Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-130

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 12 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 8
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔130 والإيجاب المضاف سبب للحال، مقابل للإيجاب المعلق؛ يعني أن الإيجاب المعلق بالشرط، وهو قوله: ”إن دخلت الدار فأنت طالق“ يكون سببا في حال وجود الشرط. والإيجاب المضاف إلى الوقت بأن يقول: ”أنت طالق غدا“ سبب للحال، لكن تأخر حكمة إلى الغد. وهو من أقسام العلل في الحقيقة. سبب کی بحث چل رہی تھی۔ آپ نے پڑھا ایک سببِ حقیقی ہے، جو حکم تک پہنچانے والا ہو، اور نہ تو حکم کے وجوب کی نسبت اس کی طرف کی جاتی ہو، نہ حکم کے وجود کی نسبت اس کی طرف کی جاتی ہو، نہ اس میں علتوں والا معنی ہو، اور نہ ہی اس کے اور حکم کے درمیان کوئی ایسی علت آئے جس کی نسبت اس سبب کی طرف کی جاتی ہو۔ یہ تھا سببِ حقیقی اور میں نے بتلایا تھا یہ ادنیٰ درجہ ہے سبب کا، سب سے ادنیٰ درجہ۔ اس کے بعد دوسری قسم جو تھی سبب کی، آپ نے پڑھی کہ وہ سبب جو علت کے حکم میں ہوتا ہے، یعنی علت العلة ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ علت العلة ہوتا ہے۔ پھر اس کے بعد تیسری قسم آپ نے پڑھی۔ تیسری قسم کیا تھی؟ کہ وہ جو یمین باللہ ہے اور وہ جو یمین بالطلاق اور یمین بالعتاق ہے، ان کو مجازاً سبب کہا جاتا ہے۔ اس لیے کیونکہ مجازاً اس لیے کیونکہ یہ کفارے اور وقوعِ جزا تک پہنچانے والے نہیں۔ کیونکہ یہ والی یمین کفارے اور وقوعِ جزا تک پہنچانے والی نہیں، اور سبب کا ادنیٰ درجہ تو یہ تھا کہ وہ حکم تک پہنچائے، اس میں وہ معنی بھی نہیں۔ تو ان کو جو سبب کہا جاتا ہے کفارے اور وقوعِ جزا کا، یہ مجازاً کہا جاتا ہے۔ لیکن پھر اس میں آپ نے پڑھا تھا کہ یہ مجازِ محض بھی نہیں ہے، یہ ایسا مجاز ہے جس کے اندر حقیقت کا شبہ ہے۔ حقیقت کا شبہ ہے؛ یعنی گویا فی الحال ہی یہ سبب بن رہے ہیں کفارے یا وقوعِ جزا کا۔ یعنی فی الحال ہی گویا کفارہ بھی آ چکا من وجہ اور جزا بھی من وجہ واقع ہو چکی بھئی۔ اس پر امام زفر رحمہ اللہ کا مذہب بھی ذکر ہوا ذکر ہوا تھا۔ وہ فرماتے ہیں یہ سببِ محض ہے، اور اس کو وہ قیاس کرتے تھے اس قسم اور اس یمین پر جس میں اجنبیہ سے یا مطلقہ ثلاث سے کوئی شخص کیا کہے: ”إن نکحتک فأنت طالق“. اور وہ تو محل کا محتاج نہیں، لہذا یہ بھی محل کا محتاج نہیں۔ ہم نے تو کہا کہ اس میں شبہِ حقیقت ہے، اور حقیقتِ سبب جیسے ہے وہ محل کا محتاج ہوتا ہے، اسی طرح یہ بھی محل کا محتاج، کیونکہ اس میں شبہِ حقیقت ہے۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ یہ کس کی طرح ہے؟ یہ ”إن نکحتک فأنت طالق“ کی طرح ہے، اور اس کے اندر سرے سے محل ابتداء ہی سے محل نہیں ہوتا، یہاں پر تو بقاءً محل نہ رہا، وہاں ابتداءً ہی محل نہیں۔ لہذا جب وہاں محل کی ضرورت نہیں تو اس میں بھی محل کی ضرورت نہیں۔ ہم نے جواب ذکر کر دیا کہ وہ جو تعلیق تھی، وہ تعلیق ایسی شرط کے ساتھ تھی جس میں علت والا معنی پایا جاتا ہے۔ وہ تعلیق ایسی شرط کے ساتھ تھی جس میں علت کا معنی پایا جاتا ہے، کیونکہ وہ جو شرط تھی نہ ”إن نکحتک“، وہ علت العلة ہے۔ وہ کیا ہے؟ علت العلة ہے، اور علت حکم پر مقدم ہوا کرتی ہے، اس لیے وہ محل کا تقاضا نہیں کرتا। جبکہ یہاں پر شبہِ حقیقت بھی جس تنازع فیہ جس کے اندر بحث چل رہی ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کی تین طلاقیں دخولِ دار پر معلق کیں، اور پھر اس کو تین طلاقیں بھی دیں، تو ہمارے نزدیک وہ تعلیق کیا ہو جاتی تھی؟ باطل۔ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے تھے وہ تعلیق ابھی بھی باقی ہے۔ وہ اس کو کس پر قیاس کرتے تھے؟ ”إن نکحتک فأنت طالق“ پر۔ ہم نے جواب دیا کہ بھئی ”إن نکحتک فأنت طالق“ میں محل کی ضرورت نہیں، لیکن وہ جو تین طلاقیں دے دیں اور پہلے تین طلاقیں معلق کی تھیں، وہاں اس کے وہ اس میں شبہِ حقیقت ہے، اس لیے وہ محل کے وہ محل کے بغیر درست نہیں۔ جبکہ یہاں پر شبہِ حقیقت کے ساتھ ساتھ یہ جو ”إن نکحتک فأنت طالق“، اس میں شبہِ حقیقت کے ساتھ ساتھ علت والا معنی بھی ہے بھئی۔ علت والا معنی، تو یہ دونوں باہم متعارض تھے اور ”فإذا تعارضا تساقطا“، تو جب یہ دو شبہے باہم متعارض ہوئے تو ساقط ہو گئے، اس لیے یہاں پر محل کی ضرورت نہیں بھئی ”إن نکحتک فأنت طالق“ کے اندر بھئی۔ یہاں تک بحث سمجھ میں آ گئی؟ تو ایک سببِ حقیقی ہوا، ایک وہ سبب جس کے اندر علت والا معنی ہو، یعنی علت العلة ہو۔ تیسری قسم وہ جو سببِ محض ہے، یعنی سببِ مجازی ہے جس کو مجازاً سبب کہتے ہیں اور جس کے اندر شبہِ حقیقت ہے بھئی۔ اب چوتھی قسم بیان کرنے لگے ہیں بھئی۔ چوتھی قسم، یا یہ جو ”والإيجاب المضاف“ چوتھی قسم شارح بتلائیں گے کہ یہ چوتھی قسم ہے یا جو آگے آ رہا ہے متن میں: ”وسبب له شبهة العلل“ یا چوتھی قسم یہ ہے۔ ان دونوں میں سے ایک چوتھی قسم ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، تو کہتے ہیں: ”والإيجاب المضاف سبب للحال“ ”سبب للحال“ أي ”في الحال“، یہ لام بمعنی ”في“ کے ہے۔ اور وہ ایجاب جس کی نسبت کی گئی ہو وہ سبب ہوگا فی الحال۔ بائی ایجاب سے کیا مراد ہے؟ خاوند کا قول ”أنت طالق“، یہ ہے ایجاب بھئی۔ اس کے ذریعے کیا آیا کرتی ہے؟ طلاق، تو یہ ہے ایجاب۔ اثبات بھئی۔ تو وہ ایجاب جس کی نسبت کی گئی ہو، یعنی کسی وقت کی طرف، مثلاً کوئی خاوند اپنی بیوی سے کیا کہتا ہے کہ مثلاً خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: ”أنت طالق في الغد“ تجھے طلاق ہے کل، یا ”أنت طالق غدا“ تجھے طلاق ہے کل۔ تو دیکھیے یہاں پر طلاق کی نسبت کل کی طرف کر دی۔ تو یہ ایسا ایجاب ہے جس کی نسبت کی گئی ہے وقت کی طرف۔ یہ ”أنت طالق“ کی نسبت کس کی طرف کی گئی ہے؟ وقت کی طرف۔ یہ جو ایجاب جس کی نسبت کی گئی ہے، یہ ”سبب للحال“ أي ”سبب في الحال“، یہ فی الحال سبب ہے۔ یہ کیا ہے؟ فی الحال سبب ہے۔ ایک تو وہ ایجاب تھا جو معلق تھا جس کی بحث پہلے گزری، وہاں تو تعلیق تھی تو وہاں شرط نہیں پائی جا رہی تھی، اور شرط نہیں پائی جا رہی تو عدمِ شرط مانع تھی سبب بننے سے۔ ایک ایجابِ معلق تھا: ”إن دخلت الدار فأنت طالق“، اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ یہاں پر یہ ایجاب ”أنت طالق“ معلق ہے شرط کے ساتھ، اور شرط تو نہیں پائی جا رہی، تو عدمِ شرط مانع ہو گئی، لہذا ”أنت طالق“ فی الحال سبب نہیں بن رہا۔ یہ کب جا کر سبب بنے گا؟ جب شرط پائی جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ جو شرطِ معلق کے ساتھ ایجاب تھا، وہ کس وقت سبب بنے گا؟ جب شرط پائی جائے گی۔ اور ایک یہ ایجاب ہے جس کی نسبت وقت کی طرف کی جا رہی ہے کہ ”أنت طالق غدا“، یہ فی الحال سبب ہے۔ وہ تو معلق جو تھا وہ تو شرط کے پائے جانے کے وقت سبب بنے گا ”أنت طالق“ طلاق کا، اور یہ والا ”أنت طالق“ جس کی نسبت وقت کی طرف کی گئی ہے، یہ فی الحال سبب ہے، فی الحال سبب، کیونکہ یہاں پر مانع نہیں پایا جا رہا، وہاں عدمِ شرط مانع تھی۔ یہاں کوئی مانع نہیں۔ ہاں البتہ طلاق ہوگی اسی وقت، سبب اس وقت ہی ہے، سبب اس وقت ہی سبب ہے، لیکن طلاق کب ہوگی؟ جو وقت اس نے ذکر کیا اس وقت جا کر طلاق ہو جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور اس کو علت نہیں کہا بھئی، اس لیے کیونکہ علت کے فوراً بعد کیا آیا کرتی ہے؟ حکم آتا ہے، طلاق آتا ہے، لیکن اس میں تو حکم مؤخر ہو رہا ہے وقت کی طرف نسبت کرنے کی وجہ سے، اور اس وقت طلاق آئے گی، اس لیے اس کو کیا کہا؟ سبب کہا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں: ”والإيجاب المضاف سبب للحال“ اور وہ ایجاب جس کی نسبت کی گئی ہو، وہ سبب ہوگا فی الحال ہی۔ شارح فرماتے ہیں: ”مقابل للإيجاب المعلق“ یہ مقابل ہے ایجابِ معلق کے، ”يعني أن الإيجاب المعلق بالشرط“ یعنی وہ ایجاب جو معلق ہو شرط کے ساتھ، ”وهو قوله“ اور وہ کسی شخص کا یہ قول ہے: ”إن دخلت الدار فأنت طالق“ ”يكون سببا في حال وجود الشرط“ یہ سبب ہوگا شرط کے پائے جانے کی حالت میں، جب شرط پائی جائے گی تب یہ سبب بنے گا۔ ”والإيجاب المضاف إلى الوقت بأن يقول: أنت طالق غدا“ اور وہ ایجاب جس کی نسبت کی گئی ہو وقت کی طرف، بدیں طور کہ یوں کہتا ہے: ”أنت طالق غدا“، یہ جو ہے ”سبب للحال“ یہ فی الحال ہی سبب ہے، ”لكن تأخر حكمة إلى الغد“ لیکن اس کا حکم مؤخر ہو گیا کب تک؟ کل تک کے لیے، وہ جو وقت کی نسبت کی اس میں۔ ”وهو من أقسام العلل في الحقيقة“ کہتے ہیں یہ حقیقت میں یہ علتوں کی اقسام میں سے ہے، ”وإنما يعد سببا باعتبار الإضافة“ اور اس کو سبب کیوں شمار کیا گیا؟ ”وإنما يعد سببا باعتبار الإضافة“ اور اس کو سبب جو ہے اضافت کے اعتبار سے ہی شمار کیا گیا، کیونکہ اس میں نسبت کس کی طرف کی گئی ہے؟ وقت کی طرف۔ ”فيمكن أن يكون هذا هو القسم الرابع للسبب“ تو ممکن ہے کہ یہ چوتھی قسم ہو سبب کی، یہ کیا ہو؟ ہو سکتا ہے کہتے ہیں یہ چوتھی قسم ہو سبب کی، کیونکہ سبب کی چار قسمیں انہوں نے کہا تھا ہیں۔ تو یہ چوتھی بیان ہو گئی۔ ”ويمكن أن يكون الرابع هو قوله“ اور یہ بھی ممکن ہے کہ چوتھی قسم جو ہے وہ مصنف کا یہ قول جو ہے: ”وسبب له شبهة العلل“ اور وہ سبب جس میں شبہِ علت ہو۔ ”كما ذكرنا في اليمين بالطلاق والعتاق“ جیسے ہم نے کس میں ذکر کیا؟ یمین بالطلاق اور یمین بالعتاق میں، ”وهو الذي يسمى سببا مجازيا في السابق“ اور یہ وہی قسم ہے جس کو سببِ مجازی کہا گیا تھا ماقبل میں بھئی، جس کو وہی سببِ مجازی تھا نا جس کو کیا کہا جس میں شبہِ حقیقت تھا بھئی۔ ”ومن ها هنا ذهب بعضهم“ اور اسی وجہ سے گئے ہیں بعض علماء اس بات کی طرف کہ ”إلى أن أقسام السبب ثلاثة“ کہ سبب کی تین قسمیں ہیں: ”السبب الحقيقي“ ایک تو سببِ حقیقی جو شروع میں بیان ہوا، ”وسبب في معنى العلة“ اور وہ سبب جو علت کے معنی میں ہو، یعنی علت العلة ہو، ”وسبب مجازي“ اور تیسری قسم کیا ہے؟ سببِ مجازی۔ ”لأن الإيجاب المضاف من أقسام العلل في الحقيقة“ اس لیے تین قسمیں بیان کیں بھئی، یہ تین قسمیں ہیں۔ بھئی وہ جو ایجابِ مضاف وہ؟ کہتے ہیں: ”لأن الإيجاب المضاف من أقسام العلل في الحقيقة“ اس لیے کیونکہ وہ ایجابِ مضاف اصل میں کس میں سے ہے؟ وہ حقیقت میں علت کی اقسام میں سے ہے ہم بیان ہم نے بیان کر دیا بھئی۔ سبب تین ہی ہیں: سببِ حقیقی، سبب فی معنی العلة اور سببِ مجازی۔ اور یہ جو ایجابِ مضاف، یہ دراصل کس میں سے ہے؟ یہ علت کی اقسام میں سے ہے۔ اور یہاں اس کو کس لیے ذکر کیا گیا؟ کیونکہ اس کی نسبت وقت کی طرف کی گئی ہے، اس لیے سبب اس کو قرار دے دیا، ورنہ دراصل یہ کس میں سے ہے؟ علت میں سے ہے۔ ”والسبب الذي له شبهة العلة“ اور وہ سبب جس میں شبہِ علت تھا، ”هو السبب المجازي بعينه“ وہ بعینہٖ سببِ مجازی ہی ہے۔ سببِ مجازی ہی اس میں کیا تھا؟ شبہِ علت۔ چار قسمیں بیان ہوئیں نا۔ اول کیا؟ جو سببِ حقیقی، دوسرا وہ سبب جو معنی علت کے معنی میں ہو، اور تیسرا سببِ مجازی، اور اسی کے ساتھ یہ سببِ مجازی ہی میں ذکر کیا تھا کہ اس میں شبہِ علت بھی ہے۔ تو یہ سببِ مجازی ہی میں کیا کہا تھا؟ یہ اس میں شبہِ علت، تو یہ دراصل ایک ہی ہے، وہ سبب جس میں شبہِ علت ہو یا وہ سبب جو مجازاً ہو، یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ تو اسی وجہ سے بعض علماء نے کہا کہ سبب کی کل کتنی قسمیں ہیں؟ تین قسمیں ہیں، کتنی قسمیں ہیں؟ تین، کیونکہ سببِ مجازی اور وہ سبب جس میں شبہِ علت، یہ ایک ہی چیز ہے۔ اور وہ جو ایجاب المضاف اس وہ جو چوتھی قسم ہم نے کہا تھا شاید یہ چوتھی قسم ہو، کہتے ہیں اس کو تو اس کو بھی ویسے ہی سبب کہہ دیا، دراصل یہ کس میں سے ہے؟ یہ علت کی اقسام میں سے ہے۔ ”والسبب الذي له شبهة العلة هو السبب المجازي بعينه“ وہ بعینہٖ سببِ مجازی ہی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ سببِ مجازی ہی ہے۔ تو گویا وہ سببِ مجازی اسی کو کہہ دیا ”سبب له شبهة العلل“، ”سبب له شبهة“، تو جہت مختلف ہے، اس اعتبار سے چار شمار کیے، سببِ مجازی کہا ایک جہت سے، اور ”سبب له شبهة العلل“ اسی کو قرار دیا دوسری جہت سے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو جہتیں الگ ہونے کی وجہ سے چار شمار کیں، ورنہ دراصل تین ہی قسمیں ہیں سبب کی بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ بھی آئی کہ نہیں بھئی؟ ”والثاني العلة“ اور دوسری قسم جو ہے وہ علت ہے۔ بتلایا تھا نا چار چیزیں ہیں جو احکام سے متعلق ہیں بھئی: سبب، علت، شرط اور علامت۔ سبب کا بیان گزر گیا، اب علت کا بیان کرنے لگے ہیں۔ ”والثاني العلة“ اور چار میں سے دوسری قسم جو ہے وہ علت ہے، ”وهو ما يضاف إليه وجوب الحكم ابتداء“ علت کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں علت وہ چیز ہے کہ نسبت کی جائے اس کی طرف حکم کے وجوب کی ابتداءً، کہ حکم اس کی وجہ سے واجب ہوا بھئی، تو جس کی طرف وجوبِ حکم کی نسبت کی جائے ابتداءً، وہ علت ہے۔ بھئی ابتداءً کا کیا معنی؟ کہتے ہیں: أي بلا واسطة، بغیر کسی واسطے کے اسی کی طرف نسبت کی جائے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں: اعتراض ”ما يضاف إليه وجوب الحكم“، وجوبِ حکم کہہ کر شرط کو نکال دیا، کیونکہ شرط کی طرف وجوبِ حکم کی نسبت نہیں ہوتی، وجودِ حکم کی نسبت ہوتی ہے۔ شرط کی طرف وجودِ حکم کی نسبت ہوتی ہے، وجوبِ حکم کی نسبت نہیں۔ تو جب وجوبِ حکم کہا شرط نکل گئی، اور ابتداءً کہا تو پھر یہ بھی باقی چیزیں بھی نکل گئیں آگے بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”أي بلا واسطة احتراز عن السبب والعلامة وعلة العلة“ یہ احتراز ہے سبب سے، کیونکہ سبب کی طرف بلاواسطہ وجوبِ حکم کی نسبت نہیں، علامت کی طرف بھی نہیں، اور علت العلة کی طرف اگرچہ وجوبِ حکم کی نسبت ہوتی ہے، لیکن ابتداءً نہیں بلکہ بواسطةِ علت کے۔ ”وهو يعم العلل الموضوعة كالبيع والنكاح والعلل المستنبطة بالاجتهاد“ اور یہ جو تعریف کی ”وہ ما یضاف إلیہ وجوب الحكم ابتداءً“ ہی یعنی بغیر واسطے کے ہی، کہتے ہیں یہ تعریف عام ہے، علتِ موضوعہ کو بھی شامل ہے اور علتِ مستنبطہ کو بھی شامل ہے۔ علتِ موضوعہ وہ جن کو شریعت نے مقرر کیا ہے مثلاً کسی حکم کے لیے، مثلاً بیع کو کس لیے؟ ملکیت کے لیے، اس سے ملکیت۔ اور اسی طرح نکاح ہے، نکاح سے بھی کیا ہوگی؟ ملکِ نکاح حاصل ہوگی بھئی، تو ان کو شریعت نے اس کے لیے وضع کیا ہے۔ تو یہ ان کو بھی یہ تعریف ان کو بھی شامل، یہ جو علتِ موضوعہ ہیں جن کو مقرر کیا گیا ہے، ”والعلل المستنبطة بالاجتهاد“ اور علتِ مستنبطہ بالاجتہاد، اجتہاد کے ذریعے جو علتیں مستنبط ہوں ان کو بھی شامل ہے، جیسے کہ ربا کی علت کیا مستنبط کی تھی ہم نے؟ قدر اور جنس، تو یہ علتِ یہ تعریف علت کی جو کی گئی، یہ علتِ موضوعہ کو بھی شامل اور علتِ مستنبطہ جن کو وہ تو جیت کے ساتھ ہم پھر قیاس کرتے ہیں بھئی ان کو بھی شامل بھئی۔ وَهُوَ سَبْعَةُ أَقْسَامٍ اور یہ جو علتیں ہیں یہ سات قسم پر ہیں، لِأَنَّ الْعِلَلَ الشَّرْعِيَّةَ الْحَقِيقِيَّةَ، الحقيقية ہے آپ کی کتابوں میں بھئی؟ الحقيقة تو لفظ نہیں؟ الحقيقة نہیں الحقيقية ہونا چاہیے قاف دوسرا جو ہے اس کے بعد بھی ایک یا ہونی چاہیے۔ کہتے ہیں یہ سات قسم پر ہے جس پر اس علت کے لفظ کا اطلاق کیا جاتا ہے، لِأَنَّ الْعِلَلَ الشَّرْعِيَّةَ الْحَقِيقِيَّةَ تَتِمُّ بِثَلَاثَةِ أَوْصَافٍ اس لیے کیونکہ حقیقی شرعی علت جو ہے، حقیقی شرعی علتیں جو ہیں وہ تام ہوتی ہیں، پوری ہوتی ہیں بِثَلَاثَةِ أَوْصَافٍ تین اوصاف سے۔ حقیقی علت شرعی اس کو کہیں گے جس میں تین وصف پائے جائیں، کون کون سے؟ أَحَدُهَا أَنْ تَكُونَ عِلَّةً اسماً، ایک یہ کہ وہ علت ہو اسم کے اعتبار سے۔ نام کے اعتبار سے بھی کیا ہو؟ علت ہو۔ بِأَنْ تَكُونَ مَوْضُوعَةً لِلْحُكْمِ، اس طور کہ اس کو وضع کیا گیا ہو اس حکم کے لیے، وَيُضَافُ الْحُكْمُ إِلَيْهِ ابْتِدَاءً اور نسبت کی جاتی ہو اسی کی طرف حکم کی ابتداءً ہی، یعنی بلا واسطہ ہی۔ علتِ حقیقیہ وہ ہے بھئی جس میں تین وصف پائے جائیں۔ ایک تو یہ کہ وہ علت ہو اسماً بھی، نام کے اعتبار سے بھی کیا ہو؟ علت ہو۔ کیا معنی علت اسماً علت ہونے کا؟ یعنی اس کو وضع کیا گیا ہو اس حکم کے لیے اور اس حکم کی نسبت اس کی طرف کی جاتی ہو بلا واسطہ بھئی۔ توجہ ہے بھئی سبق کی طرف؟ عِلَّةٌ اسماً کیا معنی؟ نام کے اعتبار سے علت ہونے کا کیا معنی؟ کہ اس کو وضع ہی اس حکم کے لیے کیا گیا ہو اور اس حکم کی نسبت بھی اسی کی طرف کی جاتی ہو۔ یہ پہلا وصف۔ وَالثَّانِي اور دوسرا وصف، أَنْ تَكُونَ عِلَّةً معنًى کہ وہ علت ہو معنی کے اعتبار سے بھی، معنی کے اعتبار سے، کیا معنی معنی کے اعتبار سے؟ بِأَنْ تَكُونَ مُؤَثِّرَةً فِي الْحُكْمِ کہ وہ حکم کے اندر مؤثر بھی ہو، حکم کے اندر مؤثر بھی ہو، یعنی کہ عقل فیصلہ کرے کہ اب یہ علت آ گئی تو اب حکم کو کیا ہونا چاہیے؟ ثابت ہونا چاہیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ وَالثَّالِثُ اور تیسرا وصف، أَنْ تَكُونَ حکماً کہ وہ علت ہو با اعتبار حکم کے بھی، بِحَيْثُ يَثْبُتُ الْحُكْمُ بَعْدَ وُجُودِهَا مِنْ غَيْرِ تَرَاخٍ اس حیثیت سے کہ حکم ثابت ہوتا ہو اس علت کے پائے جانے کے بعد بغیر تراخی کے، بغیر مہلت کے، فوراً کیا آ جائے؟ حکم، حکم آ جائے، تو تین وصف علت میں پائے جائیں تو وہ حقیقی شرعی علت ہے۔ تین وصف، کہ وہ علت ہو اسماً بھی، معنًى بھی اور حکماً بھی۔ اسماً علت ہونے کا کیا معنی؟ کہ اس علت کو وضع ہی اس حکم کے لیے کیا گیا ہو اور اس حکم کی نسبت بھی اسی علت کی طرف کی جاتی ہو۔ معنًى بھی علت ہو، معنًى علت ہونے کا کیا معنی؟ کہ وہ مؤثر بھی ہو اس حکم میں بھئی، جس کے آنے سے وہ حکم آتا ہے۔ نیز حکماً بھی علت ہو، حکماً علت ہونے کا کیا معنی؟ کہ جب وہ علت پائی جائے فوراً اس کے ساتھ ہی حکم پایا جائے بغیر مہلت کے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ کتنے اوصاف ذکر کیے؟ تین۔ اول: اسماً، ثانی: معنًى، ثالث: حکماً۔ اسماً علت ہونے کا کیا معنی؟ اس کو وضع ہی اس حکم کے لیے کیا گیا ہو اور اس حکم کی نسبت بھی اسی علت کی طرف۔ معنًى علت ہونے کا کیا معنی؟ وہ حکم میں مؤثر بھی ہو۔ اور حکماً علت ہونے کا کیا معنی؟ کہ اس کے فوراً بعد حکم آتا ہو بغیر کسی تراخی کے بھئی۔ تو یہ تین قسمیں، تین اوصاف پائے جائیں گے تو یہ حقیقی شرعی علت ہے بھئی۔ فَإِذَا وُجِدَتْ هَذِهِ الْأَوْصَافُ الثَّلَاثَةُ فِي شَيْءٍ وَاحِدٍ، پس جب پائے جائیں یہ تین اوصاف کسی ایک چیز کے اندر، كَانَ عِلَّةً كَامِلَةً تَامَّةً، تو یہ ایسی علت ہو گی جو کامل ہے، تام ہے، پوری ہے، وَإِلَّا اور اگر ایسا نہ ہو، فَنَاقِصَةً، تو پھر وہ علت ناقصہ ہے۔ فَبِاعْتِبَارِ اسْتِكْمَالِهَا هَذِهِ الْأَوْصَافِ وَعَدَمِهِ، پس ان اوصاف کے پورا ہونے اور پورا نہ ہونے کے اعتبار سے، يَنْبَغِي أَنْ تَكُونَ الْأَقْسَامُ سَبْعَةً، مناسب یہ ہے کہ سات قسمیں ہونی چاہئیں، بِهَذِهِ الْوَتِيرَةِ، اس طریقے پر بھئی۔ کتنی قسمیں؟ سات۔ دیکھو بھئی! سات قسمیں اس طرح بنیں گی، ادھر توجہ کرو بھئی! ایک قسم تو وہ جس میں تینوں اوصاف پائے جائیں، یہ ہوئی ایک قسم۔ اگلی تین قسمیں وہ جن میں ان میں سے صرف ایک ایک وصف پایا جائے۔ وصف کتنے ہیں؟ تین۔ پہلا اسماً، ثانی معنًى، ثالث حکماً۔ تو پہلی قسم کون سی بنائی ہم نے؟ جس میں تینوں وصف ہوں۔ دوسری قسم جو صرف اسماً علت ہو۔ تیسری قسم جو صرف معنًى علت ہو۔ چوتھی قسم جو صرف حکماً علت ہو۔ چار قسمیں ہو گئیں؟ اور اگلی تین قسموں میں ان میں سے دو دو آئیں۔ اسماً، معنًى اور حکماً میں سے دو دو آئیں۔ تو اس کے اعتبار سے بھی تین ہی قسمیں بنتی ہیں۔ تین وصف ہیں تو تین قسمیں۔ مثلاً پانچویں قسم کیا بنے گی؟ اسماً بھی ہو اور معنًى بھی ہو۔ چھٹی قسم کیا بنے گی؟ اسماً بھی ہو اور حکماً بھی ہو۔ ساتویں قسم کیا بنے گی؟ معنًى اور حکماً ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو تین قسمیں وہ بنیں جن میں ان میں سے ایک ایک وصف پایا جا رہا ہے تو تین وصف ہیں تو تین ہی قسمیں بن گئیں۔ اور تین قسمیں وہ بنیں جن میں ان میں سے دو دو وصف آ رہے ہیں، تو یہ چھ ہو گئیں اور ایک قسم وہ تھی جس کے اندر تینوں وصف پائے گئے تو کل کتنی ہو گئیں؟ سات۔ وہی سات اب گنوائیں گے آپ کو بھئی۔ تو کہتے ہیں: الْأَوَّلُ مَا يَكُونُ اسْماً وَمَعْنًى وَحُكْماً، اول قسم وہ ہے جو علت ہو اسماً بھی، معنًى بھی اور حکماً بھی، وَهُوَ الْجَامِعُ لِلْأَوْصَافِ، اور یہ جامع ہے تینوں اوصاف کو۔ وَالثَّانِي مَا يَكُونُ اسْماً، اور تیسری قسم وہ ہے جو صرف اسماً علت ہو، لَا مَعْنًى وَلَا حُكْماً، نہ معنًى ہو اور نہ حکماً۔ وَالثَّالِثُ مَا يَكُونُ مَعْنًى، اور تیسری قسم وہ ہے جو معنًى علت ہو، لَا اسْماً وَلَا حُكْماً، نہ اسماً اور نہ حکماً۔ وَالرَّابِعُ مَا يَكُونُ حُكْماً، اور چوتھی قسم وہ ہے جو حکماً علت ہو، لَا اسْماً وَلَا مَعْنًى، نہ اسماً ہو اور نہ معنًى۔ فَهَذِهِ الثَّلَاثَةُ مَا يُوجَدُ فِيهَا وَصْفٌ وَيَعْدَمُ وَصْفَانِ، پس یہ تین قسمیں وہ ہیں جن میں ایک وصف پایا گیا اور دو وصف معدوم ہیں۔ وَالْخَامِسُ مَا يَكُونُ اسْماً وَمَعْنًى، اور پانچویں قسم وہ ہے جو علت ہو اسماً بھی اور معنًى بھی، لَا حُكْماً، حکماً نہ ہو۔ وَالسَّادِسُ مَا يَكُونُ اسْماً وَحُكْماً، اور چھٹی قسم وہ ہے جو اسماً بھی ہو اور حکماً بھی ہو، لَا مَعْنًى، معنًى نہ ہو۔ وَالسَّابِعُ مَا يَكُونُ مَعْنًى وَحُكْماً، اور ساتویں قسم وہ ہے جو علت ہو معنًى بھی اور حکماً بھی، لَا اسْماً، اسماً نہ ہو۔ فَهَذِهِ الثَّلَاثَةُ، پس یہ جو تین قسمیں ہیں، مَا يُوجَدُ فِيهَا وَصْفَانِ وَيَعْدَمُ وَصْفٌ، جن میں دو وصف پائے گئے اور ایک وصف معدوم ہے۔ لَكِنَّ الْمُصَنِّفَ رحمه الله لَمْ يَذْكُرْ مَا هُوَ مَعْنًى، لیکن مصنف رحمہ اللہ نے وہ قسم ذکر نہیں کی جو صرف معنًى علت ہے، لَا اسْماً وَلَا حُكْماً، اسماً اور حکماً علت نہیں۔ یہ ایک قسم انہوں نے ذکر نہیں کی۔ وَمَا هُوَ حُكْماً، اور وہ قسم بھی ذکر نہیں کی جو صرف حکماً علت ہے، لَا اسْماً وَلَا مَعْنًى، اسماً اور معنًى علت نہیں۔ تو دو قسمیں ذکر نہیں کی مصنف نے، کون کون سی؟ ایک جو صرف معنًى علت ہو اور ایک جو صرف حکماً علت ہو۔ وَذَكَرَ عِوَضَهُمَا، اور ان کے دونوں کے عوض میں مصنف نے کیا ذکر کیا؟ عِلَّةً فِي حَيِّزِ الْأَسْبَابِ، وہ علت جو اسباب کی جگہ میں ہو۔ حيز کا معنی جگہ۔ وہ علت جو ان دو کی جگہ دو اور قسمیں مصنف نے ذکر کیں، ایک وہ علت جو فِي حَيِّزِ الْأَسْبَابِ کس کی جگہ میں ہو؟ اسباب کی جگہ میں، یعنی اسباب کے درجے میں ہو۔ وَوَصْفاً لَهُ شُبْهَةُ الْعِلَلِ، اور ایک وہ وصف جس میں شبہ علتوں کا شبہ ہے۔ تو یہ دو قسمیں مصنف نے ان دو کی جگہ ذکر کیں۔ ایک وہ علت جو اسباب کے درجے میں ہے اور ایک وہ وصف جس میں شبہ علت ہے۔ كَمَا سَتَطَّلِعُ عَلَيْهِ فِي أَثْنَاءِ الْكَلَامِ، جیسے کہ عنقریب آپ مطلع ہو جائیں گے کلام کے بیچ میں اس پر۔ إِذَا عَرَفْتَ هَذَا، جب آپ نے اس کو جان لیا۔ سمجھ میں آیا؟ جیسے آپ اس پر مطلع ہوں گے فِي أَثْنَاءِ الْكَلَامِ، کلام کے دوران بھئی، کلام کے بیچ۔ إِذَا عَرَفْتَ هَذَا، جب آپ نے یہ جان لیا، فَالْآنَ نَشْرَعُ عَلَى مَا قَسَّمَهُ الْمُصَنِّفُ رحمه الله، پس اب ہم شروع ہوتے ہیں اس پر جو اسی میں جو تقسیم کی ہے مصنف رحمہ اللہ نے، وَنَقُولُ، پس ہم کہتے ہیں: الْأَوَّلُ، پہلے قسم جو ہے، عِلَّةٌ اسْماً وَمَعْنًى وَحُكْماً، وہ علت ہے جو اسماً بھی ہو، معنًى بھی ہو اور حکماً بھی ہو، كَالْبَيْعِ الْمُطْلَقِ لِلْمِلْكِ، جیسے کہ بیعِ مطلق ملکیت کے لیے بھئی۔ بیعِ مطلق علت ہے کس کے لیے؟ ملکیت کے لیے۔ بیعِ مطلق کہا بھئی، یعنی وہ بیع جس میں خیارِ شرط نہ ہو بھئی۔ خیارِ شرط نہ ہو۔ یہ بیعِ مطلق ہے، مثلاً آپ مجھ سے کوئی چیز خریدتے ہیں، کوئی شرط وغیرہ نہیں تو یہ چیز خریدتے ہی آپ اس کے مالک بن جائیں گے۔ تو یہ بیع علت ہے ملکیت کے لیے اسماً بھی، اسماً کیوں ہے؟ کیونکہ اسی کے لیے وضع ہے بیع، ملکیت کے لیے ہی بیع وضع ہے اور ملکیت کی نسبت بیع ہی کی طرف کی جاتی ہے۔ اور معنًى بھی یہ علت ہے بیع، کیوں؟ کیونکہ یہ بیع مؤثر ہے کس کے اندر؟ ملکیت میں۔ اور حکماً بھی یہ علت ہے بھئی، کیوں؟ حکماً کیوں؟ کیونکہ بیع ہوتے ہی فوراً کیا پائی گئی؟ ملکیت پائی گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں كَالْبَيْعِ الْمُطْلَقِ لِلْمِلْكِ، جیسے بیعِ مطلق ہے ملکیت کے لیے، بیعِ مطلق کیا معنی؟ أَيِ الْعَارِي عَنْ خِيَارِ الشَّرْطِ، وہ جو بیع جو خالی ہو خیارِ شرط سے، فَإِنَّهُ عِلَّةٌ، پس یہ علت ہے اسْماً، اسماً علت ہے، لِأَنَّهُ مَوْضُوعٌ لِلْمِلْكِ، اس لیے کیونکہ اس کو وضع کیا گیا ہے ملکیت کے لیے، وَالْمِلْكُ مُضَافٌ إِلَيْهِ، اور ملکیت کی اس کی طرف نسبت کی جاتی ہے، وَمَعْنًى، اور یہ معنًى بھی علت ہے، لِأَنَّهُ يُؤَثِّرُ فِيهِ، اس لیے کیونکہ یہ بیع جو ہے ملکیت میں مؤثر ہے، وَهُوَ مَشْرُوعٌ لِأَجْلِهِ، اور یہ بیع مشروع ہی اسی ملکیت کے لیے ہے، وَحُكْماً، اور یہ حکماً بھی علت ہے، لِأَنَّهُ يَثْبُتُ الْمِلْكُ عِنْدَ وُجُودِهِ بِلَا تَرَاخٍ، اس لیے کیونکہ ملکیت ثابت ہو جاتی ہے بیع کے پائے جاتے وقت بغیر کسی مہلت کے۔ وَالثَّانِي عِلَّةٌ اسْماً لَا حُكْماً، اور دوسری قسم وہ علت ہے جو با اعتبار اسم کے تو ہو، لَا حُكْماً وَلَا مَعْنًى، حکماً اور معنًى نہ ہو، كَالْإِيجَابِ الْمُعَلَّقِ بِالشَّرْطِ، جیسے کہ وہ ایجاب جو معلق ہو کس کے ساتھ؟ شرط کے ساتھ۔ وَهُوَ الَّذِي أَدْخَلَهُ فِيمَا سَبَقَ فِي السَّبَبِ الْمَجَازِيِّ، اور یہ وہ قسم ہے جس کو داخل کیا تھا ماقبل کے اندر کس میں؟ سببِ مجازی میں داخل کیا تھا، مِثْلُ قَوْلِهِ، جیسے کسی شخص کا یہ قول: أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ، تو فَإِنَّ قَوْلَهُ، پس یہ شخص، کسی شخص کا یہ جو قول ہے أَنْتِ طَالِقٌ، یہ جو قول ہے، عِلَّةٌ، یہ علت ہے اسْماً، کس اعتبار سے؟ اسم کے اعتبار سے، لِوُقُوعِ الطَّلَاقِ، کس کے لیے؟ طلاق کے وقوع کے لیے۔ یہ جو اس نے کہا نا إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ، اس میں یہ جو فَأَنْتِ طَالِقٌ ہے، یہ علت ہے وقوعِ طلاق کے لیے۔ کیونکہ عورت جب اس گھر میں جائے گی تو طلاق ہو جائے گی اور کیا کہیں گے؟ طلاق کیوں ہوئی؟ وہ جو خاوند نے أَنْتِ طَالِقٌ کہا تھا، اس کی وجہ سے طلاق ہوئی۔ تو دیکھو، اس کی طرف نسبت کی جائے گی، اس کی طرف نسبت کی جائے گی۔ اور اسی کے لیے یہ وضع بھی ہے۔ تو یہ وقوعِ طلاق کے لیے علت ہے اسماً، فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ لَهُ فِي الشَّرْعِ، اس لیے کیونکہ یہ جو طلاق، یہ جو أَنْتِ طَالِقٌ یہ وضع ہی وقوعِ طلاق کے لیے ہے شریعت میں، وَيُضَافُ الْحُكْمُ إِلَيْهِ عِنْدَ وُجُودِ الشَّرْطِ، اور حکم کی نسبت کی جائے گی اسی کی طرف شرط کے پائے جاتے وقت، وَلَيْسَ عِلَّةً حُكْماً، اور یہ حکماً علت نہیں ہے۔ یہ حکماً علت نہیں، کیوں؟ حکماً علت تو کس کو کہتے تھے؟ علت کے پائے جاتے ہی فوراً حکم بھی آ جائے اور یہاں إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ کہتے ہی طلاق آئی؟ نہیں، کب آئے گی؟ جب شرط، تو ابھی تو نہیں آئی، تو لہٰذا یہ حکماً علت نہیں۔ کہتے ہیں لِأَنَّ حُكْمَهُ يَتَأَخَّرُ إِلَى وُجُودِ الشَّرْطِ، اس لیے کیونکہ اس کا حکم جو ہے مؤخر ہو گیا شرط کے وجود تک، وَلَا مَعْنًى، اور معنًى بھی یہ علت نہیں ہے، إِذْ لَا تَأْثِيرَ لَهُ فِيهِ قَبْلَ وُجُودِ الشَّرْطِ، اس لیے کیونکہ اس کی کوئی تاثیر نہیں ہے وقوعِ طلاق میں قَبْلَ وُجُودِ الشَّرْطِ، شرط کے پائے جانے سے پہلے، بعد میں ہے لیکن پہلے نہیں ہے۔ وَمِنْ هَذَا الْقَبِيلِ الْيَمِينُ بِاللَّهِ تَعَالَى، اور اسی قبیل سے ہے یمین باللہ بھئی، لِلْكَفَّارَةِ، کس کے لیے؟ کفارہ کے لیے، یعنی وہ علت ہے اسْماً لَا حُكْماً وَلَا مَعْنًى، عَلَى مَا قَالُوا، بنا بر اس کے جو علماء نے فرمایا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ اس پر چونکہ اعتراض فوراً ہوتا ہے کہ یمین باللہ یہ کیسے کفارے کا سبب بن سکتی ہے؟ یمین تو کھائی جاتی ہے پورا کرنے کے لیے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اس پر چونکہ اعتراض بھی ہوتا تھا اس لیے شارح نے نسبت بھی دوسروں کی طرف کر دی عَلَى مَا قَالُوا، بنا بر اس کے جو کہا ہے علماء نے بعض نے۔ وَالثَّالِثُ عِلَّةٌ اسْماً وَمَعْنًى لَا حُكْماً، تیسری قسم وہ ہے جو علت ہو اسماً بھی اور معنًى بھی ہو، لَا حُكْماً، حکماً نہ ہو، كَالْبَيْعِ بِشَرْطِ الْخِيَارِ، جیسے کہ بیع بشرطِ خیار۔ فَإِنَّهُ عِلَّةٌ لِلْمِلْكِ اسْماً، پس یہ علت ہے ملکیت کے لیے اسماً، کس اعتبار سے؟ اسم، لِأَنَّهُ مَوْضُوعٌ لَهُ، کیونکہ یہ بیع جو ہے اسی کے لیے ملکیت کے لیے ہی وضع ہے، وَمَعْنًى، اور معنًى بھی ہے، لِأَنَّهُ هُوَ الْمُؤَثِّرُ فِي ثُبُوتِ الْحُكْمِ، کیونکہ یہ مؤثر بھی ہے حکم کے ثبوت میں، اس کی بیع کی وجہ سے کیا آئے گی؟ ملکیت آئے گی۔ لَا حُكْماً، لیکن یہ حکماً نہیں ہے، کیوں؟ کیونکہ خیارِ شرط ہے نا اور جب تک خیارِ شرط ہے بیع تام نہیں ہوئی۔ تو اس وقت بیع تام نہیں تو ثبوتِ ملکیت بھی نہیں ہے جب تک وہ خیار ساقط نہیں ہو گا، مشتری اس چیز کا مالک نہیں بنے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں لِأَنَّ ثُبُوتَ الْمِلْكِ مُتَأَخِّرٌ إِلَى إِسْقَاطِ الْخِيَارِ، اس لیے کیونکہ ملکیت کا ثبوت جو ہے وہ مؤخر ہے اسقاطِ خیار تک، جب تک وہ اپنے خیار کو ساقط نہ کر دے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں بھئی؟ تو جب تک وہ خیار کو ساقط نہ کر دے یا وہ مدت نہ گزر جائے، تو مدت گزرے گی تب بھی خیار ساقط ہو جائے گا۔ وَالْبَيْعِ الْمَوْقُوفِ، اور جیسے کہ بیعِ موقوف۔ بھئی دیکھیے! بیعِ موقوف کسی شخص نے دوسرے کی چیز اٹھا کر بیچ ڈالی، آپ نے پڑھا یہ بیع مالک کی اجازت پر موقوف ہے۔ تو مشتری اس کا مالک بنا؟ نہیں، جب تک مالک اجازت نہیں دے گا یہ وہ مالک، مالک جب تک اجازت نہ دے یہ بیع پوری نہیں ہوئی تو وہ مشتری بھی اس کا مالک نہیں۔ تو ملکیت آ رہی ہے اس بیع کی وجہ سے؟ حکماً یہ علت نہیں ہے، ہاں اسماً اور معنًى کیا ہے؟ یہ علت۔ اسماً اس لیے کیونکہ بیع وضع ہی کس لیے ہے؟ ملکیت کے لیے، اور اسی کی طرف بیع کی، ملکیت کی نسبت بھی کی جاتی ہے، اور معنًى بھی یہ علت ہے، کیوں؟ یہ مؤثر ہے اس کے اندر بھئی، اسی کے... وَالْبَيْعِ الْمَوْقُوفِ، کہتے ہیں عَطْفٌ عَلَى الْبَيْعِ بِشَرْطِ الْخِيَارِ، یہ عطف ہے بیع بشرطِ خیار پر، وَمِثَالٌ ثَانٍ لَهُ، اور یہ اس کی دوسری مثال ہے، وَهُوَ، اور وہ یہ کہ أَنْ يَبِيعَ مَالَ غَيْرِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ، یہ کہ بیچے کوئی شخص غیر کے مال کو اس کی اجازت کے بغیر، فَإِنَّهُ عِلَّةٌ اسْماً وَمَعْنًى لِلْمِلْكِ، اس لیے کیونکہ یہ علت ہے اسماً بھی اور معنًى بھی ملکیت کے لیے، لَا حُكْماً، حکماً علت نہیں ہے، لِتَرَاحِي الْمِلْكِ إِلَى زَمَانِ إِجَازَةِ الْمَالِكِ، بموجب ملکیت کے مؤخر ہونے کے مالک کی اجازت کے زمانے تک، جب تک مالک اجازت نہیں دے گا اس وقت تک ملکیت نہیں آئے گی۔ وَالْإِيجَابِ الْمُضَافِ إِلَى الْوَقْتِ، اور وہ ایجاب جس کی نسبت کی گئی ہو وقت کی طرف، کہتے ہیں مِثَالٌ ثَالِثٌ لَهُ، یہ تیسری مثال ہے اسی کی۔ تیسری قسم چل رہی تھی۔ ”والثالث علة اسما ومعنى معاً لا حكماً“ یہ اس کی تیسری مثال ہے۔ مثال قوله جیسے کسی شخص کا یہ قول ”أنت طالق غداً“ تجھے کل طلاق ہے، تو یہ ایجاب ہے ”أنت طالق“ اور اس کی نسبت کس کی طرف کی گئی ہے؟ وقت کی طرف۔ تو کہتے ہیں ”وهو الذي سبق في أقسام السبب“ اور یہ وہی قسم ہے جو اس سبب کی اقسام میں سے، میں گزری ہے۔ ”فإنه أيضاً علة اسما ومعنى“ یہ بھی علت ہے اسماً بھی اور معناً بھی ”لوقوع الطلاق“ کس کے لیے علت ہے؟ وقوع طلاق کے لیے بھئی۔ یہ علت ہے بھئی، کیونکہ یہ ”أنت طالق“ وضع ہی کس لیے ہے؟ طلاق، وقوع طلاق کے لیے اور طلاق کی نسبت اسی کی طرف کی جائے گی۔ اور معناً بھی ہے، اسی کی وجہ سے طلاق آئی یا نہیں آئی؟ آئی۔ تو مؤثر بھی ہے یہ۔ اور حكماً نہیں ہے، کیوں؟ کیونکہ اس کے کہتے ہی فوراً طلاق نہیں ہوئی، طلاق کب ہوگی؟ جو وقت اس نے ذکر کیا اس وقت جا کر ہوگی، تو حكماً نہیں ہے۔ ”لا حكماً“ یہ حكماً نہیں ہے ”لتأخره إلى زمان أضيف إليه“ بوجہ مؤخر ہونے کے اس زمانے تک جس کی طرف اس کی نسبت کی گئی ہے۔ ”ونصاب الزكاة قبل مضي الحول“ اور زکوٰۃ کا نصاب سال کے گزرنے سے پہلے بھئی، زکوٰۃ کا نصاب سال کے گزرنے سے پہلے۔ کہتے ہیں ”مثال رابع له“ یہ چوتھی مثال ہے اسی تیسری قسم کی۔ چوتھی مثال۔ یعنی یہ اسماً بھی علت ہے، معناً بھی علت ہے، لیکن حكماً علت نہیں، نصاب بھئی نصاب۔ نصاب کے بقدر مال ہو تو اس پر زکوٰۃ آتی ہے، لیکن کب آتی ہے؟ سال کے گزرنے کے بعد۔ نصاب جیسے ہی پایا گیا زکوٰۃ آئی کہ سال کے بعد آئے گی؟ سال کے معلوم ہوا یہ حكماً علت نہیں، ہاں اسماً علت ہے کیونکہ نصاب کو وضع ہی کس کے لیے کیا گیا ہے؟ جس سے کیا آیا کرتی ہے؟ زکوٰۃ، اور مؤثر بھی ہے یہ اس کے اندر تو معناً بھی علت ہے بھئی۔ ”فإنه أيضاً علة اسماً“ تو یہ بھی علت ہے اسم کے اعتبار سے ”لأنه وضع لوجوب الزكاة“ اس لیے کیونکہ اس کو وضع کیا گیا وجوب زکوٰۃ کے لیے، یعنی مقرر کیا گیا ہے ”ويضاف إليه الوجوب بلا واسطة“ اور نسبت کی جاتی ہے اس کی طرف وجوب کی بغیر کسی واسطے کے۔ کہ وجوب زکوٰۃ کیوں آیا؟ کیونکہ یہ نصاب کے بقدر مال کا مالک تھا ”ومعنى“ اور معناً بھی ہے ”لأنه مؤثر في وجوب الزكاة“ اس لیے کیونکہ یہ وجوب زکوٰۃ میں مؤثر بھی ہے ”إذ الغنى يوجب الإحسان وهو يحصل بالنصاب“ اس لیے کیونکہ مالداری جو ہے وہ احسان نیکی کو واجب کرتی ہے، مالداری کس کو واجب کرتی ہے؟ نیکی کو، کہ فقراء کے ساتھ کیا کی جائے؟ فقراء کے ساتھ نیکی کی جائے ”وهو يحصل بالنصاب“ اور یہ مالداری کس کے ذریعے حاصل ہوگی؟ نصاب کے ذریعے، تو یہ مؤثر بھی ہے وجوب زکوٰۃ میں ”لا حكماً“ لیکن حكماً نہیں ہے یہ علت ”لتأخر وجوب الأداء إلى حولان الحول“ بوجہ وجوب ادا کے مؤخر ہونے کے سال کے گزرنے تک بھئی، اس وقت تک زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی جب تک حولان حول نہیں ہوگا۔ ”وعقد الإجارة“ اور عقد اجارہ ”مثال خامس له“ یہ کون سی مثال ہے؟ پانچویں مثال ہے اسی تیسری قسم کی۔ ”فإنه أيضاً علة لملك المنفعة اسماً“ بھئی دیکھیے عقد اجارہ ہے کہ آپ نے، عقد اجارہ کس پر، عين پر یا منافع پر؟ منافع پر کیا جاتا ہے۔ اب دیکھیے، یہ علت ہے اسماً بھی۔ کیا ہے؟ اسماً بھی علت ہے، اسماً ہونے کا کیا معنیٰ؟ اسی کے لیے وضع کیا گیا، عقد اجارہ وضع ہی کس لیے ہے تا کہ دوسرے، دوسرا شخص کس چیز کا مالک بن جائے؟ منافع کا مالک بن جائے۔ اور نیز مؤثر بھی ہے اس کے اندر بھئی، اس کے ذریعے کیا بن جائے گا وہ شخص منافع، عقد اجارہ سے منافع کا مالک بن جائے گا، لیکن حكماً نہیں ہے یہ علت، اس لیے کیونکہ حكماً علت کس کو کہتے تھے؟ کہ علت کے پائے جاتے ہی فوراً کیا آ جائے؟ حکم آ جائے، اور یہاں عقد ہے اجارے کا، اور وہ مالک بنے گا منافع کا، لیکن وہ منافع، وہ منافع آپ جانتے ہیں کہ وہ وقت کے ساتھ ساتھ نئے نئے نفع آتے ہیں بھئی، تو وہ منافع ایک دم پائے ہی نہیں جا رہے، وہ وقت کے ساتھ ساتھ نئے نفع آتے جائیں گے اختتام وقت تک بھئی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ مثلاً رہائش ہے، ایک ماہ کے رہائش کے لیے گھر کرایہ پر لیا، تو کیا ایک ماہ کے رہائش عقد کرتے ہی پائی گئی؟ نہیں، وہ تو ہر روز کے رہائش نئی نئی آتی جائے گی، تو حکم گویا منافع فوراً نہیں پائے گئے اس لیے یہ علت حكماً نہیں۔ ”لأنه“ تو کہتے ہیں یہ، یہ علت ہے ”لملك المنفعة“ منافع کی ملکیت کے لیے ”اسماً“ باعتبار اسم کے ”لأنه وضع له“ اس لیے کیونکہ اس، عقد اجارہ کو اسی کے لیے وضع کیا گیا ہے یعنی ملک نفع کے لیے ہی ”والحكم يضاف إليه“ اور حکم کی اس کی طرف نسبت کی جاتی ہے ”ومعنى“ اور یہ معناً بھی علت ہے ”لأنه مؤثر فيه“ اس لیے کیونکہ عقد اجارہ جو ہے ملک منفعت کے، ملک منفعت کے اندر مؤثر بھی ہے ”ولهذا صح تعجيل الأجرة قبل العمل“ اور اسی وجہ سے اجرت جلدی دینا عمل سے پہلے ہی یہ جائز ہے۔ عقد اجارہ ملک منفعت میں مؤثر ہے جبھی تو جلدی کیا کر سکتے ہیں؟ منافع حاصل کرنے سے پہلے ہی عقد کرتے ہی فوراً اجرت دے سکتے ہیں بھئی، معلوم ہوا یہ مؤثر بھی ہے اس کے اندر ”لا حكماً“ لیکن حكماً یہ علت نہیں ہے ”لأن حكمه“ اس لیے کیونکہ اس کا حکم جو ہے ”وهو ملك المنافع“ وہ منافع کی ملکیت ”يوجد شيئاً فشيئاً إلى انقضاء الأجل“ وہ تھوڑے تھوڑے کر کے پائے جاتے ہیں وقت کے ساتھ ”إلى انقضاء الأجل“ وقت کے پورا ہونے تک بھئی۔ ”وهي معدومة الآن“ اور اس وقت یہ منافع کیا ہیں؟ معدوم ہیں ”ولا يصلح أن يكون محلاً للملك“ اور وہ صلاحیت نہیں رکھتے اس بات کی کہ وہ ملکیت کا محل بنیں، ابھی وہ پائے ہی نہیں جاتے کوئی ان کا مالک کیسے بنے گا؟ ہاں جوں جوں آتے جائیں گے وہ جس نے چیز کرایہ پر لی ہے وہ ان کا مالک بنتا جائے گا، معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ ”فلا يكون علة حكماً“ تو یہ علت باعتبار حکم کے نہ ہوئی۔ ”والرابع علة في حيز الأسباب“ اور چوتھی قسم علت کی وہ ہے جو حيز الاسباب، اسباب کے درجے میں ہو، اسباب کے مکان میں ہو یعنی اسباب کے درجے میں ہو ”يعني لها شبهة بالأسباب“ یعنی اس کی مشابہت کس کے ساتھ ہو؟ اسباب کے ساتھ ”فهو تفسير لما قبله“ تو یہ تفسیر ہے اپنے سے ماقبل کی، یہ جو متن آیا نا ”لها“ ”لها شبه بالأساب“ میں نے بتلایا ”شبه“ ”مثل“ کے معنیٰ میں ہے اور ”شبه“ مشابہت مصدر ہے ”لها شبه بالأسباب“ ان کی مشابہت ہے اسباب کے ساتھ، یہ جو جملہ ہے متن کا، یہ تفسیر ہے ماقبل کی یعنی ”علة في حيز الأسباب“ کی۔ ”علة في حيز الأسباب“ چوتھی قسم وہ علت جو اسباب کے درجے میں ہو، کیا معنیٰ اسباب کے درجے میں؟ یعنی ”لها شبه بالأسباب“ یعنی اس کی اسباب کے ساتھ مشابہت ہو، تو یہ اسی کی تفسیر ہے۔ ”وذكر المصنف رحمه الله له ثلاثة أمثلة“ اور مصنف نے اس کے لیے تین مثالیں ذکر کیں ”فقال“ پس فرمایا ”كشراء القريب“ جیسے ایک قریب رشتہ دار کو خریدنا۔ بھئی دیکھیے، آپ نے پڑھا ہے حدیث میں آتا ہے: ”من ملك ذا رحم محرم منه فهو حر“ جو اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنا تو وہ اس پر آزاد ہے۔ اب قریبی رشتہ دار کو خریدنا یہ علت ہے مالک ہونے کی، خریدتے ہی کیا بنے گا؟ اور ملکیت علت ہے فوراً اس کے آزاد ہونے کی، وہ فوراً کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔ حدیث میں کیا آیا؟ جس نے خریدا یا جو مالک ہوا؟ مالک ہوا، تو مالک بننا، مالک ہونا یہ علت ہے کس چیز کی؟ آزادی کی، اور شراء وہ علة العلة ہے، کیا چیز ہے؟ خریدے گا تو کیا آئے گی؟ ملکیت، اور ملکیت آئے گی تو کیا آ جائے گی فوراً؟ آزادی آ جائے گی، تو شراء علت ہے یا علة العلة ہے؟ یہ علة العلة ہے بھئی، علة العلة ہے۔ تو یہ ہے تو علت لیکن یہ اسباب کے درجے میں ہے کیونکہ درمیان میں ایک اور علت آرہی ہے، اس شراء کے درمیان شراء اور آزادی کے درمیان ملکیت والی علت پائی جا رہی ہے، تو شراء ہے تو علت لیکن کس کے درجے میں ہے؟ سبب کے درجے میں ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ ”كشراء القريب“ جیسے قریبی کو خریدنا ”فإنه علة للملك“ کیونکہ یہ شراء جو ہے علت ہے ملکیت کی ”والملك في القريب علة للعتق“ اور قریبی شخص میں ملکیت کا آنا یہ علت ہے آزادی کی ”فيكون العتق مضافاً إلى الأول بواسطة“ تو یہ آزادی جو ہے اس کی نسبت کی جائے گی اول یعنی شراء کی طرف ”بواسطته“ یعنی ”بواسطة الملك“ ”فمن حيث أنه علة العلة كان علة“ پس اس حیثیت سے کہ یہ علة العلة ہے تو یہ بھی علت ہے ”ومن حيث أنه توسط بينهما الواسطة“ کہ اور اس حیثیت سے کہ بیچ میں آگیا ان دونوں کے درمیان ”الواسطة“ کیا بیچ میں آگیا؟ واسطہ آگیا ”كان شبهاً بالأسباب“ تو یہ کیا ہوا؟ اسباب کے مشابہ ہوا بھئی، ”كان شبهاً“ یہاں ”شبهاً“ پڑھنا بھئی، تو یہ اسباب کے مشابہ ہوا ”ومرض الموت“ سبق سمجھ بھی آرہا ہے کہ نہیں بھئی؟ آسان آسان مثالیں چل رہی ہیں بھائی। اور جیسے کہ مرض الموت بھئی، بھئی دیکھیے، مرض الموت میں وارثوں کا حق مال سے متعلق ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ شخص جو مرض الموت میں مبتلا ہے وہ اپنے مال میں، اپنے مال میں تیسرے حصے سے زائد تصرف نہیں کر سکتا بطور تبرع کے، یعنی تبرع کا معنیٰ ہوتا ہے کسی کو کوئی چیز دینا جو آپ پر واجب نہ ہو، وہ اس، یعنی عطیہ دینا کسی کو، عطیہ یا تحفے وغیرہ کے طور پر چیز دینا جو آپ پر واجب نہ ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تبرع بھئی، تبرع کے طور پر۔ تو یہ جو مرض الموت میں گرفتار شخص ہے، یہ اپنے مال کے ثلث سے زائد میں تبرع کا اہل نہ رہا، تو یہ مرض الموت کی وجہ سے اس پر پابندی آگئی کیونکہ اب وارثوں کا حق مال سے متعلق ہو گیا بھئی۔ اب مرض الموت یہ علت ہے اس کی وجہ سے وارثوں کا حق متعلق ہوا، اور وارثوں کا حق متعلق ہونے کی وجہ سے اب وہ ثلث سے زائد میں تبرع نہیں کر سکتا، توجہ ہے بھئی؟ مرض الموت علت ہے کس چیز کی؟ وارثوں کا حق متعلق ہونے کی، اور وارثوں کا حق متعلق ہونا یہ علت ہے کس چیز کی؟ اس پر پابندی کی، اس پر پابندی کی، تو گویا مرض الموت یہ علة العلة ہے پابندی کے لیے۔ مرض الموت کی وجہ سے کیا آیا؟ وارثوں کا حق متعلق ہوا، اور وارثوں کا حق متعلق ہونے سے کیا ہوا؟ پابندی آگئی، تو لہٰذا مرض الموت یہ پابندی کے لیے علت ہے یا علة العلة ہے؟ علة العلة ہے۔ ”فإنه علة لتعلق حق الورثة بالمال“ پس یہ علت ہے وارثوں کا مال کے ساتھ حق متعلق ہونے کے لیے ”وهو علة لحجر المريض“ کہتے ہیں ”وهو علة لحجر المريض“ یہ علت ہے مریض کے حجر کے لیے، حَجر، حِجر، حُجر، یہ یہ مثلث الفاء ہے، تینوں حرکتیں پڑھ سکتے ہیں، تو یہ علت ہے بھئی، کیا چیز علت ہے؟ مرض، کیا بتلایا مرض الموت یہ علت ہے کس چیز کے لیے؟ وارثوں کا حق مال کے ساتھ متعلق ہونے کے لیے، اور وارثوں کا حق مال کے ساتھ متعلق ہونا ”هو علة لحجر المريض“ یہ علت ہے کس لیے؟ مریض پر پابندی کے لیے ”عن التبرع بما زاد على الثلث“ ثلث سے زائد پر تبرع کرنے سے، یعنی عطیہ کرنے سے ”فيكون كشراء القريب“ تو یہ کس کی طرح ہوا؟ شراء قریب، جیسے اوپر والی مثال گزری یہ بھی اسی کی طرح ہوا ”وربما يقال“ اور بسا اوقات کہا جاتا ہے ”إنه داخل في العلة“ کہ یہ کس میں داخل ہے؟ یہ داخل ہے اس علت میں ”اسماً ومعنى“ جو اسماً ومعنىً علت ہے ”لا حكماً“ ”لا حكماً“۔ اور وہ کون سی تھی؟ وہ تیسری قسم تھی، یہ ہم پڑھ رہے ہیں چوتھی قسم اور وہ، تو بسا اوقات کہا جاتا ہے کہ یہ اسی تیسری قسم میں داخل ہے ”فإنه علة اسماً“ کیونکہ یہ علت ہے باعتبار نام کے ”لحجر المريض عن التبرعات“ مریض کو روکنے کے لیے کس سے؟ تبرعات سے، تو یہ علت ہے، مریض پر پابندی کے لیے باعتبار اسم کے ”لإضافة الحكم إليه“ بوجہ حکم کی اس کی طرف نسبت کرنے کے۔ مریض پر پابندی ہے، کیوں پابندی ہے؟ کیونکہ وہ مرض الموت میں، مبتلا ہے، تو مرض الموت کی طرف نسبت کر دی جاتی ہے۔ ”ومعنى“ اور یہ معناً بھی علت ہے ”لكونه مؤثراً في الحجر“ کیونکہ یہ حجر میں مؤثر بھی ہے، مرض الموت کی وجہ سے پابندی آ رہی ہے نا ”لا حكماً“ لیکن حكماً نہیں مؤثر بھئی، یعنی حكماً علت نہیں ہے بھئی، حكماً کیا تھا؟ کہ علت کے پائے جاتے ہی فوراً کیا آ جائے؟ حکم، لیکن مرض الموت کے آتے ہی پابندی نہیں ”لأن الحجر لا يثبت إلا إذا اتصل به الموت مستنداً“ بھئی دیکھیے، مرض الموت کس کو کہتے ہیں؟ جس میں انسان کا انتقال ہو جائے، اور اس کا پتا انتقال کے وقت ہی چلے گا نا؟ اس سے پہلے تو پتا نہیں چل سکتا، اس سے پہلے احتمال ہے شاید مرض الموت ہو لیکن ہو سکتا ہے وہ ٹھیک ہو جائے، تو لہٰذا یہاں پر پابندی آئی لیکن فوراً آگئی یا کب جا کر پابندی کا پتا چلے گا؟ موت کے وقت بھئی، اس وقت پتا چلے گا کہ اس پر پابندی تھی اور اس دوران اس نے اگر ثلث سے زائد کوئی تصرف کیا وہ سب کیا ہو جائیں گے؟ وہ فاسد درست نہیں رہیں گے بھئی، ہاں وارث اجازت دے دیں تو پھر الگ بات ہے۔ تو یہ حكماً علت نہیں ہے ”لأن الحجر لا يثبت إلا إذا اتصل به الموت“ اس لیے کیونکہ پابندی ثابت نہیں ہوگی مگر یہ کہ جب اس کے ساتھ موت مل جائے ”مستنداً“ جس کی نسبت کی گئی ہو، جس کا استناد ہو یعنی جس نے اعتماد کیا ہو، استناد تکیہ لگانا نا، جس نے تکیہ لگایا ہو یعنی اعتماد کیا ہو کس پر؟ جس وقت مرض الموت طاری ہوا تھا، جس وقت مرض الموت طاری ہوا تھا، جب موت اس کے ساتھ مل جائے گی اس حال میں کہ مستنداً یہ کیا ہو؟ مستند ہو یعنی اس کی پھر نسبت کس وقت کی طرف کی جائے گی؟ جس وقت مرض اس کو لاحق ہوا تھا کہیں گے اس وقت سے یہ مرض الموت تھا بھئی، اور اس وقت سے یہ پابندی تھی بھئی، تو یہ پابندی کا پتا کب جا کر چلے گا؟ موت کے وقت جا کر چلے گا۔ ”والتزكية عند أبي حنيفة رحمه الله“ اور تزکیہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، بھئی دیکھیے، مثلاً ایک شادی شدہ شخص ہے اس کے بارے میں چار آدمیوں نے گواہی دی کہ اس نے زنا کیا ہے، اور آپ نے پڑھا کہ یہاں گواہوں کا تزکیہ ضروری ہے بھئی، گواہوں کا، قابل اعتماد گواہ ہونا چاہیے کہ ہر گواہ کی گواہی قبول کی جاتی ہے؟ قابل، اور قابل اعتماد ہونے کا پتا کس سے چلے گا؟ اس کا تزکیہ کروائے گا قاضی پوشیدہ طور پر یا علانیہ طور پر، اس کے جاننے والوں سے، اس کے ساتھیوں سے پوچھے گا کہ یہ قابل اعتماد ہیں یا قابل اعتماد نہیں، تو وہ، یہ جو اس کے جاننے والوں سے پوچھا جاتا ہے اس کو کہتے ہیں تزکیہ، اور وہ جو بتلانے والے ہیں اس کے جاننے والے ان کو کہیں گے مزکی، کیا کہیں گے؟ مزکی یعنی تزکیہ کرنے والے۔ ”والتزكية عند أبي حنيفة رحمه الله“ اور تزکیہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ”فإنه علة للشهادة“ پس یہ علت ہے شہادت کے لیے، تزکیہ کیا ہے؟ علت ہے شہادت کے لیے یعنی تزکیہ ہوگا تو شہادت قبول کی جائے گی بھئی ”وهي علة للرجم“ اور شہادت علت ہے رجم کے لیے، تو گویا تزکیہ کیا ہوا؟ علة العلة، ”فتكون علة العلة“ تو یہ علة العلة ہوا ”التزكية كشراء القريب“ تزکیہ جیسے کہ قریبی کی شراء تھی ”فلو رجع المزكون بعد الرجم“ پس اگر رجوع کیا تزکیہ کرنے والوں نے رجم کے بعد ”يضمنون الدية عنده“ تو وہ ضامن ہوں گے دیت کے امام صاحب کے نزدیک، بھئی اس کو رجم کر دیا گیا بعد میں تزکیہ کرنے والے کیا کر لیتے ہیں؟ رجوع کر لیتے ہیں کہ ہم سے غلطی ہوئی، ہم نے غلط بتلایا وہ قابل اعتماد یہ گواہ نہیں تھے۔ تو چونکہ وہ علت العلت ہیں اس لئے ان پر امام صاحب کے نزدیک زمان آئے گا بھئی کیونکہ وہ گویا اس کے رجم کا سبب وہ بنے علت وہ بنے بھئی۔ وعندھما لا یضمن اور صاحبیں کے نزدیک وہ مزکی جو ہیں وہ ضامن نہیں ہوں گے لانہما لانہم اس لیے کیونکہ وہ جو ہیں احسن نوع علی الشہود خیراً کیونکہ انہوں نے تعریف کی ہے گواہوں کی خیر کے ساتھ خیر کی بھئی۔ بھئی کے ساتھ کیا کی ہے ان کی انہوں نے تو تعریف خیر کی بات کی تھی ان کے بارے میں گواہوں کے بارے میں کہ اچھے لوگ ہیں قابل اعتماد ہیں۔ ولا تعلق لھم بئیجاب الحد اور ان مزکی جو ہیں ان کا کوئی تعلق نہیں ہے کس کے ساتھ حد کے واجب ہونے کے ساتھ انہوں نے تو صرف کیا کیا ہے گواہوں کے بارے میں اچھی بات کی ہے ان کی تعریف کی ہے۔ فصاروا کمالو أثنوا علی المشہود علیہ خیراً پس یہ اسی طرح ہو گئے جیسے کہ انہوں نے تعریف کی ہو مشہود علیہ پر خیر کے ساتھ بھئی۔ مشہود علیہ جس کے خلاف گواہی دے رہے ہوں، جس کے خلاف مشہود علیہ۔ بأن قالوا باءی تور قالوا انہوں نے کہا ہوا محسن کہ یہ کیا ہے؟ محسن ہے شادی شدہ ہے۔ شادی شدہ ہوگا تو رجم آئے گا نا، غیر شادی شدہ ہو تو سو کوڑے تو اسی طرح اگر انہوں نے کہا کہ یہ مشہود علیہ کے بارے میں کہا یہ محسن ہے۔ بعض لوگوں نے کیا کہا محسن ہے شادی شدہ ہونے کا بھی پتہ لگوائیں گے یا نہیں لگوائیں گے بھئی فرض کرو وہ انکار کر دیتا ہے تو پھر کیا لانا پڑیں گے؟ گواہ لانا پڑیں گے احسان پر بھئی تو وہ جو احسان والے گواہ ہیں اب بعد میں رجم کرنے کے بعد وہ کیا کر لیتے ہیں رجوع کر لیتے ہیں کہ نہیں یہ تو محسن تھا ہی نہیں۔ اور اگر محسن نہیں تھا تو پھر کیا سزا ہونی چاہیے تھی؟ کوڑے ہونے چاہیے تھے تو لیکن یہاں پر انہوں نے تو صرف ایک احسان کی گواہی دی ہے محسن ہونا تو لہذا اس کی وجہ سے ان پر کوئی زمان نہیں تو جیسے ان پر یہاں زمان نہیں اسی طرح تزکیہ کرنے والوں پر بھی زمان نہیں کیونکہ سبب اور علت دراصل کون ہے رجم کی؟ وہ جو چار گواہ ہیں جو زنا کی گواہی دے رہے ہیں رجم تو اس کا سبب اصل علت تو وہ بن رہے ہیں لہذا صاحبیں فرماتے ہیں اصل علت کیونکہ وہ ہے لہذا مزکی وغیرہ جو ہیں ان پر زمان نہیں آئے گا رجوع کرنے کی صورت میں۔ تو کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے تعریف کی انہوں نے مشہود علیہ پر مشہود علیہ جس کے خلاف گواہی دے رہے ہوں خیر خیر کے ساتھ بیان قالو بائی تور کہ انہوں نے کہا ہوا محسن کہ یہ محسن ہے ثم رجعو پھر رجوع کر لیا فکذا ھذا تو اسی طرح یہ بھی ہے جیسے ان پر محسن کہنے والوں پر زمان نہیں اس طرح یہ مزکی جو ہیں ان پر بھی زمان نہیں۔ وربما یقال اور بسا اوقات کہا جاتا ہے انہ علت معان کہ یہ کیا ہے؟ معان علت ہے، لا اسم ولا حکماً اسم بھی علت نہیں اور حکماً بھی علت نہیں لرجمی رجم کے لیے۔ تو کہتے ہیں فیکون مثالاً لقسم ترک المصنف رمله تو اس صورت میں یہ مثال بن جائے گی اس قسم کی جس کو مصنف نے چھوڑ دیا۔ فسا اوقات کہا جاتا ہے یہ معان علت ہے، اسم بھی علت نہیں اور حکماً بھی علت نہیں۔ معان کیوں علت ہے؟ یہ تزکیہ کیونکہ یہ مؤثر تو ہے، تزکیہ ہوگا تو پھر گواہی قابل قبول ہوگی اور گواہی قابل قبول ہوگی تو پھر کیا آئے گا؟ رجم آ جائے گا۔ تو یہ مؤثر تو ہے لیکن اسم علت نہیں کیوں؟ کیونکہ رجم کی نسبت ان مزکی کی طرف نہیں کی جاتی بلکہ ان چار گواہوں کی طرف کی جاتی ہے اور حکماً بھی نہیں ہے تزکیہ بھئی علت کیوں؟ کیونکہ تزکیہ کے فورا بعد رجم آ جاتا ہے یا تزکیہ کے بعد پھر ان کی گواہی ہوگی اور پھر رجم ثابت ہوگا؟ ان کی گواہی ہوگی اسے حکماً بھی نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں یہ مثال بن جائے گی اس قسم کو جس کو مصنف نے چھوڑ دیا ذکر نہیں کیا۔ ثم قال پھر فرماتے ہیں وکذا کل ما ہو علت العلت اور اسی طرح ہر وہ چیز جو علت العلت ہو۔ بھئی یہ چوتھی قسم ہم پڑھ رہے ہیں علت کی فی حیض الاسباب جو کس کے مرتبے میں ہو؟ اسباب کے مرتبے میں ہو اس کی تین مثالیں ذکر کر دیں شراء قریب، مرض الموت اور تزکیہ اور آگے کہا وکذا کل ما ہو علت العلت اور اسی طرح ہر وہ چیز جو علت العلت ہے تو وہ بھی اسی طرح ہے فی کونہا مشابہۃ للاسباب کہ اس کے اسباب کے ساتھ مشابہ ہونے کے اندر بھئی۔ فہی ذو جہتین تو پس یہ دو جہت والی ہوئی ہے علت العلت دو جہت والی ہوئی من وجہ دیکھیں تو یہ سبب اور من وجہ دیکھیں تو یہ علت ہے ولذا ذکرھا فی السبب والعلت جمیعا اور اسی طرح مصنف نے اس کو سبب اور علت دونوں میں ذکر کیا بھئی۔ والخامس اور پانچویں قسم علت کی وصف لہ وہ وصف ہے لہ شبہۃ العلل جس میں علتوں کا شبہ ہو کا احد وصفی العلت جیسے علت کے دو وصفوں میں سے کوئی ایک۔ جیسے علت کے دو وصفوں میں سے ایک بھئی دیکھیے ہم نے رباء کی علت کیا قرار دی؟ قدر اور جنس تو قدر اور جنس کا مجموعہ علت ہے رباء کی۔ ہاں ان میں سے صرف ایک صرف قدر یا صرف جنس یہ علت تو نہیں ہاں اس میں شبہ علت ہے کیونکہ یہ علت کا جز ہے یا نہیں بھئی؟ تو علت تو دونوں مل کر ہیں لیکن ان میں سے اکیلا ایک وہ کیا ہے؟ جز علت ہے یعنی وہ شبہ علت ہے اس میں کیا ہے؟ شبہ علت ہے۔ یہ معنی ہے وصف لہ شبہۃ العلل وہ وصف جس میں شبہ علتوں کا شبہ ہو کا احد وصفی العلت جیسے کہ علت کے دو وصفوں میں سے آحادی وصفین العلت نون اضافت کی وجہ سے گر گیا کا احد وصفی العلت جیسے علت کے دو وصفوں میں سے ایک۔ التی رکبت من وصفین جو وہ علت جو مرکب ہو دو وصفوں سے کلمہ قدر والجنس للرباء جیسے کہ قدر اور جنس ہیں رباء کے لیے فان المجموع منہما علت پس ان دونوں کا مجموعہ جو ہے وہ علت ہے اسماً ومعناً وحکماً اسماً بھی معناً بھی اور حکماً بھی۔ وكل واحد منهما وحده له شبہة العلل اور ان دونوں میں سے ہر ایک اکیلی جو ہے اس کے لیے شبہ علل ہے علتوں کا شبہ ہے اس میں ولیس بسحب محض غیر مؤثر فی المعلول اور وہ سبب محض نہیں ہے جو غیر مؤثر ہو معلول میں (یعنی حکم میں)۔ ان دو میں سے ایک جو ہے اس میں شبہ علل ہے وہ سبب محض نہیں۔ کیونکہ اگر سبب محض ہوا تو پھر تو وہ حکم میں یعنی معلول میں مؤثر نہیں۔ جب وہ ایک مؤثر نہیں تو معلوم ہے وہ جو دوسری ہے وہ مؤثر ہے اور وہ علت ہے حالانکہ ایسا تو نہیں۔ وہ دوسری تو نہیں علت بلکہ دونوں کا مجموعہ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ انہوں نے کیا کہا؟ دو وصف ہیں دونوں مل کر علت بن رہے ہیں تو دونوں میں سے ایک جو ہوگا اس میں کیا ہے؟ شبہ علت ہے۔ تو اس میں شبہ علت ہے اس کو صرف سبب نہیں کہہ سکتے کیونکہ اگر اس کو سبب کہیں گے کہ یہ صرف سبب ہے یہ مؤثر نہیں ہے جب مؤثر یہ نہیں ہے تو معلوم ہوا صرف دوسرا سبب مؤثر ہے تو معلوم ہے صرف دوسرا سبب تو علت تھا سبب تو علت تو دونوں تھے بھئی۔ کہتے ہیں وہ ان میں سے ہر ایک جو ہے اس میں شبہ علت ہے ولیس بسحب محض غیر مؤثر فی المعلول اور وہ صرف سبب محض نہیں ہے جو مؤثر نہ ہو معلول کے اندر واللہ اور اگر ایسا ہو وہ سبب محض ہو اور معلول میں مؤثر نہ ہو لکان الجزء الاخر ہو العلت تو پھر تو دوسرا جز جو ہے وہ علت ہوگا لا مجموعہما نہ کہ ان دونوں کا مجموعہ۔ وربما یقال اور بسا اوقات کہا جاتا ہے انہ علت معان لاسما ولا حکماً کہ یہ علت ہے معناً کے اعتبار سے نہ کہ اسم اور حکم کے فیكون مثالاً ثانیاً لقسم ترک المصنف تو یہ پھر دوسری مثال ہوئی اس قسم کی ترک المصنف جس کو مصنف نے چھوڑ دیا تھا۔ ولاکن بقی قسم آخر لیکن باقی رہی ایک اور قسم ترکہ المصنف رملا بلا ذکر فی البینی چھوڑ دیا اس کو مصنف نے بغیر ذکر کیے ہی بیچ میں وہو علت حکماً لاسماً ولا معناً اور وہ ہے جو علت ہو حکماً نہ کہ اسماً اور معناً اس کو چھوڑ دیا وربما یقال اور بسا اوقات کہا جاتا ہے انہ داخل فی قسم الشرط الذي في حکم العلل کہ یہ جو قسم ہے کونسی قسم؟ جو حکماً علت ہو اسماً اور معناً علت نہ ہو جس کو مصنف نے چھوڑ دیا اس کے بارے میں بسا اوقات کہا جاتا ہے یعنی بعض علماء یہ کہتے ہیں اس کے بارے میں کہ یہ داخل ہے فی قسم الشرط الذي في حکم العلل اس شرط کی قسم میں جس جو کس کے حکم میں ہے؟ علت وہ شرط جو علتوں کے حکم میں ہے اس قسم میں یہ داخل ہے کحفر البئر وشق الذق جیسے کنویں کا کھودنا وشق الذق اور مشکیزے کا پھاڑنا۔ حفر کا معنی کھودنا۔ بیر کنویں کو کہتے ہیں۔ شق کا معنی پھاڑنا۔ ذقن کہتے ہیں مشکیزہ بھئی۔ مشکیزہ۔ بھئی کسی نے راستے میں کنواں کھود دیا اور اس میں کوئی گر کر مر گیا۔ اب یاد رکھیے علت اصل میں ہے اس کا وزن اس شخص کا وزنی ہونا۔ وزنی تھا تو جبھی کیا ہوا کنویں کے اندر گر پڑا بھئی تو اس کا ثقل علت ہے اور یہ حفربیر یہاں پر اس پر دیت آئے گی لیکن یہ اس کے لیے شرط ہے کیا ہے؟ شرط ہے۔ بھئی دیکھیے یہ حفرالبیر پر حاشیہ دیا ہوا ہے یہ دیکھ لیجیے۔ کحفر البیر وشق الذق جیسے کنویں کا کھودنا اور مشکیزے کا پھاڑنا فان حفر البیر في غیر ملکہ شرط اس لیے کیونکہ کنویں کا کھودنا اپنی ملکیت کے علاوہ میں یعنی راستے وغیرہ میں شرط یہ شرط ہے لتلف انسان انسان کے تلف ہونے کے لیے یتلف بالسقوط وہ انسان جو تلف ہو گیا کس کی وجہ سے؟ ہلاک ہو گیا گرنے کی وجہ سے فی البیر کنویں میں فان العلت في الحقیقت ہو ثقلہ اس لیے کیونکہ علت جو ہے حقیقت میں وہ اس شخص کا ثقل ہے اس کا وزن ہے۔ تو وکذا شق الذق اور اسی طرح مشکیزے کا پھاڑنا سبب یہ سبب ہے لسیلان ما فی الذق اس چیز کے بہنے کے لیے جو مشکیزے میں تھی والعلت في الحقیقت اور علت جو ہے حقیقت میں وہو کونہ مائلاً سائلاً وہ اس چیز کا مایا مایہ اور بہنے والی چیز ہونا ہے اگر وہ بہنے والی چیز نہ ہوتی تو وہ نہ بہتی بھئی صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔ تو اس کی تفصیل آگے آ جائے گی بھئی شرائط کا بیان جب آئے گا وہاں ان اس کی تفصیل پوری آ جائے گی بھئی۔ بھئی انہوں نے آپ کو بتلایا حاشیے کے اندر کہ کنویں کا کھودنا اور مشکیزے کا پھاڑنا یہ شرط ہے کس چیز کے لیے؟ انسان کے اس کنویں میں گر کر ہلاک ہونے کے لیے اور مشکیزے سے اس چیز کے بہ جانے کے لیے یہ کیا ہے؟ شرط۔ بھئی یہ شرط کیسے ہے؟ کویں کا کھو توجہ ہے سبق کی طرف۔ کنویں کا کھودنا شرط ہے انسان کے اس میں گر کر ہلاک ہونے کے لیے۔ آپ کہیں گے یہ شرط کیا معنی؟ بھئی دیکھیے پیچھے بات بیان ہو چکی علت وہ ہوتی ہے جس کی طرف وجوب حکم کی نسبت کی جاتی ہے اور شرط ہوتی ہے جس کی طرف وجود حکم کی نسبت کی جاتی ہے۔ حکم پایا گیا کیوں پایا گیا؟ کیونکہ شرط پائی گئی۔ یہاں پر بھی اس کنویں کے اندر اس آدمی کا گرنا پایا گیا یہ وجود ہے نا پایا گیا تو تو کنویں کے کھودنے کی طرف اس کی نسبت کی جائے گی بھئی کہ اس نے کنواں کھودا اس لیے یہ آدمی اس میں گر کر ہلاک ہوا بھئی۔ تو اس آدمی کا اس میں گر کر ہلاک ہونا یہ ہے وجود اور وجود کی نسبت جس کی کس کی طرف کی جاتی ہے؟ اس کو کیا کہتے ہیں شرط۔ اس لیے حفر بیر کیا ہے؟ شرط۔ اسی طرح مشکیزہ پھاڑا اس میں جو چیز تھی وہ بہ گئی بھئی۔ اب دیکھیے یہ چیز کا بہنا اس کا وجود آیا وجود پایا گیا اور وجود کی نسبت جس چیز کی طرف کی جائے اس کو کیا کہتے ہیں شرط تو لہذا مشکی اس کی نسبت کس کی طرف ہے؟ مشکیزے کے پھاڑنے کی طرف تو مشکیزے کا پھاڑنا کیا ہوا؟ شرط۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ آگے آگے شرط کا بیان ایک آدھ سبق کے بعد آ رہا ہے اس میں تفصیل بھی آ جائے گی لیکن اتنا یہاں یاد رکھیں بھئی صورت سمجھ میں آ گئی کہ یہ جو یہاں نسبت کی گئی کیونکہ یہ ان کو شرط کیوں کہا گیا؟ کیونکہ شرط وہ ہے جس کی طرف وجود شئے کی نسبت کی جاتی ہے تو یہاں بھی وجود تلف اور وجود سیلان کی نسبت جن کی طرف کی گئی وہ کیا ہیں؟ شرط ہیں بھئی۔ اسی لیے مصنف نے کہا وربما یقال کہ بسا اوقات کہا جاتا ہے انہ داخل في قسم الشرط الذي في حکم العلل کہ یہ داخل ہے اس شرط کی قسم میں جو کس کے حکم میں ہے؟ علتوں کے حکم میں ہے وہ شرط جو کس کے حکم میں ہے؟ علتوں کے حکم میں ہے بھئی۔ بھئی دیکھیے انہوں نے کہا نا کہ ایک قسم کو مصنف نے بغیر ذکر کے چھوڑ دیا اور وہ کون سی علت جو حکماً علت ہو اسماً اور معناً علت نہ ہو۔ جو کیا ہو؟ توجہ ہے۔ حکماً علت ہو اسماً اور معناً علت نہ ہو۔ حکماً اور اس کو مصنف نے ذکر نہیں کیا۔ بسا اوقات یہ کہا جاتا ہے یعنی بعض یہ کہتے ہیں اس کے بارے میں اس لیے مصنف نے اس کو ذکر نہیں کیا کیونکہ یہ شرط کے اندر داخل ہے اور شرط کے اندر اس کا ذکر آ جائے گا اور کس شرط میں آئے گا؟ وہ شرط جو کس کے معنی میں ہو؟ علتوں کے معنی میں ہو اس شرط کے اندر یہ داخل ہے اور اس کا بیان وہاں پر آ جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہی بات انہوں نے کی دیکھیے دوبارہ دیکھ لیں وربما یقال اور بسا اوقات کہا جاتا ہے انہ داخل في قسم الشرط الذي في حکم العلل که یہ داخل ہے اس شرط کی قسم میں الذي في حکم العلل جو کس کے حکم میں ہے؟ علتوں کے حکم میں ہے کحفر البیر وشق الذق جیسے کہ کنویں کا کھودنا اور مشکیزے کا پھاڑنا بھئی۔ اچھا بھئی! یہاں ذِق کا لفظ آیا ہے۔ آپ کو ایک ادبی فائدہ بتلائیں، بھئی! ادبی فائدہ۔ یاد رکھیے کہ عربی میں مختلف قسم کے مَشکِیزے ہوتے ہیں اور ان سب کے نام الگ الگ ہیں، بھئی۔ مثلاً پانی کے مشکیزے کو عربی میں قِرْبَةٌ کہتے ہیں۔ پانی کے مشکیزے کو کیا کہتے ہیں؟ قِرْبَةٌ کہتے ہیں۔ اسی طرح پانی کے مشکیزے کو سِقَاءٌ بھی کہتے ہیں، سین کے ساتھ۔ اور زِقٌّ شراب یا سرکے کے مشکیزے کو کہتے ہیں۔ شراب یا سرکے کے مشکیزے کو زِقٌّ کہتے ہیں۔ اور کبھی زِقّ کا لفظ عام طور پر بھی استعمال کر لیا جاتا ہے، جیسے یہاں پر ہے۔ یعنی پانی کے مشکیزے کو بھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ زِقٌّ۔ لیکن اصل میں یہ لفظ شراب یا سرکے کے مشکیزے کے لیے استعمال ہوتا ہے، بھئی۔ اور رَقْوَةٌ، چھوٹے قاف کے ساتھ، شہد کے مشکیزے کو کہتے ہیں، بھئی۔ رَقْوَةٌ اور عُكَّةٌ — عین، چھوٹے کاف اور گول تاء کے ساتھ — یہ گھی کے مشکیزے کو کہتے ہیں، بھئی۔ گھی کے مشکیزے کو اسی طرح نَحْيٌ بھی کہتے ہیں۔ اسے دونوں طرح پڑھنا درست ہے، بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو پانی کے مشکیزے کو قِرْبَةٌ بھی کہتے ہیں اور سِقَاءٌ بھی، اور سرکے اور شراب کے مشکیزے کو زِقٌّ کہتے ہیں، اور شہد کے مشکیزے کو رَقْوَةٌ کہتے ہیں، جبکہ گھی کے مشکیزے کو عُكَّةٌ اور نَحْيٌ کہتے ہیں، بھئی۔ و سادس علت معان و حکماً لسمسا اور چھٹی جو ہے وہ علت جو معنوی اور معنی کے اعتبار سے اور حکم کے اعتبار سے ہو لا لسمسا اسم کے اعتبار سے نہ ہو کا آخری وصف العلت جیسے کہ علت کے دو وصفوں میں سے آخر والا وصف ہو۔ کا آخری وصف العلت جیسے علت کے دو وصفوں میں سے آخر والا وصف ہو۔ یہ علت ہے معنوی بھی اور حکماً بھی لیکن اسماً نہیں۔ جیسے دیکھیے بھئی کسی شخص نے اپنی بیوی سے مثلا کہا کہ اگر تو ان دو گھروں میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ اگر تو ان دو گھروں میں گئی، دو گھروں کی طرف اشارہ کر کے کہا، ان دونوں گھروں میں اگر تو گئی تو تجھے طلاق ہے۔ اب بیوی ایک گھر میں گئی، طلاق ہو گی؟ نہیں ہو گی۔ دوسرے میں جائے گی تو کیا ہو جائے گی؟ طلاق۔ تو بتائیے طلاق جو ہے، وہ ایک گھر میں جانے سے ہو رہی ہے یا دونوں میں جانے کے بعد ہو گی؟ دونوں میں جانے کے بعد ہو گی، تو گویا ان دو وصفوں میں سے جو آخر والا ہے، وہ علت ہے طلاق کی۔ پہلے ایک گھر میں گئی، دوسرے میں ہفتے بعد جائے، چاہے تھوڑی دیر بعد جائے، دوسرے میں جائے گی تو فوراً کیا ہو جائے گی؟ طلاق۔ تو یہ آخری وصف جو ہے، یعنی آخری دخولِ دار، اس سے کیا ہو گی؟ طلاق، یہ ہے علت۔ اور یہ حکماً بھی علت ہے، کیونکہ اس میں داخل ہوتے ہی فوراً کیا آ رہا ہے؟ طلاق آ رہی ہے۔ معناً بھی یہ علت ہے، کیونکہ یہ اس کے اندر موثر بھی ہے بھئی۔ جاتے ہی طلاق آ رہی ہے یا نہیں بھئی؟ موثر بھی ہے۔ لیکن اسماً یہ علت نہیں ہے۔ طلاق کی نسبت صرف اس آخری گھر میں داخل ہونے کی طرف کی جائے گی یا دونوں گھروں کی طرف کی جائے گی؟ نسبت تو دونوں کی طرف کی جائے گی، تو لہذا یہ حکماً بھی علت، معناً بھی علت، لیکن اسماً علت نہیں سورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دو وصفوں میں سے جو آخر والا ہوتا ہے تو وہ معناً بھی علت، حکماً بھی علت، لیکن اسماً علت نہیں ہوتا، یہی بات بیان کر رہے ہیں۔ کاٰ خِرِ وَصۡفَيِ العِلَّۃِ جیسے علت کے دو وصفوں میں سے جو آخر والا ہو۔ فَاِنَّہٗ ھُوَ الموَثِّرُ فِي الحُکۡمِ اس لیے کیونکہ وہی موثر ہوتا ہے حکم میں۔ وَ عِنۡدَہٗ يُوجَدُ الحُکۡمُ اور اسی آخری وصف کے وقت ہی پھر حکم پایا جاتا ہے۔ وَ لٰکِنَّہٗ لَيۡسَ بِمَوۡضُوعٍ لِّلۡحُکۡمِ لیکن وہ حکم کے لیے وضع نہیں کیا گیا۔ بَلِ المَوۡضُوعُ لَہٗ ھُوَ المَجۡمُوعُ بلکہ وضع کس کے، حکم کے لیے، وضع کس کو کیا گیا تھا؟ مجموعے کو، دونوں گھروں میں داخل ہونے کو وضع کیا گیا تھا۔ وَذٰلِکَ کَالقَرَابَۃِ وَالملۡکِ جیسے قرابت اور ملکیت۔ من ملک ذا رحم، حدیث میں نے بیان کی کہ جو اپنے قریبی رشتہ دار کا مالک بنا، محرم کا، تو اس پر وہ قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنا تو اس پر آزاد ہو جائے گا۔ اب یہ قرابتِ محرمیہ اور ملکیت یہ دونوں جمع ہوں گے تو وہ آزاد ہو جائے گا وہ شخص بھئی۔ وہ غلام کیا ہو جائے گا؟ آزاد۔ کون کون سے دو وصف جمع ہوں گے؟ قرابت اور ملکیت۔ تو چاہے قرابت پہلے آئے، قرابت پہلے سے ہے، ملکیت بعد میں آئی۔ قرابت پہلے سے ہے، معلوم ہے اور پھر کیا آ گئی اس پر؟ کسی نے اپنے بیٹے کو خرید لیا یا اپنے بھئی کو، جو غلام تھا۔ تو قرابت تھی پہلے سے ہے اور ملکیت بعد میں آئی، تو یہ آخرِ وصف ہوا اور ملکیت کے آتے ہی وہ کیا ہو جائے گا؟ آزاد۔ تو آزادی صرف قرابت کی وجہ سے آئی، صرف ملکیت کی وجہ سے آئی یا دونوں کی وجہ سے آئی؟ اور موخر کون ان دونوں میں سے؟ ملکیت موخر ہے، تو یہ حکماً بھی علت، معناً بھی علت، لیکن اسماً علت نہیں۔ یہ معنی ہیں فَاِنَّ المَجۡمُوعَ عِلَّۃٌ مَّوۡضُوعَۃٌ لِّلۡعِتۡقِ یہ مجموعہ علت جو ہے، یہ مجموعہ علت ہے جس کو وضع کیا گیا ہے آزادی کے لیے۔ وَ لٰکِنَّ المُوَثِّرَ ھُوَ الجُزۡءُ الاٰخِرُ لیکن موثر کون سا ہے؟ جزِ اخیر ہے، آخر والا ہے۔ فَاِن کَانَ المِلۡکُ جُزۡءً اٰخِرً پس اگر ملکیت جزِ اخیر ہوئی بِاَنِ اشۡتَرٰی قَرِیبَہُ المحۡرَمَ بایں صورت کے اس نے خرید لیا اپنے قریبی محرم کو۔ يَّکُونُ ھُوَ المُوَثِّرُ تو ملکیت ہی موثر ہو گی کیونکہ وہ آخر میں آئی۔ وَ اِن کَانَتِ القَرَابَۃُ جُزۡءً اٰخِرً اور اگر قرابت ہوئی جزِ اخیر بِاَنِ اشۡتَرٰی عَبۡدًا مَّجۡھُولَ النَّسَبِ بایں صورت کے اس نے ایسا غلام خرید لیا جو مجہول النسب تھا۔ ثُمَّ ادَّعٰی اَنَّہُ ابۡنُہٗ پھر اس نے دعویٰ کر دیا کہ یہ اس کا بیٹا ہے۔ اَوۡ اَخُوھُ یا اس کا بھئی ہے۔ يَّکُونُ ھُوَ المُوَثِّرُ تو یہی آخر والا وصف موثر ہو گا، یعنی کہ قرابت۔ وَالمُقَابِلُ لَہٗ اور اس کے مقابل جو ہے، کون سا؟ وَھُوَ الوَصۡفُ الاَوَّلُ وہ جو وصفِ اول ہے۔ يَّکُونُ عِلَّۃً مَّعۡنًی لَّا اسۡمًا وَّ لَا حُکۡمًا وہ علت ہے معنی کے اعتبار سے نہ کہ اسم اور آخر والا جو ہے وصف، وہ تو علت ہے حکماً بھی اور معناً بھی۔ اور جو پہلے والا وصف ہے وہ صرف معناً ہے، موثر تو ہے لیکن حکماً بھی نہیں کیونکہ اس کے بعد حکم نہیں آیا تھا اور اسماً بھی نہیں کیونکہ اس اکیلے کی طرف حکم کی نسبت نہیں کی جاتی، کَمَا نَقَلۡنَا جیسے کہ ہم نے نقل کیا۔ وَالسَّابِعُ عِلَّۃٌ اسۡمًا وَّ حُکۡمًا اور ساتویں قسم علت کی وہ ہے جو اسماً بھی علت ہو اور حکماً بھی ہو لَا مَعۡنًی معناً نہ ہو، کَالَسَّفَرِ وَالنَّوۡمِ لِلرُّخۡصَۃِ وَالحَدَثِ جیسے کہ سفر اور نیند، رخصت اور حدث کے لیے۔ سفر میں شریعت نے کیا دی ہے؟ رخصت دی ہے، کس کے اندر؟ نماز میں بھی اور روزے میں بھی۔ اور اسی طرح کوئی شخص اگر سو جائے تو کیا حکم لگایا جاتا ہے وضو کے ٹوٹنے کا؟ تو نوم علت ہے کس چیز کی؟ حدث کی۔ حدث کس کو کہتے ہیں؟ بے وضو، یعنی نجاستِ حکمیہ، نجاستِ حکمیہ۔ اب دیکھیے! یہ علت ہے اسماً بھی، حکماً بھی، لیکن معناً نہیں۔ سفر، پہلے صرف سفر کو دیکھو، سفر ہے علت اور کس کے لیے علت ہے؟ رخصت کے لیے۔ تو یہ اسماً بھی علت، رخصت کیوں ہے؟ نسبت کس کی طرف کی جاتی ہے؟ سفر کی طرف، تو یہ اسماً بھی علت۔ حکماً بھی علت، سفر کے ہوتے ہی، آتے ہی کیا آ جاتی ہے؟ رخصت۔ سفر شروع ہوتے ہی رخصت آ جاتی ہے۔ تو یہ حکماً بھی ہے۔ معناً نہیں ہے علت کیونکہ اس رخصت کے اندر سفر نہیں موثر بلکہ کیا چیز موثر ہے؟ مشقت۔ سفر کی وجہ سے کیا آئے گی؟ مشقت اور اس مشقت کی وجہ سے، اس کی وجہ سے شریعت نے رخصت دی، لیکن چونکہ اس مشقت کا پتہ نہیں چل سکتا نیز انسانوں کی طبیعتیں بھی الگ الگ ہوتی ہیں، کسی کو تھوڑی سی چیز سے مشقت ہو جاتی ہے، کسی کو زیادہ چیز سے بھی مشقت، اس لیے دارومدار کس پر کر دیا گیا؟ سفر ہی پر اور سفر ہی پر حکم لگا دیا گیا کہ سفر شروع ہوتے ہی رخصت آ جائے گی۔ اسی طرح نیند بھئی، نیند کو علت قرار دیا گیا کس چیز کی؟ حدث یعنی بے وضو ہونے کی۔ نیند کے آتے ہی بے وضو ہونے کا حکم آ جائے گا۔ تو حکماً بھی علت اور اسماً بھی علت، وضو ٹوٹ گیا نسبت کس کی طرف کرتے ہیں؟ نیند کی طرف، اسماً بھی علت، لیکن معناً نہیں۔ نیند موثر نہیں ہے اس کی وجہ سے حدث نہیں آیا بلکہ حدث کس وجہ سے آیا؟ خروجِ نجاست کی وجہ سے، لیکن خروجِ نجاست کا پتہ نہیں ہے، نیند کی حالت میں خروجِ نجاست ہوا ہو ہمیں علم نہیں، لہذا جب علم ایک چیز کا نہیں ہو سکتا تو دارومدار کس پر کر دیا گیا؟ نیند پر ہی کر دیا گیا بھئی۔ تو کہتے ہیں فَاِنَّ السَّفَرَ عِلَّۃٌ لِّلرُّخۡصَۃِ اسۡمًا یہ سفر جو ہے علت ہے رخصت کے لیے اسماً، بااعتبار اسم کے لیے۔ لِاَنَّھَا تُضَافُ اِلَيۡہِ فِي الشَّرۡعِ اس لیے کیونکہ یہ جو رخصت ہے، اس کی نسبت سفر ہی کی طرف کی جاتی ہے شریعت کے اندر۔ يُقَالُ وَالقَصۡرُ رُخۡصَۃٌ لِّلسَّفَرِ کہا جاتا ہے قصر جو ہے سفر کی رخصت ہے۔ وَ حُکۡمًا اور یہ حکماً بھی علت ہے، لِاَنَّھَا تَثۡبُتُ بِنَفۡسِ السَّفَرِ اس لیے کیونکہ یہ یہ جو رخصت ہے یہ ثابت ہو جاتی ہے نفسِ سفر سے ہی۔ مُتَّصِلَۃً بِّہٖ اور اس کے ساتھ ملی ہوئی، متصل ہوتی ہے۔ لَا مَعۡنًی لیکن معناً یہ رخصت کے لیے علت نہیں سفر، لِاَنَّ المُوَثِّرَ فِي ثُبُوتِھَا لَيۡسَ نَفۡسَ السَّفَرِ اس لیے کیونکہ موثر جو ہے اس رخصت کے ثبوت میں وہ نفسِ سفر نہیں ہے، بَلِ المَشَقَّۃُ بلکہ مشقت ہے، وَ ھِيَ تَقۡدِيرِيَّۃٌ اور مشقت کیا ہے؟ تقدیریہ ہے، تقدیر کا کیا معنی ہوتا ہے؟ فرض کرنا۔ سفر کے آتے ہی مشقت کو فرض کر لیا جاتا ہے کہ کیا آ چکی؟ مشقت آ چکی بھئی۔ وَکَذَا النَّوۡمُ النَّاقِضُ لِلۡوُضُوءِ اور اسی طرح وہ نوم جو ناقض للوضوء ہو، وضو کو توڑنے والی ہے۔ بھئی آپ نے پڑھا ہے ہر نوم ناقض للوضوء نہیں، بلکہ وہ نوم جس میں استرخائے مفاصل ہو، اعضا ڈھیلے پڑ جائیں، سمجھ میں آیا؟ لہذا اگر کوئی کھڑے کھڑے سو جائے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اسی طرح نماز کی کسی حالت میں سو جائے تو اس سے بھی وضو نہیں ٹوٹے گا۔ تو کہتے ہیں وَکَذَا النَّوۡمُ النَّاقِضُ لِلۡوُضُوءِ عِلَّۃٌ لِّلۡحَدَثِ اسۡمًا اسی طرح وہ نوم جو وضو کو توڑنے والی ہے، وہ علت ہے للحدث، حدث کے لیے اسماً بااعتبار اسم کے، لِاَنَّ الحَدَثَ يُضَافُ اِلَيۡہِ اس لیے کیونکہ حدث کی اس کی طرف نسبت کی جاتی ہے، کس کی طرف؟ نوم کی طرف۔ وَ حُکۡمًا اور یہ حکماً بھی علت ہے نوم، لِاَنَّ الحَدَثَ يَثۡبُتُ عِنۡدَہٗ اس لیے کیونکہ حدث ثابت ہو جاتا ہے نوم کے وقت۔ لَا مَعۡنًی لیکن یہ نوم معناً علت نہیں ہے، لِاَنَّہٗ لَيۡسَ بِمُوَثِّرٍ فِیہِ اس لیے کیونکہ یہ اس میں موثر نہیں۔ وَ اِنَّمَا المُوَثِّرُ خُرُوجُ النَّجَاسَۃِ اور موثر کیا چیز ہے؟ وہ خروجِ نجاست۔ وَ لٰکِن لَّمَّا کَانَ الِاطِّلَاعُ عَلٰی حَقِیقَتِہٖ مُتَعَذِّرًا لیکن چونکہ اس خروجِ نجاست کی حقیقت پر مطلع ہونا متعذر، ممکن نہیں ہے۔ وَکَانَ النَّوۡمُ المَخۡصُوصُ سَبَبًا لِّخُرُوجِہٖ غَالِبًا اُقِيمَ مَقَامَہٗ اور ایک وہ وہ جو نومِ مخصوص ہے، یعنی وہ آپ تعریف پڑھ چکے فقہ میں مُسۡتَنِدًا مَّتَّکِئًا، جی وہ نومِ مخصوص جو ہے وہ سبب ہے لِخُرُوجِہٖ غَالِبًا اس خروجِ نجاست کے لیے غالباً سبب ہے، اُقِيمَ مَقَامَہٗ تو اس کو خروجِ نجاست کے قائم مقام کر دیا گیا، وَ دَارَ الحُکۡمُ عَلَيۡہِ اور حکم اسی پر دائر ہوا بھئی، اسی پر حکم کا دارومدار ہوا۔ وَالاٰنَ تَمَّتۡ اَقۡسَامُ العِلَّۃِ اور اب پوری ہو گئیں علت کی اقسام۔ وَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا فِي بَيَانِھَا مِنَ المُسَامَحَاتِ النَّاشِئَۃِ مِنۡ فَخۡرِ الاِسۡلَامِ اور تحقیق آپ جان چکے ہیں اس کے بیان کے اندر وہ مسامحات، وہ کوتاہیاں، وہ سستیاں جو پیدا ہوئیں کس سے؟ علامہ فخر الاسلام سے۔ وَالخَلَفُ تَوَابِعُ لَّہٗ اور بعد والے جو ہیں وہ ان کے تابع ہیں، تو ان سے سستیاں ہوئیں اور وہ سستیاں کیا تھیں؟ مثلاً بعض کو سرے سے ذکر ہی نہیں کیا اور بعض کی جگہ دوسرے نام ذکر کیے، دوسری چیزیں ذکر کیں انہوں نے بھئی۔ چلیے بس بھئی، ھٰذَا ھُوَ المَرَامُ وَاللہُ اَعۡلَمُ بِحَقِیقَۃِ الکَلَامِ۔
84 approved lectures · 84 of 84