Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-138

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 13 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 7
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔138 "وقلنا" معطوف على قوله "بقيت"، أي ولهذا قلنا تغسل المرأة زوجها في عدتها لبقاء ملك الزوج في العدة، والمالك هو المحتاج إلى الغسل، بخلاف ما إذا ماتت المرأة حيث لا يغسلها زوجها؛ لأنها مملوكة وقد بطلت أهلية المملوكية بالموت. "وقلنا" کہتے ہیں: یہ معطوف ہے "على قوله بقيت" مصنف کے قول "بقيت" پر، جو یہاں تقریباً پانچ، چھ سطریں قبل آیا تھا بھئی متن میں "ولهذا بقيت الكتابة". تو یہ جو "بقيت" ہے، اس پر یہ عطف ہے "قلنا" کا۔ اور اس "بقيت" سے پہلے "ولهذا" اسی سے متعلق ہے۔ تو اس وہ بھی یہاں پر شارح نکال کر بتلا رہے ہیں: "أي ولهذا قلنا"، اور اسی وجہ سے ہم نے کہا۔ کس وجہ سے؟ جو پیچھے ذکر ہوئی تھی کہ موت جو ہے وہ حاجت کے منافی نہیں۔ موت حاجت کے منافی نہیں۔ موت کے بعد بھی جو حاجت ہے ضرورت کی چیز ہے، وہ باقی رہتی ہے میت کے لیے۔ اسی بنا پر ہم نے یہ کہا کہ "تغسل المرأة زوجها" کہ عورت غسل دے گی اپنے خاوند کو۔ عورت غسل دے سکتی ہے اپنے خاوند کو، کوئی اور غسل دینے والا نہیں تو عورت کیا کر سکتی ہے؟ غسل دے سکتی ہے اپنے خاوند کو "في عدتها" اپنی عدت کے اندر "لبقاء ملك الزوج في العدة" بوجہ خاوند کی ملکیت کے باقی رہنے کے "في العدة" عدت میں۔ بھئی! عدت کے اندر آپ جانتے ہیں من وجہ نکاح ابھی ہے جبی تو وہ عورت آگے نکاح نہیں کر سکتی بھئی۔ تو اس دوران میت کو چونکہ حاجت ہے وہ غسل کی، میت کو حاجت ہے غسل کی اور موت حاجت کے منافی نہیں، تو حاجت کی وجہ سے اب وہ عورت کیا کر سکتی ہے؟ اسے غسل دے سکتی ہے۔ تو خاوند کی ملک زوج باقی ہے عدت میں "والمالك هو المحتاج إلى الغسل" اور مالک جو ہے وہ محتاج ہے کس چیز کا؟ غسل کا۔ "بخلاف ما إذا ماتت المرأة" بخلاف اس کے کہ جب عورت مر جائے "حيث لا يغسلها زوجها" اسے اس کا خاوند غسل نہیں دے سکتا بھئی۔ کیوں؟ "لأنها مملوكة" کیونکہ وہ مملوکہ تھی خاوند کی، ملک نکاح حاصل تھی نہ اس پر خاوند کو، تو وہ مملوکہ تھی۔ سمجھ میں آیا؟ مملوکہ وہ باندی والا مملوکہ، مملوکیت مراد نہیں ہے، بلکہ کون سی مملوکیت ہے؟ ملک نکاح بھئی۔ کیونکہ وہ خاوند کی مملوکہ تھی "وقد بطلت أهلية المملوكية بالموت" اور تحقیق مملوکیت کی جو اہلیت ہے وہ باطل ہوگئی موت کی وجہ سے۔ وہ مملوکہ تھی خاوند کی اور موت کے بعد اب اس میں، وہ تو مر گئی، اب اس میں مملوکہ ہونے کی اہلیت ہی نہ رہی، لہذا مملوکیت ختم ہوگئی۔ تو جب مملوکیت ختم ہوگئی تو خاوند اب اسے غسل نہیں دے سکتا۔ "ولهذا لا تكون العدة عليه بعدها" اور اسی وجہ سے خاوند پر عدت نہیں ہے اس کے مرنے کے بعد۔ مملوکیت کی اس میں اہلیت ہی نہ رہی، بیوی مر گئی، خاوند کو اس پر کیا حاصل تھی؟ ملک نکاح। تو مرتے ہی ملک نکاح ختم؛ کیونکہ مملوکیت کے لیے زندہ ہونا ضروری تھا، وہ تو مر چکی ہے، اس میں اہلیت ہی نہ رہی مملوکہ ہونے کی، اس پر ملک نکاح رہی ہی نہ، تو مملوکیت ختم ہوگئی۔ جب مملوکیت ختم ہوگئی تو اب خاوند اسے غسل نہیں دے سکتا۔ اور کہتے ہیں: اسی وجہ سے خاوند پر کوئی عدت بھی نہیں ہے۔ خاوند پر [unclear] بھئی! آپ جانتے ہیں ایک شخص کی چار بیویاں ہوں، وہ ایک کو طلاق دے دے، تو کیا خاوند دوسرا چوتھا نکاح فوراً کر سکتا ہے؟ نہیں۔ جب تک اس عورت کی عدت نہیں پوری ہوتی، تو گویا خاوند پر بھی اسی طرح اس کی عدت ہے، وہ اس دوران چوتھا نکاح نہیں کر سکتا؛ کیونکہ وہ ابھی بیوی چوتھی من وجہ ابھی نکاح میں ہے اگرچہ طلاق دے چکا ہے، لیکن نکاح کا تعلق تو باقی ہے۔ چنانچہ وہ جب عدت پوری ہو، پھر اس کے بعد خاوند چوتھا نکاح کر سکتا ہے۔ یا اسی طرح ایک شخص ہے اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے اور اس کی بہن سے نکاح کرنا چاہتا ہے، یہاں بھی جب تک عدت نہیں پوری ہوگی وہ اس کی بہن کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتا، تو گویا خاوند پر بھی عدت ہے اس دوران؛ کیونکہ من وجہ نکاح باقی ہے، تو بہن سے نکاح کرے گا تو گویا ایک ہی شخص کے عقد میں کیا ہوجائیں گی؟ دو بہنیں جمع ہوجائیں گی، حالانکہ دو بہنوں کا ایک عقد میں جمع کرنا جائز نہیں۔ لیکن یہاں پر یاد رکھیے جب بیوی کا انتقال ہوجائے، چار بیویاں تھیں ایک کا انتقال ہوا، اب خاوند پر کوئی عدت نہیں ہے؛ کیونکہ اس پر ملک نکاح تھی، ملک نکاح انتقال کے ساتھ ہی ختم। کیوں ختم؟ کیونکہ عورت میں مملوکہ ہونے کی صلاحیت ہی نہ رہی، لہذا خاوند فوراً چوتھا نکاح کرنا چاہتا ہے، کر سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ بیوی کا انتقال ہوا، انتقال ہوتے ہی فوراً اس کی بہن سے نکاح کرنا چاہتا ہے، کر سکتا ہے؛ کیونکہ یہاں مملوکیت کی اس میں اہلیت نہیں، وہ مملوکیت ختم ہوئی اور اسی وجہ سے خاوند پر کوئی عدت بھی نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے "ولهذا لا تكون العدة عليه بعدها" اور اسی وجہ سے عدت نہیں ہے خاوند پر "بعدها" اس عورت کے مرنے کے بعد۔ "وقال الشافعي رحمه الله" جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "يغسلها زوجها" کہ اس کو دے سکتا ہے اس کا خاوند غسل "كما تغسله هي زوجها" جیسے کہ یہ عورت غسل دے سکتی ہے اپنے خاوند کو۔ جیسے عورت خاوند کو غسل دے سکتی ہے مرنے کے بعد، تو خاوند بھی عورت کو غسل دے سکتا ہے۔ "لقوله عليه الصلاة والسلام لعائشة رضي الله تعالى عنها: لو مت لغسلتك" بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے کہ جو آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے فرمایا۔ حضور فرمانے لگے حضرت عائشہ سے: "لو مت" اگر تو مر گئی، اگر تمہارا انتقال ہوا "لغسلتك" تو میں تمہیں غسل دوں گا۔ البتہ میں کیا کروں گا تمہیں؟ غسل۔ تو دیکھیے! یہاں حضور فرما رہے ہیں حضرت عائشہ سے، اپنی زوجہ مطہرہ سے کہ اگر تمہارا انتقال ہوا تو میں تمہیں غسل دوں گا، معلوم ہوا خاوند بیوی کو غسل دے سکتا ہے۔ اور احناف، آپ تو کیا کہتے ہیں؟ خاوند بیوی کو غسل نہیں دے، بیوی دے سکتی ہے خاوند کو، لیکن خاوند بیوی کو غسل نہیں دے سکتا۔ "والجواب" جواب دے رہے ہیں بھئی احناف کی طرف سے، جواب یہ کہ "أن معنى لغسلتك" کہ حضور علیہ السلام کا جو قول ہے "لغسلتك" اس کا معنی یہ ہے: "لقمت بأساب غسلك" کہ البتہ میں قائم کروں گا تمہارے غسل کے اسباب، یعنی تمہارے غسل کے اسباب میں بنا دوں گا، میں غسل کا انتظام کر دوں گا یوں کہیں۔ تو حضور علیہ السلام کا یہ کہنے کا یہ معنی نہیں کہ میں خود غسل دوں گا، کہنے کا معنی کیا ہے؟ میں تمہارے غسل کا انتظام کر دوں گا۔ "وما لا يصلح لحاجة كالقصاص" اور وہ چیز جو صلاحیت نہیں رکھتی "لحاجته" یعنی "لحاجة الميت" میت کی حاجت کی "كالقصاص" جیسے کہ قصاص۔ یہاں بتلائیں گے آپ کو کہ اس میں دو احتمال ہیں۔ ایک احتمال تو یہ: "وما لا يصلح لحاجته" یہ ہے مبتدا اور "كالقصاص" یہ ہے اس کی خبر، اور وہ چیز جو میت کی حاجت ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی "كالقصاص" وہ کس کی طرح ہے؟ قصاص کی طرح ہے، یہ مبتدا خبر ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ ایک ترکیب یہ۔ دوسری ترکیب: "وما لا يصلح لحاجته" یہ اس کا عطف ہے یہ تقریباً 10، 15 سطریں قبل جو آیا تھا "وإن كان حقا له" مل گیا بھئی؟ 8، 10 سطریں یا 12 سطریں قبل آیا ہے "وإن كان حقا له بقي له ما تقضى به الحاجة"، اور اگر میت کا وہ حق ہے، وہ چیز جو ہے وہ میت کا حق ہے، تو "بقي له" تو باقی رہے گی میت کے لیے "ما تقضى به الحاجة" وہ چیز جس کے ذریعے کیا پوری کی جائے؟ حاجت۔ تو دوسری ترکیب یہ بتلا رہے ہیں کہ یہ جو "ما تقضى به الحاجة" ہے، اس پر عطف ہے "وما لا يصلح لحاجته" کا۔ تو عبارت کیا بن گئی؟ "بقي له ما لا يصلح لحاجته" میت کے لیے باقی رہے گی وہ چیز بھی جو اس کی حاجت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی، "ما لا يصلح" جو اس کی حاجت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی، پیچھے تو ذکر تھا نا اس چیز کا جو حاجت بننے کی صلاحیت رکھتی ہے، وہ تو باقی رہیں گی، جو چیز حاجت بننے کی صلاحیت نہیں وہ بھی باقی رہے گی "كالقصاص" جیسے قصاص ہے، یہ باقی رہے گا بھئی۔ میت کسی کو قتل کر دے تو قصاص لیا جاتا ہے یا نہیں لیا جاتا؟ حالانکہ میت کو اس کی حاجت نہیں، وہ تو اس دنیا سے چلا گیا بھئی، لیکن پھر بھی قصاص لیا جائے گا اس کے وارثوں کے لیے، تاکہ وارثوں کے دل میں جو دشمنی پیدا ہوئی اس شخص کی، انہوں نے اس قاتل نے نقصان کیا یا نہیں وارثوں کا؟ وہ اس میت سے مرنے والے شخص سے جب یہ زندہ تھا وہ سارے نفع اٹھا رہے تھے بھئی، سب کو اس شخص کا فائدہ تھا زندگی کے اندر، اور جب اس قاتل نے اس کو مار دیا تو اس کی وجہ سے ان کے دلوں میں کینہ پیدا ہوا، انتقام کی آگ ان کے دلوں میں بھڑک اٹھی، تو اس لیے اب قصاص کا حکم دیا گیا تاکہ ان کی وہ انتقام کی آگ بھی ٹھنڈی ہوجائے اور نیز تاکہ معاشرے کے اندر پھر کسی اور کو اس طرح کرنے کی جرات نہ ہو بھئی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو اب اس کو میت کو تو اس کی حاجت نہیں تھی، لیکن یہ بھی باقی رہے گا۔ تو یہ عبارت بن گئی "بقي" اما متن پہ دیکھیے: پیچھے عبارت کیا تھی؟ "وبقي له ما لا يصلح لحاجته" یہ عبارت بن گئی، اور میت کے لیے باقی رہے گی وہ چیز جو اس کی حاجت کی صلاحیت نہیں رکھتی "كالقصاص" جیسے کہ قصاص۔ دیکھیے! اب دونوں ترکیبیں بتا رہے ہیں: "يحتمل أن يكون معطوفا على ما تقضى به الحاجة" یہ بھی احتمال ہے کہ یہ معطوف ہو بھئی مصنف کے قول "ما تقضى به الحاجة" پر "يعني بقي للميت ما تقضى به الحاجة وما لا يصلح لحاجة كالقصاص" تو اس طرح عبارت بن گئی۔ "ويحتمل" اور یہ بھی احتمال ہے "أن يكون ابتداء كلام واقعا مبتدأ وخبرا" اور یہ بھی امکان ہے کہ یہ ابتدائے کلام ہو جو واقع ہوا ہے مبتدا اور خبر، دوسری ترکیب بھی میں نے آپ کو بتلا دی تھی۔ "وإنما أورده بتقريب ما تقضى به الحاجة" بھئی! یہ مبتدا خبر ہے تو یہ تو الگ بات ہے، پھر اس کو یہاں کیوں لے کر آئے؟ بتلا رہے ہیں کہ یہاں پر "وإنما أورده" مصنف اس کو لے کر آئے ہیں، جب اس کو مبتدا خبر بنائیں تو اب اس کو لے کر آئے ہیں "بتقريب ما تقضى به الحاجة"، تقریب کا معنی مناسبت، "ما تقضى به الحاجة" کی مناسبت سے۔ پیچھے کن چیزوں کا ذکر تھا؟ جن کے ذریعے میت کی حاجت پوری ہوگی، جو میت کی حاجت پوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اور ساتھ ہی اب اس کو بھی ذکر کر دیا جو میت کی حاجت بننے کی صلاحیت اور حاجت پوری کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، تو اسی مناسبت سے اس کو ذکر کر دیا۔ "وإنما يكون القصاص مما لا يصلح لحاجته" اور قصاص جو ہوگا یہ ان چیزوں میں سے ہوجائے گا جو میت کی حاجت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے؛ "لأنه شرع عقوبة لدرك الثأر" الثأر بھئی! یہ الف پر ہمزہ ہونا چاہیے بھئی، "لدرك الثأر"، ثار کہتے ہیں کینے کو بھئی، انتقام کو، انتقام۔ "لأنه شرع" کیونکہ قصاص جو ہے یہ مشروع ہوا ہے "عقوبة" بطور سزا کے "لدرك الثأر" درک کا معنی وہ نقصان بھئی، اور مراد تلافی ہے بھئی، اور ثار میں نے بتلایا کینہ اور انتقام بھئی، انتقام کی انتقام کے ضمان کے لیے بھئی یا انتقام کے تاوان کے لیے یا یوں کہیں انتقام کی تلافی کے لیے، کس کے لیے؟ انتقام کی تلافی کے لیے۔ "وهو تشفي الصدور للأولياء" اور وہ اولیاء کے سینوں کا مطمئن ہونا ہے، ان کے اطمینان ہے، "وهو تشفي الصدور للأولياء" اور وہ جو مقتول کے اولیاء جو ہیں ان کے سینوں کے ان کے دلوں کے اطمینان کے لیے ہے۔ سمجھ میں آیا؟ "درك الثأر" کا معنی بتلا رہے ہیں نا، "درك الثأر" کیا معنی میں نے کیا؟ انتقام کی تلافی، کیا معنی انتقام کی تلافی؟ "وهو تشفي الصدور للأولياء" وہ جو مقتول کے اولیاء ہیں ان کے دلوں کے اطمینان کے لیے، تشفی کا معنی اطمینان۔ "بدفع شر القاتل" کس طرح؟ قاتل کے شر کو دفع کرتے ہوئے، اس سے کیا ہوگی؟ ان کے دلوں کو اطمینان ہوگا۔ "ووقعت الجناية أوليائه على أوليائه من وجه" اور یہ جنایت واقع ہوئی ہے مقتول کے اولیاء پر یا میت کے اولیاء پر "من وجه" من وجہ بھئی، جنایت تو قاتل پر بھی ہے، لیکن من وجہ اس کے اولیاء پر بھی جنایت ہوئی ہے، ان پر بھی جرم کیا اس نے ان کے خلاف بھی۔ کس طرح بھئی؟ کہتے ہیں: "لانتفاعهم بحياته" اس وجہ سے کہ وہ سارے اس کی مرنے والے کی زندگی سے نفع اٹھا رہے تھے بھئی۔ "فأوجبنا القصاص للورثة ابتداء" تو ہم نے قصاص کو واجب کیا وارثوں کے لیے ابتداءً، شروع سے ہی۔ یاد رکھیے یہ ابتداءً بھی متن کا حصہ ہے بھئی۔ تو یہ جو قصاص آیا وارثوں کے لیے ابتداءً ہی آیا، یہاں یہ بتلائیں گے آپ کو کہ دیکھیے! یہ جو قصاص آتا ہے یہ ایسا نہیں ہے کہ اولاً میت کے لیے ثابت ہو اور پھر میت سے منتقل ہو کس کی طرف؟ جیسے میراث میت سے منتقل ہوتی ہے وارثوں کی طرف، تو کہتے ہیں: یہ جو قصاص ہے یہ میت سے وارثوں کی طرف منتقل نہیں ہوتا، بلکہ یہ ابتداءً ہی ثابت کس کے لیے ہوتا ہے؟ وارثوں کے لیے ثابت ہوتا ہے؛ کیونکہ میت کو تو اس کی کوئی حاجت نہیں ہے، ہاں حاجت کس کو ہے؟ ضرورت جن کو ہے؟ وارثوں کو، تو یہ ابتداءً ہی وارثوں کے لیے ثابت ہوگا، میراث کے طریقے پر نہیں ہوگا بھئی۔ یہ معنی ہے: ہم نے ثابت کیا قصاص کو وارثوں کے لیے ابتداءً ہی، "لا أنه يثبت للميت أولا ثم ينتقل إليهم كالحقوق" نہ یہ کہ یہ پہلے میت کے لیے ثابت ہوتا ہے اور پھر ان کی طرف منتقل ہوتا ہے، ایسا نہیں ہے "كالحقوق" جیسے کہ حقوق ہیں، حقوق تو اولاً کس کے لیے ثابت ہوتے ہیں؟ میت کے لیے، پھر کس کی طرف منتقل ہوتے ہیں؟ وارثوں کی طرف۔ "والسبب انعقد للميت" اور یہ سبب منعقد ہوا ہے میت کے لیے، یہ موت کا سبب کس کے لیے منعقد ہوا اولاً؟ میت کے لیے بھئی، اس نے میت کو زخم لگایا فرض کریں۔ صورت جو بنا رہے ہیں آگے بتا رہے ہیں۔ تو بڑا سخت زخم لگایا اور میت، وہ مرنے والا دو، چار دن شدید زخمی حالت میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہا، پھر اس کا انتقال ہوگیا۔ اب ابھی وہ زندہ تھا، وہ معاف کرنا چاہے تو اس زخم لگانے والے کو معاف کر سکتا ہے، اور اس کے جو اولیاء ہیں، وہ بھی اس کے جو وارث بننے والے ہیں آگے وہ بھی کیا کر سکتے ہیں؟ اس شخص کو زخم لگانے والے کو معاف کر سکتے ہیں۔ میت، یہ مرنے والا ہے وہ کیوں معاف کر سکتا ہے؟ وجہ یہ؛ کیونکہ یہ سبب اولاً کس کے حق میں منعقد ہوا؟ اس کی اپنی ذات پر چونکہ، اس کو زخمی کیا ہے اس نے، تو اس کا حق ہے وہ معاف کر سکتا ہے۔ اور وارث کیوں معاف کر سکتے ہیں؟ کیونکہ ہم نے بتلا دیا کہ یہ یہ حق جو ہے میت سے وارثوں کی طرف منتقل نہیں ہوتا، بلکہ ابتداءً ہی کس کے لیے ثابت ہوتا ہے؟ وارثوں، اگر اگر میت کے لیے حق ثابت ہو اور پھر منتقل ہو کس کی طرف؟ وارثوں کی طرف، پھر جب تک وہ مرا نہیں اس وقت تک تو وارثوں کا کوئی دخل ہی نہیں بنتا؛ کیونکہ وہ مرنے کے بعد ان کو حق ملے گا نا، لیکن یہاں یہ کیا بتلا رہے ہیں؟ ابھی وہ مرا نہیں ہے، زخمی حالت میں ہے، لیکن ابھی بھی یہ کیا کر سکتے ہیں اس کو؟ معاف، معلوم ہوا ان کے لیے بھی ابتداءً، یہ اسی بنا پر ہم نے کہا کہ ان کے لیے ابتداءً حق ثابت ہوتا ہے وراثت کے طریقے پر ثابت نہیں۔ تو میت بھی معاف کر سکتی ہے اور وارث بھی معاف کر سکتے ہیں۔ میت اس لیے؛ کیونکہ یہ سبب موت کا جو ہے کس کے حق میں منعقد ہوا ہے؟ اسی کے حق میں، اسی کی جان جا رہی ہے اس لیے اس کا حق ہے وہ معاف کر سکتا ہے۔ اور وارثوں کے لیے بھی ابتداءً حق ثابت ہے کہ ان کا نقصان ہوا تو یہ وہ بھی معاف کر سکتے ہیں۔ یہ معنی ہے: "والسبب انعقد للميت" اور سبب جو ہے وہ منعقد ہوا ہے میت کے لیے؛ "لأن المتلف حياته" اس لیے کہ وہ جو تلف کی گئی وہ اس کی زندگی ہے "فكانت الجناية واقعة في حقه من وجه" تو یہ جنایت، یہ جرم جو ہے واقع ہوا ہے اس کے حق میں من وجہ، بعض اعتبارات سے اسی کے حق میں واقع ہوا ہے "فيصح عفو المجروح" پس صحیح ہے معاف کرنا اس مجروح اس زخمی شخص کا "باعتبار أن السبب انعقد للمورث" اس کے اس اعتبار سے کہ یہ جو موت کا سبب ہے یہ منعقد ہوا ہے کس کے حق میں؟ مورث مورث کے حق میں، وہ معاف کر سکتا ہے۔ اور اسی طرح صحیح ہے عفو الوارث، وارث کا معاف کر دینا قبل موت المجروح، مجروح کے مرنے سے پہلے، لان الحق باعتبار نفس الواجب للوارث، اسی کیونکہ یہ جو حق ہے یہ وارث کے لیے نفس واجب کے اعتبار سے ہے، یہ ثابت کس کے لیے ہے؟ ابتداءً۔ وارث کے لیے بھی ابتداءً ہی ثابت ہوتا ہے، وراثت کے طریقے پر ثابت نہیں، اگر وراثت کے طریقے پر ہوتا تو موت کے بعد تو وہ معاف کر سکتا ہے، موت سے پہلے معاف نہیں کر سکتا۔ وقال ابو حنيفة رحمہ اللہ، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان القصاص غير موروث، کہ قصاص جو ہے وہ موروث نہیں ہے، یعنی وراثت والی چیز جو وراثت کے طور پر ملے بھئی، وہ چیز نہیں ہے، موروثی چیز نہیں ہے۔ بھئی اسی کے نیچے سطر میں ہے لما قلنا۔ مل گیا بھئی؟ جی؟ یہ یہ بھی یاد رکھیے متن ہے۔ تو کہتے ہیں وقال ابو حنيفة، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان القصاص غير موروث لما قلنا، کہ قصاص غیر موروث ہے یعنی موروثی چیز نہیں ہے لما قلنا، اس وجہ سے جو ہم نے کہا، ابھی علت تفصيل بیان کر دی کہ قصاص موروثی نہیں، یعنی کہ اولاً میت کے لیے ثابت ہو اور پھر کس کی طرف منتقل ہو؟ وارثوں کی طرف، بلکہ ابتداءً ہی کس کے لیے ثابت ہوتا ہے؟ وارثوں کے لیے۔ ای لا يثبت على وجه تجري فيه سهام الورثة بل يثبت ابتداء للورثة، یعنی قصاص جو ہے یہ ثابت نہیں ہوتا ایسے طریقے پر کہ اس کے اندر جاری ہوں وارثوں کے حصے، بلکہ یہ بلکہ یہ ثابت ہوتا ہے ابتدائی طور پر ہی وارثوں کے لیے، لما قلنا، اسی وجہ سے جو ہم نے کہا، کیا کہا تھا ہم نے؟ شارح بتلا رہے ہیں کہ ان الغرض درك ثارهم، کہ غرض کیا ہے، مقصد کیا ہے قصاص کے ذریعے؟ درك ثارهم، ان کے انتقام کی، ان کے انتقام کی تلافی ہے بھئی، اس کا ضمان ہے۔ ولكن لما كان معنى، لما كان معنى واحدا لا يحتمل التجزي، لیکن چونکہ یہ ایک ایک معنی ہے، احتمال نہیں رکھتا تجزی کا، یعنی تقسیم کا، قصاص تو ایک ہے، قصاص میں تقسیم ہو سکتی ہے بھئی؟ قصاص میں تقسیم نہیں ہو سکتی بھئی، تو کہتے ہیں چونکہ یہ ایک ایسا معنی ہے جو تقسیم کا احتمال نہیں رکھتا، ثبت لكل واحد على سبيل الكمال، تو ہر ایک کے لیے کامل طور پر یہ ثابت ہوگا، یعنی ہر وارث کے لیے قصاص کا پورا پورا حق ہوگا۔ ہر وارث کے لیے قصاص کا پورا پورا، بھئی کیونکہ بات دیکھیے اگر وراثت کے طور پر قصاص ملتا تو وراثت کے اندر تو مال آ کر تقسیم ہوتا ہے ہر ایک کا، ایک لاکھ روپیہ مثلاً میراث ہے تو ہر ایک کو تھوڑا تھوڑا حصہ مل جائے گا اس میں سے، تو ہر ایک کو تھوڑا تھوڑا ملا یا پورا ملا؟ تھوڑا تھوڑا، لیکن یہاں پر میراث کے طریقے پر قصاص آیا یعنی ابتداءً ہی کس کے لیے ثابت ہوا؟ وارث، جب ابتداءً وارثوں کے لیے ثابت ہوا تو تھوڑا تھوڑا نہیں، ہر ایک کے لیے پورا پورا ثابت ہوگا، اس میں تقسیم نہیں ہو سکتی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ میراث کے طریقے پر ثابت ہی نہیں ہوا کہ اس میں تقسیم مانا جائے، اور نیز اس لیے کیونکہ یہ تقسیم کا احتمال نہیں رکھتا، كولاية النكاح للإخوة، جیسے کہ نکاح کروانے کی ولایت ہے بھائیوں کے لیے، بھئی باپ کا انتقال ہو گیا، بہن ایک صغیرہ ہے، اب جو بھئی ہیں بڑے ان سب کے لیے اس کو ولایت حاصل ہے اس صغیرہ کا وہ نکاح کروا سکتے ہیں۔ تو یہاں یہ تقسیم نہیں ہے کہ ہر ایک کے لیے تھوڑا تھوڑا حق ثابت ہے نکاح کروانے کا، سارے مل کر پھر کروا سکتے ہیں، نہیں، ہر ایک کے لیے کیا ہے؟ پوری پوری ولایت، نکاح کروانے کی ولایت ہے، لہٰذا کوئی ایک بھئی بھی کیا کر سکتا ہے؟ اس کا نکاح کروا سکتا ہے۔ ہاں یہ بات ہے، باپ یا دادا صغیرہ کا نکاح کروائے، تو بڑے ہونے کے بعد ان کو حق نہیں ہوتا اس کو فسخ کرنے کا، الا یہ کہ انہوں نے غبن فاحش کے ساتھ مہر مقرر کیا ہو، بہت زیادہ یا بہت کم جتنا ہونا چاہیے تھا، پھر الگ بات ہے۔ ویسے باپ اور دادا جب صغیر اور صغیرہ کا نکاح کروا دیں تو بعد میں وہ اس کو فسخ نہیں کر سکتے، لیکن باپ اور دادا کے علاوہ کوئی اور کروا دے، درجہ بدرجہ جو جو ولی بن رہے ہیں، بھئی ہیں اس کے بعد جو ہیں، جو بھی بنتے جا رہے ہیں ترتیب سے، تو ان کے اندر البتہ صغیر اور صغیرہ کو حق ہے، کیونکہ ان کی شفقت کامل نہیں ہے، باپ اور دادا کی شفقت بڑی کامل ہے، تو انہوں نے یقیناً اس کے بھلے کو دیکھ کر نکاح کیا ہوگا، اس لیے شریعت نے وہاں فسخ کا حق نہیں دیا اس کو جبکہ انہوں نے مہر ٹھیک رکھا ہو، لیکن اوروں کی شفقت اتنی کامل نہیں ہے، لہٰذا ان میں شریعت نے حق دے دیا، کہ بالغہ ہوتے ہی کیا کر سکتی ہے اس نکاح کو؟ فسخ کر سکتی ہے۔ تو بتلا یہ رہے ہیں یہاں پر کہ ہر بھئی کے لیے کامل طور پر نکاح کروانے کی ولایت حاصل ہوگی، ولهذا، اور اسی وجہ سے کہ ہر ایک کے لیے چونکہ کامل طریقے پر حق ثابت ہوتا ہے، لو استوفى الأخ الكبير قبل كبر الصغير يجوز له، اگر قصاص لے لے استوفى کا معنی وصول کرنا، اگر قصاص کو وصول کر لے الأخ الكبير کون؟ بڑا بھئی، ایک بھئی بڑا تھا، ایک ابھی نابالغ تھا، تو بڑے نے کیا کیا؟ قصاص وصول کر لیا، تو وہ کر سکتا ہے، قصاص لے سکتا ہے، یہ نہیں کہ صغیر کا انتظار کیا جائے گا، یہ کب بالغ ہوگا، پھر قصاص لیں گے، نہیں، ہر ایک کے لیے کامل طور پر قصاص کا حق ہے، تو وہ کیا کر سکتا ہے؟ قصاص وصول کر سکتا ہے، یہ معنی ہے، ولهذا لو استوفى الأخ الكبير قبل كبر الصغير يجوز له، اور اسی وجہ سے اگر وصول کر لیا بڑے بھئی نے صغیر کے بڑے ہونے سے پہلے ہی يجوز له تو یہ اس کے لیے جائز ہے۔ بخلاف ما إذا كان أحد الكبيرين غائبا، برخلاف اس کے کہ اگر دو بڑے بھائیوں میں سے ایک غائب ہو، ایک کیا ہو؟ ہاں، دو بھئی ہیں، دونوں کے لیے حق قصاص کامل طور پر ثابت ہوا، اب ایک بھئی موجود ہے، ایک کہیں گیا ہوا ہے، بڑی دور سفر پر گیا ہوا ہے، اب یہ جو حاضر ہے، یہ قصاص لینا چاہتا ہے اکیلا، کہتے ہیں نہیں، اس کا انتظار کیا جائے گا، آنے والے کا، بھئی کیوں؟ کہتے ہیں ہو سکتا ہے وہ معاف کر دے، وہاں احتمال ہے کس چیز کا؟ معاف کر دینے کا احتمال ہے، ہر ایک کے لیے کامل طور پر قصاص کا حق ثابت ہے، لہٰذا ہو سکتا ہے وہ کیا کر دے؟ معاف کر دے، لہٰذا اس کا انتظار کیا جائے گا، یہ اکیلا قصاص نہیں لے سکتا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ ہاں صغیر کا ہم نے پھر انتظار کیوں نہیں کیا تھا بھئی؟ ہو سکتا ہے وہ صغیر جو چھوٹا تھا، بڑے نے قصاص لے لیا، ہو سکتا ہے وہ چھوٹا بڑا ہو کر جب بالغ ہو جاتا اس کی طرف سے بھی احتمال تھا، کیا کر دیتا وہ؟ معاف، کہتے ہیں بھئی وہ بڑا نادر ہے، لہٰذا اس کا اعتبار نہیں، اس کا اعتبار نہیں کہ وہ معاف کرے بھئی، وہ اتنی مدت انتظار کریں گے اور پھر بھی، تو کہتے ہیں بخلاف ما إذا كان أحد الكبيرين غائبا، برخلاف اس کے کہ دو بڑے بھائیوں میں سے اگر ایک غائب ہو، فإنه لا يجوز للحاضر أن يستوفي، تو جائز نہیں ہے وہ جو حاضر بھئی ہے کہ وہ قصاص وصول کر لے، لأن احتمال عفو الغائب راجح، اس لیے کیونکہ وہ جو غائب بھئی ہے، اس کے معاف کر دینے کا احتمال راجح ہے، واحتمال توهم عفو الصغير بعد البلوغ نادر فلا يعتبر، اور صغیر کا بالغ ہو جانے کے بعد معاف کر دینے کا وہم جو ہے وہم کا احتمال جو ہے، یہ نادر ہے فلا يعتبر، لہٰذا اس کا اعتبار نہیں۔ وعندهما يثبت القصاص للورثة بطريق الإرث، یہ تو امام صاحب کا مذہب تھا، امام صاحب کیا فرماتے ہیں کہ قصاص موروثی نہیں، ابتداءً ہی کس کے لیے ثابت ہوگا؟ وارثوں کے لیے، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، میراث کے طریقے پر، اولاً کس کے لیے ثابت؟ میت کے لیے اور پھر کس کی طرف منتقل ہوگا؟ وارثوں کی طرف بھئی، تو کہتے ہیں وعندهما، صاحبین کے نزدیک، يثبت القصاص للورثة بطريق الإرث لا بطريق الابتداء، کہ قصاص جو ہے وہ وارثوں کے لیے ثابت ہوگا وراثت کے طریقے پر، نہ کہ ابتداء کے طریقے پر، وثمرة الخلاف تظهر فيما، اور ثمرہ اختلاف ظاہر ہوگا اس صورت کے اندر، إذا كان بعض الورثة غائبا، کہ جب بعض وارث کیا ہوں؟ غائب ہوں، وأقام الحاضر البينة عليه، اور وہ جو بھئی حاضر تھا اس نے بینہ قائم کر دی قاتل پر، فعنده يحتاج الغائب إلى إعادة البينة عند حضوره، تو پھر امام صاحب کے نزدیک، فعنده امام صاحب کے نزدیک، يحتاج الغائب تو وہ جو غائب جب آ جائے گا، تو وہ محتاج ہوگا إلى إعادة البينة بینے کے دوبارہ گواہی پیش کرنے کا، عند حضوره اپنی حاضری کے وقت، لأن الكل مستقل في هذا الباب، اس لیے کیونکہ ہر وارث اس باب میں، قصاص کے باب میں مستقل ہے، ولا يقضى بالقصاص لأحد حتى يجتمعا، اور فیصلہ نہیں کیا جائے گا قصاص کا کسی ایک کے لیے بھی، حتی يجتمعا یہاں تک کہ دونوں جمع ہو جائیں، حاضر بھی اور غائب بھی، پھر قصاص کا فیصلہ کیا جائے گا، کیونکہ ہر ایک کے لیے کامل طور پر قصاص کا حق ثابت ہو رہا ہے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں وعندهما، صاحبین کے نزدیک، لما كان موروثا، جب کہ قصاص موروثی ہے، لا يحتاج إلى إعادة البينة، تو یہ محتاج نہیں ہے اس گواہی کے اعادے کا، عند حضور الغائب، جب وہ غائب کیا ہو جائے؟ حاضر، بھئی کیوں اعادے کا کیوں محتاج نہیں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ لأن أحد الورثة ينتصب خصما عن الميت، کیونکہ یہ قصاص کا حق کہاں سے آیا؟ میت کی طرف سے ان کے پاس آیا ہے، تو کوئی ایک بھی وارث کیا ہو سکتا ہے؟ میت کی طرف سے نائب بن سکتا ہے، کیا بن سکتا ہے؟ نائب، اور وہاں پر ہر ایک مستقل تھا، اور یہاں پر کس کی طرف سے نائب بن رہے ہیں؟ میت کی طرف سے، تو کوئی ایک وارث بھی نائب بن کر کیا کر سکتا ہے؟ وہ بینہ قائم کر سکتا ہے، جب وہ غائب والا آئے گا تو دوبارہ بینہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں، اس لیے کیونکہ یہ میت کی طرف سے ایک وارث کیا کر چکا ہے؟ بینہ قائم، جبکہ پچھلی صورت جو تھی، امام صاحب کے قول کے مطابق ہر ایک مستقل تھا، الگ الگ تھا کامل طور پر، لہٰذا ہر ایک کو الگ کیا کرنا پڑے گی؟ بینہ قائم کرنا پڑے گی۔ لأن أحد الورثة ينتصب خصما عن الميت، اس لیے کیونکہ وارثوں میں سے کوئی ایک جو ہے وہ ينتصب خصما، وہ خصم بن کر قائم ہو جائے گا، عن الميت، کس کی طرف سے؟ میت کی طرف سے، فلا تجب إعادتها، لہٰذا اس بینے کا اعادہ واجب نہ ہوگا، وإذا انقلب أي القصاص مالا، اور جب پلٹ جائے یعنی قصاص بھئی مالاً، کس کی طرف؟ مال، کیا پلٹ کر کیا بن جائے؟ مال بن جائے، بالصلح، صلح کی وجہ سے، أو بعفو البعض، یا بعض کے معاف کر دینے سے۔ بھئی دیکھیے، آپ نے پڑھا ہے کہ قصاص کے اندر صلح بھی درست ہے، اور صلح پھر ویسے تو دیت سو اونٹ ہیں، لیکن قصاص کے اندر صلح جتنے بھی مال پر کرنا چاہیں مقتول کے اولیاء، وارث، وہ کر سکتے ہیں، چاہے دو اونٹوں پر ہی صلح کر لیں، اور چاہے تو ہزار اونٹوں پر صلح کریں، جتنا بھی مال مثال دے رہا ہوں، روپے میں بات کر لیں، جتنے کروڑ، دو کروڑ، جتنے میں مرضی صلح کرنا چاہیں وہ صلح کر سکتے ہیں، نیز اسی طرح یاد رکھیے، اگر وارثوں میں سے کوئی ایک بھی قصاص کو معاف کر دے، باقی کہہ رہے ہیں قصاص لینا ہے، ایک نے کہا میری طرف سے معاف، فوراً قصاص ساقط ہوا، کیوں ساقط ہوا؟ ابھی پیچھے وجہ ذکر ہوئی، کیونکہ قصاص میں تجزی نہیں، تقسیم نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کچھ لیا جائے اور کچھ نہ لیا جائے، تو جب کچھ نے معاف کر دیا تو وہ اب قصاص نہیں ہو سکتا بھئی، اب پھر باقی کیا کریں گے؟ کہتے ہیں باقیوں کو مال دیا جائے گا، بھئی کس طرح مال دیا جائے گا؟ کہتے ہیں یوں سمجھو دیت آئی، کیا آئی؟ دیت، سو اونٹ آئے، سو میں سے یہ جو اس نے معاف کیا، اس کا حق دس اونٹ بنتے تھے، تقسیم ہم نے حساب لگایا وراثت کتنی بنتی ہے، 10، باقی 90 بچ گئے، وہ 90 اسی طرح آئیں گے اور باقیوں کے اندر کیا ہو جائیں گے؟ تقسیم ہو جائیں گے، تو اب دیت کی طرف ہم چلے جائیں گے اور اس میں سے حساب لگائیں گے۔ یہ معنی ہے، وإذا انقلب أي القصاص مالا، اور جب قصاص مال کی طرف پلٹ جائے، مال بن جائے، بالصلح صلح کی وجہ سے، أو بعفو البعض یا بعضوں کے معاف کر دینے کی وجہ سے، صار موروثا، تو پھر یہ موروثی بن جائے گا، کیا بن جائے گا؟ قصاص خود تو موروث نہیں تھا، لیکن جب بدل کر مال بنے گا تو وہ کیا بن جائے گا؟ موروث، وہ یوں سمجھا جائے گا میت کے لیے اولاً ثابت اور باقیوں کے لیے بطور وراثت کے ساتھ، جب میت کے لیے اولاً ثابت ہے، لہٰذا وہ جو دیت آئے گی اس کے ذریعے اولاً وہی اس کی حاجات پوری کی جائیں گی، کیا حاجات تھیں؟ تجہیز و تکفین بھی آ گئی، اس کے اس کے وہ اس کے دیون بھی اس سے ادا کیے جائیں گے، اس کی وصیت بھی اس کے اندر کیا کی جائے گی؟ نافذ، جو جو چیزیں تھیں وہ ساری اسی میں آ جائیں گی جیسے اس کا اپنا مال تھا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ فيكون حكمه حكم الأموال، تو اس جو یہ جو دیت ہے یا یہ جو مال ہے، اس کا حکم وہ اموال والا حکم ہوگا، حتى تقضى ديونه منه، یہاں تک کہ ادا کیے جائیں گے اس میت کے دیون اس میں سے، وتنفذ وصاياه، اور اس کی وصیتیں نافذ کی جائیں گی اس میں سے، وينتصب أحد الورثة خصما عن الميت، اور قائم ہو جائے گا وارثوں میں سے کوئی ایک بھی فریق بن کر کس کی طرف سے؟ میت کی طرف سے، فلا يحتاج إلى إعادة البينة، لہٰذا وہ محتاج نہیں ہوگا بینے کے دوبارہ اعادے کا، لوٹانے کا، لأن الدية خلف عن القصاص، اس لیے کیونکہ دیت جو ہے وہ نائب ہے قصاص سے۔ وال اچھا بھئی، یہ کیا بات ہے؟ قصاص تو موروثی نہیں تھا، اور دیت جو اس کی نائب ہے، وہ موروثی ہے، حالانکہ نائب کا وہی حکم ہوتا ہے جو اصل کا ہوتا ہے، اصل تو موروثی نہیں تھا قصاص، تو قصاص کے بعد جو دیت آئی، مال آیا وہ بھی موروثی نہیں ہونا چاہیے، کہتے ہیں نہیں بھئی، یہ نائب ہے، اور نائب بعض احکامات کے اندر وہ اصل سے مختلف بھی ہو سکتا ہے، آپ دیکھتے نہیں؟ تیمم نائب ہے وضو کا، لیکن حکم میں مختلف ہے، وضو کے اندر نیت شرط نہیں، تیمم کے اندر نیت شرط ہے، فرض ہے بھئی، نیت نہیں کریں گے تو تیمم ہی نہیں ہوگا بھئی۔ والخلف قد يفارق الأصل في الأحكام، اور خلف جو نائب ہوتا ہے کبھی جدا ہوتا ہے اصل سے احکام کے اندر، كالتيمم، جیسے کہ تیمم جو ہے، فارق الوضوء، یہ جدا ہے وضو سے، في اشتراط النية، نیت کے شرط لگانے میں، ووجب القصاص للزوجين كما في الدية، اور قصاص جو ہے وہ واجب ہوگا، ثابت ہوگا میاں بیوی کے لیے بھی، كما في الدية جیسے کس کے اندر؟ دیت، جیسے دیت، دیت زوجین کے لیے ثابت ہوتی تھی، اسی طرح قصاص بھی ثابت ہوگا میاں بیوی کے لیے، یعنی بیوی اپنے مقتول خاوند کی طرف سے قصاص لے سکتی ہے، اور خاوند اپنی مقتولہ بیوی کی طرف سے قصاص لے، جیسے دیت کے اندر ان دونوں کا حق تھا، دیت جو تھی، دیت اولاً کس کے لیے ثابت ہوتی ہے؟ میت کے لیے، پھر کس کی طرف منتقل ہوتی ہے؟ وارثوں، اور میاں بیوی ایک دوسرے کے وارث بنتے ہیں یا نہیں بنتے؟ وارث بنتے ہیں تو اس دیت میں ان کا بھی حق آتا ہے، تو جیسے دیت کا حق ان دونوں کے لیے، دیت کے وہ حقدار بنتے ہیں، اسی طرح قصاص کے بھی وہ ایک دوسرے کے حقدار بنیں گے، یہ معنی ہے، ووجب القصاص للزوجين كما في الدية، اور قصاص واجب ہوگا، ثابت ہوگا میاں بیوی کے لیے بھی جیسے کہ دیت میں ہے، فينبغي أن تقتص المرأة من الزوج، پس مناسب یہ ہے کہ قصاص لے بیوی من الزوج، خاوند کی طرف سے، وہ جو خاوند جو مقتول ہے اس کی طرف سے، سمجھ میں آئی؟ یہ ترجمہ نہ کرنا کہ بیوی قصاص لے خاوند سے، بلکہ یہ مراد نہیں ہے، بلکہ کیا مراد ہے؟ وہ خاوند جو قتل ہو چکا ہے، مقتول ہے اس کی طرف سے قصاص لے، والزوج من المرأة، اور اسی طرح خاوند قصاص لے کس کی طرف سے؟ اس بیوی کی طرف سے جو مقتولہ ہے، ولكن عنده ابتداء، لیکن امام صاحب کے نزدیک یہ قصاص کس طرح آئے گا؟ ابتداءً آئے گا، وعندهما بطريق الإرث، اور صاحبین کے نزدیک یہ قصاص کس طرح آئے گا؟ وراثت کے طریقے پر، كما يثبت لهما استحقاق الدية بطريق الإرث، جیسے کہ ان دونوں کے لیے دیت کا استحقاق بھی ثابت ہوتا ہے وراثت کے طریقے پر، دیت کے مستحق ہوتے ہیں یا نہیں بھئی؟ لیکن کس طرح مستحق ہوتے تھے دیت کے؟ وراثت کے طریقے پر، اولاً وہ دیت کس کے لیے ثابت؟ مرنے والے کے لیے، پھر اس کے بعد اس کے وارثوں اور میاں بیوی میں سے جو زندہ ہے اس کی طرف منتقل ہوتی، وقال مالک رحمہ اللہ، اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں، لا يرث الزوج والزوجة من الدية، کہ زوج اور زوجہ، میاں بیوی جو ہیں وہ دیت کے وارث نہیں ہوں گے، لأن وجوبها بعد الموت، اس لیے کیونکہ دیت کا وجوب کب آتا ہے؟ موت کے بعد آتا ہے، والزوجية تنقطع به، اور زوجیت جو ہے، وہ تو موت کی وجہ سے ٹوٹ چکی، زوجیت تو، رشتہ نکاح تو موت کی وجہ سے ٹوٹ چکا ہے، لہٰذا موت کے بعد اب دیت کے وارث یہ میاں بیوی نہیں بنیں گے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور وارث تو بنیں گے دیت کے اندر، لیکن میاں بیوی دیت کے اندر ان کا کوئی حق نہیں ہوگا، ولنا، اور ہماری دلیل یہ ہے، أنه عليه الصلاة والسلام أمر بتوريث امرأة أشيم الضبابي، کہ حضور علیہ السلام نے وارث بنانے کا حکم دیا کس کو؟ اشیم الذبابی کو، اشیم الذبابی کی جو بیوی تھیں ان کو ان کے وارث بنانے کا حکم دیا یعنی ان کے لیے وراثت کا حکم دیا، کس نے سے؟ "مِنْ عَقْلِ زَوْجِهَا أَشْيَمَ"। عقل کہتے ہیں دیت کو بھئی۔ عقل کس کو کہتے ہیں؟ دیت۔ "مِنْ عَقْلِ زَوْجِهَا أَشْيَمَ" ان کے خاوند جو اشیم تھے، ان کی دیت میں سے۔ ہاں! وہ امام مالک فرماتے ہیں دیت کے اندر میاں بیوی کا کوئی حق نہیں اور وارثوں کا حق ہے، لیکن میاں بیوی کا دیت کے اندر کوئی حق نہیں۔ ہم وہ ہم کہتے ہیں کہ کہ اشیم الذبابی جو ہیں وہ ان کو قتل کیا کسی نے خطأً اور ان کی جو دیت ملی، حضور علیہ السلام نے ان کی بیوی جو تھیں ان کو دیت کے اندر ان کا حصہ بھی، ان کو بھی وارث بنایا بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ "وَلَهُ أَيْ لِلْمَيِّتِ حُكْمُ الْإِحْيَاءِ فِي أَحْكَامِ الْآخِرَةِ" اور جو میت ہے اس کے لیے زندہ کرنے کا حکم ہے آخرت کے احکام میں۔ یہ "إِحْيَاء" بھی درست بنتا ہے یہاں اور "أَحْيَاء" بھی۔ "إِحْيَاء" بھی اور أحياء۔ احیاء ہو تو جمع ہے حِیٌّ کی۔ اور احیاء ہو تو مصدر ہے زندگی دینا، زندگی دینا، زندہ کرنا۔ کہتے ہیں میت کے لیے زندہ کرنے کا حکم ہے آخرت کے احکام میں۔ کس کے احکام میں؟ یا یوں کریں میت کے لیے زندوں کا حکم ہے آخرت کے احکام میں۔ تو احکام بھی درست، احیاء پڑھ لیں وہ بھی درست ہے بھئی۔ میت کے لیے زندوں والا حکم ہے، کس کے اعتبار سے؟ آخرت میں۔ بھئی دیکھیے! زندگی کے احکام بیان ہو گئے۔ اب موت کی بات، موت کے بعد کی بات کر رہے ہیں۔ زندگی کے کیا احکام بیان ہوئے؟ کہ میت، زندگی میں کیا احکام ہوتے ہیں؟ "ما له" اور "ما عليه"۔ بعض زندہ کے حق اپنے ہوتے ہیں جو اس نے دوسروں سے لینے ہیں اور بعض اس پر ہوتے ہیں جو اس نے غیروں کے ادا کرنے ہیں۔ اسی طرح میت بھی جو ہے اس کے بھی اسی طرح احکام ہیں۔ اس کے اسی طرح احکام ہیں۔ یعنی جو اس نے کسی کا حق دینا ہے، آخرت میں دینا پڑے گا۔ جو اس نے کسی سے حق لینا ہے، وہ اس کو آخرت میں اس کو ملے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں یہ جو ہے، یہ مرنے والے کے لیے حکم آخرت کے احکام میں کس کے طرح کا حکم ہے؟ زندوں والا حکم ہے یا یوں کہیں زندگی دینے کا حکم ہے، جس طرح بچہ پیدا ہوتا ہے زندگی ملی اس کو، تو گہوارے میں رکھا جاتا ہے اس کو، وہ جھولے میں رکھا جاتا ہے۔ اسی طرح میت کو جو ہے، قبر میں رکھا جاتا ہے۔ تو جیسے زندگی ملتی ہے بچے کو، وہ جھولے میں رکھا گیا، تو یہ نئی زندگی اس کو ملی ہے اب۔ اور کیا وہ جھولے میں ہی رہے گا یا جھولے سے نکلے گا پھر؟ جھولے سے نکلے گا۔ اسی طرح مرنے والا کیا ہمیشہ قبر میں رہے گا یا قبر سے آخرت میں نکلے گا بھئی؟ آخرت میں نکلے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں جیسے بچہ جو جھولے میں تھا اس کے لیے "ما له" بھی ہوتے تھے اور "ما عليه" بھی۔ اسی طرح مرنے والا جو، جس کو ہم نے قبر میں رکھا، اس کے لیے آخرت میں "ما له" بھی ہوں گے اور "ما عليه" بھی ہوں گے۔ جو نیکیاں کی ہوں گی ان کا بھی بدلہ ملے گا اور جو برائیاں کی ہیں ان کی بھی جزا ملے گی۔ "لِأَنَّ الْقَبْرَ لِلْمَيِّتِ كَالْمَهْدِ لِلطِّفْلِ" اس لیے کیونکہ قبر جو ہے مرنے والے کے لیے وہ گہوارے کی طرح ہے، وہ اس گہوارے کی طرح جو بچے کے لیے ہو، جیسے کہ گہوارہ کس کے لیے ہو؟ بچے کے لیے۔ گہوارہ یعنی وہ جھولا وغیرہ بچے کا۔ "فَمَا يَجِبُ لَهُ عَلَى الْغَيْرِ أَوْ يَجِبُ لِلْغَيْرِ عَلَيْهِ مِنَ الْحُقُوقِ وَالْمَظَالِمِ" پس وہ جو ثابت ہوتے ہیں اس کے لیے جو اس کے، ثابت ہیں حقوق بھئی "عَلَى الْغَيْرِ" کس پر؟ غیر پر۔ یا جو حقوق اس پر واجب ہیں "لِلْغَيْرِ" غیر کے لیے "عَلَيْهِ" اس شخص مرنے والے پر "مِنَ الْحُقُوقِ وَالْمَظَالِمِ" کس میں سے؟ حقوق اور مظالم میں سے۔ مظالم جمع ہے مظلمہ کی بھئی، ظلم وغیرہ کو کہتے ہیں۔ کسی پر اس نے ظلم کیا یا کسی نے اس پر ظلم کیا۔ کسی پر اس کے حقوق یا کسی کے اس پر حقوق۔ "وَمَا تَلْقَاهُ مِنْ ثَوَابٍ أَوْ عِقَابٍ" اور یا وہ جس جو اس کو ملے گا ثواب یا سزا "بِوَاسِطَةِ الطَّاعَاتِ وَالْمَعَاصِي" طاعت، اطاعت اور نافرمانی اور گناہ کی واسطے سے، گناہ کی وجہ سے "كُلُّهَا يَجِدُهُ الْمَيِّتُ فِي الْقَبْرِ" ان سب کو میت جو ہے وہ قبر میں پائے گی "وَيُدْرِكُهُ كَالْحَيِّ" اور کس طرح ان کو پائے گی؟ "كَالْحَيِّ" جیسے کہ زندہ ہوتا ہے۔ "وَإِذَا فرَغْنَا" اور جب ہم فارغ ہوئے "عَنِ الْأُمُورِ الْمُعْتَرِضَةِ السَّمَاوِيَّةِ" ان امور سے جو پیش آنے والے ہیں اور آسمانی ہیں، کس پر پیش آنے والے تھے؟ اہلیت پر۔ تو وہ سماوی امور کے اسباب سے جب ہم فارغ ہوئے "شَرَعْنَا فِي بَيَانِ الْأُمُورِ الْمُعْتَرِضَةِ الْمُكْتَسَبَةِ" تو ہم شروع ہوئے ان امور کے بیان میں جو عارض ہونے والے ہیں، کسبی ہیں، جو کمائے گئے ہیں، یعنی بندے کا ان ہی کے کمانے میں دخل ہے بھئی۔ "وَلَهُ أَيْ لِلْمَيِّتِ حُكْمُ الْأَحْيَاءِ" "أَحْيَاء" زیادہ مناسب لگ رہا ہے بھئی۔ زندوں کا حکم ہے مرنے والے کے لیے، یعنی أحياء، جمع ہے حِیٌّ کی بھئی۔ اگرچہ معنی احیاء کے ساتھ بھی ٹھیک ہو جاتا ہے، احیاء بھی زندگی دینا۔ "فَقَوْلُهُ وَمُكْتَسَبٌ" پس مصنف کا قول "وَمُكْتَسَبٌ" "عَطْفٌ عَلَى قَوْلِهِ سَمَاوِيٌّ" اس کا عطف ہے مصنف کے قول "سَمَاوِيٌّ" پر بھئی۔ کئی صفحے پیشتر جہاں سے یہ بحث شروع ہوئی تھی وہاں پر بتلایا تھا انہوں نے بھئی آپ کو کہ "وَالْأُمُورُ الْمُعْتَرِضَةُ عَلَى الْأَهْلِيَّةِ نَوْعَانِ" کہ وہ امور جو پیش آتے ہیں اہلیت پر، دو قسم کے ہیں "سَمَاوِيٌّ" ایک سماوی ہیں "وَمُكْتَسَبٌ" اور دوسرے کیا ہیں؟ کسبی۔ تو یہ مكتسب کا عطف سماوی پر ہے۔ "وَهُوَ مَا كَانَ" بھئی کسبی کہتے جن کو ہیں بتلا رہے ہیں۔ "وَهُوَ مَا كَانَ لِاخْتِيَارِ الْعَبْدِ مَدْخَلٌ فِي حُصُولِهِ" اور یہ وہ افعال ہیں کہ جن میں بندے کا اختیار، بندے کے اختیار کا دخل ہوتا ہے ان کے حاصل ہونے میں۔ ان کے حاصل ہونے میں بندے کے اختیار کا دخل ہو "وَهَذَا أَنْوَاعٌ" اور یہ کئی قسم پر ہیں۔ "الْأَوَّلُ الْجَهْلُ" پہلی قسم کیا ہے؟ جہل ہے بھئی۔ بھئی جہل کیا معنی؟ کہتے ہیں "الَّذِي هُوَ ضِدُّ الْعِلْمِ" وہ جہل جو کہ علم کے ضد ہے، جہالت بھئی۔ "وَإِنَّمَا عُدَّ مِنَ الْأُمُورِ الْمُعْتَرِضَةِ مَعَ كَوْنِهِ" بھئی یہ کہتے سوال کا جواب، سوال یہ کہ جہالت تو پیدائشی طور پر انسان کے ساتھ ہوتی ہے، علم بعد میں آتا ہے۔ لہذا اس کو امور معترضہ میں سے کیسے شمار کیا؟ امور معترضہ وہ تو وہ ہیں جو پہلے نہیں تھے بعد میں پیش آئے اور جہالت تو پیدائش سے ہی ہے۔ تو جواب دے رہے ہیں کہ بھئی اس اعتبار سے ان کو امور معترضہ میں شمار کیا کہ یہ انسان کے حقیقت میں داخل نہیں ہے بھئی۔ انسان کے حقیقت میں نہیں داخل بھئی، انسان کی حقیقت تو کیا حیوان ناطق ہے، اس میں جہل کی کوئی بات ذکر نہیں۔ تو کہتے ہیں "وَإِنَّمَا عُدَّ مِنَ الْأُمُورِ الْمُعْتَرِضَةِ" اس کو شمار کیا گیا ان امور میں سے جو عارض ہونے والے ہیں "مَعَ كَوْنِهِ أَصْلًا فِي الْإِنْسَانِ" باوجود اس کے کہ یہ انسان کے اندر اصل ہے یعنی پیدائشی ہی ہے۔ کیوں شمار کیا؟ کہتے ہیں "لِكَوْنِهِ خَارِجًا عَنْ حَقِيقَةِ الْإِنْسَانِ" بوجہ اس کے کہ یہ خارج ہے انسان کی حقیقت سے "أَوْ لِأَنَّهُ لَمَّا قَادِرًا عَلَى إِزَالَتِهِ بِاكْتِسَابِ الْعِلْمِ" اور یہ اس وجہ سے کیونکہ جب انسان قادر ہے اس جہالت کو کے زائل کرنے پر "بِاكْتِسَابِ الْعِلْمِ" کس طرح؟ علم حاصل، انسان علم حاصل کر کے جہالت کو دور کر سکتا ہے، لیکن پھر اس کو چھوڑ دیتا ہے، اس لیے اس کو کس میں سے شمار کیا؟ اس کے کسبی میں۔ کسبی جن کو کہتے تھے؟ جس میں انسان کے اپنے عمل کا دخل ہوتا تھا۔ تو اس میں بھی انسان کا اپنا دخل آ گیا، کیونکہ اگر یہ علم حاصل کرتا تو عالم بن جاتا، لیکن اس نے علم کو چھوڑ دیا اس لیے اس کے ساتھ کون سا وصف ہے؟ جہل، تو اس میں اس کا اپنا دخل ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے کہ جب یہ قادر تھا اس جہالت کو زائل کرنے پر "بِاكْتِسَابِ الْعِلْمِ" علم حاصل کر کے "جُعِلَ تَرْكُهُ اكْتِسَابًا لِلْجَهْلِ" تو اس علم کو چھوڑنا اس کو کیا قرار دیا گیا؟ جہل کا کمانا، اس علم کو چھوڑنے کو جہل کا کمانا قرار دیا گیا "وَاخْتِيَارًا لَهُ" اور اس کو اختیار کرنا۔ "وَهُوَ أَنْوَاعٌ" اور یہ جہالت جو ہے یہ کئی قسم پر ہے "جَهْلٌ بَاطِلٌ" ایک وہ جہل جو باطل ہے، جس کا کوئی اعتبار نہیں۔ کوئی عذر نہیں ہے بھئی، تو "جَهْلٌ بَاطِلٌ"۔ تو کہتے ہیں "لَا يَصْلُحُ عُذْرًا فِي الْآخِرَةِ" یہ عذر بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا آخرت میں "كَجَهْلِ الْكَافِرِ" جیسے کہ کافر کا جہل "بَعْدَ وُضُوحِ الدَّلَائِلِ عَلَى وَحْدَانِيَّةِ اللَّهِ تَعَالَى وَرِسَالَةِ الرُّسُلِ" جی، جیسے کے بعد جبکہ دلائل واضح ہو گئے "عَلَى وَحْدَانِيَّةِ اللَّهِ تَعَالَى" اللہ کے ایک ہونے پر "وَرِسَالَةِ الرُّسُلِ" اور ان کے رسولوں کی رسالت پر "لَا يَصْلُحُ عُذْرًا فِي الْآخِرَةِ" یہ صلاحیت نہیں رکھتا عذر بننے کی آخرت میں۔ یہ والا جہل صلاحیت نہیں رکھتا کہ اس یہ عذر بنے آخرت میں، یہ عذر مقبول نہیں ہو گا۔ "وَإِنْ كَانَ يَصْلُحُ عُذْرًا فِي الدُّنْيَا لِدَفْعِ عَذَابِ الْقَتْلِ" اگرچہ یہ عذر بننے کی صلاحیت رکھتا ہے دنیا کے اندر قتل کے عذاب کو دور کرنے کے لیے۔ دنیا کے اندر جہالت کس چیز سے؟ اللہ کی وحدانیت سے۔ کفار تسلیم نہیں کرتے اللہ کی وحدانیت کو اور شریک بناتے ہیں۔ تو یہ دلائل سے جہالت جو ہے اور ان باتوں کو نہ ماننے سے آخرت میں تو ان کا عذر یہ نہیں چلے گا۔ ہاں دنیا کے اندر یہ عذر ان کا چل جائے گا اور ان کو قتل نہیں کیا جائے گا، ان کو چھوڑ دیا جائے گا۔ کب؟ کب عذر بنے گا دنیا کے اندر اور ان کو قتل نہیں کیا جائے گا؟ کہتے ہیں "إِذَا قَبِلَ الذِّمَّةَ" جب وہ ذمے کو قبول کر لیں۔ ذمی بن جائیں بھئی۔ ذمیوں کو قتل کیا جاتا ہے یا ذمہ داری لیتی ہے انسانی اسلامی سلطنت ان کی حفاظت کا؟ ذمہ دار، تو ان کو قتل نہیں، تو یہاں پر بھی وہ اگرچہ یہاں پر بھی جہل ہے، لیکن اس جہل دنیاوی اعتبار سے ان کو قتل نہیں کیا جا رہا، یہاں عذر بن گیا جب انہوں نے کس کو قبول کر دیا؟ ذمے کو قبول کر لیا۔ "وَجَهْلِ صَاحِبِ الْهَوَى فِي صِفَاتِ اللَّهِ وَأَحْكَامِ الْآخِرَةِ" یہ دوسری مثال آ گئی بھئی جہل باطل کی۔ "كَجَهْلِ" پہلے کیا آیا تھا؟ جہل باطل کی پہلی مثال تھی "كَجَهْلِ الْكَافِرِ" جیسے کہ کافر کا جہل "وَجَهْلِ صَاحِبِ الْهَوَى" اور جیسے کہ صاحب خواہش کی کا جہل یعنی بدعتی کا جہل بھئی، جو خواہش کی پیروی کرنے والا یعنی بدعتی "فِي صِفَاتِ اللَّهِ تَعَالَى وَأَحْكَامِ الْآخِرَةِ" اور کس چیز میں جہل؟ اللہ کی صفات اور آخرت کے احکام میں جہل بھئی۔ "كَجَهْلِ الْمُعْتَزِلَةِ" جیسے کہ معتزلہ کا جہل بھئی۔ تو یہ "كَجَهْلِ الْمُعْتَزِلَةِ" یہ شرح کا حصہ ہے یاد رکھیے، یہ متن کا حصہ نہیں ہے بھئی۔ "كَجَهْلِ الْمُعْتَزِلَةِ" جیسے کہ معتزلہ کی جہالت ہے بھئی معتزلہ کی۔ معتزلہ گمراہ فرقہ گزرا ہے۔ "بِإِنْكَارِ الصِّفَاتِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَالرُّؤْيَةِ وَالشَّفَاعَةِ" اللہ کی صفات اور عذاب قبر اور اللہ کی دیدار اور زیارت "وَالشَّفَاعَةِ" اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو قیامت کے دن شفاعت فرمائیں گے، ان چیزوں کا وہ انکار کرتے ہیں۔ لیکن ویسے انکار نہیں کرتے، باقاعدہ تاویل ذکر کرتے ہیں۔ تاویلات کرتے ہیں جہاں پر ان چیزوں کا ذکر ہے، نصوص کے اندر وہ کیا کرتے ہیں؟ تاویل کرتے ہیں۔ لہذا ان کا جہل پہلوں کی بنسبت کم درجے کا ہوا۔ ان کا جہل پہلوں کی نسبت... تو یہ کہتے ہیں بھئی اللہ عالم ہیں بغیر علم کے، اللہ قادر ہیں بغیر قدرت کے، اللہ متکلم ہیں بغیر کلام کے بھئی، اور اسی طرح عذاب قبر کا انکار کرتے ہیں، اللہ کے رویت کا... جنت میں اللہ کی رویت ہو گی، اللہ کے دیدار ہو گا اس کا انکار کرتے ہیں، حضور علیہ السلام شفاعت فرمائیں گے، سفارش فرمائیں گے بھئی، اللہ ہم سب کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرمائے بھئی، تو وہ ان کا انکار کرتے ہیں۔ "وَجَهْلِ الْبَاغِي" یہ تیسری قسم بھئی "وَجَهْلِ الْبَاغِي" یہ تیسری مثال آ گئی جہل باطل کی بھئی، باغی کی جہالت۔ باغی کی جہالت "بِإِطَاعَةِ الْإِمَامِ الْحَقِّ" "بِإِطَاعَةِ الْإِمَامِ الْحَقِّ" اس کا تعلق جہل سے ہے بھئی۔ باغی کی جہالت، کس چیز سے جہالت؟ برحق امام کی اطاعت سے۔ برحق امام کی اطاعت سے جہالت یعنی اس کو تسلیم نہیں کرتا، وہ اس سے جاہل ہے کیوں؟ "تَمَسُّكًا بِدَلِيلٍ فَاسِدٍ" استدلال کرنے والا ہے کس چیز سے؟ دلیل فاسد سے "حَتَّى يَضْمَنَ مَالَ الْعَادِلِ" یہ متن ہے بھئی "حَتَّى يَضْمَنَ مَالَ الْعَادِلِ" یہ متن ہے بھئی۔ آگے ہے "إِذَا أَتْلَفَهُ" یہ بھی متن ہے ایک لفظ چھوڑ کر اگے۔ "إِذَا أَتْلَفَهُ" تو متن کیا بن گیا؟ "حَتَّى يَضْمَنَ مَالَ الْعَادِلِ إِذَا أَتْلَفَهُ" یہ متن ہے بھئی۔ "حَتَّى يَضْمَنَ مَالَ الْعَادِلِ" یہاں تک کہ وہ ضامن ہو گا "مَالَ الْعَادِلِ" عادل شخص کے مال کا "وَنَفْسَهُ" اور اس کی جان کا بھی "إِذَا أَتْلَفَهُ" جب اس کو تلف کر دے۔ ایک شخص ہے اس نے بغاوت کر دی امام برحق سے یعنی جو خلیفہ ہے، امام سے کیا مراد ہے؟ خلیفہ۔ خلیفہ برحق سے بغاوت کر دی اور بغاوت کے اندر اس نے اگر کسی عادل کو کیا کیا؟ کسی عادل آدمی کو کسی کو جو خلیفہ کو ماننے والا تھا اس کو قتل کر دیا یا اس کو مالی نقصان پہنچایا، ان سب کا ضمان دینا پڑے گا۔ مالی ضمان بھی اور جانی ضمان بھی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے "یہاں تک کہ وہ ضامن ہو گا عادل کے مال کا بھی اور اس کی جان کا بھی إذَا أَتْلَفَهُ جب اس کو تلف کر دے، برباد کر دے" "إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ مَنَعَةٌ" جب اس کا کوئی لشکر نہ ہو۔ باغی لشکر ان کا نہ ہو، ایک دو ہیں یا تین ہیں یا کچھ، ان کا لشکر نہ ہو۔ پھر ان پر یہ ضمان آئے گا۔ اگر لشکر ہو پھر ضمان نہیں آئے گا، پھر گناہ گار تو ہوں گے، لیکن اگر انہوں نے توبہ کر لی تو پھر یاد رکھیے بھئی، اولاً تو لڑائی کی نقصان کیا، لیکن بعد میں پھر انہوں نے توبہ کر لی، تو توبہ کرنے کے بعد اب ان کی سے وہ ضمان مالی اور جانی ضمان تو نہیں لیا جائے گا جو نقصان کیا۔ البتہ گناہ گار ہوں گے۔ کیا ہوں گے؟ گناہ گار ہوں گے۔ ہاں جب لشکر نہ ہو تو پھر اس وقت مالی اور جانی نقصان کا بھی ضمان لیا جائے گا۔ بھئی یہ کیا وجہ؟ جب لشکر ہو تو پھر ضمان نہیں آتا اور لشکر... لشکر جب نہ ہو تو ضمان آتا ہے اور جب لشکر ہو تو ضمان نہیں آتا اس کی وجہ کیا ہے؟ کہتے ہیں وجہ اس کی یہ، کیونکہ اگر لشکر ہو تو پھر دلیل کے ذریعے ان کو مغلوب نہیں کیا جا سکتا۔ دلیل کے ذریعے... ہاں اکیلے چند ایک ہوں گے ان کو دلیل کے ذریعے مغلوب کیا جا سکتا ہے، ان سے بات کروائی جا سکتی ہے، ان پر دلیل کے ذریعے غالب ہوا جا سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں دیکھئیے خود بیان کر رہے ہیں کہتے ہیں "إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ مَنَعَةٌ" جبکہ اس کا ان کا لشکر نہ ہو "لِأَنَّهُ يُمْكِنُ إِلْزَامُهُ بِالدَّلِيلِ وَالْجَبْرُ عَلَى الضَّمَانِ" اس لیے کیونکہ ممکن ہے، کیا ممکن ہے؟ "إِلْزَامُهُ بِالدَّلِيلِ" دلیل کے ذریعے ان پر الزام یعنی ان پر غالب آنا، دلیل کے ذریعے ان پر غالب آنا ممکن ہے "وَالْجَبْرُ عَلَى الضَّمَانِ" اور ضمان کی تلافی بھی ممکن ہے۔ "وَأَمَّا إِذَا كَانَ لَهُ مَنَعَةٌ" باقی جب ان اس کا لشکر ہو "فَلَا يُؤْخَذُ بِضَمَانِ مَا أَتْلَفَهُ" تو ان کا مؤاخذہ نہیں کیا جائے گا اس چیز کے ضمان کے ساتھ جس کا انہوں جس کو انہوں نے تلف کر دیا "بَعْدَ التَّوْبَةِ" توبہ کرنے کے بعد "كَمَا لَا يُؤْخَذُ أَهْلُ الْحَرْبِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ" جیسے کہ مؤاخذہ نہیں کیا جاتا اہل حرب کا اسلام لانے کے بعد۔ بھئی کفار کا ایک لشکر آیا مسلمانوں سے جنگ شروع کر دی، نقصان کیا۔ پھر بعد میں وہ ایمان لے آئے تو کیا ان سے مؤاخذہ ہو گا؟ ان سے وہ ضمان وغیرہ لیا جائے گا؟ نہیں، تو جیسے ان سے وہ لشکر والوں سے ضمان نہیں لیا جاتا تھا بعد میں تو یہاں بھی ان لشکر والوں سے بعد میں ضمان نہیں لیا جائے گا۔ "وَجَهْلِ مَنْ خَالَفَ فِي اجْتِهَادِهِ الْكِتَابَ" یہ چوتھی قسم، چوتھی مثال آ گئی کس کی؟ جہل باطل کی بھئی، چوتھی قسم۔ اور جہالت اس شخص کی جو مخالفت کرتا ہے "فِي اجْتِهَادِهِ" اپنے اجتہاد میں "الْكِتَابَ" کس کی؟ کتاب اللہ کی۔ جو مخالفت کرتا ہے اپنے اجتہاد میں کتاب اللہ کی آگے ایک ڈیڑھ سطر بعد آ رہا ہے والسنۃ۔ یہ بھی یاد رکھیے متن ہے۔ والسنۃ۔ سنت سے آگے ایک لفظ چھوڑ کر آ رہا ہے کلف فتوی ببع امہات الاولاد ونحویہ۔ تو ونحویہ پڑھیں بھئی یہ ببع پر عطف کریں ببع پر۔ ببع امہات۔ تو یہ بھی متن ہے۔ کلف فتوی ببع امہات الاولاد ونحویہ۔ یہ بھی متن ہے۔ اور جہل من خالفا اور جہل اس شخص کا جس نے مخالفت کی اپنے اجتہاد میں کتاب اللہ کی اور سنت کی۔ کجہل شافعی رحمہ اللہ تعالی فی حل متروک التسمیۃ عامدا قیاسا علی متروک التسمیۃ ناسیا۔ جیسے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کی جہالت جس وہ ذبیحہ جس پر بسم اللہ کو جان بوجھ کر چھوڑ دیا گیا اس کے حلال ہونے میں، وہ اس کو کیا قرار دیتے ہیں؟ حلال۔ قیاسا علی متروک التسمیۃ ناسیا قیاس کرتے ہوئے کس پر؟ وہ جس پر بسم اللہ کو چھوڑ دیا گیا ہے ناسیا بھولے سے۔ فانہ مخالف لقولہ تعالی پس یہ جو ہے مخالف ہے اللہ تعالی کے اس قول کے ولا تاکلو ممام لم یذکر اسم اللہ علیہ کہ تم نہ کھاؤ اس ذبیحے کو جس پر اللہ کا ذکر نہ کیا گیا ہو اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ والسنۃ المشہورۃ اور مخالفت کی جس نے اپنے اجتہاد میں کس چیز کی؟ سنت مشہورہ حدیث مشہور کی۔ کلف فتوی ببع امہات الاولاد ونحویہ جیسے کہ فتوی ہے کس چیز کا؟ امہات الاولاد کے بیچنے کا اور اس جیسے بھئی فتوے۔ امہات الاولاد بھئی؟ وہ جو باندی جس نے بچے کو جنم دیا ہے اقا کے، اقا نے بے قرار کر لیا کہ یہ میرا بچہ ہے یہ ہے ام ولد۔ یہ کیا ہے؟ اسی کی جمع کیا ہے؟ امہات الاولاد۔ تو وہ جو ام ولد باندھ۔ اب اپ پڑھ چکے ہیں کہ ام ولد کو بیچنا جائز نہیں کیونکہ اس نے اقا کے مرنے کے بعد ازاد ہونا ہے۔ اگر اس کو بیچا جائے گا تو اس کا حق ازادی ضائع ہوتا ہے لہذا اس کو بیچنے کی اجازت نہیں ہے بھئی۔ تو لیکن بعض نے فتوی دیا کہ امہات الاولاد کو بیچنا جائز ہے تو یہ حدیث مشہور کے خلاف ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ حدیث مشہور کے خلاف ہے۔ فالجحل بفتوی بیع امہات الاولاد جحل من داود الاصفہانی یہ امہات الاولاد کے بیچنے کا فتوی جو ہے یہ جہل ہے کس سے؟ داود اصفہانی سے وتابعہ اور ان کے جو اتباع کرنے والے ہیں حیث ذہبو الی جواز بیعہا اس حیثیت سے کہ وہ گئے ہیں اس کی بیع کے جائز ہونے کی طرف لحدیث جابر رضی اللہ تعالی عنہ جابر رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث کی وجہ سے جو حدیث میں آتا ہے کیا کہ کنا نبیع امہات الاولاد علی عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہ ہم بیچا کرتے تھے امہات الاولاد کو حضور علیہ السلام کے زمانے میں وہ مخالف اور یہ مخالف ہے حدیث المشہور کس کے حدیث مشہور کے یعنی قولہ علیہ الصلاۃ والسلام یعنی حضور علیہ السلام کا وہ قول جو ہے لامرۃ ولدت من سیدہا جو اپ نے فرمایا اس عورت سے جس نے جنم دیا تھا اپنے اقا سے ہیا معتقۃ عن دبر منہ حضور علیہ یہ حدیث آ گئی کہ یہ عورت جو ہے ازاد ہے عن دبر منہ اپنے اقا کے پیچھے یہ عورت ازاد ہے اپنے اقا کے پیچھے یعنی اس کے مرنے کے بعد والجہل فی نحوہ اور ان جیسی چیزوں میں جہل جو ہے کجہل شافعی فی جواز القضاء بشاہد و یمین جیسے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کی جہالت جو ہے فی جواز القضاء قضا کے جائز ہونا بشاہد و یمین ایک گواہ اور ایک قسم سے اپ پڑھ چکے ہیں بھئی امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک گواہ مدعی کی طرف سے ایک گواہ ہے تو ساتھ وہ ایک قسم کھا لے تو اس کے حق میں فیصلہ کیا جا سکتا ہے اور حدیث پیش کرتے ہیں۔ تو کہتے ہیں یہ تو فانہ مخالف للحديث المشہور یہ مخالف ہے حدیث مشہور کے وہ قولہ علیہ الصلاۃ والسلام بھئی حدیث مشہور کونسی کہتے ہیں وہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر کہ بینہ جو ہے مدعی پر ہے اور قسم جو ہے منکر پر ہے اس حدیث سے پتہ چل رہا ہے واضح طور پر کہ مدعی کا حق صرف بینہ ہے اور منکر کا حق صرف کیا ہے تو قسم صرف کس کے لیے ہے؟ منکر کے لیے ہے۔ و اول من قضا بہ معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اور سب سے پہلے جنہوں نے فیصلہ کیا اس کے ساتھ یعنی ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ وہ معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ ہیں۔ وقد نقلنا کل کل ھذا علی نحو ما قال اسلافنا۔ بھئی دیکھیے یہ مسئلہ بیان کیا اور جہل کی نسبت امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف کر دی جو امام دنیا ہیں مولانا اور جہل دو تین مسئلے ذکر کر دیے اب آخر میں اپنا عذر پیش کر رہے ہیں صاحب نور الانوار کہتے ہیں یہ ہم ہماری ایسی جرات نہیں کہ اتنی گستاخی کریں اور ایسی بات کریں یہ ہمارے اسلاف نے اس طرح کی باتیں کچھ لکھی ہیں ہم نے ان کو ہو بہو صرف نقل کر دیا ہے اپنی طرف سے کوئی چیز نہیں۔ یہ معنی ہے۔ وقد نقلنا کل ھذا علی نحو ما قال اسلافنا اور تحقیق ہم نے یہ سارا نقل کر دیا اسی طریقے پر جس طریقے پر اسلاف نے فرمایا تھا وان کنا لم نجتر علیہ اگرچہ ہم اس قسم کی باتوں پر جرات نہیں کر سکتے اتنی جرات نہیں کر سکتے کہ ہم ایسی بات کہیں ہیں۔ تو چنانچہ دیگر علماء نے لکھا بھی بھئی کہ نہیں بھئی یہاں یہ کہنا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب اللہ کی مخالفت کی ہے اور یا تو یہ درست نہیں یہ محل اجتہاد تھا یہ کیا ہے؟ یہ جگہ ہی محل اجتہاد کا محل تھا لہذا ان کا اختلاف یہاں معتبر ہے بھئی ان کا اختلاف معتبر ہے بھئی تو ان کی طرف یہ نسبت کرنا اس طریقے سے اس انداز میں یہ درست نہیں بھئی۔ تو شارع فرما رہے ہیں آخر میں کہ ہم سب نے یہ ہم نے یہ اسی طرح نقل کیا جیسا کہ اسلاف نے لکھا ہم ہماری یہ جرات نہیں ہے کہ ہم اس امام شافعی رحمہ اللہ نے جو اجتہادی طور پر بعض مسائل میں اختلاف کیا ہے اس کی نسبت ہم کس کی طرف کر دیں؟ جہل باطل کی طرف کر دیں اور یہ کہیں کہ ان کا کوئی عذر آخرت میں قابل قبول نہیں ہوگا ہماری ایسی جرات نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا مقام بڑا اونچا اتنا اونچا مقام کہ اندازہ لگائیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کتنے مجتہدین تھے لیکن صرف چار مجتہدین جو ہیں جن کے مذہب کو پوری دنیا میں اللہ نے باقی رکھا اور اج بھی سینکڑوں سال گزرنے کے باوجود دنیا کے مختلف خطوں میں جن مجتہدین کا مذہب باقی ہے وہ صرف چار ائمہ ہیں بھئی۔ باقیوں کے مذاہب کچھ عرصے کے لیے تو رہے لیکن پھر ختم ہو گئے تو یہ ان کے عند اللہ مقبولیت کی بے انتہا مقبولیت کی علامت ہے بھئی تو ہماری یہ جرات نہیں کہ ان کی طرف اس قسم کی نسبت کریں اور ویسے بھی یہ جو مسئلے ذکر ہوئے دیگر علماء لکھتے ہیں یہ مجتہد فی مسئلے ہیں ان کے اندر اجتہاد کی گنجائش تھی جبھی امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا کیا؟ اجتہاد کیا بھئی۔ تو پہلی قسم جہل باطل تھی بھئی اب دوسری قسم آ گئی والثانی الجہل فی موضع الاجتہاد الصحیح دوسری قسم وہ جہل جو ایسے اجتہاد صحیح کے محل کے اندر ہو بھئی جو محل ہی کس چیز کا ہو اجتہاد صحیح کا وہاں پر جو جہل آئے اور فی موضع الشبہۃ یہ ایسے محل میں جہالت جہاں پر جو محل ہی شبہے کا ہے جہاں انسان شبہے میں پڑ جاتا ہے و انہ یصلح عذرا و شبہۃ اور یہ عذر اور شبہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہو دارئۃ للحد والکفارۃ ایسا شبہ جو دور کرنے والا ہے ختم کرنے والا ہے حد اور کفارے کو کلمحتجم جیسے کہ حجامت کروانے والا بھئی احتجام کہتے ہیں سینگی لگوانا، پچھنے لگوانا۔ یہ پرانا طریقہ علاج تھا جس کے ذریعے کوئی خاص آلہ سے آلہ بدن میں چبھو کر وہاں سے خون چوس کر نکالا جاتا مثلا گردن وغیرہ میں তো اس سے فاسد خون بدن سے نکل جاتا تھا اور اس سے بہت سی بیماریوں سے شفا حاصل ہو جاتی تھی۔ حدیث کے اندر اس کی بڑی تاکید آئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ مجھے جبرائیل علیہ السلام بار بار پچھنے لگوانے کی تاکید کرتے ہیں کہ اپنی امت کو حکم دیں پچھنے لگوانے کا اس میں اتنا نفع ہے بار بار مجھے تاکید کرتے ہیں۔ تو یہ یہ پرانا طریقہ تھا بھئی۔ تو اب یہ جو پچھنے لگوانے والے پچھنے لگوایا تو حدیث میں اس کے بارے میں آتا ہے افطر الحاجم والمحجوم پچھنے لگانے والا اور لگوانے والا ان دونوں کا افطار ہو گیا یعنی روزہ افطار ہو گیا، روزہ ٹوٹ گیا بھئی۔ روزہ کیا ہوا؟ ٹوٹ گیا۔ اب حدیث کا معنی یہ ہے کہ جس نے پچھنے لگوائے یا جس نے لگائے ان کا روزہ ٹوٹ گیا یعنی ٹوٹنے کے قریب ہو گیا بھئی۔ محدثین فقہاء بیان کرتے ہیں حدیث کا معنی۔ کہ معنی کیا ہے مراد کیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جس نے پچھنے لگوائے یا پچھنے لگائے قریب ہے کہ ان کا روزہ ٹوٹ جائے کیوں؟ اسی کیونکہ وہ منہ سے خون کو چوسے گا تو احتمال ہے شاید کچھ کوئی خون کے ذرات چلے نہ جائیں پیٹ میں بھئی۔ تو اس احتمال ہے اور اسی طرح جس نے پچھنے لگوائے جس کے بدن سے خون نکالا گیا اس کا بھی جب خون نکالا جائے گا ضعف اور کمزوری آئے گی تو اس کی وجہ سے ہو سکتا ہے اس کا روزہ ہی اسے توڑنا پڑے بھئی جان قربان آئے اس کی بھئی صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو حدیث کا یہ معنی ہے کہ قریب ہے ٹوٹ جائے۔ چنانچہ اس حدیث کی وجہ سے بھئی بعض علماء فرماتے ہیں کہ ان کا روزہ ہی ٹوٹ جاتا ہے باقی کیا کہتے ہیں؟ اور کیونکہ حدیث میں آیا افطر الحاجم والمحجوم ان کا روزہ ٹوٹ گیا اور لیکن دیگر فقہاء کیا فرماتے ہیں؟ کیا معنی ہے؟ ٹوٹنے کے قریب ہو گیا یعنی احتمال ہے ٹوٹ نہ جائے اس لیے نہیں لگوانے روزے کی حالت میں تو اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں۔ اب ایک شخص ہے اس کو یہ فتوی پہنچا تھا بعض فقہاء کا کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اب اس نے پچھنے لگوائے اور پچھنے لگوانے کے بعد اس نے کھانا بھی کھا لیا پانی بھی پی لیا تو کیا اب اس پر کفارہ آئے گا؟ کیونکہ پچھنے لگوانے سے تو روزہ نہیں ٹوٹتا ہم نے معنی حدیث کا بیان کر دیا کیا معنی ہے؟ قریب ہو جاتا ہے ٹوٹتا نہیں قریب ہے ٹوٹ جائے نہ لگوائے منع کرنا مقصود ہے اس کے ذریعے منع کرنا بھئی۔ تو اب جان بوجھ کر کھایا پیا کیا اس کا روزہ ٹوٹ گیا کفارہ آئے گا کہتے ہیں نہیں بھئی یہ جو حدیث یہ جو حدیث ہے اس کی وجہ سے شبہ بظاہر انسان کیا سمجھتا ہے حدیث کو سن کر؟ روزہ ٹوٹ چکا جب ٹوٹ چکا تو پھر اس نے کھا پی لیا لہذا پھر تو کفارہ نہیں آنا چاہیے بھئی صورت سمجھ میں آ گئی تو یہ شبہے کا محل تھا اس لیے یہاں پر اس پر کفارہ نہیں آئے گا۔ کل محتجم الصائم اذا افطر یاد رکھیے یہ بھی متن ہے اذا افطر۔ جیسے کہ پچھنے لگوانے والا روزہ دار اذا افطر جب اس نے افطار کر دیا عمدا جان بوجھ کر بعد الحجامۃ پچھنے لگوانے کے علی ظن انہا فطرتہ اس گمان کرتے ہوئے کہ یہ حجامت جو ہے اس نے اس کا روزہ تڑوا توڑ دیا ہے ای ان الحجامۃ فطرت الصمام یہ فطرت و معنی افطرت کے ہے بھئی۔ کہ حجامت نے توڑ دیا ہے اس کے روزے کو حیث لا تزمہ کفارہ تو اس حیثیت سے کہ اس پر کفارہ لازم نہیں ہوگا لانہ جہل فی موضع الاجتہاد ہاں تو یہ اجتہاد صحیح کا مقام ہے بھئی بعض کے نزدیک روزہ ٹوٹتا ہے بعض کے نزدیک روزہ نہیں ٹوٹتا تو یہ پہلے کی مثال ہے یاد رکھیے وہ اجتہاد صحیح کی اور موضع شبہ بھی متن میں آیا تھا اس کی مثال آگے آ رہی ہے تو یہاں پر بھی جہل ہے لیکن یہ یہ صلاحیت رکھتا ہے اس کو کہ عذر بنے بھئی آخرت میں۔ حیث لا تزمہ کفارہ تو اس حیثیت سے کہ اس پر کفارہ لازم نہیں ہے لانہ جہل فی موضع الاجتہاد صحیح اسی کیونکہ جہالت ایسے محل میں ہے جو اجتہاد صحیح کا محل ہے لانہ عند الاوضاع رحمہ اللہ تعالی الحجامۃ تفطر الصمام کہ حجامت جو ہے یعنی پچھنے لگوانا یہ توڑ دیتا ہے روزے کو لقول علیہ الصلاۃ والسلام حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے افطر الحاجم والمحجوم کہ روزہ ٹوٹ گیا حاجم اور محجوم کا یعنی ٹوٹنے کے قریب ہو گیا لیکن قال شیخ الاسلام لیکن شیخ الاسلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں لو لم يستفت فقیہا اگر اس شخص نے جس نے پچھنے لگوائے اور پھر جان بوجھ کر اس نے کھا پی لیا اگر اس نے کسی فقیہ سے فتوی نہیں پوچھا کسی مفتی سے جا کر فتوی نہیں پوچھا ولم یبلغ الحدیث اور اس کو حدیث بھی نہیں پہنچی او بلغہ و عرف تعبیلا لیکن یہ حدیث تو پہنچی لیکن وہ اس کی تاویل کو جانتا ہے کہ ٹوٹنے سے کیا مراد ہے کہ قریب ہے ٹوٹ جائے تو تجب علیہ کفارہ پھر اس پر کفارہ واجب ہے۔ اس کو اس کو کیا چاہیے تھا کسی فقیہ سے پوچھتا مجتہد کسی مفتی سے جا کر پوچھتا آج کل یوں کہیں کسی سے مفتی سے پوچھتا یہ حدیث نہیں پہنچی خود ہی اپنی طرف سے کیا کر رہا ہے؟ کہہ رہا ہے روزہ شاید ٹوٹ گیا اور کھا پی رہا ہے بھئی۔ اگر تو اس کو حدیث پہنچی ہو پھر تو عذر بنتا ہے اس کا اگر حدیث ہی نہیں پہنچی اور پھر جان بوجھ کر روزہ اپنا کھا پی رہا ہے تو پھر اس کا عذر قابل قبول نہیں کفارہ آئے گا یا حدیث پہنچی اس کو لیکن حدیث کے ساتھ معنی بھی اس کو پتہ لگ گیا کہ فقہاء کیا کہتے ہیں اس کا کیا معنی ہے ٹوٹے گا نہیں بلکہ ٹوٹنے کے قریب ہو گیا امکان ہے ٹوٹ نہ جائے کہیں اس لیے نہ لگوائے تو پھر بھی یہ کھا پی رہا ہے تو اس پر بھی کیا آئے گا کفارہ یہ معنی ہے کہ اس پر کفارہ واجب ہوگا۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ معنی ہے والا کل قال شیخ الاسلام لیکن شیخ الاسلام فرماتے ہیں لو لم يستفت فقیہا اگر اس نے پوچھا نہیں کسی فقیہ سے ولم یبلغ الحدیث اور یہ اس کو حدیث نہیں پہنچی او بلغہ و عرف تعبیلا لیکن حدیث پہنچی اور یہ اس کی تاویل بھی جانتا ہے تو تجب علیہ کفارہ تو اس پر کفارہ واجب ہے لانہ ظنہ حصل فی غیر موضعہ اسی کیونکہ اس کا گمان اپنے محل میں نہیں ہے کیونکہ اس کا گمان اپنے محل ہاں یہ گمان کر رہا ہے بھئی کسی مفتی سے پوچھتا یا حدیث کے بارے میں تحقیق کرتا اس کے معنی جانتے تو پھر اس کے بعد تو عذر بن سکتا تھا ویسے عذر نہیں چنانچہ آگے بتلا رہے ہیں کہ اگر کسی فقیہ سے فتوی پوچھا اور اس نے بتایا کہ روزہ ٹوٹ گیا اور فتوی پوچھنے کے بعد اس پر اعتماد کرتے ہوئے وہ افطار کر لیتا ہے تو اس صورت میں اس پر کفارہ نہیں آئے گا۔ واما اذا استفت فقیہا یعتمد علی فتواہ فافتاہ بالفساد فافطر بعدہ عمدا لا تجب الکفارہ اور باقی جب اس نے فتوی پوچھا کسی فقیہ سے اعتماد کرتے ہوئے اس کے فتوی پر فافتاہ بالفساد پس اس فقیہ نے اس کو فتوی دیا روزے کے فاسد ہونے کا فافطر بعدہ عمدا پھر اس نے افطار کیا اس کے بعد جان بوجھ کر تو لا تجب الکفارہ اب اس پر کفارہ واجب نہیں۔ وکمن زنا باریۃ والدتہ علی ظن انہا تحل لہ اور جیسے جس شخص نے زنا کیا اپنے والد کی باندی سے یہ گمان کرتے ہوئے کہ یہ باندی اس کے لیے حلال ہے۔ یہ دوسرے کی مثال آ گئی بھئی۔ پہلا مثال تھا حجامت والے کی وہ اجتہاد صحیح کا محل تھا وہاں پر بعض فقہاء نے کیا کیا ہے اختلاف کیا ہے اور یہ جو ہے یہ مثال دوسرے کی ہے جہاں پر شبہ آتا ہے ایک شخص کیا کر لیتا ہے اپنے والد کی باندی سے زنا کر لیتا ہے اور یہ گمان کرتا ہے کہ شاید یہ باندی میرے لیے حلال ہے تو یہ تو محل ہی شبہے کا ہے کیونکہ باپ اور بیٹے کا مال باپ اور بیٹے دونوں ایک دوسرے کا مال استعمال کرتے ہیں تو اس وجہ سے اس کو کیا آگیا شبہ آ گیا بھئی۔ تو لہذا یہ عذر مقبول ہے آخرت میں بھئی فانہ الحد لا یلزمہ اس پر حد لازم نہیں ہے لانہ ظن فی موضع الشبہۃ اسی کیونکہ یہ گمان ہے شبہے کے محل میں اذ الاملاک بین الاباء والابناء متصلۃ اسی کیونکہ ملکیت مال جو ہیں جو مملوکہ مال ہیں وہ باپ اور بیٹوں کے درمیان متصل ہوتے ہیں ایک دوسرے کا مال استعمار کرتے ہیں تو اس وجہ سے اس کو کیا آ گیا شبہ آ گیا بھئی تو لہذا یہ عذر قبول مقبول ہے آخرت میں بھئی۔ فانہ الحد لا یلزمہ اس پر حد لازم نہیں ہے لانہ ظن فی موضع الشبہۃ اسی کیونکہ یہ گمان ہے شبہے کے محل میں اذ الاملاک بین الاباء والابناء متصلۃ اسی کیونکہ ملکیت مال جو ہیں جو مملوکہ مال ہیں وہ باپ اور بیٹے کے درمیان متصل ہوتے ہیں ایک دوسرے کا مال استعمال کرتے ہیں تو تو یہ شبہ ہو گیا انتافع با انتافع احدھما بمال الاخر کہ نفع اٹھائے ان دونوں میں سے ایک دوسرے کے مال سے واما اذا ظن انھا لم تحل لہ باقی اگر اس نے یہ گمان کیا کہ یہ باندی اس کے لیے حلال نہیں ہے اس کو پتہ تھا میرے لیے حلال نہیں پھر اس کے ساتھ زنا کیا فانہ یجب الحد حینہ تو اس وقت اس پر حد واجب ہو جائے گی۔ تُو اُس وقت اُس پر حد واجب ہوگی بخلاف جاریت ولدہ بخلاف اپنے بیٹے کی اپنی اولاد کی باندی کے۔ بھئی اپنے بیٹے کی باندی سے باپ نے نِ نشست و صحبت کر لی۔ یاد رکھیے رکھیے اس صورت میں۔ صحبت سے کچھ لمحے پہلے یہ باندی باپ کی ہی ہو گئی۔ کس اس کا مالک کون بن گیا؟ باپ بن گیا۔ اُس کا باپ بن گیا۔ اور جب وہ صحبت کر رہا ہے تو اپنی باندی سے صحبت کر رہا ہے، لہٰذا وہاں کسی بھی درجے میں حد نہیں۔ بخلاف جاریت ولدہ بخلاف اپنی اولاد کی باندی کے، فانہا تحل بکل حال پس وہ اس کے لیے حلال ہے ہر حال میں، سواء ظنانہا تحل لہ او لا برابر ہے چاہے اس کا یہ گمان ہو کہ یہ باندی اس کے لیے حلال ہے یا حلال نہیں۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ وہ حدیث میں آیا نا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی سے کیا فرمایا انت و مالک لابیک تو اور تیرا مال دونوں تیرے والد کے ہیں، باپ کے ہیں بھئی، تو اس حدیث کی وجہ سے یہاں ہم کہیں گے کہ یہ باپ مالک بن گیا اس کا۔ و بخلاف جاریت اخیہ اور بخلاف اپنے بھئی کی باندی کے، ایک بھئی دوسرے بھئی کی باندی سے صحبت کر لیتا ہے۔ اب اگرچہ چاہے وہ یہ گمان بھی کرے کہ میں تو سمجھتا تھا شاید میرے لیے یہ حلال ہے، پھر بھی حد آئے گی۔ اس لیے کیونکہ بھئی اور بھئی کا مال اس طرح نہیں ہوتا، ان میں اس طرح اتصال نہیں ہوتا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اگر کہیں ہو بھی وہ نادر ہے، نادر پر فتویٰ نہیں ہوتا بلکہ عموماً کیا ہے؟ ہر بھئی دوسرے بھئی سے اس کا مال علیحدہ ہوتا ہے۔ ہاں تو کہتے ہیں، و بخلاف جاریت اخیہ بخلاف اپنے بھئی کی باندی کے، فانہا لا تحل لہ وہ اس کے لیے حلال نہیں ہے، بکل حال ہر حال میں، فلا یسقط الحد عنہ لہٰذا اس سے حد ساقط نہیں ہوگی، لان الاملاک متباینۃ عادۃً اس لیے کیونکہ ملکیتیں جدا جدا ہیں عادتاً ایک دوسرے سے بھئی۔ و ثالث الجہل فی دار الحرب من مسلم لم یہاجر الینا اور تیسرا وہ جہل ہے جو دارالحرب میں وہ جو مسلمان ہے اور ہجرت نہیں کرتا ہماری طرف، اس کا جو جہل ہے بالشرائع والعبادات شریعت کام سے اور عبادت۔ ایک شخص ہے وہ دارالحرب میں مسلمان ہوا اور ہجرت نہیں کی، دارالاسلام نہیں آیا۔ اب اس کو نماز، روزے وغیرہ کا پتہ ہی نہیں ہے کہ یہ بھی کوئی احکام ہیں شرعی احکام۔ تو کیا یہ اس کی جہالت آخرت میں عذر ہے یا اس کو جب پتہ چل جائے اس کو پھر ان سب کی قضا کرنا پڑے گی؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، دارالحرب وہ وہاں پر اسلامی احکام مشہور نہیں ہوتے، لوگوں کو واقعی پتہ نہیں ہوتا۔ وہ تو ہمارے مخالفین کی جگہ ہے، دارالحرب ہے۔ لہٰذا وہاں پر اگر ایک شخص مسلمان ہوا اور اس کو نماز، روزے وغیرہ چیزوں کا پتہ ہی نہیں اور بعد میں مدت العمر بعد جا کر پتہ لگا، تو جس وقت پتہ لگا اس وقت سے اب اس پر واجب ہیں، پہلے والوں کی اس پر قضا نہیں۔ یہ معنی ہے۔ وانہ یکون عذراً اور یہ عذر ہو گا، حتیٰ لو لم یصل و لم یصم یہاں تک کہ اگر اس نے نمازیں نہیں پڑھیں اور روزے نہیں رکھے مدتًا ایک مدت تک لم تبلغہ الدعوۃ اتنی مدت تک جب تک اس کو دعوت نہیں پہنچی، تو لا یجب قضاؤہما تو ان کی دونوں کی قضا اس پر واجب نہیں، لان دار الحرب لیست بمحل لشہرۃ احکام الاسلام اس لیے کیونکہ دارالحرب جو ہے وہ جگہ نہیں ہے اسلامی احکام کے مشہور ہونے کی، بخلاف الذمی بخلاف ذمی کے وہ جو ہمارے دارالاسلام میں وہ اذا اسلم جب وہ مسلمان ہوا فی دار الاسلام دارالاسلام میں فین جہلہ بالشرائع لا یکون عذراً تو اس کا شرعی احکام سے اس کی جہالت جو ہے یہ عذر نہیں ہے، اذ ربما یمکنہ السوال اس لیے کیونکہ بسا اوقات ممکن ہے اس کے لیے سوال کرنا، پوچھنا عن احکام الاسلام اسلامی احکام کے بارے میں اس کے لیے سوال کرنا ممکن ہے، فیجب علیہ قضاء الصلاۃ والصوم من وقت الاسلام تو اس پر نماز اور روزے کی قضا واجب ہوگی اسلام کے وقت سے، یعنی جو جو رہ گئے ہیں وہ سارے ادا کرنے پڑیں گے۔ و یلحق بہ اور اسی کے ساتھ ملحق ہے، بھئی کس کے ساتھ؟ ای جہل من اسلم فی دار الحرب وہ جو اسلام لے کر آیا کس میں؟ دارالحرب میں، اس کی جہالت کے ساتھ۔ فی کونہ عذراً عذر ہونے میں اس کے ساتھ ملحق ہے۔ کیا چیز ملحق ہے؟ جہل الشفیع۔ یہ متن ہے، یاد رکھیے، جہل الشفیع بھئی۔ یہ شفیع کی جہالت یہ اسی کے ساتھ ملحق ہے، یعنی یہ بھی عذر ہے۔ بھئی شفیع، شفعہ کرنے والا۔ آپ جانتے ہیں کہ شخص کے پڑوس میں جس کے ساتھ زمین دوسرے کے متصل ہو، وہ زمین بکے یا اس کے ساتھ شریک ہو تو دوسرا شریک اس حصے کو بیچے، تو جو پڑوسی ہے یا شریکِ آخر ہے اس کو شریعت نے شفعہ کا حق دیا ہے۔ جانتے بھی ہو کہ نہیں بھئی؟ ابھی کئی مرتبہ گزشتہ چند سبقوں میں بیان ہوا۔ تو وہ شفعہ کا حق دیا اس شریعت نے۔ اب اس نے بیچا تھا تین مہینے پہلے اپنی زمین کو، اس کو آج آکر پتہ چلا، اس کو یہ جہالت تھی اس کو علم نہیں تھا بیع وغیرہ ہوئی ہے۔ تو کیا اب بھی اس کو شفعہ کا حق ہے؟ کہتے ہیں ہاں بھئی، اس کی جہالت جو ہے وہ عذر ہے۔ جیسے وہ شخص جو دارالحرب میں تھا اس کی جہالت شرعی احکام سے وہ عذر تھی، تو اسی طرح اس کا بھی عذر ہے کیونکہ وہ جو ساتھ بیچنے والا ہے زمین یا جو شریک بیچنے والا ہے وہ اپنا حصہ بیچ رہا ہے اس کے ساتھ دخل ہی نہیں ہے، وہ اس کو تھوڑی بتلائے گا آخر کہ میں بیچنے لگا ہوں۔ تو وہ مستقل تھا اپنا حصہ بیچنے میں، اس نے بیچ دیا ہے، اس کو پتہ ہی نہیں تھا۔ آج جب اس کو پتہ چلا تو پھر اب اس کو شفعہ کا حق ہے، جس مجلس میں پتہ چلا اسی میں کہہ دے کہ میں شفعہ کرتا ہوں۔ لیکن اب اگر یہ خاموش رہا علم کے بعد تو اس کا شفعہ کیا ہو جائے گا؟ ساقط ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں یہ یہ عذر ہونے میں اسی کے ساتھ ملحق ہے۔ کس کا عذر؟ جہل الشفیع شفیع کا جہل بالبیع، بیع سے جو اس کا جہالت ہے شفیع کی وہ عذر ہے۔ فانہ اذا لم یعلم بالبیع پس جب اس کو بیع کے بارے میں علم نہیں، فسقوطہ عن طلب الشفعۃ تو اس کا سکوت کرنا شفعہ کرنے سے شفعہ طلب نہ کرنا، اسے خاموش رہنا، یکون عذراً یہ عذر ہوگا لا یبطلہا یہ جہل اس شفعہ کو باطل نہیں کرے گا۔ و بعد ما علم بہ اور بعد اس کو بعد جب اس کو بعد میں جب اس کو بیع کا علم ہو گیا لا یکون سقوطہ عذراً اب اس کی خاموشی عذر نہیں ہوگی، بل تبطل بہ الشفعۃ بلکہ پھر اس خاموشی کی وجہ سے شفعہ باطل ہو جائے گا۔ و جہل الامۃ بالاعتاق او بالخیار اور اسی طرح باندی کی جہالت آزاد کر دینے سے او بالخیار یا خیار سے۔ بھئی آپ جانتے ہیں کہ باندی نے آقا کی اجازت سے کسی کے ساتھ نکاح کر لیا، اور پھر باندی کو خاوند کتنی طلاقوں کا مالک ہے؟ دو طلاقوں کا۔ آزاد عورت کی تین طلاقیں ہیں، تو باندی کی دو طلاقیں۔ اور پھر باندی کو آقا آزاد کر دے، تو آزاد کرنے کے بعد باندی کو اختیار ہے۔ جس مجلس میں اس کو پتہ چلا ہے کیا کرے؟ اسی میں کہہ دے میں اس خاوند کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، میں نکاح کو فسخ کرتی ہوں، ختم کرتی ہوں، تو نکاح ختم ہو جائے گا۔ کیوں؟ وجہ یہ کہ اب جب یہ آزاد ہو گی تو طلاقیں کتنی بن جائیں گی؟ تین۔ پہلے تھیں دو، اب کتنی ہو گئیں؟ تین۔ تو اس پر قید بڑھ رہی تھی، اس لیے شریعت نے اس کو اختیار دے دیا بھئی۔ اب ایک باندی ہے اس کو آقا نے آزاد کر دیا۔ اس کو پتہ ہی نہیں، کئی دنوں بعد جا کے اس کو پتہ چلا میرے آقا نے مجھے آزاد کر دیا ہے۔ تو کیا یہ اس کی جہالت عذر ہے؟ اب اس کو اختیار ملے گا؟ کہتے ہیں ہاں، یہ اس کا عذر ہے، وجہ یہ کہ اس پہ آقا نے آقا کے لیے کیا اس سے پوچھنا، بتلانا یا مشورہ کرنا ضروری تھا؟ نہیں، وہ تو مستقل تھا، اس کی مرضی تھی، اس نے آزاد کر دیا۔ اور یہ بےچاری مشغول تھی خدمت وغیرہ میں اس کو پتہ نہیں چلا، تو عذر ہے۔ اور دوسرا اس کو پتہ بھی چل گیا کہ مجھے آقا نے آزاد کر دیا ہے، لیکن اس کو یہ نہیں پتہ تھا کہ مجھے آزادی کے بعد اختیار ملنا تھا، اس اختیار کو اس نے استعمال ہی نہیں کیا کیونکہ بےچاری کو علم ہی نہیں۔ کئی دن بعد جا کے اس کو پتہ چلا کہ باندی کو اختیار مل جایا کرتا ہے جیسے ہی اس کو آزادی ملتی ہے۔ تو کیا اب اس کو اختیار ہوگا؟ یہ عذر ہے اس کا، اس کی جہالت عذر ہے؟ کہتے ہیں ہاں، اس کی یہ جہالت عذر ہے۔ جیسے اس کو پتہ لگے فوراً کیا کر سکتی ہے؟ یہ اپنے اختیار کو استعمال بھئی کیوں، یہ عذر کیوں ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ باندی کو مسائل وغیرہ کے پتہ بےچاری کو نہیں ہوتا، وہ تو ہر وقت آقا کی خدمت میں مشغول ہوتی ہے، تو اس کا عذر یہ قابلِ قبول ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے و جہل الامۃ بالاعتاق او بالخیار اور باندی کی جہالت آزاد کر دینے سے اور خیار سے جو اس کی جہالت ہے۔ فانہ یکون عذراً فی السکوت یہ اس یہ عذر ہوگا خاموشی میں، یعنی اذا عتقت الامۃ المنکوحۃ جب آزاد کر دیا گیا ایک منکوحہ باندی کو، یثبت لہا الخیار تو اس کے لیے اختیار ثابت ہو جائے گا ہو جائے گا بین ان تبقی تحت تصرف الزوج اس بات کے بیچ اختیار کہ وہ خاوند کے تصرف میں باقی رہتی ہے او لم تبق یا باقی نہیں رہتی، اس کے لیے اختیار ثابت ہو جائے گا۔ فاذا لم تعلم بخبر الاعتاق پس جب اسے علم نہیں تھا آزاد کر دینے کی خبر کا او بان الشرع اعطاہا الخیار یا اس بات کا اسے علم نہیں تھا کہ شریعت نے اس کو اختیار دیا ہے، کان جہلہا عذراً تو اس کی جہالت عذر ہے۔ ثم اذا علمت بالاعتاق پھر جب اس کو اعتاق کا علم ہوا او بمسألۃ الخیار یا مسئلہ خیار کا علم ہوا، یکون لہا الخیار تو اب اس باندی کو اختیار ہوگا الان اس وقت، لان المولی یستبد بالاعتاق اس لیے کیونکہ آقا وہ مستقل ہے آزاد کر دینے میں، اس کو باندی کو بتلانے، پوچھنے، اجازت وغیرہ کی ضرورت تو اس نے آزاد کر دیا اور اس کو نہیں پتہ لگا، بتایا نہیں اس نے۔ تو اس لیے کیونکہ آقا مستقل ہے آزاد کر دینے میں، و لعلہ لم یخبرہا بہ اور شاید کہ اس نے اس کو خبر نہ دی ہو، و لانہا مشغولۃ بخدمتہ اور اس لیے کیونکہ باندی تو آقا کی خدمت میں مشغول ہوتی ہے فلا تتفرغ لمعرفۃ احکام الشرع پس وہ فارغ نہیں ہوتی شرعی احکام کے جاننے کی طرف، التی من جملتہا الخیار کہ جن کے مجموعے میں سے ایک کیا ہے؟ اختیار بھی انہی میں سے ہے، تو اس کو احکامِ شرعی کے جاننے کا بےچاری کو موقع ہی نہیں ملتا، اس لیے اس کا جہل قابلِ عذر ہے، قابلِ قبول ہے۔ و جہل البکر بانکاح ولی اور اسی طرح باکرہ کی جہالت ولی کے نکاح کروا دینے سے۔ فانہ یکون ایضاً عذراً فی السکوت بھئی آپ جانتے ہیں صغیر اور صغیرہ ہے، اس پر ولی کو ولایت باپ کو مثلاً ولایت حاصل ہے وہ ان کا جہاں چاہے نکاح کروا سکتا ہے۔ اب ان کو پتہ نہیں تھا کہ نکاح کر کیا گیا ہے، ہمارا نکاح کروایا گیا ہے۔ بعد میں بالغ ہونے کے کچھ عرصے بعد جا کے پتہ چلا کہ کیا کیا گیا ہے؟ ان کا نکاح کیا ہے ان کے باپ نے ان کی صغر کی حالت میں، تو کیا اب ان کو خیار ملے گا؟ کہتے ہیں جب بیچاروں کو نکاح کا پتہ ہی نہیں تھا تو یہ جہالت کیا ہے؟ عذر ہے، لہٰذا ان کو خیار ملے گا۔ ہاں اگر ان کو یہ پتہ نہیں تھا کہ نکاح کا تو پتہ تھا ان کو، دوسری صورت۔ لیکن یہ نہیں تھا پتہ کہ ان کو بالغ ہوتے وقت خیار مل شریعت نے کیا دے دیا ہے؟ خیار۔ مثلاً بھئی کی صورت بناؤ، بھئی نے کیا کیا؟ نکاح کروا دیا۔ اور آپ نے پڑھا بھئی اگر نکاح کروا دے چھوٹے صغیر یا صغیرہ بہن کا یا بھئی کا، تو ان کو اختیار مل جاتا ہے، والد اور دادا میں تو نہیں ملتا، تو بھئی والی صورت بنائیں بھئی۔ تو اب ان کو یہ پتہ نہیں تھا کہ ان کو ہمیں بھی خیار مل جاتا ہے، تو اب جب ان کو پتہ چلا کیا اب ان کو خیار مل جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں، یہ عذر قابلِ قبول نہیں، اس لیے کیونکہ دارالاسلام میں رہتے ہیں۔ باندی بےچاری تو خدمت میں مشغول ہوتی تھی اس کا تو عذر تھا اس کو علم نہ ہو، لیکن اس کے لیے تو شرعی مسائل کا سکھنا یا پوچھنا یا جاننا مشکل نہیں تھا بھئی۔ تو نکاح ہی کا پتہ نہ ہو وہ تو عذر ہے، لیکن خیار کا پتہ نہ ہو یہ عذر نہیں۔ فانہ یکون ایضاً عذراً فی السکوت پس اس کا یہ بھی عذر ہوگا، یہ جو نکاح سے لا علمی ہے یہ عذر ہوگا فی السکوت خاموش رہنے میں، یعنی اذا زوج الصغیر او الصغیرۃ غیر الاب جب نکاح کروا دیا صغیر یا صغیرہ کا غیر الاب او الجد باپ یا دادا کے علاوہ کسی ولی نے یصح النکاح تو نکاح صحیح ہے و یثبت لہما الخیار بعد البلوغ اور ان دونوں کے لیے خیار ثابت ہو جائے گا بالغ ہونے کے بعد، فان جہلا بخبر النکاح پس اگر یہ دونوں جاہل ہوئے نکاح کی خبر سے، یعنی صغیر اور صغیرہ، یکون عذراً تو یہ عذر ہوگا حتیٰ یعلما یہاں تک کہ ان کو علم ہو جائے، و ان علما بالنکاح اور اگر ان کو نکاح کا تو علم ہے دونوں کو و لم یعلما اور ان دونوں کو یہ علم نہیں ہے بان الشرع خیرہما کہ شریعت نے ان کو اختیار دیا ہے لا یکون عذراً تو یہ عذر نہیں ہوگا لان الدار دار الاسلام اس لیے کیونکہ یہ دار جو ہے دارالاسلام ہے و المانع من التعلم معدوم اور یہاں تعلم سے، سیکھنے سے جو مانع ہے وہ معدوم، وہ نہیں پایا جا رہا۔ باندی کے حق میں تو تعلم سے مانع تھا، وہ خدمت میں ہوتی تھی، ان میں تعلیم کے اندر تو مانع نہیں۔ تو یہاں تعلم سیکھنے کے اندر کوئی مانع نہیں ہے، فلا یعذر ہذا الجہل تو یہ جہالت عذر نہیں ہوگی۔ و جہل الوکیل والماذون بالاطلاق و ضدہ اور اسی طرح وکیل کی جہالت اور ماذون، وہ غلام جس کو اجازت دی گئی ہے تجارت کی، وہ ماذون کی جہالت، کس چیز سے؟ بالاطلاق اطلاق کا معنی آزاد کرنا، یہاں مراد ہے اجازت دینا۔ و ضدہ اور اس کی ضد، یعنی پابندی لگانا۔ ان سے جہالت جو ہے یہ بھی عذر ہے۔ اچھا، یاد رکھیے۔ بھئی ایک آدمی کو آپ نے وکیل بنایا۔ یاد کہ بھئی وہ جو زید کے پاس گاڑی ہے، وہ گاڑی آپ زید سے میرے لیے خرید لیں۔ وکیل آپ نے بنایا ایک آدمی کو، کس چیز کے لیے؟ ایک متعین چیز خریدنے کے لیے کہ جاؤ وہ چیز میرے لیے خرید لو۔ یاد رکھیے، اب وکیل جب وکیل بن گیا اس نے قبول کر لی وکالت، بعد میں گیا گاڑی خرید لی اور خریدنے کے بعد کہتا ہے یہ تو میں نے اپنے لیے خریدی ہے، یہ میں نہیں دوں گا آپ کو، نہیں بھئی نہیں، آپ قاضی کے پاس جائیں اس سے لے لیں گاڑی۔ جب اس نے وکالت کو قبول کر لیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ گاڑی خود خریدنے میں یہ یہ معین گاڑی خریدنے میں خود اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اگر خود خریدنی ہوتی تو پھر آپ کو اسی وقت کہہ دیتا کہ بھئی وہ تو میرا خود خریدنے کا ارادہ ہے، میں آپ کے لیے نہیں خرید سکتا وہ گاڑی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا اگر وہ وکالت آپ نے آپ بھئی وکیل بنائے، صورتِ مسئلہ جو متن میں بیان ہو رہی ہے، آپ نے وکیل کے پاس ایک آدمی کو بھیجا کہ جاؤ جا کر اسے کہو میرے لیے وہ گاڑی خرید لو۔ وکیل کے پاس آپ نے پیغام رساں کو بھیجا، وکیل اب بھئی بنایا نہیں، کیا پیغام بھیجا؟ کہ تم وکیل بنو میری طرف سے اور میرے لیے وہ گاڑی خرید لینا، ابھی اس کو یہ خبر ملی نہیں، آپ نے پیغام دینے والے کو بھیج دیا۔ اس نے ایک آدھ دن بعد میں دیر کر دی، اس دوران وکیل نے وہ خود گاڑی خرید لی، تو اب یہ گاڑی آپ کی شمار ہوگی یا وکیل کی؟ کہتے ہیں یہ عذر قابلِ قبول ہے۔ لہٰذا اب یہ گاڑی خریدے تو وکیل ہی کی ہوگی، آپ اس سے زبردستی نہیں لے، یہ جہالت۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یا اسی کا عکس کر لیں۔ آپ نے اسے کہا تھا گاڑی خریدوں، آپ نے آدمی بھیجا کہ بھئی جا کر کہو کہ گاڑی نہ خریدے میرے لیے۔ اس پیغام پہنچانے والے نے دیر کر دی، اس دوران وہ آپ کے لیے گاڑی اس نے خرید لی۔ تو اب آپ تو آدمی بھیج چکے تھے، تو کیا اب یہ گاڑی آپ کی شمار ہوگی؟ وہ قاضی کے پاس جا کر زبردستی آپ کے سر ڈال سکتا ہے؟ جی، ہاں آپ کے سر وہ ڈال سکتا ہے کیونکہ اس بےچارے کو تو پتہ نہیں تھا، اس نے تو کس نیت سے خریدی ہے؟ آپ کے لیے خریدی ہے، لہٰذا یہ جہالت بھی عذر ہے۔ ابھی اس کو جب تک وکالت سے معزول کر دینے کی خبر نہیں پہنچی اس وقت تک اگر وہ خرید لیتا ہے تو اس کا عذر ہے، وہ چیز کس کی طرف سے شمار ہوگی؟ موکل ہی کی طرف سے شمار ہوگی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح عبدِ ماذون ہے، عبدِ ماذون، اس کو آقا نے اجازت دے دی تجارت کی، یا اس پر اجازت پہلے سے دی ہوئی تھی اس پر پابندی لگا دی۔ تو اس دوران جو اسے پیغام ابھی اجازت ملنے یا اجازت ختم کرنے کے پیغام جب تک نہیں ملا اس غلام کا بھی اس کی بھی جہالت کیا ہے؟ عذر ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کتے ہیں: "وجهل الوكيل والماذون بإطلاقه وضده" وکیل اور ماذون غلام جو ہیں ان کی اجازت اور اس کی ضد جو ہے، یہ بھی اسی طرح ہے۔ "فإن الوكيل والماذون" پس بے شک وکیل اور ماذون "إذا لم يعلما بالإطلاق" جب ان دونوں کو علم نہیں ہوا اطلاق کا، اطلاق "أي بالوكالة والإذن" یعنی وکالت اور اجازت کا، "وضده" اور اس کی ضد کا "أي بالعزل والحجر" یعنی معزول کر دینے کا اور پابندی کا، "فتصرفا قبل بلوغ الخبر إليهما" پس ان دونوں نے تصرف کیا ان دونوں تک اس خبر کے پہنچنے سے پہلے ہی، "فهذا الجهل منهما يكون عذرا" تو یہ جو جہالت ہے ان دونوں کی طرف سے، یہ عذر ہوگی۔ "فلم ينفذ تصرفهما على الموكل والمولى في الصورة الأولى" تو ان دونوں کا جو تصرف ہے وہ موکل اور آقا پر نافذ نہیں ہوگا پہلی صورت میں۔ آقا پر نافذ نہیں ہوگا کیونکہ ابھی اس کی طرف سے وکیل بنایا ہی نہیں وہ۔ اس نے بنایا ابھی اس کو خبر ہی نہیں پہنچی۔ یا غلام نے جو تصرف کیا یہ آقا کی طرف سے نہیں کیونکہ ابھی آقا کی طرف سے اس کو اجازت ہی نہیں پہنچی بھئی۔ "لأنهما لم يعلما بأمرهما" اسی لیے کیونکہ ان دونوں کو علم نہیں ہے ان کے حکم کے بارے میں۔ "وينفذ تصرفهما عليهما في الصورة الثانية" اور ان دونوں کا تصرف نافذ ہو جائے گا ان دونوں پر یعنی آقا اور موکل پر دوسری صورت میں۔ جب اس نے معزول کر دیا یا پابندی لگا دی لیکن ابھی تو خبر نہیں پہنچی، لہذا اب جو کچھ کریں گے وہ کس کی طرف سے شمار ہوگا؟ موکل یا آقا، انہی پر نافذ ہوگا۔ "لأنهما لم يعلما بحجرهما" اسی لیے کیونکہ دونوں جو ہیں اپنی پابندی اور اپنے معزول کر دینے سے اس سے لا علم ہیں، اس کا ابھی انہیں پتہ ہی نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یاد رکھیے! یہ جو متن میں آیا "ويلحق به جهل الشفيع"، اور اسی کے ساتھ ملحق ہے شفیع کا جہل بھی۔ "وجهل الأمة" اس کا بھی اسی پر عطف ہے، وہ بھی اسی کے ساتھ ملحق ہے۔ "وجهل البكر"، "وجهل الوكيل والماذون" سب کا اسی پر عطف ہے کہ وہ سب بھی اسی کے ساتھ ملحق ہیں بھئی۔ وہ جو قسم تیسری قسم جہل کی بیان ہوئی، یہ سب بھی اسی سے ملحق ہیں بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
113 approved lectures · 109 of 113