Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-025

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 13 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 9
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔25 ثم وصف القدرة بقوله تمكن بها العبد من أداء ما لزمه للإيماء إلى أن هذه القدرة ليست قدرة حقيقية يكون معها الفعل، وتكون علة له بلا تخلف. أحد بھئی! شرح کا یہ حصہ سمجھنے سے پہلے چند باتیں سمجھ لیں بھئی۔ بھئی دیکھیے! آپ جانتے ہیں انسان جو بھی نیک کام کرتا ہے وہ اللہ کی توفیق سے کرتا ہے۔ اللہ کی توفیق ہوئی تو وہ نیک کام کرے گا، اللہ کی طرف سے توفیق نہ ملی تو وہ نیک کام نہیں کر سکتا۔ تو یاد رکھیے! آپ جو بھی نیک افعال کریں، اس پر مغرور ہونے کی ضرورت نہیں ہے، تکبر دل میں نہیں آنا چاہیے کہ میں نے تو یہ نیک کام کیا ہے، یہ سارا اللہ جو ہیں، اللہ توفیق دیتے ہیں بھئی! اللہ کی توفیق سے ہوتا ہے جو بھی انسان نیک کام کرے، انسان کا اپنا اس کے اندر کوئی کمال نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو ہر لمحہ جو ہے انسان کو اپنا احتساب کرتے رہنا چاہیے اور اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے، دل میں نیکی پر ذرا بھی بڑائی نہیں آنی چاہیے بھئی۔ تو انسان جو بھی نیک کام کرتا ہے وہ اللہ کی توفیق سے کرتا ہے بھئی، اللہ کی توفیق ہے تو وہ نیک کام ہے، اگر اللہ کی توفیق شاملِ حال نہیں تو وہ نیک کام بھی نہیں کر سکتا بھئی۔ تو جب آپ کوئی نیک کام کرتے ہیں، آپ کہتے ہیں: یہ اللہ کی توفیق سے میں نے کیا، یعنی اللہ نے مجھے قدرت دی یہ کام کرنے کی۔ اللہ کی توفیق سے کیا، یعنی اللہ نے مجھے یہ کام کرنے کی توفیق دی، یہ کام کرنے کی قدرت دی۔ تو توفیق سے کیا مراد ہے؟ قدرت دی، اللہ نے کیا دے دی؟ قدرت دے دی بھئی وہ کام کرنے کی۔ اور توفیق اس وقت ہوتی ہے جب انسان کام کرتا ہے، جب تک نہیں کیا، معلوم ہوا توفیق نہیں ہے۔ مثلاً آپ کے ذمے ایک نماز باقی ہے، تو آپ وہ ابھی تک آپ نے مثلاً نہیں پڑھی، تو معلوم ہوا ابھی تک توفیق نہیں ہے۔ ہاں! جیسے ہی وہ کام کرنے لگے ہیں، معلوم ہوا کیا مل گئی ہے آپ کو؟ توفیق مل گئی ہے، معلوم ہوا اللہ نے آپ کو قدرت دے دی ہے، کیا دے دی ہے؟ قدرت دے دی ہے وہ کام کرنے کی بھئی، تو یہ توفیق بھی قدرت ہی ہے، کیا ہے؟ قدرت ہے مولانا۔ ہاں! تو جب آپ یہ کام، وہ کام نیکی کا شروع کرتے ہیں، معلوم ہوا آپ کو یہ توفیق ملی، یعنی قدرت مل گئی، کیا مل گئی؟ قدرت مل گئی، اس سے پہلے یہ قدرت نہیں تھی۔ تو معلوم ہوا یہ بھی ایک قدرت ہے کہ انسان یہ جو توفیق ہے، یہ بھی دراصل ایک قدرت ہے، اسے قدرتِ حقیقیہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ قدرتِ حقیقیہ کہتے ہیں، اور یہ کس وقت ہوتی ہے؟ فعل کے ساتھ ہی ہوتی ہے، کس کے؟ فعل، جب تک کیا نہیں، معلوم ہوا اس وقت تک توفیق بھی، ہاں! تو یہ بالکل فعل کے ساتھ ہوتی ہے، اور فعل کے لیے عللت ہوا کرتی ہے، کیا ہوتی ہے؟ فعل کے لیے عللت ہوتی ہے، یعنی جیسے ہی یہ قدرت ہوگی، فعل بھی پایا جائے گا، جیسے ہی یہ توفیق ہوگی، توفیق جیسے ہی ہوگی، کیا پایا جائے گا؟ وہ نیکی والا کام بھی پایا جائے گا، اگر توفیق نہیں تو وہ کام بھی، تو وہ توفیق جب بھی پائی گئی، اس کے ساتھ فعل کا پایا جانا ضروری ہے، تو وہ فعل کے ساتھ زمانے کے اعتبار سے، فعل کے ساتھ ہی ہوگی، جیسے ہی فعل ہو رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ کیا ہے؟ یہ قدرت بھی پائی جا رہی ہے، تو زمانے کے اعتبار سے، دونوں کا زمانہ کیا ہوگا؟ ایک ہوگا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ قدرت کیا ہوگی؟ فعل کے ساتھ ہوگی، یعنی فعل کا اور اس کا زمانہ کیا ہوگا؟ ایک ہی ہوگا، ایک ہی ہوگا۔ ہاں! اس قدرت، قدرت، یہ قدرت اپنی ذات کے اعتبار سے فعل پر مقدم ہے، زمانے کے اعتبار سے مقدم نہیں، زمانہ تو ایک ہی ہے، جس وقت فعل کر رہے ہیں، اس وقت یہ قدرت ہے، جب تک شروع نہیں کیا تھا، اس وقت تک یہ قدرت بھی، تو زمانہ تو دونوں کا ایک ہے، البتہ یہ قدرت علت ہے کس کے لیے؟ فعل کے لیے۔ جیسے علت کے پائے جانے سے معلول کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے، جیسے سورج کا نکلنا علت ہے کس کے لیے؟ دن کے لیے، جب بھی سورج نکلے گا، کیا پایا جائے گا؟ دن پایا جائے گا، تو یہ قدرت بھی علت ہے اس فعل کے لیے، جیسے ہی یہ قدرت پائی جائے گی، وہ فعل بھی پایا جائے گا، تو یہ قدرت علت ہے، اس کو تقدمِ ذاتی حاصل، زمانے کے اعتبار سے تو فعل کے ساتھ ہی ہے، لیکن ذات کے اعتبار سے یہ مقدم ہے، کیا ہے ذات کے اعتبار سے؟ اس کو سمجھنے کے لیے ایک مثال یاد رکھیے، جیسے چابی کا گھمانا علت ہے تالے کے کھلنے کے لیے۔ چابی کا گھمانا علت ہے تالے کے کھلنے کے لیے، لیکن آپ دیکھیں، دونوں کا زمانہ ایک ہی ہے، چابی بھئی چابی گھمائیں گے تو تالا کھلے گا، لیکن تو یہ چابی کا گھمانا یہ علت ہے کس کے لیے؟ تالے کے کھلنے کے لیے، لیکن دونوں کا زمانہ ایک ہی ہے، جوں جوں چابی گھومتی چلی جا رہی ہے، تالا بھی کھلتا چلا جا رہا ہے بھئی، تو زمانے کے اعتبار سے دونوں میں اتحاد ہے، البتہ چابی کے گھمانے کو ذات کے اعتبار سے کیا ہے؟ تالے کے کھلنے پر تقدم حاصل ہے، تو ذات کے اعتبار سے یہ مقدم ہے، البتہ زمانے کے اعتبار سے اس کے ساتھ ہی ہے بھئی، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ چابی کا گھمانا علت ہے تالے کے کھلنے کے لیے، لیکن یہ چابی کا گھمانا تالے کے کھلنے کے ساتھ ہی ہے بھئی، دونوں کا زمانہ کیا ہے؟ زمانے میں اتحاد ہے، زمانے میں اتحاد، البتہ چابی کا گھمانا اس کو تقدمِ ذاتی حاصل ہے کس پر؟ تالے کے کھلنے، یعنی ذات کے اعتبار سے یہ مقدم ہے، زمانے کے اعتبار سے مقدم نہیں، تو اسی طرح یہ توفیق بھی ذات کے اعتبار سے تو مقدم ہے، فعل کے اعتبار سے مقدم نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ توفیق ہے مولانا، یہ کیا ہے؟ اور اسی کو کیا کہتے ہیں؟ قدرتِ حقیقیہ بھی کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ قدرتِ حقیقیہ بھی کہتے ہیں۔ تو ایک تو یہ قدرت ہوئی، اور ایک قدرت یہ ہے کہ انسان کو ایک انسان کے پاس ایک چیز کے اسباب موجود ہیں، اس اسباب موجود ہیں، آلات موجود ہیں، اس کے اعضا صحیح ہیں، پھر آپ کہتے ہیں: یہ کام کرو، کیونکہ تمہارے اندر یہ کام کرنے کی قدرت ہے، کیونکہ سارے اسباب کیا موجود ہیں؟ اسباب بھی موجود، اعضا بھی سالم، آلات بھی موجود ہیں، تو ایک یہ قدرت ہے مولانا! جو کس معنی میں ہے؟ اسباب و آلات کے سلامت ہونے، اس کا معنی ہے اسباب و آلات کا سلامت ہونا، اعضا کا صحیح ہونا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ایک یہ قدرت ہے، اور ایک وہ قدرتِ حقیقیہ ہے مولانا، کیا ہے؟ قدرتِ حقیقیہ۔ تو اب شارح آپ کو بتلائیں گے کہ یہ جو متن میں قدرت کا لفظ آیا تھا، اس سے قدرتِ حقیقیہ مراد نہیں ہے، بلکہ یہ والی قدرت مراد ہے جو کس معنی میں ہے؟ آلات اور اسباب کی سلامتی اور اعضا کے صحیح ہونے کے ساتھ ہوا کرتی ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ والی قدرت مراد ہے، قدرتِ حقیقیہ مراد نہیں، اس لیے کہ شریعت کی طرف سے جب حکم آتا ہے، تو انسان کو ایک کام کا مکلف بنا دیا جاتا ہے، کیا بنا دیا جاتا ہے؟ یہ کام تمہیں کرنا پڑے گا، اور مکلف اسی صورت میں بنایا جاتا ہے جب انسان کے اندر اس کی قدرت بھی ہو، جب انسان کے اندر اس کی کیا ہو؟ قدرت ہوگی تو اس کو مکلف بنایا جائے گا، اگر قدرت ہی نہیں ہے تو وہ اس کام کا مکلف بھی نہیں، مثلاً دیکھو، نماز کا حکم آیا تو انسان مکلف ہوا، اب اسے کیا کرنا پڑے گی؟ نماز پڑھنا پڑے گی، لیکن حیض و نفاس کی حالت میں نماز پڑھنے کی قدرت ہی نہیں ہے، لہٰذا اس وقت وہ عورت نماز پڑھنے کی مکلف بھی نہیں، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو وہ مکلف بھی نہیں ہے، تو لہٰذا مکلف کب بنایا جائے گا؟ جب انسان میں کیا ہو؟ قدرت ہو، کون سی قدرت مراد ہے؟ کہتے ہیں: وہ قدرت، قدرتِ حقیقیہ نہیں مراد، بلکہ کون سی قدرت مراد ہے؟ وہ قدرت جو اسباب و آلات اور جوارح کی سلامتی کے ساتھ ہوتی ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اس لیے کہ قدرت ہوگی، وہ قدرت پہلے ہونی چاہیے، پھر مکلف بنایا جائے گا۔ وہ قدرت کیا ہے؟ قدرت پہلے ہوگی تو اس کو مکلف بنایا جائے گا، اگر قدرت ہی پہلے نہیں ہے تو وہ مکلف بھی نہیں ہے، اور کون سی قدرت پہلے ہوتی ہے؟ قدرتِ حقیقیہ پہلے ہوتی ہے یا قدرت، یہ والی قدرت مقدم ہوتی ہے فعل پر، یہ سلامتیِ اسباب والی؟ اسباب والی، وہ والی قدرت تو فعل کے ساتھ ہوتی ہے، اس سے پہلے ہے ہی نہیں، جب فعل کریں گے تو وہ قدرت ہے، وہ فعل نہیں کریں گے تو قدرتِ حقیقیہ بھی نہیں، تو وہ تو فعل کے ساتھ پائی جاتی ہے، فعل سے پہلے ہے ہی نہیں، لہٰذا جو مکلف بنانا ہے، یہ تکلیف جو دینا ہے، یہ مکلف بنانے کا سارا دار و مدار کون سی قدرت پر ہے؟ سلامتیِ اسباب والی اور سلامتیِ اعضا و جوارح والی قدرت مراد ہے، قدرتِ حقیقیہ مراد نہیں، کیونکہ وہ تو فعل پر مقدم ہی نہیں ہے بھئی، وہ تو کب پائی جاتی ہے؟ جب فعل پایا جاتا ہے، یہاں تک سب کو بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے بھئی! یہی بات کریں گے شرح میں۔ کہتے ہیں: ثم وصف القدرة پھر موصوف کیا قدرت کو مصنف نے بقوله اپنے اس قول کے ساتھ، دیکھیے! متن میں کیا آیا تھا، ذرا دوبارہ متن دیکھو: والقدرة التي يتمكن بها العبد من أداء ما لزمه وہ قدرت، دیکھو قدرت کی صفت لا رہے ہیں، وہ قدرت جس کے ذریعے قادر ہوتا ہے بندہ اس چیز کے ادا کرنے پر جو اس پر لازم ہوتی ہے، تو قدرت کی صفت بیان کی جس کے ذریعے بندہ کیا ہوتا ہے اس چیز کو ادا کرنے پر قادر ہوتا ہے جو اس پر لازم ہوتی ہے۔ یہ کیوں؟ اس کے ساتھ صفت کیوں بیان کی قدرت کی یہ؟ کہتے ہیں: اس لیے تاکہ اشارہ ہو جائے اس بات کی طرف کہ یہاں قدرتِ حقیقیہ مراد نہیں ہے، بلکہ کون سی قدرت مراد ہے؟ سلامتیِ اسباب و جوارح والی قدرت مراد ہے۔ کہتے ہیں: ثم وصف القدرة بقوله يتمكن بها العبد من أداء ما لزمه پھر موصوف کیا مصنف نے قدرت کو اپنے اس قول کے ذریعے کہ يتمكن بها العبد من أداء ما لزمه، اس کے ساتھ موصوف کیا للإيماء اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے إلى أن هذه القدرة ليست قدرة حقيقية کہ یہ قدرت جو ذکر کی گئی، یہ قدرتِ حقیقیہ وہ یہ وہ قدرتِ حقیقیہ نہیں ہے، يكون معها یہ قدرت کی صفت آ رہی ہے مولانا، وہ قدرتِ حقیقیہ يكون معها الفعل جس کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ فعل، یعنی اس میں زمانے میں اتحاد ہوتا ہے، وتكون علة له اور وہ قدرتِ حقیقیہ جو اس فعل کے لیے علت ہوتی ہے، بلا تخلف بغیر کسی تخلف، تخلف کے معنی پیچھے رہ جانا، بچھڑ جانا، تو وہ یہ والی قدرتِ حقیقیہ تو کب پائی جائے گی؟ جب فعل ہوگا، یہ تو اس فعل کے لیے علت ہے، یہ جب بھی قدرتِ حقیقیہ پائی جائے گی، فعل کا پایا جانا ضروری ہے بھئی! جب بھی چابی گھومے گی، تالے کا کھلنا ضروری، تو یہ بھی قدرت پائی ہی فعل کے ساتھ جائے گی، تو جب یہ قدرت پائی جائے گی، یعنی یہ توفیق پائی جائے گی، فعل کا پایا جانا ضروری ہے، تو یہ والی قدرتِ حقیقیہ بتا رہے ہیں یہ نہیں مراد جو فعل کے ساتھ ہوتی ہے اور فعل کے لیے علت ہوتی ہے بغیر اس سے جدا ہوئے، فإن ذلك ليس مدار التكليف اس لیے کہ یہ قدرت تکلیف کا مدار نہیں، یعنی مکلف بنانے کا مدار اس پر نہیں ہے، لأنه لا يكون سابقا على الفعل اس لیے کیونکہ یہ تو فعل پر مقدم ہی نہیں ہوتی، حتى يكلف بسببه الفاعل کہ پھر اس کی وجہ سے فاعل کو کیا کیا جائے؟ مکلف، بھئی فاعل کو مکلف کب بنائیں گے؟ جب پہلے سے اس میں قدرت ہو، پھر اس کو امر آئے گا، پھر امر آنے کے بعد وہ کیا کرے گا؟ مکلف ہوگا اور پھر اس فعل کو ادا کرے گا، پہلے سے اس میں کیا ہو؟ قدرت ہو، قدرت ہوگی تو پھر امر متوجہ ہوگا، جب امر متوجہ ہوگا تو پھر کیا کرے گا وہ؟ مکلف بنے گا، معلوم ہوا قدرت کیا ہونی چاہیے؟ فعل پر مقدم ہونی چاہیے، اور مقدم کون سی ہوتی ہے؟ وہ قدرت جو بمعنیٰ سلامتیِ اسباب و جوارح کے ہے مولانا، قدرتِ حقیقیہ تو مقدم ہی نہیں ہوتی۔ کہتے ہیں: یہ والی کیونکہ یہ قدرتِ حقیقیہ مکلف بنانے کا مدار نہیں ہے، لأنه لا يكون سابقا على الفعل اس لیے کیونکہ یہ تو فعل پر سابق ہی نہیں ہوتی، حتى يكلف بسببه الفاعل کہ پھر اس کے سبب سے کیا کیا جائے فاعل کو؟ مکلف بنایا جائے، بل المراد بها هاهنا هي القدرة التي بمعنى سلامة الأسباب والآلات وصحة الجوارح بلکہ قدرت یہ وہ قدرت ہے جو بمعنیٰ اسباب و آلات کی سلامتی کے ہے اور جوارح کی، جوارح یعنی اعضا، اعضا کی صحت کے ساتھ ہے، فإنها تتقدم على الفعل اس لیے کہ یہ والی قدرت کیا ہوتی ہے؟ فعل پر مقدم ہوتی ہے، وصحة التكليف إنما يعتمد على هذه الاستطاعة اور مکلف بنانے کا صحیح ہونا، مکلف بنانے کا صحیح ہونا، اس کا دار و مدار اس استطاعت پر ہے، اس کا اعتماد اس استطاعت، ہے تو پھر یہ مکلف بھی ہے، اس کو مکلف بنانا بھی صحیح ہے، اگر اس میں استطاعت ہی نہیں، قدرت ہی نہیں ہے، پھر تو مکلف بنانا بھی صحیح نہیں، تو یہ جو تکلیف کے صحیح ہونا ہے، یعنی مکلف بنانے کا صحیح ہونا ہے، اس کا اعتماد اس استطاعت پر ہے۔ تو کہتے ہیں: فقدرة التوضي حين وجدان الماء وإلا فالتيمم پس وضو کرنے کی قدرت حين وجدان الماء کس وقت ہوگی؟ پانی کے پائے جانے کے وقت میں ہوگی، یعنی پانی پایا جائے اور کوئی مانع بھی نہ ہو، وإلا فالتيمم ورنہ تیمم کیا ہوگا؟ وإلا فالتيمم خَلفُہ ورنہ تیمم کیا ہوگا اس کا؟ خلیفہ، نائب، قائم مقام ہوگا، وقدرة التوجه [إلى] القبلة حين عدم الخوف ووجود العلم وإلا فجهة القدرة أو التحري اور قبلے کی طرف، طرف متوجہ پر کی قدرت جو ہے جس وقت کوئی خوف بھی نہ ہو اور جس وقت علم بھی پایا جائے، قبلے کا پتہ بھی ہو، کوئی خوف بھی نہیں، دشمن بھی کوئی نہیں ہے یا کوئی درندہ وغیرہ اور علم بھی ہے، تو اس وقت جو ہے معلوم ہوا یہ قبلے کی طرف متوجہ ہونے پر قادر ہے، قدرت ہے، وإلا اور اگر ایسا نہ ہو، فجهة القدرة أو التحري ورنہ تو پھر قدرت کی جو جہت ہے، جس طرف بھئی دشمن ایک طرف، انسان اس طرف دوسری طرف رخ نہیں کر سکتا، اسی طرف رخ رکھنا پڑے گا کیونکہ اس طرف سے دشمن کے حملے کا خطرہ ہے، تو اس صورت میں جس سمت پر وہ قادر ہے منہ کرنے پر، یعنی دشمن کی سمت پر ہی قادر ہے، دوسری طرف منہ نہیں کر سکتا، تو اسی سمت پر کیا کر لے؟ نماز پڑھ لے، وہی اس کی جہتِ قبلہ ہو جائے گی، تو کہتے ہیں: وإلا اور اگر ایسا نہ ہو، یعنی علم بھی نہ ہو یا خوف ہو، فجهة القدرة تو کون سی جہت ہوگی؟ قدرت کی جہت، أو التحري یا تحری کی جو جہت ہے، تحری کہتے ہیں جستجو کرنا، یعنی غور و فکر کرنا، کوئی بتانے والا بھی نہیں ہے، ایسی جگہ پر ہے انسان تو خود پھر قبلے کا بھی پتہ نہیں ہے، تو پھر غور و فکر کر لے، جس طرف غالب گمان ہو جائے، اس طرف کیا کر لے؟ نماز پڑھ لے، تو یہ جہتِ تحری ہوئی، کیا ہوئی جہتِ تحری؟ تو تحری کا عطف قدرت پر ہے، وإلا فجهة القدرة أو جهة التحري ورنہ پھر قدرت کی جو جہت ہے یا تحری کی جو جہت ہے، قبلتہ وہ کیا ہوگا اس کا؟ وہی اس کا قبلہ ہوگا مولانا، جہتِ قبلہ ہوگی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو جہت القدرة، قدرت کی جہت، یہ اس کا تعلق خوف سے ہے، اور تحری اس کا تعلق کس سے ہے؟ علم سے ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ علم نہیں تو تحری کر لے، اور خوف ہے تو پھر جس سمت پر وہ قادر ہے۔ وقدرة القيام حين الصحة وإلا فالقعود أو الإيماء اور قیام کی قدرت جو ہے، نماز میں کھڑے ہونے کی قدرت حين الصحة وہ کس وقت ہوگی؟ صحت کے وقت ہوگی، وإلا اور اگر ایسا نہ ہو، فالقعود أو الإيماء خلفه ورنہ قعود اور بیٹھ کر بیٹھنا اور اشارے سے کرنا، یعنی اشارے سے نماز پڑھنا، یہ کیا ہوگا اس کا قائم مقام ہوگا، وقدرة الزكاة حين ملك النصاب اور زکوۃ کی قدرت جب نصاب کی ملکیت جس وقت ہوگی، وإلا فهو معفو ورنہ تو وہ کیا ہے؟ معاف ہے، وقدرة الصوم حين الصحة والإقامة اور روزے کی قدرت جس وقت کہ صحت اور اقامت ہوگی، اس وقت ہے، وإلا فالقضاء خلفه ورنہ قضا کیا ہے اس کا خلیفہ ہے، قائم مقام ہے، وقدرة الحج حين وجدان الزاد والراحلة وصحة الأعضاء وأمن الطريق وإلا فهو تطوع اور حج کی قدرت جس وقت کہ زاد، یعنی زاد راہ ہو یعنی سامان سفر ہو جس وقت کے زاد راہ یعنی توشہ وغیرہ پایا جائے والراحلة اور سواری پائی جائے وصحة الأعضاء اور جس وقت کیا ہوں اعضاء، صحت پائی جائے وأمن الطريق اور جس وقت راستے کا امن ہو تو اس وقت حج کی قدرت ہے وإلا فهو تطوع ورنہ وہ کیا ہے نفل ہے یعنی اس سے پہلے وہ فرض ہی نہیں ہوا بندے پر، وعلى هذا القياس اور اسی پر اسی طریقے پر قیاس ہے بھئی۔ یہاں تک سب کو بات سمجھ میں آگئی، ثم قسم هذه القدرة إلى المطلق والكامل پھر مصنف رحمہ اللہ نے تقسیم کی اس قدرت کی مطلق اور کامل کی طرف فقال تو فرماتے ہیں وهي نوعان یہ قدرت دو قسم پر ہے مطلق ایک تو کیا ہے؟ مطلق ہے۔ ایک اگلے صفحے پر آرہا ہے مولانا وکامل اور ایک کیا ہے؟ کامل ہے۔ اچھا اب دیکھیے بھئی پہلے سمجھ لیں آپ اس بات کو قدرت کس معنی میں ہے؟ سلامتی اسباب اور سلامتی اعضاء کے معنی میں ہے، یہاں وہ قدرت مراد ہے اس کی تقسیم کی جا رہی ہے کہ وہ دو قسم پر ہے ایک وہ جو مطلق ہوگی اور ایک وہ جو کامل ہوگی۔ مطلق وہ سے مراد وہ قدرت ہے جسے جس کا نام شارح بتلائیں گے یہ قدرت، اسے قدرت متمکنہ بھی کہتے ہیں یعنی کم سے کم اتنی قدرت جس کے اندر وہ جس کے ذریعے وہ کیا کر سکتا ہے؟ مامور اس فعل کو ادا کر سکتا ہے۔ کم سے کم اتنی قدرت ہو کہ جس میں مامور کیا کر سکتا ہے؟ اس فعل کو ادا کر سکتا ہے مثلاً بھئی ظہر کا ایک شخص مسلمان ہوا بھئی ایک شخص کیا ہوا؟ مسلمان ہوا۔ اب اس کے پاس صرف اتنا وقت ہے جس کے اندر وہ کیا کر سکتا ہے؟ ظہر کی نماز پڑھ سکتا ہے، ظہر کا وقت صرف اتنا باقی ہے چار پانچ منٹ صرف باقی ہیں اس وقت کے اندر وہ کیا کر سکتا ہے؟ ظہر کی نماز پڑھ سکتا ہے یعنی تھوڑی اس صرف اتنی قدرت ہے جس کے ذریعے ادائیگی ہو سکتی ہے اس سے زیادہ وہ قدرت ہے ہی نہیں وقت ہی نہیں زائد وقت ہی نہیں ہے بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ تو ادنیٰ درجے کی وہ قدرت جس کی وجہ سے اس فعل کو ادا کیا جا سکے اسے کہتے ہیں قدرت متمکنہ۔ اور اگر یہ قدرت سہولت کے ساتھ ہو، آسانی کے ساتھ ہو تو پھر اسے کہتے ہیں قدرت کاملہ بھئی، کیا کہتے ہیں قدرت؟ کاملہ کہتے ہیں۔ مثلاً مولانا زکوۃ کے وجوب کا سبب کیا ہے؟ نصاب ہے، نصاب کے بقدر مال ہو تو جیسے ہی نصاب کے بقدر مال ہوا انسان زکوۃ کے ادا کرنے پر قادر ہو گیا یا نہیں ہو گیا؟ لیکن پھر بھی شریعت نے شرط لگا دی کہ بھئی ایک سال گزر جائے پھر کیا کرو؟ اس نصاب پر ایک سال گزر جائے پھر کیا واجب ہو جائے گی؟ زکوۃ، بھئی قدرت تو اس وقت بھی تھی جس وقت آگیا تھا لیکن شریعت نے ایک سال کے گزرنے کی شرط لگا دی معلوم ہوا یہاں پر ادنیٰ قدرت مراد نہیں ہے بلکہ قدرت میسرہ مراد ہے یعنی سہولت کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ سہولت کے ساتھ جس میں کیا کر سکتا ہے پھر وہ اس کو ادا کر سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو قدرت کتنی قسم پر ہوئی؟ دو قسم پر، ایک تو وہ قدرت کم سے کم مقدار جس کے اندر اس فعل کو کیا کیا جا سکتا ہے؟ ادا، اور ایک وہ قدرت ہے جو سہولت کے ساتھ ہو جس میں آسانی ہو مولانا اتنی تنگی نہ ہو زائد بھی ہو بھئی وہ۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ اب دیکھیے بھئی، تو کہتے ہیں وهي نوعان اور یہ قدرت دو قسم پر ہے مطلق أي القدرة التي، هي ضمیر کا مرجع بتلا رہے ہیں کہ یہ کس کو راجع ہے؟ قدرت کو راجع ہے اور آگے یہ بھی بتلا رہے ہیں وہ القدرة التي يتمكن بها العبد جس کے ذریعے انسان بندہ کیا ہوتا ہے؟ قادر ہوتا ہے وهي بمعنى سلامت الآلات والأسباب اور یہ بمعنی سلامتی اسباب اور سلامتی آلات کے ہے، یہ والی قدرت نوعان یہ کتنے قسم پر ہے؟ دو قسم پر ہے أحدهما مطلق ایک اس میں سے مطلق ہے أي غير مقيد بصفة اليسر والسهولة یعنی یہ مقید نہیں ہے یسر اور سہولت کی صفت کے ساتھ كما في القسم الآتي جیسے کہ آنے والی قسم ہے، آنے والی قسم کیا ہے؟ کامل ہے اس میں یسر اور سہولت ہوتی ہے، آسانی ہوتی ہے دیکھو میں نے بتلایا نصاب جیسے ہی پایا گیا وہ نفس قدرت تو آگئی وہ کیا کر سکتا ہے؟ زکوۃ ادا کر سکتا ہے لیکن شریعت نے کیا شرط لگا دی کب ادا کرو کب واجب ہوگی؟ جب سال گزر جائے پھر زکوۃ واجب ہوگی معلوم ہوا وہاں پر قدرت ہے لیکن کس کے ساتھ ہے؟ سہولت اور آسانی کے ساتھ قدرت ہے مراد ہے، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ والی جو یہ جو قسم بیان کرنے لگے ہیں یہ مطلق ہے یعنی اس کے اندر یسر اور سہولت کی قید نہیں اور اگلی مقید ہے اس کے اندر کس چیز کی قید ہے؟ سہولت اور آسانی والی قید ہے، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کہتے ہیں قدرت ایک مطلق ہے مولانا وهو أدنى ما يتمكن به المأمور من أداء ما لزمه اور وہ کم سے کم وہ مقدار ہے کہ قادر ہوتا ہے اس کے ذریعے مامور یعنی بندہ، کون مامور کون ہے؟ بندہ، جس کے ذریعے بندہ قادر ہوتا ہے من أداء ما لزمه اس چیز کے ادا کرنے پر جو اس پر لازم ہوتی ہے وہ کم سے کم قدرت ہے اس کو انہوں نے کیا کہا؟ مطلق کہا، وهو شرط في أداء كل أمر اور یہ شرط ہے مولانا کم سے کم اتنی قدرت تو کیا ہے؟ شرط ہے ہر امر کی ادائیگی میں اتنی قدرت تو ہونی چاہیے کہ کم از کم کیا کرے؟ اس فعل کو ادا کرے تو یہ اس کے لیے شرط ہے مولانا۔ اگر اتنی قدرت بھی نہ ہو کہ مامور بہ کو ادا کر سکے پھر تو یہ تکلیف مالا يطاق ہوگا بھئی انسان کے وہ مکلف بنانا ایک ایسی چیز کا جس کی اس میں طاقت ہی نہیں ہے بھئی اتنی قدرت ہی نہیں ہے کہ اس میں مامور بہ کو کیا کر سکے؟ ادا کر سکے اور پھر بھی اس پر واجب کیا جا رہا ہے تو یہ کیا ہوا تکلیف مالا يطاق بھئی انسان کو مکلف بنانا ایک ایسی چیز کا جس کی اس کے اندر طاقت ہی نہیں ہے بھئی حالانکہ اللہ تعالیٰ تو قرآن میں فرماتے ہیں لا يكلف الله نفسا إلا وسعها اللہ کسی نفس کو مکلف نہیں فرماتے مگر اس کی وسعت کے بقدر بھئی جتنی اس میں گنجائش ہو بھئی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو اتنی قدرت جو ہے شرط ہے ہر امر کی ادائیگی کے اندر بھئی، کم از کم اتنی قدرت پائی جائے بھئی جبکہ باقی زائد ہے۔ أي المطلق أدنى ما يتمكن به العبد یعنی کہ مطلق جو ہے وہ کم سے کم وہ مقدار ہے کہ جس کے ذریعے قادر ہوتا ہے بندہ وهذا القدر من التمكن شرط في أداء كل أمر اور اس قدر مقدار جو ہے من التمكن، تمکن وہی قدرت مراد ہے، اس قدر مقدار قدرت میں سے یہ شرط ہے في أداء كل أمر ہر امر کی ادائیگی میں والباقي زائد اور باقی کیا ہے؟ زائد ہے۔ باقی کیا ہے؟ جیسے ظہر کا وقت باقی زائد ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ تو وہ زائد قدرت ہو گئی ہاں کم سے کم کتنی ہو جس میں صرف کیا کر سکے؟ ظہر کی نماز ادا کر سکے تو یہ قدرت متمکنہ ہے اور باقی کیا ہے؟ زائد ہے۔ وهو قدر ما يسع فيه أربع ركعات من الظهر اور یہ جو ہے یہ جو مقدار انہوں نے ذکر کی، یہ مقدار قدر ما يسع فيه أربع ركعات من الظهر اس قدر ہے کہ جس میں گنجائش ہو ظہر کی چار رکعات کی، اتنی اس قدر اسی قدر اس قدر ہے اتنی مقدار ہے کہ جس کے اندر ظہر کی چار رکعات کی گنجائش ہو فإن اكتفي بهذا القدر سمي متمكنة اگر اکتفاء کیا گیا اس مقدار پر تو اس کو کہتے ہیں متمکنہ، اس قدرت کو کیا کہتے ہیں؟ اس مقدار کو کیا کہتے ہیں؟ متمکنہ کہتے ہیں اگر اس مقدار پر اکتفاء کیا گیا یعنی اللہ نے اتنی ہی مقدار عطا فرمائی تو کیا کہیں گے؟ اس کو اللہ نے کیا دی ہے؟ قدرت متمکنہ دی ہے یعنی ادنیٰ کم سے کم وہ مقدار جس کے اندر وہ کیا کر سکتا ہے اس فعل کو ادا کر سکتا ہے۔ وهو الذي سماه المصنف مطلقا اور یہ وہی قسم ہے جس کا نام مصنف نے کیا رکھا ہے؟ مطلق رکھا ہے وكان ينبغي یہاں سے اعتراض کر رہے ہیں بھئی کہ بھئی ماتن نے مصنف نے دو قسمیں بنائیں پہلی کا نام رکھا پہلی کا کہا وہ مطلق ہے دوسری کا کہا کامل ہے، کہتے ہیں حالانکہ اس صورت میں ان میں تقابل ظاہر نہیں ہوتا تو یوں کہنا چاہیے تھا اگر پہلی کے لیے مطلق کہا ہے تو دوسری کو کہتے مقید ہے یا پہلی کو کہہ دیتے قاصر ہے اور دوسری کو کہہ دیتے کامل ہے پھر تقابل ظاہر ہو جاتا بھئی، تو کہتے ہیں وكان ينبغي أن يقول مطلق ومقيد اور مصنف کے لیے مناسب تھا کہ وہ یوں کہتے کہ مطلق اور مقید، أو كامل وقاصر یا کیونکہ یوں کہتے کہ کامل اور قاصر دو قسمیں ہیں بھئی۔ اچھا یہاں تک آپ کو بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ وبزيادة اللفظ، اچھا اب دوبارہ سمجھئے ایک بات بھئی دیکھو سب سے پہلے انہوں نے قدرت کی تقسیم کی، وہ قدرت جو کس معنی میں ہے؟ سلامتی اسباب کے معنی میں ہے اس کی تقسیم کی تو وہ مطلق قدرت ہے وہ کیا ہے؟ مطلق قدرت، مطلق کا لفظ قدرت سے پہلے رکھیں مطلق قدرت ہے، پھر اس کی دو قسمیں بنائیں ایک قدرت مطلقہ اور ایک قدرت مقیدہ، پہلی کیا ہے؟ بھئی قدرت سے پہلے مطلق کا لفظ رکھو، مطلق قدرت اور پھر دوسری کیا ہے؟ اس کی دو قسمیں بنائیں ایک قدرت مطلقہ ایک قدرت مقیدہ جس کو کامل قدرت انہوں نے کہا بھئی وہ قدرت مقیدہ ہے، تو تقسیم کس طرح ہوئی؟ مقسم کون ہوا؟ مطلق قدرت، مقسم کون ہوا؟ مطلق قدرت اور اقسام کون سی ہوئی؟ پہلی قسم کیا ہوئی؟ قدرت مطلقہ اور دوسری قسم کیا ہوئی؟ قدرت مقیدہ، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو مطلق قدرت جو ہے وہ کون سی ہے؟ کہ جس کے ذریعے بندہ کیا کرتا ہے اس فعل کے ادا کرنے پر قادر ہوتا ہے یعنی اسباب سلامتی ہیں اعضاء کیا ہیں؟ سلامت ہیں یہ کون سی قدرت ہے؟ مطلق قدرت ہے اس میں کسی قسم کی قید نہیں ہے مولانا، کسی قسم کی قید ہونے یا نہ ہونے کا یہ عام ہے قید ہو یا نہ ہو دونوں صورتیں اس کو آگئیں، ہاں پھر آگے اس کی تقسیم کی کہ یہ مطلق قدرت دو قسم پر ہے ایک قدرت مطلقہ ہے، ایک قدرت مطلقہ ہے یعنی اس میں یسر کی قید نہیں ہے اور دوسری قدرت مقیدہ ہے یعنی اس میں یسر کی قید موجود ہے یسر اور سہولت کی قید موجود ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو پہلی قسم جو تھی جو مقسم ہے اس کے وہ اس کے اندر قدرت ملحوظ ہے لا بشرط شيء، لا بشرط شيء اور جو قسم ہے ان میں قدرت ملحوظ ہے بشرط شيء أو بشرط لا شيء، بشرط شيء أو بشرط لا شيء، بھئی یہ کتابوں میں آئے گا میں نے سوچا آپ کو بتلا دوں یہاں پر بھئی، کتابوں میں آتا ہے یہ ذکر کہ یہ لا بشرط شئے ہے یا بشرط لا شئے ہے یا بشرط شئے ہے بھئی۔ پہلی قسم کیا ہے؟ لا بشرط اس میں قدرت ملحوظ ہے کس اعتبار سے ملحوظ ہے؟ لا بشرط شيء کے اعتبار سے ملحوظ ہے لا بشرط شيء بھئی، یعنی شرط شئے کے بغیر، شرط شئے کے یعنی شرط اس میں ملحوظ نہیں ہے نہ شرط ہونے کی شرط ہے نہ نہ ہونے کی شرط ہے شرط اس میں ملحوظ نہیں ہے مولانا، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ شرط اس میں، دوسری قسم آگے تقسیم کی، تقسیم کیا کی مولانا؟ کون کون سی قسمیں بنائیں؟ قدرت مطلقہ اور قدرت مقیدہ، قدرت مطلقہ وہ ہے جس میں قدرت ملحوظ ہے بشرط لا شيء، بشرط لا شيء یعنی شئے وہ شئے جس بھئی شئے عام ہر شئے مراد نہیں ہے مراد وہ شئے ہے جس کے اس کے مقابل میں قید لگائی گئی بھئی جس کی شرط لگائی گئی تھی اس کے مقابل میں، تو یہاں پر قدرت ملحوظ ہے مولانا بشرط لا شيء بھئی بشرط لا شيء، یعنی اس شئے کے نہ ہونے کی شرط ملحوظ ہے اس شئے کے نہ ہونے کی شرط ملحوظ ہے، تو دیکھو قدرت مطلقہ کسے کہا؟ جس میں یسر اور سہولت کے نہ ہونے کی قید ملحوظ ہے یسر اور سہولت کے نہ ہونے کی قید ملحوظ ہے، اور قدرت مقیدہ جس میں کیا کہے؟ وہ تھا بشرط شيء اس میں کس چیز کی شرط ہے؟ یسر اور سہولت کی شرط ملحوظ ہے اس کے ساتھ وہ مقید ہے، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو دیکھو یہاں تین قسم پہلی مقسم بیان ہوا مقسم کیا ہے؟ مطلق قدرت اور دو قسمیں کیا ہیں؟ قدرت مطلقہ اور قدرت مقیدہ، تو جو مقسم تھا وہ لا بشرط شيء تھا اس میں کسی شئے کی شرط ملحوظ نہیں تھی وہ شئے پائی جائے تب بھی داخل ہے نہ پائی جائے تب بھی داخل ہے، پھر اس کے آگے تقسیم کی کہ وہ دو قسم پر ہے مولانا ایک قدرت مطلقہ یعنی بشرط لا شيء بھئی کہ اس میں کس چیز کے نہ ہونے کی شرط ہے؟ کس چیز کے نہ ہونے کی شرط ہے؟ یسر اور سہولت کے نہ ہونے کی شرط، یسر اور سہولت نہیں ہے تو یہ قدرت مطلقہ ہے اور اسی کو کیا کہتے ہیں قدرت متمکنہ یعنی ادنیٰ درجے کی قدرت اور اگر یسر اور سہولت ہے یعنی بشرط شيء ہے اور یسر اور سہولت کی شرط ہے تو یہ کیا ہے؟ قدرت مقیدہ ہے۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو لہٰذا اب آپ کو پتہ لگ گیا مولانا مقسم اور قسموں کے درمیان فرق سمجھ میں آیا؟ جی؟ آگے چونکہ ایک اعتراض ہوتا تھا اس کا جواب ذکر کرنے لگے ہیں شارح تو میں نے پہلے ہی آپ کو یہ بات بتلا دی کہ معلوم ہوا مقسم جو ہے وہ اس میں قدرت ملحوظ ہے کس اعتبار سے؟ لا بشرط شيء اور مطلق جس کو انہوں نے ذکر کیا اس کے اندر قدرت ملحوظ ہے کس اعتبار سے؟ بشرط لا شيء اور کامل کے اندر قدرت ملحوظ ہے کس اعتبار سے؟ بشرط شيء کے اعتبار سے ملحوظ ہے، تو اب آپ بتائیے مولانا قسم اور مقسم میں فرق آگیا یا نہیں آگیا؟ مقسم عام تھا اور قسمیں کیا ہو گئیں؟ خاص، ایک میں شئے نہ ہونے کی شرط ہے ایک میں شئے ہونے کی شرط ہے، تو لہٰذا یہاں دراصل ایک اعتراض واقع ہوتا تھا، اعتراض یہ کہ آپ نے قدرت کی تقسیم کر دی ایک مطلق کی طرف اور ایک کامل کی طرف بھئی کامل کی طرف بھئی، تو لہٰذا یہ تو تقسيم الشيء إلى نفسه وإلى غيره ہے ایک شئے کی تقسیم اپنی ذات اور غیر کی طرف کر دیں اور یہ درست نہیں ہے۔ مثلاً آپ اسم کی تقسیم کرتے ہیں یوں کہ اسم یا تو اسم ہوگا یا فعل ہوگا۔ اسم یا تو اسم ہوگا یا فعل ہوگا تو اس چیز کی تقسیم کی اپنی ہی ذات کی طرف اور اپنے غیر کی طرف بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ اپنی ذات کی طرف اور اپنے غیر کی طرف تقسیم کر دی اور یہ تو درست نہیں ہے بھئی، قسم اور مقسم میں تو کچھ فرق ہونا چاہیے نیز اپنے سے غیر کی طرف چیز کیسے تقسیم ہوگی جو اس میں شامل ہی نہیں ہے اس کی طرف آپ کیسے تقسیم کر رہے ہیں اس کی بھئی؟ فعل تو اسم میں داخل ہی نہیں تھا بھئی اس کی طرف اسم تقسیم کیسے ہو سکتا ہے بھئی؟ تو کہتے ہیں انقسام الشيء إلى نفسه وإلى غيره یہ بھی درست نہیں قسم اور مقسم میں کچھ فرق ہونا چاہیے بھئی، تو یہاں یہ اعتراض ہوتا ہے کہ یہاں قسم اور مقسم میں کوئی فرق نہیں ہے مولانا قسم اور مقسم میں کوئی فرق نہیں ہے اس لیے کہ مقسم بھی ہے مطلق قدرت اور قسم بھی آپ نے کیا ذکر کی مطلق بھئی۔ قسم بھی ذکر کے؟ مطلق ذکر کے تو قسم بھی وہی، مقسم بھی وہی۔ یہ تو انقسام الشيء إلى نفسه لازم آیا یہاں پر اور یہ درست نہیں۔ مطلق کے لفظ سے یہ وہم پڑتا تھا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کے اندر قید موجود ہے۔ کون سی قید ہے؟ لا شیء کی قید موجود ہے، یعنی یسر نہ ہونے کی قید اس میں موجود ہے اور اسی کی طرف شارح ماتن، مصنف نے بھی اشارہ کر دیا، مصنف نے کہا "وَهُوَ أَدْنَى" یہ ادنیٰ کے لفظ نے بتلا دیا کہ قسم اور مقسم میں کیا ہے؟ فرق ہے۔ یہاں مطلق قدرت مراد نہیں ہے بلکہ ادنیٰ قدرت مراد ہے اس کے اندر، ادنیٰ قدرت مراد ہے مولانا۔ کہتے ہیں "وَبِازْدِيَادِ لَفْظِ أَدْنَى" اور ادنیٰ کا لفظ بڑھا دینے سے "اسْتَرَقَ بَيْنَ الْمَقْسَمِ وَالْقِسْمِ" جدائی آ گئی مقسم اور قسم میں "لِأَنَّ الْمَقْسَمَ هُوَ مَا يَتَمَكَّنُ بِهَا الْعَبْدُ" اس لیے کہ مقسم وہ قدرت ہے جس کے ذریعے بندہ قادر ہوتا ہے "وَالْقِسْمُ هُوَ أَدْنَى مَا يَتَمَكَّنُ بِهَا الْعَبْدُ" اور قسم جو ہے وہ ادنیٰ ہے جس کے ذریعے بندہ قادر ہوتا ہے اس کی ادنیٰ مقدار ہے۔ "فَلَا يَرِدُ مَا يَتَوَهَّمُ" تو لہذا وارد نہیں ہوتا وہ اعتراض جس کا وہم پڑتا ہے "أَنَّهُ يَلْزَمُ انْقِسَامُ الشَّيْءِ إِلَى نَفْسِهِ وَإِلَى غَيْرِهِ" کہ یہ تو شے کا تقسیم ہونا ہے اپنی ذات اور غیر کی طرف اور یہ تو درست نہیں ہے۔ کہتے ہیں ہماری تقریر سے یہ اعتراض کیا ہو گیا؟ وہ دفع ہو گیا کیونکہ یہاں پر ادنیٰ کا لفظ ذکر کیا مصنف نے اور مقسم کے اندر ادنیٰ کی قید وہ عام تھا چاہے ادنیٰ ہو یا سہولت کے ساتھ ہو اور یہاں پر قسم کے اندر کیا قید بڑھا دی؟ ادنیٰ کی قید۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو دراصل مطلق کے لفظ سے شاید وہم پڑتا تھا کہ مطلق تو مقسم بھی ہے، قسم بھی مطلق ہو گئے تو پھر تو دونوں ایک ہی ہو گئے، یہ تو انقسام الشيء إلى نفسه لازم آتا ہے۔ کہتے ہیں نہیں دونوں میں فرق ہم نے بیان کر دیا، وہ مطلق قدرت ہے اور یہ قدرتِ مطلقا ہے اور مصنف نے بھی ادنیٰ کے لفظ کے ذریعے کیا کیا اس کی طرف؟ اشارہ کر دیا۔ دوبارہ سن لو بھئی، جو مقسم ہے وہ لا بشرط شيء ہے اور قدرتِ مطلقا جو ہے وہ بشرط لا شيء ہے اور قدرتِ مقیدہ جو ہے وہ بشرط شيء ہے بھئی۔ لا بشرط شيء کا معنی کہ اس میں کوئی شرط ملحوظ نہیں ہے کسی چیز کی، نہ کسی چیز کے ہونے کی شرط ہے اور نہ کسی چیز کے نہ ہونے کی شرط ہے، یعنی وہ عام ہے، کسی شرط ہو یا شرط نہ ہو۔ چیز کے ہونے کی شرط ہو تو بھی داخل، نہ ہونے کی شرط ہو تو بھی اس کے اندر داخل ہے بھئی کیونکہ وہ لا بشرط شيء، کسی چیز کی شرط اس میں نہیں ہے نہ ہونے کی شرط اور نہ نہ ہونے کی شرط۔ جبکہ قسمِ اول جو ہے وہ بشرط لا شيء ہے مولانا، قدرتِ مطلقا کیا ہے؟ بشرط لا شيء ہے، یعنی اس میں چیز کے نہ ہونے کی شرط ہے، کس چیز کے نہ ہونے کی شرط؟ ہر چیز مراد نہیں ہے، وہ چیز جس کی شرط اس کے مقابل میں لگائی جا رہی ہے، مثلاً یہاں پر کس چیز کی شرط لگائی جا رہی تھی مقابل کے اندر؟ یسر کی، کس کی؟ یسر، سہولت۔ قدرتِ میسرہ کے اندر سہولت اور آسانی ہوتی ہے تو وہاں سہولت اور آسانی کی شرط لگائی گئی ہے اور وہی شرط یہاں اس اس یسر کے نہ ہونے کی شرط ہے کس کے اندر؟ قدرتِ مطلقا کے اندر، کس کے اندر؟ تو قدرتِ مطلقا کس اعتبار سے اس میں قدرت کس اعتبار سے ملحوظ ہے؟ بشرط لا شيء۔ چیز کے نہ ہونے کی شرط کے ساتھ، یعنی یسر کے نہ ہونے کی شرط کے ساتھ قدرت ملحوظ ہے کہ قدرت ہو اور یسر نہ ہو، یہ شرط ہے مولانا کہ یسر نہیں ہوتا اس کے اندر اور قدرتِ مقیدہ کے اندر کیا ہے؟ قدرت ملحوظ ہے بشرط شيء کے اعتبار سے، یعنی ایک چیز کی اس میں شرط ہے، ہونے کی شرط ہے۔ قدرتِ مطلقا میں نہ ہونے کی شرط تھی کہ یسر نہیں ہونا چاہیے اور یہاں پر ہونے کی شرط ہے کہ یسر کیا ہے؟ ہونا چاہیے۔ تو دیکھو مقسم اور قسم میں فرق آ گیا مولانا، مقسم کیا تھا؟ لا بشرط شيء، اس میں کسی چیز کی شرط نہیں، نہ تو کسی چیز کے ہونے کی شرط، نہ کسی چیز کے نہ ہونے کی شرط اور قسم قدرتِ مطلقا کیا ہے؟ بشرط لا شيء کہ اس میں ایک چیز کے نہ ہونے کی شرط ہے کہ اس میں یسر نہیں ہونا چاہیے بھئی اور قدرتِ میسرہ جس کے اندر قدرت ملحوظ ہے بشرط شيء، یعنی اس میں اس شے کی ہونا شرط ہے اور وہ کیا چیز ہے؟ یسر ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو فرق آ گیا ان سب میں بھئی۔ چلیے بس مولانا، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
113 approved lectures · 25 of 113