Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-134

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 13 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 6
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔134 والأحكام المنقسمة في هذا الباب، أي باب ابتناء صحة الأداء على على الأهلية القاصرة دون الأهلية الكاملة التي ذكرت عن قريب، إلى ستة أقسام. أشار المصنف رحمه الله تعالى إليها على الترتيب، فقال: فحق الله تعالى إن كان حسنا لا يحتمل غيره كالإيمان، وجب القول بصحته من الصبي بلا لزوم أداء. گزشتہ سبق میں آپ نے ادا کے اهلیت کے بارے میں آپ نے پڑھا بھئی۔ گزشتہ سبق میں اهلیت کے بارے میں آپ نے پڑھا، تو خلاصہ یہ کہ اہلیت جو ہے وہ دو قسم پر ہے۔ ایک اہلیت وجوب ہے اور ایک اہلیت ادا ہے۔ اہلیت وجوب جو ہے اس کا تعلق ذمے سے ہے۔ کس سے تعلق ہے؟ ذمے سے ہے اور آپ نے پڑھا کہ جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہے تو اسی وقت سے اس کا ذمہ ہے لیکن اس وقت اس کے لیے ما لہ ما لہ تو ما لہ جو ہے وہ تو ثابت ہوں گے البتہ ما علیہ جو ہیں اس پر ثابت نہیں ہوں گے۔ ما لہ یعنی اس کے جو حقوق ہیں اور ما علیہ جو اس پر حقوق ہیں۔ تو اس کا ذمہ جو ہے ما لہ کی صلاحیت تو رکھتا ہے جب ماں کے پیٹ میں ہے لیکن ما علیہ کی صلاحیت نہیں رکھتا کہ اس پر دوسروں کے حقوق واجب کیے جائیں بھئی۔ اور پھر پڑھا آپ نے کہ حقوق العباد میں سے جب وہ پیدا ہو جائے۔ تو پھر اب اس کا ذمہ ہے کہ اس پر وجوب آ سکتا ہے لیکن نفس وجوب مقصود نہیں ہے وجوب کے ذریعے مقصود ادا ہوا کرتی ہے۔ کیا ہوا کرتی ہے؟ ادا ہوا کرتی ہے۔ تو لہذا جو حقوق العباد ہیں ان میں سے جو حقوق اس پر جو اس کے ذمے ہیں کسی کے تو وہ اس پر لازم ہوں گے۔ کسی کی کوئی چیز تلف کر دیتا ہے، کسی سے کوئی بیع وغیرہ کرتا ہے، تو اس میں بدل دینا پڑے گا اس کو بھئی اور وہ لازم ہوں گے۔ لیکن اگر وہ سزا اور جزا کے قبیل سے ہو تو وہ اس پر نہیں آئیں گے بھئی۔ جبکہ حقوق الله کے اندر آپ نے پڑھا کہ حقوق الله کے اندر جہاں ادا صحیح ہو وہ اس پر آئیں گے اور جہاں ادا صحیح نہیں وہ اس پر لازم نہیں ہے بھئی۔ اور پھر آپ نے پڑھا کہ یہ جو اہلیت ادا ہے یہ بھی دو قسم پر ہے ایک اهلیت قاصرہ ہے اور ایک اہلیت کاملہ۔ اہلیت قاصرہ جو ہے وہ عقل قاصر اور بدن قاصر سے ہوگی جیسے صغیر کے اندر بھئی۔ کس کے اندر؟ صغیر کے اندر بھی اہلیت ادا ہے لیکن یہ ادا اہلیت ادا کون سی ہے؟ قاصرہ ہے اور اس کی وجہ سے صرف ادا صحیح ہوگی۔ ادا کرے گا تو کیا ہو جائے گی؟ تو اہلیت قاصرہ پر بنیاد ہے صحت ادا کی۔ ادا کرے گا تو صحیح ہو جائے گی۔ توجہ ہے بھئی؟ اہلیت ادا کی بات چل رہی ہے کہ وہ دو قسم پر ہے اہلیت ادا، ایک اہلیت قاصرہ اور ایک اہلیت کاملہ۔ اہلیت قاصرہ کی وجہ سے ادا صحیح ہوگی، وجوب نہیں آئے گا۔ اہلیت قاصرہ کی وجہ سے ادا صحیح۔ جبکہ اہلیت کاملہ کی وجہ سے وجوب ادا بھی آ جائے گا، اس شخص پر ادا واجب ہو جائے گی جب وہ بالغ ہو جائے، عقل اس کے اعتدال تک پہنچ جائے تو اس پر ادا بھی واجب اور جبکہ اس سے پہلے اہلیت قاصرہ تھی اس وقت ادا واجب نہیں تھی، ہاں ادا کر دیتا تو صحیح۔ نماز پڑھ لی تو وہ بچے کی طرف سے صحیح ہو جائے گی لیکن اس پر واجب نہیں ہے۔ لیکن جب بالغ ہو گیا، عقل اعتدال پر آ گئی تو اب اہلیت کاملہ آ گئی اور اہلیت کاملہ آئی تو اب ادا اس پر واجب ہو گئی اور اب خطاب اس کی طرف متوجہ ہوا جو جو شرعی احکام دیے گئے ہیں وہ اس پر لاگو ہو جائیں گے۔ اب آپ کو آگے یہ بتلا رہے ہیں کہ یہ جو احکام ہیں اس باب کے اندر وہ تقسیم ہوتے ہیں۔ یہ جو اہلیت قاصرہ کا باب ہے بھئی جس پر کس کی بنیاد ہے؟ اہلیت قاصرہ پر کس چیز کی بنیاد ہے؟ صحت ادا کی۔ اہلیت قاصرہ پر کس کی بنیاد ہے؟ یعنی ادا صحیح ہو جائے گی اور اہلیت کاملہ پر کس چیز کی بنیاد ہے؟ وجوب ادا کی کہ یہاں پر ادا واجب ہوا کرتی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ جو اہلیت قاصرہ کا باب ہے اس کے احکام کہتے ہیں تقسیم ہوتے ہیں چھ قسم کی طرف بھئی۔ کتنی قسم کے؟ چھ قسم کے احکام ہیں بھئی چھ قسم کے۔ ایک یا تو وہ حقوق اللہ میں سے ہوں گے یا وہ کس میں سے ہوں گے؟ حقوق العباد میں سے۔ یا کس میں سے؟ حقوق اللہ میں سے یا حقوق العباد میں سے ہوں گے اور پھر حقوق اللہ کے بھی تین قسمیں اور حقوق العباد کی بھی تین قسمیں تو یہ چھ قسمیں ہو جائیں گی بھئی۔ حقوق العباد حقوق اللہ کی تین قسمیں یہ کہ وہ حق اللہ یا تو ایسا ہوگا جو حسن ہوگا یعنی اس میں حسن ہی ہے قباحت کا کوئی احتمال نہیں یا وہ حق اللہ ایسا ہے جو قبیح ہے اس میں حسن کا کوئی احتمال نہیں وہ قبیح ہی قبیح ہے بھئی یا تیسری قسم وہ ہے جس میں کبھی حسن ہوتا ہے اور کبھی قباحت ہوتی ہے۔ تو حقوق اللہ کتنی قسم کے؟ تین۔ یا پہلی قسم وہ جو صرف حسن ہیں قبا کا احتمال نہیں، دوسری قسم وہ جو قبیح ہیں جن میں حسن کا احتمال نہیں، تیسری قسم وہ جن میں کبھی حسن ہوتا ہے اور کبھی قبا ہوتا ہے۔ اسی طرح حقوق العباد بھی تین قسم کے، بعض وہ ہیں جن میں نفع ہی نفع ہوگا، بعض وہ ہیں جن میں نقصان ہی نقصان ہیں اور بعض وہ جن میں نفع بھی ہو سکتا ہے اور نقصان بھی ہو سکتا ہے تو چھ قسمیں ہو گئیں بھئی۔ تو یہ جو اہلیت قاصرہ پر مبنی احکامات ہیں وہ چھ قسم کے ہو گئے۔ یا وہ حقوق اللہ میں سے ہوں گے یا حقوق العباد میں سے، حقوق اللہ میں سے یا وہ حسن ہوں گے یا قبیح ہوں گے یا ان دونوں کے درمیان دائر ہوں گے، حقوق العباد میں سے یا پھر ان میں صرف نفع ہوگا یا صرف نقصان ہوگا یا ان میں دونوں کا احتمال ہوگا بھئی چھ قسمیں۔ تو کہتے ہیں والأحكام المنقسمة في هذا الباب اور احکام جو ہیں وہ تقسیم ہوتے ہیں اس باب کے اندر، بھئی کون سا باب؟ أي باب ابتناء صحة الأداء على أهلية القاصرة یہ جو اہلیت قاصرہ پر ادا کے صحیح ہونے کے ابتناء کا باب ہے، اہلیت قاصرہ پر صحت ادا کی بنیاد ہونے کا جو باب ہے دون الأهلية الكاملة نہ کہ نہ کہ وہ اہلیت کاملہ بھئی، تو یہاں اہلیت قاصرہ پر جو صحت ادا کی بنیاد ہے اس کا باب ہے التي ذكرت عن قريب وہ جو قریب میں ہی ذکر ہوا، وہ صحت ادا جو ابھی قریب میں ہی ذکر ہوئی، یہ یہ تقسیم ہوتی ہے إلى ستة أقسام۔ کتنی قسموں طرف؟ چھ قسموں کی طرف بھئی تقسیم ہوتی ہے۔ یاد رکھیے یہ إلى ستة أقسام یہ متن کا حصہ ہے۔ یہ جو احکام ہیں تقسیم ہوتے ہیں اس باب کے اندر إلى ستة أقسام کتنی قسموں کی طرف؟ چھ قسموں کی طرف أشار المصنف رحمه الله إليها على الترتيب فقال اشارہ کیا ان کی طرف مصنف نے ترتیب سے فقال پس فرمایا فحق الله تعالى پس اللہ کا حق إن كان حسنا اگر وہ کیا ہو؟ ایسا حسن ہے لا يحتمل غيره جو غیر حسن کا احتمال ہی نہیں رکھتا یعنی وہ حسن ہی حسن ہے یعنی اس میں حسن ہی حسن ہے تو وہ کوئی اور کوئی دوسرا احتمال نہیں كالإيمان جیسے کہ ایمان ہے بھئی ایمان، آپ جانتے ہیں ایمان جو ہے اس میں حسن ہی ہے کبھی بھی کسی بھی اعتبار سے قباحت اس میں نہیں ہے بھئی۔ تو وجبت اس قسم کا جو حق اللہ ہے وجب القول بصحته تو اس کے صحیح ہونے کا قول واجب ہوگا یعنی اس کا کرنا صحیح ہوگا من الصبي کس کی طرف سے؟ بچے کی طرف سے بلا لزوم أداء بغیر ادا کے لازم ہوئے۔ بچہ بھئی، بچہ اگر ایمان لاتا ہے تو اس کا یہ ایمان لانا صحیح ہے ہاں اس پر ادا لازم نہیں ہے، بچے پر ایمان کا لانا واجب نہیں ہے کیونکہ بات چل رہی ہے نا اہلیت قاصرہ کی، اسی لیے صغیر ہی کی بات چلے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اہلیت قاصرہ کیونکہ صغیر کے اندر ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں اگر وہ حق اللہ ایسا حسن ہے لا يحتمل غيره جس میں غیر کا احتمال ہی نہیں یعنی حسن ہونے کے علاوہ اور کوئی احتمال ہی نہیں كالإيمان جیسے کہ ایمان ہے تو اگر وہ حق اللہ اس قسم کا ہو وجب القول بصحته تو واجب ہوگا اس کے صحیح ہونے کا قول من الصبي کس کی طرف سے؟ بچے کی طرف سے۔ بلا لزوم أداء لیکن ادا کے لازم ہوئے بغیر ہی یعنی اس پر ادا لازم نہیں ہوگی بھئی۔ بھئی بچے کی طرف سے صحیح ہونے کا یہ معنی کہ بچہ اگر ایمان لے آئے تو وہ اس کا ایمان بالغ ہونے سے پہلے ہی جو ایمان لایا وہ صحیح ہے یعنی بالغ ہونے کے بعد اسے دوبارہ تجدید ایمان کی ضرورت نہیں، ہاں یہ اس پر لازم اور واجب تو نہیں تھا لیکن صحت ادا کی بات چل رہی ہے اس کا ادا اس کی ادا صحیح ہو جائے گی۔ وهذا هو القسم الأول اور یہ پہلی قسم ہے وإنما قلنا بصحته اور ہم نے اس ہم قائل ہوئے اس کے صحیح ہونے کے لأن عليا رضي الله تعالى افتخر بذلك اس لیے کیونکہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اس پر فخر فرماتے تھے وقال اور انہوں نے فرمایا یہ شعر شعر یہ شعر انہوں نے فرمایا سبقكم إلى الإسلام طرا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ آپ جانتے ہیں بھئی کہ وہ بچپن ہی میں مسلمان ہو گئے تھے، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی تو اس وقت بچوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ہیں بھئی، ابھی آپ بالغ بھی نہیں ہوئے تھے جب آپ ایمان لے آئے۔ تو وہ فرماتے ہیں بھئی سبقكم إلى الإسلام کہ میں تم سب پر میں تم پر سبقت لے گیا إلى الإسلام اسلام کی طرف طرا أي جميعا تم سب پر، میں تم سب پر سبقت لے گیا اسلام کی طرف کہ پہلے اسلام قبول کیا غلاما اس حال میں کہ غلام تھا، لڑکا تھا ما بلغت أوان حلم میں نہیں پہنچا تھا بلوغت کی کے وقت کو بھئی، أوان وقت بھئی اور حلم حلم کا معنی ہے بلوغ بھئی بالغ ہونا، غلاما ما بلغت أوان حلم اس حال میں کہ ایسا میں ایسا لڑکا تھا کہ نہیں پہنچا تھا بالغ ہونے کے وقت کو یعنی میں ابھی بالغ بھی نہیں ہوا تھا تو میں تم سب پر ایمان میں اسلام میں سبقت لے گیا، تو اس پر حضرت علی فخر فرماتے تھے۔ معلوم ہوا بچے کا ایمان صحیح ہے جبھی علی رضی اللہ تعالی عنہ اس پر فخر فرما رہے ہیں۔ وعند الشافعي رحمه الله لا يصح إيمانه قبل البلوغ في حق أحكام الدنيا اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بچے کا ایمان صحیح نہیں ہے بالغ ہونے سے پہلے في حق أحكام الدنيا دنیاوی احکام کے حق میں۔ اخروی اعتبار سے تو سب کے نزدیک بالاتفاق بھئی بچے کا ایمان معتبر ہے اخروی اعتبار سے، آخرت میں وہ کس میں شمار ہوگا؟ مؤمنین میں، ہاں دنیاوی احکام مرتب ہوں گے یا نہیں؟ ہمارے نزدیک دنیاوی احکام مرتب ہوں گے، ان کے نزدیک دنیاوی احکام امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک صحیح نہ ہونے کا کیا معنی کہ دنیاوی احکام اس پر مرتب نہیں ہوں گے۔ وہ فرماتے ہیں لا يصح إيمانه قبل قبل البلوغ في حق أحكام الدنيا کہ بچے کا ایمان صحیح نہیں ہے بالغ ہونے سے پہلے دنیاوی احکام کے حق میں فيرث أباه الكافر پس وہ وارث بنے گا اپنے کافر باپ کا ولا تبين منه امرأته المشركة اور جدا نہیں ہوگی اس سے اس کی مشرکہ بیوی۔ بچے کا اگر باپ نے نکاح کر دیا تھا بچپن میں ہی تو یہ بچہ ایمان لے آیا تو اس کی وجہ سے اس کی مشرکہ بیوی اس سے جدا نہیں ہوگی اور نیز آپ نے پڑھا ہے کہ اگر وارث مورث کا دین الگ الگ ہو ایک مومن ہے ایک کافر ہے تو دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کا وارث نہیں بنے گا لیکن یہاں پر امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ دنیاوی احکام مرتب نہیں ہوں گے لہذا یہ مومن بچہ اپنے کافر والدین کا وارث بنے گا۔ لأنه ضرر کیونکہ یہ کیا ہے؟ ضرر ہے اس میں بچے کا نقصان ہے اور بچہ تو شفقت کا محل ہے اس پر تو شفقت کرنی چاہیے شریعت ہی شفقت کا حکم دیتی ہے، لہذا یہ احکام اس پر لاگو نہیں ہوں گے جس میں ان کا نقصان ہے۔ تو کہتے ہیں اس کیونکہ لأنه ضرر کیونکہ اس میں یہ ضرر ہے نقصان ہے وإن صح في حق أحكام الآخرة اگرچہ صحیح ہے اس کا ایمان جو ہے آخرت کے احکام کے حق میں لأنه محض النفع في حقه اس لیے کیونکہ وہ تو محض نفع ہی ہے اس کے حق میں۔ آخرت کے اعتبار سے تو صرف اس کا نفع ہی نفع ہے اور بچہ بھی نفع کا کا حقدار ہے شفقت کی وجہ سے تو آخرت کے اعتبار سے اس کا ایمان صحیح ہے۔ وإنما قلنا بلا لزوم أداء اور ہم نے جو کہا نا متن میں بلا لزوم أداء کہ اس پر ادا لازم نہیں لأنه لو لو استوصف الصبي اس لیے کیونکہ اگر وصف طلب کیا گیا بچے سے ولم يصف الإسلام اور وہ اسلام کی صفت بیان نہ کر سکا، بچے سے اگر اسلام کی صفت طلب کی گئی بتلاؤ بھئی تم مسلمان ہو، وہ کہتا ہے مسلمان ہوں بھئی، کیسے کہتے ہیں اسلام؟ بتاؤ ہمیں، اب اگر وہ اسلام کی صفت بیان نہ کر سکا بعد ما عقل بعد اس کے جبکہ وہ عاقل ہوا، بالغ کی بات نہیں ہو رہی بچہ ذرا سا سمجھدار ہے اس سے پوچھا گیا کہ بتلاؤ بھئی اسلام کسے کہتے ہیں؟ اس کی صفت بیان کرو، تو کہتے ہیں اگر وہ اسلام کی صفت بیان نہ کر سکا بعد ما عقل بعد جب اس کے وہ عاقل ہو گیا تھا لم تبن امرأته تو جدا نہیں ہوگی اس اس سے اس کی بیوی۔ اس کی بیوی اس سے جدا نہیں ہوگی۔ ہمارے نزدیک اس کی بیوی اس سے جدا نہیں ہوگی، اگر اس پر ادا لازم ہوتی یعنی ادا واجب ہوتی تو پھر تو کیا حکم لاگو ہوتا؟ وہ تو اسلام کی تعریف نہیں کر سکا لہذا فوراً کیا ہونی چاہیے اس کی بیوی اس سے؟ جدا ہو جائے حالانکہ اس کی بیوی اس سے جدا، معلوم ہوا اس پر ادا لازم نہیں۔ ولو لزمه اور اگر اس پر ولو لزمه الأداء اور اگر اس بچے پر ادا لازم ہوتی لكان امتناعه كفرا تو اس کا باز رہنا کفر ہوتا یعنی وہ صفت بیان نہ کر سکنا اس کا یہ کفر ہوتا، بیوی جدا ہو جاتی حالانکہ یہ کفر نہیں۔ وإن كان قبيحا اور وہ حق اللہ اگر قبیح ہو، پہلے بیان ہوا اگر حق اللہ کیا ہو؟ حسن، اگر وہ حق اللہ قبیح ہو لا يحتمل غيره اور اس میں قبیح ہونے کے علاوہ اور کوئی احتمال نہ ہو كالكفر جیسے کفر ہے بھئی لا يجعل عفوا تو یہ معاف اس کو معاف نہیں قرار دیا جائے گا۔ حق اللہ اگر حسن ہے اس میں حسن ہونے کے علاوہ اور کوئی احتمال ہی نہیں تو وہ بچے کی طرف سے صحیح ہے البتہ اس پر لازم نہیں اور اور حق اللہ اگر قبیح ہے اس میں قبا کے علاوہ اور کوئی احتمال ہی نہیں جیسے کفر بھئی کفر سے منع کیا گیا ہے بھئی۔ تو یہ کفر قبیح ہے اور اس میں اور کوئی حسن کا کوئی احتمال ہے ہی نہیں، بھلائی اس میں کسی درجے میں ہے ہی نہیں تو اس قسم کا جو حق اللہ ہے لا يجعل عفوا بھئی لا يجعل عفوا اس کو معاف نہیں قرار دیا جائے گا۔ یعنی بچے کے کفر کو معاف نہیں قرار دیا جائے گا اور یاد رکھیے آگے بیان کریں گے کفر سے یہ مراد نہیں کہ بچہ شروع سے ہی والدین مشرک ہیں وہ بھی کافر ہیں، نہیں نہیں، کفر سے مراد اس کا مرتد ہونا ہے، بچہ ہے سمجھدار ہے اور مرتد ہو گیا تو ہم کہیں نہیں جی یہ تو بچہ ہے، نہیں بھئی ایسا نہیں۔ یہ ایسا حق اللہ ہے جس میں کوئی خیر اور کوئی بھلائی نہیں ہے لہذا یہ بچے کے حق میں بھی جب وہ عقل رکھتا ہو تو یہ معاف نہیں ہوگا اس کا مرتد ہونا مرتد ہونا ہی شمار ہوگا دنیاوی احکام کے اعتبار سے بھی۔ کہتے ہیں وهذا هو القسم الثاني اور یہ وہ دوسری قسم ہے والمراد بالكفر هو الردة اور کفر سے کیا مراد ہے؟ مرتد ہونا ہے، يعني لو ارتد الصبي یعنی اگر بچہ مرتد ہو گیا تعتبر ردته عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى في حق أحكام الدنيا والآخرة تو اعتبار کیا جائے گا اس کے مرتد ہونے کا طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک دنیا اور آخرت دونوں کے احکام کے حق میں حتَّى تبين منه امرأته یہاں تک کہ جدا ہو جائے گی اس سے اس کی بیوی ولا يرث من أقاربه المسلمين اور وہ وارث نہیں بنے گا اپنے مسلمان رشتہ داروں کا ولكن لا يقتل لیکن ہاں اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ اس بچے کو جو مرتد ہوا ہے، قتل نہیں کیا جائے گا۔ کیوں؟ وجہ کیا؟ بھئی، دراصل قتل کی وجہ مرتد ہونا نہیں ہے، قتل جو کیا جاتا ہے مرتد کو۔ دراصل قتل اس لیے کیا جاتا ہے مرتد کو، کیونکہ وہ اب مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے والا بن گیا۔ مخالف ہو گیا تو کیا بن گیا؟ جنگ کرنے والا بن گیا اور لہٰذا اس وجہ سے پھر اس کو قتل کیا جاتا ہے کہ وہ حالتِ جنگ میں ہے مسلمانوں کے ساتھ۔ اور بچہ اور عورتیں، یہ تو جنگ نہیں کر سکتے۔ چنانچہ اسی لیے عورت مرتدہ ہو جائے تو اس کے قتل کرنے کا حکم نہیں ہے کیونکہ وہ جنگ کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ ولكن لا يقتل لیکن اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ لانه لم توجد منه المحاربة قبل البلوغ اس لیے کیونکہ اس کی طرف سے جنگ نہیں پائی گئی بالغ ہونے سے پہلے۔ ولو قتله أحد يهدر دمه ہاں، البتہ اگر اس بچے کو قتل کر دیتا ہے کوئی شخص، يهدر دمه یہ جو بچہ مرتد ہو گیا تھا اس کو کوئی شخص قتل کر دے، تو اس کا خون رائےگاں جائے گا، ضائع جائے گا، یعنی قاتل پر قصاص نہیں آئے گا۔ ولا يجب عليه شيء اور قاتل پر کوئی چیز واجب نہیں ہوگی، كالمرتد جیسے کہ مرتد ہوتا ہے۔ مرتد کے قتل پر جیسے کوئی چیز نہیں آتی تو یہاں پر بھی قاتل پر کوئی چیز نہیں آئے گی۔ وعند أبي يوسف والشافعي رحمهما الله لا تصح ردته في حق أحكام الدنيا اور امام ابو یوسف اور امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس بچے کا مرتد ہونا صحیح نہیں ہے دنیاوی احکام کے حق میں۔ اخروی اعتبار سے وہ کہتے ہیں معتبر ہے مرتد ہونا، یہ بچہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں، دنیاوی احکام کے اعتبار سے اس کا مرتد ہونا صحیح نہیں ہے لانها ضرر محض کیونکہ یہ ضررِ محض ہے اور بچہ تو شفقت کا محل ہے۔ وإنما حكمنا بصحة إيمانه لكونه نفعاً محضاً بھئی، یہ کیا بات ہے کہ آپ جو ہیں اس کے مرتد ہونے کے اعتبار نہیں کرتے اور ایمان کے صحیح ہونے کے، ایمان لے آئے تو ایمان صحیح؟ تو بتلا رہے ہیں بھئی، ایمان کے صحیح ہونے کے کا حکم ہم نے اس لیے لگایا کیونکہ اس میں صرف بچے کا نفع ہی نفع ہے، کسی قسم کا نقصان نہیں ہے۔ وإنما حكمنا بصحة إيمانه اور ہم نے حکم لگایا اس کے ایمان کے صحیح ہونے کا لكونه نفعاً محضاً اس لیے کیونکہ وہ محض نفع ہی ہے وما هو دائر بين الأمرين یہ تیسری قسم آ گئی، پہلی قسم حق اللہ جو صرف حسن تھی، دوسری قسم جو صرف قبیح تھی، تیسری قسم جو ان دونوں کے درمیان دائر ہو۔ وما هو دائر بين الأمرين اور وہ حق اللہ جو دائر ہو ان دو چیزوں کے أي بين كونه حسناً في زمان وقبيحاً في زمان یعنی ایک زمانے میں حسن ہونے اور ایک زمانے میں قبیح ہونے کے درمیان وہ دائر ہو۔ کسی زمانے میں وہ حسن ہوتا ہے، کسی زمانے میں قبیح ہوتا ہے، جیسے نماز بھئی! حالتِ حیض میں نماز منع ہے، معلوم ہوا اس وقت نماز حسن نہ رہی اور واقعہ عام حالت میں نماز کی ادائیگی کا حکم ہے، معلوم ہوا وہ حسن ہے، اچھی چیز ہے۔ وهذا هو القسم الثالث اور یہ وہ تیسری قسم ہے یعنی حق اللہ میں كالصلوات ونحوها جیسے کہ نماز ہے اور اس جیسی چیزیں، كالصلوات ونحوها جیسے کہ نماز اور اس جیسی چیزیں یعنی حج اور روزہ وغیرہ۔ يصح منه الأداء من غير لزوم عهدة تو اس کے اندر جو ہے صحیح ہے اس بچے کی طرف سے ادا من غير لزوم عهدة بغیر لازم ہوئے کسی زمان کے۔ کسی عہدہ اور زمان کا ایک معنی ہے اور یاد رکھیے، وزمان یہ شرح کا حصہ ہے، متن کا حصہ نہیں بھئی، تو بغیر زمان کے لازم ہوئے۔ یہ جو حقوق اللہ ہیں، توجہ ہے سبق کی طرف بھئی؟ یہ جو حقوق اللہ جو دائر ہیں، کس کے درمیان؟ حسن اور قبیح ہونے کے درمیان، ان میں بچے کی طرف سے ادا صحیح ہے، ادا کرے گا تو ادا ہو جائیں گے۔ ہاں، اس پر کوئی زمان نہیں آئے گا ان کا، یعنی نماز پڑھنا شروع کی، بیچ میں توڑ دی۔ اب کیا کرنا پڑے؟ اس کے قضا کرنا پڑے، بچے پر یہ ضروری نہیں ہے بھئی! یہ معنی ہے من غير لزوم عهدة بغیر زمان کے لازم ہوئے وزمان، جی میں نے بتلایا عہدہ اور زمان کا ایک معنی۔ فإن شرع فيه پس اگر بچہ ان میں شروع ہوا، یہ جو حقوق اللہ ہیں جو دائر ہیں حسن اور قبح کے، ان میں حسن ہونے اور قبیح ہونے کے درمیان دائر ہیں، اگر ان میں بچہ شروع ہوا لا يجب إتمامه تو واجب نہیں ہے اس کو اس پر پورا کرنا، اس کو پورا کرنا اس پر واجب نہیں والمضي فيه اور اس کو جاری رکھنا بھی اس میں اس پر واجب نہیں۔ وإن أفسده لا يجب عليه القضاء اور اگر وہ اس کو فاسد کر دیتا ہے تو اس پر اس کی قضا واجب نہیں۔ وفي صحة هذا الأداء بلا لزوم عليه نفع محض له اور اس ادا کے بغیر لزوم کے، یہ جو ادا ہے اس کا بچے کی طرف سے صحیح ہونا بلا لزوم عليه بغیر اس پر لازم ہوئے ہی، یہ نفع محض له یہ اس بچے کا، اس میں صرف اس کا نفع ہی ہے من حيث أنه يعتاد أداءها اس حیثیت سے کہ اس کو عادت ہو جائے گی اس کے ادا کرنے کی فلا يشق ذلك بعد البلوغ تو یہ دشوار نہیں ہوگا اس پر، یہ ادا اس پر دشوار نہیں ہوگی بعد البلوغ بالغ ہونے کے بعد بھئی! ابھی سے اس کو عادت پڑ جائے گی ادا کی، اسی لیے ہم نے کہا کہ یہ ادا اس کی طرف سے اس کی طرف سے صحیح ہے کیونکہ اس میں صرف اس کا نفع ہی نفع ہے، اس سے اس کو ادا کی عادت پڑ جائے گی اور بعد میں اس پر دشوار نہیں ہوگی ادا۔ وما كان من غير حقوق الله تعالى اور وہ جو حقوق اللہ کے علاوہ ہیں بھئی! إن كان نفعاً محضاً اگر ان میں وہ نفعِ محض ہو، صرف نفع ہی ہو ان کے اندر كقبول الهبة والصدقة جیسے ہبہ قبول کرنا اور صدقہ قبول کرنا۔ بچے کو کوئی ہبہ دیتا ہے، بچہ اس کو قبول کر لیتا ہے، لے لیتا ہے یا کوئی صدقہ دیتا ہے بچے کو اور بچہ اس کو لے لیتا ہے، اب اس میں صرف نفع ہی نفع ہے بچے کا اس لینے کے اندر بھئی! تو لہٰذا تصح مباشرته مباشرت کا کیا معنی ہے؟ سرانجام دینا۔ تو صحیح ہے بچے کا اس کو سرانجام دینا، یعنی بچے کا ہبہ، صدقے کو قبول کرنا صحیح ہے أي مباشرة الصبي من غير رضا الولي وإذنه یعنی بچے کا سرانجام دینا بابانی کی بغیر رضامندی اور اجازت کے، یہ صحیح ہے۔ وهذا هو القسم الرابع اور یہ چوتھی قسم ہے۔ وفي الضرر المحض اور ضررِ محض کے اندر الذي لا يشوبه نفع دنيوي اور نہ ضررِ محض کے اندر جس میں صرف بچے کا نقصان ہی ہے، کون سا ضررِ محض؟ کہتے ہیں الذي لا يشوبه نفع دنيوي جس کے ساتھ ملاوٹ نہ ہو دنیاوی نفع کی، یعنی اس میں کسی قسم کا دنیاوی نفع اس کے ساتھ ملا ہوا نہ ہو كالطلاق والوصية جیسے کہ طلاق اور وصیت۔ طلاق میں تو بچے کا صرف نقصان ہی نقصان ہے، اگر بیوی کو طلاق دے اور طلاق نافذ ہو جائے تو بچے کا نقصان ہے، کوئی نفع نہیں۔ والوصية اور اسی طرح وصیت، بچہ وصیت کر دیتا ہے تو اس میں تو مال ہاتھ سے جائے گا، آئے گا کچھ بھی نہیں تو یہ نقصان ہی ہے۔ تو کہتے ہیں یہ جو جیسے طلاق اور وصیت ہے ونحوهما اور اس جیسی جو چیزیں ہیں من العتاق والتصدق والهبة والقرض یعنی کہ عتاق، آزادی، یعنی کسی کو آزاد کرتا ہے، والتصدق اور صدقہ کرنا، والهبة اور ہبہ کرنا، والقرض اور قرض دینا يبطل أصلاً یہ اصل سے ہی باطل ہیں۔ بچہ ان کی اہلیت نہیں رکھتا، وہ نہیں کر سکتا کیونکہ اس میں اس کا نقصان ہی ہے۔ فإن فيها إزالة ملك من غير نفع يعود إليه اس لیے کیونکہ اس کے اندر دور کرنا ہے ملکیت کو بغیر کسی ایسے نفع کے جو اس کی طرف لوٹتا ہو، اس میں بچے کا کوئی نفع نہیں ہے، صرف ملکیت اس کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ ولكن قال شمس الأئمة لیکن شمس الأئمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں إن طلاق الصبي واقع إذا دعت إليه حاجة کہ بچے کی طلاق بھی واقع ہو جائے گی جب جب إذا دعت إليه جب بلائے اس کی طرف حاجة کوئی ضرورت بھئی! یعنی جب اس کی کوئی ضرورت پیش آ جائے تو اس وقت بچے کی طلاق بھی صحیح ہے۔ ألا ترى کیا آپ دیکھتے نہیں؟ شمس الأئمہ رحمہ اللہ فرما رہے ہیں کہ بچے کی طلاق بھی صحیح ہے جب ضرورت پیش آ جائے، دلیل دے رہے ہیں بھئی، کس طرح صحیح ہے؟ باقی تو کہتے ہیں صحیح نہیں ہے، کہتے ہیں نہیں بھئی! باقی بھی کہتے ہیں صحیح ہے، آپ مختلف ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں ألا ترى کیا آپ دیکھتے نہیں؟ أنه إذا أسلمت امرأته کہ جب مسلمان ہو جائے بچے کی بیوی يفرض عليه الإسلام تو بچے پر اسلام پیش کیا جائے گا۔ بیوی کیا ہو گئی؟ مسلمان اور بچہ عاقل ہے، تو بچے پر کیا پیش کیا جائے گا؟ اسلام۔ فإن أبى پس اگر بچہ انکار کر دیتا ہے اسلام سے فرق بينهما تو قاضی، تو ان دونوں میں، میاں بیوی میں تفریق کروا دی جائے گی، یعنی قاضی کروا دے گا۔ وهو طلاق عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى اور یہ جو تفریق ہے، یہ کیا ہے؟ طلاق ہے طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک۔ اسی طرح وإذا ارتد اور جس وقت مرتد ہو جائے بچہ وقعت الفرقة بينه وبين امرأته تو جدائی واقع ہو جائے گی بچے کے درمیان اور اس کی بیوی کے درمیان وهو طلاق عند محمد رحمہ اللہ اور یہ بھی طلاق ہی کے درجے میں ہے، کس کے نزدیک؟ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک۔ اسی طرح وإذا كان مجبوباً جب بچہ مجبوب ہو، مجبوب جس کا وہ آلہ تناسل اور خصیتین کٹے ہوئے ہوں بھئی! اگر بچہ مجبوب ہو فخاصمته امرأته پس جھگڑا کیا اس سے اس کی بیوی نے، یعنی مقدمہ کیا اس کے ساتھ وطلبت التفريق اور بیوی نے کس کو طلب کیا؟ جدائی کو طلب کیا، اس کا مطالبہ کیا كان ذلك طلاقاً عند البعض تو یہ بھی بعض فقہاء کے نزدیک طلاق ہے، معلوم ہوا بچہ طلاق کی، طلاق کی اہلیت رکھتا ہے ضرورت کے وقت بھئی! یہ طلاق شمار کر رہے ہیں، یہ جو جدائیاں آئیں، ان کو صرف جدائی نہیں شمار کر رہے فقہاء بلکہ باقاعدہ کیا شمار کر رہے ہیں؟ یوں ہے جیسے بچے کی طرف سے طلاق آ چکی، معلوم ہوا بچہ طلاق دینے کا اہل ہے جب ضرورت ہو بھئی! فُعِلَمَ پس معلوم ہوا أن حكم الطلاق ثابت في حقه عند الحاجة کہ طلاق کا حکم ثابت ہے بچے کے حق میں ضرورت کے وقت وهذا هو القسم الخامس منه اور یہ پانچویں قسم ہے اس میں سے۔ ثم القسم السادس پھر چھٹی قسم بھئی! وهو قوله وہ متن کا یہ قول ہے وفي الدائر بينهما اور وہ چیز جو ان دونوں کے درمیان دائر ہو أي بين النفع والضرر یہ ضمیر کا مرجع بتلایا کہ ہما ضمیر کس کو راجع ہے؟ نفع اور ضرر۔ بھئی، حقوق العباد میں سے وہ چیز جو نفع اور ضرر کے درمیان دائر ہو، یعنی اس میں نفعے کا بھی احتمال اور ضرر اور نقصان کا بھی احتمال كالبائع ونحوه جیسے بیع اور اس جیسی چیزیں ہیں۔ بیع کے اندر نفعے کا بھی احتمال، کوئی چیز خریدے ہو سکتا ہے بڑی سستی خرید لے اصل قیمت سے کم، اور نقصان کا بھی احتمال ہے، ہو سکتا ہے بڑی مہنگی خرید لے بھئی! تو اس قسم کے جو حقوق العباد ہیں کہتے ہیں يملكه برأي الولي بچہ ان کا بھی مالک ہے اپنے ولی کی رائے سے، ولی کے مشورے سے اور اس کی رائے سے ان کا بھی مالک ہے، وہ یہ تصرفات کر سکتا ہے۔ فإن البيع ونحوه من المعاملات اس لیے کیونکہ بیع اور اس جیسی جو چیزیں ہیں معاملات میں سے إن كان رابحاً اگر وہ رابح ہیں، نفع دینے والی ہیں كان نفعاً تو یہ نفع ہی ہے وإن كان خاسراً اور اگر وہ خسارے والی ہیں كان ضرراً تو یہ نقصان ہے وأيضاً هو سالب وجالب اور نیز یہ جو بیع ہے، سالب بھی ہے اور جالب بھی ہے۔ سلب کا معنی ہوتا ہے کسی سے کوئی چیز چھیننا، تو بیع سالب ہے، چھیننے والی ہے، یعنی اس کی وجہ سے مبیع بچے کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور جالب، جلب کا معنی ہوتا ہے کھینچنا، بیع کھینچنے والی بھی ہے، اس کی وجہ سے بچے کو مبیع تو ہاتھ سے نکل جائے گا لیکن ثمن کیا ہوں گے؟ حاصل ہو جائیں گے۔ تو بیع سالب بھی ہے اور جالب بھی ہے فلا بد أن ينضم إليه رأي الولي پس ضروری ہوا کہ ملے اس کے ساتھ ولی کی رائے حتى تترجح جهة النفع یہاں تک کہ ترجیح پا جائے نفع والی جہت بھئی! نفع والی جانب جب ولی کی رائے مل جائے گی ساتھ تو اب پتہ چل جائے گا کون سی جہت آ گئی ہے؟ بچہ تو نقصان بھی کر سکتا تھا بیع میں اور نفع بھی، لیکن جب ولی کی اس کے ساتھ نگران اور سرپرست جو ہے، اس کی رائے ساتھ مل گئی تو اب نفع والی جہت راجح ہو جائے گی فيلتحق بالبالغ تو یہ بچہ اب مل گیا بالغ کے ساتھ، یعنی کس کی طرح ہو گیا؟ بالغ، جیسے بالغ بیع جس طرح بھی بیع کرنا چاہے وہ کر سکتا ہے، تو جب بچے کے ساتھ ولی کی رائے مل گئی تو یہ بھی کس کی طرح ہو گیا؟ بالغ کی طرح ہو گیا۔ فينفذ تصرفه تو نافذ ہو جائے گا اس بچے کا تصرف بالغبن الفاحش غبنِ فاحش کے ساتھ بھی۔ غبن کہتے ہیں دھوکے کو بھئی! غبنِ فاحش زبردست دھوکہ بھئی، سخت دھوکہ بھئی! تو غبنِ فاحش کے ساتھ بھی بچے کا تصرف نافذ ہو جائے گا، غبنِ فاحش میں نے بتلایا زبردست دھوکہ، مثلاً ہزار روپے کی چیز ہے، بچے نے خریدی 50 ہزار میں یا 20 ہزار میں یا 10 ہزار میں، تو یہ تھی تو چیز ہزار والی، تو یہ کیا ہوا؟ غبنِ فاحش ہوا بھئی! یا ہزار کی چیز تھی، بچے نے 10 روپے میں بیچ دی، تو دیکھیے یہ کیا ہوا؟ غبنِ فاحش بچے کے ساتھ دھوکہ ہوا بھئی! صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن کہتے ہیں جب ولی کی اجازت مل جائے، ولی کی رائے ساتھ مل جائے تو پھر بچہ چاہے غبنِ فاحش کے ساتھ ہی کوئی تصرف کیوں نہ کرے جس میں سخت نقصان ہے، پھر بھی صحیح ہے مع الأجانب اجنبیوں کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ عقد کر رہا ہے اجنبیوں سے اور مشورہ کس کا ہے؟ ولی کا ہے، تو پھر چاہے غبنِ فاحش کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو، یہ تصرف بچے کا نافذ ہو جائے گا۔ كما ينفذ من البالغ جیسے کہ یہ نافذ ہو جاتا ہے بالغ کی طرف سے۔ جو بالغ ہوتا ہے وہ اپنی کوئی چیز غبنِ فاحش کے ساتھ ہی کیوں نہ بیچے یا خریدے، اس کا تصرف نافذ ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ اس کا نافذ ہوتا ہے تو بچے کا بھی اب نافذ ہو جائے گا، یہ بھی بالغ کی طرح ہو چکا ہے۔ عند أبي حنيفة رحمہ اللہ کس کے نزدیک ہے یہ؟ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔ خلافاً لهما بخلاف صاحبین کے، فإنه لا يكون كالبالغ عندهما پس وہ بچہ جو ہے وہ بالغ کی طرح نہیں ہوگا صاحبین کے نزدیک، فلا ينفذ بالغبن الفاحش لہٰذا اس کا یہ تصرف نافذ نہیں ہوگا غبنِ فاحش کے ساتھ۔ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، ولی کی رائے کے ساتھ بھی غبنِ فاحش والا عقد اجنبی کے ساتھ نہیں کر سکتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ وإن باشر البيع بالغبن الفاحش مع الولي جی، اب یہ الگ صورت آ گئی، بچے نے بیع کی، بیع کو سرانجام دیا غبنِ فاحش کے ساتھ اور بیع کی اپنے ولی کے ساتھ۔ ولی کے ہاتھ کوئی چیز بیچ دی یا اس سے کوئی چیز خرید لی، ولی سے کوئی چیز خرید لی یا اس پر بیچ دی اور ولی نے اجازت دی کہ میں بچے کو بیع کی اجازت دیتا ہوں، تو اب یہ ولی کے ساتھ جو بیع کی اپنے ہی ولی کے ساتھ اور غبنِ فاحش کے ساتھ، کیا یہ بیع نافذ ہوگی یا نہیں؟ تو امام صاحب سے دو روایتیں آتی ہیں، ایک روایت کے مطابق نافذ ہو جائے گی جیسے اجنبیوں کے ساتھ غبنِ فاحش کے ساتھ ولی کی اجازت سے بیع نافذ ہو جاتی تھی، تو یہاں بھی ولی کی اجازت کے ساتھ، ولی کے ساتھ جو بیع ہے غبنِ فاحش کے ساتھ، وہ نافذ ہو جائے گی اور دوسری روایت کے مطابق نافذ نہیں ہوگی بھئی! وإن باشر البيع بالغبن الفاحش اور اگر بچے نے بیع سرانجام دی غبنِ فاحش کے ساتھ مع الولي کس کے ساتھ؟ ولی کے ساتھ فعن أبي حنيفة رحمه الله تعالى روايتان تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے دو روایتیں ہیں، في رواية ينفذ ایک روایت میں یہ ولی کے ساتھ یہ عقد نافذ ہو جائے گا غبنِ فاحش کے ساتھ وفي رواية لا ينفذ اور ایک روایت کے مطابق نافذ نہیں ہوگا۔ وهذا كله عندنا یہ سارا ہمارے نزدیک ہے۔ یہ جو مسئلے بیان ہوئے، یہ کس کے نزدیک ہیں؟ ہمارے نزدیک اس طرح ہے۔ وقال الشافعي رحمه الله اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں كل منفعة يمكن تحصيلها له بمباشرة وليه لا تعتبر عبارته كل منفعة ہر وہ نفع، ہر وہ نفع يمكن تحصيلها له کہ ممکن ہو اس کو حاصل کرنا لہُ بچے کے لیے بمباشرة وليه ولی کے سرانجام دینے سے لا تعتبر عبارته تو اس میں معتبر نہیں ہوگی بچے کی عبارت، عبارتُہ أي عبارتُ الصبي، کس کی عبارت معتبر نہیں؟ بچے کی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھیے بھئی ادھر! امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بچے کی طرف سے جو چیزیں ولی سرانجام دے سکتا ہے، اس میں بچے کی عبارت کا کوئی اعتبار نہیں اور جو چیزیں ولی اس کا بچے کی طرف سے نہیں کر سکتا، ان میں بچے کی عبارت معتبر ہوگی بھئی! صورت سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے، مثالوں سے اور بات واضح ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: "وَلا تُعْتَبَرُ عِبَارَتُهُ" یعنی "عِبَارَةُ الصَّبِيِّ فِيهِ" تو اس کے اندر بچے کی عبارت معتبر نہیں ہے۔ "كَالإِسْلامِ وَالْبَيْعِ" جیسے اسلام اور بیع۔ بھئی، بچے کی طرف سے اسلام، ولی اگر مسلمان ہو جائے تو بچہ بھی مسلمان شمار ہوتا ہے یا شمار نہیں ہوتا؟ شمار ہوتا ہے۔ معلوم ہوا ولي اس کی طرف سے اسلام کو ادا کر سکتا ہے۔ نیز ولي اگر بچے کے لیے ضرورت ہو، کوئی چیز خریدے، خرید سکتا ہے یا نہیں خرید سکتا؟ بچے کے مال میں سے اس کے لیے کوئی چیز خریدے تو ولی خرید سکتا ہے۔ تو لہذا یہ چیزیں ولی سرانجام دے سکتا ہے۔ لہذا بچے کی عبارت کا اس میں کوئی اعتبار نہیں، بچے کی عبارت کا۔ بچہ اسلام لے آئے تو اس کا اسلام بھی صحیح نہیں، بچہ بیع کرے تو اس کی بیع بھی صحیح نہیں کیونکہ یہ چیزیں جب ولی کر سکتا ہے تو بچے کو اس کے کرنے کی اجازت نہیں۔ "فَإِنَّهُ يَصِيرُ مُسْلِمًا بِإِسْلَامِ أَبِيهِ" اس لیے کیونکہ وہ بچہ مسلمان ہو جاتا ہے اپنے والد کے اسلام لانے سے "وَيَتَوَلَّى الْوَلِيُّ بَيْعَ مَالِهِ" اور ولی جو ہے وہ ذمہ دار، وہ، اس کو ولایت حاصل ہے "بَيْعَ مَالِهِ" اس کے مال کو بیچنے کی "وَشِرَائَهُ" "وَشِرَاءَهُ" اور اس کو، اس کو خریدنے کی "فَتُعْتَبَرُ فِيهِ عِبَارَةُ وَلِيِّهِ فَقَطْ" پس اس کے اندر صرف اس بچے کے ولی کی عبارت معتبر ہو گی۔ "وَمَا لا يُمْكِنُ تَحْصِيلُهُ بِمُبَاشَرَةِ وَلِيِّهِ" اور وہ چیز کہ ممکن نہ ہو اس کو حاصل کرنا اس کے ولی کے سرانجام دینے سے "تُعْتَبَرُ عِبَارَتُهُ فِيهِ" اس کے اندر بچے کی عبارت معتبر ہے "كَالْوَصِيَّةِ" جیسے کہ وصیت۔ اب بھئی، بچے کا مال ہے ولي تو وصیت نہیں کر سکتا اس کے اندر، کون، ہاں بچہ پھر وصیت کر سکتا ہے۔ بچہ کیا کہتا ہے؟ "میرے مرنے کے بعد میرا جو مال ہے اس میں سے ایک مسجد بنا دی جائے" تو اب اس میں بچے کی عبارت معتبر ہے۔ "فَإِنَّهُ لا يَتَوَلَّاهُ الْوَلِيُّ هَاهُنَا" اس لیے کیونکہ یہاں پر ولایت حاصل نہیں ولی کو "فَتُعْتَبَرُ عِبَارَتُهُ فِي الْوَصِيَّةِ بِأَعْمَالِ الْبِرِّ" پس اب بچے کی عبارت معتبر ہوگی وصیت کے اندر، نیکی کے اعمال میں "لأَنَّهُ يَسْتَغْنِي عَنِ الْمَالِ بَعْدَ الْمَوْتِ" بھئی اس کے اندر تو نقصان ہے بچے کا۔ وصیت میں مال ہاتھ سے جائے گا یا آئے گا؟ ہاتھ سے جائے گا تو نقصان ہے۔ کہتے ہیں بھئی جائے بھی تو کوئی حرج نہیں کیونکہ وصیت نے نافذ ہونا ہے موت کے بعد اور موت کے بعد بچہ اپنے مال سے بے نیاز ہو چکا۔ "لأَنَّهُ يَسْتَغْنِي عَنِ الْمَالِ بَعْدَ الْمَوْتِ" اس لیے کیونکہ بچہ مال سے بے نیاز ہو چکا موت کے بعد "وَعِنْدَنَا هِيَ بَاطِلٌ" ہمارے نزدیک یہ باطل ہے، بچے کی وصیت نافذ نہیں، ابھی پیچھے اپ نے پڑھا بھئی، کیونکہ جس چیز میں صرف نقصان ہی نقصان ہے وہ بچے کی طرف سے صحیح نہیں، اس میں بھی بچے کے ہاتھ سے مال جا رہا ہے لہذا صحیح نہیں۔ تو ہمارے نزدیک یہ باطل ہے۔ "لأَنَّهَا ضَرَرٌ مَحْضٌ" اس لیے کیونکہ یہ ضررِ محض ہے "وَإِزَالَةٌ لِلْمِلْكِ بِطَرِيقِ التَّبَرُّعِ" اور یہ ملکیت کو زائل کرنا ہے، ختم کرنا ہے تبرع کے طریقے پر، عطیہ کے طریقے پر۔ تبرع وہ چیز جو کسی پر واجب نہ ہو بھئی، تبرع کے طریقے پر "سَوَاءٌ كَانَتْ بِالْبِرِّ أَوْ غَيْرِهِ" چاہے وصیت جو ہے نیکی کی ہو یا اس کے علاوہ کی، جو بھی وصیت ہے ہمارے نزدیک باطل ہے۔ "وَسَوَاءٌ مَاتَ قَبْلَ الْبُلُوغِ أَوْ بَعْدَهُ" اور برابر ہے کہ بچہ بالغ ہونے سے پہلے ہی مر جائے یا اس کے بعد مرے۔ وصیت بچپن میں کی تھی اور مرا بالغ ہونے کے بعد بھئی، پھر بھی وہ وصیت کیا ہے ہمارے نزدیک؟ بچپن کی وصیت باطل ہے نابالغ ہو کیونکہ نابالغ کی وصیت ہی درست نہیں ہے بھئی۔ اور چاہے بالغ ہونے سے پہلے مر جائے پھر تو بطریقِ اولی باطل ہے۔ "وَاخْتِيَارِ أَحَدِ الأَبَوَيْنِ" اور والدین میں، دونوں والدین میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا، اس کا عطف ہے وصیت پر۔ بھئی، بتلایا کہ وہ چیز جس میں جس کو ولی سرانجام نہیں دے سکتا اس کے اندر بچے کی عبارت معتبر ہے، جیسے وصیت اور والدین میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا۔ ماں باپ کے اندر جدائی ہو گئی بچہ ماں کے پاس رہے گا سات سال تک، ماں اس کی حقدار ہے باپ اس سے جبراً نہیں لے سکتا، کیونکہ اس دوران بچے کو ماں کی ضرورت ہے۔ ہاں، سات سال کے بعد اب بچے کو آداب سیکھنے کی ضرورت ہے اور آداب زیادہ بہتر طریقے سے باپ سکھا سکتا ہے، لہذا اب باپ کا حق ہے بھئی۔ کس کا حق ہے؟ باپ کا حق ہے۔ یہ تو ہمارے نزدیک ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بچے کا حق ہے، اسے اختیار دیا جائے گا کس کے پاس تم رہنا چاہتے ہو۔ سات سال تک تو ماں کا حق تھا اس کے بعد بچے سے پوچھا جائے گا کس کے پاس رہنا چاہتے ہو، جس کو بچہ اختیار کر لے۔ اس میں ولی کی رائے اور ولی کی عبارت کا کوئی اعتبار نہیں بلکہ کس کی عبارت کا اعتبار ہے؟ بچے کی عبارت کا، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی۔ "وَاخْتِيَارِ أَحَدِ الأَبَوَيْنِ" اور والدین میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا "وَذَلِكَ فِيمَا إِذَا وَقَعَتِ الْفُرْقَةُ بَيْنَ أَبَوَيْهِ" اور یہ اس صورت میں ہے جس وقت جدائی واقع ہو جائے اس کے والدین میں "وَخَلَصَتِ الأُمُّ عَنْ حَقِّ الْحَضَانَةِ إِلَى سَبْعِ سِنِينَا" اور خالص ہو گئی ماں بھئی، ماں خالص ہو گئی یعنی اس نے وہ چھٹکارا پا لیا "عَنْ حَقِّ الْحَضَانَةِ" پرورش کے حق سے "إِلَى سَبْعِ سِنِينَا" پرورش کب تک بھئی؟ سات، سات سال تک جو پرورش ہے اس حق سے ماں خالص ہو گئی یعنی اس سے ہٹ گئی، وہ پورا کر لیا۔ "فَبَعْدَ ذَلِكَ يَتَخَيَّرُ الْوَلَدُ عِنْدَهُ" تو اس کے بعد اختیار ہوگا بچے کو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک "يَخْتَارُ أَيَّهُمَا شَاءَ" وہ اختیار کر لے جس کو بھی وہ چاہے ان دونوں میں سے۔ "لأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلامُ" وہ دلیل دیتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کہ اسی طرح حضور علیہ السلام کے زمانے میں ہوا تھا اور حضور علیہ السلام نے بچے کو اختیار دیا تھا کہ کس کے پاس رہنا چاہے، ماں کے پاس یا باپ کے پاس۔ "لأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلاةُ وَالسَّلامُ خَيَّرَ غُلامًا بَيْنَ الأَبَوَيْنِ" اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے اختیار دیا ایک لڑکے کو "بَيْنَ الأَبَوَيْنِ" کس کے درمیان؟ اس کے والدین کے درمیان۔ "وَهَذِهِ الْمَنْفَعَةُ مِمَّا لا يُمْكِنُ أَنْ تَحْصُلَ بِمُبَاشَرَةِ الْوَلِيِّ" اور یہ نفع ان چیزوں میں سے ہے کہ ممکن نہیں ہے کہ وہ یہ حاصل ہو جائے ولی کے سرانجام دینے سے۔ "فَتُعْتَبَرُ عِبَارَتُهُ فِيهِ" تو اس کے اندر بچے کی عبارت معتبر ہے۔ "وَعِنْدَنَا لَيْسَ كَذَلِكَ" ہمارے نزدیک ایسا نہیں ہے "بَلْ يُقِيمُ الابْنُ عِنْدَ الأَبِ" بلکہ بچہ اب کس کے پاس رہے گا؟ باپ کے پاس رہے گا "لِيَتَأَدَّبَ بِآدَابِ الشَّرِيعَةِ" تاکہ وہ سیکھ لے شریعت کے آداب بھئی۔ "وَالْبِنْتُ عِنْدَ الأُمِّ" اور بیٹی کس کے پاس رہے گی؟ ماں، ہاں بیٹا باپ کے پاس اور بیٹی ماں کے پاس رہے گی سات سال کے بعد "لِتَعَلُّمِ أَحْكَامِ الْحَيْضِ" تاکہ وہ حیض کے احکام سیکھ لے۔ جی، اور باقی جو حضور علیہ السلام نے اختیار دیا تھا اس کا جواب دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کو۔ کہتے ہیں: "وَتَخْيِيرُ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلاةُ وَالسَّلامُ لَهُ كَانَ لأَجْلِ دُعَائِهِ" اور وہ جو اختیار دیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو "كَانَ لأَجْلِ دُعَائِهِ" وہ حضور علیہ السلام کی دعا کی وجہ سے تھا "بِالأَنْظَرِ" جو اس بچے پر زیادہ شفیق ہو۔ حضور علیہ السلام نے اس کے لیے دعا کی تھی کہ اللہ اس کو توفیق دے جس میں اس کے لیے زیادہ شفقت ہو، ماں میں یا باپ میں، اللہ اس بچے کو توفیق دے، یہ اسی کو اختیار کرے جو اس کے لیے زیادہ نفع والا ہو۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، اللہ نے توفیق دی اس کو، اس نے اس کو اختیار کیا جس میں اس کے لیے زیادہ نفع تھا۔ تو یہ حضور علیہ السلام، اب تو ایسا نہیں ہو سکتا، تو اس لیے وہ جو اس کو اختیار دیا تھا وہ حضور علیہ السلام کی اس دعا کی بدولت اس نے جو چیز جس میں اس کا زیادہ نفع تھا اس کو اس نے اختیار کیا، حالانکہ ایسا اب ایسا ضروری نہیں بھئی کہ اب۔ تو یہ معنی ہے کہ وہ جو حضور علیہ السلام نے اس کو اختیار دیا تھا "كَانَ لأَجْلِ دُعَائِهِ بِالأَنْظَرِ" وہ حضور علیہ السلام کی وہ جو دعا تھی اس کے لیے زیادہ شفقت والے کی، اس وجہ سے تھا۔ "فَوُفِّقَ" "لِاخْتِيَارِ" ہے؟ جی، الف نہیں ہونا چاہیے، یہ کتابت کی غلطی ہے۔ "فَوُفِّقَ لِاخْتِيَارِ الأَنْفَعِ لَهُ" تو بچے کو توفیق دی گئی جو اس کے لیے زیادہ نفع والا تھا اس کے اختیار کرنے کی، حضور علیہ السلام کی دعا کی وجہ سے اس بچے کو اللہ نے توفیق دے دی جو زیادہ نفع والا تھا اس کے لیے اختیار کرنے کی structure۔ عبارت سمجھ میں آگئی بھئی؟ "فَوُفِّقَ لِاخْتِيَارِ الأَنْفَعِ لَهُ" تو اس بچے کو توفیق دے دی گئی اس کو اختیار کرنے کی جو اس کے لیے زیادہ نفع والا تھا۔ "وَلَمَّا فَرَغَ عَنْ بَيَانِ الأَهْلِيَّةِ شَرَعَ فِي بَيَانِ الأُمُورِ الْمُعْتَرِضَةِ عَلَى الأَهْلِيَّةِ" اور جب مصنف رحمہ اللہ اہلیت کے بیان سے فارغ ہوئے تو شروع ہوئے ان امور کے بیان میں "الْمُعْتَرِضَةِ عَلَى الأَهْلِيَّةِ" جو پیش آتے ہیں اہلیت کو، جو اہلیت پر پیش آتے ہیں امور بھئی، جن کی وجہ سے وہ اہلیت کا حکم بدل جاتا ہے۔ اس کا حکم بدل جاتا ہے وجوب وغیرہ بھئی۔ "فَقَالَ" پس مصنف فرماتے ہیں: "وَالأُمُورُ الْمُعْتَرِضَةُ عَلَى الأَهْلِيَّةِ نَوْعَانِ" اور وہ امور جو پیش آتے ہیں اہلیت پر، وہ دو قسم پر ہیں۔ "سَمَاوِيٌّ" ایک تو سماوی ہیں بھئی، سماوی۔ ایک کیا ہیں؟ سماوی ہیں یعنی آسمانی ہیں۔ آسمانی ہونے کا معنی یہ ہے وہ امور جن میں بندے کا کوئی اختیار نہ ہو، جیسے جنون ہے اور بھول ہے، نیند ہے، مدہوشی وغیرہ یہ چیزیں۔ تو کہتے ہیں: "وَهُوَ مَا ثَبَتَ مِنْ قِبَلِ" خود شارح بتلا رہے ہیں سماوی سے کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں: "وَهُوَ مَا ثَبَتَ مِنْ قِبَلِ صَاحِبِ الشَّرْعِ" وہ جو صاحبِ شریعت یعنی اللہ کی طرف سے ثابت ہوں "بِلا اخْتِيَارِ الْعَبْدِ فِيهِ" بغیر بندے کے اس میں کسی اختیار کے "وَهُوَ أَحَدَ عَشَرَ" اور وہ گیارہ ہیں بھئی، وہ امور جو سماوی ہیں، گیارہ ہیں۔ "الصِّغَرُ وَالْجُنُونُ وَالْعَتَهُ وَالنِّسْيَانُ وَالنَّوْمُ وَالإِغْمَاءُ وَالرِّقُّ وَالْمَرَضُ وَالْحَيْضُ وَالنِّفَاسُ وَالْمَوْتُ" ایک کمسنی ہے، جنون پاگل پن ہے "وَالْعَتَهُ" ناسمچھی ہے۔ عتہ کے کیا معنی؟ ناسمچھی۔ معتوہ کس کو کہتے تھے؟ وہ جو ناسمجھ ہوتا تھا جو کبھی پاگلوں کی طرح باتیں کرتا ہے اور کبھی ٹھیک لوگوں کی طرح۔ "وَالنِّسْيَانُ" اور بھول ہے "وَالنَّوْمُ" اور نیند ہے "وَالإِغْمَاءُ" اور بے ہوشی ہے "وَالرِّقُّ" اور غلامی ہے "وَالْمَرَضُ" اور مرض ہے، بیماری ہے "وَالْحَيْضُ وَالنِّفَاسُ" اور حیض اور نفاس ہے "وَالْمَوْتُ" اور موت۔ تو یہ سارے سماوی چیزیں ہیں بھئی۔ "وَبَعْدَهُ يَأْتِي الْمُكْتَسَبُ الَّذِي ضِدُّ السَّمَاوِيِّ" اور اس کے بعد آگے وہ آئیں گے جو مكتسب ہیں، جو کمائے ہوئے ہوتے ہیں، یعنی جس میں بندے کے عمل کا دخل ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ آئیں گے جو مكتسب ہیں "الَّذِي ضِدُّ السَّمَاوِيِّ" جو ضد ہیں کس کے؟ سماوی کے "وَهُوَ سَبْعَةٌ" اور وہ سات ہیں۔ "الْجَهْلُ وَالسُّكْرُ وَالْهَزْلُ وَالسَّفَرُ وَالسَّفَهُ وَالْخَطَأُ وَالإِكْرَاهُ" وہ سات کیا کیا ہیں؟ "الْجَهْلُ" جہالت ہے، جہالت میں بندے کا اپنا دخل ہے۔ "وَالسُّكْرُ" اور نشہ ہے "وَالْهَزْلُ" اور مذاق ہے بھئی، مذاق "وَالسَّفَرُ" اور سفر ہے "وَالسَّفَهُ" اور ناسمچھی ہے بھئی، ناسمچھی ہے "وَالْخَطَأُ" اور خطا ہے، غلطی ہے "وَالإِكْرَاهُ" اور اکراہ ہے بھئی، کسی پر جو زبردستی کی گئی۔ تو ان سب کی آگے تفصیل آرہی ہے بھئی۔ "وَإِذَا عَرَفْتَ هَذَا فَالآنَ يَذْكُرُ أَنْوَاعَ السَّمَاوِيِّ" اور جب آپ نے ان کو جان لیا تو اب ذکر کرتے ہیں مصنف سماوی کی انواع۔ "فَيَقُولُ" پس کہتے ہیں: "وَهُوَ الصِّغَرُ" اور وہ صغر۔ یہ تو انہوں نے شرح میں بتلایا یہ والے گیارہ ہیں، وہ والے سات ہیں، مصنف نے تو متن میں نہیں بتلائے تھے، تو انہوں نے صرف اتنا بتایا دو قسم پر ہیں، پہلی قسم سماوی ہے اور ساتھ ہی ان کا بیان شروع کر دیا، تو وہ شارح نے بتلایا گیارہ ہیں، اب وہ گیارہ متن میں آئیں گے بھئی۔ پہلا کیا ہے؟ صغر، وہ کمسنی ہے کم عمر ہونا یعنی نابالغ ہونا۔ "إِنَّمَا ذَكَرَهُ فِي" جی، یہ ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں، سوال یہ کہ آپ نے کہا وہ چیزیں جو اہلیت پر پیش آتی ہیں، اہلیت پر اور صغر تو پیش نہیں آتا، صغر تو شروع سے ہی انسان کیا ہوتا ہے؟ پیدائش کے وقت ہی اس کے ساتھ صغر ہے، پیدائشی چیز ہے یہ تو اور آپ نے تو کیا کہا؟ جو عارض جو پیش آئے یعنی پہلے نہ ہو اور بعد میں آئے بھئی۔ کہتے ہیں: "إِنَّمَا ذَكَرَهُ فِي الأُمُورِ الْمُعْتَرِضَةِ" اس کو ذکر کیا مصنف نے ان امور میں سے جو عارض ہوتے ہیں "مَعَ أَنَّهُ ثَابِتٌ بِأَصْلِ الْخِلْقَةِ" باوجود اس کے کہ یہ ثابت ہے اصلِ خلقت یعنی اصلِ پیدائش کے اعتبار سے صغر ثابت ہے، اس کے اس میں شمار کیا امورِ معترضہ میں "لأَنَّهُ لَيْسَ بِدَاخِلٍ فِي مَاهِيَّةِ الإِنْسَانِ" اس لیے کیونکہ صغر انسان کی ماہیت میں داخل نہیں۔ کیا انسان وہ ہوگا جو صغیر ہو؟ یا بالغ بھی انسان ہے؟ بالغ بھی انسان ہے، معلوم ہوا صغر انسان کی ماہیت میں داخل نہیں۔ اور نیز دوسری وجہ "وَلأَنَّ آدَمَ عَلَيْهِ الصَّلاةُ وَالسَّلامُ خُلِقَ شَابًّا غَيْرَ صَبِيٍّ" کہ حضرت آدم علیہ السلام کو جوان پیدا کیا گیا تھا "غَيْرَ صَبِيٍّ" کہ وہ صبی، بچے نہیں تھے۔ "فَكَانَ الصِّغَرُ عَارِضًا فِي أَوْلادِهِ" تو یہ جو بچپنا ہے یہ عارض ہوا ہے ان کی اولاد میں، معلوم ہوا اصلاً یہ نہیں ہے بھئی۔ "وَهُوَ فِي أَوَّلِ أَحْوَالِهِ كَالْجُنُونِ" اور یہ جو صغر ہے اپنے اول احوال میں یعنی ابتدائی احوال میں "كَالْجُنُونِ" کس کی طرح ہے؟ جنون کی طرح ہے۔ بالکل ابتدائی صغر، بچہ بالکل چھوٹا سا ہے، تو یہ بھی کس، یہ صغر کس کی طرح ہے؟ بعد میں تو کچھ سمجھدار ہو جائے گا، پھر تو جنون کی طرح نہ رہے لیکن شروع میں کس کی طرح ہے یہ؟ جنون کی طرح ہے "بَلْ أَدْنَى حَالاً مِنْهُ" بلکہ شارح کہتے ہیں بلکہ یہ جنون سے بھی ادنیٰ کم درجے کا حال ہے بھئی۔ "أَلا تَرَى" کیا آپ دیکھتے نہیں؟ "أَنَّهُ إِذَا أَسْلَمَتِ امْرَأَةُ الصَّبِيِّ" کہ جب مسلمان ہو گئی بچے کی بیوی "لا يُعْرَضُ الإِسْلامُ عَلَى أَبَوَيْهِ" تو اس کے والدین پر اسلام پیش نہیں کیا جائے گا "بَلْ يُؤَخَّرُ إِلَى أَنْ يَعْقِلَ الصَّبِيُّ بِنَفْسِهِ" بلکہ اسلام کو مؤخر کیا جائے گا یہاں تک کہ بچہ سمجھدار ہو جائے خود ہی "فَيُعْرَضُ عَلَيْهِ" پھر اس پر کیا جائے گا؟ اسلام پیش کیا جائے گا۔ اس کے والدین پر نہیں بلکہ بچے کا انتظار کیا جائے گا۔ "وَإِذَا أَسْلَمَتِ امْرَأَةُ الْمَجْنُونِ" اور جب مجنون کی بیوی مسلمان ہو جائے "يُعْرَضُ الإِسْلامُ عَلَى أَبَوَيْهِ" تو اسلام کو پیش کیا جائے گا اس مجنون کے، اس پاگل کے والدین پر "فَإِنْ أَسْلَمَ أَحَدُهُمَا" اگر ان میں سے کوئی مسلمان ہو گیا "يُحْكَمُ بِإِسْلَامِ الْمَجْنُونِ طَبَعًا" تو حکم لگا دیا جائے گا مجنون کے مسلمان ہونے کا تبعاً بھئی "وَإِنْ أَبَيَا" اور اگر اس کے والدین نے انکار کر دیا اسلام لانے سے "يُفَرَّقُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ" تو تفریق کروا دی جائے گی اس مجنون کے درمیان اور اس کی بیوی، صورت کیا تھی؟ مسلمان کون ہوئی اولاً؟ بیوی، اب مجنون پر تو اسلام پیش نہیں کیا جا سکتا، ہاں کس پر پیش کیا جائے گا؟ اس کے والدین پر، اور بچے کے اندر اس کے والدین پر اسلام پیش نہیں کیا جائے گا بلکہ انتظار کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ عاقل ہو جائے بھئی، عاقل ہو جائے۔ "وَلا فَائِدَةَ فِي تَأْخِيرِ الْعَرْضِ" اور کوئی فائدہ نہیں ہے اس پیش کرنے کو مؤخر کرنے میں، مجنون پر اسلام پیش کرنا اس کو مؤخر نہیں کریں گے، فوراً اس کے والدین پر اسلام پیش کیا جائے گا، کیونکہ مؤخر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ کیا اس مجنون کے آگے ٹھیک ہونے کا امکان ہے؟ اس کے تو آگے ٹھیک ہونے کا امکان نہیں، بچے میں تو اس کا آگے عقلمند ہونے کا، عقلمند ہونا تھا کہ جوں جوں عمر آئے گی، ہوگی، وہ سمجھدار ہوتا چلا جائے گا۔ اور کہتے ہیں کوئی فائدہ نہیں اس پیش کرنے کو مؤخر کرنے میں "لأَنَّ الْجُنُونَ لا نِهَايَةَ لَهُ" اس لیے کیونکہ جنون جو ہے اس کی تو کوئی انتہا نہیں ہے "فَيَلْزَمُ الإِضْرَارُ بِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تَكُونُ تَحْتَ كَافِرٍ" تو اس صورت میں ضرر دینا لازم آئے گا اس مسلمان بیوی کو جو کافر کے نیچے، اس کافر کے تحت ہے "وَذَا لا يَجُوزُ" اور یہ جائز نہیں۔ "لَكِنَّهُ إِذَا عَقَلَ أَيْ صَارَ عَاقِلاً" لیکن جب وہ بچہ عقل، سمجھدار ہو جائے "أَيْ صَارَ عَاقِلاً" عقل والا ہو جائے "فَقَدْ أَصَابَ ضَرْبًا مِنْ أَهْلِيَّةِ الأَدَاءِ" تو تحقیق پہنچ گئی اس کو ایک نوع کی اہلیتِ ادا، یعنی حاصل ہو گئی اس کو ایک نوع کی اہلیتِ ادا اس سے ایک نوع کی حاصل ہو گئی "يَعْنِي الْقَاصِرَةَ" یعنی کہ اہلیتِ قاصرہ ہو گئی حاصل "لا الْكَامِلَةَ" نہ کہ کاملہ، کاملہ کیوں نہیں حاصل؟ کہتے ہیں: "لِبَقَاءِ صِغَرِهِ" بوجہ اس کے صغر کے باقی رہنے کے، کیونکہ ابھی بھی تو بالغ تو یہ نہیں ہوا اگرچہ عقل آگئی ہے، تو بقائے صغر کی وجہ سے کامل اہلیت نہیں حاصل ہوئی صغر کی بقا کی وجہ سے "وَهُوَ عُذْرٌ" اور صغر کیا ہے؟ عذر ہے۔ "فَيَسْقُطُ بِهِ مَا يَحْتَمِلُ السُّقُوطَ عَنِ الْبَالِغِ" پس اس بچے سے ساقط ہو جائیں گی وہ چیزیں جو سقوط کا احتمال رکھتی ہیں عن البالغ، بالغ سے "مِنْ حُقُوقِ اللَّهِ تَعَالَى" اللہ کے حقوق میں سے۔ بچہ کی عقل آگئی سمجھ دار ہو گیا تو اہلیتِ قاصرہ حاصل ہو گئی۔ اور اہلیتِ قاصرہ حاصل ہوئی ہے، کاملہ نہیں ہوئی۔ لہذا بچے سے وہ چیزیں ساقط ہو جائیں گی جو کسی بھی وقت بالغ سے ساقط ہو جایا کرتی ہیں۔ جو کسی بھی حال میں بالغ سے، جیسے عبادات وغیرہ، بالغ سے بھی عذر کی وجہ سے ساقط ہو جایا کرتی ہیں، تو یہ بچے سے بھی ساقط ہو جائیں گی بھئی۔ ہاں! جو چیزیں بالغ سے ساقط نہیں ہوتیں وہ بچے سے بھی ساقط نہیں۔ یعنی ایمان بالغ سے کبھی بھی ساقط نہیں ہوتا۔ لہذا بچے کی پر، بچہ بھی ایمان لائے تو وہ ایمان معتبر ہوگا، وہ ادا صحیح ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: فیسقط بہ ما يحتمل السقوط۔ پس ساقط ہو جائیں گی وہ چیزیں جو احتمال رکھتی ہیں سقوط کا عن البالغ۔ بالغ سے من حقوق اللہ تعالی اللہ کے حقوق میں سے، كالصلاۃ وکلحدود والکفارات جیسے کہ عبادتیں اور حدود وہ سزائیں ہیں اللہ کی طرف سے مقررہ، و الكفارات اور کفارات ہیں۔ فإنھا تحتمل السقوط بالاعذار۔ اسے کیونکہ یہ احتمال رکھتے ہیں ساقط ہونے کا عذروں کی وجہ سے و تحتمل النسخ و التبديل في نفسھا۔ اور یہ اپنی ذات کے اعتبار سے نسخ اور تبدیل کا احتمال رکھتے ہیں یہ احکام بھئی۔ بھئی اس وقت تو نسخ نہیں ہو سکتا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد نسخ اور تبدیل کا دروازہ بند ہو چکا۔ لیکن اپنی ذات کے اعتبار سے یہ احکام نسخ یا تبدیل کا احتمال رکھتے ہیں یا نہیں؟ قطع نظر حضور علیہ السلام کے دنیا سے تشریف لے جانے کے۔ ویسے ان احکام کو دیکھا جائے تو یہ نسخ کا احتمال رکھتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ولا تسقط عنہ فرضۃ الایمان۔ اور اس بچے سے ایمان کی فرضیت ساقط نہیں ہوگی۔ حتی إذا اداہ كان فرضا۔ یہاں تک کہ جب وہ اس کو ادا کر دے كان فرضا۔ تو یہ کیا ہوگا؟ فرض۔ یعنی اس نے فرض ادا کر دیا۔ اب بالغ ہونے کے بعد دوبارہ تجدیدِ ایمان کی ضرورت نہیں۔ فيتترتب علیہ الاحکام المترتبۃ۔ پس اس پر مرتب ہوں گے وہ احکام جو مرتب ہوتے ہیں علی المومنین مومنین پر من وقوع الفرقۃ بينھہ و بين زوجتہ۔ یعنی کہ جدائی کا واقع ہونا اس بچے کے درمیان اور اس کی اس بیوی کے درمیان المشركۃ جو مشرکہ ہے۔ بچہ ایمان لے آئے تو اس کا ایمان صحیح ہے، معتبر ہے۔ تو اس پر دنیاوی احکام مرتب ہوں گے۔ چنانچہ اس کی مشرکہ بیوی اس سے کیا ہو جائے گی؟ جدا ہو جائے گی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس پر اسلام پیش کریں گے، وہ نہیں لاتی تو وہ جدا ہو جائے گی۔ و حرمان المیرات منھا۔ اور وراثت سے محروم ہونا منھا۔ ھذا من راجح ہے زوجہ مشرکہ کو بھئی۔ اور اس زوجہ مشرکہ سے یہ وراثت سے محروم ہوگا بھئی۔ اب میاں بیوی ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے کیونکہ دین دونوں کا مختلف ہو چکا۔ و جريان الإرث بينہ و بين اقاربھہ المسلمین۔ اور اسی طرح وراثت کا جاری ہونا اس بچے کے درمیان اور اس کے مسلمان رشتہ داروں کے درمیان۔ اب یہ بچہ مسلمان ہو گیا تو اور جو رشتہ دار مسلمان ہیں اور یہ بچہ یا وہ اس بچے کے وارث ہو سکتے ہیں، تو ان میں وراثت جاری ہوگی۔ جس فریق کا انتقال ہوگا، دوسرا کیا بنے گا اس کا؟ وارث بنے گا۔ و وضع عنہ الزام الاداء۔ اور دور کیا جائے گا اس سے ادا کے لازم ہونے کو۔ و وضع عنہ الزام الاداء۔ وضع عنہ دور کیا جائے گا اس بچے سے الزام الاداء۔ ادا کے لازم۔ ہم نے کیا کہا؟ بچے کی ادا صحیح ہے یا اس پر ادا لازم ہے؟ بچے کی ادا صحیح ہے، تو صحیح ہونا ادا کی صحت تو آئے گی، لزومِ ادا نہیں آئے گا، وہ لزومِ ادا بچے سے دور ہوگا، ساقط ہوگا۔ معنی بتلا رہے ہیں۔ میں نے کیا معنی کیا وضع عنہ الزام الاداء کہ اس سے دور کیا جائے گا۔ بتلا رہے ہیں: اي رفع عن الصبي الزام اداء الایمان۔ دور کیا جائے گا بچے سے اس ایمان کی ادا کے لازم ہونے کو۔ فلو لم یقر فی اوان الصبا۔ اگر وہ پس اقرار نہیں کرتا بچپن کے وقت میں بچپن بچپن کے وقت میں وہ ایمان کا اقرار، ایمان نہیں لاتا۔ او لم يعید کلمۃ الشہادۃ بعد البلوغ۔ یا وہ اعادہ نہیں کرتا، دہراتا نہیں ہے کلمۃ الشہادت کو بعد البلوغ بالغ ہو جانے کے بعد لم یجعل مرتد۔ تو اس کو مرتد قرار نہیں دیا جائے گا۔ اس کو مرتد قرار نہیں دیا تو اس کو مرتد ہونا شمار نہیں کیا جائے گا بھئی۔ بھئی دیکھیے! بھئی آپ نے پیچھے پڑھا بچہ تھا مسلمان، پھر مرتد ہوا، تو مرتد ہونا اس کا اعتبار ہے۔ لیکن یہ بات کس بچے کی چل رہی ہے؟ جو پہلے سے ہی کافر ہے، وہ اقرار نہیں کرتا۔ یا مسلمان بچہ ہے، لیکن اقرار نہیں کرتا زبان سے کلمہ شہادت نہیں کہتا، تو اس کو مرتد ہونا شمار نہیں کریں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی اس یا بچپن میں مسلمان ہوا تھا، بالغ ہونے کے بعد دوبارہ کلمۃ شہادت کا اعادہ نہیں کرتا، پھر نہیں کہتا۔ تو اس سے مرتد ہونا شمار نہیں کیا نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ ادا صحیح ہو چکی بھئی۔ ادا کیا ہے؟ صحیح ہو چکی۔ یہ معنی ہے فلو لم یقر فی اوان الصبا۔ پس اگر اس نے اقرار نہ کیا بچپن کے وقت میں اور لم يعید کلمۃ الشہادت بعد البلوغ۔ یا اس نے لوٹایا نہیں دہرایا نہیں کلمہ شہادت کو بالغ ہونے کے بعد لم یجعل مرتد۔ تو اس کو مرتد شمار نہیں کیا جائے گا۔ و جملۃ الامر ان توضع عنہ العھدۃ۔ ان توضع عنہ العھدۃ بھئی۔ جملہ امر یہ ہے، خلاصہ امر، حاصل کلام یہ کہ دور کیا جائے گا بچے سے العھدۃ ذمہ کو۔ بچے پر ذمہ نہیں آئے گا۔ بچے کے احکام کا خلاصہ سنا دیا کہ بچے پر ذمہ نہیں آئے گا۔ اي خلصہ امر کلی فی باب الصغر۔ یعنی امر کلی، امر کلی کا خلاصہ فی باب الصغر کمسینی کے باب میں، کم عمری کے باب میں۔ امر کلی یعنی سارے امر کا خلاصہ جو ہے وحاصل احکامہ اور اس کے احکام کا حاصل یہ ہے أن تسقط عنہ عھدۃ ما يحتمل العفو۔ کہ ساقط ہو جائے گا اس سے ذمہ اس چیز کا جو معافی کا احتمال رکھتی ہے۔ يعني ما سوى الردۃ۔ یعنی مرتد ہونے کے علاوہ من العبادات والعقوبات عبادتیں اور سزائیں بھئی۔ جن میں معافی کا احتمال ہے کسی صورت میں یہ بچے سے سب کیا ہوں گی؟ ساقط ہوں گی، ذمہ نہیں آئے گا۔ و يصح منہ لو فعلہ بنفسہ من غير عھدۃ و مطالبۃ۔ اور صحیح ہو جائیں گی یہ چیزیں عبادتیں، عبادت اس سے لو فعلہ بنفسہ اگر وہ خود ان کو کرتا ہے من غير عھدۃ و مطالبۃ۔ بغیر ذمہ کے اور مطالبے کے۔ خود کرتا ہے اس پر یعنی لازم نہیں ہے لیکن کر لے تو صحیح ہو جائیں گی۔ و لہ ما لا عھدۃ فیہ۔ اور جائز ہے اس کے لیے وہ چیز لا عھدۃ فیہ جس میں اس پر ذمہ نہیں۔ ای جاز للصبي ما لا ضرر فیہ من قبول الھبۃ و الصدقۃ ونحوھہ۔ بچے کے لیے جائز ہے وہ چیزیں جن میں نقصان نہیں ہے اس کا۔ یعنی ہبہ کو قبول کرنا، اور صدقے کو قبول کرنا، وغیرہ۔ جیسے کہ قبولِ ہبہ اور صدقہ و نحوھہ اور اس جیسی چیزیں مما فیہ نفع محض۔ جن میں صرف نفع ہی ہو۔ و قد مر ھذا فی بیان الاہلیت۔ اور تحقیق یہ بیان گزر چکا ہے اہلیت کے بیان میں۔ ثم قولہ پھر مصنف کا قول جو ہے فلا یحرم عن المیرات بالقتل عندنا۔ پس محروم نہیں ہوگا میراث سے، مالِ وراثت سے محروم نہیں ہوگا بچہ بالقتل قتل کے ذریعے عندنا ہمارے نزدیک۔ ہمارے نزدیک بچہ اگر اپنے مورث کو چاہے عمدا قتل کرے چاہے خطأ قتل کرے، خطا قتل کرے دونوں صورتوں میں وہ وراثت سے محروم نہیں ہوگا۔ تفریع علی قولہ یہ تفریع ہے مصنف کے قول جو ہے ان توضع عنہ العھدۃ دور کیا جائے گا بچے سے ذمہ کو۔ یہ اسی پر تفریع ہے۔ پیچھے بتایا نا خلاصہ کلام کیا ہوا بچے کے احکام کا؟ کہ اس سے ذمہ کو دور کیا جائے گا۔ یعنی کسی قسم کا ذمہ اس پر نہیں آئے گا۔ چنانچہ اسی لیے وراثت سے محروم نہیں ہوگا کیونکہ یہ بھی تو ایک قسم کا ذمہ ہے۔ یعنی لو قتل الصبی مورثہ عمدا او خطا۔ یعنی اگر قتل کر دیا بچے نے اپنے مورث کو جان بوجھ کر یا غلطی سے لا یحرم عن میراثہ تو وہ محروم نہیں ہوگا اس کی میراث سے۔ لانہ عقوبۃ۔ اس لیے کہ یہ سزا ہے و عھدۃ اور ایسا ذمہ ہے ایسا طامان ہے لایستحقھا الصبی۔ جس کا بچہ مستحق نہیں ہے۔ بچہ تو شفقت کا مستحق ہے۔ و اورد علیہ۔ اس پر پھر اشکال ہوتا ہے بھئی۔ آپ نے کہا بچہ سزا اور تاوان کا مستحق نہیں۔ لہذا اس وہ وراثت سے محروم نہیں ہوگا۔ پھر اعتراض ہوتا ہے کہ آپ کہتے ہیں کفر اور غلامی کی صورت میں بچہ وراثت سے محروم ہوگا۔ ماں باپ مسلمان اور بچہ کافر ہے تو آپ نے کہا کہ اس صورت میں بچہ وراثت سے محروم ہوگا۔ حالانکہ ابھی بتایا کہ وراثت سے محرومی یہ کیا ہے؟ سزا ہے۔ تو یہاں تو آپ سزا دے رہے ہیں۔ اسی طرح بچہ غلام ہو تو بھی آپ نے کہا وہ اپنے آزاد والدین کا وارث نہیں ہوگا۔ تو یہاں بھی حرمان میراث ہے اور حرمان میراث تو ابھی آپ نے ہمیں بتایا یہ کیا ہے؟ سزا ہے۔ تو گویا یہاں تو اس پر سزا آ رہی ہے، زمان آ رہا ہے اس پر۔ تو اس کا اب جواب دینے لگے ہیں۔ پہلے اعتراض ذکر کریں گے اور پھر جواب متن میں دیں گے۔ و اورد علیہ اور اس پر اعتراض کیا گیا کہانہ اذا کان كذلك کہ جب معاملہ ایسا ہی ہے فلا ينبغي ان یحرم عن المیرات بالكفر والرق۔ تو مناسب نہیں ہے کہ وہ محروم ہو وراثت سے کفر اور غلامی کی وجہ سے۔ فاجاب عنہ بقولہ تو جواب دیا اس اعتراض سے مصنف نے اپنے اس قول کے ذریعے، مصنف متن میں جواب دے رہے ہیں: بخلاف الكفر والرق۔ بخلاف کفر اور غلامی کے لان حرمان المیرات بھما۔ کیونکہ ان دونوں کی وجہ سے میراث سے محروم ہونا لیس من باب الجزاء۔ یہ جزا کے باب سے ہے ہی نہیں، یہ بطورِ سزا کے نہیں ہے۔ بل لعدم الاہلیت۔ بلکہ اہلیت کے نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ یہ کفر اور یہ رقیعت کی وجہ سے بچہ اب میراث کی اہلیت ہی اس میں نہ رہی۔ تو یہ جو وراثت سے محروم ہوتا ہے، یہ بطورِ سزا کے نہیں محروم، بلکہ کیوں محروم ہے؟ اس میں اہلیت ہی اب نہیں ہے۔ اہلیت ہوتی تو وہ ضرور مستحق ہو جاتا بھئی۔ بل لعدم الاہلیت۔ بلکہ یہ عدم اہلیت کی وجہ سے ہے اذ الکفر والرق ينافی اھلیت المیرات من المسلم الحر۔ اس لیے کیونکہ کفر اور غلامی جو ہے وہ منافی ہیں میراث کی اہلیت کے من المسلم الحر آزاد مسلمان سے۔ آزاد مسلمان سے وراثت کی اہلیت کے منافی ہیں کفر اور رقیعت بھئی۔ چلیے بس بھئی۔ ھذا هو المرام۔ واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
113 approved lectures · 105 of 113