درس نمبر۔ 111
والاحتجاج باستصحاب الحال عطف على التعليل بالنفي، أي مثل الاطراد الاحتجاج باستصحاب الحال في عدم صلاحيته للدليل. ومعناه طلب صحبة الحال للماضي بأن يحكم على الحال بمثل ما حكم في الماضي. وحاصله إبقاء ما كان على ما كان بمجرد أنه لم يوجد له دليل مزيل.
آج بھئی استصحابِ حال کے بارے میں بتلا رہے ہیں بھئی۔ استصحابِ حال، کہ استصحابِ حال سے دلیل پکڑنا یہ ہمارے نزدیک درست نہیں بھئی۔ بھئی ان چیزوں کی بحث چل رہی ہے جو بعض اور فقہاء کے نزدیک تو دلیل ہیں لیکن ہمارے نزدیک دلیل نہیں۔ جیسے کہ اطراد تھا بھئی۔ اطراد بعض کے نزدیک دلیل ہے لیکن ہمارے نزدیک دلیل نہیں، اسی طرح تعلیل بالنفي جو ہے یہ بھی بعض کے نزدیک دلیل ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ دلیل نہیں۔ اسی طرح استصحابِ حال سے استدلال کرنا بعض کے نزدیک یہ دلیل ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ دلیل نہیں ہے بھئی۔
استصحابِ حال بھئی، استصحابِ حال، دیکھیے استصحاب، "سین" طلب کے لیے ہے۔ استصحاب، صحبت کو طلب کرنا۔ استصحاب کا کیا معنیٰ؟ صحبت کو طلب کرنا، مصاحبت کو طلب کرنا۔ کس کے لیے؟ ماضی کے لیے حال کی۔ ماضی کے لیے حال کی صحبت طلب کرنا۔ ماضی کے لیے حال کی صحبت طلب کرنا۔
یعنی آسان لفظوں میں یوں کہیے، "إبقاء ما كان على ما كان"۔ استصحابِ حال میں پہلے بھی ایک مرتبہ بیان کر چکا ہوں، "إبقاء ما كان على ما كان"۔ "إبقاء ما كان" باقی رکھنا کسی چیز کو، "إبقاء ما كان" باقی رکھنا "ما كان" وہ جو تھا، وہ جو تھا اس کو باقی رکھنا "على ما كان" اسی وصف پر جس پر وہ پہلے تھا بھئی۔ بھئی زمانۂ ماضی میں ایک چیز کے لیے ایک وصف ثابت تھا، حال کے اندر بھی اس کے اسی وصف کو ثابت کرنا، اسی ماضی کی وجہ سے حال میں بھی اس کے لیے وہی وصف ثابت کرنا، یہ کیا ہے؟ "إبقاء ما كان على ما كان"۔
مثلاً دیکھیے بھئی، آپ جنگل میں جا رہے ہیں، وہاں پر آپ کو پانی کچھ نظر آیا بھئی۔ آپ پانی معلوم نہیں، یہ پاک ہے یا نجس ہے۔ آپ استصحابِ حال کو دلیل بناتے ہیں۔ استصحابِ حال، کہ ماضی میں جو وصف ثابت تھا اس کو حال میں بھی ثابت کرنا، اور ماضی میں پانی کے لیے کیا وصف تھا؟ آپ پانی یہ تو بارش کا پانی، آسمان سے نازل ہوا اور بارش کا پانی تو پاک ہوتا ہے، تو ماضی میں یہ پاک تھا اب بھی کیا ہوگا؟ پاک ہوگا۔ یہ ہے استصحابِ حال بھئی۔ وہی وصف جو ماضی میں تھا اس کو کس میں ثابت کرنا؟ حال میں بھی ثابت کرنا، اس کو مان لینا، یہ ہے استصحابِ حال بھئی، استصحابِ حال۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو استصحابِ حال جو ہے اس سے، اس کو دلیل بناتے ہیں بعض فقہاء، ہمارے نزدیک استصحابِ حال سے دلیل پکڑنا صحیح نہیں بھئی۔ دیکھیے، کتاب پر "والاحتجاج باستصحاب الحال"، اور "الاحتجاج" کا معنیٰ حُجّت پکڑنا، دلیل پکڑنا۔ "والاحتجاج باستصحاب الحال" اور استدلال کرنا استصحابِ حال سے، "عطف على التعليل بالنفي" یہ عطف ہے مصنف کے جو قول "تعليل بالنفي" گزرا تھا پیچھے بھئی۔ کس طرح تھا "تعليل بالنفي" بھئی؟ "ومثله التعليل بالنفي" اور اطراد ہی کے مثل ہے تعلیل بالنفي۔ اطراد ہی کے مثل ہے؟ کیا معنیٰ؟ جیسے اطراد دلیل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اسی طرح تعلیل بالنفي بھی دلیل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور اسی طرح احتجاج باستصحاب الحال، استصحابِ حال سے استدلال کرنا یہ بھی اطراد کی طرح ہے، یعنی یہ بھی دلیل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
دیکھیے تو پیچھے عبارت کیا تھی؟ "ومثله التعليل بالنفي"، "التعليل بالنفي" یہ خبر تھی نا "ومثله" کے لیے؟ اور تو یہاں "الاحتجاج باستصحاب الحال" کا عطف بھی "تعليل بالنفي" پر ہے، تو یہ بھی خبر ہوئی کس کے لیے؟ "ومثله" کے لیے۔ تو عبارت کیا ہو گئی گویا؟ "ومثله الاحتجاج باستصحاب الحال" اطراد ہی کے مثل ہے کیا چیز؟ استصحابِ حال سے استدلال کرنا۔ وہی بیان کر رہے ہیں: "أي مثل الاطراد الاحتجاج باستصحاب الحال" اس اور اطراد یعنی کہ اطراد ہی کے مثل ہے استصحاب الحال سے استدلال کرنا۔
تو دیکھیے، انہوں نے کہا اطراد کے مثل ہے۔ کون؟ استصحابِ حال سے دلیل پکڑنا، تو اس کو اس کے مشابہ قرار دیا، تو وجہِ تشبیہ چاہیے بھئی۔ میں کہتا ہوں: "زید شیر کی طرح ہے"، تو وجہِ تشبیہ چاہیے، کس چیز میں؟ بہادری میں۔ تو وہی وجہِ تشبیہ آگے ذکر کر رہے ہیں: "في عدم صلاحيته للدليل"، دلیل بننے کی صلاحیت نہ رکھنے کے اندر، جس طرح اطراد میں دلیل بننے کی صلاحیت نہیں، اسی طرح استصحابِ حال میں بھی دلیل بننے کی صلاحیت نہیں، یہ دلیل نہیں بن سکتا۔
"ومعناه" اور معنیٰ جو ہے استصحابِ حال کا: "طلب صحبة الحال للماضي"، حال کی صحبت کو طلب کرنا "للماضي" کس کے لیے؟ ماضی کے لیے، "بأن يحكم على الحال بمثل ما حكم في الماضي" بایں طور کہ حکم لگایا جائے حال پر اسی جیسا جیسا کہ حکم لگایا گیا تھا ماضی میں۔ "وحاصله" اور حاصل یہ کہ "إبقاء ما كان على ما كان" باقی رکھنا وہ چیز جو کہ تھی "على ما كان" اسی وصف پر جس پر وہ پہلے تھی، "بمجرد أنه لم يوجد له دليل مزيل" محض اس وجہ سے کہ کوئی ایسی دلیل نہیں پائی گئی جو اس کو زائل کر دے، ختم کر دے۔
کوئی ایسی دلیل، بھئی دیکھیے! آپ نے کو پانی مل، ملا جنگل میں، آپ نے کیا کیا؟ استصحابِ حال کے ذریعے کہا کہ ماضی میں، آپ نے کہا: ماضی میں اس کے لیے پاکی ثابت تھی، پاکی کا وصف تھا، تو اس وقت بھی کیا ہوگا جب مجھے ملا ہے، یہ پانی کیا ہوگا؟ پاک ہوگا۔ تو آپ نے وہی ماضی والے وصف کو حال میں ثابت کر دیا، کیا کیا؟ کیوں ثابت کیا؟ کیونکہ کوئی ایسی دلیل آپ کو نہیں ملی جو اس وصف کو ختم کر دے۔ آپ کو وہاں کوئی نجاست وغیرہ نہیں ملی، اگر وہاں کوئی نجاست دکھائی دیتی وہ تو پھر پاکی کو کیا کر دیتی؟ زائل کر دیتی، تو وہ دلیلِ مزيل بن جاتی، لیکن آپ کو کوئی دلیلِ مزيل ملی ہی نہیں، اس لیے آپ نے ماضی کے وصف کو حال میں بھی ثابت کر دیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اگر دلیلِ مزيل بن جائے، پھر تو استصحابِ حال نہیں ہو سکتا، پھر تو دلیل مل گئی۔ کہ ماضی والا وصف اس وقت ثابت نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں: "بمجرد أنه لم يوجد له دليل مزيل" کہتے ہیں: باقی رکھنا کسی چیز کو اسی وصف پر جس وصف پر وہ پہلے تھی، محض اس وجہ سے کہ نہیں پائی گئی اس کے لیے کوئی ایسی دلیل جو اس کو زائل کر دے، جو اس کو دور کر دے، ختم کر دے۔ "وهو حجة عند الشافعي رحمة الله عليه" اور یہ حُجّت ہے، دلیل ہے امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، وہ استصحابِ حال کو دلیل بناتے ہیں۔ "استدلالا ببقاء الشرائع بعد وفاته عليه الصلاة والسلام" استدلال کرتے ہوئے شرعی احکام کے باقی رہنے سے حضور علیہ السلام کی وفات کے بعد۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: استصحابِ حال دلیل ہے، ماضی میں جو ایک وصف ثابت ہو وہ حال میں بھی ثابت ہوگا جب تک کوئی دلیلِ مزيل نہ پائی جائے۔
اور دلیل، کیا دلیل ہے استصحابِ حال دلیل بنے گی؟ اس کے لیے استصحابِ حال کو دلیل بنا رہے ہیں نا؟ تو پہلے استصحابِ حال دلیل بنتی ہے یا نہیں، یہ تو ثابت کریں۔ کہتے ہیں بھئی: یہ استصحابِ حال دلیل بنتی ہے، اور دلیل کیا اس کی؟ کہتے ہیں: حضور علیہ السلام جو شرعی احکام لے کر آئے تھے، وہ آج بھی ہمارے زمانے میں باقی ہیں، اور یہ استصحابِ حال کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ حضور علیہ السلام احکام لائے تھے، نماز فرض ہے، روزہ فرض ہے، حج فرض ہے، وغیرہ جو جو احکامات جتنے شرعی احکام لے کر آئے وہ آج بھی باقی ہیں، کس وجہ سے؟ استصحابِ حال کی وجہ سے ہی تو یہ ہماری شریعت باقی ہے آج تک بھئی۔
تو ان کی دلیل کیا؟ استصحابِ حال کے دلیل بننے کے لیے وہ کس چیز سے استدلال کرتے ہیں؟ احکامِ شرعیہ کے آج بھی باقی رہنا، یہ استصحابِ حال سے ہی ہے، وہ فرماتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: "وهو حجة عند الشافعي رحمة الله عليه" اور وہ، یہ استصحابِ حال حُجّت ہے امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، "استدلالا ببقاء الشرائع بعد وفاته عليه الصلاة والسلام" استدلال کرتے ہوئے، دلیل پکڑتے ہوئے شرائع کے بقاء سے، شرائع کی، شرائع سے کیا مراد ہیں؟ احکامِ شرعیہ۔ احکامِ شرعیہ کی بقاء سے بعد وفاتہِ، حضور علیہ السلام کی وفات کے بعد۔ حضور علیہ السلام کی وفات کے بعد شرعی احکام کی بقاء سے وہ دلیل پکڑتے ہیں، دلیل بناتے ہیں۔
"وعندنا هو ليس بحجة" ہمارے نزدیک استصحابِ حال حُجّت نہیں ہے، "لأن المثبت ليس بمبق" اس لیے کیونکہ مثبت وہ مبقی نہیں ہو سکتا بھئی۔ بھئی دیکھیے! ایک ہے وجودِ شے، ایک ہے بقائے شے، وجودِ شے اور ہے، بقائے شے اور ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ایک کیا ہے؟ وجودِ شے، ایک ہے بقائے شے، وجودِ شے کے لیے الگ دلیل چاہیے، بقائے شے الگ چیز ہے اس کے لیے الگ دلیل چاہیے۔ وہی دلیل جس سے وجود ثابت ہوا تھا اس سے بقاء کو نہیں ثابت کر سکتے، کیونکہ چیزیں کا، چیزوں کا وجود تو آ جاتا ہے، دلیل سے ثابت ہو جائے گا، لیکن ضروری تو نہیں اس میں بقاء، کبھی ہوگی کبھی کیا ہو جائے گی؟ ختم ہو جائے گی۔ تو لہٰذا بقاء تو ہر چیز کے ساتھ نہیں ہے، کبھی بقاء ہوتی ہے، کبھی بقاء نہیں، تو بقاء ایک الگ چیز ہے، الگ وصف ہے، اس کے لیے باقاعدہ الگ دلیل چاہیے۔
تو وہ دلیل جس سے وجود ثابت تھا، وہ بقاء کے لیے آپ دلیل نہیں بنا سکتے۔ وہ دلیل جس کے ذریعے وجود ثابت تھا، وہ ہوئی مثبت، وہ دلیلِ مثبت، اور جس کے ذریعے بقاء ثابت ہوگی وہ ہے دلیلِ مبقی، باقی رکھنے والی دلیل۔ تو دلیلِ مثبت کے ہونے سے دلیلِ مبقی کا ہونا ضروری نہیں، اس کے لیے، وہ دلیلِ مثبت جو ہے وہ دلیلِ مبقی نہیں ہو سکتی بھئی، بقاء الگ وصف ہے، تو اس کے لیے الگ کیا چاہیے؟ دلیلِ مبقی چاہیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ وجود اور بقاء دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، دونوں کے لیے الگ دلیل چاہیے۔
"لأن المثبت ليس بمبق" اسی لیے کیونکہ ثابت کرنے والا وہ باقی رکھنے والا نہیں ہے، یعنی جو دلیل مثبت ہے وہ دلیل مبقی نہیں، "فلا يلزم أن يكون الدليل الذي أوجبه ابتداء في الزمان الماضي مبقيا له في الزمان الحالي" پس یہ لازم نہیں آتا کہ وہ دلیل جس نے "أوجبه"، "أوجبه" بھئی کس معنیٰ میں ہوگا؟ "أثبته"، میں نے بتایا تھا "وجب" بمعنیٰ "ثبت" کے، "أوجب" بمعنیٰ "أثبت" کے، "موجب" بمعنیٰ "مثبت" کے، یہ عام کلام میں استعمال ہوتا ہے بھئی، جگہ جگہ کتابوں میں۔ پس یہ لازم نہیں آتا "أن يكون الدليل الذي أوجبه ابتداء في الزمان الماضي" کہ وہ دلیل جس نے ثابت کیا تھا اس چیز کو ابتداء میں زمانۂ ماضی کے اندر، "مبقيا له في الزمان الحالي" وہی دلیل اس کو باقی بھی رکھنے والی ہو زمانۂ حال میں، یہ ضروری نہیں۔
ماضی میں ایک دلیل تھی، اس سے وجود تو ثابت ہو گیا تھا، لیکن اب حال میں بھی اسی کو آپ دلیل بنائیں، بھئی وہ تو دلیلِ مثبت تھی، اس سے وجود تو ثابت ہو گیا، ہمیں انکار نہیں، لیکن بقاء اسی سے آپ ثابت کریں، یہ تو اس کے لیے کیا چاہیے؟ الگ دلیل ہمیں چاہیے بھئی۔ "لأن البقاء عرض حادث غير الوجود" اس لیے کیونکہ بقاء ایسا وصف ہے جو حادث ہے، نیا آیا ہے "غير الوجود" اور وجود کے علاوہ، ایک ہے وجود، ایک ہے بقاء، دونوں الگ الگ ہیں، تو بقاء ایسا وصف ہے جو حادث ہے، نیا پیش، نیا وصف پیدا ہوا ہے، اور "غير الوجود" یہ وجود کے علاوہ ہے، وجود تو الگ ہے، بقاء الگ ہے۔
"لأن البقاء عرض حادث غير الوجود" اس لیے کیونکہ بقاء ایسا وصف ہے جو حادث ہے اور وجود کے علاوہ ہے، "ولا بد له من سبب على حدة" اور ضروری ہے اس بقاء کے لیے علیحدہ سبب کا ہونا۔ "وأما بقاء الشرائع" اچھا بھئی! امامِ شافعی رحمہ اللہ نے دلیل ذکر کی تھی، استصحابِ حال ان کے نزدیک دلیل ہے، کس وجہ سے؟ بقاء الشرائع، شرعی احکام کا باقی رہنا حضور علیہ السلام کی وفات کے بعد، وہ کہتے ہیں: یہ استصحابِ حال کے ذریعے ہے، ہم کہتے ہیں: نہیں، جواب دیتے ہیں ہم انہیں، کہ یہ استصحابِ حال کی وجہ سے شرعی احکام باقی نہیں ہیں، بلکہ قطعی ادلہ اس بات پر قائم ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپ جو شریعت لے کر آئے ہیں وہ تا قیامت رہے گی، آپ کے بعد کوئی ایسا پیغمبر نہیں آئے گا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کر دے، اس پر قطعی ادلہ موجود ہیں قرآن و حدیث وغیرہ میں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ استصحابِ حال کے ذریعے نہیں ہماری شریعت باقی، بلکہ قطعی ادلہ کے ذریعے ثابت ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: "وأما بقاء الشرائع" اور باقی شرعی احکام کا باقی رہنا، "فلقيام الأدلة على كونه خاتم النبيين" بموجب دلیلوں کے قائم ہونے اس بات پر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، "ولا يبعث بعده أحد ينسخها" اور یہ کہ نہیں بھیجا جائے گا حضور علیہ السلام کے بعد کسی ایک کو بھی "ينسخها" جو ان شرعی احکام کو منسوخ کر دے۔ تو ان کی وجہ سے بقائے شریعت ہے، "لا بمجرد استصحاب الحال" نہ کہ محض استصحابِ حال سے۔ "وذلك الاستصحاب بالحالي يتحقق" بھئی دیکھیے! "وذلك يتحقق" یہ تو ہے متن، درمیان میں "الاستصحاب بالحال" نکال کر "ذلك" کا مشارٌ إلیہ بتلا دیا شارح نے، کہ "ذلك" کے لیے کس کی طرف اشارہ ہے؟ استصحاب۔ اور یہ جو استصحابِ حال ہے "يتحقق في كل حكم" یہ ثابت ہوگا ہر ایسے حکم میں "عرف وجوبه بدليله"، "عرف وجوبه" یعنی "ثبوته" جس کے ثبوت کو جانا گیا ہے "بدليله" اس کی دلیل کے ساتھ۔
"ثم وقع الشك في زواله" پھر شک واقع ہوا اس کے زائل ہونے کے اندر، اس کے ختم ہونے کے اندر بھئی۔ کہتے ہیں بھئی: یہ جو استصحابِ حال ہے، یہ ثابت ہوگا ہر ایسے حکم میں جس کا ثبوت تو دلیل سے ہے، حکم کے ثبوت پر تو دلیل موجود ہے، لیکن اس کے بعد یہ حکم ختم ہوا یا ختم نہیں ہوا؟ اس میں شک ہے۔ اس میں شک ہے بھئی، اس لیے کیونکہ آگے بقاء پر کوئی دلیل ہمیں نہیں ملتی، اور زوال پر بھی کوئی دلیل نہیں ملتی۔ ثبوت پہ تو دلیل تھی کہ یہ حکم ثابت ہو گیا۔ یہ حکم کیا ہوا؟ بعد میں باقی رہا یا ختم ہو گیا؟ کوئی دلیل نہیں ہمارے پاس، نہ باقی رہنے پہ کوئی دلیل ہے اور نہ ختم ہونے پر اس کے کوئی دلیل ہے بھئی۔ اگرچہ ہم نے غور و فکر بھی کیا، اجتہاد کیا، لیکن ہمیں نہ تو کوئی دلیلِ مبقی ملی، نہ دلیلِ مزيل ملی بھئی، تو یہاں پر کیا ہوگا؟ استصحابِ حال ثابت ہوگا، کس کے نزدیک؟ امامِ شافعی رحمہ اللہ اس کو دلیل بناتے ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: یہ استصحابِ حال ثابت ہوگا ہر ایسے حکم میں جس کو، جس کے جانا گیا ہے اس حکم کے وجوب کو اس کی دلیل کے ذریعے، اس کے وجوب کو یعنی اس کے ثبوت کو جانا گیا ہے اس حکم کے ثبوت کو اس کی دلیل کے ذریعے، "ثم وقع الشك في زواله" پھر شک واقع ہوا اس حکم کے زائل ہونے میں، "من غير أن يقوم دليل بقائه أو عدمه" بغیر اس کے کہ اس کی بقاء یا اس کے عدم پر کوئی دلیل قائم ہو، نہ بقاء پر کوئی دلیل ہے اور نہ عدم پر کوئی دلیل ہے، "مع التأمل والاجتهاد فيه" با وجود اس میں تامل اور اجتہاد کے کوئی دلیل نہیں ہے، "فكان استصحاب الحال للبقاء على ذلك الوجود موجبا عند الشافعي رحمة الله عليه" تو استصحابِ حال للبقاء على ذلك الوجود موجباً عند الشافعي رحمة الله عليه۔
کس کا استصحابِ حال؟ بقا کا۔ اب وصف کون سا ہے؟ بقا کا ہے نا۔ تو بقا کا استصحابِ حال علیٰ ذٰلک الوجود کس پر؟ اس وجود پر، بھئی جس کا ثبوت کس سے ہوا تھا؟ دلیل۔ وجود کا ثبوت تو دلیل سے ہوا تھا، تو یہ جو بقا کا استصحابِ حال ہے اس کا، یہ جو بقا ہے اس کا استصحابِ حال کرنا کس پر؟ اس وجود پر، یہ موجباً عند الشافعي رحمہ اللہ، یہ امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مثبت ہے۔ کیا ہے؟ موجب بمعنیٰ مثبت۔
تو کہتے ہیں: فكان استصحاب حال البقاء على ذلك الوجود موجبا عند الشافعي رحمه الله۔ تو استصحابِ حال بقا کا استصحاب ہاں، فكان استصحاب حال البقاء على ذلك الوجود۔ تو اس بقا کے حال کا استصحاب کرنا علیٰ ذٰلک الوجود اس وجود پر موجباً عند الشافعي رحمہ اللہ، یہ مثبت ہے امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، أي حجة ملزمة۔ موجباً أي حجة ملزمة على الخصم۔ یہ حجةً، یہ تفسیر کس کی کر رہے ہیں؟ موجباً کی تفسیر کر رہے ہیں۔ موجب مثبت ہے، کیا معنیٰ؟ أي حجة ملزمة على الخصم، ایسی دلیل ہے جو لازم کرنے والی ہے علی الخصم، کس پر؟ فریقِ مخالف پر یعنی مقابل پر۔
بھئی دیکھیے، خلاصۂ بحث یاد رکھیے گا۔ استصحابِ حال امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ دلیلِ مثبت بھی بنے گی اور دلیلِ دلیلِ دفع بھی بنے گی۔ دلیلِ دفع، دلیلِ مثبت بھی، یا یوں کہو، یہ حجتِ مثبتہ بھی بنے گی اور حجتِ دافعہ بھی بنے گی۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ کا مذہب کیا ہے بھئی؟ استصحابِ حال یہ حجتِ مثبتہ بھی بنے گی، اس کے ذریعے کسی چیز کو ثابت بھی کیا جا سکتا ہے، اور یہ حجتِ دافعہ بھی بنے گی، اس کے ذریعے فریقِ مخالف کے الزام کو دفع بھی کیا جا سکتا ہے، اس کا جواب بھی دیا جا سکتا ہے۔ ایک ہے حجتِ مثبتہ، ایک ہے حجتِ دافعہ۔
حجتِ مثبتہ وہ دلیل جو کسی چیز کو ثابت کرے، وہ دلیل جو کسی چیز کو ثابت کرے۔ دیکھیے ایک آدمی آپ پر دعویٰ کر دیتا ہے کہ آپ نے میرے 50 ہزار دینے ہیں، اور عدالت میں باقاعدہ گواہ پیش کر دیتا ہے۔ یہ گواہوں کا پیش کرنا حجتِ مثبتہ ہے، اس کی وجہ سے آپ پر وہ 50 ہزار لازم ہو جائیں گے۔ کیا ہو جائیں گے؟ دیکھو، فریقِ مخالف پر ایک چیز کو ثابت کرنا، اس پر اس کو لازم کرنا، اس کو کہتے ہیں حجتِ مثبتہ اور حجتِ ملزمہ، لازم کرنے والی حجت بھئی۔ جس پر کیا ہوتا ہے؟ کوئی دعویٰ کیا جائے تو فریقِ مخالف پر اس کو ثابت کیا جا سکتا ہے۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ جیسے وہ گواہوں کی گواہی وہ حجتِ ملزمہ ہے، فریقِ مخالف پر آپ کا دعویٰ لازم ہو جائے گا، ثابت ہو جائے گا۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسی طرح استصحابِ حال بھی حجتِ مثبتہ ہے، یعنی حجتِ ملزمہ ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جبکہ ایک ہے حجتِ دافعہ۔ حجتِ دافعہ اس کو کہتے ہیں کہ ایک شخص دوسرے پر دعویٰ کرے اور دوسرا ایسی دلیل پیش کر دے جس سے اس کا دعویٰ دفع ہو جائے، یہ کیا ہوئی؟ حجتِ دافعہ۔
تو ان کے نزدیک استصحابِ حال حجتِ ملزمہ، یا یوں کہیں، حجتِ مثبتہ بھی بن سکتی ہے اور حجتِ دافعہ بھی۔ ہمارا مذہب یاد رکھیے، ہمارے نزدیک استصحابِ حال جو ہے وہ حجتِ دافعہ تو بن سکتا ہے، حجتِ مثبتہ نہیں۔ ہمارا کیا مذہب؟ حجتِ دافعہ تو بن سکتا ہے، اس کے ذریعے فریقِ مخالف کی بات ثابت نہیں ہو گی، اس کو رد کیا جا سکتا ہے، اس کو جواب دیا جا سکتا ہے، لیکن حجتِ مثبتہ نہیں بن سکتا، اس کے ذریعے فریقِ مخالف پر کسی بات کو ثابت اور لازم نہیں کیا جا سکتا بھئی۔
أي حجة ملزمة على الخصم، یعنی یہ استصحابِ حال جو ہے ایسی حجت ہے جو لازم کرنے والی ہے فریقِ مخالف پر امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک۔ وعندنا لا يكون حجة موجبة ولكنها حجة دافعة، اور ہمارے نزدیک استصحابِ حال وہ حجتِ موجبہ یعنی حجتِ مثبتہ تو نہیں ہے، ولكنها حجة دافعة لیکن وہ حجتِ دافعہ ہے لإلزام الخصم عليه، کس کے لیے حجتِ دافعہ ہے؟ فریقِ مخالف نے اس پر جو الزام کیا ہے، جو چیز ثابت کرنا چاہتا ہے، جو الزام لگایا ہے، اس کے لیے یہ کیا ہے؟ حجتِ دافعہ ہے بھئی۔
وفائدة الخلاف تظهر فيما ذكره بقوله، اور یہ اختلاف کا فائدہ ظاہر ہو گا اس صورت میں جس کو ذکر کیا ہے مصنف نے اپنے اس قول کے ساتھ: حتى قلنا في الشقص۔ اچھا بھئی، یاد رکھیے بھئی، یہ مثال ذکر کر رہے ہیں جس میں ہمارا اور امامِ شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف واضح ہو گا، ہمارا اختلاف ظاہر ہو گا، ان کے نزدیک مسئلہ اور طرح ہو گا، ہمارے نزدیک مسئلہ اور طرح۔
پہلے شفعہ سمجھ لیں۔ شفعہ جانتے ہیں یا نہیں بھئی؟ شفعہ اس کو کہتے ہیں شریعت نے بھئی، آپ نے مثلاً آپ کی ایک جگہ پر زمین ہے، آپ کے ساتھ والی زمین کسی اور کی ہے، اس نے وہ زمین کسی کو بیچ دی۔ تو آپ کو شریعت نے حق دیا ہے کہ آپ جبراً مشتری سے وہ زمین لے سکتے ہیں، وہی پیسے دے کر جو اس نے بائع کو ادا کیے تھے۔ آپ کیا کر سکتے ہیں؟ جبراً وہ زمین لے سکتے ہیں مشتری سے، مشتری سے، وہی پیسے دے کر جو اس نے بائع کو ادا کیے تھے، بائع کو ادا کیے تھے۔
اور اس کے لیے ضروری ہے بھئی، حقِ شفعہ، یہ دیکھیے آپ کو شریعت نے پڑوس کی وجہ سے حقِ شفعہ دیا بھئی، حقِ شفعہ۔ حقِ شفعہ، اور یاد رکھیے، یہ ضررِ جوار کو دور کرنے کے لیے ہے۔ ہمارے نزدیک حقِ شفعہ کی وجہ کیا ہے؟ کیوں شریعت نے حقِ شفعہ دیا؟ ضررِ جوار کو، پڑوس کے ضرر کو دور کرنے کے لیے۔ بھئی دیکھیے، اگر پڑوسی نیک ہے تو زندگی بڑی راحت والی ہوتی ہے، اور اگر پڑوسی تنگ کرنے والا ہے، تکلیف دینے والا ہے، تو زندگی عذاب بن جاتی ہے، کیونکہ وہ تو ساتھ رہتا ہے، دن رات سر پر سوار رہے گا بھئی، ہر وقت تکلیف دیتا رہے گا۔ ایک دو دن چار دن کی بات بھی نہیں ہے، ہمیشہ کی بات ہے بھئی۔
تو لہٰذا، اب آپ پڑوسی، آپ کے پڑوسی نے زمین بیچی، مثلاً زید تھا آپ کا پڑوسی، اس نے اپنی زمین بیچ دی۔ آپ زید کے پڑوس پر تو راضی تھے، زید تو نیک آدمی تھا بھئی، تبلیغی آدمی تھا بھئی، سمجھ میں آیا؟ لیکن اب پتا نہیں جس نے خریدی ہے وہ کس قسم کا آدمی ہو! لہٰذا شریعت نے آپ کو حق دے دیا کہ نیا آدمی آنے کے بجائے اگر آپ لینا چاہتے ہیں تو اس زمین کو اسی قیمت میں لے سکتے ہیں زبردستی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ ہے شفعہ بھئی، یہ کیا ہے؟ شفعہ۔
اور اس میں ضروری ہے، آپ کو جس مجلس میں بیع کی خبر پہنچے، جہاں آپ بیٹھے ہوئے تھے آپ کو کس نے بتایا بھئی زید نے اپنی ساتھ والی زمین آپ کے جو ہے وہ اس نے بیچ دی ہے، آپ فوراً وہیں کہیں کہ میں شفعہ کرتا ہوں، میں کیا کرتا ہوں؟ شفعہ کرتا ہوں، اور گواہ بنا لیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور پھر اسی طرح، تو یہ ضروری ہے اس کے اندر، اگر یہ نہ کیا، آپ اس وقت خاموش رہے، اس کا مطلب ہے آپ بیچنے پر راضی ہیں، بس آپ کا حقِ شفعہ ختم ہو گیا۔
بعد میں آپ کر بھی لیں، لیکن یاد رکھیے پھر آپ حرام کام کر رہے ہیں، حقِ شفعہ ختم ہو چکا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ آپ بعد میں کہیں میں نے تو اسی مجلس میں کیا تھا، لیکن وہ تو اللہ جانتے ہیں بھئی، سمجھ میں آئی بات بھئی؟
تو حقِ شفعہ ایک تو یہ پڑوس کی وجہ سے ہوتا ہے، ساتھ والی زمین۔ اسی طرح شریک کوئی آپ کا زمین کو بیچے، تو اس میں بھی حقِ شفعہ آئے گا۔ مثلاً بھئی، آپ نے اور زید نے مل کر ایک پلاٹ خریدا بھئی، آدھے پیسے آپ کے ہیں، آدھے زید کے۔ اب یہ جو پلاٹ خریدا، آپ کا اور زید کا مشترک ہے۔ تقسیم نہیں کی، اگر تقسیم کر دیتے ہیں پلاٹ کی، آدھا ایک طرف والا آپ کا، آدھا دوسرے کا، تو شرکت ختم، اب تو آپ پڑوسی بن گئے۔ زمینیں الگ الگ کر لیں، یہ وہ صورت بیان کر رہا ہوں جب تقسیم نہیں کی، جب تقسیم نہیں کی، زمین کے ایک ایک انچ میں آپ کا بھی حصہ ہے تو زید کا بھی، جس انچ کو بھی پکڑ لیں، اس میں آپ کا بھی حصہ اور زید، یہ ہے شرکت والی صورت۔
اس شرکت والی صورت میں، زید اپنا حصہ کسی اور کو بیچ دیتا ہے۔ حصہ الگ نہیں کیا، زید کسی سے کہتا ہے بھئی اس زمین میں آدھا میرا حصہ ہے، وہ میں تمہیں بیچتا ہوں، کسی اور کو بیچ دیتا ہے۔ تو یاد رکھیے اس صورت میں بھی شریعت نے دوسرے شریک کو شفعے کا حق دیا ہے، دوسرے کو۔ تو جیسے پڑوس کی صورت میں حقِ شفعہ آتا ہے، اسی طرح شرکت کی صورت میں بھی کیا آتا ہے؟ حقِ شفعہ آتا ہے، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ تھا شفعہ بھئی، شفعہ۔
اب آگے بتلائیں گے دو، یہ شرکت والی صورت بیان کریں گے، شرکت والی صورت۔ تو ہمارے نزدیک شفعہ جوار یعنی پڑوس کی وجہ سے بھی آتا ہے اور شرکت کی وجہ سے بھی آتا ہے۔ یہ صورتِ مسئلہ بنائیں گے شرکت والی صورت کو بھئی، شرکت والی صورت، کیوں؟ وجہ یہ کہ ہمارے نزدیک تو شفعہ شرکت کی صورت میں بھی آتا ہے اور پڑوس کی صورت میں بھی، امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک شفعہ صرف شرکت کی صورت میں تو آتا ہے، پڑوس کی صورت میں شفعے کا حق نہیں ہے کسی کو۔ لہٰذا، اور ہم نے تو ان کے ساتھ اپنے اختلاف کو ذکر کر رہے ہیں، لہٰذا کون سی صورت بنائیں گے یہ؟ شرکت والی۔
شرکت والی صورت یہ کہ مثلاً زید نے اور میں نے مل کر ایک زمین خریدی، پھر زید نے اپنا حصہ کسی کو بیچ دیا۔ جب اپنا حصہ بیچ دیا، تو میں نے کہا اس مشتری سے کہ بھئی مجھے خبر ملی ہے، میں حقِ شفعہ مجھے شریعت نے دیا ہے، جس مجلس میں مجھے پتا چلا تھا، میں نے حقِ شفعے کا دعویٰ کیا تھا وہیں پر بھئی، اور میں اب شفعہ کرتا ہوں، آپ یہ زمین میرے حوالے کر دیں، جس قیمت پر لی ہے اسی پر، اگر آپ نہیں دیتے تو پھر میں قاضی کے پاس جاؤں گا، میرا حق ہے۔
اس نے کہا کہ بھئی آپ کو تو حقِ شفعہ ہی نہیں ہے! بھئی کیوں نہیں مجھے حقِ شفعہ؟ کہتے ہیں اس، میں نے کہا بھئی میں اس زمین کے اندر رہتا، زمین پر ہی رہتا ہوں، اسی پر میری رہائش ہے بھئی، تقسیم ہم نے ابھی نہیں کی، لیکن میں اسی پر رہتا یہیں پر ہوں۔ سمجھ میں آیا؟ مثلاً کوئی گھر تھا بنا ہوا، ہم نے تقسیم نہیں کیا، بس ویسے رہ رہے ہیں ابھی بھئی، میں اسی میں رہتا ہوں۔ اس نے کہا: آپ جو رہتے ہیں، کرایا پر رہتے ہیں بھئی، یا آپ کو زید نے عاریتاً دیا ہوا تھا، کسی نے آپ کو یہ عاریتاً حصہ دیا ہوا ہے، یہ آپ کا ہے ہی نہیں بھئی، آپ کا ہے ہی نہیں۔
تو میں نے کہا: نہیں نہیں، میں اس میں عاریتاً نہیں رہتا، میں مالک ہوں، میں اس میں رہتا ہوں، اس زمین میں آدھا حصہ میرا ہے، ابھی تقسیم ہم نے نہیں کی، لیکن آدھا میرا ہے۔ تو یاد رکھیے ہمارے نزدیک، ہمارے نزدیک جو شفعہ کرنے والا ہے اس کے ذمہ بینہ ضروری ہو گی۔ بینہ گواہ پیش کرنے پڑیں گے اس بات پر مجھے کہ اس آدھی زمین میں میری شرکت، اس میں میری شرکت ہے۔ ویسے مجھے حقِ شفعہ نہیں ملے گا۔
کیوں؟ وجہ یہ کہ میں استصحابِ حال کو دلیل بنا رہا تھا، اور استصحابِ حال حجتِ دافعہ تو بن سکتی ہے، حجتِ مثبتہ نہیں بن سکتی۔ استصحابِ حال کو کس طرح دلیل بنا رہا ہوں؟ میں کہہ رہا ہوں کہ بھئی چونکہ میں اسی گھر میں رہتا ہوں، تو معلوم ہوا یہ گھر میرا ہے بھئی، یہ گھر میرا ہے بھئی، تو میں استصحابِ حال کو دلیل بنا رہا ہوں کہ میں اس گھر کا مالک ہوں، میں پہلے سے اس گھر میں رہ رہا ہوں، رہ رہا ہوں، تو مالک بھی اس کا میں ہی ہوں بھئی، لہٰذا مجھے حقِ شفعہ ہے۔
میں نے کیا کہا؟ استصحابِ حال کو کس طرح دلیل بنایا؟ میں نے کہا: میں اس گھر کا مالک ہوں کیونکہ میں پہلے سے ہی اس میں رہتا ہوں، پہلے سے ہی اس میں رہتا ہوں، تو دیکھو میں استصحابِ حال کو دلیل بنا رہا ہوں، اور اس کے ذریعے کیا ثابت کرنا چاہتا ہوں؟ حقِ شفعہ کو، اور استصحابِ حال حجتِ مثبتہ نہیں بن سکتا، حجتِ دافعہ تو بن سکتا ہے، لیکن حجتِ مثبتہ نہیں۔ لہٰذا حقِ شفعہ کے لیے مجھے کیا ثابت کر، کیا لانا پڑے گی؟ بینہ لانا پڑے گی، دو گواہ پیش کرنا پڑیں گے کہ اس زمین کا میں مالک ہوں، پھر مجھے حقِ شفعہ حاصل ہو گا، ورنہ حقِ شفعہ نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
ہم نے کس کو دلیل بنایا؟ استصحابِ حال کو، کس چیز کے لیے؟ حقِ شفعہ کو ثابت کرنے کے لیے، اور اس سے حقِ شفعہ ثابت نہیں، استصحابِ حال حجتِ دافعہ تو بن سکتی ہے، لیکن حجتِ مثبتہ نہیں۔
فریقِ مخالف نے کہا تھا: آپ اس گھر میں کرائے کے طور پر رہتے ہیں، یا آپ کو اس نے ویسے عاریتاً کسی نے دیا ہوا ہے۔ اس کا دعویٰ نہیں ثابت ہو گا۔ وہ میرے پہ ایک بات ثابت کرنا چاہ رہا ہے نا؟ مجھ پر ایک بات کو لازم کر رہا ہے، کیا لازم کر رہا ہے؟ آپ اس گھر میں عاریتاً یا کرائے کے طور پر رہتے ہیں، اس کو وہ مجھ پہ لازم کرنا چاہتا ہے، تو استصحابِ حال اس کے لیے دافع تو بن جائے گا، اس کی یہ بات تو ثابت نہیں ہو گی۔ میں جب پہلے سے رہتا ہوں، یہ دلیل ہو گی کس چیز کی؟ میں اس کا مالک ہوں۔
صورت فرق سمجھ میں آ رہا ہے دونوں میں؟ حجتِ دافعہ بنا رہا ہوں میں، لیکن حجتِ مثبتہ نہیں بنا سکتا۔ حجتِ دافعہ کیسے؟ اس کے دعویٰ ثابت نہیں ہو سکتا، استصحابِ حال اس کو رد کر دے گا بھئی، لیکن میرا دعویٰ اس کے لیے استصحابِ حال وہ وہ دلیل نہیں بنے گا، بلکہ اس کے لیے پھر باقاعدہ کیا چاہیے؟ بینہ چاہیے ہو گی بھئی۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ جی، اب دیکھیے:
کہتے ہیں: حتى قلنا في الشقص، شقص کہتے ہیں حصے کو بھئی، حصہ۔ حتى قلنا في الشقص، یہاں تک کہ ہم نے کہا حصے میں، إذا بيع من الدار، جب بیچا جائے کس میں سے؟ گھر میں سے، جب گھر میں سے ایک حصہ جو بیچا گیا اس کے بارے میں، وطلب الشريك الشفعة، اور شریکِ آخر نے کیا طلب کیا؟ شفعہ طلب کیا، فأنكر المشتري ملك الطالب فيما في يده، پس انکار کیا مشتری نے کس چیز کا انکار کیا؟ ملك الطالب، مطالبہ کرنے والے کی، اس نے مشتری نے کیا کہا تھا؟ آپ اس گھر کے مالک ہی نہیں ہیں، آپ اس میں عاریتاً رہتے ہیں، تو یہی بات ذکر کر رہے ہیں: تو انکار کر دیا مشتری نے مطالبہ کرنے والے کی ملکیت کا فيما في يده اس حصے کے اندر جو اس کے قبضے میں ہے، أي في السهم الآخر الذي في يده، یعنی اس دوسرے حصے کے اندر جو اس شریک کے قبضے میں ہے، ويقول، اور وہ مشتری یہ کہتا ہے: إنه بالإعارة عندك، کہ وہ حصہ تو تمہارے پاس عاریت کے طور پر ہے، کہتے ہیں: إن القول قوله، کہ قول جو ہے معتبر، معتبر قول جو ہے قوله أي قول المشتري، کس کا معتبر ہو گا؟ مشتری کا قول ہو گا، ولا تجب الشفعة إلا ببينة، اور شفعہ ثابت نہیں ہو گا مگر کس کے ذریعے؟ بینہ کے ذریعے ہی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
لأن الشفيع يتمسك بالأصل، اس لیے کیونکہ شفعہ کرنے والے نے استدلال کیا ہے اصل سے یعنی استصحابِ حال سے، وبأن اليد دليل الملك ظاهراً، اور اس بات سے استدلال کیا کہ قبضہ وہ دلیل ہے مالک ہونے کی ظاہری طور پر، والظاهر يصلح لدفع الغير لا لإلزام الشفعة على المشتري في الباقي، اور ظاہر یہ غیر کو دفع کرنے کی تو صلاحیت رکھتا ہے، لا لإلزام الشفعة على المشتري، لیکن شفعے
کو مشطری پر لازم نہیں کر سکتا قبل باقی باقی کے حصے میں۔ اور قال شافعی رحمت اللہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں تجبو بغیر البینۃ کہ شفاء ثابت ہو جائے گا بغیر بینۃ کے لان الظاہر عندہ یصلح للدفع وللزام جمیعا اس سے کیونکہ ظاہر ان کے نزدیک صلاحیت رکھتا ہے یعنی استصحابِ حال وہ ان کے نزدیک صلاحیت رکھتا ہے دفع کی بھی وللزام جمیع اور الزام کی بھی دونوں کی بھئی۔ تو اخذ الشفعۃ من المشتری جبرا پس وہ شریک لے لے گا الشفعۃ کیا چیز شفعہ من المشتری کس سے؟ المشتری سے جبرا یہ امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب بیان ہو رہا ہے ہمارے نزدیک تو صرف یہ کہنے سے کہ میں اس گھر میں رہتا ہوں، میں مالک ہوں لہذا مجھے شفْعے کا حق ہے اس سے شفْعے کا حق ثابت نہیں ہوگا۔ بلکہ کیا کرنا پڑے گا؟ بینۃ پیش کرنا پڑے گا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بھئی استصحابِ حال حجت دافعہ بھی ہے اور حجتِ ملزمہ یا حجتِ مثبته بھی ہے لہذا دعویٰ اپ کا ثابت ہو جائے گا اور آپ جبراً کیا کر سکتے ہیں؟ شفْعہ لے کر سکتے ہیں۔ تو دیکھیے یہ جو یہاں آیا نا فیاخذ الشفعۃ یہ شفْعہ بمعنی مشفوع کے ہے بھئی۔ کس معنی میں ہے؟ مشفوع وہ حصہ وہ سہمِ مشفوع لے لے گا وہ سہمِ مشفوع جس پر شفْعہ کیا گیا اس کو یہ شریک لے لے گا امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک من المشتری کس سے؟ المشتری سے جبراً جبراً لے لے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ وہ حصہ جبراً لے لے گا شفْعہ کے ذریعے سمجھ میں آیا شفْعہ نہیں لے گا جبراً۔ شفْعہ تو ثابت ہوتا ہے وہ لیا نہیں جاتا بھئی۔
وانما وضع المسئلة في الشقصی اور ماتن نے مسئلة کو وضع کیا حصے کے اندر۔ بھئی متن میں انہوں نے کون سی صورت بنائی؟ شرکت والی شرکت والی حصے میں مسئلة بنایا۔ بھئی پڑوس میں کیوں نہیں مسئلة بنایا پڑوس دیوار والی صورت کیوں نہیں ذکر کی ماتن نے؟ کیونکہ دیوار میں شفْعہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ہے ہی نہیں تو وہاں تو اختلاف ہی نہیں وہ تو مانتے ہی نہیں سرے سے ہاں اس اس صورت میں اختلاف ظاہر ہونا تھا اس لیے یہ کیا بھئی۔ وانما وضع المسئلة في الشقصی اور وضع کیا مصنف نے مسئلة کو شقصی یعنی حصے کے اندر لیتحقق فیہ خلاف الشافعی رحمہ اللہ تاکہ ثابت ہو جائے اس میں امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف بھی از ولا یقول بشفعۃ فی الجواری اس لیے کیونکہ وہ قائل نہیں ہیں شفْعہ کے جوار میں جوار جوار دونوں طرف پڑھ سکتے ہیں بھئی۔ وعلی ھذا قلنا اسی بنا پر ہم نے کہا في المفقود انه حی في مال نفسه مفقود بھئی وہ شخص جس کا جو گم ہو گیا پتہ ہی نہیں زندہ ہے مردہ ہے زمین کھا گئی آسماں آسمان کھا گیا زمین نگل گئی کچھ پتہ ہی نہیں خبر ہی کوئی نہیں یہ کیا ہے؟ مفقود الخبر مفقود الخبر یاد رکھیے مفقود الخبر جو ہوتا ہے اپنے مال کے حق میں زندہ شمار ہوتا ہے غیروں کے مال میں مردہ شمار ہوتا ہے۔ اپنے مورثوں کے حق میں کیا شمار ہوتا ہے؟ مردہ اپنے مال میں زندہ اور مورثوں کے مال میں مردہ۔ ایک ہے وارث ایک مورث۔ وارث جس کو مال ملتا ہے، مورث وہ جس کا انتقال ہوا ہے جس نے آگے وارث چھوڑے ہیں بھئی، وارث بنائے ہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ بھئی وراثت میں مسئلة میں یہ تو آپ جانتے ہیں کہ جب ایک آدمی کا انتقال ہو تو اس کے جو جو ورثاء اس وقت اس کے انتقال کے وقت زندہ تھے ان کو حصہ ملے گا۔ ایک آدمی کا انتقال ہوا اس کے چھ بیٹے ہیں اس کی موت کے وقت سارے زندہ ہیں تو ساروں کو حصہ ملے گا۔ اور اگر کسی بیٹے کا انتقال اس کی زندگی میں پہلے ہی ہو چکا تھا تو یاد رکھیے اس کا حصہ نہیں الگ کیا جائے گا مثلاً آگے اس کے بیٹے وغیرہ تو ہیں نا یعنی مرنے والے کے پوتے وغیرہ۔ لیکن اب یہ نہیں کریں گے کہ وہ بیٹا مر چکا تھا اس کا حصہ لے کر اس کے بیٹوں کو یعنی پوتوں کو دے دیا جائے نہیں وارث صرف کون بنیں گے؟ وہ جو مرنے والے کے موت کے وقت زندہ ہوں وہ وارث بنا کرتے ہیں جو پہلے مر گئے وہ وارث ان نہیں بنیں گے ان کا حصہ نہیں ہوگا صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
اب ایک آدمی مفقود الخبر ہے گم ہو گیا اس کا پتہ ہی نہیں چل رہا کدھر گیا؟ کوئی خبر نہیں سالوں سے گم ہے تو کیا کریں؟ اس کو مردہ شمار کر لیں؟ اس کا مال اس کے ورثاء میں تقسیم کر دیں؟ کوئی خبر ہی نہیں کوئی اتہ پتہ ہی نہیں؟ نہیں کہتے ہیں نہیں اس کو وہ اپنے مال کے حق میں زندہ شمار ہوگا یوں سمجھا جائے گا وہ ابھی بھی زندہ ہے ابھی بھی زندہ ہے اور زندہ آدمی کا مال ورثاء کو دیا جاتا ہے؟ نہیں زندہ وہ تو موت کے بعد دیا جاتا ہے لہذا اس کا مال اس کے ورثاء کو نہیں ملے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ اپنے مال کے حق میں زندہ اچھا اس کے والد کا انتقال ہو گیا تو کیا اب والد کا مال جو اس کے باقی بھائیوں میں تقسیم ہوگا اس مفقود الخبر کا حصہ بھی نکال دیں گے اس کو دے دیں گے؟ کہتے ہیں اپنے مورثوں کے حق میں یعنی غیر کے مال میں یہ کیا شمار ہوگا؟ مردہ شمار ہوگا اس ان میں سے اس کو حصہ نہیں ملے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو مفقود الخبر اپنے مال میں زندہ ہے اور غیروں کے مال میں مردہ ہے یعنی اپنے مورثوں کے مال میں مردہ شمار ہوگا اس کی وجہ کیا ہے؟ بھئی اس کی وجہ یہ استصحابِ حال کیا ہے؟ استصحابِ حال ہے۔ یہ استصحابِ حال حجتِ دافعہ تو بنے گا، حجتِ مثبته توجہ ہے سبق کی طرف؟ یہ حجتِ دافعہ بنے گا۔
اس وقت جب یہ گم ہوا تھا کیا تھا؟ زندہ تھا ابھی بھی کیا شمار کریں گے؟ زندہ شمار کریں گے کس وجہ سے؟ یہ استصحابِ حال ہے یہ کیا ہے؟ اور استصحابِ حال حجتِ دافعہ بنے گا غیر کے دعویٰ کو دفع کرے گا لہذا ورثاء کا حق اس کے مال میں نہیں ثابت ہو سکتا یہ استصحابِ حال کیا کر رہا ہے؟ یہ حجتِ دافعہ بن رہا ہے ابھی بھی اس کو کیا شمار کیا جائے گا؟ زندہ شمار کیا جائے گا اس استصحابِ حال کی وجہ سے اور یہ غیر کے حق کو یعنی اس کے ورثاء کے حق کو اس کے مال میں ثابت نہیں ہونے دے گا تو یہ حجتِ دافعہ بن رہا ہے۔ لیکن یہ استصحابِ حال حجتِ مثبته نہیں بن سکتا اگر اس کو اس وقت زندہ فرض کیا جائے تو اس کے والد کا انتقال ہوا ہے اس کا بھی حصہ ہونا چاہیے یا نہیں؟ تو آپ زندہ اس کو شمار کر رہے ہیں کس وجہ سے؟ استصحابِ حال اور استصحابِ حال کے لیے آپ اس کا حصہ ثابت کرنا چاہتے ہیں استصحابِ حال تو حجتِ مثبته بن ہی نہیں سکتا اس لیے اس کا حصہ بھی ثابت نہیں ہوگا بھئی صورت سمجھ میں آگئی تو استصحابِ حال حجتِ دافعہ تو ہے لیکن حجتِ مثبته نہیں ہے۔ یہ معنی ہے وعلی ھذا قلنا اور اسی بنا پر ہم نے کہا في المفقود المفقود شخص کے اندر وہ شخص جو گم ہو گیا ہو کہ انه حی في مال نفسه کہ وہ زندہ ہے اپنے مال کے حق میں فلاء یقسم مالہ بین ورثته پس تقسیم نہیں کیا جائے گا اس کے مال کو اس کے ورثاء کے درمیان و میت في مال غیره اور یہ مفقود جو ہے مردہ ہے غیر کے مال میں فلاء یرث من مال مورثہ لہذا یہ اپنے مورث کے مال میں وارث نہیں ہوگا۔ لان حیاته باستصحاب الحال اس لیے کیونکہ اس کی زندگی کس کے لیے ثابت ہے؟ استصحابِ حال کے لیے ہم نے اس کو اس وقت زندہ شمار کیا ہے وهو یصلح دافعا لورثته اور یہ استصحابِ حال صلاحیت رکھتا ہے اس کے ورثاء کو ان کے لیے دافعہ بننے کی صلاحیت تو رکھتا ہے لا ملزماً علی مورثه لیکن اپنے مورث پر لازم کرنے والا نہیں بنتا نہیں بن سکتا بھئی۔
ومن ھذا الجنس مسائل اؤخر کثیرۃ مذکورۃ في الفقہ شاہر فرماتے ہیں اور اسی جنس میں سے یعنی اسی قسم کے اور بھی بہت سے مسائل ہیں جو مذکور ہیں فقہ کے اندر۔ والاحتجاج بتعارض الاشباھی اور استدلال کرنا تعارضِ اشباہ سے تعارضِ اشباہ اشباہ جمع ہے شبھن کی۔ شبھن کا معنی ہے مثلن شبھن کا کیا معنی؟ مثل یہ بات میں پہلے بھی ذکر کر چکا ایک ہے شبھن ایک ہے شبھن۔ شبھن کا معنی ہے مثل اور شبھن کا معنی ہے مشابہت وہ مصدر ہے مصدر بھئی۔ تو شبھن بھئی کی جمع ہے اشباہ۔ صورت یہ ایک چیز ہے اس کی مشابہت دو چیزوں سے ہے۔ ایک چیز ہے اس کی مشابہت کتنی چیزوں سے ہے؟ دو چیزوں سے۔ اور تو ایک اعتبار مشابہت اس کی یہ پہلی چیز سے بھی ہے۔ اس کی مشابہت یہ دوسری چیز سے بھی ہے اور یہ جو دو چیزیں ہیں یہ جو اشباہ ہیں اس چیز کے جو دو مشابہ ہیں یہ آپس میں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ ایک دوسرے کی ضد ہیں اس کو کہتے ہیں تعارضِ اشباہ مشابہ چیزوں کا ایک دوسرے کے متعارض ایک دوسرے کے مقابل ہونا۔ کس کا ہونا؟ بھئی دیکھیے ویسے مثال کے طور پر زید کی مشابہت بکر سے بھی ہے زید کی مشابہت خالد سے بھی ہے۔ تو یہ دونوں زید کے دونوں کے ساتھ مشابہت اور یہ جو زید کے اشباہ ہیں یہ دونوں کون کون؟ بکر اور خالد وہ ایک دوسرے کی ضد ہیں بھئی وہ کیا ہیں؟ ایک دوسرے کی ضد ہیں تو اب زید کو کس کا حکم دیں ہم؟ بکر کے بھی تو وہ مشابہ ہے، خالد کے بھی مشابہ اور حکم دونوں کی ضد ہیں تو اب اس کو بکر والا حکم دیں یا خالد والا حکم دیں بھئی صورت سمجھ میں آگئی تو یہ آپ تو یہ جس میں اختلاف ہے یہ ہوا متنازع فیہ۔ جس میں اختلاف ہے وہ کون ہے؟ مثلاً زید، زید متنازع فیہ ہے اس میں جھگڑا ہے اس کو کس کا حکم دیا جائے؟ اس کو بکر کا حکم دیں یا اس کو خالد والا حکم دیں بھئی۔ تو کہتے ہیں والاحتجاج بتعارض الاشباھی اور استدلال کرنا تعارضِ اشباہ سے عطف علی ما قبلہ اس کا عطف بھی ما قبل پر ہے اسی طرح ہے عبارت بھئی پہلے کیا آیا تھا؟ ومثل الاطراد الاحتجاج باستصحاب الحال جو تقریر وہاں ہوئی تھی بعینہ وہی تقریر یہاں پر اس احتجاج بتعارض الاشباها اس کا عطف بھی احتجاج بتصحاب الحال پر ہے اور اس کے لیے مبتلا کیا تھا مثلہ تو اس کے لیے بھی مبتلا کیا ہوگا مثلہ اور اسی کے مثل ہے احتجاج بتعارض الاشباها کس کے مثل ہے؟ اطراد کے مثل تعارضِ اشباہ کس کے مثل؟ اطراد کے مثل کس چیز میں؟ دلیل بننے کی صلاحیت نہ رکھنے میں یعنی جیسے اطراد کا دلیل بننا باطل ہے اسی طرح تعارضِ اشباہ کا دلیل بننا بھی باطل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں عطف علی ما قبلہ یہ عطف ہے ما قبل پر ای و مثل الاطراد الاحتجاج بتعارض الاشباها یعنی اطراد کے مثل ہی ہے تعارضِ اشباہ سے استدلال کرنا بھی کس چیز میں اس کے مثل ہے اطراد کے مثل استدلال بتعارض الاشباها بھئی کہتے ہیں فی عدم صلاحیته للدلیل اس بات میں کہ یہ دلیل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا وھو عبارت عن تنافی امرین كل واحد منهما مما یمکن ان یلحق بہ المتنازع فیه بھئی وہ تعارضِ اشباہ میں نے سمجھایا آپ کو سمجھ میں آ گیا اب اسی کو عبارت میں ذکر کر رہے ہیں توجہ سے سمجھ لیں۔ کہتے ہیں وھو عبارت تعارضِ اشباہ وہ عبارت ہے عن تنافي امرین دو چیزوں کا ایک دوسرے کے منافی ہونا دو چیزوں کا دو امروں کا ایک ایک دوسرے کے منافی ہونا کل واحد منهما ان دو چیزوں میں سے ہر ایک جو ہے مما ان چیزوں میں سے ہے یمکن ان یلحق بہ المتنازع فیه کہ ممکن ہے اس کے ساتھ متنازع فیہ کو ملانا یہ دونوں کس قسم کے ہیں؟ بھئی دو چیزیں ہیں بھئی۔ کون تھے وہ مثل بھئی؟ زید کے؟ بکر اور خالد یہ دو تو یہ دو امروں کا دو چیزوں کا ایک دوسرے کے منافی ہونا اور ان دونوں میں سے ہر ایک اس قسم کا ہے کہ اس کے ساتھ زید کو یعنی اس متنازع فیہ کو ملانا ممکن ہے یعنی زید کو دیکھا جائے تو خالد کے ساتھ بھی ملایا جا سکتا ہے زید کو دیکھا جائے تو بکر کے ساتھ بھی ملایا جا سکتا ہے کیونکہ دونوں کے ساتھ اس کی مشابہت ہے بھئی صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ کا قول زفر رحمہ اللہ تعالی في عدم وجوب غسل المرافق جیسے کہ امام زفر رحمہ اللہ کا قول ہے کس بارے میں؟ فی عدم وجوب غسل المرافق کہنیوں کے دھونے کے واجب نہ ہونے میں کہ کہنیوں کا دھونا واجب نہیں اس بارے میں امام زفر رحمہ اللہ کا قول ہے بھئی۔ کیا قول ہے؟ من الغایات یہاں سے وہ قول شروع ہو رہا ہے من الغایات سے کیا ہے امام زفر رحمہ اللہ کا قول اور یہ قول کس مسئلے سے متعلق ہے؟ وہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ کہنیاں بھئی ہمارے نزدیک تو کہنیاں دھونا وضو میں فرض ہیں کہنیاں نہ دھوئیں تو وضو ہی نہ ہوا وہ کیا فرماتے ہیں؟ کہنیاں دھونا فرض نہیں وہ فرض سے خارج ہیں بھئی ان کا دھونا فرض نہیں تو اس بارے میں ان کا قول ہے وہ فرماتے ہیں من الغایات ما یدخل فی المغیہ بھئی دیکھیے صورت یہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جو کہنیاں ہیں نا کہنیاں آیت وضو کس طرح ہے؟ فاغسلوا وجوهکم وایدیکم الی المرافق اور دھو اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک تو مرافق یہ الی اس پر داخل ہو رہا ہے اور الی جس پر داخل ہو اس کو کہتے ہیں غایہ الی جس پر داخل ہو اسے کیا کہتے ہیں غایہ۔ اب یہ الی اس پر داخل ہوا یہ غایہ ہوا اور غایہ دو قسم پر ہیں بعض غایہ وہ ہوتے ہیں جو ما قبل میں داخل ہوتے ہیں ما قبل کے حکم میں اور بعض غایات وہ ہیں جو ما قبل کے حکم میں داخل نہیں ہوتے۔ مثلاً میں کہتا ہوں قرات الکتاب من اوله الی آخره میں نے کتاب کو پڑھا شروع سے لے کر آخر تک غایہ کیا ہے؟ غایہ غایہ الی آخره یہ آخره کیا ہے؟ غایہ اور آپ بتائیے یہ بھی اس کو بھی میں نے پڑھا یا نہیں آخر تک؟ سارا پڑھا بھئی تو سارا داخل ہوا تو دیکھو یہاں غایہ ما قبل کے حکم میں داخل ما قبل کا کیا حکم تھا؟ آخر سے ما قبل کتاب کا جو حصہ تھا اس پہ میں نے کیا حکم لگایا کہ میں نے اس کو پڑھا ہے تو وہی حکم کس کے لیے ہے؟ غایہ کے لیے بھی ہے۔ تو کہتے ہیں دیکھو بعض اوقات غایہ مغیہ کے حکم میں داخل ہوتا ہے اور بعض اوقات غایہ مغیہ کے حکم میں داخل نہیں ہوتا جیسے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں ثم اتموا الصیام الی اللیل یہ لیل کیا ہے؟ غایہ کیونکہ اس پر کیا داخل الی اور رات بھی روزے میں داخل ہے یا روزے میں نہیں داخل؟ رات روزے میں داخل نہیں غروبِ آفتاب ہوتے ہی روزہ مکمل ہو جاتا ہے تو دیکھو یہاں پر غایہ مغیہ کے حکم میں داخل نہیں۔ معلوم ہوا غایات دو قسم کے ہیں کچھ وہ ہیں جو ما قبل کے حکم میں داخل ہوتے ہیں کچھ وہ ہیں جو ما قبل کے حکم میں داخل نہیں ہوتے۔ تو یہاں پر جو ہے یہ جو الی المرافق آیا یہ مرافق بھی غایہ ہے اور اس کو دیکھا جائے کس کا حکم دیا جائے؟ ما قبل میں اس کے حکم میں اس کو داخل کیا جائے یا داخل نہ کیا جائے۔ اگر داخل کرتے ہیں تو کہنیوں کا دھونا بھی فرض اور اگر داخل نہیں کرتے تو کہنیوں کا دھونا فرض نہیں۔ تو اس کی مشابہت اس مرافق یہ جو غایہ ہے اس کی مشابہت اس الی آخره سے بھی ہے اس کی مشابہت الی اللیل سے بھی ہے کیونکہ دونوں غایہ ہیں نا دونوں سے اس کی مشابہت ہے اور یہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کی ضد ہیں الی آخره اور الی اللیل کیسے ایک دوسرے کی ضد ہیں؟ الی آخره وہ ما قبل کے حکم میں داخل اور الی اللیل یہ ما قبل کے حکم میں داخل نہیں تو دیکھا
یہ "إلى المرافق" اس کے مشابہت، دونوں غایات سے اور وہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں بھئی۔ تو یہ کیا ہوا؟ تعارضُ الأشباھ، تعارضُ الأشباھ۔
تو امامِ زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض غایات وہ ہیں جو مغیا میں داخل ہوتے ہیں، بعض غایات وہ ہیں جو مغیا میں داخل نہیں، لہذا کہنیاں بھی داخل ہیں یا داخل نہیں شک آ گیا۔ کیا آ گیا؟ شک آ گیا کہ ان کا بھی دھونا فرض ہے یا نہیں۔ اور شک کی وجہ سے کوئی چیز ثابت نہیں ہو سکتی، لہذا کہنیوں کا دھونا فرض ثابت نہیں، لہذا وہ فرض نہیں بھئی، ان کو نہیں دھویا جائے گا۔
دلیل سمجھ میں آ گئی؟ دلیل کیا کہ اس کے داخل ہونے یا نہ ہونے میں کیا آیا؟ شک، تو شک کی وجہ سے یہ داخل نہیں ہوں گی، لہذا ان کا دھونا فرض نہیں۔
تو وہ فرماتے ہیں: "من الغايات ما يدخل في المغيا" کہ غایات میں سے بعض وہ ہیں جو داخل ہوتی ہیں مغیا میں، "کقولھم" جیسے عربوں کا قول ہے: "قرأتُ الکتابَ من أوَّلِہِ إلى آخِرِہِ" میں نے کتاب کو، میں نے یہ کتاب پڑھی اول سے لے کر اس کے آخر تک بھئی۔ "ومنھا ما لا يدخل" اور غایات میں سے بعض وہ ہیں جو مغیا میں داخل نہیں ہوتے، "کقولِہِ تعالى" جیسے کہ اللہ تعالی کا قول ہے: "ثمّ أتمّوا الصّيامَ إلى اللّيل" پھر تم پورا کرو روزے کو رات تک۔ "فلا تدخلُ المرافقُ في" اب دلیل ان کی: "فلا تدخلُ المرافقُ في وجوبِ غسلِ اليدِ" پس داخل نہیں ہوں گی کہنیاں "في وجوبِ غسلِ اليدِ" ہاتھ کے غسل کے وجوب میں۔ ہاتھ کا دھونا جو فرض ہے واجب ہے، اس وجوب میں یہ کہنیاں داخل نہیں، ان کا دھونا واجب نہیں۔ "بالشّكّ" کس وجہ سے؟ شک کی وجہ سے، "لأنّ الشّكّ لا يثبتُ شيئاً أصلاً" اس لیے کیونکہ شک ثابت نہیں کرتا کسی چیز کو بھی سے۔
کسی شک سے کسی چیز کو ثابت نہیں کرتا، "وھذا عملٌ بغيرِ دليلٍ" ہم جواب دے رہے ہیں امامِ زفر کو، ہم کہتے ہیں یہ تو عمل ہوا بغیر دلیل کے۔
یہ عمل ہوا بغیر دلیل کے عمل ہے آپ کا بھئی، دلیل چاہیے ہمیں، دلیل دیں۔ یہ تو آپ کیا کر رہے ہیں؟ بغیر دلیل کے، عجیب مولانا فقہاء ان پر اللہ کی کروڑہا رحمتیں ہوں! انسان حیران ہوتا ہے وہ دلائل جن کو سمجھنے کے لیے ہمیں گھنٹوں درکار ہوتے ہیں، حواشی دیکھنے پڑتے ہیں، شروحات دیکھنی پڑتی ہیں، تب کہیں جا کر وہ مسئلہ کھلتا ہے اچھا یہ معنیٰ، اور فقہاء نے دیکھو یہ دلیلیں بھی قائم کیں، غور بھی کرتے، اختلاف بھی کرتے تھے اور عجیب عجیب گہرے دلائل ان کے بھئی!
اب انہوں نے، آپ نے میں نے دلیل ذکر کر دی امامِ زفر کی، دلیل تھی یا نہیں تھی بھئی؟ دلیل تو تھی، اور ماتن آگے کیا کہہ رہے ہیں جواب میں؟ "وھذا عملٌ بغيرِ دليلٍ" یہ عمل ہے بغیر دلیل کے، دیکھیے آگے بتائیں گے کس طرح بغیر دلیل کے ہے بھئی۔
"أي ھذا الاحتجاجُ الذي احتجّ بہِ زفرُ رحمہُ اللہُ تعالى عملٌ بغيرِ دليلٍ" یعنی یہ جو استدلال کیا، یہ جو استدلال ہے "الذي احتجّ بہِ زفرُ رحمہُ اللہُ" جس کے ذریعے استدلال کیا امامِ زفر رحمہ اللہ نے، یہ استدلال جو ہے "عملٌ بغيرِ دليلٍ" یہ عمل ہے بغیر دلیل کے، "فيكونُ فاسداً" پس یہ فاسد ہے، "لأنّ الشّكّ أمرٌ حادثٌ" اس لیے کیونکہ شک تو ایک امرِ حادث ہے۔ ایک پیدا ہونے والی چیز ہے، نئی چیز ہے بھئی۔
یہ کیا ہے؟ نئی چیز۔ بھئی امامِ زفر رحمہ اللہ نے کیا فرمایا؟ کہنیاں داخل نہیں کیونکہ ان کے داخل ہونے میں شک ہے۔ تو شک ہے، شک نہیں ہے، شک وجودی چیز ہے یا نہیں؟ شک ہے، وہ کہہ رہے ہیں نہ شک ہے، کیا کہہ رہے ہیں؟ شک، معلوم ہوا شک کیا چیز ہے؟ وجودی، پہلے نہیں تھا اب کیا آ گیا؟ آپ بھی کسی مسئلے میں کہتے ہیں کہ مجھے شک آ گیا ہے بھئی، تو شک کیا ہے؟ ایک وجودی چیز ہے، ایک امرِ حادث ہے، پیدا ہوا ہے، ایک وجودی چیز ہے اور وجودی چیز کے لیے کیا چاہیے؟ دلیل چاہیے۔
آپ نے کہا کہنیاں داخل، دلیل پہ توجہ رکھنا، عجیب پیاری دلیل ہے بھئی جو جواب دے رہے ہیں، آپ نے اے امامِ زفر رحمہ اللہ کیا فرمایا؟ کہنیاں داخل نہیں، کیوں؟ کیونکہ داخل ہونے میں شک ہے، تو آپ نے کہا شک ہے، ایک وجودی چیز مان لی۔ اب شک ہے تو شک پہ پہلے دلیل دیں۔
شک پہ کیا دیں؟ ہمیں دلیل دیں، شک ایک وجودی چیز ہے، شک کا آپ ثابت کر رہے ہیں، تو کسی چیز کے اثبات کے لیے کیا چاہیے؟ دلیل چاہیے۔
وہ کہتے، ان سے ہم دلیل مانگیں گے، اگر وہ دلیل دے دیں، دلیل اس کی کیا ہے؟ تعارضِ، دیکھیے آگے ذکر آ رہا ہے۔
تو کہتے ہیں یہ ان کا بغیر دلیل کے عمل ہے "فيكونُ فاسداً" پس یہ فاسد ہو گا، "لأنّ الشّكّ أمرٌ حادثٌ" اس لیے کیونکہ شک ایک امرِ حادث ہے، ایک نئی پیدا ہونے والی چیز ہے، "فلا بدّ لہُ من دليلٍ" لہذا اس کے لیے دلیل کا ہونا ضروری ہے، "فإن قال دليلُہُ" پس اگر انہوں نے کہا کہ ان کی دلیل جو ہے "تعارضُ الأشباھِ" وہ کیا ہے؟ تعارضُ الأشباھ ہے۔
انہوں نے کہا شک آیا، ہم نے کہا شک پہ دلیل دیں۔ انہوں نے کہا تعارضُ الأشباھ ہے اس کی دلیل، شک کی دلیل کیا ہے؟ تعارضُ الأشباھ ہے بھئی، وہ جو دو غایات آپس میں ایک دوسرے کے کیا تھے؟ متعارض تھے، وہ تعارضُ الأشباھ تو وہ دلیل ہے۔
تو "قلنا" ہم کہیں گے "ھو أيضاً حادثٌ" بھئی تعارضِ اشباہ بھی ایک وجودی چیز ہے یا نہیں؟ آپ کہیں گے کہیں پر کہتے ہیں تعارضِ اشباہ ہے، کہیں کہتے ہیں نہیں ہے۔ جب کہتے ہیں ہے تو معلوم ہوا ایک وجودی چیز ہے نہ، تو وجودی چیز کے لیے کیا چاہیے؟ دلیل۔ آپ نے پہلے کہا اس میں شک ہے، ہم نے کہا شک کی کیا دلیل ہے؟ شک ایک وجودی چیز ہے، پہلے اس کا وجود ثابت کرو۔ اگر وہ جواب میں یہ کہتے ہیں شک کی دلیل کیا ہے؟ تعارضُ الأشباھ ہے، ہم کہتے ہیں تعارضُ الأشباھ بھی کیا ہے؟ ایک وجودی چیز ہے۔ کیا ہے؟ اور وجودی چیز کے لیے کیا چاہیے؟ دلیل چاہیے بھئی، دلیل چاہیے۔ دیکھیے بھئی!
"قلنا" ہم کہیں گے "ھو أيضاً حادثٌ" یہ بھی حادث ہے، "لا بدّ لہُ من دليلٍ" اس کے لیے بھی دلیل کا ہونا ضروری، "فإن قال" پس اگر انہوں نے یہ کہا "دليلُہُ" کہ اس تعارضِ اشباہ کی دلیل جو ہے "دخولُ بعضِ الغاياتِ معَ عدمِ دخولِ بعضِھا" بعض غایات کا داخل ہونا ساتھ بعض غایات کے داخل نہ ہونے کے، یہ دلیل ہے، بعض غایات داخل ہیں بعض غایات داخل نہیں، یہی تو تعارضُ الأشباھ ہے۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ دلیل ان کی، جو ہم جواب دے رہے ہیں، ہم نے سب سے پہلے کیا کہا؟ انہوں نے کیا کہا تھا؟ کہنیوں کا دھونا واجب نہیں، کیونکہ اس میں کیا ہے؟ شک ہے۔
ہم نے کہا شک ایک وجودی چیز ہے، دلیل چاہیے۔ اگر وہ جواب میں کہتے ہیں دلیل اس، شک کی کیا دلیل ہے؟ تعارضُ الأشباھ ہے، ہم کہیں گے تعارضُ الأشباھ بھی کیا ہے؟ ایک وجودی چیز ہے، آپ کہہ رہے ہیں تعارضِ اشباہ ہے، دلیل دیں کہاں سے ہے تعارضِ اشباہ؟ وہ تعارضِ اشباہ کی کیا دلیل دیں گے؟ مثلاً وہ کہتے ہیں اس کی تعارضِ اشباہ کی دلیل یہ ہے کہ بعض غایات داخل ہوتے ہیں، بعض غایات داخل نہیں ہوتے، یہی تو تعارضُ الأشباھ ہے۔
"فقلنا لہُ" ہم کہیں گے "ھل تعلمُ أنّ المتنازَعَ فيہِ من أيّ قبيلٍ" کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ جو متنازع فیہ ہے یہ کس قبیل سے ہے؟ کون ہے متنازع فیہ؟ کس میں جھگڑا ہے؟ جھگڑا کس کے بارے میں؟ کہنیوں کے بارے میں، یہ جو متنازع فیہ ہے، آپ نے کہا بعض غایات مغیا میں داخل ہوتے ہیں، بعض غایات مغیا میں داخل نہیں، ہم نے کہا یہ کس قبیل سے ہے یہ کہنیاں؟
یہ ان غایات کے قبیل سے ہے جو داخل ہوتے ہیں؟ یا یہ ان غایات کے قبیل سے ہے جو داخل نہیں ہوتے؟
ہم نے کہا آپ کیا جانتے ہیں کہ متنازع فیہ کس قبیل سے ہے؟ "فإن قال" اگر انہوں نے کہا "أعلمُ" میں جانتا ہوں، انہوں نے کیا کہا؟ میں جانتا ہوں، "فقد زالَ الشّكّ" پھر تو شک ہی ختم ہو گیا اور آپ کی بنیاد، دلیل کی بنیاد کس چیز پر تھی؟ شک پر تھی، معلوم ہوا شک ہے ہی نہیں۔
"وجاءَ العلمُ" کہتے ہیں "فقد زالَ الشّكّ" تو پھر تو شک ختم ہو گیا "وجاءَ العلمُ" اور کیا آ گیا؟ علم یعنی یقین آ گیا۔ "وإن قال" اور اگر انہوں نے یہ کہا "لا أعلمُ" مجھے علم نہیں، ہم نے کہا کہ یہ متنازع فیہ کس قبیل سے ہے؟ کس غایہ کی قبیل سے ہے؟ جو داخل ہوتے ہیں یا جو داخل نہیں ہوتے؟ اگر انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں پھر تو شک ہی ختم، اور اگر انہوں نے کہا میں نہیں جانتا "فقد أقرّ بجھلِہِ" تو پس انہوں نے کس چیز کا اقرار کر لیا؟ اپنی جہالت کا اقرار کر لیا "وعدمِ الدّليلِ معہُ" اور کس چیز کا اقرار کر لیا؟ اپنے پاس دلیل کے نہ ہونے کا اقرار کر لیا۔ "عدمِ" عدم کا عطف ہے "بجھلِہِ" پر بھئی، یہ با کے تحت ہے۔
تو انہوں نے اپنے پاس دلیل نہ ہونے کا اقرار کر لیا "وھو لا يكونُ حجّةً علينا" اور یہ ہمارے اوپر حجت، دلیل ہی نہیں ہے تو ہمارے پاس کیسے حجت بن سکتی ہے بھئی! ہمارا مذہب تو کیا ہے؟ کہنیاں کا دھونا فرض ہے واجب ہے اور اس کی بحث وہ "إلى" کے اندر حروفِ معانی میں گزر چکی ہے، بتلایا تھا کہ غایہ اگر مغیا میں پہلے سے داخل ہو، اسی کی جنس میں سے ہو تو "إلى" کے بعد بھی داخل ہی رہے گا۔ "إلى" کے بعد عربی میں ید کا اطلاق یہ کندھے سے لے کر انگلیوں تک پورے بازو پر ہوتا ہے، اس کو ید کہتے ہیں، تو اس کے اندر یہ کہنی داخل ہے یا نہیں؟ کہنی داخل ہے، تو "إلى" کے لانے کے بعد بھی یہ داخل ہی رہے گی۔ اور وہاں روزے کا ذکر تھا، روزہ دن میں رکھنے کا حکم ہے اور آگے لیل ہے تو کیا لیل، رات دن میں داخل ہے؟ وہ داخل نہیں ہے، لہذا وہاں پر وہ "إلى" کے لانے کے بعد بھی خارج ہی رہے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ہم، تو ہمارے خلاف، دوبارہ سن لو بھئی ساری بحث کا خلاصہ۔
امامِ زفر رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ بعض غایات داخل ہوتے ہیں، بعض غایات داخل نہیں ہوتے، لہذا کہنیاں، کہنیوں کے وجوبِ غسل کے اندر داخل ہونے میں شک آیا اور شک کی وجہ سے کوئی چیز ثابت نہیں ہوتی، لہذا کہنیوں کا کے دھونے کا وجوب بھی ثابت نہیں ہو گا، واجب نہیں۔ ہم نے کہا یہ تو آپ عمل کر رہے ہیں بغیر دلیل کے، اس لیے کیونکہ آپ نے کہا کیا دلیل ذکر کی کہ ان میں، ان کے داخل ہونے میں شک ہے، تو شک تو ایک وجودی چیز ہے، آپ نے کہا شک ہے، تو اس پر دلیل پیش کریں کہ کیا ہے؟ شک۔ انہوں نے کیا شک میں دلیل پیش کی؟ اگر وہ کہتے ہیں، اگر وہ ذکر کریں کہ جی اس کی دلیل تعارضُ الأشباھ ہے، ہم کہتے ہیں تعارضُ الأشباھ بھی کیا ہے؟ ایک وجودی چیز ہے، اس پہ دلیل پیش کریں۔ اگر وہ کہتے ہیں کہ تعارضِ اشباہ یہی تو ہے، بعض غایات داخل ہوتے ہیں مغیا میں، بعض غایات مغیا میں داخل نہیں ہوتے، تو ہم کہتے ہیں اچھا آپ ہمیں یہ بتائیے کہ یہ جو کہنیاں ہیں یہ کس قبیل سے ہیں؟ یہ داخل ہیں یا داخل نہیں؟ یہ کس قبیل سے اس کا تعلق ہے؟ تو اس کے وہ دو ہی جواب دے سکتے ہیں، یا کہیں گے مجھے علم ہے یا کہیں گے مجھے علم نہیں، اگر وہ کہتے ہیں مجھے علم ہے تو شک تو نہ رہا، اور ان کی دلیل کی بنیاد کس پر تھی؟ شک پر، دلیل ختم۔ اور اگر وہ کہتے ہیں مجھے علم نہیں تو انہوں نے اپنی جہالت کا اقرار کر لیا، اس بات کا اقرار کر لیا کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں، جب دلیل نہیں ہے تو پھر کس چیز کو دلیل پیش کر رہے ہیں بھئی! بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
"والاحتجاجُ بما لا يستقلّ إلّا بوصفٍ يقعُ بہِ الفرقُ" اور استدلال کرنا اس چیز کے ذریعے جو مستقل نہ ہو مگر کسی ایسے وصف سے کہ واقع ہو اس کے ذریعے فرق۔
بھئی ایک اور قسم ذکر کر رہے ہیں، بتلایا ہمارے نزدیک طرد بھی دلیل نہیں بن سکتا، ہمارے نزدیک تعلیل بالنفی بھی دلیل نہیں بن سکتی، ہمارے نزدیک استصحابِ حال بھی دلیل نہیں بن سکتی، ہمارے نزدیک تعارضِ اشباہ بھی دلیل نہیں بن سکتے، اب ایک اور قسم دلیل ذکر کر رہے ہیں جو بعض کے نزدیک دلیل ہے ہمارے نزدیک دلیل نہیں۔
وہ کیا؟ کہتے ہیں "والاحتجاجُ" استدلال کرنا "بما" ایسے وصف سے، ما سے کیا مراد ہے؟ وصف، استدلال کرنا ایسے وصف سے "لا يستقلّ" کہ وہ مستقل نہیں ہے۔ کہ وہ، یعنی اثباتِ حکم میں مستقل نہیں ہے، اکیلے اس سے حکم ثابت نہیں ہوتا۔
اکیلے اس سے حکم ثابت نہیں، تو اگر، تو استدلال کرنا ایسے وصف سے جو مستقل نہ ہو، کس چیز میں مستقل نہ ہو؟ اثباتِ حکم میں، بھئی دیکھیے مثلاً ایک حکم ہے، یہ ایک حکم ہے، یہ دو وصف مل کر اس حکم کو ثابت کر رہے ہیں۔
کیا کر رہے ہیں؟ دو وصف مل کر اس حکم کو ثابت کر رہے ہیں، تو ان دو وصفوں میں سے کوئی ایک بھی مستقل نہیں ہے، اکیلا اس حکم کو نہیں ثابت کر سکتا جب تک اس کے ساتھ وہ دوسرا وصف بھی نہ آئے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں استدلال کرنا بما ایسے وصف سے لا يستقلّ جو خود مستقل نہیں حکم کے ثابت کرنے میں "إلّا بوصفٍ" مگر ایک، ایک اور ایسے وصف کے ساتھ "يقعُ بہِ الفرقُ" جس کے ذریعے کیا حاصل ہو جائے گا؟ جس کے ذریعے فرق حاصل ہو جائے گا، کیا حاصل ہو جائے گا؟ فرق حاصل ہو جائے گا، اصل اور فرع کے درمیان۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ تفصیل آگے آ رہی ہے بھئی۔ کہتے ہیں "عطفٌ على ما قبْلَہُ" یہ بھی عطف ہے ما قبل پر، "أي مثلُ الاطّرادِ في عدمِ صلاحيّتِہِ للدّليلِ" یعنی طرد ہی کے مثل ہے کس چیز میں؟
وجہِ تشبیہ درمیان میں لے آئے بھئی۔
"في عدمِ صلاحيّتِہِ للدّليلِ" دلیل کی صلاحیت نہ رکھنے میں طرد ہی کے مثل ہے، کیا چیز؟ "التّمسّكُ" استدلال کرنا "بالأمرِ الجامعِ" وہ امر، وہ چیز "الجامعِ" جو جامع ہے۔ مراد ہے بھئی وہ علت بھئی، کیا ہے؟ علت ہوتی ہے نا، اصل اور فرع دونوں میں کچھ جامع ہوتی ہے، دونوں میں پائی جاتی ہے، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو اس، استدلال کرنا "بالأمرِ الجامعِ الذي" اس امرِ جامع سے "الذي لا يستقلّ بنفسِہِ" جو خود مستقل نہیں ہے، کس چیز میں مستقل نہیں ہے؟ "في إثباتِ الحكمِ" حکم کے ثابت کرنے میں "إلّا بأنضمامِ وصفٍ" مگر ایک ایسے وصف کے ملنے سے "يقعُ بہِ الفرقُ" جس کے ذریعے کیا واقع ہو گا؟ فرق آ جائے گا "بينَ الأصلِ والفرعِ" اصل اور فرع کے درمیان "حيثُ لم يوجد ھو في الفرعِ" اس حیثیت سے کہ وہ فرع میں نہیں پایا گیا۔
صورتِ مسئلہ یہ بھئی!
یہ بعض شوافع کا مذہب بیان ہو رہا ہے، کیا بیان ہو رہا ہے؟ یہ بعض شوافع کا مذہب، وہ کہتے ہیں کہ مسِ ذکر ناقض للوضوء ہے۔ وہ کیا فرماتے ہیں بعض شوافع؟ کہ مسِ ذکر ناقض للوضوء ہے، یعنی بغیر کسی حائل کے اگر مسِ ذکر ہوا تو وضو ٹوٹ جائے گا۔
مسِ ذکر ہوا تو وضو ٹوٹ جائے گا، اور تو گویا، یعنی مسِ ذکر ان کے نزدیک حدث ہے۔
اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی! "کقولِھم في مسّ الذّكرِ" جیسے کہ ان کا قول ہے مسِ ذکر میں، بھئی کن کا قول؟ "أي قولِ الشّافعيّةِ" ضمیر کا مرجع بتلا دیا، یعنی کہ بعض شوافع کا قول ہے "في جعلِ مسّ الذّكرِ ناقضاً للوضوءِ" مسِ ذکر کو ناقض للوضوء بنانے میں، ان کا قول، یہ اب قول آیا ان کا، کہ "إنّہُ مسّ الفرجِ" کہ یہ مسِ ذکر کیا ہے؟ مس الفرج ہے یعنی شرمگاہ کو چھونا ہے، "فكانَ حدثاً" تو یہ کیا ہوا؟ حدث، حدث بے وضو ہونا بھئی، تو یہ حدث ہوا "كما إذا مسّہُ وھو يبولُ" جیسے کہ وہ مس اس کو، مسِ ذکر کرے "وھو يبولُ" اس حال میں کہ وہ پیشاب کر رہا ہو۔
بالَ یبولُ کے معنی پیشاب کرنے کے، جیسے کہ وہ مسِ ذکر کرے اس حال میں کہ وہ کیا کر رہا ہو؟ پیشاب کر رہا ہو، دیکھیے کاف داخل کیا، جیسے کہ وہ مسِ ذکر کرے اس حال میں کہ وہ پیشاب، یہ ہے مقیس علیہ۔
مسِ ذکر حالتِ بول میں۔
مسِ ذکر حالتِ بول میں، یہ کیا ہے؟ مقیس علیہ، اور اس پر قیاس کیا محضِ مسِ ذکر کو، ایک مسِ ذکر ہے بول کرتے ہوئے، ایک مسِ ذکر ویسے ہے، ویسے جو مسِ ذکر ہے وہ ہے مقیس، اور مسِ ذکر ہے فی حالت البول وہ کیا ہے؟ مقیس علیہ۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ہم کہتے ہیں "فھذا قياسٌ فاسدٌ" کہ یہ قیاس فاسد ہے "لأنّہُ إن لم يعتبر في المقيسِ عليہِ"
فإن لم يعتبر، لانہ إن لم يعتبر في المقيس عليه، اگر اعتبار نہ کیا جائے مقیس علیہ میں، مقیس علیہ کیا تھا؟ مس مس مس فی حالت البول۔ مس فی حالت البول، یہ ہے مقیس علیہ اس پر قیاس کر رہے ہیں۔ کس کو قیاس کر رہے ہیں؟ مس ذکر کو۔
اب ہم کہتے ہیں مقیس علیہ کیا ہے؟ مس ذکر فی حالت البول، اس میں اپ حالت بول کا اعتبار کریں گے یا نہیں کریں گے؟ دو ہی صورتیں ہیں نا۔ یا اپ حالت بول کا، اس حالت میں بھی مس ذکر ہو رہا ہے لیکن اس میں اپ بول کا اعتبار کریں گے یا اعتبار نہیں؟ اگر اپ اس میں اعتبار نہیں کرتے کس میں؟ مقیس علیہ میں، حالت بول کا اعتبار نہیں کرتے تو مقیس علیہ صرف کیا رہ گیا؟ صرف مس ذکر رہ گیا۔ حالت بول کا تو اپ اعتبار نہیں کر رہے اور مقیس بھی کیا ہے؟ مس ذکر، تو مس ذکر کو مس ذکر پر قیاس کر رہے ہیں تو یہ تو قیاس علی نفسہِ لازم آیا بھئی۔ ایک چیز کو اپنے ہی اوپر قیاس نہیں کیا جاتا اس کو غیر پر قیاس کیا جاتا ہے۔ دلیل سمجھ میں ارہی ہے؟ کہ اگر اپ اس حالت میں حالت بول کا اعتبار کریں گے یا اعتبار نہیں کریں گے؟ اگر اعتبار نہیں کرتے تو پھر تو قیاس الشیء علی نفسہِ لازم ائے گا بھئی۔ یہی بات کر رہے ہیں کہتے ہیں لانہ ان لم يعتبر في المقيس عليه، اگر اعتبار نہ کیا جائے مقیس علیہ میں، کس چیز کا؟ قید البول، بول کی قید کا، كان قياس المس على نفسه، تو یہ مس کا قیاس ہوا اپنی ہی ذات پر، وهو خلف یا وهو خلف، دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں۔ خلف پڑھیں خلف، خلف کا معنی ہے منطق کی اصطلاح ہے خلف، جو خلاف العقل یعنی محال چیز جس سے لازم ائے، ناممکن چیز لازم ائے جس سے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ خلف کہتے ہیں۔
بھئی منطق میں اپ نے پڑھا ہے ایک دوسرے کے مقابلے میں دلیلیں پھر ذکر کرتے ہیں، قیاس ذکر کیے جاتے ہیں اور جواب دیا جاتا ہے کہ بھئی اگر اپ ہمارے دعوے کو تسلیم نہیں کرتے تو اس سے ایک محال چیز لازم آتی ہے، لہذا اپ کا دعویٰ اپ کی بات درست نہیں، ہمارا دعویٰ ثابت ہو گیا بھئی۔ تو اس کو وہ محال چیز جو لازم آتی ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلیل خلف۔ تو یعنی خلاف عقل کے معنی میں کر لیں اس کو یہاں، کس معنی میں کر لیں؟ خلف، تو اس صورت میں تو مس ذکر کا قیاس اپنے ہی اوپر ہوا وهو خلف، اور یہ خلاف العقل بات ہے کہ اپنے ہی اوپر قیاس کیا جائے۔ یا اس کو خلف پڑھ لیں، خلف کا معنی ہے بیکار بات۔
تو کہتے ہیں اس صورت میں تو مس ذکر کا قیاس اپنی ہی ذات پر ہوا وهو خلف، اور یہ بیکار بات ہے، یہ اپنے اوپر قیاس یہ تو کوئی درست بات نہیں ہے بھئی۔ یہ کون سی صورت تھی؟ کہ اپ نے مس ذکر کا قیاس کیا کس پر؟ مس ذکر فی حالت البول۔ اپ مقیس علیہ میں حالت بول کا اعتبار کریں گے یا نہیں کریں گے؟ اگر نہیں کرتے تو یہ تو قیاس علی نفسہِ ہے اور اگر اپ حالت بول کا اعتبار کرتے ہیں پھر تو مقیس اور مقیس علیہ الگ ہو گئے کیونکہ وہاں پر حالت بول ہے اور مقیس میں تو حالت بول نہیں ہے تو پھر تو یہ قیاس مع الفارق ہوا، مختلف چیز پر قیاس کر رہے ہیں اپ بھئی، حالانکہ قیاس تو کس پر ہوتا ہے؟ اپنی جیسی چیز پر ہوتا ہے، مختلف چیز پر نہیں ہوتا۔ دلیل سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو کہتے ہیں وإن اعتبر فيه ذلك القيد، اور اگر اعتبار کیا جائے مقیس علیہ میں اس قید کا، يكون فارقا بين الأصل والفرع، تو یہ قید جو ہے فرق کرنے والی ہے اصل اور فرع کے درمیان، إذ في الأصل الناقض هو البول، اس لیے کیونکہ اصل کے اندر جو ہے وہ ناقض وضو کیا چیز ہے؟ وہ البول، وہ تو پیشاب ہے، ولم يوجد في الفرع، اور وہ تو فرع میں صرف خالی مس ذکر، وہاں تو پیشاب پایا ہی نہیں گیا تو وہاں تو وضو نہیں ٹوٹنا چاہیے۔
وقد عارض هذا القياس الحنفية، اور معارضہ کیا ہے اس قیاس کا یعنی مقابلہ کیا ہے اس قیاس کا الحنفية، کس نے؟ احناف نے، معارضة الفاسد بالفاسد، جس طرح فاسد کا مقابلہ فاسد سے کیا جائے۔ بھئی احناف نے اس، یہ بعض شوافع کی دلیل تھی کہ مس ذکر ناقض للوضو ہے اور اس کو انہوں نے قیاس کیا تھا کس پر؟ مس ذکر حالت البول پر، ہم نے جواب دے دیا بھئی، کیا دیا جواب اس کا؟ دے دیا کہ اپ حالت بول کا اعتبار کریں گے یا نہیں؟ اگر نہیں کرتے تو قیاس الشیء علی نفسہِ لازم ائے گا اور اگر کرتے ہیں تو پھر اصل اور فرع تو ایک جیسے نہیں ہیں۔ اصل کے اندر بول والی حالت ہے، فرع جس کو قیاس کر رہے ہیں اس میں بول والی حالت نہیں۔
اور اس کا مقابلہ کہتے ہیں اس قیاس کا مقابلہ کیا ہے احناف نے معارضة الفاسد بالفاسد کے طریقے پر، یعنی جس طرح یہ قیاس فاسد تھا بعض شوافع کا ہم نے فساد بتلا دیا۔ اسی طرح احناف نے اس کے جواب میں جو دلیل ذکر کی وہ بھی فاسد ذکر کی، کیا ذکر کی؟ فاسد بھئی، کہ اپ فاسد بات کر رہے ہیں تو جواب میں ہم بھی کیا ذکر، اس کا جواب بھی ہم کس سے دیں گے؟ فاسد ہی سے دیں گے، صحیح بات کرتے صحیح بات ہو تو ہم اس کا جواب بھی صحیح سے دیں گے، یہ اپ بات فاسد کر رہے ہیں تو جواب بھی ہم کس طرح دیں گے؟ فاسد بھئی۔
تو اور کس طرح کی معارضة الفاسد بالفاسد؟ اب وہ ذکر کر رہے ہیں، فقالوا، پس احناف نے کہا، إن الله تعالى مدح المستنجين بالماء، کہ اللہ تعالیٰ نے پانی کے ساتھ استنجا کرنے والوں کی مدح فرمائی ہے فی قولہ، اپنے اس قول میں، فيه رجال يحبون أن يتطهروا، اس مسجد میں یعنی مسجد قبا میں رجال، کچھ لوگ ہیں يحبون أن يتطهروا، جو پسند کرتے ہیں پاک ہونے کو۔ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ اس مسجد میں کچھ لوگ ہیں جو خوب پاکی کو پسند کرتے ہیں، اللہ ان کی مدح فرما رہے ہیں۔ اہل قبا پھر حضور علیہ السلام کے پاس ائے تو حضور علیہ السلام نے پوچھا ان سے، کیا بات ہے تم میں کون سا وصف ہے کہ اللہ تمہارے قرآن میں باقاعدہ اللہ نے تعریف نازل فرما دی؟ کہنے لگے یا رسول اللہ اور تو کوئی ایسی بات نہیں، البتہ یہ ہے کہ ہم ڈھیلے سے استنجا کرنے کے بعد پانی سے بھی استنجا کر لیتے ہیں۔ تو دیکھیے اس پانی سے استنجا کرنے کی وجہ سے اللہ ان کی قرآن میں مدح فرما رہے ہیں۔
یہ احناف دلیل کا جواب دے رہے ہیں، ولا شك أن فيه مس الفرج، اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ استنجا بالماء میں کیا ہوگا؟ مس فرج شرمگاہ کا چھونا ہوگا یا نہیں ہوگا بھئی استنجا بالماء میں؟ تو اس میں شرمگاہ کا چھونا ہوگا، فلو كان حدثا، اگر مس فرج جو ہے وہ حدث ہوتا، لما مدحهم به، تو اللہ ان کی یہ تعریف نہ فرماتے بھئی، اپنے اللہ اپنے اس قول کے ساتھ ان کی تعریف نہ فرماتے، نہ فرماتے۔
وهذا كما ترى، اور یہ ایسا ہے جیسا کہ اپ دیکھ رہے ہیں۔ شارح کیا بتلا رہے ہیں؟ یہ ایسا ہے جیسا کہ اپ دیکھ رہے ہیں۔ ان کا استدلال تو فاسد تھا، احناف نے جو جواب ذکر کیا وہ بھی فاسد ہے جیسا کہ اپ دیکھ رہے ہیں۔ کس طرح؟ اس طرح فاسد ہے بھئی، کہ احناف نے کہا کہ احناف نے کہا کہ استنجا بالماء کرنے والوں کی اللہ نے تعریف فرمائی ہے اور استنجا بالماء میں کوئی شک نہیں کہ اس میں بھی کیا ہوتا ہے؟ مس ذکر تو ہوگا، اگر یہ حدث ہوتا تو اللہ ان کی تعریف نہ فرماتے، بھئی یہاں بھی ایک طرف ہے مس ذکر بالماء، استنجا میں کیا ہے؟ مس ذکر بالماء، پانی کے ساتھ ہے نا استنجا میں پانی ہے تو مس ذکر بالماء ہوا بھئی، اور اپ، یہ دلیل کیا ذکر کر رہے ہیں کہ مس ذکر ناقض للوضو نہیں، کیوں نہیں؟ کیونکہ استنجا بالماء میں بھی کیا ہوتا ہے؟ مس ذکر ہوتا ہے، تو وہ ہوا مقیس علیہ استنجا بالماء میں جو مس ذکر ہے اور ویسے مس جو ہے وہ کیا ہے؟ مقیس ہے اور وہ جیسے ناقض للوضو نہیں، وہ پاکی ہی ہوتی ہے اس سے حدث نہیں، تو یہ بھی اس سے پاک، اس سے بھی، اس سے بھی نجاس، اس کو بھی حدث نہیں ہونا، جیسے وہ حدث نہیں، اس کو بھی حدث نہیں ہونا چاہیے، تو مقیس کس کو بنایا؟ احناف نے مس ذکر کو مقیس بنایا اور مقیس علیہ ہے مس ذکر بالماء کو بھئی یعنی فی حالت الاستنجا۔
تو یہ قیاس مع الفارق ہے بھئی، اس لیے کیونکہ یہ مس ذکر جس کو مقیس بنایا کہ یہ پاک، یہ حدث نہیں، کیوں نہیں حدث نہیں؟ کیونکہ مقیس علیہ حدث نہیں، تو یہ حدث نہیں، یہاں مقیس اور ہے مقیس علیہ اور ہے، مقیس بغیر ماء کے ہے اور مقیس علیہ ماء کے ساتھ ہے بھئی، صورت سمجھ میں اگئی؟ یا یوں کہیں مقیس علیہ ضرورت کی بناء پر ہے اور یہ مقیس بغیر ضرورت کے ہے، تو ایک امر ضروری ہے ایک امر غیر ضروری ہے، دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، تو قیاس فرع اور اصل ایک دوسرے سے الگ ہوئے، لہذا ان احناف کا بطور جواب کے اس قیاس کو ذکر کرنا صحیح نہیں، تو یہ جواب کیا ہے ان کا؟ فاسد، لیکن کیوں ذکر کیا؟ معارضة الفاسد بالفاسد کے طریقے پر، اپ نے فاسد بات کی تھی ہم جواب بھی کس سے دیں گے؟ فاسد بات سے دیں گے، اپ صحیح بات کرتے تو ہم بھی صحیح بات دلیل میں دیتے بھئی، بات سمجھ میں اگئی بھئی؟
تو یہ معنی ہے وهذا كما ترى، یہ ایسا ہے جیسا کہ اپ دیکھ رہے ہیں بھئی، چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔