درس نمبر۔26
وَإِنَّمَا قَيَّدَ بِأَدَاءِ كُلِّ أَمْرٍ لِأَنَّ الْقَضَاءَ لَا يُشْتَرَطُ فِيهِ هَذِهِ الْقُدْرَةُ مُطْلَقًا، بَلْ إِذَا كَانَ الْمَطْلُوبُ الْفِعْلَ، وَأَمَّا إِذَا كَانَ الْمَطْلُوبُ السُّؤَالَ وَالْإِثْمَ فَلَا يُشْتَرَطُ فِيهِ ذَلِكَ، فَإِنَّ مَنْ عَلَيْهِ أَلْفُ صَلَاةٍ يُقَالُ لَهُ فِي النَّفَسِ الْأَخِيرِ: إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ وَاجِبَةٌ عَلَيْكَ، وَثَمَرَتُهُ تَظْهَرُ فِي حَقِّ وُجُوبِ الْإِيصَاءِ بِالْفِدْيَةِ وَالْإِثْمِ.
اچھا، کہتے ہیں: وَإِنَّمَا قَيَّدَ بِأَدَاءِ كُلِّ أَمْرٍ، کہتے ہیں: ماتن نے متن میں مقید کیا "وَهُوَ شَرْطٌ فِي أَدَاءِ كُلِّ أَمْرٍ"، ادا کے ساتھ کیا کیا؟ مقید کر دیا، ادا کی قید، کہ ہر امر کی ادا میں یہ شرط ہے۔ کس چیز میں؟ بھئی، قدرتِ ممکنہ۔ کم از کم اتنی قدرت کہ کیا کر سکے انسان؟ اس فعل کو اس کے اندر سرانجام دے سکے۔ ہاں، کم از کم اتنی قدرت کہ انسان اس فعل کو سرانجام دے سکے، یہ قدرتِ ممکنہ ہے اور قدرتِ ممکنہ کے اندر ماتن نے قید بڑھا دی، ماتن نے "وَهُوَ شَرْطٌ فِي أَدَاءِ كُلِّ أَمْرٍ"، ہر امر کی ادا میں یہ شرط ہے، کہتے ہیں: قضا میں یہ شرط مطلقاً نہیں ہے۔ ادا، دیکھو متن میں ادا کا لفظ آیا، ہر امر کی ادا میں یہ شرط ہے، تو قضا کے اندر یہ شرط مطلقاً یہ شرط نہیں ہے، کبھی قضا میں یہ شرط ہوگی اور کبھی قضا میں یہ شرط نہیں ہوگی، مطلقاً قضا میں نہیں ہے، ادا میں تو مطلقاً یہ شرط ہے، کم از کم اتنی قدرت ہونی چاہیے کہ انسان کیا کر سکے اس فعل کو ادا کر سکے، لیکن قضا میں مطلقاً یہ شرط نہیں ہے، کبھی یہ شرط ہوگی، کبھی یہ شرط کب ہوگی؟ قضا کے اندر یہ قدرتِ ممکنہ اس وقت شرط ہوگی جب فعل مطلوب ہو، جب فعل کیا ہو؟ مطلوب ہو، مولانا! دیکھو ایک شخص کی نماز رہ گئی، اب اس سے اگر کہتے ہیں بھئی: آپ پر کیا ہے؟ نماز آپ کے ذمے قضا ہے، اب مطلوب کیا ہے اس سے؟ کہ وہ نماز پڑھ لے، اس کے ذمے ایک نماز باقی ہے، تو فعل مقصود ہوا، یہاں کیا مقصود ہوا؟ فعل مقصود، اور فعل کے لیے کم از کم اتنی قدرت چاہیے کہ انسان کیا کر سکے اس کو؟ ادا کر سکے، سمجھ میں آیا؟ لہٰذا ایک شخص جس طرح مرگ پر پڑا ہے مولانا! اور آخری سانسیں اس کی چل رہی ہیں، آپ اس کو کہتے ہیں کہ بھئی: آپ کے ذمے ایک ہزار نمازیں باقی ہیں، فرض کرو ہزار نمازیں اس کے ذمے تھیں، آپ نے کہا: آپ کے ذمے ہزار نمازیں باقی ہیں۔
سمجھ میں آیا؟ ان کی قضا ہے آپ کے ذمے، تو یہاں پر دیکھیے، فعل مطلوب نہیں مولانا! فعل اس لیے مطلوب نہیں ہو سکتا کہ کیونکہ اس فعل کے لیے کم از کم اتنی قدرت چاہیے کہ انسان کیا کر سکے؟ ادا کر سکے، اور اس کے پاس اتنی، اس پر اتنی قدرت ہے؟ اس کے پاس اتنی قدرت ہی نہیں ہے، معلوم ہوا یہاں فعل مقصود نہیں ہے، فعل مقصود نہیں ہے، ہاں اگر مقصود گناہ ہے اور وصیت کرنا مطلوب ہے یہاں پر، تو پھر اس صورت میں قدرتِ ممکنہ شرط نہیں ہے، مثلاً آپ اس کو کیا کہتے ہیں اس وقت آخری وقت کے اندر؟ آپ کے ذمے ہزار نمازیں قضا باقی ہیں، تو کیا معنیٰ؟ ادا کرنا مطلوب ہے وہاں کہ ادا، ان کی قضا کرو، یہ فعل کرو ہزار نمازوں والا؟ یہ تو مقصود مطلوب نہیں ہو سکتا، ہاں گناہ مطلوب ہے کہ تمہارے ذمے ہزار ہیں یعنی تم گناہ گار ہو، تم نے اتنی نمازیں چھوڑی ہیں، یا کہ تمہیں کیا کرنا چاہیے؟ فدیے کی وصیت کرنی چاہیے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وصیت کے اعتبار سے، سوال مطلوب ہے یعنی فدیے کی وصیت کرو، یہ مطلوب ہے، تو پھر اس صورت میں تو قدرتِ ممکنہ بھی ضروری نہیں، اسی طرح گناہ ہے تو اس کے اندر بھی قدرتِ ممکنہ کا ہونا ضروری نہیں، وہ تو صرف آپ اسے بتلا رہے ہیں بھئی: آپ کے ذمے اتنے نمازیں ہیں یعنی آپ کیا ہیں؟ گناہ گار ہیں، لہٰذا کیا کر جاؤ؟ وصیت کر جاؤ کہ تمہاری نمازوں کا فدیہ تمہاری طرف سے ادا کر دیا جائے، ہو سکتا ہے اللہ اس کو قبول فرما لیں، ہو سکتا ہے اللہ اسے امید ہے اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرما لیں گے بھئی، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو قضا کے اندر مطلقاً جو ہے یہ شرط نہیں ہے قدرتِ ممکنہ کا ہونا، بلکہ جب فعل مطلوب ہو تب تو شرط ہے، جب سوال اور گناہ مطلوب ہو تو اس وقت یہ شرط نہیں ہے، بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟
وَإِنَّمَا قَيَّدَ بِأَدَاءِ كُلِّ أَمْرٍ اور مصنف نے قید کیا بِأَدَاءِ كُلِّ أَمْرٍ کے ساتھ بھئی، لِأَنَّ الْقَضَاءَ لَا يُشْتَرَطُ فِيهِ هَذِهِ الْقُدْرَةُ اس لیے کہ قضا کے اندر یہ اس میں شرط نہیں لگائی جاتی اس قدرت کی مطلقاً، بَلْ إِذَا كَانَ الْمَطْلُوبُ الْفِعْلَ بلکہ اس وقت جب کیا ہو؟ فعل مطلوب ہو، اس میں کیونکہ فعل تو بغیر قدرت کے ہو ہی نہیں سکتا، وَأَمَّا إِذَا كَانَ الْمَطْلُوبُ السُّؤَالَ وَالْإِثْمَ ہاں باقی جب اس سے مطلوب سوال ہو، سوال کیا معنیٰ؟ یعنی وصیت کر کے جاؤ بھئی، طلب کیا جا رہا ہے وصیت کر کے جاؤ تمہارے ذمے، وَالْإِثْمَ اور گناہ مطلوب ہو، فَلَا يُشْتَرَطُ فِيهِ ذَلِكَ تو پھر اس کے اندر اس قدرت کی، اس تمکن کی شرط بھی نہیں ہے، فَإِنَّ مَنْ عَلَيْهِ أَلْفُ صَلَاةٍ اس لیے کہ وہ شخص جس پر ہزار نمازیں ہوں، يُقَالُ لَهُ فِي النَّفَسِ الْأَخِيرِ نَفَس، ف کے فتحے کے ساتھ بھئی، نَفْس ہو تو ذات کو کہتے ہیں، نَفَس، ف کے فتحے کے ساتھ ہو تو معنیٰ ہے سانس، فَإِنَّ مَنْ عَلَيْهِ أَلْفُ صَلَاةٍ اس لیے کہ وہ شخص جس پر ہزار نمازیں ہوں يُقَالُ لَهُ فِي النَّفَسِ الْأَخِيرِ تو اس کو آخری سانس میں بھی یہ کہا جائے گا: إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ وَاجِبَةٌ عَلَيْكَ کہ یہ نمازیں آپ پر کیا ہیں؟ واجب ہیں، تو یہاں فعل مطلوب نہیں ہے بلکہ سوال اور گناہ مطلوب ہے، وہ کہتے ہیں: وَثَمَرَتُهُ تَظْهَرُ فِي حَقِّ وُجُوبِ الْإِيصَاءِ بِالْفِدْيَةِ وَالْإِثْمِ اور اس کا ثمرہ جو ہے ظاہر ہوگا کہ اس پر فدیے کی وصیت کرنا واجب ہو جائے گا اور گناہ گار ہوگا، گناہ ہوگا اسے بھئی کہ اس کے ذمے نمازیں ہیں اور اس نے ادا نہیں کی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
وَالشَّرْطُ تَوَهُّمُهُ لَا حَقِيقَتُهُ.
اور اس کی شرط جو ہے مولانا! قدرتِ ممکنہ کی شرط بھئی، تَوَهُّمُهُ، اس تمکن، تمکن بھئی یہ تَوَهُّمُهُ کی ھ ضمیر قدرت کو راجع ہے، لیکن تمکن کی تاویل میں کر لیں یا اس کی تعریف میں تمکن کا لفظ آ رہا تھا، اور اس تَوَهُّمُهُ ای توہم التمکن بھئی، اور تمکن کیا ہے؟ قدرت ہے، کیا ہے؟ قدرت ہے۔ تو کہتے ہیں: وَالشَّرْطُ تَوَهُّمُهُ لَا حَقِيقَتُهُ اور شرط جو ہے اس کا وہم، اس کے وہم کا پایا جانا ہے، اس کی حقیقت کا پایا جانا نہیں، بھئی قدرتِ قدرتِ ممکنہ کے لیے شرط کیا ہے؟ اس کا توہم ہی کافی ہے، اس کی حقیقت کا پایا جانا ضروری نہیں، دیکھیے، أَيِ الشَّرْطُ فِيمَا بَيْنَ هَذِهِ الْقُدْرَةِ بَيْنَ هَذِهِ الْقُدْرَةِ الْمُمَكِّنَةِ الْأَدْنَى كَوْنُهُ مُتَوَهَّمَ الْوُجُودِ لَا مُتَحَقَّقَ الْوُجُودِ، یہ شرط اس قدرت کے میں یہ یہ قدرتِ ممکنہ ادنیٰ جو ہے، یہ ادنیٰ قدرتِ ممکنہ جو ہے، اس کے اندر شرط یہ ہے کہ كَوْنُهُ مُتَوَهَّمَ الْوُجُودِ کہ یہ کیا ہونی چاہیے؟ متوہم الوجود ہونی چاہیے، متحقق الوجود؟ یعنی اس کے وجود کا وہم ہو، یہ کافی ہے، اس کے وجود کا حقیقتاً پایا جانا ضروری، وہم بھی کافی ہے، أَيْ لَا يَلْزَمُ أَنْ يَكُونَ الْوَقْتُ الَّذِي يَسَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ مَوْجُودًا مُتَحَقَّقًا فِي الْحَالِ بَلْ يَكْفِي وَهْمُهُ، یعنی یہ لازم نہیں آتا کہ وہ وقت جس کے اندر چار رکعت کی گنجائش ہو وہ موجود ہونا چاہیے، متحقق ہونا چاہیے فی الحال، بَلْ يَكْفِي وَهْمُهُ بلکہ اس کا وہم بھی کافی ہے۔
بھئی دیکھیے، کہتے ہیں: یہ قدرتِ ممکنہ کے اندر اس کا وہم ہی کافی ہے، حقیقتاً اس کا پایا جانا ضروری نہیں، دیکھیے مثلاً ایک شخص جو ہے مسلمان ہوا آخری وقت کے اندر بھئی، اب جب کلمہ پڑھا اس نے صرف اتنا وقت ہے کہ اس کے اندر تکبیرِ تحریمہ تو کہہ سکتا ہے، نماز پڑھ ہی نہیں سکتا، ظہر کا بالکل آخری وقت ہے بھئی، کیا پڑھ سکتا ہے؟ تکبیرِ تحریمہ تو کہہ سکتا ہے، لیکن نماز نہیں پڑھ سکتا، تو دیکھو قدرتِ ممکنہ حقیقتاً پائی گئی ظہر کی نماز کے لیے؟ ظہر کی نماز کے لیے قدرتِ ممکنہ حقیقتاً موجود؟ کیونکہ اب صرف چند سیکنڈ باقی ہیں جس میں تکبیرِ تحریمہ تو کہی جا سکتی ہے، لیکن اس کے اندر نماز ادا ہی نہیں کی جا سکتی، تو حقیقتاً قدرتِ ممکنہ ہے ہی نہیں اتنا وقت ہی نہیں ہے جس کے اندر ہم کیا کر سکیں ظہر کی نماز ادا کر سکیں، لیکن بتلایا حقیقتاً اس کا پایا جانا ضروری نہیں بلکہ اس کا وہم بھی کافی ہے، تو یہاں بھی وہم ہے کہ بھئی ہو سکتا ہے اتنا وقت تو ہے تکبیرِ تحریمہ کہہ سکے، لیکن وہم ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ اس وقت کو اس کے لیے طویل فرما دیں، کیا فرما دیں؟ طویل فرما دیں، وہ نماز شروع کرے اور اللہ اس وقت کو، سورج کو روک دیں اور نہ وقت اتنا لمبا ہو جائے کہ اس کے اندر وہ آرام سے کیا کر لے اپنی نماز ادا کر لے، صورت سمجھ میں آئی؟ تو لہٰذا اتنا وقت مل گیا جس کے اندر تکبیرِ تحریمہ وہ کہہ سکتا ہے، تو بس ظہر کی نماز اس پر واجب ہو گئی، کیا ہو گئی؟ واجب ہو گئی، کہتے ہیں بھئی: اس کا ثمرہ قضا کی صورت میں ظاہر ہوگا، یعنی یہ نہیں، آپ یہ اعتراض نہ کریں کہ ہم نے، آپ نے تو اس پر ظہر کی نماز واجب کر دی اور اتنا وقت تھا ہی نہیں جس کے اندر وہ کیا کرے گا؟ ادا کر سکے گا، لازمی بات ہے کہ ادا اس کی رہ جائے گی اور وہ گناہ گار ہوگا، ادا رہ جائے گی اور کیا ہوگا؟ کہتے ہیں بھئی: اس کا ثمرہ قضا کی صورت میں ظاہر ہوگا یعنی اس وقت کے اندر وجوب آئے گا ادا کا اور پھر فوراً ہی منتقل ہو جائے گا کس کی طرف؟ اگر وقت لمبا نہ ہوا، اگر وقت لمبا کر دیا اللہ تعالیٰ نے بھئی، اللہ تعالیٰ تو قادر ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اگر اللہ تعالیٰ نے وقت لمبا کر دیا تو اسی کے اندر ادا کر لے گا اور اگر وقت لمبا نہ کیا تو پھر اس صورت میں اس اس پر کیا واجب ہو جائے گی؟ قضا واجب ہو جائے گی، یعنی یعنی اس کو بعد میں قضا کرنا پڑے گی کہنے کا یہ مطلب ہے، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہاں دیکھو اب حقیقتاً قدرتِ ممکنہ ہے یا اس کا صرف وہم ہے بھئی؟ وہم، کہتے ہیں: وہم بھی کافی ہے، حقیقتاً اس کا پایا جانا ضروری نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: أَيْ لَا يَلْزَمُ أَنْ يَكُونَ الْوَقْتُ الَّذِي يَسَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ مَوْجُودًا مُتَحَقَّقًا فِي الْحَالِ یعنی یہ لازم نہیں ہے اس کے ساتھ کہ اتـ اتنا وقت جس کے اندر گنجائش ہو چار رکعت کی وہ موجود ہو اور پایا جائے فی الحال، بَلْ يَكْفِي وَهْمُهُ بلکہ اس کا وہم بھی کافی ہے، وَإِنَّ تَحَقُّقَ هَذَا الْمَوْهُومِ فِي الْخَارِجِ اس لیے کہ اس موہوم یعنی جس کا وہم ہے وقتِ لمبا ہونے کا، اس موہوم کا تحقق جو ہے خارج کے اندر، اس موہوم کا خارج میں پایا جانا بِأَنْ يَمْتَدَّ الْوَقْتُ مِنْ جَانِبِ اللَّهِ تَعَالَىٰ بایں طور کہ لمبا ہو جائے وقت اللہ کی طرف سے، كَيْ يُؤَدِّيَهُ فِيهِ کہ اس میں کیا کر لے؟ اس کو ادا کر لے، وَإِلَّا تَظْهَرُ ثَمَرَتُهُ فِي الْقَضَاءِ ورنہ تو اس کا ثمرہ کس کی صورت میں ظاہر ہوگا؟ قضا کی صورت میں ظاہر ہوگا، اگر اللہ نے وقت لمبا کر دیا تو اسی میں ادا کر لے، اگر وقت لمبا نہ کیا تو پھر کیا کرے گا؟ قضا کرے گا۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ حَتَّى إِذَا بَلَغَ ہاں، اور پھر اگر ادا نہیں کرتا وہ، ادا نہیں کرتا وہ اس کو اس کی قضا بھی نہیں کرتا، تو یاد رکھیے پھر اسے قضا چھوڑنے کا گناہ ملے گا، ادا چھوڑنے کا نہیں، کیونکہ ادا پر تو وہ قادر ہی نہیں تھا۔
تو یہ امام صاحب کے نزدیک ہے مولانا! اور امامِ زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں، اس پر واجب ہی نہیں ہوگی بھئی یہ ظہر کی نماز اس لیے کہ یہاں قدرتِ متہمـ ممکنہ حقیقتاً پائی ہی نہیں گئی، ان کے نزدیک حقیقتاً کیا ہے؟ قدرتِ متمکنہ کا پایا جانا ضروری ہے، جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں: نہیں، وہم بھی کافی ہے، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ کیا فرما دیں؟ طویل فرما دیں بھئی۔
حَتَّى إِذَا بَلَغَ الصَّبِيُّ أَوْ أَسْلَمَ الْكَافِرُ أَوْ طَهُرَتِ الْحَائِضُ فِي آخِرِ الْوَقْتِ لَزِمَتْهُمُ الصَّلَاةُ.
یہاں تک کہ اگر بچہ بالغ ہو گیا یا کوئی کافر مسلمان ہوا یا کوئی حائضہ پاک ہوئی فِي آخِرِ الْوَقْتِ کس کے اندر؟ آخری وقت میں یعنی جس میں صرف تکبیرِ تحریمہ کی گنجائش ہے، لَزِمَتْهُمُ الصَّلَاةُ تو اس پر کیا ہو جائے گی؟ نماز ان پر لازم ہو جائے گی بھئی ان سب پہ، لِتَوَهُّمِ الْإِمْتِدَادِ فِي آخِرِ الْوَقْتِ بِوَقْفِ الشَّمْسِ، لِتَوَهُّمِ الْإِمْتِدَادِ، بموجب وہم کے پائے جانے کے، کس چیز کا وہم بھئی؟ اس آخری وقت میں لمبا ہونے کا وہم پائے جانے کی وجہ سے کہ ہو سکتا ہے یہ آخری وقت لمبا ہو جائے بھئی، بِوَقْفِ الشَّمْسِ، سورج کے رک جانے کی وجہ سے، وَالْمُرَادُ بِآخِرِ الْوَقْتِ الَّذِي لَا يَسَعُ فِيهِ إِلَّا مِقْدَارُ التَّحْرِيمَةِ اور آخری وقت کے ذریعے مراد وہ وقت ہے الَّذِي لَا يَسَعُ فِيهِ إِلَّا مِقْدَارُ التَّحْرِيمَةِ جس میں گنجائش نہ ہو مگر صرف تحریمہ کی مقدار کی، یعنی صرف اس تحریمہ کی مقدار کی اس میں گنجائش ہوتی ہے اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں، فَإِذَا حَدَثَتْ هَذِهِ الْمُوجِبَاتُ فِي هَذَا الْوَقْتِ جب پائے گئے یہ والے موجبات اس وقت کے اندر، لَزِمَتْهُمُ الصَّلَاةُ تو ان سب پر کیا ہو جائے گی؟ نماز لازم ہو ان سب پر نماز لازم ہو جائے گی، موجبات کیا ہیں مولانا؟ بھئی، یہ بچے کا بالغ ہونا، کافر کا مسلمان ہونا، حائضہ کا پاک ہونا بھئی، یہ واجب کر دیتی ہیں چیز، جب یہ پاک ہو گئے یا مسلمان ہو گئے یا بالغ ہو گئے تو پھر ان پر کیا ہو جاتی ہے؟ نماز واجب ہوتی ہے، تو جب یہ موجـ تو یہ موجبات ہیں مولانا!
اچھا، تو کہتے ہیں: فَإِذَا حَدَثَتْ هَذِهِ الْمُوجِبَاتُ فِي هَذَا الْوَقْتِ لَزِمَتْهُمُ الصَّلَاةُ، جب پائے گئے یہ والے موجبات اس وقت کے اندر لَزِمَتْهُمُ الصَّلَاةُ تو نماز ان پر لازم ہو جائے گی، لِإِحْتِمَالِ إِمْتِدَادِهِ بِوَقْفِ الشَّمْسِ سورج کے رکنے سے وقت کے لمبا ہو جانے کے احتمال کی وجہ سے، فَإِنِ امْتَدَّ فِي الْوَاقِعِ يُؤَدِّيهِ فِيهِ وَإِلَّا يَقْضِيهَا اگر با لمبا ہو گیا واقعہ کے اندر وہ وقت تو يُؤَدِّيهِ فِيهِ تو اس کے اندر اس کو نماز کو ادا کر لے، وَإِلَّا يَقْضِيهَا ورنہ کیا کرے اس کی؟ قضا کرے گا، وَهَذَا الْوَقْفُ أَمْرٌ مُمْكِنٌ خَارِقٌ لِلْعَادَةِ اور یہ وقف، یہ ٹھہر جانا جو ہے سورج کا، یہ کیسا امر ہے؟ مُمْكِنٌ جو کہ ممکن ہے، خَارِقٌ لِلْعَادَةِ اور خرقِ عادت ہے، خرقِ عادت بھئی خرق، خرق کا معنیٰ ہوتا ہے پھاڑنا بھئی، پھاڑنا، تو خرقِ عادت جو عادت کو پھاڑنے والا ہے بھئی، یعنی بطورِ کرامت اور معجزے کے طور پر بھئی، نبی ہے تو بطورِ معجزے کے، عام امتی ہے تو بطورِ کرامت کے بھئی، کرامت کیا ہوتی ہے؟ خرقِ عادت ہوتی ہے بھئی، ایک چیز عادت کے خلاف خلافِ عادت ایک چیز ظاہر ہوتی ہے مولانا! عادت میں ویسا، جیسے دیکھو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کے دو ٹکڑے فرما دیے بھئی، اب یہ خرقِ عادت ہے، عادت میں تو ایسا نہیں ہوتا، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بطورِ معجزے کے اس کے کتـ دو ٹکڑے فرما دیے بھئی دو ٹکڑے، تو یہ جو معجزہ ہے، کرامت ہے، یہ کیا ہوتی ہے؟ خرقِ عادت ہوتی ہے، عادت کے خلاف ہوتی ہے، عادت میں ایسا نہیں ہوتا۔
تو کہتے ہیں: وَهَذَا الْوَقْفُ أَمْرٌ مُمْكِنٌ خَارِقٌ لِلْعَادَةِ اور یہ وقف، یہ ٹھہرنا جو ہے سورج کا، یہ کیسا امر ہے جو ممکن ہے اور خرقِ عادت ہے، كَمَا كَانَ لِسُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ جیسے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے تھا، یہ وقف ان کے لیے ہوا تھا، حَيْثُ عُرِضَتْ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ.
کہتے ہیں: حضرت سلیمان علیہ السلام کو اپنے والد حضرت داؤد علیہ السلام سے بطورِ وراثت کے ایک ہزار گھوڑے ملے تھے بھئی، تو ایک دن یہ تخت پر بیٹھے اور گھوڑوں کو حاضر کرنے کا حکم دیا، گھوڑے ان کے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں، آپ ان کے معائنے میں مشغول ہیں بھئی، یہاں تک کہ ہوتے ہوتے عصر کا وقت نکل گیا اور سورج بالکل ڈوبنے والا تھا، اس وقت ان کی توجہ ہوئی کہ ہو یہ تو عصر کا وقت نکل گیا ہے، میری عصر کی نماز، عصر کی عبادت رہ گئی ہے بھئی، تو بہت ہی زیادہ غمزدہ ہوئے اور حکم دیا کہ ان گھوڑوں کو میرے پاس دوبارہ لے کر آؤ بھئی، ان گھوڑوں کی وجہ سے میری کیا ہو گئی ہے؟ نماز فوت ہو گئی ہے، چنانچہ بطورِ کفارے کے ان گھوڑوں کو انہوں نے تلوار کے ذریعے قتل کرنا اور ان کی پنڈلیوں کو کاٹنا شروع کر دیا بطورِ کفارے کے اور قربانی کے طور پر بھئی، تاکہ اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہو جائیں بھئی، مال کی محبت نے کیا کیا تھا مجھے؟ مشغول رکھا اور میری عبادت جاتی رہی، تو اب اسی کو بطورِ کفارے کے پیش کر رہے ہیں بھئی، تو چنانچہ اس ان گھوڑوں کو انہوں نے کیا کر دیا؟ سب کو قربان کر دیا، گھوڑوں کو قربان کر دیا، اور پھر اللہ تعالیٰ ان کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے بھئی سورج کو واپس لوٹایا اور انہوں نے پھر عصر کے اپنی عبادت ادا ادا کی بھئی، عصر کی نماز پڑھی بھئی، اور گھوڑے جو تھے وہ جن کے گھوڑے سارے قربان کر دیے، تو بدل کے طور پر اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کر دیا بھئی، سمجھ میں آیا؟ ہوا ان کے لیے مسخر ہو گئی، ان کے تخت کو اٹھا کر چلتی، جدھر کو وہ چاہتے ادھر لے جاتی بھئی۔
تو دیکھو، اس واقعے سے یہ پتہ چلا بھئی یہ کیا ہے؟ یہ وقف بلکہ اس واقعے کے اندر تو سورج کے واپس آنے کا ذکر ہے، مولانا۔ جب واپس آنا اس کا ممکن ہوا، معلوم ہوا روکنا تو بطریق روکنا تو بطریقِ اولیٰ ممکن ہے۔
تو کہتے ہیں: کما کان لسلیمان علیہ السلام، جیسے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے یہ وقف ہوا تھا حیث عرضت علیہ بالعشی الصافنات الجیاد۔ اس طور پر کہ ان کے سامنے پیش کیے گئے، بھئی عشی کہتے ہیں دن کے آخری حصے کو بھئی۔ دن کے آخری حصے کے اندر ان پر صافنات، صافنات صافن وہ گھوڑا کہ جو تین قدموں پر کھڑا ہے اور چوتھے قدم کا اس نے کھر کا کنارہ صرف زمین پر لگایا ہوا ہے، پوری طرح چوتھا پاؤں نیچے نہ لگایا ہو بھئی۔ تو اس گھوڑے کو کیا کہتے ہیں؟ صافن بھئی۔ صفن یصفن کے معنی تین پاؤں اور ایک کھر کے کنارے پر کھڑا ہونا۔ تو مراد گھوڑے ہیں، مولانا۔ جب ان کے سامنے گھوڑے پیش کیے گئے الجیاد عمدہ بھئی، اعلیٰ تیز رفتار گھوڑے بھئی، ان کے سامنے پیش کیے گئے۔ فکادت الشمس تغرب، پس قریب تھا کہ سورج غروب ہو جاتا۔
سمجھ میں آیا؟ سورج غروب ہو جاتا اور ان کی نماز ادھر رہ گئی تھی۔ فضرب سوقہا و اعناقہا، پس انہوں نے مارا ان کی پنڈلیوں کو اور ان کی گردنوں کو بھئی۔ سوق جمع ہے ساق کی، پنڈلی کو کہتے ہیں۔ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر مارنا شروع کیا، تلوار سے کاٹ رہے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ فرد اللہ، رد اللہ الشمس حتی صلی العصر، پھر چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی، انہوں نے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے سورج کو واپس لوٹایا، یہاں تک کہ انہوں نے عصر کی نماز پڑھی۔ و سخر لہ الريح مکان الخیل، اور پھر گھوڑے چونکہ سارے قربان کر دیے تھے بھئی اللہ کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے، تو اللہ نے ان کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا مکان الخیل گھوڑوں کی جگہ۔ خیل یاد رکھیے یہ گھوڑے ایک گھوڑے کو نہیں کہتے، گھوڑوں کی جماعت کو کہتے ہیں بھئی۔ و ہذا بنص القرآن، اور یہ کس کے ذریعے ثابت ہے؟ نصِ قرآن کے ذریعے، قرآنی نص سے یہ بات ثابت ہے بھئی۔
اسی طرح دوسرا واقعہ ذکر کر رہے ہیں وقف کا، کہتے ہیں: و قد کان لیوشع علیہ السلام، اور یہ وقف کس کے لیے ہوا تھا؟ حضرت یوشع علیہ السلام کے لیے بھئی۔ حضرت یوشع ابن نون علیہ السلام بھئی اللہ کے پیغمبر گزرے ہیں۔ یہ قومِ جبارین کے ساتھ جہاد کے اندر مصروف تھے اور جمعے کا دن ہے، جہاد میں مصروف ہیں، قدس پہاڑی کے اوپر قبضے کے لیے۔ تو یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کا وقت قریب آ گیا، مولانا۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت تھی، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے اندر ہفتے کی رات اور ہفتے کے دن میں جہاد ممنوع تھا، مولانا۔ اس دن میں کیا تھا؟ جہاد ممنوع تھا، تو اب جمعے کا سورج غروب ہونے والا ہے بھئی، ہفتے کی رات شروع ہونے والی ہے۔ آپ جانتے ہیں بھئی، اسلامی شریعت میں رات پہلے آتی ہے، جیسے رمضان آتا ہے بھئی، تو پہلے روزے اس تراویح اسی رات پڑھی جاتی ہے، اگلے دن پھر روزہ ہوتا ہے۔ تو لہذا ہفتے کی رات آنے والی ہے، اب اگر وہ سورج ڈوب جاتا ہے، پھر تو بھئی پھر لڑائی کو روکنا پڑے گا اور ایک دن پورا مل جائے گا دن رات دشمن کو، وہ پھر پورا مقابلے کی تیاری کر کے آ جائے گا۔ تو اس وقت انہوں نے دعا کی کہ "اے اللہ! اس سورج کو ہمارے لیے روک دیجیے۔" چنانچہ اللہ تعالیٰ نے روک دیا، یہاں تک کہ انہوں نے اس قدس پہاڑی کو کیا کر لیا؟ فتح کر لیا۔ قدس ایک پہاڑی ہے بھئی، فلسطین کی سرزمین میں، بیت المقدس کے قریب بھئی۔
کہتے ہیں: و قد کان لیوشع علیہ السلام، اور یہ وقف جو ہے حضرت یوشع علیہ السلام کے لیے ہوا تھا، حتی فتح القدس قبل دخول لیلۃ السبت، یہاں تک کہ انہوں نے قدس پہاڑی کو فتح کر لیا ہفتے کی رات کے داخل ہونے سے پہلے ہی۔ و قد کان لنبینا علیہ السلام، اور یہ وقف جو ہے، یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی ہوا تھا، حین فاتت صلاۃ العصر من علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کما ذکر فی کتاب السیر۔ بھئی ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گود میں سر رکھے لیٹے ہوئے تھے کہ آپ پر وحی کے آثار ظاہر ہوئے بھئی، وحی نازل ہو رہی تھی آپ پر بھئی۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی طرح بیٹھے رہے اور وحی نازل ہوتی رہی، یہاں تک کہ سورج غروب ہوا، یا غروب ہونے کے قریب ہو گیا۔ غروب ہو گیا سورج بھئی۔ جب وحی ختم ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ "کیا تم نے عصر کی نماز پڑھ لی ہے؟" انہوں نے جواب دیا کہ "نہیں۔ حضرت! میں نے تو ابھی نہیں پڑھی۔" تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعا کی کہ "اے اللہ! یہ آپ کے اور آپ کے رسول کی اطاعت میں مصروف تھے، اس میں مشغول تھے، آپ ان کے لیے سورج واپس لوٹا دیجیے۔" چنانچہ کہتے ہیں بھئی سورج واپس نکل آیا اور بلند ہوا اور پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عصر کی نماز ادا کی اور پھر وہ اسی طرح ڈوب گیا بھئی۔
تو دیکھو اس میں بھی کیا ہے؟ سورج کا رکنا نہیں بلکہ واپس آنا اس سے ثابت ہوا، تو جب واپس آنا ممکن ہے تو رکنا اس کا بطریقِ اولیٰ ممکن ہے بھئی۔ یہ سب اللہ کی قدرت میں ہے، مولانا۔
اچھا، تو یہ اور یہ وقف جو ہے سورج کا، یہ حضور علیہ السلام کے لیے بھی تھا، حین فاتت صلاۃ العصر من علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جبکہ فوت ہو گئی تھی عصر کی نماز حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، کما ذکر فی کتاب السیر، جیسے کہ مذکور ہے کتاب السیر کے اندر بھئی۔
و ہذا بخلاف الحج۔ یہ ایک اشکال کا جواب دے رہے ہیں بھئی، ایک اعتراض کا جواب۔ بھئی ابھی تک جو انہوں نے باتیں ذکر کیں اور جو واقعات ذکر کیے بھئی، بتلایا انہوں نے کہ بھئی دیکھیے یہ جو وجوبِ ادا کے لیے قدرتِ ممکنہ جو ہے، وہ اس کا تحقق ضروری نہیں ہے بلکہ اس کا توہم بھی کافی ہے، بلکہ اس کا توہم بھی کافی ہے۔ توہم بھئی، جیسے آپ نے دیکھا بھئی، کسی نے کوئی شخص مسلمان ہوا اور ظہر کی نماز کا صرف اتنا وقت باقی ہے جس کے اندر وہ صرف کیا کہہ سکتا ہے؟ تکبیرِ تحریمہ کہہ سکتا ہے، تو آپ یہاں پر قدرتِ ممکنہ کا تحقق نہیں ہے، لیکن اس کا توہم ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ کیا فرما دیں؟ اس وقت کو طویل فرما دیں۔ تو صرف اس توہم کی بناء پر ہی بھئی، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ اس شخص پر ظہر کی نماز واجب ہو گئی اور پھر اگر وہ امتداد پایا جائے اور وہ وقت طویل ہو جائے، تو پھر تو اس میں ادا کر لے ورنہ پھر کیا کرے گا بعد میں؟ قضا کر لے گا بھئی، قضا کر لے گا۔
تو کہتے ہیں آپ نے بتلایا بھئی کہ نماز کے مسئلے میں کہ وہاں پر یہ قدرتِ ممکنہ کے توہم سے کس کا حکم لگا دیا؟ وجوب کا حکم لگا دیا، تو حج کے لیے بھی یہاں قدرت کے توہم سے کیا حکم لگا دینا چاہیے؟ وجوب کا حکم لگانا چاہیے اور حج کو ہر شخص پر فرض قرار دے دینا چاہیے۔ کیونکہ یہاں بھی توہم ہے کہ اللہ تعالیٰ کیا فرما دیں؟ اس شخص کو زادِ راہ اور سواری عطا فرما دیں بھئی۔ توہم جس کے پاس نہیں بھی ہے، توہم تو ہے کہ اس کو اللہ کیا فرما، نصیب فرما دیں؟ زادِ راہ اور سواری، تو توہم تو اس میں بھی ہے۔ لہذا وہاں بھی کیا ہونا چاہیے؟ حج کو توہم کی بناء پر فرض ہونا چاہیے، یعنی ہر شخص پر اور توہم تو ہر شخص کے لیے موجود ہے، تو ہر شخص پر کیا ہونا چاہیے؟ حج فرض ہونا چاہیے بھئی۔ کہتے ہیں: نہیں بھئی! حج کے اندر یہ حکم ہم نے اس لیے نہیں دیا کہ اگر ہم حج کے اندر بھی یہی حکم لگا دیا جائے، تو پھر تو لوگ بڑے حرج میں مبتلا ہو جائیں گے۔ لوگ کس میں؟ ہر شخص پر حج فرض قرار دے دیا جائے اور اس کے پاس استطاعت نہ بھی ہو پھر بھی حج فرض ہے، پھر تو لوگ کس میں مبتلا ہو جائیں گے؟ بڑے حرج میں مبتلا ہو جائیں گے بھئی، حرجِ عظیم کے اندر بھئی۔
تو کہتے ہیں: و ہذا بخلاف الحج، اور یہ حج کے خلاف ہے، فانہ لم یعتبر فیہ توہم الزاد و الراحلۃ، اس لیے کہ اس کے اندر اعتبار نہیں کیا گیا توہمِ زاد اور توہمِ راحلہ کا۔ زادِ راہ اور سواری کے توہم کا اعتبار اس میں نہیں کیا گیا، مع ان اکثر الناس یحجون بلا زاد و راحلۃ، باوجود اس کے کہ بہت سے لوگ حج کرتے ہیں بغیر زاد اور راحلہ کے۔ بھئی دیکھیے نا حج کے اندر تو نماز کے اندر تو توہم تھا کہ شاید اس وقت کو اللہ تعالیٰ کیا فرما دیں؟ طویل فرما دیں، اور یہ وقت کا طویل ہونا تو بے انتہا نادر ہے بھئی، انہوں نے بھی دو تین واقعات ذکر کیے بھئی، بے انتہا نادر ہے۔ تو جب وہاں آپ نے اس توہم کا اعتبار کیا، تو حج کے اندر بطریقِ اولیٰ اس توہم کا اعتبار کرنا چاہیے، اس لیے کہ اس میں تو بہت سے لوگ بغیر زاد، بغیر زاد اور راحلہ کے حج کرتے بھی ہیں، اس کا تو اکثر وقوع بھی ہوتا رہتا ہے۔ تو یہ تو اکثر اس کا وقوع ہوتا ہے، اور ادھر کیا تھا؟ وقت کا ٹھہر جانا اور لمبا ہو جانا، وہ تو انتہائی نادر تھا، وہاں آپ نے اس توہم کا اعتبار کیا اور یہاں بھی پھر آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ توہم کا کہتے ہیں: نہیں بھئی! توہم کا اعتبار نہیں کریں گے، مع ان اکثر الناس یحجون بلا زاد و راحلۃ، باوجود اس کے کہ بہت سے لوگ حج کرتے ہیں بغیر زاد اور بغیر راحلہ کے، لان فی اعتبار ذلک حرجا عظیما، اس لیے کہ اس کا اعتبار کرنے میں کیا ہے؟ حرجِ عظیم ہے بھئی، لوگ بڑی مشقت میں پڑھ جائیں گے بھئی۔ و لو اعتبر ذلک لا تظهر ثمرتہ فی وجوب القضاء، اور اگر اس کا اعتبار کر بھی لیا جائے بھئی، توہمِ زاد اور راحلہ کا اعتبار کر بھی لی جائے، اس کی بناء پر حج کو فرض بھی قرار دے دیا جائے، لا تظهر ثمرتہ فی وجوب القضاء، تو پھر بھی اس کا ثمرہ وجوبِ قضا کی صورت میں ظاہر نہیں ہوگا بھئی۔ کیونکہ وہاں پر توہم کی وجہ سے پھر کیا واجب ہو جاتی تھی نماز کی؟ قضا واجب، تو یہاں پر قضا کے وجوب کی صورت میں ثمرہ ظاہر نہیں ہوگا، لان الحج لا یقضی، اس لیے کہ حج کی قضا نہیں کی جاتی، حج تو جب بھی کرے گا، کیا کہیں گے؟ یہ اس نے کیا کیا ہے؟ حج ادا کیا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ثمرہ ظاہر نہیں ہوگا بھئی۔
و إنما تظهر فی حق الإثم و الإیصاء، ہاں البتہ ثمرہ ظاہر ہوگا مولانا! گناہ کے حق میں اور وصیت کرنے کے حق میں کہ یہ شخص کیا ہوگا؟ گناہگار ہوگا اور اس پر کیا واجب ہوگا؟ وصیت کرنا، اپنے وارثوں کو وصیت کرے کہ میری طرف سے حج کروا دینا، میری طرف سے۔ تو اس پر وصیت کا کرنا واجب ہو جائے گا، گناہ ہوگا اس کو اگر نہیں کرے گا بھئی۔ و ذلک غیر معقول، اور یہ بات ناقابلِ فہم ہے بھئی کہ ایک شخص جب وہ حج کی اس کی استطاعت ہی نہیں تھی، قدرت ہی نہیں تھی، وہ خود حج کر نہیں سکتا تھا، تو پھر اس پر کیا کیا جائے؟ وصیت کرنا یا وصیت کرنے واجب قرار دیا جائے کہ وہ کیا کرے؟ ضرور بالضرور کیا کرے؟ حج کی وصیت۔ بھئی وہ خود قادر ہوتا تو خود ہی کر لیتا، وصیت کی کوئی ضرورت ہوتی؟ پھر تو وصیت کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی اور پھر یا اور یا گناہگار ہوگا بھئی، جب وہ قادر ہی نہیں تھا تو یہ کہا جائے وہ گناہگار ہوگا، یہ بھی بات سمجھ میں آنے والی نہیں ہے بھئی۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟
و کامل و ہو القدرۃ المیسرۃ للأداء، جی۔ بتلایا تھا بھئی مولانا! یہ قدرت دو قسم پر ہے، ایک مطلق ہے و کامل، اور دوسری کیا ہے؟ کامل ہے۔ تو اس کا عطف وہ مطلق پر ہوا مولانا، قدرتِ کاملہ۔ اور وہ کون سی ہے؟ کہتے ہیں: و ہو القدرۃ المیسرۃ للأداء، اور وہ قدرتِ میسرہ ہے ادا کرنے کے لیے، یعنی وہ قدرت جو ادا کو آسان کرنے والی ہے۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ کہتے ہیں: عطف علی قولہ مطلق، یہ ماتن کے قول، جو مصنف کا قول 'مطلق' تھا، اس پر یہ عطف ہے 'کامل' کا۔ و ہذا ہو القسم الثاني، اور یہ ہے وہ قسمِ ثانی بھئی۔ و یسمی ہذا میسرۃ، بھئی اس کو قدرتِ میسرہ کیوں کہتے ہیں؟ میسرہ کا معنی تو آسان کرنے والی، اس میں فاعل کا صیغہ ہے نا؟ وہ قدرت جو آسان کرنے والی ہے، کیا معنی؟ کیا آسان کرنے والی ہے؟ کہتے ہیں: اس کو میسرہ اس لیے کہتے ہیں لان ہو جعل الأداء یسیرا سہلا علی المكلف، اس لیے کہ یہ قدرت جو ہے ادا کو آسان کر دیتی ہے، سہل کر دیتی ہے مکلف پر، مکلف پر ادائیگی کیا ہو جاتی ہے؟ سہل اور آسان، تو کس کی وجہ سے ہوتی ہے؟ قدرتِ میسرہ کی وجہ سے، تو قدرتِ میسرہ نے کیا کر دیا؟ آسانی کر دی۔ لا بمعنی انہ قد کان قبل ذلک عسیرا ثم یسرہ اللہ تعالیٰ، بھئی یہ اس معنی میں نہیں کہ یہ کیا تھا؟ یہ واجب کس طرح تھا پہلے؟ مشکل تھا، ثم یسرہ اللہ تعالیٰ بعد ذلک، بعد میں اس کو اللہ نے کیا کر دیا؟ آسان فرما دیا۔ بل بمعنی، بلکہ بایں معنی کہ انہ اوجب من الابتداء بطریق اليسر و السہولۃ، کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو واجب کیا ہے ابتداءً ہی یسر اور سہولت کے طریقے پر، ابتداءً ہی آسانی کے طریقے پر اس کو واجب کیا ہے۔ کما یقال، کہتے ہیں جیسے کہا جاتا ہے، عربی کے اندر کہتے ہیں: ضیق فم ركیتی، ضیق فم ركیتی، کنویں کا منہ تنگ کرو، کنویں کا منہ تنگ رکھو، تنگ کرو۔ رکیہ کنویں کو کہتے ہیں بھئی جس میں پانی ہو۔ أی اجعلہ ضیقاً من الابتداء، تو اس کا یہ معنی نہیں ہوتا کہ اس کنویں کا منہ پہلے کھلا تھا اب اس کو تنگ کرو، بلکہ معنی یہ ہوتا ہے کہ ابتداء سے ہی کیا بناؤ اس کا منہ؟ تنگ بناؤ بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ أی اجعلہ ضیقاً من الابتداء، یعنی اس کو تنگ بناؤ ابتداء سے ہی، لا انہ کان واسعاً ثم یضیقہ، یہ معنی نہیں ہے کہ وہ پہلے اس کا منہ چوڑا تھا، کھلا تھا، وسیع تھا، پھر اس کو وہ کیا کر دیتا ہے؟ پھر وہ اس کو تنگ کرے گا۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں بھی قدرتِ میسرہ میں بھی اسی طرح ہے کہ یہ نہیں کہ پہلے سے وہ واجب مشکل تھا، قدرتِ میسرہ کی وجہ سے کیا ہو گیا؟ آسان ہو گیا، بلکہ اس کو ابتداءً ہی کیسی کی ہے اللہ تعالیٰ نے؟ یسر اور سہولت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے واجب فرمایا ہے، یسر اور سہولت ہے تو وہ واجب ہے، یسر اور سہولت نہیں تو وہ بھی واجب نہیں ہے بھئی۔
کہتے ہیں: و ہذہ القدرۃ شرط فی اکثر العبادات المالیۃ دون البدنیۃ، اور یہ قدرت شرط ہے اکثر عباداتِ مالیہ کے اندر نہ کہ بدنیہ کے اندر۔ یہ قدرتِ میسرہ جو ہے مولانا، کس کے اندر شرط ہے؟ اکثر عباداتِ مالیہ کے اندر قدرتِ میسرہ کا ہونا ضروری ہے، یہ اس کے لیے ایک شرط ہے۔ عباداتِ بدنیہ میں نہیں، ان کے اندر قدرتِ میسرہ نہیں بلکہ کس کا اعتبار ہے؟ قدرتِ ممکنہ کا اعتبار ہے، اور البتہ یہ جو مالی عبادتیں ہیں ان میں کون سی قدرت ہے اکثر؟ قدرتِ میسرہ ہے بھئی۔ وجہ یہ ہے بھئی، عباداتِ بدنیہ کے اندر نہیں رکھا، عباداتِ مالیہ کے اندر اکثر کے اندر قدرتِ میسرہ کا اعتبار کیوں ہے بھئی؟ وجہ یہ ہے مولانا! کہ مال انسان کو بڑا محبوب ہے، مال ہاتھ سے نکلے یہ انسان کو بڑا بوجھ لگتا ہے، بڑا مشکل کام لگتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ بڑا مشکل لگتا ہے، تو لہذا اس لیے ان کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے کس ان کا وجوب کس طریقے پر کیا ہے؟ یسر کے طریقے پر کیا ہے، سہولت اور آسانی کے طریقے پر کیا ہے۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: و ہذہ القدرۃ شرط فی اکثر العبادات المالیۃ، اور یہ قدرت شرط ہے اکثر عباداتِ مالیہ کے اندر، دون البدنیۃ، نہ کہ بدنی عبادتوں کے اندر۔
و دوام ہذہ القدرۃ شرط لدوام الواجب، اور اس قدرت کا دوام شرط ہے واجب کے دوام کے لیے بھئی۔ اس قدرت کا دوام شرط ہے کس کے لیے؟ دوامِ واجب، تو واجب اس وقت تک ہی ہے جب تک یہ قدرتِ میسرہ ہے، اور جب قدرتِ میسرہ ختم ہو جائے گی وہ واجب بھی ختم ہو جائے گا، وہ واجب رہے گا ہی نہیں سرے سے بھئی۔ وہ واجب اچھا، تو اس قدرت کا دوام شرط ہے کس کے لیے؟ دوامِ واجب، تو واجب اس وقت تک ہی ہے جب تک یہ قدرتِ میسرہ ہے اور جب یہ قدرتِ میسرہ نہیں تو وہ واجب بھی نہیں۔
یاد رکھیے! دو تین قیمتی باتیں یاد رکھیے بھئی۔ یہ جو قدرتِ ممکنہ ہے، یہ شرطِ محض ہے۔ اور یہ جو قدرتِ میسرہ ہے، یہ علت کے درجے میں ہے، یہ ایسی شرط ہے جو کس کے درجے میں ہے؟ علت کے درجے میں ہے بھئی۔ جلدی جلدی اشارات لکھ لو بس بھئی، پورا لکھنا مشکل ہے بھئی۔
یہ جو قدرتِ متمکنہ ہے، یہ شرطِ محض ہے اور قدرتِ میسرہ جو ہے وہ ایسی شرط ہے جو علت کے درجے میں ہے۔ علت کے درجے میں ہے۔ بات سمجھ میں آئی؟ اور یہ علت کے درجے میں کیوں ہے؟ وجہ یہ کہ اس لیے کہ واجب کو کا ممکن تھا وہ چیز واجب ہوتی مولانا، کس طریقے پر واجب ہوتی؟ امکان کے طریقے پر، یعنی اتنی قدرت ہوتی جس میں کیا کیا جا سکتا ہے؟ کہ اس کو ادا کیا جا سکتا ہے، لیکن اس قدرتِ میسرہ نے بدل دیا اس واجب کو عسر سے کس کی طرف؟ یسر کی طرف، یعنی یسر کے طریقے پر وہ واجب ہوئی حالانکہ عسر کے طریقے پر بھی وہ واجب ہو سکتی تھی بھئی۔
کس طریقے پر؟ وہ عبادت بھئی جن کے اندر کیا ہے قدرتِ میسرہ شرط ہے، وہ عبادت عسر کے، تنگی کے طریقے پر بھی تو واجب ہو سکتی تھی لیکن وہ کس طریقے پر واجب ہوئی ہے؟ یسر کے طریقے پر اور یسر کس کے اندر ہے؟ قدرتِ میسرہ کے اندر ہے، تو گویا کہ قدرتِ میسرہ نے کیا کیا اس کے عسر کو کس کی طرف بدل دیا؟ یسر کی طرف بدل دیا۔ تو دیکھو یہ علت کے درجے میں ہوئی مولانا، اس عسر کو اس یسر کے لیے یہ کیا ہوئی؟ علت ہوئی مولانا۔ قدرتِ میسرہ آئے گی تو یسر آ جائے گا، قدرتِ میسرہ نہیں تو یسر بھی... اور یہ واجب کس طریقے پر ہے؟ یسر کے طریقے پر ہے اور یسر کس کی وجہ سے ہے؟ قدرتِ میسرہ میں یسر ہے، قدرتِ متمکنہ کے اندر تو یسر نہیں، تو معلوم ہوا یہ علت کے درجے میں ہے یہ یسر کے لیے مولانا، تو اس کی وجہ سے وہ واجب کس طریقے پر آئے گا؟ یسر کے طریقے پر آئے گا، تو یہ علت کے درجے میں ہے بھئی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ قدرتِ متمکنہ وہ علت کے درجے میں نہیں ہے وہ شرطِ محض ہے، اس لیے کہ اس نے واجب کس طریقے پر آیا ہے؟ عسر کے طریقے پر، تو وہاں عسر کے طریقے پر اس نے اس میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی بھئی۔ یعنی امکان کے طریقہ پر کہ اس کا ادا کرنا کیا ہو جائے؟ ممکن ہو، اس امکان میں اس نے کوئی تبدیلی پیدا کی؟ کوئی یسر آیا اس کی وجہ سے؟ کوئی یسر نہیں آیا، تو اس نے کوئی تبدیلی اس کی وجہ سے نہیں آتی بھئی۔ جیسے امکان کے درجے میں واجب ہونا چاہیے تھا ابتداءً ویسے ہی واجب ہوا بھئی اور قدرتِ میسرہ کیا ہے؟ اس کی وجہ سے واجب بھئی عسر کے طریقے پر بھی آ سکتا تھا، لیکن کس طریقے پر آیا؟ یسر کے طریقے پر اور یسر کس میں ہوتا ہے؟ قدرتِ میسرہ کے اندر ہوتا ہے، معلوم ہوا یہ قدرتِ میسرہ کی وجہ سے کیا آیا ہے اس میں؟ یسر آیا ہے، تو یہ علت کے درجے میں ہوئی۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو قدرتِ میسرہ علت کے درجے میں ہے کیونکہ اس نے عسر کو بدل دیا کس سے؟ یسر سے، عسر بھی ہو سکتا تھا لیکن یسر آیا اور کس کی وجہ سے آیا؟ قدرتِ میسرہ بھئی یسر ہوتا ہی اس کے اندر ہے تو ہم کہیں گے اس کی وجہ سے آیا، تو یہ گویا کس کے درجے میں ہوئی؟ علت کے درجے میں ہوئی۔ اور آپ جانتے ہیں مولانا جب تک علت ہوتی ہے معلول ہے، جب علت نہیں معلول بھی نہیں، سورج جب تک نکلا ہوا ہے دن ہے، جب سورج نہیں تو دن بھی... اسی لیے کہا کہ وہ واجب اس کا دوام اس کے لیے ضروری ہے اس علت کا اس قدرتِ میسرہ کا دوام، جب تک قدرتِ میسرہ ہے یعنی سہولت کے ساتھ قدرت ہے وہ واجب ہے، جب تک اور جب یہ قدرتِ میسرہ نہیں یعنی سہولت کے ساتھ ادائیگی نہیں تو وہ واجب بھی... صورت سمجھ میں آ گئی یہ کس کے درجے میں ہے؟ علت کے درجے میں ہے مولانا، علت کے درجے میں ہے۔
تو یہ واجب جو ہوا تھا یہ جو قدرتِ میسرہ کے ساتھ، جس کے اندر قدرتِ میسرہ شریعت نے شرط لگائی ہے، یہ یسر کے طریقے پر واجب ہوا ہے، لہٰذا جب تک یسر ہے یہ واجب ہے، جب یسر نہیں تو یہ واجب بھی نہیں بھئی۔ اور دوسری قدرتِ متمکنہ وہ شرطِ محض ہے مولانا، شرطِ محض ہے۔ تو دیکھو ایک ہوتا ہے ایک ہے چیز کی چیز کا وجود، ایک ہے اس کی بقاء، ایک ہے وجود ایک اس کی کہ بعد میں باقی بھی رہے۔ تو جو شرطِ محض ہے اس کی وجہ سے چیز کا وجود تو آئے گا لیکن بقاء کے لیے اس کا ہونا ضروری نہیں، بقاء کے لیے اس کا ہونا ضروری نہیں، جیسے دیکھیے مولانا نکاح جو ہے، نکاح کے اندر گواہوں کا ہونا شرط ہے لیکن یہ شرطِ محض ہے علت کے درجے میں نہیں، تو لہٰذا نکاح ہونے کے لیے تو گواہوں کا ہونا ضروری لیکن بقائے نکاح کے لیے گواہوں کا باقی رہنا ضروری نہیں ہے بھئی، گواہ مر بھی گئے پھر بھی نکاح اپنے حال پر کیا رہے گا؟ باقی رہے گا۔
معلوم ہوا یہ گواہ جو ہیں نکاح کے لیے شرطِ محض ہیں، ان کی وجہ سے وجودِ نکاح تو وجودِ نکاح کے لیے تو ان کا پایا جانا ضروری ہے لیکن بقائے نکاح کے لیے ان کے لیے ان کا پایا جانا ضروری... کیونکہ یہ شرطِ محض ہے یہ علت کے درجے میں نہیں، جبکہ یہ جو قدرتِ میسرہ ہے یہ کس کے درجے میں ہے؟ یہ علت کے درجے میں ہے اور علت جیسے وجود کے لیے ضروری ہوتی ہے اسی طرح بقاء کے لیے بھی ضروری ہوتی ہے، تو لہٰذا جب تک یہ قدرتِ میسرہ قدرتِ میسرہ آئے گی تو وہ واجب ہو جائے گا اور بقاء بھی اسی کی وجہ سے ہے، جب تک یہ قدرتِ میسرہ باقی رہے گی وہ واجب بھی باقی رہے گا، جب یہ قدرتِ میسرہ ختم ہو جائے گی وہ واجب بھی کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب دیکھیے जरा، کہتے ہیں: ”ودوام هذه القدرة شرط لدوام الواجب“ اور اس قدرت کا دوام وہ شرط ہے واجب کے دوام کے لیے، ”أي ما دامت هذه القدرة باقية يبقى الواجب“ یعنی جب تک یہ قدرت باقی ہے واجب بھی باقی رہے گا، ”وإذا انتفت القدرة انتفى الواجب“ اور جب قدرت منتفی ہو جائے گی تو واجب بھی جب قدرت ختم ہو جائے گی تو واجب بھی ختم ہو جائے گا، ”لأن الواجب كان ثابتا باليسر“ اس لیے کہ یہ واجب کس طریقے پر ثابت تھا؟ یسر، شریعت نے اس کو کس طریقے پر ثابت کیا ہے؟ یسر کے ساتھ، تو لہٰذا جب تک یسر ہے یہ واجب ہے اور جب یسر نہیں رہے گا تو پھر یہ واجب بھی... کیونکہ یہ تو مشروع ہی کس طریقہ کس کے ساتھ تھا؟ یسر کے ساتھ تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یسر کے ساتھ، تو لہٰذا جب تک یسر ہے یہ واجب ہے، جب یسر نہیں واجب بھی نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”لأن الواجب كان ثابتا باليسر“ اس لیے کہ یہ واجب کیا ثابت تھا کس کے ساتھ؟ یسر کے ساتھ، ”فإن بقيت بدون القدرة يتبدل اليسر إلى العسر الصرف“ اس لیے اگر اس کو اگر یہ قدرت کے بغیر باقی رہے یعنی قدرتِ میسرہ کے بغیر باقی رہے ”يتبدل اليسر إلى العسر الصرف“ تو یسر تو بدل جائے گا کس سے؟ محضِ عسر سے بدل جائے گا، شریعت نے تو اس کی کس طریقے پر واجب کیا ہے؟ یسر کے ساتھ واجب کیا ہے، اگر ہم حکم لگا دیں کہ قدرت کے جانے کے بعد بھی یہ کیا ہونا چاہیے؟ ذمے کے اندر باقی رہنا چاہیے، تو پھر مولانا ابھی یسر کے ساتھ ہے یا بغیر یسر کے ہے؟ بغیر یسر... تو شریعت نے تو اس کو مشروع کیا تھا یسر کے ساتھ اور ہم کیا کر رہے ہیں اس کو؟ عسر کے ساتھ واجب کر رہے ہیں، تو یسر تو کس سے بدل گیا؟ عسر... حالانکہ یہ تو عسر کے ساتھ واجب ہی نہیں ہوا تھا، یہ تو واجب ہی کس کے ساتھ ہوا تھا؟ یسر، لہٰذا ہم یہ حکم بھی نہیں لگائیں گے کہ قدرت کے ختم ہونے کے بعد یہ باقی رہے گا بلکہ کیا حکم لگائیں گے؟ یسر ہے تو یہ واجب ہے کیونکہ یہ ہے ہی یسر کے ساتھ، شریعت نے یسر کے ساتھ اس کو مشروع کیا ہے اور جب یسر نہیں تو یہ واجب بھی نہیں رہے گا باقی بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ تو گویا یہ یسر جو ہے، جب یسر نہیں ہے تو گویا عجز آ گیا اور جب عجز آ گیا تو وہ عجز کی صورت میں کیا ہوتا ہے؟ واجب ہی ذمے سے ساقط ہو جایا کرتا ہے، تو یہ تھا یسر کے ساتھ، جب تک یسر ہے ادا پر قادر ہے، جب یسر ختم تو کیا ہو گیا؟ واجب بھی ختم، کیوں؟ کیونکہ عاجز آ گیا اس کی ادائیگی سے گویا کہ اور جب انسان عاجز آ جائے کسی چیز سے تو وہ واجب کیا ہو جاتا ہے اس کے ذمے سے؟ ساقط ہو جاتا ہے۔
تو کہتے ہیں: ”حتى تبطل الزكاة والعشر والخراج بهلاك المال“ یہاں تک کہ باطل ہو جائے گی زکٰوۃ یعنی ختم ہو جائے گی زکٰوۃ اور عشر اور خراج مال کے ہلاک ہو جانے کی وجہ سے، مال... بھئی زکٰوۃ واجب ہوئی ایک شخص پر، وہ تاخیر کرتا ہے یہاں تک کہ زکٰوۃ ادا نہیں کی، کچھ عرصہ گزرا اور اس کا سارا مال ہی ختم ہو گیا، تو عند الاحناف اس سے واجب بھی ختم ہو گیا، اب اس کے ذمے زکٰوۃ واجب ہی نہیں اس لیے کیونکہ سارا مال ختم ہو گیا، اب اس پر اگر ہم کہیں اب بھی اس پر زکٰوۃ واجب ہے، تو یہ یسر کے ساتھ ہے یا عسر کے ساتھ ہے؟ یہ تو عسر کے ساتھ ہے اور حالانکہ شریعت نے تو کس طریقے پر زکٰوۃ واجب کی تھی؟ یسر کے ساتھ، بات سمجھ میں آئی؟ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ نہیں جب مال ختم ہوا تو زکٰوۃ بھی کیا ہو جائے گی؟ ختم ہو جائے گی۔
کہتے ہیں: ”تفريع على قوله“ یہ تفریع ہے ماتن کی اپنے قول مولانا ”ودوام هذه القدرة“ پر، یہ اوپر جو اس سے پچھلا متن آیا تھا کہ اس قدرت کا دوام شرط ہے دوامِ واجب کے لیے، ”يعني أن الزكاة كانت واجبة بالقدرة الميسرة“ یعنی کہ زکٰوۃ جو تھی وہ واجب تھی قدرتِ میسرہ کے ساتھ، ”لأن التمكن فيه يثبت بملك أصل المال“ اس لیے کہ تمکن تو اس کے اندر یعنی قدرت تو اس کے اندر ثابت ہو گئی تھی اصلِ مال کے مالک ہونے کے ساتھ ہی، ”فإذا اشترط النصاب الحولي“ جب اس میں شرط لگا دی گئی نصابِ حولی کی، ”علم أن فيه قدرة ميسرة“ تو معلوم ہوا کہ اس کے اندر کیا ہے؟ قدرتِ میسرہ... بھئی دیکھیے۔
زکٰوۃ کے لیے نصاب کے بقدر مال ہونا چاہیے، زکٰوۃ کے وجود کے لیے کیا ضروری ہے سب سے پہلے؟ کہ نصاب کے بقدر مال ہونا چاہیے تاکہ پتہ چلے یہ شخص مالدار ہے کیونکہ یہ زکٰوۃ دے کر دراصل کیا کرے گا؟ مقصد کیا ہے زکٰوۃ کی ادائیگی کا؟ تاکہ یہ محتاج کو دے اس کو بھی مالدار بنا دے، کیا بنا دے؟ اس کو بھی غنی بنا دے، تو سب سے پہلے اس شخص کا مالدار ہونا تو ثابت ہو جائے اور مالدار ہونا کس کے ذریعے ثابت ہو گا؟ کہ اس کے پاس نصاب کے بقدر مال ہو، تو معلوم ہوا یہ مالدار ہے، پھر تو جب مال آیا مولانا، مثلاً ساڑھے باون تولے چاند، دو سو درہم کے برابر اس کے پاس موجود ہیں بھئی، تو غناء تو ثابت ہو گیا، معلوم ہوا یہ شخص کیا ہے؟ مالدار ہے، مالدار ہے۔
تو اب جب دو سو درہم، تو اب یہ زکٰوۃ ادا کرنے پر فی الحال قادر ہے یا قادر نہیں؟ بتائیے، اس میں سے پانچ درہم دے سکتا ہے یا نہیں دے سکتا؟ تو نفسِ قدرت تو نصاب کا مالک بننے سے ہی آ گئی تھی، لیکن شریعت نے ابھی بھی حکم نہیں لگایا کہ اس پر زکٰوۃ واجب ہے، شریعت نے کیا حکم لگایا؟ کہ اس نصاب پر کتنا وقت گزرنا چاہیے؟ ایک سال، اس لیے کہ محضِ نصاب نہیں بلکہ نصابِ نامی ہونا چاہیے، نامی جس کے اندر نما ہو، بڑھوتری ہو، افزائش ہو مولانا، زیادہ ہونا اس کے اندر کیا ہو؟ پایا جائے، تو لہٰذا نصاب نہیں زکٰوۃ کے لیے نصابِ نامی ہونا ضروری ہے کہ اس کے اندر کیا پائی جائے؟ نما پائی جائے، بڑھوتری پائی جائے، بڑھوتری بھئی، اور اس کے لیے بڑھوتری کے لیے پھر شریعت نے سال کی قید لگا دی اس لیے کیونکہ سال ایک لمبا عرصہ ہے، اس کے اندر بھئی مختلف قسم کے موسم آتے ہیں، موسم بدلتے ہیں، چیزوں کی قیمتوں میں اتارے چڑھاؤ آتا ہے، تو اس کے اندر مال جو ہے عموماً کیا آ جاتی ہے اس کے اندر؟ زیادتی ہو جاتی ہے، تجارت وغیرہ میں لگایا تو اس میں کیا ہو جائے گی؟ زیادتی ہو جائے گی، تو شریعت نے اس کے لیے نما کے لیے سال کی شرط لگا دی اور نماۓ حقیقی کا اعتبار نہیں کیا کہ حقیقتاً بھی اس میں زیادتی ہو، بس سال گزر گیا تو یوں سمجھا جائے گا گویا اس مال کے اندر زیادتی آ چکی ہے تاکہ زکٰوۃ کی ادائیگی آسان ہو بھئی، جب مال کے اندر زیادتی آ گئی، مال تھا مثلاً کتنا؟ پانچ سو درہم، اب اگر وہ بڑھ گیا کتنا ہو گیا؟ پانچ سو پچاس ہو گیا، تو اب جو زکٰوۃ دے گا وہ اصلِ مال میں سے جا رہی ہے یا نفعے میں سے جا رہی ہے؟ تو آسان ہو گیا یا نہیں ہو گیا آسان ادائیگی؟ اصلِ مال اپنی جگہ پر رہے گا اور نفعے میں سے کیا ہو گی؟ زکٰوۃ چلی جائے گی، تو شریعت نے اس لیے کہا تاکہ وہ نصاب نامی ہونا چاہیے اس میں زیادتی آئے تاکہ انسان کے لیے ادائیگی کیا ہو جائے؟ آسان ہو جائے، اب حقیقتِ بڑھوتری کا اعتبار نہیں ہے کہ حقیقتاً بھی بڑھنا چاہیے، مثلاً ایک آدمی بڑھاتا ہی نہیں پانچ سو جو گھر میں رکھا ہوا ہے وہ پانچ سو کے پانچ سو درہم سارا سال گھر میں پڑے رہے، تو حقیقتاً تو نما نہیں آئی لیکن حکماً نما آ چکی، شریعت نے کہا سال گزر گیا یہ اتنی مدت تھی کہ اس کے اندر کیا آ سکتی تھی اس کے اندر؟ بڑھوتری آ سکتی تھی، تو سال گزرنے کے بعد چاہے حقیقتاً بڑھوتری نہیں آئی لیکن حکم ہم نے لگا دیا حکماً اس میں کیا آ چکی؟ زیادتی اور بڑھوتری آ چکی ہے، لہٰذا اب زکٰوۃ تم پر واجب ہے، زکٰوۃ ادا کرو، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا دیکھو محضِ قدرت تو صرف کس کے ذریعے آ رہی تھی؟ نصاب کا مالک بننے سے ہی، لیکن شریعت نے کیا اس کی وجہ سے زکٰوۃ کا حکم دیا یا پورے سال کے گزرنے کے بھی شرط لگائی؟ سال کے گزرنے کے بھی شرط لگائی، معلوم ہوا یہاں یسر چاہتی ہے، شریعت کیا چاہتی ہے؟ یسر، آسانی اور سہولت چاہتی ہے تاکہ بندے کے لیے کیا ہو جائے؟ زکٰوۃ کی ادائیگی آسان ہو جائے، مال کے اندر زیادتی ہو جائے اور وہ اس کو کیا کر دے؟ آرام سے زکٰوۃ کو ادا کر دے، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو معلوم ہوا کہ صرف مال کا مالک بننے سے ہی وہ قادر تھا پھر بھی شریعت نے حکم نہیں لگایا اور سال کے گزرنے کا حکم لگایا، معلوم ہوا شریعت کس طریقے پر زکٰوۃ کو واجب کرنا چاہتی ہے؟ یسر کے طریقے پر بھئی۔
اسی طرح نیز مولانا، تو کہ پورے سال میں ایک ہی دفعہ واجب کرتی ہے شریعت، یہ بھی معلوم ہوا یسر چاہتی ہے شریعت آسانی چاہتی ہے، نیز بڑی تھوڑی سی مقدار ہے بھئی چالیس میں سے صرف ایک درہم یعنی صرف اڑھائی فیصد بڑی تھوڑی سی مقدار مقرر کی، معلوم ہوا یہ بھی یسر کی علامت ہے، تو معلوم ہوا زکٰوۃ واجب ہے کس کے ساتھ؟ قدرتِ... قدرتِ میسرہ کے ساتھ واجب ہے، بات سمجھ میں آئی بھئی؟
”لأن التمكن فيه يثبت بملك أصل المال“ اس لیے کہ قدرت تو اس کے اندر ثابت ہے اصلِ مال کے مالک بننے سے ہی، ”فإذا اشترط النصاب الحولي“ جب شرط لگا دی گئی اس نصاب کی جو سال والا ہو، ”علم“ تو جان لیا گیا ”أن فيه قدرة ميسرة“ کہ اس کے اندر کیا ہے؟ قدرتِ میسرہ ہے، ”فإذا هلك النصاب بعد تمام الحول“ پس جب ہلاک ہو جائے نصاب سال کے پورا ہو جانے کے بعد، ”سقطت الزكاة“ تو زکٰوۃ کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہو جائے گی، ”إذ لو بقيت عليه لم يكن إلا غرما“ اس لیے کہ اگر یہ اس پر باقی رہی تو یہ نہیں ہو گی مگر ضمان، تاوان بھئی، غرم کسے کہتے ہیں؟ ضمان اور تاوان کو کہتے ہیں بھئی، تو یہ اگر اس پر باقی رہے زکٰوۃ ہم یہ حکم نہ لگائیں کہ یہ ساقط ہو گئی، کیا حکم لگا دیں؟ کہ یہ زکٰوۃ اب بھی اس پر باقی ہے، تو یہ تو کیا بن جائے گا؟ ضمان بن جائے گا بھئی اور ضمان تو انسان پر آتا ہے کسی جنایت کرنے کی وجہ سے اور اس نے کوئی جنایت کی نہیں اور بلا وجہ اس پر کیا لازم کرنا لازم کر دیا جائے؟ ضمان لازم کر دیا جائے۔
”وعند الشافعي رحمه الله“ اور امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ”لا تسقط“ یہ ساقط نہیں ہو گی بھئی زکٰوۃ، ”لتأكد الوجوب عليه بالتمكن“ اس پر وجوب کے ثابت ہو جانے کی وجہ سے قدرت کی وجہ سے، بھئی ایک دفعہ جب یہ زکٰوۃ کی ادائیگی پر کیا ہو گیا تھا؟ قادر ہو گیا، سال گزر گیا اور سال گزرنے کے بعد بھی اس کے پاس نصاب موجود ہے وہ زکٰوۃ کی ادائیگی پر قادر ہے، تو زکٰوۃ اس پر واجب ہو گئی مولانا اور ایک دفعہ جب تقرر آ گیا زکٰوۃ کا وجوب ہو گیا تو اب ذمے سے ساقط نہیں ہو گی، یہ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی۔
بس امامِ شافعی رحمہ اللہ کی بات ختم ہوئی، آگے پھر اپنی بات ذکر کر رہے ہیں: ”بخلاف ما إذا استهلكه“ برخلاف اس کے کہ جب اس کو نصاب کو اس نے کیا کر دیا؟ اس نے خود ہلاک کر دیا، اس اس صورت میں ”استقر عليه زجرا له على التعدي“ اس صورت میں اس پر زکٰوۃ باقی رہے گی بطور ڈانٹ کے علی التعدی، زیادتی کرنے پر، زیادتی پر ڈانٹ کے طور پر اس پر یہ زکٰوۃ کیا ہے؟ باقی، اس نے زیادتی کی ہے مولانا فقیر کا حق تھا ہو گیا آ گیا تھا اس کے اندر اور اس کی زیادتی کی وجہ سے کیا ہوا فقیر کا؟ فقیر کا حق اس کی وجہ سے مارا گیا، اس نے تاخیر کی تو لہٰذا یہ تعدی ہوئی، اس نے خود کیا کیا؟ مال کو ہلاک کیا ہے، تو یہ تعدی ہوئی مولانا اور لہٰذا بطور ڈانٹ کے اس پر کیا رہے گی یہ؟ یہ زکٰوۃ اس پر باقی رہے گی بطور زجر کے، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
”وهذا إذا هلك كل النصاب“
یہاں سے ایک اشکال کا جواب دے رہے ہیں بھئی، لیکن اشکال سے پہلے ایک بات یاد رکھیے بھئی، وہ وہ جو پہلے بھی بیان ہو چکی ہے کہ زکٰوۃ کے لیے قدرتِ میسرہ شرط ہے بھئی، زکٰوۃ کے لیے قدرتِ میسرہ شرط ہے اور وہ نما ہے مولانا، نما وہ جو بڑھوتری ہے بھئی، وہ کیا ہے؟ اس سے یسر آئے گا مولانا بڑھوتری سے، اسی لیے تو شریعت نے کیا کیا؟ سال کو اس کا قائم مقام بنا دیا کہ سال کے اندر عموماً کیا ہو جاتی ہے مال کے اندر؟ زیادتی ہو جاتی ہے مولانا، تو اس نما کے قائم مقام سال کو کر دیا۔
حقیقتاً نما نہ بھی ہو پھر بھی حکماً کیا ہے؟ گویا کہ اس کے اندر نما آ چکی ہے، تو زکوٰۃ کے لیے قدرتِ میسرہ شرط ہے، اور قدرتِ میسرہ اس میں کس کے ذریعے آئے گی؟ نما کے ذریعے آئے گی بھئی۔
نما کے ذریعے۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اب یہاں اعتراض ہوتا ہے کہ مصنف نے جو ہے پچھلے متن پر آؤ ذرا دیکھو بھئی! کہ انہوں نے کیا کہا اس قدرتِ میسرہ کا دوام شرط ہے کس کے لیے؟ دوامِ واجب کے لیے، کیونکہ یہ علت کے درجے میں ہے مولانا، تو جب تک قدرتِ میسرہ ہے وہ چیز بھی واجب ہے اور جب قدرتِ میسرہ نہیں تو وہ چیز بھی واجب نہیں، واجب بھی باقی نہیں رہے گا۔
تو یہاں انہوں نے کیا کہا آگے؟ حتی تبطل الزکوٰۃ والعشر والخراج ہلاک المال، یہاں تک کہ زکوٰۃ ختم ہو جائے گی اور عشر اور خراج کس کی وجہ سے؟ مال کے ہلاک ہو جانے کی وجہ سے۔ تو بعضوں نے اشکال کیا کہ بھئی ماتن نے اپنے اس ضابطے پر آگے یہ تفریع کی ہے۔ ضابطہ کیا ذکر کیا تھا؟ کہ قدرتِ میسرہ کا دوام ضروری ہے کس کے لیے؟ واجب کے دوام کے لیے۔ اور آگے تفریع کر رہے ہیں کہ زکوٰۃ ختم ہو جاتی ہے مال کے ہلاک ہو جانے سے۔ تو اس سے یوں معلوم ہوتا ہے گویا کہ وہ نصاب یسر کے لیے ہے، وہ نصاب کس کے لیے ہے؟
نصاب کی جو شرط لگائی گئی ہے وہ یسر کے لیے لگائی گئی ہے۔ حالانکہ ایسی بات تو نہیں ابھی جو ہے نا جیسے بیان کیا مولانا یسر کے لیے نصاب کی شرط یسر کے لیے نہیں ہے بلکہ یسر تو کس سے آتا ہے؟ نما سے آتا ہے۔ لہٰذا یہ تفریع کرنا ہی صحیح نہیں ہے۔ مصنف کا اس ضابطے پر مال کے ہلاک ہو جانے سے زکوٰۃ کے باطل ہونے کی تفریع کرنا یہ صحیح نہیں۔
تو اس قانون پر یہ تفریع کرنا کہ مال کے ہلاک ہو جانے کی وجہ سے زکوٰۃ باطل ہو جائے گی اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے گویا یہ جو مال کی شرط لگائی گئی ہے نصاب کی جو شرط لگائی گئی ہے یہ یسر کے لیے ہے کس کے لیے ہے؟ یسر کے لیے ہے۔ حالانکہ آپ جانتے ہیں مولانا ابھی میں نے بھی بیان کیا کہ یہ نصاب کی شرط یسر کے لیے نہیں ہے مولانا بلکہ یسر کے لیے کس چیز کی شرط ہے؟ نما کی شرط ہے، بڑھوتری ہونی چاہیے مال کے اندر بھئی، اس لیے سال کے گزرنے کی شرط لگائی گئی۔ تو معلوم ہوا قدرتِ میسرہ زکوٰۃ کے اندر کس کے ذریعے آئے گی؟ نما کے ذریعے، کس کے ذریعے؟ وہ نما کے ذریعے آئے گی۔ لیکن ماتن کی عبارت جو انہوں نے اس پر تفریع کی، زکوٰۃ باطل ہو جائے گی کس کی وجہ سے؟ مال کے ہلاک ہو جانے کی وجہ سے۔ معلوم ہوا جب مال ہلاک ہوگا تو وہ کیا ہو جائے گا؟
قدرتِ میسرہ نہ رہی اور قدرتِ میسرہ معلوم ہو کس کے ذریعے آ رہی ہے؟ نصاب کے ذریعے آ رہی ہے یہ کس کی طرف اشارہ ہو رہا ہے یعنی بھئی اس کلام کے اندر؟ یہ کلام تو یہ بتلاتا ہے کہ گویا کہ نصاب کی شرط یسر کے لیے لگائی گئی ہے، نصاب نہ رہا تو یسر نہ رہا، اور یسر تو ضروری تھا، لہٰذا زکوٰۃ بھی نہ رہی بھئی۔
سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو اس پر لہٰذا یہ تفریع کرنا مصنف کی درست نہیں ہے اس لیے کیونکہ یہ نصاب کی شرط یسر کے لیے تو نہیں ہے، یسر کے لیے تو کیا شرط ہے؟ نما ہے بھئی، نما شرط ہے مولانا یسر کی۔ نصاب شرط نہیں ہے یسر کی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں پھر یہ دوبارہ سن لو اشکال۔ اشکال یہ ہوتا ہے کہ ماتن کی عبارت سے ماتن نے قانون ذکر کیا کہ قدرتِ میسرہ جب تک ہے تو واجب رہے گا، قدرتِ میسرہ نہیں تو واجب بھی نہیں۔ اور پھر آگے کہا کہ مال ہلاک ہو جائے تو زکوٰۃ بھی باطل ہو جائے گی، اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ نصاب کی جو شرط لگائی گئی ہے یہ کس کے لیے لگائی گئی ہے؟ یسر کے لیے لگائی گئی ہے کہ یسر ختم ہوگا تو واجب بھی ختم، یسر باقی ہے تو واجب بھی باقی۔ تو نصاب یعنی وہ مال ہلاک ہوا، نصاب ہلاک ہوا تو زکوٰۃ ختم۔
نصاب باقی ہے تو زکوٰۃ بھی معلوم ہو اس سے تو یوں معلوم ہو رہا ہے کہ یہ قدرتِ میسرہ ہے، نصاب کیا ہے؟ قدرتِ میسرہ ہے۔ یہ یسر کے لیے ہے۔ حالانکہ بات تو ایسی نہیں، لہٰذا ماتن کا اس پر تفریع کرنا صحیح نہیں۔ تو شارح اب اس کا جواب دینے لگے ہیں مولانا، کہتے ہیں کہ وھذا اذا ھلک کل النصاب۔ اور یہ حکم اس وقت ہے جبکہ سارا کا سارا نصاب ہلاک ہو جائے بھئی، سارا کا سارا نصاب کیا ہے؟ جب سارا نصاب ہلاک ہوگا تو اس وقت یہ حکم ہے کہ زکوٰۃ کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہو جائے گی مولانا۔
زکوٰۃ کیا ہو جائے گی؟ یہ کس وقت ہے جب سارا کا سارا نصاب ہلاک ہو جائے۔ اس لیے کہ اس صورت کے اندر وہ نما ہی بالکل ختم ہو گئی۔ جب مال ہی سارا ختم ہوا تو نما بھی کیا ہو گئی؟ جو اس مال کے ساتھ نما متعلق تھی وہ بھی کیا ہو گئی؟ ختم ہو گئی مولانا۔ تو اس لیے جو انہوں نے کہا نا کہ سارا مال جب ہلاک ہو جائے گا، سارا نصاب ہلاک ہو جائے گا تو اس صورت میں زکوٰۃ ساقط ہو جائے گی۔ اس لیے کیونکہ میں نے آپ کو بتایا مولانا کہ زکوٰۃ کے میں قدرتِ میسرہ کا ہونا ضروری اور قدرتِ میسرہ کس کے ذریعے آئے گی؟ نما کے ذریعے مولانا، کس کے ذریعے؟ نما کے ذریعے تو یہاں پر جب سارا مال ہی ہلاک ہو گیا تو نما بھی کیا ہو گئی؟ ختم ہو گئی اور نما ہی کی وجہ سے تو قدرتِ میسرہ تھی اور نما بالکل ختم ہو گئی تو قدرتِ میسرہ بھی ختم، جب قدرتِ میسرہ ختم تو زکوٰۃ بھی واجب نہ رہی، ختم ہو گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اذ لو ھلک بعض النصاب بقٰی بقسطہ اس لیے کہ اگر بعضِ نصاب ہلاک ہو جائے تو زکوٰۃ باقی رہے گی اس باقی کے حصے کے بقدرا۔ باقی کے حصے کے بقدرا یہ اس بات کی دلیل ہے مولانا کہ نصاب جو ہے وہ یسر کی شرط نہیں ہے بلکہ بلکہ یسر کے لیے تو کیا شرط ہے؟ نما کا ہونا چاہیے، بڑھوتری اس میں ہونی چاہیے۔
مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ بعضِ نصاب کے ہلاک ہو جانے کے باوجود زکوٰۃ کا باقی رہنا اس کے حصے کے بقدر یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نصاب کی جو شرط لگائی گئی ہے وہ یسر کے لیے نہیں ہے بلکہ یسر کے لیے کیا شرط ہے؟ نما کا ہونا۔ دیکھو مولانا بات نصاب سے سمجھ میں آئے گی۔ ایک شخص ہے اس کے پاس دو سو درہم چاندی تھی سال کی ابتدا میں، سال گزر گیا اس پر مولانا، جب سال گزر گیا تو اس میں نما آگئی، حقیقتاً چاہے نہ آئی ہو لیکن حکماً کیا آگئی اس کے اندر؟ نما آگئی، بڑھوتری آگئی۔
تو اب اس کے اندر شریعت نے کیا حکم لگا دیا؟ اس میں زکوٰۃ واجب ہے، اس میں زکوٰۃ واجب ہے۔ لیکن اب اگر اس نے ابھی ادا نہیں کی تھی کہ نصفِ نصاب ضائع ہو گیا۔ کتنے درہم رہ گئے؟ سو درہم باقی رہ گئے، اب آپ بتائیے یہ سو درہم پورا نصاب ہے؟ یہ پورا نصاب نہیں ہے، تو لہٰذا اب اس صورت میں جب پورا نصاب نہیں اور آپ یہ کہتے ہیں کہ اس سے کیا آپ کا اعتراض کیا تھا کہ اس سے کس چیز کا پتہ لگا؟
کہ نصاب کی شرط کس لیے لگائی گئی ہے؟ یسر کے، اور اس وقت نصاب پورا ہے؟ نہیں جب نصاب پورا نہیں تو یسر بھی نہیں، جب یسر نہیں تو لہٰذا زکوٰۃ بھی واجب نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن ہمارے نزدیک پھر بھی کیا ہے زکوٰۃ اس باقی میں اس کے حصے کے بقدر بینا پڑے گی، کیا کرنا پڑے گی؟ معلوم ہوا جو نصاب کی شرط تھی وہ یسر کے لیے نہیں تھی ورنہ اس وقت تو نصاب نہیں ہے، اس وقت تو زکوٰۃ اس کے اندر واجب نہیں ہونی چاہیے کیونکہ زکوٰۃ واجب ہی کس چیز کے ساتھ ہے؟ قدرتِ میسرہ کے ساتھ ہی۔ آپ نے کیا کہا کہ کیا پتہ لگا اس سے؟ نصاب کس کے لیے ہے؟ یسر تو اس وقت تو نصاب پورا نہیں، لہٰذا یسر نہیں، جب یسر نہیں تو لہٰذا زکوٰۃ بھی واجب نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن فقہائے کرام کیا فرماتے ہیں؟ کہ اس باقی کے اندر بھی اس کے حصے کے بقدر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ مثلاً دو سو درہم میں پانچ درہم دینے تھے تو اب سو میں سے کتنے دینے پڑیں گے؟ ڈھائی درہم دینے پڑیں گے۔
یہ اس بات کی دلیل ہے مولانا کہ باقی نصاب کے اندر زکوٰۃ کا اس کے حصے کے بقدر باقی رہنا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ جو نصاب کی شرط لگائی گئی ہے وہ یسر کے لیے اگر یہ یسر کے لیے ہوتی تو نصاب تو پورا ہی نہیں، یسر ہے ہی نہیں، زکوٰۃ واجب ہی نہیں ہونی چاہیے لیکن پھر بھی فقہاء فرماتے ہیں اس میں باقی کے اندر کیا ہے زکوٰۃ واجب معلوم ہوا نصاب کی شرط یسر کے لیے نہیں ہے بھئی یسر کے لیے نہیں۔
لأن شرط النصاب في الابتداء لم يكن إلا للغنا کہتے ہیں اس لیے کہ جو نصاب کی شرط لگائی گئی تھی ابتدا کے اندر لم يكن إلا للغنا وہ نہیں تھی مگر غنا کے لیے کہ غنا ثابت ہو جائے۔ بھئی دراصل زکوٰۃ کے لیے مقصد یہ ہے کہ پیسے دیے جائیں محتاج کو اور فقیر کو اور اس کو بھی کیا بنا دیا جائے؟ غنی۔ زکوٰۃ آپ دیں گے فقیر کو محتاج کو تو وہ بھی کیا ہو جائے گا؟ غنی ہو جائے گا۔ تو اس زکوٰۃ کے لیے مقصد ہے فقیر کو غنی کرنا اور غنی وہی کرے گا جو خود بھی غنی ہو۔ جو خود بھی کیا ہو؟ جب خود مالدار ہے تو فقیر کو مال دے سکتا ہے اگر خود مالدار نہیں تو فقیر کو کیا غنی کرے گا وہ؟ تو لہٰذا معلوم ہوا یہ جو نصاب کی شرط ہے یہ کس لیے لگائی گئی ہے؟ تاکہ اس شخص کا غنا ثابت ہو جائے، پتہ چل جائے یہ کیا ہے؟ مالدار ہے۔ جب مالدار ہے اب کیا کر سکتا ہے؟ فقیر کو بھی مالدار کر سکتا ہے تو یہ جو نصاب کی شرط لگائی گئی یہ غنا کے لیے لگائی گئی ہے مولانا، یسر کے لیے نہیں لگائی گئی بھئی۔
تو کہتے ہیں کہ اس لیے کہ بات سمجھ میں بھی آرہی ہے کہ نہیں بھئی؟ کہتے ہیں لأن شرط النصاب في الابتداء لم يكن إلا للغنا اس لیے کہ نصاب کی شرط جو ابتدا کے اندر لگائی گئی لم يكن إلا للغنا تو یہ شرط نہیں تھی مگر غنا کے لیے کہ غنا کے لیے ہی للیسری یہ یسر کے لیے نہیں ہے۔ اذ ادا درہم من اربعین كأداء خمسة دراهم من مائتين اس لیے کہ ایک درہم ادا کرنا چالیس میں سے یہ اسی طرح ہے جیسے ادا کرنا پانچ درہم دو سو میں سے۔
جو نصاب کی شرط لگائی گئی ہے وہ یسر کے لیے نہیں لگائی گئی اس لیے کہ یسر جیسے بھئی دو سو درہم میں سے کتنے دینے پڑیں گے؟ پانچ درہم، تو دو سو درہم میں سے پانچ درہم دینے میں جتنی آسانی ہے چالیس درہم میں سے ایک درہم دینے میں بھی وہی آسانی ہے۔
چالیسواں حصہ ہی جا رہا ہے نا! دو سو درہم میں سے بھی کتنا جا رہا تھا؟ چالیسواں، چالیس درہم ہوں اس میں سے بھی ایک دے دیں اتنی ہی سہولت ہے مولانا، بلکہ صرف دس درہم ہوں پھر اس میں سے چالیسواں حصہ یعنی ایک درہم کا چوتھا حصہ، ربعِ درہم۔ اس میں بھی اتنی ہی آسانی ہے۔
لیکن شریعت نے دس درہم میں زکوٰۃ کا حکم نہیں لگایا، شریعت نے بیس چالیس درہم کے اندر زکوٰۃ کا حکم نہیں لگایا، حالانکہ سہولت اس کے اندر بھی اتنی ہی ہے۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ اس کے اندر بھی اتنی ہی سہولت ہے، اس کے اندر جتنا بوجھ پڑتا تھا دو سو میں سے پانچ دینے پہ جتنا بوجھ پڑتا تھا، اتنا ہی چالیس میں سے ایک دینے پر بوجھ پڑتا ہے تو دونوں کے اندر کوئی فرق ہی نہیں۔ لیکن شریعت کہہ رہی ہے کہ دو سو درہم ہوں گے تو پھر اس کے بعد اس پر سال گزرے تو زکوٰۃ ہوگی ورنہ زکوٰۃ تو شریعت دو سو کی درہم کی شرط لگا رہی ہے، تو معلوم ہوا یہ جو دو سو کی شرط ہے یہ یسر کے لیے نہیں ہے ورنہ تو چالیس میں سے ایک درہم واجب کر دیا جاتا، اس میں بھی اتنی سہولت تھی جتنی کتنے ہیں؟ دو سو دو سو میں سے پانچ دینے میں جتنی سہولت لیکن شریعت کہہ رہی ہے چالیس میں نہیں ہے بلکہ کتنے میں ہے کم از کم دو سو درہم۔ حالانکہ سہولت دونوں میں ایک جیسی معلوم ہوا یہ جو نصاب مقرر کیا گیا یہ یسر کے لیے نہیں ہے، یسر تو چالیس میں بھی اسی طرح بات بن جاتی تھی مولانا، بلکہ یہ صرف کس مقصد کے لیے ہے؟ غنا کو ثابت کرنے کے لیے ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں اذ ادا درہم من اربعين كأداء خمسة دراهم من مائتين فإذا وجد الغناء پس جب غنا پائی گئی ثم ہلاک البعض پھر بعض دراہم کیا ہو گئے؟ بعضِ نصاب کیا ہو گیا؟ ہلاک ہو گیا فليسقي الباقي باق بقدر حصته তো یسر جو ہے باقی دراہم کے اندر وہ ابھی بھی باقی ہے ان کے حصے کے بقدر۔
نصاب ہلاک ہو گیا کتنا ہوا ہلاک مولانا میں نے کیا جیسے مثال ذکر کی دو سو درہم میں سے کتنے ہلاک زکوٰۃ سال بھی گزر گیا، زکوٰۃ واجب ہو گئی اس کے بعد اب کتنے ہلاک ہو گئے؟ سو فرض کرو سو ہلاک ہو گئے، جب سو ہلاک ہوئے تو یسر ابھی بھی اسی طرح ہے یا نہیں بھئی؟ اس کے اندر یسر ہے مولانا۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ اسی طرح سہولت ہے جیسے دو سو کے اندر سہولت تھی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ زکوٰۃ وہ یہ ادائیگی والی یسر کی بات کر رہے ہیں وہ جو زکوٰۃ کے لیے یسر تھا قدرتِ میسرہ وہ تو نما سے ہے مولانا اس کی بات یہاں پر نہیں ہو زکوٰۃ کے اندر قدرتِ میسرہ کس کے ذریعے آئے گی؟ نما کے ذریعے نما آئے تاکہ اس لیے شریعت میں سال گزرنے کا تو وہ زکوٰۃ والے یسر کی بات نہیں کر رہے عام لغوی معنی میں یہاں پر کیا ہے؟
سمجھ میں آیا بھئی؟ سہولت ہے تو دیکھو اب دیکھو پانچ دو سو درہم میں سے پانچ درہم دینے میں جتنی آسانی تھی سو درہم میں سے ڈھائی درہم دینے میں بھی اتنی ہی آسانی ہے لہٰذا اس باقی اب یہ پورا نصاب تو نہیں لیکن پھر بھی اس میں سے کیا کرنا پڑے گی؟ اسی کے حصے کے بقدر زکوٰۃ دینی پڑے گی کیونکہ نما ابھی بھی باقی ہے۔ جتنا باقی ہے مال اس پہ بھی سال گزرا یا نہیں گزرا؟ اس پہ سال گزرا ہے تو اس پہ اس کے بقدر نما ہے اور جس قدر نما ہے اسی در اسی قدر کیا ہوگی؟ زکوٰۃ واجب ہوگی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو ماتن نے جو کہا تھا نا ماتن نے جو کہا تھا کہ زکوٰۃ ختم ہو جائے گی کس وجہ سے؟ تو کہتے ہیں وہ اس کی دراصل اس صورت میں نما ہی بالکل ختم ہو جاتی ہے جب سارا مال ختم ہوا تو نما بھی کیا ہو گئی؟ جب نما ہی ختم ہو گئی تو زکوٰۃ بھی ختم ہو گئی۔ کیونکہ زکوٰۃ کے لیے کیا ضروری تھا؟ کون سی قدرت کا ہونا؟ قدرتِ میسرہ اور قدرتِ میسرہ کس کے ذریعے ہے؟ کس کے ذریعے؟ نما کے ذریعے نما پائے جائے سمجھ میں آیا؟ اور وہ نما حقیقتاً ہونا نہیں ضروری بس سال گزر گیا تو اس کے اندر کیا آ گئی گویا کہ نما آ گئی، یسر آ گیا مولانا۔ تو لہٰذا زکوٰۃ میں قدرتِ میسرہ جو ہے وہ نما ہے اور وہ نما جتنا حصہ باقی ہے اس کے اندر اب بھی باقی ہے، تو یسر اب بھی اس کے اندر باقی ہوا مولانا، قدرتِ میسرہ اب بھی اسی کے بقدر باقی ہے۔ مسئلہ سب کو سمجھ میں آ گیا بھئی؟
خلاصہ بحث دوبارہ مختصراً سن لیجیے بھئی! کہ وھذا اذا ھلک كل النصاب یہاں سے شارح جو ہے ایک اعتراض کا جواب دینا چاہتے ہیں بھئی۔ ایک اعتراض کا جواب دینا چاہتے ہیں بھئی۔ لہٰذا یہ جو اس سے یہ بھی پتہ لگ گیا مولانا کہ ھذا کے ذریعے اختلاف کی طرف اشارہ نہیں ہے بلکہ حکم مذکور کی طرف اشارہ ہے بھئی، کہ یہ جو ہم نے کہا کہ سارے مال کے ہلاک ہو جانے سے زکوٰۃ کیا ہو جائے گی؟ مال کے ہلاک ہو جانے سے زکوٰۃ باطل ہو جائے گی، یہ اس وقت ہے جب کیا ہو جائے؟ سارا نصاب ہلاک ہو جائے۔ معلوم ہوا ہذا کا اشارہ اس حکم کی طرف ہے۔ تو محشی نے جو لکھا ہے کہ ہذا کے ذریعے اشارہ ہے اختلاف کی طرف ہمارے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے درمیان، اس اختلاف کی طرف اشارہ ہے تو یہ غلط محض ہے مولانا، اس کی طرف اشارہ نہیں ہے بھئی۔
سمجھ میں آئی بات بھئی؟ اس کی طرف اشارہ نہیں ہے بلکہ یہ حکم کی طرف اشارہ ہے مولانا اور زین السطور حکم المذكور لکھا ہوا ہے۔ یہ درست لکھا ہے بھئی۔
تو اعتراض سے پہلے میں نے آپ کو بتلایا کہ ایک بات ذہن میں رکھیں کہ یہ جو زکوٰۃ ہے یہ واجب ہوئی ہے قدرتِ میسرہ کے ساتھ، قدرتِ میسرہ ہے تو قدرت ہے تو زکوٰۃ دے گا، قدرتِ میسرہ ہی نہیں تو قدرت نہیں ہے بھئی کیوں کو تو لہٰذا زکوٰۃ بھی واجب نہیں ہوگی اور قدرتِ میسرہ میں نے بتلایا وہ زکوٰۃ کے اندر نما سے آتی ہے کس سے؟ نما کے مال کے اندر بڑھوتری پائی جائے اور حقیقی نما کا پھر اعتبار نہیں ہے بلکہ سال گزر جائے تو اس سال کے گزرنے کو کس کا قائم مقام کر دیا؟ نما کے قائم مقام کر دیا بھئی۔
یہ بات ذہن میں رکھیں بھئی کہ زکوٰۃ میں یسر کس کے ذریعے آئے گا؟ نما کے جب تک نما ہے یسر ہے، قدرتِ میسرہ ہے، جب نما نہیں یسر نہیں تو قدرتِ میسرہ نہیں لہٰذا زکوٰۃ بھی واجب نہیں۔ تو بعض علماء نے یہ اعتراض کیا بھئی، تو شارح فرماتے ہیں یہ وہم نہ کیا جائے، علماء نے اعتراض یہ کیا کہ دیکھیے ماتن نے متن میں قانون ذکر کیا کہ قدرتِ میسرہ کا دوام ضروری ہے دوامِ واجب کے لیے، جب تک قدرتِ میسرہ ہے واجب ہے، قدرتِ میسرہ ختم تو واجب بھی ختم ذمہ سے ساقط ہو جائے گا، اور پھر اس پر آگے تفریع کی کہ جیسے کہ سارے مال کے ہلاک ہو جانے سے زکوٰۃ کا ختم ہو جانا، سارے مال کے ہلاک ہو جانے سے زکوٰۃ کا ختم ہو کہتے ہیں یہ تفریع صحیح نہیں ہے کیونکہ اس تفریع سے تو یوں معلوم ہوتا ہے گویا کہ نصاب سے قدرتِ میسرہ آئے گی،
کہ شاید زکوۃ میں یسر کس کی وجہ سے آ رہا ہے؟ نصاب کی وجہ سے۔ معلوم ہوا خود نصاب کی وجہ سے قدرت میسرہ ہے، نصاب نہیں تو قدرت میسرہ بھی نہیں۔ تو یہ کلام سے یوں معلوم ہوتا ہے، حالانکہ بات ایسی نہیں بلکہ نصاب کا زکوۃ میں تو یسر کس کے ذریعے آتا ہے؟ نما کے ذریعے۔ شارح اس کا اب جواب دیتے ہیں، کہتے ہیں نہیں بھئی یہ وہم نہیں ہونا چاہیے اس مقام پر، اس لیے کہ وھذا إذا ھلک کل النصاب، یہ جو ہم نے کہا کہ نصاب کے ہلاک مال کے ہلاک ہو جانے سے زکوۃ باطل ہو جائے گی، یہ حکم اس وقت ہے جبکہ سارا کا سارا نصاب کیا ہو جائے؟ ہلاک ہو جائے۔ اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ نصاب کی وجہ سے یسر آ رہا تھا، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب نما ہی ختم ہو گئی۔ اور قدرت میسرہ تھی ہی کس کے ذریعے؟ نما کے ذریعے۔
بھئی دیکھو! پانچ سو درہم ایک آدمی کے پاس تھے، سال کے بعد بھی وہ پانچ سو درہم ہیں، تو اس میں ہر ہر درہم کے اندر نما آ چکی ہے۔ کیا آ چکی ہے؟ حکماً اگرچہ حقیقتاً نہ بھی آئی ہو، لیکن حکماً اس میں کیا آ چکی ہے؟ ہر ہر درہم میں اس پر سال گزرا ہے، اس میں نما آ چکی ہے۔ تو لہذا اب نما ہے، قدرت میسرہ ہے، تو زکوۃ بھی کیا ہو گئی؟ واجب۔ لیکن جب سارا مال ہلاک ہوا، تو اب اس صورت میں وہ نما بھی ختم، کیونکہ سارے وہ درہم ہی جن کے ساتھ نما قائم تھی وہ درہم ہی ختم ہو گئے، تو نما بھی خود بخود کیا ہو گئی؟ ختم۔ تو یہ جو ہم نے کہا کہ زکوۃ مال ہلاک ہو جائے تو زکوۃ باطل ہو جائے گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں نما ہی ہلاک ہو جاتی ہے۔ اس لیے ہم نے یہ حکم لگایا، اس سے یہ وہم نہیں کرنا چاہیے کہ نصاب جو ہے اس سے کیا آتی ہے؟ زکوۃ میں قدرتِ، قدرت میسرہ زکوۃ میں نصاب سے نہیں آتی، بلکہ کس کے ذریعے آتی ہے؟ نما کے ذریعے اور اس صورت میں چونکہ ساری نما ہی ہلاک ہو گئی، لہذا ہم نے بھی حکم لگا دیا کہ زکوۃ کیا ہو گئی؟ ساقط ہو گئی۔
اور اس کی دلیل پھر آگے دوسری ذکر کی، کہتے ہیں إذ لو ھلک بعض النصاب تبقی بقسطہ، اس لیے کہ اگر بعض نصاب ہلاک ہو جائے تو باقی اس کے حصے کے بقدر باقی رہتی ہے۔ بھئی! زکوۃ باقی کے اندر اس کے حصے کے بقدر زکوۃ باقی رہتی ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نصاب جو ہے وہ یسر کے لیے نہیں ہے، نصاب کی شرط یسر کے لیے نہیں ہے، بلکہ زکوۃ میں یسر کس کے ذریعے آئے گا؟ نما کے ذریعے، نما ختم ہو گی تو زکوۃ بھی ذمہ سے ساقط، اگر نما باقی ہے تو زکوۃ بھی ذمہ کے اندر باقی ہے، چنانچہ اگر سال گزر گیا، زکوۃ واجب ہو گئی، اب اس کے بعد اکثر مال ہلاک ہوا، فرض کرو سارا ہی مال ہلاک ہو گیا، صرف دس درہم رہ گئے اس میں سے، کتنے رہ گئے؟ دس درہم رہ گئے، اب اگر نصاب کی وجہ سے قدرت میسرہ ہوتی، تو اس وقت کوئی نصاب باقی ہے؟ اس وقت تو نصاب باقی نہیں ہے، تو اس وقت زکوۃ اس میں واجب نہیں ہونی چاہیے تھی، لیکن فقہائے کرام لکھتے ہیں کہ اب بھی اس کے اندر زکوۃ واجب ہے، کیوں لکھتے ہیں؟ معلوم ہوا نما ابھی بھی باقی ہے، کیونکہ اس درہموں پر کیا گزر چکا ہے؟ سال گزر چکا ہے اور ہر ہر درہم میں حکماً کیا آ چکی ہے؟ نما آ چکی ہے، تو نما ابھی بھی باقی ہے، تو جس قدر نما باقی ہے، اسی کے بقدر زکوۃ آ جائے گی، تو اس دس میں سے کتنا حصہ دینا پڑے گا؟ چالیسواں حصہ دینا پڑے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ اس بات کی اذ لو ھلک بعض النصاب، اس لیے کہ بعض نصاب جب اگر ہلاک ہو جائے، تب بقسطہ، تو زکوۃ باقی رہے گی اپنے حصے کے بقدر بھئی، بات سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟
آگے دیکھیے، وکذا العُشرُ کان واجباً بالقدرۃ المیسرۃ لأن الممکنۃ فیہ کان بنفس الزراعت، بھئی دیکھیے، ایک ہے آگے عشر کا مسئلہ ذکر ہوگا اور خراج کا مسئلہ ذکر ہوگا۔ سمجھ میں آیا؟ کچھ زمینیں عشری ہوتی ہیں، کچھ خراچی بھئی۔ یاد رکھیے، خراجی زمینیں کون سی ہیں؟ کہ جن پر مسلمانوں نے قبضہ کیا ہو اور پھر کفار کے پاس ہی وہ زمینیں رہنے دیں اور ان پر ٹیکس عائد کر دیا، وہ زمینیں کیا ہیں؟ خراجی ہیں اور جب ایک مرتبہ زمین خراجی ہے، اب اس کو بعد میں مسلمان بھی خرید لے، پھر بھی وہ خراجی ہی رہے گی۔ سمجھ میں آئی بات؟ اور باقی زمینیں جو مسلمانوں ہی کے پاس ہیں شروع سے، وہ کیا ہیں؟ عشری ہیں، تو ان میں عشر آئے گا بھئی، پیداوار کا دسواں حصہ دینا پڑے گا بھئی۔ اور عشر پیداوار میں آیا کرتا ہے، کس میں؟ پیداوار میں آیا کرتا ہے۔
اور اسی طرح خراج بھی کس میں آئے گا؟ پیداوار کے اعتبار سے ہوگا، پیداوار کے اعتبار سے، لیکن ایک دو فرق یاد رکھیے بھئی، عشر ہر فصل پر دینا پڑتا ہے۔ سال میں اگر چار فصلیں آپ اگاتے ہیں، ہر فصل میں سے دسواں حصہ کیا کرنا پڑے گا؟ عشر بطورِ زکوۃ کے دینا پڑے گا، یہ اس وقت ہے جبکہ پانی وغیرہ پر آپ کا خرچہ نہیں ہوتا، اگر آپ کا خرچہ وغیرہ ہوتا ہے تو پھر نصفِ عشر دینا پڑے گا، یعنی بیسواں حصہ دینا پڑے گا، شریعت نے اور آسانی کر دی کہ آپ کا بھی پانی وغیرہ لگانے پر خرچہ ہوا ہے، تو اب آپ دسواں حصہ نہ دیں، بلکہ کتنا دے دیں؟ بیسواں حصہ دے دیں۔
اور جبکہ تو عشر جو ہے جتنی فصلیں ہوں گی، ہر ایک میں دینا پڑے گا بھئی، جبکہ خراج سال میں ایک ہی مرتبہ ہوتا ہے۔ خراج سال میں اور عشر جو ہے اس میں عبادت کا پہلو ہے اور خراج کے اندر جو ہے وہ اس میں سزا کا پہلو ہے، کیونکہ اولاً کس پر نافذ کیا تھا؟ کفار کے پاس زمین، تو بطورِ سزا کے ان پر ٹیکس بھئی عائد کیا گیا تھا، بھئی جیسے زکوۃ کس کے ساتھ واجب ہوئی تھی؟ قدرتِ میسرہ کے ساتھ، اس کے لیے قدرتِ میسرہ شرط ہے، اسی طرح عشر کے لیے بھی کیا شرط ہے؟ قدرتِ میسرہ بھئی، تو یہ قدرتِ میسرہ کے ساتھ واجب ہوگا، اسی طرح آگے خراج کا مسئلہ آئے گا مولانا، خراج بھی کس کے ساتھ واجب ہوتا ہے؟ قدرتِ میسرہ کے ساتھ۔
دیکھیے! اب تفصیل بیان کرنے لگے ہیں کہ عشر کیسے قدرتِ میسرہ کے ساتھ واجب ہے، کہتے ہیں وکذا العُشرُ کان واجباً بالقدرۃ المیسرۃ، اسی طرح عشر جو ہے وہ واجب ہوگا قدرتِ میسرہ کے ساتھ، لأن الممکنۃ فیہ کان بنفس الزراعت، اس لیے کہ قدرتِ ممکنہ تو اس کے اندر نفسِ زراعت کے ذریعے ہی ہو جاتی ہے بھئی، قدرتِ ممکنہ تو کس کے ذریعے حاصل ہو جاتی ہے؟ نفسِ زراعت سے قدرتِ ممکنہ حاصل ہے، لیکن شریعت نے کیا کہا؟ کہ نو حصے مالک کے پاس باقی رہنے چاہئیں، کیسے؟ عشر نام رکھا، عشر، عشر کس کو کہتے ہیں؟ دسواں حصہ، معلوم ہوا جو فصل حاصل ہوئی ہے اس کے دس حصے کرو، تو ایک حصہ کیا کہلاتا ہے؟ عشر، شریعت نے یہ واجب کیا ہے کہ یہ دینا ضروری ہے دسواں حصہ، جب دسواں حصہ دے گا تو باقی کتنے عشر رہ گئے؟ نو عشر کس کے پاس؟ اسی مالک، کاشتکار کے پاس رہ گئے، تو دیکھو گویا شریعت نے شرط لگا دی کہ نو حصے کاشتکار کے پاس باقی رہنے چاہئیں، یہ نو حصوں کے کاشتکار کے پاس باقی رہنے کی شرط یہ بتلا رہی ہے کہ یہ عشر جو ہے کس کے ساتھ واجب ہوا ہے؟ قدرتِ میسرہ کے ساتھ، قدرتِ ممکنہ تو نفسِ زراعت کے ذریعے حاصل ہو گئی تھی، پھر اس کے ساتھ شرط لگا دی گئی کہ نو حصے کس کے پاس رہنے چاہئیں؟ بھئی جب کہا نہ عشر نکالو، دسواں حصہ دو، تو خود بخود پتہ چل گیا کہ نو کس کے پاس رہنے چاہئیں؟ تو گویا نو حصوں کے مالک کے پاس رہنے کی شرط بھی لگا دی، تو جب نو حصوں کے مالک کے پاس رہنے کی شرط بھی لگا دی، تو معلوم ہوا اس میں کیا ہے؟ یسر ہے مولانا، کیا ہے؟ یسر ہے، تو یہ قدرتِ میسرہ کے ساتھ واجب ہوا ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں لأن الممکنۃ فیہ کان بنفس الزراعت، اس لیے کہ قدرتِ ممکنہ تو اس کے اندر نفسِ زراعت کے ذریعے حاصل تھی، فإذا شُرِطَ قیام التسعۃ الأعشارِ، اعشار جمع ہے عشر کی، دسواں حصہ، پس جب شرط لگا دی گئی نو عشروں کے قائم رہنے کی عندہ، اس زراعت کرنے والے کے پاس، کان دلیلاً، تو یہ اس بات کی دلیل ہے، علی أنہ یجب بطریق اليُسرِ، کہ یہ عشر کس طریقے پر واجب ہوا ہے؟ یسر کے طریقے پر واجب ہوا ہے، جب یسر کے طریقے پر واجب ہوا ہے، معلوم ہوا کہ جتنے پھر، جتنی فصل اگر ساری فصل ہلاک ہو جائے، تو ساری سے عشر کیا ہو جائے گا اس شخص سے عشر؟ ساقط ہو جائے گا، اور اگر بعض فصل ہلاک ہو جائے، تو اس صورت میں اسی کے بقدر عشر بھی کیا ہو جائے گا اس سے؟ ساقط ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ عشر کس طریقے پر واجب ہوا ہے؟ قدرتِ میسرہ کے ساتھ، اس کا نام ہی عشر ہے، یہ اس کا نام ہی بتلاتا ہے کہ نو حصے کس کے پاس باقی رہنے چاہئیں؟ مالک کے پاس باقی رہنے چاہئیں، تو جتنا جتنی بھی فصل ہلاک ہو گئی، مثلاً بھئی سو من گندم حاصل ہوئی تھی، اس میں سے عشر کتنا بنتا ہے؟ دس من بنتا ہے، اس کی 10 من یہ اب زکوۃ اس پر آ گئی، یہ اس کو دینا ضروری ہے مولانا، لیکن اس میں سے فرض کرو مولانا اسی من ابھی اس نے عشر ادا نہیں کیا تھا کہ اسی من ہلاک ہو گئے فصل کے، باقی کتنے رہ گئے؟ بیس، تو اب یہ نہیں کہیں گے آپ پر دس من عشر واجب تھا، اب بھی کیا کرو؟ دس من، کیونکہ دس من اگر بیس میں سے دس دے گا، تو یہ دس، بیس کا کتنا ہے؟ نصف، یہ تو عشر نہیں ہے، عشر تو کس کو کہتے ہیں؟ دسواں حصہ، لہذا عشر، نام ہی عشر ہے بھئی، عشر ہی دینا پڑے گا، تو بیس کا عشر کتنا بن گیا دسواں حصہ؟ دو من، تو دو من اب دینے پڑیں گے بھئی، باقی کیا ہو جائے گی اس سے عشر؟ ساقط ہو جائے گا۔
فإذا ھلک الخارج کلُّہ أو بعضُہ بعد التمکن من التصدقِ، پس جب ہلاک ہو جائے پیداوار ساری کی ساری یا کچھ پیداوار، بعد التمکن من التصدقِ، بعد اس کے کہ جبکہ وہ قادر ہو گیا تھا صدقہ کرنے پر، تو یہ جو بعض یا ساری پیداوار جب ہلاک ہو گئی، تو یبطل العُشرُ بحصتہ، تو عشر بھی باطل ہو جائے گا اسی کے حصے کے بقدر، اسی کے حصے کے بقدر عشر بھی باطل ہو جائے گا، لأنہ اسم إضافی یقتضی وجود الحصص الباقیۃِ، اس لیے کہ یہ ایک اسمِ اضافی ہے، نسبت ملحوظ ہے اس کے اندر، عشر مولانا، نام ہی بتلا رہا ہے، دسواں حصہ، کیا؟ ایک چیز کے دس حصے ہونے چاہئیں، اس میں سے ایک حصہ کیا کہلائے گا؟ عشر کہلائے گا، تو یہ ایک نسبت والا نام ہے، اسمِ اضافی ہے، یہ تقاضا کرتا ہے باقی حصوں کے وجود کا، کہ باقی حصے بھی پائے جانے چاہئیں، تو اگر بیس من جو باقی ہے، اس میں سے اگر ہم کیا کر دیں؟ دس من دے دیں، تو یہ دس من دے دے گا، تو باقی نو حصے رہے؟ نہیں، تو یہ تو عشر نہ ہوا، یہ تو نصف ہو گیا، حالانکہ شریعت نے کیا ادا کرنے کا حکم دیا ہے؟ عشر بھئی، تو یہ عشر کا یہ نام ہی تقاضا کرتا ہے کہ کاشتکار کے پاس کتنے حصے باقی رہنے چاہئیں؟ نو حصے باقی رہنے چاہئیں۔ بھئی بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟
کہتے ہیں وکذا الخراجُ، کہتے ہیں اسی طرح خراج ہے، جو خراج جو ہے، کان واجباً بالقدرۃ المیسرۃِ، وہ واجب ہوا ہے قدرتِ میسرہ کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ قدرتِ میسرہ کے ساتھ واجب ہوا ہے، لأنہ یُشترَطُ فیہ التمکن من الزراعت بنزول المطر ووجود آلات الحَرثِ وغیرِ ذلک، اس لیے کہ اس کے اندر شرط لگائی گئی ہے قدرت کی من الزراعت، کس چیز کی قدرت کی؟ زراعت پر بھئی، زراعت پر قدرت کی بنزول المطر، بارشوں کے نازل ہونے کے ساتھ، ووجود آلات الحَرثِ، اور کھیتی باڑی کے آلات کے پائے جانے کے ساتھ، وغیرِ ذلک، اور اس کے علاوہ اور چیزیں۔ بھئی دیکھیے! خراج بھی جو ہے وہ قدرتِ میسرہ کے ساتھ واجب ہے بھئی، کس کے ساتھ؟ قدرتِ میسرہ کے ساتھ واجب ہے بھئی، اور اس کی وجہ یہ دیکھیے کہ آپ خود غور کر لیجیے، اس کے اندر شرط لگائی گئی ہے کہ انسان کھیتی باڑی پر قادر ہو، بارشیں وغیرہ بھی برستی ہوں، اسباب بھی کھیتی باڑی کے سارے موجود ہوں اور زمین بھی قابلِ کاشت وغیرہ ہو بھئی، تو پھر خراج واجب ہوتا ہے، ورنہ خراج واجب، تو یہ دیکھو اتنی چیزوں کی شرط لگا دینا کہ زمین بھی بنجر نہ ہو، وہ کھیتی باڑی پر قادر بھی ہو اور کھیتی باڑی کے سارے اسباب بھی موجود ہوں، یہ شرطیں کس چیز پر دلالت کرتی ہیں؟ کہ خراج کس طریقے پر واجب ہوا ہے؟ یسر، سہولت کے طریقے پر واجب ہوا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو فإذا عطل الأرضَ ولم یزرَع، یہاں سے ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں کہ آپ نے کہا کہ خراج قدرتِ میسرہ کے ساتھ واجب ہے، تو لہذا ایک شخص جو ہے وہ اس کے پاس زمین ہے خراجی، وہ اس زمین پر کاشت نہیں کرتا اور اس کو بیکار چھوڑ دیتا ہے بھئی، کیا کرتا ہے اس کو؟ بیکار چھوڑ دیتا ہے، لیکن پھر بھی آپ حکم لگاتے ہیں کہ اسے خراج دینا پڑے گا، کیا دینا پڑے گا؟ حالانکہ اب جب اس نے فصل ہی نہیں کاشت کی بھئی، تو لہذا اس صورت میں خراج اس پر واجب کرنا، اس میں تو یسر نہیں ہے، یہ تو تنگی ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ کہتے ہیں بھئی! دراصل یہاں پر جب زمین کو اس نے معطل چھوڑ دیا اور اس پر کاشت نہیں کی، تو پھر بھی خراج واجب ہوگا، اس لیے کیونکہ یہاں تمکنِ تقدیری موجود ہے، تقدیری قدرت اب بھی موجود ہے، ہم کہیں گے یہ تقدیرًا اب بھی کیا تھی اسے قدرت حاصل تھی، قدرت اسے میسر تھی، تقدیرًا بھئی، اس لیے کہ زمین کو کاشت کرتا تو اس پر خراج آنا تھا، لیکن اس نے جب جان بوجھ کر کیا کی ہے فصل کاشت نہیں کی، تو یہ اس نے تعدی کی ہے، زیادتی کی ہے اور تعدی اور زیادتی کی صورت میں آپ جانتے تھے مولانا، اوپر بھی مسئلہ آپ نے پڑھا کہ تعدی کرے، مثلاً زکوۃ کے مال کو خود کیا کر دے؟ ہلاک کر دے، تو پھر زجراً اس پر کیا آتی ہے؟ زکوۃ واجب ہوتی ہے، تو یہاں بھی تعدی پائی گئی، تو اس تعدی کی وجہ سے زجراً کیا ہے اس پر خراج کیا ہوگا؟ واجب ہوگا، تو گویا یہاں پر تقدیری تمکن موجود ہے مولانا، اس تعدی کی وجہ سے، اس تعدی کی وجہ سے تقدیری تمکن موجود ہے، وہ قادر ہے، لہذا اب اسے دینا پڑے گا خراج، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں فإذا عطل الأرضَ ولم یزرَع یجب علیہ الخراجُ للتمکن التقدیریِ، پس جب اس نے معطل چھوڑ دیا زمین کو، بیکار چھوڑ دیا زمین کو، ولم یزرَع، اور کاشت نہیں کی، یجب علیہ الخراجُ، تو اس پر خراج واجب ہوگا، للتمکن التقدیریِ، کس وجہ سے؟ تمکنِ تقدیری کی وجہ سے بھئی، تقدیرًا یہ کیا ہے اس کو قدرت حاصل تھی۔
تو کہتے ہیں فإذا عطل الأرضَ ولم یزرَع یجب علیہ الخراجُ للتمکن التقدیریِ، اور اس نے کاشت نہیں کی تو اس پر خراج واجب ہوگا، للتمکن التقدیریِ، تقدیری قدرت کی وجہ سے، کیونکہ تقدیرًا کیا ہے گویا اس کو قدرت ہم فرض کر لیں گے قدرت حاصل تھی بھئی، اسباب سارے موجود تھے بھئی، تو قادر ہے اس پر اور جب قادر ہے تو کیا آنا چاہیے؟ خراج آنا چاہیے، خراج آ جائے گا بھئی، تقدیرًا قادر ہے مولانا اس پر۔
لیکن عشر میں ایسا نہیں، اس لیے کیونکہ عشر کا نام ہی کیا بتلاتا ہے؟ کہ دس حصے کم از کم کس کے پاس ہونے چاہئیں؟ لہذا وہ زمین کو بیکار چھوڑ دیتا ہے تو آپ یہ نہیں کہیں گے اس پہ عشر آئے گا، کیونکہ عشر کے لیے کیا ضروری؟ ہاں، عشر کس سے نکالو؟ دسواں حصہ، یعنی باقی نو حصے کس کے پاس ہوں؟ مالک کے پاس ہونے چاہئیں بھئی۔
تو کہتے ہیں فإذا عطل الأرضَ ولم یزرَع یجب علیہ الخراجُ للتمکن التقدیریِ، اور اس نے کاشت نہیں کی تو اس پر خراج واجب ہوگا، للتمکن التقدیریِ، تقدیری قدرت کی وجہ سے، کیونکہ تقدیرًا کیا ہے گویا اس کو قدرت ہم فرض کر لیں گے قدرت حاصل تھی بھئی، اسباب سارے موجود تھے بھئی، تو قادر ہے اس پر اور جب قادر ہے تو کیا آنا چاہیے؟ خراج آنا چاہیے۔
وھذا مما یُعرَفُ ولا یُفتٰی بہِ، کہتے ہیں وھذا مما یُعرَفُ، یہ ان چیزوں میں سے ہے جس کو جانا تو جائے گا، یعنی علمی طور پر تو یہ آپ کو بات معلوم ہونی چاہیے، ولا یُفتٰی بہِ، لیکن اس پر فتویٰ نہیں دیا جائے گا، لتجاسرِ الظلمۃِ، ظالموں کے جرات کرنے کی وجہ سے، کیونکہ اگر آپ یہ فتویٰ دے دیں گے تو پھر اس صورت میں بھئی آپ تو جانتے ہیں، حکومت تو کوشش ہوتی ہے عوام کی کھال کسی طرح اتاریں بھئی، تو اگر آپ یہ فتویٰ بھی دے فتویٰ دے دیں گے کہ بھئی یہاں کیا ہے تمکنِ تقدیری ہے، جب تمکنِ تقدیری ہے تو لہذا کیا واجب ہونا چاہیے؟ خراج واجب ہونا چاہیے، تو وہ ہر شخص سے کیا کریں گے پھر؟ جس پر خراج آتا ہے اس سے خراج ضرور وصول کریں گے، چاہے وہ حقیقتاً قادر ہی نہیں تھا، وہ کہیں گے پھر بھی قادر، اس میں تو وہاں کوئی مانع موجود ہوگا، قدرت ہی نہیں تھی اس کو، لیکن وہ کہیں گے نہیں بھئی، تمکنِ تقدیری موجود ہے، لہذا تمہیں کیا کرنا پڑے گا؟ خراج ادا دینا ہی پڑے گا، تو لہذا کہیں وہ ظالم جرات نہ کرنے لگیں بھئی۔
بخلاف العشر، بخلاف کس کے؟ عشر کے۔ ”فَإِنَّهُ يُشْتَرَطُ فِيهِ الْخَارِجُ التَّحْقِيقِيُّ دُونَ التَّقْدِيرِيِّ“ اس کے اندر حقیقی پیداوار کا ہونا ضروری ہے، تقديري پیداوار کی شرط اس میں شرط لگائی جائے گی حقیقی پیداوار کی، نہ کہ تقديري تقديري پیداوار کی۔
”وَلَكِنْ إِذَا لَمْ يُعَطِّلْ وَزَرَعَ الْأَرْضَ“ لیکن اگر وہ جو جس پر خراج تھا اس نے زمین کو معطل نہیں چھوڑا ”وَزَرَعَ الْأَرْضَ“ اور زمین کو کاشت کیا ”وَاسْتَلَمَتِ الزَّرْعَ آفَةٌ“ اور ہلاک کر دیا فصل کو کسی آفت نے، اسسلمت کا معنیٰ برباد کرنا، تباہ کرنا، اور بر تباہ کر دیا فصل کو کسی آفت نے ”يَسْقُطُ عَنْهُ الْخَرَاجُ“ تو خراج اس سے کیا ہو جائے گا؟ ساقط ہو جائے گا ”لِأَنَّهُ وَاجِبٌ بِالْقُدْرَةِ الْمُيَسِّرَةِ“ اس لیے کیونکہ خراج واجب ہوا تھا کس کے ساتھ؟ قدرت میسره کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ تو اب بھی اگر اس پر خراج واجب کر دیا جائے، تو یہ مولانا یسر نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ یسر کو کس سے بدل دیا گویا کہ؟ عسر سے بدل دیا گیا۔ حالانکہ شریعت نے تو اس کو کس طریقے سے واجب کیا ہے؟ یسر کے ساتھ واجب کیا ہے۔ اس نے تو اپنی طرف سے کوئی تعدی نہیں کی مولانا، تو اس سے اگر اب بھی کیا کیا جائے خراج کو؟ وصول کیا جائے، تو یہ تو ضمان ہو گیا اور ضمان تو جنایت کی صورت میں آیا کرتا ہے اور اس نے تو کوئی جنایت نہیں کی کہ اس سے کیا وصول کیا جائے؟ ضمان وصول کیا جائے۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟
بخلاف الأولى، بخلاف کس کے؟ پہلی قسم کے۔ پہلی قسم کون سی تھی؟ قدرت ممکنہ، قدرت قدرت ممکنہ کے خلاف۔ بھئی، انہوں نے کہا قدرت میسره کا دوام وہ شرط ہے کس کے لیے؟ واجب کے دوام، جب تک قدرت میسره ہے، واجب بھی ہے۔ جب قدرت میسره نہیں، واجب بھی بخلاف الأولى بخلاف پہلی یعنی قدرت ممکنہ کے اندر کہ اس کا دوام شرط نہیں ہے دوام واجب کے لیے۔ اس کا دوام واجب کے دوام کے لیے شرط ہاں، قدرت ممکنہ کی وجہ سے واجب کا وجود تو آ جائے گا، لیکن وہ بقا کے لیے ضروری نہیں کیونکہ وہ شرط محض ہے، اس میں علت والا معنیٰ نہیں۔ تو وہ وجود کے لیے چاہیے، جیسے میں نے مثال ذکر کی بھئی نکاح کے لیے، نکاح کے لیے گواہ کیا ہیں؟ شرط محض ہیں، ان میں علت والا معنیٰ نہیں، تو لہذا گواہ نکاح کے وجود کے لیے تو گواہوں کا ہونا ضروری، نکاح کے بقا کے لیے گواہوں کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ تو یہاں پر بھی جو پہلی قدرت ہے، قدرت ممکنہ، اس میں علت والا معنیٰ نہیں، وہ شرط محض ہے، وہ چیز کے وجود کے لیے تو ضروری ہے، اس کی بقا کے لیے ضروری نہیں۔ تو لہذا جب قدرت ممکنہ ہوگی کسی واجب کی، تو وہ چیز بھی واجب ہو جائے گی مولانا، لیکن بعد میں قدرت ختم بھی ہو جائے، تو وہ واجب باقی رہے گا کیونکہ قدرت ممکنہ ختم ہوئی ہے اور قدرت ممکنہ اس چیز کے لیے علت نہیں تھی کہ اس کے ختم ہونے سے یہ واجب بھی کیا ہو جائے؟ ہاں، اس کا وجود اس کا پایا جانا وجود کے لیے ضروری تھا، تو یہ واجب پایا گیا، وہ قدرت تھی، یہ واجب آ گیا۔ اب اس واجب کی بقا کے لیے اس کا ہونا ضروری نہیں، اب یہ باقی ہی رہے گا، وہ قدرت چاہے ختم بھی ہو جائے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟
بخلاف الأولى، بخلاف کس کے؟ پہلے قدرت کے ”حَتَّى لَا يَسْقُطُ الْحَجُّ وَصَدَقَةُ الْفِطْرِ بِهَلَاكِ الْمَالِ“ یہاں تک کہ حج اور صدقہ صدقۃ الفطر بحلاک المال، یہاں تک کہ حج اور صدقہ فطر ساقط نہیں ہوگا مال کے ہلاک ہو جانے کی وجہ سے۔ کہتے ہیں ”بَيَانٌ لِلْمُمَكِّنَةِ بِطَرِيقِ الْمُقَابَلَةِ“ یہاں سے یہ جو ہے یہ بیان ہے قدرت ممکنہ کا کس طریقے پر؟ مقابلہ کے طریقے پر، یعنی قدرت میسره سے اس کا مقابلہ کرتے ہوئے بتلا رہے ہیں کہ اس کے دوام اس میں واجب کے دوام کے لیے اس قدرت کا دوام بھی ضروری تھا، لیکن قدرت ممکنہ کے اندر واجب کے دوام کے لیے قدرت ممکنہ کا دوام ضروری نہیں بھئی۔
”يَعْنِي أَنَّ بَقَاءَ الْقُدْرَةِ الْمُمَكِّنَةِ لَيْسَ بِشَرْطٍ لِبَقَاءِ الْوَاجِبِ“ یعنی قدر قدرت ممکنہ کی بقا وہ شرط نہیں ہے بقائے واجب کے لیے ”لِأَنَّهُ شَرْطٌ مَحْضٌ“ اس لیے کہ وہ تو کیا ہے؟ شرط محض ہے، اس کے اندر علت والا معنیٰ نہیں ”وَلَا يُشْتَرَطُ بَقَاؤُهُ“ اور شرط نہیں لگائی جائے گی اس کس کی شرط نہیں لگائی جائے گی؟ اس قدرت ممکنہ کی بھئی، یہ تمکن جو ہے۔ اس تمکن کی باقی رہنے کی شرط نہیں لگائی جائے گی ”كَالشُّهُودِ فِي بَابِ النِّكَاحِ“ جیسے کہ گواہ ہیں کس کے اندر؟ نکاح کے باب میں کہ ان کے بقا کی شرط نہیں لگائی جائے گی بقائے نکاح کے لیے ”فَإِذَا زَالَتِ الْقُدْرَةُ الْمُمَكِّنَةُ تَبْقَى الْوَاجِبُ“ پس جب قدرت ممکنہ زائل ہو جائے گی تو پھر بھی واجب کیا ہے؟ باقی رہے گا ”وَلِهَذَا يَبْقَى الْحَجُّ وَصَدَقَةُ الْفِطْرِ بِهَلَاكِ الْمَالِ“ اسی وجہ سے حج باقی رہے گا، صدقہ فطر باقی رہے گا مال کے ہلاک ہو جانے کی وجہ سے ”لِأَنَّ الْحَجَّ“ بھئی دیکھو، ایک دفعہ مال آ گیا، تو حج واجب ہوا، صدقہ فطر کیا ہوا؟ واجب ہوا۔ جب ایک دفعہ واجب ہوا، بعد میں مال ختم ہو جائے، تو بھی یہ حج اور صدقہ فطر کیا رہیں گے؟ واجب رہیں گے، واجب رہیں گے۔ اس لیے کیونکہ قدرت ممکنہ فوت ہوئی ہے اور اس کے فوت ہو جانے سے واجب پر کوئی اثر نہیں، وہ تو اس کی بقا کے لیے ضروری نہیں ہے۔
”لِأَنَّ الْحَجَّ يَثْبُتُ بِالْقُدْرَةِ الْمُمَكِّنَةِ“ اس لیے کہ حج وہ ثابت ہوتا ہے کس کے ذریعے؟ قدرت ممکنہ کے ذریعے ثابت ہوتا ہے ”لِأَنَّ الزَّادَ الْقَلِيلَ وَالرَّاحِلَةَ الْوَاحِدَةَ أَدْنَى مَا يَتَمَكَّنُ بِهَا الْمَرْءُ مِنْ أَدَاءِ الْحَجِّ“ اس لیے کہ تھوڑا سا زاد راہ اور ایک سواری ایک سواری جو ہے ادنیٰ یہ کم سے کم ہے وہ مقدار کہ ”يَتَمَكَّنُ بِهَا الْمَرْءُ مِنْ أَدَاءِ الْحَجِّ“ کہ قادر ہوتا ہے اس کے ذریعے بندہ حج کی ادائیگی پر۔
یہ کیا ہے؟ کم سے کم جو ہے، اور جو کم سے کم ہوتی ہے وہ کیا ہے؟ قدرت ممکنہ، تو اس کی وجہ سے کیا آ جائے گا؟ حج کا وجوب آ جائے گا۔ اب یہ بعد میں ختم بھی ہو جائیں، لیکن حج ایک دفعہ جب واجب ہو گیا، فرض ہو گیا، اب کیا رہے گا؟ فرض رہے گا۔
”وَأَمَّا الْيُسْرُ“ تو یہ جو ایک سواری اور تھوڑے سے زاد راہ جو ہے، یہ قدرت ممکنہ ہے، یہ قدرت میسره ہے ہی نہیں، اور اس کی وجہ سے کیا لکھا ہے فقہاء کیا فرماتے ہیں؟ اس کی وجہ سے کیا ہو جاتا ہے؟ حج، کیونکہ اللہ تعالیٰ کیا فرماتے ہیں: ”مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا“ جو اس حج کے استطاعت رکھتے ہوں، اور استطاعت کس کے ذریعے آئے گی؟ کم از کم ایک سواری اور اور تھوڑا سا زاد راہ، تو یہ جو تھوڑا سا زاد راہ ہے اور ایک سواری ہے، یہ کم سے کم ہے، یہ کیا ہے؟ یہ کوئی سہولت ہے اس کے اندر؟ سہولت تو یہ ہے مولانا کہ بڑی سواریاں ہوں، خادم ہوں، بڑا مال ہو، اور خوب بھئی کھانے پینے کا سامان ہو، سہولت تو اس میں ہوتی تھی اس میں تھی بھئی، لیکن یہاں پر کیا کہا؟ کہ ایک سواری ہو اور تھوڑا سا زاد راہ ہو، معلوم ہوا یہ قدرت ممکنہ ہے، یہ کیا ہے؟ یہ ایک سواری اور تھوڑا سا سامان کیا ہے؟ یہ قدرت ممکنہ ہے، اور قدرت ممکنہ تو شرط محض ہے، اس کے جب وہ پائی جائے گی تو چیز واجب ہو جائے گی، لیکن جب وہ ختم ہوگی تو چیز جو واجب ہوئی ہے وہ ختم نہیں ہوگا۔
تو کہتے ہیں: یہ جو ہے یہ ادنیٰ ہے جس کی وجہ سے آدمی انسان حج کے ادا کرنے پر قادر ہوتا ہے ”وَأَمَّا الْيُسْرُ فَإِنَّمَا يَقَعُ بِخَدَمٍ“ باقی آسانی جو ہے ”فَإِنَّمَا يَقَعُ بِخَدَمٍ“ وہ تو واقع سہولت یہ تو واقع ہوگی یعنی حاصل ہوگی ”بِخَدَمٍ“ جمع ہے خادم کی کہ بہت سے خادموں کے ذریعے ”وَمَرَاكِبَ كَثِيرَةٍ“ اور بہت سی سواریوں کے ذریعے ”وَأَعْوَانٍ مُخْتَلِفَةٍ“ اور مختلف قسم کے مددگاروں کے ذریعے ”وَمَالٍ كَثِيرٍ“ اور بہت سے زیادہ، بہت سے مال کے لیے ”فَإِذَا فَاتَتِ الْقُدْرَةُ يَبْقَى الْحَجُّ عَلَى حَالِهِ“ پس جب یہ قدرت فوت ہو جائے، تو حج اپنے حال پر باقی رہے گا ”وَيَظْهَرُ ذَلِكَ فِي حَقِّ الْإِثْمِ وَالْإِيصَاءِ“ اور ظاہر ہوگا یہ مولانا یہ اس کا وجوب مولانا، گناہ کے حق میں اور وصیت کرنے کے حق میں، یعنی اب بعد میں بھی پھر وہ حج ادا نہیں کرتا بھئی، تو گناہ گار ہوگا۔ اور وصیت کرنے کے اس پر موت کے وقت تک اگر پھر اس کو دوبارہ قدرت نہیں ملتی، تو پھر کیا کرے گا؟ وصیت کرنا واجب ہوگی اس کے لیے کہ میری طرف سے کیا کر دیں؟ حج کروا دیں۔
”وَكَذَا صَدَقَةُ الْفِطْرِ تَثْبُتُ بِالْقُدْرَةِ الْمُمَكِّنَةِ“ اسی طرح صدقہ فطر جو ہے، وہ بھی ثابت ہوتا ہے کس کے ذریعے؟ قدرت ممکنہ کے ذریعے ”أَلَا تَرَى أَنَّهُ لَمْ يُشْتَرَطْ فِيهَا حَوْلَانُ الْحَوْلِ وَالنَّمَاءُ“ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اس میں حولان حول، سال کے گزرنے کی شرط نہیں لگائی گئی ”وَالنَّمَاءُ“ اور اسی طرح نماء کی شرط بھی نہیں۔ معلوم ہوا اس میں یسر نہیں ہے، اس میں قدرت میسره شرط ورنہ اس میں بھی حولان حول اور نماء کی شرط لگائی جاتی، یہ دلیل ہے اس بات کی کہ یہ اس میں یسر نہیں ہے بھئی، بلکہ قدرت ممکنہ کافی ہے ”بَلْ لَوْ هَلَكَ النِّصَابُ فِي يَوْمِ الْعِيدِ تَجِبُ عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ“ بلکہ یہاں تک کہ اگر وہ نصاب عید کے دن بھی ہلاک ہو جائے، تو اس شخص پر پھر بھی صدقہ فطر کیا رہے گا؟ اس پر واجب ہوگا ”فَإِذَا فَاتَ هَذَا النِّصَابُ يَبْقَى عَلَيْهِ الْوَاجِبُ بِحَالِهِ“ تو پس جب یہ نصاب فوت ہو جائے گا، تو واجب پھر بھی باقی رہے گا اپنے حال پر، کیونکہ کیا چیز فوت ہوئی ہے؟ قدرت ممکنہ ختم ہوئی ہے، اور قدرت میسره تو یہاں پر شرط ہی نہیں تھی، وہ شرط ہوتی تو اس کے جانے سے واجب بھی ساقط ہو جاتا، لیکن یہ قدرت ممکنہ ہے، اس کے فوت ہو جانے سے واجب پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ”وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ”كُلُّ مَنْ يَمْلِكُ قُوتًا فَاضِلًا عَنْ يَوْمِهِ“ ہر وہ شخص جو مالک ہو قوت فاضلا عن یومہ، جو مالک ہو خوراک کا، توشے کا، یعنی خوراک جو ہے ”فَاضِلًا عَنْ يَوْمِهِ“ اس کے اس دن سے جو زائد ہو۔ اتنی جو بھی شخص اتنی خوراک کا مالک ہے جو اس کے ایک دن سے زائد ہے ”تَجِبُ عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ“ تو اس پر کیا ہے صدقہ فطر؟ امام شافعی رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں نصاب بھی نہیں، یہاں تو بس ایک دن کے توشے سے زیادہ ایک دن کے اس دن کے اس دن کے توشے سے زائد اس کے پاس موجود ہے، تو اس پر کیا واجب ہو جائے گا؟ ایک دن کا زائد کھانا ہے جس کے پاس، ایک دن زائد دن کی خوراک جس کے پاس ہے، اس اج کے دن ہے مثلاً اور کل کی بھی خوراک موجود ہے اس کے پاس، سمجھ میں آیا؟ کل کا اتنے گندم وغیرہ اس کے پاس موجود ہے کہ کل بھی پوری ہو جائے گی، تو اج کے دن کی تو چلو ٹھیک ہے اج کی ضرورت ہے، یہ کل والی زائد ہے، اور پورے دن کے لیے کافی ہے، جو کل والی ہے وہ کتنی ہے؟ کہ کل کے پورے دن کے لیے کافی ہو سکتی ہے، تو اس شخص پر کیا ہو جائے گا صدقہ فطر؟ واجب ہو جائے گا ”وَلَا يُشْتَرَطُ مِلْكُ النِّصَابِ“ اور ملک نصاب کی وہ فرماتے ہیں شرط نہیں لگائی جائے گی ”قُلْنَا“ ہم جواب میں کہتے ہیں ”يَلْزَمُ فِي هَذَا قَلْبُ الْمَوْضُوعِ“ کہ اس صورت میں کیا لازم آئے گا؟ موضوع کا قلب ہی لازم آئے گا، قلب موضوع لازم آئے گا۔
کیسے؟ کہتے ہیں دیکھو، دیکھیے اگر ہم اس پر کیا حکم لگا دیں کہ صدقہ فطر تم پر ضروری ہے کیونکہ تمہارے پاس ایک دن کی زائد خوراک موجود ہے، تو لازمی بات ہے پھر وہ زائد خوراک وہ دے گا فقیر کو، جب فقیر کو دے دے گا تو اگلا دن آئے گا، اب اس کے پاس خوراک نہیں، تو پھر یہ اب اس فقیر سے سوال کرے گا۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو لہذا اسی چیز کو جو اس نے فقیر کو دی تھی دوبارہ واپس مانگے گا اپنے لیے بھئی، تو لہذا اس میں کیا ہے؟ قلب موضوع ہے مولانا۔
سمجھ میں آیا؟ بھئی، جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے اس کا اس میں اس کا ہی قلب ہو گیا، اس کے لیے اس کو تو کس لیے وضع کیا گیا تھا؟ تاکہ فقیر کی حاجت پوری ہو جائے، نہ کہ اس لیے کہ یہ خود کیا بن جائے؟ فقیر بن جائے۔ تو کہتے ہیں بھئی جس میں قلب موضوع ہے ”بِأَنْ يُعْطِيَ الْيَوْمَ الصَّدَقَةَ“ کہ دے گا وہ اج کے دن صدقہ ”ثُمَّ يَسْأَلُ مِنْهُ غَدًا“ پھر مانگے گا اس سے اگلے دن ”عَيْنَ تِلْكَ الصَّدَقَةِ“ عین وہی صدقہ، پھر کل اس سے کیا کرنا پڑے گا؟ اسے مانگنا پڑے گا، لہذا اس کے لیے بھی نصاب کا ہونا ضروری ہے۔ چلیے بس مولانا، هذا هو المراد، والله أعلم بحقيقة الكلام۔