Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-030

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 13 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 6
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔30 والحاصل أن النذر المعين شريك لرمضان في بعض الأحكام ولقضاء رمضان في بعض آخر، فالحق بأيهما شئت. کہتے ہیں: حاصل یہ ہے کہ نذرِ معین رمضان کے ساتھ شریک ہے بعض احکام میں اور قضاءِ رمضان کے ساتھ شریک ہے بعض دوسرے احکام میں۔ رمضان کے ساتھ شریک ہے کس چیز کے اندر؟ کہ جیسے رمضان کے لیے وہ ایام، رمضان کے روزے کے لیے وہ ایام وجوب کا سبب ہیں، اسی طرح اسی طرح نذرِ معین کے اندر بھی یہ ایام کیا ہیں روزے کے وجوب کا سبب۔ اور اسی طرح یہ مشابہ ہے مولانا قضاءِ رمضان کے روزوں کے بھی، کہ جیسے قضاءِ رمضان کے روزوں کے لیے وہ وقت سبب نہیں ہوتا، ان کے لیے بھی وہ وقت سبب نہیں ہے، بلکہ کیا چیز سبب ہے؟ منت سبب ہے۔ کیا چیز سبب ہے؟ بھئی دو جہتیں اس میں آ گئیں نہ، دیکھا جائے تو کیا سبب ہے اس کے لیے؟ منت ہے، اور دیکھا جائے تو وہ ایام بھی کیا ہیں اس کے لیے؟ سبب ہیں۔ تو کیونکہ وہ ایام اس نے متعین کر دیے، تو وہ متعین ایام بھی روزے کے وجوب کا سبب ہو گئے۔ تو رمضان کے ساتھ یہ شریک ہیں کس چی کس اعتبار سے؟ بھئی معیار تو دونوں میں ہے، جیسے رمضان کے روزے میں وقت معیار تھا، یہاں بھی وقت کیا ہو گا؟ معیار۔ نیز جیسے رمضان کے روزوں کے اندر دن کیا ہیں؟ وہ روزوں کے وجوب کا سبب ہیں، اسی طرح ان میں بھی دن کیا ہیں؟ متعین ہیں، تو یہ بھی روزوں کے وجوب کا سبب ہیں۔ اور قضاءِ رمضان کے ساتھ اس کی مشابہت ہے مولانا، کہ قضاءِ رمضان کے اندر وہ دن روزے کے وجوب کا سبب نہیں ہوتے، بلکہ سبب وہی پہلا ہوتا ہے شہودِ شہرِ رمضان۔ اسی طرح یہاں بھی یہ ایام روزے کے وجوب کا سبب نہیں ہیں، بلکہ کیا ہے؟ منت کیا ہے روزے کے وجوب کا، تو دونوں کے ساتھ اس کی مشابہت آ گئی، تو کہتے ہیں فالحق بأيهما شئت، تو بس آپ ملا دیجیے جس کے ساتھ آپ چاہیں۔ دونوں میں سے جس کے ساتھ چاہیں آپ اس کو ملا سکتے ہیں، کیونکہ دونوں کے ساتھ مشابہت ہے۔ وصاحب المنتخب الحسامي جعل النذر المعين من جنس صوم رمضان، اور صاحبِ منتخب حسامی جو ہیں، یعنی صاحبِ حسامی، انہوں نے قرار دیا ہے نذرِ معین کو صومِ رمضان کی جنس میں سے۔ انہوں نے کس میں سے بنایا؟ جی، ابھی بتلایا۔ صومِ معین کی، نذرِ معین کی موافقت ہے، شرکت ہے رمضان کے ساتھ بھی اور قضاءِ، جس کے ساتھ آپ ملانا چاہیں۔ صاحبِ حسامی نے کس کے ساتھ ملایا ہے نذرِ معین کو؟ رمضان کی جنس میں سے۔ ولم يذكر قضاء رمضان والنذر المطلق من اقسام الأمر، اور انہوں نے ذکر نہیں کیا قضاءِ رمضان اور نذرِ مطلق کو من اقسام الأمر المقيد، امرِ مقید کی اقسام میں سے۔ بھئی یہ ہماری تقسیم چل رہی ہے مامور بہِ کی۔ مامور بہِ دو قسم پر بتایا: ایک وہ جس میں وقت کی قید ہوتی ہے، ایک وہ جس میں وقت کی قید نہیں ہوتی۔ وقت کی قید جس میں نہیں ہوتی، جیسے زکوۃ ہے اور صدقۂ فطر، جب بھی ادا کرو ادا ہی ہے، قضا نہیں۔ اور کچھ وہ ہیں مامور بہِ جو وقت کے ساتھ مقید ہیں، اور اس کی پھر چار قسمیں پڑھ رہے ہیں آپ۔ چار میں سے پہلی قسم جس کے لیے وقت ظرف ہو اور وہ ہے نماز۔ دوسری قسم جس کے لیے وقت معیار ہو اور سبب ہو وجوب کے لیے، جیسے رمضان۔ تیسری قسم وہ جس کے لیے وقت سبب ہو اور وقت سبب نہ ہو لیکن معیار ہو، جیسے قضاءِ رمضان۔ تو صاحبِ حسامی نے نذرِ معین کو وہ رمضان کے ساتھ ذکر کیا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ بھی اس کی شرکت ہے، اس کے ساتھ بھی موافقت ہے اس کی، اور باقی نذرِ مطلق اور قضاءِ رمضان، اس کو، یہ چار قسمیں ہم کس کی پڑھ رہے ہیں؟ مقید کی یا مطلق کی؟ مقید کی، ان میں وقت کی قید ہوتی ہے یا نہیں ہوتی بھئی؟ ہوتی ہے۔ تو یہ نذرِ تیسری قسم میں ماتن نے کہا قضاءِ رمضان اور نذرِ مطلق، اور یہ تیسری قسم کس کی ہے؟ مقید کی، تو انہوں نے نذرِ مطلق کو اور قضاءِ رمضان کو کس کی قسم بنایا؟ موقت، مقید کی قسمیں بنایا، کس کی؟ مقید کی، مقید کی تیسری قسم میں داخل کر دیا تو مقید میں داخل کر دیا نہ، یہ سب قسمیں مقید کی چل رہی ہیں۔ لیکن صاحبِ حسامی نے ان کو مقید کی قسمیں بنایا ہی نہیں ہے بھئی، جس کے لیے اس کو مقید کی قسم، وہ کہتے ہیں ان کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے، رمضان کی قضا جب چاہے کرنا چاہے کر سکتا ہے، کوئی وقت نہیں اس کے لیے، نذرِ مطلق جو اپنے اوپر کوئی روزے واجب کیے دن متعین نہیں کیے، جب چاہے روزے رکھ سکتا ہے، کوئی وقت اس کے لیے مقید، تو انہوں نے اس کو مقید کی قسم بنایا ہی نہیں ہے بھئی۔ تو انہوں نے ولم يذكر قضاء رمضان والنذر المطلق من اقسام الأمر المقيد، انہوں نے قضاءِ رمضان اور نذرِ مطلق کو امرِ مقید کی اقسام میں سے نہیں بنایا، بل هو مطلق من قبيل الزكاة وصدقة الفطر، بلکہ وہ مطلق ہے زکوۃ اور صدقۂ فطر کے قبیل سے۔ ومن أدخلهما في المقيد، اور جس نے ان کو داخل کیا ہے مقید کے اندر، یعنی یہ ماتن جو ہیں، جنہوں نے ان کو داخل کیا مقید میں، نظر إلى أنهما مقيدان بالأيام دون الليالي، اس نے نظر کی ہے اس بات کی طرف کہ یہ دونوں مقید ہیں ایام کے ساتھ، نہ کہ راتوں کے ساتھ۔ بھئی ان کے لیے تو وقت مقرر نہیں ہے، ان کو مقید میں کیسے داخل کیا؟ کہتے ہیں: بھئی اس اعتبار سے یہ مقید ہیں، یہ دن میں ہی رکھے جا سکتے ہیں، رات میں نہیں رکھے جا سکتے۔ بات سمجھ میں آ گئی کہ روزے کس وقت ہوں گے؟ دن میں، تو معلوم ہوا وقت کے ساتھ مقید ہیں۔ آگے صاحبِ نور الانوار فرماتے ہیں: وهذا تمحل، یہ تو حیلہ ہی ہے، یہ تو تکلف ہی ہے کہ آپ نے کیا کہا، چونکہ رات میں رکھے نہیں جا سکتے تو دن کے ساتھ یہ کیا ہوئے؟ مقید، اس لیے اس کو مقید کی قسموں میں شمار کیا۔ حالانکہ زیادہ مناسب بات صاحبِ حسامی کی ہے، انہوں نے اس کو کس کے اندر داخل کیا ہے؟ مامور بہِ مطلق کے اندر داخل کیا، زکوۃ اور صدقۂ فطر کے قبیل میں رکھا ہے۔ اور باقی انہوں نے کیا کہا، چونکہ انہوں نے کیا حیلہ کیا کہ موقت میں کس طرح داخل ہے؟ کہ یہ صرف دن میں رکھے جا سکتے ہیں، رات میں۔ کہتے ہیں: یہ بات کہتے ہیں: یہ تو اس وجہ سے ہے کہ دن ان یہ مشروع ہی دن کے اندر ہوئے ہیں، رات محل ہی نہیں ہے روزہ رکھنے کا بھئی، یہ وجہ نہیں کہ رات قضا کی وقت نہیں ہے، بلکہ روزہ مشروع ہی کس طریقے پر ہوا ہے؟ دن کے وقت مشروع ہوا، رات کو تو مشروع ہی نہیں ہوا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لہذا یہ کہنا جی رات چونکہ قضا کا وقت نہیں ہے، قضا کا یہ والا وقت متعین ہے، یہ بس یہ تو تکلف ہی کرنا ہے، اور زیادہ واضح اور مناسب بات کس کی ہے؟ صاحبِ حسامی کی ہے بھئی۔ وتشترط فيه نية التعيين، اور شرط لگائی گئی ہے اس قسم کے اندر تعین کی نیت کی، بھئی میں نے کل بھی ذکر کر دیا تھا کہ ان یہ ان روزوں کے اندر یعنی قضاءِ رمضان اور نذرِ مطلق کے اندر کیا ضروری ہے؟ تعینِ نیت، کہ نیت کے ساتھ متعین کریں کہ میں قضا روزہ رکھنے لگا ہوں یا میں وہ نذر والا روزہ رکھنے لگا ہوں، رات سے نیت کرے گا بھئی۔ ولا يحتمل الفوات، اور یہ فوات کا احتمال بھی نہیں رکھتے کہ ایک مخصوص وقت کے کے میں اگر ادا کر لیے تو ادا، ورنہ بعد میں کیا کہلائیں؟ قضا، ایسا بھی نہیں۔ بخلاف الأولين، برخلاف پہلی دو قسموں کے، پہلی دو قسمیں کون سی تھیں؟ جس میں ایک میں وقت ظرف تھا اور وجوب کا سبب تھا، اور دوسرے میں وقت معیار تھا اور وجوب کا سبب تھا، جیسے نماز اور روزہ بھئی۔ تو ان میں وہ فوات کا احتمال رکھتے ہیں، اس وقت میں ادا کیا تو ادا، بعد میں کیا تو قضا۔ برخلاف پہلی دو قسموں کے، یہ بخلاف الأولين اس لفظ کو ذہن میں رکھنا بھئی، آگے چل کے میں بات کروں گا اس بارے میں۔ أي يشترط في هذا القسم الثالث من المؤقت، یعنی شرط لگائی گئی ہے اس تیسری قسم کے اندر جو موقت کی ہے، کس چیز کی شرط لگائی گئی ہے؟ نية التعيين، تعینِ نیت کی شرط لگائی گئی ہے، بأن يقول، بایں طور کہ یوں کہے: نويت للقضاء والنذر، کہ میں نیت کرتا ہوں قضا کی یا منت کی۔ ولا يتأدى بمطلق النية ولا بنية النفل أو واجب آخر، اور یہ ادا نہیں ہوں گے مطلق نیت سے، مطلق روزے کی نیت رکھی تو اس سے قضا روزہ ادا نہیں ہو گا یا منت کا روزہ نذرِ مطلق کا روزہ ادا نہیں ہو گا۔ ولا بنية النفل، اور نفل کی نیت سے بھی یہ ادا نہیں ہو گا، أو واجب آخر، یا کسی دوسرے واجب کی نیت کی تو پھر بھی یہ ادا نہیں ہوں گے بھئی۔ تعین ضروری ہے کہ میں قضا کا روزہ رکھتا ہوں یا میں نذرِ مطلق کا کیا کرتا ہوں؟ روزہ رکھتا ہوں۔ کما يشترط فيه التبييت، اسی طرح اس کے اندر تبییت کی شرط بھی لگائی گئی ہے، تبییت کا کیا معنیٰ؟ أي النية من الليل، رات سے ہی نیت کرنا، تبییت کا کیا معنیٰ؟ رات سے نیت کرنے کی شرط لگائی گئی ہے۔ یاد رکھیے یہ متن نہیں ہے مولانا، یہ ویسے کتابوں میں ہے آپ کے اوپر لکیر؟ ہاں، یہ متن کا حصہ نہیں ہے بھئی۔ تو اس کے اندر تبییت کی بھی شرط لگائی گئی ہے، یعنی رات سے نیت کرنا ضروری ہے۔ اچھا اس کے اندر بھئی یہ تعینِ نیت کیوں کی؟ شرط کیوں لگائی؟ وجہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: لأن ما سوى رمضان كله محل للنفل، اس لیے کہ رمضان کے علاوہ جو زمانہ ہے وہ سارا کا سارا محل ہے نفلوں کا، رمضان کے علاوہ جس مہینے میں آپ چاہیں نفلی روزے رکھ سکتے ہیں، تو باقی سارے مہینے کیا ہوئے؟ نفلی روزوں کا محل ہوئے۔ فيقع جميع الإمساكات على النفل ما لم يعين من الليل الصوم العارضية، تو جتنے امساکات ہوں گے، امساک میں نے بتلایا امساک کا معنیٰ رکنا، روزہ ہے، روزہ بھی دراصل کس چیز کا نام ہے؟ امساک کا نام ہے، رکنا ہے تین چیزوں سے: کھانے، پینے اور جماع سے بھئی۔ تو لہذا رمضان کے علاوہ جتنے مہینے ہیں وہ محل ہیں نفل کا، فيقع جميع الإمساكات على النفل، تو سارے امساک جو ہیں کس پر واقع ہوں گے؟ نفل پر بھئی، یعنی وہ نفلی ہو جائیں گے، ما لم يعين من الليل الصوم العارضية، جب تک متعین نہ کر دے اس صومِ عارضی کو جو رکھنے لگا ہے، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ یعنی صومِ عارضی کیا ہے؟ کہتے ہیں: وهو القضاء والكفارة والنذر المطلق، وہ قضا ہے، کفارہ ہے اور نذرِ مطلق ہے، یہ تو عارضی روزہ آیا درمیان میں بھئی، تو پہلے سے تعین کرو ورنہ تو یہ سارے دراصل محل کس کے ہیں؟ نفل کے ہیں، تو نفلی ہو جائے گا ورنہ۔ بخلاف النذر المعين، برخلاف کس کے؟ ہاں کہتے ہیں: یہ نذرِ مطلق میں ہم نے بات کی تھی، نذرِ معین میں ایسا نہیں ہے، فإنه يتأدى بمطلق النية، اس لیے کہ وہ ادا ہو جائے گا مطلق نیت سے بھی ادا ہو جائے گا، ونية النفل، اور نفل کی، کیونکہ اس میں تو وہ ایام خود متعین کیے ہوئے ہیں ان منت کے روزوں کے لیے، ولكن لا يتأدى بنية واجب آخر، لیکن کسی دوسرے واجب کی نیت سے وہ نذرِ معین والا روزہ بھی ادا، کیونکہ وہ بھی واجب، آپ دوسری بھی کس چیز کی کر رہے ہیں؟ کہ پھر واجبِ آخر کی نیت کر رہے ہیں، تو آپ نے خود ہی اس کو پھیر دیا واجبِ آخر کی طرف، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ أچھا، تو کہتے ہیں: ولا يشترط فيه التبييت، اور اس میں کیا ہے؟ بھئی دیکھیے، کسی واجبِ آخر کی نیت کرے گا تو پھر بھی وہی نذرِ معین کا روزہ نہیں ہونا چاہیے بھئی؟ جی؟ نذرِ معین کا روزہ نہیں ہونا چاہیے؟ یہ کہہ رہے ہیں مطلق نیت کرو گے تو بھی نذرِ معین والا ٹھیک، نفل کی نیت کرو گے پھر بھی کیا ہو گا؟ نذرِ معین والا روزہ ہو جائے گا، لیکن کسی اور واجب روزے کی نیت کرو گے تو وہ دوسرا واجب ہی ہو گا یا نذرِ معین والا، وجہ یہ ہے مولانا، مثلاً آپ اس دن قضا روزے کی نیت کر لیتے ہیں، آپ کے ذمے رمضان کا ایک روزہ قضا باقی تھا، آپ وہ نیت کر لیتے ہیں، تو یاد رکھیے وہ قضا روزہ واقع ہو جائے گا، وہ نذرِ معین والا روزہ، اس لیے کہ اگر ہم یہ کہیں کہ یہ دن تو اس نے نذرِ معین کے لیے متعین کر لیا ہے، اب رمضان کا قضا روزہ اس دن نہیں رکھ سکتا، یہ تو آپ شریعت کے حکم کو بدل رہے ہیں اور بندے کو اس کی اجازت نہیں ہے وہ کیا کرے؟ شریعت کے حکم کو، کیسے بدل رہے ہیں؟ شریعت نے قضا کے لیے کوئی وقت متعین کیا؟ بلکہ اس کی اجازت ہے سارے سال میں جس وقت رکھنا چاہے رمضان کے علاوہ جس وقت وہ رکھنا چاہے قضا کا روزہ، رکھ سکتا ہے، اور آپ کہتے ہیں نہیں بھئی اس دن تو چونکہ نذرِ معین آ گئی ہے اس لیے اب قضا نہیں رکھ سکتا، تو شریعت نے تو اس کو مطلق رکھا تھا آپ نے اس کو کیا کر دیا؟ بات سمجھ میں آ رہی ہے سب کو؟ تو آپ گویا اس کو مقید کر دیں، اگر ہم یہ کہیں وہ والا نہیں ادا ہوتا تو پھر اس کا تو مطلب ہے ہم نے اس کو مقید کر دیا کہ اس دن نہیں رکھ سکتا باقی دنوں میں رکھ سکتا ہے، حالانکہ شریعت نے تو کہا تھا جس دن میں بھی رکھنا چاہے، رکھ سکتا ہے، تو اس صورت میں شریعت کے حکم کو بدلنا لازم آئے گا، لہذا اسی لیے کہا کہ کوئی اور واجب رکھے گا تو وہ بھی کیا ہو جائے گا؟ ادا ہو جائے گا بھئی۔ ولا يشترط فيه التبييت، اور اس کے اندر رات سے نیت کی شرط بھی نہیں ہے، لأنه معين في نفسه، اس لیے کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے کیا ہے؟ متعین ہے، آپ خود متعین کر چکے ہیں، كرمضان، جیسے کہ رمضان ہے۔ رمضان کی بات بس مثال کے طور پر ذکر کی، باقی ساری بات اسی نذرِ معین کی چل رہی ہے، دوبارہ دیکھیے عبارت: كرمضان، یہ مثال ہے بیچ میں، بس اس کو نکال دو، باقی ساری عبارت اسی سے متعلق ہے: ولا يشترط فيه التبييت، اور اس کے اندر رات سے نیت کرنے کی بھی شرط نہیں ہے، لأنه معين في نفسه، اس لیے کہ وہ اپنی ذات ہی کے اعتبار سے متعین ہے، لا يقع الإمساك المطلق إلا عليه، تو مطلق امساک، مطلق رکنا واقع نہیں ہو گا مگر اسی پر، کیونکہ یہ اپنی ذات کے اعتبار سے کیا ہے؟ متعین ہے، اس دن آپ خود کیا کر چکے ہیں اس دن کو اس روزے کے لیے؟ متعین کر چکے ہیں، تو جو بھی مطلق امساک اس دن کے اندر پایا گیا، مطلق نیت کر لی روزہ رکھنے کی تو وہ اسی پر واقع ہو گا، یہ نذرِ معین والا روزہ ہو جائے گا۔ تو لا يقع الإمساك المطلق إلا عليه، تو مطلق امساک واقع نہیں ہو گا مگر اسی نذرِ معین پر، ما لم يصرفه إلى واجب آخر، جب تک کہ وہ اس کو پھیر نہ دے کسی اور واجب کی طرف، یعنی جب خود پھیر دے کسی اور واجب، قضا کی نیت کر لیتا ہے یا کفارے کی کر لیتا ہے تو پھر وہ ہو جائیں گے۔ وأيضاً لا يحتمل هذا القسم الثالث الفوات، اور اسی طرح یہ تیسری قسم فوات کا احتمال بھی نہیں رکھتی، بل كلما صام له يكون مؤدياً، یہ تیسری قسم والا نہ وہ نذرِ مطلق اور قضاءِ رمضان کی بات پھر آ گئی، یہ تیسری قسم فوات کا احتمال بھی نہیں رکھتی، بل كلما صام له يكون مؤدياً، بلکہ جب بھی روزہ رکھے گا تو وہ یہ ادا ہی کرنے والا ہے، نذرِ مطلق کا روزہ جب بھی رکھے گا وہ کیا ہے؟ ادا کرنے والا ہی ہے، قضا کرنے والا؟ لأن كل العمر محل له عندنا، اس لیے کہ سارے عمر اس کا محل ہے اس روزے کا ہمارے نزدیک بھئی۔ وعند الشافعي رحمه الله تعالى رحمة واسعة إن لم يقض رمضان حتى جاء رمضان آخر تجب عليه الفدية مع القضاء جبراً له على التكاسل والتهاون، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر شخص نے قضا نہیں کی رمضان کی یہاں تک کہ دوسرا رمضان آ گیا، جاء رمضان آخر، مولانا منصرِف بن گیا، کیونکہ نکرہ بنا دیا، پہلے بات گزر چکی ہے یہ، تو اب اس میں ایک بھی سبب نہیں ہے مولانا، علمیت آپ نے خود ختم کر دی، رمضان آخر، دوسرا رمضان، معلوم ہوا افراد بڑھ گئے، اور علم تو کیا ہوتا ہے؟ ایک متعین ذات پر دلالت کرتا ہے، جب آپ نے افراد پوری جماعت کا نام ہی مثلاً عمر رکھ دیا، تو اب عمر کہنے سے کسی متعین پر دلالت ہوئی؟ نہیں، علمیت ختم ہو گئی، افراد بڑھ گئے۔ تو یہاں بھی اسی طرح جب آپ نے کہا رمضان آخر، معلوم ہوا افراد بڑھ گئے، اب ایک فرد نہیں ہے اس کا، تو علمیت ختم، علمیت ختم ہوئی ساتھ الف نون کا اثر بھی ختم، اب وہ بھی مؤثر نہیں ہے۔ اب اپ سے کوئی پوچھے اس میں کتنے سبب ہیں؟ آپ یہ نہ کہیں ایک باقی ہے، علمیت تو ختم ہوئی، الف نون مزیدتان ابھی بھی ایک سبب باقی ہے، اس لیے الف نون مزیدتان کے لیے بھی کیا شرط ہے اگر اسم کے اندر آئیں؟ علمیت شرط، تو علمیت ختم تو الف نون مزیدتان بھی اب ہیں تو، لیکن مؤثر نہیں ہیں، سبب نہیں بنیں گے۔ یہاں تک کہ کوئی دوسرا رمضان، یہاں تک کہ دوسرا رمضان آ جائے تو کہتے ہیں تجب عليه الفدية مع القضاء، تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس پر فدیہ بھی واجب ہو جائے گا قضا کے ساتھ۔ پورے 11 مہینے گزر گئے، اس نے رکھا ہی نہیں قضا روزہ، اگلا رمضان اگیا، تو اب امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اب صرف قضا سے بھی بات نہیں بنے گی بلکہ قضا کے ساتھ اس کو فدیہ بھی دینا پڑے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ کیوں؟ جبراً لہ علی التکاسل والتہاون۔ تکاسل کا معنی سستی۔ تہاون کا معنی کسی چیز کو معمولی سمجھنا۔ معمولی سمجھنا، سستی بھی اس کے معنی آتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں جبراً لہ علی التکاسل والتہاونِ۔ تلافی کرتے ہوئے اس کے لیے جی تاکہ تلافی ہو جائے اس کے لیے علی التکاسلِ سستی پر والتہاونِ اور معمولی سمجھنے پر۔ اس نے جو معمولی سمجھا معلوم ہوا اس نے اس کو کیا سمجھ لیا؟ معمولی۔ تو لہذا اس سستی اور معمولی سمجھنے کی تلافی ہو جائے تاکہ اس کے لیے۔ بخلاف القسمین الاولینِ یہ بھی مولانا متن نہیں ہے، متن اوپر آ چکا تھا بخلاف الاولٰی۔ یہ چاہیں تو اس کو متن بنا لو پھر وہ متن نہیں ہوگا بھئی، وہ جو اوپر بخلاف بخلاف الاولین اوپر لفظ آیا تھا بھئی۔ تو کہتے ہیں بخلاف القسمین الاولین، قسمین لفظ نکال کر بتلا دیا کہ اولین صفت ہے، اس کا موصوف کیا ہے؟ القسمین۔ بخلاف پہلی دو قسموں کے وہما الصلاۃ والصومُ اور وہ کیا ہیں؟ نماز اور روزہ ہیں۔ فانہما یحتملان الفوات اذا لم یؤدہما فی الوقت الماہودِ اس لیے کہ وہ فوات کا احتمال رکھتی ہیں جب ان دونوں کو ادا نہ کریں ان کے متعین وقت کے اندر۔ ماہود متعین۔ فیکون قضاءً تو پھر کیا ہو جائے گی؟ جب متعین وقت میں ادا نہ کرے تو پھر وہ قضا ہو جائے گی۔ او یکون مشکلاً یشبہ المعیار والظرفا۔ یا وہ وقت کیا ہوگا؟ مشکل ہوگا، یعنی اشتباہ والا ہوگا، مشتبہ ہوگا بھئی۔ یشبہ المعیار والظرفا، یشبہ، اشبہ یشبہ مولانا یہ مزید فیہ سے ہی پڑھنا، باب افعال سے یا وغیرہ سے، تو مزید کے ابواب سے آتا ہے، شبہ یشبہ یا اس طرح مجرد سے یہ استعمال ہی نہیں ہے بھئی۔ تو جہاں کہیں کتابوں میں آئے، اسی طرح مزید کے باب سے اس سے پڑھیں اور مجرد سے یہ نہیں مستعمل بھئی۔ او یکون مشکلاً یشبہ المعیار والظرفا۔ یا وہ وقت کیا ہوگا؟ مشکل ہے، اشتباہ والا ہے، مشابہ ہے معیار کے بھی والظرفی اور والظرفا اور ظرف کے بھی مشابہ ہے، كالحجِ جیسے کہ حج ہے۔ کہتے ہیں عطفٌ علی ما سبق یہ عطف ہے ماقبل پر، کون سا بھئی؟ وہ جو تقسیم شروع ہوئی تھی کہ وہ وقت کیا ہوگا یا تو مامور بہ کے لیے ظرف ہوگا، جی۔ وہو النوع الرابع من انواع المؤقتِ اور یہ چوتھی قسم ہے مؤقت کے انواع میں سے، یعنی خود ذکر کر رہے ہیں پوری عبارت، یعنی او یکون وقت المؤقت مشکلاً، یعنی کہ وہ مؤقت کا وہ وقت جو ہے وہ مشکل ہوگا، کیا معنی مشکل؟ ای مشتبہ الحالِ، یعنی مشتبہ الحال ہوگا، یشبہ المعیار من وجہ والظرف من وجہ مشابہ ہے معیار کے ساتھ بھی ایک اعتبار سے اور ظرف کے ساتھ بھی مشابہ ہے ایک اعتبار سے۔ جی، تو یہ تیسری قسم ہے۔ ونظیرہ وقت الحجِ اور اس کی نظیر مثال کیا ہے؟ حج کا وقت ہے مولانا۔ اوپر كالحج آیا تھا، شارح نے حج سے پہلے وقت کو مضاف محذوف نکال لیا کیونکہ یہ وقت تاکہ مثال کیا ہو جائے ممثل لہ کے مطابق۔ بات کس کی چل رہی ہے؟ وقت کی چل رہی ہے کہ وہ وقت کبھی ظرف ہوتا ہے، کبھی معیار ہوتا ہے اور کبھی وہ وقت کیا ہوگا؟ مشکل یعنی متشابہ ہوگا جیسے حج کا وقت بھئی، حج کا وقت۔ اگر حج کو بنایا جائے تو حج تو فعل ہے اور بات چل رہی ہے وقت کی تو مثال ممثل لہ کے مطابق نہ رہے گی، اس لیے وقت کا لفظ مضاف محذوف نکالا۔ تو اس کی مثال جو ہے وقت کا حج کا وقت ہے فانہ مشکل بہذا المعنی، اسی کیونکہ وہ اس معنی کے اعتبار سے مشکل یعنی متشابہ ہے وذلك من وجہین اور یہ اشتباہ دو وجہ سے ہے۔ یہ اشتباہ کتنی وجہ سے ہے؟ دیکھیے بھئی ذکر کریں گے، کہ بھئی دیکھیے رمضان کے گزرتے ہی ایام حج ایام حج شروع ہو گئے۔ اب حج کا احرام باندھ سکتے ہو، دو مہینے 10 دن مولانا، شوال، ذو القعدہ اور ذوالحجہ کے 10 دن، یہ حج کے ایام ہیں۔ تو جیسے ہی رمضان گزرا، حج کے ایام شروع ہو گئے، اب آپ حج کا احرام باندھ سکتے ہیں، اس سے پہلے احرام حج کا باندھا تو مکروہ تحریمی ہے بھئی ہمارے نزدیک، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو اب یہ ایام حج شروع ہو گئے، اور حج، حج یہ پورے دو مہینے 10 دن میں ادا ہوتا ہے یا وہ ذوالحجہ کے چند ایام کے اندر بھئی؟ چند ذوالحجہ کے وہ جو 10 ایام ہیں اس میں بھی سارے میں نہیں اس کے بعض کے اندر ادا ہوتا ہے حج، تو بایں اعتبار وقت زائد ہوا تو بایں اعتبار یہ وقت ظرف ہوا، کیا ہوا؟ مہینے ہیں وقت ہے دو مہینے 10 دن اور ادا ہوتا ہے چند دن کے اندر، تو یہ بایں اعتبار وقت زائد ہوا تو وقت کس کی طرح ہو گیا؟ ظرف کی طرح۔ اور دیکھا جائے تو اس سارے وقت میں ایک ہی حج ادا ہو سکتا ہے، دو یا تین یا چار اس میں ادا نہیں ہو سکتے، تو بایں اعتبار یہ وقت معیار ہوا کیونکہ وقت معیار ہو تو اس میں وہ ایک ہی عبادت ہو سکتی ہے جیسے دن میں ایک ہی روزہ رکھا جا سکتا ہے، زیادہ نہیں، تو بایں اعتبار کہ ان ایام میں صرف ایک ہی حج کر سکتا ہے، یہ وقت کس کے مشابہ ہو گیا؟ یہ کیا بن گیا اس اعتبار سے وقت؟ معیار بن گیا۔ تو دیکھو دونوں طرف اس کی مشابہت آگئی، ظرف کے ساتھ بھی مشابہت آگئی اور معیار کے ساتھ بھی۔ یہ ایک طریقہ ہے مولانا، دیکھیے پہلے یہ دیکھ لیں۔ تو یہ اشتباہ دو وجہ سے ہے، الأول پہلی یہ وجہ یہ ہے مولانا کہ ان وقت الحج شوال وذو القعدۃ وعشر ذی الحجۃ کہ وقت حج کا وقت جو ہے شوال ہے، ذو القعدہ ہے اور ذوالحجہ کے 10 دن ہیں۔ والحج لا يؤدى إلا في بعض عشر ذي الحجة اور حج وہ ادا نہیں ہوتا مگر ذوالحجہ کے 10 دنوں میں سے بھی بعض کے اندر، 10 دنوں میں سے بعض کے اندر۔ فيكون الوقت فاضلاً تو وقت زائد ہوگا، فمن هذا الوجه يكون ظرفاً تو اس وجہ سے یہ ظرف ہوگا ومن حيث انه لا يؤدى في هذا الوقت إلا حج واحد اور اس حیثیت سے کہ ادا نہیں کیا جاتا اس وقت کے اندر مگر ایک ہی حج، يكون معياراً تو یہ کیا ہوگا؟ معیار ہوگا۔ بخلاف الصلاة فانه في وقت واحد يؤدي صلاة مختلفة بخلاف نماز کے اس لیے کہ نماز پڑھنے والا اس ایک ہی وقت میں ادا کر دیتا ہے، کر سکتا ہے مختلف نمازیں، کیا کر سکتا ہے؟ تو یؤدی پڑھنا مولانا، یؤدی، یؤدٰی نہیں۔ بہرحال بھئی، یہ اس کو یؤدی پڑھیں یؤدٰی نہیں مولانا، اس لیے کہ اس ورنہ صلاۃ مؤنث ہے تو یؤدٰی نہیں ہونا چاہیے تھا، فعل اگر کیا ہونا چاہیے تھا؟ تؤدٰی، مؤنث فعل ہونا چاہیے تھا۔ نیز اس صورت میں پھر فانہ کی ہا ضمیر کو ضمیر شان بنانا پڑے گا بھئی، اور آپ نے پڑھا ہے نحو میں کہ اگر کہ ضمیر شان جو ہے یہی ضمیر مذکر بھی آتی ہے، مؤنث بھی، مذکر ہو تو ضمیر شان کہلاتی ہے اور یہی ضمیر کیا ہو اگر مؤنث ہو تو ضمیر قصہ کہلاتی ہے۔ پھر آپ نے یہ پڑھا ہے کہ کہاں مذکر لائیں گے، کہاں مؤنث لائیں گے، اگر کلام میں مسند الیہ مذکر ہو تو ضمیر شان مذکر لائیں گے اور اگر کلام کے اندر مسند الیہ کیا ہو؟ مؤنث ہو، تو یہ ضمیر بھی کون سی لائیں گے؟ مؤنث ضمیر قصہ لے کر آئیں گے، تو اس اعتبار سے پھر فانہا ہونا چاہیے تھا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو فانہ نمازی کو راجع کریں مصلی، صلاۃ آیا اس سے صلاۃ کا ذکر آیا تو نماز پڑھنے والا سمجھ میں آگیا بھئی۔ فانہ فی وقت واحد یؤدی صلاۃ مختلفۃ اس لیے کہ وہ نمازی جو ہے ادا کرے کرتا ہے ایک ہی وقت کے اندر مختلف نمازیں، تو بایں اعتبار یہ معیار ہوا کہ اس میں تو ایک ہی حج ہو سکتا ہے بھئی۔ والثانی دوسری اشتباہ کی وجہ مولانا، دوسری وجہ، کہتے ہیں دیکھیے کہ عمر بھر میں ایک ہی حج فرض ہے۔ اچھا، کیا ہے عمر بھر میں؟ ایک ہی حج فرض ہے۔ اب ہو سکتا ہے ایک شخص پر حج فرض ہو اور حج فرض ہو، تو اسی سال وہ حج ادا نہیں کرتا اور پھر اس کا انتقال ہو جاتا ہے اگلے سال آنے سے پہلے ہی کیا ہو گیا؟ انتقال ہو گیا، تو بایں اعتبار اس کے لیے وقت تنگ ہوا اور اس میں تو ایک ہی حج ادا ہو سکتا تھا، تو بایں اعتبار یہ وقت اس کے لیے کیا ہوا؟ معیار ہوا، اور لیکن عمر بھر میں ایک ہی حج فرض ہے، زندگی طویل ہوئی تو کئی سال ملیں گے، لیکن ان سب سالوں میں ایک ہی حج کیا ہے؟ فرض، ایک حج تو فرض ہے اور باقی جتنے مرضی اور بھی وہ کیا کر سکتا ہے؟ ادا کر سکتا ہے، تو زائد بھی ادا کر سکتا ہے اس سارے وقت کے اندر، تو بایں اعتبار یہ ساری عمر کا وقت کیا ہے اس اعتبار سے؟ ظرف ہے مولانا، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو دیکھیے کہتے ہیں والثانی ان الحج لا يفرض في العمر إلا مرة واحدة، دوسری اشتباہ کی وجہ یہ ہے کہ حج فرض نہیں کیا جاتا عمر بھر میں مگر ایک ہی مرتبہ، فإن أدرك العام الثاني والثالث يكون الوقت موسعاً يؤديه في أي وقت شاء، اگر اس شخص نے پا لیا دوسرے سال کو بھی اور تیسرے سال کو بھی تو وقت اس پر وسیع کیا ہوا ہوگا، جو ادا کرے جس وقت ادا کر سکتا ہے جس وقت میں بھی وہ چاہے ادا کر لے وہ ادا ہی ہے۔ وإن لم يدرك العام الثاني اور اگر اس نے نہیں پایا دوسرا سال، یعنی پہلے ہی اگلے سال کے حج سے پہلے ہی اس کا انتقال ہو گیا، فيكون الوقت مضيقاً تو وقت اس کے لیے کیا کر دیا گیا؟ تنگ کر دیا گیا۔ لا بد له أن يؤدي في العام الأول تو ضروری تھا اس کے لیے کہ وہ ادا کرے پہلے سال کے اندر، تو بایں اعتبار وقت کیا ہوا اس کے لیے؟ معیار، اور جس کے لمبی زندگی ہوئی، وقت زیادہ ملا، اس کے اعتبار سے اس میں تو کئی حج ہو سکتے ہیں لیکن فرض ایک ہی ہے، تو کئی حج ہو سکتے ہیں جیسے نماز کے وقت میں کئی نمازیں پڑھی جا سکتی ہیں تو وہاں وقت کیا ہوتا ہے؟ ظرف، تو یہاں بھی کیا ہو گیا وقت؟ ظرف ہوا بھئی۔ لكن أبا يوسف رحمه الله تعالى اعتبر جانب التضييق ومحمد ومحمداً رحمه الله تعالى اعتبر جانب التوسع على ما قال المصنف رحمه الله، لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے اعتبار کیا ہے تضییق کی جانب کا، تنگ کرنے کی جانب کا اعتبار کیا ہے تنگ ہونے کا، اور امام محمد رحمہ اللہ نے توسع یعنی وسیع ہونے کا اعتبار کیا ہے بنا بر اس کے جو مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ آگے کلام سے پتہ چلے گا، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے ہی سال حج کرنا ضروری ہے بطورِ احتیاط کے تاکہ کہیں حج فوت ہی نہ ہو جائے، زندگی اگلا حج تو بڑا دور ہے، پورے سال کا عرصہ ہے، تو کہیں انتقال ہی نہ ہو جائے، تو وہ احتیاطاً وہ کیا کہتے ہیں؟ پہلے ہی سال حج کرنا پہلے سال ضروری ہے اس کے لیے حج کرنا، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو انہوں نے تضییقِ وقت کا اعتبار کیا، اور امام محمد رحمہ اللہ نے کیا کیا؟ چنانچہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ نہیں کرے گا تو گناہ گار ہوگا، گناہ گار ہوگا، فاسق ہو گیا اس نے فرضِ عبادت چھوڑ دی، مردود الشہادۃ ہو گیا اس کی شہادت بھی قبول نہیں کی جائے گی بھئی، کیونکہ گواہی کس کی قبول ہوتی ہے؟ عادل شخص کی قبول ہوتی ہے، فاسق شخص کی گواہی قابلِ قبول نہیں، لیکن پھر وہ فرماتے ہیں اگر بعد میں ادا کر دے گا تو حج ادا ہی ہوا قضا نہیں ہوا، ادا ہی حج ہوا اور وہ جو گناہ تھا پہلے کا وہ ختم ہو جائے گا، اور وہ جو مردود الشہادۃ تھا پہلے یہ، اب وہ مردود الشہادۃ بھی نہیں رہے گا بلکہ پھر کیا ہو جائے گی اس کی گواہی؟ مقبول ہوگی بھئی۔ تو انہوں نے وقت کی تنگی کا لحاظ کیا کہ بھئی احتیاطاً کیا کرنا چاہیے؟ پہلے ہی سال فوراً حج فرض ہوتے ہی حج کر لینا چاہیے۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب بھی یہ گناہ، یہ جب بھی کرنا چاہے کر سکتا ہے، گناہ گار نہیں ہوگا۔ ہاں وہ فرماتے ہیں گناہ گار ہوگا اگر اس نے حج نہ کیا اور آخرِ عمر تک جا پہنچا، اب گناہ گار ہوگا، اب کیا ہوگا؟ گناہ گار ہوگا، لیکن بہرحال دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ جب بھی کرے گا، وہ حج ادا ہی ہوگا، قضا نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی سب کو بھئی؟ جی، تو دیکھیے آگے کہتے ہیں ويتعين أشهر الحج من العام الأول عند أبي يوسف رحمه الله تعالى خلافاً لمحمد رحمه الله اور متعین ہیں حج کے مہینے پہلے سال سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بخلاف امام محمد رحمہ اللہ کے، أي لا بد عند أبي يوسف رحمه الله أن يؤدي الحج في العام الأول احتياطاً یعنی ضروری ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک کہ ادا کرے وہ حج کو پہلے ہی سال کے اندر احتیاط کے طور پر، إحترازاً عن الفواتِ، احترازاً ہے آپ کی کتابوں میں؟ احترازاً ہونا چاہیے، إحترازاً عن الفواتِ احتیاط کرتے ہوئے فوات سے، فوات سے بچتے ہوئے تاکہ کہیں یہ حج فوت ہی نہ ہو جائے۔ سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا دیکھو یہ احتیاطاً سے یہ بھی پتہ لگ گیا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے کہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ امر فی الفور ادائیگی کا تقاضا کرتا ہے۔ بھئی پیچھے بحث گزری تھی یا نہیں بھئی؟ کہ وجوب آئے گا کس طریقہ پر؟ جی علی الفور ادائیگی ہوگی یا علی التراخی ہوگی؟ تو ہمارا کیا اصح مذہب کیا ذکر ہوا تھا؟ علی التراخی ہوگا مولانا، علی التراخی، علی الفور نہیں بھئی۔ احتياطاً إحترازاً عن الفواتِ بطورِ احتیاط کے بچتا تاکہ بچا جائے اس کے فوت ہونے سے، فإن الحياة إلى العام الثاني فإن الحياة إلى العام الثاني موهومٌ اس لیے کہ زندگی دوسرے سال تک یہ موہوم ہے، یقینی نہیں ہے بھئی والوقت مديدٌ اور وقت طویل ہے، تو احتیاطاً ابھی کر لے۔ تو کہتے ہیں والوقت مدیدٌ وقت طویل ہے مولانا، طویل وقت ہے بھئی زندگی کا کوئی پتہ نہیں ہے اس دوران، تو لہذا پہلے ہی سال حج فرض حج ادا کرے گا بطورِ احتیاط کے اور تاکہ فوت ہونے سے اس کے فوت ہونے سے بچ جائے۔ وعند محمدٍ رحمه الله تعالى يترخص له أن يؤخر إلى العام الآخرِ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اس کو رخصت ہے کہ وہ اس کو رخصت حاصل ہے کہ وہ مؤخر کر دے اس کو دوسرے سال تک بشرط أن لا يفوت منه بشرط یہ کہ وہ اس سے فوت اس شرط پر کہ اس سے فوت نہ ہو جائے وثمرة الاختلاف لا تظهر إلا في الإثمِ اور ثمرۂ اختلاف ظاہر نہیں ہوگا مگر گناہ کے اندر، فإذا لم يؤد في العام الأولِ پس جب اس نے ادا نہیں کیا پہلے سال کے اندر، يصير فاسقاً مردود الشهادة عند أبي يوسف رحمه الله تو وہ فاسق ہو جائے گا اور مردود الشہادہ ہو جائے گا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی۔ تو محشی لکھتے ہیں کہتے ہیں یہ درست نہیں ہے مولانا، اس لیے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل کی بنیاد احتیاط پر ہے بھئی، کس پر ہے؟ احتیاط پر ہے اور احتیاط دلیلِ ظنی ہے، تو اس صورت میں اگر وہ تاخیر کر بھی لے تو یہ گناہِ صغیرہ ہوا، کبیرہ نہیں ہوا کیونکہ حج تو ابھی بھی کیا کر سکتا ہے؟ اگلے سال امکان تو ہے زندگی رہے تو ادا کر لے کوئی اس نے موت کا وقت تو، موت کا وقت آئے پھر تو گناہ گار ہوگا بھئی، وہ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، لیکن اس وقت جو تاخیر کی وجہ سے گناہ ہوا ہے تو وہ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا جو قول ہے وہ دلیلِ ظنی ہے مولانا، اور اس سے گناہِ صغیرہ ثابت ہوگا، کبیرہ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ گناہِ کبیرہ کے لیے دلیلِ قطعی چاہیے مولانا، دلیلِ ظنی سے کسی گناہ کو کبیرہ قرار نہیں دیا جا سکتا، کبیرہ گناہ کے لیے قطعی دلیل چاہیے۔ اور صغیرہ گناہ تو کہتے ہیں ایک مرتبہ ارتکاب کرنے سے کوئی شخص فاسق نہیں بنتا اور مردود الشہادہ نہیں ہوتا، ہاں اس پر اصرار کرے، صغیرہ گناہ پر اصرار کرے یعنی بار بار کرے تو وہ صغیرہ بھی یاد رکھو کبیرہ بن جاتا ہے، کیا بن جاتا ہے؟ کبیرہ بن جاتا ہے تو اگر اس کو ایک ہی سال اس نے مؤخر کیا تو ایک صغیرہ گناہ ہوا اس اعتبار سے۔ تو فاسق اور مردود الشہادۃ ہونے کا حکم اس پر نہیں لگایا جا سکتا۔ ہاں وہ اس پر اصرار کرتا ہے، اگلے سال بھی نہیں کرتا، پھر نہیں کرتا، پھر نہیں کرتا تو یہ صغیرہ پر اصرار ہوا مولانا اور صغیرہ پر اصرار اس کو کیا بنا دیتا ہے؟ کبیرہ بنا، تو گناہ کبیرہ ہو گیا۔ اب وہ فاسق ہوا اور مردود الشہادۃ ہو گیا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کہتے ہیں ثُمَّ إِذَا أَدَّاهُ فِي الْعَامِ الثَّانِي يَرْتَفِعُ عَنْهُ الْإِثْمُ وَتُقْبَلُ شَهَادَتُهُ، پھر جب وہ اس کو ادا کر دیتا ہے اگلے سال کے اندر تو يَرْتَفِعُ عَنْهُ الْإِثْمُ تو اس سے گناہ اٹھ جائے گا وَتُقْبَلُ شَهَادَتُهُ اور اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔ وَهَكَذَا فِي كُلِّ عَامٍ اور اسی طرح ہر سال میں ہو گا، یعنی ہر سال میں یعنی جب ہر سال میں یہی ہو، اسی طرح ہو گا حکم۔ یعنی جب بھی کر لے گا وہ گناہ اس سے اٹھ جائے گا مولانا۔ گناہ کیا ہو جائے گا؟ اٹھ جائے گا اور اس کی شہادت قبول کی جائے گی۔ وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا يَأْثَمُ إِلَّا عِنْدَ الْمَوْتِ، امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک وہ گناہ گار نہیں ہو گا مگر موت کے وقت، یعنی جب موت کا وقت آ گیا اور اس نے ادا نہیں کیا۔ أَوْ إِدْرَاكِ یا ادراکِ علاماتِ، یا موت کی علاماتیں پاتے پا لیں کے وقت میں بھئی، اس وقت یہ گناہ گار ہو گا۔ وَلَا يَكُونُ مَرْدُودَ الشَّهَادَةِ اور یہ مردود الشہادۃ بھی نہیں ہو گا یہ شخص ان کے نزدیک بھئی، کیونکہ ان کے نزدیک جب چاہے ادا کر سکتا ہے۔ وَلَكِنْ كُلَّمَا أَدَّى يَكُونُ أَدَاءً عِنْدَ الْفَرِيقَيْنِ لَا قَضَاءً، لیکن جب بھی ادا کرے گا وہ ادا ہی ہو گا دونوں فریقوں کے نزدیک قضا نہیں ہو گا بھئی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ وسعت کا اعتبار کرتے ہیں کہ وقت میں وسعت کی گئی ہے بھئی اس کے تو۔ وَيَتَأَدَّى بِإِطْلَاقِ النِّيَّةِ لَا بِنِيَّةِ النَّفْلِ، اور یہ حج، فرض حج جو ہے ادا ہو جائے گا اطلاقِ نیت کے ساتھ بھی، نفل کی نیت کے ساتھ نہیں۔ مطلقِ حج کی نیت سے بھی یہ فرض حج ادا ہو جائے گا۔ حج کے لیے جا رہا ہے مطلقِ حج کی نیت کر لی اس نے تو فرض حج اس کے ذمہ تھا وہ ادا ہو جائے گا۔ لیکن اگر نیت نفل کی کی تو پھر نفل ہی حج ہو گا فرض حج ادا نہیں ہو گا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ کہتے ہیں هَذَا مِنْ حُكْمِ كَوْنِهِ مُشْكِلًا، یہ اس کے مشکل ہونے کے حکم میں سے ہے یعنی چونکہ یہ مشتبہ ہے مولانا تو مشتبہ ہونے کی وجہ سے یہ حکم ہے کہ مطلق نیت سے تو ہو جائے گا لیکن نفل کی نیت سے نہیں ہو گا۔ أَيْ إِنْ أَدَّى الْحَجَّ بِمُطْلَقِ النِّيَّةِ، اگر حج کو ادا کیا مطلقِ نیت کے ساتھ بِأَنْ يَقُولَ، بعیں طور کہ یوں کہتا ہے نَوَيْتُ الْحَجَّ کہ میں میں کس کی نیت کرتا ہوں؟ حج کی۔ يَقَعُ عَنِ الْفَرْضِ، تو یہ حج واقع ہو جائے گا فرض سے مولانا، کس سے؟ یعنی فرض حج ہو جائے گا۔ کہتے ہیں اس لیے کہ یہاں دلالتِ حال موجود ہے، دلالتِ حال بھئی۔ حال اس کا دلالت کر رہا ہے اس بات پر کہ وہ یقیناً یہ فرض حج ہی کر رہا ہو گا، نفل نہیں۔ اس لیے کیونکہ عقلمند آدمی کے ذمہ جب ایک فرض باقی ہو تو پھر اس کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ پہلے فرض کو پورا کر لے، نفلوں کو بعد میں۔ تو نیز یہاں تو اور اس حج کے اندر تو بڑی عظیم مشقت ہوتی ہے مولانا۔ اتنا ہجوم ہوتا ہے، لاکھوں لوگ اکٹھے ہوتے ہیں پھر سفر کر کے جانا وہ الگ مشقت اور پھر وہاں پر الگ بے انتہا مشقت ہوتی ہے بھئی۔ تو عقلمند آدمی اتنی مشقت برداشت کرے گا، مشقت برداشت کرتا ہے تو یقیناً اس کی پہلی کوشش کیا ہو گی؟ کہ اپنے ذمہ کو فارغ کرے، فرض کر لے۔ تو یہ اس کا حال اتنی مشقت کو برداشت کرتے ہوئے یہ عبادت عبادت کرنا یہ اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ یہ کس کے لیے اٹھا رہا ہے اتنی مشقت؟ فرض کے لیے بھئی۔ تو اسی لیے کہا يَقَعُ عَنِ الْفَرْضِ کہ جب اس نے نیت مطلق حج کی کی تو فرض حج سے واقع ہو گی، یعنی فرض حج اس کا واقع ہو جائے گا۔ بِخِلَافِ مَا إِذَا قَالَ نَوَيْتُ حَجَّ النَّفْلِ، برخلاف اس کے کہ اگر وہ یوں کہتا ہے کہ میں نفل حج کی نیت کرتا ہوں، فَإِنَّهُ يَقَعُ عَنِ النَّفْلِ، تو یہ حج واقع ہو گا نفل سے ہی واقع ہو گا۔ کیونکہ اب خود اس نے تصریح کر دی مولانا، سمجھ میں آیا؟ پہلے تو دلالت آئی تھی اور تصریح دلالت سے بڑھ کر ہے، واضح خود لفظوں میں یہ بات اس نے بیان کر دی۔ اب دلالت سے کوئی اثر، وہ تو دلالت تو بھئی کوئی چیز موجود نہیں تھی، صراحت نہیں تھی تو ہم نے کیا کیا، دلیل کس کو بنا دیا؟ اس کے ظاہرِ حال کو دلیل بنا دیا۔ لیکن اب تو خود تصریح آ گئی، اب دلالت کو کوئی دلیل بنانے کی گنجائش چھوڑی اس نے؟ اب تو گنجائش ہی نہیں ہے، وہ خود کہہ چکا ہے نفل۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقَعُ هَاهُنَا عَنِ الْفَرْضِ، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں بھی فرض سے ہی واقع ہو گا یہ حج۔ سمجھ میں آیا؟ وہ فرماتے ہیں کہ نفل کی نفل حج کی نیت کر بھی لے اگر اس کے ذمہ فرض حج باقی ہے تو وہ فرض حج ہی ہو گا، نفل واقع نہیں ہو گا۔ لِأَنَّهُ سَفِيهٌ، اس لیے کیونکہ یہ نا سمجھ ہے مولانا، یہ کیا ہے؟ نا سمجھ ہے بھئی۔ يَجِبُ أَنْ يُحْجَرَ عَلَيْهِ، واجب ہے کہ اس پر پابندی لگائی جائے۔ حجر کا باب پڑھا ہے یا نہیں آپ نے بھئی، کتاب فقہ کے اندر؟ کہ پابندی بعض صورتوں میں پابندی آ جاتی ہے شریعت کی جانب سے، جیسے نابالغ پر پابندی ہوتی ہے، وہ ہر تصرف کر سکتا ہے مولانا؟ تصرف نہیں کر سکتا۔ اسی طرح غلام پر پابندی ہوتی ہے، وہ بھی تصرفات کا مالک نہیں ہوتا۔ تو کہتے ہیں یہاں بھی یہ نا سمجھ ہے اور نا سمجھ پر کیا ہے؟ پابندی لگا دی جائے وَلَا يُقْبَلُ تَصَرُّفُهُ اور اس کے تصرف کو قبول نہ کیا جائے، تو لہٰذا نفل کے یہ جو تصرف کر رہا ہے حج کو کرنا کون سا چاہیے؟ فرض کرنا چاہیے اور وہ تصرف کر کے کون سا حج کر رہا ہے؟ نفل، تو اس پر پابندی لگائی جائے گی اور اس کے تصرف کو قبول نہیں کیا جائے گا، لہٰذا حج جو ادا کرے گا وہ کون سا ہو گا؟ فرض ہی ہو گا۔ قُلْنَا، ہم جواب میں کہتے ہیں هَذَا يُبْطِلُ الْاخْتِيَارَ الَّذِي شُرِطَ فِي الْعِبَادَاتِ، کہ یہ جو پابندی ہے یہ تو باطل کر دے گی اس اختیار کو جو عبادات میں شرط ہے۔ عبادات اپنے اختیار سے ہونی چاہیے، جبرِ عبادت کوئی اعتبار نہیں۔ تو عبادات میں اپنا اختیار ہونا ضروری ہے، تو اگر ہم اس پر پابندی لگا دیں تو ہم نے تو اس کو کیا اس سے کیا کر دیا؟ عبادات کے لیے جو اختیار چاہیے تھا وہ اختیار ہم نے کیا کر دیا؟ ختم، حالانکہ وہ تو عبادت کے لیے ضروری تھا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ ہم کہتے ہیں هَذَا يُبْطِلُ الْاخْتِيَارَ الَّذِي شُرِطَ فِي الْعِبَادَاتِ، کہ یہ پابندی جو ہے یہ تو اس کے اس اختیار ہی کو باطل کر دے گی جو عبادات میں شرط ہے۔ وَالْحَاصِلُ، حاصلِ کلام یہ ہے كَأَنَّ الْحَجَّ لَمَّا كَانَ يُشْبِهُ الْمِعْيَارَ وَالظَّرْفَ، کہ حج جب یہ مشابہ ہے معیار کے اور ظرف دونوں کے جب مشابہ ہے أَخَذَ شَبَهًا، شبہاً پڑھنا بھئی شبہاً نہیں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا شبہٌ کا معنی ہے مثلٌ، مثلٌ اور شبہٌ کا معنی ہے مشابہت بھئی، مصدر ہے۔ تو دیکھیے یہاں آپ خود بتلائیے بھئی مثل کا معنی صحیح ہے یا مشابہت کا؟ دیکھو، وَالظَّرْفُ أَخَذَ شَبَهًا مِنْ كُلٍّ مِنْهُمَا ظرف نے، نہیں کا جب حج مشابہ ہے معیار اور ظرف دونوں کے، أَخَذَ شِبْهًا ذرا پڑھیں، أَخَذَ شِبْهًا مِنْ كُلٍّ مِنْهُمَا، اس نے ان دونوں سے مثل لے لیا، پہلا ترجمہ۔ دوسرا، أَخَذَ شَبَهًا مِنْ كُلٍّ مِنْهُمَا، اس نے ان دونوں سے مشابہت لے لی۔ اب کیا ہوا؟ معنی صحیح ہوا۔ تو أَخَذَ شَبَهًا مِنْ كُلٍّ مِنْهُمَا، تو اس نے مشابہت لے لی ان دونوں سے، فَمِنْ حَيْثُ كَوْنِهِ مِعْيَارًا، تو معیار ہونے کی حیثیت سے أَخَذَ شَبَهًا مِنَ الصَّوْمِ، اس نے کس سے مشابہت لے لی؟ روزے سے، فَيَتَأَدَّى بِمُطْلَقِ النِّيَّةِ كَالصَّوْمِ، تو یہ ادا ہو جاتا ہے مطلقِ نیت کے ساتھ بھی جیسے کہ روزہ۔ روزہ مطلقِ نیت کے ساتھ ادا، رمضان کا روزہ مطلقِ نیت سے ادا ہو جاتا ہے، تو اس کے لیے بھی مولانا اس کا وقت میں بھی اشتباہ تھا، معیار ہونے کے بھی مشابہ تھا اور ظرف ہونے کے بھی۔ تو اس مشابہت کے اعتبار سے اس نے دونوں سے ایک ایک حکم لے لیا۔ روزے سے کون سا حکم لے لیا، آ گیا اس کے اندر؟ جیسے وہ مطلقِ نیت کے ساتھ روزہ ہو جاتا تھا اسی طرح مطلقِ نیت سے حج بھی ہو جائے گا۔ وَمِنْ حَيْثُ كَوْنِهِ ظَرْفًا، اور اس کے ظرف ہونے کی حیثیت سے أَخَذَ شَبَهًا مِنَ الصَّلَاةِ، اس نے مشابہت لے لی نماز سے، فَلَا يَتَأَدَّى بِنِيَّةِ النَّفْلِ، تو یہ ادا نہیں ہو گا فرض حج کس کی نیت سے؟ نفل کی نیت سے، كَالصَّلَاةِ جیسے نماز۔ نماز بھی نفل کی نیت سے فرض کبھی بھی ادا نہیں ہوں گے، اس سے نفل ہی ہوں گے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ روزے میں تو تھا، کیا تھا روزے میں؟ روزے میں تو مطلقِ نیت کافی ہوتی تھی، نفل کی نیت کر بھی لیتا رمضان میں، کون سا روزہ ہوتا تھا؟ رمضان۔ اور نماز کے اندر تو مطلقِ نیت کافی نہیں ہے، نیت کو متعین بھی کرنا پڑتا ہے باقاعدہ، سمجھ میں آیا؟ تو دونوں سے اس نے ایک ایک حکم لے لیا۔ روزے سے اطلاقِ نیت والا حکم لے لیا، تعیینِ نیت والا نماز سے نہیں بلکہ روزے سے اطلاقِ نیت والا، اور نماز سے کیا حکم لے لیا؟ کہ وہ نفل کی نیت سے ادا، فرض ادا نہیں ہوتے، تو یہ بھی نفل کی نیت سے فرض ادا نہیں ہو گا۔ هَكَذَا يَنْبَغِي أَنْ يُفْهَمَ، اسی طرح مناسب ہے کہ سمجھا جائے۔ شارح کیا فرماتے ہیں کہ اس جگہ کو مناسب ہے کہ اسی طرح سمجھا جائے۔ ثُمَّ لَمَّا فَرَغَ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللَّهُ عَنْ مَبَاحِثِ الْمُطْلَقِ وَالْمُؤَقَّتِ، پھر جب مصنف رحمہ اللہ فارغ ہوئے مطلق اور مؤقت کے مباحث سے شَرَعَ فِي بَيَانِ كَوْنِ الْكُفَّارِ مَأْمُورِينَ بِالْأَمْرِ أَوْ لَا، تو شروع ہوئے اس بات کے بیان کے اندر کہ کفار جو ہیں وہ مامور بالامر ہیں یا نہیں؟ مامور بالامر ہیں یا، یعنی ان کو بھی امر کے ذریعے حکم کیا گیا ہے یا نہیں؟ فَقَالَ، تو مصنف فرماتے ہیں: وَالْكُفَّارُ مُخَاطَبُونَ بِالْأَمْرِ بِالْإِيمَانِ وَبِالْمَشْرُوعِ مِنَ الْعُقُوبَاتِ وَالْمُعَامَلَاتِ، کہ کفار بھی مخاطب ہیں۔ کس چیز کے مخاطب ہیں؟ بالامر کا تعلق ہے مخاطب سے، اور بالایمان کا تعلق ہے امر سے، کس سے؟ امر سے۔ اب ترجمہ سنو، اور کفار بھی مخاطب ہیں امر بالایمان کے، کفار بھی مخاطب ہیں یعنی ایمان کے امر کے کفار بھی مخاطب ہیں کہ ایمان لے کر آؤ۔ کیا لے کر آؤ؟ وَبِالْمَشْرُوعِ، اور کس کے مخاطب ہیں؟ امر بالمشروع، مشروع چیزوں کے بھی مولانا مخاطب ہیں، کیا معنی مشروع سے کیا مراد ہیں؟ کہتے ہیں مِنَ الْعُقُوبَاتِ وَالْمُعَامَلَاتِ، یعنی سزائیں اور معاملات۔ سزائیں اور معاملات کے یہ بھی کیا ہیں؟ مخاطب ہیں، یہ بھی مکلف ہیں، ان پر بھی یہ چیزیں لازم ہوں گی جو ہماری سزائیں ہیں اور جو ہمارے معاملات کے قوانین شریعت نے بتلا دیے وہ کیا ہیں، ان پر بھی لاگو ہوں گے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کہتے ہیں کفار بھی مخاطب ہیں امر بالایمان کے اور امر بالمشروع کے مِنَ الْعُقُوبَاتِ وَالْمُعَامَلَاتِ یعنی عقوبات اور معاملات میں سے لِأَنَّ الْأَمْرَ بِالْإِيمَانِ فِي الْوَاقِعِ لَا يَكُونُ إِلَّا لِلْكُفَّارِ، اس لیے کہ ایمان کا امر واقع کے اندر نہیں ہو گا مگر کفار ہی کو۔ بھئی مومن تو پہلے ہی ایمان رکھتے ہیں تو ان کو اے مومنو ایمان لے کر آؤ یہ تو تحصیلِ حاصل لازم آئے گی، تو امر ایمان کا امر دراصل واقع میں ہونا ہی کس کو چاہیے؟ کفار کو ہونا چاہیے، یہی بات کر رہے ہیں لِأَنَّ الْأَمْرَ بِالْإِيمَانِ فِي الْوَاقِعِ لَا يَكُونُ إِلَّا لِلْكُفَّارِ کہ امر بالایمان واقع میں نہیں ہو گا مگر کفار ہی کو۔ وَأَمَّا لِلْمُؤْمِنِينَ، اور باقی جو مومنین ہیں جیسے کہ مولانا كَمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى، جیسے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے اندر ہیں۔ اچھا یہ اب اشکال کا جواب دے رہے ہیں کہ آپ نے کیا کہا؟ واقع کے اندر ایمان کا حکم صرف جن کو ہونا چاہیے؟ کفار کو ہونا چاہیے، تو کہتے ہیں بھئی قرآن میں تو اللہ فرماتے ہیں يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا، اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو آمِنُوا ایمان لے آؤ۔ تو وہاں تو امر آ رہا ہے، مومنین کو امر ہو رہا ہے۔ تو کہتے ہیں اب اس کا جواب دیں گے بھئی، کہ یا تو اس کے ذریعے عام مسلمانوں کو خطاب ہے، مفسرین حضرات لکھتے ہیں یا تو یہ خطاب ہے عام مسلمانوں کو اور اس صورت میں آمِنُوا سے مراد ایمان پر ثابت قدمی ہے، اے وہ لوگو جو ایمان لے کر آئے ہو، ایمان پر ثابت قدم رہنا، ایمان کو کبھی بھی نہ چھوڑنا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ یا اس سے خطاب کس کو ہے؟ کفار کو خطاب ہے بھئی، کفار کو خطاب ہے۔ نہیں، کفار نہیں، منافقین، منافقین کو خطاب ہے بھئی۔ کیا معنی؟ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، یعنی زبان کے ذریعے جو ایمان لے کر آئے ہو، آمِنُوا دل سے بھی ایمان لے کر آؤ، یعنی اپنے دل کو بھی زبانوں کے مطابق کر لو۔ زبان سے تو بظاہر ایمان لائے ہو، دل میں ابھی بھی کفر ہے لیکن دل سے بھی کیا کرو؟ ایمان لے آؤ، تو یہ خطاب کس کو ہوا؟ منافقین کو، یا یہ خطاب ہے اہل کتاب کو مولانا کہ اہل کتاب يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا، اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو یعنی اے اہل کتاب، یعنی وہ لوگ اے وہ لوگو جو پچھلے نبیوں اور پچھلی کتابوں پر ایمان لائے ہو، آمِنُوا کیا کرو؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ان کی کتاب پر بھی ایمان لے آؤ بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ تین جواب ذکر ہوں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں جیسے اور جو اللہ تعالیٰ کے قول میں يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا، فَإِنَّمَا يُرَادُ بِهِ الثَّبَاتُ عَلَى الْإِيمَانِ وَالِاسْتِقَامَةُ عَلَيْهِ، اس کے اوپر اس کے ذریعے مراد جو ہے ایمان پر ثابت قدمی ہے وَالِاسْتِقَامَةُ عَلَيْهِ اور اس پر استقامت مراد ہے، ایک معنی استقامت، ثبات۔ أَوْ مُوَاطَأَةُ الْقَلْبِ بِاللِّسَانِ، مواطأۃ کا معنی موافقت بھئی، یا زبان قلب کی زبان کے ساتھ موافقت مراد ہے، یعنی یہ منافقین کو کہا کہ اپنے قلب کو کیا کر لو اپنے زبانوں کے موافق بنا لو، أَوْ نَحْوُ ذَلِكَ یا اس جیسے اور بھئی، بات سمجھ میں آئی؟ جیسے میں نے ذکر کیا کہ اہل کتاب کو خطاب ہے بھئی۔ وَكَذَا هُمْ أَلْيَقُ بِالْعُقُوبَاتِ، اسی طرح وہ کفار زیادہ لائق ہیں عقوبات کے بھی بھئی، متن میں کیا ذکر کیا تھا؟ مشروع سے کیا مراد ہے؟ عقوبات اور معاملات، تو اس کے بھی یہ کفار مخاطب ہیں یعنی مکلف ہیں مولانا، کیا ہیں؟ ایمان کے بھی مکلف ہیں اور یہ معاملات اور عقوبات کے بھی مکلف ہیں بھئی۔ कहते हैं وَكَذَا هُمْ أَلْيَقُ بِالْعُقُوبَاتِ، اسی طرح وہ عقوبات کے بھی زیادہ لائق ہیں لِأَنَّ الْعُقُوبَاتِ، اس لیے کہ عقوبات جو ہیں وَهِيَ الْحُدُودُ وَالْقِصَاصُ، وہ حدود اور قصاص ہیں۔ یہ حدود اور قصاص، تو یہ عقوبات جو ہیں إِذَا كَانَتْ تَجْرِي عَلَى الْمُسْلِمِينَ لِأَجْلِ انْتِظَامِ الْعَالَمِ وَمَصْلَحَةِ الْبَقَاءِ وَالزَّجْرِ عَنِ الْمَعَاصِي، جب یہ مسلمانوں پر جاری ہوتی ہیں عالم کے انتظام کے لیے اور عالم کے بقا کی مصلحت کی وجہ سے اور گناہوں سے ڈانٹ کے طور پر جب یہ مسلمانوں پر جاری ہوتی ہیں فَالْكُفَّارُ أَوْلَى بِهِمَا، تو کفار اس کے ان دونوں کے زیا، ان حدود اور قصاص کے وہ زیادہ لائق ہیں مولانا۔ یہ حدود، یہ عقوبات کیا ہیں؟ حدود اور قصاص، تو جب یہ مسلمانوں پر جاری ہوتی ہیں کس وجہ سے جاری ہوتی ہیں؟ عالم کے انتظام کے لیے بھئی کہ عالم کا انتظام چلتا رہے بھئی، اور اسی طرح یہ عالم کا نظام کیا ہے؟ باقی رہے، تو جب یہ مسلمانوں پر جاری ہوتی ہیں تو کفار پر بطریقِ اولیٰ جاری ہونی چاہئیں، اس لیے کیونکہ انہوں نے تو دنیا کو آخرت پر بھی ترجیح دے دی ہے، تو جس کے لیے تو دنیا کے نظام صحیح چلتا ہے اور انہوں نے آخرت پر کس کو ترجیح دے دی ہے؟ دنیا کو ترجیح دے دی ہے، تو معلوم ہوا ان کی مقصودِ نظر صرف دنیا ہے اور ان چیزوں کے ذریعے دنیا کی بقا اور دنیا کا انتظام کا صحیح چلنا ہے، تو بطریقِ اولیٰ وہ کیا ہونے چاہئیں؟ اس کے مکلف ہونے چاہئیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ سِیَّمَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، خاص کر امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک لِأَنَّ الْحُدُودَ وَالْكَفَّارَاتِ عِنْدَهُ زَاجِرَةٌ لِلنَّاسِ عَنِ الِارْتِكَابِ، اس لیے کہ حدود اور کفارات ان کے نزدیک وہ زاجرہ ہیں لوگوں کے لیے، لوگوں کو ڈانٹنے وال کرنے والی ہیں عَنِ الِارْتِكَابِ أَيْ ارْتِكَابِ الْمَعَاصِي، کس چیز سے؟ گناہوں کے کرنے سے، گناہوں کے ارتکاب سے ڈانٹ ہیں لوگوں کے لیے یہ، لَا سَاتِرَةٌ وَمُزِيلَةٌ لِلْمَعْصِيَةِ، ساتر یعنی ڈھانپنے والی اور زائل کرنے والی نہیں ہیں گناہ کو بھئی۔ یاد رکھیے ہمارے امام صاحب کے نزدیک بھئی یہ گناہ، یہ جو حدود و قصاص ہیں یہ زاجر ہیں لوگوں کے لیے، ڈانٹ کرنے والے ہیں تاکہ وہ گناہوں سے باز آ جائیں، گناہ نہ کریں۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ ساتر ہیں، کفارہ ہیں، یہ کیا ہیں؟ کفارہ، اس سے وہ گناہ جب یہ سزا یا حد یا قصاص اس پر نافذ ہو جائے گی تو اس کا گناہ ختم ہو جائے گا، یہ اس کو ڈھانپ لے گی، چھپا دے گی، اس کو زائل کر دے گی، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کہتے ہیں خاص طور پر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک کیونکہ یہ لوگوں کو کیا ہے؟ گناہوں سے روکنے والی ہیں۔ ہے، تو جب مسلمانوں پر یہ جاری ہوتی ہیں تو کفار پر کیوں نہیں؟ بطریقِ اولٰی ان کو جاری ہونا چاہیے بھئی۔ واما المعاملات باقی معاملات جو ہیں، فھی دائرۃ بیننا وبینہم، تو وہ دائر ہیں ہمارے اور ان کے درمیان بھئی۔ ہمارے اور ان کے درمیان کیا ہیں؟ دائر ہیں، یعنی جاری، ہمارے اور ان کے درمیان جاری ہوتے ہیں۔ فینبغی ان نتعامل معہم حسب ان نتعامل معہم حسب ما تعاملنا بیننا، تو کہ ہم ان کے ساتھ معاملہ کریں اسی اعتبار سے جیسے کہ ہم اپس میں معاملہ کرتے ہیں، فی البيع والشراء والاجارۃ وغیرہا، بیع، شراء اور اجارہ وغیرہ میں، سوى الخمر والخنزير، علاوہ خمر اور خنزیر کے، فانہما مباحان لهم لا لنا، اس لیے کہ یہ دو چیزیں ان کے لیے مباح ہیں، ہمارے لیے نہیں، والیہ اشار علیہ الصلاۃ والسلام بقولہ، اور اسی کی طرف اشارہ کیا ہے حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنے اس قول کے ذریعے، کہ آگے حدیث ہے مولانا، الخمر لهم كالخل لنا، والخنزير لهم كالشاة لنا، وانما بذلوا الجزية ليكون دماؤهم كدمائنا واموالهم كاموالنا، یہ حدیث ہے مولانا، حضور علیہ السلام قول فرماتے ہیں الخمر لهم كالخل لنا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان کے لیے شراب اسی طرح ہے جیسے ہمارے لیے سرکہ، والخنزير لهم كالشاة لنا، اور ان کے لیے خنزیر اسی طرح ہے جیسے ہمارے لیے شاة کا معنی میں نے بتلایا، بکری نہیں ہے، بھیڑ بکری دونوں ہیں بھئی، جیسے کالشاة لنا جیسے ہمارے لیے بھیڑ بکری ہے، وانما بذلوا الجزية، اور انہوں نے جزیہ جو خرچ کیا ہے ليكون دماؤهم كدمائنا، تاکہ ان کے خون بھی ہمارے خونوں کی طرح ہو جائیں، یعنی محفوظ ہو جائیں، کیا ہو جائیں؟ محفوظ ہو جائیں، واموالهم كاموالنا، اور ان کے مال بھی ہمارے مالوں کی طرح محفوظ ہو جائیں بھئی۔ وبالشرائع فی حکم المؤاخذة فی الآخرة، اور یہ کفار مخاطب ہیں شرائع کے بھی مولانا، فی حکم المؤاخذة فی الآخرة، آخرت میں مؤاخذا کے حکم کے اعتبار سے، آخرت میں مؤاخذا کے حکم کے اعتبار سے، بلا خلاف بغیر کسی اختلاف کے، یعنی اس میں ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا کوئی اختلاف نہیں، ہمارے نزدیک جیسے کفار مکلف ہیں کس چیز کے؟ ایمان کے مکلف ہیں، اسی طرح وہ عقوبات کے بھی ان پر جاری ہوں گی، اسی طرح معاملات کے بھی مکلف وہ بھی وہ اسی طرح کریں گے، کیونکہ ہمارے اور ان کے درمیان ہوں گے تو ان کے ساتھ اسی طرح معاملہ کریں گے بھئی، اور نیز شرائع کے میں بھی وہ مخاطب ہیں، یعنی شرائع شرعی احکام جو ہیں ان کے بھی مکلف ہیں، شرائع سے مراد فروعات ہیں مولانا فروعات، نماز، روزہ، زکوۃ، حج وغیرہ، ان کے بھی مکلف ہیں، بایں معنی کہ آخرت میں اس پر بھی ان کا مؤاخذا ہو گا، کیا معنی مؤاخذا ہو گا؟ کس بات پر؟ کہ تم ان کا فرض ہونے کا اعتقاد کیوں نہیں رکھتے تھے؟ یہ تو ہم نے عبادتیں فرض کی تھیں، عمل کرنے نہ کرنے کی بات ابھی نہیں ہو رہی مولانا، ادا کی بات نہیں ہو رہی، صرف اعتقاد کی بات ہو رہی ہے، کہ تمہیں اس بات پر بھی ان کو آخرت میں مؤاخذا ہو گا کہ تم ان کے فرضیت کا اعتقاد کیوں نہیں رکھتے تھے، ہم نے یہ چیزیں فرض کی تھیں، تو آپ جانتے ہیں مولانا فرض کا انکار کفر ہے، فرض کا انکار کفر ہے، تو ایک وہ توحید سے انکار کرتے تھے وہ الگ کفر ہوا، اور یہ فرائض کا انکار یہ کیا ہو گیا؟ الگ کفر ہوا، تو اس پر الگ سزا ہو گی مولانا، بات سمجھ میں آ گئی؟ اس سزا کے ساتھ اس کی بھی سزا ان کو ملے گی، مؤاخذا ہو گا آخرت میں، بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ یعنی ان الكفار مخاطبون بالشرائع، یعنی کہ کفار مخاطب ہیں شرائع کے، یعنی فروع کے، وہی الصيام والصلاۃ والزكاۃ، اور وہ کیا ہیں؟ روزہ، نماز، زکوۃ اور حج ہیں، فی حق المؤاخذة فی الآخرة، آخرت میں مؤاخذا کے حق میں، باتفاق بیننا وبين الشافعي رحمہ اللہ، بالاتفاق ہمارے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے درمیان، فهم يعذبون بترك اعتقاد الفرائض والواجبات كما يعذبون بترك اعتقاد اصل الإيمان، اس لیے کیونکہ ان کو عذاب دیا جائے گا فرائض اور واجبات کا اعتقاد کو ترک کرنے کی وجہ سے، جیسے کہ ان کو عذاب دیا جائے گا اصلِ ایمان کا اعتقاد ترک کرنے کی وجہ سے، لقولہ تعالی، بموجب اللہ تعالی کے اس قول کے، یہ دلیل ہے کہ ما سلککم فی سقر، جنت والے جہنمیوں سے پوچھیں گے بھئی، جنت والے، ما سلککم فی سقر، کس چیز نے تمہیں جہنم میں داخل کیا؟ سقر جہنم بھئی، کس چیز نے تمہیں جہنم میں داخل کیا؟ قالوا، وہ جواب میں کہیں گے لم نک من المصلین، ہم نمازیوں میں سے نہیں تھے، ولم نک نطعم المسکین، اور ہم مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے، کیا معنی؟ ای لم نک من المعتقدین للصلاۃ المفروضة والزكاۃ المفروضة، یعنی ہم نماز جو وہ نماز جو فرض ہے ہم اس کا اعتقاد نہیں رکھتے تھے، اور وہ زکوۃ جو فرض ہے ہم اس کا اعتقاد نہیں رکھتے تھے، تو دیکھو معلوم ہوا اس پر بھی کیا ہو گا؟ آخرت میں ان کا مؤاخذا ہو گا، وہ خود وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ ہمیں ان کا اعتقاد نہیں تھا، اس لیے ہمیں جہنم میں داخل کیا گیا۔ ہکذا قالوا، اسی طرح علماء نے فرمایا ہے، وقد فسرته فی التفسیر احمدی باطنب وجہ واشملہ، اور تحقیق میں نے اس کی تفسیر کی ہے تفسيرِ احمدی کے اندر، اطنب، اطناب کہتے ہیں طویل کرنا بھئی، اطنب طویل، یعنی مفصل، اشمل جس میں عموم ہو، شمول ہو مولانا، تو یوں ترجمہ کر لیں، اور تحقیق میں نے اس کی تفسیر کی ہے تفسيرِ احمدی کے اندر باطنب وجہ واشملہ، بڑے مفصل اور جامع طریقے پر بھئی، بڑے مفصل اور جامع طریقے پر اس کی تفسیر کی ہے۔ واما فی وجوب الاداء فی احکام الدنیا فکذالک عند البعض، اور باقی وجوبِ ادا جو ہے احکامِ دنیا میں، احکامِ دنیا میں وجوبِ ادا کے سلسلے میں، فکذالک عند البعض، تو اسی طرح ہے بعض کے نزدیک بھئی، بعض کے نزدیک اسی طرح ہے بھئی، یعنی ان پر وہ ادا کے بھی مکلف ہیں، کیا معنی ہے؟ یعنی وہ اداِ عبادات کے بھی مخاطب ہیں، اس کے بھی اداِ عبادات کے بھی مکلف ہیں، پہلی بات تو کس کی کی تھی سب سے پہلے؟ ایمان کی، پھر اس کے بعد کس کی کی؟ عقوبات اور معاملات کی، اس کے بعد کس کی بات کی؟ شرائع کی، یعنی اس پہ بھی مؤاخذا ہو گا، لیکن کس بات پر؟ اعتقاد نہیں رکھا، اب کیا عمل نہیں کیا اس پر، کیا اس کے بھی وہ مکلف ہیں؟ عمل کے بھی مکلف ہیں یا نہیں بھئی؟ ادا بھی ان کے بھی وہ مکلف ہیں، ادا کے مکلف نہیں ہیں؟ تو کہتے ہیں احکامِ دنیا میں وجوبِ ادا کے سلسلے میں بھی فکذالک عند البعض، اسی طرح ہے بعض علماء کے نزدیک، یعنی وہ اس پر بھی ان کا مؤاخذا ہو گا آخرت میں، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یعنی انہم مخاطبون باداء العبادات فی الدنیا ايضا، یعنی وہ مخاطب ہیں اداِ عبادات کے بھی دنیا کے اندر، عند البعض، بعض کے نزدیک، بھئی وہ بعض کون ہیں؟ کثیر من مشائخ العراق واکثر اصحاب الشافعی رحمہ اللہ، مشائخِ عراق ہیں، یعنی کہ مشائخِ عراق اور امام شافعی رحمہ اللہ کے اکثر اصحاب جو ہیں، وہذہ مغلطۃ عظیمۃ للقوم، اور مغلطۃ، مغالطے کو کہتے ہیں مولانا مغالطے کو، مغلطۃ لفظ ہے مغالطے کو، اور مغالطہ کہتے ہیں غلطی میں ڈالنے والی چیز بھئی، مغالطہ کسے کہتے ہیں؟ غلطی میں ڈالنے والی چیز، کہتے ہیں وہذہ مغلطۃ عظیمۃ للقوم، اور یہ ان لوگوں کا عظیم مغالطہ ہے، لان الشافعی رحمہ اللہ لما لم يقل بصحۃ ادائها منهم، کہتے ہیں بھئی کہتے ہیں یہ لوگوں کا عظیم مغالطہ ہے بھئی، اس لیے کہ امام شافعی رحمہ اللہ جب یہ فرماتے ہیں کہ دنیا کے اندر حالتِ کفر میں کفار کی ادا صحیح نہیں، وہ نماز پڑھ بھی لیں تو ادا نہیں، زکوۃ دے بھی دیں تو ادا نہیں، اور نیز جب وہ ایمان لے آئیں تو ان کے ذمے گزشتہ نمازیں اور اور گزشتہ سالوں کی زکوۃ اور روزے وغیرہ بھی واجب، تو جب امام شافعی رحمہ اللہ نہ تو ان کی ادا کو صحیح قرار دیتے ہیں نہ اسلام لانے کے بعد ان کے ذمے قضا کے قائل ہیں، تو پھر ادا کے مکلف ہونے کا کیا معنی؟ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ شارح اعتراض کر رہے ہیں کہ بھئی آپ کیا کہتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک کہ کفار ادا کے بھی مکلف، بھئی ادا کے مکلف ہونے کا کیا معنی؟ جب امام شافعی رحمہ اللہ ان کی ادا کے صحیح ہونے کے قائل ہی نہیں ہیں کہ ان کی ادا صحیح نہیں ہے، نیز جب ایمان لے آئیں تو پھر اس کے بعد ان کے ذمے قضا بھی نہیں ہے، تو پھر ادا کے مکلف ہونے کا کیا معنی؟ دیکھیے بھئی۔ لان الشافعی رحمہ اللہ لما لم يقل بصحۃ ادائها منهم حالۃ الکفر، اس لیے کہ جب امام شافعی رحمہ اللہ وہ قائل نہیں ہیں ان کی ادا کے صحیح ہونے کے ان سے حالتِ کفر کے اندر، حالتِ کفر میں ان کی ادا کے صحیح ہونے کے جب وہ قائل نہیں ہیں، ولا بوجوب قضائها بعد الاسلام، اور نہ ہی اسلام لانے کے بعد اس کی قضا کے واجب ہونے کے جب وہ قائل ہیں، فما معنی وجوب الاداء فی الدنیا، تو دنیا میں وجوبِ ادا کا کیا معنی؟ کہ ان پر ادا بھی کیا ہے؟ واجب ہے۔ فلذا اولوا کلامہ، اسی لیے انہوں نے تاویل کی امام شافعی رحمہ اللہ کی، کہ کلام کی، ان کے کلام کی کیا کی ہے؟ امام شافعی رحمہ اللہ جو فرماتے ہیں کہ وہ اداِ عبادات کے بھی مخاطب ہیں، وہ کیا فرماتے ہیں؟ اداِ عبادات کے مخاطب بھی ہیں، یعنی مکلف ہیں، کہتے ہیں انہوں نے تاویل کی امام شافعی رحمہ اللہ کے کلام کی، بان معنی الخطاب فی حقہم، کہ خطاب کا معنی ان کے حق میں یہ ہے کہ آمنوا ثم صلوا، بھئی ویسے تو امر آیا اقیموا الصلاۃ، نماز کیا کرو؟ قائم، کہتے ہیں کفار بھی اس کے مکلف ہیں، کیا معنی؟ یعنی اس سے پہلے ایمان محذوف ہے، آمنوا ثم اقیموا الصلاۃ، ایمان لے کر آؤ پھر کیا کرو؟ نماز قائم کرو۔ تو کہتے ہیں بان معنی الخطاب فی حقہم، ان کے حق میں خطاب کا معنی یہ ہے کہ آمنوا ثم صلوا، ایمان لے کر آؤ پھر نماز پڑھو، فيقدر الإيمان مقتضى تبعا للعبادات، پس مقدر مانا جائے گا ایمان کو بطورِ مقتضی کے اور عبادات کے تابع کرتے ہوئے، عبادات کے تابع کرتے ہوئے، کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے کسی ایک شخص سے کہا جائے بھئی، حالتِ جنابت میں ہے، اب اس سے کہا جائے کہ اس پر نماز فرض ہے، کیا معنی؟ پہلے طہارت حاصل کرو، پھر کیا کرو؟ نماز پڑھو، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہاں بھی اسی طرح ہے، پہلے ایمان لے کر آؤ، پھر کیا کرو؟ نماز پڑھو بھئی۔ وثمرتہ انہم يؤاخذون عندہ فی الآخرۃ، ہاں ثمرہ یہ ظاہر ہو گا مولانا، تو ہمارے نزدیک کفار کو سزا ہوئی دو وجہ سے، ایک ایمان کو چھوڑنے کی وجہ سے، اور دوسرا فرضوں کا اعتقاد نہ رکھنے کی وجہ سے، اور ان کے نزدیک سزا تین وجہ سے ہو گی، ایک ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے، ایک پھر فرائض کا اعتقاد نہ رکھنے کی وجہ سے، اور تیسرا پھر ان عبادات کو ادا نہ کرنے کی وجہ سے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں وثمرتہ انہم يؤاخذون عندہ فی الآخرۃ بترك فعل الصلاۃ، ثمرہ اس کا یہ ہے کہ ان کا مؤاخذا ہو گا آخرت کے اندر نماز کے فعل کو چھوڑنے کی وجہ سے بھی، كما يعذبون بترك اعتقادها اتفاقا، جیسے ان کو عذاب دیا جائے گا اس نماز کا اعتقاد چھوڑنے کی وجہ سے بالاتفاق بھئی، اتفاقاً، یعنی اس میں تو ہمارا بھی ان کے ساتھ امام شافعی رحمہ اللہ کے ساتھ اتفاق ہے، فلو لم يكونوا مخاطبین باداء العبادات فی الدنیا، اگر وہ دنیا اداِ عبادات کے مخاطب نہ ہوتے دنیا کے اندر، لما عذبوا فی الآخرۃ بتركها، تو وہ البتہ عذاب نہ دیے جاتے آخرت میں ان عبادات کو چھوڑنے کی وجہ سے، هذا غایۃ ما قیل فی التلویح فی تحقیق هذا المقام، کہتے ہیں یہ انتہائی بات ہے جو کہی گئی ہے تلویح کے اندر اس مقام کی تحقیق کے اندر، جو ساری کہتے ہیں میں نے اس کا کیا کر دیا؟ خلاصہ آپ کے سامنے بیان کر دیا۔ والصحیح انہم لا يخاطبون باداء ما يحتمل السقوط من العبادات، صحیح مذہب یہ ہے مولانا کہ یہ مخاطب نہیں ہیں ادا کے، اس چیزوں کی ادا کے مخاطب نہیں ہیں جو سقوط کا احتمال رکھتی ہیں عبادات میں سے، عبادات میں سے جو عبادات سقوط کا احتمال رکھتی ہیں وہ ان کے کفار ان کے مخاطب نہیں ہیں، یعنی ان پر اس کی ان کی ادا نہیں ہے، ہاں جو چیزیں جیسے نماز، روزہ، دیکھو انسان سے بھی ساقط ہو جاتی ہے، حیض و نفاس میں کیا ہوا؟ ہے، سمجھ میں آیا؟ تو یہ ساقط ہو جاتی ہیں حیض و نفاس کی حالت میں عورت سے، تو یہ معلوم ہوا یہ عبادات ساقط ہونے والی ہیں، لیکن کچھ چیزیں کبھی بھی ساقط نہیں ہوتیں جیسے ایمان مولانا، جیسے کیا ہے؟ وہ سقوط کا احتمال نہیں رکھتا، تو کہتے ہیں والصحیح انہم لا يخاطبون باداء ما يحتمل السقوط من العبادات، اور صحیح یہ ہے کہ وہ مخاطب نہیں ہیں اس چیز ان عبادات کی ادا کے جو سقوط کا احتمال رکھتی ہیں، ای المذهب الصحيح لنا، ہمارا صحیح مذہب یہ ہے کہ ان الکفار لا يخاطبون باداء العبادات التي تحتمل السقوط، کہ کفار مخاطب نہیں ہیں ان عبادات کی ادا کے جو سقوط کا احتمال رکھتی ہیں، مخاطب نہیں ہیں، یعنی مکلف نہیں ہیں، مثل الصلاۃ والصوم، جیسے نماز ہے اور روزہ ہے، فانهما يسقطان عن اہل الاسلام بالحيض والنفاس، اس لیے کہ یہ تو اسلام اہل کفر اہل اسلام سے بھی ساقط ہو جاتی ہیں حیض و نفاس کی وجہ سے، ونحوهما، جیسے اور عذروں سے، لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام، حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے، لمعاذ رضی اللہ تعالی عنہ، جو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ قول جو حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ سے تھا، حين بعثہ الى اليمن، جب حضور نے ان کو یمن کی طرف بھیجا، حضور نے ان سے فرمایا، لتاتي قوما، تم آؤ گے ایک قوم کے پاس، من اہل الکتاب، کس میں سے؟ اہل کتاب، تم اہل کتاب میں سے ایک قوم کے پاس آؤ گے، یعنی ان کے پاس پہنچو گے، فادعہم الى شهادۃ ان لا الہ الا اللہ وانی رسول اللہ، پس تم ان کو دعوت دینا، اس بات کی شہادت کہ اس بات کی طرف کہ شہادت کی طرف کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں بھئی، یعنی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ میں محمد کیا ہوں؟ اللہ کا رسول ہوں، اس بات کی ان کو دعوت دینا، فانہم اطاعوک، پس اگر وہ تیری اطاعت کریں، اطاعت کریں تیری، فاعلمہم، تو تم ان کو بتلانا، ان اللہ فرض علیہم خمس صلوات فی کل یوم ولیلتہ، کہ اللہ تعالی نے ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں ہر دن رات کے اندر، الحديث، سمجھ میں آیا؟ الحديث معروف یا اقراء الحديث، اچھا، تو دیکھو، فانہ تصریح، اس لیے کہ اس میں کیا ہے؟ یہ تصریح ہے اس بانہم لا يکلفون بالعبادات الا بعد الإيمان، کہ وہ مکلف نہیں ہیں عبادات کے مگر کس کے بعد؟ ایمان کے بعد، دیکھو پہلے کیا ذکر ہوا؟ کہ ان کو دعوت دو کس طرح؟ کہ وہ شہادت دیں کس چیز کی؟ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے، اگر وہ اطاعت کریں تو پھر ان کو کہو کہ نہ پانچ نمازیں فرض ہیں، معلوم ہوا پہلے عبا ایمان لانا ضروری، پھر اس کے بعد کیا ہو گی؟ وہ مکلف ہوں گے کس چیز کے؟ عبادت کے۔ واما الإيمان فلما لم يحتمل السقوط من احد، باقی ایمان جو ہے جب وہ سقوط کا احتمال نہیں رکھتا کسی ایک سے بھی، لا جرم كانوا مخاطبين بہ، تو یقیناً وہ اس کے بھی کیا ہیں؟ مخاطب ہیں مولانا، اس کے تو مکلف ہیں ہی بھئی ہر حال میں، چلیے بس مولانا، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقۃ الكلام۔
113 approved lectures · 30 of 113