درس 107
وأن يتعدى الحكم الشرعي الثابت بالنص بعينه إلى فرع هو نظيره ولا نص فيه.
هذا الشرط وإن كان واحدا تسمية ولكنه يتضمن شروطا أربعة؛ أحدها: كون الحكم شرعيا لا لغويا، والثاني: تعديته بعينه بلا تغيير، والثالث: كون الفرع نظيرا للأصل لا أدنى منه، والرابع: عدم وجود النص في الفرع.
گذشتہ سبق میں قیاس کی شرائط کا بیان شروع ہوا تھا، دو شرطیں آپ نے پڑھ لیں۔ پہلی شرط یہ تھی کہ مقیس علیہ اپنے حکم کے ساتھ مخصوص نہیں ہونا چاہیے کسی دوسری نص کی وجہ سے۔ دوسری شرط یہ تھی کہ مقیس علیہ جو ہے وہ قیاس کے طریقے سے ہٹا ہوا نہ ہو، یعنی خود بھی مخالف قیاس نہ ہو۔ تیسری شرط آج ذکر کر رہے ہیں بھئی۔
اور آگے آپ کو بتلائیں گے کہ یہ تیسری شرط یہ دراصل متضمن ہے چار شرطوں کو۔ یعنی کہنے کو تو یہ ایک شرط ہے، لیکن اس کے ضمن میں، اس کے اندر کتنی شرطیں ہیں؟ چار شرطیں ہیں بھئی۔ تو اب وہ تیسری شرط ذکر کرنے لگے ہیں جس کے ضمن میں چار شرطیں ہیں۔
تو یہ تیسری بیان ہو رہی ہے: وأن يتعدى الحكم الشرعي الثابت بالنص بعينه إلى فرع هو نظيره ولا نص فيه. اور وہ تیسری شرط یہ کہ متعدی کیا جائے ایسے حکم شرعی کو جو ثابت ہو نص کے ذریعے۔ وہ حکم شرعی جو ثابت ہو کس کے ذریعے؟ نص کے ذریعے، اس کو متعدی کرنا بعينه، یعنی بعينه اسی حکم کو متعدی کیا جائے، اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہ ہو۔ إلى فرع، ایسی فرع کی طرف—فرعٌ نکرہ ہے بھئی، اور نکرہ کے بعد آگے جملہ آیا: هو نظيره۔ نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ فعل اس کے لیے عموماً کیا بنتا ہے؟ صفت، کیونکہ وہ فعل نے اپنے فاعل یا نائب فاعل سے مل کر جملہ بننا ہے، اور جملہ ہوتا ہے نکرہ کے حکم میں، تو نکرہ کے بعد جملہ آئے تو وہ اس کے لیے کیا بنتا ہے عموماً؟ صفت۔ تو یہاں فرعٌ نکرہ ہے اور اس کے بعد هو نظيره جملہ اسمیہ آیا، تو یہ اس کے لیے کیا بنے گا؟ صفت—تو وہ ایسا، وہ متعدی کرنا ہے ایسے حکم شرعی کو جو نص سے ثابت ہو بعينه اسی کو إلى فرعٍ ایسی فرع کی طرف هو نظيره جو اس اصل کی نظیر ہو، اس کے مثل ہو۔ ولا نص فيه، اس حال میں کہ اس فرع کے اندر کوئی نص نہ آئی ہو بھئی۔ کیونکہ اگر اس فرع کے اندر خود نص موجود ہے، تو پھر قیاس کی حاجت نہیں، کیونکہ قیاس تو کیا جاتا ہے اظہار حکم کے لیے، اگر حکم پہلے سے ہی معلوم ہے تو پھر قیاس کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔
بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ شرط ہے، تیسری شرط، لیکن اس کے ضمن میں کتنی آ گئیں شرطیں؟ چار شرطیں آ گئیں۔ پہلی شرط یہ دیکھیے بھئی، ذرا متن پہ نظر رکھنا: أن يتعدى الحكم الشرعي، کہ متعدی کرنا کس کو؟ حکم شرعی کو۔ الشرعي کی قید لگا دی، کہ معلوم ہوا کہ وہ قیاس حکم شرعی کے اثبات کے لیے ہونا چاہیے، حکم لغوی کے اثبات کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔
دوسری بات آ گئی کہ بعينه، یعنی بعينه وہی اصل کے حکم کو کس کی طرف متعدی کیا جائے؟ فرع کی طرف، اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آنی چاہیے بھئی، بعينه وہی حکم ہونا چاہیے، یہ دوسری شرط۔
إلى فرع هو نظيره، یہ تیسری شرط آ گئی بھئی، کہ وہ فرع جو ہے ایسی ہو جو اس اصل کی نظیر ہو، اس کے مثل ہو، اس سے کم درجے کی نہ ہو۔
ولا نص فيه، یہ چوتھی شرط آ گئی، اس حال میں کہ اس فرع کے اندر کوئی نص نہیں ہونی چاہیے بھئی۔ اس کے اندر نص نہیں ہونی چاہیے۔
تو یہ چار شرطیں ہیں۔ دیکھیے اب یہی بیان کریں گے۔
فرماتے ہیں: هذا الشرط وإن كان واحدا تسمية، کہ یہ شرط اگرچہ ایک ہے تسمیہ کے اعتبار سے، ذکر کرنے کے اعتبار سے، ولكنه يتضمن شروطا أربعة، لیکن یہ متضمن ہے چار شرطوں کو، اس کے ضمن میں، اس کے پیٹ میں کتنی شرطیں ہیں؟ چار۔ أحدها، ایک یہ کہ كون الحكم شرعيا لا لغويا، کہ وہ حکم شرعی ہونا چاہیے، لغوی نہیں ہونا چاہیے۔ یہ کس قید سے معلوم ہوا؟ الشرعي کی قید سے معلوم ہوا۔
بھئی دیکھیے، ہم نے قیاس کیا تھا جو حکم گندم کا تھا وہی حکم کس کو دے دیا؟ چاول کو، اور حکم کیا تھا؟ کہ برابری کے ساتھ ان کی گندم کی گندم کے بدلے بیع جائز ہے، اور تفاضل حرام ہے۔ تو یہ ایک حکم شرعی، حلال اور حرام ہونا یہ حکم شرعی ہے، اس کے لیے ہم نے قیاس کیا تھا۔ تو قیاس حکم شرعی کے لیے ہونا چاہیے کہ حلال ہے چیز یا حرام ہے وغیرہ، حکم لغوی کے لیے نہیں inspection. حکم لغوی کے لیے مثلاً آگے بیان کریں گے بھئی کہ شوافع جو ہیں وہ ہر نشہ آور چیز کو خمر کہتے ہیں کہ یہ خمر ہے۔ خمر اصلِ عربی لغت میں تو صرف شراب کو کہتے ہیں وہ جو انگور سے بنے، لیکن وہ کہتے ہیں کہ شراب کو شراب اس لیے کہتے ہیں، خمر کو خمر اس لیے کہتے ہیں کیونکہ لأنها يخامر العقل، کیونکہ یہ کیا کرتی ہے؟ عقل کو ڈھانپ لیتی ہے، اس پر پردہ ڈال دیتی ہے، انسان کو اپنا ہوش ہی نہیں رہتا، تو ہر چیز جس میں نشہ ہے وہ بھی کیا ہے؟ خمر ہے، وہ بھی عقل کو ڈھانپنے والا ہے، تو لہٰذا اس... تو ہم جواب میں کہتے ہیں کہ یہ تو آپ لغت میں قیاس کر رہے ہیں، کس میں؟ لغت میں قیاس کر رہے ہیں۔ لغت عربی زبان والوں نے شراب صرف اس خمر اس شراب کا نام رکھا ہے، اور چیزوں کا نام نہیں، تو آپ اور چیزوں کے لیے یہ نام ثابت نہیں کر سکتے۔ تو پہلی شرط کیا ہوئی کہ قیاس کس کے لیے ہونا چاہیے؟ حکم شرعی کو متعدی کرنا چاہیے نہ کہ حکم لغوی کو بھئی۔
والثاني تعديته بعينه بلا تغيير، اور دوسری شرط یہ کہ اس حکم کو بعينه متعدی کیا جائے بغیر کسی تبدیلی کے، اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آنی چاہیے۔ مثلاً بھئی، اصل کے اندر تو حکم مطلق تھا اور فرع میں جا کے مقید بن گیا، یا اصل میں مقید تھا فرع میں جا کر مطلق بن گیا، اس قسم کی یا کوئی اور ایسی کوئی بھی تبدیلی نہیں آنی چاہیے، جس طرح کا حکم اصل میں تھا بعينه اسی طرح کا حکم بغیر کسی تبدیلی کے کس میں آنا چاہیے؟ فرع میں۔ یہ دوسری شرط۔
والثالث كون الفرع نظيرا للأصل لا أدنى منه، تیسری شرط یہ کہ فرع کو اصل کی نظیر ہونا چاہیے، اصل کے مثل ہونا چاہیے، لا أدنى منه، اس سے کم درجے کا نہیں ہونا چاہیے۔ جیسے آگے مثال بیان کریں گے کہ امام شافعی رحمہ اللہ خاطئ اور مکرہ ان کو قیاس کرتے ہیں ناسئ پر، وہ جو بھولے سے روزے میں کھا پی لے، اسی پر قیاس کرتے ہیں کس کو؟ خاطئ اور مکرہ کو بھی۔ خاطئ جس نے غلطی سے کوئی چیز پیٹ میں چلی گئی، مثلاً کلی کر رہا تھا، بے احتیاطی کے اندر کچھ پانی حلق میں اتر گیا، یا اسی طرح مکرہ بھئی، کسی دوسرے شخص نے تلوار یا بندوق نکالی روزے کی حالت میں دوسرے شخص جو تھا اس سے کہا کہ کھاؤ اور پیو ورنہ میں تمہاری گردن اڑاتا ہوں، تو یہ مکرہ ہے بھئی۔ وہ اس کو اس پر قیاس کرتے ہیں مکرہ اور خاطئ کو ناسی پر قیاس کرتے ہیں، ہم کہتے ہیں نہیں بھئی، جو فرع ہے اس کو اصل کے مثل ہونا چاہیے اس سے کم درجے کا نہیں، اصل یہاں کون؟ ناسی، جو بھول کے بھولا ہوا ہے، بھولے سے جس نے کھایا پیا، ہم کہتے ہیں اس کا عذر زیادہ، ان دونوں کا عذر اس سے کم درجے کا، فرع کو اصل کے مثل ہونا چاہیے، اس سے کم درجے کا نہیں ہونا چاہیے۔
والرابع عدم وجود النص في الفرع، اور چوتھی شرط یہ ہے کہ فرع میں نص نہیں ہونی چاہیے۔ فرع میں نص نہیں ہونی چاہیے، جیسے اس کی مثال آگے ذکر کریں گے کہ قتل کے کفارے میں قرآن میں آتا ہے: فتحرير رقبة مؤمنة، وہاں مؤمنة کی قید ہے، جبکہ ظہار اور یمین کے کفارے میں فتحرير رقبة آتا ہے، وہاں مؤمنة کی قید نہیں ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ وہاں پر بھی مؤمنة کی قید کا اعتبار کرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ سارے کفارے ایک ہی جنس کے ہیں لہٰذا جب ایک میں قید مؤمنة والی آ گئی تو باقیوں میں بھی وہ قید معتبر ہو گی، ہم کہتے ہیں نہیں، یہاں فرع کے اندر خود نص موجود ہے اور اس نص کے اندر مؤمنة کی قید نہیں ہے، لہٰذا یہ قیاس درست نہیں ہے۔
وقد فرع المصنف رحمه الله على كل من هذه الأربعة تفريعا على ما سيأتي، اور تحقیق تفریع کی ہے مصنف رحمہ اللہ نے تفریع کس کو کہتے ہیں؟ میں نے پہلے بتایا تھا، ایک ہی ضابطے پر کئی آگے مسائل کو نکالنا، فرع شاخ کو کہتے ہیں جیسے ایک ہی تنے سے بہت سی شاخیں نکلتی ہیں، اسی طرح ایک ہی ضابطے پر بہت سے مسائل نکلتے ہیں تو اس کو تفریع کہتے ہیں ایک ضابطے سے مسائل نکالنا۔ وقد فرع المصنف رحمه الله على كل من هذه الأربعة تفريعا على ما سيأتي، اور مصنف رحمہ اللہ نے تفریع کی ہے ان چاروں میں سے ہر ایک پر بنا بر اس کے جو آ جائے گا۔ وهذا هو رأي جمهور الأصوليين، اور یہ رائے ہے جمہور اصولین کی، کون سی؟ یہ جو چ... یہ والی شرط متضمن ہے چار شرطوں کو، یہ جو انہوں نے کہا نہ کہ یہ تیسری شرط کتنی شرطوں کو متضمن ہے؟ چار، کہتے ہیں یہ جمہور اصولین کی رائے ہے اقتداء بفخر الإسلام، اقتداء کرتے ہوئے فخر الاسلام کی، انہوں نے یہاں کہا کہ اس شرط میں دراصل چار شرطیں ہیں تو جمہور اصولین بھی کیا کہتے ہیں کہ یہاں چار شرطیں ہیں، جبکہ آگے بتلائیں گے بعض شارحین نے کہا کہ یہاں چھ شرطیں ہیں۔ تو یہ جو ہے چار شرطوں والی بات یہ جمہور اصولین کی ہے بھئی۔
وقد ابتدع بعض الشارحين، ابتدع بدعت کس کو کہتے ہیں بھئی؟ نئی چیز کو، دین میں نئی چیز لے کر آتے ہیں، تو یہاں یہ وہیادہ ہے۔ وقد ابتدع بعض الشارحين، اور تحقیق نئی بات کہی بعض شارحین نے، فقال، پس فرمایا: إنه يتضمن ست شروط، کہ یہ کتنی شرطوں کو متضمن ہے؟ یہ چھ شرطوں کو متضمن ہے، الأربعة منها هي المذكورة، چار ان میں سے تو یہی ذکر کر دی گئیں جو مذکور ہوئیں، والاثنان: التعدية، اور دو جو ہیں تعدیہ، ایک ان میں سے کیا ہے؟ تعدیہ، حکم کو متعدی کرنا، وكون الحكم الشرعي ثابتا بالنص لا فرعا لشيء آخر، اور چھٹی شرط یہ ہے کہ وہ حکم شرعی نص کے ذریعے ثابت ہونا چاہیے۔ یعنی اصل کے اندر جس کو آپ مقیس علیہ بنا رہے ہیں، وہ اصل ہونا چاہیے یعنی اس میں حکم نص سے ثابت ہونا چاہیے، لا فرعا لشيء آخر، وہ کسی اور چیز کے لیے فرع نہ ہو۔ کسی اور چیز کے لیے... کہ وہ حکم شرعی نص سے ثابت ہونا چاہیے، کسی اور چیز کی فرع نہ ہو، یعنی بھئی جیسے ہم نے گندم پر قیاس کیا تھا کس کو؟ چاول کو، تو گندم میں حکم کس سے ثابت تھا؟ نص کے ذریعے، تو اصل میں جو ہے حکم نص کے ذریعے ثابت ہونا چاہیے، وہ خود ہی کسی اور چیز کی فرع نہ ہو، تو کس کو قیاس کیا؟ چاول کو۔ اب ہم کیا کرتے ہیں آگے وہی علت نکالتے ہیں کسی اور چیز میں چاول کو اصل بناتے ہیں اور اس کو فرع بناتے ہیں اگلی چیز کو، مثلاً دال ہو گئی کوئی اور چیز ہو گئی، چا... کس کو بنایا؟ چاول کو اصل بنایا، حالانکہ چاول کے بارے میں تو نص نہیں، نص تو... یہ تو فرع ہے خود دوسری چیز کی، تو کہتے ہیں یہ نہیں ہونا چاہیے بھئی، جس پر جو مقیس علیہ ہو وہ کیا ہونا چاہیے؟ اس کے بارے میں نص ہونی چاہیے، وہ خود کسی دوسری چیز کی فرع نہ ہو بھئی۔ کیونکہ بھئی اگر آپ کس پر قیاس کر رہے ہیں؟ چاول پر، تو اگر چاول پر قیاس کر رہے ہیں مثلاً دال کو، تو اگر وہی علت دال میں ہو گی یا وہ علت نہیں ہو گی، اگر وہی علت ہے قدر اور جنس والی تو پھر چاول تو بیکار ہی بیچ میں آپ نے ذکر کر دیا، براہِ راست کس پر قیاس کر لیں؟ گندم پر قیاس کر لیں گے، اور اگر اس میں علت وہ والی ہے ہی نہیں پھر تو قیاس ہی صحیح نہیں ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: وكون الحكم الشرعي ثابتا بالنص لا فرعا لشيء آخر، کہ وہ حکم شرعی نص کے ذریعے ثابت ہونا چاہیے اصل میں نہ کہ یہ کہ وہ فرع ہو کسی اور چیز کی۔ وهذا، شارح فرماتے ہیں کہ یہ جو ہے، یہ جو انہوں نے دو شرطیں ذکر کیں بھئی، وإن كان مما يستقيم، یہ اگرچہ ان چیزوں میں سے ہیں جو درست ہیں، بات ان کی درست ہے، ولكن ليست له ثمرة صحيحة، لیکن اس کا کوئی ثمرہ صحیحہ نہیں ہے، کوئی فائدہ نہیں ہے بھئی اس ان قیود کا بھئی۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ کیا بات ذکر کی کہ تیسری شرط متضمن ہے کتنی شرطوں کو؟ چار کو، اور بعضوں نے کیا ذکر کیں؟ چھ۔ شارح نے بتلایا کہ جنہوں نے چھ ذکر کیں بات ان کی بھی صحیح ہے لیکن اس پر کوئی ثمرہ مرتب نہیں ہوتا بھئی، لہٰذا بات وہی ہے جو کس نے ذکر کی؟ جمہور نے، کہ اس پر چار شرطیں ہیں اور اس پر ثمرہ بھی مرتب ہوتا ہے چاروں کے بارے میں آگے اب تفصیل بیان کریں گے۔
فلا يستقيم التعليل لإثبات اسم الزنا للواطة لأنه ليس بحكم شرعي. بھئی، امام شافعی رحمہ اللہ وہ لواطت کے لیے بھی زنا کا نام ثابت کرتے ہیں کہ یہ بھی کیا ہے؟ زنا ہے۔ لواطت کو بھی کیا کہتے ہیں؟ زنا کہتے ہیں بھئی، تفصیل آگے شرح میں وہ بتلا دیں گے۔ ہم کہتے ہیں یہ درست نہیں ہے، یہ تو آپ کس میں قیاس کر رہے ہیں؟ لغت میں قیاس کر رہے ہیں، لواطت کو عربی زبان والے تو زنا نہیں کہتے، آپ کیا کہہ رہے ہیں یہ بھی چونکہ اسی کی طرح ہے لہٰذا یہ بھی کیا ہے؟ زنا ہے، یہ تو آپ لغت میں قیاس کر رہے ہیں، ایک چیز کا نام دوسری کو دے رہے ہیں اور لغت کے اندر قیاس صحیح نہیں، قیاس تو کس کے لیے ہونا چاہیے؟ حکم شرعی کے لیے ہونا چاہیے، حلال اور حرام کی بات جس میں ہو بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
جی، تعلیل یاد رکھیے، تعلیل کا معنی ہے علت نکالنا، علت بیان کرنا۔ علت نکالنا، علت بیان کرنا، یوں کہیں آسان لفظوں میں وہی قیاس مراد ہے، کیا مراد ہے؟ قیاس، قیاس میں بھی کیا کیا جاتا ہے؟ ایک چیز کی علت بیان کی جاتی ہے۔
تو کہتے ہیں: فلا يستقيم، اب یہ تفریع کر رہے ہیں اسی تیسری شرط پر اور اس میں تھیں چار شرطیں، تو ہر ایک پر الگ الگ تفریع کریں گے۔ پہلی تفریع ہے: فلا يستقيم التعليل، پس تعلیل، علت کا بیان کرنا صحیح نہیں، یا یوں کہیں: پس قیاس صحیح نہیں ہے لإثبات اسم الزنا للواطة، زنا کے نام، اسم کو ثابت کرنا کس کے لیے؟ لواطت کے لیے زنا کے اسم کو ثابت کرنے کے لیے قیاس درست نہیں ہے، لأنه ليس بحكم شرعي، کیونکہ یہ حکم شرعی نہیں ہے یہ جو آپ لواطت کے لیے اسم زنا ثابت کرتے ہیں۔ تفريع على أول الشرط، یہ تفریع ہے پہلی شرط پر، وهو كون الحكم شرعيا، اور وہ حکم کا کہ وہ حکم شرعی ہونا چاہیے، فإن الشافعي رحمه الله يقول، پس بے شک امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: الزنا سَفْحُ ماءٍ مُحَرَّمٍ في مَحَلٍّ مُشْتَهًى مُحَرَّمٍ. زنا جو ہے، سَفْحٌ کا معنی ہے بہانا، سَفْحُ ماءٍ، پانی بہانا، مُحَرَّمٍ، ایک یہ مُحَرَّمٍ آ رہا ہے ایک آگے مُحَرَّمٍ، اس مُحَرَّمٍ...
سف کا معنی ہے بہانا۔
سف ماء یعنی پانی بہانا۔ محرم۔
ایک یہ محرم آ رہا ہے ایک آگے محرم۔ اس محرم کا معنی ہے حرمت والا، عزت والا۔ اور آگے محرم ہے اس حرام بھئی حرام کے معنی میں جس کو حرام کیا گیا۔
تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: الزنا سفح ماء محرم زنا وہ عزت والے پانی کو، حرمت والے پانی کو بہانا ہے في محل ایسے محل میں مشتهى جو شہوت والی محل ہے محرم اور حرام ہے۔
تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: الزنا سفح ماء محرم في محل مشتهى محرم کہ زنا وہ حرمت والے پانی کو بہانا ہے ایسے محل میں جو شہوت والا ہے حرام ہے۔ یعنی شہوت والے حرام محل میں حرمت والے پانی کو بہانا یہ کیا ہے؟ زنا۔
وهذا المعنى موجود في اللواطة اور یہی معنی کس میں پایا جا رہا ہے؟ لواطت میں پایا جا رہا ہے۔ وہاں بھی حرمت والے پانی کو بہانا ہے شہوت والے حرام محل میں۔ بل هي فوقه بلکہ لواطت اس سے بڑھ کر ہے في الحرمة والشهوة وتضيع الماء لواطت زنا سے بڑھ کر ہے حرمت میں، شہوت میں اور پانی کے ضائع کرنے میں۔ بھئی وہ زنا کا محل وہاں تو حلت بھی آ سکتی ہے نکاح کے ذریعے وہاں تو حلت بھی آ سکتی ہے نکاح کے ذریعے یہاں تو حلت کی کوئی صورت ہی نہیں ہے، تو یہ اس سے بڑھ کر ہے بھئی۔ فيجري تو بس وہ فرماتے ہیں کہ یہ یہی معنی لواطت میں موجود ہے بلکہ لواطت اس سے بڑھ کر ہے فيجري عليها اسم الزنا وحكمه بس جاری ہو گا اس پر زنا کا اسم اور اس کا حکم۔ زنا کا زنا کا نام اور حکم اس پر جاری ہو گا۔ وإليه ذهب أبو يوسف ومحمد رحمهما الله تعالى اور اسی طرف صاحبین رحمہما اللہ بھی گئے ہیں۔ وهذا يسمى قياسا في اللغة اور اس کو قیاس فی اللغۃ کہتے ہیں۔ لغت میں قیاس کرنا۔ ولكنه فرق بين أن يعطى للواطة اسم الزنا لیکن فرق کیا گیا ہے اس کے درمیان کہ لواطت کو زنا کا نام دیا جائے۔
بھئی دیکھیے۔
ایک یہ ہے کہ لواطت کو نام کس کا دے دیا؟ زنا والا۔ جب کہہ دیا یہ لواطت بھی زنا ہے اور زنا کا حکم تو جو معلوم ہے کہ غیر شادی شدہ زنا کریں تو کیا کیا جائے گا؟ سو کوڑے لگائے جائیں گے۔ تو جب یہ بھی زنا ہے تو وہی حکم ادھر بھی آ جائے گا۔ بات سمجھ میں آئی؟
تو یہاں دو چیزیں ہیں۔ ایک ہے لواطت کو زنا کا نام دینا اور ایک ہے لواطت کو زنا کا حکم دینا، دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ہم کہتے ہیں لواطت کو زنا کا نام دینا یہ تو درست نہیں ہے کیونکہ یہ تو قیاس فی اللغۃ ہے اور لغت میں قیاس صحیح نہیں۔ لیکن اگر نام نہ دیا جائے، صرف کیا کیا جائے؟ حکم جو ہے اس کی طرف متعدی کیا جائے تو وہ الگ چیز ہے، وہ الگ بات ہے بھئی۔ وہ قیاس ہو سکتا ہے تو لیکن ہم بات کس کی کر رہے ہیں اس وقت؟ ہم صرف نام دینے کی بات کر رہے ہیں اس وقت، سمجھ میں آئی بھئی؟
کہتے ہیں فرق کیا گیا ان دو باتوں میں بین أن يعطى للواطة اسم الزنا کہ دیا جائے لواطت کو زنا کا نام وبين أن يجري عليها حكمه فقط اور اس کے درمیان کہ اس پر صرف اس کا حکم جاری ہو لأجل اشتراك العلة بوجہ علت میں مشترک ہونے کے فإن الأول قياس في اللغة دون الثاني اسی کیونکہ پہلا جو ہے وہ قیاس فی اللغۃ ہے نہ کہ دوسرا بھئی۔
والمجوزون له هم أكثر أصحاب الشافعي رحمہ اللہ اور جائز قرار دینے والے اس کو، کس کو یعنی؟ قیاس فی اللغۃ۔ قیاس فی اللغۃ کو جائز قرار دینے والے وہ اکثر اصحاب شافعی رحمہ اللہ ہیں۔ فإنهم يعطون اسم الخمر لكل ما يخامر العقل پس بے شک وہ جو ہیں دیتے ہیں خمر کا نام ہر اس چیز کو جو عقل کو ڈھانپ لے یعنی جو نشہ آور ہو۔ وقد قال لهم واحد من الحنفية اور تحقیق ان سے کہا ایک نے احناف میں سے، احناف میں سے کسی ایک نے ان سے کہا کہ لم تسمى القارورة قارورة کہ قارورہ کو قارورہ کیوں کہا جاتا ہے؟
بھئی مناظرے ہوتے تھے پہلے، سمجھ میں آیا؟ علماء کے درمیان۔ تو یہ کسی مناظرے میں کسی اس طرح حنفی عالم نے اعتراض کیا ہو گا اور دوسرا شوافع میں کی طرف سے جو ہو گا وہ جواب نہ دے سکا، وہی بات اب ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ تو حنفیہ میں سے ایک نے کہا ان سے: لم تسمى القارورة قارورة کہ قارورہ کو قارورہ کیوں کہتے ہیں؟ قارورہ بوتل بھئی، بوتل۔
فقالوا لأنه يتقرر فيه الماء تو انہوں نے کہا کیونکہ اس میں پانی قرار پکڑتا ہے۔ قرار سے ہے قارورہ کس سے ہے؟ پانی اس میں قرار پکڑتا ہے یعنی پانی اس میں ٹھہرتا ہے۔ فقال حنفی نے کہا إن بطنك أيضا يتقرر فيه الماء فينبغي أن يسمى قارورة پھر تو تمہارے پیٹ میں بھی پانی قرار پکڑتا ہے اس کو بھی کیا کہنا چاہیے؟ قارورہ کہنا چاہیے بھئی۔ ثم قال لهم پھر اس نے ان سے کہا لم يسمى الجرجير جرجيرا لم يسمى الجرجير جرجيرا جرجیر کو جرجیر کیوں کہتے ہیں؟
جرجیر بھئی، یہ کوئی پودا ہے بھئی چھوٹا سا۔ جسے کھایا جاتا ہے یہ ساگ وغیرہ کی طرح کوئی پودا ہے جسے پکا کر کھایا جاتا ہے۔
تو انہوں نے کہا اس نے کہا جرجیر کو جرجیر کیوں کہتے ہیں؟
تو یہ جرجیر بعض لغات میں جرجیر جیم کے فتحے کے ساتھ ہے۔ بعض لغت والوں نے جِرجِیر جیم کے کسرہ کے ساتھ بھی اس کو لکھا ہے۔
تو کہ جرجیر کو جرجیر کیوں کہتے ہیں؟ فقالوا انہوں نے کہا إنه يتجرجر أي يتحرك على وجه الأرض کیونکہ یہ زمین کے کے چہرے پر یعنی زمین پر یہ حرکت کرتا ہے۔ ہوا وغیرہ سے ہوا چلتی ہے تو یہ حرکت کرتا ہے تو یہ تجرجر سے ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ جو حرکت کرتا ہے، اس وجہ سے اس کو جرجیر کہتے ہیں۔ فقال اس نے کہا إن لحيتك أيضا تتحرك فينبغي أن تسمى جرجيرا کہ تمہاری داڑھی بھی تو حرکت کرتی ہے پھر تو اس کو بھی کیا کہنا چاہیے؟ جرجیر کہنا چاہیے بھئی۔ فتحير وسكت تو وہ حیران رہ گیا اور خاموش ہو گیا بھئی۔ یعنی کوئی جواب نہ دے سکا بھئی۔
یہ وہ جواب دے رہے تھے کہ آپ لغت میں قیاس کرتے ہیں، لغت میں قیاس نہیں ہوتا بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟
یہ تو جرجیر پڑھا ہم نے بھئی۔ اس کے اوپر نون لکھا ہوا ہے۔ دیکھ رہے ہیں بھئی لمبا سا نون ہے؟ اور کنارے پر کیا لکھا ہے؟ یہ نون مخفف ہے نسخے کا، نسخے سے۔
بعض نور الانوار کے نسخوں میں یہ جرجیر کا لفظ ملا اور بعض نسخوں میں جرجیر کے بجائے جرجَر کا لفظ ملا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ بھی انہوں نے لکھ دیا۔
تو پھر اس صورت میں یوں ہو گی عبارت کہ پھر اس نے ان سے کہا لم يسمى الجرجار جرجارا جرجار کو جرجار کیوں کہتے ہیں؟ جرجار۔
یاد رکھیے جرجار جو ہے، یہ قدیم زمانے کا کوئی آلہ تھا جس کے ذریعے کھیت میں غلے کو گاہتے تھے یعنی دانے کو بھوسے سے علیحدہ کرتے تھے۔ دانوں کو کیا کرتے تھے فصل سے؟ علیحدہ کرتے تھے، وہ کوئی آلہ وغیرہ ہو گا ان کا، تو اس کو جرجار کہا جاتا تھا۔ تو اس نے کہا جرجار کو جرجار کیوں کہتے ہیں؟ اس نے کہا کیونکہ وہ زمین پر حرکت کرتا ہے، وہ چلاتے ہوں گے کسی طرح اس کو، تو اس نے کہا پھر تو تمہاری داڑھی کو بھی جرجار کہنا چاہیے کیونکہ یہ بھی حرکت کرتی ہے بھئی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ کیا بات کی؟
کہ زنا کے اسم کو لواطت کے لیے ثابت کرنے کے لیے قیاس صحیح نہیں ہو گا کیونکہ قیاس حکم شرعی کے لیے ہونا چاہیے، حکم لغوی کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔
ولا لصحة ظهار الذمي اس کا عطف ہے پیچھے جو اوپر متن میں آیا لإثبات اسم الزنا۔
تو یہ لإثبات پر عطف ہے بھئی۔ فلا يستقيم التعليل لصحة ظهار الذمي اور اسی طرح قیاس کرنا درست نہ ہو گا لصحة ظهار الذمي ذمی کے ظہار کو کے صحیح ہونے کے لیے۔
ذمی کے ظہار کے صحیح ہونے کے لیے۔
بھئی آپ جانتے ہیں، کافر تین قسم پر ہیں بھئی: ذمی، حربی اور مستأمن۔ ذمی کس کو کہتے ہیں؟ جو جزیہ دے کر مسلمانوں کے وطن میں رہتے ہیں بھئی اس کو ذمی کہا جاتا ہے۔
تو بھئی، یہ امام شافعی رحمہ اللہ وہ فرماتے ہیں کہ ذمی جو ہے اس کا ظہار بھی صحیح ہے بھئی۔ اس کا ظہار بھی صحیح ہے۔
کہ ذمی جس طرح طلاق دینے کا اہل ہے مسلمان کی طرح، مسلمان طلاق دیتا ہے تو واقع ہو جاتی ہے اور آپ بھی مانتے ہیں کہ ذمی طلاق دے تو وہ بھی واقع ہو جائے گی بھئی۔ اور طلاق سے حرمت آیا کرتی ہے اور یہی حرمت ظہار کی وجہ سے بھی آ جایا کرتی ہے تو جب وہ طلاق دینے کا اہل ہے مسلمان کی طرح تو وہ ظہار کا بھی اہل ہوا۔ لہٰذا وہ ظہار والے کلمات کہے گا تو کیا واقع ہو جائے گا؟ ظہار واقع ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ظہار جانتے ہیں یعنی کسے کہتے ہیں؟ بیوی کو تشبیہ دے دینا ایسی عورت کے ساتھ جو ہمیشہ کے لیے انسان پر حرام ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو یہ کہتے ہیں، ذمی کے ظہار کے صحیح ہونے کے لیے بھی قیاس صحیح نہیں ہے۔ یہ تفریع ہے دوسری شرط پر، انہوں نے کہا تھا بعينه وہی حکم متعدی ہونا چاہیے اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آنی چاہیے۔ اور یہاں پر کہتے ہیں حکم میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ اگر یہی ظہار کو صحیح قرار دیا جائے کس کے لیے؟ ذمی کے لیے کہ اس کا ظہار بھی صحیح ہے تو پھر حکم میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ حکم میں کس طرح تبدیلی آئی؟ حکم میں اس طرح کہ بھئی مسلمان کا ظہار جو ہے اس کی انتہا تو کفارے پر ہو جاتی ہے۔
مسلمان اگر ظہار والے کلمات کہے گا تو ظہار ہو جائے گا لیکن اس ظہار کی انتہا کس طرح ہو سکتی ہے؟ وہ کفارہ دے دے۔ لیکن اور کفارہ تو آپ جانتے ہیں وہ من وجہ عبادت ہے اور من وجہ عقوبت ہے۔ اس میں عبادت کا بھی پہلو اور اس میں سزا کا بھی پہلو ہے۔ تو لہٰذا مسلمان کے ظہار کی تو انتہا ہو جاتی ہے کس پر؟ کفارے پر، لیکن کافر وہ تو عبادت کا اہل ہی نہیں ہے لہٰذا اس کا ظہار وہ مؤبد ہو جائے گا، ہمیشہ کے لیے ہو جائے گا، وہ تو کفارہ دے ہی نہیں سکتا، اہل ہی نہیں ہے اس کا۔ تو دیکھو، مسلمان کے اندر جو ظہار تھا وہ اور تھا، کافر کے اندر جو ظہار آیا وہ اور ہے، لہٰذا حکم بدل گیا اور ہم نے کیا کہا تھا کہ قیاس کے ذریعے شرعی حکم بدلنا نہیں چاہیے، جس طرح اصل میں تھا اسی طرح کس میں ہونا چاہیے؟ فرع میں، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں قیاس صحیح نہیں ہو گا لصحة ظهار الذمي ذمی کے ظہار کے صحیح ہونے کے لیے تفريع على الشرط الثاني یہ تفریع ہے دوسری شرط پر أي لا يستقيم التعليل لصحة ظهار الذمي تعلیل صحیح نہیں ہو گی ذمی کے ظہار کے صحیح ہونے کے لیے كما علل له الشافعي رحمہ اللہ جیسے کہ تعلیل کی ہے امام شافعی رحمہ اللہ نے فیقول پس وہ فرماتے ہیں إنه يصح طلاقه کہ ذمی جو ہے اس کی طلاق صحیح ہے فيصح ظهاره تو اس کا ظہار بھی صحیح ہو گا كالمسلم مسلمان کی طرح إذ لم يوجد الشرط الثاني کیونکہ دوسری شرط نہیں پائی گئی بھئی۔
ہم نے کیا کہا؟ یہ علت بیان کر رہے ہیں، کس کی علت؟ اوپر والی سطر میں آیا نا لا يستقيم التعليل یہ تعلیل صحیح نہیں إذ لم يوجد الشرط الثاني کیونکہ یہاں پر دوسری شرط نہیں پائی گئی وهو تأدية الحكم بعينه اور وہ کیا تھی؟ وہ بعینہ اسی حکم کو متعدی کرنا۔ لكونه أي لكون هذا التعليل تغييرا اسی لیے کیونکہ یہ تعلیل بدلنے والی ہے للحرمة المتناهية بالكفارة اس حرمت کو جس کی انتہا کس سے ہوتی ہے؟ کفارے سے فی الأصل کس میں؟ اصل میں وهو المسلم اور وہ مسلمان ہے یعنی مقیس علیہ، اس میں۔
تو مسلمان ہوا مقیس علیہ اور ذمی کیا ہوا؟ مقیس۔ تو مسلمان میں تو حرمت کی انتہا کفارے کے ذریعے ہو جاتی ہے۔ کفارے کے ذریعے، إلى إطلاقها یہ اس کا تعلق تغییر سے ہے۔ کس سے ہے؟ لكونه تغييرا إلى إطلاقها کیونکہ یہ تعلیل یہ بدلنا ہے اس حرمت متناہیہ کو کس طرح بدلنا ہے؟ إلى إطلاقها في الفرع عن الغاية اس کے مطلق ہونے کی طرف، کس کے مطلق ہونے کی طرف؟ حرمت کے۔ حرمت کے وہ حرمت تھی متناہیہ اور یہ حرمت کون سی ہو گی؟ مطلق ہو گی فی الفرع کس میں؟ فرع۔ کس چیز سے مطلق ہو گی؟ عن الغاية انتہا سے۔ اس کی تو کوئی انتہا ہی نہیں ہو گی، یہ تو غایت سے اور انتہا سے کیا ہو جائے گی؟ مطلق ہو جائے گی بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو عبارت بھی اچھی طرح سمجھ میں آ گئی متن بھئی؟ لكونه تغييرا للحرمة المتناهية بالكفارة في الأصل وهو المسلم إلى إطلاقها في الفرع عن الغاية کیونکہ یہ تعلیل بدلنے والی ہے اس حرمت متناہیہ کو اس اطلاق کی طرف فرع میں انتہا، انتہا سے اطلاق کی طرف بدلنے والی ہے فرع میں۔
یعنی مطلق ہو گی عن الغایت سے۔ مطلق عن الغایت کی طرف بدل دے گی فرع میں اس حرمت کو۔ لأن ظهار المسلم ينتهي بالكفارة کیونکہ مسلمان کا ظہار اس کی انتہا ہو جاتی ہے کفارے کے ذریعے وظهار الذمي يكون مؤبدا اور ذمی کا ظہار مؤبد ہو گا، ہمیشہ کے لیے ہو گا إذ ليس هو أهلا للكفارة کیونکہ وہ کفارے کا اہل ہی نہیں ہے، وہ کفارہ التي هي دائرة بين العبادة والعقوبة جو دائر ہے عبادت اور عقوبت کے درمیان کیونکہ کفارہ من وجہ عبادت ہے تو من وجہ عقوبت ہے، سزا ہے بھئی۔
وقيل هو أهل للتحرير بھئی کفارہ من وجہ سزا ہے، من وجہ عبادت ہے۔ مثلاً کفارے کے طور پر روزے آ گئے۔ اب روزے یہ آئے ہیں بطور سزا کے، تو یہ سزا بھی ہے اور روزے یہ تو آپ روزے یہ تو اللہ کا حکم ہے، تو بایں اعتبار یہ کیا ہے؟ عبادت بھی ہے، دونوں پہلو ہیں۔
وقيل هو أهل للتحرير
اچھا بھئی! ظہار کا کفارہ کیا ہے؟
ایک غلام یا باندی کو آزاد فتحرير رقبة ایک غلام یا باندی کو آزاد کرے من قبل أن يتماسا باہم اختلاط یعنی صحبت کرنے سے پہلے۔ اگر یہ نہ پائے، اس کی استطاعت نہ ہو تو پھر کیا ہے؟ پھر 60 روزے ہیں مسلسل۔ اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو پھر کیا کرے؟ 60 مسکینوں کو کھانا کھلائے اور وہ دو وقت کا ہو گا بھئی، ایک دن کی ان کی ضرورت پوری ہو جائے۔
اب یہ بعضوں نے کہا کہ بھئی، وہ تحریر کا روزوں کا اہل تو نہیں لیکن روزوں سے پہلے تو کیا ہے کفارے میں؟ تحریر، آزاد کرنا۔ کافر تحریر کا اہل تو ہے، وہ غلام یا باندی آزاد کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ وہ آزاد تو کر سکتا ہے، وہ آزاد کرنے کا اہل تو ہے، تو جواب دیا کہ بھئی ٹھیک ہے آزاد کرنے کا اہل ہے، لیکن مطلق آزادی نہیں ذکر قرآن کے اندر، قرآن کے اندر ایسی آزادی ذکر ہے جس کا خلیفہ روزے ہیں۔ جس کا خلیفہ یعنی کہ اگر تحریر نہ ہو
جرجیر کہنا چاہیے بھئی۔ فتحیر وسقطت وہ حیران رہ گیا اور خاموش ہو گیا بھئی، یعنی کوئی جواب نہ دے سکا بھئی۔
یہ وہ جواب دے رہے تھے کہ اپ لغت میں قیاس کرتے ہیں، لغت میں قیاس نہیں ہوتا بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ تو جرجیر پڑھا ہم نے بھئی، اس کے اوپر نون لکھا ہوا ہے۔ دیکھ رہے ہیں بھئی لمبا سا نون ہے؟ اور کنارے پر کیا لکھا ہے؟ یہ نون مخفف ہے نسخے کا، نسخے سے۔ بعض نور الانوار کے نسخوں میں یہ جرجیر کا لفظ ملا اور بعض نسخوں میں جرجیر کے بجائے جرجار کا لفظ ملا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی تو وہ بھی انہوں نے لکھ دیا۔
تو پھر اس صورت میں یوں ہو گئی عبارت کہ پھر اس نے ان سے کہا: لِمَ یُسَمَّى الْجَرْجَارُ جَرْجَارًا؟ جرجار کو جرجار کیوں کہتے ہیں؟ جرجار۔ یاد رکھیے جرجار جو ہے، یہ قدیم زمانے کا کوئی آلہ تھا جس کے ذریعے کھیت میں غلے کو گاہتے تھے یعنی دانے کو بھوسے سے علیحدہ کرتے تھے۔ دانوں کو کیا کرتے تھے فصل سے؟ علیحدہ کرتے تھے۔ وہ کوئی آلہ وغیرہ ہوگا ان کا، تو اس کو جرجار کہا جاتا تھا۔ تو اس نے کہا جرجار کو جرجار کیوں کہتے ہیں؟ اس نے کہا کیونکہ وہ زمین پر حرکت کرتا ہے۔ وہ چلاتے ہوں گے کسی طرح اس کو، تو اس نے کہا پھر تو تمہاری داڑھی کو بھی جرجار کہنا چاہیے کیونکہ یہ بھی حرکت کرتی ہے بھئی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ کیا بات کی؟ کہ زنا کے اسم کو لواطت کے لیے ثابت کرنے کے لیے قیاس صحیح نہیں ہوگا، کیونکہ قیاس حکم شرعی کے لیے ہونا چاہیے حکم لغوی کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔
وَلَا لِصِحَّۃِ ظِہَارِ الذِّمِّیِّ، اس کا عطف ہے پیچھے جو اوپر متن میں آیا لِإِثْبَاتِ اسْمِ الزِّنَا। تو یہ لِإِثْبَاتِ پر عطف ہے بھئی۔ فَلَا یَسْتَقِیمُ التَّعْلِیلُ لِصِحَّۃِ ظِہَارِ الذِّمِّیِّ، اور اسی طرح قیاس کرنا درست نہ ہوگا لِصِحَّۃِ ظِہَارِ الذِّمِّیِّ، ذمی کے ظہار کو کے صحیح ہونے کے لیے۔ ذمی کے ظہار کے صحیح ہونے کے لیے۔
بھئی آپ جانتے ہیں، کافر تین قسم پر ہیں بھئی: ذمی، حربی اور مستأمن۔ ذمی کس کو کہتے ہیں؟ جو جزیہ دے کر مسلمانوں کے وطن میں رہتے ہیں بھئی، اس کو ذمی کہا جاتا ہے۔ تو بھئی یہ امام شافعی رحمہ اللہ وہ فرماتے ہیں کہ ذمی جو ہے، اس کا ظہار بھی صحیح ہے بھئی۔ اس کا ظہار بھی صحیح ہے۔ کہ ذمی جس طرح طلاق دینے کا اہل ہے مسلمان کی طرح، مسلمان طلاق دیتا ہے تو واقع ہو جاتی ہے اور آپ بھی مانتے ہیں کہ ذمی طلاق دے تو وہ بھی واقع ہو جائے گی بھئی، اور طلاق سے حرمت آیا کرتی ہے اور یہی حرمت ظہار کی وجہ سے بھی آ جایا کرتی ہے، تو جب وہ طلاق دینے کا اہل ہے مسلمان کی طرح تو وہ ظہار کا بھی اہل ہوا، لہذا وہ ظہار والے کلمات کہے گا تو کیا واقع ہو جائے گا؟ ظہار واقع ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ ظہار جانتے ہیں یعنی کسے کہتے ہیں؟ بیوی کو تشبیہ دے دینا ایسی عورت کے ساتھ جو ہمیشہ کے لیے انسان پر حرام ہو۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو یہ کہتے ہیں ذمی کے ظہار کے صحیح ہونے کے لیے بھی قیاس صحیح نہیں ہے۔ یہ تفریع ہے وہ دوسری شرط پر، انہوں نے کہا تھا بعینہٖ وہی حکم متعدی ہونا چاہیے اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آنی چاہیے۔ اور یہاں پر کہتے ہیں حکم میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ اگر یہی ظہار کو صحیح قرار دیا جائے کس کے لیے؟ ذمی کے لیے کہ اس کا ظہار بھی صحیح ہے، تو پھر حکم میں تبدیلی آ جاتی ہے۔
حکم میں کس طرح تبدیلی آئی؟ حکم میں اس طرح کہ بھئی مسلمان کا ظہار جو ہے، اس کی انتہا تو کفارے پر ہو جاتی ہے۔ مسلمان اگر ظہار والے کلمات کہے گا تو ظہار ہو جائے گا، لیکن اس ظہار کی انتہا کس طرح ہو سکتی ہے؟ وہ کفارہ دے دے۔ لیکن اور کفارہ تو آپ جانتے ہیں، وہ من وجہ عبادت ہے اور من وجہ عقوبت ہے۔ اس میں عبادت کا بھی پہلو اور اس میں سزا کا بھی پہلو ہے۔ تو لہذا مسلمان کے ظہار کی تو انتہا ہو جاتی ہے کس پر؟ کفارے پر، لیکن کافر وہ تو عبادت کا اہل ہی نہیں ہے، لہذا اس کا ظہار وہ مؤبد ہو جائے گا، ہمیشہ کے لیے ہو جائے گا۔ وہ تو کفارہ دے ہی نہیں سکتا، اہل ہی نہیں ہے اس کا۔ تو دیکھو، مسلمان کے اندر جو ظہار تھا وہ اور تھا، کافر کے اندر جو ظہار آیا وہ اور ہے، لہذا حکم بدل گیا اور ہم نے کیا کہا تھا؟ کہ قیاس کے ذریعے شرعی حکم بدلنا نہیں چاہیے، جس طرح اصل میں تھا اسی طرح کس میں ہونا چاہیے؟ فرع میں، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو کہتے ہیں قیاس صحیح نہیں ہوگا لِصِحَّۃِ ظِہَارِ الذِّمِّیِّ، ذمی کے ظہار کے صحیح ہونے کے لیے۔ تَفْرِیعٌ عَلَى الشَّرْطِ الثَّانِی، یہ تفریع ہے دوسری شرط پر۔ أَیْ لَا یَسْتَقِیمُ التَّعْلِیلُ لِصِحَّۃِ ظِہَارِ الذِّمِّیِّ، تعلیل صحیح نہیں ہوگی ذمی کے ظہار کے صحیح ہونے کے لیے، کَمَا عَلَّلَ لَہُ الشَّافِعِیُّ رحمہ اللہ، جیسے کہ تعلیل کی ہے امام شافعی رحمہ اللہ نے۔ فَیَقُولُ، پس وہ فرماتے ہیں: إِ نَّہُ یَصِحُّ طَلَاقُہُ، کہ ذمی جو ہے اس کی طلاق صحیح ہے، فَیَصِحُّ ظِہَارُہُ، تو اس کا ظہار بھی صحیح ہوگا، کَالْمُسْلِمِ، مسلمان کی طرح، إِذْ لَمْ یُوجَدِ الشَّرْطُ الثَّانِی، کیونکہ دوسری شرط نہیں پائی گئی بھئی۔ ہم نے کیا کہا؟ یہ علت بیان کر رہے ہیں کس کی علت؟ اوپر والی سطر میں آیا نا لَا یَسْتَقِیمُ التَّعْلِیلُ، یہ تعلیل صحیح نہیں، إِذْ لَمْ یُوجَدِ الشَّرْطُ الثَّانِی، کیونکہ یہاں پر دوسری شرط نہیں پائی گئی، وَہُوَ تَأْدِیَۃُ الْحُکْمِ بِعَیْنِہِ، اور وہ کیا تھی؟ وہ بعینہٖ اسی حکم کو متعدی کرنا، لِکَوْنِہِ، أَیْ لِکَوْنِ ہَذَا التَّعْلِیلِ تَغْیِیرًا، اس لیے کیونکہ یہ تعلیل بدلنے والی ہے لِلْحُرْمَۃِ الْمُتَنَاہِیَۃِ بِالْکَفَّارَۃِ، اس حرمت کو جس کی انتہا کس سے ہوتی ہے؟ کفارے سے، فِی الْأَصْلِ، کس میں؟ اصل میں، وَہُوَ الْمُسْلِمُ، اور وہ مسلمان ہے، یعنی مقیس علیہ، اس میں۔ تو مسلمان ہوا مقیس علیہ اور ذمی کیا ہوا؟ مقیس۔ تو مسلمان میں تو حرمت کی انتہا کفارے کے ذریعے ہو جاتی ہے کفارے کے ذریعے، إِلَى إِطْلَاقِہَا، یہ اس کا تعلق تغییر سے ہے، کس سے ہے؟ لِکَوْنِہِ تَغْیِیرًا إِلَى إِطْلَاقِہَا، کیونکہ یہ تعلیل یہ بدلنا ہے اس حرمت متناہیہ کو کس کی طرف بدلنا ہے؟ إِلَى إِطْلَاقِہَا فِی الْفَرْعِ عَنِ الْغَایَۃِ، اس کے مطلق ہونے کی طرف، کس کے مطلق ہونے کی طرف؟ حرمت کے، حرمت کے وہ حرمت تھی متناہیہ اور یہ حرمت کون سی ہوگی؟ مطلق ہوگی، فِی الْفَرْعِ، کس میں؟ فرع میں، کس چیز سے مطلق ہوگی؟ عَنِ الْغَایَۃِ، انتہا سے۔ اس کی تو کوئی انتہا ہی نہیں ہوگی، یہ تو غایت سے اور انتہا سے کیا ہو جائے گی؟ مطلق ہو جائے گی بھئی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ تو عبارت بھی اچھی طرح سمجھ میں آگئی متن بھئی؟ لِکَوْنِہِ تَغْیِیرًا لِلْحُرْمَۃِ الْمُتَنَاہِیَۃِ بِالْکَفَّارَۃِ فِی الْأَصْلِ وَہُوَ الْمُسْلِمُ إِلَى إِطْلَاقِہَا فِی الْفَرْعِ عَنِ الْغَایَۃِ، اس لیے کیونکہ یہ تعلیل بدلنے والی ہے اس حرمت متناہیہ کو اس اطلاق کی طرف فرع میں، عَنِ الْغَایَۃِ، کس سے؟ انتہا سے، انتہا سے اطلاق کی طرف بدلنے والی ہے فرع میں۔ یعنی مطلق ہو گی عن الغایہ سے، مطلق عن الغایہ کی طرف بدل دے گی فرع میں اس حرمت کو۔ لِأَنَّ ظِہَارَ الْمُسْلِمِ یَنْتَہِی بِالْکَفَّارَۃِ، اس لیے کیونکہ مسلمان کا ظہار اس کی انتہا ہو جاتی ہے کفارے کے ذریعے، وَظِہَارَ الذِّمِّیِّ یَکُونُ مُؤَبَّدًا، اور ذمی کا ظہار مؤبد ہوگا، ہمیشہ کے لیے ہوگا، إِذْ لَیْسَ ہُوَ أَہْلًا لِلْکَفَّارَۃِ، اس لیے کیونکہ وہ کفارے کا اہل ہی نہیں ہے، وہ کفارہ الَّتِی ہِیَ دَائِرَۃٌ بَیْنَ الْعِبَادَۃِ وَالْعُقُوبَۃِ، جو دائر ہے عبادت اور عقوبت کے درمیان، کیونکہ کفارہ من وجہ عبادت ہے تو من وجہ عقوبت ہے، سزا ہے بھئی۔
وَقِیلَ ہُوَ أَہْلٌ لِلتَّحْرِیرِ، بھئی کفارہ من وجہ سزا ہے من وجہ عبادت ہے۔ مثلاً کفارے کے طور پر روزے آگئے، اب روزے یہ آئے ہیں بطور سزا کے تو یہ سزا بھی ہے اور روزے یہ تو آپ روزے، یہ تو اللہ کا حکم ہے، تو بمعتبار یہ کیا ہے؟ عبادت بھی ہے، دونوں پہلو ہیں۔
وَقِیلَ ہُوَ أَہْلٌ لِلتَّحْرِیرِ، اچھا بھئی، ظہار کا کفارہ کیا ہے؟ ایک غلام یا باندی کو آزاد فَتَحْرِیرُ رَقَبَۃٍ، ایک غلام یا باندی کو آزاد کرے مِنْ قَبْلِ أَنْ یَتَمَاسَّا، باہم اختلاط یعنی صحبت کرنے سے پہلے۔ اگر یہ نہ پائے یا اس کی استطاعت نہ ہو تو پھر کیا ہے؟ پھر 60 روزے ہیں مسلسل۔ اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو پھر کیا کرے؟ 60 مسکینوں کو کھانا کھلائے اور وہ دو وقت کا ہوگا بھئی، ایک دن کی ان کی ضرورت پوری ہو جائے۔
اب یہ بعضوں نے کہا کہ بھئی، وہ تحریر کا، روزوں کا اہل تو نہیں لیکن روزوں سے پہلے تو کیا ہے کفارے میں؟ تحریر، آزاد کرنا۔ کافر تحریر کا اہل تو ہے، وہ غلام یا باندی آزاد کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ وہ آزاد تو کر سکتا ہے، وہ آزاد کرنے کا اہل تو ہے، تو جواب دیا کہ بھئی ٹھیک ہے، آزاد کرنے کا اہل ہے، لیکن مطلق آزادی نہیں ذکر قرآن کے اندر۔ قرآن کے اندر ایسی آزادی ذکر ہے جس کا خلیفہ روزے ہیں۔ جس کا خلیفہ روزے ہیں، یعنی کہ اگر تحریر نہ ہو سکے تو پھر کس طرف ہم جا سکیں؟ روزوں کی طرف، تو قرآن میں جو تحریر آئی وہ مطلق نہیں ہے بلکہ ایسی تحریر ذکر ہے جس کے خلیفہ روزے ہیں، اور کافر مطلق تحریر کا اہل تو ہے لیکن ایسی تحریر کا اہل نہیں جس کے خلیفہ کیا ہوں؟ روزے ہوں۔ لہذا معلوم ہوا یہ بھی وہ نہیں کر سکتا، ایسی تحریر تو وہ نہیں کر سکتا، ایسے طریقے پر تو آزاد نہیں کر سکتا کہ جس کے خلیفہ کیا ہوں؟ روزے ہوں بھئی۔
وَقِیلَ ہُوَ أَہْلٌ لِلتَّحْرِیرِ، اور کہا گیا ہے وہ تحریر یعنی آزاد کرنے کا اہل ہے، وَلَکِنْ لَیْسَ أَہْلًا لِلتَّحْرِیرِ الَّذِی یَخْلُفُہُ الصَّوْمُ، لیکن وہ اہل نہیں ہے ایسے آزاد کرنے کا کہ جس کے پیچھے روزے ہوں۔
وَلَا لِتَعْدِیَۃِ الْحُکْمِ مِنَ النَّاسِی فِی الْفِطْرِ إِلَى الْمُکْرَہِ وَالْخَاطِئِ لِأَنَّ عُذْرَہُمَا دُونَ عُذْرِہِ، اور تعلیل نہیں ہونی تعلیل درست نہیں ہوگی لِتَعْدِیَۃِ الْحُکْمِ، حکم کو متعدی کرنے کے لیے مِنَ النَّاسِی، ناسی سے فِی الْفِطْرِ، فطر میں روزہ توڑنے میں إِلَى الْمُکْرَہِ وَالْخَاطِئِ، کس کی طرف؟ مکرہ اور خاطئ، مکرہ جس پر زبردستی کی گئی، خاطئ جس نے غلطی سے کلی کرتے ہوئے حلق میں پانی چلا گیا، اور ناسی جس نے بھول کر کھا پی لیا اسے روزہ یاد ہی نہیں تھا، یاد ہی نہیں تھا۔ تو کہہ رہے ہیں یہ تعلیل بھی صحیح نہیں ہوگی حکم کو متعدی کرنے کے لیے ناسی سے فطر کے اندر إِلَى الْمُکْرَہِ وَالْخَاطِئِ، کس کی طرف مکرہ اور خاطئ کی طرف، لِأَنَّ عُذْرَہُمَا دُونَ عُذْرِہِ، اس لیے کیونکہ ان دونوں کا عذر یعنی مکرہ اور خاطئ کا عذر دُونَ عُذْرِہِ، وہ ناسی کے عذر سے کم ہے۔
تَفْرِیعٌ عَلَى الشَّرْطِ الثَّالِثِ، یہ تفریع ہے تیسری شرط پر، وَہُوَ کَوْنُ الْفَرْعِ نَظِیرًا لِلْأَصْلِ، اور وہ تیسری شرط کیا تھی؟ کہ فرع اصل کی نظیر ہو، اس سے کم نہ ہو۔ فَإِنَّ الشَّافِعِیَّ رحمہ اللہ یَقُولُ، پس امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لَمَّا عُذِرَ النَّاسِی مَعَ کَوْنِہِ عَامِدًا فِی نَفْسِ الْفِعْلِ، کہ جب معذور کہا گیا ناسی کو مَعَ کَوْنِہِ عَامِدًا، جب معذور ہوا ناسی مَعَ کَوْنِہِ عَامِدًا، یا یوں کہیں: لَمَّا عُذِرَ النَّاسِی، جب عذر قبول کیا گیا ناسی کا مَعَ کَوْنِہِ عَامِدًا، باوجود اس کے کہ وہ عامد ہے عمد، ارادہ ارادہ بھئی، عامد ارادہ کرنے والا، باوجود اس کے کہ وہ ارادہ کرنے والا ہے فِی نَفْسِ الْفِعْلِ، کس کے اندر؟ نفسِ فعل کے۔
بھئی روزہ جو بھولے سے بھولے سے اس لیے روزہ یاد نہیں، وہ کھا پی رہا ہے اور پھر بھی حدیث میں کیا آیا؟ کہ تم اپنے روزے کو مکمل کرو، تمہیں اللہ نے کھلایا اور اللہ نے پلایا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ناسی کا عذر قبول کیا گیا باوجود اس کے کہ وہ اپنے ارادے سے کھا رہا تھا، کس سے کھا رہا تھا؟ ارادے سے کھا رہا تھا اور اپنی رضا سے کھا رہا تھا، ہاں صرف روزہ یاد نہیں تھا لیکن کھا پی رہا ہے اپنے ارادے سے یا نہیں بھئی؟ باقاعدہ ارادے کے ساتھ وہ کھا پی رہا ہے، تو جب وہ عامد ہوا نفسِ فعل کے اندر یعنی ارادے کے ساتھ ارادہ کرنے والا ہے نفسِ فعل میں، جب اس کے عذر کو قبول کیا گیا، تو خاطئ اور مکرہ جو ہیں ان کے عذر کو بطریق اولیٰ قبول کرنا چاہیے، کیونکہ نفسِ فعل میں ان کا ارادہ نہیں۔
وہ نفسِ فعل میں ان کا ارادہ خاطئ، وہ بے چارہ تو کلی کر رہا تھا، اس کا تو ارادہ ہی نہیں تھا پانی پینے کا، وہ کچھ پانی اچانک احتیاط میں کمی کی تو حلق میں چلا گیا، اور مکرہ اس کا ارادہ تو اگرچہ ہے لیکن وہ راضی نہیں ہے اس کا، وہ دوسرے نے بندوق اٹھائی ہوئی ہے۔ تو جب عامد کا جب عامد کا عذر قبول ہے تو غیر عامد کا عذر بطریق اولیٰ قبول ہونا چاہیے، لہذا ان کا بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا بھئی۔
ہم کہتے ہیں نہیں، ناسی کا عذر زیادہ، چنانچہ اس کا اسے تو روزے بے چارے کو یاد ہی نہیں ہے، اور چنانچہ اس کے عذر کی نسبت بھی اللہ کی طرف پھر کی جاتی ہے، حدیث میں کیا آیا؟ اسے اللہ نے کھلایا، یہ نسیان اس پر کس نے طاری کیا تھا؟ اللہ نے، تو اسی لیے اس نسبت کی گئی کہ اللہ نے تمہیں کھلایا، اللہ نے پلایا۔ جبکہ یہاں پر جو غلطی سے جس کے حلق میں پانی چلا گیا ہے یا جس پر دوسرے نے تلوار اٹھائی وہ جو مکرہ ہے، ان کے کھانے پینے کی نسبت اللہ کی طرف نہیں ہوتی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو اس کا عذر ان سے کم ہے بھئی۔
تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لَمَّا عُذِرَ النَّاسِی مَعَ کَوْنِہِ عَامِدًا فِی نَفْسِ الْفِعْلِ، جب ناسی کے عذر کو قبول کیا گیا باوجود اس کے کہ وہ نفسِ فعل کے اندر ارادہ کرنے والا تھا، فَلَأَنْ یُعْذَرَ الْخَاطِئُ وَالْمُکْرَہُ، پس یہ کہ عذر قبول کیا جائے خاطئ اور مکرہ کا، تو خاطئ اور مکرہ کا عذر قبول کرنا آگے آ رہا ہے چند لفظوں کے بعد، أَوْلَى، یہ کیا ہے؟ اولیٰ، بطریق اولیٰ ہوگا۔ جب ناسی کے عذر کو قبول کیا گیا تو ان کے عذر کو قبول کرنا بطریق اولیٰ ہوگا۔ اور درمیان میں یہ ذکر کیا کہ وَہُمَا لَیْسَا بِعَامِدَیْنِ فِی نَفْسِ الْفِعْلِ، حال یہ ہے کہ یہ دونوں نفسِ فعل میں عامد نہیں ہیں بھئی، وہ تو عامد تھا اپنے ارادے کے ساتھ کھا پی رہا تھا، سمجھ میں آئی بات بھئی؟
یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل بھئی، ان کا قیاس۔ وَنَحْنُ نَقُولُ، اور ہم کہتے ہیں: إِنَّ عُذْرَہُمَا دُونَ عُذْرِہِ، ان دونوں کا عذر اس ناسی کے عذر سے کم ہے، فَإِنَّ النِّسْیَانَ یَقَعُ بِلَا اخْتِیَارٍ، اس لیے کیونکہ یہ بھول چوک جو ہے یہ بغیر اختیار کے واقع ہوتی ہے، وَہُوَ مَنْسُوبٌ إِلَى صَاحِبِ الْحَقِّ، اور یہ منسوب ہے کس کی طرف؟ صاحبِ حق۔ روزے کا حقدار کون؟ اللہ تعالیٰ بھئی، تو یہاں نسیان کی نسبت کس کی طرف ہے؟ صاحبِ حق ہی کی طرف ہے جس کا یہ روزہ ہے، اسی کی طرف نسیان کی نسبت بھی ہے کہ یہ اس کی طرف سے ہے بھئی۔
اسی نے کھلایا پلایا، اسی کی طرف نسبت کی گئی ہے یا نہیں کی گئی؟ صاحبِ حق ہی کی طرف۔ تو کہتے ہیں یہ جو نسیان ہے یہ واقع ہوتا ہے بغیر اختیار کے، وَہُوَ مَنْسُوبٌ إِلَى صَاحِبِ الْحَقِّ، اور یہ منسوب ہے کس کی طرف؟ صاحبِ حق کی طرف کہ اسی نے کھلایا پلایا، وَفِعْلُ الْخَاطِئِ وَالْمُکْرَہِ مِنْ غَیْرِ صَاحِبِ الْحَقِّ، جبکہ خاطئ اور مکرہ کا فعل جو ہے وہ صاحبِ حق کے علاوہ کی طرف سے ہے صاحبِ حق کی طرف سے نہیں ہے یعنی اللہ کی طرف سے نہیں ہے، فَإِنَّ الْخَاطِئَ یَذْکُرُ الصَّوْمَ، پس خاطئ جو ہے وہ اس کو تو روزہ یاد ہے، وَلَکِنَّہُ یَقْصُرُ فِی الْإِحْتِیَاطِ فِی الْمَضْمَضَۃِ، لیکن اس نے کمی کی احتیاط کے اندر کلی کے اندر، حَتَّى دَخَلَ الْمَاءُ فِی حَلْقِہِ، یہاں تک کہ پانی اس کے حلق میں داخل ہو گیا، حلق لام ساکن ہے بھئی۔
وَالْمُکْرَہَ، فَإِنَّ الْخَاطِئَ اوپر آیا تھا اسی خاطئ پر عطف کر لیں۔ وَالْمُکْرَہَ أَکْرَہَہُ الْإِنْسَانُ وَأَلْجَأَہُ إِلَیْہِ، اور مکرہ جو ہے اس کو تو کسی انسان نے، اس انسان نے اس پر زبردستی کی ہے وَأَلْجَأَہُ إِلَیْہِ، اور اس کی طرف اس کو، اس کھانے پینے کی طرف اس کو مجبور کیا ہے، فَلَمْ یَکُنْ عُذْرُہُمَا کَعُذْرِ النَّاسِی، پس ان دونوں کا عذر ناسی کے عذر کی طرح نہیں ہے بھئی، فَیَفْسُدُ صَوْمُہُمَا، پس ان دونوں کا روزہ فاسد ہو جائے گا۔
وَقَدْ فَرَّعْنَاہُمَا فِیمَا سَبَقَ عَلَى کَوْنِ الْأَصْلِ مُخَالِفًا لِلْقِیَاسِ۔
جی، یہ ایک شبہے کا جواب دے رہے ہیں۔ شبہ یہ کہ یہ تو عجیب بات ہے، یہی مثال آپ نے دوسری شرط میں بھی ذکر کی تھی اور یہی مثال اب تیسری شرط کے اندر جو تیسری شرط تھی اس میں بھی ذکر کر رہے ہیں۔ پہلے دوسری شرط کیا؟
الرَّابِعُ، چوتھی شرط۔
اس سے پہلے تین شرطیں گزریں، کسی میں نہیں کہا پہلی شرط، یا دوسری شرط، یا تیسری شرط، پھر یہاں آ کر انہوں نے کیوں کہا یہ چوتھی شرط ہے؟
سوال سمجھ میں آیا ہے تیرا؟
تو آگے جواب دیں گے کہ بھئی وجہ یہ کہ تیسری شرط کے ضمن میں چار شرطیں آئی تھیں، تو کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ یہ اب ساتویں شرط ہے۔ وہ الگ الگ شرطیں نہیں تھیں، وہ جو تیسری کے ضمن میں آئیں وہ ایک ہی شرط تھی بھئی! تیسری شرط کتنی شرطوں پر مشتمل تھی؟ چار پر۔ تو وہ تیسری تھی اور یہ اب چوتھی ہے، اس کو ساتویں نہ سمجھ لینا بھئی!
تو کہتے ہیں: وَإِنَّمَا صَرَّحَ بِقَيْدِ الرَّابِعِ، ظاہر تصریح کی مصنف نے چوتھی قیدِ رابع کے ساتھ لِئَلَّا يُتَوَهَّمَ تاکہ کہیں یہ وہم نہ کیا جائے كَأَنَّ الشَّرْطَ الثَّالِثَ لَمَّا تَضَمَّنَ شُرُوطًا أَرْبَعَةً کہ جب تیسری شرط متضمن ہوئی چار شرطوں کو كَانَ هَذَا شَرْطًا سَابِعًا تو یہ ساتویں شرط ہوئی، تاکہ کہیں کوئی یہ وہم نہ کرے۔
فَأَطْلَقَ الرَّابِعَ تو مصنف نے رابع کا اطلاق کیا تَنْبِيهًا عَلَى اس بات پر تنبیہ کرنے کے لیے أَنَّهُ شَرْطٌ وَاحِدٌ کہ وہ تیسری ایک ہی شرط ہے جس میں چار شرطیں آئی تھیں۔
وَمَعْنَى بَقَاءِ حُكْمِ النَّصِّ، انہوں نے اوپر کہا نہ کہ أَنْ يَبْقَى حُكْمُ النَّصِّ باقی رہے نص کا حکم تعلیل کے بعد، اب وہ بتلا رہے ہیں: وَمَعْنَى بَقَاءِ حُكْمِ النَّصِّ اور حکمِ نص کے باقی رہنے کا معنیٰ یہ ہے أَنْ لَا يَتَغَيَّرَ کہ وہ بدلے نہ عَمَّا كَانَ عَلَيْهِ اس وصف سے جس پر وہ پہلے تھا سِوَى أَنَّهُ تَعَدَّى إِلَى الْفَرْعِ فَعَمَّ۔
سوائے اس کے کہ وہ متعدی ہو گیا فرع کی طرف بھی، فَعَمَّ پس عام ہو گیا۔
بھئی، قیاس کی وجہ سے اصل کے حکم میں کوئی تبدیلی نہیں آنی چاہیے، جیسا تھا ویسا ہی رہنا چاہیے، سوائے اس تبدیلی کے کہ پہلے وہ صرف کس کا حکم تھا؟ اصل کا۔ اب قیاس کے بعد کس کا حکم بھی ہو گیا؟ فرع کا بھی ہو گیا۔ تو پہلے خاص تھا، اب عام ہو گیا، صرف یہ تبدیلی ہو، یہ تو ہر قیاس کے اندر ہو گا بھئی! تو اس کے علاوہ اور کوئی تبدیلی اس میں نہیں آنی چاہیے۔
وَإِنَّمَا خَصَّصْنَا الْقَلِيلَ مِنْ قَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: "لَا تَبِيعُوا الطَّعَامَ بِالطَّعَامِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ"۔
یہ ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں، سوالِ مقدر کا۔
سوال یہ، اعتراض یہ: کہ اے احناف! آپ نے ابھی چوتھی شرط ہمیں بتلائی، چوتھی شرط انہوں نے کیا ذکر کی؟ کہ قیاس کی وجہ سے اصل کے حکم میں کوئی تبدیلی نہیں آنی چاہیے، وہ جیسا پہلے تھا، بعد میں بھی اسی طرح رہنا چاہیے۔ لیکن ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ آپ کے قیاس کی وجہ سے اصل کے حکم میں تبدیلی آ گئی۔ آپ کے قیاس کی وجہ سے اصل کے حکم میں تبدیلی آ گئی، کس طرح؟ کہ حدیث میں آیا ہے: "لَا تَبِيعُوا الطَّعَامَ بِالطَّعَامِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ"، تم لوگ نہ بیچو گندم کو گندم کے بدلے، غلے کو غلے کے بدلے، إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ مگر برابر کے بدلے برابر۔
اب یہاں پر دیکھیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں: گندم کو گندم کے بدلے نہ بیچو، معلوم ہوا گندم کو گندم کے بدلے بیچنا حرام ہے، نہی آ گئی نہ؟ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، مگر برابری والی حالت کا استثنا کر دیا گیا۔ معلوم ہوا صرف برابری والی حالت میں گندم کے بدلے گندم کی بیع جائز ہے، باقی صورتوں میں جائز نہیں!
صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ تو یہ حدیث عام تھی، قلیل کو بھی شامل تھی، کثیر کو بھی۔
معلوم ہوا بھئی، کون سی حالت کا استثنا ہوا؟ برابری والی حالت کا۔ باقی صورتوں میں گندم کے بدلے گندم کی جتنی بیوع ہیں وہ کیا ہو جائیں، ہو گئیں؟ حرام ہو گئیں! چاہے وہ قلیل ہو، چاہے وہ کثیر، کوئی قید ہے حدیث کے اندر؟ نہیں! قلیل اور کثیر سب کو شامل ہے۔
لیکن آپ نے قیاس کے ذریعے اس سے قلیل کو نکال دیا اور کہا کہ یہ صرف کثیر کے بارے میں ہے۔ یہ حدیث کس کے بارے میں ہے صرف؟ کثیر کے بارے میں ہے، قلیل کے بارے میں نہیں! چنانچہ اسی وجہ سے آپ کہتے ہیں: ایک حفنہ کی بیع دو حفنہ کے بدلے میں جائز ہے، ایک مٹھی گندم کی بیع دو مٹھی گندم کے بدلے میں جائز ہے۔ پڑھا یا نہیں آپ نے پچھلے سبقوں میں؟
تو آپ نے دیکھیے قلیل کو نکال دیا، نص تو مطلق تھی، قلیل کو بھی شامل تھی، کثیر کو بھی، لیکن آپ نے قیاس کے ذریعے کس کو نکال دیا؟ قلیل کو نکال دیا، صرف حرمت میں کس صورت کو باقی رکھا؟ کثیر والی صورت کو باقی رکھا! تو دیکھیے آپ کے قیاس نے نص کے حکم کو اطلاق سے تقیید کی طرف بدل دیا۔ پہلے مطلق تھا حکم، اب مقید بن گیا اور یہ کس کی وجہ سے ہوا؟ آپ کے قیاس کی وجہ سے، کس طرح آپ کے قیاس کی وجہ سے ہوا؟ آپ نے قیاس کیا وہ حدیث کے اندر، الحنطة بالحنطة، حدیث کے اندر آپ نے قیاس کیا۔ اور وہاں آپ نے علت نکالی قدر اور جنس، اور قدر اور جنس کے اندر قدر سے کیا مراد ہے؟ کیل اور وزن۔ اور آپ نے کہا کہ مساوات چونکہ کیل کے ذریعے ہی ہو سکتی ہے، اور کسی چیز کے ذریعے تو مساوات نہیں ہو سکتی، تو لہذا آپ نے کہا جو کیل سے میں سے سے نیچے ہے، جو کیل کے اندر آتی ہی نہیں، یعنی قلیل، یعنی قلیل، تو مساوات کیل کے ذریعے ہوگی نا، تو جو کیل میں آتی ہی نہیں، جو کیل سے کم تر ہے، آپ نے کہا وہ اس حدیث میں داخل ہی نہیں، وہ محل ہی نہیں ہے، وہ مراد ہی نہیں ہے اس حدیث کے اندر بھئی! لہذا ان کے اندر بیع جائز ہے، ایک مٹھی کی گندم کی بیع دو مٹھی کے بدلے میں جائز ہے۔
اعتراض سمجھ میں آیا؟ کہ آپ کے قیاس کی وجہ سے کس میں تبدیلی آ گئی؟ نص کے حکم میں۔ نص تو مطلق تھی، لیکن آپ کے قیاس نے اس کو کیا بنا دیا؟ مقید۔ نص میں قلت اور کثرت کی کوئی قید نہیں تھی، لیکن آپ کہہ رہے ہیں قیاس کے بعد آپ نے کہا بھئی یہ صرف کثیر کے بارے میں ہے، قلیل کے بارے میں ہے ہی نہیں! اور کس طرح کہا آپ نے؟ آپ نے علت کیا نکالی؟ قدر اور جنس، اور قدر میں کیا آیا؟ کیل آیا، اور آپ نے بھی کہا مساوات کس کے ذریعے ہو سکتی ہے؟ کیل۔ جو کیل سے نیچے نیچے ہیں، وہ آپ نے کہا وہ داخل ہی نہیں حدیث کے اندر، کیونکہ مساوات کا ذکر آیا اور مساوات تو کیل کے ذریعے ہو سکتی ہے اور یہ چیزیں تو کیل میں آتی ہی نہیں، یہ تو کم ہیں اس سے بھئی! لہذا یہ اس میں داخل ہی نہیں۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ اعتراض ہوا، اب اس کا جواب دیں گے۔ جواب یہ دیں گے کہ بھئی، ایسے یہ آپ کا اعتراض درست نہیں، ہم نے یہ جو نص کے ان میں کو مقید کیا اور کہا صرف اس سے کثیر مراد ہے، یہ قیاس کی وجہ سے نہیں مقید کیا، نص خود اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ یہاں صرف کثیر ہی مراد ہے، قلیل مراد ہی نہیں۔ جواب سمجھ میں آیا؟ اب تفصیل آگے بیان کریں گے، دیکھیے بھئی:
وَإِنَّمَا خَصَّصْنَا الْقَلِيلَ، اور ہم نے تخصیص کی قلیل کی مِنْ قَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: "لَا تَبِيعُوا الطَّعَامَ بِالطَّعَامِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ"، تم نہ بیچو غلے کو غلے کے بدلے میں مگر برابر کے بدلے برابر، جَوَابُ سُؤَالٍ مُقَدَّرٍ، یہ جواب ہے ایک سوالِ مقدر کا، وَهُوَ اور وہ یہ: أَنَّكُمْ قُلْتُمْ کہ اے احناف! تم نے کہا ہے أَنْ لَا يَتَغَيَّرَ حُكْمُ الْأَصْلِ بَعْدَ التَّعْلِيلِ کہ اصل کا حکم بدلنا نہیں چاہیے تعلیل کے بعد، وَفِي قَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: "لَا تَبِيعُوا الطَّعَامَ بِالطَّعَامِ"، اور حضور علیہ السلام کے اس قول "لا تبيعوا الطعام بالطعام" اس حدیث کے اندر لَمَّا عَلَّلْتُمْ حُرْمَةَ الرِّبَا بِالْقَدْرِ وَالْجِنْسِ جب آپ نے علت نکالی، علت بیان کی حرمتِ ربوا کی قدر اور جنس کے ذریعے وَعَدَّيْتُمْ إِلَى غَيْرِ الطَّعَامِ اور اس کو آپ نے متعدی کیا طعام کے علاوہ کی طرف بھی فَقَدْ خَصَّصْتُمُ الْقَلِيلَ مِنَ النَّصِّ تو تحقیق آپ نے تخصیص کر دی قلیل کی نص سے الدَّالِّ عَلَى حُرْمَةِ الرِّبَا فِي الْقَلِيلِ وَالْكَثِيرِ جو دلالت کر رہی تھی ربوا کی حرمت پر قلیل اور کثیر دونوں میں، آپ نے اس کو کس کے ساتھ تخصیص کر دی، کس کی تخصیص کر دی نص میں سے؟ قلیل کی، ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟
وَأَقْصَرْتُمْ حُرْمَةَ الرِّبَا عَلَى الْكَثِيرِ، اور آپ نے بند کر دیا حرمتِ ربوا کو کثیر پر فقط، صرف کثیر پر، فَأَجَابَ تو جواب دیا مصنف نے: بِأَنَّا إِنَّمَا خَصَّصْنَا الْقَلِيلَ مِنْ هَذَا النَّصِّ کہ ہم نے قلیل کی تخصیص کی ہے اس نص سے لِأَنَّ اسْتِثْنَاءَ أَحَالَتِ التَّسَاوِي دَلَّ عَلَى عُمُومِ صَدْرِهِ فِي الْأَحْوَالِ۔
بھئی دیکھیے، یاد رکھیے استثنا میں اصل ہے مستثنیٰ متصل، استثنا میں اصل کیا ہے؟ مستثنیٰ متصل بھئی، کہ اور مستثنیٰ متصل کسے کہتے ہیں؟ جو پہلے ماقبل میں داخل ہو اور پھر الا کے ذریعے اس کو نکال دیا جائے۔ جبکہ مستثنیٰ کی دوسری قسم مستثنیٰ منقطع ہے جو پہلے داخل ہی نہ ہو ماقبل کے اندر بھئی! اور یہ دراصل استثنا ہے ہی نہیں، مستثنیٰ ہے ہی نہیں یہ جو مستثنیٰ منقطع ہے، اس کو مجازاً مستثنیٰ کہا جاتا ہے، حقیقت میں تو یہ مستثنیٰ ہے ہی نہیں، کیونکہ مستثنیٰ تو اس کو کہتے ہیں جو پہلے داخل تھا پھر اس کو نکال لیا گیا، یہ تو پہلے داخل ہی نہیں تھا، تو اس کو مجازاً مستثنیٰ کہا جاتا ہے۔
اب یہاں پر جو حدیث میں آیا، حدیث کیا ہے؟ "لَا تَبِيعُوا الطَّعَامَ بِالطَّعَامِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ"، تم لوگ نہ بیچو گندم کو گندم کے بدلے میں إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ مگر برابری کی حالت میں، مگر کس حالت میں؟ برابری۔ تو دیکھیے الا کے بعد ذکر ہے برابری، اور برابری حالت کا نام ہے، کس چیز کا نام ہے؟ حالت کا نام ہے نا، وصف کا نام ہے، ایک حالت ہے، اور ماقبل میں الا سے پہلے صرف گندم کا ذکر ہے، اور گندم وہ وصف ہے یا ذات ہے؟ گندم تو ذات کا نام ہے، تو ماقبل میں ذکر ہے ذات، اور الا کے مابعد ذکر ہے وصف، تو لہذا یا تو ماقبل میں کچھ عبارت محذوف نکالنا پڑے گی، یا مابعد میں کچھ عبارت محذوف نکالنا پڑے گی، تاکہ مستثنیٰ متصل صحیح ہو جائے، کیونکہ استثنا ذات کا ذات سے ہو سکتا ہے یا وصف کا حالت کا حالت سے ہو سکتا ہے، ذات سے تو حالت کا استثنا نہیں، تو ماقبل میں تو ہے ذات، گندم کا ذکر ہے، گندم ذات کا نام ہے، اور مابعد میں برابری کا ذکر ہے اور برابری حالت کا نام ہے، تو چنانچہ امام شافعی رحمہ اللہ مابعد میں کیا کرتے ہیں؟ محذوف عبارت مان نکالتے ہیں، اور ہم ہم ماقبل کے اندر محذوف عبارت نکالتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ اصل میں یوں ہے: "لَا تَبِيعُوا الطَّعَامَ بِالطَّعَامِ إِلَّا طَعَامًا مُسَاوِيًا بِطَعَامٍ مُسَاوٍ"، یہ سواءً کو کس کی صفت بنا دیا؟ طعام کی صفت بنا دیا، إِلَّا طَعَامًا مُسَاوِيًا بِطَعَامٍ مُسَاوٍ، تو اس سے پہلے کیا لفظِ موصوف نکالا؟ طعام، اب دیکھیے دونوں طرف ایک ہی جنس ہو گئے، ماقبل میں بھی ذات طعام، مابعد میں بھی طعام، اب یہ مستثنیٰ متصل صحیح ہوا۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
ہم کہتے ہیں کہ زیادہ شائع اور شائع جو ہے وہ مستثنیٰ منہ کا حذف جائز ہے، مستثنیٰ کا حذف شائع اور شائع اتنا نہیں، تو ہم ماقبل کے اندر محذوف نکالتے ہیں، اور یوں عبارت کہتے ہیں کہ یوں ہے اصل میں عبارت: "لَا تَبِيعُوا الطَّعَامَ بِالطَّعَامِ فِي حَالٍ مِنَ الْأَحْوَالِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ"، فِي حَالٍ مِنَ الْأَحْوَالِ، گندم کو گندم کے بدلے نہ بیچو فِي حَالٍ مِنَ الْأَحْوَالِ، احوال میں سے کسی بھی حال کے اندر گندم کو گندم کے بدلے نہ بیچو إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ مگر برابری کی حالت میں بیچو بھئی! صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ہم نے مستثنیٰ منہ کو محذوف نکالا بھئی، کیونکہ مستثنیٰ منہ کا حذف شائع اور رائج ہے بھئی! اور امام شافعی رحمہ اللہ نے کہاں حذف مانا؟ مستثنیٰ کے اندر حذف مانا بھئی۔
معلوم ہوا کہ ماقبل میں مستثنیٰ منہ وہ احوال محذوف ہیں بھئی، اور ان میں سے ایک حال کا استثنا کر دیا گیا الا سواءً بسواءٍ کے ذریعے، مستثنیٰ مستثنیٰ منہ بھئی جو ماقبل میں داخل تھا پھر نکال دیا گیا، اور مابعد میں کیا ذکر ہے؟ حالت ذکر ہے، تو ماقبل میں بھی کیا ذکر ہم نے مان لی؟ حالتیں، اور حالتیں تین ہی ہیں بھئی، یا برابری کی حالت ہے، یا تفاضل والی حالت ہے ایک زیادہ ہو ایک کم ہو، یا اندازے ایک اندازہ ہے مجازفۃ بھئی، حالتیں کتنی ہیں؟ تین ہی حالتیں ہیں: تساوی، تفاضل، اور مجازفۃ۔ تساوی، تفاضل، اور مجازفۃ۔
اور یہ تینوں کثیر کی حالتیں ہیں، کس کی حالتیں ہیں؟ عموماً لوگ جو بیع و شراء کرتے ہیں تساوی بھی کر لیتے ہیں غلے میں، تفاضل بھی کر لیتے ہیں، یا اندازے سے بھی بیچ لیتے ہیں، لیکن یہ کس کی حالتیں ہیں، قلیل کی یا کثیر کی؟ کثیر کی، یہ عام رائج ہیں اور تو یہ کثیر کی حالتیں ہیں، قلیل کی حالتیں ہی نہیں ہیں! معلوم ہوا یہ حدیث کثیر سے متعلق ہے، قلیل سے متعلق ہے ہی نہیں! لہذا ایک مٹھی کے بدلے دو مٹھی گندم کو بیچا جائے تو حدیث میں تو اس کا ذکر ہی نہیں ہے، حدیث میں تو صرف کون سی صورتیں ذکر ہو رہی ہیں؟ کثیر کے احوال ذکر ہو رہے ہیں، کہ کثیر کے کئی احوال ہیں، ان میں سے صرف اس حالت میں جب برابری ہو تب بیچنا جائز ہے، اور کسی حالت میں بیچنا جائز نہیں، تو حدیث میں صرف کون سی حالتوں کا ذکر ہے؟ کثیر کی حالتوں کا ذکر ہے، قلت والی حالتوں کا ذکر ہی نہیں، اور ہم نے بھی یہی کہا، تو یہ حدیث ہی سے ثابت، حدیث ہی اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ یہاں کثیر والی حالتیں مراد ہیں، قلیل والی حالتیں مراد نہیں۔ اور کثیر کس طرح ہم نے بتلایا؟
کیونکہ بھئی تین ہی حالتیں ہیں، ان حالتوں میں لوگ ان تینوں طرح بیع وہ کرتے ہیں، لیکن یہ حالتیں کس کی ہیں؟ رائج کس طرح ہے، لوگ کس کون سی بیع کرتے ہیں یہ والی بیوع بھئی؟ تساوی، تفاضل، مجازفۃ، تینوں طرح لوگ بیع بیوع کرتے ہیں لیکن کس میں کرتے ہیں، کثیر میں یا قلیل میں؟ کثیر میں کرتے ہیں، یہ رائج اور شائع ہیں عرف کے اندر، لوگوں کے اندر، یہ کثیر کے اندر یہ حالتیں رائج ہیں بھئی! صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
یا یوں کہیں، یوں کہیں کہ تساوی تو بالاجماع کثیر کی حالت ہے۔ تساوی تو کس کی حالت ہے؟ برابری کس کے ذریعے ہوگی؟ بالاجماع برابری کیل کے ذریعے مراد ہے۔ برابری کس کے ذریعے مراد ہے؟ برابری کیل کے ذریعے ہوگی نا، پیمانے کے ذریعے ہوگی یا ہاتھوں کے ذریعے برابری ہوگی؟ برابری تو ہمیشہ پیمانے کے ذریعے ہوا کرتی ہے، تو برابری بالکیل کے ذریعے مراد ہے بالاجماع، اور وہ کس میں ہوتی ہے؟ برابری کیل کے ذریعے کثیر میں ہوتی ہے یا قلیل میں؟ کثیر میں ہوتی ہے، لہذا قلیل اس کے کے ذکر ہی نہیں ہے حدیث میں۔ یہ اسی طرح ہے، جیسے کسی کو کہا جائے کہ بھئی کسی جانور کو قتل نہ کرنا مگر چھری سے۔
کسی لا تقتل الحیوان إلا بالسکین، کسی جانور کو قتل نہ کرنا مگر چھری سے، کیا معنیٰ ہے؟ یعنی ایسا جانور جس کو چھری سے قتل کیا جاتا ہو اس قسم کے جانور کو بغیر چھری کے قتل نہ کرنا، ہر جانور مراد ہی نہیں ہے، لہذا مچھر، کھٹمل، جوئیں، یہ محل ہی نہیں ہے اس نہی کا بھئی! ان کو تو سمجھ میں آ گئی بات؟ تو وہ محل ہی نہیں ہے اس کا، تو یہاں پر بھی جن میں برابر
پہار جانور مراد ہی نہیں ہے۔ لہٰذا مچھر، کھٹمل، جوئیں یہ محل ہی نہیں ہے اس نہی کا بھئی۔ ان کو تو سمجھ میں آ گئی بات؟ تو وہ محل ہی نہیں ہے اس کا۔ تو یہاں پر بھی جن میں برابری کس کے ذریعے ہوتی ہے؟ کیل کے ذریعے اور کیل کے ذریعے برابری قلیل میں ہوتی ہے یا کثیر میں؟ کثیر میں ہوتی ہے قلیل میں تو کیل کے ذریعے برابری نہیں کیونکہ کم سے کم کیل وہ مقدار جو شرعاً معتبر ہے وہ کتنی ہے؟ نصف صاع ہے۔ اس سے کم کی بات ہی نہیں حدیث کے اندر۔ نصف صاع یا اس سے زیادہ کی بات ہو رہی ہے بھئی۔
لِأَنَّ اسْتِثْنَاءَ حَالَةِ التَّسَاوِي، اس لیے کہ برابری کی حالت کا استثناء، دَلَّ یہ دلالت کرتا ہے، عَلَى عُمُومِ صَدْرِهِ فِي الْأَحْوَالِ، اس کے صدر یعنی شروع، شروعِ صدرِ کلام جو ہے، یعنی شروع جو ہے اس کے عموم پر دلالت کرتا ہے۔ تساوی کی حالت کا، بھئی ہم نے کس کو مستثنیٰ منہ کیا نکالا؟ احوال۔ کس وجہ سے؟ کیونکہ استثناء حالت کا کیا جا رہا ہے، تو مستثنیٰ منہ بھی کیا ہونے چاہئیں؟ احوال ہونے چاہئیں۔ یہ معنیٰ ہے لِأَنَّ اسْتِثْنَاءَ حَالَةِ التَّسَاوِي، تساوی کی حالت کا استثناء دَلَّ عَلَى عُمُومِ صَدْرِهِ فِي الْأَحْوَالِ، یہ دلالت کرتا ہے اپنے صدر کے عموم پر فِي الْأَحْوَالِ کس کے اندر؟ احوال پر۔ صدر کون؟ یعنی مستثنیٰ منہ۔ مستثنیٰ منہ کے عموم پر دلالت کرتا ہے احوال کے اندر۔ وَلَنْ يَثْبُتَ ذَلِكَ إِلَّا فِي الْكَثِيرِ، اور یہ ثابت نہیں ہے مگر کس کے اندر؟ کثیر کے اندر ہی۔
یعنی اَنَّ الْمُسَاوَاةَ مَصْدَرٌ، اب پوری تشریح کریں گے شارح۔ یعنی کہ مساوات مصدر ہے، وَقَدْ وَقَعَ مُسْتَثْنًى مِنَ الطَّعَامِ فِي، یہ بھئی حدیث میں تو سَوَاءً آیا ہے، یہ سَوَاءً بھی یاد رکھیے مصدر ہے بمعنیٰ مساوات کے۔ یعنی اَنَّ الْمُسَاوَاةَ مَصْدَرٌ، مساوات مصدر ہے، وَقَدْ وَقَعَ مُسْتَثْنًى مِنَ الطَّعَامِ فِي الظَّاهِرِ، اور یہ تحقیق مستثنیٰ واقع ہوا ہے طعام سے ظاہرِ حدیث میں، وَلَا يَصْلُحُ أَنْ يَكُونَ مُسْتَثْنًى مِنْهُ فِي الْحَقِيقَةِ، اور یہ تو حقیقت میں اس سے مستثنیٰ منہ نہیں اہ اہ اس سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا حقیقت کے اندر، فَلَا بُدَّ مِنْ تَأْوِيلٍ فِي أَحَدِهِمَا، پس ضروری ہے تاویل کرنا ان دونوں میں سے کسی ایک کے اندر۔ کن دونوں میں؟ یا مستثنیٰ میں یا مستثنیٰ منہ میں۔ فَالشَّافِعِيُّ رحمه الله يُأَوِّلُ فِي الْمُسْتَثْنَى، پس امام شافعی رحمہ اللہ تاویل کرتے ہیں مستثنیٰ کے اندر۔ وَيَقُولُ، اور وہ فرماتے ہیں معنیٰ اس کا معنیٰ حدیث کا یہ ہے، لَا تَبِيعُوا الطَّعَامَ بِالطَّعَامِ إِلَّا طَعَامًا مُسَاوِيًا بِطَعَامٍ مُسَاوٍ، تو وہ اہ مستثنیٰ کے اندر تاویل کرتے ہیں۔ فَطَعَامُ الْمُسَاوِي بِالْمُسَاوِي صَارَ حَلَالًا، پس مساوی طعام کے بدلے مساوی طعام یہ حلال ہو گیا، وَمَا سِوَاهُ كُلُّهُ يَبْقَى حَرَامًا، اور اس کے سوا باقی سارا کا سارا حرام باقی رہا، وَمَا سِوَاهُ كُلُّهُ، اور اس کے علاوہ سب کا سب، يَبْقَى حَرَامًا، وہ حرام باقی رہا۔ فَبَيْعُ الْحَفْنَةِ بِالْحَفْنَةِ وَكَذَا بِالْحَفْنَتَيْنِ دَاخِلٌ تَحْتَ الْحُرْمَةِ، پس ایک مٹھی کی بیع دو مٹھی ایک مٹھی کی بیع ایک مٹھی کے بدلے میں وَكَذَا بِالْحَفْنَتَيْنِ اور اسی طرح ایک مٹھی کی بیع دو مٹھی کے بدلے میں دَاخِلٌ تَحْتَ الْحُرْمَةِ، یہ داخل ہے کس کے تحت؟ حرمت کے تحت، وَهِيَ الْأَصْلُ فِي الْأَشْيَاءِ عِنْدَهُ، اور یہی یعنی حرمت ہی اصل ہے چیزوں میں ان کے نزدیک۔
یاد رکھیے ہمارے نزدیک اصل ہے چیزوں کے اندر اباحت، کہ وہ چیزیں مباح ہیں۔ حرمت کے لیے دلیل چاہیے۔ وہ کہتے ہیں چیزوں میں ہے اصل حرام ہونا، اباحت کے لیے کیا چاہیے؟ دلیل چاہیے۔ تو یاد رکھیے جو انہوں نے کہا کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک چیزوں میں اصل حرمت ہے، یاد رکھیے یہ صرف اموالِ ربویہ کے اندر بھئی، وہ چیزیں جن میں سود آتا ہے ان کے اندر ان امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اصل حرمت ہے۔ جبکہ باقی چیزوں میں ان کے نزدیک بھی ہماری طرح حلت اور اباحت اصل ہے بھئی۔ باقی چیزوں میں ان کے نزدیک بھی اصل کیا ہے؟ اباحت ہے، تو یہ جو حرمت ذکر ہوئی کہ ان کے نزدیک اصل حرمت ہے یہ کس کے اندر ہے؟ اموالِ ربویہ کے اندر جن میں ربوا ہو آتا ہے لازم بھئی۔
تو وہ کہتے ہیں کہ حدیث میں صرف کون سے اہ حدیث میں کیا آیا؟ لَا تَبِيعُوا الطَّعَامَ بِالطَّعَامِ، طعام کو طعام کے بدلے نہ بیچو۔ معلوم ہوا طعام کو طعام کے بدلے بیچنا جائز نہیں، حرام ہے۔ إِلَّا طَعَامًا مُسَاوِيًا بِطَعَامٍ مُسَاوٍ، صرف حرمت سے کس کو نکال دیا گیا؟ جہاں دونوں جانب سے طعام کیا ہو؟ مساوی ہو، صرف وہ حلال باقی سب صورتیں حرام۔ لہٰذا ایک مٹھی گندم کے بدلے، ایک مٹھی کے بدلے ایک ہی مٹھی کی بیع کریں۔ یہ کیا ہو گا؟ یہ بھی حرام، کیونکہ برابری پیمانے سے ہونی ہے، ہاتھوں سے نہیں برابری ہو سکتی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ایک مٹھی کے بدلے ایک مٹھی کی بیع ہو یہ بھی حرام، ایک مٹھی کے بدلے دو مٹھی کی بیع ہو یہ بھی حرام، کیونکہ برابری تو ہونی ہی کس سے ہے؟ کیل سے، صرف وہی حلال ہے اور باقی حلال ہیں ہی نہیں۔
وَنَحْنُ نُأَوِّلُ فِي الْمُسْتَثْنَى مِنْهُ، اور ہم تاویل کرتے ہیں مستثنیٰ منہ میں، وَنُقَدِّرُ هَكَذَا، اور مقدر نکالتے ہیں اس طرح بھئی، کہ لَا تَبِيعُوا الطَّعَامَ بِالطَّعَامِ، تم نہ بیچو طعام کو طعام کے بدلے میں، فِي حَالٍ مِنَ الْأَحْوَالِ، کسی بھی حال میں احوال میں سے، إِلَّا فِي حَالِ الْمُسَاوَاةِ، مگر برابری کی حالت میں، وَالْأَحْوَالُ ثَلَاثَةٌ، اور احوال تو تین ہیں، وَهِيَ الْمُسَاوَاةُ وَالْمُفَاضَلَةُ وَالْمُجَازَفَةُ، اور وہ تین احوال یہ ہیں بھئی: مساوات یعنی برابری، وَالْمُفَاضَلَةُ جس میں ایک میں زیادتی ہو زائد ہو دوسرے سے، وَالْمُجَازَفَةُ اور تیسرا اندازے سے، وَكُلُّهَا أَحْوَالُ الْكَثِيرِ، اور یہ سب کثیر کے احوال ہیں یعنی عام لوگ جو بیوع کرتے ہیں یہ مساوات، مفاضلہ اور مجازفہ کس کے اندر کرتے ہیں؟ کثیر میں کرتے ہیں۔ فَتَحِلُّ مِنْهُ الْمُسَاوَاةُ، پس اس میں سے مساوات تین احوال میں سے مساوات تو حلال ہے، وَتَحْرُمُ الْمُفَاضَلَةُ وَالْمُجَازَفَةُ، اور مفاضلہ اور مجازفہ یعنی اندازے سے جو بیچنا ہے اور زیادتی کے ساتھ یہ حرام ہے۔ وَالْقَلِيلُ غَيْرُ مُتَعَرَّضٍ بِهِ أَصْلًا، اور قلیل وہ تو غیر متعرض بہ ہے اصل سے ہی، یعنی اسے تو تعرض ہی نہیں کیا گیا حدیث میں، اس کے تو درپے ہی نہیں ہوا گیا، یعنی اس کے پیچھے ہی نہیں پڑا گیا، اس کو چھیڑا ہی نہیں گیا یوں کہیں۔ اس میں حدیث میں قلیل کو تو چھیڑا ہی نہیں گیا، ذکر ہی نہیں کیا گیا۔ لَا فِي الْمُسْتَثْنَى وَلَا فِي الْمُسْتَثْنَى مِنْهُ، نہ تو مستثنیٰ میں اور نہ مستثنیٰ منہ میں۔
فَبَقِيَ عَلَى الْأَصْلِ الَّذِي هُوَ الْإِبَاحَةُ، تو قلیل باقی رہا اپنی اصل پر جو کہ اباحت ہے۔ ہمارے نزدیک اصل کیا ہے؟ اباحت، اس کو تو ذکر ہی نہیں کیا گیا وہ اباحت پر باقی رہا۔ فَيَجُوزُ بَيْعُ الْحَفْنَةِ بِالْحَفْنَةِ، پس جائز ہے ایک مٹھی کی بیع ایک مٹھی کے بدلے، وَكَذَا بِالْحَفْنَتَيْنِ، اور اسی طرح ایک مٹھی کی بیع دو مٹھی کے بدلے بھی جائز ہے۔ لَا يُقَالُ، یہ نہ کہا جائے، یہ اعتراض اور ایک پھر اس کا جواب ذکر کریں گے۔ اعتراض یہ کہ بھئی قلت بھی تو ایک حال ہے، آپ نے مساوات، مجازفہ اور مفاضلہ کو تین احوال تو بنائے، قلت بھی تو ایک حال ہے؟ تو اس کو بھی تو ذکر کرنا چاہیے؟ تو جواب دیں گے کہ بھئی ٹھیک ہے یہ حال ہے، لیکن یہ عرف میں رائج نہیں ہے۔ عرف میں رائج نہیں ہے بھئی، یہ بعید حال آپ بنا رہے ہیں جو عرف میں رائج ہی نہیں ہے اور یہاں رائج کی بات ہو رہی ہے۔ تو لَا يُقَالُ یہ نہ کہا جائے، إِنَّ الْقِلَّةَ أَيْضًا حَالٌ، کہ قلت بھی ایک حال ہے، فَتَبْقَى فِي الْمُسْتَثْنَى مِنْهُ، تو یہ بھی مستثنیٰ منہ میں باقی رہا، پھر مساوات کا استثناء ہوا وہ حلال باقی سارے حرام، اور انہی میں سے ایک حال کیا تھا؟ قلت والی، تو وہ بھی حرام، فَتَكُونُ حَرَامًا، تو وہ حرام ہو گا۔ لِأَنَّا نَقُولُ، کیونکہ ہم یہ کہتے ہیں، إِنَّهَا حَالٌ بَعِيدٌ غَيْرُ مُتَدَاوَلٍ فِي الْعُرْفِ، یہ ایک بڑی دور یہ حال بڑا بعید ہے، رائج نہیں ہے عرف کے اندر، وَالْأَقْرَبُ بِالْمُسَاوَاةِ هُوَ الْحَالُ الَّتِي لِلْكَثِيرِ، اور زیادہ قریب مساوات کے وہ حال ہے جو کس میں ہے؟ کثیر میں ہے۔
بھئی مساوات کا استثناء کیا گیا نا، تو مساوات کے زیادہ قریب کون سے احوال ہیں؟ جو کثیر کے احوال ہیں، یعنی مجازفت اور مفاضلت بھئی، یہ کثیر کے احوال ہیں قلیل کے نہیں، لوگ عموماً یہ کثیر میں اس طرح کی بیوع کرتے ہیں۔ فَلَا يُرَادُ بِالْمُسْتَثْنَى مِنْهُ إِلَّا أَحْوَالُ الْكَثِيرِ، پس مراد نہیں ہے مستثنیٰ منہ سے مگر کثیر کے احوال، لَا الْقَلِيلُ، نہ کہ قلیل بھئی۔ فَصَارَ التَّغْيِيرُ بِالنَّصِّ، تو تبدیلی آئی کس کی وجہ سے؟ نص کی وجہ سے ہی آئی۔ بھئی نص کی وجہ سے کیسے آئی؟ بھئی بِدَلَالَةِ النَّصِّ، نص کی دلالت کی وجہ سے، نص نے اس پر دلالت کی کیونکہ یہ کثیر کے احوال ہیں۔ حَالَ كَوْنِهِ مُصَاحِبًا لِلتَّعْلِيلِ، اس حال میں کہ یہ نص مصاحب ہے، ساتھی ہے للتعللیل قیاس کے۔ اس حال میں کہ یہ نص مصاحب ہے کس کے؟ تعلیل یعنی قیاس کے۔ قیاس نے بھی یہی بات کی تھی، لیکن یہ بات آئی قیاس سے نہیں، آئی کہاں سے ہے؟ نص ہی سے ہے، تو قیاس سے بھی یہی بات آئی تو نص مصاحب ہو گئی کس کے؟ قیاس کے، دونوں سے یہی بات معلوم ہوئی کہ قلیل کا یہاں ذکر ہی نہیں ہے۔
یہ معنیٰ ہے حَالَ كَوْنِهِ مُصَاحِبًا لِلتَّعْلِيلِ، تو یہ تبدیلی نص کے ذریعے آئی اس حال میں کہ یہ نص مصاحب ہے کس کے؟ تعلیل یعنی قیاس کی، لَا بِهِ، أَيْ لَا بِالتَّعْلِيلِ، یہ تغییر تعلیل کے ذریعے نہیں آئی كَمَا ظَنَنْتُمْ، جیسا کہ آپ نے اے معترض گمان کیا بھئی۔ لَا بِهِ، یہ متن ہے یاد رکھیے بھئی۔ تعلیل کے ذریعے یہ نہیں، ہاں تعلیل اس کے موافق ہوئی۔ تعلیل بھی یہی تھی نا، ہم نے علت کیا نکالی؟ قدر اور جنس، اور قدر میں کیا آیا؟ کیل، اور معلوم ہوا مساوات کس کے ذریعے ہو گی؟ کیل کے ذریعے، اور جو کیل میں داخل ہی نہیں اس سے کم کم ہیں ہم نے کہا وہ حدیث میں ذکر ہی نہیں۔ لیکن یہی بات اس پر نص خود بھی دلالت کر رہی ہے، کیونکہ وہاں مساوات والی حالت ذکر ہوئی اور مساوات تو بالاجماع کس کے ذریعے ہو گی؟ کیل ہی کے ذریعے، ہاتھ وغیرہ کے ذریعے تو مساوات نہیں ہو سکتی، تو جب مساوات اور مساوات تو کیل ہی کے ذریعے ہو گی ہمیشہ بھئی، اور کیل کس میں ہو گا؟ کثیر میں ہی ہو گا، قلیل میں نہیں، معلوم ہوا مجازفہ اور مفاضلہ بھی کس کے احوال ہیں؟ کثیر، کیونکہ رائج ہی عام لوگوں میں یہ کثیر ہی کے احوال رائج ہیں قلیل میں نہیں بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الكلام۔