درس نمبر۔91
ولما فرغ عن بيان التقسيمات الاربع شرع في بيان طعن يلحق الحديث من جانب الراوي او من غيره، فقال، والمروي عنه اذا انكر الرواية فان كان انكار جاهد بان يقول كذبت علي ومارويت لك هذا، يسقط العمل بالحديث اتفاقا.
ولما فرغ عن بيان التقسيمات الاربع، اور جب مصنف رحمہ اللہ وہ فارغ ہوئے چاروں تقسیمات کے بیان سے، شرع في بيان طعن يلحق الحديث، تو شروع ہوئے بیان کرنے اس طعن کے جو لاحق ہوتا ہے حدیث پر، جو لاحق ہوتا ہے حدیث کو۔ یعنی وہ اعتراض جو حدیث پر کیا جائے اس کے بیان میں شروع ہوئے وہ بیان کرنے لگے ہیں۔
تو شرع في بيان طعن يلحق الحديث من جانب الراوي او من غيره، تو شروع ہوئے اس طعن کے بیان میں جو حدیث کو لاحق ہوتا ہے من جانب الراوي، راوی کی جانب سے، او من غيره، یا اس کے علاوہ سے۔ فقال، پس فرمایا، والمروي عنه اذا انكر الرواية، والمروي عنه، وہ شخص جس سے روایت کی گئی، یعنی وہ استاد وہ شیخ جس سے یہ حدیث روایت کی گئی۔
اذا انكر الرواية، جب وہ روایت کا انکار کر دے۔ بھئی، ایک راوی حدیث بیان کرتا ہے اور جس استاد کا ذکر کرتا ہے کہ میں نے فلاں سے یہ حدیث سنی، اس استاد کے سامنے یہ بات آتی ہے تو وہ اس کا انکار کر دیتا ہے۔ انکار کر دیتا ہے۔
تو اس میں تفصیل بتلائیں گے آگے شرح کے اندر کہ یہ انکار دو قسم کا ہو سکتا ہے۔ ایک تو منکر کا انکار ہے اور ایک توقف کرنے والے کا انکار۔ اگر منکر کے انکار کی طرح انکار کرتا ہے یعنی سرے سے ہی راوی کو جھٹلا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ تو مجھ پر جھوٹ بول رہا ہے میں نے یہ حدیث تمہیں روایت نہیں کی جس کی تم میری طرف نسبت کر رہے ہو، تو پھر اس صورت میں یاد رکھیے حدیث پر عمل ساقط ہو جاتا ہے، حدیث قابلِ عمل نہیں رہتی بھئی، کیونکہ جس سے روایت کی جا رہی ہے اس نے اس کا سختی سے انکار کر دیا۔
اور دوسرا ہے انکارِ متوقف، توقف کرنے والے کا انکار۔ مثلاً یوں کہتا ہے کہ مجھے تو یاد نہیں کہ میں نے یہ حدیث تمہیں روایت کی ہو۔ پہلی صورت تھی کہ انکار کرتا ہے کہ تم نے مجھ پر جھوٹ بولا ہے میں نے یہ حدیث روایت ہی نہیں کی تمہیں، اور دوسری صورت کیا ہے؟ توقف کرنے والے کے انکار کی طرح کہ مجھے تو یاد نہیں کہ میں نے تمہیں یہ حدیث روایت کی ہو۔ یا یہ کہہ دیتا ہے میں تو اس حدیث کو نہیں جانتا، تو پھر یاد رکھیے اس میں اختلاف ہے۔
عند البعض جو ہے اس پر عمل ساقط ہوگا اور بعض کے نزدیک اس پر عمل ساقط نہیں ہوگا بھئی۔ تو دیکھیے اب کہتے ہیں، والمروي عنه، اور وہ جس سے روایت کی گئی ہے، اذا انكر الرواية، جب وہ انکار کر دے روایت کا، فان كان انكار جاهد، اگر اس کا انکار جو ہے منکر کے انکار کی طرح ہو، جاهد، منکر، انکار کرنے والا، تو اگر وہ منکر کے انکار کی طرح ہو اس کا انکار، بان يقول، بعیں طور کہ وہ یوں کہتا ہے، كذبت علي ومارويت لك هذا، کہ تو نے مجھ پر جھوٹ بولا اور میں نے روایت نہیں کی تجھے یہ حدیث، يسقط العمل بالحديث اتفاقا، تو ساقط ہو جائے گا عمل حدیث سے بالاتفاق۔
وان كان انكار متوقف، اور اگر اس کا انکار جو ہے وہ انکارِ متوقف ہو، بان قال، بعیں طور کہ یوں کہتا ہے، لا اذكر اني رويت لك هذا الحديث، کہ مجھے یاد نہیں کہ میں نے روایت کی ہو اپ کو یہ حدیث، او لا اعرفه، یا یہ کہتا ہے کہ میں نہیں جانتا اس حدیث کو، ففيه خلاف، تو اس میں اختلاف ہے۔
فعند الكرخي واحمد بن حنبل رحمهما الله تعالى يسقط العمل به، تو امام کرخی اور امام احمد بن حنبل رحمہما اللہ کے نزدیک اس حدیث سے، پر سے عمل ساقط ہو جائے گا۔ یعنی یہ حدیث قابلِ عمل نہ رہے گی۔ وعند الشافعي رحمه الله تعالى ومالك رحمه الله تعالى لا يسقط، اور امام شافعی اور امام مالک رحمہما اللہ کے نزدیک عمل ساقط نہیں ہوگا بھئی اس حدیث سے، یہ پھر بھی قابلِ عمل ہوگی۔
تو ایک صورت بھئی، کہ راوی کیا کرے؟ روایت کا انکار کرے۔ او عمل بخلافه بعد الرواية، یا راوی اس حدیث کے خلاف عمل کرتا ہے روایت کرنے کے بعد۔ روایت کرنے کے بعد پھر اس حدیث میں جو آیا ہے اس کے خلاف عمل کرتا ہے، مما هو خلاف بيقين، اس میں سے کہ جو خلاف ہو یقینی طور پر، اس صورت میں کہ جو خلاف ہو یعنی جس کا، من جنس ما هو خلاف بيقين، اس جنس میں سے جو مخالف ہو یقینی طور پر۔
یعنی حدیث میں اس کا احتمال نہیں جس کا خلاف ہونا یقینی ہے۔ ایک تو یہ صورت ہے نا حدیث میں دو تین قسم کے احتمال ہیں اور راوی نے جو عمل کیا ہے وہ ایک احتمال پر کیا، تو یہ تو حدیث کے خلاف نہ ہوا اس کا تو حدیث میں احتمال بھی تھا۔ یہ وہ صورت بیان کر رہے ہیں جبکہ راوی کا عمل یقینی طور پر حدیث کے خلاف ہو یعنی جو یہ اس کا عمل ہے وہ حدیث میں اس کا احتمال ہی نہیں، حدیث میں اس کا احتمال ہی نہیں، فسقط العمل به، تو اس صورت میں بھی حدیث پر سے عمل ساقط ہو جائے گا، وہ قابلِ عمل نہ رہے گی۔
لانه ان خالفه للوقوف على نسخه او موضوعيته فقد سقط الاحتجاج به، اس لیے کیونکہ اس راوی نے اگر اس حدیث کی مخالفت کی ہے بوجہِ واقف ہونے اس کے منسوخ ہونے پر، او موضوعيته، یا اس کے موضوع ہونے کے، کی وجہ سے، فقد سقط الاحتجاج به، تو تحقیق حدیث سے استدلال کرنا ساقط ہوا۔
بھئی، یہ راوی اس نے ایک حدیث روایت کی ہے اور پھر بعد میں دیکھا گیا تو یہ اس حدیث کے خلاف عمل کر رہا تھا جس کا حدیث میں سرے سے کوئی احتمال ہی نہیں تھا۔ تو اس صورت میں حدیث پر سے عمل ساقط ہو جائے گا اور اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں بھئی۔ یا تو اس وجہ سے اس نے عمل نہیں کیا حدیث پر کیونکہ اس کو پتہ ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے۔ یہ حدیث کیا ہے؟ منسوخ ہے۔ یا یہ کہ یہ حدیث موضوع ہے۔
تو موضوع اور منسوخ ہونے کی صورت میں جب عمل اس نے نہیں کیا حدیث پر پھر تو ظاہر سی بات ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے یا موضوع ہے تو قابلِ استدلال نہیں رہے گی۔ یا اس لیے اس نے عمل حدیث پر ترک کیا ہوگا کہ یہ شخص لاپرواہی کرنے والا ہے، لاپرواہی کرنے والا ہے یا غفلت کی وجہ سے، بھول گیا ہے وغیرہ۔ تو غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے اس نے اگر حدیث پر عمل نہیں کیا تو پھر تو اس کی عدالت ہی ساقط ہو جائے گی اور غیرِ عادل کی تو روایت مقبول ہی نہیں پہلے آپ پڑھ چکے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو دو صورتیں ہیں بھئی۔ بھئی، یہاں پر آیا کہ اگر اس نے مخالفت کی ہے اس وجہ سے کہ وہ واقف ہے حدیث کے منسوخ ہونے پر یا وہ واقف ہے اس حدیث کے موضوع ہونے پر۔ بھئی، یاد رکھیے ایک حدیثِ موضوع، حدیث کی اقسام میں ایک قسم حدیثِ موضوع بھی آئے گی بھئی، حدیثِ موضوع۔
حدیثِ موضوع وہ حدیث جسے کسی شخص نے اپنی طرف سے گھڑ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیا ہو، یعنی جھوٹی حدیث، اسے کیا کہتے ہیں؟ حدیثِ موضوع۔ تو یہ دراصل حدیث ہے ہی نہیں، تو اس کو مجازاً حدیث کہا جاتا ہے، حدیثِ موضوع۔ حدیثِ موضوع کہتے ہیں نا، حدیث کہہ رہے ہیں اس کو بھی، تو اس کو مجازاً حدیث کہا جاتا ہے کیونکہ بہرحال اس کے کہنے والے نے نسبت حضور علیہ السلام کی طرف کی تھی۔ تو یہ ہے حدیثِ موضوع، موضوع وضع سے ہے، بنائی گئی، گھڑی گئی، وضع کا معنی بنانا، موضوع بنائی گئی۔
تو یہ حدیثِ موضوع بھئی۔ یاد رکھیے قرآن کی حفاظت کا اللہ نے وعدہ فرمایا ہے، انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون، اور قرآن کے جیسے لفظ محفوظ ہیں اسی طرح اس کا معنی بھی محفوظ رہے گا اور قرآن کا معنی وہ احادیث بتلاتی ہیں۔ تو جب قرآن کے حفاظت کا وعدہ آ گیا تو احادیث کے حفاظت کا بھی وعدہ آ گیا۔
اور احادیث کو یاد رکھتے ہیں محدثین بھئی، تو محدثین کی بھی حفاظت کا وعدہ آ گیا۔ اور احادیث کے معانی کو سمجھتے ہیں فقہاء مجتہدین، تو مجتہدین کی بھی حفاظت کا وعدہ آ گیا۔ سمجھ میں آئی بات؟ کیونکہ قرآن کے لفظ بھی محفوظ تو قراء جو پڑھنے والے ہیں جو حافظ ہیں ان سب کی حفاظت کا وعدہ آ گیا کہ یہ تا قیامت رہیں گے بھئی۔
اور اسی میں پھر آپ سب حضرات کی بھی حفاظت کا وعدہ آ گیا کیونکہ آپ ہی لوگ دین کو سیکھ رہے ہیں اور آگے پھر ان اگلی نسلوں کو منتقل کریں گے۔ اللہ سب کو دین کے اشاعت کی توفیق نصیب فرمائے، آمین۔
تو یاد رکھیے علماء کو اللہ نے پیدا فرمایا جنہوں نے عمریں لگا دیں احادیث کو یاد کرنے میں اور اس کی حفاظت میں اور اس کے معانی سمجھنے کے اندر اور ان کو آگے منتقل کرنے میں۔ اور ان کو اللہ نے ایسے محیر العقول حافظے نصیب فرمائے تھے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے بھئی، انسان حیران رہ جاتا ہے۔
ایک ایک شخص کو لاکھوں احادیث یاد ہوتی تھیں بھئی، لاکھوں احادیث متن و سند سمیت ذرا آپ اندازہ تو لگائیے لاکھوں احادیث یاد ہوں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ جو بخاری شریف لکھی یہ کئی لاکھ احادیث سے منتخب کر کے چند ہزار حدیثیں لکھیں انہوں نے، کئی لاکھ احادیث سے۔ اسی طرح اور ائمہ ہیں بھئی امام احمد بن حنبل، امام ترمذی وغیرہ، امام مسلم وغیرہ اور یہ جو فقہاء ائمہ وغیرہ ہیں ان سب کو لاکھوں احادیث یاد تھیں بھئی۔ مجتہد کوئی ویسے تو نہیں بنتا بھئی، احادیث ساری سامنے ہوں گی تبھی وہ کوئی رائے دے سکے گا مسئلے کے اندر، بتلا سکے گا بھئی۔
اور یاد رکھیے اس وقت احادیث جو موجود ہیں علماء لکھتے ہیں تقریباً 50 ہزار کے لگ بھگ احادیث ہم تک پہنچی ہیں بھئی، مختلف کتابوں میں، ترمذی، بخاری، مسلم، ابو داؤد وغیرہ بھئی۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کیا باقی احادیث ضائع ہو گئیں بھئی؟ لاکھوں احادیث تھیں۔ تو یاد رکھیے بھئی، یہ یاد رکھیے ہمیشہ کہ حدیث جو ہے حدیث اس میں آپ نے شرائط وغیرہ پڑھیں بھئی، راوی کی شرائط اور سند پر بڑی گہری نظر ہوتی تھی ان علماء کی، محدثین کی، کہیں ذرا کمزور راوی آیا فوراً وہ لکھ دیتے، بیان کر دیتے کہ یہ راوی کمزور ہے، یہ تو اور اس کا حافظہ کمزور ہے یا فلاں شخص ہے وہ احادیث اپنی طرف سے گھڑتا ہے۔ ایک ایک راوی کے حال کو بھی انہوں نے جمع کیا جو لاکھوں کی تعداد میں تھے جو روایت کرنے والے تھے احادیث کو، سب کو جمع کیا۔ تو اور اس میں اپنی زندگیاں گزار دیں بھئی۔
تو یہ جو حدیث ہوتی تھی احادیث، یہ ایک ایک حدیث کئی کئی سندوں سے نقل ہوتی تھی۔ مثلاً بھئی انما الاعمال بالنيات والی حدیث ہے تو اس کی سینکڑوں سندیں ہوتی تھیں۔ فلاں شیخ سے بھی میں نے یہ حدیث سنی انہوں نے فلاں سے سنی تھی، انہوں نے فلاں صحابی سے سنی، انہوں نے حضور علیہ السلام سے سنا۔ دوسرا راوی اپنی سند بیان کرتا بھئی، تیسرا اپنی سند بیان کر رہا ہے، چوتھا اپنی سند بیان کر رہا ہے۔ تو جتنی سندیں ہوتی تھیں سند مختلف ہوتی تھی، متن بے شک وہی ہوتا تھا لیکن حدیث کو الگ شمار کیا جاتا تھا سند کے بدلنے سے۔
ایک ہی حدیث کی مثلاً 200 سندیں ہیں، 300 سندیں ہیں، متن ایک ہی ہے سندیں دو 300 ہیں، تو یہ ایک حدیث نہیں شمار ہوتی تھی بلکہ 200 یا 300 جتنی سندیں اتنی احادیث شمار ہوتی تھیں بھئی۔ اور متن صرف، متن پہ توجہ نہیں کہ صرف متن یاد رکھتے، نہیں نہیں، سند ایک ایک سند اور پھر اس میں راویوں کے احوال بھی کس قسم کی یہ حدیث ہے، کس درجے کی ہے، قوت کے اعتبار سے۔
تو اس اعتبار سے احادیث کی تعداد بہت زیادہ تھی بھئی۔ پھر ان میں سے علماء نے جو مضبوط اور قوی حدیث وغیرہ تھیں اور ان ان کو جمع کیا تو وہ وہ جو احادیث کی تعداد جو زیادہ تھی وہ کس اعتبار سے تھی؟ سندوں کے زائد ہونے کے اعتبار سے کہ ایک ایک حدیث کتنی ہی کتنی سندوں سے ہوتی تھی بھئی۔
اور اتنا عجیب حافظہ ان کو اللہ نے نصیب فرمایا تھا کہ لاکھوں احادیث دیکھو حافظے میں محفوظ ہوں اور ساتھ سند کے اور ایک ہی حدیث کی میں نے بتایا دو دو سو، تین تین سو سندیں، وہ ساری حافظے میں محفوظ ہیں بھئی کہ فلاں نے فلاں سے بھی روایت کی، فلاں نے فلاں سے بھی۔ دیکھو کتنے نام آ جاتے ہیں!
چنانچہ بھئی، ایسا حافظہ کہ انسان حیران ہوتا ہے کہ ان کے سامنے جب کوئی حدیث پڑھی جاتی سند میں بھی کہیں کوئی رد و بدل کر دیتا، حدیث کا متن تو وہی ہے، سند بدل دی۔ ایسی سند جو ان کے پاس نہیں ان کے حافظے میں، ان کے سامنے جب وہ حدیث پڑھی جاتی تو سنتے ہی کہہ دیتے لا اعرفہ، میں اس حدیث کو نہیں جانتا۔ متن وہی ہے صرف کس میں فرق آیا؟ سند میں، نہیں بھئی، وہ سند بھی ہونی چاہیے بغیر سند کے بات قابلِ قبول نہیں۔ تو وہ سنتے ہی کیا کہہ دیتے؟ لا اعرفہ، میں اس حدیث کو نہیں جانتا، میں نے نہیں سنی کبھی۔
چنانچہ بھئی، امام بخاری رحمہ اللہ کے بارے میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ غالباً شاید وہ بغداد یا کہاں تشریف لے گئے، شہرت تو ان کی پھیل چکی تھی اور وہاں کے علماء انہوں نے سوچا کہ امام بخاری رحمہ اللہ کا امتحان لینا چاہیے کہ یہ کس طرح کتنی احادیث ان کو یاد ہیں۔ چنانچہ کئی لوگوں کو تیار کیا بھئی کہ سب نے ایک ایک حدیث یاد کرنی ہے لیکن یوں کرنا متن یاد کرو حدیث کا، تو سند دوسرے کی ساتھ جوڑ دو۔ تو ہر ایک نے اس طرح متن اور سند کو آپس میں بدل دیا انہوں نے۔ سند کسی ایک حدیث کی ہے تو متن دوسرا ہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ تشریف لائے بھئی۔ بہت بڑا مجمع ہے، مجلس بھری ہوئی ہے، تو ایک شخص کھڑا ہوا کہ حضرت میں ایک حدیث پوچھنا چاہتا تھا آپ سے اور پھر وہ حدیث بیان کی سند کی تبدیلی کے ساتھ۔ حدیث بیان کر دی، امام بخاری رحمہ اللہ فرمانے لگے نہیں بھئی میں نہیں جانتا اس حدیث کو۔ پھر دوسرا کھڑا ہوا دوسری طرف آدمی کہ حضرت یہ حدیث، فرمایا میں نہیں جانتا اس کو۔
کرتے کرتے وہ سارے آدمی کھڑے ہوئے، ہر ایک کے سنتے جا رہے ہیں امامِ بخاری، اور فرماتے جا رہے ہیں کہ "میں نہیں جانتا، میں نہیں جانتا، میں نہیں جانتا اس حدیث کو۔" جب وہ سارے آدمی بیان کر چکے احادیث، بھی بہت سے آدمی تھے بھئی غالباً 50 یا کتنے آدمی تھے، ان سب نے اس طرح کیا بھئی۔ مشہور واقعہ کتابوں میں آپ کو مل جائے گا، لیکن اس وقت میرے ذہن میں نہیں تعداد۔ تو جب وہ سب بیان کر چکے، تو اب امامِ بخاری رحمہ اللہ پہلے آدمی کی طرف متوجہ ہوئے۔
اور کہا "تم نے یوں حدیث بیان کی تھی، اس کو تو میں نہیں جانتا، ہاں اس حدیث کو میں اس طریقے پر جانتا ہوں" اور پھر اس کی صحیح سند اس حدیث کے ساتھ جوڑ کر اس کو بیان فرما دیا۔ پھر دوسرے کی طرف متوجہ ہوئے کہ "تم نے تو یوں بیان کی لیکن اس طریقے پر میں نہیں جانتا، اس حدیث کو میں اس طرح جانتا ہوں" اس کے ساتھ اس کی سند جوڑ کر بیان کر دیا۔ اور اس طرح ترتیب سے سارے آدمیوں کی وہ حدیث جو اسی مجلس میں وہ سن رہے تھے، وہ ساری ان کے حافظے میں بھی محفوظ تھیں اور ان کو پھر صحیح کر کے اسی ترتیب سے انہوں نے وہیں پر بیان کر دیا بھئی۔ ایسے قوی حافظے اللہ نے ان کو نصیب فرمائے تھے بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا بھئی، اب آئیے بات دور چلی گئی۔ او کہتے ہیں "أَوْ عَمِلَ بِخِلَافِهِ بَعْدَ الرِّوَايَةِ" اور اگر راوی نے عمل کیا اس حدیث کے خلاف روایت کرنے کے بعد "مِمَّا هُوَ خِلَافٌ بِيَقِينٍ" اس صورت میں کہ جب کہ وہ خلاف ہو یقینی طور پر "سَقَطَ الْعَمَلُ بِهِ" تو اس حدیث پر عمل ساقط ہو جائے گا "لِأَنَّهُ إِنْ خَالَفَهُ لِلْوُقُوفِ عَلَى نَسْخِهِ" وقوف کا معنی واقف ہونا، "لِأَنَّهُ إِنْ خَالَفَهُ" اس لیے کیونکہ اس راوی نے اگر حدیث کی مخالفت کی ہے "لِلْوُقُوفِ عَلَى نَسْخِهِ" ببجوہ واقف ہونے اس کے منسوخ ہونے پر "أَوْ مَوْضُوعِيَّتِهِ" یا ببجوہ واقف ہونے اس کے موضوع ہونے پر "فَقَدْ سَقَطَ الِاحْتِجَاجُ بِهِ" تو پھر پس تحقیق ساقط ہو گیا استدلال کرنا اس حدیث سے، کیونکہ جب وہ منسوخ ہے یا موضوع ہے تو پھر تو استدلال ساقط ہوا "وَإِنْ خَالَفَ لِقِلَّةِ الْمُبَالَاةِ بِهِ" اور اگر اس نے مخالفت کی ہے کم پرواہ کرنے کی وجہ سے، یعنی زیادہ پرواہ نہیں کی، مبالات پرواہ کرنا بھئی، تو یعنی لا پرواہی کی کی ہے "أَوْ لِغَفْلَتِهِ" یا اپنی غفلت کی وجہ سے "فَقَدْ سَقَطَتْ عَدَالَتُهُ" تو پس تحقیق اس راوی کی عدالت ہی ساقط ہو گئی، تو اس وجہ سے حدیث قابلِ عمل نہ رہے گی۔
تو پہلی صورت کیا ذکر کی؟ کہ پہلی صورت میں تو حدیث ہی قابلِ استدلال نہ رہی کیونکہ منسوخ ہے یا موضوع ہے۔ اور دوسری صورت میں راوی جو ہے وہ عادل نہ رہا اور لہٰذا اس وجہ سے اس کی حدیث ساقط ہے بھئی۔ "مِثَالُهُ مَا رَوَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا" مثال اس کی وہ جو روایت کیا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے "أَنَّهُ قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِلَا إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا "أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِلَا إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ" جس عورت نے بھی نکاح کیا بغیر اپنے ولی کی اجازت کے "فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ" تو اس کا نکاح باطل ہے۔ نکاح باطل ہے۔
اب حضرت عائشہ یہ روایت کر رہی ہیں، "ثُمَّ أَنَّهَا زَوَّجَتْ بِنْتَ أَخِيهَا بِلَا إِذْنِ وَلِيِّهَا" پھر انہوں نے نکاح کروایا "بِنْتَ أَخِيهَا" اپنے بھئی کی بیٹی یعنی اپنی بھتیجی کا "بِلَا إِذْنِ وَلِيِّهَا" بغیر اس کے ولی کی اجازت کے۔ بھئی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھئی حضرت عبدالرحمٰن ابن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ کہیں شام تشریف لے گئے تھے اور پیچھے ان تو وہ ولی تھے بھئی، اپنے والد ہیں نا تو وہ ولی ہیں، اور ان کی غیر موجودگی میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان کی بیٹی کا نکاح کروا دیا۔
اب دیکھیے، حدیث وہ روایت کر رہی ہیں، جس عورت نے بھی نکاح کیا اپنے ولی کی اجازت کے بغیر تو اس کا نکاح باطل، اور خود ولی کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح کر رہی ہیں، تو ان کا یہ عمل حدیث کے خلاف ہوا۔ خلاف ہوا، معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک یہ حدیث منسوخ ہے یا اس میں کوئی اور تاویل وغیرہ ہے بھئی، تو اس لیے یہ حدیث قابلِ استدلال نہیں۔
"وَإِنَّمَا قَالَ خِلَافٌ بِيَقِينٍ" ماتن نے کہا کہ وہ خلاف یقین کے ساتھ ہو، یقینی ہو "احْتِرَازًا عَمَّا إِذَا كَانَ مُحْتَمَلًا لِلْمَعْنَيَيْنِ" احتراز کرتے ہوئے اس صورت سے جب کہ وہ حدیث احتمال رکھتی ہو دو معانی کا "فَعَمِلَ بِأَحَدِهِمَا" پس راوی نے عمل کیا ان دو احتمالات میں سے کسی ایک پر "عَلَى مَا سَيَأْتِي بَيَانُهُ" اور اس کے جو عنقریب آ جائے گا۔ کہ وہ صورت نکالنے کے لیے بھئی، کہ اگر حدیث میں ہی اس چیز کا احتمال تھا اور راوی نے ایک احتمال پر عمل کیا یہ تو حدیث کے خلاف نہ ہوا، ہم نے کیا کہا؟ کہ وہ حدیث کے خلاف ہو اس کا عمل یقینی طور پر بھئی۔ اس کو اس صورت کو نکالنے کے لیے بھئی۔
"وَإِنْ كَانَ قَبْلَ الرِّوَايَةِ" اور اگر اس نے عمل کیا ہے حدیث کے خلاف روایت کرنے سے پہلے "أَوْ لَمْ يُعْرَفْ تَارِيخُهُ" یا اس کے تاریخ معلوم نہیں، اس کے عمل کی تاریخ معلوم نہیں، پتہ ہی نہیں ہے کہ یہ عمل اس نے حدیث کی روایت سے پہلے کیا تھا یا روایت کے بعد حدیث کے خلاف عمل کیا ہے، "لَمْ يَكُنْ جَرْحًا" تو یہ جرح نہیں ہے۔ یہ اعتراض اور جرح حدیث پر نہیں، یعنی اس صورت میں حدیث ساقط نہیں ہو گی۔
کو کیا صورت، پہلی تو کیا صورت ذکر کی جس میں حدیث ساقط العمل ہو گی؟ جب روایت کرنے کے بعد اس نے حدیث کے خلاف عمل کیا ہو۔ اور ایک صورت یہ ہے کہ روایت کرنے سے پہلے حدیث کے خلاف عمل کیا ہو، تو اس صورت میں بھی حدیث ساقط نہیں، یا عمل کی تاریخ کا پتہ ہی نہیں، ایک روایت ایک شخص سے آ رہی ہے، ایک راوی سے، اور دوسری روایت سے پتہ چلتا ہے اس شخص نے اس حدیث کے خلاف عمل کیا، لیکن یہ پتہ نہیں کہ یہ جو اس نے عمل کیا تھا یہ حدیث کے خلاف، یہ روایت سے پہلے کیا یا روایت کرنے کے بعد حدیث کے خلاف عمل کیا ہے، اس عمل کی تاریخ کا پتہ نہیں، تو اس صورت میں بھی حدیث پر جرح نہیں یعنی وہ ساقط العمل نہیں ہو گی بھئی۔ کیوں نہیں ہو گی ان دونوں صورتوں میں؟ کہ روایت سے پہلے عمل کیا ہو یا تاریخ کا پتہ نہ ہو، وہ آگے دیکھیے ذکر کر رہے ہیں۔
کہتے ہیں "وَإِنْ كَانَ قَبْلَ الرِّوَايَةِ" اور اگر اس کا وہ عمل جو اس نے خلاف عمل کیا وہ روایت سے پہلے ہو "أَوْ لَمْ يُعْرَفْ تَارِيخُهُ" یا اس عمل کی تاریخ کا علم ہی نہیں ہے "لَمْ يَكُنْ جَرْحًا" تو یہ جرح نہیں ہو گی، "أَمَّا عَلَى الْأَوَّلِ" باقی پہلی صورت جو ہے "فَلِأَنَّ الظَّاهِرَ" پس اس لیے کیونکہ ظاہر یہ ہے "أَنَّهُ كَانَ ذَلِكَ مَذْهَبَهُ" کہ یہ اس کا مذہب تھا "فَتَرَكَهُ لِأَجْلِ الْحَدِيثِ" تو اس نے اس کو چھوڑ دیا حدیث کی وجہ سے۔ بھئی حدیث سے پہلے اس نے حدیث کے خلاف عمل کیا تھا، تو ظاہر یہی ہے کہ پہلے اس شخص کا یہی مذہب تھا جو اس روایتوں میں آ رہا ہے کہ اس نے یوں عمل کیا، بعد میں حدیث آ گئی تو اس نے حدیث کی وجہ سے اپنے مذہب کو چھوڑ دیا بھئی، حدیث پر عمل کیا۔
دوسری صورت کہ جب کہ تاریخ کا پتہ نہیں کہ یہ عمل اس نے روایتِ حدیث سے پہلے کیا ہے یا بعد میں کیا ہے، کہتے ہیں "وَأَمَّا عَلَى الثَّانِي" اور باقی دوسری صورت میں "فَلِأَنَّ الْحَدِيثَ حُجَّةٌ بِأَصْلِهِ" اس لیے کیونکہ حدیث جو ہے وہ حجت ہے، دلیل ہے اپنے اصل کے اعتبار سے "وَوُقُوعَ الشَّكِّ فِي سُقُوطِهِ" اور شک واقع ہوا ہے اس کے ساقط ہونے میں "لِجَهْلِ التَّارِيخِ" تاریخ کے مجہول ہونے کی وجہ سے "لَا يَسْقُطُ قَطُّ" تو وہ حدیث ساقط نہیں ہو گی کبھی بھی۔
بھئی دیکھیے، حدیث اصل کے اعتبار سے تو حجت ہے، بحث چل رہی ہے کب حدیث قابلِ عمل ہو گی اور کب ساقط العمل ہو گی۔ تو حدیث اصل کے اعتبار سے تو دلیل ہے، قابلِ عمل ہے، اور اس شخص کے راوی کے بارے میں پتہ چلا کہ اس جس نے یہ حدیث روایت کی ہے اس نے حدیث کے خلاف عمل کیا، لیکن یہ پتہ نہیں کہ اس نے حدیث سے پہلے عمل کیا ہے حدیث کے خلاف یا اس روایت کرنے کے بعد حدیث کے خلاف عمل کیا ہے۔ اگر پہلے عمل کیا ہو وہ تو بات گزر گئی، معلوم ہوا یہ پہلے اس کا مذہب تھا بعد میں اس نے حدیث کی وجہ سے چھوڑ دی۔ اور اگر یہ اس نے کب کیا ہو گا؟ حدیث کے روایت کرنے کے بعد، لیکن کیا یہ جو اس نے عمل کیا حدیث کے خلاف، اس کا اس عمل کا روایت کے بعد ہونا یقینی ہے؟ شک ہے نا ہو سکتا ہے یہ عمل اس نے پہلے کیا ہو یا ہو سکتا ہے بعد میں کیا ہو، تو بعد میں ہو تو پھر تو حدیث ساقط العمل ہو جائے گی، لیکن یہاں اس کا بعد میں ہونا مشکوک ہے، بعد میں ہونا مشکوک ہے تو شک کی وجہ سے حدیث ساقط العمل اب نہیں ہو گی کیونکہ حدیث کا قابلِ عمل ہونا تو یقینی تھا، اور "اليقين لا يزول إلا باليقين"، تو یہاں پر حدیث جو تھی وہ حجت تھی یقینی طور پر، اور اس کے ساقط ہونے میں شک آ گیا کہ شاید اس نے عمل بعد میں کیا اور بعد میں کیا ہو گا تو پھر تو حدیث کو کیا ہونا چاہیے؟ ساقط العمل، تو اب یقینی طور پر بعد میں کیا یا شک ہے؟ تو حدیث کا ساقط العمل ہونا بھی مشکوک ہوا، اور قابلِ عمل ہونا تو یقینی تھا ساقط العمل ہونا کیا ہوا؟ مشکوک، اور شک کی وجہ سے اب یہ ساقط العمل نہیں ہو گی، وہ یقین ختم نہیں ہو گا۔
یہ معنی ہے "وَأَمَّا عَلَى الثَّانِي" اور باقی دوسری صورت پر "فَلِأَنَّ الْحَدِيثَ حُجَّةٌ بِأَصْلِهِ" اس لیے کیونکہ حدیث دلیل ہے اپنی اصل کے اعتبار سے "وَوُقُوعَ الشَّكِّ فِي سُقُوطِهِ" اور شک واقع ہوا اس کے ساقط ہونے میں "لِجَهْلِ التَّارِيخِ" تاریخ کے مجہول ہونے کی وجہ سے، تو شک واقع ہوا ہے "لَا يَسْقُطُ قَطُّ" یہ کبھی بھی ساقط نہیں ہو گی۔
"وَتَعْيِينُ الرَّاوِي بَعْضَ مُحْتَمَلَاتِهِ" اور راوی کا متعین کرنا حدیث کے بعض محتملات کو "بِأَنْ كَانَ مُشْتَرَكًا فَعَمِلَ بِتَأْوِيلٍ مِنْهُ" بعیں طور کہ حدیث مشترک تھی تو اس نے اس کی ایک تاویل پر عمل کر لیا، حدیث میں دو یا تین احتمالات تھے، راوی نے کیا کیا؟ ان احتمالات میں سے ایک احتمال پر عمل کر لیا، "لَا يَمْنَعُ الْعَمَلَ بِهِ" تو یہ راوی کا جو ایک احتمال کو متعین کرنا ہے، یہ منع نہیں کرتا عمل کرنے کو اس حدیث پر "لِلتَّأْوِيلِ الْآخَرِ" دوسری تاویل پر بھئی، اس حدیث کی دوسری تاویل پر عمل کو نہیں روکتا۔
بھئی راوی نے روایت کیا تھا حدیث کو، اور اس حدیث میں کئی احتمالات تھے کئی معانی کے، روایت کرنے والے نے ایک احتمال پر عمل کیا، تو باقی احتمالات پر عمل نہ کیا جائے ایسا نہیں ہو گا، باقیوں پر بھی کیا کیا جا سکتا ہے؟ عمل کیا جا سکتا ہے، یعنی دوسرے مجتہدین کی رائے اگر دوسری طرف جاتی ہے تو وہ اس دوسری صورت پر بھی، دوسرے معنیٰ پر بھی عمل کر سکتے ہیں۔
معنیٰ سمجھ میں آیا؟ "وَتَعْيِينُ الرَّاوِي بَعْضَ مُحْتَمَلَاتِهِ" اور راوی کا متعین کرنا حدیث کے بعض محتملات کو "بِأَنْ كَانَ مُشْتَرَكًا فَعَمِلَ بِتَأْوِيلٍ مِنْهُ" بعیں طور کہ حدیث مشترک تھی، اس نے عمل کیا اس میں سے ایک تاویل پر "لَا يَمْنَعُ الْعَمَلَ بِهِ" تو یہ راوی کا جو ایک احتمال کو متعین کرنا ہے یہ منع نہیں کرتا عمل کرنے کو اس حدیث پر "لِلتَّأْوِيلِ الْآخَرِ" دوسری تاویل پر بھئی، اس حدیث کی دوسری تاویل پر عمل کو نہیں روکتا۔
"كَمَا رَوَى ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَالَ" جیسے کہ روایت کیا ہے حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا "الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا" کہ دو بیع کرنے والے، عقد کرنے والے جو ہیں "بِالْخِيَارِ" ان کو اختیار ہوتا ہے "مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا" جب تک ان میں تفرق نہ ہو جائے، جب وہ دونوں جب تک وہ دونوں متفرق نہ ہو جائیں، "فَهَذَا يَحْتَمِلُ تَفَرُّقَ الْأَقْوَالِ وَتَفَرُّقَ الْأَبْدَانِ" تو یہ حدیث جو ہے احتمال رکھتی ہے تفرقِ اقوال کا بھی اور تفرقِ ابدان کا بھی، "وَأَوَّلَهُ ابْنُ عُمَرَ الرَّاوِي بِتَفَرُّقِ الْأَبْدَانِ" اور تاویل کی ہے ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جو راوی ہیں، انہوں نے تاویل کی ہے "بِتَفَرُّقِ الْأَبْدَانِ" کس کے ساتھ؟ تفرقِ ابدان کے ساتھ "كَمَا هُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ" جیسے کہ قول ہے امامِ شافعی رحمہ اللہ کا، "وَهَذَا لَا يُنَافِي أَنْ نَعْمَلَ نَحْنُ بِتَفَرُّقِ الْأَقْوَالِ" اور یہ جو راوی نے ایک تاویل پر یعنی تفرقِ ابدان کے ساتھ تاویل کی اور اس پر عمل کیا، یہ اس بات کے منافی نہیں ہے کہ ہم عمل کریں تفرقِ اقوال پر، انہوں نے تفرقِ ابدان پر عمل کیا تو یہ اس بات کے منافی نہیں کہ ہم کس پر عمل کریں؟ تفرقِ اقوال پر بھئی۔
تفرقِ ابدان اور تفرقِ اقوال بھئی، بھئی اس کو اچھی طرح سمجھ لیں۔
حدیث میں آیا "الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا" دو بیع کرنے والے جو ہیں ان کو اختیار ہوتا ہے جب تک وہ ان میں تفرق نہ آئے، جب تک وہ دونوں متفرق نہ ہو جائیں۔ یعنی جب تک جدا نہ ہو جائیں دونوں بھئی، اور جدا ہونے سے مراد کیا لیا انہوں نے؟ تفرقِ ابدان، یعنی بدن کے اعتبار سے دونوں جدا نہ ہو جائیں، یعنی جب تک دونوں کی وہ مجلس ختم نہ ہو جائے، وہ اس سے اٹھ کر نہ چلے جائیں، جب اٹھ کر چلے جائیں گے تو کیا ہو گا؟ تفرقِ ابدان ہوا یا نہیں بھئی؟ تفرقِ ابدان ہوا، بدن دونوں کے الگ ہو گئے، دونوں چلے گئے مجلس سے اٹھ کر بھئی۔
تو امامِ شافعی رحمہ اللہ اس قول کو اختیار کرتے ہیں اور وہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی جنہوں نے آپس میں ایجاب و قبول کر لیا، بیع منعقد ہو گئی، لیکن جب تک وہ اس مجلس میں بیٹھے ہوئے ہیں اس وقت تک دونوں کو اختیار ہے کہ وہ اس بیع کو رد کر سکتے ہیں۔
جب تک اس مجلس سے نہ اٹھ جائیں، وہ مجلس نہ ختم ہو جائے، تفرقِ ابدان جب تک نہ ہو جائے اس وقت تک دونوں کو اختیار ہے وہ بیع کو رد کر سکتے ہیں، بائع چاہے تو وہ رد کر دے، بیع کر چکے ہیں ایجاب و قبول ہو چکا پھر بھی، مجلس کے اختتام تک بائع کیا کر سکتا ہے؟ بیع کو رد کر سکتا ہے، اور مشتری چاہے تو وہ بھی رد کر سکتا ہے، بیع ختم ہو جائے گی جو بھی رد کرے گا۔ یہ ہے تفرقِ ابدان والی صورت۔
جب کہ ہم نے اس کو محمول کیا ہے تفرقِ اقوال پر، یعنی جب تک دونوں کے قول مختلف نہ ہو جائیں، بھئی بائع جب ایجاب کر دے کہ مثلاً میں نے یہ گاڑی آپ کو پانچ لاکھ روپے میں فروخت کر دی، تو یہ ہوا ایجاب، اب مشتری کو اختیار ہے وہ قبول کرے یا قبول نہ کرے، یہ ہے خیارِ قبول بھئی، یہ کیا ہے؟ خیارِ قبول، اور یہ اختیار اس کو رہتا ہے مجلس کے اختتام تک، یہ ہے خیارِ مجلس بھئی، مجلس کے اختتام تک یعنی اسے خیارِ قبول رہتا ہے۔ پڑھا ہے یا نہیں آپ نے بھئی؟ خیارِ قبول کب تک ہوتا ہے؟ مجلس کے اختتام تک۔ اب مجلس سے کیا مراد ہے؟ مجلس کا یہ معنیٰ نہیں جب تک وہ دونوں وہاں اس وہاں بیٹھے ہوئے ہیں، مثلاً ایجاب صبح کیا تھا اور دونوں ظہر تک بیٹھے ہوئے ہیں وہاں، تو آپ کیا کہیں گے؟ ظہر تک مشتری کو اختیار ہے وہ قبول کر سکتا ہے؟ نہیں بھئی ایسا نہیں ہے، یہ معنیٰ نہیں۔
خیارِ مجلس، بھئی جیسے ایک شخص جب مجلس سے اٹھ جائے، مثلاً بائع نے کہا میں نے یہ گاڑی تمہیں بیچ دی پانچ لاکھ میں، مشتری اس کی بات سن کر اٹھ کر چل دیا، یہ اٹھ کر چلنا کس چیز پر دلالت کر رہا ہے؟ اعراض پر، معلوم ہوا اسے یہ سودا منظور نہیں جبھی اٹھ کر جا رہا ہے۔ تو جس طرح یہ اٹھ کر جانا اعراض پر دلالت کر رہا ہے، اس طرح کوئی بھی کام اسی مجلس کے اندر ہو جائے پھر بھی خیار وہ ختم ہو جائے گا مشتری کا بھئی، یعنی وہ ایجاب باطل ہو جائے گا۔
مثلاً بائع نے کیا کہا اس سے؟ کہ "میں نے گاڑی آپ کو پانچ لاکھ میں فروخت کر دی"، مشتری نے جو وہی مجلس میں بیٹھا ہے، وہیں پر بیٹھے بیٹھے اس نے موبائل نکالا اور اپنے دوست کا نمبر ملایا اور اس سے گپ شپ لگانا شروع کر دی، اب حالانکہ دونوں وہیں بیٹھے ہیں۔
یا چلو موبائل کی مثال چھوڑیں وہی بیٹھے بیٹھے ایک تیسرے ادمی کی طرف منہ کر کے اس سے اس نے بات چیت شروع کر دی۔ ویسے ہی کوئی اور بات چیت۔ یہ اس کا اس کی طرف رخ کر کے بات چیت کرنا ہی کس چیز پر دلالت کر رہا ہے؟ اعراض پر دلالت کر رہا ہے، لہذا خیار ختم ہو جائے گا بھئی۔ خیار کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا بھئی۔ تو خلاصۂ کلام یہ کہ کوئی ایسی چیز مشتری کی طرف سے پائی جائے جو اعراض پر دلالت کرے کہ یعنی وہ منہ موڑ رہا ہے، اسے یہ سودا پسند نہیں، تو اس صورت میں اس کا خیار ختم ہو جائے گا بھئی۔
معنی سمجھ میں اگیا بھئی؟ تو یہاں حدیث میں ایا کہ دو عقد دو بیع کرنے والے جو ہیں، ان کو اختیار ہے جب تک وہ دونوں متفرق نہ ہو جائیں۔ اور ہم نے کون سا معنی کیا؟ تفرق اقوال والا، جب تک دونوں اقوال میں متفرق نہ ہو جائیں۔ یعنی جب تک مشتری کوئی اور بات نہ شروع کر دے، اس وقت تک اسے اختیار ہے۔ وہ اگر اس نے کوئی اور بات شروع کر دی، تو یہ اعراض ہوا اور اب اسے قبول کرنے کا اختیار نہیں۔ کوئی اور بات کرنے کے بعد وہ کہتا ہے، "ٹھیک ہے، مجھے سودا قبول ہے۔" نہیں بھئی، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ اب اس کے لیے نیا ایجاب اور نیا قبول چاہیے اس کو۔ پہلا ایجاب تو اس نے جب اعراض والا کام کیا وہ خود ہی باطل ہو گیا۔ صورت سمجھ میں ارہی ہے؟
تو یہاں تو یہ مشتری کو اختیار ہوگا، جب تک تفرق اقوال یعنی اس کو خیار قبول ہے، جب تک وہ کوئی ایسا کام نہ کرے جو اعراض پر دلالت کرے۔ اور اسی طرح بائع کو بھی خیار ہے جب تک مشتری نے قبول نہیں کیا۔ وہ اپنے ایجاب کو باطل کر سکتا ہے۔ اس نے کیا کہا تھا؟ "میں نے گاڑی اپ کو پانچ لاکھ روپے میں فروخت کر دی۔" اب مشتری نے صرف کیا کرنا تھا؟ قبول کرنا تھا۔ لیکن اس کے قبول کرنے سے پہلے یہ کہتا ہے، "نہیں بھئی، میں نہیں بیچتا اپ کو گاڑی، بس ختم معاملہ۔" ایجاب کیا ہو گیا؟ ختم ہو گیا۔ صورت سمجھ میں اگئی؟ تو ہمارے نزدیک تفرق سے کیا مراد ہے؟ تفرق اقوال، کہ دونوں کے قول مختلف ہو جائیں۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک تفرق ابدان مراد ہے بھئی۔
والامتناع اي امتناع الراوي عن العمل به اور باز رہنا یعنی راوی کا باز رہنا، رک جانا عن العمل به اس حدیث پر عمل کرنے سے مثل العمل بخلافه یہ بھی اس حدیث کے خلاف عمل کرنے ہی کی مثل ہے۔ بھئی، راوی اگر حدیث پر عمل نہیں کرتا، حدیث کے خلاف تو نہیں اس نے عمل کیا لیکن جو حدیث ہے اس پر وہ خود عمل نہیں کر رہا، تو خود حدیث پر عمل نہ کرنا یہ بھی کس طرح ہے؟ جیسے کہ وہ حدیث کے خلاف اور حدیث پر خلاف عمل کرنے کی صورت میں کیا ہوتا تھا؟ حدیث ساقط العمل ہوتی تھی، تو یہاں بھی حدیث کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہوگی بھئی۔
تو کہتے ہیں راوی کا رک جانا اس حدیث پر عمل کرنے سے یہ بھی اس حدیث کے خلاف عمل کرنے کی طرح ہی ہے۔ اي بخلاف ما رواه یعنی اس جو روایت کیا ہے اس کے خلاف کی طرح ہے۔ فيخرج عن الحجية پس یہ حدیث نکل جائے گی دلیل ہونے سے كما روى ابن عمر رضي الله تعالى عنهما جیسے کہ روایت کیا ہے عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے انه عليه الصلاة والسلام كان يرفع يديه عند الركوع وعند رفع الرأس من الركوع حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام وہ بلند کرتے تھے دونوں ہاتھوں کو رکوع کے وقت وعند رفع الرأس من الركوع اور جس وقت سر اٹھاتے تھے رکوع سے۔
بھئی، ہم تو صرف تکبیر تحریمہ کے وقت دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے ہیں بھئی، جبکہ شوافع جو ہیں وہ رکوع میں جاتے وقت بھی کیا کرتے ہیں؟ رفع یدین کرتے ہیں اور رکوع سے اٹھتے وقت بھی وہ رفع یدین کرتے ہیں۔ اور یہ جو روایت کیا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہ حضور علیہ السلام جب رکوع میں جاتے تھے طبعی تب بھی رفع یدین فرماتے تھے اور جس وقت رکوع سے سر اٹھاتے تھے اس وقت بھی رفع یدین فرماتے تھے۔ یہ روایت کی انہوں نے۔ وقد صح عن مجاهد رحمه الله تعالى اور تحقیق یہ صحیح طور پر ثابت ہے مجاہد رحمہ اللہ سے کہ انه قال کہ وہ فرماتے ہیں صحبت ابن عمر رضي الله تعالى عنهما کہ میں ساتھ رہا حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے عشر سنين 10 سال تک۔ میں 10 سال تک ان کے ساتھ رہا فلم اره رفع يديه إلا في تكبيرة الافتتاح پس میں نے نہیں دیکھا کہ انہوں نے اپنے ہاتھ اٹھائے ہوں سوائے تکبیر افتتاح کے۔ افتتاح یعنی ابتداء کے نماز ابتداء صلاۃ کے وقت صرف وہ ہاتھ اٹھاتے تھے، اس کے بعد پھر وہ نماز میں دوبارہ رفع یدین نہیں فرماتے تھے۔
تو یہ صحیح طور پر ثابت ہے مجاہد رحمہ اللہ سے۔ فترك العمل به دليل على انتساخه تو راوی کا اس پر عمل کو ترک کرنا یہ دلیل ہے اس حدیث کے منسوخ ہونے پر۔ یہ دلیل ہے، معلوم ہوا حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ یہ روایت تو کر رہے ہیں، لیکن وہ اس پر عمل نہیں کر رہے، معلوم ہوا ان کے نزدیک یہ حدیث منسوخ ہو چکی ہے بھئی۔
وعمل الصحابي بخلافه يوجب الطعن إذا كان الحديث ظاهرا لا يحتمل الخفاء عليه اور عمل کرنا صحابی کا اس حدیث کے خلاف يوجب الطعن یہ ثابت کرتا ہے طعن کو، یعنی اس حدیث پر طعن کو ثابت کرتا ہے إذا كان الحديث ظاهرا جبکہ وہ حدیث ظاہر ہو لا يحتمل الخفاء عليه ان پر مخفی رہنے کا احتمال نہ رکھتی ہو۔ بھئی، صحابہ اس حدیث پر عمل نہیں کر رہے۔ اور حدیث بھی اس قسم کی ہے کہ صحابہ پر مخفی نہیں رہ سکتی۔ صحابہ پر مخفی نہیں رہ سکتی۔ یعنی عام مشہور مسئلے سے متعلق ہے وہ حدیث۔ جب مشہور مسئلے سے اور واقعے سے تعلق ہے جو پیش اتا رہتا ہے، تو پھر تو صحابہ کو ضرور علم ہونا چاہیے تھا، لیکن صحابہ اس حدیث کے خلاف عمل کر رہے ہیں، تو اس صورت میں بھی یاد رکھیے۔ یہ بھی حدیث ساقط العمل ہوگی۔
کیونکہ صحابہ سے حدیث مخفی نہیں رہ سکتی، خصوصاً مشہور واقعے کے بارے میں۔ وہ تو سب سے بڑھ کر دین پر عمل کرنے والے تھے، تو اگر مشہور مسئلہ ہے اور وہ پھر بھی حدیث پر عمل نہیں کرتے، معلوم ہوا یہ حدیث قابل عمل نہ رہے گی۔ منها ههنا شروع في الطعن من غير الراوي یہاں سے شروع ہوئے اس طعن کے اندر من غير الراوي جو غیر راوی کی وجہ سے ہو۔ پہلے تو تھا وہ طعن جو حدیث کو لاحق ہوتا ہے کس کی وجہ سے؟ راوی کی وجہ سے، کہ راوی اس حدیث کے خلاف عمل کر رہا ہے یا اس کو سرے سے عمل ہی نہیں کر رہا وغیرہ۔ جبکہ یہ وہ طعن ہے جو کہ غیر راوی کی وجہ سے آئے بھئی۔ سمجھ میں ایا؟ تو یہاں صحابہ حدیث پر عمل نہیں کر رہے، یہ اس راوی کی بات نہیں کر رہے ہم جو روایت کر رہا ہے، عام صحابی جو ہیں وہ صحابہ اس پر عمل نہیں کر رہے بھئی۔
ومثاله اور مثال اس کی ما روى عبادة بن الصامت وہ جو روایت کیا عبادہ ابن صامت رضی اللہ تعالی عنہ نے انه عليه الصلاة والسلام قال کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا البكر بالبكر جلد مائة وتغريب عام البكر بالبكر اي عقوبة زناء البكر بالبكر غیر شادی شدہ کے غیر شادی شدہ سے زنا کی سزا جلد مائة وہ سو کوڑے ہیں وتغريب عام اور ایک سال کی جلاوطنی ہے۔ تغریب کہتے ہیں جلاوطنی اور عام کہتے ہیں سال کو۔ البكر بالبكر ترکیب میں نے بیان کی بھئی، کس طرح ہے؟ عقوبة زناء البكر بالبكر، غیر شادی شدہ سے غیر شادی شدہ کے زنا کی سزا، وہ سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے۔
فیتمسک به الشافعی رحمہ اللہ، استدلال کرتے ہیں اسی حدیث سے امام شافعی رحمہ اللہ ويجعل النفي إلى عام اور وہ قرار دیتے ہیں النفي إلى عام ایک سال کی جلاوطنی کو جزءا من الحد حد کا جز۔ ويجعل النفي إلى عام جزءا من الحد اور امام شافعی رحمہ اللہ وہ ایک سال کی جلاوطنی کو حد کا جز قرار دیتے ہیں کہ یہ بھی حد ہی کا جز ہے۔ غیر شادی شدہ غیر شادی شدہ سے زنا کر لے، تو سو کوڑے بھی لگانے پڑیں گے اور ایک سال کے لیے جلاوطن بھی کرنا پڑے گا، یہ حد کا جز ہے، حد میں داخل ہے۔ ونحن نقول اور ہم کہتے ہیں ان عمر رضي الله تعالى عنه نفي رجلا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جلاوطن کیا ایک ادمی کو فارتد تو وہ مرتد ہو گیا ولحق بالروم اور روم چلا گیا فحلف تو اپ نے قسم اٹھائی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان لا ينفي احدا ابدا کہ وہ جلاوطن نہیں کریں گے کسی ایک کو بھی ہمیشہ یعنی، یعنی کبھی بھی اب وہ کسی کو جلاوطن نہیں کریں گے۔ فلو كان النفي حدا اگر یہ جلاوطنی حد ہوتی لما حلف على تركه تو وہ اس کے چھوڑنے پر قسم نہ اٹھاتے۔
بھئی، حد تو وہ ہے جو من جانب اللہ مقرر ہے، کسی کو اس میں تبدیلی کرنے کا کوئی اختیار نہیں، اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے زمانے میں ایک شخص کو جلاوطن کیا تھا اور پھر وہ مرتد ہو گیا، تو اپ نے قسم اٹھا لی کہ اج کے بعد کسی کو جلاوطن نہیں کریں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا اس جلاوطنی کو چھوڑنے پر قسم اٹھانا یہ بتلا رہا ہے کہ یہ جلاوطنی حد کا جز نہیں۔ اگر یہ حد کا جز ہوتی تو حد کے اندر تو کسی انسان کو تبدیلی کرنے کی اجازت نہیں ہے بھئی۔ معلوم ہوا یہ حد کا جز نہیں، بلکہ یہ جلاوطنی بطور سیاست کے ہے۔ کس کے ہے؟ بطور سیاست کے، یعنی انتظامی امور کے اعتبار سے ہے کہ سو کوڑے کو لوگ سمجھ کر مثلاً زنا سے باز ہی نہیں اتے، تو سیاسۃً خلیفہ کیا کر سکتا ہے؟ ایک سال کے لیے جلاوطن بھی کر سکتا ہے تاکہ لوگ ڈر جائیں اور رک جائیں۔
فعلم ان النفي منه كان سياسة لا حدا تو معلوم ہوا کہ جلاوطن کرنا حضرت عمر کی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے یہ بطور سیاست کے تھا، حد کے طور پر نہیں تھا۔ وحديث الحدود كان ظاهرا لا يحتمل الخفاء على الخلفاء الذين نصبوا لإقامة الحدود اور حدود کی حدیث جو ہے وہ تو ظاہر ہے، وہ احتمال احتمال نہیں رکھتی خفا کا خلفائے راشدین پر الذين نصبوا لإقامة الحدود جو اٹھے تھے حدود کو قائم کرنے کے لیے۔ وہ خلفاء جو اٹھے تھے حدود کو قائم۔ خلفائے راشدین تو اٹھے ہی اس مقصد کے لیے تھے کہ وہ کیا کریں گے؟ حدود قائم کریں گے، تو یہ حدود کی حدیث یہ جو اوپر ذکر ہوئی، یہ معلوم ہوا اس میں کہیں انقطاع وغیرہ ہے ورنہ یہ حدیث ان پر مخفی نہیں رہ سکتی تھی۔
واحت رز به عما كان يحتمل الخفاء عليهم اور احتراز کیا اس کے ذریعہ، جو متن میں ہے نہ "كان إذا كان الحديث ظاهرا لا يحتمل الخفاء عليهم" اس کے ذریعہ اس قید کے ذریعہ احتراز کیا عما كان يحتمل الخفاء عليهم اس حدیث سے جو ان پر مخفی ہونے کا احتمال رکھتی ہو فانه لا يوجب جرحا فيه تو یہ اس حدیث میں جرح کو ثابت نہیں کرتا۔ اگر حدیث اس قسم کی ہے کہ جو مخفی رہ سکتی تھی ان سے، تو اس سے اس حدیث پر طعن ثابت نہیں ہوگا بھئی۔ كحديث وجوب الوضوء بالقهقهة في الصلاة جیسے کہ نماز میں قہقہے کی وجہ سے وضو کے واجب ہونے کی حدیث ہے۔ رواه زيد بن خالد الجهني روایت کیا ہے اس کو زید ابن خالد جہنی نے وابو موسى الأشعري لم يعمل به اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ نے اس حدیث پر عمل نہیں کیا۔ وذلك لا يوجب كونه جرحا عليه اور یہ اس حدیث پر جرح کو ثابت نہیں کرتا کہ صحابی اس پر عمل نہیں کر رہے۔ لانه من الحوادث النادرة التي تحتمل الخفاء على ابي موسى الأشعري اس لیے کیونکہ یہ ان نادر واقعات میں سے ہیں جو احتمال رکھتے ہیں مخفی رہنے کا مخفی ہونے کا ابو موسیٰ اشعری۔ نماز میں قہقہہ لگانا یہ تو بڑا ہی نادر الوقوع ہے بھئی، نادر الوقوع، تو اس وجہ سے ہو سکتا ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری پر یہ حدیث مخفی رہی ہو بھئی۔
بات سمجھ میں اگئی بھئی؟ تو اس سے حدیث پر طعن نہیں کہ یہ حدیث یوں کہا جائے یہ حدیث قابل عمل نہیں، نہیں بھئی، اس کی وجہ سے حدیث پر طعن نہیں ہو سکتا۔ صاحب کتاب اور اس طرح بعض نے تو یہ لکھا ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رحمہ اللہ نے اس پر عمل نہیں فرمایا، یعنی یہ ان کا مذہب نہیں۔ لیکن دیگر علماء لکھتے ہیں جیسے امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب تھا بھئی۔ وہ بھی قہقہے کی وجہ سے نماز کے ساتھ ساتھ وضو کے بھی واجب ہونے کے قائل تھے۔
والطعن المبهم من ائمة الحديث لا يجرح الراوي عندنا اور مبہم طعن ائمہ حدیث کی طرف سے یہ راوی کو مجروح نہیں کرتا ہمارے نزدیک۔ بھئی ائمہ حدیث بھئی، ائمہ حدیث وہ طعن کرتے ہیں حدیث پر، لیکن وہ طعن مبہم قسم کا ہے۔ اس سے اس وہ راوی مجروح نہیں ہوگا بھئی۔ اس کی وجہ سے وہ راوی مجروح نہیں ہوگا۔ مثلاً بھئی ائمہ حدیث کہہ دیتے ہیں، فرما دیتے ہیں کہ یہ حدیث مجروح ہے۔ ایک راوی نے ایک روایت کی، ائمہ حدیث کیا فرما دیتے ہیں اس کے بارے میں؟ ائمہ حدیث میں سے کوئی یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ راوی یہ حدیث مجروح ہے، یا یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ حدیث منکر ہے۔ یہ حدیث کیا ہے؟ منکر ہے۔ یا یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں تو اس کا علم نہیں۔ تو یہ طعن مبہم ہے۔ یہ جو انہوں نے کہا یہ حدیث مجروح ہے، وجہ نہیں ذکر کی بھئی، کس اعتبار سے مجروح ہے؟ یا یہ حدیث منکر ہے، غیر معروف ہے، تو بھئی کس وجہ سے؟ وجہ نہیں ذکر کی۔ تو یہ طعن کس قسم کا ہوا؟ مبہم۔ اور کس پر طعن کیا انہوں نے؟ حدیث پر۔ تو اس سے راوی کی عدالت پر کوئی اثر نہیں پڑتا بھئی۔
تو کہتے ہیں والطعن المبهم من ائمة الحديث لا يجرح الراوي عندنا، مبہم طعن ائمہ حدیث کی طرف سے یہ مجروح نہیں کرتا راوی کو ہمارے نزدیک بان يقول بایں طور کہ یوں کہتے ہیں هذا الحديث مجروح کہ یہ حدیث مجروح ہے او منكر یا یہ حدیث منکر ہے او نحوهما یا اس جیسے الفاظ فیعمل به تو اس پر کیا کیا جائے گا؟ عمل کیا جائے گا بھئی۔ إلا إذا وقع مفسرا بما هو جرح متفق عليه الكل مگر یہ کہ جب وہ واقع ہو اس حال میں کہ اس کی تفسیر کی گئی ہو اس چیز کے ساتھ جو جرح ہو، ایسی جرح متفق عليه الكل کہ سب اس پر متفق ہوں۔ سب اس پر کیا ہوں؟ بھئی، طعن کرتے ہیں اور ساتھ مثلاً هذا الحديث مجروح یا هذا الحديث منكر یہ کہتے ہیں، ساتھ وجہ بھی ذکر کر دیتے ہیں اور ایسی وجہ ذکر کر دی جو سب کے نزدیک باعث طعن ہے۔ سب کے نزدیک وہ جرح ہے، تو پھر اس صورت میں حدیث قابل عمل نہ رہے گی بھئی۔
سمجھ میں ایا بھئی؟ یہ معنی ہے إلا إذا وقع مفسرا مگر یہ کہ جب وہ طعن واقع ہو مفسرا اس حال میں کہ اس کی تفسیر کی گئی ہو بما اس چیز کے ساتھ هو جرح جو کہ جرح ہو۔ ایسی جرح متفق عليه الكل کہ سب اس پر متفق ہوں کہ یہ جرح ہی ہے اس طریقے پر اس کی تفسیر کر دی۔ اس قسم کی تفسیر کر دی، تو اس سے راوی مجروح ہوگا۔ لا مختلف فيه، مختلف فیہ نہ ہو یعنی اس میں ان کا اختلاف نہ ہو، بھئی اختلاف کی صورت میں کہ تفسیر کی اس قسم کی بحيث يكون جرحا عند بعض دون بعض کہ وہ بعض کے نزدیک تو جرح ہے، بعض کے نزدیک جرح نہیں ہے۔ اس قسم کی تفسیر کر دی، تو اس سے راوی مجروح نہیں ہوگا۔ ومع ذلك يكون الجرح
صَادِرًا مِمَّنِ اشْتَهَرَ بِالنَّصِيحَةِ دُونَ التَّعَصُّبِ، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ جرح جو ہے، وہ صادر ہوئی ہو مِمَّن اس شخص سے اشْتَهَرَ بِالنَّصِيحَةِ جو مشہور ہو خیر خواہی کے ساتھ دُونَ التَّعَصُّبِ نہ کہ تعصب۔ یعنی یہ جو جرح کرنے والا ہے، یہ جرح کرنے والا اس قسم کا شخص ہو جو مشہور ہے دین میں خیر خواہی کے ساتھ نہ کہ تعصب کے ساتھ، تعصب کرنے والا نہ ہو۔ لِأَنَّ الْمُتَعَصِّبِينَ قَدْ أَخَلُّوا الدِّينَ كَثِيرًا، اس لیے کیونکہ تعصب کرنے والوں نے تحقیق خلل ڈالا ہے دین کے اندر بہت زیادہ، وَيَجْعَلُونَ الْمَكْرُوهَ حَرَامًا وَالْمَنُودَبَ فَرْضًا، اور یہ مکروہ کو حرام قرار دے دیتے ہیں اور مندوب یعنی مستحب کو فرض۔ یہ ہر چیز میں انتہا درجے کی شدت سے کام لیتے ہیں، یہاں تک کہ مکروہ کو ہی کیا کہہ دیتے ہیں؟ حرام۔ انتہا درجے کی سختی کرتے ہوئے اور اسی طرح عمل کے اندر مستحب کو فرض قرار دے دیتے ہیں اپنی شدت کی وجہ سے بھئی، شدت کی وجہ سے۔
فَلَا يُعْتَبَرُ بِجَرْحِ هَؤُلَاءِ الْقَاصِرِينَ، تو کوئی اعتبار نہیں ہے ان ان کوتاہی کرنے والوں کی جرح کا۔ حَتَّى لَا يُقْبَلَ الطَّعْنُ بِالتَّدْلِيسِ، یہاں تک کہ قبول نہیں کیا جائے گا تدلیس کی وجہ سے طعن کو۔ بھئی انہوں نے بتلایا کہ جرح جو ہے، وہ ایسے شخص کی طرف سے ہونی چاہیے جو مشہور ہو دین میں خیر خواہی کے ساتھ، نہ کہ تعصب کے ساتھ۔ یہاں تک کہ قبول نہیں کیا جائے گا تدلیس کی وجہ سے طعن کو بھئی۔
وَهُوَ فِي اللُّغَةِ كِتْمَانُ عَيْبِ السِّلْعَةِ عَنِ الْمُشْتَرِي، سلعة کہتے ہیں سامان کو بھئی، كتمان کا معنی چھپانا۔ وَهُوَ فِي اللُّغَةِ كِتْمَانُ عَيْبِ السِّلْعَةِ عَنِ الْمُشْتَرِي، اور وہ عربی زبان میں مشتری سے سامان کے عیب کو چھپانا ہے۔ وَفِي اصْطِلَاحِ الْمُحَدِّثِينَ كِتْمَانُ التَّفْصِيلِ فِي الْإِسْنَادِ، اور محدثین کی اصطلاح میں كِتْمَانُ التَّفْصِيلِ فِي الْإِسْنَادِ حدیث کی سند بیان کرنے میں تفصیل کو چھپانا ہے، بِأَنْ يَقُولَ حَدَّثَنَا فُلَانٌ عَنْ فُلَانٍ إِلَى آخِرِهِ، بایں طور کہ روایت کرنے والا یوں کہتا ہے حَدَّثَنَا فُلَانٌ عَنْ فُلَانٍ، وَلَا يَقُولُ اور یوں نہیں کہتا حَدَّثَنَا فُلَانٌ کہ ہم سے حدیث بیان کی فلاں نے، قَالَ أَخْبَرَنَا فُلَانٌ اور اس فلاں نے کیا کہا تھا؟ قَالَ اس نے کہا تھا أَخْبَرَنَا فُلَانٌ کہ ہمیں فلاں نے خبر دی ہے۔
بھئی دیکھیے دو صورتیں آ گئیں، پہلی صورت کیا ہے؟ روایت کرنے والا یوں کہے حَدَّثَنَا فُلَانٌ عَنْ فُلَانٍ، دوسری صورت یہ ہے حَدَّثَنَا فُلَانٌ قَالَ أَخْبَرَنَا فُلَانٌ۔ دوسری صورت میں دیکھو پتہ چل رہا ہے کہ یہ اپنے جس شیخ سے روایت کر رہا ہے یعنی یہ جو فلاںِ اول ذکر ہے، یہ جو شیخ ہے اس نے کس طرح اس کے سامنے حدیث روایت کی تھی؟ اس نے کہا تھا أَخْبَرَنَا فُلَانٌ، کیا کہا تھا؟ فلاں نے ہمیں خبر دی ہے، مثلاً یہ فلاں تو کنایہ ہے نام سے، وہ نام ذکر کرتے ہیں۔ فلاں نے ہمیں خبر دی تھی، تو یہ اس راوی کے استاد کا یہ کہنا أَخْبَرَنَا فُلَانٌ کیا بتلاتا ہے؟ کہ اس استاد کی اس شخص سے ملاقات ہوئی تھی۔ استاد کی اپنے استاد سے جس سے وہ روایت کر رہا ہے ملاقات ہوئی تھی اور اس اس سے سنی تھی حدیث جبھی کہہ رہا ہے أَخْبَرَنَا فُلَانٌ کہ اس نے ہمیں یہ حدیث بیان کی، یہ حدیث بیان کی۔
اور تو یہ ایک صورت ہے جس میں دیکھیے راویوں کا راویوں سے ملنا اور سماع پتہ چل رہا ہے ہر ایک کا، اور دوسری صورت یہ ہے کہ اس تفصیل کو روایت کرنے والا چھپا دیتا ہے اور یوں کہتا ہے حَدَّثَنَا فُلَانٌ عَنْ فُلَانٍ، کہ فلاں میرے استاد نے یہ حدیث بیان کی ہے عَنْ فُلَانٍ اپنے فلاں فلاں راوی سے، تو یہ عَنْ کا لفظ بیچ میں لے آیا، اب عَنْ کے لفظ کی وجہ سے تفصیل کا پتہ نہیں چل رہا کہ یہ جو اس راوی کا استاد ہے، اس کی اب اس سے جسے یہ روایت کر رہا ہے، اس نے خود اس سے براہِ راست سنا تھا یا درمیان میں کوئی اور واسطہ ہے؟ تو عَنْ کی وجہ سے یہ پتہ نہیں چل رہا، اس میں دونوں احتمال آ گئے۔ تو دیکھیے عَنْ کی وجہ سے تفصیل کو چھپا دیا روایت کرنے والے نے، کیا کیا؟ تفصیل کو چھپا دیا، یہ ہے تدلیس بھئی۔
تو کہ بِأَنْ يَقُولَ بایں طور کہ یوں کہتا ہے راوی حَدَّثَنَا فُلَانٌ عَنْ فُلَانٍ إِلَى آخِرِهِ، وَلَا يَقُولُ اور یوں نہیں کہتا حَدَّثَنَا فُلَانٌ قَالَ أَخْبَرَنَا فُلَانٌ إِلَى آخِرِهِ، تو یوں نہیں کہتا۔ لِأَنَّ غَايَتَهُ اس لیے کیونکہ اس کی غرض یہ ہے ك أَنَّهُ يُوهِمُ شُبْهَةَ الْإِرْسَالِ کہ وہ ارسال کے شبہے کا وہم ڈالنا چاہتا ہے۔ کس چیز کا وہم ڈالنا چاہتا ہے؟ ارسال کسے کہتے تھے؟ کہ حدیث میں ایک یا دو یا زیادہ یا سارے ہی راوی ذکر نہ ہوں، تو یہ ارسال کا شبہ ڈالنا چاہتا ہے کہ یہاں شبہ پڑتا ہے نا کہ شاید ملاقات ہوئی ہو اور یہ بھی کہ اور شاید ملاقات نہ ہوئی ہو کہ درمیان میں کوئی راوی چھوٹ گیا ہو، تو ارسال کا شبہ پڑتا ہے۔ تو اس کی غرض یہ ہے کہ وہ ارسال کا شبہ ڈالنا چاہتا ہے۔ وَحَقِيقَةُ الْإِرْسَالِ لَيْسَتْ بِجَرْحٍ فَشُبْهَتُهُ أَوْلَى، اور حقیقتِ ارسال جو ہے وہ جرح نہیں ہے، تو شبۂ ارسال بطریقِ اولیٰ جرح نہیں ہے بھئی۔
وَالتَّلْبِيسِ، اس کا عطف بھی تدلیس پر ہے، اور طعن کو قبول نہیں کیا جائے گا تلبیس کی وجہ سے۔ تلبیس کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں وَهُوَ أَنْ يَذْكُرَ الرَّاوِي شَيْخَهُ بِالْكُنْيَةِ لَا بِالِاسْمِ، وہ یہ کہ راوی اپنے شیخ کو کنیت کے ساتھ ذکر کرتا ہے نہ کہ نام کے ساتھ۔ کنیت وہ نام جس کے شروع میں ام یا اب یا ابن کا لفظ آئے بھئی، مثلاً ابنِ عمر، یہ کیا ہوگی؟ کنیت، یا ابو عمرو، یہ کیا ہوگی؟ کنیت۔ تو راوی جو ہے اپنے شیخ کو کنیت کے ساتھ ذکر کرتا ہے نہ کہ نام کے ساتھ، أَوْ يَذْكُرَهُ بِصِفَةٍ غَيْرِ مَشْهُورَةٍ یا اس کو ذکر کرتا ہے کسی غیر مشہور صفت کے ساتھ حَتَّى لَا يُعْرَفَ فِيمَا بَيْنَ النَّاسِ تاکہ یہ پہچانا نہ جائے لوگوں میں سے وَلَا يَطْعَنُوا عَلَيْهِ اور علماء اس پر طعن نہ کریں۔
اور علماء اس حدیث پر طعن نہ کریں، بھئی دیکھیے۔ راوی روایت کر رہا ہے ایک ایسے شیخ سے جس پر علماء نے طعن کیا تھا، کیا کیا تھا؟ بعض نے اس پر طعن کیا ہے۔ تو بعضوں نے اس پر کیا کیا؟ طعن کیا، یہ اب اس سے روایت کر رہا ہے۔ تو جب یہ اس سے روایت کرے گا، تو سند میں اس کا نام آئے گا۔ جب سند میں اس کا نام آئے گا، تو لوگ کہیں گے بھئی، علماء کہیں گے کہ یہ تو فلاں راوی سے روایت ہے اور وہ تو اتنا قوی نہیں، تو حدیث بھی اس درجے کی قوی نہ رہے گی۔ چنانچہ وہ کیا کرتا ہے؟ اس راوی جو جس پر طعن کیا گیا تھا، اس کے نام کے بجائے اس کی کنیت ذکر کر دیتا ہے یا اس کی کوئی ایسی صفت ذکر کر دیتا ہے جو مشہور نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ ہے تلبیس، اور یہ کس لیے کرتا ہے؟ تاکہ پھر اس حدیث پر کوئی طعن نہ کرے بھئی، میری اس روایت پر کوئی طعن نہ کرے۔
یہ معنی ہے حَتَّى لَا يُعْرَفَ فِيمَا بَيْنَ النَّاسِ تاکہ وہ پہچانا نہ جائے لوگوں کے بیچ میں سے وَلَا يَطْعَنُوا عَلَيْهِ اور علماء اس پر طعن نہ کریں اس حدیث پر، كَمَا يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ جیسے کہ حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حدیث بیان کی ابو سعید نے، کنیت کو ذکر کیا۔ وَهُوَ كُنْيَةٌ لِلْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَالْكَلْبِيِّ جَمِيعًا، اور یہ کنیت ہے حسن بصری اور کلبی دونوں کی، اور حسن بصری رحمہ اللہ وہ تو ثقہ ہیں، قابلِ اعتماد ہیں اور کلبی جو ہیں ان پر کیا کیا گیا ہے؟ طعن کیا گیا ہے۔ تو یہ روایت تھی کلبی کی اور انہوں نے کس کے ساتھ ذکر کر دیا؟ اس کی کنیت ابو سعید کے ساتھ، تاکہ لوگوں کو پتہ علماء کو پتہ نہ چلے بھئی۔
وَوَقَعَ فِي بَعْضِ النُّسَخِ هَاهُنَا قَوْلُهُ وَالْإِرْسَالِ، اور بعض نسخوں میں یہاں پر مصنف کا قول وَالْإِرْسَالِ بھی آیا ہے۔ اس کا بھی عطف اسی پر ہوگا کہ یہاں تک کہ قبول نہیں کیا جائے گا طعن کو ارسال کی وجہ سے، تو یہاں پر بعض نسخوں میں یہ لفظ بھی آیا ہے طَبَعًا لِفَخْرِ الْإِسْلَامِ اتباع کرتے ہوئے کس کا؟ علامہ فخر الاسلام کا، ان کا اتباع کرتے ہوئے متن میں ذکر کیا ہے۔ وَهُوَ لَيْسَ بِطَعْنٍ أَيْضًا عَلَى مَا قَدَّمْنَا، اور یہ بھی طعن نہیں ہے بناء پر اس کے جو ہم نے پیچھے جو ہم نے پہلے ذکر کر دیا۔
وَرَكْضِ الدَّابَّةِ، اور اسی طرح طعن کو قبول نہیں کیا جائے گا جانور کو ایڑ لگانے کی وجہ سے۔ رکض، رکض کا معنی ہے ایڑ لگانا، دابة، جانور بھئی، مراد گھوڑے ہیں بھئی۔ بھئی آپ نے اگر دیکھا ہو گھڑ سوار گھوڑا دوڑاتے ہوئے اپنے دونوں پاؤں اور گھٹنے اس پر مارتا ہے اس کو تیز دوڑانے کے لیے، اس کو تیز دوڑانا، اس کو کہتے ہیں ایڑ لگانا بھئی، تیز دوڑانا اس کو۔ تو کہتے ہیں وَرَكْضِ الدَّابَّةِ، مراد ہے گھوڑے دوڑانا، ایڑ لگانا گھوڑے کو ایڑ لگایا یعنی گھوڑے دوڑانا۔ یہاں تک کہ قبول نہیں کیا جائے گا طعن کو گھوڑے دوڑانے کی وجہ سے، كَمَا يَطْعَنُ بَعْضُ الْأَقْرَانِ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ جیسے کہ اعتراض کرتے ہیں بعض ہم عصر محمد ابن الحسن پر، ان کے بعض ہم عصر کیا کرتے ہیں ان پر؟ طعن کرتے ہیں بِذَلِكَ اس کے ذریعے کہ یہ گھوڑے دوڑاتے تھے۔ حالانکہ گھوڑے دوڑانا یہ تو ایک جائز کام ہے، سمجھ میں آئی بات؟ گھوڑے دوڑانا جائز کام ہے، ہاں حرام کب ہوگا؟ جب اس میں شرط وغیرہ اس قسم کی چیزیں آ جائیں تو پھر حرام ہو جائے گا بھئی۔
تو بعض ہم عصروں نے طعن کیا ہے محمد ابن حسن پر اس کے ساتھ، وَهُوَ أَمْرٌ مَشْرُوعٌ اور یہ ایک مشروع چیز ہے، مشروع امر ہے، جائز امر ہے مِنْ أَصْحَابِ الْجِهَادِ، أي ثَابِتٌ مِنْ أَصْحَابِ الْجِهَادِ، أَمْرٌ مَشْرُوعٌ ثَابِتٌ مِنْ أَصْحَابِ الْجِهَادِ، یہاں ثابت کا لفظ یاد رکھنا بھئی، ورنہ ترجمہ مشکل ہو جائے گا آپ کے لیے۔ یہ صفتِ ثانی ہے امرٌ کی، پہلی صفت مشروعٌ، دوسری صفت کیا آئی؟ ثَابِتٌ مِنْ أَصْحَابِ الْجِهَادِ، یہ ایک ایسا جائز کام ہے ثَابِتٌ مِنْ أَصْحَابِ الْجِهَادِ جو ثابت ہے کس سے؟ جہاد کرنے والوں سے، وہ بھی گھوڑے تیار رکھتے ہیں کس لیے؟ جہاد کی تیاری کے لیے، فَلَا يَصْلُحُ جَرْحًا، یہ جرح کی صلاحیت نہیں رکھتا کہ اس کو جرح قرار دیا جائے۔
وَالْمُزَاحِ، وَالْمُزَاحِ اور اسی طرح مزاح کرنا، خوش طبعی کرنا، یہ بھی متن ہے بھئی یاد رکھیے۔ متن ہے۔ اردو میں مزاح لفظ استعمال ہوتا ہے، لیکن اصل میں یہ مزاح ہے میم کے ضمہ کے ساتھ عربی میں۔ جیسے عربی میں لفظ ہے محال، اردو میں محال استعمال ہوتا ہے بھئی، یہ اسی طرح شائع ہو گیا، اور الرائج الغلط أصح من الفصيح غير الرائج، جو غلط چیز بھی شائع اور شائع ہو جائے وہ زیادہ فصیح ہے کس کے مقابلے میں؟ صحیح غیر شائع کے مقابلے میں بھئی۔ تو المزاح اس کا بھی اسی پر عطف ہے کہ طعن کو قبول نہیں کیا جائے گا خوش طبعی کرنے کی وجہ سے، وَهُوَ لَا يَصْلُحُ جَرْحًا اور یہ جرح کی صلاحیت نہیں رکھتا کہ اس کو یہ جرح ہو، لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يُمَازِحُ كَثِيرًا اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام بہت مزاح فرماتے تھے وَلَا يَقُولُ إِلَّا حَقًّا لیکن وہ صرف حق ہی فرماتے تھے، كَمَا قَالَ لِعَجُوزٍ جیسے کہ آپ نے فرمایا ایک بوڑھی عورت سے کہ بوڑھی عورت سے فرمایا إِنَّ الْعَجَائِزَ لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ کہ بوڑھی عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی۔ بوڑھی عورت آئی دعا کے لیے، کہا کہ میرے لیے جنت کی دعا فرمائیے۔ حضور علیہ السلام نے فرمانے لگے بوڑھی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گی، تو وہ رونے لگ پڑی۔ فَلَمَّا وَلَّتْ تَبْكِي پس جب وہ واپس پلٹی روتے ہوئے قَالَ أَخْبِرُوهَا تو حضور علیہ السلام نے فرمایا اس کو بتلا دو بِقَوْلِهِ تَعَالَى اللہ تعالیٰ کا یہ قول: إِنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنْشَاءً کہ ہم ان کو پیدا کریں گے، فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا پس ہم ان کو بنائیں گے باکرہ، عُرُبًا عُرُب جمع ہے عَرُوب کی، اور وہ بیوی جو خاوند کی محبوب ہو، اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ عَرُوب۔ تو ہم ان کو باکرہ خاوند کی محبوب بنا دیں گے۔
وَحَدَاثَةِ السِّنِّ، اور اسی طرح نو عمری، کم عمری بھئی، حَداثَةُ السِّنِّ کا کیا معنی؟ کم عمری۔ اس کا بھی اسی پر عطف ہے تدلیس پر، اور قبول نہیں کیا جائے گا طعن کو کم عمری کی وجہ سے، أَيْ صِغَرِهِ یعنی چھوٹا ہونے کی وجہ سے، كَمَا يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ لِأَبِي حَنِيفَةَ جیسے کہ سفیان ثوری امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں، وہ کہیں کم عمر تھے، ان کے سامنے کوئی بات کی ہوگی تو فرمانے لگے حضرت سفیان ثوری: مَا يَقُولُ هَذَا الشَّابُّ الْحَدِيثُ السِّنِّ عِنْدِي، یہ کم عمر یہ جوان کم عمر کیا کہہ رہا ہے میرے پاس؟
وَذَلِكَ اور یہ اس وجہ سے لِأَنَّ كَثِيرًا مِنَ الصَّحَابَةِ كَانُوا يَرْوُونَ فِي حَدَاثَةِ سِنِّهِمْ بِشَرْطِ الْإِتْقَانِ عِنْدَ التَّحَمُّلِ وَالْعَدَالَةِ عِنْدَ الْأَدَاءِ، اور یہ اس وجہ سے کہ بہت سے صحابہ جو ہیں وہ روایت کرتے تھے اس لیے کیونکہ بہت سے صحابہ وہ روایت کرتے تھے کم عمری میں بِشَرْطِ الْإِتْقَانِ عِنْدَ التَّحَمُّلِ، اتقان کہتے ہیں پختگی کو، بشرطِ پختگی کی شرط پر عِنْدَ التَّحَمُّلِ تحمل کے وقت، یعنی جب انہوں نے حدیث کو سنا تھا اس وقت پختگی تھی یعنی ذہن پختہ تھا، بات سمجھ میں آتی تھی، اس کو یاد رکھ سکتے تھے، وَالْعَدَالَةِ عِنْدَ الْأَدَاءِ اور ادا کے وقت عدالت کی شرط کے ساتھ، یعنی تحمل کے وقت اتقان کی شرط ہے اور ادا کے وقت عدالت کی شرط ہو تو پھر بھی حدیثِ سن کی روایت کو قبول کیا جائے گا۔
وَعَدَمِ الِاعْتِيَادِ بِالرِّوَايَةِ، اور روایت کا عادی نہ ہونا۔ اس کا بھی اسی پر عطف ہے، طعن کو قبول نہیں کیا جائے گا روایت کے عادی نہ ہونے کی وجہ سے، یعنی ایک راوی بہت کم احادیث روایت کرتا ہے تو یہ کوئی طعن والی بات نہیں ہے بھئی۔ فَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ لَمْ يَكُنْ مُعْتَادًا بِالرِّوَايَةِ، بے شک حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ معتاد بالروایۃ نہ تھے یعنی زیادہ روایات نہیں کرتے تھے، مَعَ أَنَّ أَحَدًا لَمْ يُعَادِلْهُ فِي الضَّبْطِ وَالْإِتْقَانِ باوجود اس کے کہ کوئی ایک بھی نہیں ہے ان کے برابر ضبط اور اتقان کے اندر بھئی، پختگی اور مہارت کے اندر۔
وَاسْتِكْثَارِ مَسَائِلِ الْفِقْهِ، اور اسی طرح مسائلِ فقہ کی کثرت بھئی، اس کی وجہ سے بھی طعن کو قبول نہیں کیا جائے گا، كَمَا طَعَنَ بِذَلِكَ بَعْضُ الْمُحَدِّثِينَ عَلَى أَصْحَابِنَا جیسے کہ طعن کیا ہے اس کے ذریعے بعض محدثین نے ہمارے فقہاء پر، بعض محدثین نے طعن کیا ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے بارے میں۔
کہ ٹھیک ہے، ان کا حافظہ بھی قوی ہے، سارا کچھ ہے، حدیث بھی ان کو بہت یاد ہیں، ان کی روایات قوی ہیں، لیکن فقہی مسائل کی طرف ان کی توجہ زیادہ ہے بھئی، فقہی مسائل کی طرف توجہ زیادہ ہے۔ طعن کیا بعض محدثین نے بھئی، تو کہتے ہیں نہیں بھئی، یہ بھی کوئی طعن والی بات نہیں ہے۔ "فَإِنَّ ذٰلِكَ دَلِيلُ قُوَّةِ الذِّهْنِ وَجَوْدَتِهِ" اسی کیونکہ یہ تو ذہن کی قوت، قوی ہونے اور اس کے عمدہ ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ فقہ آئے گی تو حدیث کی مراد پر انسان مطلع ہو گا بھئی۔
"وَقَدْ كَانَ أَبُو يُوسُفَ رحمه الله يَحْفَظُ عِشْرِينَ أَلْفَ حَدِيثٍ مِنَ الْمَوْضُوعِ" اور ابواب ابو یوسف رحمہ اللہ جو ہیں ان کو بیس ہزار ان کو یاد تھیں بیس ہزار موضوع احادیث۔ بیس ہزار ان کو موضوع احادیث یاد تھیں "فَمَا ظَنُّكَ بِالصَّحِيحِ" تو کیا گمان ہے آپ کا صحیح حدیث کے بارے میں، صحیح کتنی یاد ہوں گی؟ سمجھ میں آیا؟ تو یہ ہمارے فقہاء ہیں مولانا۔
بھئی، بات یہ بیان ہوئی تھی کہ ائمہ حدیث کی طرف سے مبہم طعن آئے تو اس سے راوی مجروح نہیں ہو گا۔ ہاں، اگر اس مبہم طعن کی کوئی وہ ایسی تفسیر کر دیں جو بالاتفاق جرح ہے تو پھر راوی مجروح ہو گا، ورنہ راوی مجروح نہیں ہو گا۔ اور نیز یہ بھی شرط ہے کہ یہ طعن کرنے والا کوئی متعصب نہ ہو، دین میں خیرخواہی کرنے والا ہو۔
چنانچہ اسی بنا پر تدلیس، تلبيس، ارسال، ركض الدابة، مزاح، حداثة السن، روایت کا عادی نہ ہونا، مسائلِ فقہ کی کثرت ان کی وجہ سے طعن کو قبول نہیں کیا جائے گا اگرچہ بعض متعصبین نے ان کی وجہ سے کیا کیا ہے؟ طعن کیا ہے، لیکن انہوں نے زیادہ شدت سے کام لیا، یہ کوئی طعن والی چیزیں نہیں ہیں بھئی، ان کی وجہ سے طعن کو قبول نہیں کیا جائے گا بھئی اور یہ جو طعن کرنے والے ہیں، یہ متعصبین ہیں بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔