Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-087

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 11 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 17
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔87 وَلَمَّا فَرَغَ عَنْ بَيَانِ تَقْسِيمِ الرَّاوِي شَرَعَ فِي شَرَائِطِهِ فَقَالَ: وَإِنَّمَا جُعِلَ الْخَبَرُ حُجَّةً بِشَرَائِطَ فِي الرَّاوِي، وَهِيَ أَرْبَعَةٌ: الْعَقْلُ، وَالضَّبْطُ، وَالْعَدَالَةُ، وَالْإِسْلَامُ. فَالْعَقْلُ وَهُوَ نُورٌ فِي بَدَنِ الْآدَمِيِّ يُضِيءُ بِهِ طَرِيقٌ يُبْتَدَأُ بِهِ مِنْ حَيْثُ يَنْتَهِي إِلَيْهِ دَرْكُ الْحَوَاسِّ. وَلَمَّا فَرَغَ عَنْ بَيَانِ تَقْسِيمِ الرَّاوِي اور جب مصنف رحمہ اللہ وہ فارغ ہوئے راوی کی تقسیم کے بیان سے شَرَعَ فِي شَرَائِطِهِ تو شروع ہوئے راوی کی شرائط کے بیان میں فَقَالَ پس فرمایا: وَإِنَّمَا جُعِلَ الْخَبَرُ حُجَّةً کہ خبر جو ہے، یعنی خبرِ واحد اس کو حجت قرار دیا جائے گا۔ یعنی اس کو دلیل قرار دیا جائے گا بِشَرَائِطَ فِي الرَّاوِي راوی میں چند شرطوں کے ساتھ۔ راوی خبرِ واحد دلیل کب بنے گی؟ جب اس کے راوی کے اندر چند شرطیں پائی جائیں۔ وَهِيَ أَرْبَعَةٌ اور یہ چار شرطیں ہیں بھئی: الْعَقْلُ وَالضَّبْطُ وَالْعَدَالَةُ وَالْإِسْلَامُ ایک عقل ہے، ایک ضبط، ایک عدالت اور ایک اسلام۔ جی اگے اب ہر ایک کی تفصیل کریں گے۔ کہتے ہیں فَالْعَقْلُ پس عقل جو ہے وَهُوَ نُورٌ فِي بَدَنِ الْآدَمِيِّ وہ نور ہے آدمی کے بدن میں، آدمی کے بدن میں۔ یہ حاصلِ کلام ذکر کیا مصنف نے۔ عقل کے میں اختلاف ہے علماء کا۔ بعض کہتے ہیں اس کا محل جو ہے وہ رأس ہے۔ عقل کا محل کیا ہے؟ رأس ہے بھئی۔ عقل ایک قوت ہے انسان کے اندر جو اللہ نے رکھی ہے جس کے ذریعے وہ چیزوں کا ادراک کرتا ہے، ان کو جانتا ہے، پہچانتا ہے، وغیرہ۔ تو یہ یہ قوت کس مقام پر بدن میں پائی جاتی ہے؟ تو بعض علماء کیا فرماتے ہیں؟ سر میں، یعنی دماغ ہے بھئی اس کا مرکز۔ اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ اس کا جو مرکز ہے وہ قلب ہے بھئی، قلب۔ قلب کے اندر یہ قوت موجود ہے بھئی، قلب میں۔ تو چاہے رأس میں ہو، چاہے قلب میں ہو۔ حاصلِ کلام کیا ہوا کہ بدنِ آدمی میں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو بدنِ آدمی کا یہ معنی نہیں کہ سارے بدن میں پھیلی ہوئی ہے، بلکہ بتلایا دو قول ہیں اور ایک قول کے مطابق یہ سر میں ہے، ایک قول کے مطابق قلب میں ہے، تو مصنف نے ان دونوں کا حاصل ذکر کر دیا کہ بھئی بدنِ آدمی کے اندر ہے۔ يُضِيءُ بِهِ طَرِيقٌ، يُضِيءُ بِهِ، بِهِ کی ہا ضمیر یہ نور کو راجع ہے۔ وہ ایسا نور ہے آدمی کے بدن میں کہ يُضِيءُ بِهِ روشن ہوتا ہے اس کے ذریعے طَرِيقٌ راستہ۔ کیا روشن ہوتا ہے؟ یہ مشکل جگہ ہے توجہ سے سمجھ لینا بھئی۔ طَرِيقٌ راستہ، یاد رکھیے طریق سے مراد افکار ہیں افکار۔ خیالات اور افکار اور اسی طرح مبادی کو ترتیب دینا جو مطلوب تک پہنچا دیں بھئی۔ یعنی مقدمات کو ترتیب دے کر کہاں تک پہنچنا؟ مطلوب تک۔ تو یہ جو افکار ہیں اور یہ جو مبادی کو ترتیب دینا یہ ہے طریق بھئی، طریق راستہ۔ اور يُضِيءُ بِهِ طَرِيقٌ روشن ہوتا ہے اس نور کے ذریعے یعنی عقل کے ذریعے، اس نور یعنی عقل کے ذریعے روشن ہوتا ہے وہ افکار و ترتیبِ مبادی کا راستہ۔ اور روشن ہونے کا کیا معنی؟ کہتے ہیں روشن ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ اس طرح ہو جاتی ہیں چیزیں اس کے ذریعے کہ عقل کے قلب کی پھر ان تک رہنمائی ہو جاتی ہے۔ قلب کی کیا ہو جاتی ہے؟ بھئی دیکھیے جس طرح ظاہر کے اندر اگر تاریکی ہو تو دیکھنے والی آنکھ کو بھی کچھ دکھائی نہیں دے گا۔ لیکن اگر چراغ جلا لیا جائے یا سورج نکلا ہو تو اب چیزیں روشن ہو گئیں، اب آنکھ ان کا ادراک کر لیتی ہے۔ اسی طرح عقل ہوگی تو چیزیں روشن ہو کر قلب کے سامنے آئیں گی اور پھر قلب کیا کر لے گا ان کا؟ ادراک کر لے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ جو عقل ہے عقل، یہ ایک قوت رکھی ہے انسان میں اللہ نے اور مصنف نے اس کو نور کہا، یعنی یہ نور کے مشابہ ہے، کس کے مشابہ ہے؟ نور کے مشابہ یعنی روشنی کے مشابہ ہے، جس طرح روشنی کے ذریعے چیزیں آنکھ ان کا ادراک پھر کر لیتی ہے، اسی طرح عقل کے ذریعے چیزوں کا پھر قلب کون قلب کیا ہے اس کا؟ ادراک کر لیتا ہے بھئی۔ تو روشن ہونے کا کیا معنی ہوا؟ کہ قلب کی پھر ان چیزوں تک رہنمائی ہو جاتی ہے بھئی، رہنمائی ہو جاتی ہے اور پھر قلب قادر ہو جاتا ہے کہ وہ ان میں مبادی وغیرہ، مقدمات کو ترتیب دے تاکہ کہاں تک پہنچ جائے پھر؟ نتیجے تک پہنچ جائے بھئی، نتیجے تک پہنچ جائے۔ تو روشن ہوتا ہے اس کے ذریعے راستہ، حاصلِ معنی کیا ہوا؟ کہ اس عقل کے ذریعے پھر ابتداءِ عملِ قلب ہوتی ہے۔ قلب کے عمل کی ابتداء ہوتی ہے۔ قلب کے عمل کی عقل ہوگی، یہ نور ہوگا تو چیزیں کا ادراک قلب کر سکے گا اور پھر کیا کرے گا وہ قلب؟ آگے اپنا عمل شروع کرے گا صغریٰ، کبریٰ وغیرہ چیزیں، باتیں ملائے گا اور کہاں تک پہنچے گا؟ نتیجے تک پہنچے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں وَهُوَ نُورٌ فِي بَدَنِ الْآدَمِيِّ وہ نور ہے، یعنی وہ قوت جو نور کے مشابہ ہے بدنِ آدمی کے اندر يُضِيءُ بِهِ طَرِيقٌ روشن ہوتا ہے اس کے ذریعے وہ راستہ يُبْتَدَأُ بِهِ کہ ابتداء ہوتی ہے بِهِ کی ہا ضمیر طریق کو راجع، ابتداء ہوتی کی جاتی ہے اس راستے کی مِنْ حَيْثُ حَيْثُ بمعنی مکان کے ہے بھئی مِنْ حَيْثُ اس جگہ سے يَنْتَهِي إِلَيْهِ دَرْكُ الْحَوَاسِّ کہ جہاں کہ انتہاء ہوتی ہے اس إِلَيْهِ کی ہا ضمیر حَيْثُ کو راجع اور حَيْثُ کس معنی میں؟ جگہ کے معنی میں، کہ ابتداء ہوتی ہے اس راستے کی اس جگہ سے جہاں پر کے انتہاء ہوتی ہے دَرْكُ الْحَوَاسِّ حواس کے ادراک کی، دَرْك اور دَرَك راء کو ساکن پڑھنا بھی ٹھیک ہے اور اس پر فتحہ پڑھنا بھی ٹھیک۔ بھئی یہ حواس حواس حواسِ خمسہ ظاہر ہ بھئی، یہ پانچ آلات جو اللہ نے عقل کو دیے ہیں تحصیلِ علم کے لیے، حواسِ ظاہر ہ خمسہ بھئی، حواسِ خمسہ ظاہر ہ۔ دیکھیے کچھ چیزوں کا علم ہمیں دیکھنے سے ہوتا ہے، وہ دکھائی دیتی ہیں تو ہمیں ان کا علم ہوتا ہے۔ کچھ چیزوں کا علم ہمیں سننے سے ہوتا ہے بھئی، آواز جو ہے آواز کا ادراک پھر کان کے ذریعے ہوگا بھئی، آنکھوں سے اس کا پتہ نہیں چلے گا۔ تو کچھ چیزوں کا علم سننے سے ہوتا ہے۔ کچھ چیزوں کا علم چکھنے سے ہوتا ہے، آنکھوں کو بھی اس کا پتہ نہیں چلتا، کانوں کو بھی اس کا پتہ نہیں چلتا، ہاں زبان بتلا دیتی ہے کہ یہ چیز میٹھی ہے، کڑوی ہے، پھیکی ہے، ترش ہے، کس قسم کی ہے بھئی۔ تو یہ تیسری قوت ہوئی قوتِ ذائقہ بھئی۔ بعض چیزوں کا پتہ سونگھنے سے چلتا ہے بھئی، ان کا پتہ نہ آنکھوں کو، نہ کانوں کو، نہ زبان کو بھئی، سونگھنے سے پتہ چلتا ہے بھئی۔ اور بعض چیزوں کا پتہ لمس چھونے سے چلتا ہے بھئی، چھونے سے، کسی چیز کو ہاتھ لگایا، ہاتھ لگاتے ہی پتہ چلا وہ ہموار ہے یا کھردری ہے، نرم ہے یا سخت ہے، خشک ہے یا گیلی ہے، وغیرہ بھئی، تو ان کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ لمس سے۔ تو ایک ہے قوتِ باصرہ، ایک قوتِ سامعہ، ایک قوتِ شامہ، ایک قوتِ ذائقہ اور ایک قوتِ لامسہ۔ قوتِ باصرہ کس جگہ پر ہے؟ آنکھوں میں۔ قوتِ سامعہ؟ کانوں میں۔ قوتِ شامہ؟ ناک میں سونگھنے کی قوت بھئی۔ قوتِ ذائقہ؟ زبان میں۔ اور قوتِ لامسہ جو ہے، یاد رکھیے یہ سارے بدن میں پھیلی ہوئی ہے، سارے بدن میں پھیلی ہوئی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بدن پر کہیں پر کوئی بھی کوئی چیز لگے، فوراً آپ کو پتہ چلتا ہے بھئی، تو یہ سارے بدن میں پھیلی ہوئی ہے۔ تو یہ جو حواسِ خمسہ ظاہر ہ ہیں، ان کے ذریعے جو علم حاصل ہوگا، اس کی جہاں پر انتہاء ہوگی، وہاں سے عقل کی ابتداء ہوگی بھئی، اس راستے کی جو جہاں جس کی طرف عقل رہنمائی کر رہی ہے، اس کی ابتداء ہوگی۔ جہاں پر حواس کے ادراک کی انتہاء ہوتی ہے، اس سے آگے پھر وہ عقل والے راستے کی ابتداء ہوتی ہے۔ جیسے مثلاً دیکھیے آپ ایک اونچی عمارت دیکھتے ہیں، تو آنکھوں کے ذریعے آپ کو اونچی عمارت دکھائی دی، بس۔ اب آنکھوں کا کام ختم، اس کے بعد اب عقل کا کام شروع ہوتا ہے اور آپ غور کرتے ہیں، کہتے ہیں بھئی اتنی بڑی عمارت ہے، لازماً لازماً یہ کسی بڑے علم والے نے اور کسی جاننے والے نے اور کسی ماہر کاریگر وغیرہ نے بنوائی ہوگی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ جو اس عمارت سے آگے کی باتیں آپ کے ذہن میں آ رہی ہیں، دیکھو یہ وہ عقل والے راستے کی ابتداء ہو رہی ہے، جہاں سے پر حواس کی انتہاء ہوئی تھی۔ حواس نے تو صرف کیا بتلایا؟ دکھایا تھا آپ کو، ایک عمارت کھڑی ہے۔ اس سے آگے یہ جو باتیں آپ کے ذہن میں آئیں، یہ کون سا راستہ ہے؟ وہ عقل والا راستہ، اس کی وہاں سے، تو گویا جہاں پر جہاں جو معقولات کا مبداء ہے، وہ محسوسات کا منتہیٰ ہے بھئی۔ جہاں محسوسات کا منتہیٰ ہے، وہ عقل کا مبداء ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں وہ نور ہے بدنِ آدمی میں يُضِيءُ بِهِ طَرِيقٌ کہ روشن ہوتا ہے اس کے ذریعے وہ راستہ يُبْتَدَأُ بِهِ کہ ابتداء ہوتی ہے اس راستے کی مِنْ حَيْثُ اس جگہ سے يَنْتَهِي إِلَيْهِ دَرْكُ الْحَوَاسِّ کہ جہاں پر انتہاء ہوتی ہے حواس کے ادراک کی، حواس کے ادراک کی جہاں انتہاء ہوتی ہے، وہاں سے اس راستے کی ابتداء ہوتی ہے۔ أَيْ نُورٌ يُضِيءُ بِسَبَبِ اب دیکھیے بھئی ماتن شارح شارح وہی متن والی عبارت لا رہے ہیں اور ضمیروں وغیرہ کے مرجع اور معنی ذکر کرتے جا رہے ہیں۔ متن میں کیا آیا تھا؟ يُضِيءُ بِهِ شارح کیا بتلا رہے ہیں؟ أَيْ نُورٌ يُضِيءُ بِسَبَبِ ذَالِكَ النُّورِ بتلایا بِسَبَبِ کے ذریعے بتلایا کہ يُضِيءُ بِهِ میں جو باء ہے، یہ باء سببیہ ہے اور ہا ضمیر بتلایا ذَالِكَ النُّورِ، ہا ضمیر کس کو راجع؟ نور کو، کہ ایسا نور ہے کہ روشن ہو اس نور کے ذریعے طَرِيقٌ ایسا راستہ يُبْتَدَأُ متن میں کیا آیا تھا؟ يُبْتَدَأُ بِهِ شارح کیا بتلا رہے ہیں؟ يُبْتَدَأُ بِذَالِكَ الطَّرِيقِ معلوم ہوا ہا ضمیر کس کو راجع؟ طریق کو۔ مِنْ مَكَانٍ متن میں آیا تھا مِنْ حَيْثُ، شارح نے کیا بتلایا؟ مِنْ مَكَانٍ بتلایا حَيْثُ مکان کے معنی میں ہے۔ يَنْتَهِي إِلَيْهِ متن میں آیا تھا، شارح کیا بتلا رہے ہیں؟ يَنْتَهِي إِلَى ذَالِكَ الْمَكَانِ، ہا ضمیر کس کو راجع؟ مکان کو راجع۔ تو کہتے ہیں أَيْ نُورٌ يُضِيءُ بِسَبَبِ ذَالِكَ النُّورِ کہ عقل وہ ایسا نور ہے کہ روشن ہوتا ہے اس نور کے ذریعے طَرِيقٌ ایسا راستہ يُبْتَدَأُ بِذَالِكَ الطَّرِيقِ کہ ابتداء ہوتی ہے اس راستے کی مِنْ مَكَانٍ اس ایسی اس جگہ سے يَنْتَهِي إِلَى ذَالِكَ الْمَكَانِ دَرْكُ الْحَوَاسِّ کہ انتہاء ہوتی ہے اس جگہ پر حواس کے ادراک کی، مَثَلًا مثال کے طور پر لَوْ نَظَرَ أَحَدٌ إِلَى بِنَاءٍ رَفِيعٍ کہ جب نظر کی کسی شخص نے اونچی عمارت کی طرف، بناء عمارت کو کہتے ہیں، لَوْ نَظَرَ أَحَدٌ إِلَى بِنَاءٍ رَفِيعٍ جب نظر ڈالی کسی نے اونچی عمارت پر انْتَهَى دَرْكُ الْبَصَرِ إِلَى الْبِنَاءِ تو انتہاء ہوئی آنکھوں کے ادراک کی عمارت تک بھئی، عمارت تک انتہاء ہو گئی۔ ثُمَّ يَبْتَدِئُ مِنْهُ طَرِيقٌ پھر ابتداء ہوتی ہے اس سے ایسے راستے راستے کی إِلَى أَنَّهُ لَا بُدَّ لَهُ مِنْ صَانِعٍ ذِي عِلْمٍ وَحِكْمَةٍ اس راستے کی طرف ابتداء ہوتی ہے کہ ضروری ہے اس عمارت کے لیے ایک ایسے بنانے والے کا جو علم والا ہو اور حکمت والا ہو۔ فَمَبْدَأُ، مبداء ہونا چاہیے یہ لفظ بھئی، بہرحال فَمَبْدَأُ الْعُقُولِ هُوَ مُنْتَهَى الْحَوَاسِّ پس عقول کا جو مبتداء ہے، مبداء ہے، وہ حواس کا منتہیٰ ہے، یعنی یعنی جہاں پر حواس کی انتہاء ہوتی ہے، وہاں سے عقل کی ابتداء ہوتی ہے۔ وَهَذَا فِيمَا كَانَ الْاِنْتِقَالُ مِنَ الْمَحْسُوسِ إِلَى الْمَعْقُولِ اور یہ اس صورت میں ہے جب انتقال محسوس سے معقول کی طرف ہو۔ کس سے؟ بھئی کچھ چیزیں محسوس ہیں، ان حواس کے ذریعے جن کا ہم ادراک کرتے ہیں اور کچھ چیزیں معقول ہیں جو عقل میں تو آتی ہیں، حواس کے ذریعے ان کا ادراک نہیں ہوتا، تو یہ جو یہاں پر ہم کس سے کس کی طرف انتقال کر رہے ہیں؟ محسوس جو عمارت دیکھی تھی، اس سے پھر اس کے بنانے والے کی طرف چلے گئے اور وہ ہے معقول، تو محسوس سے انتقال ہوا کس کی طرف؟ معقول، تو یہ کہتے ہیں اس صورت میں ہے جب انتقال محسوس سے معقول کی طرف ہو، یعنی جو انہوں نے بتلایا نا: جہاں پر حواس کی انتہاء ہے، وہاں سے عقل کی ابتداء، یہ ان چیزوں میں ہے جہاں انتقال محسوس سے کس کی طرف ہوتا ہے؟ معقول کی، جب محسوس سے معقول کی طرف جو انتقال ہوتا ہے، اس میں جہاں حواس کی انتہاء ہوتی ہے، وہاں سے عقل کی ابتداء۔ وَأَمَّا إِذَا كَانَ مَعْقُولًا صِرْفًا اور اگر وہ چیز محض معقول ہو، یعنی محسوس سے اس کا تعلق ہی نہ ہو فَإِنَّمَا يَبْتَدِئُ بِهِ طَرِيقُ الْعِلْمِ مِنْ حَيْثُ يُوجَدُ تو وہاں ابتداء ہوتی ہے علم کے طریقے کی مِنْ حَيْثُ يُوجَدُ اسی جگہ سے جہاں وہ پایا گیا۔ بعض چیزیں تو عقلی محض ہیں بھئی، وہاں محسوس سے معقول کی طرف انتقال نہیں ہوتا، بلکہ تعلق صرف کس سے ہوتا ہے؟ معقول سے، تو وہاں کہاں سے ابتداء ہوگی؟ کہتے ہیں وہاں وہیں سے ابتداء ہوگی جہاں وہ، یعنی عقل ہی سے ابتداء ہوگی اور عقل ہی کی طرف انتہاء ہوگی۔ بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ مشکل ہے؟ تو وہاں پر ابتداء ہوتی ہے علم کے راستے کی مِنْ حَيْثُ يُوجَدُ جہاں پر وہ پایا گیا، اور کہاں پایا گیا؟ عقل میں، تو جہاں عقل میں پایا گیا، وہیں سے ابتداء ہوئی اور وہیں پر پھر انتہاء ہوگی۔ فَيَبْتَدِئُ الْمَطْلُوبُ لِلْقَلْبِ، فَيَبْتَدِئُ يَبْتَدِئُ یہاں بمعنی يَظْهَرُ کے ہے بھئی، فَيَبْتَدِئُ الْمَطْلُوبُ پس ظاہر ہو جاتا ہے مطلوب یعنی نتیجہ لِلْقَلْبِ کس کے لیے؟ قلب کے لیے۔ فَيُدْرِكُهُ پس پا لیتا ہے، ادراک کر لیتا ہے اس مطلوب یعنی اس نتیجے کا الْقَلْبُ قلب بِتَأَمُّلِهِ اپنے غور و فک اپنے غور و فکر کے ذریعے، بِتَأَمُّلِهِ کی ہا ضمیر کس کو راجع؟ قلب کو، قلب اپنے غور و فکر کے ذریعے پھر مطلوب کو پا لیتا ہے۔ بھئی عقل نے کیا کیا؟ عقل نے اس راستے کی راستے کو منور کر دیا، روشن کر دیا، یعنی وہ افکار اور وہ جو مبادی کو ترتیب دینا ہے اور ان کو روشن کر دیا جیسے سورج روشنی پھیلا دیتا ہے تو پھر انکھ دیکھنے کے اپنا عمل شروع کر دیتی ہے دیکھنے کا۔ اسی طرح یہ عقل چیزوں کو منور کر کے سامنے لے اتی ہے اور پھر قلب اپنا عمل اس میں شروع کر دیتا ہے صغریٰ، کبریٰ ملاتا ہے اور کس کو حاصل کر لیتا ہے؟ نتیجے کو حاصل کر لیتا ہے، یہ معنی ہے بھئی۔ وفیہ تنبیہ اور اس میں تنبیہ ہے علٰی ان القلبا مدرک وال عقل الۃ للہ کہ قلب جو ہے وہ مدرک ہے، اصل مدرک کون ہے؟ ادراک کرنے والا اصل میں؟ قلب ہے وال عقل الۃ للہ اور عقل اس کا اعلیٰ ہے۔ تو اصل مدرک ہوا قلب اور پھر عقل کیا ہے اس کا؟ اعلیٰ اور پھر اس عقل کو اگے اللہ نے مزید پانچ الہٰ دے دیے، حواسِ خمسہ ظاہر۔ جن کے ذریعے عقل کیا کرتی ہے؟ ادراک کرتی ہے اور پھر اصل ادراک پہنچاتی کہاں تک ہے؟ قلب تک، تو اصل مدرک کون ہوا؟ قلب ہوا۔ تو اس میں تنبیہ ہے اس بات پر کہ قلب جو ہے وہ مدرک ہے وال عقل الۃ للہ اور عقل جو ہے اس کا اعلیٰ ہے علٰی طریقِ اھلِ اسلامی، اہل اسلام کے طریقے پر۔ فللقلبي عین باطنۃ یدرک بھا الاشیاء بعد اشراقہِ بالعقلِ، بھئی یہاں پر دراصل فلاسفہ اور اہل اسلام کا اختلاف ہے بھئی۔ فلاسفہ اور اہل اسلام کا یعنی ان کا اختلاف ہے تو اس کے تو یہ جو انہوں نے کہا قلب اصل میں مدرک ہے، یہ کس کا مذہب ہے؟ اہل اسلام کا مذہب ہے۔ اسی لیے کہا علٰی طریقِ اھلِ اسلامی، اہل اسلام کے طریقے پر فللقلبي عین باطنۃ یدرک بھا الاشیاء بعد اشراقہِ بالعقلِ، پس قلب جو ہے اس کی ایک باطنی انکھ ہے، ادراک کرتا ہے اس کے ذریعے وہ چیزوں کا بعد اس کے جب وہ روشن ہو جائیں عقل کے ذریعے، جب وہ چیزیں عقل کے ذریعے روشن ہو جائیں تو قلب کیا کر لیتا ہے ان کا؟ ادراک کر لیتا ہے اپنی باطنی انکھ کے ذریعے کما ان فی الملک الظاھری جیسے کہ ظاہری سلطنت اور حکومت کے اندر تدرک العین، انکھ کیا کر لیتی ہے؟ ادراک کر لیتی ہے بعد الاشراق بالشمسِ او بالسراجِ، بعد روشن ہو جانے سورج یا چراغ کے، چراغ یا سورج کے ذریعے چیزوں کے روشن ہو جانے کے بعد انکھ کیا کر لیتی ہے ان کا؟ ادراک کر لیتی ہے۔ وعند الحکماءِ، اور حکماء اور فلاسفہ کے نزدیک، اہل اسلام کے نزدیک تو مدرک قلب ہے، حکماء اور فلاسفہ کے نزدیک المدرک ھو النفس الناطقۃ بواسطۃ العقلِ، ادراک کرنے والا وہ نفسِ ناطقہ ہے عقل کے واسطے سے بھئی، عقل کے واسطے سے۔ تو یہ مناطقہ اور حکماء کہتے ہیں کہ یہ ایک اور چیز جوہر مجرد عن المادہ ہے، یعنی بغیر مادی ایک چیز ہے جسے کیا کہتے ہیں؟ نفسِ ناطقہ کہتے ہیں جیسے روح بھئی غیر مادی چیز ہے۔ روح کیا ہے؟ غیر مادی چیز ہے، تو چیز جوہر تو ہے لیکن مادہ نہیں اس کا بھئی، لطیف چیز ہے لطیف۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے ہوا، دھواں وغیرہ یہ اگ یہ چیزیں لطیف ہیں بھئی، لطیف۔ تو اسی طرح یہ روح بھی ایک لطیف چیز ہے، مادے سے خالی ہے تو بعض کہتے ہیں نفسِ ناطقہ سے روح مراد ہے اور بعض کہتے ہیں نفسِ ناطقہ روح سے الگ کوئی چیز ہے بھئی، سمجھ میں؟ تو تفصیل ان کی کہ مناطقہ اور فلاسفہ کی کتابوں میں مذکور ہے بھئی۔ تو حکماء کے نزدیک المدرک ھو النفس الناطقۃ بواسطۃ العقلِ کہ نفسِ ناطقہ وہ ادراک کرنے والا ہے عقل کے واسطے سے والحواس الظاھرۃِ، بواسطۃ العقلِ والحواس الظاھرۃِ او الباطنۃِ، عقل کے واسطے سے اور حواسِ ظاہر اور یا باطنہ کے۔ جیسے حواسِ ظاہرہ ہیں اسی طرح پانچ حواسِ باطنہ بھی ہیں، حواسِ خمسہ باطنہ بھئی ان کو کہتے ہیں۔ تو جیسے پانچ حواس حواسِ ظاہرہ اسی طرح پانچ حواسِ باطنہ بھی ہیں بھئی اور وہ ہیں حسِ مشترک ہے ایک، ایک وہم ہے، ایک خیال ہے، ایک حافظہ ہے اور ایک قوتِ متصرفہ ہے بھئی، قوتِ متصرفہ ہے۔ تو حسِ جیسے ان حواسِ خمسہ ظاہرہ کے ذریعے مختلف چیزوں کا علم حاصل ہوتا ہے اسی طرح یہ ان پانچ کے ذریعے بھی چیزوں کا علم ہوتا ہے۔ پھر ان میں سے جو حسِ مشترک، وہم اور خیال، ان کے چوتھی کیا چیز بتلائی؟ حافظہ، حافظہ یہ وہ حافظہ جس کو اپ یہ وہ سٹور ہاؤس ہے بھئی۔ جو جو چیزیں ہم دیکھتے ہیں، سنتے ہیں، چکھتے ہیں یا جو باتیں ذہن میں اتی ہیں یہ حافظہ ان کو محفوظ کرتا چلا جاتا ہے۔ یہ حافظہ کیا کرتا ہے؟ ان کو محفوظ کرتا چلا جاتا ہے۔ تو چنانچہ یہ سٹور ہاؤس ہی بعض کا کمزور ہوتا ہے تو کہتے ہیں بھئی حافظہ کمزور ہے، چیز تو میں نے پڑھی تھی لیکن کیا ہوئی؟ ذہن سے نکل گئی۔ تو یہ قوتِ حافظہ کمزور ہوتی ہے، وہ حافظہ اس کو اچھے طریقے سے محفوظ نہیں کر پاتا اور وہ نکل جاتی ہے اس سے بھئی۔ اور یہ جو اگے ہے قوتِ متصرفہ، یہ جو مختلف قسم کی باتیں حاصل ہوتی ہیں جن کا ادراک ہوتا ہے حواس کے ذریعے، یہ قوتِ متصرفہ پھر اگے ان میں جوڑ توڑ والا کام کرتی ہے۔ یہ جو انسان مختلف چیزیں ایجادات وغیرہ بھی کرتا ہے یہ قوتِ متصرفہ کیا کرتی ہے؟ یہ جوڑ توڑ والا کام کرتی ہے کہ یہ چیز ملاؤ، یہ ملاؤ، یہ ملاؤ تو دیکھو یہ چیز بن جائے گی۔ حواس کے ذریعے تو چیزوں کا علم اگیا، یہ چیز اس طرح، یہ اس طرح، یہ اس طرح، پھر اگے قوتِ متصرفہ بتلاتی ہے کہ ان دو تین کو ملاؤ تو یہ بن جائے گا، ان دو چار کو ملاؤ تو یوں ہو جائے گا، یہ سارا جوڑ توڑ والا کام کون کرتی ہے؟ قوتِ متصرفہ کرتی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ حافظے سے چیزیں لیتی ہے اور ان میں پھر تصرفات کرتی چلی جاتی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مثلاً بھئی، اپ ذرا تصور کیجیے بھئی، تصور کیجیے ایک ادمی چلا جا رہا ہے اور اس کے کندھے پر ایک کے بجائے دو سر ہیں بھئی۔ تصور کر لیا اپ نے بھئی؟ ایک ادمی جا رہا ہے اور اس کے کندھے پر کتنے سر ہیں؟ دو سر، تصور کر لیا؟ دیکھیے یہ قوتِ متصرفہ نے کیا۔ انسان کا تو ایک سر ہوتا ہے، قوتِ متصرفہ نے کیا کیا؟ ایک اور سر کو لا کر ساتھ جوڑ دیا، یہ جوڑ والا کام کیا بھئی، یہ کون کرتی ہے؟ قوتِ متصرفہ۔ یا ایک اور تصور کیجیے ذرا بھئی، ایک سر کٹا انسان جا رہا ہے بھئی، سر کٹا ہوا ہے اور وہ اطمینان سے چلتا ہوا جا رہا ہے، تصور کر لیا اپ نے؟ ہاں یہ دیکھو یہ توڑ والا کام قوتِ متصرفہ نے کیا، سر تو ضروری تھا انسان کے ساتھ اس نے اس کو اس سے الگ کر دیا اور پھر بھی وہ چلا جا رہا ہے بھئی، صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ یہ قوتِ متصرفہ کرتی ہے بھئی، باقی تفصیل فلاسفہ وغیرہ کی کتابوں میں موجود بھئی۔ بھئی یہ حواسِ خمسہ ظاہرہ ہیں اور اسی طرح حواسِ خمسہ باطنہ ہیں، یہ فلاسفہ اور حکماء کے نزدیک جبکہ ہمارے متکلمین حواسِ خمسہ ظاہرہ یہ تو ہیں ان کو تو مانتے ہیں، حواسِ خمسہ باطنہ کو تسلیم نہیں کرتے بھئی کہ کوئی حواسِ خمسہ باطنہ نہیں ہے بھئی۔ لیکن حواسِ خمسہ باطنہ کو مان لینے میں کوئی حرج نہیں ہے بھئی، اس سے تو اور اللہ کی قدرت کا ظہور ہوتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یعنی کہ اسلام کے کسی چیز کے خلاف نہیں اس میں تو اور اللہ کی قدرت کا ظہور ہے کہ دیکھو جس طرح حواسِ خمسہ ظاہرہ اللہ نے بنائے ہیں اسی طرح حواسِ خمسہ باطنہ بھی بنائے ہیں بھئی۔ والشرط الکامل منہ اور شرط جو ہے کامل ہے اس میں سے یعنی عقل میں سے، بھئی انہوں نے کہا کہ راوی کے اندر چند شرائط کا ہونا ضروری ہے پھر اس کی خبرِ واحد جو ہے وہ دلیل بنے گی اس کو قبول کیا جائے گا، دلیل بن سکے گی وہ اور ان میں سے پہلی بات کیا ذکر کی؟ عقل اور پھر پہلے سب سے پہلے عقل کی تعریف کی بتلایا کہ عقل کہتے کس کو ہیں۔ اب کس قسم کی عقل شرط ہے راوی کے اندر؟ کہتے ہیں الشرط الکامل منہ، شرط جو ہے اس عقل میں سے کامل درجے کی، کامل درجے کی عقل ہونی چاہیے بھئی۔ ای الشرط فی باب روایۃ الحدیث الکامل من العقلِ، شرط جو ہے روایتِ حدیث کے باب میں وہ کامل درجے کی عقل ہے، بھئی وہ کون سی عقل ہے کامل درجے کی؟ کہتے ہیں وھو عقل البالغِ، بالغ انسان کی عقل، کس کی عقل؟ بالغ انسان کی عقل ہے وہ مراد ہے دون القاصرِ منہ، نہ کہ وہ جو اس میں سے کم درجے کی ہے، قاصر ہے، بھئی وہ کون سی ہے؟ کہتے ہیں وھو عقل الصبیِ والمعتوہِ والمجنونِ، اور وہ بچے کی عقل ہے والمعتوہ، معتوہ کہتے ہیں وہ شخص جو کبھی تو عقل مندوں جیسی باتیں، ٹھیک ٹھیک باتیں کرتا ہے اور کبھی پاگلوں کی طرح مجنونوں کی طرح باتیں کرتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کی عقل میں خلل ہے دیکھو بھئی، کبھی تو ٹھیک لوگوں جیسی باتیں کرتا ہے اور کبھی پاگلوں کی طرح مجنونوں کی طرح باتیں کرتا ہے اس کو معتوہ کہتے ہیں۔ ایک تو مجنون ہے بالکل پاگل بھئی، وہ تو ٹھیک بات نہیں کرے گا بھئی کیونکہ اس کی تو عقل ہے ہی نہیں جبکہ معتوہ کی عقل تو ہے لیکن اس میں خلل ہے، اسی طرح بچے کی عقل میں بھی کمی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں وھو عقل الصبیِ والمعتوہِ اور وہ بچے کی عقل ہے وہ کم درجے کی اور وہ معتوہ کی عقل ہے، نا سمجھ کی عقل والمجنونِ اور مجنون کی عقل بھئی۔ جی بعض نسخوں میں مجنون کا لفظ نہیں ہے اور اس کو نہیں ہونا چاہیے بھئی کیونکہ یہ عقلِ قاصر کی بات ہو رہی ہے اور مجنون کی تو سِرے سے کوئی عقل ہی نہیں ہوتی، بات سمجھ میں ائی بھئی؟ تو یہ عقلِ قاصر بھی نہیں اس کے پاس بھئی۔ لان الشرع لما لم یجعلھم اھلاً للتصرفِ فی امورِ انفسھم، بھئی اس کا اعتبار کیوں نہیں کرتے جو کم درجے کی عقل ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ شریعت نے جب ان کو نہیں بنایا اہل تصرف کرنے کا فی امورِ انفسھم اپنی جانوں کے معاملات میں ففی امرِ الدینِ اولٰی، تو دین کے معاملے میں بطریقِ اولٰی ان کو تصرف کا اہل نہیں ہونا۔ بھئی بچہ کو ہر تصرف کا حق ہوتا ہے؟ بچے کو تو تصرف کا حق نہیں بھئی، اسی طرح معتوہ جو ہے تو جب ان کو اپنی ذات کے امور میں تصرف کا اہل نہیں بنایا شریعت نے تو دین اس کا تعلق تو سب سے ہے اس میں بطریقِ اولٰی یہ تصرف کرنے کے اہل نہیں ہوں گے۔ وھذا اذا کانت السماع والرواۃ قبل البلوغِ اور یہ اس وقت ہے جب سماع اور روایت دونوں بالغ ہونے سے پہلے ہوں۔ بھئی روایتِ حدیث کے اندر انہوں نے بتلایا کامل درجے کی عقل ہونی چاہیے، قاصر درجے کی عقل یعنی بچے کی عقل نہیں، اس کا اعتبار نہیں لہٰذا بچے کی روایت قابلِ قبول نہیں۔ کیونکہ اس کی عقل کامل درجے کی نہیں اور کہتے ہیں یہ اس وقت ہے اس کی روایت کو تب قبول نہیں کیا جائے گا جب اس نے سماع بھی بالغ ہونے سے پہلے کیا تھا اور روایت بھی بالغ ہونے سے پہلے ہی کر رہا ہے۔ ہاں اگر سماع بالغ ہونے سے پہلے کیا لیکن روایت بالغ ہونے کے بعد کر رہا ہے تو پھر اس کی روایت قبول کی جائے گی بھئی، پھر کیا کیا جائے گا اس کی روایت؟ قبول کی جائے گی بھئی۔ تو بالغ ہونے سے پہلے اگر وہ سماع بھی ہے اور روایت بھی ہے تو وہ قبول نہیں کیونکہ یہ دین کا معاملہ ہے، بڑا دین کا معاملہ نازک مسئلہ اور بچے کو ان چیزوں کی پوری خبر نہیں ہوتی تو وہ ہو سکتا ہے کچھ اپنی طرف سے ملا دے، اسے تو خیال نہیں ان چیزوں کی اہمیت کا تو اس تو لہٰذا اگر ہاں جب بالغ ہونے کے بعد روایت کر رہا ہے، سنا تو بالغ ہونے سے پہلے تھا لیکن روایت کب کر رہا ہے؟ پھر اس کی روایت قبول کی جائے گی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہیں، جیسے حضرت عبداللہ ابنِ زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہیں بھئی، تو یہ تو یا حضرت عبداللہ ابنِ زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان کی تو پیدائش بھی ہجرت کے بعد ہوئی بھئی، تو یہ بڑے چھوٹے سے تھے حضور علیہ السلام کا انتقال ہوا لیکن بعد میں بالغ ہونے کے بعد یہ بہت سی روایات کرتے ہیں اور تمام فقہاء، علماء کیا کرتے ہیں اس کو؟ قبول کرتے ہیں بھئی، بات سمجھ میں اگئی بھئی؟ تو کہتے ہیں وھذا اذا کانت السماع والرواۃ قبل البلوغِ اور یہ اس وقت ہے جب سماع اور روایت بالغ ہونے سے پہلے ہو واما اذا کانت السماع قبل البلوغِ والرواۃ بعد البلوغِ، اور باقی جب سماع جو ہے وہ بالغ ہونے سے پہلے ہو والرواۃ بعد البلوغِ اور روایت کرنا بالغ ہونے کے بعد ہو فیقبل قول الصبیِ فیہِ، تو اس میں بچے کا قول قبول کیا جائے گا اذ لا خلل فی تحملہِ لکونہِ ممیزاً، اس سے کیونکہ کوئی خلل نہیں ہے اس کے تحملِ اس کے تحمل میں اس لیے کیونکہ وہ تمیز کرنے والا ہے ولا فی روایتہِ اور نہ اس کی روایت میں کوئی خلل ہے لکونہِ عاقلاً، اس لیے کیونکہ وہ عاقل ہے۔ بھئی دیکھیے! انہوں نے کہا اگر سنا ہو بالغ ہونے سے پہلے، حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کب سنی؟ بالغ ہونے سے پہلے اور روایت کب کر رہے ہیں؟ بالغ ہونے کے بعد، تو قبول کیا جائے گا کیونکہ جب سنا تھا اس وقت وہ سمجھتا تھی، اس کو چیزوں کی تمیز تھی یا نہیں چیزوں کے اندر؟ تمیز کرنے والا تھا تو وہ تحملِ حدیث کر سکتا ہے، روایت تو نہیں کر سکتا لیکن تحملِ حدیث کر سکتا ہے۔ پھر اب جب وہ روایت کر رہا ہے اب تو وہ بالغ ہو چکا عقل کامل درجے کی ہو گئی تو اب روایتِ حدیث بھی کر سکتا ہے تو اس وقت عقل اتنی عقل تھی کہ وہ چیزوں میں تمیز کر لیتا تھا، اچھے برے کو پہچان لیتا تھا کوئی تو وہ اب وہ اس وقت تحملِ حدیث ہو سکتا تھا اور بالغ ہونے کے بعد اب روایتِ حدیث ہو سکتا ہے تو اس لیے اس کی روایت کو قبول کیا جائے گا۔ یہ معنی ہے اذ لا خلل فی تحملہِ لکونہِ ممیزاً، اس لیے کیونکہ کوئی خلل نہیں ہے اس کے تحمل کے اندر یعنی تحملِ اس کے حدیث کے تحمل کرنے میں اس کو اٹھانے میں، لینے میں لکونہِ ممیزاً، بوجہ اس کے ممیز ہونے کے، تمیز کرنے والا ہونے کے، سمجھدار ہونے کے ولا فی روایتہِ اور نہ اس کے روایت کرنے میں لکونہِ عاقلاً، بوجہ اس کے عاقل ہونے کے کہ اب وہ عاقل ہے، بالغ ہے۔ والضبط، اب دوسری شرط اگئی بھئی، پہلی شرط کیا تھی راوی میں کیا ہو؟ عقل ہو کامل درجے کی، اب ایا ضبط بھئی، کہتے ہیں والضبط ھو سماع الکلامِ کما یحق سماعہُ، ضبط جو ہے وہ کلام کو سننا ہے جیسا کہ حق ہے اس کو سننے کا، وہ کلام کو سننا جیسا کہ اس کو سننے کا حق ہے۔ ای سماعاً مثل سماعِ شیءٍ یحق سماعہُ، اس عبارت کے ذریعے یہ بتلانا چاہتے ہیں شارح بھئی کہ جو متن میں ایا نہ کما یحق سماعہُ، یہ مفعولِ مطلق کی صفت ہے، یہ مفعولِ مطلق ہے باعتارِ موصوفِ محذوف کے، کما سے پہلے یعنی سماعاً محذوف ہے والضبط ھو سماع الکلامِ وہ کلام کا سننا ہے سماعاً ایسا سننا کما یحق سماعہُ جیسا کہ اس کے سننے کا حق ہے۔ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں ای سماعاً مثل سماعِ شیءٍ، دیکھو کاف کس معنی میں ہے؟ مثل کے معنی میں ای سماع، متن کی شرح کر رہے ہیں نہ ایک ایک لفظ کی جی مثل سماعِ شیءٍ یحق سماعہُ، جیسے کہ کسی چیز کے سننے کا حق ہے یعنی من اولہِ الٰی اخرہِ، یعنی اول سے لے کر اخر تک پوری بات سننا بتامامِ الکلماتِ، تمام کلمات کے ساتھ والھیئۃِ ترکیبیۃِ اور پوری ہیئتِ ترکیبیہ کے ساتھ کہ کس طرح لفظ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے جڑے ہوئے ہیں پوری بات کو سننا اول سے لے کر اخر تک۔ وانما قال ذالک، اور یہ اس لیے فرمایا کہ جو ماتن نے کہا نہ کما یحق سماعہُ جیسے کہ بات کو سننے کا حق ہے یہ کیوں فرمایا؟ کہتے ہیں لا نہ کثیراً ما یجیء السامع فی سماعِ مجلسِ الواعظِ کہ بسا اوقات اتا ہے سننے والا مجلسِ وعظ کے سماع میں بعد ان مضٰی غیر من اوله بعد اس کے کہ کچھ چیز ابتداء میں سے گزر چکی ہوتی ہے وفاته اور اس سے فوت ہو چکی ہے۔ ولم یعلمه المعلم للازدحام اور استاد کو بھی علم نہ ہوا اس شخص کا ازدحام کی وجہ سے ہجوم کی وجہ سے۔ بھئی استاد ایک سبق پڑھا رہا تھا مثلا یا روایت حدیث بیان کر رہا ہے بھئی استاد اور ایک شاگرد ذرا دیر سے آیا۔ اس نے پوری حدیث نہیں سنی کچھ حدیث کا حصہ سن لیا۔ تو یہ ہم نے کیا کہا تھا کہ کس طرح سنیں؟ اول سے آخر تک پوری ہیئت ترکیبیہ اور تمام کلمات کو سنیں بھئی۔ تو وہ آیا مجلس وعظ میں بعد جبکہ کچھ ابتداء میں سے گزر چکا تھا اور استاد کو بھی اس کے آنے کا پتہ نہیں چلا ہجوم کی طلبہ بہت زیادہ تھے سننے والے بہت زیادہ تھے تو استاد کو نہیں پتہ چلا کہ یہ تاخیر سے آیا ہے۔ اگر اس کو پتہ چل جاتا وہ تو پھر شروع سے بات کو دہرا دیتا۔ لیکن اس کو پتہ نہیں چلا۔ تو یہ پھر اس اس قسم کا سماع کہتے ہیں حجت نہیں ہے کہ یہ جو ادھوری بات سنی ہے۔ ولم یعلمه المعلم اور معلم نے بھی اس کو نہیں جانا یعنی استاد کو بھی معلوم نہیں ہوا اس کا للازدحام ہجوم کی وجہ سے حتی یردد الکلام الماضی بعد حضوره یہاں تک کہ وہ لوٹاتا گزشتہ کلام کو اس کے حاضر ہونے کے بعد۔ اگر اس کو پتہ چلتا تو وہ گزشتہ کلام کو بھی اس کے حاضر ہونے کے بعد پھر لوٹا دیتا۔ فمثل هذا السماع لا یکون حجة تو اس قسم کا سماع وہ حجت نہیں ہے فی باب الحدیث باب حدیث میں بل یکون تبرکا بلکہ یہ تو تبرک ہے یعنی برکت کا حاصل کرنا ہے کما یوتی بالصبیان فی مجلس الواعظ تبرکا لهم جیسے کہ لایا جاتا ہے بچوں کو وعظ کی مجلس میں ان کے لیے ان کے لیے تبرک کے طور پر یعنی ان کے لیے برکت حصول برکت کے طور پر، کس لیے؟ حصول برکت۔ بھئی بچے ہیں ناسمجھ ہیں ان کو پوری بات تو سمجھ میں نہیں آئے گی لیکن پھر بھی مجالس وعظ میں ان کو لے آتے ہیں کیا تا کہ ان کو برکت حاصل ہو جائے بھئی۔ تو یہاں بھی اس شخص جو ہے اس نے جیسے بچے کو بات سمجھ نہیں آتی اس نے بھی پوری بات نہیں سنی تو اس کو پوری بات سمجھ میں نہیں آئے گی نہیں آئے گی بھئی۔ ثم اچھا بھئی بات کس کی چل رہی ہے؟ ضبط کی، پہلی بات کیا کی کہ وهو سماع الکلام کما یحق سماعه وہ بات کو سننا ہے جیسے کہ اس کو سننے کا حق ہے۔ ضبط کی بات چل رہی ہے ابھی بات پوری نہیں ہوئی، صرف سننا نہیں کافی آگے دیکھیے۔ ثم فهمه بمعناه پھر اس کو سمجھنا بھی معنی کے ساتھ وہ معنی الذی ارید به جس کا اس کے ذریعے ارادہ کیا گیا۔ یعنی معنی مراد، یعنی معنی مراد بات کو پوری طرح سنے بھی حدیث کو اور پھر اس کو پوری طرح سمجھے اس کی مراد کو بھی سمجھے۔ لغویا کان او شرعیا چاہے وہ معنی لغوی ہو یا چاہے شرعی ہو جو جس معنی کا بھی ارادہ کیا گیا اس کے ذریعے اس کو پوری طرح سمجھے۔ لا ان یقتصر علی حفظ الالفاظ فقط نہ یہ کہ اکتفاء کرے صرف الفاظ کے یاد کرنے پر۔ الفاظ تو سن لیے معنی سمجھ میں نہیں آیا نہیں بھئی یہ پھر قابل اعتبار نہیں۔ الفاظ کو بھی پورا سنیں اور پھر ان کو سمجھ بھی لے، صرف الفاظ کو یاد کرنے پر اکتفاء کر لے یہ کافی نہیں۔ لانه ليس بسماع مطلق بل سماع بل سماع صوت اس لیے کیونکہ یہ سماع مطلق یعنی کامل سماع نہیں ہے بل سماع صوت صرف آواز کا سننا ہے۔ کامل سماع تو یہ ہے کہ سنے بھی اور اس کو اچھی طرح سمجھے بھی۔ اچھا بھئی بھئی دیکھیے ضبط کی بات چل رہی ہے، بات کو پورا سنے بھی اور پھر اس کو سمجھے بھی، یہ ابھی بھی بات پوری نہیں ہوئی۔ ثم حفظه ببذل المجهود له پھر اس کو یاد بھی کرے اس سنی ہوئی بات کو ببذل المجهود له، بذل کا معنی ہے خرچ کرنا۔ مجهود یہ مصدر ہے آگے آپ کو شرح میں بھی بتلائیں گے جہد کے معنی میں اور طاقت کو کہتے ہیں۔ طاقت کو خرچ کرتے ہوئے له، له حفظه اور له کی ہا ضمیر بتلائیں گے مسموع وہ سنی ہوئی بات کو راجع ہے، کہ پھر وہ اس سنی ہوئی بات کو یاد بھی رکھے اپنی پوری انسانی طاقت خرچ کرتے ہوئے، پوری کوشش کرتے ہوئے اس کو کیا کرے؟ یاد رکھے۔ ثم حفظه ببذل المجهود له پھر اس کو یاد رکھے یاد رکھنا پوری طاقت خرچ کرتے ہوئے الضمیر فی حفظه وله راجع الی المسموع، حفظه کے اندر جو ضمیر ہے اور له جو آخر میں آیا اس میں جو ضمیر ہے راجع الی المسموع وہ کس کی طرف راجع ہے؟ مسموع وہ جو سنی ہوئی بات ہے یعنی وہ حدیث ہے۔ والمجهود مصدر بمعنی الجهد یا بمعنی الجهد جیم پر فتحہ اور ضمہ دونوں پڑھ سکتے ہیں، اور مجهود مصدر ہے بمعنی جہد کے وهو الطاقة اور وہ کس کو کہتے ہیں؟ وہ طاقت کو کہتے ہیں۔ ای ثم حفظ ذلک المسموع بقدر الطاقة البشریة له پھر یاد رکھنا اس مسموع کو اپنی بشری طاقت کے بقدر، جتنی طاقت جتنی ہمت ہے اس کے بقدر اس کو یاد رکھنا۔ ثم الثبات علیه، جی ضبط کی بات چل رہی ہے ابھی بھی بات پوری نہیں ہوئی۔ کلام کو سنے جیسے سننے کا حق ہے، پھر اس کو اس کے معنی مرادی کو بھی سمجھے اور پھر اس کو یاد بھی رکھے، یاد بھی کرے اس کے یاد کرنے میں پوری کوشش کرے اور ثم الثبات علیه پھر اس پر جما بھی رہے، ثابت قدم بھی رہے۔ ثبات کا کیا معنی؟ جمے رہنا ثابت قدم رہنا۔ ثم الثبات علیه پھر اس پر ثابت قدم بھی رہے بمحافظة حدوده کس طریقے پر؟ اس کے حدود کی حفاظت کرتے ہوئے۔ اس پر جما بھی رہے اس روایت پر اس کی حدود کی حفاظت کرتے ہوئے بھئی اس کے حدود کی حفاظت کرتے ہوئے کیا معنی؟ کہتے ہیں وهي وهي العمل بموجبه ببدنه وہ یہ کہ وہ عمل کرنا ہے بموجبه اس کے مقتضا پر ببدنه اپنے بدن کے ساتھ۔ اپنے بدن کے ساتھ اس کے مقتضا پر کیا کرے؟ عمل بھی کرے ومراقبته بمذاکرته اور اور اس کو یاد مراقبہ کا معنی ہے نگہبانی کرنا حفاظت کرنا یاد رکھنا بھئی۔ اور مذاکرہ کہتے ہیں تکرار کو دہرانا یاد کرنا بھئی۔ مذاکرہ کسے کہتے ہیں؟ دہرانا یاد رکھنا۔ ومراقبته بمذاکرته اور اس کو حفاظت اس کو یاد رکھے اس کا تکرار کرتے ہوئے، اس کا مذاکرہ کرتے ہوئے اس کو یاد رکھے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کہتے ہیں پہلی ضبط میں پہلی بات کیا ذکر کی؟ کہ کلام کو سنے جیسا سننے کا حق ہے اور اس کو سمجھے اس کے معنی مرادی کے ساتھ، معنی مرادی کو اچھی طرح سمجھ لے۔ پھر اس کو یاد رکھے پوری کوشش خرچ کرتے ہوئے، پھر اس پر ثابت قدم بھی رہے اس کے حدود کی حفاظت کرتے ہوئے ومراقبته بمذاکرته اور مذاکرے کے ساتھ اس کو اس کی حفاظت کرتے ہوئے، اور حدود کی حفاظت کے سے کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں وہ عمل کرنا ہے اس روایت کے مقتضا پر ببدنه اپنے بدن کے یعنی اس حدیث پر عمل بھی کرتا رہے زبان سے بھی یاد کرتا رہے اور بدن کے ذریعے اس پر عمل بھی کرتا رہے، اس لیے کیونکہ عمل نہیں کرے گا اور تکرار نہیں کرے گا تو پھر وہ حدیث اسے بھول جائے گی بھئی۔ ای مع مذاکرته بتلایا بمذاکرته میں با بمعنی مع کے ہے کہ اس کی حفاظت کرے مع مذاکرته ساتھ اس کے مذاکرے اور یاد کرنے کے ساتھ۔ حال کونه مستقرا علی اساءة الظن بنفسه، یہ حال کونه مستقرا عبارت نکال کر شارح یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ علی اساءة الظن بنفسه جو متن آگے آ رہا ہے یہ حال واقع ہو رہا ہے۔ کیا واقع ہو رہا ہے؟ یہ حال واقع ہو رہا ہے۔ حال کونه مستقرا، مستقرا بمعنی ثابتا کے ہے تو اس کی جگہ بےشک آپ ثابتا یاد رکھیں حال کونه ثابتا علی اساءة الظن بنفسه اس حال میں کہ یہ جو راوی ہے یہ ثابت ہو علی اساءة الظن بنفسه اپنی اساءت کا معنی برائی بھئی، علی اساءة الظن بنفسه اپنی ذات کے بارے میں برے گمان پر۔ اپنی ذات کے بارے میں اس حال میں کہ یہ راوی ثابت ہو اپنی ذات کے بارے میں برے گمان پر یعنی اپنی ذات کے بارے میں اس کا برا گمان ہو کہ اگر میں ایسا نہیں کروں گا اس پر عمل نہیں کروں گا اس کو میں تکرار وغیرہ نہیں کروں گا تو یہ مجھے بھول جائے گی۔ اپنی بات ذات کے بارے میں اس کا کیا گمان ہو کہ اگر میں ایسا نہیں کروں گا تو یہ چیزیں مجھے بھول جائیں گی بھئی۔ یہ معنی ہے، معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہ معنی ہے حال کونه مستقرا اس حال میں کہ وہ ثابت ہو علی اساءة الظن بنفسه اپنے نفس کے بارے میں برے گمان پر بان لا یعتمد علی نفسه بالقوة الحافظة با طور کہ وہ اعتماد نہیں کرتا اپنی ذات پر قوت حافظہ کے ساتھ، قوت صرف قوت حافظہ کہ میرا تو حافظہ بڑا قوی ہے مجھے ضرورت ہی نہیں اس کو دہرانے کی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اللہ نے بڑے قوی قوی حافظے نصیب فرمائے بھئی ہمارے بالخصوص ابتداء اسلام کے زمانے کے جو علماء ان کے محیر العقول حافظے کو انسان دیکھتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے بھئی، آج کا کمپیوٹر بھی ان کے مقابلے میں کچھ نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو ایسے حافظے ان کو اللہ نے ان کو نصیب فرمائے تھے، تو یہ صرف قوت حافظہ پر اعتماد وہ پھر بھی نہیں کرتے تھے، سمجھ میں آیا بھئی؟ بہت وہ محنت کرتے انتہا درجے کی محنت کیونکہ محنت پر بھی انسان کو حیرت ہوتی ہے۔ تو یہاں یہ راوی حدیث کو اس طرح ہونا چاہیے کہ اپنے بارے میں کیا ہو؟ برا گمان ہو کہ اگر میں نے اس پر بار بار تکرار نہ کیا اور اس پر عمل نہ کرتا رہا تو یہ بات مجھے بھول جائے گی۔ بان لا یعتمد علی نفسه بالقوة الحافظة با طور کہ وہ اعتماد نہیں کرتا اپنی ذات پر قوت حافظہ کے ساتھ بل یقول بلکہ یہ کہتا ہے کہ انی اذا ترکته نسیته کہ اگر میں اس کو چھوڑ جب چھوڑ دوں گا تو بھول جاؤں گا وهذا کله الی حین ادائه اور یہ سارا کا سارا اس حدیث کی ادائیگی کے وقت تک ہو۔ یہ سارا کا سارا اس حدیث کی ادائیگی کے وقت تک ہو یہ جو ضبط بیان ہوا، سنا تھا جس وقت حدیث کو اس وقت پورا سنا تھا، پھر اس کے معنی مرادی کو پوری طرح سمجھ لیا تھا اس وقت بھئی، اور پھر پوری قوت خرچ کی تھی اس کو یاد رکھنے میں، اور پھر اس کے بعد اس پر ثابت قدم بھی رہا یعنی بدنی طور پر بھی عمل کرتا رہا اس حدیث پر اور مذاکرے کے ذریعے بھی اس کی حفاظت کرتا رہا یہاں تک کہ جب وہ اس حدیث کو آگے ادا کر دے اگلے کسی شخص کو پہنچا دے، جب اگلے کسی شخص یا جماعت کو پہنچا دے گا تو اب اس شخص کا ذمہ بری ہوا، اب اس شخص کا ذمہ کیا ہوا؟ بری ہوا۔ ای الی حین ان یؤدیه ویبلغه الی شخص اخر یعنی اس وقت تک جبکہ وہ اس حدیث کو ادا کر دے اور پہنچا دے کسی دوسرے آدمی کو کذالک اسی طریقے پر واحدا کان او جماعة چاہے وہ ایک ہو یا پوری جماعت ہو فحینئذ تفرغ ذمته عند الله تعالی تو اس وقت اس کا ذمہ فارغ ہو جائے گا اللہ کے نزدیک وتشتغل به ذمة انسان اخر اور مشغول ہو جائے گا اس کے ساتھ کسی دوسرے انسان کا ذمہ۔ تشتغل به ذمته تو نہیں آپ کی کتابوں میں؟ ذمته نہیں ہونا چاہیے بھئی یہ ہا کتابت کی غلطی ہے ذمة انسان اخر۔ یہ مضاف ہے بھئی، اور مشغول ہو جائے اس کے ذریعے مشغول ہو جائے گا اس کی یعنی کسی دوسرے ایسے انسان کا ذمہ یؤدیه الی احد جو اس کو پہنچائے کیا کسی ایک تک بھئی۔ وهكذا الی یوم التناد اور اسی طرح ہوگا قیامت کے دن تک بھئی، یوم التناد کسے کہتے ہیں؟ قیامت کا دن بھئی۔ یوم التناد قیامت کے دن کو کہتے ہیں اور تناد یہ ندا سے ہے ندا سے، ندا کے کیا معنی ہے؟ پکارنا۔ تو یوم التناد کا معنی ہوا چیخ و پکار والا دن بھئی۔ یوم التناد چیخ و پکار کا دن، تو قیامت کو یوم التناد کہا جاتا ہے اس لیے کیونکہ اس میں تمام انسانوں کو میدان محشر میں جمع کرنے کے لیے اور حساب کتاب کے لیے پکارا جائے گا اس لیے قیامت کو یوم التناد کہا جاتا ہے یا اس وجہ سے کہ اس دن مجرم چیخ و پکار میں مصروف ہوں گے اس وجہ سے قیامت کو کیا کہا جاتا ہے؟ یوم التناد کہا جاتا ہے۔ او الی تو یہ اسی طرح ہوگا قیامت کے دن تک او الی ان تؤلف کتب الاحادیث یا یہ کہ تالیف کر لی جائیں حدیث کی کتابیں، یہاں تک کہ حدیث کی کتابیں لکھ لی جائیں بس پھر اس کے بعد اب تو احادیث باقاعدہ مدون ہو گئیں جیسے اب آپ دیکھتے ہیں کہ بخاری، مسلم، ترمذی، ابو داؤد وغیرہ احادیث کی کتابیں مدون ہو چکی ہیں بھئی۔ وهذا بخلاف القرآن اور کہتے ہیں یہ جو معنی مرادی کے سمجھنے کی شرط لگائی گئی، هذا سے کیا مراد ہے؟ معنی مراد کو جو سمجھنے کی شرط لگائی گئی حدیثوں کے ضبط میں بخلاف القرآن یہ برخلاف کس کے ہے؟ قرآن کے، یعنی اس میں یہ شرط نہیں ہے بھئی اس میں یہ شرط لانه لم یشترط لنقله فهمه بمعناه اس لیے کیونکہ شرط نہیں لگائی گئی قرآن کے نقل کے لیے اس کے معنی کو سمجھنے کی لانه ما ثبت فی الاصل الا بائمة الهدى وخیر الورى اس لیے کیونکہ وہ قرآن ثابت نہیں ہے مگر اصل کے اندر۔ اصل سے یاد رکھیے بھئی وہ مصحف مراد ہے جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے جس کی نقول پھر دوسرے تمام شہروں اور ممالک میں بھجوائیں بھئی، تمام شہروں میں بھجوائیں بھئی۔ وہ نسخہ اصلی وہ نسخہ وہ نسخہ اصلی بھئی۔ تو وہ اصل سے وہ مراد ہے لانه ما ثبت فی الاصل اس لیے کیونکہ وہ جو ثابت ہے نسخہ اصلی میں وہ جو مصحف عثمانی تھا اس کے اندر وہ ثابت نہیں ہے الا بائمة الهدى مگر کس کے ذریعے؟ ائمہ ہدی ہدایت کے جو امام تھے بھئی ہمارے ہمارے بڑے بزرگ بھئی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین انہوں نے تو اس کو جمع کیا تھا جو ہدایت کے امام ہیں وخیر الورى اور تمام مخلوقات سے بہتر ہیں انبیاء کے بعد بھئی۔ یہاں تک ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اصل سے کیا مراد ہے؟ وہ مصحف عثمانی بھئی۔ لانه ما ثبت فی الاصل الا بائمة الهدى وخیر الورى اس لیے کیونکہ وہ قرآن ثابت نہیں ہے نسخہ اصلی میں مگر ائمہ ہدی کے ذریعے اور بہتر مخلوقات میں سب سے بہتر کے اس کے ذریعے وهم نقلوه بعد الضبط التام اور انہوں نے نقل کیا تھا اس کو پورے طور پر ضبط کرنے کے بعد ونظمه فی نفسه معجز يتعلق به الاحکام فلم یعتبر معناه، اور اور قرآن کی نظم جو ہیں یعنی اس کے جو الفاظ ہیں فی نفسه اپنی ذات کے اعتبار سے معجز وہ عاجز کر دینے والے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ عاجز کر، قرآن فصاحت و بلاغت کا عظیم نمونہ ہے کہ کوئی انسانی کلام کبھی بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا تو وہ عاجز کر دینے والا کلام ہے۔ تو قرآن کی نظم جو ہے اپنی ذات کے اعتبار سے عاجز کرنے والی ہے يتعلق به الاحکام اس سے احکام کا تعلق ہے، قرآن کے تو نظم سے بھی کیا ہے؟ احکام کا تعلق ہے فلم یعتبر معناه لہذا یہاں معنی کا اعتبار نہیں ہے۔ حدیث میں تو تھا معنی کا سمجھنا بھی ضروری پھر ہی ضبط ہوگا پوری طرح ورنہ ضبط ہی نہیں، لیکن قرآن میں یہ ضروری نہیں۔ وجہ اس کی یہ بھئی کہ حدیث میں روایت بالمعنی بھی جائز تھا۔ صحابہ کیا کرتے تھے بعض اوقات روایت بالمعنی کر دیتے تھے، بھئی۔ وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بات، لیکن ان کے الفاظ کے بجائے کیا استعمال کر لیے؟ اپنے الفاظ، لیکن اس طریقے پر کہ معنی میں ذرہ بھر بھی تبدیلی نہ آئے، بھئی۔ لیکن قرآن میں تو روایت بالمعنی ہے ہی نہیں، قرآن تو کیا ہے اس کے تو الفاظ جو ہیں وہ اسی طرح ہیں، بھئی۔ فلَمْ يُعْتَبَرْ مَعْنَاهُ، تو اس کے معنی کا اعتبار نہیں، وَلِأَنَّهُ مَحْفُوظٌ عَنِ التَّغْيِيرِ وَمَصُونٌ عَنِ التَّبْدِيلِ، اور اس لیے کیونکہ قرآن جو ہے وہ تبدیلی سے محفوظ ہے، مصون کا معنی بھی محفوظ، اور تبدیلی سے محفوظ ہے، قَالَ اللهُ تَعَالَى، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ، "بے شک ہم نے ذکر یعنی قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔" فَيَصِحُّ نَقْلُ نَظْمِهِ مِمَّنْ لَيْسَتْ لَهُ مَعْرِفَةٌ بِمَعْنَاهُ، پس صحیح ہے نقل کرنا قرآن کی نظم کو اس شخص کے لیے بھی جسے اس کے معنی کی معرفت نہ ہو، معنی کا علم نہ ہو۔ وَالْعَدَالَةُ، یہ تیسری شرط آ گئی، بھئی۔ عقل کی تفصیل بھی گزر گئی، ضبط کا بیان بھی ہو گیا، اب عدالت کا بیان آیا۔ کہتے ہیں: وَالْعَدَالَةُ وَهِيَ الْإِسْتِقَامَةُ فِي الدِّينِ، یہ دین کے اندر سیدھا رہنا ہے، دین کے اندر درستگی ہے۔ وَهُوَ يَتَفَاوَتُ إِلَى دَرَجَاتٍ مُتَفَاوِتَةٍ، اور یہ مختلف ہوتی ہے مختلف درجات کی طرف۔ یعنی اس کے بہت سے درجات ہیں، بھئی، عدالت کے۔ بِالْإِفْرَاطِ وَالتَّعَصُّبِ، افراط کا معنی حد سے زیادی کرنا کسی چیز میں، تعصب کا معنی سختی کرنا۔ تو زیادی اور سختی کے اعتبار سے اس کے بہت سے، دین کے اندر جو استقامت ہے، اس کے بہت سے درجات ہیں۔ کوئی کتنا عمل کرنے والا ہے، کوئی کتنا عمل کرنے والا ہے۔ وَالْمُعْتَبَرُ هَاهُنَا كَمَالُهَا، اچھا بھئی، اس کے بہت سے درجات ہیں، تو معتبر کون سا ہے؟ کون سی عدالت کا اعتبار کیا جائے گا روایتِ حدیث میں؟ کہتے ہیں: وَالْمُعْتَبَرُ هَاهُنَا كَمَالُهَا، معتبر جو ہے یہاں پر، یعنی روایتِ حدیث کے اندر، كَمَالُهَا، کمال العدالة، کامل درجے کی عدالت ہے، کامل درجے کی ہونی چاہیے۔ بھئی، وہ کون سی ہے؟ کہتے ہیں: وَهُوَ رُجْحَانُ جِهَةِ الدِّينِ وَالْعَقْلِ عَلَى طَرِيقِ الْهَوَى وَالشَّهْوَةِ، وہ راجح ہونا ہے دین اور عقل کی جہت کا، شہوت اور خواہش کے راستے پر۔ ہوا اور شہوت، یعنی خواہش اور شہوت کے راستے پر دین اور عقل کی جہت کا راجح ہونا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے، بھئی؟ کہ دین اور عقل والی جہت راجح ہو، یہ جو، کس کے مقابلے میں؟ خواہش اور شہوت۔ یعنی اس راستے پر یہ جو زندگی گزارنے کے، یہ جو طریقہ ہے، راستہ ہے، جو خواہشات اور شہوتوں کی طرف نفس بلاتا ہے، لیکن وہ شخص دین اور، دین پر ثابت قدم ہو، ان، ان شہوتوں اور خواہشات کے مقابلے میں، وہ سختی سے دین پر جما ہوا ہے اور عمل کرتا چلا جا رہا ہے، بھئی۔ حَتَّى إِذَا ارْتَكَبَ كَبِيرَةً، یہاں تک کہ اگر کوئی شخص نے کسی، کسی شخص نے کبیرہ کا ارتکاب کیا، کوئی کبیرہ گناہ کر لیا، أَوْ أَصَرَّ عَلَى صَغِيرَةٍ، یا اصرار کیا صغیرہ پر۔ اصرار علی الصغیرہ کا معنی ہے صغیرہ کو بار بار کرنا۔ یاد رکھیے، کچھ گناہ بڑے ہیں اور کچھ گناہ صغیرہ ہیں، لیکن صغیرہ گناہ بھی بار بار کیا جائے تو وہ کبیرہ بن جاتا ہے، بھئی۔ کیا بن جاتا ہے؟ کبیرہ بن جاتا ہے۔ کہ انسان اس کو پروا ہی نہیں ہے، گناہ پہ بار بار گناہ کرتا جا رہا ہے تو یہ بھی کبیرہ ہو جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: إِذَا ارْتَكَبَ كَبِيرَةً، جب ارتکاب کیا اس نے کبیرہ گناہ کا، أَوْ أَصَرَّ عَلَى صَغِيرَةٍ، یا اصرار کیا صغیرہ پر، سَقَطَتْ عَدَالَتُهُ، تو اس کی عدالت کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہو جائے گی، اب وہ عادل نہ رہا۔ وَإِنْ لَمْ يُصِرَّ عَلَى صَغِيرَةٍ، اور اگر صغیرہ پر اصرار نہیں کیا، بَلْ يُلِمُّ بِهَا أَحْيَانًا، الم یلم کے معنی ہوتے ہیں مبتلا ہونا، بہا، ھا ضمیر راجع ہے صغیرہ کو، بَلْ يُلِمُّ بِهَا أَحْيَانًا، بلکہ وہ مبتلا ہو جاتا ہے صغیرہ میں کبھی کبھار، لَمْ تَسْقُطْ عَدَالَتُهُ، تو پھر اس کی عدالت ساقط نہیں ہے، بھئی۔ لِأَنَّ الْإِحْتِرَازَ عَنْ جَمِيعِ ذَلِكَ مِنْ خَوَاصِّ الْأَنْبِيَاءِ وَمُتَعَذِّرٌ فِي حَقِّ عَامَّةِ الْبَشَرِ، اس لیے کیونکہ بچنا ان تمام سے، ان تمام سے بچنا، صغیرہ اور کبیرہ سب سے بچنا، مِنْ خَوَاصِّ الْأَنْبِيَاءِ، یہ کس کے خواصوں میں سے ہے؟ انبیاء کے خواصوں میں سے ہے، وَمُتَعَذِّرٌ فِي حَقِّ عَامَّةِ الْبَشَرِ، اور یہ ممکن نہیں ہے عام انسانوں کے حق میں۔ وَالْإِصْرَارُ عَلَى ذَلِكَ يَكُونُ بِمَنْزِلَةِ الْكَبِيرَةِ، اور اصرار کرنا ان صغیرہ گناہوں پر، یہ کبیرہ کے درجے میں ہے، فَيَجِبُ الْإِحْتِرَازُ عَنْهُ، لہٰذا اس سے بچنا واجب ہے۔ صغیرہ کو بھی بار بار کیا جائے تو وہ کیا بن جاتا ہے؟ کبیرہ کے درجے میں ہو جاتا ہے، تو اس سے بچنا واجب ہے۔ وَفِي الْكَبَائِرِ إِخْتِلَافٌ، اور کبائر کے اندر اختلاف ہے۔ کبائر کون سے ہیں؟ یاد رکھیے، کبائر بہت سے، بعض علماء نے ان کی تعداد ستر تک لکھی، بعض نے کہا ان کی تعداد سات سو کے قریب تک ہے، وہ تفصیل بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَفِي الْكَبَائِرِ إِخْتِلَافٌ، کبائر کے اندر اختلاف ہے، فَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا أَنَّهَا سَبْعٌ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ وہ سات ہیں: أَلْإِشْرَاكُ بِاللهِ، اللہ کے ساتھ شریک بنانا، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُؤْمِنَةِ، اور کسی مومن نفس کو قتل کرنا، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ، اور پاک دامن عورت پر تہمت لگانا، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ، اور بھاگنا زحف، لشکر سے یا میدانِ، یوں کہیں، زحف کہتے ہیں لشکر کو بھی کہتے ہیں اور دشمن کی طرف پیش قدمی کو بھی کہتے ہیں زحف، بھئی۔ مراد ہے میدانِ جنگ سے بھاگنا۔ کس سے بھاگنا؟ میدانِ جنگ سے بھاگنا، یاد رکھیے، یہ گناہِ کبیرہ ہے، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ عین دشمن سے، کفار سے لڑائی ہو رہی ہے اور اس وقت کوئی میدانِ جنگ سے بھاگتا ہے، یہ گناہِ کبیرہ ہے اور بہت بڑا، کبائر میں بھی بڑے گناہوں میں سے ہے یہ پھر، کہ اس کی وجہ سے باقی ساتھیوں کے بھی حوصلے ٹوٹتے ہیں، بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو لہٰذا یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، اور یتیم کا مال کھانا، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ الْمُسْلِمَيْنِ، اور نافرمانی کرنا مسلمان والدین کی، نافرمانی کرنا؟ نافرمانی کرنا والدین کی، بھئی۔ یہ مسلمین کی قید احترازی نہیں، بھئی، اتفاقی قید ہے، بھئی، سمجھ میں آیا؟ یہ معنی نہیں کہ والدین اگر کسی کے مسلمان نہیں تو وہ ان کی فرماں برداری نہ کرے۔ والدین چاہے مومن، مسلمان ہوں چاہے کافر، ان کی فرماں برداری ضروری ہے، ہاں یہ کہ اگر وہ کسی غیر شرعی چیز کا حکم دیتے ہیں تو اس میں پھر ان کی فرماں برداری ضروری نہیں ہے، بھئی۔ وَالْإِلْحَادُ فِي الْحَرَمِ، بے دینی کرنا حرم میں۔ حرم شریف، بھئی، بے دینی کرنا، بھئی۔ تو بے دینی کی بات تو ویسے بھی گناہ ہے اور بالخصوص حرم کے اندر، تو وہاں تو یہ بہت بڑا جرم بن جاتا ہے، تو اس لیے کہا حرم میں بے دینی کرنا یہ بھی کبیرہ ہے۔ وَرَوَى أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ مَعَ ذَلِكَ أَكْلَ الرِّبَا، اور روایت کیا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے ساتھ سود کھانے کو بھی، کہ سود کھانا بھی کس میں سے ہے؟ کبائر میں سے ہے۔ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ أَضَافَ إِلَى ذَلِكَ السَّرِقَةَ، اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ملایا ہے اس کے ساتھ السرقۃ چوری کو بھی، وَشُرْبَ الْخَمْرِ، اور شراب پینا، وَزَادَ بَعْضُهُمْ، اور بعض نے اور بڑھایا ہے اس میں، أَلزِّنَا، زنا کو بھی، وَاللِّوَاطَةَ، اور لواطت کو، وَالسِّحْرَ، اور جادو کو، وَشَهَادَةَ الزُّورِ، اور جھوٹی گواہی کو، وَالْيَمِينَ الْكَاذِبَةَ، اور جھوٹی قسم کو، وَقَطْعَ الطَّرِيقِ، اور ڈاکا ڈالنے کو، وَالْغِيبَةَ وَالْقِمَارَ، اور غیبت کو اور جوئے بازی کو۔ وَقِيلَ هُمَا أَمْرَانِ إِضَافِيَّانِ فَكُلُّ ذَنْبٍ بِاعْتِبَارِ مَا تَحْتَهُ كَبِيرٌ وَبِاعْتِبَارِ مَا فَوْقَهُ صَغِيرٌ، اور بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ دو اضافی چیزیں ہیں، بھئی۔ یہ صغیرہ اور کبیرہ ہونا یہ کیا ہیں؟ اضافی چیزیں ہیں۔ ہر گناہ اپنے سے نچلے گناہ کی طرف نظر کرتے ہوئے کبیرہ ہے، اور ہر گناہ اپنے سے اوپر والے گناہ کی طرف نظر کرتے ہوئے صغیرہ ہے۔ تو کہتے ہیں: وَقِيلَ هُمَا أَمْرَانِ إِضَافِيَّانِ، کہا گیا ہے کہ یہ دو اضافی چیزیں ہیں، نسبت والی چیزیں ہیں۔ فَكُلُّ ذَنْبٍ بِاعْتِبَارِ مَا تَحْتَهُ كَبِيرٌ، ہر گناہ اپنے سے نیچے والے گناہ کے اعتبار سے بڑا ہے، وَبِاعْتِبَارِ مَا فَوْقَهُ صَغِيرٌ، اور اپنے سے اوپر والے کے اعتبار سے چھوٹا ہے۔ دُونَ الْقَاصِرِ، اس کا عطف وہ اس کا تعلق، بھئی، وَالْمُعْتَبَرُ هَاهُنَا كَمَالُهَا دُونَ الْقَاصِرِ، اس سے تعلق ہے۔ معتبر کیا ہے؟ عدالت کس قسم کی ہو؟ کامل درجے کی ہو نہ کہ قاصر یعنی کم درجے کی۔ وَهُوَ مَا ثَبَتَ بِظَاهِرِ الْإِسْلَامِ وَاعْتِدَالِ الْعَقْلِ، بھئی، کم درجے کی عدالت وہ کیا ہے؟ کہتے ہیں: وہ جو ثابت ہوتی ہے ظاہرِ اسلام سے اور اعتدالِ عقل سے۔ ظاہراً ایک شخص جب مسلمان ہے اور عقل اس کی متوازن ہے، ٹھیک ہے، تو ظاہری عدالت تو اسی سے آ جاتی ہے، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ ظاہری عدالت اسی سے آ جاتی ہے، لیکن اعتبار کس کا ہے؟ کامل درجے کی عبارت کا، کامل درجے کی عدالت کا اعتبار ہے کہ وہ دین پر پورے طریقے سے عمل کر رہا ہو، کبیرہ گناہوں سے بچتا ہو اور صغائر بھی زیادہ نہ کرتا ہو۔ فَإِنَّ الظَّاهِرَ، اس لیے کیونکہ ظاہر یہ ہے، أَنَّ كُلَّ مَنْ هُوَ مُسْلِمٌ مُعْتَدِلُ الْعَقْلِ لَا يَكْذِبُ، کہ ہر وہ شخص جو مسلمان ہے، معتدل یعنی متوازن عقل والا ہے، وہ جھوٹ نہیں بولتا۔ سمجھ میں آیا؟ وہ جھوٹ، جھوٹ نہیں بولتا، بھئی۔ روایتِ حدیث کر رہا ہے نا، تو ظاہری عدالت تو یہی ہے کہ جب وہ مسلمان ہے اور عقل اس کی درست ہے، تو پھر وہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا، بھئی۔ لیکن اس کا اعتبار نہیں ہے، بھئی۔ وہ جھوٹ نہیں بولتا، وَيَمْتَنِعُ عَنْ خِلَافِ الشَّرْعِ، اور وہ باز رہتا ہے خلافِ شرع چیزوں سے، وَلَكِنَّ هَذَا لَا يَكْفِي لِرِوَايَةِ الْحَدِيثِ، لیکن یہ روایتِ حدیث کے لیے کافی نہیں ہے، لِأَنَّ هَذَا الظَّاهِرَ يُعَارِضُهُ ظَاهِرٌ آخَرُ، اس لیے کیونکہ اس ظاہر کے مقابل ایک اور ظاہر بھی ہے، وَهُوَ هَوَى النَّفْسِ، اور وہ نفس کی خواہش ہے، بھئی۔ تو جیسے اس کا مسلمان ہونا اور متوازن عقل والا ہونا، یہ بتلاتا ہے کہ اسے قابلِ اعتماد ہونا چاہیے، دوسری طرف نفس کی خواہشیں بھی تو ہیں جو اس کو برے راستے کی طرف بلاتی ہیں، تو اس وجہ سے یہاں پر یہ اس کا مقابل موجود ہے، اس لیے اس کا اعتبار نہیں، بھئی۔ فَكَانَ عَدْلًا مِنْ وَجْهٍ دُونَ وَجْهٍ، تو یہ عادل ہوا من وجہ، نہ کہ من وجہ۔ وَإِنَّمَا يَكْفِي هَذَا فِي الشَّاهِدِ فِي غَيْرِ الْحُدُودِ وَالْقِصَاصِ مَا لَمْ يَطْعَنِ الْخَصْمُ، یاد رکھیے، بھئی، گواہ حدود اور قصاص کے مسئلے میں تو اس کی ظاہری عدالت کافی نہیں۔ تحقیق کی جائے گی۔ جو گواہ گواہی دینے آیا حدود کے مثلاً یا کس میں؟ قصاص کے مثلاً، اس کی تحقیق کی جائے گی کہ یہ عادل ہے یا عادل نہیں۔ ہاں، عام معاملات کے اندر، بھئی، تحقیق کی ضرورت نہیں، ظاہری عدل ہی کافی ہے۔ مسلمان ہے اور ٹھیک عقل رکھنے والا ہے تو فاسق نہیں ہے، تو پھر ظاہری عدالت ہی کافی ہے۔ اور لیکن اگر فریقِ مخالف نے اعتراض کر دیا کہ یہ شخص جس کو یہ گواہ لے کر آیا ہے یہ تو عادل ہی نہیں ہے، یہ گواہی کس طرح دیں گے، اس کی گواہی پر فیصلہ کیسے واجب ہوگا؟ تو اگر فریقِ مخالف اعتراض کر دے، پھر ان گواہوں کی بھی عدالت کی تحقیق ضروری ہو جائے گی، اس سے پہلے ضروری نہیں۔ یہ معنی ہے: وَإِنَّمَا يَكْفِي هَذَا فِي الشَّاهِدِ، اور یہ کافی ہے یعنی یہ ظاہری عدالت گواہ کے اندر، فِي غَيْرِ الْحُدُودِ وَالْقِصَاصِ، حدود اور قصاص کے علاوہ باقی جگہوں میں، مَا لَمْ يَطْعَنِ الْخَصْمُ، جب تک کہ فریقِ مخالف اس میں اس پر اعتراض نہ کرے۔ فَإِذَا كَانَ فِي الْحُدُودِ وَالْقِصَاصِ أَوْ طَعَنَ الْخَصْمُ فِيهِ لَا يَكْفِي هَاهُنَا أَيْضًا، پس جب گواہ کس میں ہو؟ حدود اور قصاص میں ہو، یا فریقِ مخالف اس پر اعتراض کرے، تو پھر یہاں بھی کافی نہیں، پھر یہاں پر بھی ظاہری عدالت سے کام نہیں چلے گا۔ وَالْإِسْلَامُ، اور جی، چوتھی شرط کیا تھی؟ راوی مسلمان ہونا چاہیے۔ کہتے ہیں: وَالْإِسْلَامُ وَهُوَ التَّصْدِيقُ وَالْإِقْرَارُ بِاللهِ تَعَالَى كَمَا هُوَ، وہ اسلام جو ہے، وہ تصدیق کرنا ہے یعنی دل سے، وَالْإِقْرَارُ، اور اقرار کرنا ہے یعنی زبان سے۔ وہ تصدیق اور اقرار کرنا ہے اللہ کا كَمَا هُوَ، جیسے کہ وہ ہے۔ یہ "واقعٌ" اس پر لکیر ہے آپ کی کتابوں میں؟ یاد رکھیے، یہ متن کا حصہ نہیں، آگے خود شارح بھی بتلا دیں گے آپ کو۔ كَمَا هُوَ وَاقِعٌ، جیسے کہ وہ ہے۔ فَالتَّصْدِيقُ عِبَارَةٌ عَنْ نِسْبَةِ الصِّدْقِ إِلَى الْمُخْبِرِ إِخْتِيَارًا، پس تصدیق جو ہے وہ عبارت ہے، وہ سچائی کی نسبت کرنا خبر دینے والے کی طرف اختیاراً، اپنے اختیار سے۔ اپنے اختیار سے سچ، سچ کی نسبت کرنا خبر دینے والے کی طرف کہ یہ شخص جو اپنی نبوت کی خبر دے رہا ہے یہ سچا ہے، اپنے اختیار سے یہ اعتقاد رکھنا۔ اپنے اپنے اختیار سے یہ اعتقاد رکھنا، بھئی، غیر اختیاری طور پر اگر یہ اعتقاد ہو اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ اپنے اختیار سے یہ اعتقاد ہو کہ یہ شخص جو خبر دے رہا ہے اپنی نبوت کی یہ کیا ہے؟ سچا ہے۔ یہ کس قسم کے اعتقاد ہو اپنے؟ اختیار، غیر اختیاری طور پر نہیں، کیونکہ غیر اختیاری طور پر پیغمبر کے حق ہونے کا اعتقاد تو کفارِ مکہ کو بھی حاصل تھا، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ، "یہ لوگ اس پیغمبر کو جانتے ہیں جس طرح کہ اپنی اولاد کو، اپنے بیٹوں کو جانتے ہیں"، جس طرح اپنے بیٹے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں کہ یہ میرا بیٹا ہے، اسی طرح یہ پیغمبر کو بھی جانتے ہیں کہ یہ اللہ کے پیغمبر ہیں، لیکن صرف ضد اور تعصب تھا جس کی وجہ سے وہ مانتے نہیں تھے، تو یہ غیر اختیاری اعتقاد تو انہیں بھی حاصل تھا، لیکن اس کا کوئی اعتبار نہیں، بلکہ کون سا اعتقاد ہونا چاہیے؟ اختیاری۔ لِأَنَّ الْإِذْعَانَ قَدْ يَقَعُ فِي قَلْبِ الْكَافِرِ بِالضَّرُورَةِ، اذعان یعنی یقین، اس لیے کیونکہ یقین جو ہے وہ تو کبھی کافر کے دل میں بھی واقع ہو جاتا ہے بالضرورۃ، یقینی طور پر، بدیہی طور پر، وَلَا يُسَمَّى ذَلِكَ إِيمَانًا، اور اس کو ایمان نہیں کہا جاتا۔ قَالَ اللهُ تَعَالَى، اللہ فرماتے ہیں: يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ، کہ وہ یہ مشرکین جو ہیں وہ جانتے ہیں پیغمبر کو جیسے کہ وہ جانتے ہیں اپنے بیٹوں کو۔ وَحُصُولُ هَذَا الْمَعْنَى لِلْكُفَّارِ مَمْنُوعٌ، اور اس معنی کا حصول تو کفار کے لیے ممنوع ہے۔ یعنی کفار، بھئی، پیغمبر کی صداقت کے قائل تو ہیں لیکن اپنے اختیار سے نہیں، اور ہم نے تو کیا کہا؟ ایمان کسے کہتے ہیں؟ اپنے اختیار سے تصدیق کرنا۔ وَلَوْ سُلِّمَ، بھئی، اس پر یہ اشکال ہوتا ہے نہ انہوں نے کہا: دل سے صداقت کو تسلیم کر لینا، کہ سچائی کی تصدیق کرنا کہ یہ شخص کیا ہے؟ واقعی اللہ کا پیغمبر۔ اگر تو یہ تو پھر اعتراض ہوتا تھا یہ تو کفار کو بھی حاصل تھا، بھئی، اللہ خود فرماتے ہیں: يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ، تو جواب دیا مصنف نے کہ بھئی، یہاں اختیار کی قید ہے، اپنے اختیار سے یہ اعتقاد ہو اور کفار کو جو یہ اعتقاد تھا وہ غیر اختیاری تھا۔ اور اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ ان کو اعتقاد حاصل تھا اور اس اعتقاد کی بنا پر تو ان کو بھی کیا کہنا چاہیے؟ مومن کہنا چاہیے۔ کہتے ہیں: ٹھیک ہے، اگر آپ کی بات مان بھی لی جائے کہ اختیار کی قید نہیں یا اختیار والا ہی ان کو بھی اختیار کے ساتھ تصدیق ان کو بھی حاصل تھی، پھر بھی وہ جو کفر کے عمل کرتے تھے، بتوں کے سامنے سجدہ وغیرہ کرتے تھے، یہ نشانیاں بتلاتی تھیں کہ یہ مسلمان نہیں ہیں، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ بھئی، اعتراض یہ ہوتا تھا نا کہ پھر تو ان کو بھی مسلمان کہنا چاہیے، اعتقاد تو ان کو بھی حاصل تھا، تو جواب دے رہے ہیں کہ بھئی، وہ جو کفر کی نشانیاں تھیں ان کی بنا پر پھر ان کو کافر قرار دیا جائے گا، بھئی، بتوں کے سامنے کیا کرتے تھے؟ سجدے وغیرہ کرتے تھے، یہ بتلا دیتی تھیں۔ تو کہتے ہیں وحصول هذا المعنى للكفار ممنوع اور اس معنی کا حصول کفار کے لیے ممنوع ہے یعنی تسلیم نہیں ہے ولو سلم اور اگر تسلیم کر لیا جائے فكفرهم باعتبار أمارات الإنكار تو ان کا کفر جو ہے وہ انکار کی نشانیوں کے اعتبار سے ہے۔ تو کہتے ہیں فكفرهم باعتبار أمارات الإنكار تو پھر ان کا کفر جو ہے وہ انکار کی نشانیوں کے اعتبار سے ہے یعنی یہ جو بتوں وغیرہ کے سامنے وہ سجدہ کرتے ہیں اس اعتبار سے وہ ان کو پھر کافر کہا جائے گا۔ والإقرار شرط لإجراء الأحكام اور اقرار شرط ہے اجراء احکام کے لیے۔ بھئی یاد رکھیے اکثر ائمہ کے نزدیک ایمان جو ہے وہ تصدیق قلبی کا نام ہے۔ ایمان صرف کس چیز کا نام ہے؟ تصدیق قلبی کا نام ہے اور یہ جو اقرار کرنا ہے زبان کے ساتھ زبان سے اقرار کرنا یہ شرط ہے احکام کے جاری کرنے کے لیے کہ پھر اس پر کیا ہوں گے؟ شریعت کے احکام جاری ہوں گے۔ باقی ایمان صرف ان کے نزدیک اکثر ائمہ کے نزدیک تصدیق قلبی کا نام ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی شخص کے دل میں تصدیق قلبی تو موجود ہے لیکن زبان سے اس نے کچھ نہیں کہا تو بھی ائمہ فرماتے ہیں کہ وہ عند الله مومن ہے بھئی عند الله وہ کیا ہے؟ مومن ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں والإقرار شرط لإجراء الأحكام اور اقرار جو ہے وہ شرط ہے احکام کے جاری کرنے کے لیے۔ یہ ایک مذہب بھئی۔ پہلا مذہب کے مطابق ایمان اور اسلام صرف کس چیز کا نام ہے؟ تصدیق کا نام ہے اور اقرار اس کے لیے شرط ہے۔ أو رکن مثل التصدیق یا اقرار رکن ہے تصدیق کی طرح۔ یعنی ایمان جو ہے وہ تصدیق اور اقرار کے مجموعے کا نام ہے۔ پہلے مذہب کے مطابق تو اقرار کیا تھا؟ شرط تھا۔ شرط تھا اور شرط شے سے کیا ہوتی ہے؟ خارج اور دوسرے مذہب کے مطابق اقرار رکن ہے اس شے کے اندر داخل ہے جس طرح تصدیق ہے بھئی۔ بأسمائه وصفاته بدل من قوله بالله بأسمائه اپنے اسماء کے ساتھ اپنے ناموں کے ساتھ وصفاته اور اپنی صفات کے ساتھ بدل من قوله بالله یہ بدل ہے مصنف کے قول باللہ سے بھئی۔ کیا ہوئی عبارت؟ وهو التصديق والإقرار بالله وہ تصدیق اور اقرار کرنا ہے اللہ کا والتصديق والإقرار بأسمائه وصفاته اور تصدیق اور اقرار کرنا اللہ کے اسماء اور اللہ کی صفات کا۔ تو یہ بدل ہے مصنف کے قول باللہ سے۔ ويحتمل أن يكون متعلقا بالواقع المقدر اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ متعلق ہو لفظ واقع کے ساتھ جو وہ انہوں نے نکالا تھا اوپر بھئی کما هو واقع المقدر جو مقدر ہے خبرا لهو جو خبر ہے کس کے لیے؟ هو۔ کما هو، هو مبتدا اور واقع اس کی خبر۔ یوں کہو خبر ہے بأسمائه وصفاته، کما هو بأسمائه وصفاته اور پھر جار مجرور کے لیے متعلق چاہیے تو وہ کیا نکالا؟ واقع۔ کما هو واقع بأسمائه وصفاته جیسا کہ وہ ہے اپنے اسماء اور صفات کے ساتھ۔ ترجمے میں فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی اب فرق کیا ہے؟ انہوں نے کہا اسماء اور صفات۔ اسماء اور صفات میں کیا فرق ہے وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں والأسماء هي المشتقات اسماء جو ہیں یہ مشتقات ہیں بھئی یعنی الرحمٰن بھئی یہ دیکھو مشتق کا صیغہ ہے۔ الرحیم یہ کیا ہے؟ تو اسماء کیا ہیں؟ یہ مشتقات ہیں جو مصدر سے بنتے ہیں بھئی۔ تو یہ اللہ کے جو اسماء ہیں الرحمٰن، الرحیم، الملک، القدوس وغیرہ یہ کیا ہیں؟ یہ مشتقات یعنی کہ رحمٰن اور رحیم وغیرہ والعليم والقادر اور جیسے اور علیم اور قدیر وغیرہ۔ یہ ہیں اسماء۔ والصفات هي مبادئ المشتقات اور صفات جو ہیں وہ مشتقات کے مبادی ہیں۔ صفات کیا ہیں؟ جیسے علم اللہ کے لیے صفت علم ہے اسی کی بناء پر اللہ کا اسم کیا ہے؟ علیم۔ اللہ کے لیے صفت قدرت ہے اسی صفت قدرت کی بناء پر اللہ کا اسم کیا ہے؟ قدیر۔ تو دیکھو وہ اسماء ہیں اور یہ صفات ہیں بھئی۔ جن سے پھر وہ اسماء بنے ہیں۔ وصفات هي مبادئ المشتقات اور صفات جو ہیں وہ مشتقات کے مبادی ہیں جن سے مشتقات کی ابتداء یعنی جن سے مشتقات اخذ ہوتے ہیں بنائے جاتے ہیں من العلم والقدرة یعنی علم اور قدرت وغیرہ۔ وقبول أحكامه وشرائعه اور قبول کرنا اس کے احکام کو اللہ کے احکام کو اور اس کی شریعتوں کو۔ يحتمل أن يكون مرفوعا معطوفا على الإقرار یہ بھی احتمال ہے کہ یہ مرفوع ہو بھئی قبول أحكامه، یہ قبول کیا ہو؟ مرفوع ہو معطوفا على الإقرار کس پر عطف ہو؟ اقرار پر۔ پیچھے آئیے۔ وهو التصدیق والإقرار وقبول أحكامه وشرائعه کہ اسلام کس چیز کا نام ہے؟ تصدیق کرنا اور اللہ کی تصدیق اور اقرار کرنا اور اس کے احکام کو اور اس کی شریعتوں کو قبول کرنا۔ تو اس صورت میں یہ مرفوع ہو گا۔ ويحتمل أن يكون مجرورا اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ مجرور ہو قبول کا لفظ معطوفا على قوله بأسمائه وصفاته معطوف ہو یہ مصنف کے قول بأسمائه وصفاته۔ تو اس صورت میں عبارت کیسے ہوئی؟ وهو التصديق والإقرار بالله بأسمائه وصفاته وقبول أحكامه وشرائعه۔ والشرط فيه البيان إجمالا كما ذكرنا اور شرط اس کے اندر اسلام بھئی اسلام کے اندر کس چیز سے ہم میں پتہ چلے گا کوئی شخص مسلمان ہے یا مسلمان نہیں؟ کہتے ہیں شرط اس کے اندر بیان کرنا ہے اجمالی طور پر جیسے کہ ہم نے ذکر کیا۔ اجمالی طور پر بھی اگر کوئی بیان کر دے اسلام کو تو اسے مسلمان سمجھا جائے گا۔ اجمالی طور پر بھی کوئی اسلام کو بیان کر دے تو اسے کیا سمجھا جائے گا؟ مسلمان سمجھا جائے گا۔ دیکھیے تفصیل آگے آ رہی ہے۔ یعنی تفصیل تفصیلی طور پر بیان ضروری نہیں، اجمالی بیان بھی کافی ہے مسلم مسلمان تسلیم کرنے کے لیے۔ أي الشرط في الإسلام بيان الشرائع إجمالا یعنی شرط ہے اسلام کے اندر شریعتوں کو اجمالاً بیان کرنا بأن يقول بعین طور کہ یوں کہتا ہے كل ما جاء به محمد صلى الله عليه وسلم فهو حق اور وہ جو کچھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں تو وہ حق ہے۔ وأن الله تعالى مع جميع صفاته قديم ثابت حق اور یہ کہ اللہ اپنی تمام صفات کے ساتھ قدیم ہیں، ثابت ہیں، حق ہیں۔ قدیم ہیں یعنی ہمیشہ سے ہیں جن پر کبھی عدم نہیں آیا۔ تمام صفات کے ساتھ قدیم ہیں، ثابت ہیں اور حق ہیں۔ تو دیکھو اجمالاً کوئی بیان کر دے۔ تفصیل نہیں بیان کی کیا کیا لے کر آئے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھئی، اللہ کی صفات وغیرہ کی تفصیل نہیں بس اجمالاً یہ کہہ دے جو کچھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں وہ برحق ہے اور اللہ تعالیٰ موجود ہیں تمام صفات کے ساتھ اور ہمیشہ سے ہیں تو بس یہ کافی ہے۔ وقد كان النبي صلى الله عليه وسلم يكتفي بالإيمان الإجمالي اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اکتفاء فرما لیا کرتے تھے اجمالی ایمان پر حيث قال اس طور پر کہ آپ نے فرمایا لأعرابي شهد بهلال رمضانا اس دیہاتی کے بارے میں جس نے رمضان کے اس دیہاتی سے جس نے گواہی دی تھی رمضان کے ہلال کی۔ بھئی ایک دیہاتی نے گواہی دی کہیں سفر وغیرہ میں کہ میں نے چاند دیکھا ہے۔ تو حضور علیہ السلام نے پوچھا أتشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں؟ قال نعم اس نے کہا ہاں، بس۔ تو یہ اجمالی بیان کافی ہوا فقبل شهادته تو حضور علیہ السلام نے اس کی شہادت کو قبول فرمایا وہ جو چاند دیکھنے کی شہادت تھی وحكم بالصوم اور حکم دیا روزہ رکھنے کا۔ وقال لجارية اور اسی طرح ایک باندی سے فرمایا أين الله اللہ کہاں ہیں؟ فقالت في السماء اس نے کہا آسمانوں میں۔ فقال من أنا حضور نے فرمایا میں کون ہوں؟ فقالت أنت رسول الله آپ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ فقال لمالكها تو حضور علیہ السلام نے ان کے مالک سے فرمایا أعتقها فإنها مؤمنة اسے آزاد کر دو کیونکہ یہ مومنہ ہے بھئی۔ سورہ سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھو اجمالی بیان بھی اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم قبول فرما لیتے تھے۔ وقال بعض المشايخ اور بعض مشائخ جو ہیں وہ فرماتے ہیں لا بد من الوصف على التفصيل کہ وصف یعنی بیان تفصیل کے طریقے پر ہونا ضروری ہے حتى إذا بلغت المرأة یہاں تک کہ ایک عورت بالغ ہوئی فاستوصفت الإسلام تو اس سے اسلام کا وصف پوچھا گیا کہ اسلام بیان کرو کسے کہتے ہیں؟ فلم تصف تو وہ بیان نہ کر سکی فإنها تبين من زوجها تو یہ عورت اپنے خاوند سے جدا ہو جائے گی وجعل ذلك ردة منها اور اس کو اس عورت کی طرف سے مرتد ہونا قرار دیا جائے گا۔ اسلام کو وہ بیان نہ کر سکی تو کیا سمجھا جائے گا کہ وہ مرتد ہو چکی اور مرتادہ کیا ہے اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے ختم ہو جاتا ہے تو یہاں بھی ایسا ہی ہو گا۔ شارح فرماتے ہیں وفيه حرج عظيم لا يخفى اس میں عظیم حرج ہے جو مخفی نہیں ہے۔ اگر ان مشائخ کا قول لیا جائے تو اس میں عظیم حرج ہے کہ تفصیلی بیان تفصیلی بیان تو بڑا مشکل ہے ہر شخص کے لیے، عام لوگ تو اتنی تفصیل نہیں جانتے۔ ولهذا لا يقبل اور اسی وجہ سے قبول نہیں کیا جائے گا خبر الكافر کافر کی خبر یعنی کافر کی حدیث کو۔ کیوں نہیں قبول کیا جائے گا کافر کی حدیث کو؟ کیونکہ راوی میں چار شرطیں ضروری تھیں ان میں سے ایک شرط کیا تھی؟ اسلام، وہ کافر میں نہیں۔ والفاسق اسی طرح فاسق کی خبر کو بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ کیوں نہیں قبول کیا جائے گا؟ کیونکہ اس میں عدالت نہیں بھئی اس میں چار شرطوں میں سے۔ والصبي والمعتوه بچے اور ناسمجھ کی خبر کو بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ کیوں نہیں قبول کیا جائے گا؟ عقل کامل نہیں ہے۔ والذي اشتدت غفلته اور وہ شخص جس کی غفلت بہت زیادہ ہو اس کی خبر کو بھی قبول نہیں کریں گے۔ کیوں نہیں کریں گے؟ کیونکہ ضبط نہیں ہے۔ تفريع على الشروط الأربعة یہ تفریع ہے چار شرطوں پر على غير ترتيب اللف جو لف کی ترتیب کے غیر پر ہے یعنی اس ترتیب پر نہیں ہے۔ فالكافر راجع إلى الإسلام تو یہ کافر جو ذکر کیا خبر الكافر یہ راجع ہے اسلام کی طرف۔ والفاسق راجع إلى العدالة اور فاسق جو ہے یہ کس کی طرف؟ عدالت کی طرف۔ والصبي والمعتوه إلى كمال العقل اور بچہ اور ناسمجھ جو ہے کمال عقل کی طرف۔ والذي اشتدت غفلته إلى الضبط اور وہ شخص جس کی غفلت بہت زیادہ شدید ہے وہ ضبط کی طرف۔ وأما الأعمى اور باقی اندھا جو ہے والمحدود في القذف اور وہ شخص جو محدود فی القذف ہے یعنی جس پر حد قذف لگ چکی ہے۔ اور یہ توبہ کے بعد کی اب بات ہو رہی ہے بھئی، محدود فی القذف ہے یاد رکھیے وہ کسی معاملے میں گواہی نہیں دے سکتا لیکن اگر توبہ کر لے اس کے بعد اس کی روایت حدیث کو قبول کیا جائے گا۔ والمرأة اور اسی طرح عورت والعبد اور غلام جو ہیں فتقبل روايتهم في الحديث تو ان کی روایت قبول کی جائے گی حدیث میں لوجود الشرائط شرائط کے پائے جانے کی وجہ سے کہ ان کے اندر وہ چاروں شرطیں ہوں تو پھر ان کی بات قبول کی جائے گی بھئی۔ فتقبل روايتهم في الحديث لوجود الشرائط تو قبول کی جائے گی ان کی روایت یعنی یہ جو اندھا کوئی اندھا ہے یا محدود فی القذف ہے اس کی توبہ کے بعد اور اسی طرح کوئی عورت ہے یا غلام ہے فتقبل روايتهم في الحديث ان کی روایت قبول کی جائے گی حدیث کے اندر لوجود الشرائط شرائط کے پائے جانے کی وجہ سے بھئی کہ وہ جو شرائط تھیں راوی کی وہ ان میں پائی جائیں۔ کیا کیا شرائط تھیں بھئی؟ اسلام تھا اور اور؟ ضبط اور عدالت اور عقل۔ تو ان شرائط کے پائے جانے کی وجہ سے ان کی حدیث کے اندر ان کی روایت کو قبول کیا جائے گا۔ وإن لم تقبل شهادتهم في المعاملات اگرچہ ان کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی معاملات کے اندر۔ هكذا قيل اسی طرح کہا گیا ہے۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
84 approved lectures · 40 of 84