو الٹا گیا اس کے بعد فصار ظهره إليه تو اس کی پشت کس کی طرف ہو گئی؟ مقابل کی طرف ہو گئی و وجهه اليك اور اس کا چہرہ آپ کی طرف ہو گیا فھو معارضۃ من حيث أنه يدل علی خلاف مدعی الخصم تو یہ معارضہ ہے اس حیثیت سے کہ یہ دلالت کرتا ہے مقابل کے دعوی کے خلاف۔ توجہ ہے سبق کی طرف بھئی۔ معلل نے کیا کیا تھا؟ ایک حکم ذکر کیا تھا اور اس کی دلیل ذکر کی تھی ۔ ہم نے کیا کہا اس دلیل سے یہ حکم ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس سے اس حکم کا اس دلیل سے اس کا مخالف حکم ثابت ہوتا ہے بھئی۔ مخالف حکم ثابت ہوتا ہے۔ تو یہاں معارضہ بھی ہے، مناقضہ بھی ہے۔ معارضہ کس اعتبار سے؟ معارضہ کسے کہتے ہیں؟ معارضہ معارضہ اس کو کہتے ہیں معلل نے ایک دعوے پر دلیل قائم کی ہے، آپ اس کے مخالف دعوے پر دلیل قائم کردیں۔ اس کے دلیل دعوے کو نہیں چھیڑ رہے۔ اس نے ایک دعوے پر دلیل ذکر کی ہے آپ اس کے مخالف دعوے پر کیا کردیں؟ دلیل ذکر کردیں۔ اس کی دلیل کو بھی نہیں چھیڑا اور اس کے حکم کو بھی نہیں۔ یہ ہے معارضہ۔ آپ اس کے مخالف حکم پر دلیل قائم کردیں بس۔ لیکن یہاں پر دیکھیے آپ نے مخالف حکم پر دلیل قائم کردیں معارضہ آیا یا نہیں آیا؟ معارضہ بھی آگیا اور دلیل کوئی نئی لے کر آئے یا اسی کی دلیل ثابت کی اسی کی دلیل کو استعمال کیا؟ تو گویا اس کی دلیل کو بھی توڑ دیا۔ ضمناً اس کی دلیل بھی ٹوٹ گئی تو مناقضہ بھی آگیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی۔ تو کہتے ہیں فھو معارضۃ یہ معارضہ ہے من حيث انه يدل علی خلاف مدعی الخصم اس حیثیت سے کہ یہ مقابل کے دعوی کے خلاف پر دلالت کرتا ہے و فیه مناقضۃ اور اس میں مناقضہ بھی ہے من حيث ان دلیله لم يدل علی مدعاه اس حیثیت سے کہ اس کی دلیل جو ہے اس کے دعوی پر دلالت نہیں کرتی۔ آپ نے توڑ دی دلیل اور بتلا دیا کہ آپ کی دلیل آپ کے دعوی پر دلالت نہیں کرتی بلکہ ہمارے دعوی پر دلالت کرتی ہے۔ و ھذا هو الذي يسمى أهل المناظرۃ بالمعارضۃ بالقلب اور یہ وہ قسم ہے جس کو اہل مناظرہ اہل مناظرہ کیا کہتے ہیں؟ معارضۃ بالقلب کے نام سے موسوم کرتے ہیں وہ اس کا نام یہ رکھتے ہیں۔ و يجري في كثير من الأحيان في المغالطۃ العامۃ الورود كما بيینوه في كتبهم اور یہ جاری ہوتا ہے فی کثیر من الاحيان بسا اوقات بہت مرتبہ في المغالطۃ العامۃ الورود کس کے اندر جاری ہوتا ہے؟ مغالطہ عامۃ الورود میں کما بیینوه في كتبهم جیسے کہ بیان کیا ہے علماء اہل مناظرہ نے اپنی کتابوں کے اندر۔ کہتے ہیں اہل مناظرہ اس کا نام کیا رکھتے ہیں؟ یہ جو معارضہ جس میں قلب تھا اس کی دوسری قسم کا کیا نام رکھتے ہیں وہ؟ معارضۃ بالقلب۔ اور یہ زیادہ تر کلمہ میں جاری ہوتا ہے مغالطۃ عامۃ الورود میں یہ جاری ہوتا ہے جیسے کہ اہل مناظرہ نے اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے۔ مغالطۃ عامۃ الورود کسے کہتے ہیں؟ یاد رکھیے مغالطہ کہتے ہیں قیاس فاسد کو۔ لکھ لیجیے بھئی یہ دو تین باتیں ہیں یہ لکھ لیں ذرا۔ مغالطہ کہتے ہیں قیاس فاسد کو۔ جلدی جلدی لکھیے بھئی۔ مغالطہ کہتے ہیں قیاس فاسد کو۔ اور مغالطہ عامۃ الورود اور مغالطہ عامۃ الورود وہ مغالطہ جس کا ورود عام ہو۔ وہ مغالطہ جس کا ورود عام ہو۔ یعنی جسے ہر دعوی کے اثبات کے لیے یعنی جسے ہر دعوے اور ہر مطلوب کے اثبات کے لیے بطور دلیل پیش کیا جا سکتا ہو۔ بطور دلیل پیش کیا جا سکتا ہو۔ چاہے وہ دعوی صحیح ہو، چاہے وہ دعوی غلط ہو۔ چاہے وہ دعوی صحیح ہو، چاہے وہ دعوی غلط ہو۔ مغالطہ عامۃ الورود کا پتہ چلا بھئی؟ مغالطہ کسے کہتے ہیں؟ قیاس فاسد کو۔ وہ قیاس جو فاسد ہے یعنی جو آپ نے مقدمات بنائے صغریٰ کبریٰ وغیرہ ان میں خرابی ہے بھئی کیا ہے؟ خرابی ہے کوئی تو یہ قیاس فاسد ہے۔ اور پھر یہ مغالطہ عامۃ الورود یہ کہتے ہیں وہ قیاس ہے، وہ مغالطہ ہے جس کے ذریعے انسان کسی بھی دعوے کو ثابت کر سکتا ہے یعنی ہر دعوے کے اندر دلیل کے طور پر اس کو ذکر کر سکتا ہے۔ چاہے وہ دعوی غلط ہو، چاہے صحیح ہو۔ تو مغالطہ عامۃ الورود لا کر ثابت کرے گا کہ ہاں بھئی میرا دعوی صحیح ہے۔ بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ آگے لکھیے۔ اس کی صورت یہ ہے اس کی صورت یہ ہے کہ مدعی کہتا ہے کہ مدعی یعنی معلل کہتا ہے اگر آپ میرا دعوی تسلیم نہیں کرتے تو اس سے ایک محال چیز لازم آئے گی تو اس سے ایک محال چیز لازم آئے گی اور محال چیز تو ثابت ہو نہیں سکتی اور محال چیز تو ثابت ہو نہیں سکتی لہذا ہمارا دعوی ثابت ہوا۔ لہذا ہمارا دعوی ثابت ہوا۔ جی۔ آگے لکھیے۔ مثلا صغریٰ یہ بنائے گا۔ صغریٰ کلما لم يكن المدعا ثابتا كلما لم يكن المدعا ثابتا يكون نقيضه ثابتا يكون نقيضه ثابتا یہ ہوا صغریٰ۔ آگے لکھیے کبریٰ۔ کبریٰ کلما كان نقيضه ثابتا كلما كان نقيضه ثابتا يكون شيئا من الأشياء ثابتا يكون شيئا من الأشياء ثابتا اچھا جی نتیجہ لکھیے آگے نتیجہ۔ كلما لم يكن المدعا ثابتا كلما لم يكن المدعا ثابتا يكون شيئا من الأشياء ثابتا يكون شيئا من الأشياء ثابتا اب اس کی عکس نقیض نکالیں اب اس کی عکس نقیض نکالیں جس کا طریقہ یہ ہے جس کا طریقہ یہ ہے کہ کہ موضوع و محمول کہ موضوع و محمول یا مقدم و تالی یا مقدم و تالی ان دونوں کی نقیض بنا کر ان دونوں کی نقیض بنا کر مقدم کی جگہ تالی لے آئیں اور تالی کی جگہ مقدم لے آئیں۔ بالفاظ دیگر عکس نقیض یہ ہے بالفاظ دیگر عکس نقیض یہ ہے کہ موضوع کی نقیض کو تالی بنا دیا جائے موضوع کی نقیض کو محمول بنا دیا جائے موضوع کی نقیض کو محمول بنا دیا جائے اور تالی کی نقیض کو تالی نہیں محمود محمول کی نقیض کو موضوع بنا دیا جائے اور محمول کی نقیض کو موضوع بنا دیا جائے۔ صورت سمجھ میں آگئی۔ مقدم اور تالی موضوع اور محمول کا پتہ ہے یا نہیں؟ موضوع محمول قضیہ حملیہ میں آتے ہیں۔ مقدم اور تالی قضیہ شرطیہ میں آتے ہیں۔ زید قائم زید ہے موضوع قائم ہے محمول۔ اور اگر یہی قضیہ شرطیہ ہو تو اول کو مقدم ثانی کو تالی۔ إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجود تو إن كانت الشمس طالعة یہ ہے مقدم فالنهار موجود یہ ہے تالی۔ تو یہ دونوں میں آسکتا ہے عکس نقیض۔ قضیہ حملیہ میں بھی آسکتا ہے اور قضیہ حملیہ میں تو موضوع اور محمول ہوتے ہیں تو لہذا عکس نقیض کیسے نکالیں گے؟ موضوع کی نقیض بنائیں اور اٹھا کر پھر کہاں لے جائیں؟ محمول کی جگہ۔ اور محمول کی نقیض بنائیں اور کہاں لے آئیں؟ موضوع کی جگہ لے آئیں۔ مثلاً آپ کہتے ہیں کل انسان حیوان۔ کل انسان حیوان۔ تو اب ان موضوع کیا؟ انسان۔ محمول کیا؟ حیوان۔ موضوع ہوا انسان اس کی نقیض کیا ہوگی؟ لا انسان۔ کیا ہوگی؟ لا انسان۔ اس لا انسان کو اٹھا کر محمول کی جگہ لے جائیں گے اور محمول کیا تھا؟ حیوان۔ اس کی نقیض کیا ہوگی؟ لا حیوان۔ اس کو اٹھا کر کہاں لے آئیں گے؟ موضوع کی جگہ۔ کیا بن گیا؟ کل لا حيوان لا انسان ہر لا حیوان لا انسان ہے۔ ہر لا حیوان یہ ہے عکس نقیض بھئی۔ عکس نقیض قضیہ حملیہ کے اندر۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ اور دیکھیے یہ جو نقیض ہوتے عکس نقیض جو ہے یہ اصل کے ساتھ برابر ہے لازم ہے۔ میں نے کہا ہر انسان حیوان ہے۔ صادق ہے یا صادق نہیں؟ صادق ہے۔ جب ہر انسان کیا ہے؟ حیوان ہے۔ تو ہر لا حیوان جو ہے وہ لا انسان ہوگا۔ ہر لا حیوان لا انسان ہوگا۔ پتھر ہے، کتاب ہے، قلم ہے، کمرہ ہے کوئی چیز جو لا حیوان ہو آپ دیکھیں گے وہ لا انسان بھی ہے۔ تو یہ دونوں برابر ہیں۔ جہاں كل انسان حیوان صادقا رہا ہو گا، وہاں كل لا حیوان لا انسان بھی صادق ہو گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ جو عکس ہوتا ہے نا، یہ اصل قضیہ کے ساتھ مساوی ہوتا ہے، اس کے ساتھ لازم ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ لازم ہوتا ہے۔ جب میں نے کہہ دیا ہر انسان حیوان ہے، تو پتہ چل گیا ہر لا حیوان وہ لا انسان ہے، کیونکہ انسان کے لیے تو حیوان ہونا ضروری ہے، جب لا انسان... جب لا حیوان کہہ دیا تو پتہ چلا انسان بھی نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یہ تو تھا قضیہ حملیہ میں۔ اور قضیہ شرطیہ میں مقدم اور تالی ہوتا ہے، اس میں بھی اسی طرح ہے: ان كانت الشمس طالعة فالنهار موجود، جب بھی سورج طلوع ہو گا تو دن موجود ہو گا۔ یہاں پر کیسے عکس نقیض بنائیں گے؟ یہاں طریقہ یہ ہے کہ اسی طرح، یہاں مقدم ہے ایک تالی ہے۔ مقدم کی نقیض بناؤ اس کو تالی کر دو پھر، نقیض مقدم کو تالی بنا دو اور نقیض تالی کو کیا بنا دو؟ مقدم بنا دو۔ کیا بنے گا یہاں؟ ان كانت الشمس طالعة فالنهار موجود، فالنهار موجود اس کی نقیض کیا ہو گی؟ النهار ليس بموجود، اس میں کہا گیا دن موجود ہے، نقیض کیا ہوئی؟ دن موجود نہیں ہے۔ پہلے میں کیا تھا؟ اگر سورج طلوع ہو، اس کی نفی کر دو، اگر سورج طلوع نہ ہو، نفی میں کر دو یہ نقیض بن گئی بھئی، اب دونوں کی جگہ بدل دو، نقیض تالی کو مقدم کی جگہ لے آؤ، کیا کہیں گے؟ إن لم يكن النهار موجودا، اگر دن موجود نہیں ہے، پہلے کیا تھا؟ فالنهار موجود تھا، وہ مثبت کلام تھا، اب کیا... کس سے بدل دیے اس کو؟ منفی سے۔ فإن لم يكن النهار موجودا، اگر دن موجود نہیں ہے، فالشمس ليست بطالعة، تو سورج بھی طلوع نہیں ہے۔ آپ نے جب کہہ دیا سورج جب بھی طلوع ہو گا تو دن موجود ہو گا، تو اسی سے یہ بات سمجھ میں آگئی کہ نہیں؟ جب دن نہیں ہے تو مطلب ہے سورج بھی طلوع نہیں ہے۔ بات سب کو سمجھ میں آگئی؟ اب ہم کہاں تک پہنچے تھے؟ نتیجہ نکال لیا تھا، اس کے بعد نتیجے کی کیا تیار کرنی ہے؟ عکس نقیض تیار کرنی ہے۔ اب اس کی بنائیے عکس نقیض، کیا بنا... کیا بنے گی عکس نقیض بھئی؟ مقدم کیا ہے؟ كلما لم يكن المدعى ثابتا، اثبات ہے، نفی ہے؟ نفی ہے، تو اس کو ہم اثبات سے بدل کر موخر کر دیں گے۔ اور بعد میں کیا تھا؟ يكون الشيء من الأشياء ثابتا، یہ اثبات ہے، اس کو کس سے بدل دیں گے؟ نفی سے۔ تو یہ بن جائے گی عکس نقیض، آگے لکھیں وہ یہ بنے گی: كلما لم يكن... كلما لم يكن شيء من الأشياء ثابتا... كلما لم يكن شيء من الأشياء ثابتا... لکھ لیا بھئی؟ كلما لم يكن شيء من الأشياء ثابتا يكون المدعى ثابتا... يكون المدعى ثابتا... اور یہ امر محال ہے۔ اور یہ امر محال ہے، جو دعوے کو نہ ماننے کی وجہ سے لازم آیا، جو دعوے کو نہ ماننے کی وجہ سے لازم آیا، معلوم ہوا ہمارے دعوے کو ماننا ضروری ہے، معلوم ہوا ہمارے دعوے کو ماننا ضروری ہے اور وہ ثابت ہے، اور وہ ثابت ہے۔ یہاں تک لکھ لیا بھئی؟ اب اس کو بس صرف سمجھ لیں۔ عکس نقیض کیا آئی؟ كلما لم يكن شيء من الأشياء ثابتا، جب بھی کوئی بھی چیز ثابت نہ ہو تو ہمارا دعویٰ... بھئی جب ایک طرف کہہ رہے کوئی بھی چیز ثابت نہیں ہے تو ہمارا دعویٰ کیا ہو گا؟ دعویٰ بھی چیزوں میں سے ایک چیز ہے یا نہیں؟ جب کہہ دیا کوئی بھی چیز ثابت نہیں ہے تو پھر تو ہونا چاہیے دعویٰ بھی ثابت نہیں ہے، لیکن آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ دعویٰ ثابت ہے، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔ دنیا کی کوئی چیز بھی ثابت نہ ہو اور آپ پھر کہیں: کوئی بھی چیز ثابت نہیں ہے تو ہمارا دعویٰ کیا ہو گا؟ ثابت۔ نہیں، جب کوئی بھی چیز ثابت نہیں ہے تو اس میں دعویٰ بھی آگیا، وہ بھی چیزوں میں سے ایک چیز ہے، اس کو بھی کیا کہنا پڑے گا؟ ثابت۔ تو کوئی بھی چیز ثابت نہ ہو تو ہمارا دعویٰ ثابت ہو گا، یہ ایک محال ہے بھئی، یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے کہ نہیں بھئی؟ یا تو کہیں کہ جب دعویٰ ثابت ہو گا تو ایک چیز بھی ثابت ہو گی اور آپ کہہ رہے ہیں کوئی بھی چیز ثابت نہ ہو تو ہمارا دعویٰ... جب آپ نے کوئی بھی چیز ثابت نہ ہو، دنیا جہان کی ہر چیز کی نفی کر دی تو انہی میں ایک دعویٰ بھی تھا، اس کی بھی کیا ہو گئی؟ نفی ہو گئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ امر محال لازم آیا۔ اور یہ ہے مغالطہ عامۃ الورود بھئی۔ اس دلیل کے ذریعے تو آپ دنیا کا کوئی بھی دعویٰ ذکر کر دیں، اس کو اس طرح ثابت کر دیں گے۔ کوئی بھی... آپ کہیں جی آسمان نیچے ہے، کیوں؟ پھر یہی دلیل ذکر کر دیں۔ ہمارا دعویٰ ثابت ہے، اگر دعویٰ ثابت نہیں تو اس کی نقیض کو ماننا پڑے گا اور نقیض کو مانو گے تو کوئی چیز ثابت ہو گی اور پھر اس طرح کرتے عکس نقیض پہ پہنچیں گے تو یہی نکلے گا بھئی۔ تو یہ کیا ہے؟ مغالطہ، یہ قیاس فاسد ہے مولانا، اور کس طرح کا؟ عامۃ الورود ہے، ہر دعوے کے لیے اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس کے پھر علماء کئی جوابات دیتے ہیں۔ بہرحال، میں نے تفصیل بیان کر دی ہے مغالطہ عامۃ الورود اور مزید تفصیل آپ دیکھ سکتے ہیں بھئی منطق کی کتابوں میں، خصوصاً مرقات کے آخر میں اس کی مفصل بحث آپ کو مل جائے گی بھئی۔ سو کہتے ہیں: ويجري في كثير من الأحيان في المغالطة العامة الورود كما بينوه في كتبهم، اور یہ جاری ہوتا ہے با اوقات مغالطہ عامۃ الورود میں جیسا کہ بیان کیا ہے اس کو اہل مناظرہ نے اپنی کتابوں میں، كقولهم في صوم رمضان أنه صوم فرض، جیسے کہ ان کا قول ہے کس کا؟ شوافع کا، في صوم رمضان، کس کے بارے میں؟ رمضان کے روزے کے بارے میں، أنه... إنه صوم فرض، یہ کس قسم کا روزہ ہے؟ فرض، فلا يتأدى إلا بتعيين النية، پس یہ ادا نہیں ہو گا مگر تعئین نیت کے ساتھ ہی، كصوم القضاء، جیسے صوم قضا۔ تو صوم قضا کو بنایا مقیس علیہ اور رمضان کے روزے کو بنایا مقیس، اور صوم قضا کے اندر وہ فرض ہے، قضا فرض ہے یا نہیں ذمے میں انسان کے جب رہے، تو وہ فرض ہے اور اس میں تعئین نیت... تو فرض ہونا علت اور تعئین نیت اس کا حکم، تو یہی کہتے ہیں رمضان کا روزہ بھی اسی کی طرح فرض ہے، تو جب یہاں یہ علت پائی گئی تو اس کا بھی یہی حکم ہو گا، اس میں بھی تعئین نیت ضروری ہے، بحث پہلے بھی گزر چکی ہے۔ فرض ہونے کو کیا بنایا؟ علت، حکم کس کو بنایا؟ تعئین نیت... جو بھی معلوم ہوا فرض ہو گا اس کے لیے کیا ضروری؟ تعئین نیت ضروری۔ ہم کہتے ہیں کہ رمضان کا روزہ فرض ہے، اسی لیے اس میں تعئین نیت ضروری نہیں ہے۔ انہوں نے کیا کہا تھا؟ تعئین نیت... حکم کہا تھا تعئین نیت ہے، ہم نے حکم اس کا ضد بنا دی، کیا؟ تعئین نیت نہیں، انہوں نے دلیل، علت کس کو بنایا تھا؟ فرض ہونے کو، ہم نے فرض ہونے ہی کو تعلی... تعئین نہ ہونے کی دلی... دلیل بنا دیا، صورت سمجھ میں آگئی؟ انہوں نے کہا رمضان کا روزہ فرض ہے تو اس میں تعئین نیت ضروری ہو گی جس طرح کہ قضا کے روزے کے اندر، ہم کہتے ہیں رمضان کا روزہ فرض ہے تو اس میں تعئین نیت ضروری نہیں ہو گی جبکہ... جیسا کہ صوم قضا کے اندر، جب ایک دفعہ تعئین آجائے، جب کیا آجائے؟ جب صوم قضا کے اندر ایک دفعہ تعئین آجائے تو دوبارہ تعئین کی ضرورت نہیں پڑتی، اسی طرح صوم رمضان کے اندر بھی ایک مرتبہ شریعت کی جانب سے تعئین آچکی ہے، لہذا دوبارہ ہمیں تعئین کرنے کی ضرورت نہیں۔ شارع علیہ السلام نے کیا فرمایا تھا؟ إذا انسلاخ شعبان فلا صوم إلا عن رمضان، جب شعبان کا مہینہ گزر جائے تو پھر رمضان کے علاوہ اور کوئی روزہ نہیں، یعنی رمضان میں پھر صرف رمضان ہی کا روزہ رکھ سکتے ہیں، معلوم ہوا رمضان کے مہینے کو شریعت نے رمضان ہی کے روزوں کے لیے متعین کر دیا ہے، جب رمضان کے روزوں کی تعئین شریعت کی طرف سے آگئی، تو اب ہماری طرف سے تعئین کی ضرورت نہیں، لہذا رمضان کی راتوں میں آپ صرف یہ نیت کریں، میں صبح روزہ رکھوں گا، تو... روزہ کونسا ادا ہو گا؟ رمضان ہی کا، کیونکہ شریعت نے پہلے ہی اس کو متعین کر دیا ہے اس زمانے کو رمضان کے روزوں کے لیے، جبکہ قضا کے روزے کے اندر باقاعدہ ہماری طرف سے تعئین ضروری اس لیے ہوتی تھی کہ وہاں شریعت کی طرف سے تعئین نہیں تھی، جس دن بھی انسان چاہے قضا کا روزہ رکھ سکتا ہے، وہاں دن متعین نہیں تھے، لیکن یہاں پر شریعت کی طرف سے دن متعین ہیں بھئی۔ فجعلت الفرضية علة للتعيين، تعئین لفظ ہے بھئی... تعین ہے... تعین نہیں ہونا چاہیے، تعئین... یہ بھی کتابت کی غلطی ہے، تو فرض ہونے کو جو ہے علت قرار دیا گیا تعئین کے لیے، فعارضناه بالقلب، تو ہم نے ان کا معارضہ کیا اس... ہم نے اس کا معارضہ کیا قلب کے ساتھ، وجعلنا الفرضية دليلا على عدم التعين، اور ہم نے فرض ہونے کو دلیل بنایا کس پر؟ عدم... عدم تعئین پر بھئی، عدم تعئین ہونا چاہیے بھئی... عدم تعئین پر۔ فقلنا، پس ہم نے کہا: لما كان صوما فرضا، کہ جب وہ رمضان کا روزہ جو ہے وہ فرض روزہ ہے، استغنى عن تعيين النية، تو وہ تعئین نیت سے بے نیاز ہے، بعد تعينه، بعد جبکہ وہ متعین ہے، کس کی طرف سے متعین ہے؟ شریعت کی طرف سے، كصوم القضاء، جیسے کہ قضا روزہ، إنما يحتاج... إنما يحتاج، یہ مفعول پڑھ... مجہول کا صیغہ پڑھیے بھئی: إنما يحتاج إلى تعيين واحد فقط لا زائد فيه، عبارت پہ نظر رکھنا بھئی یہ... إنما يحتاج، احتاج يحتاج کے معنی ہوتے ہیں محتاج ہونا، اور... تو فعل مجہول پڑھا، اور فعل مج... آپ پڑھ چکے ہیں کہ فعل کے فاعل یا نائب فاعل کا پتہ نہ چلے تو پھر کیسے پڑھ... پھر ضمیر کس کو لوٹاتے ہیں؟ اسی فعل کے مصدر کو، تو... آئی... تو کس طرح ہوا کلام؟ إنما يحتاج الاحتياج... إنما يحتاج الاحتياج، اور پھر ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ وقع... إنما يقع الاحتياج، أي حصل الاحتياج، ضرورت پیش آتی ہے بھئی، ضرورت واقع ہوتی ہے۔ إنما يقع... إنما يحتاج إلى تعيين واحد، یہاں ضرورت پیش آتی ہے إلى تعيين واحد، ایک ہی تعئین کی، فقط لا زائد، زائد تعئین کی ضرورت نہیں، فيه أي في صوم القضاء، کس کے اندر؟ صوم قضا میں، تو صوم قضا میں ایک ہی تعئین کی احتیاج ہے نہ کہ زائد کی، فهذا كذلك، تو یہ رمضان کا روزہ بھی اسی طرح ہے، وہاں بھی کتنی تعئین کی ضرورت؟ ایک ہی تعئین کی ضرورت ہے، زائد تعئین کی ضرورت نہیں ہے، تو اور وہ ایک تعئین شارع کی طرف سے آچکی ہے، لكنه إنما يتعين بالشروع وهذا تعين قبله، لیکن یہ جو قضا کا روزہ ہے، یہ متعین ہوتا ہے کس کے ساتھ؟ شروع کرنے سے متعین ہوتا ہے، اس سے پہلے متعین نہیں، وهذا تعين قبله، اور رمضان کا روزہ تو اس سے پہلے ہی سے متعین ہے، من جانب الشارع، شارع کی طرف سے، حيث قال، اس لیے کہ شارع نے فرمایا ہے: إذا انسلاخ شعبان فلا صوم إلا عن رمضان، کہ جب گزر جائے شعبان تو کوئی روزہ نہیں ہے مگر رمضان ہی سے، فصوم رمضان وصوم القضاء سواء، پس رمضان کا روزہ اور قضا کا روزہ برابر ہیں، في أنه لا يحتاج إلى تعيين بعد تعين، اس بات کے اندر کہ یہ ایک دفعہ متعین کر دینے کے بعد دوبارہ... یہ... یہ الل... یہ دونوں محتاج نہیں ہیں متعین کرنے کے، بعد تعين، متعین ہو جانے کے بعد۔ متعین ہو جانے کے بعد یہ دونوں دوبارہ تعئین کے محتاج ایک دفعہ جب متعین ہو جائیں تو پھر دوبارہ تعئین کے محتاج نہیں، لكن رمضان لما كان معينا قبل الشروع، لیکن رمضان کا روزہ چونکہ وہ جب وہ شروع کرنے سے پہلے ہی متعین ہے شریعت کی طرف سے، فلا يحتاج إلى تعيين العبد، لہذا وہ بندے کی تعئین کا محتاج نہیں، وصوم القضاء، جبکہ قضا کا روزہ، لما لم يكن معينا قبل الشروع، چونکہ وہ شروع کرنے سے پہلے متعین نہیں، شریعت نے تو کوئی متعین نہیں کیا اس کے لیے دن، فاحتاج إلى تعيين العبد مرة، تو وہ محتاج ہوا بندے کے متعین کرنے کا ایک مرتبہ، وہ ایک مرتبہ بندے کے متعین کرنے کا محتاج ہوا۔ بھئی رمضان اور قضا، دونوں ایک مرتبہ تعئین کو چاہتے ہیں، ایک سے زیادہ مرتبہ تعئین کو نہیں چاہتے، تو لہذا دونوں میں ایک مرتبہ تعئین ضرور چاہیے، اور رمضان کے روزے میں ایک مرتبہ تعئین شارع کی طرف سے آچکی، لہذا دوسری مرتبہ بندے کی طرف سے تعئین کی کوئی ضرورت نہیں، جبکہ قضا کے اندر ایک مرتبہ بھی تعئین نہیں آئی، وہ تو وہاں تو تعئین آئے گی کب؟ جب بندہ شروع کر دے گا، وہ روزہ شروع ہو جائے گا پھر تعئین آئے گی، تو اس کے اندر چونکہ کوئی بھی تعئین نہیں آئی پہلے شریعت کی طرف سے، لہذا وہاں بھی ایک تعئین کی ضرورت ہے، تو وہ بندے کو خود کرنا پڑے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الكلام۔
84 approved lectures · 74 of 84