Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-088

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 11 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 9
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔88 وَالتَّقْسِيمُ الثَّانِي فِي الِانْقِطَاعِ ، أَيْ عَدَمِ اتِّصَالِ الْحَدِيثِ بِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ نَوْعَانِ ظَاهِرٌ وَبَاطِنٌ ، أَمَّا الظَّاهِرُ فَالْمُرْسَلُ مِنَ الْأَخْبَارِ. وَالتَّقْسِيمُ الثَّانِي فِي الِانْقِطَاعِ اور دوسری تقسیم جو ہے انقطاع میں ہے۔ أَيْ عَدَمِ اتِّصَالِ الْحَدِيثِ بِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انقطاع کا کیا معنیٰ؟ کہتے ہیں أَيْ عَدَمِ اتِّصَالِ الْحَدِيثِ یعنی حدیث کا متصل نہ ہونا بنا ہم تک من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے لے کر ہم تک حدیث کا متصل نہ ہونا یعنی درمیان میں سند کا ذکر نہ ہونا۔ تو یہ انقطاع ہے بھئی۔ وَهُوَ نَوْعَانِ اور وہ دو قسم پر ہے یہ انقطاع۔ ظَاهِرٌ وَبَاطِنٌ ایک انقطاعِ ظاہر ایک انقطاع ظاہر ہے اور ایک باطن۔ تو ایک انقطاعِ ظاہری ہوا اور ایک انقطاعِ باطنی۔ أَمَّا الظَّاهِرُ فَالْمُرْسَلُ مِنَ الْأَخْبَارِ باقی ظاہر جو ہے تو وہ جو مرسل ہیں من الاخبار اخبار میں سے یعنی احادیث میں سے۔ تو وہ فَالْمُرْسَلُ مِنَ الْأَخْبَارِ وہ جو مرسل ہیں اخبار یعنی احادیث میں سے بِأَنْ لَا يَذْكُرَ الرَّاوِي الْوَسَائِطَ الَّتِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بایں طور کہ ذکر نہیں کرتا راوی وہ ان واسطوں کو جو کہ اس کے درمیان اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہیں، بَلْ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا بلکہ یوں کہتا ہے کہ حضور علیہ السلام نے یوں فرمایا۔ بھئی یاد رکھیے، مرسل۔ ایک اصطلاح ہے علماء اصولِ فقہ کی اور ایک اصطلاح ہے علماء محدثین کی بھئی، علماء علمِ حدیث کی۔ بھئی حدیث کے شروع میں بھئی سند ذکر ہوتی ہے، پھر اس کے بعد جو حصہ ہے وہ متن کہلاتا ہے۔ مثلاً فلاں نے فلاں سے روایت کیا، اس نے فلاں سے روایت کیا، وہ فلاں صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا۔ تو یہ جو شروع میں راوی ذکر ہوتے ہیں، اس کو سند کہتے ہیں۔ اور آگے جو بات ذکر ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ متن کہتے ہیں بھئی، متن۔ تو علماءِ محدثین کے نزدیک بھئی، محدثین کے نزدیک، یاد رکھیے اگر ایک راوی جو ہے، ایک راوی درمیان سے ساقط ہو بھئی۔ بھئی روایت کی جاتی ہے نا، ایک روایت کرنے والا کہتا ہے، میں نے اپنے استاد فلاں سے سنا، اس میرے استاد نے فلاں سے سنا تھا، اس کے انہوں نے فلاں سے سنا تھا کہ حضور علیہ السلام نے اس طرح فرمایا۔ تو یہ جو درمیان میں راوی ذکر ہیں، یہ جو سند ذکر ہے، اس کے اندر اگر کوئی ایک راوی ساقط ہو، یعنی کوئی ایک شخص ان راویوں میں سے وہ اپنے سے اوپر والے راوی کو ذکر نہیں کرتا۔ اپنے سے اوپر والے راوی کو ذکر نہیں کرتا۔ مثلاً تبع تابعی روایت کر رہا ہے، جب تبع تابعی روایت کر رہا ہے، تو اس کو اپنے سے اوپر یعنی تابعی کو بھی ذکر کرنا چاہیے اور پھر صحابی کو بھی ذکر کرنا چاہیے۔ یہ کیا کرتا ہے روایت کرتے ہوئے تابعی کو ذکر ہی نہیں کرتا، صحابی کو ذکر کر دیتا ہے کہ انہوں نے فرمایا حضور علیہ السلام نے اس طرح فرمایا۔ حالانکہ اس تبع تابعی کی ملاقات تو اس صحابی سے نہیں ہوئی۔ اس کی اس نے تو کس سے سنا تھا؟ تابعی سے، لیکن یہ تبع تابعی جو ہے، یہ تابعی کو ذکر نہیں کرتا، براہِ راست صحابی کو ذکر کر دیتا ہے۔ تو اس طرح جو روایت ہو، جس میں روایت کرنے والا کوئی ایک راوی کسی ایک واسطے کو، کسی ایک راوی کو درمیان میں حذف کر دے، کوئی بھی ہو۔ تو اس کو محدثین کی اصطلاح میں منقطع کہا جاتا ہے۔ کیا کہا جاتا ہے؟ منقطع کہا جاتا ہے۔ اور اگر دو، دو واسطے ذکر نہیں کرتا، دو راویوں کو درمیان میں ذکر نہیں کرتا روایت کرنے والا، تو اس کو معضل کہا جاتا ہے ض کے ساتھ بھئی، معضل۔ اگر ایک راوی کو ذکر نہ کیا جائے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ منقطع محدثین کی اصطلاح میں۔ اور اگر دو راوی ذکر نہیں، تو اس کو کیا کہیں گے؟ معضل کہیں گے۔ اور اگر پوری سند کو ہی حذف کر دیتا ہے روایت کرنے والا اور براہِ راست یوں کہہ دیتا ہے قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، سند ذکر ہی نہیں کی سرے سے، تو اس کو محدثین کے نزدیک مرسل کہا جاتا ہے اس حدیث کو بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ اگر ایک راوی درمیان میں ساقط ہے سند میں سے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ منقطع۔ اگر دو ساقط ہیں، تو اس کو کیا کہیں گے؟ معضل۔ اور اگر پوری سند ہی حذف کر دی، اس کو ساقط کر دیا، ذکر نہیں کیا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ مرسل۔ یہ ہے محدثین کی اصطلاح۔ جبکہ علماءِ اصولِ فقہ کے نزدیک مرسل ان سب کو شامل ہے۔ مرسل ان سب صورتوں کو شامل ہے، ان سب کو مرسل ہی کہا جاتا ہے بھئی، چاہے ایک راوی ذکر نہ ہو، چاہے دو بیچ میں ذکر نہ ہوں، چاہے تین ذکر نہ ہوں، یا چاہے سرے سے ساری سند ہی حذف کر دی جائے۔ ان سب کو کیا کہتے ہیں؟ مرسل کہتے ہیں کس کے نزدیک؟ علماءِ اصولِ فقہ کے نزدیک بھئی۔ یہ فرق سمجھ میں آ گیا اچھی طرح؟ تو کہتے ہیں یہ جو انقطاع ہے حدیث کے اندر، یہ دو قسم پر ہے، ایک ظاہری ہے اور ایک باطنی۔ ظاہری انقطاع تو وہ جو مرسل ہیں احادیث میں سے، سند میں ایک یا دو راوی ذکر ہی نہیں یا سرے سے پوری سند ہی ذکر نہیں، تو یہ انقطاع ہے اور یہ انقطاعِ ظاہری ہے بھئی، ظاہراً اس کا پتہ ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، یہ انقطاعِ ظاہری ہے۔ کہ یہاں پر انقطاع ظاہر ہے، ظاہر ہے۔ بعض اوقات انقطاع ظاہر نہیں ہوتا، وہ اگلی صورت آ جائے گی بھئی۔ کہ سند تو مثلاً پوری ہوتی ہے، لیکن حدیث قرآن یا سنتِ مشہورہ کے خلاف آ گئی۔ اب حدیث تو کبھی قرآن یا سنتِ، خبرِ واحد تو کبھی سنتِ مشہورہ یا خبرِ واحد کے خلاف نہیں ہونی چاہیے، لیکن یہ خلاف آ رہی ہے قرآن کی آیت کے خلاف ہے یا حدیثِ مشہور کے خلاف ہے، تو معلوم ہوا یہاں کہیں انقطاع ہے۔ اگرچہ پتہ نہیں چل رہا، لیکن کہیں نہ کہیں اس میں انقطاع ہے۔ یہ ہے انقطاعِ باطنی بھئی۔ تو کہتے ہیں ایک انقطاعِ باطنی ہے اور ایک ظاہر ہے، پس ظاہر جو ہے وہ جو مرسل ہیں اخبار میں سے بِأَنْ لَا يَذْكُرَ الرَّاوِي الْوَسَائِطَ الَّتِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بایں طور کہ ذکر نہیں کرتا راوی ان واسطوں کو جو اس کے درمیان ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہیں بَلْ يَقُولُ بلکہ راوی یوں کہتا ہے قَالَ الرَّسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا کہ حضور علیہ السلام نے اس طرح فرمایا۔ وَهُوَ أَرْبَعَةُ أَقْسَامٍ اور یہ جو مرسل ہیں یہ چار قسم پر ہیں لِأَنَّهُ إِمَّا أَنْ يُرْسِلَهُ الصَّحَابِيُّ أَوْ يُرْسِلَهُ الْقَرْنُ الثَّانِي وَالثَّالِثُ أَوْ يُرْسِلَهُ مَنْ دُونَهُمْ أَوْ هُوَ مُرْسَلٌ مِنْ وَجْهٍ دُونَ وَجْهٍ. چار قسم پر ہے بھئی، کہ یا تو ارسال صحابی کرے گا، کون کرے گا؟ صحابی کرے گا۔ یا ارسال تابعی یا تبع تابعی کرے گا، دو قسمیں ہو گئیں؟ یا ان سے نیچے والے طبقے میں سے کوئی ارسال کرتا ہے تبع تابعین سے نیچے والے طبقے میں۔ یا چوتھی صورت یہ کہ وہ حدیث من وجہ مرسل ہے اور من وجہ مرسل نہیں۔ یعنی بعض روایتوں میں اس کی سند پوری ہے، بعض میں سند پوری نہیں۔ تو بعض اعتبار سے دیکھا جائے سند پوری، بعض جگہ ذکر ہے۔ اور بعض جگہ اس راوی نے جب روایت کی تو سند پوری ذکر نہیں کی، تو من وجہ مرسل ہوئی اور من وجہ غیرِ مرسل ہوئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو مرسل چار قسم پر ہوئی، پہلی قسم کہ ارسال کون کرے گا؟ صحابی۔ دوسری قسم کہ ارسال یا تابعی کرے گا یا تبع تابعی۔ تیسری صورت کہ ارسال تبع تابعین سے نیچے والے طبقے میں کوئی کرے گا۔ اور چوتھی صورت کہ وہ حدیث مرسل ہو گی من وجہ نہ کہ من وجہ۔ تو کہتے ہیں وَهُوَ إِنْ كَانَ مِنَ الصَّحَابِيِّ فَمَقْبُولٌ بِالْإِجْمَاعِ اگر ارسال جو ہے وہ صحابی کی طرف سے ہو، تو وہ یہ حدیث مقبول ہے بالاجماع لِأَنَّ غَالِبَ حَالِهِ أَنْ يَسْمَعَ بِنَفْسِهِ مِنْهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ اس لیے کیونکہ صحابی کا غالبِ حال یہ ہے کہ اس نے خود سنا ہو گا حضور علیہ السلام سے۔ خود کیا کیا ہو گا؟ خود سنا ہو گا حضور علیہ السلام سے کیونکہ اس کی ملاقات ہے حضور علیہ السلام سے، ثابت ہے، وہ صحابی ہے بھئی۔ وَإِنْ كَانَ يَحْتَمِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ صَحَابِيٍّ آخَرَ اگرچہ یہ بھی احتمال ہے کہ اس نے کسی دوسرے صحابی سے سنا ہو۔ صحابی کہتے ہیں، فرماتے ہیں بھئی قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ تو غالب گمان یہی ہے کہ اس نے خود حضور علیہ السلام سے سنا ہو گا۔ ورنہ یہ بھی احتمال ہے کہ ہو سکتا ہے اس نے کسی دوسرے صحابی سے سنا ہو، خود حضور علیہ السلام سے یہ بات اس نے نہیں سنی بھئی۔ تو کہتے ہیں وَإِنْ كَانَ يَحْتَمِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ صَحَابِيٍّ آخَرَ اگرچہ یہ بھی احتمال ہے کہ اس نے سنا ہو گا کسی دوسرے صحابی سے وَلَمْ يَكُنْ هُوَ بِنَفْسِهِ حَاضِرًا حِينَئِذٍ اور نہیں تھا وہ خود حاضر اس وقت، یعنی جس وقت حضور نے فرمایا، اس وقت یہ خود تو حاضر نہیں تھا لیکن دوسرے صحابی سے اس نے سنا بھئی۔ فَإِنْ أَرْسَلَ الصَّحَابِيُّ پس اگر صحابی ارسال کرتا ہے يَقُولُ وہ یوں کہتا ہے قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا کہ حضور علیہ السلام نے یوں فرمایا۔ دیکھو بھئی، الفاظ پہ غور کرنا، فرق آئے گا۔ صحابی جب ارسال کرتا ہے تو یوں کہتا ہے کہ حضور علیہ السلام نے یوں فرمایا۔ وَإِنْ أَسْنَدَ اور جب اسناد کرتا ہے يَقُولُ تو یوں کہتا ہے سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں نے حضور علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ تو دیکھو ایک میں "میں نے فرماتے ہوئے سنا"، اس میں باقاعدہ وضاحت آ گئی کہ انہوں نے خود سنا ہے، اور دوسرے میں یہ وضاحت نہیں، تو اس میں احتمال ہے، ہو سکتا ہے خود سنا ہو، غالب احتمال یہی ہے کہ خود سنا ہو گا، اگرچہ یہ بھی اس میں احتمال ہے کہ شاید کسی دوسرے صحابی سے سنا ہو۔ تو کہتے ہیں اگر صحابی ارسال کرتا ہے تو وہ یہ کہتا ہے قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا، وَإِنْ أَسْنَدَ اور اگر وہ اسناد کرتا ہے يَقُولُ تو کہتا ہے سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہ میں نے حضور علیہ السلام کو سنا أَوْ حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ كَذَا یا مجھ سے حدیث بیان کی یا مجھ سے فرمایا حضور علیہ السلام نے اس طرح، مجھ سے حضور علیہ السلام نے اس طرح فرمایا، یہ اسناد کی صورت ہے۔ صحابی اگر ارسال کرے تو بالاجماع مقبول ہے۔ وَمِنَ الْقَرْنِ الثَّانِي وَالثَّالِثِ كَذَالِكَ عِنْدَنَا اور قرنِ ثانی اور ثالث میں سے ارسال کوئی کرے، تو کذالک عندنا وہ ہمارے نزدیک اسی طرح ہے یعنی مقبول ہے بھئی، یعنی تابعی یا تبع تابعی کیا کرے؟ ارسال کرے، تو احناف کے نزدیک مقبول ہے۔ أَيْ مَقْبُولٌ عِنْدَ الْحَنَفِيَّةِ یعنی مقبول ہے احناف کے نزدیک بِأَنْ يَقُولَ التَّابِعِيُّ أَوْ تَبَعُ التَّابِعِيِّ بایں طور کہ تابعی یا تبع تابعی کہتا ہے قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا، وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لَا يُقْبَلُ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جو ہے قبول نہیں کیا جائے گا۔ تابعی یا تبع تابعی کے ارسال کو، اب ارسال کرے تو یہ حدیث ان کے نزدیک مقبول نہیں۔ لِأَنَّهُ إِذَا جُهِلَتْ صِفَاتُ الرَّاوِي لَمْ يَكُنِ الْحَدِيثُ حُجَّةً، لِأَنَّهُ إِذَا جُهِلَتْ صِفَاتُ الرَّاوِي اس لیے کیونکہ جب راوی کی صفات مجہول ہوں لَمْ يَكُنِ الْحَدِيثُ حُجَّةً تو اس کی حدیث حجت یعنی دلیل نہیں ہوتی۔ فَإِذَا جُهِلَتْ صِفَاتُهُ وَذَاتُهُ فَبِالطَّرِيقِ الْأَوْلَى پس جب اس کی صفات اور ذات دونوں مجہول ہوں تو بطریقِ اولیٰ اس کی حدیث حجت نہیں ہوگی بھئی۔ بھئی خبرِ واحد کی بات چل رہی ہے، خبرِ واحد میں آپ نے پڑھا تھا کہ اس خبرِ واحد کو تب قبول کیا جائے گا جبکہ اس کے راوی کے اندر شرائط پائی جائیں، اسلام بھی ہو اور عقل بھی کامل ہو اور ضبط بھی ہو کامل اور اور عادل بھی ہو کامل درجے کی عدالت بھئی، کامل درجے کی عدالت۔ تو اگر صفات مجہول ہوں راوی کی، یعنی یہ پتہ نہ ہو کہ یہ عادل ہے یا عادل نہیں۔ تو اس کی روایت کو قبول نہیں کیا جاتا، تو جب صفات مجہول ہونے کی صورت میں روایت کو اس کے قبول نہیں کیا جاتا، تو جب صفات کے ساتھ ساتھ ذات بھی مجہول ہو جائے تو بطریقِ اولیٰ قبول نہیں کیا جائے گا بھئی۔ یہاں تو جب صفات مجہول ہوتی ہیں تب قبول نہیں کیا جاتا، یہاں تو درمیان میں ایک راوی ہی سرے سے ذکر نہیں ہے بھئی، مجہول ہو گیا۔ تو جب صفات کے ساتھ ذات بھی مجہول ہو گئی، تو بطریقِ اولیٰ اب اس کو قبول نہیں کریں گے۔ إِذَا جُهِلَتْ صِفَاتُ الرَّاوِي لَمْ يَكُنِ الْحَدِيثُ حُجَّةً جب راوی کی صفات مجہول ہوں تو حدیث حجت نہیں ہوتی، فَإِذَا جُهِلَتْ صِفَاتُهُ وَذَاتُهُ فَبِالطَّرِيقِ الْأَوْلَى تو جب اس کی صفات اور ذات دونوں مجہول ہوں تو بطریقِ اولیٰ حدیث حجت نہیں ہوگی۔ إِلَّا إِذَا تَأَيَّدَ بِحُجَّةٍ قَطْعِيَّةٍ أَوْ قِيَاسٍ صَحِيحٍ أَوْ تَلَقَّتْهُ الْأُمَّةُ بِالْقَبُولِ أَوْ ثَبَتَ اتِّصَالُهُ بِوَجْهٍ آخَرَ مگر یہ کہ اس کی تائید ہو جائے، اس خبرِ واحد کی، اس اس مرسل کی کیا ہو جائے؟ اس مرسل کی تائید ہو جائے بِحُجَّةٍ قَطْعِيَّةٍ کسی حجتِ قطعی سے، یعنی یعنی کسی آیت کے ذریعے اس کی تائید ہو جائے، یا خبرِ مشہورہ وغیرہ کے ذریعے اس کی تائید ہو جائے أَوْ قِيَاسٍ صَحِيحٍ یا کس کے ذریعے؟ یا قیاسِ صحیح کے ذریعے اس کی تائید ہو جائے أَوْ تَلَقَّتْهُ الْأُمَّةُ بِالْقَبُولِ یا ملاقات کرے امت اس سے قبولیت کے ساتھ، یعنی اسے امت قبولیت کے ساتھ لے لے، امت اسے قبولیت کے ساتھ لے لے یعنی تمام علماء فقہاء اس کو قبول کر لیتے ہیں۔ تو اس صورت میں بھی وہ مقبول ہو گی أَوْ ثَبَتَ اتِّصَالُهُ بِوَجْهٍ آخَرَ یا ثابت ہو اس حدیث کا، اس مرسل کا اتّصال کسی دوسرے طریقے سے۔ یعنی ایک جگہ پر تو مرسل ہے لیکن دوسری جگہ پر وہ حدیث مسند ہے پوری سند کے ساتھ ہے، تو پھر بھی ان کے نزدیک، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک قبول کی جائے گی۔ وَنَحْنُ نَقُولُ ہم کہتے ہیں إِنَّ كَلَامَنَا فِي إِرْسَالِ مَنْ لَوْ أَسْنَدَهُ إِلَى شَخْصٍ آخَرَ کہ ہمارا کلام اس شخص کے ارسال میں ہے کہ اگر وہ اس کا اسناد کرتا إِلَى شَخْصٍ آخَرَ کسی دوسرے شخص کی طرف يُقْبَلُ تو قبول کیا جاتا وَلَا يُظَنُّ بِهِ الْكَذِبُ اور اس کے بارے میں جھوٹ کا گمان نہ کیا جاتا فَلِأَنْ لَا يُظَنَّ بِهِ الْكَذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَى تو اب یہ کہ گمان نہ کیا جائے اس کے بارے میں جھوٹ کا حضور علیہ السلام پر، یہ بطریقِ اولیٰ ہو گا۔ یاد رکھیے، یہ جو تابعی اور تبع تابعین ہیں۔ ان کی مرسل یعنی مراسیل، مرسل کی جمع مراسیل، ان کی مراسیل بھی حجت ہیں، مقبول ہیں عند الاحناف اور اسی طرح امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اور امام احمد ابنِ حنبل رحمہ اللہ کے نزدیک بھی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تابعی ہو یا تبع تابعی ارسال کرنے والا، ان کی جو احادیثِ مرسلہ ہیں، وہ مقبول نہیں۔ وہ حجت نہیں، کیونکہ وہ کہتے ہیں جب صفات مجہول ہو جائیں تو حدیث حجت نہیں بن سکتی، جب راوی کی صفات مجہول ہو جائیں تو حدیث حجت نہیں بن سکتیں، تو جب صفات کے ساتھ ذات بھی مجہول ہو جائے، پھر تو بطریقِ اولیٰ حدیث حجت نہیں بنے گی۔ ہم کہتے ہیں کہ ہمارا کلام اُس شخص کے ارسال میں ہے کہ اگر وہ ارسال نہ کرتا اور سند بیان کرتا۔ کیا کرتا؟ بھئی، دیکھیے۔ صورت مثلاً یہ ہے، بھئی۔ یہ تابعی یہ تبع تابعی روایت کر رہا ہے اور اس سے اوپر کون آئے گا؟ تابعی اور تابعی سے اوپر کون آئے گا؟ صحابی۔ تو یہ جو تبع تابعی ہے، یہ خود قابل اعتماد ہے۔ عادل ہے جبھی حدیث لیں گے نا اس کی! ہر راوی کے اندر شرائط کا تو لحاظ رکھنا ہے۔ تو یہ تبع تابعی جو روایت کر رہا ہے، یہ خود تو عادل ہے۔ اگر یہ ارسال کرنے کے بجائے مثلاً اس نے تابعی کو ذکر نہیں کیا تھا بیچ میں۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر یہ ارسال نہ کرتا، یا یوں صورت بنائیں۔ تبع تابعی نے حدیث کو ذکر کیا اور سیدھا کہہ دیا، "قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم" بھئی۔ حضور علیہ السلام نے اس طرح فرمایا۔ کس نے روایت کیا؟ تبع تابعی نے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ تبع تابعی خود تو قابل اعتماد ہے۔ اگر یہ درمیان میں تابعی اور صحابی کو ذکر کرتا اور یوں کہتا کہ میں نے تابعی سے یوں سنا ہے اور اس نے فلاں صحابی سے سنا ہے کہ حضور علیہ السلام نے یوں فرمایا۔ تو اگر ہم کہتے ہیں، یہ تبع تابعی اگر تابعی کو ذکر کر دیتا، تو پھر اپ کیا کرتے اس کی حدیث کو؟ قبول کرتے، کیونکہ یہ خود تو کیا ہے؟ قابل اعتماد ہے۔ تو جب کسی دوسرے شخص کی طرف، یعنی تابعی، کسی دوسرے شخص سے کون مراد ہے؟ تابعی۔ جب یہ تبع تابعی کسی دوسرے شخص کی طرف حدیث کی نسبت کرتا، تو اپ قبول کر لیتے، تو حضور کی طرف جب نسبت کر رہا ہے، تو بطریقِ اولیٰ اپ کو کیا کرنا چاہیے؟ قبول کرنا چاہیے۔ صورت سمجھ میں ا گئی؟ کہ اگر کسی دوسرے شخص کی طرف یہ نسبت کرتا، تو یہ خود اتنا قابل اعتماد ہے کہ اپ مان لیتے کہ یہ اسی سے روایت کر رہا ہے، اس نے جھوٹ نہیں بولا، اپنی طرف سے حدیث نہیں بنائی، اس نے واقعی اس تابعی سے یہ حدیث سنی ہوگی جبھی یہ بیان کر رہا ہے۔ تو جب سند ذکر کر دینے کی صورت میں اپ اس کے بارے میں جھوٹ کا گمان نہیں کر سکتے، اتنا قابل اعتماد ہے، تو حضور علیہ السلام کی طرف جب نسبت کر رہا ہو، تو بطریقِ اولیٰ اس کے بارے میں جھوٹ کا گمان نہیں ہونا چاہیے۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ "ونحن نقول" اور ہم کہتے ہیں، "إن كلامنا في إرسال من لو أسنده إلى شخص آخر يقبل" کہ ہمارا کلام اس شخص کے ارسال میں ہے کہ اگر وہ اس کا اسناد کرتا کسی دوسرے شخص یعنی تابعی کی طرف "يقبل" تو اس کو کیا کیا جاتا؟ اس کے حدیث کو قبول کیا جاتا، "ولا يظن به الكذب" اور گمان نہ کیا جاتا اس کے بارے میں جھوٹ کا، "فلأن لا يظن به الكذب على رسول الله صلى الله عليه وسلم أولى" تو یہ کہ گمان نہ کیا جائے اس کے بارے میں حضور علیہ السلام پر جھوٹ کا، یہ بطریقِ اولیٰ ہوگا۔ "بل هو فوق المسند" بلکہ یہ تو مسند سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہ حدیث تو کیا ہے؟ مسند، جس کی سند بیان کی گئی ہو۔ ایک حدیث سند والی ہے، ایک یہ بغیر سند کے ہے، تو یہ تو اس مسند حدیث سے بھی یہ مرسل بڑھ کر ہے، کیوں؟ بھئی، دیکھیے۔ آگے ذکر کریں گے کہ عادل راوی جب اس کے لیے حدیث خوب واضح ہو گئی، مثلاً تبع تابعی ذکر کر رہا ہے، اور اس نے سنا تھا تابعی سے اور اس تابعی نے بتلایا تھا کہ میں نے سنا ہے صحابی سے کہ حضور علیہ السلام نے یوں فرمایا، تو اس تبع تابعی پر جب بات خوب واضح ہو جائے، اس کو تابعی پر اتنا اعتماد ہے کہ یہ جس تابعی سے میں روایت کر رہا ہوں، جو میرا شیخ ہے، میرا استاد ہے، وہ اتنا قابل اعتماد آدمی ہے، جب اس نے کہا میں نے صحابی سے سنا ہے، تو یقیناً اس نے کیا کیا ہوگا؟ صحابی سے سنا ہوگا۔ تو جب اس تبع تابعی کو اپنے استاد پر اتنا اعتماد ہوتا ہے، یعنی حدیث اس کے لیے خوب واضح ہو گئی کہ یہ قطعاً حضور علیہ السلام ہی کا کلام ہے، کسی اور کا کلام نہیں، تو اس وقت جب اسے کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہوتا، انتہا درجے کا اعتماد ہوتا ہے، تو وہ براہِ راست حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ذکر کر دیتا ہے، سند کو ذکر ہی نہیں کرتا، بھئی، حدیث پر حد درجے اعتماد ہونے کی وجہ سے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو اس وقت وہ سند کو ذکر ہی نہیں کرتا۔ معلوم ہوا اس کا حد سے بڑھ کر اعتماد ہے اس حدیث پر، اور جس وقت اس کو اعتماد نہیں ہوتا اتنا زیادہ، تو وہ سند ذکر کرتا ہے کہ میں نے فلاں تابعی سے سنا تھا اور وہ تابعی فرماتے ہیں کہ میں نے فلاں صحابی سے سنا تھا کہ حضور علیہ السلام نے اس طرح فرمایا۔ تو چونکہ اس کے بارے میں اب اسے اتنی وضاحت اتنا یقین نہیں، اتنی بات اس پر واضح نہیں ہوئی، اس لیے اس نے سند ذکر کر دی کہ میں نے تو بیان کر دیا، میں نے اپنے استاد سے فلاں شیخ سے یوں سنا تھا، بات ساری اس استاد پر ڈال دیتا ہے، بھئی۔ کس پر ڈال دیتا ہے؟ استاد پر۔ اور جب خود خوب اعتماد ہوتا ہے، خوب بات واضح ہوتی ہے، تو پھر کسی کو ذکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھتا، براہِ راست حضور علیہ السلام کا قول ذکر کر دیتا ہے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی، بھئی؟ کہتے ہیں، "بل هو فوق المسند" بلکہ یہ مرسل تو مسند سے بھی اوپر ہے، "لأن العدل إذا اتضح له طريق الإسناد" اس لیے کیونکہ عادل جو ہے، جب واضح ہو جائے اس کے لیے اسناد کا طریقہ، "يقول بلا وسوسة" تو وہ بغیر کسی وسوسے اور شک کے کہتا ہے، "قال عليه الصلاة والسلام كذا" کہ حضور علیہ السلام نے یوں فرمایا، "وإذا لم يتضح له ذلك" اور جب اس کے لیے یہ واضح نہ ہو، یعنی اسناد کا طریقہ واضح نہ ہو، "يذكر اسماء الراوي" تو پھر وہ راوی کے اسماء کو ذکر کرتا ہے، "ليحمله" تاکہ اس راوی پر ڈال دے، "ما تحمله عنه" تاکہ اس راوی پر ڈال دے ما، وہ چیز، "تحمل عنه" جو اس نے اس سے لی تھی۔ اس نے جو روایت اس سے لی تھی، اس کو اسی پر ڈال دے کہ میں نے تو فلاں سے سنا ہے، اس راوی سے، انہوں نے فرمایا، یوں فرمایا تھا، یہ حدیث ذکر کی تھی۔ تو یہ معنی ہے "ليحمله" تاکہ اس راوی پر ڈال دے "ما تحمل عنه" جو اس نے اس سے لیا تھا، "ويفرغ ذمته من ذلك" اور اس کا اپنا ذمہ اس سے کیا ہو جائے؟ فارغ ہو جائے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے سب کو؟ "وإرسال من دون هؤلاء" اور ارسال ان کا جو ان سے نیچے ہیں، یعنی تابعین اور تبع تابعین سے نیچے ہیں، "بأن يقول من بعد القرن الثاني والثالث" بایں طور کہ کہتا ہے وہ شخص جو قرنِ ثانی اور ثالث کے بعد ہے، "قال النبي عليه الصلاة والسلام كذا" کہ حضور علیہ السلام نے یوں فرمایا، تو ان ان سے جو نیچے جو ارسال کرتے ہیں، "مقبول كذلك" وہ بھی اسی طرح مقبول ہیں، "عند الكرخي" امام کرخی رحمہ اللہ کے نزدیک، "خلافا لابن أبان" بر خلاف عیسیٰ ابن ابان کے، بھئی۔ "لأن الزمان بعد القرون الثلاثة زمان فسق" اس لیے کیونکہ تین زمانوں کے بعد والا زمانہ فسق کا زمانہ ہے، "ولم يشهد النبي عليه الصلاة والسلام بعدالتهم" اور حضور علیہ السلام نے گواہی نہیں دی ان کے عادل ہونے کی، "فلا يقبل" لہذا قبول نہیں کی جائے گی وہ حدیث، بھئی۔ تین زمانوں کی تو حضور علیہ السلام نے گواہی دی تھی، فرمایا تھا، "خير القرون قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم" کہ تمام زمانوں میں سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے، اس کے بعد جو اس کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، یعنی تابعین، اور اس کے بعد جو ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، یعنی تبع تابعین۔ تو ان کے عادل ہونے کی تو حضور علیہ السلام نے گواہی دی تھی اور اس کے بعد کے زمانے کے عادل ہونے کی گواہی نہیں دی۔ تو یہ اس میں دیکھیے، اختلاف آگیا، بھئی۔ امام کرخی رحمہ اللہ کے نزدیک ان کی روایت، جو بعد والے ہیں، ان کی روایت بھی مقبول ہے جس میں ارسال ہو، اور عیسیٰ ابن ابان رحمہ اللہ کے نزدیک ان کی روایت مقبول نہیں ہے، بھئی۔ "والذي أرسل من وجه وأسند من وجه" اور وہ حدیث جو مرسل ہو من وجہ اور مسند ہو من وجہ، وہ حدیث جو مرسل ہو من وجہ اور مسند ہو من وجہ، "مقبول عند العامة" وہ مقبول ہے عام علماء کے نزدیک، بھئی، اکثر علماء کے نزدیک وہ مقبول ہے، اس کو قبول کیا جائے گا، "كحديث لا نكاح إلا بولي" جیسے کہ حدیث ہے "لا نكاح إلا بولي" ولی کے بغیر نکاح درست نہیں ہے۔ "رواه إسرائيل بن يونس" روایت کیا ہے اس کو اسرائیل ابن یونس راوی جو ہیں "مسندا" کس طور پر؟ مسند اس کو روایت کیا ہے حالانکہ مسند، یعنی سند کے ساتھ، "وشعبة مرسلا" اور شعبہ راوی جو ہیں، انہوں نے اس کو روایت کیا ہے حالانکہ یہ مرسل ہے، بھئی، یعنی ارسال کے ساتھ ذکر کیا۔ تو دیکھیے، ایک ہی حدیث ہے، ایک راوی اس کو سند کے ساتھ ذکر کر رہا ہے اور دوسرا راوی ارسال کے ساتھ۔ تو کہتے ہیں، "فيغلب إسناده على إرساله" تو اس کا اسناد جو ہے، وہ غالب ہو جائے گا اس حدیث کے ارسال پر غالب ہو جائے گا، بھئی۔ "وقيل لا يقبل" اور کہا گیا ہے، قبول نہیں کیا جائے گا، بھئی۔ "قيل" کے ساتھ ذکر کیا، اس کے قول کے ضعف کی طرف اشارہ کیا کہ اس کو قبول نہیں کیا جائے گا، جبکہ اوپر بتلایا تھا کہ اکثر کے نزدیک یہ حدیث بھی مقبول ہے جو من وجہ مرسل ہو اور من وجہ مسند ہو۔ تو کہتے ہیں، "وقيل لا يقبل" اور کہا گیا، اس کو قبول نہیں کیا جائے گا، "لأن الإسناد كالتعديل والإرسال كالجرح" اس لیے کیونکہ اسناد تعدیل کی طرح ہے اور ارسال جرح یعنی اعتراض کی طرح ہے، کس کی طرح ہے؟ جرح کی طرح ہے۔ یہ اور بات ذکر کرتے ہیں، یہ کہتے ہیں، بھئی، دیکھیے کہ ایک راوی ذکر کر رہا ہے حدیث کو سند کے ساتھ، یہ اپنے اساتذہ کو ذکر کر رہا ہے، معلوم ہوا اس کا ان پر اعتماد ہے جبھی ذکر کر رہا ہے، اس کا اپنے اساتذہ پر اعتماد، یعنی جس نے بھی جہاں پر بھی جو بھی راوی ہے، سب اپنے شیوخ کو ذکر کرتے چلے جا رہے ہیں، تو سب کا اپنے شیوخ پر اعتماد ہے، تو جب ان شیوخ کو ذکر کر رہے ہیں، تو گویا ان کو عادل قرار دے رہے ہیں، کیا قرار دے رہے ہیں؟ مثلاً، بھئی، تبع تابعی سے نیچے والا کہتا ہے کہ مجھ سے فلاں تبع تابعی نے فرمایا اور اس تبع تابعی نے فلاں تابعی سے سنا تھا اور فلاں تابعی نے فلاں صحابی سے سنا کہ حضور علیہ السلام نے یوں فرمایا، تو یہ تبع تابعی سے بھی نیچے والا اپنے اوپر تبع تابعی کو ذکر کر رہا ہے، تبع تابعی اپنے سے اوپر تابعی کو ذکر کر رہا ہے، تو جب ہر ایک کو ذکر کر رہا ہے، معلوم ہوا اس کا ان پر اعتماد ہے۔ ان کیونکہ حدیث کی روایت کے اندر کیا شرط تھی؟ کس راوی کا کیا ہونا ضروری؟ عادل ہونا ضروری، تو جب یہ ان کو ذکر کر رہا ہے، معلوم ہوا یہ ان کو عادل سمجھتا ہے، یہ ان کو عادل قرار دے رہا ہے، بھئی۔ اور درمیان میں اگر کوئی ارسال کرتا ہے، کوئی ایک آدھا راوی ذکر نہیں کرتا، معلوم ہوا اس کے نزدیک وہ قابل اعتماد نہیں، جبھی اس نے کیا کیا، اس کو ذکر نہیں کیا، بھئی۔ تو را سند کو ذکر کرنا، یہ تعدیل کی طرح ہے، یعنی قابل اعتماد قرار دینا، عادل قرار دینا، اور سند کو ذکر نہ کرنا، یہ کس کی طرح ہے؟ جرح کی طرح ہے، یعنی اعتراض کی طرح ہے، معلوم ہوا اس کو ان کے عادل ہونے میں یا کسی بات کی وجہ سے اس کا ان پر اعتماد نہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو اس لیے کہتے ہیں، قبول نہیں کیا جائے گا۔ کہتے ہیں دیکھیے، کہتے ہیں، "وقيل لا يقبل" اور کہا گیا، قبول نہیں کیا جائے گا، "لأن الإسناد كالتعديل والإرسال كالجرح" اس لیے کیونکہ سند ذکر کرنا یہ تعدیل کی طرح ہے، عادل قرار دینے کی طرح ہے، "والإرسال كالجرح" اور ارسال اعتراض کرنے کی طرح ہے، "وإذا اجتمع الجرح والتعديل يغلب الجرح" اور جب جرح اور تعدیل دونوں جمع ہو جائیں، تو جرح غالب ہوتی ہے، جرح کیا ہوتی ہے؟ غالب ہوتی ہے۔ ایک شخص ایک محدث ایک کو قابل اعتماد قرار دے رہا ہے، دوسرا محدث اس کو ضعیف قرار دے رہا ہے، تو جرح کیا ہے؟ جرح جو ہے، تعدیل پر غالب ہے۔ "وأما الباطن" اور ایک جو ہے، وہ انقطاعِ باطنی ہے، اس کا بیان آیا، بھئی۔ کہتے ہیں، "وأما الباطن" اور باقی وہ جو انقطاعِ باطنی ہے، "فنوعان" وہ دو قسم پر ہے، "بأن يكون الاتصال فيه ظاهرا" کہ اس میں اتصال تو ہو ظاہری اعتبار سے حدیث میں، "ولكن وقع الخلل بوجه آخر" لیکن اس میں خلل واقع ہو کسی دوسری وجہ سے، کسی دوسری وجہ سے اس میں کیا آجائے؟ خلل آجائے، "وهو فقد شرائط الراوي" اور وہ راوی کی شرائط کا نہ ہونا ہے، "فقد" کا معنی نہ پانا، بھئی، اور راوی کی شرائط کا نہ پانا ہے، بھئی، یعنی راوی میں شرائط پوری نہیں، وہ جو اسلام، عدالت، عقل اور ضبط تھا، ایک یہ قسم۔ کہ ظاہری طور پر تو حدیث میں اتصال ہے، راوی تو سارے ذکر ہیں، لیکن کسی اور وجہ سے اس حدیث میں خلل آیا ہے اور وہ کیا ہے؟ یا تو راوی کی شرائط کا نہ ہونا ہے، "أو مخالفته لدليل فوقه" یا اس حدیث کا مخالف ہونا ہے اپنے سے اوپر والی دلیل کے۔ وہ حدیث تو کیا ہے؟ خبرِ واحد، وہ اپنے سے اوپر والی دلیل، یعنی کسی آیت یا سنتِ مشہورہ کے خلاف ہے۔ یہ دوسری قسم ہے۔ ایک قسم کیا ہوئی، بھئی، انقطاعِ باطنی کی؟ کہ راوی میں شرائط نہیں پائی جا رہیں۔ دوسری انقطاعِ باطنی کی کیا صورت ہوئی؟ کہ وہ حدیث اپنے سے اوپر والی کسی دلیل کے مخالف ہو، بھئی۔ "فإن كان لنقصان في الناقل" اگر وہ جو انقطاعِ باطنی ہے، ناقل، نقل کرنے والے، یعنی راوی میں کسی نقصان کی وجہ سے ہے، کمی کی وجہ سے ہے، "فهو على ما ذكرنا" تو وہ اسی قسم پر ہے، اسی طور پر ہے جو ہم نے ذکر کر دیا۔ ہم نے کیا ذکر کیا تھا؟ کہ اگر خبرِ واحد کے راوی میں چار شرائط نہ پائی جائیں، تو اس کی حدیث کو قبول نہیں کیا جائے گا، تو یہاں بھی اسی طرح ہے، اگر اس کے راوی میں کوئی کمی ہے، یعنی ان شرطوں میں سے کوئی شرط پوری نہیں، تو اس کی حدیث کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ وہ پس وہ اسی طور پر ہے جو ہم نے ذکر کیا، "من عدم قبول خبر الكافر والفاسق والصبي والمغفل" یعنی قبول نہ کرنا کافر، فاسق، بچے اور غافل شخص کی خبر کو۔ "وإن كان بالعرض" اور اگر وہ پیش کرنے کی وجہ سے ہے، اگر اس میں نقصان جو انقطاع ہے، کس وجہ سے ہے؟ پیش کرنے کی وجہ سے ہے، یعنی اس خبرِ واحد میں جو بات بیان ہوئی ظاہری طور پر تو سند میں اتصال ہے، سارے راوی ذکر ہیں، لیکن اس حدیث کو ہم نے پیش کیا کتاب اللہ پر، تو کتاب اللہ کی آیت اس کے خلاف ہے، یا اس حدیث کو ہم نے پیش کیا کس پر؟ سنتِ مشہورہ پر، تو وہ اس کے خلاف ہے، یہ معنی ہے پیش کرنا۔ تو اور اگر انقطاعِ باطنی جو ہے "بالعرض" وہ پیش کرنے کی وجہ سے ہو، "بأن خالف الكتاب" بایں طور کہ وہ کتاب اللہ کے مخالف ہو، "كحديث لا صلاة إلا بفاتحة الكتاب" جیسے کہ حدیث ہے "لا صلاة إلا بفاتحة الكتاب" کہ نماز نہیں ہے مگر فاتحۃ الکتاب کے ساتھ ہی، یعنی سورۂ فاتحہ کے ساتھ ہی نماز ہوگی، معلوم ہوا سورۂ فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے۔ سورۂ فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے۔ اس حدیث کو ہم نے کتاب اللہ پر پیش کیا، تو یہ حدیث "يخالف لعموم قوله تعالى" یہ حدیث مخالف ہوئی اللہ تعالی کے اس قول کے عموم کی، "فاقرءوا ما تيسر من القرآن" پس تم پڑھو جو تمہیں میسر ہو قرآن میں سے۔ جو تمہیں میسر ہو قرآن، قرآن سے تو معلوم ہوا کہ جہاں کہیں سے بھی قرآن آسانی سے جو بھی یاد ہو وہ پڑھ لیا جائے تو فرض ادا ہو جائے گا بھئی نماز کا۔ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ، جو بھی میسر ہو، جو بھی آسان ہو کس میں سے؟ قرآن میں سے۔ تو وہاں عموم ہے جو بھی آسان ہو وہ پڑھ لو بھئی، اور یہاں کیا پتہ چل رہا ہے حدیث سے؟ کہ فاتحۃ الکتاب کا پڑھنا ضروری ہے، اس کے بغیر نماز ہی نہیں۔ تو یہ حدیث اس آیت کے عموم کے خلاف ہوئی۔ تو لہذا اس کو یہ مقبول نہیں بھئی۔ وَكَحَدِيثِ مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ، اور جیسے کہ حدیث ہے مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ کہ جو شخص اپنے ذکر کو چھو لے فَلْيَتَوَضَّأْ پس اسے کیا کرنا چاہیے؟ وضو کرنا چاہیے۔ يُخَالِفُ قَوْلَهُ تَعَالَى، یہ مخالف ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے، فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا، اس مسجد میں یعنی مسجدِ قبا میں کچھ ایسے لوگ ہیں يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا جو پسند کرتے ہیں پاکیزہ ہونے کو، جو پاکیزگی کو کیا ہیں؟ جو پاکی کو پسند کرتے ہیں۔ اللہ مدح فرما رہے ہیں اہل قبا کی، کہ اس مسجد میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو پاکیزگی کو پسند کرتے ہیں۔ قبا والے حضور علیہ السلام کے پاس حاضر ہوئے تو حضور علیہ السلام نے ان سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ تم میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں تمہاری مدح فرمائی ہے، مدح نازل فرمائی ہے؟ تو وہ کہنے لگے، یا رسول اللہ! اور تو کوئی ایسی خاص بات نہیں، ہاں یہ ہے کہ ہم جب مٹی کے ڈھیلے سے استنجا کر لیتے ہیں تو اس کے بعد پانی سے بھی استنجا کر لیتے ہیں۔ تو اس کے بعد پانی سے بھی استنجا کر لیتے ہیں۔ تو اس پر دیکھو اللہ نے ان کی مدح فرمائی بھئی۔ معلوم ہوا کہ یہ جو پانی سے استنجا کرنا، پانی سے استنجا کرنا اس سے کامل پاکی حاصل ہوتی ہے۔ کیونکہ اللہ نے يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا، وہ پسند کرتے ہیں پاک ہونے کو کہ وہ پاک ہوں۔ تو اس میں پاکیزگی کو مطلق ذکر فرمایا ہے اللہ نے۔ معلوم ہوا یہ پانی سے استنجا کرنا ہر اعتبار سے پاکی ہی پاکی ہے۔ ہر اعتبار سے پاکی ہی پاکی ہے بھئی۔ کیونکہ پاکی کو مطلقا ً ذکر فرمایا، وَالْمُطْلَقُ إِذَا يُطْلَقُ يُرَادُ بِهِ الْفَرْدُ الْكَامِلُ، مطلق جب کو مطلق ذکر کیا جائے تو اس سے مراد اس کا فردِ کامل ہے۔ معلوم ہوا یہ کامل پاکیزگی ہے۔ یہ استنجا بالماء کیا ہے؟ کامل پاکیزگی ہے، ہر لحاظ سے پاکی ہی پاکی ہے۔ اور اس کے مقابلے میں حدیث کو دیکھا جائے، مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ، جو شخص اپنے ذکر کو چھوئے تو اسے چاہیے کہ وضو کر لے بھئی۔ اس حدیث سے معلوم ہو رہا ہے کہ مسِ ذکر یعنی مسِ شرمگاہ وہ ناقض للوضو ہے۔ وہ کیا ہے؟ ناقض للوضو ہے۔ جب ناقض للوضو ہوا تو گویا یہ اس سے حدث لاحق ہوتا ہے۔ کیا لاحق ہوتا ہے؟ یعنی شرمگاہ کو چھونے سے حدث لاحق ہوتا ہے۔ یہ معلوم ہوا یا نہیں اس حدیث سے؟ اور اللہ نے ادھر ذکر فرمایا اس آیت سے کیا معلوم ہوا؟ کہ استنجا بالماء کامل پاکی ہے۔ تو اگر اس حدیث کو لیا جائے تو اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ استنجا بالماء ناقض للوضو ہے، وہ حدث ہے اور اس سے حدث لاحق ہوتا ہے۔ معلوم اور جب بھی کوئی شخص استنجا بالماء کرے گا تو مسِ ذکر ہوگا یا نہیں؟ تو ٹھیک ہے، ظاہری نجاست تو بدن سے دور ہو رہی ہے۔ ظاہری نجاست وہ تو کیا ہے بدن سے؟ لیکن نجاستِ حکمیہ ساتھ ساتھ آ رہی ہے یا نہیں آ رہی؟ تو یہ کامل پاکی ہوئی؟ کامل پاکی نہ رہی۔ حالانکہ قرآن سے کیا معلوم ہوا؟ کہ استنجا بالماء کامل پاکی ہے۔ اور حدیث سے کیا معلوم ہو رہا ہے؟ استنجا بالماء کامل پاکی، تو یہ اس کے خلاف ہوئی لہذا اس اور قرآن کو تو ترجیح ہے تو اس وجہ سے اس حدیث کو پر عمل نہیں، اس کو قبول نہیں کیا بھئی۔ لیکن یاد رکھیے یہ نہیں کہ بالکل ترک کر دیا اس حدیث کو یا پہلی حدیث کو۔ پہلی حدیث میں کیا تھا؟ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، تو وہاں مطلقِ قرأت ہمارے نزدیک فرض ہے۔ جبکہ سورہ فاتحہ کی قرأت یہ واجب ہے۔ یہ کیا ہے؟ واجب ہے واجب ہے۔ یعنی مطلق قرأت سے فرض ادا ہو جائے گا۔ البتہ فاتحہ کا پڑھنا بھی واجب ہے اور واجب کے بارے میں آپ جانتے ہیں کہ اگر بھولے سے رہ جائے تو کیا کرنا پڑے گا؟ سجدہ سہو کرنا پڑے گا۔ اور اگر جان بوجھ کر چھوڑتا ہے، سورہ فاتحہ کی تلاوت نہیں کرتا، واجب کو جان بوجھ کر چھوڑا جائے تو نماز ہی ادا نہیں ہوتی بھئی۔ تو معلوم ہوا اس حدیث کو پر ہم بھی عمل کرتے ہیں لیکن فاتحہ کو قرآن آیت سے کم درجہ ہوگا اس کا، تو آیت سے مطلقِ قرأت کا فرضیت آئے گی اور سورہ فاتحہ کا پڑھنا واجب۔ اور یہاں کیا آیا ہے؟ مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ، تو اس کو ہم استحباب پر محمول کرتے ہیں۔ کس پر؟ کہ جو شخص اپنے ذکر کو چھوئے تو اسے وضو کرنا چاہیے، ہم کہتے ہیں یہ حکم استحبابی ہے۔ مستحب یہ ہے کہ پھر کیا کر لے؟ وضو کر لے اور یہ حکم بھی خواص کے لیے ہے، علماء کے لیے ہے، عوام کالانعام کے لیے نہیں ہے بھئی۔ وَكَحَدِيثِ مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ يُخَالِفُ قَوْلَهُ تَعَالَى، یہ مخالف ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے، فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا، اس مسجد میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں یہ کہ وہ پاک ہوں، لِأَنَّهُ فِي مَدْحِ قَوْمٍ يَسْتَنْجُونَ بِالْمَاءِ، اس لیے کیونکہ یہ آیت جو ہے ایسی قوم کی مدح میں ہے جو استنجا بالماء کرتے تھے، وَفِيهِ مَسُّ الذَّكَرِ، اور استنجا بالماء میں تو مسِ ذکر ہوتا ہے۔ أَوِ السُّنَّةَ الْمَعْرُوفَةَ، پیچھے کیا ذکر تھا متن میں؟ وَإِنْ كَانَ بِالْعَرْضِ، اگر وہ انقطاعِ باطنی کس وجہ سے ہو؟ پیش کرنے کی وجہ سے، بِأَنْ خَالَفَ الْكِتَابَ، بایں طور کہ وہ کس کے مخالف ہو؟ کتاب اللہ کے، أَوِ السُّنَّةَ الْمَعْرُوفَةَ، یا کس کے مخالف ہو؟ سنتِ معروفہ کے، كَحَدِيثِ الْقَضَاءِ بِشَاهِدٍ وَيَمِينٍ، جیسے کہ حدیثِ قضا بشاہد و یمین ہے۔ بھئی دیکھیے! حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ حضور علیہ السلام نے فیصلہ فرمایا ایک گواہ اور قسم کے ذریعہ، ایک گواہ اور... بھئی دیکھیے! احناف کے نزدیک تو فیصلہ کرنے کے دو ہی طریقے ہیں۔ یا تو مدعی گواہ پیش کر دے تو اس کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے گا۔ یا اگر وہ گواہ پیش نہیں کر سکتا دو، تو پھر مدعی علیہ پر قسم ہے وہ قسم کھا لے تو اس کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے گا۔ اور اگر وہ قسم نہیں کھاتا تو پھر بھی کس کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے گا؟ مدعی ہی کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو احناف کے نزدیک فیصلے کے دو ہی طریقے ہیں، یا تو مدعی کے گواہوں پر فیصلہ کر دیا جائے گا یا مدعی علیہ کی قسم پر۔ جبکہ امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ایک تیسرا طریقہ بھی ہے۔ وہ یہ کہ مدعی کے پاس دو گواہ نہیں، صرف ایک گواہ ہے۔ تو اس صورت میں وہ فرماتے ہیں کہ مدعی ایک گواہ پیش کر دے اور دوسرے گواہ کے بدلے میں قسم اٹھا لے۔ دوسرے گواہ کے بدلے میں کیا کر لے؟ قسم اٹھا لے تو بھی اس کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے گا۔ ہمارے نزدیک ہم کہتے ہیں نہیں، قسم جو ہے وہ صرف مدعی علیہ پر ہے، مدعی کی قسم کا کوئی اعتبار نہیں۔ مدعی کے ذمے گواہ ہیں وہ گواہ پیش کرے۔ اگر دو گواہ پیش نہیں کر سکتا تو پھر قسم صرف کس کی معتبر؟ مدعی علیہ کی قسم معتبر ہے، مدعی کی قسم کا اعتبار نہیں ہے۔ تو امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ان کا یہ مذہب ہے اور وہ یہ حدیث پیش کرتے ہیں بھئی۔ یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے ایک گواہ اور ایک قسم کے ذریعے فیصلہ فرمایا۔ ہم کہتے ہیں یہ حدیث جو ہے، یہ سنتِ مشہورہ کے خلاف ہے۔ سنتِ مشہورہ کیا ہے؟ اَلْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ، بینہ کس پر ہے؟ مدعی پر، اور قسم کس پر ہے؟ انکار کرنے والے پر یعنی مدعی علیہ پر بھئی۔ تو یہ اس حدیثِ مشہور سے پتہ چل رہا ہے کہ گواہ صرف مدعی کے معتبر ہیں اور قسم صرف منکر یعنی انکار کرنے والے یعنی مدعی علیہ کی معتبر ہے، اس کے خلاف ہے۔ تو اس لیے ہم نے اس حدیث پر عمل نہیں کیا بھئی۔ تو کہتے ہیں: كَحَدِيثِ الْقَضَاءِ بِشَاهِدٍ وَيَمِينٍ، جیسے کہ حدیث ہے قضا بشاہد و یمین کی، ایک گواہ اور قسم پر فیصلہ کرنے کی، يُخَالِفُ قَوْلَهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، یہ مخالف ہے حضور علیہ السلام کے اس قول کے، اَلْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ وَهُوَ مَشْهُورٌ، اور یہ حدیث تو مشہور ہے بھئی، مشہور ہے۔ یہ تو ایک جواب بھئی، ایک جواب۔ ہمارے پاس یاد رکھیے احناف کے پاس ہر مسئلے کے اندر دلائل کے انبار ہیں مولانا دلائل کے انبار، لیکن یہاں کسی خاص مسئلے پر بحث مقصود نہیں ہے، بس اس جو بحث چل رہی ہوتی ہے اس کے مطابق ایک آدھ جواب ذکر کر دیا جاتا ہے بھئی ایک آدھ جواب۔ ایک اور جواب بھی اس کا یاد رکھیں بھئی۔ دوسرا جواب ہم اس حدیث کا یہ دیتے ہیں کہ اس حدیث کا یہ معنی نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا ایک قسم اور ایک گواہ پر، بلکہ حدیث کا معنی یہ ہے کہ حضور علیہ السلام قَضَى بِيَمِينٍ وَشَاهِدٍ، وہ فیصلہ فرماتے تھے قسم اور گواہ کے ذریعے، حضور علیہ السلام فیصلہ کس کے ذریعے فرماتے تھے؟ قسم اور گواہ کے ذریعے، اور گواہ سے جنسِ گواہ مراد ہیں تو دو اس کے اندر آ گئے بھئی۔ تو حضور علیہ السلام قسم اور گواہوں کے ذریعے فیصلہ فرماتے تھے۔ گواہ کس کے ہوتے تھے؟ مدعی کے، اور قسم کس کی ہوتی تھی؟ مدعی علیہ کی بھئی۔ تو اس حدیث میں طریقۂ قضا کا بیان ہے بھئی نہ کہ ایک جزئی واقعے کا۔ ایک واقعے کا ذکر نہیں ہے کہ ایک دفعہ حضور نے یوں فیصلہ فرمایا، بلکہ طریقۂ قضا بتلایا گیا کہ حضور علیہ السلام کس طرح فیصلہ فرماتے تھے؟ قسم اور جنسِ گواہ کے ذریعے فیصلہ فرماتے تھے۔ یہ دوسرا جواب ہوا بھئی۔ تیسرا جواب، تیسرا جواب یہ کہ ٹھیک ہے، حدیث کا یہی معنی، حضور علیہ السلام نے فیصلہ فرمایا قسم اور ایک گواہ کے ذریعے، ہم کہتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کا یہ فیصلہ بطورِ مصالحت کے تھا، صلح کے طور پر یہ فیصلہ فرمایا نہ کہ بطورِ قضا کے بھئی۔ أَوْ الْحَادِثَةَ الْمَشْهُورَةَ، یا یہ کہ وہ حدیث جو ہے مخالف ہو کسی مشہور واقعے کے، مشہور حادثے کے، كَحَدِيثِ الْجَهْرِ بِالتَّسْمِيَةِ فِي الصَّلَاةِ، جیسے کہ نماز میں جہر بالتسمیہ کی حدیث ہے، الَّذِي رَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، جس کو روایت کیا ہے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے۔ بھئی بعض راوی روایت کرتے ہیں، بعض راویوں نے کیا کیا؟ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نماز میں بسم اللہ جہراً پڑھنے کی روایت کی ہے۔ بھئی آپ تو جب جہری نمازوں میں شامل ہوتے ہیں، دیکھتے ہیں امام قرأت کہاں سے شروع کرتا ہے؟ الحمد للہ سے جہری قرأت شروع کرتا ہے۔ جبکہ شوافع کے ہاں اگر آپ کو کبھی نماز پڑھنے کا موقع ملے تو آپ دیکھیں گے وہ بسم اللہ بھی جہراً پڑھتے ہیں بھئی۔ پہلے بسم اللہ پڑھتے ہیں جہراً، پھر اس کے بعد الحمد للہ آگے پڑھتے ہیں۔ تو وہ یہ عمل کرتے ہیں، یہ جو روایت جو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی گئی ہے، نماز میں بسم اللہ کے جہراً پڑھنے کی بھئی، جہراً پڑھنے کی، تو اب دیکھیے ہم کہتے ہیں نہیں، یہ حدیث ہمارے ہاں مقبول نہیں۔ کیوں مقبول نہیں؟ کیونکہ نماز ایک مشہور واقعہ ہے بھئی، حضور علیہ السلام کے زمانے میں بھی روزانہ جہری نمازیں ہوتی تھیں اور اس میں سینکڑوں ہزاروں لوگ شریک ہوتے تھے، صحابہ شریک ہوتے تھے اور نماز میں بسم اللہ کے جہراً پڑھنے کی روایت صرف ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی جا رہی ہے اور کسی سے نہیں۔ معلوم ہوا اس حدیث کے اندر کہیں انقطاع ہے۔ اس حدیث میں کیا ہے کہیں؟ انقطاع ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو کوئی اور بھی روایت کرتے۔ تو معلوم ہوا اس حدیث میں کہیں انقطاع ہے بھئی۔ یہ معنی ہے أَوْ الْحَادِثَةَ الْمَشْهُورَةَ، یہ کہ وہ روایت کسی مشہور واقعے کے خلاف ہو، مشہور مسئلے کے، كَحَدِيثِ الْجَهْرِ بِالتَّسْمِيَةِ فِي الصَّلَاةِ الَّذِي رَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، جیسے کہ نماز میں بسم اللہ کے جہراً پڑھنے کی حدیث ہے جس کو روایت کیا ہے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، فَإِنَّ حَادِثَةَ الصَّلَاةِ مَشْهُورَةٌ مُسْتَمِرَّةٌ، اس لیے کیونکہ نماز کا جو واقعہ ہے وہ مشہور ہے مستمرہ، استمرار کے ساتھ ہے، یعنی ہمیشہ پڑھی جاتی تھی جہری نماز، كَانَ يَحْضُرُهَا أُلُوفٌ مِنَ الرِّجَالِ، حاضر ہوتے تھے اس میں ہزاروں مرد، وَلَمْ يَسْمَعِ التَّسْمِيَةَ إِلَّا أَبُو هُرَيْرَةَ، اور تسمیہ یعنی بسم اللہ کو نہیں سنا مگر صرف ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، وَهَذَا شَيْءٌ عَجِيبٌ، اور یہ عجیب چیز ہے، عجیب بات ہے۔ تو معلوم ہوا اس حدیث میں کہیں انقطاع ہے بھئی۔ أَوْ أَعْرَضَ عَنْهُ الْأَئِمَّةُ مِنَ الصَّدْرِ الْأَوَّلِ، یا اعراض کیا ہو ائمہ نے اس سے پہلے زمانے میں، یعنی صحابہ نے اس حدیث سے پہلے زمانے میں کیا کیا ہو؟ اپنے زمانے میں اعراض کیا ہو۔ بھئی ایک حدیث آئی ہے ایک مسئلے کے بارے میں اور صحابہ کے بارے میں ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے اسی مسئلے کے بارے میں جب بحث کی تو رائے ذکر کی ہر ایک نے، کسی نے بھی یہ حدیث ذکر نہیں کی، معلوم ہوا اس حدیث میں انقطاع ہے۔ اگر اس حدیث میں انقطاع نہ ہوتا تو صحابہ ضرور کیا کرتے؟ اس حدیث کو اس مسئلے کے موقع پر ذکر کرتے، لیکن کوئی بھی نہیں ذکر کر رہا، معلوم ہوا اس حدیث میں کیا ہے؟ انقطاع ہے۔ یَعْنِي أَنَّ الصَّحَابَةَ إِذَا تَكَلَّمُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ بِالرَّأْيِ، یعنی جب صحابہ انہوں نے کلام کیا آپس میں رائے کے ساتھ، وَلَمْ يَلْتَفِتُوا إِلَى الْحَدِيثِ، اور انہوں نے توجہ نہیں کی حدیث کی طرف، كَانَ ذَلِكَ دَلِيلَ انْقِطَاعِهِ، تو یہ اس کے منقطع ہونے کی دلیل ہے، مِثْلُ مَا رُوِيَ أَنَّ الصَّحَابَةَ اخْتَلَفُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ فِي وُجُوبِ الزَّكَاةِ عَلَى الصَّبِيِّ بِالرَّأْيِ، جیسے کہ روایت کیا گیا ہے کہ صحابہ نے اختلاف کیا آپس میں بچے پر زکوٰۃ کے واجب ہونے کے بارے میں، تو صحابہ نے اختلاف کیا بِالرَّأْيِ، کس کے ساتھ؟ رائے کے ساتھ، ہر ایک نے اپنی رائے ذکر کی، وَلَمْ يَلْتَفِتُوا إِلَى قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اور توجہ نہیں کی انہوں نے حضور علیہ السلام کے اس قول کی طرف، اِبْتَغُوا فِي مَالِ الْيَتَامَى خَيْرًا كَيْلَا تَأْكُلَهُ الصَّدَقَةُ، تم ابتغوا تم تلاش کرو فِي مَالِ الْيَتَامَى یتیموں کے مال میں خَيْرًا بہتری کو، كَيْلَا تَأْكُلَهُ الصَّدَقَةُ تاکہ کہیں صدقہ یعنی زکوٰۃ اس کو کھا نہ لے، تاکہ کہیں زکوٰۃ اس مال کو نہ کھا لے۔ بھئی صحابہ نے آپس میں بحث کی اور ہر ایک نے اپنی رائے ذکر کی کہ بچے کے مال میں زکوٰۃ واجب ہوگی یا واجب نہیں ہوگی۔ اور یہ جو حدیث روایت ہے، اس کو کسی نے بھی ذکر نہیں کیا۔ معلوم ہوا یہ حدیث منقطع ہے۔ حدیث کیا ہے؟ حدیث میں آتا ہے، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ تم لوگ یتیموں کے مال میں بہتری تلاش کرو۔ یعنی اس کی بہتری کے لیے کوشش کرو، یعنی اس کو تجارت وغیرہ اور چیزوں میں لگاؤ تاکہ وہ بڑھتا رہے۔ کَےْ لَا تَاْکُلَہُ الصَّدَقَۃُ تاکہ کہیں زکوٰۃ اس کو ختم نہ کر دے، کھا نہ لے۔ یعنی بھئی، جب اگر اس کو تجارت میں نہیں لگاؤ گے تو اس میں سے کیا کرتے رہو، کیا کرنا پڑے گا؟ ہر سال زکوٰۃ دینی پڑے گی، تو مال کم ہوتا چلا جائے گا بھئی۔ تو لہٰذا اس کو کیا کرو؟ تجارت وغیرہ میں لگا دو اور تاکہ وہ مال بڑھتا رہے اور زکوٰۃ اس کو ختم نہ کرے بھئی۔ حدیث سمجھ میں آ گئی؟ اس حدیث سے کیا معلوم ہو رہا ہے کہ بچے کے مال میں زکوٰۃ واجب ہے بھئی، واجب ہے۔ لیکن صحابہ اس کو ذکر نہیں کر رہے ہیں، معلوم ہوا اس حدیث میں انقطاع ہے بھئی۔ فَعُلِمَ اَنَّہٗ غَیْرُ ثَابِتٍ پس معلوم ہوا کہ یہ حدیث ثابت نہیں ہے، اَوْ مُؤَوَّلٌ بِتَاْوِیْلِ اَنَّ الْمُرَادَ بِالصَّدَقَۃِ النَّفَقَۃُ عَلَیْہِ یا اس کی تاویل، یہ مؤول ہے اس تاویل کے ساتھ کہ مراد صدقے سے اس بچے پر جو نفقہ ہے، اس کا جو نفقہ ہے وہ مراد ہے۔ کَمَا قَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ جیسے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نَفَقَۃُ الْمَرْءِ عَلٰی نَفْسِہٖ صَدَقَۃٌ کہ انسان کا خرچ کرنا اپنی ذات پر یہ صدقہ ہے۔ انسان جو اپنے اوپر بھی مال خرچ کرتا ہے، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں یہ بھی کیا ہے؟ صدقہ ہے، یعنی اس کا بھی اس کو اجر ملے گا بھئی، اجر ملے گا۔ تو معلوم ہوا نفقے، جو حدیث میں صدقہ آیا اس سے کیا مراد لیا جائے گا؟ نفقہ، اپنے اوپر خرچ کرنا۔ تو یعنی بھئی، جب یتیم کا مال ہے تو اسی میں سے اس پر خرچ کیا جا رہا ہے، تو یہاں صدقے سے مراد وہ نفقہ ہے۔ تو حدیث کا یہ معنی نہیں کہ تاکہ زکوٰۃ اس کو نہ کھا لے، بلکہ مراد کیا ہے؟ تاکہ اس بچے پر جو خرچ کیا جا رہا ہے وہ نفقہ اس مال کو نہ کھا لے، اس کو ختم نہ کر دے۔ یتیم کے مال کو تجارت وغیرہ میں لگاؤ تاکہ جب اس پر مسلسل جو خرچہ کیا جا رہا ہے، اس خرچے کی وجہ سے یہ مال کم نہ ہو جائے، ختم نہ ہو جائے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا یہ حدیث یا تو ثابت ہی نہیں اگر صدقہ کو صدقہ کے معنی میں رکھیں۔ یا اس میں اس میں تاویل کی جائے گی اور کیا کہا جائے گا؟ صدقہ سے کیا مراد ہے؟ نفقہ مراد ہے، تو بھی بات درست ہو جائے گی۔ تو معلوم ہوا زکوٰۃ نہیں مراد بھئی۔ کَانَ مَرْدُوْدًا، یہ جواب ہے إن کا۔ پیچھے کیا آیا تھا؟ وَاِنْ کَانَ بِالْعَرْضِ اور اگر انقطاعِ باطنی جو ہے کس وجہ سے ہے؟ پیش کرنے کی وجہ سے، یعنی ہم نے اس کو کتاب اللہ پر پیش کیا ہے، سنتِ معروفہ پر اور پھر ان کے مخالف ہوا، تو ان یہ ساری صورتوں میں کَانَ مَرْدُوْدًا مُنْقَطِعًا اَیْضًا، تو یہ حدیث کیا ہوگی؟ مردود، یعنی اس کو رد کیا جائے گا، منقطعاً اور یہ منقطع ہوگی بھئی۔ منقطع ہوگی۔ کون کون سی صورتیں آ گئیں؟ کتاب اللہ کے اگر مخالف ہوئی، ایک صورت۔ دوسری، سنتِ معروفہ کے خلاف ہوئی، دوسری۔ تیسری صورت، حادثۂ مشہورہ کے خلاف ہو اور چوتھی صورت کہ صحابہ نے اس سے کیا کیا ہو؟ اعراض کیا ہو، ان چاروں صورتوں میں یہ حدیث جو ہے، یہ مردود و منقطع ہے۔ جَوَابُ اِنْ، یہ کَانَ مَرْدُوْدًا ترکیب بتلا رہے ہیں، جَوَابُ اِنْ، یہ کیا ہے؟ إن کا جواب ہے۔ اَیْ یَکُوْنُ الْخَبَرُ فِیْ کُلِّ مِّنْ ہٰذِہِ الْمَوَاضِعِ الْاَرْبَعَۃِ مَرْدُوْدًا، یعنی حدیث ان چاروں جگہوں کے اندر مردود ہوگی کَمَا فِی النَّوْعِ الْاَوَّلِ جیسے کس میں تھا؟ نوعِ اول، پہلی قسم کے اندر۔ پہلی قسم کون سی تھی بھئی؟ جس میں ناقل میں نقصان تھا بھئی۔ انقطاعِ باطنی دو قسم پر تھا نہ؟ ایک انقطاعِ باطنی کس وجہ سے تھا کہ راوی میں شرائط پوری نہیں، اور دوسری صورت کیا تھی؟ وہ اپنے سے اوپر والی دلیل کے خلاف وغیرہ باقی وہ اس میں آ گئی تھیں۔ تو یعنی پہلی قسم، یعنی جس میں ناقل، یعنی راوی کے اندر شرائط پوری نہیں ہوتی تھیں تو حدیث کو کیا کیا جاتا تھا؟ قبول نہیں کیا جاتا تھا، رد کیا جاتا تھا، تو یہاں پر بھی اس کو کیا کیا جائے گا؟ رد کیا جائے گا بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھی طرح؟ تو یہ حدیث کی تقسیم تھی انقطاع کے اعتبار سے، اور اس اعتبار سے انہوں نے بتلایا حدیث دو قسم پر ہے: ایک ہے مقبول، ایک ہے مردود۔ ایک ہے مقبول اور ایک ہے مردود۔ کچھ صورتیں ذکر کیں جن میں حدیث کیا ہوگی؟ مقبول۔ کچھ صورتیں ذکر کیں جن میں حدیث کیا ہوگی؟ مردود۔ حضرت والد صاحب شیخ الحديث والتفسیر حضرت مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ، ان کی عجیب عجیب استدلالات اور مسائل کے اندر بڑی عجیب اور قوی رائے اور پیاری دلیلیں جو وہ خود ان کو اپنی طرف سے جو وہ ذکر کرتے تھے، یہاں پر بھئی، تمام محدثین اور علمائے اصولِ فقہ حدیث کی دو قسمیں بناتے ہیں کہ یا حدیث کیا ہوگی؟ مقبول ہوگی یا مردود ہوگی۔ والد صاحب اس پر بڑے غم کا اظہار فرماتے اور فرماتے کہ یہ مردود کا نام مجھے پسند نہیں ہے بھئی۔ حدیث ہو اور اس کے لیے مردود کا لفظ استعمال کیا جائے بھئی! وہ فرماتے تھے یہ مجھے پسند نہیں ہے۔ وہ فرماتے تھے اس کا اور نام ہونا چاہیے بھئی۔ چنانچہ فرماتے کہ میرے نزدیک تقسیم یوں ہونی چاہیے کہ یوں کہا جائے کہ حدیث یا تو مقبول ہوگی یا ضعیف ہوگی بھئی، مردود کا لفظ نہ استعمال کیا جائے بھئی۔ یہ سوءِ ادب ہے بھئی، حدیث کے لیے مردود کا لفظ استعمال کیا جائے۔ تو وہ کیا فرماتے تھے؟ کہ کیا کہا جائے کہ حدیث یا کیا ہوگی؟ مقبول ہوگی یا ضعیف ہوگی، یا یوں کہا جائے کہ حدیث یا تو مقبول ہوگی یا غیر مقبول ہوگی، مردود کا لفظ نہ استعمال کیا جائے کیونکہ یہ کیا ہے؟ سوءِ ادب ہے۔ اور نیز بھئی، یہ حدیث ہر اعتبار سے اس کو رد بھی نہیں کیا جاتا بھئی، آپ نے بھی سنا ہوگا بارہا اپنے اساتذہ سے اور پڑھا ہوگا کہ فضائل کے باب میں ضعیف حدیث بھی بالاجماع مقبول ہے بھئی۔ فضائل کے باب میں بالاجماع ضعیف حدیث بھی مقبول ہے، حالانکہ مردود کے لفظ سے تو یہ وہم پڑتا ہے کہ شاید ہر اعتبار سے اس کو کیا کیا جائے گا؟ رد کیا جائے گا، حالانکہ ایسا نہیں ہے بھئی۔ تو دیکھیے، کتنی پیاری بات ان کی کہ مردود کے لفظ کے بجائے کیا استعمال ہونا چاہیے؟ ضعیف کا، یا اس کے بجائے غیر مقبول کا لفظ استعمال ہونا چاہیے بھئی۔ میں نے بتلایا، ان کے بڑے عجیب عجیب نکات ہوتے تھے کہ انسان سنتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے بھئی، حیران رہ جاتا ہے۔ حدیث کو حدیث کیوں کہا جاتا ہے بھئی؟ علماء اس کی کئی وجوہِ تسمیہ ذکر کرتے ہیں۔ والد صاحب ایک بڑی عجیب وجہِ تسمیہ اپنی طرف سے ذکر فرماتے تھے۔ وجوہِ تسمیہ بھئی محدثین اور علماء نے حدیث کے جو ذکر کیے ہیں کہ حضور علیہ السلام کے کلام کو حدیث کیوں کہا جاتا ہے؟ تمام محدثین اور علماء نے تقریباً اس کی پانچ چھ وجوہات ذکر کی ہیں، جبکہ والد صاحب ان وجوہات کے ساتھ ساتھ اپنی طرف سے بھی چار پانچ وجوہات ذکر کرتے تھے بھئی، جو انہوں نے خود مستنبط کی تھیں بھئی۔ اور ان میں سے ایک بڑی پیاری وجہ جو میں آج آپ کو سنا دیتا ہوں بھئی، سن کر ہی انسان کو لطف آ جاتا ہے۔ وہ کہتے تھے یہ حدیث علم بالغلبہ ہے۔ یہ حدیث کیا ہے؟ علم بالغلبہ۔ علم بالغلبہ اس کو کہتے ہیں کہ وہ لفظ تو اصل میں تو کثیرین پر بولا جاتا ہو، لیکن کسی شرف اور فضیلت کی بناء پر اپنے افراد میں سے کسی ایک فرد کے ساتھ خاص ہو جائے۔ بھئی، حدیث تو عربی زبان میں مطلق بات کو کہتے ہیں، چاہے آپ کی بات ہو، چاہے میری بات ہو، اس کو عربی میں کیا کہتے ہیں؟ حدیث کہتے ہیں۔ تو یہ ہر بات کو کہا جاتا تھا، لیکن بعد میں یہ خاص ہو گیا حضور علیہ السلام کی بات کے ساتھ۔ حضور علیہ السلام کی بات کے ساتھ خاص ہوا کس وجہ سے؟ ان کے شرف اور فضل کی وجہ سے، یعنی کہ حضور علیہ السلام کی بات اتنے اونچے درجے اور اتنے اعلیٰ مقام والی ہے کہ اس کے مقابلے میں اور کوئی بات، بات کہلانے کے لائق ہی نہیں ہے، صرف یہی ایک حدیث ہے، یہی ایک بات ہے بھئی۔ یا جیسے مولانا مدینہ ہے، مدینہ ہر شہر کو کہتے ہیں عربی میں، لیکن بعد میں یہ مدینۃ النبی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر کے ساتھ خاص ہو گیا، تو یہ علم بالغلبہ ہے۔ یعنی یہ شہر اتنے اونچے فضل اور مقام والا ہے کہ کوئی اور شہر اس کے مقابلے میں شہر کہلانے کے لائق ہی نہیں ہے۔ یا جیسے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہے، بھئی، حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے 12 بیٹے تھے، لیکن جب ابن عباس کہا جائے تو کون مراد ہوتے ہیں؟ عبداللہ ابن عباس، حالانکہ ابن عباس تو وہ 12 کے 12 کو شامل تھا، لیکن بعد میں یہ خاص ہو گیا، یہ کس کے ساتھ صرف؟ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کہ ان کا مقام اتنا اونچا ہے کہ یہی صرف کیا ہیں؟ ابن عباس کہلانے کے لائق ہیں بھئی، ان کا مقام اتنا اونچا ہے۔ یا جیسے بیت کا لفظ بھئی، بیت تو مطلق عربی میں کمرے کو کہتے ہیں، لیکن بعد میں یہ بیت کا لفظ البیت جب بولا جائے تو اس سے بیت اللہ مراد ہوتا ہے کہ اس کمرے کا رتبہ اتنا اونچا، اتنا بلند ہے کہ اس کے مقابلے میں کوئی اور بیت، بیت کہلانے کے قابل ہی نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ہے علم بالغلبہ کہ حدیث کو حدیث کیوں کہا جاتا ہے؟ علم بالغلبہ کی وجہ سے بھئی۔ یا جیسے ان کا ایک اور نقطہ بتلاؤں بھئی، ابھی آپ نے پڑھا حدیث میں ایک سند ہوتی ہے اور ایک متن ہوتا ہے۔ سند وہ جس میں راویوں کا ذکر ہو کہ فلاں نے فلاں سے روایت کیا، اور متن جس میں پھر وہ حضور علیہ السلام کی بات ذکر ہوتی ہے، تو وہ متن ہے اور اس سے باقی سند ہے۔ والد صاحب فرماتے تھے کہ میں نے اس میں غور کیا کہ یہ اس حدیث کے جو حدیث ہے، بات ہے اس میں، اس کو متن کیوں کہا جاتا ہے؟ سند کو سند کیوں کہتے ہیں؟ وجہ کیا ہے؟ کہتے ہیں میں نے غور کیا تو عجیب و غریب اسرار معلوم ہوئے، چنانچہ فرماتے تھے، بزرگوں کی باتوں میں بڑے اسرار ہوتے ہیں۔ ہمارے بزرگوں نے ان کا نام متن اور سند رکھا تو عجیب اسرار معلوم ہوئے۔ فرمانے لگے کہ دراصل یہاں استعارۃ بالکنایہ، استعارۃ تخییلیہ اور استعارۃ ترشیحیہ ہے بھئی۔ استعارۃ بالکنایہ، استعارۃ بالکنایہ اس کو کہتے ہیں بھئی کہ ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ تشبیہ دی جائے اور عبارت میں مشبہ کو ذکر کیا جائے، مشبہ بہ کو ذکر نہ کیا جائے، جس چیز کے ساتھ تشبیہ دی ہے اس کو ذکر نہ کیا جائے۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: اَنْشَبَتِ الْمَنِیَّۃُ اَظْفَارَہَا، موت نے اپنے پنجے گاڑ دیے۔ موت نے اپنے پنجے گاڑ دیے، معلوم ہوا موت کو درندے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ موت کو کس سے تشبیہ دی گئی ہے؟ درندے سے، تو موت ہوئی مشبہ، درندہ ہوا مشبہ بہ، اور عبارت میں کیا ذکر ہے؟ صرف مشبہ ذکر ہے، تو مشبہ ذکر ہو اور مشبہ بہ محذوف ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ استعارۃ بالکنایہ۔ بھئی، آپ کو کیسے پتہ چلا کہ یہ موت کو درندے سے تشبیہ دی ہے؟ کوئی وحی تو نہیں آئی آپ کے پاس؟ تو استعارۃ بالکنایہ کے لیے ہمیشہ قرینہ چاہیے ہوتا ہے، وہ قرینہ بتلاتا ہے کہ یہاں اس چیز کو اس سے تشبیہ دی گئی ہے۔ آپ کو کس سے پتہ چلا کہ موت کو درندے سے تشبیہ دی گئی ہے؟ موت کے لیے پنجے ثابت کر دیے گئے، حالانکہ پنجے تو کس کے ہوتے ہیں؟ درندے کے، معلوم ہوا موت کو درندے سے تشبیہ دی جا رہی ہے جابھی اس کے لیے کیا ثابت کر دیے گئے؟ پنجے۔ تو یہ جو مشبہ بہ کا لازم ہے، مشبہ بہ کون تھا؟ درندہ، درندے کے ساتھ کیا لازم؟ پنجے، تو یہ جو مشبہ بہ کا لازم ہے اس کے جو مشبہ کے لیے ثابت کر دیا، یہ ہے استعارۃ تخییلیہ۔ استعارۃ تخییلیہ، اور یہ قرینہ ہوتا ہے استعارۃ بالکنایہ پر، یہ بتلاتا ہے کہ یہاں استعارۃ بالکنایہ ہوا ہے بھئی۔ تو یہ استعارۃ تخییلیہ ہوا، اور یہ تو کیا تھا؟ استعارۃ بالکنایہ کسے کہتے ہیں؟ مشبہ کو ذکر کرنا اور مشبہ بہ کو ذکر نہ کرنا، یہ استعارۃ بالکنایہ۔ اور استعارۃ تخییلیہ کسے کہتے ہیں؟ مشبہ بہ کے لازم کو کس کے لیے ثابت کرنا؟ مشبہ کے لیے۔ اور مشبہ بہ کے مناسب کو مشبہ کے لیے ثابت کیا جائے تو یہ استعارۃ ترشیحیہ ہے۔ یہ کیا ہے؟ بھئی، پنجے تو لازم ہیں درندے کے ساتھ، اور ایک جو مناسب ہو اس کو ثابت کرنا، مثلاً جیسے گاڑنا بھئی، اس نے پنجوں کو، موت نے اپنے پنجے گاڑ دیے، تو یہ لازم تو نہیں ہے پنجے کے ساتھ کہ اس کے لیے گاڑنے کا فعل بھی ہو، تو یہ کیا ہوا؟ استعارۃ ترشیحیہ۔ تو والد صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ اس حدیث کے جو متن کو متن کہا جاتا ہے اور سند کو سند، اس میں میں نے غور کیا تو اس میں استعارۃ بالکنایہ، استعارۃ تخییلیہ اور استعارۃ ترشیحیہ ہے۔ استعارۃ بالکنایہ کس طرح ہے؟ کہتے ہیں میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ حدیث کو تشبیہ دی گئی ہے ایک معزز و مکرم انسان کے ساتھ۔ حدیث کو کس سے تشبیہ دی گئی ہے؟ ایک معزز و مکرم انسان کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ حدیث کو تشبیہ دی گئی ہے کس کے ساتھ؟ ایک معزز و مکرم انسان کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے، اور تو یہ جو حدیث ذکر ہے اور مشبہ بہ یعنی انسان ذکر نہیں تو یہ کیا ہوا؟ استعارۃ بالکنایہ ہوا۔ اور اس کا پتہ کس سے چلا؟ کہتے ہیں استعارۃ تخییلیہ سے۔ استعارۃ تخییلیہ کسے کہتے تھے؟ مشبہ بہ کے لازم کو مشبہ کے لیے ثابت کرنا، اور یہ جو متن ہے متن، یاد رکھیے متن کمر کو کہتے ہیں، کس کو کہتے ہیں؟ کمر کو، اور ہر انسان کے ساتھ کمر لازم ہے۔ تو مشبہ بہ کے لازم کو کس کے لیے ثابت کر دیا؟ مشبہ کے لیے، تو یہ جو متن ذکر آیا، یہ کیا ہے؟ استعارۃ تخییلیہ ہے، اور پھر اس کے لیے جو سند کا ذکر آیا، سند کہتے ہیں جس پر اعتماد کیا جائے، جس پر ٹیک لگایا جائے، یعنی تکیہ، یعنی کہ تکیہ، اور معزز و مکرم انسان کے ساتھ کمر تو لازم تھی اور تکیہ اس کے مناسب ہے، کہ کیا ہو اس کے لیے ٹیک لگانے کے لیے؟ تکیہ ہو، تو یہ اس کے مناسب ہے، تو اس سند کو حدیث کے لیے ثابت کیا، یہ کیا ہے؟ استعارۃ، استعارۃ ترشیحیہ ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، ہٰذَا ہُوَ الْمَرَامُ وَاللہُ اَعْلَمُ بِحَقِیْقَۃِ الْکَلَامِ۔
84 approved lectures · 42 of 84