درس نمبر۔23
ثم لما فرغ المصنف رحمه الله تعالى عن بيان انواع الاداء والقضاء شرع في بيان حسن المأمور به فقال ولا بد للمأمور به من صفة الحسن ضرورة ان الآمر حكيم. يعني لا بد ان يكون المأمور به حسنا عند الله تعالى قبل الامر ولكن يعرف ذلك بالامر ضرورة ان الآمر حكيم والحكيم لا يأمر بالفحشاء وهذا عندنا.
ثم لما فرغ المصنف رحمه الله عن بيان انواع الاداء والقضاء شرع في بيان حسن المأمور به، پھر جب مصنف رحمہ اللہ ادا، قضاء اور ادا کی انواع کے بیان سے فارغ ہوئے تو شروع ہوگئے في بيان حسن المأمور به مامور بہ کے حسن کے بیان میں۔ بھئی ایک ہے جہاں بھی امر آئے گا کوئی نہ کوئی امر کرنے والا ہوگا۔ جو امر کرنے والا ہے اس کو کہتے ہیں آمر، اور جس کو حکم کیا گیا اس کو کہتے ہیں مامور، اور جس چیز کا حکم کیا گیا وہ ہے مامور بہ۔ جیسے اللہ کی طرف سے حکم آتا ہے أقيموا الصلاة، تو أقيموا الصلاة یہ ہے امر، اور حکم دینے والی ذات اللہ کی تو اللہ تعالی ہوئے آمر، اور حکم دیا گیا انسان کو تو انسان ہوا مامور، اور جس چیز کا حکم دیا گیا وہ کیا ہے؟ وہ ہے نماز، تو نماز ہوئی مامور بہ۔ بات سمجھ میں آئی سب کو بھئی؟ تو اب مامور بہ یعنی جس چیز کا حکم دیا گیا ہے اس کے حسن کے بارے میں مصنف بیان کرنے لگے ہیں کہ اس میں حسن ہوگا، اچھائی ہوگی۔ فقال پس فرمایا ولا بد للمأمور به من صفة الحسن ضرورة ان الآمر حكيم. اور ضروری ہے مامور بہ کے لیے من صفة الحسن صفتِ حسن کا ہونا۔ اس میں حسن اور اچھائی کا ہونا ضروری ہے، مامور بہ میں حسن کا ہونا ضروری ہے۔ ضرورة ان الآمر حكيم. ضرورت کے معنیٰ یہاں کریں گے بدیہی کے بھئی۔ بالضرورۃ کا لفظ کتابوں میں آئے تو اس کا معنیٰ کیا جاتا ہے بالبدا بالضرورۃ کا لفظ بالبداهة وباليقين، تو یہاں پر بالضرورۃ کا معنیٰ کیا کریں گے؟ بدیہی جانتے ہو کہ نہیں جانتے؟ بدیہی جس میں ذرا بھی غور و فکر نہ کرنا پڑے انسان کو، خود بخود ایک بات سمجھ میں آ جائے بھئی اسے کہتے ہیں بدیہی۔ ضرورة ان الآمر حكيم اس بات کے بدیہی ہونے کی وجہ سے کہ حکم دینے والی ذات حکیم ہے، حکمت والی ہے۔
اللہ کی ذات کیا ہے؟ حکمت والی ہے، تو جب حکم دینے والی ذات حکمت والی ہے تو یہ بات بدیہی ہوئی کہ جس چیز کا حکم دیا اس میں حسن ہوگا۔ اس میں اچھائی ہوگی، خوبصورتی ہوگی۔ نماز کا حکم دینے والی ذات اللہ کی اور اللہ کی ذات ہے حکمت والی، اللہ کی ذات حکیم ہے حکمت والی ہے، اور حکمت والی ذات جب کسی کو کوئی چیز کہے، کوئی حکم دے تو یقیناً جس چیز کا وہ حکم دے رہی ہے وہ کوئی معمولی ردی چیز نہیں ہے بلکہ حسن والی چیز ہے، اچھی چیز ہے، اعلیٰ چیز ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا نماز میں حسن ہے، خوبصورتی ہے۔
تو یہ معنیٰ ہے ولا بد للمأمور به من صفة الحسن اور ضروری ہے مامور بہ میں صفتِ حسن کا ہونا، ضرورة ان الآمر حكيم اس بات کے یقینی ہونے کی وجہ سے کہ حکم دینے والا جو ہیں وہ حکیم ہیں، حکمت والے ہیں۔ یہاں تھوڑی سی ذرا بحث لکھ لیجیے مولانا آپ، جلدی جلدی لکھیے بھئی۔
یاد رکھیے حسن و قبح کا تعلق یاد رکھیے حسن و قبح، حسن اور قبح ق، ص قباحت سے ہے بھئی قباحت، ق دو نقطوں والا با اور حا حا۔ تو یاد رکھیے حسن و قبح کا اطلاق تین معانی پر ہوتا ہے۔ حسن و قبح کا اطلاق تین معانی پر ہوتا ہے۔ نمبر ایک: صفتِ کمال و صفتِ نقصان پر، نمبر ایک: صفتِ کمال و صفتِ صفتِ کمال و صفتِ نقصان پر جیسے علم و جہل، جیسے علم و جہل۔ نمبر دو: دنیاوی غرض کے مناسب و مخالف پر، دنیاوی غرض کے مناسب و مخالف پر۔ نمبر تین: مدح و ذم، مدح و ذم اور ثواب و عقاب کے متعلق پر، مدح و ذم اور ثواب و عقاب کے متعلق پر بھئی۔ جی آگے لکھیے بھئی الگ سے۔
اس بات میں کوئی اختلاف نہیں اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ حسن و قبح، حسن و قبح پہلے دو معانی کے اعتبار سے عقلی ہی ہیں۔ کہ حسن و قبح پہلے دو معانی کے اعتبار سے عقلی ہی ہیں، عقلی ہی ہیں۔ البتہ تیسرے معنیٰ کے اعتبار سے اختلاف ہے، البتہ تیسرے معنیٰ کے اعتبار سے اختلاف ہے۔ عقلی ہونے کا معنیٰ یہ ہے، عقلی ہونے کا معنیٰ یہ ہے کہ محض عقل ہی سے پتہ چل جاتا ہے، کہ محض عقل ہی سے پتہ چل جاتا ہے کہ ہر صفتِ کمال میں حسن ہے، کہ ہر صفتِ کمال میں حسن ہے مثلاً علم، مثلاً علم۔ اسی طرح شریعت کی رہنمائی کے بغیر ہی، اسی طرح شریعت کی رہنمائی کے بغیر ہی عقل بتلا دیتی ہے، عقل بتلا دیتی ہے کہ ہر صفتِ نقصان میں قبح ہے، ہر صفتِ نقصان میں قبح ہے مثلاً جہل، مثلاً جہل۔
بات سمجھ میں آئی یہاں تک بھئی؟ دیکھیے انہوں نے کیا بیان کیا، تین معانی پر اطلاق ہوتا ہے۔ پہلا معنیٰ ہے صفتِ کمال اور صفتِ نقصان پر، جو بھی صفتِ کمال ہوگی عقل خود بتلا دے گی اس میں حسن ہے، اور جو بھی صفتِ نقصان ہوگی عقل خود بتلا دیتی ہے اس میں کیا ہے؟ قبح ہے، قباحت ہے اس کے اندر، یہ قبیح ہے بھئی۔ اسی طرح بھئی جیسے شجاعت ہے عقل بتلا دیتی ہے اس میں حسن ہے، بزدلی ہے عقل بتلا دیتی ہے کہ اس میں حسن نہیں ہے۔
اور اسی طرح بھئی جو بھی فعل آپ کی کسی دنیاوی غرض کے مناسب ہوگا عقل آپ کو بتلائے گی یہ اچھا فعل ہے یہ کرنا چاہیے، اس سے یہ فائدہ ہوگا۔ اور جو بھی فعل آپ کی کسی دنیاوی غرض کے مخالف ہوگا عقل آپ کو اس سے روکے گی کہ یہ اچھا فعل نہیں ہے یہ نہ کرو بھئی، آپ کی غرض کو کیا ہوگا اس سے؟ نقصان ہوگا۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو یہ عقل ہی سے پتہ چل جاتا ہے۔ مثلاً جیسے تاجر کا کام ہے تجارت کرنا اور تجارت کے ذریعے نفع حاصل کرنا، تو اب جس چیز میں اس کو نفع نظر آئے گا عقل کہے گی یہ کرنا چاہیے اس طرح، جس چیز میں نقصان نظر آئے گا وہ خود عقل ہی اسے کہے گی یہ کام نہیں کرنا اس سے کیا ہو جائے گا؟ نقصان ہو جائے گا۔ تو دیکھو دنیاوی غرض کے مناسب جو ہوا اس میں عقل نے بتلا دیا حسن ہے، اچھی چیز ہے، کرنی چاہیے، نفع ہے اس کے اندر، اور جس چیز میں نقصان تھا عقل نے خود ہی بتلا دیا کہ یہ کام نہ کرنا اس سے کیا ہوگا تمہیں؟ نقصان ہوگا بھئی۔
جی آگے لکھیے البتہ تیسرے معنیٰ کے اعتبار سے، البتہ تیسرے معنیٰ کے اعتبار سے اشاعرہ، اشاعرہ ا ش ا ع ر ہ، اشاعرہ ماتریدیہ، ماتریدیہ ت دو نقطوں والی ہے بھئی ماتریدیہ، اور معتزلہ کا اختلاف ہے، اور معتزلہ کا اختلاف ہے۔
اچھا یہاں پہلے ذرا معتزلہ، اشاعرہ اور ماتریدیہ کا مختصر تعارف سن لیں بھئی، یہ سارا لکھوانا مشکل ہے وقت تھوڑا ہے۔ یاد رکھیے معتزلہ جو ہے وہ ایک گمراہ فرقہ گزرا ہے بھئی گمراہ فرقہ۔ یہ لوگ جو تھے فلسفے میں اور عقلیات میں بہت ماہر تھے، بے انتہا مہارت تھی، اتنی مہارت حاصل کی فلسفے اور منطق وغیرہ میں کہ ان کو اصل ہی بنا دیا اور شریعت کو ان کا تابع بنا دیا، یعنی فلسفے کی بات کو تو اٹل سمجھتے تھے چاہے کچھ بھی ہو یہ پکی بات ہے اسی طرح، حالانکہ اب بہت سے فلسفے، قدیم فلسفے کی بہت اکثر باتیں غلط ثابت ہو رہی ہیں۔ تو فلسفے کو اصل ٹھہرا لیتے اور قرآن اور حدیث میں جہاں فلسفے کے خلاف کوئی بات آتی اس سے ٹکراؤ ہوتا تو فلسفے کو اسی طرح برقرار رکھتے اور قرآن اور حدیث میں تاویل کر لیا کرتے تھے۔ جیسے بھئی معراج، یہ معراجِ جسمانی کے منکر تھے، اس لیے کیونکہ فلسفے میں ہے کہ اس زمین کے گرد کُرۂ نار ہے بھئی، آگ کا کرہ ہے جس نے چاروں طرف سے، ہر طرف سے زمین کو کیا کیا ہوا ہے؟ گھیرا ہوا ہے۔ تو وہ کہتے تھے یہ فلسفے کی بات اٹل بات ہے، جب آگ کا ہر طرف آگ ہے زمین کے تو کوئی اس میں سے جسم گزر ہی نہیں سکتا، تو لہٰذا معراجِ جسمانی کا انکار کرتے تھے۔
تو قرآن اور حدیث میں تو تاویل کر لی فلسفے کو اصل بنا دیا، اس میں کوئی تاویل نہیں کی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ حالانکہ اب بھئی سائنس نے بتلا دیا کوئی کرۂ نار موجود نہیں ہے زمین کے گرد، خلا باز جاتے ہیں خلا میں اور جہاز جاتے ہیں اور واپس بھی آتے ہیں بھئی۔ تو ان کے بہت سے گمراہ عقائد تھے، مثلاً یہ تقدیر کا انکار کرتے تھے بھئی، جنت اور جہنم کے وجود کا انکار کرتے ہیں کہتے ہیں اس وقت جنت اور جہنم نہیں ہے، آخرت میں اللہ بنائیں گے اس لیے کہ فلسفے میں ہے کہ نو کرے ہیں یہ اور یہ کائنات نو کرے ہیں اور ان کے باہر نہ خلا ہے نہ ملا، نہ خالی جگہ ہے نہ پور جگہ ہے، جگہ ہی نہیں ہے بھئی، معلوم ہوا کہتے ہیں اللہ کے پاس جگہ ہی نہیں ہے کہ جہاں پر کیا کریں؟ جنت اور جہنم ہو بھئی، حالانکہ ہم کیا کہتے ہیں؟ جنت اور جہنم اب بھی کیا ہیں؟ موجود ہیں بھئی۔
تو یہ دراصل اپنے فلسفے میں بے انتہا مہارت کی وجہ سے گمراہ ہو گئے، اسی لیے علماء نے لکھا ہے کہ معتزلہ وہ فرقہ ہے جو کثرتِ علم کی وجہ سے گمراہ ہوا، تو کبھی کثرتِ علم بھی کس کی طرف لے جاتی ہے؟ گمراہی کی طرف لے جاتی ہے بھئی۔ اسی طرح یہ تقدیر کا انکار کرتے ہیں، تقدیر کوئی نہیں ہے بھئی۔ اسی طرح یہ تعددِ خالقین کا قول کرتے ہیں بھئی کہ ہر انسان کیا ہے؟ اپنے افعال کا خود خالق ہے، خود خالق ہے۔ اسی طرح یہ کہتے ہیں کہ اللہ کے لیے ثواب و عقاب واجب ہے، ثواب دینا اور سزا دینا واجب ہے، ہم کہتے ہیں واجب نہیں ہے بھئی اللہ کے لیے، اللہ جنت بھی دیں گے تو اپنی رحمت سے دیں گے، اللہ پر واجب نہیں ہے بھئی۔ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ جس جو جس چیز میں حسن ہوگا اس کا حکم دینا اللہ کے لیے واجب ہے، جس میں قباحت ہے اس سے روکنا اللہ پر واجب ہے بھئی، ہم کہتے ہیں نہیں اللہ پر واجب نہیں ہے بھئی۔ تو یہ معتزلہ گمراہ فرقہ گزرا ہے۔
اور اشاعرہ یاد رکھیے علمِ کلام میں اشاعرہ سے مراد مقلدین جو امام ابو الحسن الاشعری کے مقلد ہیں بھئی، اشاعرہ سے کون مراد ہیں؟ جو امام ابو الحسن الاشعری کے مقلد ہیں، مقلد ہیں۔ علمِ کلام یاد رکھیے علمِ کلام آپ آگے جا کر پڑھیں گے انشاء اللہ، اس میں بھئی عقیدے کی بحث کی جاتی ہے عقیدے کی، تو اس عقیدے کے اندر جو امام مشہور ہیں سب سے زیادہ وہ امام ابو الحسن الاشعری ہیں، ابو الحسن الاشعری۔ یہ پہلے معتزلی تھے بھئی، یہ بھی معتزلہ میں تھے بھئی، بلکہ ان کے بڑے بڑوں اور رئیسوں میں سے تھے بھئی بڑی کتابیں بھی لکھیں ان کے لیے بھئی ان کے حق میں، پھر اللہ تعالیٰ نے دل کی کایا پلٹ دی اور ہوتے ہوتے اہل سنت والجماعت میں داخل ہوئے اور پھر ہوتے ہوتے امامِ دنیا بن گئے بھئی، امامِ دنیا بن گئے۔ تو ان کا تعلق اشعر قبیلے سے تھا اس لیے ان کو اشعری کہتے ہیں، اور جو ان کے مقلدین ہیں ان کو کیا کہتے ہیں؟ اشاعرہ کہتے ہیں۔ تو شوافع مقلد ہیں امام ابو الحسن الاشعری کے بھئی، عقائد کے اندر۔ جبکہ احناف مقلد ہیں امام ماتریدی کے، امام ماتریدی کے، امام ابو منصور ماتریدی بھئی، یہ ان کے بعد کے زمانے کے ہیں بھئی، اور ماترید سمرقند و بخارا کے پاس ایک بستی کا نام تھا اس کی نسبت سے مشہور ہیں امام ماتریدی بھئی، ماترید ایک بستی تھی بھئی سمرقند و بخارا کے پاس۔ تو
احناف مقلد ہیں امام ماتریدی کے، اور اشاعـ، شوافع مقلد ہیں امام ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ تعالی رحمۃ واسعۃ کے۔
لیکن امام ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ کو شہرت زیادہ ملی بھئی، شہرت زیادہ ملی بھئی، تو کبھی کبھار اشاعرہ بول کر تمام اہل حق بھی مراد لے لیے جاتے ہیں، تمام اہل حق، شوافع ہوں یا احناف ہوں وغیرہ۔
سمجھ میں آیا؟ امام ابو الحسن اشعری، یہ یمن کے رہنے والے تھے بھئی۔ جی، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ اب ذرا آگے لکھیے بھئی۔
اشاعرہ کہتے ہیں کہ کسی بھی فعل میں، اشاعرہ کہتے ہیں کہ کسی بھی فعل میں، کہ کسی بھی فعل میں حسن، حسن امر شرعی کی وجہ سے آتا ہے، امر شرعی کی وجہ سے آتا ہے، اور شریعت کی نہی کی وجہ سے فعل میں قبح آتا ہے، اور شریعت کی نہی کی وجہ سے فعل میں قبح آتا ہے۔
اس حسن و قبح میں عقل کا کوئی دخل نہیں۔ اس حسن و قبح میں عقل کا کوئی دخل نہیں۔
شریعت کے آنے سے قبل تمام، شریعت کے آنے سے قبل، شریعت کے آنے سے قبل تمام نیک و بد افعال، تمام نیک و بد افعال مثلاً ایمان، ایمان، نماز روزہ، نماز روزہ، مثلاً ایمان، نماز روزہ، کفر، زنا، چوری وغیرہ، کفر، زنا، چوری وغیرہ سب برابر تھے، سب برابر تھے۔ نہ تو ان میں حسن تھا اور نہ قبح، نہ تو ان میں حسن تھا اور نہ قبح۔
یعنی نہ تو یہ افعال، نہ تو یہ افعال مستحق مدح و ذم تھے، نہ تو یہ افعال مستحق مدح و ذم تھے اور نہ مستحق ثواب و عقاب، اور نہ مستحق ثواب و عقاب۔
پھر شارع نے بعض کو مستحق مدح و ثواب بنا دیا، پھر شارع نے بعض کو مستحق مدح و ثواب بنا دیا اور اس کا امر کیا، اور اس کا امر کیا۔ اور بعض افعال کو مستحق، اور بعض افعال کو مستحق ذم و عقاب قرار دیا، اور بعض افعال کو مستحق ذم و عقاب قرار دیا تو اس سے نہی کی اور منع کیا۔ تو اس سے نہی کی اور منع کیا۔
حاصل یہ کہ، حاصل یہ کہ عند الاشاعرہ، عند الاشاعرہ امر آیا تو فعل حسن ہوا۔ امر آیا تو فعل حسن ہوا۔ ایسا نہیں کہ فعل پہلے سے حسن تھا۔ ایسا نہیں کہ وہ فعل پہلے سے حسن تھا اور پھر امر آیا، اور پھر امر آیا، اور پھر کیا ہوا؟ امر آیا۔
بات سمجھ میں آئی بھئی؟ اشاعرہ کیا کہتے ہیں؟ حسن و قبح جو ہے اس کا دارومدار کس پر ہے؟ شریعت پر ہے، شریعت کے آنے سے پہلے کسی چیز کے اندر حسن اور قبح نہیں تھا۔ وہ تیسرے معنی کے اعتبار سے بات ہو رہی ہے یاد رکھنا۔
حسن و قبح، حسن کا کیا معنی تھا؟ کہ وہ قابل مدح ہو، اس پر وہ مستحق ثواب ہو۔ وہ فعل قابل تعریف ہو، اس پر کیا ملنا چاہیے؟ ثواب ملنا چاہیے، تو یہ حسن ہے۔
اور قبح کا کیا معنی ہے؟ کہ وہ فعل کیا ہو؟ قابل ذم ہے، قابل مذمت ہے اور اس پر عقاب ہونا چاہیے، سزا ملنی چاہیے، یہ تیسرے معنی کے اعتبار سے۔
سمجھ میں آیا؟ قابل مدح و ذم ہوتا ہے دنیا کے اندر اور قابل ثواب و عقاب ہے آخرت کے اندر بھئی۔ تو وہ کہتے ہیں بعینِ ہذا حسن اور قبح اس کا دارومدار شریعت پر ہے، عقل کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔ کوئی فعل قابل مدح ہے اور قابل ثواب ہے اس کا پتہ صرف کس سے چلے گا؟ شریعت سے۔ کوئی فعل قابل مذمت ہے دنیا میں اور آخرت میں قابل عقاب ہے اس کا پتہ صرف کس سے چلے گا؟ شریعت سے۔
یعنی امر آیا تو فعل کے اندر کیا پیدا ہو گیا؟ حسن پیدا ہوا، اس سے پہلے نہ حسن تھا اور نہ قبح، یعنی نہ وہ قابل مدح و ذم تھا اور نہ قابل ثواب و عقاب۔
جبکہ، جی، تو امر سے پہلے کچھ نہیں تھا، امر آیا، امر آ گیا تو اس میں کیا آ گیا؟ حسن آیا، وہ حسن ہو گیا۔ نہی آئی تو اس میں کیا آیا؟ قبح آ گیا اور وہ کیا بن گیا؟ قبیح ہوا۔
بات سمجھ میں سب کو سمجھ میں آ گئی؟ آگے لکھیے۔
جبکہ ہمارے اور معتزلہ کے نزدیک، جبکہ ہمارے اور معتزلہ کے نزدیک حسن و قبح عقلی ہیں۔ حسن و قبح عقلی ہیں۔ یعنی واقع اور نفس الأمر کے اعتبار سے ہیں، یعنی واقع اور نفس الأمر کے اعتبار سے ہیں۔ شریعت پر موقوف نہیں، شریعت پر موقوف نہیں۔
شریعت کے آنے سے قبل بھی، شریعت کے آنے سے قبل بھی افعال میں حسن و قبح موجود تھا، افعال میں حسن و قبح موجود تھا، یعنی واقع میں بعض افعال، یعنی واقع میں بعض افعال مستحق مدح و ثواب تھے، مستحق مدح و ثواب تھے اور بعض افعال، اور بعض افعال مستحق ذم و عقاب تھے، اور بعض افعال مستحق ذم و عقاب تھے۔
چنانچہ جن افعال میں حسن تھا، چنانچہ جن افعال میں حسن تھا، شارع نے ان کے کرنے کا حکم دیا، شارع نے ان کے کرنے کا حکم دیا اور جن میں قبح تھا، اور جن میں قبح تھا ان سے منع فرمایا، ان سے منع فرمایا۔
تو شریعت نے پہلے سے موجود، تو شریعت نے پہلے سے موجود حسن و قبح کی طرف رہنمائی کی، پہلے سے موجود حسن و قبح کی طرف رہنمائی کی۔
یعنی شریعت کے امر سے، یعنی شریعت کے امر سے مامور بہ کے حسن کا پتہ چلا، مامور بہ کے حسن کا پتہ چلا اور شریعت کی نہی سے، اور شریعت کی نہی سے منہی عنہ کے قبح کا، اور شریعت کی نہی سے منہی عنہ کے قبیح ہونے کا علم ہوا، منہی عنہ کے قبیح ہونے کا علم ہوا Construction.
امر کی وجہ سے مامور بہ میں حسن نہیں آیا، امر کی وجہ سے مامور بہ میں حسن نہیں آیا بلکہ پہلے سے موجود حسن کو، بلکہ پہلے سے موجود حسن کو امر نے ظاہر کر دیا، کو امر نے ظاہر کر دیا۔
جیسے علم طب، جیسے علم طب سے مختلف، مختلف دواؤں کے، مختلف دواؤں کے نفع اور نقصان کا پتہ چل جاتا ہے، مختلف دواؤں کے نفع و نقصان کا پتہ چل جاتا ہے۔
تو علم طب ان کے، ان دواؤں کے نفع و نقصان کو ظاہر کرتا ہے، تو علم طب ان دواؤں کے نفع و نقصان کو ظاہر کرتا ہے، ان میں نفع و نقصان پیدا نہیں کرتا، ان میں نفع و نقصان پیدا نہیں کرتا۔ نفع یا نقصان تو دوا میں پہلے سے موجود تھا، نفع یا نقصان تو دوا میں پہلے سے موجود تھا، علم طب نے اسے صرف ظاہر کر دیا۔ نفع و نقصان تو دوا میں پہلے سے موجود تھا، علم طب نے اسے صرف ظاہر کر دیا۔
باقی عقل کبھی کبھار تو، باقی عقل کبھی کبھار تو اس حسن و قبح کو خود ہی جان لیتی ہے، باقی عقل اس حسن و قبح کو کبھی کبھار تو خود ہی جان لیتی ہے۔ جیسے سچائی میں حسن، جیسے سچائی میں حسن اور جھوٹ میں قبح کا پتہ، اور جھوٹ میں قبح کا پتہ محض عقل سے ہی چل جاتا ہے، کا پتہ محض عقل سے ہی چل جاتا ہے۔
جبکہ کبھی ایسا ہوتا ہے، جبکہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ شریعت کی رہنمائی کے بغیر، کہ شریعت کی رہنمائی کے بغیر عقل، عقل حسن و قبح کا پتہ، عقل حسن و قبح کا پتہ نہیں چلا سکتی، حسن و قبح کا پتہ نہیں چلا سکتی جیسے کہ اکثر احکام شریعت ہیں، جیسے کہ اکثر احکام شریعت ہیں، جیسے نماز روزہ وغیرہ، جیسے نماز روزہ وغیرہ بھئی۔
الگ سطر لکھیے بھئی، البتہ ہمارے اور معتزلہ کے مذہب میں یہ فرق ہے، البتہ ہمارے اور معتزلہ کے مذہب میں یہ فرق ہے کہ ان کے نزدیک حسن و قبح، حسن و قبح حکم شارع کو مستلزم ہیں، حکم شارع کو مستلزم ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے اس چیز کا حکم دینا واجب ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے اس چیز کا حکم دینا واجب ہے جس میں حسن ہے، جس میں حسن ہے اور اس فعل سے روکنا واجب ہے، اور اس فعل سے روکنا واجب ہے جس میں قبح ہے، جس میں قبح ہے جبکہ ہمارے نزدیک یہ اللہ پر واجب نہیں، جبکہ ہمارے نزدیک یہ اللہ پر واجب نہیں۔
نیز یہ فرق ہے، دوسرا فرق یہ ہے، نیز دوسرا فرق یہ ہے کہ ان کے نزدیک سارا دارومدار عقل پر ہے، سارا دارومدار عقل پر ہے۔ عقل جسے حسن قرار دے وہ حسن ہی ہے، عقل جسے حسن قرار دے وہ حسن ہی ہے اور عقل جسے قبیح قرار دے، اور عقل جسے قبیح قرار دے وہ قبیح ہی ہے، جبکہ ہمارے نزدیک اصل دارومدار شریعت پر ہے۔
ہمارے نزدیک اصل دار و مدار شریعت پر ہے۔
شریعت نے حسن قرار دیا تو حسن ہے، شریعت نے حسن قرار دیا تو حسن ہے، شریعت نے قبیح قرار دیا تو قبیح ہے۔
عقل کی بات قطعی نہیں۔ عقل کی بات قطعی نہیں۔
بس بھئی، تقریر ختم ہوئی بھئی۔
بات سمجھ میں آئی بھئی؟ ہمارے نزدیک کیا ہے؟ ہمارے اور معتزلہ کے نزدیک حسن و قبح دونوں کیا ہیں؟ عقلی ہیں، یعنی واقع اور نفس الأمر میں ہے، ایک چیز میں پہلے... اشاعرہ نے تو کیا کہا تھا؟ کہ شریعت کے امر سے پہلے کسی چیز میں حسن نہیں تھا، امر آیا تو وہ فعل کیا بن گیا؟ اس میں حسن آیا اور وہ حسن ہوا، اس سے پہلے نہ اس میں حسن تھا اور نہ قبح۔ بات سمجھ میں آئی؟ جبکہ ہمارے اور معتزلہ کے نزدیک حسن اور قبح اس فعل میں پہلے سے تھا۔
یا تو اس میں حسن تھا یا قبح تھا، پہلے سے موجود تھا۔ شریعت نے آکر... اور اس حسن اور قبح کا عقل سے بھی بعض اوقات پتہ چل جاتا ہے، جیسے سچائی کیا ہے؟ اس میں حسن ہے، عقل بتلا دیتی ہے اور کذب میں کیا ہے؟ قباحت ہے، یہ عقل بتلا دیتی ہے، لیکن بسا اوقات عقل کا پتہ نہیں چلتا تو پھر اس صورت میں شریعت آکر کیا کرتی ہے؟ رہنمائی کر دیتی ہے اور بتلاتی ہے کہ اس فعل کے اندر حسن ہے۔
شریعت کا امر آتا ہے نا اور امر اس بات پر دلالت کرتا ہے، معلوم وہ امر دلیل ہوتی ہے اس بات پر کہ معلوم ہوا اس فعل کے اندر کیا ہے؟ حسن ہے۔ اور شریعت کی طرف سے نہی آ جائے تو نہی دلیل ہوتی ہے اس بات کی کہ اس کے اندر قبح ہے۔ تو امر اور نہی صرف دلیل ہیں، امر اور نہی نے اس میں حسن اور قبح کو پیدا نہیں کیا، انہوں نے صرف اس پر کیا کی ہے؟ دلالت کی ہے، رہنمائی کی ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو شرعی...
یہ اسی طرح جیسے علمِ طب کے اندر بھئی دوائیوں کے نفع اور نقصان کا پتہ چلتا ہے، یہ نہیں کہ علمِ طب نے ان کے اندر نفع اور نقصان رکھ دیا، نفع اور نقصان ان میں پہلے سے تھا۔ نفع اور نقصان تو ان میں پہلے سے تھا۔ مثلاً ایک دوا ہے، ایک چیز ہے جس سے ایک مرض میں نفع ہوتا ہے، ایک شخص طب بالکل نہیں پڑھتا نہ جانتا ہے، وہ اتفاقاً بھی اس چیز کو کھا لے گا تو اس کو کیا ہوگا؟ نفع ہوگا، معلوم ہوا اس کے اندر پہلے سے ہی کیا ہے؟ نفع۔ تو علمِ طب صرف کیا کرتا ہے؟ اس نفع کو یا نقصان کو آکر کیا کر دیتا ہے؟ ظاہر۔ اسی طرح افعال میں بھی پہلے سے حسن اور قبح موجود ہوتا ہے، صرف شریعت کا امر آکر کیا کر دیتا ہے؟ حسن کو ظاہر کر دیتا ہے، نہی آکر کس کو ظاہر کر دیتی ہے؟ قبح کو۔ تو بعض اوقات عقل کو خود ہی پتہ چل جاتا ہے حسن اور قبح کا اور اکثر اوقات پتہ نہیں چلتا تو اس میں پھر کون رہنمائی کر دیتی ہے؟ شریعت۔ شریعت کا امر دلیل ہوتا ہے اس کے حسن کی اور شریعت کی نہی دلیل ہوتی ہے اس کے قبح کی، قبح کی۔
سمجھ میں آئی بات؟ اور باقی فرق یہ ہے، ان کے نزدیک یہ حسن اور قبح پہلے سے تھا اور جس چیز میں حسن ہے اللہ کے لیے اس کا حکم کرنا واجب ہے۔ جس چیز میں قبح ہے اللہ کے لیے اس سے रोकना واجب ہے، ہم کہتے ہیں نہیں، اللہ کے لیے واجب نہیں ہے، اللہ پر واجب نہیں ہے کوئی چیز بھئی۔ اور اسی طرح دوسرا فرق یہ کہ ان کے نزدیک سارا دار و مدار عقل پر ہے، عقل نے جس کو حسن کہہ دیا وہ حسن ہی ہے، جسے قبیح سمجھا وہ قبیح ہی ہے، شریعت پر کوئی دار و مدار نہیں، لیکن ہم کہتے ہیں سارا دار و مدار شریعت پر ہے، عقل کی بات کوئی قطعی نہیں ہے، عقل ایک چیز کو بظاہر ہو سکتا ہے عقل کو ایک چیز حسن نظر آئے لیکن شریعت اگر بتلا دے کہ یہ قبیح ہے تو کیا ہوگی؟ قبیح ہی ہوگی، تو سارا دار و مدار کس پر ہے؟ شریعت پر ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، یہ مشکل مقام تھا ذرا، تو میں نے کہا آپ کو لکھوا دوں بھئی تاکہ آپ کے پاس محفوظ رہے بھئی۔
اب دیکھیے ذرا کتاب پر بھئی۔ متن دیکھیے بھئی: "ولا بد للمأمور به من صفة الحسن ضرورة أن الآمر حکيم" اور ضروری ہے مامور بہ میں صفتِ حسن کا ہونا، اس بات کے یقینی ہونے کی وجہ سے کہ حکم دینے والی ذات حکیم ہے، حکمت والی ہے۔ بھئی یاد رکھیے، جب کوئی شخص کسی کو کسی چیز کا حکم دے بھئی، اگر وہ کوئی عقل والا شخص ہے اور عقلمند آدمی ہے تو آپ بھی کہیں گے کہ یہ چیز جس چیز کا حکم دے رہا ہے یقیناً اس میں بھلا ہے، نفع ہے، حسن ہے اس کے اندر، اور اگر کوئی ظالم و جابر کسی چیز کا حکم دے تو پھر حکم وہاں پر بھی ہے، امر بھی ہے، مامور بھی ہو گیا جس کو حکم دیا، مامور بہ بھی آ گئی جس چیز کا حکم دیا، لیکن اس چیز میں حسن ضروری نہیں ہے بھئی، کیونکہ مثلاً بادشاہ کسی کو حکم دیتا ہے فلاں آدمی کو قتل کرو بھئی، تو فلاں آ... یہ حکم دے رہا ہے، امر بھی آیا، مامور جسے حکم دیا، مامور بہ جس چیز کا حکم دیا، لیکن حکم دینے والی ذات کیا حکیم ہے، دانا اور عقل والی ہے؟ عقل والی نہیں ہے، تو معلوم ہوا اس کے امر میں حسن کا ہونا ضروری نہیں، جیسے بات مثال میں نے ذکر کر دی، بادشاہ کسی کے قتل کا بلا وجہ حکم دیتا ہے تو اب یہاں پر امر ہے لیکن اس کے اس امر میں کوئی حسن نہیں ہے، یہ ظلم کر رہا ہے کسی کے قتل کا حکم دے رہا ہے بلا وجہ۔
لیکن اگر حکم دینے والی ذات حکمت والی ہے پھر یقیناً یقیناً کیا ہوگا؟ اس نے جس چیز کا بھی حکم دیا ہے معلوم ہوا وہ کوئی بیکار چیز نہیں ہے، بڑی ہی اعلیٰ اعلیٰ چیز ہے، اچھی چیز ہے بھئی۔ تو یہاں پر شریعت کی بات چل رہی ہے احکامِ شریعت کی اور اس میں حکم دینے والی ذات اللہ کی ہے اور اللہ جو جو ذات سب سے زیادہ حکمت والی ہے، اس کے اس نے جس چیز کا حکم دیا یقیناً اس کے اندر ہر لحاظ سے اچھائی اور حسن ہی ہوگا، خوبصورتی ہی ہوگی، کسی بھی اعتبار سے اس میں کمی نہیں ہوگی۔
تو یہی بات کر رہے ہیں کہ اب ضروری ہے مامور بہ میں صفتِ حسن کا ہونا "ضرورة أن الآمر حکيم" اس بات کے یقینی ہونے کی وجہ سے کہ حکم دینے والی ذات یعنی اللہ کی ذات کیا ہے؟ حکیم ہے، حکیم ہے۔ تو معلوم ہوا شریعت نے جو بھی جس چیز کا بھی حکم دیا، حکم دیا گیا وہ حکم دینے والی ذات اللہ کی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم حکم دینے والے ہیں، اللہ حکم دینے والے ہیں، تو یقیناً جس چیز کا حکم دے رہے ہیں اس میں کیا ہوگا؟ حسن ہوگا، معلوم ہوا مامور بہ میں حسن ضرور ہوگا، مامور بہ میں... یہی بات کر رہے ہیں۔ کہ مامور بہ میں ضروری ہے صفتِ حسن کا ہونا... اس بات کے یقینی ہونے کی وجہ سے کہ حکم دینے والی ذات حکیم ہے۔ "يعني لا بد أن يكون المأمور به حسناً عند الله تعالى قبل الأمر" یعنی ضروری ہے کہ مامور بہ جو ہے وہ حسن ہے اللہ کے نزدیک حکم دینے سے پہلے بھی، "ولکن يعرف ذلك بالأمر" لیکن اس کو جانا کس کے ذریعے جائے گا؟ یہ دیکھا ہمارے نزدیک پہلے سے ہی چیزوں میں کیا تھا؟ حسن تھا، جب حسن تھا تو وہ چیز حسن ہوئی تو اللہ کے نزدیک حسن ہوئی جبھی تو اللہ کیا کر رہے ہیں اس کا حکم دے رہے ہیں۔
تو مامور بہ میں اللہ کے نزدیک پہلے سے ہی حسن تھا، لیکن پھر پتہ کس کے ذریعے چلا؟ دلالت اور رہنمائی کس کے ذریعے ہوئی شریعت کے حکم کے ذریعے؟ تو یہی بات کر رہے ہیں "ولکن يعرف ذلك بالأمر" لیکن اس کو حسن کو جانا جائے گا امر کے ذریعے، "ضرورة أن الآمر حکيم" اس بات کے بدیہی ہونے کی وجہ سے، بدیہی کا کیا معنی میں نے بتلایا تھا؟ جس میں بدیہی جس میں ذرا بھی غور و فکر نہ کرنا پڑے، فوراً ہی بات سمجھ میں آ جائے، اس بات کے بدیہی ہونے کی وجہ سے اس بات کے یقینی ہونے کی وجہ سے کہ حکم دینے والی ذات حکیم ہے، "والحکيم لا يأمر بالفحشاء" اور حکیم حکم نہیں کرتا برائی کا، حکیم کبھی بھی برائی اور بے حیائی کا حکم نہیں کرتا، جس چیز کا بھی حکم دے رہا ہے یقیناً اس میں حسن ہی حسن ہے۔
"وهذا عندنا" یہ ہمارے نزدیک ہے، "وعند المعتزلة الحاکم بالحسن والقبح هو العقل ولا دخل فيه للشرع" اور جبکہ معتزلہ کے نزدیک "الحاکم بالحسن" حسن کا فیصلہ حسن "بالحسن والقبح" حسن اور قبح کا فیصلہ کرنے والی "هو العقل" وہ عقل ہی ہے "ولا دخل فيه للشرع" اس میں شریعت کا دخل نہیں، جیسا کہ میں نے آپ کو لکھوایا کہ معتزلہ کے نزدیک سارا دار و مدار عقل پر ہے، جسے عقل نے حسن قرار دیا وہ حسن ہی ہے، جسے عقل نے قبیح قرار دیا وہ قبیح ہی ہے بھئی۔
تو یہ ان کے نزدیک ہے، کہتے تو کہتے ہیں "وعند المعتزلة الحاکم بالحسن والقبح" معتزلہ کے نزدیک فیصلہ کرنے والی حسن اور قبح کا "هو العقل" وہ عقل ہی ہے "ولا دخل فيه للشرع" اس میں شریعت کا دخل نہیں ہے، "وعند الأشعرية رحمه الله تعالى الحاکم بهما هو الشرع لا دخل فيه للعقل" کہ ان دونوں کا فیصلہ کرنے والی وہ شریعت ہی ہے، یعنی حسن اور قبح کا فیصلہ کرنے والی شریعت ہی ہے "لا دخل فيه للعقل" اس میں عقل کا کوئی دخل نہیں ہے بھئی، بتلایا پہلا مذہب ان کا تھا کہ شریعت سے پہلے نہ کسی چیز میں حسن تھا اور نہ قبح تھا، شریعت نے حکم دیا تو اس چیز میں حسن آ گیا، شریعت نے منع کیا تو اس چیز میں قبح آ گیا، تو ان کے نزدیک جو دونوں کا حسن اور قبح کا فیصلہ کرنے والی کون ہے؟ شریعت ہے، اس میں عقل کا دخل نہیں، جبکہ ہمارے نزدیک... اصل دار و مدار شریعت پر ہے، لیکن عقل بھی کیا کر دیتی ہے؟ حسن اور قبح کی طرح رہنمائی کر دیتی ہے، لیکن اصل کامل رہنمائی اور جس پر دار و مدار ہے وہ کس کی طرف سے ہے؟ شریعت کی طرف سے، عقل چاہے ایک چیز میں حسن بتلا بھی دے، لیکن اگر شریعت کہہ دے نہیں کرنا تو معلوم ہوا اس میں حسن نہیں ہے، تو ہمارے نزدیک دار و مدار شریعت پر ہے۔
"ثم شرع في تقسيم الحسن إلى عينه وإلى غيره وتقسيم کل منهما إلى أقسامهما" اچھا، اب کہتے ہیں ماتن شروع ہو رہے ہیں حسن کی تقسیم کرنے لگے ہیں بھئی۔ حسن کی تقسیم کرنے لگے ہیں "إلى عينه وإلى غيره" حسن جو اس چیز کے عین کی وجہ سے ہوگا یا "إلى غيره" یا اس مامور بہ کے غیر کی وجہ... تو وہ حسن جو مامور بہ کے عین کی وجہ سے ہوگا یا اس کے غیر کی وجہ سے ہوگا، جی اس کی قسمیں شروع ہو رہے ہیں "وتقسيم کل منهما إلى أقسامهما" اور ان دونوں کی ان کے اقسام کی طرف تقسیم میں شروع ہونے لگے ہیں بھئی مصنف بھئی، "فقال" پہلے یہ بات سمجھ لیجیے بھئی، دیکھو بعض چیزیں جن چیزوں کا شریعت نے حکم دیا وہ ہیں مامور بہ، جن کا امر دیا وہ کیا ہیں؟ مامور بہ، اور جب امر دیا تو معلوم ہوا اس میں حسن ہے، اس میں کیا ہے؟ حسن، پھر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ حسن اس فعل کی ذات ہی میں ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ اس فعل کی ذات میں حسن ہوتا ہے، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس فعل کی ذات میں حسن نہیں ہے، ہاں ایک غیر ہے، اس غیر کی وجہ سے اس میں بھی کیا آ گیا؟ حسن آ گیا۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کبھی حسن اس چیز کی ذات ہی میں ہوا کرتا ہے جیسے نماز بھئی، نماز کی ذات میں ہی حسن ہے، اس لیے کہ یہ ساری نماز اس میں اللہ کی اس ساری نماز کس پر دلالت کرتی ہے؟ اللہ کی تعظیم پر بھئی، اور اللہ تعالیٰ جو ہم سب کا رب ہے اور ہمیں طرح طرح کی نعمتیں دینے والا ہے، ہمیں پیدا کرنے والا ہے، اس کی تعظیم کیا ہے؟ اچھی چیز ہے بھئی، کیا ہے؟ تو یہ اس میں یہ یعنی نماز ساری اللہ کی تعظیم پر مشتمل ہے اور اللہ کی تعظیم کیا ہے؟ حسن ہے بھئی، اچھی ہے، تو لہٰذا چونکہ ساری نماز اس تعظیم پر مشتمل ہے تو نماز کیا ہوئی؟ اپنی ذات کے اعتبار سے حسن ہوئی بھئی، اس کی ذات ہی میں حسن ہے، اور کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ حسن اس چیز کی ذات میں نہیں ہوتا، کسی غیر کی وجہ سے اس میں حسن آ جاتا ہے، جیسے وضو ہے، وضو کو اگر دیکھا جائے بظاہر تو یہ تو پانی کا ضیاع کرنا ہے، پانی ضائع کیا جا رہا ہے، لیکن یہ وضو چونکہ وسیلہ ہے یہ کس تک پہنچائے گا ہمیں؟ نماز، وضو ہوگا تو نماز ہوگی، تو اس وضو میں جو حسن آیا کس کی وجہ سے آیا؟ نماز کی وجہ سے حسن آیا، تو یہ حسن لغیرہ ہے، نماز حسن لذاتہ ہے یعنی اس کی ذات ہی کیا ہے؟ حسن، اور وضو حسن لغیرہ ہے یعنی وہ حسن ہے لیکن کس کی وجہ سے؟ غیر یعنی نماز کی وجہ سے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
دیکھیے اب کتاب پر ذرا: "فقال" مصنف فرماتے ہیں "وهو إما أن يكون لعينه" کہ وہ حسن یا تو عینِ مامور بہ کی ذات کی وجہ سے ہوگا، خود بتلا رہے ہیں "أي الحسن" "يكون" کی ضمیر... "هو" ضمیر کس کو راجع ہے؟ حسن کو، یعنی وہ حسن جو ہے "إما أن يكون لذات المأمور به" "لعينه" یہ ضمیر کس کو راجع ہے؟ مامور بہ کو بھئی، کہ وہ حسن یا تو مامور بہ کی ذات اور عین کی وجہ سے ہوگا "بأن يكون حسنه في ذات ما وضع له ذلك من غير واسطة" بدیں طور کہ اس کا حسن جو ہے "في ذات ما" اس چیز کی ذات ہی میں ہے "وضع له ذلك" جس کے لیے وہ مامور بہ وضع ہے "من غير واسطة" بغیر واسطے کے۔
اس چیز کی ذات میں کیا ہوگا؟ حسن، "في ذات ما" اس چیز کی ذات میں، کس چیز کی ذات؟ "وضع له ذلك" جس کے لیے وہ مامور بہ کیا ہے؟ وضع، صلاة کا لفظ بھئی، یہ کس کے لیے وضع ہے؟ وہ مخصوص افعال ہیں مولانا، کیا ہیں؟ مخصوص افعال ہیں، اور ان مخصوص افعال کی ذات میں کیا ہے؟ حسن ہے، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اس مامور بھئی طور کہ اس مامور بہ کا حسن "في ذات ما وضع له ذلك" اس چیز کی ذات ہی میں ہوگا جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے "من غير واسطة" بغیر کسی واسطے کے، "وهذا ثلاثة أنواع على ما قالوا" اور یہ تین قسم پر ہے بھئی، یعنی یہ حسن لِعَینِہٖ وہ مامور بہ... یا یوں کہیں۔ وہ حسن، وہ حسن جو کس کی وجہ سے ہے؟ مامور بہ کی ذات کی وجہ سے ہی ہے، وہ کتنی قسم پر ہے؟ تین قسم پر ہے، تو کہتے ہیں "وهذا ثلاثة أنواع على ما قالوا" اور یہ تین قسم پر ہے بناء پر اس کے جو فرمایا بھئی، آگے ماتن نے، "وهو" اور وہ یہ کہ "إما أن لا يقبل السقوط أو يقبله" کہ یہ حسن یا تو سقوط کو قبول کرے گا... "أن لا يقبل السقوط أو يقبله" کہ وہ یہ سقوط کو قبول کرے گا یا قبول نہیں کرے گا۔
بھئی دیکھیے! مثال پہلے سمجھ لیجیے، پھر بات واضح ہو جاتی ہے۔ ایمان بھئی، ایمان، اللہ اور اس کے رسول پر ایمان۔ ایمان میں زبان سے اقرار بھی ضروری ہے اور دل سے تصدیق بھی ضروری ہے، زبان سے بھی اللہ کی وحدانیت اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار کیا جائے اور دل سے بھی یہی عقیدہ رکھا جائے بھئی، یعنی تصدیقِ قلبی بھی ساتھ ہو، تو اقرار بھی ضروری اور تصدیقِ قلبی بھی ضروری۔ تو یہ جو تصدیق ہے، یہ تصدیق بھئی... اس کی ذات میں حسن ہے، اس کی ذات میں ہی کیا ہے؟ تو یہ حسن لِعَینِہٖ ہے، کیوں؟ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا پروردگار ہے، ہمیں نعمتیں دینے والا ہے، ہمیں پیدا کرنے والا ہے، تو اس کی وحدانیت کا کیا کرنا چاہیے؟ اقرار کرنا چاہیے، اور تو اس کی وحدانیت کا اقرار کرنا چاہیے، تو یہ تصدیق اپنی ذات ہی کے اعتبار سے کیا ہے؟ حسن ہے، اس کے اندر حسن ہے، کیا کرنا چاہیے؟ اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرنا چاہیے جس نے ہمیں پیدا کیا اور یہ تمام نعمتیں دیں بھئی، تو اس... دیکھو اقرار کی بات اب میں نہیں کر رہا، صرف تصدیق کی بات کر رہا ہوں، اقرار کس کے ذریعے ہے؟ زبان کے ذریعے اور تصدیق کس کے ذریعے ہے؟ قلب کے ذریعے، تو یہ تصدیق جو قلب کے ذریعے ہے، یہ اپنی ذات کے اعتبار سے کیا ہے؟
حسن ہے تو اس میں حسن ہے اور یہ حسن سقوط کو کبھی بھی قبول نہیں کرتا۔ کبھی بھی اس سے حسن ختم نہیں ہو سکتا۔ ہمیشہ اس میں کیا رہے گا؟
حسن رہے گا کبھی اس سے حسن جدا نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ آپ دیکھتے ہیں بھئی، اگر کوئی شخص کفار کے نرغے میں چلا گیا اور کفار اس پر زبردستی کرتے ہیں کہ ہم تجھے قتل کر دیں گے، تیرے ہاتھ پاؤں کاٹ دیں گے، تو کلمہ کفر زبان سے کہے، اللہ کی وحدانیت کا انکار کر، تو شریعت نے گنجائش دے دی کہ کیا کر سکتے ہو تم زبان سے
انکار کر سکتے ہو لیکن دل کے اندر کیا ہونا چاہیے؟ اقرار ہونا چاہیے، دل مطمئن ہونا چاہیے ایمان پر، یعنی تصدیق دل کے اندر تصدیق کا ہونا پھر بھی ضروری ہے۔ معلوم ہو یہ تصدیق کسی حالت میں ساقط نہیں ہوتی۔ معلوم ہو اس کے اندر حسن ہے ایک تو اس کی ذات کی وجہ سے اور پھر یہ کبھی بھی سقوط کو قبول نہیں کرتی، یہ ہر حال میں حسن اس کے اندر رہتا ہے اور کبھی کبھار یہ سقوط کو قبول کر لیتی ہے بھئی یہ جو حسن لے یہ حسن جو ہوتا ہے عین مامور بہ کی وجہ سے یہ کبھی کیا کر لیتا ہے؟ سقوط کو قبول کر لیتا ہے۔
جیسے نماز مولانا یہ اپنی ذات کے اعتبار سے اس میں حسن ہے لیکن یہ کبھی حسن کیا ہو جاتا ہے؟ ساقط ہو جاتا ہے۔ مثلاً جیسے حیض و نفاس کی حالت ہے اس کے اندر بھئی عورت پر سے عورت سے نمازیں معاف ہیں بھئی۔ عورت سے کیا ہیں؟
نمازیں معاف ہیں۔ تو معلوم ہو اس وقت اس سے کیا ہوا؟ حسن کیا ہو چکا؟ نماز سے حسن ساقط ہو چکا ہے۔ چنانچہ اسی وجہ سے ان نمازوں کی نہ تو وہ ادا کرے گی نہ بعد میں قضا کرے گی بھئی اس پر ادا بھی نہیں ہے اور قضا بھی نہیں ہے۔ تو دیکھا اس حالت میں معلوم ہوا حسن چلا گیا اس میں حسن نہیں ہے۔
صورت سمجھ میں آئے؟ تو لہذا یہ حسن کتنے قسم پر ہوا؟ دو۔ یہ حسن لعلینہ جو ہے دو قسم پر ہوا۔ ایک وہ ہے جو سقوط کو کیا کر لیتا ہے کبھی بھی قبول نہیں کرتا، ایک وہ ہے جو کبھی کیا کر لیتا ہے سقوط کو بھی قبول کر لیتا ہے کسی عذر کی وجہ سے۔
بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی یہ جب اس کی ذات میں ہی حسن ہے تو حسن کیسے ساقط ہو سکتا ہے؟
ایک چیز کی ذات ہی حسن ہے تو حسن اس سے کیسے ساقط ہو سکتا ہے؟ تو جواب یہ مولانا کہ حسن ساقط ہونے کا یہ معنی کہ شریعت پھر اس کا اعتبار نہیں کرتی۔ کیا کرتی ہے؟
شریعت اعتبار نہیں کرتی، سمجھ میں آیا؟ اس عارض کی وجہ سے، یہ جو عذر لاحق ہوا ہے تو شریعت اب حسن کا اعتبار نہیں کرتی، شریعت کی نظر میں اب وہ حسن نہ رہا، لہذا اس میں معلوم ہو کیا ہو گیا؟ حسن کیا ہو گیا؟
ساقط ہو چکا ہے، بات سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟
دیکھیے بھئی تو کہتے ہیں وہ ہوا وہ حسن جو ہے، لا یقبل السقوط اور یقبله یا وہ حسن یا تو سقوط کو قبول نہیں کرے گا یا قبول کرے گا۔ ای لا یقبل ذلک الحسن السقوط من المامور بہ، یعنی وہ حسن قبول نہیں کرتا مامور بہ سے سقوط کو بل یکون دائما حسنا بلکہ وہ کیا ہوگا مامور بہ ہمیشہ
حسن ہی رہے گا ومامورا بہ علی المقلفی اور ہمیشہ مقلف پر مامور بہ رہے گا، حالانکہ جو سقوط کو قبول کر لیتا ہے نماز جو ہے جیسے حیض کی حالت میں نماز ساقط ہوئی، نہ اس کی ادا ہے اور نہ قضا ہے، تو اب اس حیض کی حالت میں یہ نماز اس عورت پر مامور بہ رہی؟
یہ اس پر مامور بہ رہی ہی نہیں۔ تو یہی بات کریں جو سقوط کو قبول نہیں کرتا، وہ ہمیشہ حسن رہے گا ومامورا بہ اور ہمیشہ کیا رہے گا؟
مامور بہ رہے گا علی المقلفی مقلف پر وہ واجب علی اور اس پر واجب رہے گا اور یقبل سقوط فی حین من الاحیان اور کبھی کبھار کیا کرے گا یہ حسن؟ یہ سقوط کو قبول کر لیتا ہے فی حین من الاحیان کسی وقت اوقات میں سے کسی وقت کے اندر لعذر من الاعذار عذروں میں سے کسی عذر کی وجہ سے ویکن
ویکن او یکون او یکون ملحقا بهذا القسم یہ تیسری قسم بیان کرنے لگے ہیں، پہلی دو قسمیں کیا تھیں؟ کہ وہ حسن کیا کرے گا؟
سقوط کو قبول کرے گا یا سقوط کو قبول نہیں کرے گا یہ دو قسمیں اور تیسری قسم حسن کی کہ وہ ملحق ہوگا اس قسم کے ساتھ۔
او یکون
او یکون ملحقا بهذا القسم بھئی یا وہ کیا ہوگا؟
وہ حسن ملحق ہوگا اس قسم کے ساتھ یہ کون سی قسم تھی؟
جو حسن لعلینہ کی تھی، کیا تھی؟ حسن لعلینہ کی۔
حسن لعلینہ کے ساتھ ملحق ہوگا لاکنہ مشابہ لیکن وہ مشابہ ہوگا لما اس چیز کے حسن جو حسن ہوئی لمعنا فی غیرہ ایسے معنی کی وجہ سے جو اس کے غیر میں ہے۔
جو حسن ہوئی ایسے معنی کی وجہ سے جو حسن لفظوں میں یوں کہو بھئی، یہ تیسری قسم وہ ہے جو ملحق ہے حسن لعلینہ کے ساتھ۔ ملحق کس کے ساتھ ہے؟
اور مشابہ حسن لغیر کے ساتھ ہے، تیسری قسم کیا ہے؟
ملحق ہے حسن لعلینہ کے ساتھ اور مشابہ ہے کس کے ساتھ؟
حسن لغیر کے ساتھ تو اس کے اندر دو جہتیں آ گئی مولانا، کیا آ گئی؟ دو جہتیں آ گئیں۔ ایک جہت کے اعتبار سے یہ ملحق ہوا کس کے ساتھ؟
حسن لعلینہ کے ساتھ اور دوسری جہت دیکھیے جائے تو یہ مشابہ ہے کس کے ساتھ؟
حسن لغیر کے ساتھ۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
جیسے اس کی مثال ذکر کریں گے، ایسے جیسے کہ زکوۃ ہے مولانا کیا ہے؟
زکوۃ ہے، زکوۃ اب جو
زکوۃ ہے وہ ملحق ہے کس کے ساتھ؟
حسن لعلینہ کے ساتھ لیکن مشابہ ہے کس کے ساتھ؟
حسن لغیر کے ساتھ۔
कैसे, دیکھیے زکوۃ کو اگر بظاہر دیکھا جائے،
کہ اس کے اندر تو مال کا خرچ کرنا ہے، اس کو ضائع کرنا ہے۔
سمجھ میں آیا؟ تو عقل کہتی ہے اس میں تو کوئی حسن نہیں۔ چنانچہ آپ دیکھتے ہیں بہت سے لوگ کیا کرتے ہیں، زکوۃ دیتے ہی نہیں۔
عقل ان کو بتاتی ہے نا یہ تو مال جا رہا ہے ہاتھ سے وہ دیتے ہی نہیں بھئی۔
تو عقل تو یہ کہتی ہے کہ یہ کیا ہے؟ مال کا ضائع کرنا ہے، لیکن اس میں حسن آیا اس وجہ سے کہ اس مال کے ذریعے فقیر کی حاجت پوری ہوگی، وہ فقیر جو اللہ کا محبوب ہے، اس کی کیا پوری ہوگی؟
حاجت پوری ہوگی۔
تو یہ جو فقیر کی حاجت کا پورا کرنا ہے، اس کی اور اور ہاں اور یہ فقیر کی حاجت پورا کرنا یہ تو کیا ہے؟
یہ تو حسن ہے تو اس کی وجہ سے زکوۃ میں بھی کیا آ گیا؟
حسن آ گیا۔
حسن آ گیا تو اس کو ہونا تو کیا چاہیے؟
حسن لغیرہی لیکن ہم کیا کہتے ہیں یہ ملحق ہے کس کے ساتھ؟ حسن لعلینہ وجہ یہ مولانا کہ اس کے اندر جو فقیر جو ہے اس کا فقر جو ہے اس کے اپنے اختیار سے نہیں ہے بلکہ کس وجہ سے ہے؟ اللہ نے اس کو کیا بنایا ہے؟
فقیر بنایا ہے، محتاج بنایا ہے تو اس کا فقر اپنے اختیار سے نہیں۔ تو واسطہ تو ہے یہاں واسطے کے ذریعے حسن آ رہا ہے زکوۃ کے اندر لیکن وہ واسطہ اختیاری ہے یا غیر اختیاری؟
غیر اختیاری۔ فقیر کا فقر اور اس کی احتیاج اس کے اختیار سے ہے یا غیر اختیاری ہے؟
غیر اختیاری تو لہذا یہاں پر زکوۃ میں حسن آیا تو واسطے کے ذریعے، لیکن وہ واسطہ چونکہ اختیار میں نہیں ہے، تو وہ گویا لا واسطے کی طرح ہوا۔ کس کی طرح ہوا؟
لا واسطے کی طرح ہوا، یعنی اس کا کوئی اعتبار نہیں کیا، تو یہ کیا ہوا حسن؟
لعلینہ یعنی اس کے ساتھ اسے ملحق ہوا اس کے ساتھ بھئی۔
لیکن بہرحال صورتا واسطہ تو ہے۔
صورتا کیا ہے؟ واسطہ تو ہے تو معنی کے اعتبار سے تو واسطہ نہیں لیکن صورتا کیا ہے؟ واسطہ موجود تو اصل ہے معنی تو معنی کے اعتبار سے ہم نے کہا چونکہ معنی ہے اصل اس لیے یہ کیا ہے ملحق لعلینہ
ملحق با حسن لعلینہ ہے اور لیکن صورتا تو واسطہ آ گیا اگرچہ غیر اختیاری ہے لیکن صورتا ہے تو تو ہم نے کیا کہا؟ یہ مشابہ ہے کس کے ساتھ؟ حسن لغیرہی کے ساتھ۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
سب کو سمجھ میں آ گئی بات؟
تو یہ اب دوبارہ دیکھیے او یکون ملحقا بهذا القسم یا وہ جو حسن جو ہے وہ ملحق ہوگا اس قسم کے ساتھ، یعنی کس کے ساتھ؟ حسن لعلینہ کے ساتھ، لاکنہ مشابہ لیکن وہ مشابہ ہوتا ہے لما اس مامور بہ کے حسن لما فی غیرہی جو حسن ہوا ہے ایسے معنی کی وجہ سے جو اس کے غیر میں تھا۔
ای یکون ای یکون المامور به
ای یکون المامور بہ ملحقا بالحسن
لعلینہ یعنی وہ مامور بہ کیا ہوگا؟ ملحق بالحسن لعلینہ ہوگا، لاکنہ مشابہ للحسن لغیرہی مگر وہ مشابہ ہے کس کے ساتھ؟
حسن لغیرہی کے ساتھ، فہو ذو جہتیں تو وہ کتنی جہت والا ہے؟ دو جہت والا ہے۔ ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو وہ کیا ہے؟
حسن لعلینہ ہے دوسری جہت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو حسن لغیرہی ہے۔ وانما جعله من اقسام الحسن لعلینہ اعتبارا للاصل کس کا اعتبار کرتے ہوئے؟
اصل کا کما ستوقف علیہ فیما بعد یہ وہی اشکال کا جواب دے رہے ہیں کہ بھئی جب یہ ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو کیا ہے؟ حسن لعلینہ اور دوسرے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ کیا ہے؟
حسن لغیرہی تو آپ نے کہا یہ ملحق ہے حسن لعلینہ کے ساتھ اور مشابہ ہے کس کے ساتھ؟
حسن لغیرہی کے ساتھ تو آپ نے یہ کیوں نہیں کہا کہ یہ ملحق ہے حسن لغیرہی کے ساتھ اور مشابہ ہے کس کے ساتھ؟
حسن لعلینہ کے ساتھ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو جواب دیتے ہیں کہ بھئی اصل کا اعتبار کرتے ہوئے کیونکہ اصل اور معنی کے اعتبار سے اس وہ واسطہ بھی کس کی طرح ہے؟
لا واسطہ اس کا ہم کوئی اعتبار نہیں کرتے تو اصل کے اعتبار سے گویا کہ واسطہ ہے ہی نہیں لیکن صورت کے اعتبار سے تو بہرحال کیا موجود ہے؟ واسطہ تو اصل صورت ہوتی ہے یا معنی اصل ہوتا ہے؟
معنی اصل ہے سمجھ میں آیا؟ تو اصل کا اعتبار کرتے ہوئے ہم نے اس کو ملحق کیا قرار دیا ملحق بحسن لعلینہ قرار دیا۔
کہتے ہیں والانما جعله من اقسام الحسن لعلینہ اور اس کو حسن لعلینہ کی اقسام میں بنایا اعتبارا للاصل کس کا اعتبار کرتے ہوئے؟
اصل کا کما ستوقف علیہ فیما بعد جیسے کہ عنقریب اپ اس پر واقف ہو جائیں گے بعد میں اگے خود ذکر کر دیں گے۔
ولاکن فی تقسیم مسامحتا لیکن اس تقسیم کے اندر مسامحت ہے۔
کیا ہے؟
مسامحت ہے اس لیے کیونکہ تین قسمیں ذکر کی اور اقسی تو یہ ایک دوسرے کی قسمیں ہوئیں اور قسمیں میں کیا ہوتا ہے تقابل ہوتا ہے تین قسمیں کون کون سی ذکر کیں؟
ایک تو یہ کہ وہ حسن کیا کرے گا؟
سقوط کو قبول کرے گا یا قبول نہیں کرے گا اور دوسرا کیا کہا؟ وہ حسن کیا ہے؟
ملحق ہوگا حسن لعلینہ کے ساتھ اور مشابہ ہوگا حسن لغیرہی کے ساتھ۔
تو یہ جو تیسری قسم ہے اس میں تو دونوں احتمال آ گئے ہو سکتا ہے یہاں بھی حسن سقوط کو قبول کرے گا یا قبول نہیں اگر قبول کرے گا تو پہلی قسم میں داخل اور اگر سقوط کو قبول کر لیتا ہے تو دوسری تو یہ ایک دوسرے کے مقابل نہیں ہے بھئی تو کہتے ہیں اس میں مسامحت ہے تقسیم میں۔
والواجب ان یقول اور واجب یہ کہ یوں کہتے مصنف وھو اما ان یکون لعلینہ بالذات او بالواسطتی کہ وہ حسن جو ہے وہ یا تو کیا ہوگا وہ حسن
لعلینہ جو ہے وہ حسن لعلینہ بالذات ہوگا یا بالواسطہ ہوگا۔
حسن کی پہلے تقسیم کیسے کرتے؟
انہوں نے تو شروع میں ہی تقسیم کر دی تین قسمیں بنا دیں بلکہ کیا کرتے پہلے کہ یہ حسن لعلینہ جو ہے جو آپ نے بتلایا نا پہلے حسن دو قسم پر ہے ایک حسن لعلینہ اور ایک حسن پھر یہ حسن لعلینہ دو قسم پر ہے یا تو یہ سقوط کو قبول کرے گا یا سقوط کو قبول نہیں کرے گا یا ملحق ہوگا تیسری قسم بیان کر دی بھئی۔
تو کہتے ہیں پہلے انہوں نے حسن کی حسن لعلینہ کی براہ راست تین قسمیں بنائیں حالانکہ پہلے کیا کرنا چاہیے تھا؟
دو قسمیں بناتے پھر ان میں سے ایک قسم کی اگے دو قسمیں مزید ذکر کرتے تو پتہ چل جاتا کہ یہ ایک دوسرے کی قسم نہیں ہے لہذا ان میں تقابل کا ہونا بھی ضروری نہیں۔ کس طرح تقسیم کرتے؟
کہ یہ جو حسن لعلینہ تھا یا تو یہ بالذات ہوگا یا یہ بالواسطہ ہوگا۔
یہ حسن لعلینہ کس وجہ سے ہوگا؟
بالذات یعنی ذات کے اعتبار سے ہوگا بغیر کسی واسطے کے ہوگا یا یہ حسن کس کی وجہ سے ہوگا؟ واسطے کے ساتھ جیسے کس میں آیا تھا؟ زکوۃ کے اندر بھئی۔ پھر جس کے اندر حسن بالذات ہے پھر اس کی دو قسمیں ہیں۔
اس کی کیا ہیں؟
دو قسمیں ہیں۔
ایک وہ جو سقوط کو قبول کرتا ہے ایک وہ جو سقوط کو قبول نہیں کرتا تو تقسیم سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں واجب تھا ماتن پر کہ یوں کہتے وھو اما ان یکون لعلینہ بالذات او بالواسطتی کہ وہ حسن لعلینہ یا تو وہ بالذات ہوگا یعنی بغیر واسطے کے ہوگا اور بالواسطہ یا کس کے ذریعے ہوگا؟
واسطے کے ذریعے ہوگا والاول (یعنی پہلا یعنی وہ جو بالذات ہے) اما ان لایقبل السقوط اور یقبله یا پھر وہ یا تو سقوط کو قبول کرے گا یا سقوط کو قبول نہیں کرے گا و قد وقع التسامه من فی هذا تقسیم کثیرا اور تحقیق تسامح واقع ہوا ہے ماتن سے مصنف سے
تسامح واقع ہوا ہے اس تقسیم کے اندر بہت زیادہ بھئی آگے بھی بتائیں گے کہ یہاں بھی تسامح ہے یہاں بھی تسامح ہے۔
کالتصدیق والصلاۃ والزکوۃ جیسے کہ تصدیق ہے، صلاۃ ہے اور زکوۃ ہے یہ اب تین مثالیں ذکر کر رہے ہیں کہتے ہیں نشر علی ترتیبی اللفظ یہ نشر ہے لفظ کی ترتیب پر میں نے بتایا تھا لفظ و نشر کس کو کہتے ہیں کہ دو تین یا چار چیزوں کو پہلے ذکر کر دیا پھر ہر ایک سے متعلقہ اگے کوئی بات ذکر کر دی تو اگر تو پہلے جو تین چار چیزوں کو ذکر کیا یہ کہلاتا ہے لفظ اور پھر اگے جو تین چار باتیں ہر ایک سے متعلقہ الگ الگ ذکر کی وہ کیا کہلاتی ہیں؟
نشر۔
ان باتوں میں یاد رکھیے یہ تعیینی ہوتی ہے کہ اس کا تعلق کس سے ہے، اس کا تعلق کس سے، اس کا تعلق کس سے عقل خود بخود بتلا دیتی ہے کہ پہلی کا فلاں سے تعلق، دوسری کا فلاں سے، تیسری کا فلاں سے پھر اب لفظ و نشر میں ایک ہی جیسی ترتیب ہو لفظ میں جو پہلے نمبر پر تھا نشر میں بھی وہ اس سے متعلقہ بات پہلے نمبر پر ہے لفظ میں جو دوسرے نمبر پر تھا نشر میں بھی اس سے متعلقہ بات دوسرے نمبر پر ہے ترتیب سے ہوں تو یہ کہلاتا ہے لفظ و نشر مرتب اور اگر نشر میں لفظ والی ترتیب نہ ہو تو یہ کیا کہلاتا ہے لفظ و نشر غیر منضبط۔
تو کہ شارح بتلا رہے ہیں نشر علی ترتیبی اللفظ کہ یہ کیا ہے؟ نشر ہے کس ترتیب پر؟ لفظی کی ترتیب پر ہے۔
فالاول مثال لما لا یقبل السقوط پس پہلی یعنی تصدیق وہ مثال ہے اس حسن لعلینہ کی جو یا اس حسن کی جو سقوط کو قبول نہیں کرتا فلان تصدیق لازم علی المری اس لیے کہ تصدیق بنتا ہے شخص مرد پر کسی شخص پر لازم ہے ولا یسقط عنہ ما دام عاقلا بالغا اور یہ اس سے ساقط نہیں ہوتی جب تک وہ عاقل اور بالغ ہے جب تک عاقل اور بالغ ہاں عقل ہی چلی جائے پھر تو الگ بات ہے ولهذا لا یزول حال الاکراہ اسی وجہ سے یہ تصدیق زائل نہیں ہوتی اکراہ کی حالت میں بھی فین اکری علی اجراء کلمۃ کفری پس اگر کسی کو مجبور کیا گیا کلمہ کفر کے جاری کرنے پر کہ کلمہ کفر کیا کرو زبان سے کہو اور مجبور کرنا بھی کس قسم کا ہو؟
کامل درجے کا ہو اکراہ بھی کامل ہونا چاہیے یعنی قتل کی دھمکی دی جا رہی ہے یا عضو کے کاٹنے کی دھمکی دی جا رہی ہے تو تو کہتے ہیں اس صورت میں یجوز لہ التلفظ باللسانی جائز ہے اس کے لیے اس پر کلمہ کفر پر تلفظ کرنا زبان کے ذریعے بشرطی ان یبق التصدق التصدق علی حالہ ب- اس شرط پر کہ وہ تصدیق اپنے حال پر باقی رہے یعنی دل میں کیا ہونی چاہیے؟ تصدیق ہونی چاہیے زبان سے کہہ سکتا ہے فلاک فالاقرار یقبل السقوط اقرار جو ہے وہ معلوم ہے سقوط کو قبول کر لیتا ہے۔
اقراہ کی وجہ سے اقرار زبان سے اقرار کیا ہوا؟ ساقط ہوا والتصدیق لایقبله قط اور تصدیق کو سقوط کو کبھی بھی قبول نہیں کرتی۔
و حسن التصدیق ثابت لعلینہ اور تصدیق کا حسن جو ہے وہ اس کی عین کی وجہ سے مامور بہ کی عین ہی کی وجہ سے ثابت ہے اس کی ذات کی وجہ سے ثابت ہے لکہ العقل یحکم اس لیے کہ عقل یہ فیصلہ کرتی ہے بان شکر المنعم المنعم الخالق واجب کہ وہ ذات جو نعمتیں دینے والی ہے وہ ذات جو پیدا کرنے والی ہے اس کا شکر کیا ہے؟
واجب ہے، اس کی وحدانیت کا اقرار کیا جائے۔
والثاني: دوسری، کیا بات؟ ان میں مثال آئی تھی الصلاۃ۔ کہتے ہیں: مثال لما یقبل السقوط۔ یہ مثال ہے اس کی جو کس کو قبول کر لیتا ہے؟ سقوط کو۔ فإن الصلاة تسقط في حال الحيض والنفاس۔ اس لیے کہ نماز جو ہے وہ ساقط ہو جاتی ہے حیض و نفاس کی حالت میں۔
سمجھ میں آیا؟ ساقط ہو جاتی ہے، یعنی نہ اداء ہے اس میں اور نہ قضاء۔ ک الإقرار بالإکراہ، جیسے کہ اقرار کس کی وجہ سے ساقط ہو گیا تھا؟ اکراہ، اقرار کس کی وجہ سے؟ اکراہ کی وجہ سے، جی۔
وحسن الصلاة في نفسها، اور نماز کا حسن بھی کیا ہے؟ اس کی اپنی ذات کی وجہ سے ہے، لأنها من أولها إلى آخرها تعظيم للرب۔ اس لیے کہ یہ نماز اپنے اول سے لے کر اپنے آخر تک یہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم ہے بالاقوال، اقوال کے ذریعے بھئی، زبان سے ہم حمد و ثنا کرتے ہیں، والأفعال، اور افعال کے ذریعے، رکوع و سجدہ کرتے ہیں اللہ کے سامنے، والثناء عليه، اور اللہ پر ثنا کی وجہ سے، اس میں اللہ کے ہم کیا کرتے ہیں؟ مدح و تعریف کرتے ہیں، والخشوع له، اور اللہ کے لیے عاجزی کرنے کی وجہ سے، والقيام بين يديه، اور اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کی وجہ سے، والجلسة بحضوره، اور اللہ کے حضور میں بیٹھنے کی وجہ سے۔ یہ ساری نماز کیا ہے؟ اللہ کی تعظیم ہے۔
وإن كانت الكميات وتعداد الركعات والأوقات والشرائط لا يستقل بمعرفته العقل، اگرچہ جو نمازوں کی، کمیات کہتے ہیں مقدار کو بھئی۔ اگرچہ مقدار کہ نمازیں کتنی ہونی چاہئیں؟ عقل نہیں بتلا سکتی، ہاں شریعت نے بتلایا، کتنی ہونی چاہئیں دن میں؟ پانچ ہونی چاہئیں۔ وتعداد الركعات، رکعت کی کتنی تعداد ہونی چاہیے؟ فجر میں دو، ظہر میں چار، عصر میں چار، مغرب میں تین، عشاء میں چار۔ یہ بھی، یہ بھی عقل کے ذریعے اس کا پتہ نہیں چلتا، شریعت بتلانے والی ہے۔ أوقات کون کون سے ہونے چاہئیں؟ ایک فجر کا، ایک ظہر کا، ایک عصر، ایک مغرب، عشاء، اس کا بھی عقل کے ذریعے پتہ نہیں چلتا، شریعت بتلاتی ہے۔ شرائط کیا ہونی چاہئیں بھئی نماز کی؟ قبلہ رخ ہونا چاہیے، وضو ہونا چاہیے، کپڑے پاک ہونے چاہئیں، جگہ جس پر پڑھ رہا ہے وہ پاک ہونی چاہئیں وغیرہ، ان شرائط کا پتہ بھی عقل کے ذریعے نہیں چلتا۔
تو کہتے ہیں: اگرچہ عقل یہ تو بتلا دیتی ہے کہ یہ نماز اللہ کی تعظیم ہے تو یہ حسن ہے، لیکن آگے نمازوں کی تعداد کتنی ہونی چاہیے، پھر ہر نماز میں رکعتوں کی تعداد کتنی ہونی چاہیے، ان کے اوقات کیا کیا ہونے چاہئیں اور ان کی شرائط کیا ہونی چاہئیں، اگرچہ ان چیزوں کا عقل سے پتہ نہیں چلتا لیکن اس سے کوئی حرج نہیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ اتنا تو عقل نے بتا دیا کہ نماز کیا ہے؟ اپنی ذات کے اعتبار سے حسن ہے، کیونکہ اس میں پروردگار کی عظمت ہو رہی ہے، تعظیم ہو رہی ہے۔
یہ معنی ہے: وإن كانت الكميات وتعداد الركعات والأوقات والشرائط، اگرچہ مقداریں ان نمازوں کی کہ پانچ ہوں، وتعداد الركعات، رکعتوں کی تعداد اور اوقات جو ہیں، والشرائط، اور اس کی شرائط جو ہیں، لا يستقل بمعرفته العقل، اگرچہ عقل مستقل نہیں ہے ان کے جاننے میں، ومحتاجاً إلى الشريعة، اور محتاج ہے کس کی؟ شریعت کی، شریعت یہ سب چیزیں بتاتی ہیں۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اتنا تو عقل بتا دیتی ہے کہ یہ نماز، یہ اپنی ذات کے اعتبار سے اس میں حسن ہے۔
وقد نبهت أنا لأسرارها في المثنوي المعنوي، اور تحقیق میں نے اس پر متنبہ کیا ہے۔ وقد نبهت أنا، یہ تاکید ہے 'أنا' بھئی، اور تحقیق میں نے متنبہ کیا ہے لأسرارها، اس کے اسرار پر۔ ان کے، میں نے ان کے اسرار پر کہ ان کی تعداد، یہ نمازوں کی مقداریں، ان کی تعداد، ان کے اوقات، شرائط وغیرہ یہ یہ کیوں رکھے ہیں؟ ان کے اسرار پر میں نے متنبہ کیا ہے في المثنوي المعنوي، اپنی کتاب مثنوی معنوی کے اندر، وہاں میں نے یہ چیزیں ذکر کی ہیں۔ یہ شارح ملا جیون رحمہ اللہ فرما رہے ہیں بھئی۔
والثالث مثال لما يكون ملحقاً لعينه ومشابهاً لغيره، اور تیسری یعنی زکوٰۃ جو ہے، وہ مثال ہے اس مامور بہ کی جو ملحق لعینہ ہے اور مشابہ لغیرہ ہے۔ فإن الزكاة في الظاهر إضاعة المال، اس لیے کیونکہ زکوٰۃ جو ہے، وہ ظاہر کے اعتبار سے تو مال کا ضائع کرنا ہے، وإنما حسنت لدفع حاجة الفقير الذي هو محبوب الله تعالى، اور اسی لیے حسن ہوئی ہے زکوٰۃ بموجب فقیر کی حاجت کے دور کرنے کے، الذي هو محبوب الله، وہ فقیر، وہ غریب، وہ مسکین جو اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے، وحاجته ليست باختياره، اور اس کی حاجت یہ جو ضرورت ہے، ضرورت مند ہونا اس کا ہے، تو اس کی یہ جو حاجت ہے اس کے اپنے اختیار سے نہیں ہے، بل بمحض خلق الله تعالى كذلك، بلکہ محض اللہ ہی کے اس طرح پیدا کر دینے کی وجہ سے ہے، وكذا الصوم في نفسه تجويع وإتلاف للنفس، اسی طرح روزہ جو ہے اپنی ذات کے اعتبار سے، تجویع یہ تو کیا ہے؟ بھوکا رکھنا ہے، وإتلاف النفس، اور اپنے آپ کو تباہ کرنا ہے۔
روزہ تو کیا ہے انسان اپنے آپ کو بھوکا رکھتا ہے بھئی، نہ کچھ کھا رہا ہے نہ پی رہا ہے، تو ظاہر کے اعتبار سے کیا ہے؟ یہ بھوکا رکھنا ہے اور اپنے آپ کو تلف کرنا ہے، وإنما حسن لقهر النفس الأمارة التي هي عدو الله تعالى، اور یہ روزہ حسن ہوا ہے نفسِ امارہ کو مغلوب کرنے کی وجہ سے۔ نفسِ امارہ کو مغلوب کرنے کی وجہ سے، بھئی روزے کے ذریعے نفسِ امارہ مغلوب ہو گا۔ یاد رکھیے، اس نفس کو اللہ نے ایسا بنایا ہے کہ یہ انسان کو برائی کا حکم دیتا ہے۔ امارہ، حکم دینے والا بھئی۔ یہ نفس کیا کرتا ہے انسان کو؟ برائی کا حکم دینے والا ہے، جب بھی کوئی برائی نظر آئے تو نفس اس کو بڑا حسین کر کے دکھاتا ہے کہ یہ کرنا چاہیے اس طرح، اور اس میں شوق پیدا کرتا ہے، اور جبکہ جب نیکی کی طرف جب انسان رخ کرنا چاہتا ہے تو نفس کہتا ہے بھئی کیوں یہ اتنا مشکل کام کر رہے ہو بھئی؟ کیا ضرورت ہے اس کے کرنے کی وغیرہ، اور انسان کو تو نیکی سے روکتا ہے اور برائی کی طرف لے کر جاتا ہے۔
تو یہ جو نفسِ امارہ ہے، یہ روزے کی وجہ سے مغلوب ہو گا۔ روزے رکھے گا انسان تو یہ کیا ہو جائے گا؟ یہ جتنا اس کے راستے، بتلائے ہوئے راستے پر چلتے رہو گے، یہ اتنا ہی قوی سے قوی تر ہوتا چلا جائے گا، اور پھر انسان اس کے ہاتھ بے بس ہوتا چلا جائے گا، پھر اس کے لیے اپنے آپ کو برائی سے روکنا بڑا مشکل ہو جائے گا، یہ اس کے، یہ قوی سے قوی تر ہوتا چلا گیا۔ چنانچہ اس کے لیے شریعت نے پھر روزے رکھنے کا حکم دیا، انسان جب روزے رکھے گا تو یہ نفسِ امارہ کیا ہو گا؟ مغلوب ہو گا بھئی، مغلوب ہو گا، اس کی خواہش نہیں پوری ہو رہی بھئی۔ شریعت نے کھانے سے بھی روک دیا، پینے سے بھی روک دیا، شادی شدہ ہے تو بیوی کے پاس جانے سے بھی روک دیا، تو اس طرح 30 دن تک شریعت نے حکم دیا اس طرح کرتے رہو تاکہ یہ نفسِ امارہ کیا ہو جائے؟ مغلوب ہو جائے بھئی، بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟
وإنما حسن لقهر النفس الأمارة التي هي عدو الله تعالى، اور یہ روزہ حسن ہوا ہے نفسِ امارہ کو مغلوب کرنے کی وجہ سے، وہ نفسِ امارہ التي هي عدو الله تعالى، جو اللہ کا دشمن ہے۔ یہ برائی کی طرف لے کے جانے والا ہے اس لیے 'عدو اللہ' کہا۔ وہ نفسِ امارہ جو اللہ کا دشمن ہے، وهذه العداوة بخلق الله تعالى لا اختيار للنفس فيها، اور یہ جو عداوت ہے اس نفس کے اندر، یہ اللہ کے پیدا کرنے سے ہے، اس میں نفس کا اس میں کوئی اختیار نہیں۔ تو دیکھو! روزے میں بھی حسن آیا، لیکن کس کی وجہ سے؟ کہ اس کے ذریعے نفسِ امارہ کیا ہو گا؟ مغلوب ہو گا۔
وكذا الحج في نفسه السعي وقطع مسافة ورؤية أمكنة متعدده، اور اسی طرح حج جو ہے اپنی ذات کے اعتبار سے، وہ تو سعی ہے، کوشش کرنے کا نام ہے، دوڑنے کا نام ہے، وقطع مسافة، اور مسافت کا، طے کرنا ہے، سفر کرنا ہے، راستہ طے کرنا ہے، ورؤية أمكنة متعددة، رؤیت، دیکھنا۔ امکنہ جمع ہے مکان کی۔ اور بہت سی جگہوں کا دیکھنا ہے، حج کے اندر بھی انسان کہاں جاتا ہے؟ بیت اللہ کی زیارت کرتا ہے، عرفات جاتا ہے، منیٰ جاتا ہے، مزدلفہ جاتا ہے، تو بہت سی جگہوں کا دیدار کرنا ہے، ان کی رؤیت کرنی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وكذا الحج، اسی طرح روزہ، حج جو ہے اپنی ذات کے اعتبار سے، وہ تو دوڑنا ہے، کوشش، کوشش کرنا ہے اور مسافت، مسافت کا طے کرنا ہے اور متعدد جگہوں کے، کو دیکھنا ہے، تو اس اعتبار سے تو اس میں کوئی حسن نہیں، وإنما حسن لشرف في المكان الذي شرفه الله تعالى على سائر الأمكنة، اور یہ جو حسن ہوا ہے، کس وجہ سے حسن ہوا؟ ذات میں تو حسن نہیں، لیکن حسن کس کی وجہ سے آیا؟ لشرف في المكان الذي، اس شرف کی وجہ سے جو اس مکان کے اندر ہے جس کو اللہ نے شرف بخشا ہے على سائر الأمكنة، تمام جگہوں پر۔
وہ حرم جس کو اللہ نے کیا کیا ہے؟ شرف بخشا ہے اور فضیلت بخشی ہے تمام جگہوں پر، تو اس جگہ کی فضیلت کی وجہ سے حج میں بھی کیا آ گیا؟ حسن آ گیا اس جگہ کی فضیلت۔
تو یہ حسن ہوا ہے بموجب اس فضیـ، فضیلت کے جو اس مکان کے اندر ہے جسے اللہ نے فضیلت دی ہے تمام جگہوں پر، وتلك الشرافة ليست باختيار الأمكنة، اور یہ جو فضیلت ہے، یہ ان جگہوں کے اپنے اختیار سے نہیں ہے، بل بخلق الله تعالى كذلك، بلکہ اللہ کے اسی طرح پیدا کرنے کی وجہ سے ہے کہ اللہ نے اسی طرح پیدا کیا ہے۔ فصار كأن، یہ خلاصۂ کلام نکال رہے ہیں، کتنی صورتیں بتا دیں بھئی؟ کہ دیکھو! جیسے زکوٰۃ ہے، اس میں بھی حسن کس کی وجہ سے آیا؟ کہ فقیر کی حاجت پوری کرنے کی وجہ سے۔ روزے میں بھی حسن کس وجہ سے آیا؟ نفسِ امارہ کو مغلوب کر دینے کی وجہ سے۔ حج میں بھی حسن کس کی وجہ سے آیا؟ کہ اس میں، اس مکان اور ان جگہوں کی فضیلت کی وجہ سے کیا ہے؟ حج میں بھی، حسن آ گیا۔ فصار كأن هذه الوسائط لم تكن حائلة فيما بين، تو گویا کہ، تو یہ اسی طرح ہو گیا، گویا کہ یہ جو واسطے ہیں، لم تكن حائلة، یہ واسطے گویا کہ حائل ہی نہیں ہیں فيما بين، بیچ میں۔
اگرچہ یہاں، روزے میں بھی حسن واسطے سے آ رہا ہے، حج میں بھی حسن واسطے سے آ رہا ہے اور زکوٰۃ میں بھی حسن واسطے کے ذریعے آ رہا ہے، لیکن یہ واسطے بندے کے اختیار سے نہیں ہیں بلکہ اللہ نے ان کو اسی طرح پیدا کیا ہے، تو گویا یہ واسطے بھی کس کی طرح ہو گئے؟ لا واسطہ، لا واسطے کی طرح ہو گئے بھئی۔ یہ معنی ہے: فصار كأن هذه الوسائط لم تكن حائلة، تو گویا کہ یہ واسطے حائل، بیچ میں حائل ہی نہیں ہیں، فكانت حسنة لعينها، تو یہ جو عبادات ہوئیں، یہ جو افعال ہوئے، 'كانت' کی ضمیر کس کو راجع؟ یہ جو پیچھے افعال ذکر ہوئے بھئی، یہ جو عبادات ذکر ہوئیں: زکوٰۃ، حج اور روزہ، یہ جو عبادات ہیں، حسنة لعينها، یہ کیا ہوئیں؟ حسن لعينها ہوئیں بھئی، حسن لعينها ہوئیں کیونکہ اگرچہ حسن آ رہا ہے واسطے کے ذریعے، لیکن وہ واسطہ بھی کس کی طرح ہے؟ لا واسطے کی طرح ہے، کیونکہ اپنے اختیار سے نہیں ہے، بندے کے اختیار سے نہیں ہے بلکہ اللہ کے ایسا پیدا کرنے کی وجہ سے ہے۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ فكانت حسنة لعينها، اس پر لکیر لگی ہوئی ہے؟ یاد رکھیے، یہ متن نہیں ہے، یہ غلط لکیر لگا، لگی ہے، أو لغيره، صرف یہ متن ہے۔ یہ چھوٹا سا 'أو لغيره'، یہ متن کا، کے دو لفظ آ گئے، باقی 'فكانت حسنة لعينها'، یہ شرح کا حصہ ہے۔
سمجھ میں آیا؟ گویا کہ یہ واسطے ہیں ہی نہیں بیچ میں، تو یہ افعال کیا ہو گئے؟ یہ عبادات کیا ہو گئیں؟ حسن لعينہ ہوئیں بھئی۔ چلیے بس مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔