درس نمبر۔131
ثم يقول المصنف رحمه الله تعالى: وليس من صفة العلة الحقيقية تقدمها على الحكم، بل الواجب اقترانهما معًا كالأستطاعة مع الفعل. وهذا هو حكم القسم الأول الذي كان علة اسمًا ومعنى وحكما، فإنها العلة الحقيقية الشرعية التي تقارن الفعل ولا تتقدمه.
ثم يقول المصنف رحمه الله، پھر مصنف رحمه الله فرماتے ہیں: وليس من صفة العلة الحقيقية تقدمها على الحكم، کہ نہیں ہے علتِ حقيقية کی صفت کے لیے تقدمها على الحكم، حکم پر مقدم ہونا۔ حکم پر اس علت کا مقدم ہونا۔
یعنی علتِ حقيقية کی یہ صفت نہیں ہے کہ وہ حکم پر مقدم ہوتی ہے۔ بل الواجب اقترانهما، بلکہ واجب کیا ہے؟ ان دونوں کا اقتران واجب ہے۔ اقتران کا معنى ہے اتحادِ زمانی بھئی۔ ایک ہی زمانے میں دونوں کا پایا جانا ضروری ہے بھئی۔ كالأستطاعة مع الفعل، جیسے کہ استطاعت یعنی قدرت ہے مع الفعل، فعل کے ساتھ۔
بھئی یاد رکھیے۔ ایک ہے علت اور ایک ہے معلول۔ یاد رکھیے علت کے پائے جاتے ہی معلول کا پایا جانا ضروری ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا علت تو پائی جائے اور معلول نہ پایا جائے۔ اور نیز علت اور معلول کا زمانہ ہمیشہ ایک ہوا کرتا ہے بھئی۔ جیسے ہی علت آتی ہے، اسی زمانے میں ساتھ ہی معلول بھی آ جاتا ہے۔ دونوں کا زمانہ ایک ہوتا ہے، دونوں میں اقتران ہوتا ہے، یعنی اتحادِ زمانی ہوتا ہے۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ ایسا نہیں ہو سکتا علت چند لمحے پہلے آئے اور معلول چند لمحے بعد آئے، اس لیے کیونکہ جیسے ہی علت آئے معلول کا پایا جانا ضروری۔ اگر علت پہلے آ گئی تو علت تو ہے ابھی، اور ابھی معلول نہیں آیا بھئی، معلول پیچھے رہ گیا، حالانکہ معلول علت کے ساتھ ہی آتا ہے۔
مثال سے اس کی یہ بات سمجھ میں آئے گی۔ بھئی جیسے دیکھیے، سورج کا نکلنا علت ہے دن کے ہونے کے لیے۔ تو کیا ایسا ہوتا ہے، پہلے سورج نکلتا ہے اس کے بعد دن ہوتا ہے، یا سورج کے نکلتے نکلتے ساتھ ہی دن بھی ہوتا چلا جاتا ہے؟ ساتھ ساتھ ہی دن ہوتا چلا جاتا ہے، دونوں کا زمانہ ایک ہے بھئی۔
یا جیسے دیکھیے بھئی، چابی کا گھمانا علت ہے تالے کے کھلنے کا، اور دونوں کا زمانہ ایک ہے۔ جوں جوں چابی اپ گھماتے جا رہے ہیں، تالا کھلتا جا رہا ہے، اور چابی پوری گھومے گی تو تالا بھی پورا کھل جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو علت اور معلول کا زمانہ ایک ہوتا ہے۔ ہاں، علت ذات کے اعتبار سے مقدم ہوتی ہے۔ تو علت کو تقدمِ ذاتی حاصل ہے، کیونکہ علت کی وجہ سے معلول آتا ہے۔ چابی گھمائیں گے تو تالا کھلے گا، سورج نکلے گا تو دن ہو گا۔ تو علت کو تقدمِ ذاتی حاصل ہوتا ہے، یعنی ذات کے اعتبار سے علت مقدم ہوتی ہے، زمانے کے اعتبار سے مقدم نہیں ہوتی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ تو تھی عللِ عقلیہ کے اندر۔ کس کے اندر بات چل رہی ہے؟ عللِ عقلیہ کے اندر بھئی، کہ جن میں عقل بتلاتی ہے کہ یہ چیز علت ہے، دوسری چیز معلول ہے بھئی۔ تو عللِ عقلیہ کے اندر علت صرف ذات کے اعتبار سے مقدم ہوتی ہے، اس کو تقدمِ ذاتی حاصل ہوتا ہے، تقدمِ زمانی حاصل نہیں ہوتا بھئی۔
دوسری طرف اب عللِ شرعیہ ہیں بھئی، جن کی بحث ہم پڑھ رہے ہیں بھئی۔ اب یہ عللِ شرعیہ کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ ان کا اور ان کے معلول، یعنی ان کا حکم جو ہے۔ یہاں پر معلول کیا ہو گا؟ عللِ شرعیہ کا معلول حکم ہوا کرتا ہے۔ تو عللِ شرعیہ کے اندر ان کا معلول، یعنی ان کا حکم، وہ ان کے ساتھ ہی آتا ہے یا ان کے بعد آتا ہے؟
تو یاد رکھیے، جمہور کا مذہب یہ ہے کہ جیسے عللِ عقلیہ کے اندر علت اور معلول میں اتحادِ زمانی ہوتا ہے، عللِ شرعیہ کے اندر بھی علت اور حکم کے درمیان اقتران ہوتا ہے، یعنی اتحادِ زمانی ہوتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔
تو معلوم ہوا، عللِ شرعیہ بھی معلول پر مقدم نہیں ہو سکتی، یعنی حکم پر مقدم نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ علت جو ہے، اس کے ذریعے حکم آیا کرتا ہے۔ تو اگر علت مقدم ہو گئی تو کہنا پڑے گا علت تو پائی جا رہی ہے اور ابھی تک حکم نہیں آیا، حالانکہ حکم علت کے ساتھ ہی آتا ہے، حکم سے مؤخر نہیں ہوتا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی:
وليس من صفة العلة الحقيقية تقدمها على الحكم بل الواجب اقترانهما معًا، اور نہیں ہے علتِ حقيقية کی صفت میں سے اس کا مقدم ہونا حکم پر، بل الواجب اقترانهما معًا، بلکہ واجب ہے ان دونوں کا اکٹھے ملے ہونا، یعنی کس اعتبار سے ملے ہونا؟ زمانے کے اعتبار سے۔ كالأستطاعة مع الفعل، جیسے کہ قدرت ہے فعل کے ساتھ۔
بھئی دیکھیے، قدرت ایک بمعنی توفیق کے ہے، ایک ویسے قدرت جو اپ استعمال کرتے ہیں۔ حج کس شخص پر واجب ہے؟ جس کے پاس اسباب ہوں، سواری ہو، سفر کا خرچ ہو، اس پر حج فرض ہے، فارغ پر حج فرض نہیں۔ یہ بھی ایک قدرت ہے، لیکن یہ قدرت ہے بمعنی سلامتیِ اسباب اور سلامتیِ آلات وغیرہ کے۔ اسباب کی سلامتی، اسباب سارے سلامت ہوں، یعنی سارے اسباب پائے جا رہے ہیں، اور سارے آلات، جن جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ بھی سلامت ہیں، وہ بھی موجود ہیں اس کے پاس بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟
یہ ایک قدرت ہے۔ لیکن یہاں جو انہوں نے استطاعت ذکر کی، اس سے مراد توفیق ہے بھئی، توفیق۔ یہ بحث پہلے بھی گزر چکی ہے کتاب کی ابتداء میں بھئی۔ دیکھیے، ایک شخص ہے، نیکی کا کام نہیں کرتا، اپ کیا کہتے ہیں؟ اس کو اللہ نے نیکی کی توفیق نہیں دی۔ نیکی کی یا دوسری مثال سے سمجھیں۔ ایک آدمی ہے مثلاً، وہ اس کے پاس اسباب بھی سارے موجود، مال وغیرہ بھی موجود، لیکن وہ غرباء پر خرچ نہیں کرتا۔ اب دیکھیے، وہ سلامتیِ اسباب والے اور اسباب و آلات وغیرہ کے اعتبار سے دیکھا جائے اس کے پاس مال وغیرہ موجود ہے، یہ غرباء کی مدد کر سکتا ہے فقراء کی، لیکن تو وہ والی قدرت ہے اس کے پاس، لیکن اپ کیا کہتے ہیں؟ اس کو اللہ نے توفیق نہیں دی۔ اور توفیق کب کہیں گے؟ کب آئی؟ جب وہ خرچ کرنا شروع کرے گا۔ جب تک وہ خرچ نہیں کر رہا، کہیں گے توفیق نہیں۔ اور جیسے ہی وہ خرچ کرنا شروع کرتا ہے، اپ کہتے ہیں اللہ نے اس کو توفیق دے دی۔
تو دیکھو یہ توفیق، یہ جو قدرت ہے، یہ بھی قدرت ہے بھئی، لیکن یہ قدرت جو ہے ملی ہوئی ہے کس کے ساتھ؟ فعل کے ساتھ۔ جب تک فعل شروع نہیں کرے گا، یہ والی قدرت نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ بھی، یہ جو توفیق ہے، یہ علت ہوئی کس کے لیے؟ اس فعل کے لیے، اور یہ اس کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ جب تک وہ خرچ نہیں کر رہا، اس سے ایک لمحہ پہلے تک بھی کہیں گے توفیق نہیں ہے۔ جیسے ہی شروع کرے گا، کہے گا اللہ نے مجھے توفیق دے دی۔ تو یہ والی توفیق، یہ جو قدرت ہے، یہ اس فعل کے ساتھ ہوتی ہے۔ یعنی جیسے ہی یہ پائی جاتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ کیا پایا جاتا ہے؟ فعل بھی پایا جاتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ كالأستطاعة مع الفعل، جیسے کہ قدرت ہے فعل کے ساتھ۔
کہتے ہیں: وهذا هو حكم القسم الأول الذي كان علة اسمًا ومعنى وحكما، یہ حکم ہے پہلی قسم کا، علت کی سات قسمیں پڑھی تھیں بھئی، یہ پہلی قسم کا حکم ہے۔ کیا حکم بتلایا؟ کہ اس کا، اس علت کا، یہ حکم کے ساتھ ملا ہوا ہونا ضروری ہے بھئی۔ علتِ شرعی حقیقی کی بات ہو رہی ہے نا، اس میں بھی جیسے علتِ عقلیہ کے اندر معلول کے ساتھ ملا ہوا ہونا اس کا ضروری، اسی طرح علتِ حقیقی شرعی کا بھی اپنے حکم کے ساتھ ملا ہوا ہونا ضروری ہے۔
اور وہ علتِ شرعی حقیقی کون سی تھی؟ جو اسماً بھی علت ہو، معناً بھی علت ہو، اور حکماً بھی علت ہو۔ تو کہتے ہیں: وهذا هو حكم القسم الأول الذي كان علة اسمًا ومعنى وحكما، یہ حکم ہے اس پہلی قسم کا جو کہ علت ہے اسم کے اعتبار سے بھی، معنى کے اعتبار سے بھی، اور حکم کے اعتبار سے بھی۔ فإنها العلة الحقيقية الشرعية التي تقارن الفعل ولا تتقدمه، کیونکہ یہی جو ہے وہ علتِ حقيقية شرعية ہے جو ملی ہوئی ہے کس کے ساتھ؟ فعل کے ساتھ۔ فإنها، یاد رکھیے فا تعلیلیہ ہے۔ اپ پڑھ چکے ہیں حروفِ معانی کی بحث میں، کبھی کبھی فا کس پر داخل ہوتی ہے؟ علت پر داخل ہوتی ہے، اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ فا تعلیلیہ، اور اس کے ذریعے علت بیان کی جاتی ہے ماقبل کے حکم کی۔ دیکھیے، یہ حکم ہے اس پہلی قسم کا جو علت ہے اسم کے اعتبار سے بھی، معنى کے اعتبار سے بھی، اور حکم کے اعتبار سے بھی، کیونکہ یہ وہ علتِ حقيقية شرعية ہے جو ملی ہوئی ہے فعل کے ساتھ، جو ملتی ہے فعل کے ساتھ ولا تتقدمه، اور اس پر مقدم نہیں ہوتی بھئی۔
وذهب قوم إلى أنه يجوز تقدمها على المعلول بالزمان، بھئی جمہور کا مذہب تو میں نے بتلایا، جمہور کہتے ہیں جس طرح علتِ عقلیہ اپنے معلول پر مقدم نہیں ہو سکتی زمانے کے اعتبار سے، اسی طرح علتِ شرعی حقیقی جو ہے وہ بھی اپنے معلول، یعنی حکم پر زمانے کے اعتبار سے مقدم نہیں ہو سکتی۔ جمہور کا یہ مذہب ہے۔ بعض علماء اس طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ علتِ شرعیہ حقیقیہ اپنے حکم پر مقدم ہو سکتی ہے۔ اس لیے کیونکہ پہلے علت کا پایا جانا ضروری ہے، اس کے بعد کون آئے گا؟ حکم آئے گا۔ تو لہذا ثابت ہوا کہ علت ایک زمانہ، معمولی سا ہی زمانہ کیوں نہ ہو، وہ اپنے معلول اور حکم پر کیا ہوئی؟ مقدم۔ اور جب ایک زمانہ مقدم ہو سکتی ہے، تو دو یا تین زمانے بطریقِ اولى وہ بھی مقدم ہو سکتی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
وہ کہتے ہیں یہ جو عللِ شرعیہ ہیں، یہ جواہر کے حکم میں ہیں۔ بھئی ایک ہوتا ہے جوہر، ایک ہے عرض۔ جوہر وہ ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے قائم ہو، اپنے وجود میں غیر کا محتاج نہ ہو۔ جیسے اپ کا وجود ہے، یہ کتاب ہے، یا قلم ہے، یہ اپنے وجود میں غیر کا محتاج نہیں، یعنی محل کا محتاج نہیں۔ یعنی محل کا محتاج نہیں، اور جبکہ عرض وہ صفت ہوتی ہے، وہ اپنے وجود میں محل کی محتاج ہوتی ہے۔ صفت کے لیے کوئی نہ کوئی موصوف ضرور چاہیے، بغیر موصوف کے صفت نہیں پائی جا سکتی۔ تو عرض ہے صفت، اور جوہر ہے ذات۔ جیسے صفت جو ہے بغیر موصوف کے نہیں، جیسے شجاعت ہے، بہادری بھئی، اس کے لیے کوئی موصوف چاہیے، یہ کسی کے ساتھ قائم ہو گی۔ سخاوت جو ہے اس کے لیے کوئی موصوف چاہیے کیونکہ یہ صفت ہے۔ تو جوہر اپنے وجود میں محل کا محتاج نہیں ہوتا، جبکہ عرض کیا ہے اپنے وجود میں محل کا، یعنی موصوف کا محتاج ہوتی ہے بھئی۔
تو یہ بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ جو عللِ شرعیہ ہیں، یہ جوہر کے حکم میں ہیں۔ جوہر تو نہیں، لیکن کس کے حکم میں ہیں؟ جوہر کے حکم میں ہیں، اور ان میں بقاء بھی ہے بھئی۔ ان میں جیسے جوہر، بھئی صفت میں تو اپ پڑھ چکے ہیں، صفات میں بقاء نہیں ہوتی، ہر لمحہ نئی نئی صفت آتی جاتی ہے۔ یہ لمحہ گزرا، یہ ایک صفت تھی، گزر گئی۔ یہ دیوار کے ساتھ اپ سفیدی دیکھ رہے ہیں، اس لمحے جو سفیدی ہے، اگلے لمحے ختم، وہ نئی سفیدی آ گئی۔ اس سے اگلے لمحے وہ ختم، نئی سفیدی آ گئی۔ اس سے اگلے لمحے وہ سفیدی ختم، کیونکہ یہ صفت ہے، اور صفت کے اندر بقاء نہیں، ہر ہر لمحے صفات کے اندر تجدد ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
جیسے بھئی منافع کے اندر اپ نے پڑھا، منافع کے اندر کیا ہوتا ہے؟ تجدد۔ اپ ایک مکان کے پورے سال کے منافع، یعنی رہائش کو اکٹھا کر سکتے ہیں؟ نہیں، وہ ہر ہر لمحے نئی رہائش آ رہی ہے، نئے نئے منافع آ رہے ہیں بھئی، اور پچھلے گزرتے چلے جا رہے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو وہ کہتے ہیں کہ یہ جو عللِ شرعیہ ہیں، یہ جوہر کے حکم میں ہیں، اور یہ بقاء کے ساتھ موصوف ہیں، ان میں بقاء بھی ہے۔ ان میں بقاء بھی ہے۔ کس میں؟ عللِ شرعیہ کے اندر۔ جیسے کہتے ہیں بیع، بیع علتِ شرعیہ ہے کس چیز کے لیے؟ ملکیت کے لیے۔ بیع کریں گے تو فوراً مشتری مبیع کا مالک بن جائے گا۔ تو بیع علتِ شرعیہ ہے، اور کہتے ہیں دیکھیے، اس بیع کے اندر یہ ہے تو عرض، لیکن یہ جوہر کے حکم میں ہے کہ اس کے اندر بقاء ہے بھئی۔ بقاء تو صرف جوہر میں ہوا کرتی ہے، صفات میں نہیں ہوتی، لیکن اس کے اندر کیا ہے؟ بقاء۔ چنانچہ 10 دن بعد اپ اپنے مشتری اور بائع مل کر کیا کر لیتے ہیں؟ بیع کو فسخ کر لیتے ہیں۔ کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟
بھئی بیع تو وہ گزر گئی تھی 10 دن پہلے، لیکن معلوم ہوا اس کے اندر بقاء ہے جبھی تو آج اپ 10 دن بعد کیا کر رہے ہیں اس کو؟ فسخ کر رہے ہیں۔ اگر بقاء نہ ہو تو فسخ کا کیا معنى بھئی؟ بات سمجھ میں آئی؟ ان کی دلیل سمجھ میں آئی؟
ہم جواب میں کہتے ہیں کہ یہ جو فسخ آیا، یہ بیع پر نہیں آیا، بیع کے حکم پر آیا ہے بھئی، کس پر آیا ہے؟ ہاں، بیع گزر چکی، بیع نہیں ہے، اس وقت کیا ہے؟ بیع کا حکم، یعنی وہ ملکیت باقی ہے، اس پر یہ فسخ آیا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اگر مان بھی لیا جائے بیع اس وقت ہے، تو اس وقت جو بیع کو ہم نے مانا، بناءً على الضرورة کے مانا کیونکہ اس کو فسخ کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ اگر فسخ کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی تو بیع کا وجود بھی نہ ماننا پڑتا، اس کی ضرورت نہیں تھی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو بات وہی ہے جمہور کی، جمہور کہتے ہیں یہ جو عللِ شرعیہ ہیں یہ اوصاف ہوتے ہیں، اور اوصاف کے اندر بقاء نہیں دو زمانوں کے اندر، ایک زمانے میں ہے تو دوسرے زمانے میں نہیں بھئی۔ اور یہ ان کے اندر مقارنتِ زمانی ہے اپنے حکم کے ساتھ۔ جیسے ہی عللِ شرعی پائی جاتی ہے، ساتھ ہی کیا آ جاتا ہے؟ حکم بھی آ جاتا ہے، اور ان کے اندر بقاء نہیں ہے بھئی۔
وذهب قوم، اور گئے ہیں بعض لوگ إلى أنه يجوز تقدمها على المعلول بالزمان، کہ جائز ہے اس عللِ شرعی حقیقی کا مقدم ہونا اپنے معلول پر زمانے کے اعتبار سے لأن العلل الشرعية في حكم الجواهر، اس لیے کیونکہ عللِ شرعیہ جو ہیں وہ جواہر کے حکم میں ہیں، جواہر تو نہیں لیکن جواہر کے حکم میں ہیں۔ موصوفة بالبقاء، یہ موصوف ہیں کس کے ساتھ؟ بقاء کے ساتھ موصوف ہیں۔ فلا بد أن يثبت الحكم بعد العلة، پس ضروری ہوا کہ حکم جو ہے وہ علت کے بعد ثابت ہو بخلاف العلل العقلية، برخلاف عقلی علتوں کے فإنها مقارنة مع معلولها، کیونکہ وہ ملی ہوئی ہوتی ہیں اپنے معلول کے ساتھ اتفاقًا، بالاتفاق۔
عللِ عقلیہ تو بالاتفاق اپنے معلول کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہیں۔ كحركة الأصابع مع حركة الخاتم، جیسے کہ انگلیوں کی حرکت، انگوٹھی کی حرکت کے ساتھ، کس کے ساتھ؟
بھئی دیکھیے، انگلیوں کا حرکت کرنا یہ علت ہے، اور انگلیاں حرکت کریں گی تو انگلی میں جو انگوٹھی پہنی ہے، لازمی بات ہے وہ بھی کیا کرے گی؟ حرکت کرے گی۔ تو انگلی کا حرکت کرنا علت، انگوٹھی کا حرکت کرنا معلول، اور دونوں کا زمانہ ایک ہے۔ جس لمحے میں انگلی حرکت کر رہی ہے، عین اسی لمحے کے اندر انگوٹھی بھی حرکت کر رہی ہے۔
كحركة الأصابع مع حركة الخاتم، جیسے کہ انگلیوں کی حرکت انگوٹھی کی حرکت کے ساتھ۔ وأما الاستطاعة فهي مع الفعل البتة، اور باقی استطاعت، وہ جو متن میں آیا تھا استطاعت، اس سے کیا مراد ہے؟ قدرت، اور قدرت کون سی قدرت؟ جس کو ہم کیا کہتے ہیں؟ توفیق کہتے ہیں۔ وأما الاستطاعة فهي مع الفعل البتة، اور باقی وہ قدرت جو ہے، تو یہ تو البتہ قطعی طور پر فعل کے ساتھ ہی ہو گی لا تتقدمه، یہ اس پر مقدم نہیں ہو سکتی سواء عدت علة شرعية أو عقلية، برابر ہے کہ اس کو علتِ شرعیہ شمار کیا جائے یا علتِ عقلیہ شمار کیا جائے۔ وهي إما تمثيل أو تنظير، اور یا تو یہ مثال کا لانا ہے، مثال کا بیان کرنا، أو تنظير، یا نظیر کا بیان کرنا، نظیر کا لانا۔
مثّل يمثّل تمثيل کا معنیٰ مثال لانا، مثال بیان کرنا۔ تنظير، نظر ينظر تنظير کا معنیٰ نظیر لانا، نظیر بیان کرنا۔ تو یہ جو انہوں نے متن میں نا متن میں انہوں نے کہا كالإستطاعة مع الفعل جیسے کہ استطاعت ہے کس کے ساتھ؟ فعل۔ کہتے ہیں اس میں مثال ہونے کا بھی احتمال اور نظیر ہونے کا بھی احتمال، نظیر ہونے کا بھی۔
مثال یاد رکھیے ممثل لہ کے افراد میں سے ہوتی ہے۔ کس میں سے ہوتی ہے؟ ممثل لہ، جس کی مثال بیان کی جا رہی ہے اس انہی کے افراد میں سے ایک فرد ہوتی ہے۔ بات کس کی چل رہی ہے پیچھے؟ علل شرعیہ کی، تو اگر یہ استطاعت مع الفعل اس استطاعت کو علت شرعیہ شمار کیا جائے۔ کیا شمار کیا جائے؟ علت شرعیہ، تو پھر یہ مثال ہوئی کیونکہ بات بھی علت شرعیہ کی چل رہی ہے اور مثال کے طور پر کس کو ذکر کر دیا؟ استطاعت کو اور وہ بھی کیا ہے؟ علت شرعی۔ اور اگر اس کو شمار کیا جائے علل عقلیہ میں سے تو پھر یہ نظیر ہے بھئی، کیونکہ یہ پھر علل شرعیہ کے افراد میں سے نہیں۔ تو یہ نظیر ہے اور نظیر کے ذریعے نظیر کے ذریعے بات اور ضابطہ ثابت کیا جاتا ہے، کیا کیا جاتا ہے؟ ضابطہ ثابت کیا، ہم نے کہا نا علل شرعیہ جو ہے وہ اپنے معلول پر مقدم نہیں، نظیر اس کی کیا ہے؟ کیا نظیر ہے؟ کہتے ہیں دیکھ لو علل عقلیہ کے اندر استطاعت مع الحکم۔ وہاں پر بھی علت اپنے معلول پر مقدم نہیں، تو یہاں پر بھی علت اپنے معلول پر مقدم نہیں، تو یہ ضابطے کے اثبات کے لیے نظیر کو ذکر کیا جاتا ہے۔
سمجھ میں آیا؟ اور اس سے دل کو اطمینان ہوتا ہے کہ دیکھیے جو بات ہم کر رہے ہیں اسی طرح کی بات دوسری جگہ بھی موجود ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں وهي إما تمثيل أو تنظير یا تو یہ تمثیل ہے یا تنظیر ہے۔ والتي تتقدم على الفعل هي بمعنى سلامة الآلات والأسباب اور وہ استطاعت جو مقدم ہوتی ہے فعل پر، میں نے بتایا استطاعت دو قسم پر ہے، ایک وہ جو فعل کے ساتھ ہوگی اور ایک وہ جو فعل پر مقدم۔ فعل پر مقدم کون سی ہوگی؟ سلامتیِ آلات اور اسباب کے معنیٰ میں وہ دوسری چیز ہے۔ کہتے ہیں وہ استطاعت جو مقدم ہوتی ہے فعل پر هي بمعنى سلامة الآلات والأسباب وہ سلامتیِ آلات و اسباب کے معنیٰ میں ہے۔ وعليها مدار التكليف الشرعي اور اسی پر دارو مدار ہے شرعی تکلیف کا۔ شریعت تبھی کسی چیز کا مکلف بناتی ہے جب کسی انسان میں استطاعت بھی ہو اس کی، اگر استطاعت ہی نہ ہو تو شریعت اس کا حکم بھی نہیں دیتی۔ ایک شخص ہے وہ معذور ہے وہ کھڑا ہو ہی نہیں سکتا تو شریعت اس کو کبھی اس پر فرض نہیں کرے گی قیام کو بھئی، بلکہ اس کے لیے کس طرح نماز پڑھنا ضروری ہوگا؟ بیٹھ کر بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ جو سلامتیِ آلات اور اسباب ہیں یہ مدار ہیں تکلیف شرعی کا، جی اسی سے انہی پر اس کے مکلف ہونے کا دارو مدار ہے۔
وقد يقام السبب الداعي والدليل مقام المدعو والمدلول یاد رکھیے یہاں سے یہ بیان کر رہے ہیں کہ کبھی کبھار ایک چیز کو دوسری چیز کے قائم مقام کر دیا جاتا ہے جب دوسری چیز کا علم نہیں ہو سکتا، انسان عاجز ہے اس پر مطلع ہونے سے یا عاجز تو نہیں لیکن اس کا پتہ چلنا بڑا مشکل ہے، تو پھر کیا کرتے کیا کیا جاتا ہے؟ ایک چیز کو دوسری چیز کا قائم مقام کر دیا جاتا ہے، جیسے بھئی نیند کو حدث کے کیا کر دیا گیا؟ قائم مقام، کہ نیند سے جو بھی سوئے گا تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا، اس لیے کیونکہ نیند کے اندر عموماً خروجِ نجاست ہوگا اور اس پر مطلع ہونا ممکن نہیں تو لہٰذا نوم کو ہی اس کے قائم مقام کر دیا گیا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اور پھر اس میں دو صورتیں ہیں بھئی، ایک یہ کہ کبھی داعی کو مدعو کے قائم مقام کر دیا جاتا ہے یعنی یوں کہیں سبب کو مسبب کے قائم مقام کر دیا جاتا ہے، سبب کو؟ مسبب، اور کبھی دلیل کو مدلول کے قائم مقام کر دیا جاتا ہے۔ داعی، بلانے والا، اور مدعو، جس کو طلب کیا جائے بھئی، تو یعنی سبب یوں کہیں آسان لفظوں میں نے بتا دیا، وہی بات ہے، سبب کو کس کے قائم مقام کر دینا؟ مسبب کے، ایک چیز دوسری چیز کی طرف داعی ہے تو اسی داعی کو اس مدعو جس کی طرف داعی تھی اس کے قائم مقام کر دیا گیا، یا دلیل بھئی، دلیل کس کو کہتے ہیں؟ ایک چیز جس سے دوسری چیز کا پتہ چلتا ہو اس کو دلیل کہتے ہیں، مثلاً آپ کمرے میں بیٹھے ہیں، آپ نے کھڑکی سے باہر دیکھا، آپ کو دھوپ نظر آئی، اس سے کیا پتہ چل گیا؟ سورج نکلا ہوا ہے، تو یہ جو دھوپ آپ کو نظر آئی یہ دلیل ہوئی کس پر؟ سورج کے نکلنے پر، نکلنے پر، تو دلیل وہ جس ایک چیز جس کے ذریعے دوسری چیز کا پتہ لگ جائے بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ کہتے ہیں وقد يقام السبب الداعي والدليل اور کبھی کبھار قائم مقام کر دیا جاتا ہے اس سبب کو جو داعی ہو اور دلیل جو ہے اس کو مقام المدعو والمدلول کس کے قائم مقام کر دیا جاتا ہے؟ مدعو اور مدلول کے، مدلول کا تعلق کس سے ہے؟ دلیل سے، اور مدعو کا تعلق کس سے ہے؟ السبب الداعي سے، تو کہتے ہیں کبھی کبھی سببِ داعی کو مدعو کے قائم مقام کر دیا جاتا ہے اور کبھی دلیل کو مدلول کے قائم مقام کر دیا جاتا ہے۔ هذا من تتمة مسائل العلة والسبب یہ تتمہ ہے علت اور سبب کے مسائل کا، یہ کیا ہے؟ تتمہ یعنی آخری بحث ہے ان کے مسائل سے متعلق بھئی۔ ولم يميز في أقسامه الآتية بين الداعي والدليل اور تمیز نہیں کی دی اس کی آنے والی اقسام میں داعی اور دلیل کے درمیان، آگے مصنف کئی مثالیں ذکر کریں گے لیکن یہ نہیں بتایا انہوں نے، کون سی داعی کہاں پر داعی کو مدعو کے قائم مقام کیا گیا ہے اور کہاں پر دلیل کو مدلول کے قائم مقام کیا گیا ہے؟ یہ معنیٰ ہے ولم يميز في أقسامه الآتية بين الداعي والدليل اور اور امتیاز نہیں کیا اس کے آنے والی اقسام کے اندر داعی اور دلیل کے درمیان۔ فربما اتفق فيها حال الداعي پس بسا اوقات اتفاق ہوتا ہے ان میں داعی کے حال کا، وربما اتفق فيها حال الدليل اور بسا اوقات اتفاق ہوتا ہے ان میں دلیل کے حال کا، على ما ستعلم بناء بر اس کے جو عنقریب آپ جان لیں گے۔ بھئی بات کچھ آگے کئی مثالیں ذکر کیں، یہ نہیں ذکر کیا کون داعی ہے اور کون دلیل ہے، لیکن تو بسا اوقات ان میں یوں معلوم ہوتا ہے یہ دلیل ہے اور اس کو کس کے قائم مقام کیا گیا؟ مدلول کے، اور بسا اوقات اسی میں احتمال ہوتا ہے یوں معلوم ہوتا ہے یہ داعی ہے جس کو کس کے قائم مقام کیا گیا؟ مدعو کے، تو بعض علماء ایک ہی چیز کو داعی بتلاتے ہیں، دوسرے علماء آ کے کہتے ہیں نہیں، یہ داعی نہیں ہے بلکہ یہ دلیل ہے، تو دونوں قسم کے اس میں اتفاق ہوتے ہیں۔
وذلك أي قيام الداعي والدليل جی، یہ والدلیل یاد رکھیے یہ متن کا حصہ نہیں یہ شرح کا حصہ ہے، اور وہ جو ہے ذلك کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہے؟ بتلایا قيام الداعي والدليل یہ داعی اور دلیل کا قائم ہونا یعنی مدعو اور مدلول کے مقام پر، یہ جو ہے إما لدفع الضرورة والعجز یا تو ضرورت اور عجز کو دفع کرنے کے لیے، یا تو کس لیے ہوگا؟ ضرورت یا عجز کو دفع کرنے کے لیے، آگے متن میں آ رہا ہے أو للاحتياط یا کس لیے ہوگا کبھی؟ احتیاط کے لیے ہوگا، اس سے اگلے متن میں آ رہا ہے أو لدفع الحرج یا کبھی کس لیے ہوگا؟ دفعِ حرج کے لیے، تو کہتے ہیں یہ جو قائم مقام کیا جاتا ہے داعی اور دلیل کو یا تو ضرورت اور عجز کو دور کرنے کے لیے كما في الاستبراء جیسے کس کے اندر؟ استبراء۔
بھئی یاد رکھیے کوئی شخص جب باندی خریدے یا اس کا مالک بنے کسی بھی طریقے سے تو اس پر استبراء واجب ہے، آپ جانتے ہیں باندی اپنی ہو، مملوکہ ہو، اس میں شرکت نہ ہو تو انسان کے لیے اس سے ساتھ وطی کرنا، صحبت کرنا جائز ہوتا ہے، لیکن جب نیا مالک بنے تو استبراء ضروری، یعنی استبراء کا کیا معنیٰ؟ ایک حیض انتظار کرنا پڑے گا، ایک ماہ، ایک ماہ کیا کرنا پڑے گا؟ انتظار کرنا پڑے گا، تاکہ پتہ چل جائے کہیں یہ باندی حاملہ تو نہیں؟ گزشتہ مالک کا کہیں حمل تو اس کے پیٹ میں نہیں؟ تو یہ ہے استبراء، یہ کیا ہے؟ استبراء۔
اب دیکھیے، یہاں پر یہ استبراء واجب ہے اور وجہ کیا ہے استبراء کے واجب ہونے کی؟ یہ وہم کہ کہیں اس کا رحم مشغول بالماء نہ ہو بھئی، اس کا رحم توجہ ہے سبق کی طرف؟ استبراء ہے حکم، اور علت کیا ہے؟ کیوں استبراء ضروری ہے؟ کیونکہ یہ وہم ہے کہ شاید باندی کا رحم مشغول بالماء ہو بھئی، کیا ہو؟ یعنی گزشتہ مالک جو ہے اس کےماء کے ساتھ مشغول ہو باندی کا رحم بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب یہ رحم کا مشغول بالماء ہونا، یہ تو پتہ نہیں چل سکتا، رحم کا مشغول بالماء ہونا، یہ علت ہے نا، رحم کا مشغول بالماء ہونا علت، اور استبراء اس کا حکم، لیکن اس کا پتہ تو چل نہیں سکتا مشغول بالماء ہونے کا، لہٰذا حدوثِ ملک کو اس کے قائم مقام کر دیا گیا بھئی، یہ جو نئی ملک پیدا ہوئی، نئی ملک، نئی مالک کے پاس اس کی نئی ملک آئی ہے، یہ نئی ملک ہی کو مشغول بالماء کے قائم مقام کر دیا گیا، نئی، نئی ملکیت آئی بھئی، وہ ایک شخص باندی کا مالک بنا، چاہے خریدا، چاہے کسی نے تحفے میں دی یا اس کو وراثت میں ملی یا کوئی صورت ہو گئی بھئی، یہ کیا ہوا؟ حدوثِ ملک، تو اس حدوثِ ملک کو کس کے قائم مقام کر دیا گیا؟ رحم کے مشغول بالماء ہونے، کیونکہ اس مالک کے پاس سے آئی ہے تو احتمال ہے کہ شاید کیا ہو اس کا رحم مشغول بالماء ہو، لہٰذا استبراء کو واجب قرار دیا گیا۔ اب استبراء ہونا تو تب چاہیے تھا جب وہ حقیقتاً مشغول بالماء ہو، لیکن حقیقتاً مشغول بالماء ہونے کا تو پتہ ہی نہیں چل سکتا، ممکن ہی نہیں، لہٰذا کس کو قائم مقام کر دیا گیا؟ حدوثِ ملک کو اس کے قائم مقام کر دیا گیا بھئی۔
تو کہتے ہیں كما في الاستبراء جیسے استبراء کے اندر، فإن الموجب له پس اس کو جو واجب کرنے والا ہے، توهم شغل رحم الأمة بماء الغير وہ باندی کے رحم کا کے مشغول ہونے کا وہم ہے بماء الغير غیر کےماء کے ساتھ، والاحترز عنه واجب اور اس سے بچنا تو واجب ہے، لقوله عليه الصلاة والسلام حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے، من كان يؤمن بالله واليوم الآخر جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، فلا يسقين ماءه زرع غيره تو وہ ہرگز سیراب نہ سیراب نہ کرے ماءه اپنے پانی سے زرع غيره غیر کی کھیتی کو۔ ولما كان ذلك أمرا مخفيا اور چونکہ یہ امر جو ہے مخفی ہے، پوشیدہ ہے کہ باندی کا رحم مشغول بالماء ہے یا نہیں، لا يقف عليه كل أحد اور اس پر واقف نہیں ہو سکتا کوئی ایک بھی ما لم يكن الحمل ثقيلا جب تک کہ حمل ثقیل نہ ہو جائے، جب تک کہ وہ حمل جو بچہ ہے پیٹ میں وہ بڑا نہ ہو جائے کچھ، اس وقت تک پتہ نہیں چل سکتا، فأقيم حدوث الملك واليد الدال مقام شغل الرحم بالماء تو قائم مقام کر دیا گیا حدوثِ ملک و ید کو، یہ جو حدوثِ ملک ہے، نئی ملک آئی ہے، حدوثِ ید ہے، نیا قبضہ آیا ہے، یہ جو حدوثِ ملک و ید الدال یہ صفت ہے حدوث کی، یہ جو حدوثِ ملک و ید جو دلالت کر رہا ہے کس چیز پر؟ مقام شغل الرحم بالماء رحم کے مشغول بالماء ہونے کے اس کے قائم مقام کر دیا گیا اس کو، وجعل هذا الحدوث دليلا اور اس حدوثِ ملک و ید کو قائم قرار دے دیا گیا دليلا کیا قرار دے دیا گیا؟ جس کو دلیل بنا دیا گیا، على أنه مشغول بالحمل البتة کہ یہ جو باندی کا رحم ہے، یہ مشغول بالحمل ہے قطعی طور پر، وإن كان في بعض المواضع يقين بعدم الانشغال اگرچہ بعض جگہوں میں یقین ہوتا ہے عدمِ مشغول کے مشغول ہونے کا، مثل أن تكون الجارية بكرا أو مشتراة من يد محرمها مثال کے طور پر کہ وہ باندی جو ہے وہ باکرہ ہو، اب باکرہ ہے، اب تو یقینی بات ہے کہ اس کا رحم مشغول بالماء نہیں۔ لیکن پھر بھی، جب ایک حکم دے دیا گیا، کلی حکم دے دیا گیا تو پھر یہاں پر بھی کیا ضروری ہوگا؟ استبراء ضروری، یا ایک باندی ہے اس کو اس کے محرم سے خرید لیا بھئی، کس سے خرید لیا؟ محرم سے، آپ کہیں گے بھئی محرم کے تو قبضے میں آتے اس کو آزاد ہونا چاہیے تھا، جواب یہ کہ نہیں بھئی، دو شرطیں تھیں، محرم بھی ہو اور قریبی رشتہ دار بھی ہو، دونوں شرطیں ہوں گی تو باندی اس ملک میں جاتے آزاد ہوگی، صرف صرف محرم ہو یا صرف قریبی رشتہ دار ہو تو وہ آزاد نہیں، تو یہاں صرف محرم کی بات کی، باندی کو اپنے محرم سے خرید لیا مثلاً اس باندی کو اس کے رضاعی بھئی نے خریدا تھا، اس باندی نے اور اس شخص نے کیا کیا تھا بچپن میں؟ ایک ہی عورت کا دودھ پیا تھا تو یہ دونوں کیا بن گئے؟ رضاعی بھئی بہن، اور رضاعی بھئی بہن بھی کس کی طرح ہوتے ہیں؟ حقیقی بھئی بہن کی طرح ان میں نکاح ہمیشہ کے لیے حرام، تو یہ محرم تھے ایک دوسرے کے، تو اس کو کس سے خریدا؟ باندی کو محرم سے، اب وہ تو ایک دوسرے پر حرام تھے، وہاں قطعی بات ہے صحبت ہوئی ہی نہیں، تو لہٰذا یہ باندی جہاں سے آئی ہے لہٰذا اس کے رحم کے مشغول بالماء ہونے کا امکان ہی نہیں، لیکن پھر بھی جب ایک حکم دیا حکم دیا گیا تو کلی حکم دے دیا گیا کہ استبراء یہاں بھی ضروری، ونحوه اور اسی طرح اور صورتیں ہیں بھئی، جیسے کسی عورت سے خرید لیا بھئی، باندی کو کس سے خریدا؟ عورت سے، تو وہاں پر بھی مشغول بالماء ہونے کا امکان نہیں، لیکن پھر بھی استبراء واجب ہے، ولكن لم يعتبر هذا اليقين لیکن اعتبار نہیں کیا گیا اس یقین کا، یہاں پر تو یقین ہے عدمِ مشغولیت کا، لیکن پھر بھی اس یقین کا اعتبار نہیں کیا گیا، وحكم بوجوب الاستبراء في كل ما وجد حدوث الملك واليد اور حکم دیا گیا استبراء کے واجب ہونے کا ہر اس صورت کے اندر جس میں حدوثِ ملک اور ید پایا جائے۔
وغيره یہ متن ہے بھئی، كما في الاستبراء وغيره جیسے کس کے اندر ہے؟ استبراء کے اندر ہے اور غیرِ غیرِ الاستبراء، ضمیر کا مرجع بتلایا کہ وغيره کی ہا ضمیر استبراء کو راجع، جیسے کہ استبراء میں اور غیرِ استبراء میں ہے۔
اچھا بھئی، یہ پچھلی مثال میں کیا تھا؟ پچھلی مثال میں داعی کو مدعو کے قائم مقام کیا گیا تھا یا دلیل کو مدلول کے قائم مقام کیا گیا تھا؟ یاد رکھیے، وہاں پر دلیل کو مدلول کے قائم مقام کیا گیا تھا، انہوں نے خود کہا نہیں حدوث الملك واليد الدال، دلیل اور دال کا لفظ انہوں نے ذکر کیا تو وہ دلیل کی، كالخلوة الصحيحة أقيمت مقام الدخول جیسے کہ خلوتِ صحیحہ اس کو قائم مقام کر دیا گیا الدخول کس کے؟ دخول کے یعنی صحبت ہی کے قائم مقام کر دیا گیا، في حق وجوب المهر والعدة عِدت اور مہر کے واجب ہونے کے حق میں۔ بھئی دیکھیے خلوتِ صحیحہ کس کو کہتے ہیں؟ جب میاں بیوی ایک جگہ پر ایک کمرے میں اکٹھے ہوئے اور کوئی مانع موجود نہیں ہے صحبت سے، نہ کوئی مرض ہے، نہ کسی کے آنے کا امکان، نہ کوئی اور صورت، اب یہ ہے خلوتِ صحیحہ، صحبت نہیں کی تو کیا ہے بہرحال؟ خلوتِ صحیحہ ہے، اس خلوتِ صحیحہ ہی کو قائم مقام کر دیا گیا دخول کے یعنی صحبت کے، کس کے؟ اور وہی حکم لگا دیے گئے جو صحبت میں آتا تھا، صحبت میں کیا آتا تھا؟ صحبت کرتے ہی مہر پکا ہو جاتا تھا، مہر واجب ہو جاتا تھا، اور نیز اب طلاق دے گا تو عورت پر کیا واجب ہوتی تھی؟ عِدت، تو یہ خلوتِ جس طرح صحبت کے اندر مہر واجب ہوتا تھا اور عِدت عورت پر واجب ہو جاتی تھی، خلوتِ صحیحہ بھی اسی کے قائم مقام ہے بھئی، تو اس میں بھی مہر بھی آئے گا اور عِدت بھی آئے گی بھئی۔
سمجھ میں آئی بات؟ کیونکہ صحبت پر مطلع ہونا ممکن نہیں بھئی، صحبت پر مطلع ہونا یہ دشوار ہے۔ تو لہٰذا اب اس کو قائم مقام کر دیا گیا۔ وَالنِّكَاحُ أُقِيْمَ مَقَامَ الدُّخُوْلِ فِيْ ثُبُوْتِ النَّسَبِ، اور نکاح کو قائم مقام کر دیا گیا صحبت کے نسب کے ثبوت میں۔ نکاح ہو جائے، نکاح کے بعد عورت کے جو اولاد ہوئی، وہ اس خاوند کی شمار ہو گی۔ تو نکاح ہی کو کس کے قائم مقام کر دیا گیا؟ صحبت کے قائم مقام کر دیا گیا، کس چیز میں؟ ثبوت نسب کے سلسلے میں۔ فَهَاهُنَا أُقِيْمَ الدَّاعِيْ مَقَامَ الْمَدْعُوِّ، تو یہاں پر داعی جو ہے اس کو مدعو کے قائم مقام کر دیا گیا۔ لِأَنَّ الْخَلْوَةَ وَالنِّكَاحَ دَاعِيَانِ إِلَى الدُّخُوْلِ، اس لیے کیونکہ خلوت صحیحہ اور نکاح جو ہیں وہ داعی ہیں کس چیز کے؟ صحبت کے داعی ہیں بھئی، یہ اس تک پہنچانے والے ہیں۔ خلوت صحیحہ بھی کہاں تک پہنچانے والی ہے؟ صحبت۔ اور نکاح بھی کہاں تک پہنچانے والا ہے؟ صحبت تک پہنچانے والا ہے۔ تو لہٰذا یہ جو داعی ہیں، اس داعی کو ہی مدعو کے یعنی صحبت کے قائم مقام کر دیا گیا۔
أَوْ لِلْإِحْتِيَاطِ، یا اس کا عطف وہ پیچھے إِمَّا لِدَفْعِ الضَّرُوْرَةِ وَالْعَجْزِ پر ہے بھئی، یا احتیاط کے لیے کہ یہ جو قیام داعی اور دلیل ہے، یا تو ضرورت اور عجز کی بنا پر ہو گا یا کس بنا پر ہو گا؟ احتیاط کے لیے ہو گا کَمَا فِيْ تَحْرِيْمِ الدَّوَاعِيْ إِلَى الْوَطْئِ، جیسے کہ ترجمے پر نظر رکھنا، کَمَا فِيْ تَحْرِيْمِ الدَّوَاعِيْ إِلَى الْوَطْئِ، جیسے دواعی إلى الوطء کے حرام قرار دینے میں۔ دواعی إلى الوطء کے حرام، بعض صورتوں میں جیسے وطء حرام ہے اور جب وطء حرام ہے تو وہاں پر دواعی وطء بھی کیا ہوتے ہیں؟ حرام ہوتے ہیں۔ مِنَ النَّظَرِ وَالْقُبْلَةِ وَاللَّمْسِ، بھئی دواعی وطء سے کیا مراد ہیں؟ کہتے ہیں یعنی کہ نظر دیکھنا، وَالْقُبْلَةِ، یعنی کہ نظر دیکھنا بھئی، مراد ہے شرمگاہ کی طرف دیکھنا۔ وَالْقُبْلَةِ، اور بوسہ لینا، وَاللَّمْسِ، اور چھونا۔ أُقِيْمَتْ مَقَامَ الْوَطْئِ، ان سب کو وطء کے یعنی صحبت کے قائم مقام کر دیا گیا فِي الِاسْتِبْرَاءِ، کس کے اندر؟ استبراء۔ جب استبراء کے اندر جیسے وطء حرام ہوتی ہے، اسی طرح نظر، قبلہ اور لمس بھی جو داعی ہیں، یہ بھی حرام ہیں۔ وَحُرْمَةِ الْمُصَاهَرَةِ، اور حرمت مصاہرت میں، کس کے اندر؟ حرمت۔ جیسے وطء سے حرمت مصاہرت آ جاتی ہے، اسی طرح جو یہ نظر، قبلہ اور لمس ہے اس سے بھی کیا آ جائے گی؟ اس سے بھی حرمت مصاہرت آ جائے گی۔ وَلِلْإِحْرَامِ، احرام کے حق میں، احرام میں بھئی، جیسے احرام کے اندر وطء حرام، اسی طرح دواعی وطء بھی حرام۔ وَالظِّهَارِ، اور ظہار میں، ظہار میں جب تک کفارہ نہ دیا ہو اس وقت تک وطء حرام تو دواعی وطء بھی حرام۔ وَالِاعْتِكَافِ، اور اعتکاف کے اندر جیسے وطء حرام تو دواعی وطء بھی حرام، لِلْإِحْتِيَاطِ، کس لیے؟ احتیاط کے لیے، کیونکہ یہ دواعی وطء کہاں تک پہنچانے والے ہیں؟ وطء تک پہنچانے والے ہیں۔ فَهُوَ أَيْضًا مِثَالٌ لِإِقَامَةِ الدَّاعِيْ مَقَامَ الْمَدْعُوِّ، تو یہ مثال ہے داعی کو مدعو کے قائم مقام کرنے کی، أَوْ لِدَفْعِ الْحَرَجِ كَمَا فِي السَّفَرِ وَالطُّهْرِ، یا حرج کو دور کرنے کے لیے جیسے کہ سفر میں اور طہر میں ہے، جیسے کس میں ہے؟ سفر اور طہر میں ہے۔
هَذَانِ مِثَالَانِ لِإِقَامَةِ الدَّلِيْلِ مَقَامَ الْمَدْلُوْلِ، یہ دونوں مثالیں ہیں دلیل کو مدلول کے قائم مقام کرنے کی، فَإِنَّ السَّفَرَ أُقِيْمَ مَقَامَ الْمَشَقَّةِ، کیونکہ سفر جو ہے اس کو قائم مقام کر دیا گیا مشقت کے۔ سفر میں بھئی رخصت ہے نماز کی بھی، قصر کرنا پڑے گی، اور روزے کی بھی، روزہ بعد میں رکھ سکتے ہیں۔ تو لیکن یہ رخصت اس کی اصل وجہ سفر نہیں بلکہ کیا ہے؟ مشقت ہے، لیکن اس مشقت کا پتا چلنا دشوار ہے کیونکہ لوگوں کی طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں۔ جیسے میں نے کل بھی ذکر کیا تھا، بعض لوگ ہیں تھوڑی سی ہی سفر سے، مشقت میں پڑ جاتے ہیں اور بعض زیادہ سفر کریں پھر بھی ان کو مشقت نہیں ہوتی بھئی۔
تو یہاں پر بھی سفر کو قائم مقام کر دیا گیا مشقت کے، وَجُعِلَ دَالًّا عَلَيْهِ، اور اس کو اس مشقت سفر کو اس مشقت پر دال بنا دیا گیا، دلیل بنا دیا گیا۔ وَإِنْ لَّمْ يَكُنْ ثَمَّ مَشَقَّةٌ أَصْلًا، اگرچہ وہاں پر سے کوئی مشقت ہو ہی نہ، جیسے آج کل، آج کل کوئی گاڑی میں چلا گیا 78، 80 کلومیٹر بھئی، اب کوئی مشقت نہیں ہوئی، ایک ڈیڑھ گھنٹے کا سفر ہو گا یا ایک گھنٹے کا سفر ہو گا، لیکن شریعت کا حکم ہے تو اب کیا کرنا پڑے گا اس کو؟ قصر کرنا پڑے گا۔
فَيُدَارُ أَمْرُ رُخْصَةِ الْقَصْرِ وَالْإِفْطَارِ عَلَى مُجَرَّدِ السَّفَرِ مَعَ قَطْعِ النَّظَرِ عَنِ الْمَشَقَّةِ، پس دائر ہو گا رخصت، رخصت قصر اور افطار کا جو امر ہے وہ محض سفر پر ہی دائر ہو گا یعنی اس پر اس کا دارومدار ہو گا، مَعَ قَطْعِ النَّظَرِ عَنِ الْمَشَقَّةِ، قطع نظر کس سے؟ مشقت سے۔ وَإِنْ كَانَ الْبَاعِثُ عَلَيْهِ فِيْ نَفْسِ الْأَمْرِ هُوَ الْمَشَقَّةُ، اگرچہ اس باعث اس پر یعنی رخصت قصر اور یہ جو قصر اور افطار ہے ان پر اصل باعث کیا ہے نفس الامر میں، واقع کے اندر؟ وہ مشقت ہے، سفر نہیں بھئی۔
وَهَكَذَا الطُّهْرُ الْخَالِيْ عَنِ الْجِمَاعِ دَلِيْلٌ عَلَى الْحَاجَةِ إِلَى الْوَطْئِ، اور اسی طرح وہ طہر جو خالی ہو صحبت سے، وہ دلیل ہے کس چیز پر؟ عَلَى الْحَاجَةِ إِلَى الْوَطْئِ، کس پر؟ حاجت إلى الوطء پر دلیل ہے، حاجت إلى الوطء پر۔ بھئی دیکھیے، طلاق جو ہے اصل کے اعتبار سے ممنوع ہے، شرعاً پسندیدہ نہیں طلاق بھئی، شرعاً پسندیدہ نہیں، کیونکہ طلاق کی وجہ سے وہ نکاح ٹوٹ جاتا ہے حالانکہ نکاح تو مسنون ہے بھئی، نکاح کیا ہے؟ تو طلاق کی وجہ سے وہ نکاح مسنون ٹوٹ جاتا ہے اس لیے یہ پسندیدہ نہیں، لیکن اس کی انسان کبھی اس کا محتاج ہو جاتا ہے، ضرورت پیش آ جاتی ہے جس وقت کہ جس وقت حقوق نکاح کا قائم رکھنا مشکل ہو جائے۔
جس وقت حقوق نکاح کا قائم رکھنا مشکل ہو جائے بھئی، تو جس وقت کیا ہو؟ حقوق نکاح کو قائم رکھنا مشکل ہو جائے، تو اس وقت اب حاجت پیش آ گئی تو اس وقت طلاق مشروع ہے بھئی، اس وقت طلاق جب حقوق نکاح کو قائم رکھنے سے انسان عاجز آ جائے اور تو ضرورت پیش آ گئی، تو اس ضرورت کی بنا پر کیا ہے طلاق دینا؟ مشروع ہے۔ لیکن یہ حاجت، ضرورت، یہ تو ایک امر باطنی ہے، اس پر تو انسان مطلع نہیں ہو سکتا، تو دلیل کو اس مدلول کے قائم مقام کر دیا گیا بھئی، اور وہ دلیل کیا ہے؟ وہ طہر جو خالی ہو صحبت سے، وہ طہر جو خالی ہو کس سے؟ صحبت سے۔
اس لیے کیونکہ طہر وہ زمانہ ہے جس میں رغبت پیدا ہوتی ہے صحبت کی۔ بھئی حالت حیض و نفاس میں تو طبیعت عورت سے کیا کرتی ہے؟ نفرت کرتی ہے، دور ہوتا ہے انسان، لیکن طہر کی حالت میں طبیعت کیا ہے؟ رغبت کرتی ہے صحبت کی طرف، تو ایسا طہر جو ہے جو صحبت سے خالی ہے اسی کو اس رغبت کے قائم مقام کر دیا گیا۔ اس کے صورت سمجھ آ رہی ہے؟
تو بھئی دیکھیے طلاق اصل کے اعتبار سے ممنوع ہے کیونکہ اس کے اندر نکاح مسنون کو توڑنا پایا جاتا ہے، لیکن ضرورت کی بنا پر یہ مشروع ہے، جب انسان محتاج ہو جائے جبکہ وہ عاجز آ جائے کس چیز کے کس چیز سے؟ حقوق نکاح کے قائم کرنے سے جب وہ عاجز آ جائے تو حاجت پیش آ گئی کس چیز کی؟ طلاق کی بھئی، اور یہ حاجت یہ تو امر باطنی ہے اس پر تو کوئی مطلع نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس حاجت پر دلیل کو اس کا قائم مقام کر دیا گیا، اور وہ دلیل کیا ہے بھئی؟ کہتے ہیں وہ زمانہ جس میں رغبت ہوتی ہے عورت کی طرف، جس میں عورت کی طرف رغبت ہوتی ہے، اور وہ کون سا زمانہ ہے؟ وہ طہر، جو خالی ہو کس سے؟ صحبت سے، وہ طہر جو خالی ہو کس سے؟ صحبت سے، تو اس کو قائم مقام کر دیا گیا اس حاجت کے آسانی کے لیے، اس طہر کو قائم مقام کر دیا گیا اس حاجت طلاق کے آسانی کے لیے، کس لیے؟ آسانی۔
دوبارہ سنیے بھئی، بھئی دیکھیے طلاق جو ہے اپنی اصل کے اعتبار سے درست نہیں بھئی ممنوع ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے نکاح مسنون کو توڑنا لازم آتا ہے، لیکن کبھی کبھی حاجت پیش آ جاتی ہے طلاق کی کہ جب نکاح کے حقوق کو قائم رکھنے سے انسان عاجز آ جائے، کیا پیش آ جاتی ہے؟ حاجت، اور جب حاجت پیش آئے گی تو اس وقت طلاق کیا ہے؟ مشروع ہے۔ اب یہ حاجت کا تو پتا نہیں چل سکتا کب حاجت پیش آئی، تو اس کے لیے دلیل کو اس کا قائم مقام کر دیا گیا کیونکہ حاجت تو دل میں ہے نا اس کا تو پتا نہیں چل سکتا، تو دلیل کو اس کے قائم مقام کر دیا گیا اس حاجت إلى الطلاق پر، اور وہ دلیل کیا؟ وہ طہر جس کے اندر صحبت نہ کی ہو، کیونکہ طہر کے اندر طبیعت رغبت کرتی ہے کس کی طرف؟ صحبت کی طرف رغبت کرتی ہے، تو اس وقت پھر اجازت ہوئی، اجازت دی گئی کس چیز کی؟ تو اس وقت طلاق مشروع ہوئی بھئی، اس وقت طلاق کیا ہوئی؟ مشروع ہوئی۔
بات واضح نہیں ہوئی میرا خیال ہے، چلیے کتاب سے دیکھیں انشاء اللہ اور واضح ہو جائے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَهَكَذَا الطُّهْرُ الْخَالِيْ عَنِ الْجِمَاعِ دَلِيْلٌ عَلَى الْحَاجَةِ إِلَى الْوَطْئِ، اور اسی طرح وہ طہر جو خالی ہو جماع سے، دَلِيْلٌ عَلَى الْحَاجَةِ إِلَى الْوَطْئِ، یہ دلیل ہے کس چیز پر؟ حاجت إلى الوطء پر۔
وَإِنْ لَّمْ تَكُنْ لَّهُ حَاجَةٌ إِلَيْهِ فِي الْقَلْبِ، اگرچہ اس شخص کے دل میں حاجت نہ ہو اس وطء کی، اگرچہ دل میں اس شخص کے وطء کی، لیکن حاجت بھئی وہ تو دل کے اندر کی چیز ہے اس پر مطلع ہونا ممکن نہیں، لہٰذا اس طہر خالی یہ جو ہے اس کو قائم مقام کر دیا گیا اس حاجت کے۔
فَأُقِيْمَ الطُّهْرُ مَقَامَ الْحَاجَةِ فِيْ حَقِّ مَشْرُوْعِيَّةِ الطَّلَاقِ فِيْهِ، پس اس طہر کو قائم مقام کر دیا گیا اس حاجت کے، اس حاجت کے فِيْ حَقِّ مَشْرُوْعِيَّةِ الطَّلَاقِ فِيْهِ، اس میں طلاق کے مشروع ہونے کے حق میں اس طہر میں۔ لِأَنَّ الطَّلَاقَ لَمْ يُشْرَعْ إِلَّا فِيْ زَمَانٍ كَانَ مُحْتَاجًا إِلَى الْوَطْئِ فِيْهِ، اس لیے کیونکہ طلاق مشروع نہیں ہے مگر اس زمانے میں جس میں وہ محتاج ہو وطء کی صحبت کا محتاج ہو۔ وَلِهَذَا لَمْ يُشْرَعْ فِيْ وَقْتِ الْحَيْضِ، اسی وجہ سے یہ حیض کے اندر حیض کے وقت میں مشروع نہیں، أَوْ فِي الطُّهْرِ الَّذِيْ وَطِئَهَا فِيْهِ، اور نہ اس طہر کے اندر جس میں اس نے وطء کی ہے۔
بھئی دیکھیے، توجہ کریں ادھر بھئی، یاد رکھیے طلاق مشروع ہوئی ہے اس وقت کے اندر جس میں طبیعت عورت کی طرف رغبت کرے۔ طلاق مشروع کب ہوئی ہے؟ اس وقت کے اندر جب طبیعت عورت کی طرف رغبت کرے۔ اور وہ وقت کون سا ہے؟ طہر کا ہے، وہ طہر جس کے اندر صحبت نہ کی ہو۔ اس میں طلاق مشروع ہے، طلاق دینا درست ہے بھئی۔ باقی اس طہر کے اندر جس میں صحبت کی یا حیض کے اندر طلاق دینا مشروع نہیں، آپ فقہ میں پڑھ چکے ہیں۔ بھئی یہ اس طہر کے اندر طلاق دینا مشروع کیوں ہے جس کے اندر صحبت نہیں کی؟ وجہ یہ ابھی میں نے بیان کیا کہ طلاق جو ہے اصل کے اعتبار سے ممنوع ہے، شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی، ہاں کبھی حاجت پیش آ جاتی ہے، ضرورت پیش آ جاتی ہے تو ضرورت کی بنا پر پھر شریعت اجازت دے دیتی ہے، اور ضرورت تو ایک امر باطنی ہے اس کا تو پتا نہیں چل سکتا، تو اس کا پتا کس کے ذریعے چلے گا؟ اس کا پتا اس کی دلیل سے چلے گا، اور دلیل کیا ہے؟ وہ طہر ہے جس کے اندر انسان کے رغبت ہوتی ہے عورت کی طرف۔
اب اس رغبت والے زمانے کے اندر بھی اس رغبت والے زمانے کے اندر طلاق دینا مشروع ہے بھئی، تاکہ بات پوری طرح پکی ہو جائے کہ واقعی اب حقوق نکاح کو قائم رکھنا مشکل ہے۔ یہ تو رغبت کا زمانہ تھا، اس وقت تو عورت کی طرف اس کی رغبت ہونی چاہیے تھی، اب اب وہ طلاق دے سکتا ہے رغبت والے زمانے میں، حیض کے زمانے میں تو طبیعت نفرت کرے گی، اسی طرح وہ طہر جس کے اندر صحبت کر چکا اس میں بھی عورت کی رغبت نہیں ہو گی کیونکہ صحبت کر چکا، اپنی خواہش پوری کر چکا ہے، لیکن یہ طہر جس کے اندر اس نے صحبت نہیں کی اس کے اندر طلاق دے، یہ اب عورت کی رغبت کا زمانہ ہے، عورت کے رغبت کا زمانہ ہے، تو اب طلاق دو تاکہ پتا چلے کہ واقعی حقوق نکاح کو قائم رکھنا مشکل ہو گیا ہے، قائم نہیں رکھا جا سکتا اس وقت، تو رغبت کے زمانے میں طلاق دینا اسی لیے مشروع ہے تاکہ پتا چل جائے کہ اب واقعی حقوق نکاح کو قائم رکھنا ممکن نہیں رہا بھئی، یہ تو رغبت والا زمانہ تھا، اس لیے شریعت نے اس لیے تاکہ رغبت کے زمانے میں طلاق دے، رغبت کے زمانے میں پتا لگ جائے کہ اس وقت حقوق نکاح کو قائم رکھنا ممکن نہیں ہے، کیونکہ حیض میں طلاق دے اس وقت تو طبیعت رغبت کرتی ہی نہیں، یا ایسے طہر میں طلاق دے جس میں صحبت کر چکا ہے اس وقت بھی طبیعت رغبت نہیں کرتی، تو بعد میں یہ نہ ہو کہ پچھتانے لگے کہ یہ تو بھئی اس وقت مجھے اس لیے رغبت نہیں تھی اور میں نے طلاق دے دی، عورت ہاتھ سے نکل گئی، بیوی ہاتھ سے نکل گئی، نکاح ٹوٹ گیا، تو لہٰذا شریعت نے کیا کہا؟ کس وقت دو طلاق؟ اس طہر میں جس کے اندر صحبت نہ کی ہو بھئی صحبت، اب یہ زمانہ کون سا ہے؟ رغبت والا ہے، اب طلاق دو گے تو پتا چل جائے گا کہ واقعی حقوق نکاح کو قائم رکھنا ممکن نہ رہا تھا اس لیے طلاق دے دی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ زمانہ جب آئے گا تو ہو سکتا ہے اس کی ارادہ بدل جائے بھئی، کیونکہ یہ تو رغبت والا زمانہ ہے اور شریعت بھی کیا چاہتی ہے؟ جوڑ چاہتی ہے توڑ نہیں چاہتی بھئی، بات اب اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
وَالْفَرْقُ بَيْنَ الضَّرُوْرَةِ وَدَفْعِ الْحَرَجِ، اور فرق ضرورت اور دفع حرج میں یہ ہے، بھئی پیچھے ذکر آیا تھا کہ بعض جگہ دفع ضرورت کے لیے یہ دلیل اور داعی کو مدلول اور مدعو کے قائم مقام، کبھی کس بنا پر؟ دفع ضرورت کے لیے، اور کبھی دفع حرج کے لیے، دونوں میں فرق کیا ہے؟ دفع ضرورت اور دفع حرج میں بتلانے لگے ہیں، بتلائیں گے کہ ضرورت وہ ہے جس پر مطلع ہونا ممکن ہی نہ ہو، اور حرج وہ ہے جس پر مطلع ہونا ممکن تو ہو لیکن بڑا مشکل ہو بھئی، یہ فرق ہو گا۔ کہتے ہیں: وَالْفَرْقُ بَيْنَ الضَّرُوْرَةِ وَدَفْعِ الْحَرَجِ، اور ضرورت اور دفع حرج کے درمیان فرق یہ ہے أَنَّ فِي الضَّرُوْرَةِ وَالْعَجْزِ لَا يُمْكِنُ الْوُقُوْفُ عَلَى الْحَقِيْقَةِ أَصْلًا، کہ ضرورت اور عجز کے اندر ممکن ہی نہیں ہوتا واقف ہونا حقیقت پر سرے سے ہی، سرے سے واقف ہونا ہی ممکن نہیں ہوتا، وَفِيْ دَفْعِ الْحَرَجِ يُمْكِنُ ذَلِكَ، اور دفع حرج کے اندر حقیقت پر مطلع ہونا ممکن ہوتا ہے مَعَ وُقُوْعِ الْمَشَقَّةِ، ساتھ کس کے پائے جانے کے؟ مشقت کے ہونے کے، كَمَا فِي السَّفَرِ، جیسے کہ سفر کے اندر، يُمْكِنُ إِدْرَاكُ الْمَشَقَّةِ بِحَسَبِ أَحْوَالِ أَشْخَاصِ النَّاسِ، جیسے سفر کے اندر ممکن ہے مشقت کا پانا لوگوں کے اشخاص کے احوال، لوگوں کے اشخاص یعنی افراد کے احوال کے اعتبار سے، پتا تو چلایا جا سکتا ہے کہ مشقت ہوئی ہے یا مشقت نہیں ہوئی، لیکن یہ مشکل کام ہے۔
وَالْفَرْقُ بَيْنَ السَّبَبِ وَالدَّلِيْلِ، اب پیچھے بھئی سبب کا بھی ذکر آیا تھا اور دلیل کا، کہ سبب کو کبھی کبھار مسبب کے قائم مقام کیا جاتا ہے کبھی دلیل کو مدلول، یہ سبب اور دلیل میں کیا فرق ہے؟ بیان کر رہے ہیں: أَنَّ السَّبَبَ لَا يَخْلُوْ عَنْ تَأْثِيْرٍ لَّهُ فِي الْمُسَبَّبِ، کہ سبب وہ خالی نہیں ہوتا اپنی تاثیر سے مسبب کے اندر، سبب کی کیا ہوتی ہے مسبب میں؟ تاثیر ہوتی ہے۔ وَالدَّلِيْلُ قَدْ يَخْلُوْ عَنْ ذَلِكَ، اور دلیل کیا ہے؟ کبھی کبھار اس سے خالی ہوتی ہے۔ وَالدَّلِيْلُ قَدْ يَخْلُوْ عَنْ ذَلِكَ، اور دلیل کبھی اس سے خالی ہوتی ہے، فَتَكُوْنُ فَائِدَتُهُ الْعِلْمَ بِالْمَدْلُوْلِ لَا غَيْرُ، تو پھر اس دلیل کا فائدہ کیا ہو گا؟ یہ اس کے ذریعے صرف مدلول کا علم ہو گا اور کسی کوئی فائدہ نہیں۔
سبب جو ہوتا ہے وہ مفضی ہوتا ہے إلى المسبب اس تک پہنچانے والا ہے، جب کہ دلیل جو ہے اس کے ذریعے صرف مدلول کا علم ہوتا ہے اس تک پہنچانے والی نہیں ہوتی، نیز سبب ہمیشہ مقدم ہوتا ہے، مسبب ہمیشہ مؤخر، جب کہ دلیل مدلول پر مؤخر بھی ہو سکتی ہے۔
دلیل مدلول پر مؤخر۔ ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے مجھے آپ سے محبت ہے، اب دوسرے کو پتہ چل گیا جب اس نے زبان سے کہا تو یہ زبان سے کہنا دلیل ہوا دل کی محبت پر۔
اب آپ بتائیے دل کی محبت پہلے ہے یا زبان سے کہنا پہلے ہے؟ دل کی محبت پہلے اور زبان سے کہنا بعد میں، تو دلیل دیکھو مؤخر ہو گئی اور مدلول کیا ہے مقدم، تو دلیل مؤخر بھی ہو سکتی ہے لیکن سبب ہمیشہ کیا ہوتا ہے مقدم ہوتا ہے مسبب پر بھئی۔
ومن جملۃ امثلۃ اقامۃ الدلیل مقام المدلول اور دلیل کو مدلول کے قائم مقام کرنے کی جملہ مثالوں میں سے الاخبار عن المحبۃ وہ محبت کی خبر ہے اقیم مقام المحبۃ جس کو قائم مقام کر دیا گیا محبت کی فی قول الرجل لامرأتہ کسی شخص کے اس قول کے اندر اپنی بیوی سے ان کنت تحبینی فانت طالق، اگر ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے ان کنت تحبینی فانت طالق، اگر تو مجھ سے محبت کرتی ہے تو تجھے طلاق ہے، فقال تو عورت نے کہا احبك میں تجھ سے محبت کرتی ہوں، طلاقت بھئی وہ کیا ہو جائے گی؟ طلاق والی ہو جائے گی۔
کیوں؟ کہتے ہیں لان المحبۃ امر باطن اس لیے کہ محبت ایک امر باطنی ہے لایوقف علیہ الا بالخباری اس پر واقف نہیں ہوا جا سکتا مگر خبر کے ذریعے ہی لا خبر کے ذریعے اور اس نے خبر کیا دی محبت ہے تو جو محبت ہے دلیل ہی کو مدلول کے قائم مقام کر دیا گیا۔
لکنہ یقتصر علی المجلس لیکن یہ بند رہے گا مجلس پر ہی مطلب مجلس کے اندر اگر عورت کہے احبك تو پھر کیا ہو جائے گی؟ طلاق ہو جائے گی ورنہ نہیں، کیوں؟ لانّہ مشبہ بالتّخییر کیونکہ یہ مشابہ ہے کس کے ساتھ؟ تخییر کے ساتھ مشابہ ہے والتّخییر مقتصر علی المجلس اور تخییر بند ہوتی ہے کس پر؟ آپ پڑھ چکے ہیں اختیار کب تک رہتا ہے؟ مجلس کے اختتام تک باقی رہتا ہے توکیل تو مجلس کے بعد بھی رہتی ہے لیکن اختیار مجلس تک ہی رہتا ہے تو لہٰذا یہ بھی تخییر کے مشابہ ہے لہٰذا مجلس تخییر یہ بند رہے گا مجلس کے اندر اگر کہہ دے احبك تو طلاق ہو جائے گی ورنہ طلاق نہیں ہوگی بھئی، چلیے بس بھئی ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔