درس نمبر۔78
وَقِيلَ الْأَمْرُ بِالشَّيْءِ هَذَا وَجْهٌ ثَامِنٌ مِنَ الْوُجُوهِ الْفَاسِدَةِ، وَفِيهِ اخْتِلَافٌ كَثِيرٌ، فَقِيلَ: لَا حُكْمَ لِلْأَمْرِ وَالنَّهْيِ فِي ضِدِّهِمَا أَصْلًا، وَقِيلَ: لَهُ حُكْمٌ فِيهِ.
اب یہاں سے آپ کو بتلائیں گے نئی بحث، کہ جب کسی چیز کا حکم دیا ہو شریعت نے، شریعت نے تو ایک چیز کے کرنے کا حکم دیا ہے، تو کیا یہ اس کی ضد سے روکنے کا حکم ہوگا یا نہیں بھئی؟ ایک چیز کے شریعت نے کرنے کا حکم دیا ہے، تو کیا یہ اس کی ضد سے روکنے کا حکم ہوگا یا روکنے کا حکم نہیں ہوگا؟
مثلاً شریعت نے حکم دیا ہے نماز میں پاک جگہ پر سجدہ کرنے کا، تو حکم دیا ہے پاک جگہ پر سجدہ کرنے کا، تو اس کی ضد کیا ہے؟ ناپاک جگہ پر سجدہ کرنا، تو کیا اس سے یہ نہی، اس کو شمار کریں گے یا شمار نہیں کریں گے؟ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ ایک چیز کا جب حکم دیا گیا ہو تو کیا یہ اس کی ضد سے نہی اس کو شمار کیا جائے گا یا نہی شمار نہیں کیا جائے گا؟
یا اسی طرح شریعت نے ایک چیز سے روکا ہو، نہی کی ہو، تو کیا یہ جو ایک چیز سے روکا گیا ہے، کیا یہ اس کی ضد کا حکم ہوگا یا حکم نہیں؟ چیز سے روکا گیا ہے، جب اس چیز سے روکا گیا ہے تو کیا اس کی ضد کا حکم ہوگا، اسے شمار کریں گے یا حکم شمار نہیں کریں گے؟ یہ بحث ہوگی بھئی، یہاں خلاصہ سمجھ میں آگیا بھئی؟
کہتے ہیں وَقِيلَ الْأَمْرُ بِالشَّيْءِ، اور کہا گیا ہے کسی چیز کا حکم جو ہے هَذَا وَجْهٌ ثَامِنٌ مِنَ الْوُجُوهِ الْفَاسِدَةِ، یہ آٹھویں وجہ ہے وجوہِ فاسدہ میں سے، وَفِيهِ اخْتِلَافٌ كَثِيرٌ، اور اس میں بہت اختلاف ہے، فَقِيلَ لَا حُكْمَ لِلْأَمْرِ وَالنَّهْيِ فِي ضِدِّهِمَا أَصْلًا، پس کہا گیا ہے کہ کوئی حکم نہیں ہے امر اور نہی کا ان کی ضد کے اندر سرے سے۔
ایک چیز کا حکم دیا گیا ہے تو اس کی ضد میں کوئی حکم نہیں آئے گا، یعنی اس میں اس کے چھوڑنے کا حکم نہیں آئے گا۔ اور ایک چیز سے روکا گیا ہے تو اس کی ضد کے یہ کرنے کا حکم نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے کہ امر اور نہی جو ہے، ان کا ان کی ضد میں کوئی حکم نہیں ہے۔
وَقِيلَ، اور کہا گیا ہے، لَهُ حُكْمٌ فِيهِ، کہ ان کا اس میں حکم ہے، وَهُوَ، اور وہ یہ، أَنَّ الْأَمْرَ بِالشَّيْءِ، کہ کسی چیز کا حکم جو ہے، يَقْتَضِي النَّهْيَ عَنْ ضِدِّهِ، یہ تقاضا کرتا ہے اس کی ضد سے نہی کا، روکنے کا، وَالنَّهْيُ عَنِ الشَّيْءِ، اور اسی طرح کسی چیز سے روکنا، يَكُونُ أَمْرًا بِضِدِّهِ، یہ حکم ہے اس کی ضد کا۔
فَيَدُلُّ الْأَمْرُ عَلَى تَحْرِيمِ ضِدِّهِ، پس حکم، امر جو ہے وہ دلالت کرے گا اپنی ضد کے حرام کرنے پر، وَالنَّهْيُ عَلَى وُجُوبِ ضِدِّهِ، اور نہی جو ہے وہ دلالت کرے گی اپنی ضد کے واجب ہونے پر، فَإِنْ كَانَ لَهُ ضِدٌّ وَاحِدٌ فَبِهَا، پس اگر اس کی ایک ہی ضد ہو۔ بھئی اس امر یا نہی، ایک ہی ضد ہے اگر، تو پھر تو کہتے ہیں فَبِهَا اچھی بات ہے۔
مثلاً جیسے ایمان کا حکم دیا گیا۔ کس کا حکم دیا گیا؟ ایمان کا، تو ایمان کا حکم دیا گیا، تو اس حکمِ ایمان کا ہے، لیکن اسی سے کفر کی حرمت بھی ثابت ہو جائے گی۔ حکم کس چیز کا دیا جا رہا ہے؟ ایمان کا، اور اس ایمان کی ضد کیا ہے؟ کفر، تو اس کی ضد کیا ہو جائے گی؟ حرام بھئی، اسی حکم سے ہی۔ جس سے ایمان کے وجوب کا پتہ چل رہا ہے، اسی حکم سے کفر کے حرام ہونے کا پتہ چل رہا ہے۔
اور جیسے کفر سے روکا گیا ہے، کیا کیا گیا ہے؟ تو جس، جہاں کفر سے روکا گیا ہے، کفر سے نہی آئی، اور کفر کی ایک ہی ضد ہے، کیا چیز؟ ایمان، تو ایمان کیا ہوگا؟ واجب ہوگا، وہ اسی نہی سے پتہ چل جائے گا جو کفر سے نہی آئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو کہتے ہیں فَإِنْ كَانَ لَهُ ضِدٌّ وَاحِدٌ فَبِهَا، اگر اس کی ایک ہی ضد ہو تو اچھی بات ہے، وَإِنْ كَانَتْ لَهُ أَضْدَادٌ كَثِيرَةٌ، اور اگر اس کی بہت سی ضدیں ہوں، فَفِي الْأَمْرِ يَحْرُمُ جَمِيعُ أَضْدَادِهِ، تو امر کے اندر اس کی ساری ضدیں حرام ہو جائیں گی۔ امر تو آیا وجوب کے لیے، لیکن یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس کی ضد کیا ہونی چاہیے؟ حرام، تو ساری ضدیں حرام ہوں گی۔
وَفِي النَّهْيِ، اور نہی میں کیا کیا جاتا ہے؟ روکا جاتا ہے، تو اس کی جتنی اضداد ہیں، کیا وہ ساری واجب ہوں گی؟ کہتے ہیں نہیں، ان میں سے کسی ایک پر، کوئی ایک غیر متعین کیا ہوگی؟ اس پر عمل ضروری ہوگا، وہ واجب ہوگی۔ وَفِي النَّهْيِ يَكْفِي لَهُ الْإِتْيَانُ بِوَاحِدٍ مِنَ الْأَضْدَادِ غَيْرِ مُعَيَّنٍ، اور نہی کے اندر کافی ہے لانا کسی ایک کو بھی ان کی ضدوں میں سے، اس حال غیر متعین، اس حال میں کہ وہ غیر متعین ہو۔ کسی ایک ضدوں میں سے کسی ایک کو لانا یعنی اس پر عمل کرنا کافی ہوگا۔
وَهَذَا هُوَ مُخْتَارُ الْجَصَّاصِ، اور یہ مختار ہے، یہ کس کا؟ امام جصاص کا۔ یہ ان کے نزدیک ہے بھئی۔ وَعِنْدَنَا، اور ہمارے نزدیک، وَعِنْدَنَا الْأَمْرُ بِالشَّيْءِ يَقْتَضِي كَرَاهَةَ ضِدِّهِ، ہمارے نزدیک کسی چیز کا حکم یہ تقاضا کرتا ہے، کسی چیز کا امر یہ تقاضا کرتا ہے اس کی ضد کے مکروہ ہونے کا، یعنی وہ مکروہِ تحریمی ہوگی بھئی۔
وَالنَّهْيُ عَنِ الشَّيْءِ يَقْتَضِي أَنْ يَكُونَ ضِدُّهُ فِي مَعْنَى سُنَّةٍ وَاجِبَةٍ، اور کسی چیز سے جو نہی آئے، یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس کی ضد کس معنی میں ہو؟ سنتِ واجبہ، سنتِ واجبہ کا یہ معنی لکھتے ہیں بھئی، سنتِ مؤکدہ۔ سنتِ مؤکدہ کے معنی میں ہے بھئی، سنتِ مؤکدہ کے معنی میں۔
انہوں نے کہا بھئی سنتِ مؤکدہ کے معنی میں ہے، یہ نہیں کہ وہ سنتِ مؤکدہ ہے، بلکہ سنتِ مؤکدہ کے معنی میں ہے، کیونکہ سنت تو وہ ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل کو بھئی کیا کہیں گے؟ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے بھئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
اور یہاں کس سے ہم نکال رہے ہیں اس کا سنتِ مؤکدہ ہونا؟ ایک چیز کے بارے میں نہی آئی ہے، ہم اس کی ضد کو کس درجے میں لیتے ہیں؟ سنتِ مؤکدہ کے معنی میں لیتے ہیں، سنتِ مؤکدہ نہیں، کیونکہ سنتِ مؤکدہ، وہ تو وہ ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو، اور اس کا ثبوت نقل کے ذریعے ہوگا، اور یہ تو ہم کس کے ذریعے کر رہے ہیں؟ عقل کے ذریعے، تو سنت کا ثبوت نقل سے ہے کہ حدیث میں روایات میں ہے، اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے، اسے سنت کہتے ہیں۔ اور یہاں تو ہم کیا کر رہے ہیں؟ عقل کے ذریعے کہ اس کی ضد جو ہے وہ کس کے درجے میں ہے؟ سنتِ مؤکدہ کے حکم میں۔
یہ معنی ہے وَالنَّهْيُ عَنِ الشَّيْءِ يَقْتَضِي أَنْ يَكُونَ ضِدُّهُ فِي مَعْنَى سُنَّةٍ وَاجِبَةٍ، کہ کسی چیز سے نہی یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس کی ضد جو ہے سنتِ واجبہ یعنی سنتِ مؤکدہ کے معنی میں ہو، وَذَلِكَ لِأَنَّ الشَّيْءَ فِي نَفْسِهِ لَا يَدُلُّ عَلَى ضِدِّهِ، بھئی یہ کیوں؟ امر بالشیء اپنی ضد کے، ہم نے کہا امر بالشیء وہ تقاضا کرتا ہے اپنی ضد کے مکروہ ہونے کا، کہ اس کی ضد کیا ہے؟ انہوں نے تو کہا تھا امر بالشیء اپنے ضد کے حرام ہونے کا تقاضا کرے گا، ہم کیا کہتے ہیں؟ مکروہ، بھئی یہ کیوں ہم نے کہا مکروہ ہونے کا؟ کہتے ہیں وَذَلِكَ لِأَنَّ الشَّيْءَ فِي نَفْسِهِ لَا يَدُلُّ عَلَى ضِدِّهِ، کیونکہ کوئی چیز اپنی ذات کے اعتبار سے اپنی ضد پر دلالت نہیں کرتی۔
مثلاً جب کہا گیا ایمان لاؤ، تو اس نے صرف اس بات پر دلالت کی، کہ کیا کریں گے، کیا کرنا ضروری؟ ایمان لانا ضروری، اس نے اپنی ضد پر کوئی دلالت نہیں کی۔ تو کیونکہ کوئی شے جو ہے اپنی ذات کے اعتبار سے لَا يَدُلُّ عَلَى ضِدِّهِ، یہ دلالت نہیں کرتی اپنے ضد پر، وَإِنَّمَا يَلْزَمُ الْحُكْمُ فِي الضِّدِّ ذَرُورَةَ الْإِمْتِثَالِ، اور لازم ہو جاتا ہے حکم اس کی ضد کے اندر ضرورتِ امتثال۔
امتثال کا معنی ہے تعمیل کرنا، تعمیل کے ضروری ہونے کی وجہ سے۔ تعمیل چونکہ ضروری ہے، تو اور تعمیل کی یہی صورت ہوگی کہ جب اس چیز کا حکم دیا جا رہا ہے، معلوم ہوا کیا کرنا پڑے گا؟ اس کی ضد کو چھوڑنا پڑے گا۔ اور ایک چیز سے روکا جا رہا ہے، تو معلوم ہوا اس کی ضد کو کرنا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
اس لیے ہم نے کہا کہ اس کی ضد وہ کس، یہ امر بالشیء تقاضا کس چیز کا کرتا ہے؟ اپنی ضد کے مکروہ ہونے کا ہمارے نزدیک، اور نہی عن الشے یہ تقاضا کرتی ہے اپنی ضد کے سنتِ مؤکدہ کے معنی میں ہونے کا بھئی، اس وجہ سے ہم اس بات کے قائل ہوئے، کیونکہ تعمیل کے لیے، إِنَّمَا يَلْزَمُ الْحُكْمُ فِي الضِّدِّ ذَرُورَةَ الْإِمْتِثَالِ، اس کی ضد کے اندر حکم لازم ہوا تعمیل کے ضروری ہونے کی وجہ سے بھئی، اس وجہ سے ہم نے کہا کہ ضد کے اندر امر کے اندر کراہت آئے گی اور نہی کے اندر سنتِ واجبہ کے معنی میں ہوگا۔
فَتَكْفِي الدَّرَجَةُ الْأَدْنَى، تو کافی ہوگا ادنیٰ درجہ ہی، فِي ذَلِكَ، اس کے اندر، وَهِيَ الْكَرَاهَةُ فِي الْأَوَّلِ، اور وہ کیا ہے ادنیٰ درجہ؟ کراہت ہے پہلی صورت میں یعنی امر کی صورت میں، لِأَنَّهَا دُونَ التَّحْرِيمِ، اس لیے کیونکہ وہ تحریم سے کم ہے بھئی، تحریم سے کم ہے۔
بھئی دیکھیے ایک چیز کا جب حکم دیا جا رہا ہے، تو لازم ہے کہ اس کی ضد کو کیا کرنا پڑے گا؟ چھوڑنا پڑے گا، تبھی فرمانبرداری ہو سکے گی، تبھی تعمیلِ حکم ہو سکے گی۔ معلوم ہوا اس کی ضد کو چھوڑنا ضروری، اس کی ضد کو چھوڑنا ضروری، کس لیے؟ تعمیلِ حکم کے لیے۔ ضرورت کی بناء پر ہم نے یہ حکم لگایا ہے، کس بناء پر؟ کیا ضرورت؟ تعمیل تبھی ہو سکے گی، تو یہ ضروری ہے اس کے ساتھ، اور اَلضَّرُورِيُّ يُقَدَّرُ بِقَدْرِ الضَّرُورَةِ، جس چیز کی ضرورت پوری ہو جائے اور ضرورت ادنیٰ درجے میں پوری ہو جاتی ہے، کہ اس کو مکروہِ تحریمی قرار دے دیا جائے، اعلیٰ درجے کی یہاں ضرورت نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں اسی لیے کہا فَتَكْفِي الدَّرَجَةُ الْأَدْنَى فِي ذَلِكَ، تو کافی ہوگا ادنیٰ درجہ ہی اس کے اندر، وَهِيَ الْكَرَاهَةُ فِي الْأَوَّلِ، اور یہ کراہت ہے پہلی صورت میں یعنی امر کے اندر، لِأَنَّهَا دُونَ التَّحْرِيمِ، اس لیے کیونکہ یہ تحریم سے کم درجہ ہے، وَالسُّنَّةُ الْوَاجِبَةُ فِي الثَّانِي، اور کیا ہوگا ادنیٰ درجہ؟ سنتِ واجبہ ہوگا دوسری قسم کے اندر یعنی نہی عن الشے کے اندر، لِأَنَّهَا دُونَ الْفَرْضِ، کیونکہ یہ فرض سے کم ہے بھئی، تو ضرورت اس سے پوری ہو جاتی ہے اور ضرورت جتنی تھی وہ کافی ہے بھئی۔
وَلَيْسَ الْمُرَادُ بِالْإِقْتِضَاءِ، اچھا بھئی متن میں آیا اَلْأَمْرُ بِالشَّيْءِ يَقْتَضِي، اَلنَّهْيُ عَنِ الشَّيْءِ يَقْتَضِي، یہ دونوں تقاضا کرتے ہیں، تو کہتے ہیں بھئی تقاضا کرتے ہیں، معلوم ہوا وہ جو دوسری چیز کا مکروہ ہونا ہے، یا دوسری چیز کا سنتِ مؤکدہ ہونا ہے، یہ مقتضٰی ہوا، یہ تقاضا کرنے والے ہوئے اور وہ کیا ہوئے؟ مقتضٰی، کہتے ہیں نہیں بھئی نہیں۔
ابھی جو آپ نے اقتضاء النص کی بحث پڑھی تھی، وہاں پر جو تقاضے کا لفظ آیا تھا، اقتضاء کا لفظ، وہ والا مراد نہیں ہے بھئی، وہ مراد نہیں۔ اقتضاء النص کس کو کہتے تھے؟ اقتضاء النص بھئی، منطوق کو صحیح کرنے کے لیے غیر منطوق کو بھی کیا مان لینا؟ منطوق مان لینا، أَعْتِقْ عَبْدَكَ عَنِّي بِأَلْفٍ، وہاں پر مخاطب کے غلام، کہنے والے کی طرف سے آزاد ہو، اس کے لیے کیا ضروری تھا؟ بیع کو بھی مانا جائے اور توکیل کو بھی مانا جائے، تو وہاں دیکھو بیع اور توکیل یہ منطوق تو نہیں ہے، منطوق جس پر نطق کیا جائے، کیا کیا جائے؟ ایک منطوق پہلے گزرا ہے، وہ جو کلام سے فوراً معنی سمجھ میں آتا ہے ابتدائی طور پر، وہ نہیں مراد بھئی، منطوق جس پر نطق کیا گیا، جو بولا گیا ہے۔ تو یہاں پر کہنے والے نے بولا کیا؟ اعتاق، صرف وہ لفظ، ذکر کیا ہے اس نے، اور کس چیز کو ذکر نہیں کیا؟ بیع اور توکیل، تو اس اعتاق کو صحیح کرنے کے لیے یعنی اس منطوق کو صحیح کرنے کے لیے غیر منطوق یعنی جس کو ذکر نہیں کیا گیا، وہ کیا ہیں؟ بیع، اس کو بھی منطوق ماننا پڑا ہمیں بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں وہ والا اقتضاء یہاں مراد نہیں ہے۔
پھر بھئی کیا معنی ہے اس کا؟ بھئی اس کا معنی ہے اس کے ساتھ جو چیز لازم ہے اس کو ثابت کرنا۔ امر بالشیء تقاضا کرتا ہے، کیا معنی؟ امر بالشیء کے ساتھ جو چیز لازم ہے، اس کو ثابت کرنا، اس کو کیا کرنا؟ جب ایک چیز کا حکم دیا جا رہا ہے، تو تعمیلِ حکم کے لیے کیا ضروری؟ اس کی ضد کو چھوڑ دیا جائے، وہ اس کے ساتھ کیا ہے؟ لازم ہے۔ ایک چیز سے روکا جا رہا ہے، اس کے ساتھ کیا لازم؟ کہ اس کی ضد کو کیا جائے بھئی، تو یہاں مراد کیا ہے اس کے ساتھ جو لازم ہے اس کو ثابت کرنا، وہ ہے تقاضے کا معنی، وہ اقتضاء کا وہ معنی نہ کرنا جو آپ نے پہلے پڑھا تھا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو کہتے ہیں وَلَيْسَ الْمُرَادُ بِالْإِقْتِضَاءِ الْمُصْطَلَحِ السَّابِقِ، اور اقتضاء سے مراد وہ سابقہ اصطلاح نہیں ہے، بِجَعْلِ غَيْرِ الْمَنْطُوقِ مَنْطُوقًا لِتَصْحِيحِ الْمَنْطُوقِ، یعنی قرار دینا غیر منطوق کو منطوق لِتَصْحِيحِ الْمَنْطُوقِ، کس کے لیے؟ یعنی آسان لفظوں میں کہو، غیر مذکور کو مذکور ماننا کس لیے؟ مذکور کو صحیح کرنے کے لیے، تو وہ مراد نہیں ہے، بَلْ إِثْبَاتُ أَمْرٍ لَازِمٍ فَقَطْ، بلکہ صرف امرِ لازم کو ثابت کرنا ہے جن کے ساتھ یہ لازم ہے۔
وَهَذَا إِذَا لَمْ يَلْزَمْ مِنَ الْإِشْتِغَالِ بِالضِّدِّ تَفْوِيتُ الْمَأْمُورِ بِهِ، اور یہ اس وقت ہے بھئی، بھئی ہم نے کیا کہا ہمارا کیا مذہب ہے؟ ایک چیز کا جب حکم دیا گیا، تو یہ کیا تقاضا کرتا ہے؟ اس کی ضد کو کیا ہونا چاہیے؟ مکروہِ تحریمی، اور جب ایک چیز سے منع کیا جائے، تو یہ اس، یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس کی ضد کو کیا ہونا چاہیے؟ سنتِ مؤکدہ، کہتے ہیں یاد رکھنا یہ اس وقت ہے جب اس کی ضد میں مشغول ہونے سے یہ اصل خود فوت نہ ہوتا ہو۔
اصل خود فوت نہ ہوتا ہو، یعنی مامور بہِ فوت، جس کا حکم دیا جا رہا ہے وہ فوت نہ ہو جاتا ہو، اگر اس کی ضد میں مشغول ہونے سے مامور بہِ ہی فوت ہو جاتا ہے، تو پھر وہ مکروہ قرار نہیں دیں گے، اسے پھر کیا قرار دیں گے؟ پھر اسے حرام قرار دیں گے۔
ہم نے کیا کہا بھئی ایک چیز کا جب حکم دیا جائے، تو پھر اس کی ضد کیا ہوگی؟ مکروہ، یہ صرف اس وقت ہے جب کہ ضد کے اندر مشغول ہونے سے مامور بہِ خود فوت نہ ہوتا ہو، اگر مامور بہِ ہی فوت ہو رہا ہے اس کی ضد میں مشغول ہونے سے، تو پھر اس کو مکروہِ تحریمی نہیں کہیں گے بلکہ کیا کہیں گے؟ حرام کہیں گے، جیسے دیکھیے بھئی ایمان کا حکم دیا گیا۔ ایمان کا، ایمان کی ضد کیا ہے؟ کفر، تو کفر میں مشغول ہونے سے کیا ہوگا؟ ایمان ہی فوت ہو جاتا ہے، لہٰذا یہاں پر کفر کو کیا کہیں گے؟ حرام کہیں گے بھئی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
کہتے ہیں وَهَذَا إِذَا لَمْ يَلْزَمْ مِنَ الْإِشْتِغَالِ بِالضِّدِّ، یہ اس وقت ہے جس وقت لازم نہ آتا ہو ضد کے اندر مشغول ہونے سے، کیا لازم نہ آتا ہو؟ تَفْوِيتُ الْمَأْمُورِ بِهِ، مامور بہِ کو فوت کر دینا، فَإِنْ لَزِمَ مِنْهُ، اگر یہ لازم آتا ہو اس سے، ذَلِك، یہ، فَيَكُونُ حَرَامًا بِالْإِتِّفَاقِ، وہ بالاتفاق کیا ہوگا؟ حرام ہوگا، وَهَذَا مَعْنَى مَا قَالَ، اور یہ معنی ہے جو مصنف نے فرمایا، وَفَائِدَةُ هَذَا الْأَصْلِ، اور فائدہ اس اصل قانون کا یہ ہے، أَنَّ التَّحْرِيمَ لَمَّا لَمْ يَكُنْ مَقْصُودًا بِالْأَمْرِ، کہ جب تحریم وہ مقصود نہیں ہے امر کے ذریعے، لَمْ يُعْتَبَرْ، تو اس کا اعتبار بھی نہیں کیا جائے گا، إِلَّا مِنْ حَيْثُ يُفَوِّتُ الْأَمْرَ، مگر اس حیثیت سے کہ وہ امر کو کیا کر دے؟ فوت کر دے۔
بھئی دیکھیے جب ایک چیز کا حکم دیا جا رہا ہے، تو اس کے ذریعے ایک چیز کو واجب کرنا مقصود ہے۔ کیا کرنا مقصود ہے؟ اس کی ضد کو حرام کرنا مقصود ہی نہیں، اس کا تو یہاں تذکرہ ہی نہیں ہے بھئی۔
برمقصود صرف کیا ہے؟
اور مذکور کو واجب قرار دینا۔
تو لہذا اس یہاں اس کے ضد کو حرام قرار دینا مقصود ہی نہیں ہے تو لہذا اس کو ہم کیا قرار دے دیں گے؟
مکروہ۔ لیکن اگر
اس میں مشغول ہونے سے یہ مامور بہ خود ہی فوت ہو جاتا ہے، پھر اس کو کیا قرار دے دیں گے؟ حرام قرار دے دیں گے۔
یہ معنی ہے، اس اصل کا فائدہ یہ ہے کہ ان تحریم الامر لم یکن مقصود بالامر کت حریم، جب وہ مقصود ہی نہیں ہے امر کے ذریعے لم یعتبر تو اس تحریم کا اعتبار بھی نہیں کیا جائے گا الا من حیث یفوت الامر، مگر اس حیثیت سے جب وہ امر کو کیا کر دے؟ فوت کر دے، پھر اس تحریم کا اعتبار کیا جائے گا فإذا لم یفوتہ کان مکروہا، تو اگر وہ اس کو فوت نہ کرتی ہو تو پھر اس صورت میں
مکروہ ہوگا بھئی، وہ اس کی ضد مکروہ ہوگی، کالامر بالقیام، جیسے کہ قیام کا حکم ہے۔
یعنی الی الركعۃ الثانیۃ بعد فراغ الاولی، یعنی
دوسری رکعت کی طرف کھڑا ہونا بعد فراغ الاولی پہلی رکعت سے فارغ ہونے کے بعد، اوالثالثۃ یا
تیسری رکعت کی طرف کا جو قیام کا حکم دیا گیا ہے بعد فراغ التشہد، تشہد سے فارغ ہونے کے بعد۔
لیس بنہی عن القعود، بھئی دیکھئے!
خلاصہ پھر سن لو!
ایک چیز کی ایک ہی ضد ہو
تو ایک چیز کا جب حکم دیا گیا ہے، اس کی ایک ہی ضد ہے پھر تو وہ حرام ہوگی۔
پھر تو کیا ہوگی؟ کیونکہ اس میں اگر ہم مشغول ہوں گے تو یہ امر، مامور بہ ہی کیا ہو جائے گا؟ فوت ہو جائے گا۔
لیکن اگر ایک چیز کی کئی ضدیں ہیں
تو پھر اس صورت کے اندر اگر اس ضد میں مشغول ہونے سے مامور بہ فوت نہیں ہوتا تو اس ضد کو کیا قرار دیا جائے گا؟ مکروہ تحریمی قرار دیا جائے گا، جیسے قیام ہے بھئی! قیام کھڑا ہونا، اس کی ضد بیٹھنا بھی اس کی ضد، سجدہ کرنا بھی اس کی ضد، رکوع کرنا بھی اس کی ضد، کئی ضدیں ہیں اس کی بھئی۔
صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اب
حکم دیا گیا کہ پہلی رکعت جب پوری کر چکو تو پھر کھڑے ہو جاؤ۔
اسی طرح تیسری رکعت میں جب تیسری رکعت کے لیے، دوسری رکعت میں جب تشہد پڑھ لو
اس سے فارغ ہو جاؤ تو کیا کرو؟ کھڑے ہو جاؤ تیسری رکعت کے لیے، تو یہ امر آیا قیام کا کہ کھڑے ہو جاؤ۔
اور اس کے کئی ضدیں۔
اور ان میں مشغول ہونے سے
قیام فوت نہیں ہوتا بھئی، ان میں مشغول ہونے سے
بھئی آپ دوسری رکعت، پہلی رکعت جب پوری کر چکے تو کیا حکم ہے؟ اس کے بعد کیا ہو جاؤ؟ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہو جاؤ، لیکن ایک شخص بیٹھ جاتا ہے
اور پھر کچھ دیر بعد کھڑا ہوا
تو اب یہ بیٹھا جو کچھ دیر
کیا اس سے قیام فوت ہوا؟
جی؟ مؤخر تو ہو گیا لیکن فوت نہیں ہوا، لہذا اس کو کیا کہیں گے؟ مکروہ کہیں گے بھئی! ہاں اگر اس سے قیام ہی فوت ہو جاتا پھر ہم اس کو کیا قرار دیتے؟ حرام قرار دیتے، صورت سمجھ میں آگئی؟
کل، یہ معنی ہے کالامر بالقیام جیسے کہ قیام کا حکم جو ہے یعنی دوسری رکعت کی طرف پہلی سے فارغ ہونے کے بعد یا تیسری رکعت کی طرف تشہد سے فارغ ہونے کے بعد، لیس بنہی عن القعود، یہ قعود یعنی بیٹھنے سے نہی نہیں ہے قصدا بالارادۃ، حتی اذا قعد ثم قام، یہاں تک کہ وہ بیٹھا پھر کھڑا ہوا، لا تفسد صلاتہ بنفس القعود، تو فاسد نہیں ہوگی اس کی نماز نفس بیٹھنے سے ہی، ولکنہ یکرہ، لیکن یہ کیا ہے؟ مکروہ ہے، لان نفس القعود، اس لیے کیونکہ نفس قعد جو ہے وہو قعود مقدار تسبیحۃ اور وہ ایک تسبیح کی مقدار بیٹھنا ہے، لا یفوت القیام، وہ قیام کو فوت نہیں کرتا فیکرہ، پس یہ بیٹھنا کیا ہوگا؟ مکروہ، وان مکث کثیرا، اور اگر وہ بڑی دیر ٹھہرا رہا یعنی بیٹھا اور پھر بیٹھنے کے بعد اسی طرح بڑی دیر تک ٹھہرا رہا، بحیث ذہب اوان القیام، یہاں تک کہ چلا گیا قیام کا وقت ہی، تفسد صلاتہ، تو نماز کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی۔
معنی سمجھ میں آیا بھئی؟
لیکن اس پر اشکال ہوتا ہے کہ قیام کا تو کوئی وقت مقرر نہیں ہے، جتنی دیر بھی بیٹھے اس کے بعد قیام ہو سکتا ہے یا نہیں ہو سکتا؟ قیام تو ہو سکتا ہے بھئی۔
تو
لہذا، ہاں یہ ہے وقت گزر جائے یا کچھ تو اور وجہ ہے۔
محشی پھر کہتے ہیں بھئی اس سے بہتر مثال دوسری کہ
دیکھیے یہاں قعود لمبا بھی ہو جائے تو قیام فوت نہیں ہوتا۔
اور انہوں نے کیا کہا؟ کہ اگر وہ بڑی دیر بیٹھا رہا یہاں تک کہ قیام کا وقت ہی چلا گیا تو نماز کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی۔
محشی کہتے ہیں اس سے بہتر یہ مثال ذکر کی جائے کیونکہ بھئی قیام کا تو کوئی وقت مقرر نہیں ہے، دیر تک بیٹھے پھر بھی قیام تو کیا جا سکتا ہے اس کے بعد بھی، تو بہتر مثال یہ ہے جیسے تکبیر تحریمہ کے اندر قیام شرط ہے۔ تکبیر تحریمہ میں کیا شرط ہے؟ قیام شرط ہے، اب یہاں اگر اس کی ضد میں مشغول ہوگا تو قیام فوت ہو جائے گا مثلاً اس نے بیٹھ کر تکبیر تحریمہ کہی۔
بیٹھ کر جب تکبیر تحریمہ کہی تو قیام فوت ہو گیا، جب قیام فوت ہوا تو نماز ہی کیا ہوگی؟ فاسد ہوگی بھئی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ جی۔
ومن ہاہنا ظہر، اور یہاں سے یہ بات ظاہر ہو گئی، ان الاشتغال بالضد فی الوقت الموسع للصلاۃ لا یحرم، کہ مشغول ہونا ضد کے اندر فی الوقت الموسع اس ایسے وقت میں جس میں وسعت ہو جو وسیع ہو للصلاۃ
نماز کے لیے۔
ایسا وقت جس جو جس میں کیا ہو؟ وسعت ہو نماز کے لیے، تو اس صورت میں ضد کے اندر مشغول ہونا لا یحرم، یہ حرام نہیں ہے بھئی۔
وفی الوقت المضیق لہا یحرم، اور اس وقت میں جو تنگ ہو اس کے لیے تو یحرم، اس صورت میں کیا ہو جائے گا؟ حرام ہو جائے گا بھئی، حرام ہو جائے گا۔
وقت تنگ ہے، اس کے اندر اب وہ اب وہ قعود کرتا ہے، اب تو پھر قیام کا وقت ہی نہیں رہے گا، گزر جائے گا وقت نکل جائے گا تو اس صورت میں یہ حرام ہوگا۔
وان کان ذلک الضد فی نفسہ عبادۃ مقصودۃ او امرا مباحا، اگرچہ وہ ضد اپنی ذات کے اعتبار سے عبادت مقصودہ یا امر مباح ہی کیوں نہ ہو۔
اگرچہ وہ ضد اپنی ذات کے اعتبار سے عبادت مقصودہ یا امر مباح ہی کیوں نہ ہو، مثلاً بھئی!
ایک ہے فرض نماز
اور ایک اس کی ضد ہے مثلاً نفلی نماز۔
اب ظہر کا وقت آیا تو یہ ظہر کی نماز آپ پر فرض ہو گئی، آپ فرض کے بجائے نفلوں میں مشغول ہو گئے۔
لیکن کیا اس سے فرض نماز فوت ہوئی آپ کی؟ فرض فوت نہیں ہوئے، لہذا ٹھیک ہے آپ نفل پڑھ لیں، لیکن اگر وقت تنگ ہو گیا، اتنا وقت رہ گیا کہ جس کے اندر فرض ادا کیے جا سکتے ہیں
اب آپ اس کی فرض کی ضد نفلوں کے اندر مشغول ہو گئے، اگرچہ نفل اس وقت نفل عبادت مقصودہ ہیں بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لیکن اس وقت وہ کیا ہو جائیں گے؟ معلوم ہوا حرام ہو جائیں گے بھئی، کیونکہ اس کی وجہ سے کیا خرابی لازم آرہی ہے؟ فرض فوت ہو رہا ہے بھئی۔
معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟
سو کہتے ہیں وان کان ذلک الضد فی نفسہ عبادۃ مقصودۃ او امرا مباحا، اگرچہ وہ ضد اپنی ذات کے اعتبار سے عبادت مقصودہ یا امر مباح ہی کیوں نہ ہو، لیکن اگر اس میں مشغول ہونے کی وجہ سے وہ مامور بہ فوت ہو جاتا ہے تو اس صورت میں یہ کیا ان کو کیا قرار دیا جائے گا؟ حرام قرار دیا جائے گا۔
ولہذا قلنا، اور اسی وجہ سے ہم نے کہا، ان المحرم لما نہی عن لبس المخیط کان من السنۃ لبس الازار والردائ۔
اسی وجہ سے ہم نے کہا کہ جب محرم بھئی جس نے احرام باندھا ہو، لما نہی، جب اس کو منع کیا گیا عن لبس المخیط، کس سے؟ سلے ہوئے کپڑے پہننے سے، المخیط سلے ہوئے، کان من السنۃ، تو یہ سنت میں سے ہوگا کیا؟ لبس الازار والردائ، تہبند اور چادر کا پہننا، تہبند اور چادر کا پہننا کیا ہوگا؟ سنت۔
بھئی یہ حدیث آپ کے حاشیے میں دی ہوئی ہے کہ ایک شخص آیا اور اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ یرحمک اللہ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! محرم کیا کپڑے پہنے؟ کون سے کپڑے پہنے گا؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ وہ قمیص بھی نہ پہنے، پگڑیاں بھی نہ پہنے، شلوار بھی نہ پہنے اور اسی طرح برنس، برانس جمع ہے برنس کی، یہ ٹوپی کی کوئی خاص قسم ہے، وہ بھی نہ پہنے اور اسی طرح موزے بھی
موزے بھی نہیں پہنے گا، تو دیکھیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سلی ہوئی چیزیں ذکر فرما دیں کہ ان کو نہ پہنے۔
یہ ذکر فرمایا۔
تو نہی آئی ان چیزوں کے پہننے سے، اور جب نہی آئے کسی چیز سے تو ہم نے کیا کہا تھا؟ یہ نہی کیا تقاضا کرتی ہے؟ کہ اس کی ضد کیا ہوگی؟ سنت مؤکدہ، معلوم ہوا
اب اس کے لیے اپنے ستر کو ڈھانپنا تو ضروری ہے، تو اس کے لیے پھر کیا کیا پہنے؟ تہبند اور چادر ان کے ذریعے، یہ کافی ہے ان کا پہننا اور یہ تہبند اور چادر کا پہننا، یہ کس کے درجے میں ہوگا؟ سنت مؤکدہ کے درجے میں ہوگا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟
ولہذا قلنا، اور اسی وجہ سے ہم نے کہا ان المحرم کہ محرم جو ہے لما نہی عن لبس المخیط جب اس کو روکا گیا سلے ہوئے کپڑے پہننے سے، کان من السنۃ لبس الازار والردائ، تو تہبند اور چادر کا پہننا سنت میں سے ہوگا، تفریع علی اصل، یہ تفریع ہے اصل پر ضابطے پر، ان النہی یقتضی کہ نہی تقاضا کرتی ہے ان یکون ضدہ فی معنی سنۃ واجبۃ، کہ اس کی ضد جو ہے سنت واجبہ کے معنی میں ہوگی، وذلک، اور یہ اس وجہ سے لانہم لما نہی المحرم عن لبس المخیط، کہ جب منع کیا گیا محرم کو سلے ہوئے کپڑے پہننے سے ولابد ان یلبس شیئا یستر بہ العورۃ، اور ضروری ہے کہ وہ کوئی چیز پہنے جس کے ذریعے اپنے عورۃ شرمگاہ کو ڈھانپ لے، وا دنی ما تکون بہ الکفایۃ، اور ادنیٰ وہ چیز جس کے ذریعے اکتفا جس پر اکتفا ہو سکتا ہے
ہو، ازار والردائ، وہ تہبند اور چادر ہے، لزم ان لا یترکا، تو لازم ہوا کہ ان کو نہ چھوڑا جائے کما لم تترک السنۃ المؤکدۃ، جیسے کہ سنت مؤکدہ کو نہیں چھوڑا جاتا، معلوم ہوا یہ سنت مؤکدہ کے درجے میں ان کو اب نہیں چھوڑا جائے گا، والا فالسنۃ الاصطلاحیۃ ہو ما کان مرویا عن الرسول صلی اللہ علیہ وسلم قولا او فعلا لا ما یثبت بالعقل۔
تو یہ اس معنی میں ہوگا، میں نے کیا بتایا ہوا تھا بھئی؟ معنی سنت
مؤکدہ کے معنی میں کیوں کہا ہے انہوں نے؟
کیونکہ یہ عقل سے ہم نے ثابت کیا ہے اور سنت مؤکدہ تو اصل میں کس سے ثابت ہوتی ہے؟ نقل سے، وہی بات بیان کر رہے ہیں۔
کہ یہ اس کے معنی میں ہوگا جیسے کہ سنت مؤکدہ کو نہیں چھوڑا جاتا یعنی اس کو بھی نہ چھوڑے، والا ورنہ تو فالسنۃ الاصطلاحیۃ ورنہ تو سنت اصطلاحی جو ہے ہو ما کان مرویا عن الرسول وہ ہے جو روایت کی گئی ہو حضور علیہ السلام سے قولا او فعلا باعتبار قول یا باعتبار فعل کے، لا ما یثبت بالعقل نہ کہ وہ جو عقل سے ثابت ہو، وقال ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں
عطف علی قولہ قلنا، یہ عطف ہے مصنف کے قول "قلنا" پر "ولہذا قلنا" جو پچھلے متن میں آیا تھا، اس پر عطف ہے۔
اور اسی وجہ سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں
جی، وتفریع علی اصل، اور یہ تفریع ہے اس اصل پر ان الامر یقتضی کراہۃ ضدہ، کہ امر جو ہے وہ تقاضا کرتا ہے کراہۃ ضدہ، علی غیر ترتیب اللف، جو لف کی ترتیب پر نہیں ہے۔
بھئی پہلے کیا ذکر کیا تھا؟ امر بالشی تقاضا کرتا ہے متن میں بھئی شروع میں آیا تھا، امر بالشی تقاضا کرتا ہے اپنی ضد کی کراہت کا، اور نہی عن الشی تقاضا کرتی ہے اپنی ضد کے سنت مؤکدہ کے معنی میں، تو نہی کی بات بعد میں تھی امر کی پہلے تھی اور مثال میں کیا کیا انہوں نے جو تفریع کی؟
نہی کی بات پہلے کر دی کہ سلے ہوئے کپڑے پہننے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، اور امر کی بات اب کرنے لگے ہیں تو یہ جو یہ لف کی ترتیب پر نہیں ہے یہ نشر بھئی۔
یعنی لاجل ہذہ القاعدۃ، یعنی اسی قاعدے کی وجہ سے قال ابو یوسف رحمہ اللہ خاصۃً، امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے خاص طور پر فرمایا یعنی یہ انہی کا قول ہے خاص طور پر، یہ طرفین کا قول نہیں ہے بھئی، ان کی بات آگے آرہی ہے۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا وہ خاص طور پر فرماتے ہیں
ان من سجد علی مکان نجس، جس شخص نے سجدہ کیا ناپاک جگہ پر
ایک ہے نَجَس
ایک ہے نَجِس۔
نَجَس نجاست کو کہتے ہیں۔
نَجَس نجاست کو کہتے ہیں، اور نَجِس
جس پر نجاست لگی ہو یعنی ناپاک،
تو نَجَس یوں کہیں ناپاکی کو کہتے ہیں اور نَجِس ناپاک کو کہتے ہیں بھئی، معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟
تو من، وہ فرماتے ہیں ان من سجد علی مکان نجس، جس شخص نے سجدہ کیا ناپاک جگہ پر، لم تفسد صلاتہ، اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی، لانہم غیر مقصود بالنہی، اس لیے کیونکہ وہ نہی سے مقصود نہیں ہے۔
بھئی دیکھیے! نماز کے بارے میں حکم دیا گیا کہ پاک جگہ پر سجدہ کریں، کس پر؟ پاک جگہ پر سجدہ کرو، اب
تو پاک جگہ پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا، اب اگر ایک شخص ناپاک جگہ پر سجدہ کر لیتا ہے مثلاً ایک شخص نماز میں مصروف ہے فرض کرو صورت بنا لیں،
ایک فرش ہے، فرش پر نماز پڑھ رہا ہے، اور وہ اس نے سجدہ کیا
جب سجدہ کیا
زمین پر
پیشانی اور ماتھا رکھا تو اسے اندازہ ہوا
اس جگہ کی بو سے کہ یہ جگہ پاک نہیں بھئی۔
صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اب یہ اس نے ناپاک جگہ پر سجدہ کیا، اس نے سر اٹھایا سجدے سے اور پھر تھوڑا سا سر پیچھے رکھ لیا وہ جگہ پاک تھی، تو کیا اس طرح کرنے سے جب اس نے سجدے کا اعادہ کر لیا، پہلا سجدہ تو ناپاک جگہ پر تھا وہ درست نہیں، تو کیا اب اس کی نماز ہو جائے گی اس طرح؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب اس نے سجدے کا پاک جگہ پر اعادہ کر لیا
تو اس نے مامور بہ پر عمل کر دیا،
حکم بھی کیا دیا گیا تھا؟
پاک جگہ پر سجدہ کرنے کا، اس نے بھی پاک جگہ پر سجدہ کر لیا، پاک جگہ پر سجدہ کرنے کا حکم
ہے تو اس کی ضد کیا ہے؟ کہ معلوم ہوا ناپاک جگہ پر سجدہ نہیں کرنا، تو ناپاک جگہ پر سجدہ کرنا وہ کیا ہوگا؟
جی؟
وہ مکروہ تحریمی ہوگا نا، کیا ہوگا؟ مکروہ تحریمی۔ کیونکہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے مقصود نہیں، مقصود تو یہاں کیا تھا؟
پاک جگہ پر سجدہ کرنا، اس کی ضد سے روکنا تو یہاں مقصود نہیں، اور اس نے بھی پاک جگہ پر سجدہ کر لیا اعادہ کر کے تو اس کی نماز ہو جائے گی بھئی۔
جبکہ طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں
کہ جب اس نے ناپاک جگہ پر سجدہ کیا تو اس کی نماز ہی فاسد ہو گئی، اب اعادے سے بھی نماز نہیں ہوگی، نئے سرے سے پڑھے بھئی۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اس کو
اس کو حکم دیا گیا تھا پاکی کا بھئی، جب ناپاک جگہ پر سجدہ کیا تو گویا یہ اسی طرح ہو گیا جیسے یہ خود ناپاکی کو اٹھائے ہوئے ہے، خود ناپاکی کی حالت میں گویا نماز پڑھ رہا ہے اور ناپاکی کی حالت میں تو نماز نہیں ہوتی، لہذا اس کی بھی یہ نماز کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
وہ فرماتے ہیں: جو شخص میں سجدہ کیا ناپاک جگہ پر، "لم تفسد صلاتہ" اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی۔ "لانہ غیر مقصود بالنہي" اس لیے کیونکہ وہ نہی کے ذریعے مقصود نہیں ہے۔ "وانما المامور بہ فعل السجود علی مکان طاہر" اور مامور بہ جو ہے، وہ تو سجدہ کرنے کا فعل ہے پاک جگہ پر۔ "فاذا اعادہا علی مکان طاہر جاز" پس جب اس نے اس کا اعادہ کر لیا پاک جگہ پر، تو جائز ہے۔ "عندہ" امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک۔ "فالاشتغال بالسجود علی مکان نجس یکون مکروہا عندہ لا مفسدا للصلاۃ" مشغول ہونا ناپاک جگہ پر سجدہ کرنے میں، یہ مکروہ ہوگا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک، "لا مفسدا للصلاۃ" یہ نماز کو فاسد کرنے والا نہیں ہے۔ "لانہ لم یفوت المامور بہ حین اعادہا" اس لیے کیونکہ اس نے مامور بہ کو فوت نہیں کیا جب اس نے اس کا اعادہ کر لیا۔
اگر اعادہ نہ کرتا، پھر تو مامور بہ فوت ہو جاتا۔ لیکن اس نے تو کیا کیا؟ اعادہ کر لیا، تو مامور بہ فوت نہ ہوا، تو لہٰذا نماز ہو گئی۔
"وقال الطرفین رحمہما اللہ" فرماتے ہیں: "الساجد علی النجسی" سجدہ کرنے والا نجس یعنی ناپاک جگہ پر، "بمنزلۃ الحامل لہ" یہ کس کے درجے میں ہے؟ اس ناپاکی کو اٹھانے کے درجے میں ہے۔ "اجل النجسی" یعنی ناپاکی کو۔ "لانہ اذا سجد علی النجسی" اس لیے کیونکہ جب اس نے سجدہ کیا ناپاک جگہ پر، "اخذ وجہہ صفت النجسی" تو اس کے چہرے نے لے لی اس ناپاک کی صفت۔
جگہ تو وہ ناپاک تھی، جب اس کا چہرہ اس کے ساتھ مل گیا، تو اس نے بھی اس کی صفت لے لی۔ یہ بھی گویا کس کی طرح ہوا؟ جیسے اس پر کیا لگی ہو؟ نجاست۔ "لاجل المجاورۃ" بجہ مجاورت، مجاورت کا معنیٰ ویسے پڑوس ہے، یہاں مراد ہے اتصال، بجہ اتصال مل جانے کی وجہ سے اس کے ساتھ۔ "فلم توجد الطہارۃ فی بعض اجزاء الصلاۃ" پس پاکی نہ پائی گئی نماز کے بعض اجزا میں۔
نماز میں تو کیا ضروری تھا؟ کہ پوری نماز کس حالت میں ادا کی جائے؟ پاکی کی حالت میں، اور جب اس نے نجس جگہ پر سجدہ کیا، تو اب اس کا چہرہ گویا اس پر ہی نجاست لگی ہے صرف اس سجدے کے اندر۔ تو پوری نماز میں پاکی پائی گئی کہ بعض اجزا میں نہ پائی گئی؟ حالانکہ ضروری تھا کہ پوری نماز میں پاکی ہونی چاہیے، تو کچھ اجزا کے اندر پاکی والی حالت نہ رہی، لہٰذا نماز ہی کیا ہو جائے گی؟ فاسد۔
"والتطہیر عن حمل النجاسۃ فرض دائم" اور پاکی حاصل کرنا نجاست اٹھانے سے، یہ دائمی فرض ہے۔ "فیسیر ضدہ مفوتا للفرض" تو اس کی ضد جو ہے، وہ فوت کرنے والی ہو گئی فرض کو۔ "کما فی الصوم" جیسے کس کے اندر؟ روزے کے اندر۔ "فکما ان الکف عن قضاء الشہوۃ فرض فی الصوم" جیسے کہ رکنا شہوت کو پورا کرنے سے، یہ فرض ہے روزے میں۔ روزے کی حالت میں بھئی کھانا پینا بھی حرام اور بیوی سے صحبت بھی حرام۔ تو شہوت پوری کرنے سے رکنا، یہ روزے کے اندر فرض ہے۔
تو اگر وہ، وہ صحبت میں مصروف ہو گا، تو یہ فرض کیا ہو جائے گا؟ اور روزے کے کسی ایک جز میں رکنا ضروری ہے یا پورے روزے میں؟ پورے۔ تو ایک جز کے اندر صحبت تو ایک جز میں پائی جائے گی، لیکن اس سے پورا روزہ ہی روزہ ہی کیا ہو جائے گا؟ فاسد۔ اسی طرح پورے روزے کے اندر کھانے پینے سے رکنا فرض ہے۔ اگر کسی ایک جز کے اندر بھی کھانا پینا پایا جائے گا، تو وہ روزہ کیا ہو جائے گا؟ فاسد۔ اسی طرح پوری نماز کے اندر پاکی ضروری ہے، اگر ایک جز کے اندر بھی ناپاکی آ جائے گی، تو پوری نماز ہی کیا ہو جائے گی؟ فاسد ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں: "فکما ان الکف عن قضاء الشہوۃ فرض فی الصوم" جیسے کہ رکنا شہوت پوری کرنے سے، یہ فرض ہے روزے کے اندر، "والصوم یفوت بالاكل فی جز من وقتہ" اور روزہ جو ہے، وہ فوت ہو جاتا ہے اس کے وقت میں کسی جز کے اندر کھانے سے، "فکذالک الکف عن حمل النجاسۃ فرض فی الصلاۃ" اسی طرح نجاست اٹھانے سے رکنا، یہ فرض ہے نماز کے اندر، "واہو یفوت بالسجود علی مکان نجس" اور یہ فرض فوت ہو جاتا ہے نجس، ناپاک جگہ پر سجدہ کرنے سے، "فتفسد" تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی۔
"ولما فرغ المصنف عن بیان اقسام الکتاب بلواحقہا" اور جب مصنف رحمہ اللہ فارغ ہوئے کتاب اللہ کی اقسام کے بیان سے "بلواحقہا" ساتھ اس کے لواحق، اس کے ساتھ اور کچھ باتیں، بحثیں جو انہوں نے ذکر کیں۔
تو کتاب اللہ کی بحث اور اس کے لواحق اس کے ساتھ اور جو چیزیں ملی ہوئی تھیں، ان کی بحث سے فارغ ہوئے، "اورد بعدہا بعض ما ثبت من الکتاب" تو وہ لے کر آئے وہ کچھ چیزیں جو کتاب اللہ سے ثابت ہیں۔ بھئی وہ کیا چیزیں ہیں؟ "من" آگے بیان آیا "ما" کا، بعض وہ چیزیں جو کتاب اللہ سے ثابت ہیں، "من الاحکام المشروعۃ" یعنی کہ احکام مشروعہ، یہ وہ لے کر آئے مصنف اس کے بعد، "ابتداء لفخر الاسلام" اقتدا کرتے ہوئے علامہ فخر الاسلام کی، "وکان ینبغی ان یذکرہا بعد باب القیاس" اور مناسب یہ تھا کہ مصنف اس کو قیاس کے باب کے بعد ذکر کرتے، "فی جملۃ بحث الاحکام الآتیۃ" وہ احکام جو آنے والے ہیں، ان کی جملہ بحث کے اندر لے کر آتے، "کما فعل ذالک صاحب التوضیح" جیسے کہ کس نے کیا ہے؟ صاحب توضیح نے بھئی، صاحب توضیح نے۔
توضیح احناف کی اصول فقہ کی بڑی مضبوط کتاب ہے مولانا، بڑی مضبوط کتاب۔
والد صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے: احناف کی اصول کی کتابوں میں کمزوری ہے، اور ایک کتاب بڑی مضبوط ہے اور وہ توضیح ہے بھئی، توضیح۔
وہ ابحاث ذکر کرنے لگے ہیں بھئی۔ "فقال" پس مصنف رحمہ اللہ نے فرمایا: "فصل المشروعات علی نوعین" مشروعات جو ہیں، وہ دو قسم پر ہیں۔ "عزیمۃ" ایک کیا ہے؟ عزیمت ہے، ایک آگے آئے گا، ایک رخصت ہے۔
بھئی دیکھیے، عزیمت بتلائیں گے کہ وہ چیزیں جس طرح ابتداءً کوئی حکم اللہ کی طرف سے آیا ہے، واجب ہوا ہے، اس کو کہیں گے عزیمت۔ اس میں کسی عذر کا دخل نہ ہو، اور عذر کی وجہ سے اس میں جو سہولت ملے گی، اس کو رخصت کہیں گے۔ مثلاً بھئی، روزے کا ابتداءً کیا حکم ہے؟ کہ ہر عاقل، بالغ، مسلمان پر روزہ فرض ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص بیمار ہو جائے، تو شریعت نے رخصت دے دی کہ یہ اگر بعد میں بھی روزہ رکھنا چاہتا ہے، ابھی نہیں رکھنا چاہتا، تو ابھی افطار بے شک کر لے، روزہ نہ رکھے اور بعد میں کیا کر لے؟ اس کی قضا کر لے۔ تو یہ جو ابتداءً حکم ہے بغیر عوارض کے، اس کو کہتے ہیں عزیمت۔ اور عوارض کی وجہ سے جو حکم بدلا اور جو حکم دوسرا آیا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ رخصت کہتے ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں مشروعات جو ہیں، وہ دو قسم پر ہے: ایک عزیمت ہے، "یعنی ان الاحکام المشروعۃ" بتلایا بھئی، مشروعات سے کیا مراد ہیں؟ احکام مشروعہ، وہ احکام جو مشروع ہوئے ہیں۔ "التی شرعہا اللہ تعالی لعبادہ" وہ جن کو اللہ نے مشروع فرمایا ہے اپنے بندوں کے لیے، "علی نوعین" وہ دو قسم پر ہیں۔ "احداہما عزیمۃ والثانی رخصۃ" ایک ان میں سے عزیمت ہے اور دوسری رخصت ہے۔ "فالعزیمۃ وہی اسم لما ہو اصل منہا" پس عزیمت وہ نام ہے اس کا جو اصل ہے ان میں مشروعات میں سے، "غیر متعلق بالعوارض" جو عوارض سے متعلق نہیں ہے، جس میں عوارض کا دخل نہیں ہے بھئی۔
"یعنی لم یکن شرعہا باعتبار العوارض" یعنی اس کے مشروع ہونا جو ہے، وہ عوارض کے اعتبار سے نہ ہو، "کما کان شرع الافطار باعتبار المرض" جیسے کہ افطار کا مشروع ہونا مرض کے اعتبار سے ہے۔ تو یہ تو عارض کی وجہ سے ہے بھئی کہ اب انسان کیا کر سکتا ہے؟ روزہ چھوڑ سکتا ہے۔
"بل یکون حکما اصلیا من اللہ تعالی ابتداء" بلکہ یہ اصل حکم ہے اللہ کی طرف سے ابتدائی طور پر ہی، "سواء کان متعلقا بالفصل" برابر ہے کہ وہ متعلق ہو فعل کے ساتھ، "کالمامورات" جیسے مامور، جن کا حکم دیا گیا ہے۔ "او متعلقا بالترک" یا اس کا تعلق کس سے ہو؟ ترک سے ہو، "کالمحرمات" جیسے کہ محرمات ہیں بھئی۔ حکم دیا گیا، بعض اوقات کسی چیز کے کرنے کا حکم دیا جاتا ہے اور بعض اوقات کسی چیز سے رکنے کا حکم دیا جاتا ہے، تو بہرحال ابتداءً بغیر عوارض کے جو حکم ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عزیمت کہتے ہیں، اور عوارض کی وجہ سے جو حکم ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ رخصت کہتے ہیں۔
"وہی اربعۃ انواع" اور یہ عزیمت چار قسم پر ہے، "لانہا لا تخلو من ان یکفر جاہدہا اولا" اس لیے کیونکہ یہ خالی نہیں ہے یا تو کافر قرار دیا جائے گا اس کا، اس کے انکار کرنے والے کو، "اولا" یا نہیں؟
جاہد: انکار کرنے والا۔ کفر یکفر تکفیر کا معنیٰ ہے کافر قرار دینا، کافر بنانا نہیں۔ کافر تو اس انسان کا اپنا عمل اس کو کافر بناتا ہے، پھر علماء صرف کیا کرتے ہیں؟ وہ کافر قرار دیتے ہیں، بتلاتے ہیں کہ اس شخص کا یہ عمل کفر والا عمل ہے، یہ کافر اس عمل کی وجہ سے ہوا بھئی۔
"لانہا لا تخلو" اس لیے کیونکہ وہ خالی نہیں ہو گا، یا تو اس کے انکار کرنے والے کو کافر قرار دیا جائے گا یا کافر قرار نہیں، "فالاول ہو الفرض" پہلا جو ہے، وہ کیا ہے؟ فرض۔ فرض وہ ہے بھئی جس کے کرنے والے کو کافر قرار دیا جاتا ہے، جو شخص فرض کا انکار کرے گا، نماز کا انکار کرتا ہے، روزے کا انکار کرتا ہے، حج کا انکار کرتا ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ کافر۔
یا اس کے کرنے، اس کے انکار کرنے والے کو کافر قرار نہیں دیا جائے گا۔ اس میں پھر وہ دو حال سے خالی نہیں: کہ اس کے چھوڑنے پر سزا آخرت میں ملے گی یا آخرت میں سزا نہیں ملے گی؟ اگر آخرت میں سزا ملتی ہے اس کے چھوڑنے پر، تو یہ واجب ہے، یہ کیا ہے؟ واجب۔
"لانہا لا تخلو من ان یکفر جاہدہا اولا" اس لیے کیونکہ عزیمت یہ خالی نہیں ہے کہ اس کے، یعنی ان دو احوال سے خالی نہیں ہے کہ کافر قرار دیا جائے گا اس کے انکار کرنے والے کو یا کافر قرار نہیں دیا جائے گا۔ "فالاول ہو الفرض" پہلی کیا قسم کیا ہے؟ وہ فرض ہے۔ "والثانی لا یخلو اما ان یعاقب بترکہ اولا" اور دوسری قسم وہ پھر خالی نہیں ہے، یا تو سزا دی جائے گی اس کے چھوڑنے پر یا سزا نہیں دی جائے گی۔ "فالاول ہو الواجب" پہلا کیا ہے؟ واجب، یعنی جس کے چھوڑنے پر سزا دی جائے گی۔ "والثانی لا یخلو اما ان یستحق تارکہ الملامۃ اولا" کیونکہ دوسری قسم جس کے چھوڑنے پر سزا نہیں ہے، وہ پھر دو حال سے خالی نہیں: یا تو اس کو چھوڑنے والا ملامت کا مستحق ہو گا یا مستحق نہیں ہو گا۔ "فالاول ہو السنۃ" پہلی قسم کیا ہے؟ سنت ہے، یعنی جس کو چھوڑنے والا ملامت کا مستحق ہو گا۔ "والثانی ہو النفل" اور دوسری قسم کیا ہے؟ نفل ہے۔
بھئی اس پر اشکال ہوتا ہے: آپ نے ہمیں چار قسمیں گنوا دیں، فرض، واجب، سنت اور نفل، حرام بھی تو ایک حکم شرعی ہے، بعض چیزوں کو کیا قرار دیا جاتا ہے؟ حرام، اسی طرح بعض مکروہ تحریمی ہیں۔ تو جواب یہ بھئی کہ "حرام داخل فی الفرض" وہ داخل ہے فرض میں، "باعتبار الترک" ترک کے اعتبار سے۔ یعنی حرام بھی کس میں داخل ہے؟ فرض میں داخل ہے، لیکن یہ ترک کے اعتبار سے ہے۔ معلوم ہوا فرض دو قسم پر ہوا، کچھ چیزوں کا کرنا فرض ہے، کچھ چیزوں کا چھوڑنا فرض ہے بھئی، تو جو چھوڑنا جن کا فرض ہے، وہ چیزیں حرام ہیں، وہ اسی میں داخل ہو گئیں۔ "وکذا المكروہ فی الواجب" اور اسی طرح مکروہ تحریمی کس میں داخل ہے؟ واجب۔ معلوم ہوا واجب دو قسم پر ہے، کچھ چیزوں کا کرنا واجب ہے، کچھ چیزوں کا چھوڑنا واجب ہے، جن چیزوں کا چھوڑنا واجب ہے، وہی کیا ہیں دراصل؟ مکروہ تحریمی ہیں۔ "والمباح مما لیس بمشروع بالمعنی الذی قلنا" اور مباح جو ہے، مما ان چیزوں میں سے ہے، "لیس بمشروع" جو مشروع نہیں ہے "بالمعنی الذی قلنا" اس معنیٰ کے اعتبار سے جو ہم نے کہی بھئی۔
مباح وہ مشروع نہیں ہے اس معنیٰ کے اعتبار سے جو ہم نے کہا بھئی۔
بھئی یہ اشکال کا جواب دے رہے ہیں، اشکال یہ کہ ابھی بھی ایک چیز باقی رہ گئی اور وہ مباح ہے، آپ نے ہمیں فرض، واجب، سنت، نفل، حرام اور مکروہ تحریمی، ان کو تو آپ نے شمار کر لیا، ایک قسم رہ گئی اور وہ کیا ہے؟ مباح بھئی۔
تو جواب دی رہے ہیں کہ بھئی مباح داخل نہیں ہوتا تو کوئی حرج نہیں، کیونکہ مباح وہ مشروع نہیں ہے اس معنیٰ کے اعتبار سے جو ہم نے کہا بھئی، جو ہم نے کہا، کس اعتبار سے؟
کہتے ہیں اس معنیٰ کے اعتبار سے مباح ان مشروع میں داخل نہیں ہے، کیونکہ ہم نے کیا کہا تھا؟ وہ چیزیں جن کو اللہ نے مشروع فرمایا ہو یعنی جن کا حکم دیا ہو بھئی، جن کا حکم دیا ہو، اور مباح وہ، وہ تو ایسی چیز نہیں جس کا اللہ نے حکم دیا ہے، لہٰذا اگر یہ داخل نہ بھی ہو تو کوئی حرج نہیں۔ بعضوں نے اور جواب دیا، وہ کہتے ہیں: مباح بھی نفل میں داخل ہے بھئی، مباح کس میں داخل ہے؟ نفل میں داخل ہے بھئی، کس طرح؟ کہتے ہیں بھئی نفل کی کیا تعریف ہوئی؟ کہ اس کے انکار کرنے والے کو کافر بھی نہ قرار دیا جاتا ہو، اس کے چھوڑنے پر سزا بھی نہ ہو اور اس کے چھوڑنے پر ملامت بھی نہ ہو، یہی تعریف ہوئی نا؟ اس کے چھوڑنے پر ملامت بھی نہ ہو، تو وہ ہے نفل، تو مباح پر بھی یہ تعریف صادق آ رہی ہے۔ اس کے انکار کرنے والے کو کافر قرار نہیں دیا جاتا، اس کے چھوڑنے پر سزا نہیں ہے اور اس کے چھوڑنے پر ملامت نہیں، تو ساری تعریف نفل والی اس پر بھی صادق آ رہی ہے، لہٰذا یہ کس میں داخل ہوا؟ نفل ہی میں داخل ہو گیا۔
"فالاول فریضۃ" پس پہلی قسم فریضہ ہے بھئی، وہی فرض کی بات بھئی، یہ تو شارح نے بتلایا تھا بھئی، فرض اسے کہتے ہیں، واجب اسے، سنت اسے، اب متن میں بھی وہ بتلائیں گے۔
کہتے ہیں: "فالاول فریضۃ" پس پہلی قسم، عزیمت کتنی قسم پر بتلایا؟ چار۔ پس ان میں سے پہلی قسم فریضہ ہے، "وہی ما لا يحتمل الزيادۃ ولا النقصان" اور یہ وہ عزیمت ہے جو احتمال نہیں رکھتی زیادتی اور کمی کا، یعنی جس میں یہ اللہ کی طرف سے مقرر ہے، اس میں کسی قسم کی کمی اور زیادتی نہیں کی جا سکتی۔ "ثبتت بدلیل" ثابت ہوئی ایسی دلیل کے ذریعے، "لا شبہۃ فیہ" جس میں کسی قسم کا شبہ نہ ہو، یعنی دلیل قطعی کے ذریعے ثابت ہو گا بھئی۔
کس کے ذریعے؟ فرض جو ہے، یاد رکھو وہ ہمیشہ دلیل قطعی کے ذریعے ثابت ہو گا۔ کیونکہ ابھی انہوں نے آپ کو بتلایا کہ فرض کے انکار کرنے والے کو کافر قرار دیا جائے گا، معلوم ہوا یہ اتنی مضبوط بات ہے، اتنی قطعی ہے کہ اس میں ذرہ بھر بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں، پھر ایک شخص کیا کر رہا ہے اس کا؟ انکار کر رہا ہے، تو اسے کیا قرار دیں گے؟ کافر بھئی۔ تو معلوم ہوا اس میں ایک تو یہ مقرر ہے اللہ کی طرف سے، مثلاً ظہر کی چار رکعتیں ہیں، عصر کی چار رکعتیں ہیں، مغرب کی تین رکعتیں ہیں، کسی قسم کی ان میں کمی بیشی کی گنجائش نہیں، اور یہ قطعی دلیل کے ذریعے ثابت ہیں جن میں کسی قسم کا شک اور شبہ نہیں ہے۔
"فاعداد الرکعات والصیامات" پس رکعتوں کی تعداد اور روزے جو ہیں، "وکیفیتہما" اور ان کی کیفیت جو ہے، "کلہا متعین بتعین" یہ سب کے سب متعین ہے تعین کے ساتھ، "لا ازدیاد فیہ ولا نقصان" نہ ان میں زیادتی ہو سکتی ہے اور نہ کمی۔ "وثابت بمقطوع" اور یہ ثابت ہیں ایسی قطعی دلیل کے ذریعے، "لا يحتمل الشبہۃ" جو شبہ کا احتمال نہیں رکھتی۔ "ولا یقال انہ يتناول بعض المباحات والنوافل الثابتتین کذالک" یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ یہ تو شامل ہے بعض مباحات کو بھی، بعض مباح چیزوں کو بھی، "والنوافل" اور بعض نوافل کو بھی شامل ہے، "الثابتتین کذالک" جو کہ اس حال میں کہ وہ اسی طریقے پر ثابت ہیں۔
انہوں نے تعریف کیا کی؟ کہ جو کمی اور زیادتی کا احتمال نہ رکھتے ہوں
جو وہ فرض وہ عزیمت ہے جو کمی اور زیادتی کا استعمال نہ رکھے۔ اور ایسی دلیل کے ذریعے ثابت ہو جس میں کسی قسم کا شبہ نہ ہو۔ کہتے ہیں اس پر تو بعض مباحات بھی داخل ہو رہے ہیں، بعض نوافل بھی داخل ہو رہے ہیں، کیونکہ وہ بھی کتاب اللہ سے ثابت ہیں۔
اللہ کیا فرماتے ہیں؟ كُلُوا وَاشْرَبُوا، کھاؤ اور پیو بھئی۔ کھانے اور پینے کا مباح ہونا ثابت ہوا یا نہیں ہوا؟ اسی طرح تو بعض چیزیں مباحات اور نوافل وہ کتاب اللہ سے ثابت ہیں۔ جب کتاب اللہ سے ثابت ہیں، تو ان میں کسی قسم کا شک اور شبہ ہے؟ کسی قسم کا بھی شک اور شبہ نہیں، لہذا وہ بھی فرض کی تعریف میں داخل ہو رہے ہیں۔
تو جواب دیا، دیں گے مصنف شارح بھئی، کہ فرض کی ہم نے کیا تعریف کی؟ وَهِيَ مَا، یہ "ما" سے مراد عزیمت ہے۔ کیا مراد ہے؟ عزیمت مراد ہے۔ اور جب "ما" سے مراد عزیمت لے لی، تو یہ چیزیں وہیں پر خارج ہو گئیں، آگے تعریف کی وجہ سے اب وہ پھر داخل نہیں ہوں گی، وہ تو خارج ہو چکی ہیں۔
تو یہ کہتے ہیں، یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ یہ تو بعض مباح اور نوافل کو بھی شامل ہیں الثَّابِتَتَيْنِ كَذَلِكَ اس حال میں کہ وہ بھی اسی طرح ثابت ہیں، یعنی ان میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے، لِأَنَّ كَلِمَةَ مَا عِبَارَةٌ عَنْ عَزِيمَةٍ مَعْهُودَةٍ اس لیے کیونکہ کلمہ "ما" جو ہے، وہ عبارت ہے اس عزیمت سے جو متعین ہے، لَمْ يَتَنَاوَلْهَا قَطُّ جو ان کو کبھی بھی شامل نہیں ہے، وہ اس میں داخل ہی نہیں ہے بھئی۔
كَالإِيمَانِ وَالأَرْكَانِ الأَرْبَعَةِ جیسے کہ ایمان ہے بھئی۔ ایمان کیا ہے؟ فرض۔ وَالأَرْكَانِ الأَرْبَعَةِ اور جیسے ارکانِ اربعہ، وَهِيَ الصَّلاةُ وَالزَّكَاةُ وَالصَّوْمُ وَالْحَجُّ یعنی کہ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج بھئی۔
وَحُكْمُهُ اللُّزُومُ عِلْمًا وَتَصْدِيقًا بِالْقَلْبِ اور حکم اس کا جو ہے، وہ لازم ہونا ہے۔ لازم ہے یہ۔ فرض جو ہے وہ کیا ہو گا؟ لازم ہو گا عِلْمًا، باعتبار علم کے۔ علم سے مراد ہے یقین۔ علم سے کا کیا معنی ہے؟ یقین۔
یعنی اس پر یقین لازم ہو گا۔ اس پر یعنی اس کا اعتقاد رکھنا کیا ہو گا؟ فرض۔ تو اس کا علم جو ہے، حکم کیا ہے؟ لازم ہونا ہے باعتبار علم کے اس کا، وَتَصْدِيقًا بِالْقَلْبِ اور حکم اس کا کیا ہے؟ لازم ہونا، کس اعتبار سے؟ تصدیقِ قلبی کے اعتبار سے، یعنی دل سے بھی کیا کرے اس کی؟ تصدیق کرے، دل سے بھی اس کو اسی طرح مانے۔
قِيلَ هُمَا مُتَرَادِفَانِ، اچھا بھئی، متن میں آیا: وَحُكْمُهُ اللُّزُومُ، حکم کیا ہے اس کا فرض کا؟ لازم ہونا، کہ یہ لازم ہو گا بھئی انسان پر۔ اور آگے کہا: عِلْمًا وَتَصْدِيقًا بِالْقَلْبِ، کیا یہ دونوں ایک چیز ہیں؟ بعض نے کہا ہاں، یہ دونوں ایک چیز ہیں بھئی۔ علم اور تصدیق بالقلب کیا ہے؟ یقین، کہ یعنی ان کا اعتقاد رکھے، دل سے ان پر یقین کرے، ان کو مانے بھئی۔
شارح بتائیں گے نہیں بھئی، یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ ایک ہے یقین، وہ عام ہے، اختیاری بھی ہو سکتا ہے اور غیر اختیاری بھی۔ اور تصدیق بالقلب کیا ہے؟ وہ اختیاری چیز ہے دل سے۔ جیسے بھئی دیکھیے، کفارِ مکہ جو ہیں، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو جانتے تھے بھئی۔ وہ نشانیاں وغیرہ دیکھتے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے قرآن سنتے تھے، اسی سے ان کو پتہ چل گیا تھا کہ یہ انسانی کلام نہیں بھئی، یہ انسانی کلام نہیں، معجزات وغیرہ دیکھتے تھے، ان کے کردار کی پاکیزگی دیکھتے تھے، ان سب چیزوں سے اتنا ان کو یقین تھا، وہ جانتے تھے کہ یہ پیغمبر ہیں۔ تو یقین ان کو بھی حاصل تھا، لیکن تصدیق بالقلب یعنی یہ عقیدہ رکھنا، اس کو سچا ماننا، یہ ان کا اعتقاد نہیں تھا بھئی، اختیاری۔ تو اختیاری طور پر وہ اس کو مانتے نہیں تھے، غیر اختیاری طور پر یقین ان کو بھی حاصل تھا۔
بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: قِيلَ هُمَا مُتَرَادِفَانِ، کہا گیا ہے یہ دونوں مترادف ہیں۔ وَالأَصَحُّ اور صحیح قول یہ ہے کہ كَانَ التَّصْدِيقُ مَا يُعْتَقَدُ فِيهِ بِالاِخْتِيَارِ القَصْدِيِّ کہ تصدیق وہ ہے جس میں اعتقاد رکھا جائے اختیارِ قصدی، یعنی بالارادہ اختیار کے ساتھ جس میں اعتقاد رکھا جائے، وَهُوَ أَخَصُّ مِنَ العِلْمِ القَطْعِيِّ اور وہ علمِ قطعی سے اخص۔ بھئی علم تو عام ہے، اختیاری بھی قطعی علم، یقین، میں نے بتایا اختیاری بھی ہو سکتا ہے اور غیر اختیاری بھی ہو سکتا ہے، تو وہ اعم ہے اور یہ تصدیق بالقلب اس کے مقابلے میں اخص ہے۔ إِذْ قَدْ يَحْصُلُ بِلاَ اخْتِيَارٍ اس لیے کیونکہ یہ علمِ قطعی یعنی یقینی علم جو ہے، کبھی کبھار بغیر اختیار کے بھی حاصل ہو جاتا ہے، وَلاَ يُصَدَّقُ بِهِ اور تصدیق نہیں کی جاتی، كَمَا كَانَ لِلْكُفَّارِ الَّذِينَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ جیسے کہ وہ کفار جو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتے تھے كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ جیسے کہ وہ اپنے بچوں کو پہچانتے تھے، یعنی بچوں میں جس طرح ان کو کسی قسم کا شک اور شبہ نہیں تھا، یقین تھا کہ یہ ہماری اولاد ہے، اسی طرح پیغمبر کو بھی وہ پہچانتے تھے کہ یہ یقیناً کیا ہے؟ اللہ کے رسول ہیں، لیکن پھر بالارادہ وہ اس کو مانتے نہیں تھے۔
تو اس کا حکم کیا بیان کیا بھئی فرض کا؟ وَحُكْمُهُ اللُّزُومُ، اس کا حکم لازم ہونا ہے باعتبار علم کے اور باعتبار تصدیقِ قلبی کے، وَعَمَلًا بِالبَدَنِ اور لازم ہونا ہے باعتبار عمل کے بدن سے بھئی۔
بھئی یاد رکھیے، فرض جو ہے اس میں اعتقاد بھی ضروری اور عمل بھی ضروری۔ اعتقاد اگر نہیں رکھتا تو بھی ابھی بتلایا کہ اس کے انکار کرنے والے کو کیا قرار دیا جائے گا؟ کافر۔ تو اس میں اعتقاد بھی ضروری ہوتا ہے اور عمل بھی واجب ہے۔ جبکہ آگے واجب آئے گا، اس میں اعتقاد ضروری نہیں، واجب نہیں، البتہ عمل کیا ہے؟ واجب ہے بھئی۔
تو یہ معنی ہیں کہ اس کا حکم کیا ہے؟ اعتقاد کے اعتبار سے بھی لزوم اور بدنی عمل کے اعتبار سے بھی لزوم۔ فَفِي العِبَادَةِ البَدَنِيَّةِ پس عبادتِ بدنیہ کے اندر هُوَ أَدَاؤُهَا بِالبَدَنِ وہ اس کو ادا کرنا ہے بدن کے ساتھ، وَفِي المَالِيَّةِ اور عبادتِ مالیہ کے اندر إِعْطَاؤُهَا وہ اس کو عطا کرنا ہے، أَوْ إِنَابَةُ وَكِيلٍ لَهَا یا نائب بنانا ہے کسی وکیل کو اس کے لیے، حَتَّى يُكْفَرَ جَاحِدُهُ حَتَّى يُكْفَرَ جَاحِدُهُ یہاں تک کہ کافر قرار دیا جائے گا اس کے انکار کرنے والے کو، أَيْ يُنْسَبَ إِلَى الكُفْرِ مُنْكِرُهُ یعنی نسبت کی جائے گی کفر کی طرف اس کے انکار کرنے والے کی۔
بھئی متن میں، میں نے پڑھا حَتَّى يُكْفَرَ، اَکْفَرَ یُکْفِرُ اکفار سے، اس کے معنی کیا کیے شارح نے؟ دوسرے کی طرف کفر کی نسبت کرنا، وہی معنی، دوسرے کو کافر قرار دینا۔ تو یہاں پر اگر "یکفر" بھی پڑھا جائے حَتَّى يُكَفَّرَ تو بھی معنی ٹھیک رہے گا، لیکن علماء اور شارحین منار کی دوسری شروحات میں، اس کے دیگر شارحین لکھتے ہیں کہ اگرچہ لغوی اعتبار سے "یکفر" بھی پڑھنا یہاں صحیح، لیکن متن کی جو روایات آئی ہیں، وہاں وہ بابِ تفعیل سے نہیں بلکہ کس باب سے ہیں؟ بابِ افعال سے، تو اس کو اس لیے "یکفر" پڑھیں بھئی۔
حَتَّى يُكْفَرَ جَاحِدُهُ یہاں تک کہ کافر قرار دیا جائے گا اس کے انکار کرنے والے کو، أَيْ يُنْسَبَ إِلَى الكُفْرِ مُنْكِرُهُ یعنی نسبت کی جائے گی کفر کی طرف اس کے انکار کرنے والے کی، تَفْرِيعٌ عَلَى العِلْمِ وَالتَّصْدِيقِ یہ تفریع ہے علم اور تصدیق پر۔ بھئی کیا بتلایا تھا، حکم کیا ہے فرض کا؟ علم اور تصدیق کے اعتبار سے بھی لازم ہے اور عمل کے اعتبار سے بھی لازم ہے۔ علم اور تصدیق کے اعتبار سے لازم ہے، اسی پر تفریع کرتے ہوئے کہا، انکار جو کرتا ہے۔ عمل کی بات نہیں کی جو عمل نہیں کرتا اسے کافر قرار دیں گے، بلکہ کیا کہا؟ جو انکار کرتا ہے اسے کیا قرار دیں گے؟ کافر۔ تو دیکھو یہ کس پر مرتب کیا؟ علم اور تصدیق، جو علم جو اس کو یقینی نہیں مانتا اور اس کی تصدیق نہیں کرتا، اسے کیا قرار دیا جائے گا؟ کافر۔ تو یہ تفریع ہوئی بھئی علم اور تصدیق پر۔
وَيُفَسَّقُ تَارِكُهُ اور فاسق قرار دیا جائے گا اس کے چھوڑنے والے کو بِلاَ عُذْرٍ بغیر کسی عذر کے۔ بھئی جو چھوڑنے والا ہے، اعتقاد تو ہے اس کا، مانتا تو ہے لیکن چھوڑ دیتا ہے اس کو فرض کو بغیر کسی عذر کے، اس کو کیا کہیں گے؟ فاسق۔ "بلا عذر" کی قید لگائی، معلوم ہوا عذر کی وجہ سے کوئی چھوڑ دے تو اس پر فاسق ہونے کا حکم نہیں لگائیں گے، مثلاً کوئی بیمار ہے، بیماری کی وجہ سے اب روزہ بھی نہیں رکھتا تو اسے آپ فاسق نہیں کہیں گے، کیونکہ وہ اسے عذر ہے بھئی۔
کہتے ہیں: تَفْرِيعٌ عَلَى العَمَلِ بِالبَدَنِ یہ تفریع ہے عمل بالبدن پر، وَاحْتُرِزَ بِهِ عَنِ التَّرْكِ بِعُذْرِ الإِكْرَاهِ وَبِعُذْرِ الرُّخْصَةِ اور احتراز کیا اس کے ذریعے اکراہ کے عذر کی وجہ سے چھوڑنے والے سے، چھوڑنے سے، وَبِعُذْرِ الرُّخْصَةِ اور رخصت کے عذر کی وجہ سے چھوڑنے سے، یعنی کسی عذر کی وجہ سے جو چھوڑ دے۔ اکراہ، کسی پر زبردستی کی جائے بھئی، ایک شخص ہے وہ اب روزہ رکھنا چاہتا ہے، دوسرے نے بندوق اٹھائی اور کہا کہ روزہ نہیں رکھنا تم نے، اگر روزہ رکھا تو میں تمہیں جان سے مار دوں گا۔ اب وہ افطار کرتا ہے، روزہ نہیں رکھتا، تو اب اس کو فاسق نہیں قرار دیا جائے گا، کیونکہ اس نے عذر کی وجہ سے فرض کو چھوڑا ہے۔
تو کہتے ہیں: وَاحْتُرِزَ بِهِ عَنِ التَّرْكِ بِعُذْرِ الإِكْرَاهِ وَبِعُذْرِ الرُّخْصَةِ احتراز کیا اس کے ذریعے رخصت کے عذر کی وجہ اور اکراہ کے عذر کی وجہ سے چھوڑنے سے، فَإِنَّهُ لاَ يُفَسَّقُ حِينَئِذٍ اس لیے کیونکہ اس وقت اس کو فاسق قرار نہیں دیا جائے گا۔
وَالثَّانِي وَاجِبٌ اور دوسری قسم عزیمت کی وہ واجب ہے، وَهُوَ مَا ثَبَتَ بِدَلِيلٍ فِيهِ شُبْهَةٌ اور وہ ہے جس کے جو ثابت ہو ایسی دلیل کے ذریعے فِيهِ شُبْهَةٌ جس میں کیا ہو؟ شبہ ہو۔ بھئی پیچھے بھی متن میں آیا تھا: بِدَلِيلٍ لاَ شُبْهَةَ فِيهِ، جس میں شبہ نہ ہو۔ یہاں بھی آیا: بِدَلِيلٍ فِيهِ شُبْهَةٌ، دلیل نکرہ آیا اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو اس کی کیا بنتا ہے؟ صفت۔ کیوں بنتا ہے؟ کیونکہ وہ فعل اپنے فاعل سے مل کر کیا بننا ہے؟ جملہ، اور جملہ کس کے حکم میں ہوتا ہے؟ نکرہ، تو یہ اس نکرہ کے بعد نکرہ چونکہ آتا ہے اس کی صفت بنتا ہے۔ یہاں بھی دلیل نکرہ آیا، فِيهِ شُبْهَةٌ یہ جملہ اسمیہ ہے پورا، فِيهِ خبرِ مقدم، شُبْهَةٌ مبتدائے مؤخر، تو یہ پورا جملہ اسمیہ ہوا اور جملہ کس کے حکم میں ہوتا ہے؟ نکرہ کے حکم میں، لہذا یہ اس کی صفت بنے گا۔
تو کہتے ہیں، واجب وہ ہے جو ثابت ہو ایسی دلیل سے فِيهِ شُبْهَةٌ جس میں کیا ہو؟ شبہ ہو۔ کَالْعَامِّ المَخْصُوصِ البَعْضِ جیسے کہ عام مخصوص البعض، وَالمُجْمَلِ اور جیسے کہ مجمل ہے، وَخَبَرِ الوَاحِدِ اور جیسے کہ خبرِ واحد ہے۔
بھئی وہ دلیلیں بتلا رہے ہیں بھئی جن میں شبہ ہو۔ عام مخصوص البعض، وہ عام جس سے بعض افراد کی تخصیص کر لی جائے۔ بھئی دیکھیے، عام سے جب بعض افراد کی تخصیص کر لی گئی تو جو باقی افراد ہیں، ان سب کے اندر شبہ آ گیا کہ پتہ نہیں یہ بھی حکم میں داخل ہے یا یہ اس کے اندر بھی وہ علت موجود ہے اور اس کو بھی نکالنا پڑے گا۔ مثلاً میں نے کہا کہ درجہ رابعہ والے تمام طلباء کو سو سو روپیہ دیا جائے، لیکن زید، عمر اور بکر کو نہ دیا جائے۔ اب آپ نے غور کرنا شروع کیا بھئی ان تین کی تخصیص کیوں ہوئی؟ ان کو کیوں نکالا گیا حکم سے؟ فرض کریں آپ کو علت پتہ چل گئی۔ اب مثلاً کہ یہ بھئی، یہ تکرار نہیں کرتے، اب یہ احتمال تو باقی سب کے اندر بھی ہے۔ جس جس میں یہ علت آپ کو ملے گی، آپ کیا کریں گے اس کو حکم سے نکالیں، لیکن بہرحال، جب تین کو نکال دیا تو باقی ہر ایک کے اندر احتمال ہے کہ شاید اس میں بھی یہ علت ہو، اگر یہ علت ہے تو اس کو بھی کیا کرنا پڑے گا؟ تو باقیوں میں عمل تو کریں گے، لیکن احتمال تو ہے، شاید اس میں بھی کیا ہو؟ یہی والی علت ہو، تو اب یہ قطعی رہا یا ظنی بن گیا بھئی؟ ظنی، تو عام مخصوص البعض ظنی ہوتا ہے۔ اسی طرح مجمل ہے، خبرِ واحد جو ہے، وہ بھی ظنی ہے۔
تو ان کے ذریعے جو ثابت ہو گا، وہ واجب کہلائے گا، فرض نہیں۔ کَصَدَقَةِ الفِطْرِ وَالأُضْحِيَّةِ جیسے کہ صدقہ فطر ہے اور قربانی ہے، أضحية یاء مشدد ہے بھئی۔ فَإِنَّهُمَا ثَبَتَا بِخَبَرِ الوَاحِدِ الَّذِي فِيهِ شُبْهَةٌ اس لیے کیونکہ یہ دونوں ثابت ہوتے ہیں، ثابت ہیں ایسی خبرِ واحد کے ذریعے جس میں کیا ہے؟ شبہ ہے، فَيَكُونَانِ وَاجِبَيْنِ تو یہ دونوں یعنی صدقہ فطر اور قربانی یہ واجب ہوں گے۔
وَحُكْمُهُ اللُّزُومُ عَمَلًا لاَ عِلْمًا عَلَى اليَقِينِ، بھئی اس واجب کا کیا حکم ہے؟ کہتے ہیں: لازم ہونا ہے باعتبار عمل کے، یعنی عمل کے اعتبار سے تو یہ لازم ہے، لاَ عِلْمًا عَلَى اليَقِينِ لیکن علم کے اعتبار سے یہ لازم نہیں، علی یقین یقینی طور پر بھئی، یعنی اس میں یقین رکھنا، اعتقاد رکھنا یہ واجب، یہ ضروری نہیں، لیکن عمل کرنا ضروری ہے۔ تو یہ فرق ہوا۔ فرض میں اعتقاد بھی ضروری ہوتا ہے اور عمل بھی ضروری، جبکہ واجب کے اندر عمل تو ضروری ہے، اعتقاد ضروری نہیں۔
فَهُوَ مِثْلُ الفَرْضِ فِي العَمَلِ دُونَ العِلْمِ، یہاں تک کہ یہ بس یہ فرض کی طرح ہے عمل کے اعتبار سے، دُونَ العِلْمِ نہ کہ علم کے۔ جیسے وہ فرض تھا عمل میں، ضروری تھا، یہ بھی عمل میں ضروری، لیکن علم اس کا ضروری تھا اور اس کا علم، یقین اس میں ضروری نہیں۔
حَتَّى لاَ يُكْفَرَ جَاحِدُهُ یہاں تک کہ کافر قرار نہیں دیا جائے گا اس کے انکار کرنے والے کو۔ یہ کس پر تفریع کی؟ لِعَدَمِ العِلْمِ، یہ تفریع کس کے لیے ہے؟ عدمِ علم پر ہے۔
وَيُفَسَّقُ تَارِكُهُ اور فاسق قرار دیا جائے گا اس کے چھوڑنے والے کو إِذَا اسْتَخَفَّ بِأَخْبَارِ الآحَادِ جب یہ اس کو ہلکا سمجھے کس کی وجہ سے؟ خبرِ واحد کی وجہ سے۔
یعنی وہ یہ کہتا ہے بھئی، یہ تو خبرِ واحد کے ذریعے ثابت ہے۔ کس کے ذریعے ثابت ہے؟ ہاں، تو لہذا معلوم ہوا یہ واجب نہیں ہے بھئی۔ خبرِ واحد کی وجہ سے اس کو کیا سمجھتا ہے وہ؟ معمولی سمجھتا ہے یعنی واجب نہیں سمجھتا، واجب نہیں سمجھتا۔
إِذَا اسْتَخَفَّ بِأَخْبَارِ الآحَادِ جب وہ اس کو ہلکا سمجھے اخبارِ آحاد کی وجہ سے، معنیٰ خود بیان کر رہے ہیں شارح بھئی، ہلکا سمجھے اخبارِ آحاد کی وجہ سے، کیا معنیٰ؟ بِأَنْ لاَ يَرَى العَمَلَ بِهَا وَاجِبًا یعنی یہ رائے نہ رکھے کہ اس پر عمل کرنا واجب ہے۔
لاَ أَنْ يَتَهَاوَنَ بِهَا، اس کو ہلکا سمجھے، اس کا یہ معنیٰ نہ کرنا، أَنْ يَتَهَاوَنَ بِهَا کہ وہ اس کو حقیر سمجھے۔ تہا ون کا کیا معنیٰ؟ حقیر۔ حقیر سمجھنے، یہ معنیٰ نہ کرنا بھئی، اس لیے کیونکہ اگر حقیر سمجھتا ہے تو شریعت کو تہا، حقیر سمجھنا اور اس کی تحقیر کرنا، یہ تو کفر ہے، اس صورت میں اسے کیا قرار دیا جائے گا؟ کافر قرار دیا جائے گا۔
لاَ أَنْ يَتَهَاوَنَ بِهَا نہ یہ کہ اس کو حقیر سمجھے، فَإِنَّ التَّهَاوُنَ بِالشَّرِيعَةِ كُفْرٌ اس لیے کہ شریعت کو حقیر سمجھنا یہ تو کفر ہے۔
وَإِنَّمَا خَصَّ أَخْبَارَ الآحَادِ بِالذِّكْرِ اعْتِبَارًا لِلْغَالِبِ اور خاص کیا اخبارِ آحاد کو ذکر کے ساتھ اعتبار کرتے ہوئے غالب کا۔ بھئی دیکھیے، متن میں کیا آیا، جب وہ ہلکا سمجھے اس کو کس کی وجہ سے؟ اخبارِ آحاد، یعنی خبرِ واحد کی وجہ سے۔ اس سے تو یہ معلوم ہو رہا ہے، جیسے واجب ہمیشہ خبرِ واحد ہی سے ثابت ہو گا۔ واجب کس سے ثابت ہو گا؟ اسی لیے اس کیا کہا، کوئی شخص اس خبرِ واحد ہونے کی وجہ سے کہ یہ تو خبرِ واحد سے ثابت ہے، اس لیے اس کو وہ واجب نہیں سمجھتا۔ تو اس سے یہ شبہ پڑتا تھا، کہتے ہیں نہیں بھئی، واجب صرف خبرِ واحد سے ثابت نہیں ہوتا، ہم بتلا چکے ہیں، مخصوص، عام مخصوص البعض، مجمل وغیرہ کے ذریعے بھی کیا ثابت ہو گا؟ واجب ثابت ہو جاتا ہے۔ پھر بھئی متن میں یہ کیوں ذکر کیا اخبارِ آحاد کو اس کے ساتھ؟ کہتے ہیں بھئی، اکثر کی وجہ سے، اکثر کس کے ذریعے ثابت ہوتا ہے واجب؟ خبرِ واحد، اس لیے اس کو ذکر کیا۔ یہ معنیٰ ہے: وَإِنَّمَا خَصَّ أَخْبَارَ الآحَادِ بِالذِّكْرِ اخبارِ آحاد کو ذکر کے ساتھ خاص کیا ہے اعْتِبَارًا لِلْغَالِبِ اعتبار کرتے ہوئے غالب کا، اکثر کا، لاَ لِأَنَّ الوَاجِبَ لاَ يَثْبُتُ إِلاَّ بِأَخْبَارِ الآحَادِ نہ کہ اس وجہ سے کہ واجب ثابت نہیں ہوتا مگر خبرِ واحد ہی سے۔ یعنی واجب صرف خبرِ واحد ہی سے ثابت ہوتا ہے، اس وجہ سے نہیں کیا، بلکہ اکثر چونکہ خبرِ واحد سے ثابت ہوتا ہے، اس لیے اس کو ذکر کیا۔
فَأَمَّا مُتَأَوِّلًا فَلاَ، باقی اس اگر تاویل کرنے والا ہے تو نہیں۔ انہوں نے کیا کہا؟ کہ اس واجب کو چھوڑنے والے کو کیا سمجھا جائے گا؟ فاسق۔ اسے کیا قرار دیا جائے گا؟ فاسق۔ لیکن اگر وہ تاویل کرنے والا ہے، پھر اسے فاسق بھی نہیں کہیں گے۔ مثلاً اگر اور علماء یا فقہاء انکار کریں واجب کا اور تاویل کرتے ہیں، اس کی وجہ ذکر کرتے ہیں کہ بھئی یہ کتاب اللہ کے مخالف ہے یا یہ ثابت ہے خبر، حدیثِ ضعیف سے یا حدیثِ غریب سے، تو اس صورت میں ان کو فاسق بھی قرار نہیں دیا جائے گا، اس لیے کہ یہ جو انہوں نے تاویل کی، یہ کوئی اپنی
نفسانی خواہش کی وجہ سے نہیں کی، بلکہ یہ تو اس چیز کی وجہ سے کی جو علماء کو ورثے میں ملی ہے، یعنی دقتِ نظر اور ذہانت بھئی، دقتِ نظر اور ذہانت۔ گہری گہرائی علوم میں ان کو عطا کی گئی، تو ان علوم میں گہرائی اور ذہانت کی وجہ سے انہوں نے غور و فکر کیا اور پھر بتلایا۔ تو کہ یہ اس وجہ سے یہ ثابت نہیں ہے بھئی، تو وہ اس پر مانتے نہیں، عمل ہی نہیں کرتے، تو اس کی وجہ سے ان پر یہ حکم نہیں لگایا جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟
فأما متأولاً باقی اس تاویل کرنے والا فلا، أي فأما ترك العمل بأخبار الآحاد بطريق التأويل، اور باقی عمل کو چھوڑنا اخبارِ آحاد کی وجہ سے بطريق التأويل تاویل کے طریقے پر عمل کو کیا کر دیتے ہیں؟ چھوڑ دیتے ہیں، کس کی وجہ سے؟ خبرِ واحد ہونے کی وجہ سے، بطريق التأويل تاویل کے طریقے پر، بأن يقولیں بعیں طور کہ یوں کہتے ہیں هذا الخبر ضعيف أو غريب أو مخالف للكتاب، یہ خبر یا تو ضعیف ہے یا غریب ہے یا کتاب اللہ کے مخالف ہے، فلا يفسق به تو اس کی وجہ سے فاسق قرار نہیں دیا جائے گا، لأن هذا ليس للهوى والشهوة، اس لیے کیونکہ یہ ہوا کہتے ہیں خواہشِ نفسانی کو، یہ اچھی بھی ہو سکتی ہے، بری بھی، لیکن یہ اب اکثر استعمال ہوتا ہے بری خواہشِ نفس کے اندر، اس لیے کیونکہ یہ بری خواہشِ نفس اور شہوت کی وجہ سے نہیں ہے یہ جو انہوں نے قول کیا، بل مما توارث به العلماء بلکہ یہ ان چیزوں میں سے ہے توارث به العلماء جو علماء کو ورثے میں ملی ہے، لأجل الدقة والفطانة گہرائی اور ذہانت کی وجہ سے، گہری سوچ اور گہرے غور و فکر اور ذہانت کی وجہ سے یہ ورثے میں ملی ہے، وہ اس طرح غور و فکر کرتے ہیں اور اسی طرح وہ احکام نکالتے ہیں بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المراد، والله أعلم بحقيقة الكلام۔