درس نمبر۔140
وَإِنْ كَانَ الْمَالُ فِيهِ مَقْصُودًا كَالْخُلْعِ وَالْعِتْقِ عَلَى مَالٍ وَالصُّلْحِ عَنْ دَمِ الْعَمْدِ، فَإِنَّ الْمَالَ مَقْصُودٌ فِي كُلِّ وَاحِدٍ مِنْ هَذِهِ الْأُمُورِ لِأَنَّهُ لَا يَجِبُ بِدُونِ الذِّكْرِ وَالتَّسْمِيَةِ. فَإِنْ هَزَلَا بِأَصْلِهِ بِأَنْ تَوَاضَعَا عَلَى أَنْ يَعْقِدَا هَذِهِ الْعُقُودَ بِحُضُورِ النَّاسِ وَيَكُونُ فِي الْوَاقِعِ هَزْلًا، وَاتَّفَقَا عَلَى الْبِنَاءِ عَلَى الْمُوَاضَعَةِ بَعْدَ الْعَقْدِ فَالطَّلَاقُ وَاقِعٌ وَالْمَالُ لَازِمٌ عِنْدَهُمَا.
ہزل کی بحث چل رہی ہے، یعنی مذاق بھئی، کہ مذاق کے طور پر کوئی عقد کیا جائے۔ اور آپ نے پڑھا کہ یہاں پر مذاق کے اندر صرف دلالتِ حال جو ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے، بلکہ کون سا مذاق مراد ہے؟ جس میں پہلے سے باقاعدہ زبان سے طے کیا ہو کہ ہم کیا کریں گے؟ مذاق کریں گے لوگوں کے سامنے بھئی۔ معاملہ کچھ اور طرح ہوگا، لوگوں کو کچھ اور دکھائیں گے بھئی۔
تو کہتے ہیں: "وَإِنْ كَانَ الْمَالُ فِيهِ مَقْصُودًا" اور اگر مال اس کے اندر مقصود ہو، یعنی بطورِ هزل کے جس عقد کو کر رہے ہیں، هزل کے طور پر، مذاق کے طور پر جو عقد کر رہے ہیں، اگر اس میں مال مقصود ہو۔ اس سے پہلے ذکر ہوا تھا نکاح، نکاح کے اندر مال مقصود نہیں ہوتا۔ اس سے پیچھے طلاق وغیرہ کا ذکر تھا، جس میں سرے سے مال ہی نہیں ہوتا۔ اب بتلا رہے ہیں اگر وہ عقد ایسا ہے جس میں مال مقصود ہے، "كَالْخُلْعِ" جیسے خلع ہے، "وَالْعِتْقِ عَلَى مَالٍ" اور مال کے بدلے آزادی، مال پر آزادی، "وَالصُّلْحِ عَنْ دَمِ الْعَمْدِ" اور صلح کرنا دمِ عمد، جان بوجھ کر کوئی قتل کیا کسی نے، تو وہاں پر کیا کر لیں؟ صلح کر لیں۔
اب یہ جو چیزیں ہیں، ان کے اندر مال مقصود ہوتا ہے۔ اور اس میں اب وہ هزل کرتے ہیں، مذاق کرتے ہیں لوگوں کے سامنے، تو اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟ وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ تو یہ جو چیزیں ہیں، کہتے ہیں: ان کے اندر مال مقصود ہے بھئی۔ کہتے ہیں: "فَإِنَّ الْمَالَ مَقْصُودٌ فِي كُلِّ وَاحِدٍ مِنْ هَذِهِ الْأُمُورِ" پس مال جو ہے، وہ مقصود ہے ان میں سے ہر ایک امر کے اندر، "لِأَنَّهُ لَا يَجِبُ بِدُونِ الذِّكْرِ وَالتَّسْمِيَةِ" اس لیے کیونکہ مال بغیر ذکر کیے اور بغیر نام لیے وہ واجب نہیں ہوتا بھئی۔
بغیر ذکر کیے ان میں مال واجب... نہیں۔ اور ذکر کر رہے ہیں، معلوم ہوا مال مقصود ہے۔ بغیر ذکر کے تو ان میں مال نہیں، لیکن ذکر جب... تو بغیر ذکر کے مال آتا نہیں، اور یہ اس کو ذکر کر رہے ہیں باقاعدہ، تو ان کا یہ ذکر ہی بتلا رہا ہے مال کو ذکر کرنا کہ مال یہاں پر مقصود ہے۔ نکاح کے اندر تو مال ذکر نہ کریں، پھر بھی خود بخود آ جاتا ہے، لیکن یہاں پر باقاعدہ کیا کرنا پڑے گا؟ ذکر، پھر آئے گا۔ اور وہ ذکر کر رہے ہیں، تو یہ ذکر کرنا ہی کس چیز کی دلیل ہے؟ کہ مال مقصود ہے۔
"فَإِنْ هَزَلَا بِأَصْلِهِ" یہاں پر بھی وہی تین صورتیں ہیں بھئی۔ یہ جو خلع ہے، عتق علی مال ہے، اور صلح عن دم العمد ہے بھئی، ان کے اندر یا تو وہ مذاق کریں گے اصلِ عقد کے اندر ہی، یا اس پیسوں کی مقدار میں مذاق کریں گے، یا اس بدل کی جنس میں مذاق کریں گے بھئی۔ صورتیں یاد ہیں بھئی؟ کس میں؟ یا تو اصلِ عقد میں کہ ہمارے درمیان یہ عقد ہوگا نہیں، ہم بس لوگوں کے سامنے یہ والا عقد کریں گے، تو اصلِ عقد میں ہی مذاق کر رہے ہیں۔
یا اس جو بدل ہے، اس کی مقدار میں مذاق کرتے ہیں کہ ہمارے درمیان جو طے ہیں، مثلاً وہ ایک ہزار ہیں، لیکن لوگوں کے سامنے کس پر عقد کریں گے؟ دو ہزار پر۔ یا اس بدل کی جنس کے اندر مذاق کرتے ہیں کہ ہمارے اور تمہارے درمیان طے تو مثلاً دراہم ہیں، لوگوں کے سامنے کیا ذکر کریں گے؟ دینار ذکر کریں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو پہلی صورت اب ذکر کر رہے ہیں جس میں اصلِ عقد کے اندر ہی کیا کر رہے ہیں دونوں مذاق، کہ ہوگا... ہمارے اور تمہارے درمیان عقد ہوگا نہیں، لیکن لوگوں کے سامنے کر لیں گے بھئی۔ اور پھر آپ نے پڑھا تھا کہ یہاں پھر عقد کے بعد چار صورتیں بنتی ہیں بھئی۔ بعد میں دونوں کیا کر لیں گے؟ عقد کے بعد، مجلس ختم ہونے کے بعد دونوں اتفاق کرتے ہیں کہ یہ ہم مذاق کر رہے تھے۔ وہ جو ہم نے پہلے طے کیا تھا، اسی پر عمل کر رہے تھے، ہم مذاق کر رہے تھے۔
دوسری صورت یہ کہ بعد میں کیا کہتے ہیں؟ ہم تو سنجیدہ تھے بھئی، اعراض کرتے ہیں، اعراض کرتے ہیں۔ یا دونوں کہتے ہیں: ہم خالص ذہن تھے، ہمارے ذہن میں کچھ نہیں تھا، نہ اعراض تھا اور نہ مذاق، یعنی نہ بناء تھی بھئی اس پر۔ اور چوتھی صورت کہ دونوں مختلف ہیں بھئی، اختلاف کرتے ہیں۔ ایک کہتا ہے: میں مذاق کر رہا تھا، دوسرا کہتا ہے: میں سنجیدہ تھا بھئی۔
"فَإِنْ هَزَلَا بِأَصْلِهِ" پس اگر دونوں نے مذاق کیا اس عقد کی اصل میں ہی، "بِأَنْ تَوَاضَعَا عَلَى أَنْ يَعْقِدَا هَذِهِ الْعُقُودَ بِحُضُورِ النَّاسِ" بدیں طور کہ دونوں نے اتفاق کیا اس بات پر کہ دونوں عقد کریں گے یہ والے عقد لوگوں کی موجودگی میں، "وَيَكُونُ فِي الْوَاقِعِ هَزْلًا" اور واقع کے اندر مذاق ہوگا، یعنی کوئی عقد ہوگا نہیں، مذاق کے طور پر کریں گے۔ "وَاتَّفَقَا عَلَى الْبِنَاءِ" اور دونوں نے اتفاق کر لیا بناء پر... خلاصۂ بحث یاد رکھیے۔
दोनों بناء پر اتفاق کر لیں، کیا معنی؟ بناء پر اتفاق کا کیا معنی میں نے کل بیان کیا؟ ہم... ہاں، اسی موافقت، وہ جو اتفاق کیا تھا، اسی پر بناء کر لیں کہ ہم دونوں بعد میں بھی کہتے ہیں: ہم دونوں تو مذاق کر رہے تھے۔ اس صورت میں صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف ہے، جب دونوں کیا کریں؟ بناء پر اتفاق کریں، یعنی مذاق پر اتفاق کریں، بعد میں بھی کہیں: ہم دونوں مذاق کر رہے تھے، اس میں امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے۔
جبکہ باقی تین صورتیں جو ہیں، کون کون سی؟ دونوں اگر اعراض پر اتفاق کریں، یعنی ہم تو سنجیدہ تھے، اس مذاق سے اعراض کر رہے ہیں، رخ پھیر لیں بھئی۔ یا دونوں خالص ذہن ہوں، یا دونوں آپس میں اختلاف... تو باقی تینوں صورتوں میں امام صاحب اور صاحبین کا اتفاق ہے کہ طلاق بھی واقع ہوگی اور مال بھی واجب ہوگا۔ جتنا ذکر کریں گے، وہ سارا بھئی۔ جتنا ذکر کریں گے... وہ سارا۔ وہ سارا مال... مذاق کس میں کر رہے ہیں؟ اصلِ عقد میں یہاں پر۔ کس میں؟ اصلِ... ہاں، تو وہ مال والی صورت آگے آئے گی، بہرحال یہ یاد رکھیں اصلِ عقد میں مذاق کریں کہ عقد ہم کریں گے لیکن ہوگا نہیں، تین صورتوں میں امام صاحب اور صاحبین فرماتے ہیں کہ عقد وہ یعنی طلاق وغیرہ ہو جائے گی اور مال بھی لازم ہو جائے گا۔
جبکہ ایک صورت جس میں بناء پر اتفاق کرتے ہیں، یعنی... کیا معنی بناء پر اتفاق؟ مذاق پر اتفاق کرتے ہیں کہ ہم تو وہی مذاق کر رہے تھے، ہم نے تو ویسے ہی کیا تھا یہ سارا کچھ، بعد میں بھی یہی کہہ رہے ہیں۔ تو اس صورت میں صاحبین کا اور امام صاحب کا اختلاف ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ اس صورت کے اندر بھی طلاق واقع ہو جائے گی اور مال لازم ہو جائے گا۔ یعنی صاحبین کے نزدیک چاروں صورتوں میں طلاق بھی ہوگی اور مال بھی لازم۔
جبکہ امام صاحب اس بناء والی صورت میں فرماتے ہیں کہ یہ عورت کی مشیئت پر ہوگا بھئی، عورت کے اختیار پر ہے۔ اگر وہ اس کو، جس کو اس نے مذاق کے طور پر قبول کیا ہے، لوگوں کے سامنے... خاوند مثلاً خلع کی بات کر رہا ہے نا، طلاق دے رہا ہے اور بیوی کیا کر رہی ہے اس کو؟ قبول، لوگوں کے سامنے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وہ جو خلع کیا لوگوں کے سامنے، اگر... امام صاحب فرماتے ہیں: بعد میں دونوں کس پر اتفاق کر لیتے ہیں؟ بناء پر۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں: یہ اب عورت کے اختیار پر ہے۔ یہ جس عقد کو، جس مال کو، عقد کے دوران جس مال کو اس نے بطورِ مذاق کے قبول کیا تھا، اس کو اگر وہ سنجیدگی سے قبول کر لے گی، تو پھر طلاق بھی ہو جائے گی اور مال بھی لازم ہو جائے گا بھئی، ورنہ نہیں بھئی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں: نہیں، طلاق بھی ہوگی اور مال بھی... صورت سمجھ میں آ گئی چاروں صورتیں بھئی؟
تو کہتے ہیں: اگر دونوں نے اصل میں ہی مذاق کیا، "وَاتَّفَقَا عَلَى الْبِنَاءِ عَلَى الْمُوَاضَعَةِ بَعْدَ الْعَقْدِ" اور دونوں نے بناء پر اتفاق کیا اس مواضعت پر، وہ جو اتفاق کیا تھا، اس پر اتفاق کیا عقد کے بعد، "فَالطَّلَاقُ وَاقِعٌ وَالْمَالُ لَازِمٌ عِنْدَهُمَا" تو طلاق واقع ہوگی اور مال لازم ہوگا صاحبین کے نزدیک۔ "ثُمَّ اخْتَلَفَتْ نُسَخُ الْمَتْنِ فِي هَذَا الْمَقَامِ" پھر مختلف ہیں متن کے نسخے اس مقام پر۔ متن کے مختلف نسخوں میں یہاں عبارت کچھ مختلف قسم کی آئی ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟
"فَذُكِرَ فِي بَعْضِهَا هَاهُنَا" پس ذکر کیا بعض نسخوں کے اندر یہاں پر، "تَحْتَ مَذْهَبِ صَاحِبَيْهِ" امام صاحب کے جو صاحبین ہیں، ان کے مذہب کے تحت ذکر کیا گیا ہے، "هَذِهِ الْعِبَارَةُ" اس عبارت کو۔ بعض نسخوں میں یہ عبارت ذکر کی گئی ہے، اس کو اب ذکر کر رہے ہیں، سب نسخوں میں یہ نہیں ہے۔ "لِأَنَّ الْهَزْلَ لَا يُؤَثِّرُ فِي الْخُلْعِ عِنْدَهُمَا" اس لیے کیونکہ مذاق جو ہے، وہ مؤثر نہیں ہے خلع کے اندر صاحبین کے نزدیک۔
صاحبین کے نزدیک خلع میں مذاق مؤثر ہی نہیں ہے اس لیے کیونکہ... یاد رکھیے بھئی، صاحبین کے نزدیک خلع میں خیارِ شرط دیا جائے عورت کو، یہ باطل ہے۔ جیسے بیع میں ہوتا ہے کہ تین دن کے اندر میں کیا کر سکتا ہوں؟ بیع کو فسخ کر سکتا ہوں، تو خلع کے اندر اگر یہ اختیار عورت کو دیا جائے، صاحبین کا مذہب یہ ہے کہ خلع کے اندر خیارِ شرط عورت کو دینا کہ وہ فسخ کر سکے ایک دن میں، دو دن میں، تین دن میں، یہ درست ہی نہیں ہے۔ اگر اس طرح کا خیار عورت کو دے بھی دیا جائے، کوئی اعتبار نہیں ہے، طلاق ہو جائے گی اور مال لازم ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اور آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں، یہ مذاق کس کے درجے میں ہے؟ خیارِ شرط کے درجے میں ہے۔ تو یہاں پر خلع ہے اور خلع کے اندر مذاق کیا، تو مذاق مؤثر نہیں کیونکہ مذاق کس کی طرح ہے؟ خیارِ شرط کی طرح، اور خیارِ شرط تو اس میں آتا نہیں، لہٰذا مذاق سے بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
"لِأَنَّ الْهَزْلَ لَا يُؤَثِّرُ فِي الْخُلْعِ عِنْدَهُمَا" اس لیے کیونکہ مذاق جو ہے، وہ مؤثر نہیں ہے خلع میں صاحبین کے نزدیک، "وَلَا تَخْتَلِفُ الْحَالُ بِالْبِنَاءِ أَوْ بِالْإِعْرَاضِ أَوْ بِالاخْتِلَافِ" اور حال مختلف نہیں ہوگا بناء کی وجہ سے بھی، یا اعراض کی صورت میں، یا اختلاف... میں نے بتایا نا، صاحبین کے نزدیک چاروں صورتوں میں کیا ہوگا؟ طلاق بھی ہو جائے گی اور مال بھی لازم۔ ہاں، وہ جو بناء والی صورت ہے، اس میں امام صاحب پھر اختلاف کرتے ہیں، ایک صورت میں اختلاف کرتے ہیں، باقی تین میں امام صاحب بھی کیا فرماتے ہیں؟ طلاق ہو جائے گی اور مال لازم۔
تو یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ مختلف نہیں ہوتا حال بھئی، بناء کی وجہ سے یا اعراض کی وجہ سے یا اختلاف کی وجہ سے، "وَذَلِكَ لِأَنَّ الْخُلْعَ لَا يَحْتَمِلُ خِيَارَ الشرْطِ" اور یہ اس لیے کیونکہ خلع جو ہے، وہ احتمال نہیں رکھتا خیارِ شرط کا، یہ کس کے نزدیک؟ صاحبین کے نزدیک۔ "وَلِهَذَا لَوْ شَرَطَتِ الْخِيَارَ لَهَا فِي الْخُلْعِ وَجَبَ الْمَالُ وَوَقَعَتِ الطَّلَاقُ وَبَطَلَ الْخِيَارُ" اور اسی وجہ سے اگر عورت کے لیے خیار کی شرط لگائی گئی خلع کے اندر، تو مال واجب ہو جائے گا اور طلاق واقع ہو جائے گی اور خیار باطل ہو جائے گا۔
"وَإِذَا لَمْ يَحْتَمِلْ خِيَارَ الشرْطِ" اور جب یہ خلع احتمال نہیں رکھتا خیارِ شرط کا، "فَلَا يَحْتَمِلُ الْهَزْلَ" تو هزل کا بھی احتمال... مذاق کا بھی احتمال نہیں رکھتا، "لِأَنَّ الْهَزْلَ بِمَنْزِلَةِ الْخِيَارِ" اس لیے کیونکہ مذاق جو ہے، وہ خیار کے درجے میں ہی ہے، "فَسَوَاءٌ اتَّفَقَا عَلَى الْبِنَاءِ أَوْ عَلَى الْإِعْرَاضِ أَوْ عَدَمِ الْحُضُورِ أَوْ اخْتَلَفَا فِيهِ يَبْطُلُ الْهَزْلُ وَيَقَعُ الطَّلَاقُ وَيَلْزَمُ الْمَالُ" پس برابر ہے کہ دونوں اتفاق کریں بناء پر، یعنی کہ ہم مذاق کر رہے تھے، یا اعراض پر کہ ہم تو سنجیدہ تھے، یا عدمِ حضور پر اتفاق... عدمِ حضور یعنی ہمارے ذہن خالص تھے، یا اختلفا... عدمِ حضور یعنی ہمارے ذہن میں کوئی چیز حاضر نہیں تھی، خالص تھے، نہ سنجیدگی اور نہ مذاق، "أَوْ اخْتَلَفَا فِيهِ" یا دونوں اختلاف کریں، "يَبْطُلُ الْهَزْلُ وَيَقَعُ الطَّلَاقُ وَيَلْزَمُ الْمَالُ" تو هزل باطل ہو جائے گا صاحبین کے نزدیک، اور طلاق واقع ہو جائے گی اور مال لازم ہو جائے گا "عَلَى أَصْلِهِمَا" اپنی اصل پر ہی।
جو صاحبین کی اصل ہے، اس پر چلتے ہوئے انہوں نے یہ فرمایا۔ صاحبین کی اصل کیا تھی؟ کہ خلع کے اندر مذاق مؤثر نہیں۔ صاحبین کی اصل کیا ہے؟ خلع کے اندر مذاق مؤثر نہیں، کیوں نہیں مؤثر؟ کیونکہ مذاق خیارِ شرط کی طرح، اور خیارِ شرط تو مؤثر نہیں، تو لہٰذا مذاق بھی مؤثر نہیں۔ یہ صاحبین کی اصل ہے، تو دونوں "عَلَى أَصْلِهِمَا" دونوں کس پر رہے اپنی اصل پر۔
"وَعِنْدَهُ لَا يَقَعُ الطَّلَاقُ" اور امام صاحب کے نزدیک طلاق واقع نہیں ہوگی، "بَلْ يَتَوَقَّفُ عَلَى اخْتِيَارِ الْمَالِ" بلکہ یہ طلاق موقوف رہے گی عورت اس کے مال کو اختیار کرنے پر، یعنی عورت کیا کر لے؟ مال کو... وہ عورت مال اس نے مذاق کے طور پر تو اختیار کیا، کیا یا نہیں کیا؟ اب اسی کو... یعنی کہ سنجیدگی سے بھی قبول کر لے، پھر طلاق ہوگی، صرف مذاق میں قبول کرنے کی وجہ سے نہیں۔
یہ معنی ہے: "بَلْ يَتَوَقَّفُ عَلَى اخْتِيَارِ الْمَالِ" بلکہ وہ طلاق موقوف رہے گی اس کے مال کو اختیار کرنے پر، "سَوَاءٌ هَزَلَا بِأَصْلِهِ أَوْ بِقَدْرِهِ أَوْ لِجِنْسِهِ" برابر ہے کہ دونوں مذاق کریں اس خلع کے اصل، یعنی اس عقد کی اصل میں ہی مذاق کریں کہ عقد ہم کریں گے، لیکن ہوگا نہیں۔ یا اس کی مقدار میں، یعنی ذکر اتنے پیسے کریں گے اور بدل ہوگا اتنا، چاہے اس میں مذاق کریں۔ یا اس کی جنس میں مذاق کریں کہ ذکر تو دینار کریں گے اور دراصل کیا ہیں؟ دراہم ہیں۔
"لِأَنَّ الْهَزْلَ فِي مَعْنَى خِيَارِ الشرْطِ" اس لیے کیونکہ هزل جو ہے، خیارِ شرط کے معنی میں ہے، امام صاحب بھی یہی فرماتے ہیں: هزل خلع میں کس کی طرح ہے؟ خیارِ شرط کی طرح ہے۔ تو صاحبین کے نزدیک تو خلع کے اندر خیارِ شرط باطل، امام صاحب فرماتے ہیں: نہیں، کوئی خیارِ شرط باطل نہیں خلع کے اندر، کیا ہے؟ خیارِ شرط صحیح، کیوں؟ کیوں خیارِ شرط صحیح؟ امام صاحب فرماتے ہیں: یہ خلع عورت کے حق میں بیع کی طرح ہے۔ یہ خلع عورت کے حق میں کس کی طرح ہے؟ بیع کی طرح ہے، کیونکہ وہ مال لے رہی ہے... مال دے رہی ہے اور اپنے آپ کو چھڑوا رہی ہے بھئی، تو عوض ہے دونوں جانب سے۔ تو عورت کے حق میں یہ کس کی طرح ہے؟ خلع بیع کی طرح، اور بیع میں خیارِ شرط جاری ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ ہوتا ہے، تو لہٰذا یہاں بھی عورت کو خیار دیا جائے گا، تو یہ اس کو... یہ خیارِ شرط دیا جائے، تو خیارِ شرط صحیح، اور هزل بھی خیارِ شرط کی طرح ہے، لہٰذا یہاں پر هزل بھی مؤثر ہے، جی۔
کیوں کہتے ہیں: "لِأَنَّ الْهَزْلَ فِي مَعْنَى خِيَارِ الشرْطِ" اس لیے کیونکہ هزل جو ہے، خیارِ شرط کے معنی میں ہے، "وَقَدْ نَصَّ فِي خِيَارِ الشرْطِ" اور تحقیق تصریح کی ہے امام صاحب نے... ضمیر کس کو راجع؟ امام... امام صاحب نے تصریح کی ہے خیارِ شرط میں "مِنْ جَانِبِهَا" اس خیارِ شرط میں جو عورت کی جانب سے ہو، "أَنَّ الطَّلَاقَ لَا يَقَعُ" کہ اس میں جب عورت کو خلع میں خیارِ شرط دیا جائے، تو طلاق واقع نہیں ہوگی "وَلَا يَجِبُ الْمَالُ" اور مال واجب نہیں ہوگا، "إِلَّا إِنْ شَاءَتِ الْمَرْأَةُ" "فَحِينَئِذٍ تَجِبُ الْمَالُ عَلَيْهَا لِلزَّوْجِ" ہاں، مگر یہ کہ جس وقت عورت چاہے، تو اس وقت مال واجب ہوگا عورت پر خاوند کے لیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
"وَإِنْ أَعْرَضَا" اور اگر دونوں نے اعراض کیا، کیا معنی اعراض کیا؟ سنجیدگی کو اختیار کیا کہ ہم تو سنجیدہ تھے، اور عقد کس کے بارے میں کیا... مذاق کس کے بارے میں کر رہے تھے؟ کون سی بحث چل رہی ہے؟ اصلِ عقد کے بارے میں مذاق ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَإِنْ أَعْرَضَا أَيِ الزَّوْجَانِ عَنِ الْمُوَاضَعَةِ" یعنی اعراض کیا اگر دونوں میاں بیوی نے اس مواضعت پر، وہ جو اتفاق کیا تھا مذاق پر، "وَاتَّفَقَا عَلَى أَنَّ الْعَقْدَ صَارَ بَيْنَهُمَا جِدًّا" دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عقد جو ہے، ان دونوں کے درمیان وہ سنجیدگی بن گیا ہے، یعنی سنجیدگی سے کیا ہے، "وَقَعَتِ الطَّلَاقُ وَوَجَبَ الْمَالُ إِجْمَاعًا" تو طلاق واقع ہو جائے گی اور مال واجب ہوگا إجماعاً، أي اتفاقاً بھئی، اتفاقاً، صاحبین اور امام صاحب دونوں کے نزدیک طلاق واقع ہو جائے گی اور مال واجب ہوگا۔
اما عندهما... باقی صاحبین کے نزدیک کیوں مال واجب ہوگا؟ اور امام صاحب کے نزدیک کیوں ہوگا؟ وہ وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ "أَمَّا عِنْدَهُمَا فَظَاهِرٌ" باقی صاحبین کے نزدیک تو یہ... وہ تو ظاہر ہے، "لِأَنَّ الْهَزْلَ بَاطِلٌ مِنَ الْأَصْلِ" اس لیے کیونکہ هزل تو سرے... اصل سے ہی باطل ہے، "لَا يُؤَثِّرُ فِي الْخُلْعِ" وہ خلع کے اندر مؤثر ہی نہیں، "وَأَمَّا عِنْدَهُ" اور باقی امام صاحب کے نزدیک، "فَلِأَنَّ الْهَزْلَ قَدْ بَطَلَ بِإِعْرَاضِهِمَا" اس لیے کیونکہ مذاق جو ہے، وہ تحقیق باطل ہو چکا ان دونوں کے اعراض کر دینے کی وجہ سے۔
خلع کے اندر مذاق مؤثر تو تھا، کیا تھا؟ مؤثر تھا، لیکن وہاں عورت کا اختیار آتا تھا، لیکن یہاں عورت کا اختیار بھی نہیں آئے گا اس لیے کیونکہ خود دونوں اس مذاق سے اعراض کر رہے ہیں اور کیا کہتے ہیں؟ ہم سنجیدہ تھے، معلوم ہوا عورت نے مال کو کس طریقے پر قبول کیا ہے؟ سنجیدگی، جب سنجیدگی سے قبول کیا، تو پھر ٹھیک ہے، مال اس پر لازم ہو گیا۔
وذكر في بعض النسخ هاهنا، وذكر کیا گیا ہے بعض نسخوں کے اندر یہاں پر، عوض النسخة السابقة هذه العبارة. اس سابقہ نسخے کے عوض میں یہ عبارت ذکر کی، بعض نسخوں میں وہ عبارت نہیں ہے بلکہ یہ عبارت ذکر کی گئی ہے: وإن اختلفا، اور اگر دونوں نے اختلاف کیا عقد کے بعد، فالقول لمدعي الإعراض، تو قول کس کا ہے؟ مدعی اعراض۔ بھئی دونوں نے اختلاف کیا، ایک کہتا ہے ہم بناء کر رہے تھے اسی مذاق پر، ہم اب مذاق میں ہم نے عقد کیا، دوسرے نے کہا کہ ہم تو اعراض کر رہے تھے، تو ایک مدعی بناء ہوا، ایک مدعی اعراض، تو جو مدعی اعراض ہے اس کا قول معتبر ہے، اس کا قول معتبر۔ بھئی کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ وہ کہہ رہا ہے ہم نے سنجیدگی سے عقد کیا اور اصل بھی یہ ہے کہ عقلاء جو ہیں، عقل والا آدمی اس طرح مذاق کی چیزوں سے اعراض کرتا ہے، کیا کرتا ہے؟ ہاں تو لہٰذا یہ اپنی اصل پر اس سے استدلال کر رہا ہے اور وہ خلاف الاصل پر ہے جو کہہ رہا ہے ہم مذاق کر رہے ہیں، وهو خلاف الأصل، اور یہ کیا ہوا؟ اصل پر، اور اصل کو ترجیح ہوتی ہے کس پر؟ خلاف الاصل پر۔
تو یہ معنی ہوئے: وإن اختلفا، اور اگر دونوں نے اختلاف کیا، فالقول لمدعي الإعراض، تو قول جو ہے اعراض مدعی اعراض، وہ جو اعراض کا دعویٰ کرنے والا ہے اس کا قول معتبر ہے، وإن سكتا، اگر دونوں خاموش رہے، کیا معنی خاموش رہے؟ یعنی کہتے ہیں ہم خالص ذہن تھے، نہ ہم نے بناء کی ہے اور نہ اعراض، فهو لازم إجماعا، تو پھر یہ عقد کیا ہو جائے گا؟ لازم ہو جائے گا إجماعا أي اتفاقا بالاتفاق، امام صاحب کے نزدیک بھی اور صاحبین کے نزدیک بھی۔
ومآلها، اور مآل بھئی ان نسخوں کا یہ ہے: أن في غير صورة البناء، کہ بناء کی صورت کے علاوہ کے اندر، قوله كقولهما في وقوع الطلاق ولزوم المال، امام صاحب کا قول بھی صاحبین کے قول کی طرح ہے طلاق کے واقع ہونے میں اور مال کے لازم ہونے میں۔ میں نے آپ کو بتایا تھا صرف کون سی صورت میں اختلاف ہے؟ بناء والی، باقی تینوں صورتوں میں امام صاحب اور صاحبین کا ایک ہی قول ہے کہ طلاق واقع ہوگی اور مال لازم ہوگا، یہی بات بیان کی والظاهر، جی! متن میں آیا: وإن سكتا، اگر دونوں خاموش رہے۔ میں نے کیا معنی بیان کیا؟ خالص ذہن، یہی بات شارح بھی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: والظاهر أن السكوت هو الاتفاق على أنه لم يحضرهما شيء، اور ظاہر یہ ہے کہ یہ جو سکوت آیا متن کے اندر، یہ جو ہے وہ اتفاق کرنا ہے اس بات پر کہ کوئی بھی چیز ان دونوں کے ذہن میں حاضر نہیں تھی، یعنی نہ اعراض حاضر تھا اور نہ بناء، ولم يتعرض الشارحون، اور اس کے پیچھے نہیں پڑے شرح کرنے والے، جنہوں نے شرح کی اس متن کی، انہوں نے اس بات کو بیان نہیں کیا کہ سکتا سے کیا مراد ہے، مصنف فرماتے ہیں شارح فرماتے ہیں، لیکن کہتے ہیں ظاہر یہی ہے کہ سکتا سے کیا مراد ہے؟ خالص ذہن ہے۔
وإن كان ذلك في القدر، اور اگر وہ مذاق اس کی مقدار میں ہوا، دونوں عقد کرتے ہیں اور کون سا؟ خلع وغیرہ کا، اور کہتے ہیں اصل عقد تو تمہارے اور میرے درمیان ہوگا، صرف مقدار میں مذاق کریں گے، یعنی طے تمہارے اور میرے درمیان ایک ہزار بدل ہے لیکن لوگوں کے سامنے کتنا ذکر کریں گے؟ دو ہزار بھئی، تو یہ معنی ہے: اگر وہ مذاق مقدار میں ہوا، بأن يواضعا على أن يسميا ألفين والبدل ألف في الواقع، کہ دونوں اتفاق کریں گے کہ وہ ذکر کریں دو ہزار کو اور بدل جو ہے ایک ہزار ہوگا واقع کے اندر، فإن اتفقا على البناء، پس اگر دونوں نے اتفاق کیا کس پر؟ بناء پر، بعد میں کہا کہ ہم مذاق کر رہے تھے، أي بنائهما على المواضعة بعد المجالسة، یعنی فإن اتفقا على البناء أي بنائهما على المواضعة، بتلایا کہ الف لام عوض ہے کس سے؟ مضاف الیہ سے البناء کے اندر، یا الف لام عہدِ خارجی ہے، بناء سے ہر بناء نہیں مراد، کون سی مراد ہے؟ بنائهما، ان دونوں کی بناء، انہوں نے جو بنیاد رکھی علی المواضعة اس اتفاق پر، بعد المجالسة ہم نشینی کے بعد، یعنی مجلس کے ختم ہونے کے بعد دونوں کیا کہتے ہیں؟ ہم تو وہی مذاق کر رہے تھے، فعندهما الطلاق واقع والمال لازم كله، تو صاحبین کے نزدیک بھئی دیکھیے! اب یہاں کون سی صورت ہے؟ مذاق صرف کس میں کر رہے ہیں؟ مقدار کے اندر، اور طے کتنے کیے ہیں؟ ایک ہزار، ذکر کتنے کر رہے ہیں؟ دو ہزار، تو صاحبین فرماتے ہیں: بعد میں اب دونوں کیا کہتے ہیں؟ ہم تو مذاق کر رہے تھے، کیا کر رہے تھے؟ تو معلوم ہوا ہزار آنے چاہئیں نہ کہ دو ہزار، لیکن صاحبین فرماتے ہیں: طلاق واقع ہو جائے گی والمال لازم كله اور مال سارا کا سارا کیا ہوگا؟ جو ذکر کیا دو ہزار وہی سارا لازم ہو جائے گا، اس مذاق کا کوئی اعتبار نہیں، وجہ کیا؟ کہتے ہیں وجہ ضابطہ وہی صاحبین کی دلیل وہی کہ: أن الهزل لا يؤثر في الخلع عندهما، کہ مذاق جو ہے وہ خلع کے اندر مؤثر ہی نہیں، وإن كان مؤثرا، بھئی! خلع کے اندر تو مذاق ٹھیک ہے مؤثر نہیں تھا، خلع طلاق ہو جائے، لیکن مال کے اندر تو مذاق مؤثر تھا، مال کے اندر تو مذاق مؤثر ہے، پیچھے آپ بیع وغیرہ میں بھی پڑھ چکے ہیں بھئی، وہاں پر اثر پڑتا ہے مذاق سے، تو مال کے اندر تو مذاق مؤثر ہے، کہتے ہیں ٹھیک ہے، مال کے اندر مذاق مؤثر ہے، مذاق سے کسی پر مال نہیں آتا، مذاق سے کسی پر مال، ہاں تو مذاق مال کے اندر مؤثر ہے، لیکن یہاں پر مال تابع ہے، یہاں پر مال کیا ہے؟ تابع ہے، اس لیے یہاں مال پر بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا، جب خلع پہ کوئی اثر نہیں پڑ رہا مذاق کا تو مال پر بھی کوئی اثر، اور وہ جتنا ذکر کر رہے ہیں وہ سارا آ جائے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں وإن کہتے ہیں کیونکہ وہ وجہ اس کے لما مر اس وجہ سے جو پیچھے گزر گئی أن الهزل لا يؤثر في الخلع عندهما، کہ مذاق جو ہے وہ مؤثر نہیں ہے خلع کے اندر صاحبین کے نزدیک، وإن كان مؤثرا في المال ولكن المال تابع فيه، اور اگرچہ مذاق مؤثر ہے مال میں، لیکن مال جو ہے یہاں اس خلع کے تابع ہے، ولا يقال، یہ اعتراض نہ کیا جائے، یہ اعتراض کہ یہ اعتراض نہ کرے شارح فرما رہے ہیں کہ: كيف يكون المال تابعا فيه، کہ یہاں پر مال تابع کیسے ہو سکتا ہے؟ آپ کس طرح کہہ رہے ہیں کہ مال تابع ہے؟ وقد نص فيما قبل، اور تحقیق تصریح کر چکے ہیں مصنف اس سے ماقبل میں أن المال مقصود فيه، کہ مال خلع کے اندر مقصود ہوتا ہے، جہاں سے ہم نے سبق شروع کیا، متن میں کیا آیا تھا؟ وإن كان المال فيه مقصودا، وہاں تو انہوں نے خود مصنف نے بتایا کہ خلع کے اندر مال کیا ہوتا ہے؟ مقصود ہوتا ہے، تو آپ کس طرح کہہ رہے ہیں مال یہاں پر تابع ہے؟
تو کیسے مال یہاں پر تابع ہو سکتا ہے جب کہ وہ تصریح مصنف تصریح کر چکے ہیں اس سے ماقبل میں کہ مال جو ہے مقصود ہے یہاں پر، ولو سلم، یہ بھی اعتراض ہی چل رہا ہے، اول تو ہمیں یہ بات ہی تسلیم نہیں کہ مال یہاں پر تابع ہے، اگر ہم تسلیم بھی کر لیں کہ مال یہاں پر تابع ہے، لیکن لا يلزم أن يكون حكمه حكم المتبوع، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ جو خلع ہے اس کا حکم متبوع والا حکم ہے، کس کا حکم؟ خلع، اول تو ہمیں یہ تسلیم نہیں کہ مال یہاں تابع ہے، اگر ہم تسلیم بھی کر لیں کہ مال یہاں تابع ہے، لیکن یہاں اس مال کا مال کا حکم تابع والا نہیں اور خلع کا حکم متبوع والا نہیں، خلع کا حکم متبوع والا نہیں ہے، كالنكاح، جیسے کہ نکاح ہے، فإن المال فيه تابع، مال اس کے اندر کیا ہے؟ تابع ہے، دیکھیے! مثال ذکر کر رہے ہیں، وہ ابھی اعتراض چل رہا ہے سارا، کہ مال دیکھیے! نکاح میں مال تابع ہے، ويؤثر الهزل فيه، اور ہزل، مذاق اس کے اندر مؤثر ہے، مذاق اس کے اندر، آپ کہہ رہے ہیں یہاں خلع کے اندر مال تابع، اول تو ہمیں یہ بات ہی تسلیم نہیں کی کیونکہ مال یہاں تابع، کیونکہ مصنف نے خود کہا یہاں پر مال کیا ہے؟ مقصود، اگر ہم یہ تسلیم بھی کر لیں کہ مال یہاں پر تابع ہے، لیکن پھر بھی خلع کو متبوع اور مال کو تابع قرار نہیں دیا جا سکتا، وہ حکم نہیں دیا جا سکتا، جیسے نکاح کے اندر، نکاح کے اندر تو نکاح اصل ہے اور مال کیا ہے؟ تابع ہے، پھر بھی وہاں پر اگر دونوں میاں بیوی کیا کرتے ہیں؟ ذکر دو ہزار کرتے ہیں اور طے کتنا کیا تھا؟ ایک ہزار، تو آپ ہمیں پیچھے بتا چکے ہیں کہ کتنا آئے گا؟ ایک ہزار، معلوم ہوا وہاں پر مذاق مؤثر ہوا، مال تابع تھا پھر بھی مذاق کیا ہوا؟ مؤثر، تو یہاں پر بھی اگر آپ مال کو تابع بھی قرار دے دیں تو بھی کیا ہونا چاہیے؟ مذاق کو مؤثر ہونا، اور دو ہزار نہیں آنے چاہئیں، کتنے آنے چاہئیں؟ ایک، لیکن آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ دو ہزار آ رہے ہیں۔
تو اس جیسے کہ نکاح مال اس کے اندر تابع ہے اور پھر بھی ہزل مؤثر ہے فيه مع أنه لا يؤثر في النكاح، باوجود اس کے کہ مذاق جو ہے وہ نکاح کے اندر مؤثر نہیں، لأنا نقول، یہاں سے اب اس اعتراض کا جواب دے رہے ہیں، اس لیے کیونکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ: إن المال في الخلع وإن كان مقصودا للمتعاقدين، کہ خلع کے اندر اگرچہ مال دونوں عقد کرنے والوں کا مقصود ہوتا ہے، ولكنه تابع للطلاق في حق الثبوت، لیکن مال طلاق کے تابع ہے ثبوت کے حق میں، طلاق ہوگی تو مال آئے گا، طلاق نہیں تو مال بھی نہیں، تو معلوم ہوا مال کس کے تابع؟ طلاق کے، خلع کے اندر طلاق کے تابع ہے، طلاق ہے، طلاق کو ثابت مانیں گے تو مال ہے، طلاق ثابت نہیں تو مال بھی نہیں، وإن المال في النكاح وإن كان تبعا، اور مال جو ہے نکاح کے اندر اگرچہ تابع ہے، بالنسبة إلى مقصود المتعاقدين، متعاقدین یعنی عقد کرنے والوں کا جو مقصود ہے اس کی طرف نسبت کرتے ہوئے، وہاں پر نکاح کے اندر اگرچہ مال تابع ہے، خلع کے اندر اگرچہ مال نہیں، خلع کے اندر اگرچہ مال مقصود ہے، لیکن وہ ثبوت کے اندر طلاق کے تابع ہے، اور نکاح کے اندر اگرچہ مال غیر مقصود ہے، نکاح میں تو مال مقصود نہیں، تو نکاح کے اندر مال غیر مقصود ہے، لیکن وہ اصل ہے ثبوت کے اندر، مال کیا ہے؟ اصل ہے ثبوت کے اعتبار سے، یعنی خود بخود مال آ جائے گا چاہے ذکر ہی نہ کریں، آپ بھی جانتے ہیں نکاح کریں بغیر ذکرِ مہار کے تو خود بخود کیا آ جاتا ہے؟ مہرِ مثل آ جایا کرتا ہے، تو وہاں پر مال اصل ہے ثبوت کے اندر اور یہاں خلع کے اندر مال ثبوت کے اندر تابع ہے، طلاق ہوگی تو مال آئے گا، طلاق نہیں تو مال بھی، تو یہاں پر بھئی دیکھیے! دوبارہ:
خلع کے اندر مال غیر مقصود، نہیں مال مقصود، خلع کے اندر مال مقصود، نکاح کے اندر مال غیر مقصود، لیکن خلع کے اندر اگرچہ مال مقصود ہے، لیکن ثبوت کے اندر وہ طلاق کے تابع ہے، اور نکاح کے اندر اگرچہ مال غیر مقصود ہے، لیکن ثبوت کے اعتبار سے اصل ہے، بغیر ذکر کے ہی خود بخود آ جائے گا، صورت سمجھ، تو دونوں میں فرق ہے بھئی۔
تو یہاں پر بھی بات خلع کی چل رہی ہے، اور ہم نے کیا ذکر کیا اوپر؟
دونوں نے مقدار میں مذاق کیا اور بعد میں کیا کہتے ہیں؟ ہم مذاق کر رہے تھے، ہم نے کیا کہا؟ طلاق بھی واقع ہوگی اور مال سارا کا سارا آئے گا، کیوں آئے گا؟
کیونکہ خلع کے اندر مذاق مؤثر نہیں، اور مال تو خلع کے تابع ہے، لہٰذا اس کے اندر بھی مذاق مؤثر نہیں، اور وجہ ہم نے ذکر کر دی اس لیے کیونکہ مال جو ہے وہ طلاق کے تابع ہے، تب اس جب طلاق ثابت ہوگی پھر ہی مال ثابت ہوگا، ویسے نہیں بھئی۔
وعنده يجب أن يتعلق الطلاق باختيارها، اور امام صاحب کے نزدیک واجب ہے کہ متعلق ہوگی طلاق جو ہے باختیارها، عورت کے اختیار کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ عورت کے اختیار سے متعلق ہوگی، بھئی دونوں نے بعد میں کیا کہا؟ مذاق کس میں کر رہے ہیں؟
مقدار کے اندر مذاق کر رہے ہیں، اور طے کتنے کیے ہیں؟ ہزار، اور ذکر کتنا کیا ہے؟ دو ہزار، امام صاحب فرماتے ہیں بعد میں دونوں کہتے ہیں ہم تو مذاق کر رہے تھے، امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہاں پر طلاق بھی وہ نہیں ہوئی اور مال بھی لازم نہیں ہوا، ابھی طلاق بھی نہیں ہوئی، ابھی مال بھی، کیونکہ وہ دونوں کیا کہہ رہے ہیں؟ ہم مذاق کر رہے تھے، تو عورت نے بھی گویا مال کو مذاق کے طور پر قبول کیا ہے، لہٰذا اب عورت کو اختیار ہوگا، اگر وہ کیا چاہتی ہے؟ وہ سنجیدگی سے اسی مال کو جو اس نے دو ہزار ذکر کیے ہیں، اسی کو اگر وہ سنجیدگی سے قبول کر لیتی ہے تو پھر مال اس پر لازم ہو جائے گا اور طلاق واقع ہو جائے گی۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو امام صاحب کے نزدیک واجب ہے کہ متعلق ہو جائے طلاق اس عورت کے اختیار کے ساتھ، فما لم تكن المرأة قابلة لجميع المال لا يقع الطلاق عند اتفاقهما على المواضعة، پس جب تک کہ وہ عورت قبول نہ کر لے فما لم تكن المرأة قابلة، جب تک کہ وہ عورت قبول نہ کر لے لجميع المال سارے مال کو، لا يقع الطلاق، تو طلاق واقع نہیں ہوگی عند اتفاقهما على المواضعة، جب یہ دونوں کس پر اتفاق کر لیں؟ مواضعة یعنی اس سابقہ اتفاق پر، یعنی مذاق پر اتفاق کر لیں۔
وإن اتفقا، اور اگر دونوں اس بات پر اتفاق کر لیتے ہیں على أنه لم يحضرهما شيء، کہ کوئی چیز حاضر نہیں تھی ان دونوں کے پاس، یعنی ان کے ذہن میں نہ اعراض تھا اور نہ مذاق تھا، وقعت الطلاق، تو طلاق واقع ہو جائے گی، ووجب المال اتفاقا، اور مال واجب ہو جائے گا اتفاقا بالاتفاق بھئی، صاحبین کے نزدیک بھی اور امام صاحب کے نزدیک بھی۔
أما عندهما، باقی صاحبین کے نزدیک کیوں مال واجب ہوگا؟ کیوں طلاق واقع ہوگی؟ کہتے ہیں صاحبین کے نزدیک: فالظاهر، تو یہ بات ظاہر ہے مما مر، اس وجہ سے جو گزر گئی، جب دونوں، توجہ ہے سبق ادھر؟ جب دونوں کہہ رہے تھے ہم مذاق کر رہے ہیں، تو اس وقت صاحبین نے کیا فرمایا؟ طلاق بھی واقع اور مال بھی لازم، تو جب خالص ذہن ہیں یا اختلاف کر رہے ہیں، اس صورت میں تو بطریقِ اولیٰ کیا ہوگا؟ طلاق بھی واقع ہوگی اور مال بھی لازم، جب وہ مذاق سے متفق تھے پھر آ رہا تھا، مال بھی آ رہا تھا، طلاق بھی گرتی تھی، تو باقی صورتوں میں بطریقِ اولیٰ بھئی۔
تو کہتے ہیں: پس ان کے نزدیک تو ظاہر ہے مما مر، اس سے جو وہ گزر گئی بات، اس وہ جو بات گزری اس سے یہ بات ظاہر ہے کہ وہ طلاق بھی ہوگی اور مال بھی واجب ہوگا، بل هذا أولى مما مر، بلکہ یہ زیادہ اولیٰ ہے اس کے مقابلے میں جو گزرا، وہاں پر تو باقاعدہ بعد میں کیا کہہ رہے تھے؟ ہم مذاق کر رہے ہیں، ہم مذاق کر رہے تھے، پھر بھی طلاق بھی ہوئی اور یہاں تو وہ کہہ ہی نہیں رہے ہم مذاق کر رہے تھے، خالص ذہن تھے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں بطریقِ اولیٰ طلاق بھی واقع ہوگی اور مال واجب ہوگا۔
امام صاحب کے نزدیک کیوں؟ کہتے ہیں: وأما عنده، اور امام صاحب کے نزدیک فلرجمان جانب الجد، بوجہ سنجیدگی کی جانب کے راجح ہونے کے، امام صاحب کیا فرماتے تھے؟ جب دونوں اختلاف کریں، کس کو ترجیح دیں گے؟ جو سنجیدگی، کیونکہ عقلمند کیا کرتا ہے؟ مذاق سے اعراض کرتا ہے، عقلمند اس طرح مذاق نہیں کرتا، تو سنجیدگی والی اصل یہی ہے کہ سنجیدگی ہو بھئی، تو لہٰذا وہ اپنی اصل پر باقی رہے، اور یہاں پر جب دونوں کے ذہن خالی ہیں، تو اگر دیکھا جائے تو اول انہوں نے کیا کیا تھا؟ طے کیا تھا مذاق کریں گے، ہیں کیا؟ خالص ذہن، دوسری طرف دیکھا جائے تو سنجیدگی ہے اصل کے ہونا چاہیے، اور کون سی جہت راجح ہے؟ مذاق والی یا سنجیدگی والی؟ سنجیدگی والی جہت راجح ہے، اسی وجہ سے ہو جائے گی طلاق بھی اور مال بھی لازم۔
ولم يذكر ما إذا اتفقا على الإعراض أو اختلفا فيه، اور اس اس کو ذکر نہیں کیا ولم يذكر، ذکر نہیں کیا مصنف نے ما اس صورت کو إذا اتفقا على الإعراض، جب دونوں اتفاق کر لیں کس پر؟ اعراض پر کہ ہم تو سنجیدہ تھے، أو اختلفا فيه، یا دونوں کیا کریں؟ اس میں اختلاف کریں، لأن حكم الأول ظاهر بطريق الأولى، اس لیے کیونکہ پہلے کا حکم تو ظاہر ہے بطریقِ اولیٰ، جب دونوں کہہ رہے تھے ہم سنجیدہ ہیں، پھر تو بطریقِ اولیٰ کیا آ جائے گا؟ طلاق بھی ہوگی اور مذاق کی کہہ رہے ہو کہ جب کہتے تھے اس وقت بھی آ جاتا تھا، تو یہاں پر بطریقِ اولیٰ، وحكم الثاني أن يكون القول قول من يدعي الإعراض، اور دوسرے کا حکم جس میں دونوں اختلاف کریں، تو وہ یہ کہ قول اس شخص کا معتبر ہوگا جو اعراض کا مدعی ہے، جو کیا ہے؟ کیونکہ جانبِ جد جو ہے، سنجیدگی والی جانب راجح ہے، تو وہاں پر بھی مال بھی آئے گا اور طلاق بھی، أما عنده، جی! صورت سمجھ میں آ گئی؟
اتفاق ذکر آیا شرح میں: جب دونوں اتفاق کریں اعراض پر یا اختلاف کریں، اس کو ذکر نہیں کیا متن میں، کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ان کا حکم ظاہر تھا، اعراض کی صورت میں بھی ظاہر تھا، طلاق بھی آئے گی اور مال بھی واجب، اور اختلاف کی صورت میں بھی مال بھی آئے گا اور قول کس کا معتبر ہے جو اعراض کر رہا ہے، تو اس میں طلاق بھی ہوگی اور مال، کیوں آئے گا؟ أما عنده فلما تقدم، امام صاحب کے نزدیک اس وجہ سے جو پیچھے گزر گئی، کیا گزری؟ کہ امام صاحب کے نزدیک سنجیدگی اصل ہے، راجح ہے، جب دونوں سنجیدگی کی بات کر رہے ہیں تو پھر اسی کے مطابق ہوگا، اور اختلاف کر لیں دونوں، تو اس صورت میں بھی کون سی صورت؟ سنجیدگی راجح ہے، صاحبین کے نزدیک کیوں؟ کہتے ہیں: وأما عند صاحبین کے نزدیک، فلبطلانه، بوجہ اس مذاق کے باطل ہونے کے، کیونکہ ان کے نزدیک خلع
کے اندر؟ مذاق موثر؟ نہیں تو اس وجہ سے اگر اختلاف بھی کر لیں تو بھی طلاق بھی ہوگی اور مال بھی واجب ہوگا، هكذا قيل، اس طرح کہا گیا ہے۔ وان كان في في الجنس اور اور اگر وہ مذاق کس کے اندر تھا؟ جنس، اس بدل کی جنس میں کہ ہم طے تو درہم کر رہے ہیں، لوگوں کے سامنے کیا ذکر کریں گے؟ دینار ذکر کریں گے۔ بأن تواضعا، بعینہ صورت کہ دونوں نے اتفاق کر لیا على أن يذكرا في العقد مائة دينار، کہ وہ عقد کے اندر سو دینار ذکر کریں گے، ويكون البدل فيما بينهما مائة درهم، اور بدل ان دونوں کے درمیان کتنا ہوگا؟ سو درہم ہوگا، ذکر دینار کریں گے اور ہوں گے درہم۔ تو کہتے ہیں يجب المسمى عندهما بكل حال، تو مسمى وہ جو لوگوں کے سامنے ذکر کریں، وہی واجب ہوگا صاحبین کے نزدیک بكل حال، ہر حال میں، چاہے وہ کہیں ہم مذاق کر رہے تھے بعد میں، چاہے کہیں ہم سنجیدہ تھے، چاہے کہیں ذہن خالی تھے، چاہے دونوں اختلاف، چاروں صورتوں میں کیا واجب ہوگا؟ مسمى ہی واجب ہوگا جو ذکر کریں۔ جو کیا کریں؟ ذکر کریں، ذکر دینار کر رہے ہیں تو دینار ہی واجب ہوں گے اگرچہ انہوں نے پیچھے کیا طے کیے تھے؟ درہم، لیکن مسمى جو ذکر کریں وہی واجب ہوگا۔ سواء اتفقا على الإعراض، برابر ہے کہ دونوں اتفاق کریں اعراض پر، یعنی سنجیدگی پر، أو على البناء، یا بناء پر، یعنی مذاق پر، أو على أن لم يحضرهما شيء، یا اس بات پر کہ کوئی چیز ان کے ذہن میں حاضر نہیں تھی، أو اختلفا، یا دونوں کیا کریں؟ اختلاف کر لیں۔ تو صاحبین کے نزدیک مسمى واجب ہوگا، کیوں؟ لبطلان الهزل في الخلع، اس لیے کیونکہ ہزل جو ہے، بوجہ ہزل کے باطل ہونے خلع کے اندر، والمال يجب طبعا، اور مال تو طبعا واجب ہوگا، جب طلاق آئے گی خلع کے اندر تو مال بھی واجب ہوگا۔
وعنده، امام صاحب کے نزدیک، إن اتفقا على الإعراض وجب المسمى، اگر دونوں اتفاق کر لیں اعراض پر کہ ہم تو سنجیدہ تھے، اعراض کر رہے تھے مذاق سے، وجب المسمى، تو مسمى جو ذکر کیا وہی مال واجب ہو جائے گا بھئی، جو دینار ذکر کیے ہیں بھئی، طے تو کتنے کی، کیا کیے تھے پیچھے؟ درہم، لیکن ذکر کیا کر رہے ہیں؟ دینار، تو دینار ہی واجب ہوں گے، لبطلان الهزل بالإعراض، اس لیے کیونکہ بوجہ ہزل کے باطل ہو جانے اعراض کی وجہ سے، جب دونوں کہہ رہے ہیں ہم نے اعراض کر رہے تھے، مذاق نہیں کیا، سنجیدہ تھے، تو اس اعراض کی وجہ سے مذاق کیا ہو چکا؟ باطل، اس لیے جو ذکر کر رہے ہیں وہی آئے گا۔ وإن اتفقا على البناء، اور اگر دونوں نے اتفاق کیا بناء پر کہ ہم تو عقد کہ ہمارے عقد کی بنیاد کس پر تھی؟ اس مذاق پر تھی، توقفت الطلاق على قبولها المسمى، تو طلاق موقوف رہے گی اس عورت کے مسمى کو قبول کرنے پر، کس کو؟ ذکر کیا کر رہے ہیں؟ دینار، طے کیا کیے تھے پیچھے؟ درہم، تو یہاں پر اگرچہ عورت مذاق کے اندر دینار قبول کر چکی ہے لیکن دونوں کیا کہہ رہے ہیں؟ ہم تو مذاق کر رہے تھے، تو یہ جو دینار قبول کیے جو ذکر کر رہے ہیں مجلس میں اس کو جو عورت نے قبول کیا، یہ سنجیدگی سے کیا قبول یا مذاق سے؟ مذاق، اور مذاق سے قبول کرنے سے تو مال اس پر نہیں آیا، اس پر مال نہیں، جب اس پر مال نہیں آیا تو طلاق بھی نہیں ہے، صورت سمجھ میں آ گئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور لہذا اب عورت کا اختیار ہے، اگر یہ سنجیدگی سے اسی مسمى جو مجلس میں ذکر ہوا اسی کو قبول کر لیتی ہے تو طلاق بھی واقع ہو جائے گی اور مال بھی لازم ہو جائے گا ورنہ نہیں۔
تو یہ اگر دونوں نے اتفاق کیا بناء پر تو موقوف رہے گی طلاق اس عورت کے قبول کرنے پر مسمى کو، لأنه هو الشرط هو الشرط في العقد، اس لیے کیونکہ وہ مسمى ہی عقد کے اندر شرط تھا، عقد میں تو اسی کو ذکر کیا دونوں نے لوگوں کے سامنے۔ وإن اتفقا، اور اگر دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا، على أنه لم يحضرهما شيء، کہ کوئی چیز ان کے پاس حاضر نہیں تھی ذہن میں، یعنی خالی ذہن تھے، وجب المسمى ووقعت الطلاق، تو مسمى وہ جو ذکر کیا یعنی دینار وہ واجب ہوں گے ووقعت الطلاق اور طلاق واقع ہو جائے گی، لرجحان جانب الصدق جانب الجد، بوجہ سنجیدگی کی جانب کے راجح ہونے کے۔ وإن اختلفا، اور اگر دونوں نے اختلاف کیا، کون سی صورت ہے؟ جنس میں مذاق کر رہے ہیں، دونوں نے اختلاف کیا، ایک کہتا ہے ہم سنجیدہ تھے، دوسرا کہتا ہے ہم مذاق کر رہے تھے، فالقول لمدعي الإعراض، تو قول کس کا معتبر؟ مدعی اعراض جو سنجیدگی کی بات کر رہا ہے، لكونه هو الأصل، اس لیے کیونکہ سنجیدگی ہی کیا ہے؟ اصل ہے، وهذا كله في الإنشاءات، اور یہ سارا انشاءات کے اندر تھا۔
اب اخبار کے قبیل بتلانا ہے اخبار سے بھئی، بھئی ایک ہے انشاء، ایک ہے اخبار، انشاء ایک چیز کو وجود دینا، بیع کرتے ہیں میں اور آپ بیع کرتے ہیں تو بیع کو وجود دے رہے ہیں، پہلے بیع کا وجود نہیں تھا بھئی، نکاح کرتے ہیں تو ایک چیز کو عقد کو وجود دے رہے ہیں، خلع کرتے ہیں تو ایک چیز کو وجود دے رہے ہیں بھئی، طلاق دے رہا ہے تو ایک چیز کو کیا کر رہا ہے؟ یہ پیچھے جتنی بحث تھی یہ انشاء سے متعلق تھی، ان میں مذاق کریں تو یہ یہ حکم ہے تفصیل بیان کر دی۔ ان میں مذاق کریں تو اب اگر خبر دینے کے اندر مذاق کریں، پھر اس کا کیا حکم ہے؟ مثلاً خبر کیا؟ ایک تو ہے نکاح کرنا لوگوں کے سامنے ہم لوگوں کے سامنے نکاح کریں گے، یہ تھا انشاء کے اندر مذاق اور ایک یہ ہے لوگوں کے سامنے خبر دیتا ہے، کیا دیتا ہے خبر؟ میں نے فلاں سے نکاح کیا ہے، نکاح کر نہیں رہا اس کی کیا کر رہا ہے؟ خبر، یا میرے اور زید کے درمیان بیع ہوئی تھی چند دن پہلے مثلاً، صورت تو دیکھیے اب یہ اقرار کے اندر مذاق کر رہا ہے، دونوں نے آپس میں طے کیا کہ میں لوگوں کے سامنے کیا کروں گا؟ اقرار کروں گا، پھر ہمارے میرے درمیان بیع تو ہوئی نہیں لیکن میں ویسے لوگوں کو کہوں گا میرے اور اس کے درمیان کیا ہوئی تھی؟ بیع ہوئی تھی، تو یہ ہے اقرار، اب یہ خبر ہے، یہاں انشاء نہیں ہے بلکہ خبر ہے تو اس کا کیا حکم ہے بیان کرنے لگے ہیں۔
وإن كان ذلك الهزل في الإقرار، اگر وہ مذاق جو ہے اقرار میں ہو، إقرار في الإقرار بما يحتمل الفسخ، بما کا تعلق یہ جار مجرور یہ اقرار سے متعلق ہے، اگر وہ مذاق اس چیز کے اقرار میں ہے ما يحتمل الفسخ، جو فسخ کا اقرار جو کرتا ہے نا جن چیزوں کا وہ دو قسم کی ہو سکتی ہیں، وہ چیزیں فسخ کا احتمال رکھتی ہوں گی یا فسخ کا احتمال نہیں، بیع جو ہے فسخ کا احتمال رکھتی ہے لیکن نکاح فسخ کا یا طلاق فسخ کا یا آزادی فسخ کا احتمال نہیں رکھتی، تو جو اقرار کر رہا ہے یا تو اقرار کرے گا ایسی چیز کا جو فسخ کا احتمال رکھتی ہوگی یا فسخ کا احتمال نہیں، تو کہتے ہیں اگر وہ مذاق اس چیز کے اقرار میں ہے جو فسخ کا احتمال رکھتی ہے، كالبيع، جیسے بیع ہے، بأن يواضعا على أن يقرا بالبيع بحضور الناس، دونوں نے اتفاق کیا کہ وہ اقرار کریں گے بیع کا لوگوں کی موجودگی میں، ولم يكن في الوقع إقرار، اور واقع میں اقرار نہیں ہوگا، وبما لا يحتمله، اور اس چیز کا جس کا فسخ احتمال نہیں رکھتا، كالنكاح، جیسے کہ نکاح ہے اور طلاق ہے، بأن يواضعا، بعینہ طور کہ دونوں اتفاق کر لیتے ہیں، على أن يقرا بالنكاح والطلاق بحضور العامة، کہ دونوں اقرار کریں گے نکاح اور طلاق کا لوگوں کی موجودگی میں، ولم يكن بينهما إقرار، اور دونوں کے درمیان اقرار نہیں، لوگوں کے سامنے ہم اقرار کریں گے لیکن درحقیقت میرے اور تمہارے درمیان کوئی اقرار نہیں ہوگا، فالهزل يبطله، تو ہزل جو ہے اس اقرار کو باطل کر دے گا، یہاں ہزل موثر ہوگا اقرار کو کیا کر دے گا؟ باطل، چاہے وہ اقرار ما يحتمل الفسخ ہو چاہے لا يحتمل الفسخ کی قبیل سے ہو، چاہے وہ فسخ کا احتمال رکھتا ہو وہ چیز چاہے وہ فسخ کا احتمال نہ رکھتی ہو، تو ہزل جو ہے يبطله اس اقرار کو باطل کر دے گا، لأن الإقرار محتمل للصدق والكذب، اس لیے کیونکہ اقرار جو ہے وہ احتمال رکھتا ہے صدق کا بھی اور کذب کا بھی، والمخبر عنه إذا كان باطلا فالإخبار به كيف يصير حقا، اور مخبر عنہ جب باطل ہے تو اس کے بارے میں خبر دینا کیسے حق ہو سکتا ہے؟
مخبر عنہ جس چیز کے بارے میں خبر دے رہے ہیں، دونوں نے کیا طے کیا آپس میں کہ میں لوگوں کے سامنے اقرار کروں گا میرے اور تمہارے درمیان بیع ہوئی تھی تین دن پہلے، اور واقع میں کوئی تین دن پہلے بیع ہوئی؟ تو وہ جس کے بارے میں خبر دے رہے ہیں وہ ہے مخبر عنہ، وہ کیا ہے؟ اس کے بارے میں خبر دی جا رہی ہے اور مثلاً کس چیز کی خبر ہے؟ بیع کی اور وہ مخبر عنہ صحیح ان میں ہوا تھا یا نہیں ہوا تھا؟ جی؟ بیع کوئی ہوئی تھی تین دن پہلے؟ نہیں، کوئی بیع نہیں ہوئی، تو مخبر عنہ تو باطل ہے، جب مخبر عنہ باطل ہے تو اقرار کیسے حق ہو سکتا ہے؟ اقرار بھی کیا ہو جائے گا؟ باطل ہو جائے گا، یہ معنی ہے، کیونکہ مخبر عنہ إذا كان باطلا، مخبر عنہ جب باطل ہے، فالإخبار به كيف يصير حقا، تو اس کے بارے میں خبر جو ہے وہ کیسے حق ہو سکتی ہے؟ والهزل في الردة کفر، اور مذاق کرنا مرتد ہونے میں کفر یہ کفر ہے، ایک آدمی مثلاً لوگوں کے سامنے کہتا ہے بھئی مذاق کرتے ہوئے کہ یہ بت خدا ہے، یہ بت میرا معبود ہے، میرا خدا ہے، یاد رکھیے یہ شخص کافر ہو گیا بھئی، یہ کیا ہو گیا؟ کافر۔ اس پر اشکال آگے ذکر کریں گے کہ بھئی کفر کا تعلق مرتد ہونے کا تعلق تو اعتقاد سے ہے، اعتقاد بدلے آدمی، اعتقاد تو اس نے نہیں بدلا ویسے ہی مذاق کے طور پر کہا ہے، کہتے ہیں بھئی یہاں پر اس نے دین کو معمولی سمجھا، دین کی توہین کی ہے بھئی، اللہ نے منع فرمایا ہے دین کے بارے میں مذاق کرنے سے اور وہ دین کے بارے میں مذاق کر رہا ہے، تو یہ بت کو خدا کہنے کی وجہ سے، اس وجہ سے یہ نہیں مرتد ہوا اور کافر اس کافر اس وجہ سے نہیں ہوا بلکہ کافر جو دین کے معاملے میں اس نے مذاق کیا اس مذاق کی وجہ سے کیا ہو گیا؟ کافر، صورت سمجھ میں آ گئی؟
والهزل في الردة کفر، اور مرتد ہونے کے بارے میں مذاق یہ کفر ہے، أي إذا تلفظ بألفاظ الكفر هزلا يصير كافرا، یعنی جب اس نے تلفظ کیا ان کفر کے الفاظ پر مذاق کے طور پر تو وہ کافر ہو جائے گا، ويرد عليه، اس پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے، أنه كيف يكون كافرا مع أنه لم يعتقد به، کہ وہ کیسے کافر ہو جائے گا باوجود اس کے کہ اس نے اس کا تو اعتقاد ہی نہیں رکھا، اور مرتد ہونے کا تعلق تو کس سے ہے؟ اعتقاد سے کہ اعتقاد بدلے، فأجاب بقوله، تو جواب دیا اس کا مصنف نے اپنے اس قول سے، لا بما هزل به، اس وجہ سے نہیں وہ جو اس نے ان لفظوں کی وجہ سے نہیں جن کے ساتھ اس نے ہزل کیا ہے، أي ليس كفره بلفظ هزل به من غير اعتقاد، یعنی کہ اس کا کفر اس لفظ کی وجہ سے نہیں ہے جس کے ساتھ اس نے مذاق کیا ہے بغیر اعتقاد کے، لیکن بعين الهزل، لیکن کفر کس وجہ سے ہے؟ عین مذاق کی وجہ سے کہ دین کے معاملے میں مذاق کیا کیوں اس نے بھئی؟ اس وجہ سے یہ کافر ہے، یہ معنی ہے، لیکن بعين الهزل، عین مذاق کی وجہ سے ہے اس کا کفر، لكونه استخفافا بالدين، اس لیے کیونکہ یہ دین کے استخفاف کا معنی معمولی سمجھنا اور اسی کا معنی استخفاف کا معنی توہین کرنا، اس لیے کیونکہ یہ دین کے توہین کرنا ہے یا دین کو معمولی سمجھنا ہے، وهو كفر، اور یہ کفر ہے، لقوله تعالى، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے، قل أبالله وآياته ورسوله كنتم تستهزئون، منافقین بھئی منافقین، منافقین آپس میں مذاق کرتے تھے دین کا بھئی، بظاہر کلمہ پڑھ لیتے لیکن دل میں کیا تھے؟ کافر تھے، پیچھے اپنے ساتھیوں سے ملتے تو کہتے ہم تو زبان سے ہم تو مذاق کر رہے ہیں مومنین سے، ہم تو ویسے زبان سے کلمہ پڑھا ہے ہم تمہارے ساتھ ہیں اور اور ان کو ختم کریں گے، سازشیں وغیرہ کرتے، تو دیکھیے وہ دین کے ساتھ مذاق کرتے تھے، اب ان کے بارے میں اللہ فرما رہے ہیں، قل أبالله وآياته ورسوله كنتم تستهزئون، قل اے پیغمبر ان سے کہہ دیجیے، أبالله وآياته ورسوله، کیا اللہ کے ساتھ اور اس کی آیتوں کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ، كنتم تستهزئون، تم مذاق کرتے ہو؟ لا تعتذروا، عذر پیش نہ کرو، معذرتیں نہ کرو، قد كفرتم بعد إيمانكم، تحقیق تم کافر ہو گئے ایمان لانے کے بعد، تم کافر ہو گئے ایمان لانے کے بعد، تو معلوم ہوا دین کے ساتھ استہزاء سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔
والسفه عطف على ما قبله، اور ناسمچھی، بے وقوفی بھئی، یہ عطف ہے ماقبل پر، بھئی وہی امورِ اکتسابہ میں سے یہ سفہ بھی ہے بھئی، ناسمچھی بھئی، وهو في اللغة الخفة، اور یہ عربی زبان میں خفت ہلکے پن کو کہتے ہیں، ہلکا ہونا، وفي الاصطلاح، اور اصطلاح کے اندر، ما عرفه المصنف رحمه الله بقوله، اس کو کہتے ہیں جس کی تعریف کی مصنف نے اپنے اس قول کے ساتھ، وهو العمل، سفہ ناسمچھی کس کو کہتے ہیں بھئی؟ کہتے ہیں وہو العمل بخلاف موجب الشرع، وہ عمل کرنا ہے شریعت کے مقتضا کے خلاف، شریعت کے احکام کے خلاف عمل کرنا ہے، وإن كان أصله مشروعا، اگرچہ وہ اصل کے اعتبار سے مشروع ہو۔ سفہ، یاد رکھیے سفہ ناسمچھی، ایک عطہ بھی گزری تھی بھئی، معتوہ، وہ تو تھا معتوہ وہ ناسمچھی تھی جو جس میں بندے کا کوئی اختیار نہیں، کبھی پاگلوں کی طرح حرکتیں کرتا ہے، کبھی ٹھیک لوگوں کی طرح کرتا ہے، وہ ہے معتوہ بھئی، اور یہ سفہ ناسمچھی یہ اپنے اختیار کا دخل ہے اس میں، یعنی اپنا مال وغیرہ ضائع کرتا ہے، اڑاتا ہے، ضائع فضول خرچی وغیرہ کرتا ہے اور فسق کی جگہوں پر اپنا مال خرچ کرتا ہے، تو یقیناً یہ اس کی ناسمچھی ہے جو ایسی جگہوں پر مال خرچ کر رہا ہے، چاہیے تو کیا تھا مال کو کہاں پر خرچ کرتا؟ آخرت کے امور کے اندر خرچ کرتا جس سے آخرت میں نفع ہوتا، لیکن یہ بیجا گناہ کی جگہوں پر مال خرچ کر رہا ہے، مال اڑا رہا ہے، یہ ناسمجھ ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ ہے سفہ، تو اس میں اس کے اپنے عمل کا دخل ہے، خود خرچ کر رہا ہے اپنے اختیار سے، یہ معنی ہے، وهو العمل بخلاف موجب الشرع، اور یہ عمل کرنا ہے شریعت کے موجب کے خلاف، یعنی شریعت کے مقتضا کے خلاف، شریعت کے حکم کے خلاف، وإن كان أصله مشروعا، اگرچہ وہ عمل اصل کے اعتبار سے مشروع اور جائز ہو، وهو السرف والتبذير، اور وہ کیا ہے وہ عمل؟ وہ عمل جو ہے سرف، حد سے تجاوز کرنا ہے والتبذير اور فضول خرچی کرنا ہے، حد سے زیادہ تجاوز کرتا ہے، بیجا مال اڑاتا ہے اور فضول خرچی کرتا ہے، یہ ہے سفہ بھئی۔
خود معنی بیان کر رہے ہیں السرف والتبذیر کا، أي تجاوز الحد، یعنی حد سے بڑھنا، یہ سرف کا معنی کیا، اور تبذیر کا معنی آگے کر رہے ہیں، وتفريق المال إسرافا، اور مال کو کو تقسیم کرنا اسراف کے طریقے پر، یعنی بکھیرنا، ختم کرنا اس کو، اس اسراف، فضول خرچی کرتے ہوئے، وذلك لا يوجب خللا في الأهلية، اور یہ اہلیت کے اندر خلل ثابت نہیں کرتا، یہ جو سفہ جو ہے، یہ جو سفاہت ہے، ناسمچھی ہے، اس سے اہلیت میں خلل نہیں آتا، شرعی احکام اس پر اسی طرح لاگو ہوں گے جیسے سب پر لاگو ہوتے ہیں بھئی، تو یہ اہلیت کے اندر خلل کو ثابت نہیں کرتا، ولا يمنع شيئا من أحكام الشرع، اور شرعی احکام میں سے کسی چیز کو نہیں روکتا، من الوجوب له وعليه، شرعی احکام میں سے کسی چیز کو نہیں روکتا، یعنی کہ اس پر واجب ہونا، اس کے لیے واجب ہونا وعليه یا اس کے خلاف اس کے اوپر، یعنی اس کا حق کسی پر واجب ہو یا کسی کا حق اس پر واجب ہو، فيكون مطالبا بالأحكام كلها، تو یہ مطالب ہوا تمام احکام کا، یعنی اس سے مطالبہ کیا ہوگا تمام احکام کا، کیونکہ یہ اہلیت ہے، اہلیت تو ختم نہیں ہوئی، جب اہلیت ہے تو وجوب آئے گا، جب وجوب آئے گا تو اس سے ادا کا بھی مطالبہ ہوگا تمام عبادتیں وغیرہ سب کچھ، ويمنع ماله عنه، اور روکا جائے گا اس ناسمجھ کے مال کو اس سے، أي مال السفيه عن السفيه، ضمیروں کے مرجع بتلا دیے، ناسمجھ کے مال کو سفdict کے مال کو روکا جائے گا سفdict سے، في أول ما يبلغ، اس اول میں جب وہ بالغ ہو، یعنی بلوغت کی ابتداء میں، بلوغت کی ابتداء میں اس سے مال کو روک لیا جائے گا، بالنص، نص کی وجہ سے بھئی، قرآن میں اللہ نے فرمایا ہے بھئی، اس نص کی وجہ سے ان سے مال کو روکا جائے گا، کب روکا جائے گا؟ في أول ما يبلغ، جب اول ابتداء میں وہ بالغ ہو، اسی وقت سے روک لیا جائے گا، نص کی وجہ سے، کون سی نص ہے؟ کہتے ہیں وهو قوله، اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے، ولا تؤتوا السفهاء أموالكم، اور تم نہ دو ناسمجھوں کو، أموالكم، اپنے مال، التي جعل الله لكم قياما، وہ مال جن کو بنایا اللہ نے تمہارے لیے، قياما، سبب بھئی، کیا بنایا؟ یعنی زندگی کا سبب بنایا، وہ مال جس کو تمہارے لیے اللہ نے زندگی کا سبب بنایا ہے، تو اس وہ مال، اپنا وہ مال ناسمجھوں کو نہ دو، دیکھا؟ معلوم ہوا مال سے روکا جائے گا، مال نہیں دیا جائے گا ناسمجھوں کو، کون فرما رہے ہیں یہ نہ دیا جائے؟ اللہ فرما رہے ہیں۔
وفي الآية توجيهان، اس آیت کے اندر دو توجیہیں ہیں بھئی، دو معنی بیان کریں گے بھئی اللہ، ایک یہ، بھئی دیکھیے ابھی سے سمجھ لیں، ایک معنی یہ بیان کریں گے کہ تم اپنا مال ناسمجھوں کو نہ دو،
کیونکہ اپنا مال جب تم ان کو دے دو گے اپنا مال۔ مال تمہارا ہے اور وہ ناسمجھ تمہاری کفالت میں ہے تمہاری سرپرستی میں ہے تو اس کو اپنا مال نہ دو۔ کیونکہ اگر تم اپنا مال اس کو دے دو گے تو اس مال کے ذریعے تو یہ تمہاری گزر بسر کا سبب تھا دنیا کے اندر، تو وہ اس کو بے دریغ اڑائے گا، خرچ کرے گا، ضائع کرے گا اور تمہیں پھر اس کے نفقے کے لیے مال کی ضرورت پڑے گی اور پھر وہ تمہیں دیں گے نہیں تو تمہارا مال ختم ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ایک معنی یہ بھئی۔ آسان سی بات ہے، آسان سی بات ہے بھئی۔
تو اپنا یہ مال ان کو نہ دو۔ مال کس کا ہے؟ ولی کا ہے۔ ناسمجھ کا نہیں ہے۔ مال کس کا ہے؟ ولی کا۔ یہ مال نہ دو ان کو۔ کہتے ہیں اگر یہ معنی کیا جائے تو یہ ہماری بحث سے خارج۔ اس لیے کیونکہ بات آیا ہماری بحث چل رہی ہے کہ سفیہ کو اس کے اپنے مال سے روکا جائے گا یا نہیں۔ اپنے مال سے روکا جائے گا اور یہ تو کس کے مال کی بات ہو رہی ہے؟ ولی کے مال تو یہ ہماری بحث سے خارج۔
دوسرا معنی یہ کہ اموالکم سے مراد اموالہم ہیں، ان ناسمجھوں کا مال ان کو نہ دو۔ ان کے پاس اگر مال ہے، وراثت کے طور پر یہ کسی صورت میں ان کو ملا ہے، یا کسی نے وصیت کی ہے، کسی نے تحفے کے طور پر دے دیا تو وہ مال ان کو نہ دو۔ بھئی، قرآن میں تو اموالکم آیا، پھر اموالہم کیسے؟ اموالکم آیا ہے تو یہ مخاطب کی طرف پھر اس کی نسبت کیوں کیوں کی گئی؟ اگر اس سے مراد ان ناسمجھوں کا مال ہے۔
کہتے ہیں اس لیے کیونکہ خرچ کرنے والے اولیاء ہیں۔ اس لیے ان کی طرف کیا کر دی گئی مال کی نسبت کر دی گئی بھئی۔ اور نیز اس کی تائید ہوتی ہے آگے آیت کے اندر جو آ رہا ہے فان آنستم منہم رشدا فادفعوا إلیہم أموالہم۔ اگر تم ان میں سمجھداری پا لو تو پھر ان کا مال ان کے حوالے کر دو۔ دیکھو آگے اموالہم آگیا۔ کیا آیا؟ اموالہم۔
یہاں پر اموالکم سے بھی معلوم ہوا کیا مراد ہے؟ اموالہم ہی مراد ہے تو یہاں مخاطب ہیں اولیاء، ان کو خطاب کیا جا رہا ہے۔ مال تو ان ناسمجھوں ہی کا تھا، لیکن نسبت ان اولیاء جو مخاطبین ہیں، ان کی طرف کر دی گئی کیونکہ یہ خرچ کرنے والے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔
وفي الآية توجيهان اس آیت کے اندر دو توجیہیں ہیں۔ احدهما ان دونوں میں سے ایک یہ ہے ان تکون المعنى على ظاهره کہ معنی کس پر ہو؟ اس کے ظاہر پر ہی ہو، یعنی اموالکم آیا ہے تو مال بھی کس کا مراد ہو؟ اولیاء ہی کا مراد ہو، یہ پہلی توجی۔ الا توتو لا توتو تم نہ دو یا ایها الاولیاء اے ولیو السفهاء کس کو نہ دو مال؟ سفہاء کو من الأزواج والأولاد سفہاء جو کس میں سے ہیں؟ تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے ہوں، جو سرپرستی میں ہوں ان کو ان کا اموالکم کیا نہ دو ان کو؟ اپنا مال۔
کس کا مال؟ اپنا مال۔ پہلی توجی چل رہی ہے، اولیاء اپنا مال نہ دیں التي جعل اللہ لکم فیها قیام وہ جس تمہارے لیے جس میں اللہ نے قیام بنایا ہے یعنی زندگی کا زندگی قائم رکھنے کا سبب بنایا ہے لانهم يضيعونها بلا تدبير اس لیے کیونکہ وہ اس مال کو ضائع کریں گے بغیر تدبیر کے ہی، بغیر کسی تدبیر کے ثم تحتاجون إليه پھر وہ اس مال کے محتاج ہوں گے لأجل نفقاتهم
ثم تحتاجون إليه پھر اے ولیو! تم محتاج ہو گے اس کے مال کے لأجل نفقاتهم کس لیے؟ ان کے نفقوں کے لیے، ان کے خرچوں کے لیے ولا یؤتونكم اور وہ تمہیں نہیں دیں گے۔
وحينئذ لا يكون الآية مما نحن فيه اس وقت جو ہے آیت اس بحث میں سے نہیں ہے جس کے اندر ہم ہیں، یہ پہلی توجی۔ والثانية دوسری توجی یہ ان يكون معنى أموالكم أموالہم کہ اموالکم کا کیا اموالکم کا کیا معنی؟ اموالہم ہیں۔ بھئی پھر یہ نسبت ہم کے بجائے کم کی طرف کیوں کی گئی؟ غائب کی بجائے مخاطب کی طرف کیوں کی گئی؟
کہتے ہیں وإنما أضفت إليهم اور یہ جو نسبت کی گئی اولیاء کی طرف لأجل القيام بتدبیرها اس وجہ سے کہ وہ اس کی تدبیر پر قائم ہیں بھئی۔ وہ کیا ہیں اس کو خرچ کرنے والے ہیں۔
وحينئذ يكون تمسكا لما نحن فيه اس صورت میں استدلال ہوگا اس چیز کے لیے جس میں ہم ہیں۔ اس صورت میں اس اس آیت سے استدلال کیا جا سکتا ہے۔ ہم دلیل کس چیز کی پیش کر رہے ہیں کہ ناسمجھوں کو ان کا مال نہ دیا جائے تو یہ اسی صورت میں ہوگا جب دوسری توجی کی جائے بھئی کہ نہ۔
أي لا تؤتوا السفهاء أموالهم نہ دو ناسمجھوں کو ان کا مال التي جعل اللہ لکم فیہا تدبیرا وقيامها وہ مال جس کے اندر مقرر کیا تمہارے لیے اللہ نے اس کی تدبیر اور اس کے قیام کو۔ ویدل علی هذا المعنى اور اسی معنی پر دلالت کرتا ہے قوله اللہ کا قول فیما بعده جو اس کے بعد میں آ رہا ہے کیا فان آنستم منہم رشدا اگر تم پاؤ ان ناسمجھوں میں رشدا کوئی سمجھداری۔ اگر تمہیں پھر ان میں انہیں ان کا نام سمجھو کہ ان کا مال نہ دو، پھر اگر تمہیں ان میں سمجھداری معلوم ہو کہ اب یہ سمجھدار ہو گئے ہیں فادفعوا إليهم أموالهم تو پھر ان کا مال ان کے حوالے کر دو۔
ولهذا قال أبو يوسف ومحمد رحمہما اللہ تعالی اور اسی وجہ سے صاحبين فرماتے ہیں إنہ لا يدفع إليه المال ما لم يونس منه الرشد کہ حوالے نہیں کیا جائے گا ناسمجھ کے اس کا مال جب تک اس سے معلوم نہ ہو کوئی سمجھداری۔ جب تک سمجھدار نہیں ہوتا، مال نہیں دیں گے چاہے ساری عمر گزر جائے۔ لأجل هذه الآية اس آیت کی وجہ سے بھئی۔ صاحبين فرماتے ہیں۔ وقال أبو حنيفة رحمۃ اللہ اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں إذا بلغ خمس وعشرين سنة يدفع إليه المال کہ جب وہ پچیس سال تک کو پچیس سال کا ہو جائے تو اس کا مال اس کے حوالے کر دیا جائے وإن لم يونس منه الرشد اگرچہ اس سے کوئی سمجھداری ظاہر نہ ہو لأنه يصير المرء في لأنه يصير المرء في هذه المدة جده اس لیے کیونکہ اتنی مدت میں یعنی پچیس سال کی جو مدت ہے اس میں آدمی جده دادا بن جاتا ہے۔ تو یہ دادا بننے کی عمر ہے، اب بھی اگر اس کی سمجھ نہیں آئی تو آگے کوئی امید نہیں سمجھ آنے کی۔ دادا کی عمر تک جا کر جو سمجھدار نہ ہو سکا، آگے کب سمجھدار ہوگا؟ لہذا اب اس کا مال اس کو دے دو۔ اب اس کا مال اسے دے دو۔
اب دادا کیسے بننے کی عمر ہے؟ امام صاحب فرماتے ہیں دیکھیے کم سے کم بلوغ کی عمر لڑکے کے اندر 12 سال ہے۔ لڑکا کم سے کم کس عمر میں بالغ ہو سکتا ہے؟ 12 سال۔ اور فرض کیجیے 12 سال ہی میں بالغ ہوا، ساتھ ہی نکاح کر دیا گیا اور حمل کی مدت کم سے کم چھ مہینے ہیں اور چھ ماہ میں اس کی اولاد ہو سکتی ہے۔ تو ساڑھے بارہ ما ساڑھے بارہ سال میں یہ باپ بن گیا۔ اور اسی کو دگنا کر دو تو دادا بن جائے گا بھئی۔
اس کا بیٹا 12 سال کا ہوا، چھ ماہ میں پیدا ہوا، پھر وہ 12 سال کا ہوتے ہی بالغ ہو جائے اور پھر اس کا کیا کر دیا جائے؟ نکاح تو چھ ماہ میں امکان ہے کیا ہو جائے اس کی اولاد، تو وہ پہلا کیا بن گیا؟ دادا بن گیا، صورت تو یہ احتمال ہے اس میں دادا بننے کا احتمال ہے، یعنی یہ دادا بننے کے قابل ہے یہ عمر بھئی۔
لأنه يصير المرء في هذه المدة جده اس لیے کیونکہ آدمی جو ہے اس مدت میں دادا بن جاتا بن جاتا ہے إذ أدنى مدت ادنى ہے اور شاحہ کی کتابوں میں نہیں۔ ادنى ہے ادنى اس کو ادنى کر لیجیے اذ ادنى مدت البلوغ اثنا عشر سنة اس لیے کیونکہ کم سے کم مدت جو ہے بالغ ہونے کی وہ بارہ سال ہے۔ وادنى مدة الحمل ستة أشهر اور حمل کی کم سے کم مدت جو ہے وہ چھ ماہ ہے فصير حينئذ ابنا تو اس وقت یہ باپ بن جائے گا 12 ساڑھے 12 سال میں وإذا ضعیف ذلک اور جب اس کو دگنا کر دیا جائے یصیر جده تو کیا بن جائے گا؟ دادا۔
فلا يفيد منع المال بعده تو پھر مال کا روکنے کا اس کے بعد کوئی فائدہ نہیں ہے بھئی کیونکہ اب کوئی امید ہی نہیں ہے۔ وهذا القدر أي عدم إعطائه المال مما اجتمع عليه اور اتنی مقدار اس میں تو دونوں صاحبين اور امام صاحب نے اجماع کیا ہے یعنی اتفاق کیا ہے۔ اتنی مقدار میں، کتنی مقدار میں؟ کہ مال نہیں دینا۔ امام صاحب بھی فرماتے ہیں مال نہیں دینا، صاحبين بھی فرماتے ہیں مال نہیں دینا۔ তো کہتے ہیں وهذا القدر أي عدم إعطائه المال مما اجتمع عليه یہ اتنی مقدار میں یعنی اس کو مال نہ دینے کے اندر یہ وہ وہ مقدار ہے جس میں اجماع کیا ہے یعنی اتفاق کیا ہے امام صاحب اور صاحبين نے ولکنہم مختلفوا في أمر زائد عليه لیکن پھر انہوں نے اپ اختلاف کیا ہے ایک زائد امر کے بارے میں وہ وهو كونه محجورا عن التصرفات آگے کچھ زائد چیزوں میں اختلاف ہے اتنا تو دونوں میں اتفاق ہے کہ مال نہیں دیا جائے گا۔
ہاں! ایک زائد چیزوں کے اندر اختلاف ہے پھر کہ وہ زائد کیا کہ اس سفیہ پر یہ جو ناسمجھ ہے، اس پر کیا شرعا پابندی آئے گی بعض چیزوں میں کہ پابندی نہیں آئے گی۔ یعنی اس کے سارے تصرفات ٹھیک ہوں گے یا بعض تصرفات معتبر ہی نہیں، شرعا جائز ہی نہیں اس کی طرف سے؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں نہیں کوئی پابندی نہیں ہوگی حجر اس پر نہیں آ سکتا کیونکہ یہ عاقل بالغ ٹھیک ہے ہاں اپنا مال فضول اڑاتا ہے لیکن اس کی وجہ سے اس پر پابندی نہیں۔ جبکہ صاحبين فرماتے ہیں کہ وہ چیزیں جن جن میں مذاق مؤثر ہے اور مذاق کی وجہ سے جو چیزیں باطل ہو جاتی تھیں، مذاق کرو تو ہوتی ہی نہیں تھیں جیسے بیع وغیرہ تھی تو ان چیزوں کے اندر اس پر پابندی ہوگی، باقی جو چیزوں میں مذاق مؤثر نہیں نکاح کر لو تو مذاق بھی کرو نکاح ہو جائے گا، طلاق دے مذاق میں بھی دے تو طلاق ہو جائے گی تو جن چیزوں کے اندر مذاق مؤثر نہیں، وہ تصرفات تو اس کے نافذ ہو جائیں گے، لیکن جن میں مذاق مؤثر ہے وہ تصرفات اس پر پابندی ہوگی، وہ والے تصرفات یہ کیونکہ یہ ناسمجھ ہے اس لہذا اس پر پابندی ضروری ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔
تو کہتے ہیں لیکن اختلاف کیا انہوں نے فی امر زائد علیہ اس پر ایک زائد چیز پر وہو كونه محجورا عن التصرفات اور وہ اس کا محجور ہے ہونا ہے تصرفات سے فعنده لا يكون محجورا تو امام صاحب کے نزدیک وہ محجور نہیں ہوگا یعنی پابند نہیں ہوگا وعندهم يكون محجورا اور صاحبین کے نزدیک وہ پابند ہوگا اس پر کچھ پابندیاں ہوں گی علی ما اشارہ الہی بقولہ ابن اور اس کے جس کی جس کی طرف اشارہ کیا مصنف نے اپنے اس قول کے ساتھ وبانہ لا یوجب الحجر أصلا عند أبي حنيفة رحمہ اللہ اور یہ سفاہت جو ہے یہ واجب نہیں کرتی پابندی کو سرے سے ہی امام صاحب کے نزدیک، امام صاحب کے نزدیک یہ قطعی قطعاً پابندی کو ثابت نہیں کرتا ای سواء كان في تصرف لا يبطله الهزل كالنكاح برابر ہے کہ چاہے ایسے تص وہ ایسے تصرف میں ہو جس کو لا یبطله الہزل جس کو مذاق باطل نہیں کرتا كالنكاح كالنكاح كالنكاح كالنكاح جیسے نکاح وعطاق اور عتاق او في تصرف يبطله الهزل یا وہ ایسے تصرف میں ہو يبطله الہزل جس جس کو ہزل کیا کر دیتا ہے باطل کر دیتا ہے كالبوع والاجارة کالبوع والاجارة فأن الحجر على الحر العاقل البالغ غير مشروع عنده اسی لیے کیونکہ پابندی لگانا آزاد عاقل بالغ پر یہ جائز نہیں ہے امام صاحب کے نزدیک یہ صرف بے جب مال اڑا رہا ہے اور تو عاقل بھی پوری بالغ بھی ہے آزاد بھی ہے لہذا اس پر پابندی شرعاً جائز نہیں۔
وكذلك عندهما فيما لا يبطله الهزل اور اسی طرح ہے صاحبين کے نزدیک بھی ان تصرفات کے اندر جن کو ہزل باطل نہیں کرتا وأما فيما يبطله الهزل باقي ان تصرفات میں جن کو ہزل باطل کر دیتا ہے یحجر علیہ اس پر صاحبين کے نزدیک پابندی ہوگی نظرا له اس پر شفقت کرتے ہوۓ کصبي والمنجوني جیسے بچہ اور مجنون ہوتا ہے صاحبين فرماتے ہیں اس پر شفقت کے لیے ضروری ہے اس پر پابندی لگائی جائے یہ تو اپنا سارا مال اڑا دے گا اور کل خالی ہاتھ بیٹھ جائے گا کچھ بھی نہیں رہے گا اس کے پاس تو جیسے کہ بچے اور مجنون کے لیے ہے فلا یصح بيعه وإجارته وهبته وسائر تصرفاته تو صحیح نہیں ہے اس کی بیع اور اس کا اجارہ اور اس کا ہبہ کرنا وسائر تصرفاته اور اس کے باقی کے تصرفات یاد رکھیے سائر بمعنے تمام کے بھی آتا ہے اور بمعنے باقی کے بھی آتا ہے موقع کے مطابق ترجمہ کہیے بھئی جہاں بھی آئے۔
ليأتي ليه لأنه يصرف ماله ليأنه يصرف ماله بهذا الطريق اس لیے کیونکہ وہ اسراف کرتا ہے اپنے مال کا اس طریقہ پر فضول خرچی کرتا ہے اپنے مال کی اس طریقے پر فیكون كلا على المسلمين کل کہتے ہیں بوجھ کو تو وہ بوجھ بن جائے گا مسلمانوں پر و يحتاج لنفقته لنفقته إلى بيت المال اور یہ محتاج ہوگا اپنے نفقے کے لیے بیت المال کی طرف، مال جب سارا اڑا دے گا تو کہاں سے کھانا بیت المال پر بوجھ بن جائے گا، تمام مسلمانوں پر بوجھ بن جائے گا۔
والسفر عطف على ما قبله اور سفر یہ عطف ہے ما قبل پر بھئی۔ یہ وہ امور مقتسبہ میں سے اگلی قسم آ گئی سفر بھئی۔ ما قبل میں کس کی بات چل رہی تھی؟ سفہہ کا سفہت سفاہت کی اب سفر کی بات آئی۔ کہتے ہیں عطف علی ما قبلہ یہ ما قبل پر عطف ہے وہ جی وهو الخروج المديد عن موضع الإقامة على قصد السير۔
مدید کا معنی لمبا طویل اور وہ لمبا خروج ہے طویل نکلنا ہے لمبا نکلنا ہے عن موضع الإقامة رہائش کی جگہ سے على قصد السير کس ارادہ سے؟ سیر کے ارادہ سے چلنے کے ارادہ سے۔ وأدناه ثلاثة ثلاثة أيام اور اس کی کم سے کم مقدار کتنی ہے؟ تین دن، تین دن کا سفر ہوگا اتنے کا ارادہ کرے گا تو پھر مسافر بنے گا ورنہ مسافر نہیں۔
وانہ لا ينافي الأهلية اور یہ سفر اہلیت کے منافی نہیں ہے بھئی انسان کی اہلیت ہی ختم ہو جائے ایسا نہیں پھر بھی اس چیزوں کا وجوب آئے گا اہلیت ہے وجوب بھی آئے گا اور ادا بھی۔ ای اهلية الخطاب یعنی یہ اہلیت خطاب کے منافی نہیں ہے لبقاء العقل والقدرة البدنية بواجہ عقل اور بدنی قدرت کے باقی رہنے کی وجہ سے کیونکہ عقل بھی باقی ہے بدنی قدرت بھی باقی ہے تو اس لیے اہلیت کے منافی نہیں ہے سفر لکنہ من أسباب التخفيف بنفسه لیکن یہ سفر خود جو ہے تخفف کے اسباب میں سے ہے سفر کے اندر احسری احکام میں کیا ہے تخفف ہے ان میں کمی کی گئی ہے تو یہ سفر جو ہے خود تخفف کے اسباب میں سے ہے مطلقا مطلق طور پر بھئی کس طور پر؟ مطلق طور پر۔
چاہے اس میں یعنی مشقت ہو یا مشقت نہ ہو۔ چاہے مشقت ہو یا نہ ہو، سفر سے ہی سفر ہو بس، تو سفر میں چاہے مشقت ہو یا نہ ہو، ہر صورت میں کیا ائے گی؟ شریعت احکام کے اندر تخفیف ائے گی تو یہ تخفیف کا خود سبب ہے مطلقاً لكونه من أسباب المشقة اس لیے کیونکہ یہ سفر کس میں سے ہے؟ مشقت کے اسباب میں سے ہے، فسوا ان توجد فيه المشقة أو لم توجد پس برابر ہے کہ اس سفر کے اندر مشقت پائی جائے یا نہ پائی جائے جعل نفس السمر نفس السفر قائما مقام المشقة پس نفس سفر ہی کو مشقت کا قائم مقام کر دیا گیا۔
نفس سفر ہی کو مشقت ہو یا نہ ہو، سفر میں مشقت جو سبب ہے مشقت کا تو سبب کوئی مشقت کے قائم مقام، لہذا سفر میں تخفیف آ جائے گی چاہے مشقت نہ ہو بخلاف المرض بخلاف مرض کے اس کا تعلق پیچھے لیکنه من أسباب التخفيف بنفسه سے ہے۔ سفر خود تخفیف کے اسباب میں سے ہے بخلاف مرض کے، مرض خود تخفیف کے اسباب میں سے نہیں۔ کیونکہ مرض کئی قسم پر ہیں۔ بعض مرض ایسے ہیں جن میں روزہ رکھو تو تکلیف ہوگی، بعض مرض ایسے ہیں جن میں روزہ رکھنے میں کوئی تکلیف نہیں۔ بھئی! صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔
تو سفر خود اپنی ذات کے اعتبار سے تخفیف کا سبب ہے سفر بھئی، لیکن مرض ایسا نہیں فانه متنوع اسی لیے کیونکہ مرض کئی قسم پر ہیں۔ إلى ما يضر به الصوم اسی لیے کیونکہ یہ تقسیم ہونے والا ہے اس قسم کی طرف جو کہ جس میں نقصان دیتا ہے روزہ اور إلى ما لا يضر اور اس قسم کی طرف جس میں روزہ نقصان نہیں دیتا فمتعلق الرخصة ليس نفس المرض پس یہ رخصت کا متعلق ہے جو ہے وہ نفس مرض نہیں ہے نفس سفر تو تخفیف نفس سفر تو تخفیف کا سبب ہے لیکن نفس مرض تخفیف کا سبب نہیں کیونکہ مرض کئی قسم کے بعض سے روزے رکھنے سے روزے سے بعض مرضوں میں
نقصان ہوگا بعضوں میں نقصان نہیں ہوگا۔ لہذا رخصت کے متعلق جو ہے نفس مرض نہیں ہے بل ما یضر بہ الصوم بلکہ وہ مرض ہے جس میں روزے سے نقصان پہنچتا ہو۔ وہ مرض جو ہے ہر مرض نہیں، وہ مرض تخفیف کا سبب ہے روزے میں جس کو روزے سے نقصان پہنچتا ہو جس میں۔
فیؤثر السفر فی قصر ذوات الاربع، پس سفر جو ہے وہ مؤثر ہوگا کس کے اندر؟ فی قصر ذوات الاربع چار رکعتوں والی کے قصر میں۔ چار رکعتوں والی نمازیں جو ہیں ان کے قصر میں سفر مؤثر ہوگا۔ چار رکعت والی نمازوں کے میں کیا کریں گے ہم؟ قصر کریں گے یعنی کتنی پڑھیں گے؟ دو، دو پڑھیں گے۔ تو کہتے ہیں پس سفر مؤثر ہوگا چار رکعت والی نمازوں کے قصر کرنے میں وف تاخیر وجوب الصوم اور وجوب صوم کو مؤخر کرنے میں۔ اس وقت روزے سفر میں رکھنا ضروری نہیں ہوں گے بلکہ مؤخر کیا جائے گا الی عدۃ من ایام اخر، کچھ دوسرے دنوں تک کے لیے۔
لا فی اسقاطہ، تو یہ سفر مؤثر ہے روزوں کے وجوب کو مؤخر کرنے میں، لا فی اسقاطہ، ان کو ساقط کرنے میں مؤثر نہیں۔ روزے مؤخر ہو جائیں گے، سرے سے ساقط ہو جائیں ائیں ہی نہ ایسا نہیں۔
لکنہ لما کان من الأمور المختارة، لیکن یہ سفر جب ہے یہ امور مختارہ میں سے ہے اپنے اختیار والے امور میں سے ہے۔ سفر آپ کی مرضی ہے جب جانا چاہتے ہیں، جب نہیں جانا چاہتے۔ اختیار والا امر ہے یا نہیں بھئی؟ تو یہ چونکہ سفر جو ہے اپنے اختیار والے امور میں سے ہے جواب عما یتوہم، یہ جواب ہے اس کا بات سے جو وہم کیا جائے، انہ لما کان نفس السفر اقیم مقام المشقة، کہ جب نفس سفر کو قائم مقام کر دیا گیا مشقت کے فیبنغی ان یصح الافطار فی یوم سافر ایضا، تو مناسب یہ ہے کہ افطار صحیح ہونا چاہیے اس دن میں جس دن سفر کیا اس دن بھی افطار صحیح ہونا چاہیے۔
صورت یہ ہے، آپ نے کہا سفر کیا ہے؟ سفر مؤثر ہے اس کی وجہ مؤثر ہے اس کی وجہ سے رخصت آئے گی۔ سفر کیا ہے؟ اس کی وجہ سے کیا آئے گی؟ تو سفر خود جب مؤثر ہے تو لہذا جس دن کوئی شخص سفر پر نکلے روزہ رکھا ہوا تھا تو جب سفر پہ نکل گیا تو چاہیے کہ اب وہ روزہ توڑ دے اسے اجازت ہونی چاہیے، روزہ توڑ بھی سکتا ہے۔ کیونکہ سفر سے سفر کیا ہے؟ رخصت کا سبب ہے۔ سفر رخصت کا سبب ہے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ نہیں؟ تو لہذا اس کو اجازت ہونی چاہیے وہ کیا کر سکے؟ افطار کر سکے روزہ توڑ سکے۔ افطار صحیح ہونا چاہیے۔
فاجاب، تو جواب دیا مصنف نے، بأن السفر لما کان من الأمور المختارة، کہ سفر جب وہ ان امور میں سے ہے جو مختار ہیں یعنی اپنے اختیار والے ہیں من الأمور المختارة الحاصلة باختیار العبد، ان امور مختارہ میں سے ہیں جو حاصل ہوتے ہیں بندے کے اختیار سے ولم یکن موجبا ضرورت لازمۃ مستدعیۃ الی الافطار، اور یہ موجب نہیں ہے، ثابت نہیں کرنے والا ایسی ضرورت کو جو لازم ہو، مستدعیۃ، طلب کرنے والی ہو الی الافطار، کس چیز کو؟ سفر اپنے اختیار سے ہے۔ سفر اپنے اختیار سے ہے۔ اگر روزہ رکھ لیا ہے تو نہ جائے سفر پر بھئی! صورت اور اگر سفر پر جانا ہے تو روزہ نہ رکھے بھئی! صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ نہیں کر سکتا کہ کیا کر لے؟ روزہ توڑ دے بھئی۔
تو کہتے ہیں ولم یکن موجبا موجبا ضرورت لازمۃ مستدعیۃ الی الافطار، کہ لیکن یہ جو سفر ہے یہ ثابت نہیں کرنے والا ایسی ضرورت کو جو لازم ہو مستدعیۃ الی الافطار اور کس چیز کو طلب کرنے والی ہو؟ افطار کہ افطار کر لینا چاہیے اور کوئی صورت ہی نہیں ہے۔ کالمرض، جیسے کہ مرض ہے۔ مرض کے اندر تو مجبوری ہوتی ہے، کیا کرنا پڑتا ہے انسان کو؟ اگر روزہ رکھتا ہے تو تکلیف ہوگی اور مرض با روزہ رکھا تھا بعد میں مرض لاحق ہو گیا تو وہ کیا کر سکتا ہے؟ افطار جبکہ اس میں تکلیف ہو۔
فقیل، پس کہا گیا ہے انہ اذا اصبح صائما، کہ ایک شخص نے صبح کی روزے کی حالت میں کیا کی؟ صبح کی روزے کی حالت میں یعنی روزہ رکھا۔ صبح روزہ رکھا وہو مسافر، اس حالت میں کہ وہ کیا تھا؟ مسافر تھا، سفر میں تھا او مقیم فسافر، یا مقیم تھا صبح کے وقت پھر چل پڑا سفر پر۔ روزہ رکھا اور صبح مقیم تھا پھر سفر پر چل پڑا لا یباح لہ الفطر، تو اس کے لیے فطر یعنی روزہ توڑنا جائز نہیں لانھ تقرر الوجوب علیہ بالشروع، اس لیے کیونکہ پختہ ہو گیا اس پر وجوب شروع کرنے کی وجہ سے۔ روزہ شروع کر دیا تو وجوب پختہ ہو چکا اس پر ولا ضرورت لہ تدعوہ الی الافطار، اور کوئی اس کی ایسی ضرورت نہیں ہے جو کس کی طرف بلائے؟ جو اس کو افطار کی طرف بلائے۔
بخلاف مریض، بخلاف کس کے؟ مریض کے، اذا نوی الصوم، جب اس نے روزے کی نیت کی وتحمل علی نفسہ مشقۃ المرض، اور اس نے برداشت کیا اپنے نفس پر مشقۃ المرض، مرض کی مشقت ثم اراد ان یفطر حل لہ ذلک، بھئی مریض کے بیمار تھا پہلے سے ہی پھر بھی کوشش کر کے روزہ رکھ لیا۔ پھر بھی بعد میں پھر حالت زیادہ خراب ہو رہی ہے، تکلیف ہو رہی ہے تو پھر بھی اس کے لیے روزہ توڑنا جائز ہے۔ یہ معنی، جب اس نے نیت کر لی روزے کی وتحمل علی نفسہ مشقۃ المرض اور اس نے برداشت کیا اپنے نفس پر مرض کی مشقت بھی ثم اراد ان یفطر حل لہ ذلک، پھر ارادہ کیا اس نے افطار کرنے کا تو یہ جائز ہے اس کے لیے۔
وکذا اذا کان صحیحا من اول النھار، اسی طرح جبکہ وہ تندرست تھا اول نہار میں، دن کے اول میں، شروع میں تندرست تھا ناویا للصوم، اور ارادہ کرنے والا تھا کس چیز کا؟ روزے۔ یعنی روزے کا ارادہ کیا، روزہ رکھ لیا، صبح کے وقت تندرست تھا ثم مریض، پھر وہ بیمار ہوا حل لہ الفطر، تو اس کے لیے بھی فطر افطار کرنا حلال ہے لانہ امر سماوی لا اختیار للعبد فیہ، اس لیے کیونکہ مرض ایک امر سماوی ہے، آسمانی امر ہے، بندے کے اختیار کا اس میں دخل نہیں، تو کہتے ہیں لانہ امر سماوی، وہ ایک امر آسمانی امر ہے لا اختیار للعبد فیہ، بندے کا اس میں کوئی اختیار نہیں۔
والمرخص للفطر موجود، اور فطر کی رخصت دینے والا چیز جو ہے وہ موجود ہے۔ مرض ہے نا؟ اور مرض کی وجہ سے کیا آتی ہے؟ فطر کی، افطار کرنے کی رخصت۔ تو مرخص موجود ہے یا نہیں جب بیمار ہو گیا؟ مرخص، تو یہ معنی والمرخص للفطر موجود، فطر کی رخصت دینے والی چیز موجود ہے فصار عذرا مبیحا للفطر، تو یہ ایسا عذر بن گیا جو جائز کر دینے والا ہے افطار کو۔
ولو افطر المسافر فی الصورة المذکورتین، اور اگر افطار کر لیا مسافر نے ان دو صورتوں میں، کون سی دو صورتیں؟ ایک تو یہ کہ روزہ رکھا اور مقیم تھا پھر سفر پر چل پڑا۔ روزہ رکھا، مقیم تھا اور پھر سفر پر چل پڑا۔ اب اگر اس نے افطار کر لیا یا سفر ہی کے اندر اس نے کیا کیا؟ مشقت کوشش کر کے روزہ رکھ لیا اور پھر کیا کیا؟ افطار کر لیا۔ تو کہتے ہیں اور اگر افطار کر لیا مسافر نے ان دو صورتوں میں جو ذکر ہوئیں کان قیام السفر المبیح شبھۃ، تو یہ جو سفر ہے المبیح، جو افطار کو مباح کرنے والا ہے۔ سفر میں افطار مباح ہوتا ہے یا نہیں انسان کو کہ روزہ نہ رکھے۔ انسان انسان روزہ توڑنے کی بات نہیں کر رہا، روزہ نہ رکھنے کی، مبیح فطر کے اباح مبیح ہے کس چیز کے مباح کرنے والا ہے سفر؟ فطر کو۔
تو کہتے ہیں کان قیام السفر المبیح، تو یہ سفر کا قائم ہونا جو مباح کرنے والا ہے فطر کو شبھۃ، یہ سفر جو قائم کرنے والا ہے فطر کی اباحت کو، یہ کیا ہے؟ یہ شبہ ہو جائے گا۔ کیا بن جائے گا؟ شبہ بن جائے گا فلا تجب الکفارۃ، لہذا اس پر کفارہ واجب نہیں ہوگا۔ یہ اس کے حق میں کیا بن جائے گا؟ شبہ۔ کیا بن جائے گا؟ شبہ، اور شبہے کی وجہ سے اس پر کفارے کا حکم نہیں آئے گا۔ شبہے کی وجہ سے کفارے کا حکم نہیں کیونکہ حالت سفر میں تھا اور سفر یہ تو افطار کو یعنی فطر کو، فطر کو مباح کرنے والا ہے۔ سفر کیا ہے؟ سفر کے اندر روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہوتی ہے یا نہیں ہوتی؟ تو یہ سفر مبیح پایا جا رہا ہے۔ چاہے سفر کے اندر روزہ رکھے یا روزہ رکھ کے سفر پر اسی دن نکل جائے، دونوں صورتوں میں روزے کے اندر سفر پایا جا رہا ہے یا نہیں؟ روزے کے اندر، اور کس سفر کیا ہے؟ یہ فطر کو مباح کرنے والا ہے، اور جب یہ فطر کو مباح کرنے والا ہے تو اب اگر اس نے افطار کر لیا تو شبہ آگیا کہ سفر تو پایا جا رہا ہے، عذر تو پایا جا رہا ہے، اس شبہے کی وجہ سے اب اس پر کفارہ نہیں آئے گا۔ اس شبہے کی وجہ سے اس پر یہ معنی ہے کہ یہ قیام سفر مبیح جو ہے اس کے لیے شبہ بن جائے گا فلا تجب الکفارۃ تو اس پر کفارہ واجب نہیں ہوگا۔
وان افطر المقیم، اور اگر افطار کر لیا مقیم نے، ایک آدمی کیا تھا؟ مقیم تھا۔ صبح روزہ گھر پر ہی رکھ لیا، ارادہ ہے کہ میں دس بجے سفر پر نکلوں گا، روزہ رکھ لیا اور پھر سفر پر نکلنے سے پہلے ہی روزہ توڑ دیا۔ تو اس کے حق میں تو شبہ بھی موجود نہیں ہے کیونکہ سفر ہے؟ ابھی نکلا ہی نہیں، نکلنے کے بعد توڑتا تو پھر تو سفر موجود ہو جاتا، شبہ آ جاتا اور شبہے کی وجہ سے کفارہ نہ آتا، لیکن یہ تو ابھی اقامت کی حالت میں ہی روزہ توڑ رہا ہے لہذا شبہ بھی نہیں، جب شبہ نہیں تو لہذا اب اس پر کیا آئے گا؟ کفارہ آئے گا، 60 روزے رکھنا پڑیں گے اس رمضان کے روزے کو توڑنے کی وجہ سے، اور ایک روزے اس کے ایک قضا بھی کرنا پڑے گی یہ جو توڑا ہے بھئی۔
یہ معنی ہے وان افطر المقیم الذی نوی الصوم فی بیتہ ثم سافر، اور اگر افطار کیا اس مقیم جس نے نیت کی ہے روزے کی اپنے گھر میں ہی پھر سفر کیا توڑنے کے بعد لا تسقط عنہ الکفارۃ، تو اس سے کفارہ ساقط نہیں ہوگا بخلاف ما اذا مریض، بخلاف اس کے کہ جب وہ بیمار ہو گیا۔ ایک آدمی ہے الگ صورت بھئی، توجہ سے سنیے بھئی! ایک آدمی ہے، اس نے صبح روزہ رکھ لیا اور نو دس بجے اس نے روزہ توڑ دیا یا 12 بجے اس نے روزہ توڑ دیا یا ایک بجے اس نے روزہ توڑ دیا، روزہ توڑ دیا اور پھر تھوڑی دیر گزری تھی اس کو ایسا مرض لاحق ہو گیا جس سے روزے کو جس کو روزے کی وجہ سے جس میں نقصان پہنچتا ہے، کہتے ہیں اب اس پر کفارہ نہیں آئے گا۔ اس پر کفارہ کیونکہ اسی روزے کے اندر کیا آگیا؟ مرض آگیا اور مرض تو غیر اختیاری آسمانی چیز ہے اس پر آگئی تو یوں سمجھا جائے گا کہ گویا روزہ توڑتے وقت ہی مرض موجود تھا، اسی روزے میں آیا نا؟ تو گویا روزہ توڑتے وقت ہی گویا یہ مرض موجود، اور جب یہ مرض روزے کی حالت میں موجود ہو تو اس وقت افطار کی رخصت ہوتی ہے یا نہیں ہوتی؟ ہوتی ہے، تو گویا اس وقت بھی افطار کی رخصت تھی لہذا اس پر کفارہ نہیں آئے گا۔
یہ معنی ہے بخلاف ما اذا مرض، بخلاف اس کے کہ جب وہ بیمار ہوا بعد ان افطر فی حال صحتہ، بعد اس کے کہ جب اس نے افطار کر لیا تھا اپنی صحت کی حالت میں ہی تسقط بہ الکفارۃ، تو اس مرض کی وجہ سے کفارہ ساقط ہو جائے گا لان المرض امر سماوی، اس لیے کیونکہ مرض جو ہے ایک امر سماوی ہے لا اختیار فیہ للعبد، اس میں بندے کا کوئی اختیار نہیں فکانہ افطر فی حال المرض، تو گویا کہ اس نے افطار کیا ہے مرض ہی کی حالت میں۔
واحکام السفر، اور سفر کے جو احکام ہیں، کیا معنی؟ کہتے ہیں کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں ای الرخصة التی تتعلق بها احكام السفر، یعنی وہ رخصت جس کے ساتھ احکام سفر کا تعلق ہے تثبت بنفس الخروج، وہ یہ رخصت ثابت ہو جاتی ہے نفس خروج سے ہی، محض نکلنے سے ہی، جیسے ہی آبادی سے نکلے گا سفر کے احکام یعنی رخصت آگئی بھئی، سفر کے احکام لاگو ہو گئے۔
شہر بھئی سفر کم از کم کتنے مدت کی مسافت کا ارادہ ہو اس کا؟ تین دن یعنی 77، 78، 78 کلومیٹر کا ارادہ ہو، اتنی دور جانا ہے۔ جیسے ہی شہر سے نکلے گا فوراً ہی کیا شروع ہو جائیں گے؟ رخصت آگئی، کیا آگئی؟ آبادی سے نکلتے، اگرچہ ابھی تین دن تک وہ گیا نہیں ہے اتنا طے نہیں کیا لیکن آبادی سے نکلتے ہی کیا آگئی رخصت آگئی۔ یہ معنی تثبت بنفس الخروج، کہ رخصت ثابت ہو جائے گی محض نکلنے سے ہی، کس سے نکلنے سے؟ آبادی سے، اور کیوں ثابت ہوگی رخصت نفس آبادی سے نکلنے سے ہی؟ کہتے ہیں بالسنۃ المشھورة، سنت مشہورہ کی وجہ سے، حدیث مشہور کی وجہ سے یہ رخصت ثابت ہو جائے گی ورنہ قیاس تو کہتا ہے، قیاس چاہتا ہے کہ ابھی رخصت آنی نہیں چاہیے، جب تین دن کا سفر پورا کر لے گا اس کے بعد کیا آ جائے گی رخصت پھر شروع ہو جائے گی آگے بھئی، لیکن حدیث کی وجہ سے خلاف القیاس کیا ہے؟ رخصت آبادی سے نکلتے ہی ثابت ہو جائے گی۔
تو وہ ثابت ہے سنت مشہورہ کی وجہ سے عن النبی علیہ السلام، حضور علیہ السلام سے فانہ کان یرخص المسافر حین یخرج من عمران المصر، پس حضور علیہ السلام جو ہیں وہ رخصت دیتے تھے مسافر کو، مسافر کو رخصت یعنی اجازت دیتے تھے حین یخرج من، جب وہ نکل جاتا تھا من عمران المصر، عمران کہتے ہیں آبادی کو، مصر شہر کو، جب وہ شہر کی آبادی سے نکل جاتا تھا تو حضور علیہ السلام مسافر کو رخصت دیتے تھے یعنی اجازت دیتے تھے وان لم، وان لم یتم، وان لم یتم السفر علة بعد، اگرچہ پورا نہیں ہوا سفر باعتبار علت بننے کے اس کے بعد، ترجمے پر نظر ہے؟ اگرچہ پورا نہیں ہوا سفر علت بننے کے اعتبار سے اس کے بعد۔
قیاس تو کیا چاہتا ہے؟ کیا کہتا ہے؟ کہ یہ سفر علت بنے گا رخصت کی، سفر علت بنے گا کس کی؟ کب بنے گا؟ جب تین دن کی مسافت پوری ہو جائے پھر علت، بھئی علت پوری تبھی ہوتی ہے نا جو علت نہیں حکم تبھی آتا ہے نا جب پوری علت پائی جائے، اور علت پوری کب بنے گا سفر؟ جب تین دن کی مسافت طے کر لے گا اس کے بعد اب سفر اور پوری علت بنے گا اور پھر رخصت آنی چاہیے قیاس یہ چاہتا ہے، لیکن یہاں پر خلاف القیاس ہم نے شہر کی آبادی سے نکلتے ہی رخصت کا حکم ثابت کر دیا اگرچہ ابھی سفر پورے طور پر علت نہیں بنا رخصت کی، کیوں؟ حدیث مشہور کی وجہ سے بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟
یہ معنی ہے وان لم یتم السفر علة بعد، اگرچہ پورا نہیں ہوا سفر باعتبار علت ہونے کے اس کے بعد یعنی نکلنے کے بعد لان السفر انما یکون علۃ تامۃ اذا مضی ثلاثۃ ایام، اذا، اذا مضی ثلاثۃ ایام بالمسیرۃ، مسیرۃ یا پہلے آپ کی کتابوں میں بھئی؟ س سے س کے بعد ہونی چاہیے۔ کیونکہ سفر اس وقت علت تامہ بنے گا اذا مضی ثلاثۃ ایام، جب گزر جائیں تین دن بالمسیرۃ چلنے سے، مسیر سیر کے معنی میں ہے، چلنے میں کتنے دن گزر جائیں؟ تین، فکان القیاس قبلہ ان لا تثبت الرخصة بمجردہ، تو قیاس تو یہ تھا اس تین دن کی مسافت کے پورا ہونے سے پہلے کہ ان لا تثبت الرخصة، کہ ثابت نہیں ہونی چاہیے رخصت بمجردہ محض سفر سے ولکن تثبت تلک، بالسنۃ کا لفظ ہے یہاں آپ کی کتابوں میں تلک کے بعد؟ جی، بالسنۃ کا لفظ یہاں ہونا چاہیے بھئی، نور الانوار کے دیگر نسخوں میں یہ لفظ موجود ہے بھئی اور اس کے بغیر بات بھی یہاں نہیں بنتی۔
تو قیاس تو یہ تھا کہ اس تین دن کی مسافت سے پہلے رخصت صرف سفر کی وجہ سے ثابت نہیں ہونی چاہیے ولکن تثبت تلک، لیکن وہ رخصت ثابت ہو جاتی ہے بالسنۃ، کس کی وجہ سے؟ اس سنت اس حدیث کی وجہ سے ثابت ہے تحقیقا للرخصۃ، ثابت کرتے کے لیے رخصت کو، ثابت کرنے کے لیے رخصت کو فی حق الجمیع، پورے سفر کے حق میں، کس میں؟ پورے سفر کے حق میں رخصت کو ثابت کرنے کے لیے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ بھئی دیکھیے قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ سفر کو
رخصت کی علت کب بننا چاہیے؟ جب تین دن کی مسافت طے کر لے تو اس کے بعد اب رخصت آنی چاہیے، تب یہ علت بنے گا۔ لیکن حدیث سے صرف ثابت ہوا کہ شہر سے نکلتے ہی کیا آ جائے گی؟ آبادی سے نکلتے ہی رخصت آ جائے گی۔ کیوں یہ حکم دیا گیا شہر سے کہ آبادی سے نکلتے ہی رخصت آئے گی؟ تا کہ پورے سفر میں رخصت حاصل ہو جائے۔
اگر تین دن کے بعد رخصت آئے گی، پھر تو کچھ سفر میں رخصت ہوئی، کچھ میں نہ ہوئی۔ لیکن حدیث میں کیا آیا؟ کہ شہر سے نکلتے ہی کیا آ جائے گی؟ رخصت۔ کیوں؟ تا کہ پورے سفر میں کیا آ جائے؟ رخصت۔ یہ معنی ہے تحقیقا للرخصة في حق الجميع، ثابت کرنے کے لیے رخصت کو فی حق الجميع، ای فی حق جميع السفر، تمام سفر کے حق میں رخصت کو ثابت کرنے کے لیے۔ إذ لو توقف الترخص على تمام العلة، اسی لیے کیونکہ اگر وہ رخصت جو ہے موقوف رہے علت کے پورا ہونے پر، لم يثبت الترفيه، لم يثبت الترفيه في حق الكل، ترفیہ کہتے ہیں سہولت اور آسانی۔ تو سہولت اور آسانی ثابت نہیں ہوگی پورے سفر کے حق میں، فيفوت الغرض المطلوب، تو فوت ہو جائے گی وہ غرض جو مطلوب ہے۔ رخصت کا مقصد کیا ہے؟ سہولت دینا، تو وہ مقصد تو فوت ہو جائے گا اگر پورے سفر میں رخصت نہ ہو۔
والخطأ عطف على ما قبله، یہ عطف ہے ما قبل پر بھئی، وہو في اللغة، جی یہ بھی ان اسباب میں سے ہے جو انسان کے اپنے اختیار سے ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں وہو في اللغة ضد الصواب، خطا یعنی غلطی، لغت میں کسے کہتے ہیں؟ ضد الصواب، جو درستگی کے ضد ہے۔ ایک ہے درست اور اس کے ضد کیا ہے؟ غلطی، یہ ہے خطا بھئی۔ وفي الاصطلاح، اور اصطلاح کے اندر بھئی، وقوع الشيء على خلاف ما اريد، ایک چیز کا ہونا اس کے خلاف جس کا ارادہ کیا گیا تھا، ایک چیز کا اس کے خلاف ہو جانا، اس کے خلاف واقع ہونا، یہ کیا ہے؟ خطا۔ وهو عذر صالح لسقوط حق الله تعالى، اور یہ ایسا عذر ہے جو صلاحیت رکھتا ہے اللہ تعالی کے حق کے ساقط کرنے کی، اللہ کے حق کے ساقط ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، إذا حصل عن اجتهاد، جب یہ عذر جب یہ خطا حاصل ہو اجتہاد سے، یعنی اجتہاد میں خطا آئے۔ فلا وخطأ المجتهد في الفتوى، بس اگر تو اگر خطا کی مجتہد نے فتوے میں، بعد استفراغ الوسع، استفراغ کا معنی پوری کوشش کرنا، وسع گنجائش بھئی یعنی کوشش، بعد استفراغ الوسع، جب اس نے اپنی پوری کوشش کر لی اس کے بعد مجتہد نے فتوے میں غلطی کی، لا يكون آثما، تو وہ گناہ گار نہیں ہوگا، بل يستحق أجرا واحدا، بلکہ وہ ایک اجر کا مستحق ہوگا۔ اگر حق کو پہنچے تو دو اجروں کا مستحق، اور اگر غلطی کرے تو ایک اجر کا مستحق۔ ويصير شبهة في دفع العقوبة، اور یہ جو خطا ہے، یہ شبہ بن جائے گی في دفع العقوبة، عقوبت کے دور کرنے میں، عقوبت کے یہ خطا، غلطی ارادے سے تو نہیں کر رہا نہ ایک چیز، تو یہ غلطی جو بغیر ارادے کے ہے، یہ سزا کے دور کرنے میں شبہ بن جائے گی، یعنی پھر یہ شبہ بن گئی تو سزا نہیں آئے گی۔ یہ کیا بن جائے گی؟ بھئی ارادہ تو اس کا نہیں تھا، جب ارادہ نہیں تھا تو یہ غلطی کیا ہے؟ شبہ، اور اس شبہ کی وجہ سے کیا ہوگا؟ سزا نہیں آئے گی، اللہ کی طرف سے سزا نہیں آئے گی۔
حتى لا يأثم الخاطئ، یہاں تک کہ گناہ گار نہیں ہوگا خطا کار، ولا يؤاخذ بحد أو قصاص، اور اس کا مؤاخذہ نہیں کیا جائے گا حد اور قصاص کے ساتھ۔ بھئی حد کے ساتھ، مثلا ایک آدمی ہے اس کا نکاح ہوا اور رخصتی کے طور پر جو عورت اس کے پاس بھیجی گئی، وہ کوئی اور عورت تھی اس کی بیوی نہیں تھی۔ اب اس کو تو نہیں پتہ، اس نے اس کے ساتھ صحبت کر لی، اب یہ اس پر کیا حد آئے گی؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، یہ غلطی سے ہوا جان بوجھ کر نہیں۔ تو لہذا حد نہیں آئے گی۔ یا اس نے دور سے دیکھا ایک چیز حرکت کرتی ہوئی نظر آئی، اس نے کہا شکار ہے، اس نے تیر چلایا اور تیر جا کر لگا، پاس جا کر دیکھا تو انسان مرا پڑا تھا۔ اب یہاں پر غلطی کی، اس لیے قصاص نہیں آئے گا بھئی۔ تو یہ معنی سزا دفع ہوگی، گناہ گار نہیں ہوگا، حد اور قصاص نہیں آئے گی۔
فإن زفت إليه غير امرأته، پس اگر زف کے معنی ہوتے ہیں زف یزف کے معنی بیوی کو خاوند کے پاس بھیجنا، دلہن کو خاوند کے پاس بھیجنا، یعنی رخصتی کرنا، کیا کرنا؟ رخصتی۔ فإن زفت إليه غير امرأته، پس اگر رخصتی کی گئی اس کی طرف اس کی بیوی کے علاوہ کی، یعنی اس کو بھیجا گیا فظنها أنها امرأته، پس اس نے گمان کیا کہ یہ اس کی بیوی ہے، فوطئها، اس نے اس سے صحبت کر لی، لا يحد، اس پر اس کو حد نہیں لگائی جائے گی، ولا يكون آثما كآثم الزنا، اور یہ گناہ گار نہیں ہوگا جیسے کہ زنا کا زنا کا گناہ ہے زنا کا گناہ کرنے والا۔
وإن رأى شبها من بعيد، اور اگر اس نے دور سے کوئی جسم دیکھا، شبہ کہتے ہیں دور سے کوئی چیز جو دکھائی دے اس کی جو پرچھائی نظر آئے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ شبہ۔ تو اگر اس نے دور سے کوئی پرچھائی دیکھی، فظنه صيدا، اس نے اس کو گمان کیا کہ یہ شکار ہے، فرماى إليه، اس نے اس کی طرف تیر چلایا، وقتله، اس نے قتل کر دیا، وكان إنسانا، اور وہ انسان تھا، لا يكون آثما إثم العمد، تو وہ گناہ گار نہیں ہوگا جان بوجھ کر گناہ کی طرح، گناہ گار نہیں ہوگا کہ جان بوجھ کر کرنے والے کی طرح گناہ گار نہیں ہوگا، ولا يجب عليه القصاص، اور اس پر قصاص بھی واجب نہیں، ولم يجعل عذرا في حقوق العباد، بھئی حقوق اللہ کے اندر تو یہ عذر ہے غلطی، حقوق العباد کے اندر اس کو عذر قرار نہیں دیا جائے گا، حتى وجب عليه ضمان العدوان، یہاں تک کہ اس پر اس عدوان کہتے ہیں زیادتی کو اور ظلم کو، اس پر ظلم اور زیادتی کا ضمان واجب ہوگا، إذا أتلف مال إنسان خطأ، جب اس نے کسی انسان کا مال غلطی سے تلف کر دیا، یہ سمجھا میرا مال ہے، اس نے کیا کیا اس کو جلا دیا، بعد میں پتہ چلا یہ تو کسی اور کی چیز تھی، تو اب غلطی کی ہے لیکن بہرحال وہ مال غیر کا تھا، مال محترم تھا اور اس کی غلطی کی وجہ سے کسی کسی کے مال کے عصمت اور حرمت ختم نہیں ہوتی، لہذا اس پر ضمان آئے گا۔ چاہے جان کا بھی یہ ضمان آئے گا، مال کا بھی، لہذا قصاص تو نہیں آیا لیکن خطأ قتل کیا تو کیا آ جائے گی؟ دیت۔
وجبت به الدية، اور اس خطا کی وجہ سے دیت بھی واجب ہوگی، إذا قتل إنسانا خطأ، جبکہ قتل کیا کسی انسان کو غلطی سے، لأن كلها من حقوق العباد، اس لیے کیونکہ یہ سارے کس میں سے ہیں؟ حقوق العباد میں سے ہیں، وبدل المحل، اور محل کے بدل میں سے ہیں، یہ جو ادا کر رہا ہے یہ محل کا بدل دے رہا ہے، اپنے غلطی کی جزا نہیں ہے بھئی، یہ معنی ہے، یہ سب حقوق العباد میں سے ہیں اور بدل محل میں سے ہیں، لا جزاء الفعل، فعل کی جزا نہیں ہے، یہ سزا نہیں ہے، بطور سزا کے یہ جو دے رہا ہے ضمان، یہ سزا کے طور پر نہیں ہے بلکہ یہ صرف ان چیزوں کا بدل دے رہا ہے، سزا تو نہیں آئے گی کیونکہ غلطی سے کیا بھئی۔
وصحت طلاقه، اور اس کی طلاق بھی صحیح ہے، أي طلاق الخاطئ، خطا کار، غلطی سے طلاق دینے والے کی طلاق، كما إذا أراد أن يقول لامرأته، جیسے کہ اس کا ارادہ ہوا کہ وہ کہے اپنی بیوی سے: اقعدي، تو بیٹھ جا، فجرى على لسانه، تو جاری ہو گیا اس کی زبان پر، زبان پر یہ لفظ جاری ہو گئے: أنت طالق، کہنا تھا بیٹھ جا اور کیا آیا زبان پر؟ أنت طالق، يقع به الطلاق عندنا، تو اس سے طلاق واقع ہو جائے گی ہمارے نزدیک بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن یاد رکھیے قضاء واقع ہوگی، ديانة واقع نہیں، یعنی بیوی اگر اس کے پاس چلی گئی قاضی کے پاس، تو قاضی ہم تو نیت دل کو نہیں جانتے، لفظ اس نے کہے ہیں طلاق والے، تو قاضی کیا فیصلہ دے گا؟ طلاق کا فیصلہ دے گا، لیکن فیما اس بندے اور اللہ کے درمیان کے اعتبار سے دیکھا جائے تو طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ اس کا ارادہ نہیں تھا، غلطی سے زبان پر لفظ آ گئے۔
وعند الشافعي رحمه الله، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، لا يقع قياسا على النائم، کہ واقع نہیں ہوگی اس خطا کار کی طلاق قیاس کرتے ہوئے سونے والے پر، ولقوله عليه السلام، اور حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے: رفع عن أمتي الخطأ والنسیان، میری امت سے غلطی اور بھول کو اٹھا لیا گیا ہے، یعنی ان کی وجہ سے گناہ نہیں ہوگا۔ ونحن نقول، اور ہم کہتے ہیں: إن النائم عديم الاختيار، کہ سونے والا وہ تو عدیم الاختیار ہے، اس کو تو اختیار ہی نہیں ہے، بالکل غافل ہے، پتہ ہی نہیں اسے، والخاطئ المختار المقصر، اور یہ جو با اختیار خطا کار ہے، یہ تو مقصر، یہ تو کوتاہی کرنے والا ہے، اس نے خود کوتاہی کی، جلدی کی، جس کی وجہ سے اس سے غلطی ہوئی، البتہ یہ تو با اختیار ہے اور سونے والا تو بے اختیار ہے، لہذا اس پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ والمراد بالحديث، اور یہ جو آیا نہ حدیث میں، امام شافعی رحمہ اللہ نے دلیل پیش کی کہ میری امت سے خطا اور نسیان کو اٹھا لیا گیا، ہم کہتے ہیں حدیث سے مراد آخرت کا حکم اٹھا لیا گیا ہے، یعنی آخرت میں اس غلطی پر مؤاخذہ نہیں ہوگا، دنیاوی حکم نہیں اٹھایا گیا، دنیاوی اعتبار سے اس کی طلاق واقع ہو جائے گی۔ مراد حدیث رفع حكم الآخرة، آخرت کے حکم کا اٹھانا ہے، لا حكم الدنيا، نہ کہ دنیا کا حکم، بدليل وجوب الدية والكفارة، کس دلیل کی وجہ سے؟ یہ جو کفارہ اور دیت واجب ہو جاتے ہیں، یہی دلیل ہے اس بات کی کہ حدیث میں آخرت کا حکم مراد ہے، دنیا کا حکم مراد اگر دنیا کا حکم مراد ہوتا، پھر تو دیت بھی نہیں آنی چاہیے تھی، حالانکہ آپ بھی کہتے ہیں دیت آ جاتی ہے، پھر تو کسی کے مال کا ضمان بھی نہیں آنا چاہیے تھا، حالانکہ آپ بھی کہتے ہیں کہ ضمان آ جاتا ہے۔
ويجب أن ينعقد بيعه، اور واجب ہے کہ اس کی بیع منعقد ہو جانی چاہیے، ويجب، یہ عبارت لے کر آئے متن، وجہ یہ کہ اس کے بارے میں اسلاف سے کوئی روایت نہیں تھی اس مسئلے کے بارے میں، کہ غلطی سے کوئی بیع کرتا ہے تو بیع منعقد ہوگی یا بیع منعقد نہیں؟ ائمہ سے اس بارے میں کوئی روایت نہیں تھی، تو صاحب متن فرماتے ہیں کہ اس صورت میں پھر کیا ہونی چاہیے؟ بیع منعقد ہونی چاہیے، أي بيع الخاطئ، یعنی خطا کار کی بیع، كما إذا أراد أحد أن يقول، جیسے ارادہ کیا کسی نے کہ وہ یوں کہے: الحمد لله، الحمد للہ کہنے کا ارادہ ہے ایک آدمی کا، فجرى على لسانه بعتك منك بكذا، تو اس کی زبان پر یہ بات جاری ہو گئی کہ یہ چیز میں نے آپ کو بیچ دی اتنے پیسوں میں، فقال المخاطب، جو پاس کھڑا ہوا مخاطب تھا اس نے فورا کہا: قبلت، میں نے کیا کیا؟ قبول کر لیا، وهذا معنى قوله، یا یوں پڑھیں: وهذا معني قوله، اور یہی مراد ہے مصنف کے اس قول کی: إذا صدقه خصمه، جبکہ مقابل نے کیا کر دی اس کی؟ تصدیق کر دی۔ اس نے یہ کہنے لگا تھا، ذکر کر رہا تھا الحمد للہ وغیرہ، تو زبان پر کیا آ گیا؟ یہ چیز میں نے آپ کو اتنے میں بیچ دی، دوسرے نے فورا کیا کہہ دیا؟ میں نے قبول کر لیا، یہ مراد ہے جب إذا صدقه خصمه، مقابل نے کیا کر دی اس کی؟ تصدیق کر دی، تصدیق کا کیا معنی؟ اس کے مقابلے میں قبلت کہہ دیا۔
وقيل، اور کہا گیا ہے: معناه، کہ اس کا معنی، یہ معنی اس کا مقابل اس کی تصدیق کر دے، یہ معنی نہیں کہ اس کے مقابلے میں قبلت کہے، بعض اور تقریر کرتے ہیں، پہلی تقریر کے مطابق تو صدق کا کیا معنی؟ کہ تصدیق کی مقابل نے، کیا معنی تصدیق کی؟ اس کے مقابلے میں قبلت کہہ دیا، یہ ہے تصدیق کرنا۔ بعضوں نے کہا نہیں نہیں قبلت کہنا مراد نہیں ہے، بلکہ مقابل بعد میں بھی تصدیق کرتا ہے کہ اس کے منہ سے غلطی سے بیع کا لفظ نکلا تھا، ایجاب کیا تھا؟ قبلت مراد نہیں ہے صدق سے، بلکہ بعد میں وہ کیا کرتا ہے مقابل قبلت تو اس نے کہہ دیا، بعد میں بھی تصدیق کرتا ہے کہ ہاں اس نے کیا کیا تھا؟ غلطی سے کہا تھا۔ وقيل معناه، معنی اس کا یہ ہے: أن يصدق الخصم، کہ کیا کرے؟ مقابل اس کی تصدیق کر دے، بأن صدور الإيجاب منك كان خطأ، کہ اس سے یہ جو خطا کار سے ایجاب کا صدور ہوا کہ وہ جو ایجاب کا صدور ہوا تھا منک اپ سے، كان خطأ، وہ کس طرح تھا؟ غلطی سے تھا، إذ لو لم يصدق في ذلك، اس لیے کیونکہ اگر مقابل جو ہے وہ اس کی تصدیق نہیں کرتا اس بات کے اندر، يكون حكمه كحكم العامد، تو پھر اس کا بیع کا حکم جو ہے عامد کے حکم کی طرح ہے، اس خاطی کا بیع کا حکم عامد، یعنی عامد جو اپنے ارادے سے بیع کر رہا ہو، جیسے اس کے اندر بیع کا حکم تھا بیع منعقد ہو جاتی تھی، تو یہاں پر بھی بیع کیا ہوگی؟ صورت سمجھ میں آئی؟ صدق کے کیا معنی کیے دو؟ تصدیق سے کیا مراد شارح نے کیا بتلایا؟ وہ جو اس نے قبلت کہا، تصدیق سے یہ مراد ہے کہ مقابل نے تصدیق کر دی، یعنی اس کے مقابلے میں قبلت کہہ دیا۔ اور بعضوں کی اوروں کی بھی تقریر ذکر کی شارح نے کہ بعضوں نے کیا کہا، وہ قبلت مراد نہیں ہے، قبلت تو اس نے کہہ دیا، ہاں بعد میں بھی تصدیق کرتا ہے کہ یہ جو اس نے زبان سے ایجاب کیا تھا، وہ غلطی سے کہا تھا، ويكون بيعه كبيع المكره، تو اس کی بیع کس کی طرح ہوگی؟ مکرہ، وہ جس پر زبردستی کی گئی بھئی، تلوار نکالی تھی کسی نے کہ تمہاری گردن اڑاتا ہوں یا ہاتھ پاؤں کاٹتا ہوں کہ تم یہ بیع کرو ورنہ تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹتا ہوں۔ تو یہ بیع بھی کس کی طرح ہوگی؟ یہ خاطی کی بیع مکرہ کی بیع کی طرح بھئی، اس کا کیا حکم ہے؟ بتلانے لگے ہیں: یعنی ينعقد فاسدا، یہ بیع فاسد ہو کر منعقد ہو جائے گی، لأن جريان الكلام على لسانه اختیاري، اس لیے کیونکہ کلام کا اس کی زبان پر جاری ہونا اختیاری، یہ کس قسم کا تھا؟ اپنے اختیار سے زبان کو حرکت دیا ہے نا، فينعقد، تو منعقد ہو جائے گی، زبان خود چل پڑی یا اس یہ حرکت یہ بول رہا تھا؟ یہ بول تو رہا تھا اپنے اختیار سے، لہذا بیع منعقد تو ہو گئی، ولكن يفسد، لیکن فاسد ہوگی، منعقد ہوگی لیکن فاسد، کیوں؟ لعدم وجود الرضا فيه، اس وجہ سے کہ اس میں اس کی رضا نہیں پائی جا رہی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔