Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-115

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 11 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 15
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔115 ثم لا خفاء أن الأقسام الثلاثة الأولى مقدمة على القياس وإنما الاشتباه في التخفي تقديم القياس الجلي على الخفي وبالعكس، فأراد أن يبين ضابطة ليعلم بها تقديم أحدهما على الآخر، فقال: ولما صارت العلة عندنا علة بأثرها لا بدورانها كما تقوله الشافعية من أهل الطرد قدمنا على القياس الاستحسان الذي هو القياس الخفي إذا قوي أثره. گذشتہ سبق میں استحسان کی بحث شروع ہوئی تھی اور آپ نے پڑھا تھا کہ استحسان ہر وہ دلیل شرعی جو قياسِ جلی کے مقابلے میں آئے۔ تو استحسان اسی دلیل کو کہیں گے جس کے مقابلے میں قياسِ جلی موجود ہو اگر قياسِ جلی اس دلیل کے مقابلے میں نہیں تو پھر اس دلیل کو استحسان بھی نہیں کہیں گے۔ تو جو بھی دلیل شرعی ہو جس کے مقابلے میں قیاس آ جائے اس دلیل شرعی کو کیا کہا جاتا ہے؟ استحسان۔ چاہے وہ دلیل شرعی آیت ہو، چاہے وہ حدیث ہو، چاہے اجماع ہو، چاہے ضرورت ہو اور چاہے قياسِ خفی ہو۔ قياسِ خفی۔ اب یہ بات تو تفصیل سے بیان ہو گئی کہ قياسِ جلی کے مقابلے میں آیت آئے تو ظاہر سی بات ہے آیت کو ترجیح ہو گی اس کو استحسان کہیں گے، قياسِ جلی کے مقابلے میں حدیث آ جائے اس کو بھی ترجیح ہو گی کیونکہ حدیث قطعی ہے قیاس ظنی ہے اور اس کو بھی کیا کہیں گے؟ استحسان کہیں گے، اور اگر قياسِ جلی کے مقابلے میں اجماع آ جائے تو ظاہر سی بات ہے اجماع کو ترجیح ہو گی اس کو کیا کہیں گے؟ استحسان، اور اسی طرح قياسِ جلی کے مقابلے میں ضرورت آ جائے حاجت، اس ضرورت کو جو ہے ترجیح ہو گی اس کو استحسان کہیں گے، اسی طرح کبھی قیاس کے مقابلے میں دوسرا قیاس آ جاتا ہے قياسِ جلی کے مقابلے میں، تو اس کو بھی استحسان کہیں گے، وہاں پر پھر فرق یہ ہے کہ قياسِ جلی جو ہے اس کی علت ظاہر ہوتی ہے جبکہ قياسِ خفی جو ہے اس کی علت خفی ہوتی ہے بھئی خفی ہوتی ہے۔ اب یاد رکھیے احناف جو ہیں کبھی کبھار تو قياسِ جلی پر عمل کرتے ہیں اور کبھی قياسِ خفی پر عمل کرتے ہیں یعنی استحسان پر۔ احناف کیا کرتے ہیں کبھی کبھار؟ قياسِ جلی پر عمل کرتے ہیں اور قياسِ خفی یعنی استحسان کو چھوڑ دیتے ہیں، اور کبھی کبھار استحسان پر عمل کرتے ہیں اور قياسِ جلی کو چھوڑ دیتے ہیں۔ تو اس کے لیے ضابطہ چاہیے قانون چاہیے کہ کہاں پر قياسِ جلی کو ترجیح ہو گی اور کہاں پر قياسِ خفی یعنی استحسان کو ترجیح ہو گی؟ تو اب وہ ضابطہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ جی تو میں نے بتلایا کہ اب کیا کریں گے؟ ضابطہ چاہیے کہاں پر قياسِ جلی کو ترجیح ہو گی اور کہاں پر قياسِ خفی یعنی استحسان کو۔ تو یہاں کے لیے ضابطہ بیان کریں گے بھئی دیکھیے، پہلی تین قسمیں جو استحسان کی چار قسمیں گزریں، جہاں پر وہ استحسان جو ہے وہ کس کے ساتھ تھا؟ آیت یا احادیث کی بناء پر تھا یا اجماع کی بناء پر یا ضرورت کی بناء پر، وہاں تو ظاہر سی بات ہے استحسان کو قیاس پر ترجیح ہی ہو گی کیونکہ باقی ادلہ مضبوط ہیں کس کے مقابلے میں؟ قياسِ جلی کے مقابلے میں، تو وہاں تو ظاہر سی بات ہے اس کے لیے کسی ضابطے کی نہیں ضرورت نہیں بھئی، قرآن، حدیث، اجماع یا ضرورت جہاں بھی قياسِ جلی کے مقابلے میں آئیں گے قياسِ جلی کو چھوڑ دیا جائے گا اور ان کو ترجیح دی جائے گی، یہ تو ظاہر سی بات ہے۔ البتہ اس کے اندر خفا تھا کہ قياسِ جلی کے مقابلے میں قياسِ خفی آئے تو پھر کس کو ترجیح دیں گے؟ میں نے تفصیل بیان کر دی کبھی قياسِ جلی کو ترجیح دیتے ہیں کبھی قياسِ خفی کو، تو کہاں پر کس کو کس طرح ترجیح دیں گے اس کی اب اس کے لیے ضابطہ چاہیے تھا وہ ضابطہ پھر آگے بیان کریں گے۔ فرماتے ہیں: ثم لا خفاء أن الأقسام الثلاثة الأولى مقدمة على القياس، کہتے ہیں پھر اس بات میں کوئی خفا نہیں ہے کہ پہلی تین قسمیں جو ہیں استحسان کی وہ مقدم ہیں قیاس پر یعنی قياسِ جلی پر، وإنما الاشتباه في تقديم القياس الجلي على الخفي وبالعكس، اور اشتباہ جو ہے قياسِ جلی کو قياسِ خفی پر مقدم کرنے میں اور اس کے عکس میں ہے یعنی قياسِ خفی کو کس پر؟ قياسِ جلی پر مقدم کرنے میں، فأراد أن يبين ضابطة، تو ارادہ کیا مصنف نے بیان کرنے کا ایک ضابطہ، ليعلم بها تقديم أحدهما على الآخر، تاکہ اس ضابطے کے ذریعے جان لیا جائے ایک کو دوسرے پر مقدم کرنے کو، فقال، پس فرمایا: یہاں سے آپ کو ضابطہ بتلائیں گے کہ کس مقام پر قياسِ جلی کو ترجیح دیں گے اس پر عمل کر لیں گے استحسان کو چھوڑ دیں گے اور کہاں استحسان پر عمل کریں گے اور قياسِ جلی کو چھوڑ دیں گے۔ تو یاد رکھیے خلاصہ بحث یہ کہ دونوں کی علت کو دیکھا جائے گا، جس کی علت قوی ہو گی اس کو ترجیح ہو گی اور جس کی علت ضعیف ہو گی اس کو چھوڑ دیا جائے گا۔ تو بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دارومدار کس پر ہے؟ علت پر، یعنی علت کا اثر جس کا قوی ہو گا اس علت کو ترجیح ہو گی اور جس کی علت کا اثر ضعیف ہو گا اس کو ترک کر دیا جائے گا۔ اگر قياسِ جلی کی علت اس کا اثر قوی ہوا تو قياسِ جلی کو ترجیح دیں گے استحسان کو چھوڑ دیں گے، اور اگر قياسِ خفی کی علت کا اثر قوی ہوا تو اس کو ترجیح دیں گے اور قياسِ جلی کو چھوڑ دیں گے۔ ضابطہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ کیا ضابطہ بیان ہوا؟ جس کی علت کا اثر قوی ہو، جس کی علت کا اثر قوی ہو اس کو ترجیح دیں گے اور دوسرے کو چھوڑ دیں گے۔ ولما صارت العلة عندنا علة بأثرها لا بدورانها، اور جب علت ہمارے نزدیک وہ علت ہوئی ہے بأثرها کس کی وجہ سے؟ اثر کی، بھئی ہم نے جو کسی چیز کو ہم علت قرار دیتے ہیں قیاس کے اندر تو صرف کیا علت حکم کے ساتھ پائی جاتی ہے، جہاں حکم ہوتا ہے وہاں علت ہوتی ہے، جہاں حکم نہیں ہوتا وہاں علت نہیں ہوتی، تو یعنی کیا دورانِ علت کی وجہ سے کہ علت حکم کے ساتھ گھوم رہی ہے جہاں حکم ہے وہاں علت ہے جہاں حکم نہیں وہاں علت نہیں، تو کیا اس دورانِ علت مع الحكم کی وجہ سے ہم نے کسی چیز کو ہم کسی چیز کو علت قرار دیتے ہیں یا علت کے اثر کا اعتبار کرتے ہیں کہ وہ مؤثر بھی ہونی چاہیے؟ علت کے اثر کا ہمیں اعتبار، بحث تفصیلی گزر چکی کہ ہمارے نزدیک علت تبھی علت بنے گی جب وہ مؤثر بھی ہو، اور مؤثر ہونے کا پتہ کس سے چلتا تھا؟ کہ اس میں صلاحیت بھی ہو، عدالت بھی ہو بھئی اس کا اثر ظاہر ہو، تو پھر ہم اس کو علت قرار دیتے ہیں، صرف حکم کے ساتھ ساتھ رہنے سے یعنی اتراد کی وجہ سے ہم کسی چیز کو علت قرار نہیں دیتے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ولما صارت العلة عندنا علة بأثرها لا بدورانها، اور جب علت ہمارے نزدیک علت ہوئی ہے اپنے اثر کی وجہ سے نہ کہ اپنے چکر لگانے کی وجہ سے، كما تقوله الشافعية من أهل الطرد، جیسے کہ شوافع کہتے ہیں اہل الطرد میں سے، جو شوافع میں سے بعض کیا ہیں جو اہل الطرد ہیں جیسے کہ وہ کہتے ہیں کہ طرد کو وہ دلیل بناتے ہیں بھئی، ہمارے نزدیک طرد دلیل نہیں ہے بلکہ دلیل کیا ہے؟ علت کا مؤثر ہونا، علت کا اثر ظاہر ہو اور اس کا پتہ کس سے چلتا تھا؟ اس میں علت میں صلاحیت بھی ہو اور اس کی عدالت بھی ہو تفصیلی بحث پیچھے گزر چکی۔ قدمنا على القياس، بھئی یہاں سے یاد رکھیے۔ استحسان اور قیاس دو دو قسم پر ہیں یہ یاد رکھیے بھئی۔ استحسان اور قياسِ جلی دونوں کتنی قسم پر ہیں؟ دو دو قسم پر ہیں۔ ایک استحسان کی وہ قسم ہے جس کا اثر قوی ہو۔ استحسان کی ایک قسم وہ ہے جس کا اثر قوی ہو، اس کے مقابلے میں قیاس کی ایک قسم ہے جس کا اثر ضعیف ہو۔ استحسان کی ایک قسم ہے جس کا اثر قوی ہو، اور قیاس کی ایک قسم ہے جس کا اثر ضعیف ہو، تو یہاں پر کس کو ترجیح ہو گی؟ استحسان کو، جب استحسان کی علت جو ہے وہ قوی ہے اس کا اثر ظاہر ہے تو اس استحسان کو ترجیح ہو گی کس پر؟ اس قیاس پر جس کا اثر ضعیف ہے۔ پہلی قسم کیا ہوئی استحسان کی؟ جس کا اثر قوی ہو، اور قیاس کی پہلی قسم کیا ہوئی؟ جس کا اثر ضعیف ہو، تو ظاہر سی بات ہے اعتبار کس کا تھا؟ قوتِ اثر کا تھا، تو قوتِ اثر کس میں زیادہ؟ استحسان میں، تو ایسے موقع پر استحسان کو ترجیح ہو گی اور قياسِ جلی کو چھوڑ دیا جائے گا۔ دوسری قسم ہے استحسان کی جس کی صحت ظاہر ہو، بظاہر وہ استحسان صحیح دکھائی دیتا ہے لیکن ذرا گہرائی میں گئے تھوڑا اور غور کیا تو پتہ چلا یہ فاسد ہے بھئی۔ استحسان کی پہلی قسم تو کیا تھی؟ جس کا اثر قوی ہو، اور قیاس کی پہلی قسم کیا تھی؟ جس کا اثر ضعیف ہو، وہاں پر کس کو ترجیح تھی؟ استحسان کو ترجیح تھی کیونکہ ترجیح قوتِ اثر کے ذریعے ہے بھئی۔ دوسری قسم استحسان کی بیان کر رہا ہوں توجہ سے سمجھ لیں بھئی، دوسری قسم استحسان کی وہ ہے کہ جس کا ظاہر بتلائے کہ یہ استحسان صحیح ہے، جس کا ظاہر کیا بتلائے؟ استحسان صحیح ہے، لیکن ذرا غور کیا ذرا گہرائی میں گئے تو پتہ چلا یہ استحسان تو فاسد ہے بھئی، یہ قياسِ خفی تو کیا ہے؟ فاسد ہے۔ اس کے مقابلے میں ایک قیاس کی دوسری قسم ہے کہ جو بظاہر تو فاسد دکھائی دے لیکن جب ذرا غور کیا گہرائی میں گئے تو پتہ چلا وہ صحیح ہے وہ قیاس بھئی، وہ قیاس کیا ہے؟ صحیح۔ تو دوسری قسم استحسان کی کیا ہوئی؟ جو ظاہراً صحیح ہو لیکن گہرائی میں گئے تو فاسد نکلا، اس کے مقابلے میں قیاس ہے وہ قیاس کی قسم کون سی ہے؟ جو ظاہراً فاسد دکھائی دے لیکن گہرائی میں گئے تو پتہ چلا یہ صحیح ہے بھئی، تو یہاں کس کو ترجیح ہو گی؟ قیاس کو، ظاہر سی بات ہے کیونکہ استحسان کی گہرائی میں گئے پتہ چلا فاسد ہے، اور قیاس کی گہرائی میں گئے تو پتہ چلا صحیح ہے، تو اس صحیح کو ترجیح دیں گے اور فاسد کو چھوڑ دیں گے۔ ضابطہ سمجھ میں آ گیا؟ معلوم ہوا استحسان کی دو قسمیں ہیں، ایک استحسان وہ جس کا اثر قوی ہو، اور ایک استحسان وہ جو ظاہراً صحیح اور گہرائی میں گئے تو فاسد، اس کے مقابلے میں ترتیب یاد رکھنا بھئی، استحسان کی پہلی قسم وہ جس کا اثر قوی ہو، اور دوسری قسم وہ جس کا ظاہر بتلائے یہ صحیح ہے لیکن گہرائی میں گئے تو پتہ چلا فاسد، اس کے مقابلے میں قیاس کی بھی دو قسمیں ہیں، ایک قیاس کی پہلی قسم جس کا اثر ضعیف ہو، قیاس کی دوسری قسم جس کا ظاہر تو بتلائے یہ فاسد ہے لیکن گہرائی میں گئے تو پتہ چلا یہ صحیح ہے بھئی، تو یاد رکھیے: اول کا اول ثانی کے اول پر مقدم ہے، اور ثانی کا ثانی اول کے ثانی پر مقدم ہے، ثانی کے اول پر مقدم ہے بھئی۔ کیا بات کی میں نے؟ دو قسمیں میں نے اسی لیے کہا تھا ترتیب ذہن میں رکھو بھئی، بات آپ سمجھ چکے ہیں ویسے ہی میں عبارت ذکر کر رہا ہوں بھئی۔ استحسان کی پہلی قسم کیا؟ جس کا اثر قوی ہے، اور دوسری قسم کیا؟ جس کا ظاہر صحیح اور باطن فاسد، اس کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر ہے کون؟ قیاس، قیاس کی پہلی قسم کیا؟ جس کا اثر ضعیف ہو، اور دوسری قسم کیا؟ ظاہراً فاسد ہو اور باطناً صحیح ہو، تو یاد رکھیے اول کا اول، کون ہے اول؟ استحسان، استحسان کا اول یعنی پہلی قسم، وہ مقدم ہے ثانی کے اول پر یعنی قیاس کے ثانی کون ہے؟ قیاس ہے نا، تو قیاس، تو استحسان کا اول قیاس کے اول پر مقدم ہے اس کو ترجیح دیں گے۔ اور ثانی کا ثانی یعنی قیاس کا ثانی وہ مقدم ہے کس پر؟ اول کے ثانی پر یعنی استحسان کے استحسان کے دوسری قسم پر بھئی، کیونکہ ہمارے نزدیک اعتبار ظاہر و باطن کا نہیں ہے، کسی چیز کو ظاہر ہونے کی وجہ سے یا کسی چیز کو باطن ہونے کی وجہ سے ترجیح نہیں ہے، استحسان جو ہے اس کی علت خفی ہوتی ہے جبکہ قیاس کی علت کیا ہوتی ہے؟ ظاہر ہوتی ہے، تو یہاں ظاہر اور باطن کو نہیں دیکھنا، ظاہر کو اپنے ظاہر کی وجہ سے ترجیح دی جائے یا باطن کو اپنے باطن ہونے کی وجہ سے ترجیح دی جائے ایسا نہیں ہے بلکہ ہمارے نزدیک اعتبار کس چیز کا ہے؟ قوتِ اثر کا ہے، جس کا اثر قوی اس کو ترجیح ہو گی، جس کا اثر ضعیف اس کو چھوڑ دیا جائے گا بھئی۔ بحث سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی دیکھیے اب کتاب پر: تو کہتے ہیں: قدمنا، کہ جب علت ہمارے نزدیک اپنے اثر کی وجہ سے علت بنی ہے نہ کہ اپنے دوران کی وجہ سے، قدمنا على القياس، ہم نے مقدم کیا قیاس پر آگے کیا ہے؟ والاستحسان، یہ واؤ نہیں ہونا چاہیے غلط بھئی، استحسان مفعول ہے قدمنا کے لیے، ہم نے قیاس پر مقدم کیا کس کو؟ استحسان کو الذي هو هو قياس الخفي ہے، نہیں بھئی! یا تو دونوں پر الف لام ہونا چاہیے قیاس پر بھی اور الخفی پر بھی، یا دونوں پر الف لام نہیں ہونا چاہیے یہ موصوف صفت ہیں۔ تو ہم نے مقدم کیا قیاس پر کس کو؟ الاستحسان الذي هو قياس خفي، اس استحسان پر کس کو مقدم کیا؟ اس قیاس پر ہم نے اس استحسان کو مقدم کیا الذي هو قياس خفي جو کہ قياسِ خفی ہے، کس کو مقدم کیا؟ استحسان کو، کس پر مقدم کیا؟ قياسِ جلی پر، استحسان کو مقدم کیا قياسِ جلی پر، کب؟ إذا قوي أثره، جبکہ استحسان کا اثر قوی ہو، یہ وہ پہلی قسم آ گئی، لأن المدار على قوة التأثير وضعفه، اس لیے کیونکہ دارومدار جو ہے قوتِ تاثیر اور ضعفِ تاثیر پر ہے، لا على الظهور والخفاء، ظهور اور خفا پر دارومدار نہیں ہے، فإن الدنيا ظاهرة والعقبى باطنة، کیونکہ دنیا جو ہے وہ ظاہر ہے اور آخرت جو ہے وہ باطن ہے چھپی ہوئی ہے، ولكنها ترجحت على الدنيا، لیکن وہ ترجیح پا گئی ہے کس پر؟ دنیا پر، بقوة أثرها، اپنے اپنی قوتِ اثر کی وجہ سے، من حيث الدوام والصفاء، دوام اور صفا کی وجہ سے۔ دنیا تو فانی ہے، آخرت دائمی ہے بھئی، تو اس کو ترجیح ہے، اور دنیا میں میں اور اس کی نعمتوں میں وہ پاکیزگی اور صفا فائنیں جو آخرت کی نعمتوں کے اندر ہے بھئی۔ تو لہٰذا آخرت کیا ہے؟ تر تو ہمارے نزدیک دارومدار ظہور یا ظاہر ہونے پر یا باطن ہونے پر نہیں ہے، بلکہ اعتبار کس چیز کا ہے؟ قوتِ اثر کا ہے۔ ظاہر اور باطن سے کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ آپ نہیں دیکھتے کہ دنیا ظاہر ہے اور آخرت باطن ہے، لیکن پھر بھی باطن جو ہے اس کو کیا ہوئی؟ ظاہر پر ترجیح ہوئی قوتِ اثر کی وجہ سے اور وہ قوتِ اثر کیا؟ کہ آخرت ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، دنیا ختم ہو جانے والی ہے اور دنیا کے اندر وہ پاکیزگی نہیں جو کس کے اندر ہے؟ آخرت میں اور جنت کے اندر ہے بھئی۔ امثلتہ کثیرہ یاد رکھیے، یہ پہلی قسم تھی۔ یہاں پر کس کو ترجیح دی ہم نے؟ استحسان کو۔ کس پر ترجیح دی؟ قیاس جلی پر۔ یاد رکھیے اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔ جگہ جگہ آپ کو اس کی مثالیں ملیں گی کتابوں میں جہاں استحسان کو قیاس جلی پر ترجیح ہوگی۔ قیاس جلی۔ اس کے مقابلے میں آگے دوسری قسمیں بیان ہوں گی استحسان کی بھی اور قیاس جلی کی بھی اور وہاں قیاس جلی کو ترجیح ہوگی۔ اور یاد رکھنا، قیاس جلی کو استحسان پر جو ترجیح ہے، وہ صرف بائیس مسئلے ہیں، بائیس مسئلے بھئی۔ جہاں پر کس کو ترجیح ہے؟ قیاس جلی کو جہاں ترجیح ہے، کس پر؟ استحسان پر اور علماءِ محققین لکھتے ہیں کہ صرف بائیس مسائل ایسے ہیں جہاں پر قیاس جلی کو ترجیح دی گئی اور استحسان کو چھوڑ دیا گیا، کیونکہ استحسان کی گہرائی میں گئے تو وہ کیا معلوم ہوا؟ پتہ چلا وہ فاسد ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو وہ صرف بائیس مسائل ہیں جہاں قیاس جلی کو ترجیح دی گئی قیاس خفی پر، جبکہ قیاس خفی کو ترجیح دی گئی ہو کس پر؟ قیاس جلی پر، اس کی بے شمار مثالیں ہیں۔ کہتے ہیں "وامثلتہ کثیرہ" اور اس کی مثالیں بہت زیادہ ہیں، یعنی جس میں استحسان کو ترجیح ہو کس پر؟ قیاس جلی پر۔ "منہا سور سباع الطیر المذکور آنفاً" اور اس میں سے ایک مثال کیا ہے؟ وہ جو چیرنے پھاڑنے والے پرندوں کے کا جھوٹا ہے "المذکور آنفاً" جس کو ابھی ذکر کیا گیا۔ اوپر بھئی ذکر ہوا تھا بھئی کہ پرندوں کا جو چیرنے پھاڑنے والے پرندے ہیں، قیاس تقاضا کرتا تھا ان کے جھوٹے کو کیا قرار دیا جائے؟ ناپاک قرار دیا جائے اور استحسان نے یعنی قیاس خفی نے آ کر کیا بتلایا؟ کہ پاک قرار دیا جائے، کیونکہ یہ کس کے ذریعے پیتے ہیں؟ چونچ کے ذریعے اور چونچ تو ہڈی ہے، اس میں تو نجاست سرایت نہیں کرتی، لہٰذا ان کا جھوٹا کیا ہونا چاہیے؟ تو دیکھو وہاں کس کو ترجیح دی تھی؟ استحسان کو یعنی قیاس خفی کو۔ آنفاً یاد رکھیے۔ آنفاً آنفاً کا معنیٰ ہے ابھی۔ اردو میں اس کا ترجمہ ابھی کریں گے، لیکن یاد رکھو اردو کا ابھی دو قسم پر ہے۔ ایک وہ ابھی جو زمانہ حال میں ہو۔ کون سا ابھی؟ زمانہ حال۔ آپ سے کوئی پوچھتا ہے: آپ کیا کر رہے ہیں اس وقت؟ آپ کہتے ہیں: میں ابھی پڑھ رہا ہوں۔ ابھی کیا کر رہا ہوں؟ یہ کون سا ابھی ہے؟ زمانہ حال والا۔ اور ایک ابھی ہے اردو ہی اردو کے اندر ابھی ہی اس کو کہتے ہیں، لیکن وہ زمانہ ماضی والا ہوتا ہے تھوڑا تھوڑا پہلے۔ آپ سے کوئی پوچھے: زید کب گیا؟ آپ کہتے ہیں: ابھی ابھی گیا۔ کیا معنیٰ؟ یہ حال والا ابھی ہے یا ماضی؟ تھوڑا سا ابھی یعنی اس سے پہلے بھئی۔ تو اردو میں تو دونوں کے لیے ابھی کا لفظ ہے، لیکن عربی میں الگ لفظ ہیں بھئی۔ حال والا ابھی ہو تو اس کے لیے ہے "الآن" بھئی، الآن ابھی۔ اور وہ جو تھوڑا وقت پہلے ماضی والا ابھی ہے، اس کے لیے "آنفاً" ہے بھئی، آنفاً۔ تو کہتے ہیں "منہا سور سباع الطیر المذکور آنفاً" کہتے ہیں اس کی میں سے ایک جو ہے وہ پرندوں کے وہ چیرنے پھاڑنے والے پرندوں کا جھوٹا جو ابھی ذکر کیا گیا "فان الاستحسان فیہ قوی الاثر" پس استحسان جو ہے اس کے اندر وہ قوی الاثر ہے، اس کا اثر قوی ہے "ولذا یقدم علی القیاس کما حررتہ" اور اسی وجہ سے وہ مقدم ہوگا قیاس پر جیسے کہ میں نے لکھا "وفی ہذا اشارہ" اور اس کے اندر اشارہ ہے "الی ان العمل بالاستحسان" کہ استحسان پر عمل کرنا "لیس بخارج من الحجج الاربعۃ" یہ چار دلیلوں میں سے خارج نہیں ہے۔ ہم کس پر بعض اوقات عمل کرتے ہیں؟ استحسان پر۔ تو یہ بتلا رہے ہیں کہ ماتن جو عبارت لے کر آئے اس میں اس بات کی طرف اشارہ کر دیا انہوں نے کہ یہ جو استحسان ہے، چار دلیلوں سے باہر نہیں ہے، یہ انہی میں سے ایک دلیل ہے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ بھئی دلیلیں چار ہیں نا: قرآن، حدیث، اجماع اور اور قیاس۔ تو اوپر جو عبارت لے کر آئے "والاستحسان الذی ہو قیاس خفی" اور وہ استحسان جو کیا ہے؟ قیاس خفی ہے، معلوم ہوا استحسان بھی قیاس ہی کا نام ہے، تو یہ چوتھی قسم ہی میں داخل ہے، اس سے خارج نہیں۔ تو آپ یہ نہ کہیں کہ احناف نے تو بعض جگہ ایک پانچویں چیز کو بھی دلیل بنا لیا بنا لیا اور وہ کیا ہے؟ استحسان ہے، بلکہ یہ قیاس ہی ہے، یہ قیاس خفی ہے اور اسی کے لیے اسی وجہ سے ماتن نے کیا ذکر کیا "وہو قیاس خفی"۔ تو یہ جو قیاس خفی انہوں نے کہا، اس میں اشارہ ہے "الی ان العمل بالاستحسان" کہ استحسان پر عمل کرنا "لیس بخارج من الحجج الاربعۃ" یہ چار دلیلوں سے خارج نہیں ہے "بل ہو نوع اقویٰ للقیاس" بلکہ یہ قیاس کی زیادہ قوی قسم ہے، قیاس کی زیادہ قوی قسم ہے "فلا طعن علی ابی حنیفۃ رحمہ اللہ" لہٰذا امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر یہ طعن، یہ اعتراض نہیں کیا جا سکتا "فی انہ یعمل بما سوى الادلتہ الاربعۃ" کہ وہ عمل کرتے ہیں چار دلیلوں کے علاوہ پر۔ وہ کس پر؟ ان پر یہ اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ وہ تو بعض جگہ استحسان پر عمل کرتے ہیں، چار اور استحسان تو پانچویں قسم بن گئی، تو چار دلیلوں کے علاوہ پر وہ عمل کر رہے ہیں۔ جواب گزر گیا کہ استحسان کوئی الگ چیز ہے ہی نہیں، یہ کیا ہے؟ یہ قیاس ہی ہے بس، البتہ یہ ذرا خفی ہے بھئی۔ جی، یہ پہلی قسم بیان ہو گئی جس میں استحسان کو ترجیح تھی۔ اب دوسری قسم "وقدمنا القیاس" اور ہم نے قیاس کو مقدم کیا بھئی، یہ دوسری قسم میں کون مقدم ہوتا تھا؟ قیاس جلی۔ "وقدمنا القیاس" اور ہم نے قیاس جلی کو مقدم کیا "لصحۃ اثرہ الباطنی" بوجہ اس کے باطنی اثر کے صحیح ہونے کے۔ دوسری قسم میں کیا تھا؟ قیاس قیاس کی دوسری قسم کیا تھی؟ ظاہراً فاسد معلوم ہو، لیکن گہرائی میں گئے تو صحیح، وہی بات تو بیان کر رہے ہیں "لصحۃ اثرہ الباطنی" بوجہ اس کے باطنی اثر کے صحیح ہونے کے۔ تو اس قیاس کو ہم نے مقدم کیا "علی الاستحسان" کس پر؟ اس استحسان پر "الذی ظهر اثرہ" جس کا اثر تو ظاہر ہے "وخفی فسادہ" اور اس کا فساد خفی ہے بھئی۔ "کما اذا تلا آیۃ السجدۃ" جیسے کہ تلاوت کی کسی شخص نے آیت سجدہ "فی صلاتہ" اپنی نماز میں "فانہ یرکع بہا قیاساً" پس یہ اس کے کی وجہ سے کیا کرے گا؟ رکوع کرے گا قیاساً، قیاس کے یہ تقاضا کرتا ہے "وفی الاستحسان لا یجزئہ" اور استحسان کے اعتبار سے یہ کافی نہیں۔ استحسان یہ کہتا ہے کہ یہ کافی نہیں۔ بھئی مسئلہ آپ جانتے ہیں کہ آیت سجدہ تلاوت کی جائے یا آیت سجدہ کوئی سن لے تو اس پر سجدہ واجب ہو جاتا ہے اور نماز سے باہر ہے تو پھر وہ ایک سجدہ کر لے، سجدہ کر لے اور اگر نماز میں کوئی شخص آیت سجدہ تلاوت کر لے، تو ایک طریقہ تو یہ ہے کہ جیسے آیت سجدہ پوری کرے، اسی وقت سیدھا سجدے میں چلا جائے اور پھر سجدے سے سیدھا واپس کھڑا ہو جائے اور پھر آگے تلاوت شروع کر دے، اور دوسرا طریقہ یہ کہ آیت سجدہ پوری کرتے ہی رکوع میں چلا جائے اور اس رکوع کے اندر رکوع کے ساتھ ساتھ آیت سجدہ کے سجدے کی بھی نیت کر لے۔ اس کے سجدے کی بھی کیا کر لے؟ نیت کر لے یعنی تداخل کر دے رکوع میں اور آیت سجدہ کے سجدے میں، دونوں میں کیا کر دے؟ تداخل، تو یہ سجدہ کس میں ادا ہو جائے گا؟ رکوع ہی میں ادا ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ بات تو آپ کو علم ہے ہی پہلے سے بھئی، رمضان میں حفاظ عموماً یوں کرتے رہتے ہیں، رکوع کے اندر ہی سجدے کی نیت کر لیتے ہیں۔ اب دیکھیے یہاں اس کی تقریر یاد رکھنا بھئی، ایک تقریر میں بیان کر دیتا ہوں، ایک تقریر پھر شارح کریں گے، تھوڑا سا فرق ہوگا زیادہ نہیں، لیکن میری تقریر یاد رکھیں، زیادہ آسانی سے بات آپ کو یاد رہے گی۔ ہم کون سی قسم پڑھ رہے ہیں؟ دوسری قسم۔ استحسان کی بھی دوسری قسم آئے گی، قیاس کی بھی دوسری قسم آئے گی اور استحسان کی دوسری قسم کیا تھی؟ ظاہر صحیح نظر آئے، گہرائی میں گئے تو فاسد۔ اور قیاس کی دوسری قسم کیا تھی؟ ظاہراً فاسد، گہرائی میں گئے تو صحیح۔ اب دیکھیے، یہ قیاس جو ہے قیاس، قیاس کا ظاہر یہ بتلاتا ہے کہ یہ یہ سجدہ جو ہے، رکوع میں ادا نہیں ہونا چاہیے۔ قیاس کا ظاہر کیا بتلاتا ہے؟ یہ سجدہ رکوع میں ادا نہیں ہونا چاہیے۔ وجہ یہ کہ دیکھو، رکوع میں بھی جھکنا ہے اور سجدے میں بھی جھکنا ہے، ہاں سجدے میں ذرا زیادہ جھکنا ہے، رکوع میں تھوڑا کم جھکنا ہے۔ تو دونوں کے اندر جھکنا پایا گیا یا نہیں پایا گیا؟ پایا گیا۔ تو قیاسِ جلی کا کا ظاہر بتلاتا ہے، ظاہر بتلاتا ہے بھئی، توجہ سے سننا بھئی۔ قیاسِ جلی کا ظاہر بتلاتا ہے کہ یہ سجدہ رکوع میں ادا نہیں ہونا چاہیے، اس لیے کیونکہ دونوں اگرچہ ایک جیسے ہیں، رکوع میں بھی جھکنا، سجدے میں بھی جھکنا، ہاں یہ ہے سجدے میں ذرا زیادہ جھکنا ہے۔ تو صرف جھکنے کی بناء پر دونوں ایک دوسرے جیسے ہیں، یہ سجدہ بھی کس کی طرح ہوا؟ رکوع کی طرح ہوا، لہٰذا رکوع میں کیا ہونا چاہیے؟ ادا ہونا چاہیے، کہتے ہیں ظاہراً یہ فاسد ہے بھئی۔ قیاسِ جلی بتلاتا ہے ظاہراً یہ کیا ہے؟ کیونکہ چلو ٹھیک ہے دونوں کی صورت ایک جیسی ہے، رکوع میں بھی جھکنا، سجدے میں بھی، لیکن صرف صورت ایک جیسی ہونے پر شرعی حکم نہیں لگایا جا سکتا بھئی۔ تو قیاسِ جلی کا ظاہر کیا بتلاتا ہے؟ کہ ظاہر یہ سجدہ رکوع میں ادا نہیں ہونا چاہیے بھئی، یہ ظاہر بتلاتا ہے قیاسِ جلی کا۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ پھر سنو بھئی۔ قیاسِ جلی کا ظاہر بتلاتا ہے کہ یہ سجدہ رکوع میں ادا نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ حکم اگر آپ لگاتے ہیں کہ یہ سجدہ رکوع میں ادا ہو جائے گا صرف ان کی ظاہری صورت کی بناء پر کیونکہ رکوع میں بھی جھکنا ہے، سجدے میں ذرا زیادہ جھکنا ہے، تو دونوں میں جب جھکنا پایا گیا تو سجدے کو ادا ہو جانا چاہیے رکوع میں، یہ ظاہراً فاسد ہے بھئی، کیونکہ صرف مشابہتِ صوری کی بناء پر شرعی حکم نہیں لگایا جا سکتا، لیکن جب ہم ذرا گہرائی میں گئے، ہم نے غور کیا کہ جس طرح جس طرح رکوع کے اندر اللہ کی تعظیم ہے، اسی طرح یہ جو سجدہ تلاوت واجب کیا گیا، یہ بھی اللہ کی تعظیم کے لیے واجب کیا گیا بھئی، کس لیے واجب کیا گیا؟ اللہ کی تعظیم کے لیے، تو رکوع میں جس طرح اللہ کی تعظیم کا اظہار ہے، اسی طرح سجدہ تلاوت میں بھی اللہ کی تعظیم کا اظہار ہے، لہٰذا اس کو ادا ہو جانا چاہیے۔ اس کو کیا ہونا چاہیے؟ کیونکہ رکوع جیسے اللہ کی تعظیم جیسے وہ سجدہ تلاوت اللہ کی تعظیم کے لیے تھا، یہ رکوع بھی کس لیے ہے؟ اللہ کی تعظیم کے لیے ہے، لہٰذا اس کو ادا ہو جانا چاہیے رکوع میں، یہ قیاسِ جلی کے باطن نے بتلایا کہ اس کو ادا ہونا چاہیے بھئی اور یہ صحیح ہے، یہ کیا ہے؟ صحیح، کیونکہ یہ سجدہ تلاوت کس لیے واجب ہے؟ اللہ کی تعظیم کے اظہار کے لیے، اور اللہ کی تعظیم کا اظہار ہی رکوع کے اندر بھی مقصود ہے، تو لہٰذا دونوں کا مقصد ایک ہی ہوا، لہٰذا اس رکوع کے اندر سجدہ تلاوت کو ادا ہو، یہ قیاسِ جلی کا باطن ہے اور یہ درست ہے بھئی۔ قیاسِ جلی کا ظاہر تو کیا تھا؟ کہ صرف مشابہتِ صوری پر یہ ادا نہیں ہونا چاہیے، صرف صورتیں ایک جیسی ہیں، صورت ایک جیسی ہونے پر شرعی حکم نہیں لگایا جا سکتا، لیکن وہ ظاہر کیا تھا؟ فاسد تھا، کیونکہ ہم گہرائی میں گئے تو پتہ چلا کہ اس کو کیا ہونا چاہیے؟ ادا ہو جانا چاہیے، کیونکہ وہ سجدہ تلاوت اللہ کی تعظیم کے لیے تھا، تو یہ رکوع بھی کس لیے ہے؟ اللہ کی تعظیم کے لیے ہے بھئی، اللہ کی تعظیم کے لیے ہے، چنانچہ اسی وجہ سے سجدے پر رکوع کے لفظ کا اطلاق ہوا ہے قرآن میں بھی بھئی۔ سجدے پر رکوع کے لفظ کا اسی وجہ سے اطلاق بھی ہوا ہے بھئی، قرآن میں آتا ہے "وخر راكعا واناب" "وخر راكعا واناب" اور حضرت داؤد علیہ السلام سجدے میں گر پڑے اور اللہ کی طرف رجوع کیا بھئی۔ یہاں آپ تفاسیر اٹھائیں گے تو یہی ملے گا آپ کو، وہ سجدے میں گر پڑے، معلوم ہوا رکوع بول کر کیا مراد ہے؟ سجدہ مراد ہے، اسی وجہ سے کیونکہ مقصود کیا ہے؟ اللہ کی تعظیم ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آئی؟ یہ قیاسِ جلی کا ظاہر کس طرح فاسد ہے اور قیاسِ جلی کا باطن کس طرح صحیح ہے، یہ بیان کیا۔ اب استحسان کا سنو بھئی، استحسان کی دوسری قسم کیا تھی کہ ظاہراً صحیح ہو اور باطناً فاسد۔ استحسان بتلاتا ہے، اس کا ظاہر بتلاتا ہے کہ یہ ادا نہیں ہونا چاہیے یہ سجدہ رکوع کے اندر۔ قیاس کرتے ہوئے بھئی نماز کے سجدے پر، جیسے نماز کے اندر ایک ہے رکوع، ایک ہے سجدہ، کیا رکوع کے اندر اسی سجدے کی نیت کر لو، ادا ہو جائے گا نماز والا سجدہ؟ نہیں، جیسے نماز کے اندر رکوع اس سجدے کا قائم مقام نہیں ہو سکتا، اسی طرح یہ رکوع اس سجدہ تلاوت کا بھی قائم مقام نہیں ہو سکتا بھئی۔ یہ رکوع سجدہ تلاوت کا بھی قائم مقام نہیں ہو سکتا، تو یہ سجدہ تلاوت رکوع میں ادا نہیں ہونا چاہیے، اس کو ہم کس پر قیاس کیا ہم نے؟ نماز کے سجدے پر، جیسے نماز کا سجدہ رکوع میں ادا نہیں ہوتا، اسی طرح یہ سجدہ تلاوت بھی رکوع میں ادا، تو اس سجدہ تلاوت کو ہم نے قیاس کیا کس پر؟ نماز کے سجدے پر، کس پر؟ نماز کا سجدہ ہوا مقیس علیہ، اور یہ سجدہ تلاوت کیا ہوا؟ مقیس، جیسے وہ مقیس علیہ یعنی نماز کا سجدہ رکوع میں ادا نہیں ہوتا، یہ سجدہ تلاوت بھی رکوع میں ادا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ استحسان کے ظاہر نے بتلایا، استحسان کے ظاہر نے بتلایا۔ لیکن ہم ذرا گہرائی میں گئے، تو پتہ چلا یہ استحسان فاسد ہے۔ گہرائی میں گئے، تو ہم نے غور کیا تو پتہ چلا بھئی، وہ جو نماز کا سجدہ تھا، اس پر آپ اس سجدہ تلاوت کو قیاس نہیں کر سکتے، یہ تو قیاس مع الفارق ہے، فارق مختلف الگ۔ ایک چیز کو اپنے جیسی چیز پر قیاس کیا جاتا ہے، اپنے سے مختلف چیز پر قیاس نہیں کیا جاتا، یہ آپ مختلف چیز پر اس کو قیاس کر رہے ہیں، یہ قیاس مع الفارق ہے، یہ سجدہ تلاوت اور چیز ہے، وہ نماز کا سجدہ اور چیز ہے، وہ تو باقاعدہ الگ مقصود ہے، مطلوب ہے۔ جس طرح نماز کا رکوع الگ مقصود ہے، اسی طرح نماز کا سجدہ بھی الگ مقصود ہے، اس کا باقاعدہ الگ حکم دیا گیا ہے، قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ركعوا وسجدوا۔ رکوع کا الگ حکم، سجدے کا الگ حکم دونوں الگ الگ مقصود ہیں، اس وجہ سے وہ نماز والا سجدہ رکوع کے اندر ادا نہیں ہوتا۔ جبکہ یہ والا سجدہ جو ہے، یہ سجدہ تلاوت والا، یہ تو اللہ کی تعظیم کے طور پر ہے بھئی، اللہ کی تعظیم کے طور پر مقصود ہے کہ جب یہ آیت پڑھو تو اللہ کی طرف سے حکم ہے میری تعظیم کا اظہار کرو۔ متکبرین کی طرح نہ بنو کہ اس موقع پر سجدہ نہ کرو۔ متکبرین یعنی مشرکین مکہ ہماری یہ آیتیں سن کر ان پر ایمان نہیں لاتے اور جہاں پر ہماری عظمت بیان ہوتی ہے وہاں پر ان کو سجدے میں گرنا چاہیے، لیکن وہ سجدے میں نہیں گرتے۔ تو تم ان متکبرین کی مخالفت کرو۔ یہ جو ہماری عظمت والی آیت جب آ جائے تو تم کس میں گر جاؤ؟ میری تعظیم کا اظہار کرو اور متکبرین کی کیا کرو؟ مخالفت کرو بھئی۔ تو لہذا یہ سجدہ تلاوت، اس کے لیے مقصود کیا ہے؟ اللہ کی تعظیم، یعنی متکبرین کی مخالفت مقصود ہے۔ اور یہ مقصد رکوع میں بھی حاصل ہو جاتا ہے۔ کس میں حاصل ہو جاتا ہے؟ رکوع میں بھی حاصل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ عادتاً رکوع میں جانا اس کو عاجزی سمجھا جاتا ہے یا نہیں بھئی؟ رکوع میں جانے کو کیا سمجھا جاتا ہے؟ عاجزی سمجھا جاتا ہے، عاجزی۔ تو لہذا رکوع کا مقصد بھی عاجزی اور اللہ کی تعظیم کا اظہار، بھئی عاجزی کا اظہار اور سجدہ تلاوت کا بھی یہی مقصد، لہذا یہ کیا ہونا چاہیے؟ یہ اس میں ادا ہو جانا چاہیے۔ کیا ہونا چاہیے؟ ادا ہو جانا چاہیے بھئی۔ ہاں البتہ پھر پھر بھئی اس پر سوال ہوتا ہے کہ بھئی تو نماز سے باہر بھی رکوع کر لے، اس میں سجدہ تلاوت کی نیت کر لے۔ لیکن اپ کہتے ہیں نماز سے باہر رکوع سے ادا نہیں ہوگا، باقاعدہ سجدہ کرنا پڑے گا۔ وجہ یہ کہ نماز کا رکوع جو ہے، وہ وہ عبادت فرمانا۔ اور نماز سے باہر رکوع عبادت نہیں ہے بھئی، نماز سے باہر تو رکوع عبادت نہیں ہے۔ تو وہ چونکہ عبادت ہے، اس لیے اس کے اندر تو سجدہ تلاوت ادا ہو جائے گا، لیکن باہر ویسے رکوع کیا جائے، اس کے لیے سجدہ تلاوت ادا نہیں ہوگا بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ استحسان کا ظاہر بتلا رہا تھا، قیاس کیا ہم نے اس کو نماز کے سجدے پر۔ تو استحسان کے ظاہر نے بتلایا جس طرح نماز کا سجدہ نماز کے رکوع میں نیت کر لو تو ادا نہیں ہوتا، الگ کرنا پڑے گا، تو لہذا سجدہ تلاوت کو بھی رکوع میں ادا نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن ذرا ہم گہرائی میں گئے تو پتہ چلا کہ یہ اپ کا استحسان فاسد ہے، فاسد ہے۔ کیونکہ یہ قیاس مع الفارق ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ قیاس مع الفارق ہے۔ نماز کا سجدہ تو الگ مقصود ہے، رکوع الگ مقصود ہے، جبکہ سجدہ تلاوت میں مقصود کیا ہے؟ اللہ کی تعظیم ہے اور یہ تعظیم رکوع کے اندر بھی یہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔ لہذا رکوع کے اندر بھی اس کو ادا ہو جانا چاہیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ تو تفصیل بیان ہوئی۔ خلاصہ کلام کیا ہوا؟ قیاس کا ظاہر بتلا رہا تھا، ادا نہیں ہونا چاہیے۔ قیاس کے باطن نے بتلایا کہ ادا ہو جانا چاہیے۔ استحسان کا ظاہر بتلا رہا تھا کہ ادا کہ ادا نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن گہرائی میں گئے تو پتہ چلا ہمارا یہ استحسان فاسد تھا بھئی، یہ کیا تھا؟ فاسد تھا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ قیاس ایک ظاہر تھا ایک خفی تھا۔ ظاہر نے قیاس قیاس ظاہر نے بتلایا ادا نہیں ہونا چاہیے۔ قیاس ظاہر نے بتلایا ادا نہیں ہونا چاہیے، صرف صورتاً مشابہت ہے، اور صورتاً مشابہت پر تو حکم نہیں لگایا جا سکتا۔ لیکن ہم گہرائی میں گئے تو پتہ چلا کہ یہ قیاس جلی کا ظاہر فاسد ہے کیا ہے؟ فاسد ہے۔ اور استحسان کے ظاہر نے کیا بتلایا؟ کہ ادا نہیں ہونا چاہیے کس پر قیاس کرتے ہوئے؟ نماز کے سجدے پر۔ لیکن ہم گہرائی میں گئے تو پتہ چلا ہمارا یہ استحسان فاسد ہے، فاسد ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب دیکھیے بھئی۔ کما اذا تلا آیت السجدۃ فی صلاتہ جیسے کہ تلاوت کی آیت سجدہ اپنی نماز میں، فانہ یرکع بھا قیاساً و فی الاستحسان لا یجزیہ تو وہ رکوع کرے گا اس کی وجہ سے قیاساً اور استحسان میں یہ کافی نہیں ہے۔ الاصل فی ہذا اصل اس کے اندر یہ ہے کہ انہ ان قرء آیت السجدۃ کہ اگر کوئی شخص پڑھ لے آیت سجدہ، فیسجد لھا کہ اس کے لیے پھر کیا کر لے؟ جہاں آیت سجدہ پڑھ لے، پوری کرتے ہی کہاں چلا جائے؟ سجدے میں، تو اس کے لیے پس وہ سجدہ کر لے۔ ثم یقوم پھر کیا کرے؟ پھر کھڑا ہو جائے فاقرء ما بقی پھر ما بقی قرات کرے بھئی اس کے بعد پڑھ لے، تلاوت کرے۔ ویرکع اذا جاء وانہ رکوع اور پھر رکوع کرے جس وقت رکوع کا وقت آ جائے۔ آیت سجدہ کے وقت پڑھتے ہی فورا کس میں چلا جائے ایک طریقہ؟ سیدھا سجدے میں چلا جائے اور پھر کھڑا ہو کر قرات شروع کر دے اور پھر جب رکوع آئے تو اپنے موقع پر کیا کر لے؟ رکوع کر لے۔ یہ ایک قسم۔ وان رکع فی موضع آیت السجدۃ اور اگر رکوع کر لیا آیت سجدہ کے مقام پر وینوی التداخلا اور نیت کس کی کر لی؟ تداخل کی۔ کس کے درمیان؟ بین رکوع الصلاۃ و سجدۃ التلاوۃ نماز کے رکوع میں اور سجدہ تلاوت میں۔ کما ھو المعروف بین الحفاظ جیسا کہ یہ معروف ہے کس کے درمیان؟ حافظوں کے درمیان۔ یجوز قیاساً تو یہ قیاس جائز ہے لا استحساناً نہ کہ استحسان۔ جی اب شارع تقریر کریں گے میں نے تفصیل بیان کر دی۔ کہتے ہیں وجہ القیاس قیاس کی وجہ یہ ہے کہ ان رکوع و سجود متشارحان کہ رکوع اور سجدہ کیا ہیں؟ دونوں آپس میں متشابہ ہیں بھئی۔ دونوں آپس میں متشابہ ہیں فی الخضوع کس کے اندر؟ خضوع جھکنے میں۔ رکوع اور سجدہ ایک دوسرے کے متشابہ ہیں جھکنے میں۔ ولھذا اطلاق رکوع علی السجود اور اسی وجہ سے اطلاق کیا گیا رکوع کا سجدے پر فی قولہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں وخر راکعاً و انابا حضرت داؤد علیہ السلام سجدے میں گر پڑے و انابا اور رجوع کیا۔ یہ تو تھی وجہ قیاس بھئی۔ اب وجہ الاستحسان استحسان کی وجہ یہ کہ ان امرنا بالسجود کہ ہمیں حکم دیا گیا ہے سجدے کر سجدے کا وھو غایۃ التعظیم اور وہ انتہائی درجے کی تعظیم ہے۔ والرکوع دونہ اور رکوع سے کم درجے کا ہے۔ ولھذا لا ینوب عنہ فی الصلوٰۃ اسی وجہ سے قائم مقام نہیں ہوگا یہ رکوع عنہ یعنی عن السجود کس سے؟ وہ نماز والے سجدے کے قائم مقام نہیں ہوگا فی الصلوٰۃ نماز میں۔ فکذا فی سجدۃ التلاوۃ اسی طرح کس میں ہے؟ سجدہ تلاوت میں۔ جب وہ نماز رکوع نماز والے سجدے کا قائم مقام نہیں ہو سکتا تو اسی طرح سجدہ تلاوت میں بھی ہے یہ اس کا بھی قائم مقام نہیں ہو سکتا۔ فھذا الاستحسان ظاہر اثرہ پس یہ جو استحسان ہے، اس کا اثر ظاہر ہے۔ ولاکن خفیاً فسادہ لیکن اس کا فساد خفی ہے، وھو اور وہ یہ کہ ان سجود فی التلاوۃ لم یشرع قربۃ مقصودۃ بنفسھا کہ سجدہ جو ہے، سجود یاد رکھیے مصدر ہے۔ کہ سجود سجدہ کرنا جو ہے، تلاوت میں لم یشرع قربۃ مقصودۃ بنفسھا وہ مشروع نہیں ہے قربت مقصودہ ہو کر اپنی ذات کے اعتبار سے۔ یہ جو سجدہ تلاوت ہے، یہ الگ کوئی قربت مقصودہ نہیں ہے، کوئی الگ عبادت نہیں ہے۔ وانما المقصود التواضع اور مقصود اس کے لیے صرف کیا ہے؟ تواضع مقصود ہے، یہ الگ عبادت نہیں، الگ قربت مقصودہ نہیں۔ تو اس کے لیے تواضع مقصود ہے، والرکوع فی الصلوٰۃ یعمل ھذا العمل اور رکوع نماز کے اندر یہ عمل کرتا ہے۔ یعنی اس کے لیے اللہ کے سامنے عاجزی کا اظہار ہے۔ لا خارجھا خارج میں یہ عمل عاجزی کا اظہار اس سے نہیں ہوتا۔ فلھذا لم نعمل بہ اسی وجہ سے ہم نے اس پر عمل نہیں کیا کس پر؟ اس استحسان پر۔ جس کا ظاہر تو صحیح تھا، لیکن باطن میں گئے تو وہ فاسد نکلا۔ اسی وجہ سے ہم نے اس کے استحسان پر عمل نہیں کیا بل عملنا بالقیاس المستترۃ صحتہ بلکہ ہم نے عمل کیا اس قیاس پر کہ پوشیدہ ہے جس کی صحت اس کا صحیح ہونا۔ وقلنہ اور کہا ہم نے یجوز اقامۃ رکوع مقام سجود التلاوۃ کہ جائز ہے رکوع کو قائم کرنا مقام سجود التلاوۃ کس کی جگہ پر؟ سجدہ تلاوت کی جگہ پر۔ بخلاف صلاۃ بخلاف صلاۃ کے فانہ رکوع فیھا مقصود علی حدۃ والسجود علی حدۃ وہاں پر رکوع علیحدہ مقصود ہے نماز میں اور سجدہ علیحدہ مقصود ہے، فلا ینوب احدھما عن الاخر تو پس ایک جو ہے وہ دوسرے کا قائم مقام نہیں بنے گا بھئی۔ یہاں تک تقریر سمجھ میں آ گئی۔ تیاس سے جلی نے کہا کہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ مشابہت صوری کی وجہ سے کوئی شرعی حکم نہیں لگایا جا سکتا۔ لیکن گہرائی میں گئے تو پتہ چلا قیاس جلی کا ظاہر فاسد ہے۔ اس نے تو کہا تھا کہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ کیا ہو؟ ادا ہونا چاہیے۔ اور استحسان کے ظاہر نے بتلایا کہ نہیں ادا ہونا چاہیے نماز کے سجدے پر قیاس کرتے ہوئے، لیکن ہم گہرائی میں گئے تو پتہ چلا یہ استحسان فاسد ہے کیونکہ یہ قیاس مع الفارق ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ثم المستحسن والقیاس الخفی تصح تادیته الی غیره پھر وہ جو مستحسن ہے یعنی وہ حکم جسے استحساناً ترجیح دی گئی وہ کیا ہوا؟ مستحسن۔ پھر وہ جو مستحسن ہے بالقیاس الخفی کس وجہ سے مستحسن ہے؟ قیاس خفی کی وجہ سے تصح تادیته الی غیره صحیح ہے اس مستحسن کو متعدی کرنا غیر کی طرف (یعنی اس حکم مستحسن کو غیر کی طرف متعدی کرنا بھی صحیح ہے)۔ توجہ ہے سبق کی طرف۔ استحسان کبھی قرآن کی وجہ سے ہوگا، کبھی احادیث کی وجہ سے، کبھی اجماع کی وجہ سے، کبھی ضرورت کی وجہ سے، اور کبھی قیاس خفی کی وجہ سے۔ بتلا یہ رہے ہیں، وہ استحسان اگر قیاس خفی کی وجہ سے ہے، کس کی وجہ سے؟ قیاس خفی کی وجہ سے ہے، تو اس حکم مستحسن کو جس کو ترجیح دی گئی ہے اس کو دوسری جگہ کی طرف متعدی کر متعدی بھی کر سکتے ہیں۔ کیا کر سکتے ہیں؟ دوسری جگہ کی طرف بھی متعدی کر سکتے ہیں، جیسے قیاس میں تھا بھئی، حکم اصل سے کس کی طرف ہم متعدی کرتے تھے؟ اسی طرح قیاس خفی کے اندر بھی اصل سے حکم کس کی طرف متعدی کر سکتے ہیں؟ فرع کی طرف۔ کیوں؟ کیوں متعدی کر سکتے ہیں؟ کیونکہ یہ بھی قیاس ہی ہے بھئی۔ وہ البتہ قیاس جلی ہے، تو یہ قیاس خفی۔ تو یہ قیاس ہی کی ایک قسم ہے، اور یہ زیادہ قوی قسم ہے، لہذا اس میں جب قیاس جلی کے اندر ہم کیا کر سکتے ہیں؟ حکم متعدی کر سکتے ہیں، تو اس میں بطریق اولیٰ متعدی کر سکتے ہیں۔ کون سے استحسان کی بات ہو رہی ہے؟ جو قیاس خفی کی وجہ سے ہو۔ ایک وہ استحسان بھی تھا جو آیت کی وجہ سے ہے یا حدیث کی وجہ سے ہے یا اجماع کی وجہ سے ہے یا ضرورت۔ وہاں نہیں متعدی کر سکتے۔ وہاں نہیں کر سکتے۔ قیاس خفی کی وجہ سے جو استحسان ہے وہاں تعدیہ کر سکتے ہیں۔ بھئی کیوں؟ جو آیت کی وجہ سے ہو یا حدیث کی وجہ سے ہو یا اجماع یا ضرورت کی وجہ سے وہاں حکم کو دوسری طرف متعدی کیوں نہیں کر سکتے؟ وجہ یہ کہ اس کو ان کو ہم نے استحسان کہا ہی کیوں تھا؟ کیونکہ ان کے مقابلے میں قیاس قیاس جلی تھا۔ کیا تھا؟ قیاس جلی۔ قیاس جلی وہاں دوسرے حکم کا تقاضا کر رہا تھا، اور آیت اور حدیث اور اجماع اور ضرورت دوسرے حکم کا تقاضا کر رہے تھے، تو وہ حکم تو ہے تھا ہی خلاف القیاس بھئی۔ وہ حکم کیا تھا؟ خلاف القیاس۔ ان کو ہم نے استحسان کیوں کہا تھا؟ کیونکہ ان کے مقابلے میں کیا آیا تھا؟ قیاس جلی، قیاس جلی مثلا حرمت کا تقاضا کر رہا تھا، لیکن آیت یا حدیث یا اجماع یا ضرورت وہ کس چیز کا تقاضا کر رہے تھے؟ حلت کا تقاضا کر رہے تھے تو ہم نے قیاس کو چھوڑ دیا اور ان کو ترجیح دے دی اور اس کا نام ہم نے استحسان اسی لیے تو رکھا کہ اس کی وجہ سے ہم نے کس کو چھوڑا ہے؟ قیاس جلی اس کے مقابلے میں تھا ہم نے اس کو چھوڑا اس لیے یہ استحسان ہے تو یہ جو حکم تھے یہ تو مطابق قیاس ہوئے یا خلاف القیاس ہوئے؟ یہ تو سارے کیا ہوئے؟ خلاف القیاس۔ جب یہ خلاف القیاس ہیں تو یہاں متعدی کیسے کریں گے بھئی؟ یہ کیا ہے؟ خلاف القیاس۔ متعدی حکم کو کہاں کرتے ہیں؟ جو عقل میں بھی آئے بھئی، جو سمجھ میں بھی آئے، جو خود خلاف القیاس حکم ہے اس کو متعدی نہیں ایک حکم عقل میں آتا ہے، مثلا شراب پر حرمت کا حکم کیوں لگایا گیا؟ نشے کی وجہ سے عقل میں علت آتی ہے اس کی، تو ہم یہ علت اور جگہ ملے گی تو وہاں بھی حکم لگا دیں گے بھئی۔ لیکن ایک حکم کی علت عقل میں آتی ہی نہیں ہے، اس کو کیسے متعدی کرو گے؟ عقل تو بتلا رہی تھی اس کو حرام ہونا چاہیے، لیکن باقی چیزوں نے بتلایا نہیں یہ کیا ہے؟ حلال۔ تو ہمیں نہیں سمجھ میں آ رہی کیوں حلال ہے؟ وجہ کیا ہے؟ عقل ہماری نہیں رہنمائی کر رہی اس طرف، تو وہ حکم ہے ہی خلاف القیاس تو اس کو متعدی بھی نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہتے ہیں ثم المستحسن بالقیاس الخفی تصح تادیته الی غیره پھر وہ حکم جو مستحسن ہے قیاس خفی کی وجہ سے صحیح ہے اس کو متعدی کرنا اپنے علاوہ کی طرف بھی لانه احد القیاسین اسی لیے کیونکہ وہ بھی دو قیاسوں میں سے ایک قسم ہے غایته انہ خفی یقابل الجلی زیادہ سے زیادہ یہ کہ وہ خفی ہے اور کس کے مقابلے میں ہے؟ جلی کے مقابلے میں ہے بخلاف الاقسام الاخر بخلاف دوسری اقسام کے (یعنی استحسان کی دوسری اقسام کے یعنی ما یکون بالنص او بالاجماع او بالضرورۃ یعنی وہ استحسان جو کس کی وجہ سے ہو؟ اثر یعنی قرآن اور حدیث کی وجہ سے، او بالاجماع یا اجماع کی وجہ سے یا ضرورت کی بنا پر) وہاں تادیہ نہیں ہوگا کیونکہ وہ معدولۃ عن القیاس اس لیے کیونکہ وہ قیاس کے طریقے سے کیونکہ وہ قیاس کے طریقے سے پھیرے گئے ہیں، وہ خلاف القیاس ہیں بھئی۔ من کل وجہ ہر اعتبار سے اور قیاس کی شرائط میں سے آپ نے ایک شرط پڑھی تھی کہ وہ حکم جس کو آپ متعدی کرنے لگے ہیں وہ خلاف القیاس نہیں ہونا چاہیے۔ وہ خلاف القیاس نہیں۔ تو یہ تو سارے خود خلاف القیاس ہیں، لہذا ان کو متعدی بھی نہیں کر سکتے۔ الا ترى کیا آپ دیکھتے نہیں ان الاختلاف فی الثمن کہ ثمن کے اندر اختلاف کرنا قبل قبض المبیع مبیع پر قبضہ کرنے سے پہلے لا یوجب یمین البائع یہ بائع کی قسم کو واجب نہیں کرتا قیاساً کس طریقے پر؟ قیاس کے اعتبار سے۔ ویوجبه استحساناً اور استحسان کے طور پر ثابت کرتا ہے۔ یاد رکھیے تفصیل مسئلہ بھئی۔ تفصیل مسئلہ یہ یہ بات پہلے بھی بیان ہو چکی کہ جب بائع اور مشتری کے درمیان اختلاف آ جائے ثمن میں یا مبیع میں یا دونوں کے اندر تو پھر دونوں کو قسم دی جائے گی اور پھر قاضی جب دونوں قسم اٹھا لیں گے تو قاضی بیع کو فسخ کر دے گا بھئی۔ قاضی کیا کرے گا؟ بیع کو یہاں صرف ایک ہی اختلاف کی صورت ذکر کر رہے ہیں، اگرچہ تینوں کا یہی حکم ہے۔ کہ ثمن کے اندر اختلاف آیا۔ بائع اور مشتری نے عقد کر لیا لیکن اب اختلاف ہے بائع کہتا ہے میں نے یہ گھڑی آپ کو پانچ سو میں بیچی ہے۔ مشتری کہتا ہے نہیں یہ گھڑی آپ نے مجھے چار سو میں بیچی ہے بھئی۔ تو کس میں اختلاف آیا؟ ثمن میں اختلاف آیا بھئی۔ اب اس میں دو صورتیں ہیں، یہ اختلاف مبیع پر قبضہ سے پہلے آیا ہوگا یا قبضے کے بعد آیا ہوگا۔ اگر مبیع پر قبضے سے پہلے یہ اختلاف آیا ہے، تو پھر قیاساً دونوں پر قسم آتی ہے بھئی۔ قیاساً دونوں پر قسم قسم آتی ہے۔ لہٰذا جب یہ قیاساً یہ حکم قیاس کے اعتبار سے صحیح ہے، تو اس حکم کو متعدی بھی کیا جا سکتا ہے دوسری طرف۔ کیونکہ قیاس بھی یہی بتلا رہا ہے، حکم بھی یہی ہے، لہٰذا اس حکم کو متعدی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ اختلاف آیا مبیع پر قبضے کے بعد، یعنی مشتری گھڑی پر قبضہ کر چکا ہے، اس کے بعد دونوں میں اختلاف آیا ثمن میں، تو پھر اس صورت کے اندر یاد رکھیے۔ یہ حکم خلاف القیاس ہے۔ دونوں کا قسم اٹھانا کیا ہے؟ خلاف القیاس ہے۔ لہٰذا اس صورت میں پھر اس حکم کو دوسری طرف متعدی نہیں کر سکتے۔ دوسری طرف متعدی نہیں کر سکتے۔ دیکھو پہلے صورت بنائیں۔ کون سی صورت؟ قبل القبض کس میں اختلاف آگیا؟ ثمن میں۔ مشتری کہتا ہے: ”میں نے یہ گھڑی آپ سے 400 میں خریدی، اسے میرے حوالے کرو۔“ بائع کہتا ہے: ”نہیں۔ یہ گھڑی میں نے آپ کو 500 میں بیچی ہے، 500 پہلے میرے حوالے کرو۔“ تو اب دیکھیے بھئی، قیاس کا ظاہر کیا بتلاتا ہے؟ قیاس کا ظاہر بتلاتا ہے کہ قسم صرف مشتری پر آنی چاہیے۔ قسم صرف کس پر آنی چاہیے؟ مشتری پر آنی چاہیے۔ کیونکہ یہاں پر مشتری منکر ہے، بائع منکر نہیں ہے۔ کس چیز کا منکر ہے مشتری؟ وہ زیادہ پیسوں کا۔ بائع کیا کہہ رہا ہے؟ 500 ہیں۔ مشتری کیا کہہ رہا ہے؟ 400 ہیں۔ تو بائع جو 500 کہہ رہا ہے، ان میں سے 400 تو مشتری بھی مان رہا ہے۔ یہ اوپر والا 100 جو ہے، یہ مشتری اس کا انکار کر رہا ہے اور بائع اس کا دعویٰ کر رہا ہے، اور قسم کس پر آیا کرتی ہے؟ انکار کرنے والے پر۔ لہٰذا کس پر قسم آنی چاہیے؟ مشتری پر آنی چاہیے، بائع پر نہیں؛ کیونکہ بائع کسی چیز کا انکار نہیں کر رہا۔ تو قیاس جلی بتلا رہا ہے کہ قسم صرف کس پر آنی چاہیے؟ مشتری پر، بائع پر نہیں آنی چاہیے۔ لیکن جب ہم ذرا گہرائی میں گئے، تو پتہ چلا قسم دونوں پر آنی چاہیے؛ کیونکہ دونوں من وجہ منکر ہیں۔ مشتری کی وجہ تو بیان ہو گئی؛ کیونکہ وہ زیادہ کا کیا کر رہا ہے؟ زائد کا انکار کر رہا ہے۔ کہتے ہیں بائع پر بھی قسم آنی چاہیے؛ اس لیے کیونکہ مشتری ہے مدعی اور بائع ہے منکر۔ بھئی کس چیز کا مدعی ہے مشتری؟ کہتے ہیں مشتری دعویٰ کر رہا ہے کہ کم پیسوں میں یہ مبیع میرے حوالے کر دو۔ بائع کہہ رہا ہے: ”نہیں۔ کم پیسوں میں تمہارے حوالے نہیں کروں گا۔“ دیکھو بائع بھی منکر ہے۔ بائع بھی کیا ہے؟ منکر ہے، اور منکر پر کیا آیا کرتی ہے؟ قسم آیا کرتی ہے۔ لہٰذا بائع پر بھی کیا آئے گی؟ قسم، اور مشتری پر بھی کیا آئے گی؟ قسم۔ تو یہ حکم جو ہم نے دونوں پر قسم... دونوں کو قسم کھلائی جائے اور دونوں قسم اٹھا لیں گے تو قاضی کیا کر دے گا؟ بیع کو فسخ۔ تو یہ جو دونوں پر قسم کا حکم لگایا، یہ خلاف القیاس ہے یا مطابق قیاس ہے؟ یہ مطابق قیاس ہے بھئی۔ ابھی بتلایا ہے نا دونوں من وجہ کیا ہیں؟ منکر۔ جب یہ مطابق قیاس ہے، تو اس حکم کو کیا کر سکتے ہیں؟ متعدی بھی کر سکتے ہیں۔ لہٰذا اگر دونوں کا... عقد کرنے والوں کا انتقال ہوا، تو یہی قسم جو تھی دونوں کی، یہ منتقل ہو جائے گی ان کے وارثوں کی طرف۔ ان کے دونوں... ان کے وارثوں کے... مشتری کے وارث، مشتری کی طرف سے قسم اٹھائیں گے اور بائع کے وارث، بائع کی طرف سے قسم اٹھائیں گے اور پھر اس بیع کو منسوخ کر دیا جائے گا۔ اسی طرح یہ حکم متعدی ہو جائے گا اجارے کی طرف بھی۔ ایک آدمی نے دوسرے سے مثلاً گاڑی کرائے پر لی بھئی۔ ابھی صرف عقد کیا ہے، گاڑی لی نہیں۔ وہاں بھی صورت کون سی تھی؟ بیع میں قبل القبض والی نا؟ اجارے میں بھی کون سی صورت ہے؟ قبل القبض، یعنی وہ... وہ... وہ نفع حاصل کرنے سے پہلے۔ تو یہاں پر بھی اگر دونوں میں اختلاف آگیا، کرائے پر دینے والا کہتا ہے کہ ”یہ گاڑی میں نے آپ کو ایک گھنٹے کے 2000 روپے طے ہوئے تھے، اتنے کرائے پر دی ہے۔“ اور وہ کیا کہتا ہے؟ کہ ”ایک گھنٹے کے 1500 طے ہوئے ہیں بھئی۔“ اور ابھی گاڑی اس نے لی نہیں بھئی، اس سے نفع اٹھایا نہیں ہے بھئی۔ تو یہاں پر بھی قبل استیفاء المعقود علیہ، معقود علیہ وصول کرنے سے پہلے اختلاف آگیا، تو یہاں پر بھی دونوں کو قسم دی جائے گی اور عقد کو فسخ کر دیا جائے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ بھئی یہی بیان کر رہے ہیں، دیکھیے بھئی۔ الا ترى ان الاختلاف في الثمن قبل قبض المبيع لا يوجب يمين البائع قياسا ويوجبه استحسانا. کہ آپ دیکھتے نہیں کہ جو اختلاف ہے ثمن میں قبل قبض المبيع، مبیع پر قبضے سے پہلے، لا يوجب يمين البائع، یہ ثابت نہیں کرتا بائع کی... بائع کی قسم کو ثابت نہیں کرتا، قياسا، قیاس کے اعتبارِ قیاس کے، ويوجبه استحسانا، اور اس بائع کی قسم کو ثابت کرتا ہے کس طریقے پر؟ استحسان کے طریقے پر۔ فانه اذا اختلفا في الثمن، اس وجہ سے کہ جب دونوں نے اختلاف کیا ثمن کے اندر، بدون قبض المبيع، مبیع پر قبضہ کیے بغیر ہی، بان قال البائع بعتها بالفين، بائع اس طور... اس صورت کہ بائع نے کہا: ”میں نے اس کو بیچا ہے دو ہزار کے بدلے۔“ وقال المشتري اشتريتها بالف، اور مشتری نے کہا کہ ”میں نے اس کو خریدا ہے ہزار کے بدلے۔“ فالقياس ان لا يحلف البائع، تو قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ بائع جو ہے وہ قسم نہ اٹھائے، لان المشتري لا يدعي عليه شيئا، اس لیے کیونکہ مشتری اس پر کسی چیز کا دعویٰ نہیں کر رہا، حتى يكون هو منكرا، یہاں تک کہ بائع کیا بنے؟ منکر بنے، پھر اس پر کیا آئے؟ قسم۔ قسم تو منکر پر ہی آتی ہے، تو یہاں مشتری کسی چیز کا مدعی ہی نہیں ہے۔ فينبغي ان يسلم المبيع الى المشتري، پس مناسب بائع کے لیے یہی ہے کہ وہ مبیع کس کے سپرد کر دے؟ مشتری کے سپرد کر دے، ويحلفه، اور اس سے قسم اٹھوا لے، على انکار الزيادة، اس زیادت کے انکار پر۔ یہ تو قیاسِ جلی بتلا رہا تھا، اور گہرائی میں گئے، قیاسِ خفی نے کیا بتلایا؟ کہ دونوں پر قسم ہے بھئی۔ ولكن الاستحسان، لیکن استحسان جو ہے، ان يتحالفا، کہ دونوں کیا کریں؟ قسم اٹھائیں، لان المشتري يدعي عليه وجوب تسليم المبيع عند نقد الاقل، اس لیے کیونکہ مشتری اس پر دعویٰ کر رہا ہے مبیع کے سپرد کرنے کے وجوب کا۔ مشتری اس پر کیا دعویٰ کر رہا ہے؟ کہ مبیع سپرد کرنا واجب ہے، عند نقد الاقل، اقل پیسوں کی ادائیگی پر ہی۔ بائع تو 2000 کہہ رہا تھا، یہ کتنے کہہ رہا ہے؟ 1000۔ تو یہ اقل کی ادائیگی پر ہی کیا کہہ رہا ہے؟ مبیع کا سپرد کرنا واجب ہونا چاہیے، والبائع ينكره، اور بائع اس کا انکار کر رہا ہے، تو بائع بھی منکر ہوا۔ والبائع يدعي عليه زيادة الثمن، اور بائع اس مشتری پر زیادتِ ثمن کا دعویٰ کر رہا ہے، والمشتري ينكره، اور مشتری اس کا انکار کر رہا ہے، فيكونان مدعيين من وجه ومنكرين من وجه، تو دونوں مدعی ہوئے من وجہ اور منکر بھی ہوئے من وجہ۔ دونوں مدعی بھی ہیں اور دونوں منکر بھی ہیں۔ فيجب الحلف عليهما، پس قسم واجب ہو گئی ان دونوں پر، فاذا تحالفا فسخ القاضي البيع، تو جب دونوں قسم اٹھا لیں گے تو قاضی بیع کو فسخ کر دے گا۔ وهذا الحكم... بھئی یہ ھذا الحكم ہونا چاہیے۔ ھذا الحكم بھئی۔ وهذا حكم... بھئی تو یہ سب کی کتابوں میں حکم ہے؟ اس کو الحكم کر دیں بھئی، الحكم۔ اس کو الحكم کر دیں، اور یاد رکھیے یہ الحكم متن کا حصہ نہیں ہے، صرف یہ ھذا، یہ متن کا حصہ ہے، یہ متن ہے۔ جبکہ الحكم یہ شرح کا حصہ ہے بھئی، شرح کا حصہ ہے۔ شارح مشار الیہ بیان کر رہے ہیں: ھذا سے کیا مراد ہے؟ کس کی طرف اشارہ ہے؟ حکم کی طرف، تو یہ الحكم مشار الیہ بتلایا انہوں نے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور ترکیب کے اعتبار سے یہ صفت ہے بھئی ھذا کی۔ اور آگے اس کی تفصیل بھی بیان کر دی، کون سا حکم؟ اي تحالفهما جميعا من حيث القياس الخفي، یعنی ان دونوں کا قسم اٹھانا قیاسِ خفی کے اعتبار سے۔ آگے کیا ہے؟ حكم معقول يتعدى الى الوارثين، یہ جو حكم آیا یہ متن کا حصہ ہے، صرف حكم لفظ جو ہے۔ حكم۔ اور یہ معقول یہ بھی شرح کا حصہ ہے۔ آگے ہے يتعدى الى الوارثين، یہ يتعدى الى الوارثين یہ سارا متن ہے بھئی۔ متن کی اصلاح کر لی بھئی؟ متن کیا بن گیا؟ هذا حكم يتعدى الى الوارثين. تو ھذا الحكم، یہ جو حکم ہے، یعنی ان دونوں کا... بائع اور مشتری دونوں کا قسم اٹھانا قیاسِ خفی کے اعتبار سے، حكم معقول، یہ ایک معقول حکم ہے، یعنی عقل میں آنے والا حکم ہے، يتعدى الى الوارثين، جو متعدی ہوتا ہے وارثوں کی طرف بھی۔ معنی سمجھ میں آگیا اچھی طرح بھئی؟ جی، تو یہ حکم جو ہے، یعنی دونوں کا قسم اٹھانا اس حیثیت سے، کس حیثیت سے؟ قیاسِ خفی کی حیثیت سے، حكم معقول، یہ ایک حکمِ معقول ہے، عقل میں آنے والا ہے، يتعدى الى الوارثين، یہ متعدی ہوگا کس کی طرف؟ ان کے وارثوں کی طرف، بان مات البائع والمشتري جميعا، اس صورت کہ مر جائیں بائع اور مشتری دونوں، واختلف وارثاهما في الثمن، اور اختلاف کیا ان دونوں کے وارثوں نے ثمن میں، قبل قبض المبيع، مبیع پر قبضے سے پہلے، على الوجه الذي قلنا، اسی طریقے پر جو ہم نے بیان کیا، فيتحالفان، دونوں کیا کریں گے؟ قسم اٹھائیں گے، ويقضي القاضي... ويقضي... ويفرغ القاضي البيع... ويفسخ القاضي البيع، اور قاضی بیع کو فسخ کر دے گا، كما كان هذا في المورثين، جیسے کہ یہ کس کے اندر تھا؟ مورث، جو... جن کا انتقال ہوا بھئی، وہ مورث اور یہ وارث۔ جیسے کہ مورثوں میں دونوں پر قسم آنے کے بعد قاضی کیا کرتا تھا؟ بیع فسخ، اسی طرح وارثوں میں بھی ہو گا۔ اور اسی طرح یہ حکم متعدی ہو گا، وال... او الاجارة ہے؟ او نہیں ہونا چاہیے، یہ واؤ ہے بھئی، والاجارة، اور اسی طرح یہ حکم متعدی ہوگا اجارہ کی طرف بھی، اي يتعدى حكم البيع الى الاجارة، یعنی یہ بیع کا حکم متعدی ہوگا کس کی طرف؟ اجارے کی طرف بھی، بان اختلف الموجر والمستاجر، اس صورت... اس صورت کہ اختلاف کیا موجر، کرایہ پر دینے والا، مستاجر، کرایہ پر لینے والا، تو موجر اور مستاجر نے اختلاف کیا، في مقدار الاجرة، کس چیز کے اندر؟ اجرت کی مقدار میں، قبل قبض المستاجر الدار، مستاجرِ دار پر قبضے سے پہلے۔ مستاجر کون تھا؟ کرائے پر لینے والا۔ مستاجَر، وہ چیز جس کو کرائے پر لیا گیا ہے، الدار بھئی۔ قبل قبض المستاجر الدار، مستاجرِ دار پر قبضے سے پہلے، فيتحالف كل واحد منهما، تو ان دونوں میں سے ہر ایک قسم اٹھائے گا، وتفسخ الاجارة، اور اجارے کو فسخ کر دیا جائے گا، لدفع الضرر، ضرر کو دور کرنے کے لیے، وعقد الاجارة يحتمل الفسخ، اور عقدِ اجارہ وہ فسخ کا بھی... عقدِ اجارہ فسخ کیا جا سکتا ہے یا نہیں بھئی؟ عقدِ اجارہ فسخ کیا جا سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ بعض عقد چیزیں ایسی ہیں جو فسخ کو قبول نہیں کرتی ہیں، مثلاً نکاح ہے، وہ فسخ کو قبول نہیں... جبکہ بیع اور اجارہ کیا ہیں؟ فسخ کو قبول کر لیتے ہیں، اس لیے بھئی اس کو پھر فسخ کر دیا جائے گا۔ فاما بعد القبض، اب دوسری صورت ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: باقی قبضے کے بعد، فلم تجب يمين البائع، ثابت نہیں ہوگی بائع کی قسم بھئی۔ بائع کی قسم ثابت نہیں ہوگی، الا بالاثر، پس ثابت نہیں ہوئی بائع کی قسم الا بالاثر، مگر کس کی وجہ سے؟ اثر، یعنی حدیث کی وجہ سے، فلم تصح تعديته، لہٰذا اس کو متعدی کرنا بھی صحیح نہیں، يعني اذا اختلف البائع والمشتري في مقدار الثمن بعد قبض المشتري المبيعة، یعنی جب اختلاف کیا بائع نے اور مشتری نے في مقدار الثمن، کس چیز میں؟ ثمن کی مقدار میں، بعد قبض المشتري المبيعة، بعد اس کے کہ جب مشتری نے قبضہ کر لیا کس پر؟ مبیع پر، فحينئذ كان القياس، تو اس وقت قیاس جو ہے، من كل الوجوه، ہر اعتبار سے وہ یہ ہے، ان يحلف المشتري فقط، کہ صرف کون قسم اٹھائے؟ مشتری، لانه ينكر زيادة الثمن، اس لیے کیونکہ وہ انکار کر رہا ہے اس ثمن کے زیادتی کا، الذي يدعيه البائع، جس کا دعویٰ کون کر رہا ہے؟ بائع کر رہا ہے، ولا يدعي على البائع شيئا، لیکن یہاں مشتری بائع پر کسی چیز کا مدعی نہیں ہے۔ بھئی قسم تو تبھی آتی تھی نا جب دونوں کیا ہوں؟ من وجہ منکر ہوں، دونوں مدعی بھی ہیں تو دونوں من وجہ منکر بھی ہیں۔ یہاں مشتری تو منکر ہے، بائع منکر نہیں۔ مشتری کس چیز کا منکر ہے؟ وہ زائد پیسوں کا منکر ہے، اور پیچھے بائع کس چیز کا منکر تھا؟ مشتری کہہ رہا تھا کہ ”یہ مبیع اقل قیمت میں میرے حوالے کرو۔“ وہ کہہ رہا تھا: ”نہیں۔“ وہ منکر... اور اب تو یہ حوالے کر چکا ہے، تو لہٰذا اب یہاں مشتری کسی بھی چیز کا دعویٰ... دعویدار نہیں، اور بائع منکر نہیں، صرف منکر کون ہے؟ مشتری۔ قیاس یہ تقاضا کرتا ہے: صرف مشتری پر قسم آنی چاہیے۔ لیکن حدیث میں آیا ہے کہ جب بائع اور مشتری میں اختلاف آ جائے، تو دونوں قسم اٹھائیں گے اور بیع کو فسخ کر دیں گے۔ دونوں قسم اٹھائیں گے اور بیع کو فسخ کر دیں گے۔ کب؟ جب بائع اور مشتری میں کیا آ جائے؟ اختلاف۔ وہاں قبل القبض، بعد القبض کی کوئی قید نہیں۔ معلوم ہوا ہر حال میں کیا کرنا پڑے گا؟ بیع کو... قسم اٹھائیں گے اور بیع کو فسخ۔ اور تو یہاں دو صورتیں بنتی تھیں، ہم نے تفصیل ذکر کر دی۔ ایک قبل القبض والی صورت... اختلاف قبل القبض آیا، ایک صورت ہے اختلاف بعد القبض۔ تو احادیث کے ذریعے دونوں صورتوں میں قسم آ رہی ہے، لیکن ان دو صورتوں میں سے ایک عقل میں آنے والی ہے، دونوں منکر ہیں تو دونوں پر کیا آنی چاہیے؟ قسم، اور بعد القبض والی صورت میں قیاس تقاضا کر رہا ہے کہ صرف ایک پر قسم آنی چاہیے، دوسرے پر نہیں۔ لیکن حدیث میں چونکہ مطلق آیا تو قسم آئے گی تو دونوں پر، لیکن یہ جو دوسرے بائع پر قسم آئی، یہ مطابقِ قیاس ہے یا خلافِ قیاس آئی؟ یہ خلافِ قیاس آئی، جب یہ خلافِ قیاس ہے تو یہ متعدی بھی نہیں ہوگی بھئی؛ کیونکہ قیاس کی شرائط میں سے کیا تھا؟ وہ حکم خلافِ قیاس نہیں ہونا چاہیے بھئی۔ لہٰذا یہ قسم دونوں کی، یہ اب وارثوں کی طرف متعدی نہیں ہوگی، اجارے کی طرف متعدی نہیں ہوگی۔ پہلی قسم تو کیا تھی؟ وارثوں کی طرف بھی متعدی ہوئی اور اجارے کی طرف بھی متعدی ہوئی۔ یہ والی قسم بائع اور مشتری میں تو قسم ثابت ہو جائے گی حدیث کی وجہ سے، لیکن وارثوں کا ذکر تو نہیں حدیث میں، اجارے کا تو نہیں ذکر، وہ تو ہم نے قیاس کے ذریعے ثابت کیا تھا اور یہ خود خلافِ قیاس ہے، تو ان کی طرف متعدی بھی نہیں ہوگی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: ولا يدعي على البائع شيئا، جبکہ مشتری بائع پر کسی چیز کا مدعی نہیں ہے، لان المبيع سالم في يده، اس لیے کیونکہ مبیع تو سالم ہے اس کے قبضے میں، ولكن الاثر، لیکن حدیث جو ہے، وهو قوله عليه الصلاة والسلام، وہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: اذا اختلف المتبايعان والسلعة قائمة، جس وقت اختلاف کر لیں دو عقد کرنے والے والسلعة قائمة، اس حال میں کہ مبیعہ ابھی موجود ہو، ہلاک نہ ہوا ہو، بعينها، والسلعة قائمة بعينها، اور سلعة بعينھا اسی طرح قائم ہو، تحالفا وترادا، تو دونوں قسم اٹھائیں گے وترادا، اور بیع کو فسخ کر دیں گے۔ ترادا کا معنی میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا کہ دونوں کیا کریں گے؟ بیع کو فسخ کریں گے۔ تو یہ حدیث جو ہے، يقتضي وجوب التحالف على كل حال، یہ تقاضا کرتی ہے تحالف کے واجب ہونے کا ہر حال میں، چاہے قبل القبض ہو، چاہے بعد القبض، دونوں حالتوں میں قسم کے واجب ہونے کا تقاضا کرتی ہے، لانه مطلق عن قبض المبيع وعدمه، اس لیے کیونکہ یہ حدیث جو ہے مطلق ہے کس سے؟ عن قبض المبيع وعدمه، اس میں قبضِ مبیع یا عدمِ قبضِ مبیع کا ذکر نہیں ہے کہ اس میں تو صرف اتنا ہے: ”دونوں قسم اٹھائیں۔“ چاہے قبل القبض ہو چاہے بعد القبض، دونوں صورتیں اس میں داخل ہیں۔ تو یہ حدیث مطلق ہے قبضِ مبیع اور عدمِ قبضِ مبیع سے۔ فلما كان هذا غير معقول المعنى، پس یہ جو تحالف ہے بعد قبض المبیع، هذا کے ذریعے اشارہ کس کی طرف؟ تحالف بعد قبض المبیع، مبیع پر قبضے کے بعد جو دونوں کو قسم اٹھانا پڑ رہی ہے، چونکہ یہ غیر معقول المعنى، یہ کیا ہے؟ یہ غیر معقول ہے۔ غیر معقول ہے یہ معنی بھئی۔ معنی بمعنی علت اور سبب کے ہے۔ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ معنی کا لفظ جو ہے علت اور سبب کے معنی میں کثیر الاستعمال ہے ہماری کتابوں میں بھئی۔ تو یہاں معنی کس کیا مطلب ہوا معنی کا؟ علت بھئی۔ فلما كان هذا غير معقول المعنى، جب یہ جو مبیع پر قبضے کے بعد جو تحالف ہے یہ غیر معقول المعنى ہے یعنی اس کے علت عقل میں آنے والے نہیں ہے۔ مشتری پر تو ٹھیک ہے قسم آنی چاہیے، یہ بائع پر کیوں قسم آ رہی ہے؟ اس کے علت اور وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ فلا يتعدى إلى الوارثين، تو لہذا جب یہ غیر معقول المعنى ہوا تو یہ وارثوں کی طرف بھی متعدی نہیں ہو گا۔ إذا اختلفا بعد موت المورثين، جب وارثوں وارث دونوں اختلاف کریں کس میں؟ کس کے بعد؟ دونوں مورثوں کے موت کے بعد۔ إلا عند محمد رحمه الله، مگر صرف امام محمد رحمہ اللہ وہ فرماتے ہیں وارثوں کی طرف بھی یہ حکم متعدی ہو گا۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ وارثوں کی طرف متعدی نہیں ہو گا۔ ولا إلى الموجر، اور اسی طرح یہ حکم إلى الموجر والمستأجر، موجر اور مستاجر کی طرف بھی متعدی نہیں ہو گا، إذا اختلفا، جب وہ دونوں اختلاف کر لیں بعد استيفاء المعقود عليه، بعد اس کے جبکہ وہ معقود علیہ کو وصول کر چکا ہو۔ یعنی وہ اس چیز کا نفع اٹھا چکا ہو۔ قبل القبض مبیع میں تھا، تو اجارے میں بھی قبل استیفاء المعقود علیہ کو ہم نے اس پر قیاس کیا۔ یہ صورت کون سی ہے؟ بعد القبض مبیع میں، تو اجارے میں بھی کون سی صورت لاؤ گے؟ بعد استیفاء المعقود علیہ، تو اس کو اس پر قیاس نہیں کر سکتے بھئی۔ على ما عرف في الفقه مفصلا، جیسا کہ فقہ میں جانا گیا ہے تفصیلی طور پر۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
84 approved lectures · 69 of 84