Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-085

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 11 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 15
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔85 ثم لما كان خبر الواحد لم تبلغ رواته حد التواتر والشهرة فلا بد أن يعرف حال راويه بأنه إما معروف أو مجهول والمعروف إما معروف بالفقه أو بالعدالة والمجهول على خمسة أنواع فاشتغل ببيانه وقال: والراوي إن عرف بالفقه والتقدم بالاجتهاد كالمعلمين الراشدين والعبادلة. ثم لما كان خبر الواحد، پھر جب خبرِ واحد جو ہے لم تبلغ رواته حد التواتر والشهرة، جب اس کے راوی نہیں پہنچتے حدِ تواتر اور حدِ شہرت کو فلا بد أن يعرف حال راويه فلا بد أن يعرف حال راويه، پس ضروری ہوا کہ جانا جائے اس کے راوی کے حال کو بأنه إما معروف أو مجهول، بایں طور کہ وہ معروف ہے یا مجهول ہے والمعروف إما معروف بالفقه أو بالعدالة، اور معروف جو ہے وہ یا تو معروف بالفقه ہوگا یا معروف بالعدالة، معروف بالفقه کا کیا معنی ہے؟ کہ مجتہد ہوگا۔ والمجهول على خمسة أنواع، اور مجهول جو ہے وہ کتنی قسم پر ہے؟ پانچ قسم پر ہے۔ فاشتغل ببيانه، پس مصنف اس کے بیان میں پھر مشغول ہوئے، بھئی اب یہ راویوں کے بیان کرنے لگے ہیں بھئی، وقال اور فرمایا: والراوي إن عرف بالفقه، بھئی گزشتہ سبق میں میں نے آپ کو یہ مفصل بحث لکھوا دی تھی اور یہاں پر یہ بتلائیں گے راویوں کے احوال بتلائیں گے اور بتلائیں گے کہ اس کی روایت کو کب قبول کیا جائے گا اور کب قبول نہیں کیا جائے گا۔ اور بحث یہ بیان ہوگی یہاں پر کہ اگر قیاس کے مقابلے میں اگر حدیثِ مرفوع آ جائے خبرِ واحد تو کب حدیثِ مرفوع کو ترجیح دیں گے اور کب قیاس کو ترجیح دیں گے، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا یہ احناف کا یہ مذہب نہیں ہے بھئی، احناف کے نزدیک تو ضعیف حدیث بھی آ جائے تو وہ قیاس سے اولیٰ ہے۔ یہ بحث میں نے آپ کو تفصیل سے لکھوا دی اور ساتھ ساتھ ایک اور بحث بھی آ گئی کہ اگر دو نصوص میں تعارض آ جائے تو کیا کیا جائے گا؟ اور بتلایا تھا کہ فیصلہ کرنے کے پھر چار طریقے ہیں بھئی، چار طریقے، ایک ہمارا طریقہ ہے اور ایک شوافع کا طریقہ ہے کہ کہاں پر پہلے ترجیح یا نسخ یا ترجیح، نسخ اور جمع و تطبيق، جمع و تطبيق اور توقف وغیرہ پر کس طرح عمل کیا جائے گا۔ یہ والی بحث جو ہے، یہ جو چار طریقے ہیں کس طرح کس پر عمل کیا جائے گا، یہ بحث بھی مصنف بیان کریں گے لیکن یہ آگے 15، 20 صفحات بعد آئے گی، لیکن ابھی سے آپ نے لکھ لی، وہاں آپ انشاءاللہ اب آپ کو آسانی ہو جائے گی، جبکہ یہاں صرف یہ بیان کر رہے ہیں کہ اگر قیاس خبرِ واحد کے مقابلے میں آ جائے تو کس کو ترجیح دیں گے۔ تو اب دیکھیے کتاب پر وہی بحث کریں گے، مصنف فرماتے ہیں: والراوي إن عرف بالفقه والتقدم بالاجتهاد، اگر راوی جو ہے وہ معروف بالفقه ہو اور معروف ہو مقدم ہونے میں اجتہاد کی وجہ سے، اجتہاد کی وجہ سے وہ کیا ہے؟ مقدم، اس کا مقدم ہونا معروف ہو یعنی معروف بالفقه ہو اور اجتہاد کی وجہ سے اس کا مقدم ہونا معروف ہو، كالخلفاء الراشدين، جیسے کہ خلفائے راشدین ہیں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جیسے یہ ہیں والعبادلة، اور جیسے کہ عبادلہ ہیں، بھئی عبادلہ سے کون مراد ہیں؟ شارح آپ کو آگے بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں: وهو جمع عبدل، یہ کس کی جمع ہے؟ عبدل کی یہ جمع ہے بھئی، عبادلہ عبدل کی جمع ہے۔ وهو جمع عبدل، یہ کس کی جمع ہے؟ عبدل کی جمع ہے، مرخم عبد الله، جو عبداللہ کا مرخم ہے۔ بھئی سر فہم آپ پڑھ چکے ہیں کہ کبھی کبھار منادیٰ میں ترخیم کی جاتی ہے، ترخیم کا معنی ہے لغوی معنی ہے نرم بنانا اور ہلکا کرنا، تو یہاں بھی منادیٰ کے آخر میں چند حروف وغیرہ چند ایک یا دو حروف اڑا دیے جاتے ہیں نام کو ہلکا بنانے کے لیے، تو کیونکہ اصل مقصود آگے جو ہے وہ جوابِ ندا مقصود ہوتا ہے تاکہ یہ ندا سے جلدی فارغ ہو کر کیا بیان کر دیں آگے؟ جوابِ ندا بھئی، جوابِ ندا۔ تو کبھی کبھار منادیٰ میں ترخیم کی جاتی ہے اور اس کے آخر سے ایک دو حروف اڑا دیے جاتے ہیں، تو شارح کیا بتلا رہے ہیں آپ کو؟ کہ یہ عبادلہ کس کی جمع ہے؟ عبدل کی، اور عبدل ترخیم ہے مرخم ہے عبداللہ کا، یعنی اسی عبداللہ میں ترخیم کی کچھ حروف آخر سے اڑا دیے کیا بنا دیا؟ عبدل عبدل بنا دیا، اور پھر اس عبدل کی جمع کیا آئی؟ عبادلہ۔ لیکن یاد رکھیے یہاں شارح سے تسامح ہوا ہے بھئی، یہ عبدل عبداللہ کی ترخیم نہیں ہے، ترخیم تو صرف منادیٰ میں کی جاتی ہے اور باقی کسی مقام پر ضرورت ہو تو ضرورت کی بنا پر ترخیم کی اجازت ہے، ویسے ترخیم جائز نہیں، مثلاً ضرورتِ شعری ہے بھئی، شعر کا بعض اوقات وزن درست نہیں رہتا اگر پورا نام ذکر کیا جائے تو وہاں پھر کیا ہے؟ ترخیم کی گنجائش ہے، لیکن عام کلام کے اندر بغیر ضرورت کے ترخیم جائز نہیں کلامِ عرب کے اندر، تو شارح نے کہا کہ یہ عبداللہ کی سے میں ترخیم کی گئی ہے اور اس سے عبدل بنا لیا گیا حالانکہ ایسا نہیں، ہاں یہ تو ٹھیک ہے یہ عبادلہ جمع ہے عبدل کی، لیکن عبدل یاد رکھیے یہ لغت ہے عبد کے اندر، عبد کا کیا معنیٰ؟ غلام، تو یہ جو عبد لفظ ہے عربی کا اسی میں ایک لغت ہے عبدل بھئی، بعض عرب کیا کرتے ہیں؟ آخر میں لام ملا کر پڑھتے ہیں، عبد میں عبدل کہہ دیتے ہیں، زید میں زیدل کہہ دیتے ہیں، تو یہ عبد کے اندر ایک لغت ہے عبدل، اسی کی جمع ہے عبادلہ بھئی، تو یہ عبداللہ کے اندر ترخیم نہیں کی گئی یہاں پر بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: وهو جمع عبدل مرخم عبد الله، کہ یہ عبدل کی جمع ہے جو کہ مرخم ہے عبداللہ کا، والمراد بهم عبد الله بن مسعود مسعود رضی الله تعالى عنه وعبد الله بن عمر رضی الله تعالى عنه وعبد الله بن عباس رضی الله تعالى عنهما وقيل عبد الله بن زبير رضی الله تعالى عنهما ويلحق بهم زيد بن ثابت وأبي بن أبي بن كعب ومعاذ بن جبل وعائشة وأبو موسى الأشعري رضی الله تعالى عنهم. اچھا یہ عبادلہ سے مراد کون ہیں؟ یہ جمع تو عبدل کی ہے لیکن اس سے کون کون مراد ہیں؟ بتلایا کہ اس سے مراد عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہیں، اور بعضوں نے عبداللہ ابن زبیر کا بھی کہا کہ وہ بھی ان میں شامل ہیں، تو ان کے چونکہ ناموں کے شروع میں عبد کا لفظ آیا تھا تو اسی سے پھر کیا بنا لیا گیا؟ عبادلہ، اس سے یہ فقہاء صحابہ جو ہیں وہ مراد ہیں مجتہدین جی، اور ان ويلحق بهم اور انہی کے ساتھ ملایا گیا ہے زید ابن ثابت، ابی ابن کعب، معاذ ابن جبل، حضرت عائشہ، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بھی، وہ بھی انہی کے ساتھ ملحق ہیں۔ بھئی یہ عبادلہ سے یا تو یہ صحابہ مراد ہیں، یہ جن کے نام عبداللہ ہے بھئی، بعضوں نے کہا یہ تین صحابہ جو پہلے ذکر ہوئے یہ مراد ہیں، بعضوں نے عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی ان کے ساتھ ملایا، جبکہ بعض علماء نے لکھا ہے کہ عبادلہ سے صرف یہ والے تین چار صحابہ نہیں مراد بلکہ عبادلہ اصطلاح ہے ان تمام صحابہ کے لیے جو مجتہد تھے، وہ تمام صحابہ جو مجتہد تھے، چنانچہ حضرت زید ابن ثابت، ابی ابن کعب، معاذ ابن جبل، حضرت عائشہ عائشہ، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہم یہ سب بھی اسی کے میں داخل ہیں بھئی، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ كان حديثه حجة يترك به القياس خلافاً لمالك رحمه الله تعالى، کہتے ہیں جب راوی معروف بالفقه ہو جیسے خلفائے راشدین اور عبادلہ ہیں تو ان کی حدیث ایسی حجت ہوگی يترك به القياس کہ اس کی وجہ سے کیا کر دیا جائے گا؟ قیاس کو ترک کر دیا جائے گا بھئی، بھئی خبرِ واحد آئی اور قیاس کے مخالف آئی تو کیا کیا جائے گا؟ راوی کو دیکھا جائے گا اگر راوی صحابی مجتہد ہے تو حدیثِ مرفوع کو ترجیح ہوگی اس پر عمل کیا جائے گا اور قیاس کو ترک کر دیا جائے گا چھوڑ دیا جائے گا، خلافاً لمالك رحمه الله بخلاف امام مالک رحمہ اللہ کے، فإنه قال، پس وہ انہوں نے فرمایا ہے: القياس مقدم على خبر الواحد إن خالفه، کہ قیاس مقدم ہے خبرِ واحد پر اگر یہ اس کے مخالف ہو بھئی، قیاس کیا ہے؟ لیکن میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ امام مالک رحمہ اللہ کا بھی یہ مذہب نہیں ہے، یہ بات ان کی طرف غلط منسوب کی گئی ہے، ان کا بھی یہی مذہب ہے کہ حدیثِ مرفوع قیاس پر مقدم ہے، چاروں ائمہ جو ہیں ان کا یہی مذہب ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ قیاس مقدم ہے خبرِ واحد پر اگر یہ اس کے مخالف ہو، لما روي، بوجہ اس حدیث کے جو روایت کی گئی ہے: أن أبا هريرة رضی الله تعالى عنه لما روى من حمل جنازة فليتوضأ، جس نے جنازہ اٹھایا تو اسے وضو کرنا چاہیے، جس نے جنازہ اٹھایا اسے وضو کرنا چاہیے۔ فقال له ابن عباس رضی الله تعالى عنهما، تو ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: أيلزمنا الوضوء من حمل عيدان يابسة، کیا ہم پر وضو لازم ہوگا خشک لکڑیاں اٹھانے سے؟ عیدان جمع ہے عود کی، لکڑی کو کہتے ہیں، یابسہ خشک، حضرت ابو ہریرہ بھئی اور امام مالک رحمہ اللہ کی طرف سے بات ذکر کر رہے ہیں اگرچہ یہ بات ان کی طرف جو نسبت کی گئی یہ درست نہیں ہے، کہتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ روایت کی یہ حدیث کہ جس نے جنازے کو اٹھایا اسے وضو کرنا چاہیے، تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے مقابلے میں قیاس پیش کیا کہ کیا خشک لکڑیاں اٹھانے کی وجہ سے ہم پر وضو لازم ہو جائے گا؟ تو دیکھیے حدیث کے مقابلے میں وہ عقل کی بات پیش کر رہے ہیں، کون؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما، کہ بھئی خشک لکڑیاں اٹھانے کی وجہ سے کیوں ہم پر وضو لازم ہوگا؟ وضو تو نہیں ٹوٹا تو کیا یہ خشک لکڑیاں اٹھانے کی وجہ سے وضو ٹوٹ گیا اور ہم پر وضو واجب ہوا؟ تو دیکھیے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حدیثِ مرفوع کے مقابلے میں قیاس کو پیش کیا، معلوم ہوا خبرِ واحد کے مقابلے میں قیاس آئے تو اس کو ترجیح ہوگی ترجیح ہوگی بھئی۔ تو پہلی بات تو یہی کہ بھئی یہ تو امام مالک رحمہ اللہ کا مذہب ہی نہیں ہے، یہ بات ان کی طرف ویسے ہی منسوب ہے، اور دوسرا جو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت کی یا تو اس کا معنیٰ یہ ہے: من حمل جنازة، أي من أراد حمل الجنازة، جس نے جنازے کے اٹھانے کا ارادہ کیا اسے وضو کر لینا چاہیے، کیونکہ جنازے کے اٹھانے کے فوراً بعد آپ کیا کریں گے آگے اس کی؟ نمازِ جنازہ پڑھیں گے، وہاں تو انتظار نہیں ہوگا تو پہلے سے ہی کیا کرنا چاہیے؟ باوضو ہونا چاہیے انسان کو، اور حمل بول کر ارادہِ حمل مراد ہے، اور عربی میں ایسا استعمال ہوتا ہے فعل بول کر ارادہِ فعل مراد ہوتا ہے، جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا، أي إذا أردتم القيام، جو آپ نے پڑھا ہوگا جگہ جگہ بھئی، کہ جب تمہارا نماز کے لیے قیام کا ارادہ ہو تو پھر اس وقت کیا کر لو؟ وضو کر لو بھئی۔ تو لہٰذا یہاں حمل بول کر ارادہِ حمل مراد ہے، ایک جواب بھئی، اور یہ جو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو تھے یہ حدیث کے مقابلے میں قیاس نہیں پیش کر رہے، یہ طالب علمانہ سوال ہے جیسے طالب علم استاد سے کوئی بات پوچھتا ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑے تھے اور تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے طالب علم کی حیثیت سے ایک سوال کیا کہ کیا اس وجہ سے خشک لکڑیاں اٹھائیں ہم پر وضو لازم ہو جائے گا؟ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ان کا طالب علمانہ سوال تھا نہ کہ حدیث کو رد کرنا بھئی۔ ونحن نقول، اور ہم کہتے ہیں: إن الخبر يقين بأصله، کہ خبر جو ہے وہ یقین ہے یعنی یقینی ہے اپنی اصل کے اعتبار سے، وإنما الشبهة في طريق وصوله، اور شبہ جو ہے وہ صرف اس کے پہنچنے کے طریقے میں ہے، حدیث اپنی اصل کے اعتبار سے تو یقینی ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے اور تو وہ اصل کے اعتبار سے تو اس میں کوئی شک و شبہ نہیں، اور شبہ صرف کس چیز میں آیا؟ ہم تک جو پہنچی ہے، ہم تک پہنچی کس طریقے سے؟ خبرِ واحد کے طریقہ پر چونکہ پہنچی، زیادہ روایت کرنے والے نہیں تو اس ہم تک پہنچنے کی جو کیفیت ہے اس کی وجہ سے شبہ آیا نہ کہ خود خبرِ مرفوع میں کوئی حدیث خبرِ واحد میں کوئی ذات میں کوئی شبہ نہیں بھئی، جبکہ قیاس جو ہے: مشكوك بأصله، قیاس اپنی اصل کے اعتبار سے ہی مشکوک ہے، وہ تو رائے کا نام ہے، ایک مجتہد کی رائے کا نام ہے تو اپنی اصل کے اعتبار سے ہی مشکوک ہے، و وصفه، اور اپنے وصف کے اعتبار سے بھی، فلا يعارض الخبر خطأ، تو یہ کبھی بھی خبر کے مقابل نہیں ہو سکتا۔ بھئی قیاس جو ہے اپنی اصل کے اعتبار سے بھی مشکوک اور اپنے وصف کے اعتبار سے بھی مشکوک، اصل کے اعتبار سے تو مشکوک اس طرح کہ یہ ایک انسان کا کلام ہے بھئی جس میں غلطی کا احتمال، دوسرا وصف کے اعتبار سے بھی کہ مجتہد کی رائے ہے یہ اور مجتہد نے کیا قیاس میں کیا کرتے ہیں؟ ایک چیز کا حکم جو ہے اسے علت کی بنا پر دوسری چیز پر بھی لگا دیا جاتا ہے، ایک چیز کا ایک حکم شریعت نے بیان کر دیا ہے اس کی مجتہد اس کی علت نکالتا ہے اور وہی علت جب دوسری جگہ ملتی ہے تو وہاں بھی وہی حکم لگا دیتا ہے، جیسے بھئی، جیسے شراب حرام ہے اور کیوں؟ اس کی علت میں غور کیا تو معلوم ہوا یہ نشہ آور ہے، نشہ ہے اس کے اندر، یہی علت کس کے اندر مثلاً ملی؟ ہیروئن کے اندر، تو وہی حکم ہیروئن پر بھی حرمت والا حکم لگا دیا جائے، یہ ہے قیاس، تو لہٰذا یہ مجتہد نے ایک علت نکالی اور پھر اس علت کی بنا پر حکم کو متعدی کیا، تو ہو سکتا ہے اس علت میں مجتہد سے غلطی ہو جائے، اس چیز اس حکم کی یہ علت نہ ہو، کوئی کوئی اور علت اس کو، تو لہٰذا تو خبر اصل کے اعتبار سے یقینی صرف اس کے وہ طریقۂ وصول میں شبہ آیا، جبکہ قیاس اپنے اصل کے اعتبار سے بھی مشکوک اور وصف کے اعتبار سے بھی مشکوک، لہٰذا یہ خبرِ برابر ہی نہیں تو یہ اس کے مقابل بھی کبھی نہیں ہو سکتا۔ وإن عرف بالعدالة والضبط دون الفقه اور اگر راوی جو ہے یعنی صحابی جو ہے وہ معروف بالعدالة تو ہے عادل تو ہے قابل اعتماد تو ہے والضبط ضبط کا معنی ہے کہ بات کو یعنی حدیث کو پورے طور پر سن کر سمجھ کر یاد رکھا ہو۔ ضبط کسے کہتے ہیں؟ پورے طور پر سن کر سمجھ کر پھر اسے یاد رکھا ہو۔ تو کہتے ہیں اگر راوی معروف بالعدالة بھی ہے اور معروف بالضبط بھی ہے دون الفقه نہ کہ معروف بالفقه یعنی فقیہ نہیں مجتہد نہیں کأنس وأبي هريرة رضی اللہ تعالی عنہما جیسے کہ حضرت انس اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہما ہیں إن وافق حديثه القياس اگر ان کی حدیث قیاس کے موافق ہوئی عمل به تو اس حدیث پر عمل کیا جائے گا وإن خالفه اور اگر وہ حدیث قیاس کے مخالف ہوئی لم يترك إلا بالضرورة تو پھر بھی اس حدیث کو چھوڑا نہیں جائے گا إلا بالضرورة مگر ضرورت کی بناء پر۔ کس بناء پر؟ ضرورت کی بناء پر اس کو چھوڑا جائے گا ویسے نہیں۔ اور ضرورت کیا ہے؟ کس ضرورت کی بناء پر چھوڑا جائے گا؟ کہتے ہیں وهى أنه اور وہ یہ کہ اگر أنه لو عمل بالحديث کہ اگر حدیث پر عمل کیا جائے لتسد باب الرأي من كل وجه انسداد کے معنی بند ہونے کے لتسد باب الرأي تو رائے کا باب بند ہو جائے من كل وجه ہر اعتبار سے۔ یعنی اس خاص مسئلے میں بھئی ہر جگہ نہیں۔ اس خاص مسئلے میں بھی بھئی حدیث ہے اس کو روایت کیا ایک ایسے صحابی نے جو معروف بالعدالة بھی ہے معروف بالضبط بھی ہے لیکن مجتہد نہیں۔ اور اس کی حدیث قیاس کے مخالف آئی۔ مثلاً حدیث سے پتہ چل رہا ہے حلت کا اور قیاس تقاضا کر رہا ہے حرمت کا۔ کہتے ہیں اب اس صورت میں خلاصہ ان کے کلام کا یہ ہوا کہ قیاس پر عمل کیا جائے گا حدیث کو چھوڑ دیا جائے گا۔ کیوں چھوڑا جائے گا حدیث کو؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اگر اب بھی حدیث پر عمل کیا جائے تو اس مسئلے کے اندر قیاس کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ کیا ہو جائے گا؟ قیاس پر عمل ہو ہی نہیں سکے گا بھئی۔ حالانکہ قیاس کیا تقاضا کر رہا ہے؟ اس حدیث کے مخالف حکم کا تقاضا کر رہا ہے۔ تو اگر یہاں پر بھی حدیث پر عمل کیا جائے تو قیاس کا دروازہ تو بند ہو گیا اس مسئلے میں بھئی۔ تو لہذا ضروری ہے کہ قیاس کا دروازہ بند نہ ہو ضرورت کی بناء پر اب قیاس پر عمل کریں گے اور حدیث کو چھوڑ دیں گے بھئی۔ عجیب دلیل دی مولانا عجیب دلیل انسان حیران ہوتا ہے۔ حدیث مرفوع ہے لیکن اگر ہم حدیث پہ عمل کریں گے تو کیا ہو جائے گا؟ قیاس کا دروازہ اس مسئلے میں بند ہو جائے گا بھئی، عجیب دلیل بھئی، مردود دلیل بھئی۔ حدیث موجود ہے پھر اس کے بعد اپنے قیاس پر عمل کرنے کے لیے قیاس کا دروازہ بس کھلا رکھنا ہے حدیث کو چاہے چھوڑ دو عجیب دلیل بھئی۔ بات یہاں تک سمجھ میں آگئی بھئی؟ فيكون مخالفا لقوله تعالى تو یہ تو یہ مخالف ہوگی اللہ تعالی کے اس قول کے فاعتبروا يا أولي الأبصار پس عبرت پکڑو اے عقل والو! یعنی قیاس کرو اے عقل والو! یہ دلیل ہے، یہ آیت بھئی آگے باب القیاس میں بھی آئے گی اور قرآن سے قیاس کی دلیل جو ذکر ہوگی وہ یہی آیت ذکر ہوگی اللہ کیا فرماتے ہیں؟ فاعتبروا يا أولي الأبصار عبرت پکڑو یعنی قیاس کرو اے عقل والو! گزشتہ امتوں کے احوال ذکر کرنے کے بعد کہ انہوں نے اس طرح نافرمانیاں کیں اور پھر ہم نے ان کو تباہ و برباد کر دیا تو تم بھی عبرت پکڑو اے عقل والو! یعنی قیاس کرو، اگر تم بھی ان کے راستے پر چلے تو تمہارا بھی وہی انجام ہوگا اور اگر تم نیک لوگوں کے راستے پر چلے تو تمہارا بھی انہی کی طرح اچھا انجام ہوگا بھئی۔ تو فاعتبروا يا أولي الأبصار قیاس کرو اے عقل والو! تو کہتے ہیں تو یہ اللہ کے اس قول کے مخالف ہو جائے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ دلیل چل رہی ہے مولانا یہ اس قول کی کہ اگر راوی صحابی غیر مجتہد ہو تو قیاس پر عمل کیا جائے گا حدیث کو چھوڑ دیا جائے گا بھئی۔ اور میں نے بتلایا یہ دلیل بھی مردود ہے بھئی۔ یہ تو پھر ہر حدیث میں یہ بات ہو سکتی ہے بھئی۔ فاعتبروا يا أولي الأبصار یہ تو ہر حدیث میں یہ بات چلے گی بھئی پھر، ہر جگہ ہی پھر قیاس کرنا چاہیے پھر تو۔ والراوي فرض أنه غير فقيه اور راوی کو حال یہ ہے کہ راوی کو کیا فرض کیا گیا ہے؟ غیر فقیہ ہے بھئی اس مسئلے میں جو ذکر ہو رہا ہے۔ والنقل بالمعنى كان مستفيضا فيهم مستفیض کا معنی مشہور اور شائع، اور نقل بالمعنی جو تھا وہ مشہور اور شائع تھا صحابہ کے درمیان۔ بھئی ایک تو ہے روایت کرنا کہ راوی نے صحابی نے جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ جو الفاظ تھے بعینہ انہی الفاظ کو وہ آگے روایت کرتا ہے۔ اور ایک روایت بالمعنی ہے۔ روایت بالمعنی یہ کہ بعض اوقات صحابہ یا کوئی راوی جو ہے حدیث کا وہ حدیث کے لفظ تو ذکر نہیں کرتا بلکہ معنی کو ذکر کر دیتا ہے یعنی بات وہی ذکر کرتا ہے لفظ اپنے استعمال کر لیتا ہے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ روایت بالمعنی۔ تو شارح دلیل دے رہے ہیں کہتے ہیں راوی کو یہ فرض کیا گیا ہے کہ یہ غیر فقیہ ہے یہ جو بات چل رہی ہے کس کی کون سے راویوں کی بات چل رہی ہے؟ کون سے صحابہ جو غیر فقیہ ہیں والنقل بالمعنى كان مستفيضا فيهم اور نقل بالمعنی جو تھا یہ شائع اور شائع تھا ان کے درمیان فلعل الراوي نقل الحديث بالمعنى تو شاید راوی نے نقل کیا ہو حدیث کو معنی کے ساتھ على حسب فهمه اپنی فہم کے مطابق بھئی۔ راوی صحابی مجتہد تو نہیں لیکن اس نے کیا کیا؟ حدیث کو اپنے لفظوں میں ذکر کر دیا۔ جیسا وہ سمجھا تھا۔ وأخطأ اور کیا کی اس نے؟ غلطی کی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ روایت بالمعنی کہتے ہیں شائع اور شائع تھا اور یہ راوی غیر فقیہ ہے اس نے حدیث کو اپنے لفظوں میں اپنی سمجھ کے مطابق ذکر کر دیا اور اس میں غلطی کی ولم يدرك مراد رسول الله صلى الله عليه وسلم اور اس نے نہیں سمجھا حضور علیہ السلام کی مراد کو۔ بھئی یہ راوی غیر فقیہ ہے اس نے ہو سکتا ہے حضور علیہ السلام کی بات تو سنی ہے لیکن سمجھی نہیں۔ جب سمجھی نہیں تو اپنے لفظوں میں جب ذکر کرے گا تو لازمی بات ہے بات اس طرح نہ رہے گی کچھ اور بن جائے گی۔ تو اسی وجہ سے ورنہ تو حدیث قیاس کے مخالف نہیں ہو سکتی تھی، یہ لیکن یہ راوی روایت کر رہا ہے معلوم ہوا اس نے اس سے غلطی ہوئی اس نے بات کو اچھی طرح سمجھا نہیں۔ فلهذا كان مخالفا للقياس من كل وجه اسی وجہ سے یہ حدیث قیاس کے مخالف ہوئی ہر اعتبار سے۔ اگر بات کو اس نے پوری طرح سمجھا ہوتا اور حدیث کے وہی الفاظ ذکر کرتا تو حدیث کبھی بھی قیاس کے مخالف نہیں ہو سکتی تھی بھئی۔ یہ وہی دلیل چل رہی ہے ان کی بھئی۔ فلهذه الضرورة يترك الحديث ويعمل بالقياس اسی ضرورت کی بناء پر حدیث کو ترک کیا جائے گا اور قیاس پر عمل کیا جائے گا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ وهذا ليس ازدراء بأبي هريرة رضی اللہ تعالى عنه واستخفافا به معاذ الله منه ازدراء کا معنی تحقیر، استخفاف کا معنی ہلکا سمجھنا معمولی سمجھنا۔ شارح فرماتے ہیں کہ یہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی تحقیر اور ان کو معمولی نہیں سمجھا گیا، ان کو معمولی سمجھنا نہیں ہے معاذ الله منه ہم اللہ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں اس سے، بل بيانا لنكتة في هذا المقام بلکہ یہ ایک نقطے کا بیان ہے اس مقام پر۔ یہ ہم کوئی ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی تنقیص نہیں کر رہے بلکہ کیا کر رہے ہیں؟ ایک نقطے کا بیان کر رہے ہیں اس مقام پر فتنبہ پس آپ بھی اس پر متنبہ رہیے بھئی۔ یہ نقطہ بھی دیوار پر مار دینے کے قابل ہے بھئی، کیسا نقطہ؟ کہتے ہیں شاید صحابی نے صحابی قابل اعتماد بھی ہے اور معروف بالضبط بھی ہے لیکن شاید اس نے حضور علیہ السلام کی بات کو صحیح طرح سمجھا نہ ہو بھئی، سمجھا نہ ہو۔ یہ تو ساری ساری خبر واحد جتنی بھی ہیں وہ ساری ہی گویا آپ مشکوک بنا رہے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ کتنی خطرناک بات ہے آپ اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے بھئی۔ عجیب دلیل اور عجیب بھئی! شارح کو باقی شارحین کو اللہ جزائے خیر دے انہوں نے رد کیا بھئی اور میں نے کل علامہ ابن حجر کا قول بھی آپ کو لکھوایا کہ انہوں نے بھی نقل کیا ہے کہ احناف کا اس بات پر اجماع ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ضعیف حدیث بھی قیاس سے اولیٰ ہے بھئی۔ کحدیث المصراة جیسے کہ حدیث مصراۃ ہے بھئی۔ آگے حدیث مصراۃ ذکر کریں گے کہ دیکھیے یہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ہے اور اس کو بھی یہ چونکہ قیاس کے مخالف تھی اس لیے ہم نے خبر واحد کو چھوڑ دیا اور قیاس پر عمل کیا، کیونکہ حدیث کا راوی کیا ہے؟ غیر مجتہد ہے۔ کتنا خطرناک قول ہے مولانا آپ اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے بھئی اور پھر کتنی بڑی غلطی ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو غیر مجتہد صحابہ میں ذکر کر دیا حالانکہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ مجتہد ہیں بھئی مجتہد بھئی۔ صحابہ کے زمانے میں یہ فتویٰ دیا کرتے تھے اور اس زمانے میں قاضی رہے بھئی اور اس زمانے میں فتویٰ دینا یا قاضی بننا یہ صرف مجتہد ہی ہوتا تھا جو قاضی بنتا تھا یا فتویٰ دیتا تھا کوئی اور نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ان کا فتویٰ دینا اور ان کا قاضی بننا یہ دلیل ہے اس بات کی کہ وہ مجتہد ہیں بھئی۔ بھئی یہ قول اگر لے لیا جائے پھر تو تمام روایات ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو رد کرنا لازم آئے گا قیاس کے ذریعے حالانکہ اس امت کے سب سے بڑے محدث، سب سے جلیل القدر محدث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ ہیں بھئی۔ آپ جتنی حدیثیں اٹھائیں بھئی، جگہ جگہ آپ کو ملے گا بھئی، سب سے زیادہ احادیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہیں بھئی، سب سے زیادہ۔ تو اگر اس قول کو لیا جائے تو پھر تو ان کی تمام احادیث ہی کیا ہو گئیں؟ مشکوک ہو گئیں کہ شاید صحابی نے سمجھا نہ ہو بھئی۔ تو میں نے اسی لیے کہا تھا کہ کاش مصنف اس بحث کو ذکر نہ کرتے بھئی، یہ احناف کا مذہب نہیں ہے قطعا قطعا نہیں ہے بھئی۔ آگے آیا بھئی حدیث مصراۃ، میں نے بتلایا کہ یہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث ہے اور اس کے بارے میں بھی صاحب منار مثال کے طور پر ذکر کر رہے ہیں کہ یہ غیر مجتہد صحابی کی حدیث تھی اس وجہ سے ہم نے قیاس کو ترجیح دی اور اس حدیث مرفوع کو چھوڑ دیا بھئی، چھوڑ دیا۔ جی آگے یہ ایک بحث ہے، یہ مسئلہ مصراۃ بھئی یہ لکھ لیجیے بھئی۔ لکھیے بھئی، یہ لکھ لیں گے تو آپ کو انشاءاللہ کتاب سے سمجھنا آپ کے لیے بڑا آسان ہو جائے گا۔ اوپر لکھ لیجیے مسئلہ مصراۃ صاد کے ساتھ، مسئلہ مصراۃ۔ لکھیے آگے: صاحب منار فرماتے ہیں، صاحب منار فرماتے ہیں جب حدیث کا راوی صحابی، جب حدیث کا راوی صحابی غیر فقیہ ہو، غیر فقیہ ہو تو قیاس کو ترجیح ہوگی، تو قیاس کو ترجیح ہوگی۔ اسی قانون کی بناء پر، اسی قانون کی بناء پر ترک کیا ہے، ترک کیا ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے روایت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو، روایت ابی ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو مسئلہ مصراۃ میں، مسئلہ مصراۃ میں۔ الگ سطر لکھیے آگے بھئی: مصراۃ ماخوذ ہے، مصراۃ ماخوذ ہے تصریہ سے، تصریہ صاد ہے بھئی تصریہ میں، یا تا بھی لکھیں آخر میں مصراۃ ماخوذ ہے تصریۃ سے، مصراۃ ماخوذ ہے تصریۃ سے۔ اس کا معنی ہے پانی کے لیے بند باندھنا، اس کا معنی ہے پانی کے لیے بند باندھنا۔ نیز اس کا معنی ہے پانی جمع کرنا، نیز اس کا معنی ہے پانی جمع کرنا۔ ذرا جلدی جلدی لکھیے بھئی لمبی بحث ہے بھئی۔ یہاں مصراۃ سے، یہاں مصراۃ سے وہ دودھ والا جانور مراد ہے، وہ دودھ والا جانور مراد ہے کہ دھوکہ و فریب کے لیے، کہ دھوکہ و فریب کے لیے اس کے تھنوں میں، اس کے تھنوں میں کئی دنوں کا دودھ جمع کر کے، کئی دنوں کا دودھ جمع کر کے رکھا جائے، رکھا جائے تاکہ منڈی میں، تاکہ منڈی میں زیادہ قیمت پر بک سکے، تاکہ منڈی میں زیادہ قیمت پر بک سکے۔ گاہک کو دھوکہ لگ جائے، گاہک کو دھوکہ لگ جائے کہ بہت دودھ والا جانور ہے، کہ بہت دودھ والا جانور ہے۔ جب اس قسم کا جانور، جب اس قسم کا جانور کوئی خرید لے، کوئی خرید لے اور گھر جا کر دھوکے کا پتہ چلے، اور گھر جا کر دھوکے کا پتہ چلے تو حدیث ہذا میں ہے، تو حدیث ہذا میں ہے کہ وہ شخص ایسا جانور، کہ وہ شخص ایسا جانور واپس کر سکتا ہے، واپس کر سکتا ہے لیکن ساتھ، لیکن ساتھ ایک صاع، صاع صاد ہے الف اور عین، لیکن ساتھ ایک صاع یعنی ساڑھے تین سیر کھجور دے۔ یعنی ساڑھے تین سیر کھجور دے، اس دودھ کے بدلے میں، اس دودھ کے بدلے میں جو اس نے استعمال کیا ہے، جو اس نے استعمال کیا ہے، حدیث یہ ہے، حدیث یہ ہے، عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه، عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، لا تصروا الإبل، بھئی یہ حدیث کتاب میں بھی دی ہوئی ہے، وہاں بھی لفظ دیکھتے جائیں اگر کہیں لفظ مشکل لگے، تیسری سطر ہے اس سے حدیثِ مصراة کے متن سے نیچے، لا تصروا الإبل والغنم، لا تصروا الإبل والغنم، فمن ابتاعها، فمن ابتاعها بعد ذلك، فمن ابتاعها بعد ذلك، فهو، فهو بخير النظرين، فهو بخير النظرين، نظرین ظاء کے ساتھ ہے، فهو بخير النظرين، بعد أن يحلبها، بعد أن يحلبها، إن رضيها أمسكها، رضیہ ضاد سے، إن رضيها أمسكها، وإن سخطها، وإن سخطها، ردها، ردها، وصاعاً من تمر، وصاعاً من تمر، حدیث لکھ لی بھئی؟ جی۔ آگے معنی بھی لکھ لیں: یعنی تم اونٹنی، یعنی تم اونٹنی یا بھیڑ بکری کے تھنوں میں، یا بھیڑ بکری کے تھنوں میں دودھ مت روکو، دودھ مت روکو۔ پس جس شخص نے، پس جس شخص نے ایسی اونٹنی یا بھیڑ بکری کو خریدا، ایسی اونٹنی یا بھیڑ بکری کو خریدا جس کے تھنوں میں دودھ جمع کیا گیا تھا، جس کے تھنوں میں دودھ جمع کیا گیا تھا تو اس کو دودھ نکالنے کے بعد، تو اس کو دودھ نکالنے کے بعد دو باتوں میں سے، دو باتوں میں سے زیادہ بہتر بات کا اختیار ہوگا، زیادہ بہتر بات کا اختیار ہوگا۔ اگر اس خریدنے والے کو، اگر اس خریدنے والے کو وہ اونٹنی یا بھیڑ بکری پسند ہے، وہ اونٹنی یا بھیڑ بکری پسند ہے تو اس کو اپنے پاس روک لے، تو اس کو اپنے پاس روک لے، اور اگر اس کو پسند نہیں، اور اگر اس کو پسند نہیں تو وہ اسے واپس کر دے، تو وہ اسے واپس کر دے اور ساتھ، اور ساتھ ایک صاع کھجور بھی دے دے، ایک صاع کھجور بھی دے دے۔ جی ترجمہ مکمل ہوا حدیث کا۔ اگلی سطر میں لکھیے: ائمہِ ثلاثہ، ائمہِ ثلاثہ یعنی امامِ شافعی رحمہ اللہ، یعنی امامِ شافعی رحمہ اللہ، امامِ احمد رحمہ اللہ، امامِ احمد رحمہ اللہ، امامِ مالک رحمہ اللہ اور احناف میں سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ، اور احناف میں سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے، کا یہی مذہب ہے کہ مصراة جانور واپس کیا جا سکتا ہے، کہ مصراة جانور واپس کیا جا سکتا ہے اور ساتھ ایک صاع تمر دینی پڑیں گی، اور ساتھ ایک صاع تمر دینی پڑیں گی۔ وہ حدیثِ ہذا کے ظاہر پر عمل کرتے ہیں، وہ حدیثِ ہذا کے ظاہر پر عمل کرتے ہیں۔ آگے الگ سطر لکھیے۔ جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مشتری، کہ مشتری مصراة جانور واپس نہیں کر سکتا، کہ مشتری مصراة جانور واپس نہیں کر سکتا، البتہ وہ رجوع بالنقصان کرے گا، البتہ وہ رجوع بالنقصان کرے گا۔ یعنی مشتری کا جتنا نقصان ہوا ہے، یعنی مشتری کا جتنا نقصان ہوا ہے اتنے پیسے، اتنے پیسے بائع سے واپس لے لے گا، اتنے پیسے بائع سے واپس لے لے گا۔ مثلاً اس قسم کی گائے، مثلاً اس قسم کی گائے اس نے 25 ہزار میں خریدی، اس نے 25 ہزار میں خریدی اور گھر آکر پتہ چلا، اور گھر آکر پتہ چلا کہ یہ تو کم دودھ دیتی ہے، کہ یہ تو کم دودھ دیتی ہے اور اس قسم کی گائے کی قیمت تو، اور اس قسم کی گائے کی قیمت تو 15 ہزار ہوتی ہے، تو 15 ہزار ہوتی ہے، تو 10 ہزار کا جو نقصان ہوا ہے، تو 10 ہزار کا جو نقصان ہوا ہے وہ خریدنے والا، وہ خریدنے والا بیچنے والے سے واپس لے لے گا، بیچنے والے سے واپس لے لے گا۔ تو امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ، تو امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اس حدیث کے ظاہر پر عمل نہیں کرتے، اس حدیث کے ظاہر پر عمل نہیں کرتے۔ الگ سطر لکھیے آگے بھئی۔ صاحبِ منار فرماتے ہیں، صاحبِ منار فرماتے ہیں کہ امام صاحب نے اس حدیث پر، کہ امام صاحب نے اس حدیث پر عمل، اس حدیث پر عمل ترک اس لیے فرمایا، ترک اس لیے فرمایا کہ یہ روایت غیرِ فقیہ صحابی کی ہے، کہ یہ روایت غیرِ فقیہ صحابی کی ہے اور قیاس کے خلاف ہے، اور قیاس کے خلاف ہے، اور غیرِ فقیہ صحابی کی روایت، اور غیرِ فقیہ صحابی کی روایت خلافِ قیاس کو، خلافِ قیاس کو تو قیاس کو ترجیح ہوتی ہے حدیث پر، تو قیاس کو ترجیح ہوتی ہے حدیث پر۔ یہ حدیث خلافِ قیاس کس طرح ہے؟ یہ حدیث خلافِ قیاس کس طرح ہے؟ یہ سمجھنے سے پہلے ایک تمحید سمجھ لیجیے۔ یہ سمجھنے سے پہلے ایک تمحید سمجھ لیجیے۔ آگے عنوان دیجیے تمحید۔ تمحید۔ آگے لکھیے: یاد رکھیں چیزیں دو قسم پر ہیں۔ یاد رکھیں چیزیں دو قسم پر ہیں۔ نمبر ایک مثلیات، مثلیات ث کے ساتھ۔ نمبر ایک مثلیات، نمبر دو ذوات القیم۔ ذوات القیم ق دو نقطوں والا ہے، یا اور میم، ذوات القیم۔ مثلیات وہ ہیں، مثلیات وہ ہیں جن کا مثل ممکن ہو، جن کا مثل ممکن ہو، جیسے مکیلات و موزونات وغیرہ، جیسے مکیلات و موزونات وغیرہ۔ یعنی ماپی جانے والی اور وزن کی جانے والی چیزیں۔ یعنی ماپی جانے والی اور وزن کی جانے والی چیزیں وغیرہ۔ اور ذوات القیم وہ ہیں، اور ذوات القیم وہ ہیں جن کا مثل نہ ہو، جن کا مثل نہ ہو، جیسے بکری، بیل وغیرہ، جیسے بکری، بیل وغیرہ۔ الگ سطر لکھیے آگے: اگر کوئی شخص دوسرے کی، الحمد للہ، یرحمک اللہ، اگر کوئی شخص دوسرے کی کوئی چیز ہلاک کر دے، اگر کوئی شخص دوسرے کی کوئی چیز ہلاک کر دے تو اس پر ضمان آتا ہے، ضمان ضاد کے ساتھ، تو اس پر ضمان آتا ہے۔ اگر وہ چیز مثلیات میں سے ہو تو، اگر وہ چیز مثلیات میں سے ہو تو ضمان کے طور پر، ضمان کے طور پر اسی کا مثل دینا پڑے گا، اسی کا مثل دینا پڑے گا۔ مثلاً ایک شخص نے، مثلاً ایک شخص نے دوسرے کی گندم تلف کر دی، دوسرے کی گندم تلف کر دی تو اسے ضمان کے طور پر، تو اسے ضمان کے طور پر اتنی ہی گندم دینا پڑے گی، اتنی ہی گندم دینا پڑے گی۔ اسے مثلِ صوری کہتے ہیں، صوری ص کے ساتھ ہے ص، اسے مثلِ صوری کہتے ہیں کیونکہ یہ گندم اسی گندم کی طرح ہے، کیونکہ یہ گندم اسی گندم کی طرح ہے صورت کے لحاظ سے، صورت کے لحاظ سے۔ اور اگر وہ چیز ذوات القیم میں سے ہو، اور اگر وہ چیز ذوات القیم میں سے ہو تو ضمان کے طور پر، تو ضمان کے طور پر اس کی قیمت دینا پڑے گی، اس کی قیمت دینا پڑے گی۔ اور اسے مثلِ معنوی کہتے ہیں، اور اسے مثلِ معنوی کہتے ہیں کیونکہ قیمت، کیونکہ قیمت اسی چیز کے مثل ہے، کیونکہ قیمت اسی چیز کے مثل ہے معنوی لحاظ سے، معنوی لحاظ سے۔ معلوم ہوا، معلوم ہوا کہ کسی بھی چیز کے، کہ کسی بھی چیز کے ضمان کے طور پر، ضمان کے طور پر اس کا مثل دینا پڑے گا، اس کا مثل دینا پڑے گا۔ اگر وہ چیز مثلیات میں سے ہو تو، اگر وہ چیز مثلیات میں سے ہو تو مثلِ صوری دینا پڑے گا، مثلِ صوری دینا پڑے گا اور اگر وہ چیز، اور اگر وہ چیز ذوات القیم میں سے ہو، ذوات القیم میں سے ہو تو مثلِ معنوی، تو مثلِ معنوی یعنی قیمت دینا پڑے گی، یعنی قیمت دینا پڑے گی۔ تمحید ختم ہوئی۔ تمحید ختم ہوئی۔ آگے الگ سطر لکھیے بھئی: یہ حدیث خلاف القیاس اس طرح ہے، یہ حدیث خلاف القیاس اس طرح ہے کہ اس میں کہ اس میں استعمال شدہ دودھ کے ضمان کے طور پر ایک صاع کھجور دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ حالانکہ صاع تمر نہ تو استعمال شدہ دودھ کا مثلِ صوری ہے اور نہ مثلِ معنوی۔ مثلِ صوری نہ ہونا تو ظاہر ہے، کیونکہ دودھ کا مثلِ صوری دودھ ہی ہوگا- نیز صاع تمر استعمال شدہ دودھ کا مثلِ معنوی بھی نہیں، کیونکہ مثلِ معنوی تو قیمت ہوتی ہے۔ ہاں! یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ صاع تمر دودھ کی قیمت کے طور پر دیا جا رہا ہے۔ لیکن پھر بھی خریدار نے جتنا دودھ استعمال کیا ہو، اتنی قیمت کی کھجوریں دینی چاہئیں۔ اگر دودھ تھوڑا استعمال کیا ہے تو کھجوریں بھی تھوڑی دینی چاہئیں، اور اگر زیادہ دودھ استعمال کیا ہے تو کھجوریں بھی زیادہ دینی چاہئیں۔ مگر حدیث میں تو مطلق ایک صاع تمر دینے کا حکم ہے، چاہے تھوڑا دودھ استعمال کیا ہو چاہے زیادہ۔ معلوم ہوا کہ یہ صاع تمر اس استعمال شدہ دودھ کا مثلِ معنوی بھی نہیں- تو جب یہ صاع تمر نہ تو دودھ کا مثلِ صوری ہے اور نہ مثلِ معنوی، تو مصراۃ جانور کے ساتھ ایک صاع تمر واپس کرنا خلافِ قیاس ہوا۔ چنانچہ غیر فقیہ صحابی کی یہ روایت خلافِ قیاس ہونے کی وجہ سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اس کو ترک فرمایا۔ یہ تھی صاحبِ منار اور صاحبِ نور الانوار کی تقریر مسئلہ مصراۃ میں۔ صاحبِ منار اور صاحبِ نور الانوار کی یہ تقریر مردود اور ظالمانہ ہے اور دیوار پر مار دینے کے قابل ہے۔ حقیقت ایسی نہیں ہے۔ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اس حدیث کے ظاہر پر عمل نہیں فرمایا، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حدیث قرآن و سنت اور اجماعِ متقدمین کے خلاف ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "جَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا" یعنی برائی کا بدلہ اسی برائی کے برابر ہوگا۔ نیز دوسری آیت قرآن میں ہے: "وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِ" ترجمہ: اور اگر تم بدلہ لینے لگو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنا تمہارے ساتھ برتاؤ کیا گیا ہے۔ معلوم ہوا جتنا جرم ہو اتنی ہی سزا ہونی چاہیے، تو ضمان کو نقصان کے برابر ہونا چاہیے۔ مگر یہاں صاع تمر مماثل نہیں ہے اس دودھ کے جو مشتری نے استعمال کیا ہے۔ لہذا یہ حدیث ان آیتوں کے خلاف ہے اور آیت کو ترجیح ہوتی ہے۔ نیز یہ حدیث سنتِ مشہورہ کے بھی خلاف ہے۔ مشہور حدیث ہے: "الخَرَاجُ بِالضَّمَانِ" یعنی کسی چیز کا نفع ضمان کی وجہ سے ہوتا ہے۔ خراج سے مراد نفع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو چیز آپ کی ضمانت میں ہو اس کے بدلے نفع بھی آپ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ نفع اس ضمان کے بدلے میں ہے۔ اور وہ مصراۃ جانور قبضے کے بعد مشتری کے ضمان میں ہے۔ لہذا اگر مشتری کے قبضے میں ہلاک ہوا تو بالاتفاق مشتری پر پوری قیمت دینا واجب ہے۔ تو الخراج بالضمان کا تقاضا یہ ہے کہ اس مستعمل دودھ کا کوئی ضمان نہیں ہے، کیونکہ ان دنوں میں مصراۃ کے دودھ سے مشتری نے اگرچہ نفع اٹھایا ہے لیکن ان دنوں اس مصراۃ کا ضمان بھی مشتری پر تھا، یعنی اگر وہ گائے مر جاتی تو اس کا سارا ضمان مشتری پر تھا- اور ایسی صورت میں مستعمل چیز کا کوئی ضمان نہیں ہوتا۔ لہذا مشتری پر دودھ کا کوئی ضمان نہیں آنا چاہیے اور یہ حدیث "الخراج بالضمان" کے قانونِ کلی پر مشتمل ہے، لہذا اسے ترجیح ہے حدیثِ مصراۃ پر۔
84 approved lectures · 39 of 84