Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-108

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 11 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 22
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔108 وإنما سقط حق الفقير في الصورة جواب سؤال آخر تقریره، أن الشرع أوجب الشاة في زكاة السوائم حيث قال عليه الصلاة والسلام: "في خمس من الإبل شاة"، وأنتم عللتم صلاحيتها للفقير بأنها مال صالح للحوائج، وكل ما كان كذلك يجوز أداؤه، فيجوز أداء القيمة أيضاً إليه، فأبطلتم قيد الشاة المفهومة من النص صريحاً. وإنما سقط حق الفقير في الصورة، یاد رکھیے یہ بھی ایک سوالِ مقدر کا جواب ہے، جیسے اس سے پچھلے متن میں بھی انہوں نے ماتن نے ایک سوال کا ایک اعتراض کا جواب دیا تھا۔ اسی طرح یہ بھی ایک اعتراض کا جواب ہے اسی کی طرح ۔ اس میں کیا اعتراض ہوا تھا؟ کہ آپ نے چوتھی شرط یہ ذکر کی کہ قیاس کی شرائط میں سے چوتھی شرط یہ ہے کہ قیاس کی وجہ سے اصل کے حکم میں کوئی تبدیلی نہیں آنی چاہیے بھئی۔ ایک تو تھی تبدیلی فرع کے حکم میں، وہ تو تیسری شرط کے ضمن میں بیان ہوا تھا کہ فرع کے حکم میں کوئی تبدیلی نہیں آنی چاہیے قیاس کے اندر، جیسا اصل کا حکم ہے بعینہِ اسی حکم کو فرع کی طرف متعدی کرنا ہے اس میں تبدیلی نہیں آنی چاہیے۔ اور چوتھی شرط میں اصل کے حکم کی بات کی تھی کہ اصل کے حکم میں بھی خود جو اصل ہے، اس کے حکم میں بھی قیاس کی وجہ سے کوئی تبدیلی نہیں آنی چاہیے۔ جی، تو یہاں پر بھی وہی اعتراض ہوتا ہے، اعتراض یہ کہ آپ نے قیاس کیا اور اس قیاس کی وجہ سے اصل کے حکم میں تبدیلی آ گئی حالانکہ آپ نے خود شرط ذکر کی تھی کہ قیاس کے اندر ضروری ہے کہ اصل کے حکم میں کوئی تبدیلی نہ آئے۔ کس طرح تبدیلی آئی؟ کہتے ہیں بھئی حدیث میں آتا ہے: "في خمس من الإبل شاة"، پانچ اونٹوں کے اندر ایک بھیڑ بکری واجب ہے، اونٹوں کی زکوۃ کے بیان میں حدیث میں کیا آتا ہے؟ پانچ اونٹ ہوں، ان پر سال گزر جائے اور وہ چرنے والے ہوں، سال کا اکثر حصہ باہر چر کر گزارتے ہوں، گھر پر ان کو چارہ لا کر نہ کھلایا جاتا ہو، تو ان کے اندر ایک بھیڑ بکری ایک شاة یعنی بھیڑ بکری ان میں واجب ہو گی۔ تو حدیث سے تو اتنا پتہ لگا کہ صرف کیا واجب ہوگی؟ بھیڑ بکری، بھیڑ بکری ہی دینی پڑے گی، لیکن آپ نے قیاس کیا اور علت اس کی نکالی کہ اس سے مقصد کیا ہے؟ فقیر کی حاجت کو پورا کرنا۔ اس کے ذریعے کیا ہوگا؟ فقیر کی حاجت، اور فقیر کی حاجت آپ نے کہا جس طرح بھیڑ بکری سے پوری ہوتی ہے اسی طرح اس بھیڑ بکری کی قیمت کے ذریعے بھی اس کی حاجت پوری ہو سکتی ہے۔ تو لہٰذا آپ نے کہا کہ بھیڑ بکری ہی کا دینا واجب نہیں ہے اس کی قیمت بھی ادا کر سکتے ہیں بھئی، اس کی قیمت بھی فقیر کو دے سکتے ہیں۔ تو حدیث میں تو صرف کس کا ذکر آیا تھا؟ بھیڑ بکری ہی دینی پڑے گی لیکن آپ نے اپنے قیاس کی وجہ سے اس کو اس وہ مقید تھا یعنی صرف بھیڑ یا بکری ہی اسی کی صورۃً دینی پڑے گی، آپ نے اس کو عام کر دیا اور کیا کہا کہ اس کے ساتھ اس کے بجائے اس کی قیمت بھی دے سکتے ہیں۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ اور یہ تبدیلی اصل کے حکم میں آئی اور کس کی وجہ سے آئی؟ آپ کے قیاس کی وجہ سے۔ تو جواب اس کا دیں گے بھئی کہ بھئی یہاں جو تبدیلی آئی اور ہم نے کہا بھیڑ بکری کے بجائے اس کی قیمت بھی دے سکتا ہے، دونوں ہی ٹھیک دونوں صورتیں ٹھیک ہیں، بھیڑ بکری بھی دے سکتا ہے، ان کی قیمت بھی دے سکتا ہے، یہ دلالۃ النص کی وجہ سے آئی ہے، نص نے اس پر دلالت کی ہے بھئی، ہمارے قیاس کی وجہ سے حکم میں تبدیلی نہیں آئی بھئی۔ جیسے یہی جواب جس طرح ہم نے پچھلی حدیث میں پچھلے اعتراض کا بھی یہی جواب تھا، یہاں بھی یہی جواب ہے بھئی۔ دیکھیے اب وہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وإنما سقط حق الفقير في الصورة، اور ساقط ہوا فقیر کا حق في الصورة، صورت کے اندر یعنی صورتِ شاة کے اندر۔ حدیث سے تو کیا واجب ہوئی تھی؟ شاة ہی صورۃً بھی وہی دینی پڑے گی بھیڑ یا بکری، یعنی وہی فقیر کا حق ہے، فقیر کا حق کیا ہے؟ بھیڑ یا بکری ہی ہے لیکن فقیر کا حق یہ حق صورت سے ساقط ہو گیا، آپ نے ساقط کر دیا، کس کی وجہ سے؟ اپنے قیاس کی وجہ سے کہ صورۃً یعنی بھیڑ بکری کو بعینہِ دینا ضروری نہیں بلکہ اس کی قیمت بھی دے سکتے ہیں۔ تو جواب اب ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وإنما سقط حق الفقير في الصورة، فقیر کا حق ساقط ہو گیا صورت کے میں سے، جواب سؤال آخر، یہ جواب ہے دوسرے سوال کا، تقریره، تقریر اس کی یہ ہے، أن الشرع أوجب الشاة في زكاة السوائم، کہ شریعت نے واجب کیا ہے بھیڑ بکری کو في زكاة السوائم، کس کے اندر؟ سوائم، وہ جانور جو سال کا اکثر حصہ باہر چر کر گزارتے ہوں بھئی، ان کو جنگل کی طرف بھیج دیا جاتا ہے اور وہ پھر شام کو واپس آ جاتے ہیں اور ایک وہ جانور ہیں جن کو گھر پر چارہ لا کر کھلایا جاتا ہے تو اس کی بات نہیں ہو رہی، سوائم کی بات ہو رہی ہے جو سال کا اکثر حصہ باہر چر کر گزاریں۔ تقریر اس کی یہ ہے کہ شریعت نے ایک بھیڑ بکری کو واجب کیا ہے سال کا اکثر حصہ باہر چر کر گزارنے والے جانوروں کی زکوۃ میں، سوائم کے اندر۔ شریعت نے ایک بھیڑ بکری واجب کی ہے سوائم کی زکوۃ میں، حيث قال عليه الصلاة والسلام، اس حیثیت سے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: "في خمس من الإبل شاة"، پانچ اونٹوں کے اندر ایک بھیڑ بکری ہے۔ وأنتم عللتم صلاحيتها للفقير، اور آپ نے اس کی تعلیل کی، کس کی؟ صلاحيتها، أي صلاحية الشاة للفقير، کہ یہ بھیڑ بکری صلاحیت رکھتی ہے فقیر کے لیے، کیا رکھتی ہے؟ صلاحیت رکھتی ہے فقیر کے لیے، یعنی اس سے وہ اپنی حاجت پوری کر سکتا ہے، یہ لے لے گا، اس کو پکا کر کھا سکتا ہے ذبح کر کے، یا اس کو بیچ کر کیا کرے گا؟ اپنی ضرورتوں کو پورا کر لے گا۔ تو آپ نے اس کی تعلیل یہ نکالی کہ یہ بھیڑ بکری صلاحیت رکھتی ہے فقیر کے لیے، بأنها مال صالح للحوائج، بعیں صورت کہ یہ ایسا مال ہے جو صلاحیت رکھتا ہے حاجتوں کی یعنی حاجتوں کے پورا کرنے کی۔ وكل ما كان كذلك يجوز أداؤه، اور ہر وہ چیز جو ایسی ہو اس کا ادا کرنا جائز ہے۔ آپ نے علت یہ نکالی کہ بھیڑ بکری کا دینا کیوں واجب کی گئی ہے؟ کیونکہ اس کے لیے فقیر کی حاجتیں پوری ہوں گی، معلوم ہوا ہر وہ چیز دے سکتے ہیں جس کے ذریعے فقیر کی حاجت پوری ہو، فيجوز أداء القيمة أيضاً، تو لہٰذا اس کی قیمت دینا بھی جائز ہے، إليه، اس فقیر کو۔ فأبطلتم قيد الشاة المفهومة من النص صريحاً، پس آپ نے باطل کر دیا شاة کی قید کو، وہ شاة المفهومة من النص صريحاً، جو صراحتاً نص سے مفہوم ہو رہی تھی۔ تو آپ نے بھیڑ بکری کی اس قید کو جو صراحتاً نص سے مفہوم ہو رہی تھی، اس کو آپ نے باطل کر دیا۔ فأجاب، تو جواب دیا مصنف نے، بأنه إنما سقط حق الفقير في صورة الشاة، کہ ساقط ہو گیا فقیر کا حق صورتِ شاة میں سے صورتِ شاة میں، وتعدى إلى القيمة، اور وہ فقیر کا حق متعدی ہو گیا کس کی طرف؟ قیمت کی طرف، بالنص، نص کی وجہ سے، لا بالتعليل، تعلیل یعنی قیاس کی وجہ سے نہیں، لأنه تعالى وعد أرزاق الفقراء، اس لیے کیونکہ اللہ تعالی نے فقراء کے رزق کا وعدہ فرمایا ہے، ارزاق جمع ہے رزق کی بھئی۔ کیونکہ اللہ تعالی نے فقراء کے رزقوں کا وعدہ فرمایا ہے، بل أرزاق تمام العالمين، بلکہ تمام عالم کے رزقوں کا وعدہ فرمایا ہے، في قوله تعالى، اللہ تعالی کے اس قول میں: "وما من دابة في الأرض إلا على الله رزقها"، اور نہیں ہے زمین پر کوئی جاندار مگر اللہ ہی پر اس کا رزق ہے، وقسم لكل واحد منهم طرق المعاش، اور تقسیم کر دیا ہر ایک کے لیے اللہ نے معاش کے طریقے بھئی، گزر بسر کے طریقے اللہ نے تقسیم فرما دیے، فآتى الأغنياء من الزراعة والتجارة والكسب، تو عطا کیا اللہ نے مالداروں کو، غنی کس کو کہتے ہیں؟ مالدار کو کہتے ہیں بھئی، فآتى الأغنياء، تو اللہ نے عطا کر دیا مالداروں کو من الزراعة والتجارة والكسب، زراعت بھئی یہ کاشتکاری، کھیتی باڑی، والتجارة، اور تجارت، والكسب، اور کمائی۔ ثم أوجب مالاً مسمى على الأغنياء لنفسه، پھر اللہ نے واجب کیا مالاً مسمىً، ایک مقررہ مال، اللہ نے واجب کیا ایک مقررہ مال، یعنی وہ بھیڑ بکری ہے، بعض صورتوں میں دو ہیں، بعض میں گائے وغیرہ ہے، تفصیل آپ فقہ میں پڑھ چکے ہیں۔ تو اللہ نے مقرر کیا ایک مقررہ مال على الأغنياء، مالداروں پر، لنفسه، اپنی ذات کے لیے، کس کے لیے مقرر کیا؟ اپنی ذات کے لیے اللہ نے مقرر کیا، بھئی وہ کیا مالِ مقررہ ہے؟ میں نے کیا تفصیل بیان کی؟ بھیڑ بکری، وہی آگے شارح بھی بیان کر رہے ہیں، وهو الشاة التي، اور وہ بھیڑ بکری ہے، التي يأخذ الله تعالى أولاً في يده، جس کو اللہ تعالی لے لیتے ہیں پہلے اپنے ہاتھ میں یعنی اپنے دستِ رحمت میں اللہ اس کو لے لیتے ہیں، كما قيل، جیسے کہا گیا ہے: "الصدقة تقع في كف الرحمن قبل أن تقع في كف الفقير"، کہ صدقہ جو ہے وہ رحمن کی ہتھیلی میں آتا ہے قبل اس کے کہ وہ فقیر کی ہتھیلی میں آئے بھئی۔ صدقہ فقیر کے ہاتھ میں آنے سے پہلے رحمن کے دستِ رحمت میں آتا ہے، یہ معنی مفہوم ہے احادیث سے اور قرآن سے۔ یہ جو کہا گیا ہے کہ صدقہ کس کے ہاتھ میں آتا ہے پہلے؟ رحمن کے ہاتھ میں آتا ہے، پھر اس کے بعد فقیر کے ہاتھ میں جاتا ہے، یہ معنی مفہوم ہے احادیث سے اور قرآن سے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ جیسے ایک آیت انہوں نے ذکر بھی کی، كما قال تعالى: "هو يقبل التوبة عن عباده ويأخذ الصدقات"، اور وہ صدقات لیتا ہے، صدقات اللہ لیتے ہیں یا فقراء کو ہم دیتے ہیں؟ فقراء کو، لیکن یہاں "ویأخذ الصدقات"، اللہ صدقات لیتے ہیں، معلوم ہوا فقیر کے ہاتھ میں واقع ہونے سے پہلے صدقہ کس کے دستِ رحمت میں واقع ہوتا ہے؟ رحمن کے ہاتھ میں، اللہ کے ہاتھ میں۔ ثم أمر بإنجاز المواعيد من ذلك المسمى، انجاز کا معنی پورا کرنا، مواعيد، وعدے، پھر اللہ نے حکم دیا ان وعدوں کو پورا کرنے کا من ذلك المسمى، اس مقررہ مال میں سے۔ پھر اللہ نے ان وعدوں کو پورا کرنے کا حکم دیا اس مقررہ مال میں سے۔ بھئی تقریر سمجھ میں آ رہی ہے؟ ان وعدوں کو پورا کر، کون سے وعدے؟ وہ جو اللہ نے رزق کے وعدے فرمائے ہیں کہ ہر چیز کا رزق میرے ذمے ہے، میں رزق دیتا ہوں ہر چیز کو، تو اللہ نے ان رزق کے وعدوں کو پورا کرنے کا حکم دیا اس مقررہ مال میں سے جو اللہ نے امیر پر مقرر فرمایا، وہ مقررہ مال بھیڑ بکری وغیرہ، من ذلك المسمى الذي أخذه بقوله تعالى، اس مقررہ مال میں سے الذي أخذه، جس کو اللہ نے لیا، بقوله، اپنے اس بقوله، ہاں اس کا تعلق "أمر" سے ہے۔ اللہ نے حکم دیا ان وعدوں کو پورا کرنے کا بقوله، اپنے اس قول کے ذریعے، بقوله تعالى: "إنما الصدقات للفقراء والمساكين"، صدقات کس کے لیے ہیں؟ فقراء اور مساکین کے لیے ہیں، الآیة۔ تو یہ جو اللہ نے کہا صدقات فقراء اور مساکین کے لیے ہیں، اس میں گویا حکم دیا جا رہا ہے کہ یہ صدقات کس کو دیں؟ فقراء کو دیں، کس لیے دیں؟ تاکہ وہ جو میں نے رزق کا وعدہ کیا ہے فقراء سے اور مساکین سے بھی وہ پورا ہو۔ اچھا بھئی، یہاں کیا آیا؟ ثم أمر بإنجاز المواعيد من ذلك المسمى الذي أخذه بقوله تعالى، اور پھر اللہ نے حکم دیا ان وعدوں کو پورا کرنے کا اس مقررہ مال میں سے الذي أخذه، جو اللہ نے لیا ہے اپنے ہاتھ میں، اس کے ذریعے وعدوں کو پورا کرنے کا حکم دیا، بقوله، اپنے اس قول کے ذریعے: "إنما الصدقات للفقراء والمساكين"، کہ صدقات فقراء اور مساکین کے لیے ہیں، وبقوله عليه الصلاة والسلام، اور اس قول کے ذریعے حکم دیا، حدیث میں آتا ہے بھئی، حضور علیہ السلام نے جیسے حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کو یمن کی طرف قاضی بنا کر بھیجا تو ان سے یہ بھی یہ بھی فرمایا: "خذها من أغنيائهم وردها إلى فقرا ئهم"، کہ وہ صدقہ لینا ان کے مالداروں سے، وردها إلى فقرا ئهم، اور اس کو لوٹانا ان کے فقراء پر، یعنی ان کو دے دینا بھئی، ورد، امر ہے بھئی، رد يرد۔ اور اس کو لوٹانا ان کے فقراء پر۔ وإنما فعل ذلك، اور اللہ نے اس طرح فرمایا، لئلا يتوهم أحد، تاکہ کوئی شخص یہ وہم نہ کرے، أن الله لم يرزق الفقراء أو لم يوف بعهده في حقهم، کہ اللہ نے فقراء کو رزق نہیں دیا اور اللہ نے پورا نہیں کیا اپنے وعدے کو ان فقراء کے حق میں، بل رزقهم الأغنياء، بلکہ ان کو تو کس نے رزق دیا؟ مالداروں نے دیا، تو یہ اللہ نے اس لیے ایسے کیا کہ اللہ نے جو واجب کیا تھا، یہ پہلے گویا اللہ کے ہاتھ میں واقع ہوا اور پھر اللہ کی طرف سے ان مالداروں نے فقراء کو دیا بھئی۔ تو بظاہر تو دے رہے ہیں مالدار، لیکن درحقیقت دینے والے کون ہیں؟ اللہ تعالی ہیں بھئی۔ ولهذا قيل، اور اسی وجہ سے کہا گیا ہے، أن اللام في قوله، کہ یہ جو لام آیا اللہ تعالی کے قول میں: للفقراء، "إنما الصدقات للفقراء"، اس میں یہ جو لام آیا ہے، لام العاقبة، یہ لامِ عاقبت ہے، لا لام التمليك، یہ لامِ تملیک نہیں ہے۔ تو معنی کیا ہوا؟ صدقات فقراء اور مساکین کے لیے ہیں، نہیں، لامِ عاقبت بنائیے، صدقات انجامِ کار فقراء اور مساکین کے لیے ہیں، اولاً یہ کس کے ہاتھ میں واقع ہوئے؟ رحمن کے ہاتھ میں، اور انجامِ کار پھر یہ کس کے ہاتھ میں آئے؟ فقراء کے ہاتھ میں۔ ولهذا قيل، اس کی وجہ سے کہا گیا ہے کہ أن اللام في قوله للفقراء لام العاقبة، کہ لام جو ہے اللہ کے قول للفقراء میں یہ لامِ عاقبت ہے، لا لام التمليك، یہ لامِ تملیک نہیں ہے، لأن الله تعالى هو يملكها ويأخذها ثم يعطيها الفقراء من عند نفسه كما يعطي الأغنياء كذلك، کہ اللہ کیونکہ اللہ تعالی جو ہیں وہ اس کے مالک ہوتے ہیں اور اس کو لے لیتے ہیں، ثم يعطيها الفقراء من عند نفسه، پھر اللہ عطا کرتے ہیں وہ صدقات فقراء کو اپنی طرف سے، كما يعطي الأغنياء كذلك، جیسے کہ اللہ مالداروں کو بھی اسی طرح دیتے ہیں۔ مالداروں کو بھی اللہ اسی طرح دیتے ہیں، مالداروں کے پاس مال آ تو زراعت کے ذریعے رہا ہے، تجارت کے ذریعے بظاہر، لیکن دراصل دینے والے کون ہیں؟ اللہ تعالی ہیں بھئی۔ وذلك لا يحتمله مع اختلاف المواعيد، اور یہ، ذلك کے ذریعے اشارہ ہے اس مالِ مسمى کی طرف جو اللہ نے مقرر فرمایا یعنی بھیڑ بکری وغیرہ بھئی۔ اور وہ جو بھیڑ بکری ہے، لا يحتمله، لا يحتمله کی ھا ضمیر آگے شرح میں بتلائیں گے، یہ انجازِ مواعید کو راجع، کس کو راجع؟ انجاز، اور یہ بھیڑ بکری لا يحتمله، یہ ان وعدوں کے پورا کرنے کا احتمال نہیں رکھتی۔ بھیڑ بکری کے ذریعے تو یہ سارے وعدے پورے نہیں ہو سکتے، مع اختلاف المواعيد، ساتھ وعدوں کے مختلف ہونے کے۔ بھئی اللہ نے ہر چیز کا، رزق میں ہر چیز آ گئی، یعنی اللہ نے رزق دینے کا وعدہ فرمایا معنی یہ ہے سالن بھی اللہ دیں گے، روٹی بھی اللہ دیں گے، لباس بھی اللہ دیں گے، پھر پکانے کے لیے لکڑی وغیرہ جو چاہیے وہ بھی اللہ دیں گے، ہر چیز اس کے اندر آ گئی بھئی، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو وذلك لا يحتمله، اور یہ بھیڑ بکری تو ان سارے وعدوں کو پورا کرنے کا احتمال نہیں رکھتی، اس کے ذریعے سالن تو بن سکتا ہے، روٹی تو نہیں ہو سکتی، لکڑی تو نہیں ہو سکتی، لباس تو نہیں ہو سکتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور اللہ نے تو سب کچھ دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔ تو کہتے ہیں وذٰلک لا یحتملہ وہ بھیڑ بکری جو ہے وہ ان وعدوں کے پورا کرنے کا احتمال نہیں رکھتی مع اختلاف المواعد ساتھ وعدوں کے مختلف ہونے کے۔ دیکھیے خود بتلا رہے ہیں ذٰلک کے ذریعے میں نے کس کی طرف اشارہ کیا تھا وہ مقررہ مال یعنی ذٰلک المسمی الذی ھو الشاۃ وہ مقررہ مال جو کہ بھیڑ بکری ہے۔ لا یحتمل متن میں کیا تھا؟ لا یحتملہ اس ضمیر کا مرجع بتلا دیا لا یحتمل انجاز المواعد مع اختلافھا وہ بھیڑ بکری ان وعدوں کو پورا کرنے کا احتمال نہیں رکھتی ساتھ وعدوں کے مختلف ہونے کے وکثرتھا اور ان کی کثرت کے۔ فان المواعد اسی کیونکہ وعدے جو ہیں الخبز روٹی بھی ہے والاِدام اور سالن بھی ہے والحطب اور لکڑی بھی ہے واللباس اور لباس بھی ہے وامثالہ اور اس جیسی چیزیں ہیں۔ والشاۃ لا توفی الا بالاِدام اور بکری جو ہے وہ تو پورا نہیں کر سکتی مگر سالن کو ہی۔ بھیڑ بکری صرف کس کو پورا کر سکتی ہے؟ سالن کو ہی پورا کر سکتی ہے۔ فکان اذناً کان کے اندر ھو ضمیر ہے یاد رکھیے۔ وہ امر بالانجاز کو راجع ہے۔ کس کو راجع ہے؟ امر بالانجاز کو کان کے اندر ھو ضمیر۔ اذناً یہ اجازت ہے آگے آپ کی کتابوں میں کیا ہے؟ بالاستدلال؟ ہاں بال میری کتاب میں بالاستدلال ہے استدلال لفظ نہیں بھئی استبدال ہونا چاہیے جن کی کتابوں میں استدلال ہے اس کی جگہ استبدال کر لیں یہ کتابت کی غلطی ہے۔ فکان اذناً بالاستبدال دلالۃً تو یہ جو اللہ نے وعدوں کو پورا کرنے کا حکم دیا یہ حکم اذناً یہ اجازت ہے بالاستبدال بدلنے کی دلالۃً دلالۃً یہ اجازت ہے بھئی۔ صراحۃً تو نہیں لیکن یہ جو اللہ نے وعدوں کو پورا کرنے کا حکم دیا کہ میں نے وعدہ کیا ہے ان وعدوں کو تم کیا کرو؟ میری طرف سے پورا کرو۔ تو یہ حکم دینا یہ دلالۃً اجازت ہو گئی اس بھیڑ بکری کے بدلنے کی کہ اس کو بدل کر کیا دے سکتے ہو؟ اس کو بدل کر قیمت بھی دے سکتے ہو کیونکہ بکری کے ذریعے تو صرف کیا پوری ہوگی؟ صرف سالن کی ضرورت پوری ہوگی۔ لہٰذا تم اس کے بدلے اور میں نے تو ہر چیز کا وعدہ کیا ہے تم اس کی قیمت بھی دے سکتے ہو تاکہ اس کے ذریعے وہ اپنی اور ضرورتیں بھی پوری کر سکیں بھئی۔ تو فکان اذناً بالاستبدال دلالۃً تو یہ امر جو ہے یہ اجازت ہوا بدلنے کی دلالت کے طریقے پر بان تستبدل الشاۃ بالنقدین بایں طور کے بدلا جائے بھیڑ بکری کو بالنقدین دو نقدیوں سے۔ دو نقدیاں کون سی ہیں بھئی؟ درہم و دنانیر بھئی، درہم و دینار۔ قدیم زمانے میں یہی رائج تھے بھئی درہم اور دینار۔ اب تو روپے پیسے وغیرہ اور کرنسیوں آ گئیں اب وہ بھی اسی میں داخل، وہ بھی جائز بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ فکان اذناً بالاستبدال دلالۃً تو یہ امر دلالۃً بدلنے کی اجازت ہوا بان تستبدل الشاۃ بالنقدین بایں طور کہ بدل دیا جائے بھیڑ بکری کو کس سے بدل دیا جائے؟ نقدین یعنی درہم و دینار سے۔ فیقضی منھما کل حوائجہ تو پس وہ پوری کر لے گا ان دونوں سے اپنی ساری ضرورتیں۔ فقیر ان دونوں کے ذریعے ساری ضرورتیں پوری کر لے گا، پیسوں اور نقدی کے ذریعے روٹی بھی آ جائے گی، لکڑی بھی آ جائے گی، لباس بھی آ جائے گا اور بھی ساری چیزیں۔ واعترض علیہ اور اس پر یہ اعتراض کیا گیا۔ اعتراض یہ کریں گے کہ بھئی آپ نے امر بالانجاز کو کیا بنایا؟ اجازت بنایا کہ بدلنے کی اجازت ہے اس نے اس پر دلالت کر دی۔ یہ اس کو تب آپ اجازت بناتے اگر ان کو ان کے اگر ان کے رزق صرف اسی میں بند ہوتے۔ ان کے رزق کس میں بند ہوتے؟ یعنی صرف بھیڑ بکری ہی ان فقراء کو ملتی تو پھر آپ کہتے کہ بھیڑ سے بکری سے تو ساری ضرورتیں پوری نہیں ہو سکتیں لہٰذا ان کی قیمت بھی دے سکتے ہو۔ لیکن یہاں تو اللہ تعالیٰ ان کو گندم بھی دیتے ہیں صدقۂ فطر میں، اللہ عشر کے اندر ہر قسم کے دانے بھی ان کو دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو کفارۂ یمین میں لباس بھی دیتے ہیں اور بھی چیزیں اس قسم کی ان کو مل جاتی ہیں غنیمت کے خمس وغیرہ کے ذریعے بھئی۔ تو اور چیزیں اگر نہ ہوتیں پھر تو آپ کہتے یہ اجازت ہے لیکن جب اور چیزیں موجود ہیں تو پھر اس کو اجازت بنانا صحیح نہیں ہے بھئی۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ واعترض علیہ اور اس پر اعتراض کیا گیا بانھ انما یکون اذناً بہ کہ یہ جو امر بالانجاز ہے یہ اجازت ہوتا استبدال کی، اذناً بہ ای اذناً بالاستبدال، یہ استبدال کی اجازت تب ہوتا اذا کانت ارزاقھم منحصرۃً علی الشاۃ جس وقت ان کے رزق بند ہوتے بھیڑ بکری میں۔ بل اعطاھم الحنطۃ من صدقۃ الفطر بلکہ اللہ نے عطا کی ہے گندم ان کو صدقۂ فطر میں سے۔ واعطاھم کل حبوب من العشر اور اللہ نے عطا کیے ہیں ہر قسم کے دانے ان کو عشر میں سے۔ واعطاھم الکسوۃ من کفارۃ الیمین اور اللہ نے ان کو عطا کیے ہیں کپڑے کفارۂ یمین میں سے۔ واعطاھم الاجناس الاخریٰ من خمس الغنیمۃ اور اللہ نے ان کو اور جنسیں عطا کی ہیں غنیمت کے خمس میں سے۔ تو یہ تو ہر قسم کی چیزیں ان کو مل رہی ہیں لہٰذا یہ کہنا کہ یہ امر بالانجاز اجازت ہے اس کو آپ اجازت نہیں بنا سکتے۔ واجیب اور جواب دیا گیا بان الزکاۃ لا تخلو عنھا بلد من بلاد المسلمین کہ زکوٰۃ جو ہے اس سے خالی نہیں ہے کوئی ایک بھی شہر مسلمانوں کے شہروں میں سے، یعنی یہ ہر جگہ دینے والے ہوتے ہیں زکوٰۃ دینے والے۔ اذ ھی فرض کالعلاۃ کیونکہ یہ فرض ہے نماز کی طرح۔ فکان المصرف الاصلی للفقراء ھی الزکاۃ تو مصرف اصلی فقراء کے لیے کیا ہوا؟ زکوٰۃ، کیونکہ اس کے دینے والے ہر شہر میں، ہر بستی میں، ہر گاؤں میں موجود ہوتے ہیں۔ باقی چیزیں جو ذکر کیں وہ اس طرح نہیں ہیں وہ ہر جگہ اور ہر وقت نہیں ہوتیں۔ بخلاف الغنیمۃ بخلاف غنیمت کے۔ فانھ قلما تقع الغنیمۃ بین المسلمین اس لیے کیونکہ بہت کم غنیمت واقع ہوتی ہے مسلمانوں کے درمیان، یعنی بہت کم غنیمت حاصل ہوتی ہے مسلمانوں کو، اس لیے کیونکہ جنگ یا جہاد کبھی کبھار ہی ہوتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وہ کبھی کبھار ہی ہوگا اور پھر اس میں بھی یقینی نہیں مسلمان جیتتے ہیں یا ان کو شکست ہوتی ہے اور جیتنے کے بعد پتہ نہیں کتنا مال ملتا ہے، زیادہ ملتا ہے یا تھوڑا ملتا ہے۔ تو زکوٰۃ غنیمت تو کبھی کبھار ہی ملتی ہے۔ وان وقعت اور اگر واقع بھی ہو جائے یعنی حاصل بھی ہو جائے فقلما تقسم علی نحو الشریعۃ تو پھر بہت کم اس کو شریعت کے طریقے پر تقسیم کیا جاتا ہے۔ شریعت کے تقسیم طریقے پر بھی حاصل بھی ہو جائے معلوم نہیں اس طریقے پر تقسیم ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ وکذا الکفارۃ اور اسی طرح کفارہ بھی ہے جو آپ نے کفارۂ یمین ہمیں گنوایا اذ ربما لم یکن احد منھم حانثاً مدۃً مدیدۃً اس لیے کیونکہ بسا اوقات کوئی ایک بھی نہیں حانث ہوتا ایک بڑی لمبی مدت تک بھئی، کوئی حانث ہوتا ہی نہیں ہے بھئی۔ آپ اپنے احوال کو بھی دیکھ لیں بھئی، آپ نے بھی آج تک شاید کبھی کبھار ہی حانث ہوئے ہوں اور پھر کفارہ دیا ہو کیونکہ حانث کم ہی ہوگا، عموماً کیا کرتے ہیں لوگ؟ اپنی قسم کو پورا کرنے ہی کی کوشش کرتے ہیں۔ وکذا العشر اور اسی طرح عشر ہے اذ ربما لم یزرع الارض العشرِیۃ احد اس لیے کیونکہ بسا اوقات عشری زمین کو کوئی ایک بھی نہیں کاشت کرتا بھئی، عشری زمین کو کوئی ایک بھی نہیں کاشت کرتا تو عشر بھی بہت کم ہوا۔ یا آج کے زمانے میں یوں کہیں کاشت بھی کرتے ہیں تو دیتے نہیں ہیں بھئی، بہت کم ہوں گے عشر دینے والے بھئی۔ عشر عموماً لوگ ادا ہی نہیں کرتے پروا ہی نہیں ہوتی اس کی بھئی۔ یاد رکھیے بھئی عشر کا ہمیشہ خیال رکھنا بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور لوگوں کو بھی بتائیں اپنے علاقے کے اندر جہاں جہاں آپ رہنے والے ہوں ہر ایک کو بتلائیں بھئی۔ عموماً لوگ اس کی پروا نہیں کرتے، زکوٰۃ کا تو خیال رکھتے ہیں لیکن اس کی اتنی پروا نہیں کرتے حالانکہ یہ بھی اسی کی طرح واجب ہے بھئی۔ وکذا صدقۃ الفطر اور اسی طرح صدقۂ فطر بھی ہے اذ ربما لم یخرجھا احد اس لیے کیونکہ بسا اوقات اس کو کوئی نکالتا ہی نہیں ہے بھئی، کوئی ادا ہی نہیں کرتا۔ ولیس لھا مطالب من اللہ اصلاً اور اس کے لیے نہیں ہے کوئی مطالبہ کرنے والا اللہ کی طرف سے سے سرے سے ہی۔ بھئی زکوٰۃ کا تو باقاعدہ خلیفہ کیا کرتا ہے؟ سب سے زکوٰۃ اکٹھی کی جاتی ہے اسلامی سلطنت میں، خلیفہ کیا کرتا ہے؟ زکوٰۃ اکٹھی کرتا ہے لیکن عشر کا مطالبہ کرنے والا کوئی نہیں جیسے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنہوں نے جو زکوٰۃ دینے سے جن لوگوں نے انکار کیا تھا آپ نے ان سے جنگ کی بھئی اور فرمایا کہ جو ایک رسی بھی زکوٰۃ کی دینے سے انکار کرے گا میں اس سے جنگ کروں گا بھئی۔ تو یہاں زکوٰۃ کے اندر خلیفہ اللہ کی طرف سے مطالبہ کرنے والا ہے جبکہ صدقۂ فطر میں ایسا نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں ولیس لھا مطالب من اللہ اصلاً اور نہیں ہے اس میں کوئی مطالبہ کرنے والا اللہ کی طرف سے سرے سے ہی۔ فلم تبق الا الزکاۃ تو پس باقی نہیں رہی مگر صرف زکوٰۃ ہی۔ فکانت ھی مرجع کل الحوائج تو زکوٰۃ ہی جو ہے وہ مرجع ہوئی تمام حاجتوں کی، تمام حاجتیں اسی کی طرف لوٹیں گی۔ لہٰذا معلوم ہوا اس کے اندر قیمت بھی دے سکتے ہیں کیونکہ حاجتیں اسی کے ذریعے پوری کرنی ہیں اور حاجتیں تو صرف بھیڑ بکری میں بند نہیں ہیں بلکہ اور بھی چیزوں کی حاجت ہے تو وہ قیمت کے ذریعے زیادہ اچھے طریقے سے پوری ہوں گی۔ یہاں تک تقریر سمجھ میں آ گئی بھئی؟ بھئی یہاں آیا: ثم امر بانجاز المواعد من ذٰلک المسمی الذی اخذہ مل گیا متن بھئی؟ اللہ نے حکم دیا۔ بھئی متن سے پہلے متن کو جوڑیں۔ کہ یہ جو فقراء کا حق صورتِ شاہ سے ساقط ہوا ہے یہ نص کی وجہ سے ہوا ہے، تعلیل کی وجہ سے نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام فقراء کے رزقوں کا وعدہ فرمایا ہے۔ پھر اللہ نے ایک مقررہ مال یعنی بھیڑ بکری وغیرہ کو واجب کیا مالداروں پر لنفسہ کس کے لیے؟ اپنی ذات کے لیے واجب کیا۔ ثم امر بانجاز المواعد من ذٰلک المسمیٰ پھر اللہ نے حکم دیا ان وعدوں کو پورا کرنے کا اس مقررہ مال میں سے الذی اخذہ جو اللہ نے لیا ہے۔ الذی اخذہ کے بجائے الذی اوجبہ ہونا چاہیے بھئی، کیا ہونا چاہیے؟ بھئی دیکھیے وہ مقررہ مال اللہ نے جسے واجب کیا ہے۔ تو واجب کرنے سے ہی اللہ نے لے لیا ایسا نہیں ہے۔ اللہ نے واجب تو کیا ہے لیکن کیا صرف واجب کرنے سے ہی وہ رحمٰن کے ہاتھ میں واقع ہو گیا؟ چلا چلا گیا؟ نہیں، صرف واجب کرنے سے تو رحمٰن کے ہاتھ میں نہیں گیا۔ ہاں جب وہ ادا کرنے لگا ہے، جب وہ ادا کرنے لگا ہے وہ دے تو فقیر کو رہا ہے لیکن فقیر کے ہاتھ میں واقع ہونے سے پہلے وہ صدقہ کس کے ہاتھ میں چلا گیا؟ رحمٰن کے ہاتھ میں اور پھر وہاں سے کس طرف منتقل ہو گیا؟ فقیر کے ہاتھ میں منتقل ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں الذی اخذہ کے بجائے کیا مناسب ہے؟ الذی اوجبہ۔ تو اللہ نے وہ جس کو واجب کیا ہے وہ مقررہ مال اس کے ذریعے ان وعدوں کو پورا کرنے کا حکم دیا۔ معنیٰ سمجھ میں آیا کہ نہیں سمجھ میں آیا؟ ان کی تقریر سے تو یوں معلوم ہوا کہ اللہ نے وہ مال لے لیا اور پھر حکم دیا ہے اس مال کے ذریعے اب تم کیا کرو؟ میرے وعدوں کو پورا کرو یعنی میری طرف سے نائب بن کر کس کو دے دو؟ فقراء کو دے دو، کس کو دے دو؟ اس سے یہی معنیٰ سمجھ میں آیا نا؟ اللہ نے لے لیا ہے وہ مقررہ مال اور پھر حکم دیا ہے کہ اس کے ذریعے کیا کرو؟ متن پہ نظر رکھنا پھر یہ آپ کو جو اشکال میں ذکر کر رہا ہوں اور اس کا جواب سمجھ میں آئے گا۔ ثم امر بانجاز المواعد من ذٰلک المسمی الذی اخذہ پھر اللہ نے ان وعدوں کو پورا کرنے کا حکم دیا اس مقررہ مال میں سے جس کو اللہ نے لے لیا ہے، جس کو اللہ نے معلوم ہوا اللہ نے لے لیا ہے اور پھر ان اغنیا کو اپنی طرف سے کیا بنا دیا ہے؟ نائب بنا دیا ہے کہ اب اس کے ذریعے وعدے پورے کرو میری طرف سے اور یہ فقراء کو دو۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اس کا یہ معنیٰ نکلتا ہے اور حدیث وغیرہ کا ظاہر یہ بتلاتا ہے کہ صدقہ رحمٰن کی ہتھیلی میں واقع ہوتا ہے اس کا وہ مع وہ یہ بتلاتا ہے کہ جب انسان صدقہ دینے لگتا ہے عین اس وقت وہ صدقہ فقیر کے ہاتھ میں سے جانے سے پہلے کس کے ہاتھ میں واقع ہوتا ہے؟ رحمٰن کے ہاتھ میں واقع ہوتا ہے، تو یہ نائب بن کر نہیں دے رہا اللہ کی طرف سے جب دے رہا ہے، جب یہ دے گا تو پہلے وہ رحمٰن کے ہاتھ میں گیا اور پھر وہاں سے کس طرف منتقل ہوا؟ فقیر کے ہاتھ میں۔ تو لہٰذا یہاں کیا ہونا چاہیے؟ الذی اوجبہ۔ پھر اللہ نے حکم دیا ان وعدوں کو پورا کرنے کا اس مقررہ مال میں سے جو اللہ نے کہ جو مقررہ مال میں نے تم پر واجب کیا ہے اس کے ذریعے میرے وہ وعدے پورے کرو، کس کو دو؟ فقراء کو دو، فقراء کو دو۔ تو چنانچہ جب وہ دیتے ہیں وہ پہلے رحمٰن کے ہاتھ میں گیا اور پھر رحمٰن کے ہاتھ سے کس طرح منتقل ہوا؟ فقیر میں۔ تو گویا صورتاً تو امیر دے رہا ہے لیکن درحقیقت فقیر کو کون دے رہا ہے؟ رحمٰن ہی دے رہے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، آگے دیکھیے سبق بھئی: ورکنہ ما جعل علماً علی حکم النص۔ بھئی انہوں نے ذکر کیا تھا کہ قیاس کے اندر چھ چیزوں کا جاننا ضروری ہے تبھی قیاس آپ کا حجت بنے گا۔ آپ کو قیاس کے لغوی معنیٰ بھی آنے چاہئیں، شرعی تعریف بھی اس کی آنی چاہیے، شرط کا بھی پتہ ہو، رکن کا بھی، حکم کا بھی اور دفع کا بھی، تبھی آپ کے قیاس کی حفاظت ہو سکے گی۔ تو لغوی تعریف بھی گزر گئی، اصطلاحی تعریف بھی گزر گئی، شرائط کا بیان بھی ہو گیا، اب کس کا بیان آیا؟ رکن کا۔ تو کہتے ہیں ورکنہ اور اس قیاس کا رکن جو ہے ما وہ وصف ہے جعل علماً جس کو علامت بنایا گیا ہے۔ قیاس کا رکن کیا ہے؟ وہ وصف ہے جس کو علامت بنایا گیا ہے علی حکم النص نص کے حکم پر۔ جس کو کیا بنایا گیا ہے؟ علامت بنایا گیا ہے نص کے حکم پر بھئی، وہ وصف ہے۔ وھو المعنی الجامع المسمی علۃً اور وہ معنیٰ ہے۔ رکن ویسے میں نے رکن کیا ذکر کیا؟ وہ وصف ہے، وہی بیان کر رہے ہیں۔ وھو المعنی الجامع وہ رکن جو ہے وہ جامع معنیٰ ہے المسمی علۃً جس کو کیا کہتے ہیں؟ علت کہتے ہیں، قیاس کا رکن یعنی علت ہے۔ قیاس کا رکن کیا ہے؟ علت۔ تو وہ معنیٰ جو جامع ہے، جمع کرنے والا ہے کن کو جمع کرنے والا ہے؟ اصل اور فرع کو وہ علت دونوں میں پائی جاتی ہے نا، تو وہ علت جامع ہے کس کو اصل کو بھی اور فرع کو۔ تو رکن جو ہے وہ معنیٰ ہے، وہ وصف ہے جو جامع ہے، جمع کرنے والا ہے اصل اور فرع کو المسمی علۃً جس کو ہم کیا کہتے ہیں؟ علت کہتے ہیں۔ سماہ رکناً بھئی اس معنیٰ کو اس کو رکن کیوں کہا ماتن نے؟ کہتے ہیں ماتن نے اس کو رکن کہا لان مدار القیاس علیہ کیونکہ قیاس کا دارومدار علت پر ہے لا يقوم القیاس الا بہ قیاس حاصل نہیں ہو سکتا مگر اسی کے ذریعے، قیاس ہوگا ہی کس کے ذریعے؟ علت، علت ہوگی تو ایک اصل بنے گی، دوسرے فرع بنے گی اور پھر اصل کا حکم کس کی طرف منتقل ہوگا؟ فرع۔ تو علت نہیں تو پھر قیاس بھی نہیں، تو قیاس کا دارومدار کس پر ہے؟ علت پر، اس لیے اس کو رکن قرار دیا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ رکن وہ جس کے ذریعے کسی چیز کا وجود ہوتا ہے۔ جیسے بھئی، نماز، نماز کے ارکان کیا ہیں؟ وہ جو اس کے فرائض ہیں، قراۃ ہے، قیام ہے، رکوع ہے، سجدہ ہیں، یہ کیا ہے؟ ارکانِ صلاۃ ہیں۔ یہ ہیں تو نماز ہے، ان میں سے کوئی ایک بھی نہ پایا گیا تو نماز ہی نہیں۔ تو رکن کسے کہتے ہیں؟ جس کی وجہ سے شے ہوتی ہے بھئی، جس۔ تو یہاں بھی علت جو ہے اس کو رکن کہا کیونکہ اس پر قیاس کا دارومدار ہے۔ لا يقوم القياس إلا به قیاس حاصل نہ ہوتا مگر اسی کے ذریعے وسماه علما اور اس کو علم کہا کہ رکن قیاس کا وہ وصف، متن پر دیکھیے۔ بھئی، یہ متن تھا، وركنه ما جعل علما على حكم النص۔ اس پر لکیر لگی ہوئی ہے آپ کی کتابوں میں؟ یہ متن ہے، یاد رکھیے۔ وركنه ما جعل علما على حكم النص۔ اور رکن قیاس کا وہ وصف ہے جس کو علم بنایا گیا ہو، علامت بنایا گیا ہو نص کے حکم پر۔ بھئی، اس رکنِ قیاس یعنی علت کو علامت کیوں کہا ماتن نے؟ وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں، وسماه علما اور ماتن نے اس کو علم کہا، لأن علل الشرع أمارات ومعرفات للحكم وعلامة عليه، اس لیے کیونکہ شریعت کی جو علتیں ہیں أمارات وہ علامتیں ہیں ومعرفات اور پہچان کروانے والی ہیں للحكم کس کی؟ حکم کی۔ یہ جو علتیں ہیں یہ علامتیں ہوتی ہیں اور یہ حکم کی پہچان کرواتی ہیں وعلامة عليه اور اس حکم پر علامت ہوتی ہیں۔ والموجب الحقيقي هو الله تعالى اور اصل میں واجب کرنے والے کون ہیں حکم کو؟ بھئی دیکھیے، اصل میں تو حکم کو واجب کرنے والے اللہ تعالیٰ ہی ہیں لیکن یہ جو علت ہے یہ اس حکم کی پہچان کرواتی ہے۔ ہمیں کیا کرواتی ہے؟ پہچان کرواتی ہے کیونکہ اللہ کی طرف سے جو ایجاب ہے وہ تو ہمیں دکھائی آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا، اس کا ہمیں پتہ نہیں۔ تو یہ علت ہمیں پہچان کرواتی ہے جیسے آپ نے وہاں دیکھا بھئی، وہ گندم کے اندر اور پھر چاول کے اندر۔ اب چاول کے اندر بھی تفاضل حرام ہے، برابری کے ساتھ بیع کرنا پڑے گی۔ اس کا ہمیں ویسے تو پتہ نہیں چل سکتا تھا، اس حکم کا پتہ چاول میں ہمیں کس کے ذریعے چلا؟ علت کے ذریعے پتہ چلا، علت نے آکر ہمیں بتلایا کہ اللہ نے اس میں بھی برابری کے ساتھ بیع کو واجب قرار دیا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ علامت ہوتی ہے، علم کا معنی علامت بھئی۔ تو کہتے ہیں، یہ علامت ہوتی ہے حکم پر اگرچہ موجبِ حقیقی جو ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی ہیں، وإنما اختلفوا في أن ذلك المعنى علم على الحكم في الفرع فقط أم في الأصل أيضا۔ اچھا، یاد رکھیے، پھر اس کے اندر ہمارے علماء، فقہاء کا اختلاف ہے۔ فقہاء کا اختلاف۔ بھئی دیکھیے، قیاس کس کو کہتے ہیں؟ اصل کے جس کا حکم ہمیں معلوم تھا، ہم نے اس میں غور کیا کہ اس حکم کی علت کیا ہے۔ پھر وہی علت ہمیں فرع کے اندر ملی تو ہم نے وہی اصل والا حکم کس کو دے دیا؟ فرع کو دے دیا، یہ ہے قیاس بھئی۔ اب یہ علت اصل میں بھی موجود ہے اور فرع میں بھی موجود ہے اور جو حکم اس علت کی وجہ سے فرع میں لگایا گیا ہے، وہی حکم اصل کے اندر بھی موجود ہے۔ تو اس حکم کی نسبت فرع کے اندر، کس کے اندر؟ فرع میں بھئی یہ حکم کیوں، وہاں تو علت کی طرف ہی نسبت کی جائے گی کیونکہ اس کے بارے میں نص ہی نہیں۔ نص میں کوئی چاول کا ذکر تھا؟ نہیں، چاول کا ذکر نہیں تھا لیکن آپ نے کیا حکم لگایا؟ کہ چاول کی بیع بھی کمی بیشی کے ساتھ جائز نہیں۔ تو وہاں بھئی، حکم کا پتہ کس کے ذریعے چلا؟ علت۔ اس حکم کو ثابت کرنے والی کیا چیز ہے؟ علت ہے، فرع میں تو حکم کو ثابت کرنے والی علت ہی ہے۔ اصل کے اندر حکم کو ثابت کرنے والی کیا چیز ہے؟ تو یاد رکھیے، اس میں فقہاء کا اختلاف۔ بعض کہتے ہیں اصل کے اندر حکم کو ثابت کرنے والی چیز جو ہے وہ نص ہے کیونکہ جب نص وہاں موجود ہے تو حکم کی نسبت نص کی طرف کی جائے گی جو اعلیٰ ہے نہ کہ علت کی طرف جو کہ ادنیٰ ہے، جو آپ نے قیاس سے نکالی ہے بھئی۔ اور بعض فقہاء اس طرف گئے ہیں کہ یہ جو اصل میں بھی حکم کی نسبت علت ہی کی طرف کی جائے گی بھئی۔ اصل میں بھی حکم کی نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ کہ اصل کا یہ حکم کیوں ہے؟ شراب حرام کیوں ہے؟ وہ کہتے ہیں علت ہی کی طرف نسبت کی جائے گی کیونکہ اس میں نشہ ہے بھئی۔ اختلاف سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں، وإنما اختلفوا في أن ذلك المعنى علم على الحكم في الفرع فقط أم في الأصل أيضا اور اختلاف کیا علماء نے اس بات کے اندر کہ وہ معنی یعنی وہ علت علم وہ علامت ہے حکم پر في الفرع فقط صرف فرع کے اندر أم في الأصل أيضا یا اصل میں بھی وہ علامت ہے۔ والظاهر هو الأول اور ظاہر کیا ہے؟ اول ہی ہے، یعنی کون سا؟ جی؟ کہ وہ علامت ہے حکم پر صرف فرع میں۔ یہ ظاہر ہے بھئی کہ صرف فرع ہی میں حکم پر علامت ہے۔ على ما ذهب إليه مشايخ العراق بنابر اس کے جس کی طرف گئے ہیں عراق کے ہمارے مشائخ بھئی، لأن النص دليل قطعي اس لیے کیونکہ نص جو ہے وہ تو دلیلِ قطعی ہے، وإضافة الحكم إليه في الأصل أولى من إضافته إلى العلۃ اور حکم کی نسبت اس نص کی طرف کرنا اصل کے اندر یہ اولیٰ ہے اس حکم کی نسبت کرنے سے کس کی طرف؟ علت سے، علت کی طرف۔ وإنما أضيف في الفرع إليها اور یہ جو حکم کی نسبت کی گئی ہے فرع کے اندر کس کی طرف؟ إليها أي إلى العلۃ، فرع میں حکم کی نسبت کس کی طرف کی گئی ہے؟ علت کی طرف جو کی گئی ہے للضرورة یہ ضرورت کی وجہ سے ہے، حيث لم يوجد فيه النص اس حیثیت سے کہ فرع کے اندر نص موجود نہیں ہے بھئی۔ وقيل یہ دوسرا مذہب ذکر کیا۔ وقيل أضيف حكم الأصل والفرع جميعا إلى العلۃ کہ اصل اور فرع دونوں کے حکم کی نسبت کی جائے گی علت کی طرف، لأنه ما لم يكن لها تأثير في الأصل كيف تؤثر في الفرع اس لیے کیونکہ جب تک علت کی تاثیر اصل میں نہیں ہوگی تو پھر وہ فرع میں کیسے مؤثر ہوگی؟ یہ دوسرا مذہب ہے، یاد رکھیے! پہلا مذہب اس طرف گئے ہیں مشائخِ عراق بھئی اور دوسرا مذہب جو ہے، دوسرا قول اس طرف مشائخِ سمرقند اور جمہور اصولیین گئے ہیں، وہ کہتے ہیں، صرف فرع کے اندر حکم کی نسبت علت کی طرف نہیں کی جائے گی بلکہ اصل میں بھی حکم کی نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ علت۔ اس لیے کیونکہ اگر اصل کے اندر آپ حکم کی نسبت علت کی طرف نہیں کرتے، وہاں علت مؤثر نہیں مانتے حکم کے اندر تو جب اصل کے اندر علت حکم کے اندر مؤثر نہیں ہے تو فرع کے اندر وہ کیسے مؤثر بنے گی اور حکم کو ثابت کرے گی؟ معلوم ہوا اصل میں بھی حکم کو کس نے ثابت کیا ہے؟ علت ہی نے ثابت کیا ہے جس طرح کہ فرع کے اندر۔ مما اشتمل عليه النص۔ ان اوصاف میں سے جس پر نص مشتمل ہے۔ ان اوصاف میں سے جن پر نص مشتمل ہے۔ أي حال كون ذلك العلم مما اشتمل عليه النص۔ أي حال كون ذلك اس عبارت کے ذریعے شارح نے بتلا دیا کہ یہ مما اشتمل یہ کیا واقع ہو رہا ہے؟ یہ حال واقع ہو رہا ہے۔ حال واقع ہو رہا ہے ماقبل سے۔ یعنی اس اس وصف سے۔ کس طرح؟ معنی کس طرح ہوگا؟ دیکھیے متن، متن پہ نظر رکھیے، اوپر والے متن پہ پہلے نظر رکھیں۔ اور قیاس کا رکن وہ وصف ہے جس کو علامت بنایا گیا ہو نص کے حکم پر، اس حال میں کہ یہ وصف ان اوصاف میں سے ہے اشتمل عليه النص جس پر یہ نص مشتمل ہے یعنی یہ نص کے اندر ہی پایا جا رہا ہے یہ وصف۔ پھر یہ وصف یعنی نص کے اندر جو اوصاف پائے جا رہے ہیں ان میں سے جس وصف کو ہم نے علت کس کو بنایا؟ وصف کو بنایا نا، یہ وصف نص بھی اس وصف پر مشتمل ہے، نص کے اندر ہی یہ ذکر ہے۔ ہاں، کبھی کبھار صراحتاً ذکر ہوگا صیغے کے اعتبار سے ہی اور کبھی ضمناً ذکر ہوگا اس کے اندر بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یعنی کبھی صراحتاً نص اس پر مشتمل ہوگی اور کبھی ضمناً مشتمل ہوگی۔ تو کہتے ہیں، مما اشتمل عليه النص اس حال میں کہ یہ وصف ان اوصاف میں سے ہو اشتمل عليه النص جس پر وہ نص مشتمل ہو، أي حال كون ذلك العلم اس حال میں کہ وہ علامت جو ہے مما ان اوصاف میں سے ہے اشتمل عليه النص جس پر وہ نص مشتمل ہے، إما بصيغة یا تو صیغے کے اعتبار سے ہی مشتمل ہے، یعنی صیغے کے اعتبار سے ہی وہ وصف ذکر ہے نص کے اندر۔ إما بصيغة حال كون ذلك العلم مما اشتمل عليه النص إما بصيغة۔ بھئی، صيغة پر با ہے آپ کی کتابوں میں؟ با ہونی چاہیے بھئی، إما بصيغة بھئی۔ آگے اسی پر عطف ہے، أو بغير صيغة بھئی، اس کا عطف اسی پر ہے بھئی۔ إما بصيغة یا تو صیغے کے اعتبار سے ہی مشتمل ہے یعنی صیغے کے اعتبار سے ہی وہ وصف ذکر ہے نص کے اندر، كاشتمال نص الربا على الكيل والجنس جیسے کہ ربا کی نص مشتمل تھی کیل اور جنس پر، وہ نص کے اندر ہی ذکر تھا اس کا بھئی۔ أو بغير صيغة یا وہ نص مشتمل ہوگی اس وصف پر بغیر صیغے کے ہی، یعنی ضمناً ذکر ہوگا، كاشتمال نص النهي عن بيع الآبق على العجز عن التسليم۔ بھئی، یاد رکھیے! آبق، آبق کہتے ہیں بھاگنے والا یعنی بھگوڑا غلام۔ آبق کسے کہتے ہیں؟ بھگوڑا غلام۔ بھگوڑے غلام کی بیع سے منع کیا گیا ہے بھئی۔ حدیث میں بھگوڑے غلام کی بیع سے منع کیا گیا ہے۔ وجہ؟ وجہ تو حدیث میں ذکر نہیں لیکن ضمناً ہے، حدیث اس پر مشتمل ہے، ضمن میں آ گیا۔ وجہ اس کی یہ کہ جہاں بیع ہوتی ہے بائع اور مشتری پھر دونوں بدلین ایک دوسرے کے سپرد کرتے ہیں اور یہاں پر جو بیچنے والا ہے وہ دوسرا جب اس سے کہے گا بھئی، غلام تو میں نے آپ سے خرید لیا، اب لاؤ میرے سپرد کرو وہ غلام۔ اب یہ اس کے سپرد کرنے پر قادر ہی نہیں کیونکہ غلام تو بھاگا ہوا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں نص اس وصف پر مشتمل ہے، صیغے کے اعتبار سے نہیں بلکہ ضمناً اس نص کے اندر یہ بات گویا موجود ہے۔ كاشتمال نص النهي عن بيع الآبق جیسے کہ بھگوڑے غلام کی بیع سے نہی کی نص مشتمل ہے، على العجز عن التسليم سپرد کرنے سے عجز پر کہ یہاں سپرد کرنے سے وہ عاجز ہوگا، اس لیے اسے منع کیا گیا ہے، تو یہ علت اس کے اندر موجود ہے۔ وجعل الفرع نظيرا له۔ بھئی، وہی رکن کی تفصیل بیان ہو رہی ہے، اس کی تعریف ہو رہی ہے رکن کی۔ کیا تعریف تھی بھئی؟ متن کو پھر متن کے ساتھ جوڑِیے۔ قیاس کا رکن وہ وصف ہے جس کو علامت بنایا گیا ہو نص کے حکم پر، وجعل الفرع نظيرا له اور وہ وصف جو ہے فرع کو نظیر بنا دے لہُ کس کی؟ ایسا وصف ہو جو فرع کو اصل کی نظیر بنا دے، في حكمه اس کے حکم میں، تو یہ جو ہے في حكمه، یاد رکھیے، یہ بھی متن ہے۔ سبق کی طرف توجہ ہے بھئی؟ وجعل الفرع نظيرا له اور وہ وصف جو ہے جس کو علامت بنایا گیا ہے نص کے حکم پر، وہ وصف جعل الفرع نظيرا له وہ کیا کرے؟ فرع کو اصل کی نظیر بنا دے في حكمه أي في حكم النص کس کے اندر؟ نص کے حکم کے اندر فرع کو بھی اصل کی نظیر بنا دے۔ میں نے بتلایا یہ في حكمه، یہ بھی متن ہے بھئی، لوجوده بوجہ اس معنی کے پائے جانے کے۔ ہا ضمیر کس کو راجع؟ اس معنی کو بھئی، جس کی تفصیل بیان ہو رہی ہے۔ بوجہ اس معنی کے پائے جانے کے، فيه أي في الفرع کس کے اندر؟ فرع کے اندر۔ وجعل، دوبارہ متن پہ نظر رکھیے بھئی، تو بلکہ پوری تعریف دیکھیے۔ قیاس کے رکن بیان ہو رہا ہے وركنه اور قیاس کا رکن ما وہ وصف ہے جعل علما على حكم النص جس کو نص کے حکم پر علامت بنایا گیا ہو وجعل الفرع نظيرا له اور وہ وصف جو فرع کو اصل کی نظیر بنا دے في حكمه نص کے حکم میں لوجوده فيه بوجہ اپنے پائے جانے کے فرع کے اندر۔ بوجہ فرع کے اندر اپنے پائے جانے کے، کیونکہ یہ فرع میں پایا جاتا ہے اس لیے یہ فرع کو کیا کر دیتا ہے؟ اصل کی نظیر بنا دیتا ہے حکم کے اندر بھئی۔ أي وجود ذلك المعنى، متن میں کیا آیا؟ لوجوده شارح کیا بتلا رہے ہیں؟ وجود ذلك المعنى، ہا ضمیر اس معنی کو راجع ہے۔ متن میں آیا ہے فيه، شرح میں کہہ رہے ہیں في الفرع، ہا ضمیر کس کو راجع؟ فرع کو۔ بوجہ اس معنی کے پائے جانے کے فرع کے اندر، یعنی وہ معنی فرع کو اصل کی نظیر بنا دیتا ہے اس لیے کیونکہ وہ معنی خود کس کے اندر پایا جا رہا ہے؟ فرع کے اندر بھی پایا جا رہا ہے، جو کس کے اندر پایا جا رہا تھا؟ اصل کے اندر تو اس کو حکم کی علامت بنایا گیا تھا اور یہی وصف پھر فرع کو کیا کر دیتا ہے؟ اصل کی نظیر بنا دیتا ہے بھئی۔ تعریف سمجھ میں آ گئی بھئی رکن کی؟ رکن وہ وصف ہے جس کو اصل میں حکم کی علامت بنایا گیا ہے اور وہ وصف جو فرع کو اصل کی نظیر بنا دیتا ہے، اس وجہ سے کیونکہ وہ خود کس کے اندر پایا جاتا ہے؟ فرع کے اندر پایا جاتا ہے، تو اس فرع کو اصل کی طرح بنا دیتا ہے۔ ويفهم من هاهنا اور یہاں سے یہ بات سمجھ میں آئی، یہ بات مفہوم ہوئی، أن أركان القياس أربعة کہ ارکانِ قیاس چار ہیں۔ قیاس کے ارکان کتنے ہیں؟ چار، یہ چار چیزیں ہوں گی تو قیاس ہوگا، ان میں سے کوئی ایک بھی نہ پائی گئی تو قیاس ہی نہیں ہو سکتا۔ وہ چار کیا ہیں؟ الأصل والفرع والعلة والحكم اصل ہے، فرع ہے، علت ہے اور حکم ہے۔ وہ جو اصل کا حکم ہے اس کی بات ہو رہی ہے، یاد رکھنا۔ یہ چوتھی چیز جو ہے حکم، سے کون سا حکم مراد ہے؟ جو اصل میں پایا جا رہا ہے، فرع والا حکم نہیں، فرع والا حکم تو قیاس کا نتیجہ ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ارکانِ قیاس کتنی چیزیں ہیں؟ چار: اصل، فرع، علت اور وہ جو اصل کا حکم ہے۔ بھئی، ماتن نے تو کہا تھا وركنه مفرد کا لفظ لے کر آئے۔ اور کس کو قرار دیا؟ ما جعل علما وہ وصف ہے جس کو علامت بنایا گیا ہے یعنی وہ علت ہے، یعنی وہ علت ہے۔ تو انہوں نے تو صرف علت ذکر کی، کہتے ہیں، وإن كان أصل الركن هو العلة اگرچہ اصلِ رکن وہ علت ہی ہے بھئی، یہ علت ہوگی تو ایک چیز اصل بنے گی، دوسری فرع بنے گی اور حکم متعدی ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اصلِ رکن کیا ہے؟ علت ہی ہے بھئی، اس لیے انہوں نے اصلِ رکن کو ذکر کیا ورنہ درحقیقت کتنے ارکان ہیں؟ چار ارکان ہیں قیاس کے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ قیاس کا رکن کیا بیان ہوا؟ ركنه ما ركنه قیاس کا رکن وہ وصف ہے۔ وصف ہے۔ بھئی، معنی کو اور واضح کرنے کے لیے وصف کی جگہ آپ علت کا لفظ ہی لے آئیں۔ کیا لے آئیں؟ قیاس کا رکن وہ علت ہے جس کو نص کے حکم کی علامت بنایا گیا ہے اور یہ علت جو ہے، یہ فرع کو اصل کی نظیر بنا دیتی ہے اس لیے کیونکہ یہ خود اس فرع میں پائی جاتی ہے۔ ...توقیاس یہ فرع کو بھی اصل کی نظیر بنا دیتی ہے۔ اچھا بھئی! سبق کا خلاصہ پھر سن لیجیے۔ سبق کا خلاصہ یہ ہوا کہ سبق کے شروع میں سب سے پہلے مصنف نے ایک اعتراض کا جواب دیا۔ اعتراض یہ ہوتا تھا احناف پر کہ اے احناف! آپ نے قیاس کی شرائط میں چوتھی شرط یہ ذکر کی کہ تعلیل کی وجہ سے، یعنی قیاس کی وجہ سے، اصل کے حکم میں کوئی تبدیلی نہیں آنی چاہیے۔ اور آپ نے تعلیل کی، اور اس تعلیل کی وجہ سے اصل کے حکم میں تبدیلی آ گئی کہ حدیث میں آیا ہے: "فِی خَمْسٍ مِّنَ الْإِبِلِ شَاةٌ"، پانچ اونٹوں کے اندر ایک بھیڑ، بکری واجب ہے بطورِ زکوٰۃ کے۔ آپ نے اس کی تعلیل کی، علت نکالی، اور بتلایا کہ اس سے جو بھیڑ، بکری ہے اس کے ذریعے فقیر کی حاجت پوری ہو گی، اس لیے اس کے ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ اور جب اس بھیڑ، بکری کے ذریعے چونکہ فقیر کی حاجت پوری ہوتی ہے تو ہر وہ چیز دینا جائز ہے جس کے ذریعے فقیر کی حاجت پوری ہو، اور قیمت بھی اسی طرح ہے۔ لہٰذا، صرف بھیڑ، بکری دینا واجب نہیں ہے بلکہ اس کی قیمت بھی دے سکتے ہیں۔ تو آپ نے وہ جو شاة کی قید تھی، حدیث میں تو صرف شاة کا ذکر تھا کہ وہ دے سکتے ہیں، آپ نے تعلیل کے ذریعے اس قید کو باطل کر دیا۔ تو جواب دیا مصنف نے کہ بھئی، یہ ہم نے تعلیل کی وجہ سے اس قید کو باطل نہیں کیا بلکہ اس قید کو باطل کرنے پر نص نے ہی دلالت کی، اور وہ اس طریقے پر کہ اللہ تعالیٰ نے سب لوگوں، سب کے رزق کا وعدہ فرمایا ہے، تو فقراء کے بھی رزق کا اس میں وعدہ آ گیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا"، زمین پر چلنے والا کوئی جاندار نہیں مگر اللہ ہی کے ذمہ ہے اس کا رزق۔ تو اللہ نے ہر ایک کے رزق کا وعدہ فرما لیا۔ اس میں اغنیا بھی آ گئے، اس میں فقراء بھی آ گئے۔ اغنیا کو تو رزق کے لیے اسباب اللہ نے تجارت، زراعت وغیرہ نصیب فرما دیے۔ جبکہ فقراء کے لیے، جبکہ فقراء کے لیے اللہ تعالیٰ نے اغنیا کے مال کے اندر ایک مقررہ حصہ مقرر فرما دیا اپنے لیے۔ وہ حصہ اللہ نے اولاً اپنے لیے مقرر فرمایا، اور پھر حکم دیا کہ میرے ان رزق کے وعدوں کو پورا کرو، یعنی فقراء اور مساکین کو یہ رزق دے دو، یہ مال دے دو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اللہ نے حکم دیا: "إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ" کے ذریعے، تو اللہ نے اپنے لیے حصہ مقرر فرمایا، اور پھر اس حصے کے ذریعے وعدوں کو پورا کرنے کا حکم دیا۔ یہ اللہ نے اس لیے کیا تاکہ یہ لوگ یہ نہ کہیں کہ فقراء کو امیروں نے مال دیا ہے، اللہ نے نہیں دیا، اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ تو دراصل یہ بظاہر دے تو مالدار رہے ہیں، لیکن درحقیقت دینے والے کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ ہی ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چنانچہ، اسی لیے روایات سے جیسا کہ معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ جو ہے فقیر کے ہاتھ میں واقع ہونے سے پہلے رحمان کے ہاتھ میں واقع ہوتا ہے۔ تو اللہ نے ان وعدوں کو، اس مال کے ذریعے ان وعدوں کو پورا کرنے کا حکم دیا، اور یہ بھیڑ اور بکری جو ہے، یہ جو مقررہ مال ہے، یہ تو ان سب وعدوں کو پورا کرنے کا احتمال نہیں رکھتا، کیونکہ اس بھیڑ یا بکری کے ذریعے تو صرف سالن کی ضرورت پوری ہو گی، حالانکہ رزق کے وعدے کے اندر روٹی کا بھی وعدہ ہے، سالن کا بھی وعدہ ہے، لکڑی کا بھی وعدہ ہے، لباس کا بھی وعدہ ہے، ساری ضروریات کے وعدے ہیں۔ تو لہٰذا، جب اس کے ذریعے پورے نہیں ہو سکتے تو یہ جو اللہ نے حکم دیا تھا کہ ان فقراء کے، کو میرے ان وعدوں کو پورا کرو اس مال کے ذریعے، کس کے ذریعے؟ تو اس مال کے ذریعے میرے وعدوں کو پورا کرو، تو یہ حکم دینا، اس حکم دینے نے، اس حکم نے دلالت کر دی اس بات پر کہ بھیڑ، بکری کے بجائے ان کی قیمت بھی دے سکتے ہیں۔ اس نے دلالت کر دی اور بھیڑ، بکری کو قیمت کے ساتھ بدلا جا سکتا ہے بھئی۔ یہاں تک تقریر سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اس پر پھر اشکال ذکر ہوا تھا کہ یہ تو آپ اس صورت میں دلالت بناتے اگر فقراء کا رزق صرف اس بھیڑ، بکری میں بند ہوتا۔ ان کے تو رزق کے اور بھی صورتیں اللہ نے بنائی ہیں بھئی۔ ان کو صدقہ فطر کے ذریعے بھی چیزیں مل جاتی ہیں، ان کو کفارہ یمین کے اندر بھی چیزیں مل جاتی ہیں، ان کو غنیمت کے اندر بھی چیزیں مل جاتی ہیں، ان کو عشر کے ذریعے بھی چیزیں مل جاتی ہیں، تو باقی ضرورتیں ان سے بھی تو پوری ہو سکتی تھیں۔ لہٰذا، آپ کا اس امر بالانجاز کو دلالت بنانا استبدال پر، یہ صحیح نہیں۔ تو جواب دیا اس کا مصنف نے تفصیلاً کہ بھئی، اصل فقیر کی جو حاجتیں پوری ہوں گی وہ زکوٰۃ کے ذریعے ہی ہوں گی، باقی چیزیں بہت کم ہیں بھئی زکوٰۃ کے مقابلے میں۔ زکوٰۃ دینے والے تو ہر بستی، ہر گاؤں میں موجود ہیں، تو ساری ضرورتیں اسی کے ذریعے دراصل پوری ہوں گی، اور جب اسی کے ذریعے پوری ہونی ہیں تو پھر صرف بھیڑ، بکری سے تو سالن کی ضرورت پوری ہو گی، باقی ضرورتیں پوری نہیں ہوں گی۔ لہٰذا، جب یہ حکم اللہ نے دے دیا ان وعدوں کو پورا کرو، یہ مال فقراء کو دو، تو اس میں گویا اس میں اجازت آ گئی کہ اس کی قیمت بھی ادا کی جا سکتی ہے تاکہ وہ اپنی باقی ضرورتوں کو بھی پورا کر لیں بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس کے بعد قیاس کے رکن کی تعریف کی، یعنی قیاس کا رکن کیا چیز ہے؟ وہ علت ہے، تو بتلایا علت ایک وصف ہوتا ہے، تو بتلایا رکن قیاس کا وہ وصف ہے جو نص کے حکم پر علامت ہوا کرتا ہے، اس حال میں کہ نص اس وصف پر مشتمل ہوتی ہے، نص کے اندر ہی وہ ذکر ہوتا ہے، کبھی صراحتًا، کبھی ضمنًا، اور یہ جو علت ہوتی ہے یہ اس فرع کو اصل کی نظیر بنا دیتی ہے اس نص کے حکم کے اندر، بوجہِ خود اس فرع کے اندر پائے جانے کے، کیونکہ یہ علت کس میں موجود ہوتی ہے؟ فرع میں۔ تو مثلاً بھئی، شراب ہے، شراب کا حکم کیا ہے؟ حرام ہے۔ اور علت اس کی کیا ہے؟ نشہ ہے۔ تو یہ جو نشے کی علت ہے شراب کے اندر، یہ نشہ یہ علامت ہے اس کے حرام ہونے کی۔ یہ حکم کیا ہے؟ حرام ہونا۔ تو یہ حرام ہونے کی علامت ہے بھئی، اس کو اس نشے کو اس حکم، یعنی حرام ہونے پر علامت بنایا گیا ہے بھئی۔ علامت کے لیے جیسے کسی چیز کا پتہ چلتا ہے اسی طرح اس نشے کے ذریعے بھی کس کا پتہ چل رہا ہے؟ اس کی حرمت کا پتہ چل رہا ہے، یہ اس پر علامت ہے بھئی اس حکم پر۔ اور یہ نص کے، نص اس حال میں کہ نص اس وصف پر مشتمل ہوتی ہے، اس کے اندر کبھی صیغے کے اعتبار سے ہی ہوتا ہے یہ وصف، اور کبھی بغیر صیغے کے ضمنًا وصف اس کے اندر ہوتا ہے، اور یہ وصف جو ہے یہ فرع کو اصل کی نظیر بنا دیتا ہے۔ جیسے یہی وصف ہمیں نشے کا بھنگ کے اندر ملا تو اس پر بھی ہم نے کیا حکم لگا دیا؟ حرام ہونے کا۔ تو دیکھو، اس علت نے، اس وصف نے، یعنی نشہ آور ہونے نے اس نے فرع کو کس کے مثل بنا دیا؟ اصل یعنی شراب کے مثل بنا دیا، کس چیز کے اندر؟ حرام ہونے کے اندر کہ وہ حکم اب اس پر بھی آ گیا۔ یہ حرام ہونے کا حکم بھنگ پر کیوں لگایا گیا؟ نشہ آور ہونے کی وجہ سے۔ تو دیکھو، یہ نشہ آور ہونا، یہ اس علت نے، اس بھنگ یعنی فرع کو بھی اصل یعنی شراب کی نظیر بنا دیا، کیونکہ یہ اس فرع کے اندر پائی جا رہی ہے۔ تو یہ، یہ ساری تعریف تھی اس رکن کی، کیا تعریف ہوئی رکن کی؟ کہ رکن وہ وصف ہوتا ہے، یعنی وہ علت ہوتی ہے جس کو نص کے حکم پر علامت بنایا گیا ہوتا ہے، نص اس پر مشتمل ہوتی ہے، اور یہ علت فرع کو اصل کی نظیر بنا دیتی ہے اس اصل کے حکم کے اندر، اس وجہ سے کہ کیونکہ یہ علت اس فرع کے اندر پائی جاتی ہے۔ یہ ساری کیا کی رکن کی؟ تعریف کی بھئی، تعریف کی۔ تو لہٰذا، اس علت کو رکن بھی کہا اور علامت بھی کہا۔ رکن، علامت کیوں کہا؟ یہ تو میں نے بیان کر دیا۔ کیونکہ یہ علامت ہے، جیسے علامت کے ذریعے چیز کا پتہ چلتا ہے، اس کی پہچان ہوتی ہے، تو یہ جو شرعی علتیں ہیں یہ بھی پہچان کرواتی ہیں شرعی احکام کی۔ سمجھ میں آیا؟ اصل میں تو حکم دینے والے، چیز اس واجب کرنے والے وہ اللہ تعالیٰ ہیں۔ یہاں پر جیسے حرام کرنے والے اللہ تعالیٰ ہیں، لیکن پہچان ہمیں کس کے ذریعے ہوئی ہے؟ اس علت کے ذریعے، تو اس لیے اس کو علامت کہتے ہیں۔ اور اس کو رکن بھی کہا ماتن نے بھئی، رکنِ قیاس قرار دیا۔ رکن اس لیے کہ رکن وہ چیز ہے جس پر کسی چیز کا دارومدار ہو، رکن ہے تو وہ چیز ہے، رکن نہیں تو وہ چیز بھی نہیں۔ تو جیسے نماز کے ارکان میں نے ذکر کیا، رکوع ہے، سجدہ ہے، قراءت ہے، قیام ہے، جو فرائض ہیں، یہ نماز کے ارکان ہیں، رکن ہے تو چیز ہے، رکن نہیں تو چیز بھی نہیں، یہ ارکانِ صلاۃ ہیں تو نماز ہے، ان میں سے کوئی ایک بھی نہ پایا گیا تو نماز ہی نہیں ہو گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اس لیے اس کو رکن بھی کہا کیونکہ اس پر قیاس کا دارومدار ہے۔ یہ ہو گی علت تو پھر ایک اصل بنے گی، دوسری فرع بنے گی، اور پھر حکم متعدی ہو گا فرع کی طرف، تو قیاس کا دارومدار ہی اس پر ہے اس لیے اس کو رکن کہا۔ پھر بیچ میں درمیان میں یہ بھی ذکر کیا کہ یہ حکم ایک حکم ہے اصل کے اندر، ایک حکم ہے فرع کے اندر، فرع کے اندر جو حکم ہے اس کی نسبت تو علت کی طرف کی جائے گی بالاتفاق، کس کی طرف؟ اگر کوئی پوچھے: بھنگ حرام کیوں؟ آپ فوراً کیا کہیں گے؟ کیونکہ وہ نشہ آور ہے بھئی، وہ کیا ہے؟ وہ تو فرع کے اندر تو حکم کی نسبت علت ہی کی طرف کی جاتی ہے، وجہ اس کی یہ کہ فرع کے اندر نص ہی نہیں ہے۔ جبکہ اصل کے اندر تو نص بھی ہے، اور اصل کے اندر تو وہ علت بھی ہے، تو اب اصل میں حکم کی نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ کہا جائے: شراب حرام ہے، تو کیا کہیں گے؟ نص کی وجہ سے حرام ہے، یا کہیں گے نشے کی وجہ سے حرام ہے؟ کس کی طرف نسبت کریں گے؟ تو بتلایا کہ اس میں ہمارے فقہاء کا اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ نص کی طرف نسبت کریں گے، جب کہا جائے: شراب حرام ہے، کیوں حرام ہے؟ تو کیا کہیں گے؟ نص کی وجہ سے کہ اللہ نے اس کو نص میں آیا ہے اس کے حرام ہونے کا ذکر۔ جو نص قوی ہے اور وہ جو علت ہے وہ قیاس کے ذریعے نکالی وہ ضعیف ہے، تو قوی کے ہوتے ہوئے ضعیف کی طرف نسبت کرنے کی ضرورت نہیں۔ جبکہ دوسرا گروہ فقہاء کا اور جمہور اصولیین کا، وہ کہتے ہیں کہ اصل کے اندر بھی حکم کی نسبت علت کی طرف کی جائے گی۔ شراب حرام ہے، کیوں حرام ہے؟ کیونکہ یہ نشہ آور۔ وجہ یہ، وہ کہتے ہیں کہ اگر اصل کے اندر علت مؤثر نہیں، حکم کی نسبت علت کی طرف نہیں، جب اصل کے اندر، جب اصل کے اندر علت مؤثر نہیں تو پھر فرع میں وہ کیسے اپنا اثر دکھائے گی؟ تو لہٰذا، ضروری ہوا کہ اصل کے اندر بھی حکم کی نسبت کس کی طرف کی جائے؟ علت کی طرف کی جائے جیسے کہ فرع کے اندر حکم کی نسبت علت کی طرف کی جاتی ہے۔ اور پھر اس کے بعد شارح نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ اس پوری بحث سے آپ کو پتہ چل گیا کہ ارکانِ قیاس جو ہیں وہ چار ہیں: اصل، فرع، علت، اور حکم۔ حکم سے کون سا حکم مراد میں نے بتلایا؟ اصل کا حکم، فرع کا حکم نہیں، کیونکہ فرع کا حکم تو قیاس کا نتیجہ ہے۔ تو لہٰذا، قیاس کے ارکان چار ہیں: اصل، فرع، علت، اور اصل کا حکم بھئی، اصل کا... لیکن مصنف نے رکن جو ہے صرف علت کو کہا، وجہ یہ کہ وہ اصلِ علت ہے بھئی، وہ اصلِ رکن ہے، وہ سارا دارومدار ہی اس پر ہے، علت ہو گی تو ایک اصل بنے گی، پھر ایک دوسری چیز فرع بنے گی، اور پھر وہ اصل والا حکم متعدی ہو گا کس کی طرف؟ فرع کی طرف۔ تو یہ وہ چونکہ اصلِ رکن ہے اس لیے اس کو ذکر کیا انہوں نے متن میں بھئی۔ چلیے، بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔
84 approved lectures · 62 of 84