درس نمبر۔123
والثاني في علة الأصل، أي النوع الثاني من المعارضة الخالصة، المعارضة في علة المقيس عليه؛ بأن يقول: عندي دليل يدل على أن العلة في المقيس عليه شيء آخر لم يوجد في الفرع.
وهي ثلاثة أقسام، كلها باطلة على ما قال. وذلك باطل، سواء كانت بمعنى لا يتعدى.
معارضے کی بحث چل رہی تھی۔ سب سے پہلے آپ نے معارضے کی وہ قسم پڑھی جس میں قلب تھا بھئی۔ اور جہاں قلب ہوتا تھا، وہاں ضمناً مناقضہ بھی آ جاتا تھا، کیونکہ معلل ہی کی دلیل کو آپ نے دوسرے حکم کے لیے دلیل بنا دیا، تو جب اسی کی دلیل کے ذریعے دوسرا حکم ثابت کر رہے ہیں، تو اس کی دلیل کو آپ نے کیا کیا؟ توڑ دیا بھئی، توڑ دیا۔
اور معارضے کی دوسری قسم معارضۂ خالصہ بھئی، جس میں مناقضہ نہیں اور جس میں مناقضہ نہیں، اس کی پھر دو قسمیں تھیں معارضۂ خالصہ کی: ایک تو یہ کہ معارضہ کیا جائے فرع کے حکم میں، اور بتایا تھا اس کی پانچ قسمیں ہیں اور سب مقبول ہیں۔
آج ہم دوسری قسم پڑھیں گے، معارضۂ خالصہ کی، جس میں معارضہ کیا جائے گا اصل کی علت کے اندر۔ یعنی معلل نے دعویٰ کیا، ایک حکم ذکر کیا اور اس کی علت ذکر کی، اور سائل یعنی معترض کیا کہتا ہے؟ کہ میرے پاس ایک دلیل ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اصل میں، اصل یعنی مقیس علیہ میں، حکم کی علت یہ چیز نہیں ہے جو آپ بیان کر رہے ہیں، بلکہ دوسری چیز علت ہے بھئی، دوسری چیز علت۔
تو یہاں معارضہ کس کے اندر ہے؟ اصل کی علت کے اندر بھئی۔ سائل کیا کہتا ہے؟ علت یہ چیز نہیں ہے، بلکہ علت دوسری چیز ہے۔
تو کہتے ہیں: والثاني في علة الأصل، اور دوسری قسم معارضۂ خالصہ کی وہ ہے جو اصل کی علت میں ہو۔ أي النوع الثاني من المعارضة الخالصة، یعنی دوسری قسم معارضۂ خالصہ کی، المعارضة في علة المقيس عليه، وہ معارضہ ہے مقیس علیہ کی علت میں۔ مقیس علیہ کون ہے؟ اصل۔ بأن يقول، بیں طور کہ یوں کہتا ہے سائل: عندي دليل يدل على أن العلة في المقيس عليه شيء آخر، کہ میرے پاس ایک ایسی دلیل ہے جو دلالت کرتی ہے اس بات پر کہ مقیس علیہ میں علت جو ہے وہ دوسری چیز ہے، ایسی چیز لم يوجد في الفرع، جو فرع میں نہیں پائی جاتی۔
وهي ثلاثة أقسام، اور یہ تین قسم پر ہے یہ معارضہ فی علۃ الاصل بھئی۔ كلها باطلة، اور یہ سب کے سب باطل ہیں بھئی۔ على ما قال، بناء بر اس کے جو مصنف نے فرمایا۔
تو یہ جو معارضہ ہے، معارضۂ خالصہ کس کے اندر؟ علتِ اصل میں، اسی کے بارے میں کہتے ہیں: وذلك باطل، یہ باطل ہے۔ سواء كانت بمعنى لا يتعدى، برابر ہے کہ چاہے یہ، معنیٰ سے مراد ہے علت بھئی، معنیٰ سے کیا مراد ہے؟ علت۔ میں نے پہلے بتایا معنیٰ کا لفظ علت کے معنیٰ میں عام استعمال ہوتا ہے ہماری کتابوں میں۔
سواء كانت، برابر ہے کہ یہ معارضہ جو ہے، بمعنىً، ایسی علت کے ذریعے ہو، لا يتعدى، جو متعدی نہیں ہوتی، یعنی علتِ قاصرہ ہی کے ذریعے کیوں نہ ہو! چاہے یہ معارضہ کس کے ساتھ کیا جائے؟ علتِ قاصرہ، یعنی جو صرف اصل میں تو پائی جا رہی ہے اور کسی کے اندر یہ پائی ہی نہیں جاتی بھئی، متعدی ہوتی ہی نہیں ہے بھئی۔
سواء كانت بمعنى لا يتعدى، برابر ہے کہ چاہے یہ ایسی علت کے ساتھ ہو، لا يتعدى، جو متعدی نہیں ہوتی۔ هذا هو القسم الأول، یہ پہلی قسم ہے۔ كما إذا عللنا في بيع الحديد، جیسے ہم نے تعلیل کی لوہے کی بیع میں، بأنه موزون، کہ یہ کیا ہے؟ لوہا کیا ہے؟ موزون ہے، وزنی چیز ہے۔ قوبل بجنسه، مقابلہ کیا گیا ہے اس کا اس کی جنس کے ساتھ، یعنی اس کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا جائے، فلا يجوز بيعه، تو پھر اس کی بیع جائز نہیں، متفاضلاً، زیادتی کے ساتھ، كالذهب والفضة، جیسے سونا اور چاندی۔
क्योंकि ہمارے نزدیک علت کیا ہے؟ قدر اور جنس۔ جنس تو ایک ہی ہے، ایک طرف لوہا ہے، دوسری طرف بھی لوہا، اور قدر بھی پائی جا رہی ہے، قدر کے میں کیا کیا چیزیں داخل تھیں؟ وزن اور کیل، تو یہاں وزن ہے، تو یہ وزنی چیز ہوئی اور جنس بھی ایک ہے، تو اس کو اسی کی جنس کے ساتھ جب بیچا جائے تو زیادتی جائز نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
فيعارضه السائل، تو اس کا معارضہ کرتا ہے سائل، سائل معترض کہتا ہے: بأن العلة عندنا في الأصل هي الثمنية، کہ ہمارے نزدیک علت جو اصل کے اندر ہے وہ ثمنیت ہے بھئی۔ سونے اور چاندی کے اندر بھئی، علت کیا ہے؟ ثمنیت علت ہے، وتلك لا تتعدى إلى الحديد، اور وہ ثمنیت متعدی نہیں ہوتی لوہے کی طرف بھئی، کیونکہ لوہا وہ تو ثمن نہیں ہے بھئی، اس کو تو بطورِ ثمن کے اللہ نے پیدا نہیں فرمایا بھئی۔
تو انہوں نے تعلیل کی، دیکھیے ہم نے ایک، ہم نے ایک حکم بیان کیا اور علت بیان کی، اور کس پر قیاس کیا اس کو؟ سونے اور چاندی پر۔ جیسے سونا اور چاندی وزنی ہیں، اسی طرح لوہا بھی کیا ہے؟ وزنی ہے۔ اور جنس بھی ایک ہے، تو لہذا زیادتی کے ساتھ بیع جائز نہیں، جیسے سونے اور چاندی کا ذکر حدیث میں آیا کہ وہاں زیادتی کے ساتھ بیع جائز نہیں۔
تو سائل معارضہ کرتا ہے کہ ہمارے پاس، ہمارے نزدیک اصل کے اندر علت جو ہے وہ وزن نہیں، بلکہ ثمنیت ہے، اب انہوں نے معارضہ کیا ہے ایسی علت کے ساتھ جو متعدی نہیں ہوتی، کسی اور میں نہیں پائی جاتی، کیونکہ ثمن کے طور پر صرف سونے اور چاندی کو اللہ نے پیدا فرمایا ہے۔
تو انہوں نے معارضہ کیا علت کے ساتھ، اور علت کس کی؟ مقیس علیہ کی، کہ اس میں حکم کی یہ علت نہیں ہے جو آپ نے بیان کی کہ وزن ان میں پایا جا رہا ہے، جنس بھی ایک ہے اور وزن بھی ایک ہے، ہمارے نزدیک وزن ہے ہی نہیں علت، بلکہ کیا چیز علت ہے؟ ثمنیت علت ہے، اور ایسی علت ذکر کی جو متعدی نہیں ہوتی۔ تو یاد رکھیے یہ باطل ہے، سائل کا یہ اعتراض درست نہیں بھئی۔
أو يتعدى، اس کا عطف "لا يتعدى" پر ہے۔ اور وہ معارضۂ خالصہ جو اصل کی علت میں ہو، وہ باطل ہے چاہے وہ ایسی علت کے ساتھ ہو جو متعدی نہیں ہوتی، أو يتعدى، یا، یا متعدی ہوتی ہے، إلى فرع مجمع عليه، ایسی فرع کی طرف جس پر اجماع کیا گیا ہے۔ اجماع کیا ہے، یعنی سائل اور معلل کا اجماع ہے، اس پر اتفاق ہے بھئی۔
معارضہ کس میں ہوگا؟ اصل کی علت میں ہوگا۔ اور معترض دوسری علت بیان کرے گا، اور ایسی علت ہوگی جو متعدی بھی ہوتی ہے ایسی فرع کی طرف جس میں ہم سائل اور معترض دونوں کا اجماع ہے، اتفاق ہے۔
تو کہتے ہیں: وهو القسم الثاني، اور یہ دوسری قسم ہے، كما إذا عللنا في حرمة بيع الجص بجنسه متفاضلاً بالكيل والجنس كالحنطة والشعير، یہ دوسری قسم ہے، جیسے ہم تعلیل بیان کریں في حرمة بيع الجص بجنسه متفاضلاً، کہ جص کی بیع اسی کی جنس کے بدلے متفاضلاً، زیادتی کے ساتھ، یہ حرام ہے، بالكيل والجنس، کس وجہ سے؟ کیل اور جنس۔ تو یہ جو جص کی بیع ہے اپنی جنس کے بدلے زیادتی کے ساتھ، یہ جو اس حرمت ہے، اس حرمت کی تعلیل ہم کس کے ساتھ کریں؟ بالکلل والجنس۔ عبارت پر نظر ہے بھئی؟ یہ جو جص کی بیع کی حرمت کی تعلیل کی ہم نے، کس کے ساتھ تعلیل کی؟ کیل اور جنس کے ساتھ، كالحنطة والشعير، جیسے گندم اور جو میں ہے بھئی۔ گندم اور جو میں وہاں پر علت کیا ذکر کی تھی؟ کیل، کیل اور جنس۔ تو یہی کیل کس کے اندر پایا جا رہا ہے؟ جص کے اندر بھی بھئی۔
جص یاد رکھیے، یہ چُونے سے تیار کیا ہوا ایک مصالحہ ہوتا تھا، جس سے سیمنٹ کی طرح کام لیا جاتا عمارتوں کی تعمیر میں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور یہ سیمنٹ سے بڑا مضبوط ہوتا تھا، قدیم عمارتیں آپ دیکھتے ہیں بادشاہوں کے محل اور قلعے وغیرہ، سینکڑوں سال گزر گئے وہ اسی طرح قائم دائم ہیں بھئی۔ تو یہ چُونے سے تیار خاص مصالحہ بناتے تھے، اور اس سے یہ تعمیر کرتے تھے مضبوط عمارتوں کی بھئی۔
اب یہ جو جص ہے، یہ کیل کے ساتھ بیچا جاتا تھا۔ تو ہم نے کہا جص کی بیع جص کے بدلے ہو، تو کیل کی دونوں، جنس بھی ایک ہے اور کیلی چیز ہے، تو لہذا زیادتی کے ساتھ بیع حرام، اور اس کی علت ہم نے کیا ذکر کی؟ کیل اور جنس، جیسے کہ گندم اور جو کے اندر بھی جب اسی جنس کو اسی جنس کے بدلے بیچا جائے، تو زیادتی حرام ہوتی ہے کس وجہ سے؟ کیل اور جنس کی وجہ سے۔
یہ ہم نے تعلیل بیان کی، تو ہم ہوئے معلل۔ فيعارضه السائل، تو اس کا معارضہ کرتا ہے سائل: بأن العلة في الأصل ليست ما قلت، کہ علت جو اصل یعنی مقیس علیہ کے اندر، وہ چیز نہیں ہے جو آپ نے کہی۔ ہم نے کیا کہا تھا؟ کیل اور جنس۔ وہ کہتے ہیں کیل اور جنس نہیں ہے، بل هي الاقتيات والادخار، بلکہ یہ اقتیات اور ادخار ہے۔ اقتیات، کھانے والی چیز ہو، غذا ہو بھئی، والادخار، اور ذخیرہ کی جاتی ہو۔ تو قوت ہو اور اس میں ذخیرہ ہو سکے۔
وہ علت ہے، وهو معدوم في الجص، اور یہ علت فرع یعنی جص کے اندر نہیں پائی جا رہی۔ وإن كان يتعدى إلى فرع مجمع عليه، اگرچہ یہ علت متعدی ہوتی ہے ایک ایسی فرع کی طرف جس پر اجماع کیا گیا ہے، یعنی اتفاق کیا گیا ہے، وهو الأرز والدخن، اور وہ چاول اور باجرہ ہیں بھئی۔ چاول اور باجرہ، اب دیکھیے، چاول اور باجرہ اس میں یہ، ان کی بیع انہی کی جنس کے بدلے ہو، تو زیادتی ہمارے نزدیک بھی حرام، ان کے نزدیک بھی حرام۔ تو یہ ایسی فرع ہے جس میں زیادتی کے حرام ہونے پر اتفاق کیا گیا ہے، اور اس میں دونوں کے نزدیک علت پائی جا رہی ہے بھئی، علت۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو پہلی صورت کیا تھی؟ سائل نے علت کا انکار کیا۔ علت، اور اپنی علت ثابت کی، کون سی علت تھی؟ جو متعدی نہیں ہوتی تھی، ثمنیت ذکر کی تھی پہلی صورت میں۔ دوسری صورت میں ایسی علت ذکر کی، جو ایسی فرع میں پائی، کی طرف متعدی ہو رہی ہے جو سائل اور معترض دونوں کے نزدیک اس پر اتفاق ہے بھئی، اتفاق ہے۔
أو مختلف فيه، أي يتعدى إلى فرع مختلف فيه، اس کا عطف "مجمع عليه" پر ہے بھئی۔ ایسی فرع جس میں اختلاف، یعنی أو يتعدى إلى فرع مختلف فيه، کہ وہ ایسی علت کے، ایسی علت وہ ذکر کرتا ہے جو متعدی ہوتی ہے ایسی فرع کی طرف مختلف فیہ، جس میں اختلاف کیا گیا ہے، أي يتعدى إلى فرع مختلف فيه، یعنی متعدی ہوتی ہے ایسی فرع کی طرف جس میں اختلاف کیا گیا ہو، وهو القسم الثالث، اور یہ تیسری قسم ہے معارضۂ خالصہ فی علۃ الاصل کی۔ مثال: مثاله ما لو عارض السائل في المسألة المذكورة، مثال اس کی جیسے اگر معارضہ کرے سائل اسی مسئلہ مذکورہ کے اندر، بأن العلة في الأصل هو الطعم، کہ علت جو ہے اصل کے اندر وہ طعم ہے۔
طعم ہے، ہم نے گندم اور جو کے اندر علت کیا ذکر کی؟ کیل اور جنس۔ تو یہاں پر سائل اعتراض کرتا ہے کہ علت اصل کے اندر وہ طعم ہے بھئی، کھانے کی چیز ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ولم يوجد في الجص، اور وہ علت جص میں نہیں پائی جا رہی، وهو يتعدى إلى فرع مختلف فيه، اور یہ ایسی علت ذکر کی جو متعدی ہوتی ہے ایسی فرع کی طرف جس میں اختلاف ہے، أعني الفواكه وما دون الكيل، یعنی پھل اور وہ جو کیل سے کم مقدار ہو بھئی، کیل سے کم مقدار۔ پھل جو ہیں، مثلاً پھل جو ہیں ان کو گن کر بیچا جاتا ہے بھئی، کون سے پھل مراد ہیں؟ جن کو گن کر بیچا جاتا ہے۔ اب یہ پھل جو ہیں، جب گن کر بیچا جاتا ہے، تو ہمارے نزدیک کیل اور وزن کوئی بھی نہیں یہاں پایا گیا۔ تو پھل کی اس قسم کے پھل کی بیع اسی قسم کے پھل کے بدلے ہو تو زیادتی جائز ہے۔
کیونکہ کیل اور وزن یہاں نہیں پایا جا رہا، ہاں ادھار حرام ہوگا بھئی۔ تو بہرحال زیادتی تو جائز ہے، زیادتی والی علت تو یہاں پر، لیکن ان کے نزدیک علت پائی جا رہی ہے، کیونکہ ان کے نزدیک کیل اور وزن علت تھی ہی نہیں، ان کے نزدیک تو علت کیا ہے؟ طعم، کھانے کی چیز ہو، اور وہ کھانے کی چیز ہے پھل، لہذا ان کے نزدیک دونوں طرف پھل کیا ہونے چاہئیں؟ برابر ہونے چاہئیں۔
وما دون الكيل، اور اسی طرح جو کیل سے کم ہو۔ اور شرعی کم سے کم مقدار جس کا اعتبار ہے مسائل میں وہ کتنی ہے؟ نصف صاع، تو اس سے جو کم مقدار ہے، کم مقدار، اس میں ایک گندم، ایک مٹھی گندم کی بیع دو مٹھی گندم کے بدلے ہمارے نزدیک جائز، کیونکہ یہاں کیل ہے ہی نہیں بھئی، کیونکہ یہ تو کیل سے کم مقدار ہے، اور ان کے نزدیک کیل تو علت تھی ہی نہیں، طعم علت تھی، طعم تو پائی جا رہی ہے، لہذا ان کے نزدیک ایک مٹھی گندم کے بدلے دو مٹھی گندم کی بیع جائز نہیں۔ تو یہ دیکھیے یہ فواکہ اور ما دون الکیل جو ہیں نا، یہ ایسی فرع ہے جس میں اختلاف ہے، ہمارے نزدیک جائز ہے اس میں یہ بیع، اور ان کے نزدیک جائز نہیں ہے بھئی، تو ان میں دیکھو ان کے نزدیک علت ہے، ہمارے نزدیک علت نہیں ہے۔
تو یہ علت جو طعم ہے یہ متعدی ہوئی ایسی فرع کی طرف جس میں اختلاف کیا گیا ہے، یعنی پھل اور وہ جو کیل سے کم مقدار ہے، وهذه الأقسام كلها باطلة، اور یہ ساری کی ساری اقسام باطل ہیں۔ تین صورتیں ہو گئیں، معارضۂ خالصہ ہے اور کس چیز میں معارضہ ہے؟ اصل کی علت میں، یعنی سائل یہ کہتا ہے کہ اصل کے اندر حکم کی علت دوسری چیز ہے، ہمارے پاس دلیل موجود ہے، علت دوسری چیز ہے اور وہ چیز فرع کے اندر نہیں پائی جا رہی۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو علت میں آ کر وہ کیا کر رہا ہے؟ معارضہ کر رہا ہے۔ تو یہاں پر تین صورتیں بنتی تھیں، کہتے تھے تینوں باطل ہیں۔ ایک صورت یہ کہ سائل نے جو علت ذکر کی وہ متعدی ہوتی نہیں، جیسے ثمنیت ہے وہ متعدی ہوتی نہیں بھئی، علتِ قاصرہ ہے۔ یا وہ ایسی علت ذکر کرے گا جو ایسی فرع کی طرف متعدی ہوتی ہے جس میں بالاتفاق کیا ہے؟ وہ حکم پایا جا رہا ہے وہ، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جس میں اتفاق ہے ہمارے نزدیک کی کمی بیشی کے ساتھ اس کی بیع جائز نہیں ہوتی بھئی اسی کی جنس کے ساتھ، یا تعلیل اس نے ایسی علت بیان کی جو متعدی ہوتی ہے ایسی فرع کی طرف جس میں سائل اور معترض کا اختلاف ہے بھئی، تو تینوں تین صورتیں بن سکتی تھیں، یا تو وہ علت متعدی نہیں ہوگی یا متعدی ہوگی تو مختلف فیہ فرع کی طرف یا مجمع علیہ فرع کی طرف متعدی ہوگی، تو یہ تین ہی صورتیں بنتی تھیں، تینوں
ذکر کر دیں۔ تین اور یہ ساری کی ساری اقسام باطل ہیں، لان الوصف الذی یدعیہ السائل لا ینافی الوصف الذی یدعیہ المعلل، اس لیے کیونکہ وہ وصف یعنی وہ علت جس کا دعویٰ سائل نے کیا ہے وہ منافی نہیں ہے اس وصف کے جس کا دعویٰ معلم نے کیا تھا، اذ الحکم یثبت بعلل شتیٰ، اس لیے کیونکہ حکم ثابت ہو جاتا ہے کئی علتوں سے۔ بعض اوقات ایک حکم کے کئی علت، اپ نے دیکھیے بھئی معارضہ کی، کس کی معارضہ کی؟ معارضہ کی، اور جب معلم نے ایک علت بیان کی تھی، اپ نے دوسری علت بیان کر دی تو اس سے اس کے علت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اس پر کوئی زد نہیں پڑتی، اس لیے کیونکہ ایک حکم کی کئی علتیں ہو سکتی ہیں۔
صورت سمجھ میں ا گئی؟ تو اس کا رد ہوا؟ اس کا تو رد نہیں ہوا، مقصد کیا تھا معارضے کا تو؟ اس کو رد کرنا مقصد تھا، تو اگر اپ علت دوسری ذکر کر دیں اس کا تو رد ہی نہیں ہوا بھئی! کیونکہ ایک حکم کی کئی علتیں ہو سکتی ہیں، اپ نے اپنی علت ذکر کر دی ٹھیک ہے، اس کی علت کو تو اپ نے رد نہیں کیا، لہذا یہ کیا ہے؟ باطل ہے یہ معارضہ بھئی۔
کہتے ہیں لان الوصف الذی یدعیہ السائل لا ینافی الوصف الذی یدعیہ المعلل، اس لیے کیونکہ وہ وصف جس کا دعویٰ سائل نے کیا ہے یعنی معترض نے، لا ینافی وہ منافی نہیں ہے، الوصف الذی یدعیہ المعلل اس وصف کے جس کا دعویٰ معلم نے کیا ہے، اذ الحکم یثبت بعلل شتیٰ اس لیے کیونکہ حکم ثابت ہو جاتا ہے کئی علتوں سے، مختلف علتوں سے، فان لم یکن وصفہ متعدیا اگر اس کا وصف متعدی ہی نہ ہو، تین صورتیں تھیں نا؟ ایک یا تو وہ ایسے مسائل ایسے علت ذکر کرے گا جو متعدی ہی نہیں ہوگی، یا پھر کیا ہوگی؟ متعدی ہوگی، اگر علت متعدی ہی نہیں ہوتی کہتے ہیں پھر تو اس معارضے کا فساد ظاہر ہے۔
اس لیے کیونکہ تعلیل کا مقصد ہی کیا ہے ہمارے نزدیک؟ تعدیہ، اور جب تعدیہ نہیں پایا گیا تو تعلیل بھی درست نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں فان لم یکن وصفہ متعدیا اگر اس کا وصف متعدی ہی نہ ہو یعنی سائل کا جو اس نے سائل نے بیان کیا، ففسادہ ظاہر تو پھر تو اس کا فساد ظاہر ہے، لان المقصود بالتعلیل التعدیۃ اس لیے کیونکہ تعلیل سے مقصود جو ہے وہ تعدیہ ہے، وان کان متعدیا اور اگر جو سائل نے علت بیان کی وہ متعدی ہے، چاہے وہ فرعِ اجمع علیہ کی طرح متعدی ہو چاہے فرعِ مختلف فیہ کی طرح متعدی ہونے والی علت ہے، فکانت المعارضۃ ایضاً فاسدۃ تو بھی معارضہ فاسد ہے، لانھا لا تعلق لھا بالمتنازع فیہ اس لیے کیونکہ اس کا کوئی تعلق نہیں متنازع فیہ کے ساتھ۔
متنازع فیہ جس میں اختلاف ہے یعنی فرع، یعنی فرع۔ معلم نے کہا اس فرع کے اندر یہ علت پائی جا رہی ہے، سائل نے کیا کہا؟ علت اور چیز ہے وہ اس فرع کے اندر نہیں، تو یہ متنازع فیہ کون ہوا؟ فرع ہوئی، کون ہوئی؟ فرع، تو اس کا کہتے ہیں اگر وہ علت متعدی ہونے والی ہے تو بھی معارضہ فاسد ہے اس لیے کیونکہ اس معارضے کا تعلق متنازع فیہ سے تو نہ ہوا، اس کا تعلق متنازع فیہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
یعنی فرع، فرع کے اندر کیا اختلاف ہے؟ کہ وہ حکم پایا جا رہا ہے وہ حکم پایا نہیں جا رہا، صورت سمجھ میں ا گئی؟ معلم نے کہا تھا یہ ہماری یہ علت ہے اور یہ علت فرع میں پائی جا رہی ہے لہذا یہ حکم ہے۔ سائل نے کیا کر کہا؟ یہ علت نہیں ہے، دوسری علت ہے اور وہ اس فرع کے اندر پائی نہیں جا رہی، فرع کے اندر نہیں پائی جا رہی۔
تو یہ کہنے سے کہ یہ حکم یہ علت فرع میں نہیں پائی جا رہی، یہ ضروری تو نہیں کہ حکم بھی نہ پایا جائے، ہو سکتا ہے حکم کسی اور علت کی وجہ سے ا رہا ہو، حکم کس وجہ سے ا رہا ہو؟ حکم ا سکتا ہے یا نہیں؟ حکم کی کئی علتیں ہو سکتی ہیں تو ہو سکتا ہے حکم کسی اور علت کی وجہ سے ا رہا ہو۔ تو لہذا اگر دوسری علت ذکر بھی کر دیتا ہے اور وہ متعدی ہونے والی بھی ہے پھر بھی اس کا متنازع فیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے بھئی۔ الا انھا تفید عدم تلک العلۃ فیہ، ہاں صرف یہ اتنا فائدہ دے گا کہ وہ علت معدوم ہے اس کے اندر یعنی متنازع فیہ کے اندر، توجہ ہے سبق کی طرف؟
معلم نے کیا کہا تھا؟ کہ وہ علت فرع میں پائی جا رہی ہے۔ سائل نے کیا کہا؟ علت اور چیز ہے وہ فرع میں نہیں پائی جا رہی۔ تو کیا اس سے اس کے علت ٹوٹی؟ جی؟ اس کے علت تو نہیں ٹوٹی، علت تو ایک چیز کی کئی علتیں ہو سکتی ہیں، اس کے علت نہیں ٹوٹی، ہاں صرف اتنا پتہ چلا کہ جو علت سائل نے بتلائی ہے وہ علت فرع کے اندر نہیں پائی جا رہی، وہ علت فرع کے اندر نہیں پائی جا رہی، تو عدمِ علت ہوئی کس کے اندر؟ فرع میں، اور عدمِ علت عدمِ حکم کا فائدہ نہیں دیتا، اپ پہلے پڑھ چکے ضابطہ، عدمِ علت عدمِ حکم؟ کیونکہ عدمی چیز ہو، عدم کے لیے بھی باقاعدہ دلیل چاہیے اپ پڑھ چکے ہیں بحث پیچھے گزری ہے بھئی، نفی کے لیے بھی باقاعدہ کیا چاہیے؟ دلیل چاہیے، علت نہیں ہے اس لیے حکم بھی نہیں ہے، نہیں بھئی نہیں نفی کے لیے باقاعدہ کیا چاہیے؟ دلیل چاہیے۔
سمجھ میں ایا بھئی؟ یہ بحث پیچھے گزر چکی ہے، والاحتجاج بلا دلیل، استدلال کرنا بغیر دلیل کے، کہ دلیل نہیں ہے تو حکم بھی نہیں ہے، یہ بھی اسی قبیل سے ہے نا کہ علت نہیں ہے تو حکم نہیں ہے، یہ اپ پہلے پڑھ چکے ہیں غالباً تقریباً یہ 15-20 صفحے قبل یہ بحث گزری ہے بھئی۔ تو اس سے صرف اتنا سائل نے جو نئی علت بیان کی اس سے صرف اتنا پتہ چلا کہ فرع کے اندر یہ علت نہیں، لیکن اس سے عدمِ علت سے عدمِ حکم کا فائدہ نہیں ایا کیونکہ حکم ہو سکتا ہے کسی اور علت کی وجہ سے ثابت ہو بھئی۔
تو کہتے ہیں وان کان متعدیا اور اگر وہ علت جو ہے متعدی ہونے والی ہو، کانت المعارضۃ ایضاً فاسدۃ تو معارضہ پھر بھی فاسد ہے، لانہ لا تعلق لھا بالمتنازع فیہ اس لیے کیونکہ اس کا تعلق نہیں ہے متنازع فیہ کے ساتھ، اس تعلیل کا کیا ہے؟ تعلق نہیں ہے متنازع فیہ کے ساتھ، الا انھا تفید عدم تلک العلۃ فیہ مگر یہ کہ یہ جو معارضہ ہے یہ فائدہ دیتا ہے کہ وہ علت نہیں پائی جا رہی اس کے اندر یعنی فرع یعنی متنازع فیہ کے اندر، وھو لا یوجب عدم الحکم اور یہ عدمِ حکم کو ثابت نہیں کرتا، عدمِ علت عدمِ حکم کو ثابت نہیں کرتا بھئی۔
صورت سمجھ میں ا گئی بھئی؟ سائل یہاں اعتراض کر سکتا ہے، علت کے اندر تین صورتیں ہیں وہ اب نئی علت بیان کرے گا یا تو وہ ایسے علت ہوگی جو متعدی ہی نہیں ہوتی، یا وہ ایسے علت ہے جو متعدی ہوتی ہے چاہے وہ متعدی ہوتی ہو ایسے فرع کی طرف جس میں سائل اور معترض کا اتفاق ہو چاہے ان کا اختلاف ہو، دونوں صورتوں میں تو بہرحال گویا دو صورتیں ہو گئیں۔ ایک صورت ایسے علت ذکر کی جو متعدی ہی نہیں ہوتی، ایک صورت یہ کہ ایسے علت ذکر کی جو متعدی ہوتی ہے، کہتے ہیں دونوں صورتوں میں یہ معارضہ فائدہ نہیں دے گا، یہ باطل ہے فاسد ہے، اس لیے کیونکہ اگر ایسے علت ذکر کی جو متعدی ہی نہیں ہوتی تو پھر تو یہ تعلیل ہی صحیح نہیں ہے ہمارے نزدیک کیونکہ تعلیل ہے ہوتی ہی کس مقصد کے لیے ہے؟ تعدیہ کے لیے اور تعدیہ تو یہاں نہیں پایا گیا، اور اگر وہ ایسے علت اس نے بیان کی جو متعدی ہونے والی ہے تو بھی اس کا کوئی فائدہ نہیں، یہ معارضہ فاسد ہے، اس لیے کیونکہ یہ صرف اتنا اس نے بتلایا کہ فرع کے اندر یہ علت نہیں پائی جا رہی، اس نے جو علت ذکر کی وہ فرع کے اندر صرف اتنا پتہ لگا یہ علت فرع میں نہیں پائی جا رہی لیکن اور اور لیکن علت کے نہ پائے جانے سے حکم بھی نہ پایا جائے یہ تو ضروری نہیں ہو سکتا، حکم کسی اور علت کی وجہ سے پایا جائے بھئی، لہذا یہ اس قسم کا معارضہ جو اصل کی علت میں کیا جائے وہ درست نہیں ہے، فاسد ہے۔
وکل کلام صحیح فی الاصل، اور ہر ایسا کلام جو صحیح ہو اصل کے اعتبار سے یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے، ہر ایسا کلام جو اپنی ذات کے اعتبار سے صحیح ہو۔ اچھا بھئی پہلے تو سمجھ لیں اس مقام کو، یاد رکھیے اگے یہ بتائیں گے، کہ جب مفارقہ کی، اپ کا کلام اور اعتراض صحیح ہو لیکن اپ اس کو لے کر ائیں کس صورت میں؟ مفارقت کی صورت میں، تو یہ باطل ہے اور فاسد ہے۔ تو لہذا اس کو صحیح کرنے کے لیے اپ اس کو ممانعت کی صورت میں لائیں، کس صورت میں لے کر ائیں؟ بھئی یہ جو اوپر گزرا نا، معارضہ کرنا، کس چیز میں معارضہ کرنا؟ اصل کی علت میں، ابھی جو قسم اوپر بیان ہوئی معارضہ کرنا، معارضہِ خالصہ کی ایک قسم اوپر بیان ہوئی کہ معارضہِ خالصہ ہو اور کس چیز کے اندر ہو؟ اصل کی علت کے اندر کیا جائے، اس کے تینوں قسمیں باطل ہیں بھئی فاسد ہیں۔ تینوں قسمیں کیا ہیں؟ فاسد ہیں، یہ جو معارضہِ خالصہ تھا اصل کی علت میں، یاد رکھیے اس کو مفارقہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ مفارقہ کہتے ہیں، بات سمجھ میں ا گئی؟ تو یہ ابھی پیچھے مفارقہ کا بیان ہو رہا تھا اور اس سے اپ کو پتہ چل گیا، یہ جو مفارقہ ہے اور اس کو تین صورتیں تھیں اور تینوں بتلایا تھا فاسد ہیں باطل ہیں، معلوم ہوا مفارقہ کیا ہے؟ باطل ہے فاسد ہے۔
اب اپ کا ایک اعتراض ہے صحیح ہے، اس کو اگر اپ مفارقہ کی صورت میں لے کر ائیں گے تو وہ باطل ہے مولانا، اس کا کوئی اعتبار نہیں، تو چنانچہ جب ایسا موقع ہو اپ کا اعتراض صحیح ہو تو مفارقہ کی صورت میں اگر کوئی لے کر ایا ہے وہ تو فاسد ہے، پھر اپ کو کیا کرنا چاہیے؟ سائل کو کیا کرنا چاہیے؟ کس صورت میں لے کر ائے اس کو؟ ممانعت کی صورت میں لے کر ائے بھئی ممانعت، اور ممانعت میں کیا کیا جاتا تھا؟ انکار کیا جاتا تھا، یا علت کا یا حکم کا، یا علت کا انکار کیا جاتا تھا یا حکم کا۔
صورت سمجھ، بھئی معارضہ کل بھی میں نے بیان کیا، پرسوں بھی بیان کیا، معارضہ کس کو کہتے تھے؟ معلم نے حکم اور علت بیان کیا، ہم کہتے ہیں ہمیں اپ کا حکم بھی تسلیم، علت بھی تسلیم، لیکن ہم ہمارے پاس ایک دلیل ہے جس سے دوسرا اس کا ضد حکم جو ہے اس کا خلاف حکم ثابت ہو رہا ہے، تو معارضے میں اس کی بات کو تسلیم کر کے پھر اپنی دلیل ذکر کی جاتی تھی بھئی، اور ممانعت میں انکار کر دیا جاتا تھا، ہمیں اپ کی اپ کے علت ہی نہیں تسلیم، ہمیں اپ کے یا ہمیں اپ کا حکم ہی نہیں تسلیم سرے سے بھئی، صورت سمجھ میں ا گئی؟ تو یہ فرق ہے، تو لہذا اسی چیز کو اپ کا ایک اعتراض ہے صحیح ہے، قابلِ قبول ہونا چاہیے اس کو، لیکن اگر اپ اس کو معارضہ فی علت الاصل کی صورت میں لائیں یعنی یوں کہیں اپ اس کو مفارقہ کی صورت میں لائیں تو پھر تو اس کو کیا کر دیا جائے گا؟ وہ رد کر دیا جائے گا، وہ مقبول ہی نہیں ہے وہ فاسد ہے، تو پھر اس کو کس صورت میں لے کر انا چاہیے؟ اگر اپ چاہتے ہیں وہ مقبول ہو تو کس صورت میں لے کر ائیں؟ ممانعت کی صورت میں اس کو لے کر ائیں بھئی، کہ اس کے علت کا یا اس کے حکم کا کیا کریں؟ انکار کر دیں بھئی، صورت سمجھ میں ا گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں وکل کلام، متن کو دیکھیے صرف، وکل کلام صحیح فی الاصل یذکر علی سبیل المفارقۃ فاذکرہ علی سبیل الممانعۃ، ہر ایسا کلام جو اپنی ذات کے اعتبار سے صحیح ہو، ذکر کیا گیا ہو مفارقت کے طریقے پر، پس اپ اس کو ذکر کیجیے علی سبیل الممانعۃ کس طریقے پر؟ ممانعت کے طریقے پر۔
صورت سمجھ میں ا گئی بھئی؟ تو یہ فاذکر، یا تو یہ امر کا صیغہ ہے یا یہ اذکر، فاذکرہ علی سبیل الممانعۃ، ہر ایسا صحیح کلام، ہر ایسا کلام جو ذات کے اعتبار سے صحیح ہو، ذکر کیا گیا ہو مفارقت کے طریقے پر فاذکرہ علی سبیل الممانعۃ میں اس کو کس طریقے پر ذکر کروں گا؟ ممانعت کے طریقے پر ذکر کروں گا بھئی، تو اذکر بھی پڑھ سکتے ہیں بھئی اذکرہ، بلکہ شاید اذکر زیادہ مناسب ہے بھئی یہاں پر، اس لیے کیونکہ بعض دیگر نسخوں میں میں نے دیکھا بھئی وہاں فناذکرہ ایا ہے، کیا ایا ہے؟ ہاں وہ نسخہ تو بڑا بہترین، لیکن یہاں پر ہمزہ ہے تو پھر اپ متکلم کا صیغہ بنا لیں بھئی، فاذکرہ۔
صورت سمجھ میں ا گئی بھئی؟ اور یہ خبر ہے یاد رکھیے فاذکرہ علی سبیل الممانعۃ، میں اس کو کس طریقے پر ذکر کروں گا؟ ممانعت کے طریقے پر ذکر کروں گا۔ یہ خبر ہے، اور یہ خبر پر فا ائی مولانا، فا، اپ نے پڑھا ہے کہ بعض اوقات مبتدا متضمن ہوتا ہے معنیِ شرط کو تو اس کی خبر پر فا کا لانا جائز، اور وہ کون کون سی صورتیں ہیں؟ جی؟ ایسا مبتدا جو ہے ایسا نکرہ ہو جس کی صفت فعل یا جس کی صفت فعل یا ظرف ہو بھئی، جس کی صفت کیا ہو؟ کل رجل یاتینی فلہ درہم، کل رجل یاتینی، دیکھو رجل کی صفت کیا ائی؟ یاتینی، اور یا کل رجل فی الدار، دیکھیے نکرہ کی صفت کیا ائی؟ جار مجرور، تو اگر مبتدا ایسا نکرہ ہو جس کی صفت فعل ہو یا ظرف ہو، تو اس یہ مبتدا متضمن ہوتا ہے معنیِ شرط کو لہذا اس کی خبر پر فا کا لانا جائز، کل رجل یاتینی فلہ درہم، یا اسی طرح ایسا اسم موصول مبتدا جو ہے، مبتدا اگر ایسا اسم موصول ہو جس کا صلہ فعل یا جار مجرور یعنی ظرف ہو، جس کا صلہ کیا ہو؟ پہلی صورت کیا تھی؟ مبتدا ایسا نکرہ ہو جس کی صفت کیا ائے؟ فعل یا ظرف، دوسری صورت مبتدا ایسا اسم موصول ہو جس کا صلہ کیا ائے؟ فعل یا ظرف، تو یہ بھی متضمن ہوتا ہے معنیِ شرط کو تو اس کی خبر پر بھی فا کا لانا جائز، الذی یاتینی فلہ درہم، الذی فی الدار فلہ درہم، تو یہاں بھی ایسے ہے دیکھیے بھئی، کل کلام صحیح فی الاصل، یہ تو ایک صفت ہے، اور یذکر علی دیکھو فعل اگیا یا نہیں صفت بھئی؟
تو ہر ایسا کلام جو ذات کے اعتبار سے صحیح ہو، ذکر کیا گیا ہو مفارقت کے طریقے پر، فاذكره على سبيل الممانعة میں اس کو کس طریقے پر ذکر کروں گا؟ ممانعت کے طریقے پر، تو وہ مقبول ہوگا۔
تو کہتے ہیں: ولكن يذكر على سبيل المفارقة لیکن یہ کہ اس کو ذکر کیا گیا ہو مفارقت کے طریقے پر، التي هي باطلة عند أهل الأصول جو کہ اہل اصول کے نزدیک باطل ہے، فاذكره على سبيل الممانعة تو میں اس کو ذکر کروں گا ممانعت کے طریقے پر، ليخرج عن حيز الفساد إلى حيز الصحة تاکہ وہ نکل جائے فساد کی جگہ سے صحت کی جگہ کی طرف۔ حیز کا معنی: جگہ، تاکہ وہ نکل جائے فساد، کیونکہ وہ پہلے کون سی صورت میں تھا کلام؟ مفارقت کی صورت میں، یعنی معارضہ تھا فی العلة الأصل کی صورت میں، اور معارضہ فی العلة الأصل یعنی مفارقت تو باطل ہے، تو اس کی صورت کے بجائے ہم نے کون سی صورت دے دیں گے اس کو ہم؟ ہم ممانعت والی صورت دے دیں گے، اور ممانعت تو درست ہے بھئی، آپ پڑھ چکے۔
تو کہتے ہیں ہم: میں اس کو ذکر کروں گا ممانعت کے طریقے پر تاکہ وہ نکل جائے فساد کی جگہ سے صحت کی جگہ کی طرف، ويكون مقبولاً بأصله ووصفه معا، تاکہ وہ نکل جائے فساد کی جگہ سے صحت کی جگہ کی طرف، اور تاکہ وہ مقبول ہو جائے اپنے اصل کے اعتبار سے بھی اور وصف کے اعتبار سے بھی معا، یعنی دونوں کے اعتبار سے، دونوں کے اعتبار سے صحیح ہو جائے۔ اصل کے اعتبار سے بھی تاکہ صحیح ہو جائے اور وصف کے بھی، بھئی اصل کے اعتبار سے تو پہلے بھی صحیح تھا، آپ کا اعتراض کیا تھا؟ صحیح تھا، لیکن وصف کے اعتبار سے صحیح نہیں تھا کیونکہ آپ کس کی صورت میں لائے تھے؟ مفارقت کی صورت میں لائے تھے، تو جب آپ اس کو ممانعت کی صورت میں لائیں گے تو اصلاً تو پہلے ہی صحیح تھا، وصفاً بھی کیا ہو جائے گا؟ یعنی صورت بھی اس کی صحیح ہو جائے گی، لہذا اب آپ کا کلام کیا ہوگا؟ مقبول ہوگا۔
کہتے ہیں: وإنما تذكر هذه القاعدة هاهنا، جی، سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ضابطہ یہاں کیوں ذکر کیا؟ مفارقت کی بات کی، پیچھے تو کہیں مفارقت کا ذکر نہیں آیا، اگرچہ میں ربط پہلے بیان کر چکا، شارح اب بیان کر رہے ہیں۔ میں نے کیا بتلایا تھا؟ کہ یہ مفارقت کوئی اور چیز نہیں، یہ وہی تو ہے، المعارضة الخالصة في علة الأصل، اسی کا نام کیا ہے؟ مفارقت ہے، یہی بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: وإنما تذكر هذه القاعدة هاهنا ذکر کیا جاتا ہے اس قاعدے کو یہاں پر، لأن المعارضة في علة الأصل اس لیے کیونکہ معارضہ کرنا کس چیز میں؟ اصل یعنی مقیس علیہ کی علت میں، هي المسماة بالمفارقة عندهم یہی ہے جس کا نام رکھا گیا مفارقت کے ساتھ عندهم، کن کے نزدیک؟ علمائے اصول کے نزدیک۔ لأنه أتى السائل بعلة يقع بها الفرق بين الأصل والفرع، جی، یہاں سے وجہ تسمیہ ذکر کر رہے ہیں کہ یہ جو معارضہ فی العلة الأصل ہے، اس کا نام اصولیین نے مفارقت رکھا، کیا وجہ ہے؟ کیوں مفارقت نام رکھا؟ کہتے ہیں اس لیے: لأنه أتى السائل بعلة اس لیے کیونکہ سائل لے کر آیا ایسی علت، يقع بها الفرق بين الأصل والفرع جس کے ذریعے فرق واقع ہو جاتا ہے کس کے درمیان؟ اصل اور فرع میں فرق ہو گیا، کیونکہ سائل نے ایسی علت ذکر کی جو اصل میں تو پائی جا رہی ہے لیکن فرع میں نہیں، تو دونوں میں فرق ہو گیا، تو اس لیے اس کو مفارقت کہتے ہیں، وهو فاسد عند الأكثر اور یہ فاسد ہے عند الأكثر، کس کے؟ اکثر کے نزدیک، اکثر اصولیین کے نزدیک یہ فاسد ہے، یہ مفارقت اوپر بیان ہو چکا، فإذا أتى السائل بكلام لطيف،
جی، یہاں سے یہ بیان کر رہے ہیں بھئی، آپ کا اعتراض صحیح ہے، لطیف ہے، مقبول ہونا چاہیے، لیکن اگر آپ اس کو کس صورت میں لے کر آئیں تو قبول نہیں ہوگا؟ اگر آپ مفارقت کی صورت میں لے کر آئیں تو وہ قبول نہیں ہوگا، تو لہذا اس کو کس صورت میں لے کر آئیں؟ ممانعت کی صورت میں لے کر آئیں، تو پھر یہی اعتراض کیا ہو جائے گا؟ مقبول ہو جائے گا۔
فإذا أتى السائل بكلام لطيف مقبول في ضمن هذه المفارقة الفاسدة، پس جب لے کر آیا سائل ایسا کلامِ لطیف، لطیف کا معنی ہے: باریک، گہرا، اور مقبول کا معنی: جو صحیح ہو، درست ہو۔ مثلاً سائل ایک اعتراض کرتا ہے، وہ اعتراض مقبول درست بھی ہے اور لطیف بھی ہے، یعنی گہرا اور باریک اعتراض ہے۔ تو جب سائل ایسا گہرا اور باریک اور مقبول اعتراض لے کر کلام لے کر آیا فی ضمن هذه المفارقة الفاسدة کس کے ضمن میں؟ مفارقتِ فاسدہ، تو لطیف کا کیا معنی؟ گہرا اور باریک، اور مقبول کا کیا معنی؟ جو صحیح، اعتراض تو صحیح ہے اور گہرا اور باریک ہے، لیکن اس کو وہ لے کر کس کی صورت میں آیا؟ اگر مفارقت کی صورت میں لے کر آیا تو اسے رد کیا جائے گا، تو لہذا اس کو چاہیے اس لطیف اور مقبول اعتراض کو کس صورت میں لے کر آئے؟ ممانعت کی صورت میں لے کر آئے بھئی۔
فإذا أتى السائل بكلام لطيف مقبول، جب لے کر آئے معترض ایسا کلام جو لطیف ہو، مقبول، اور مقبول ہو، یعنی ذات کے اعتبار سے اس کو مقبول ہونا چاہیے، تو وہ سائل ایسا کلامِ لطیف لایا جو مقبول ہونا چاہیے، في ضمن هذه المفارقة الفاسدة، کس کے ضمن میں لے کر آیا وہ؟ مفارقتِ فاسدہ کی صورت میں اس کو لے کر آیا، فلا بد أن يذكر ذلك الكلام بعينه في ضمن الممانعة، تو ضروری ہوا، اس صورت میں تو وہ فاسد تھا، مفارقتِ فاسدہ کی صورت میں لایا، فلا بد أن يذكر ذلك الكلام بعينه في ضمن الممانعة، تو ضروری ہوا کہ بعینہِ اسی کلام کو ذکر کیا جائے کس کے ضمن میں؟ ممانعت کی، کیونکہ وہ کلام لطیف بھی تھا، مقبول بھی تھا۔ لطیف بھی تھا اور مقبول بھی تھا، نکات والا بھی تھا اور اعتراض بھی درست تھا، مقبول ہونا چاہیے تھا، لیکن جب وہ اس کو مفارقت کے ضمن میں لے کر آیا تو وہ مفارقت تو فاسد تھی، تو ضروری ہوا کہ اس کلام کو کس طریقے پر لایا جائے؟ ممانعت کے ضمن میں لایا جائے، ليكون ذلك الكلام مقبولاً بماليته وهيئته معا، تاکہ وہ کلام مقبول ہو جائے بماليته اپنے مادے یعنی اصل کے اعتبار سے بھی، وهيئته معا اور ساتھ اپنی ہیئت یعنی صورت کے اعتبار سے بھی۔ کلام تو اپنی اصل کے اعتبار سے صحیح تھا، لیکن پہلے کس صورت میں لائے تھے؟ مفارقت کی صورت میں، تو مقبول نہیں تھا۔ اب آپ نے ہیئت بدل دی، صورت بدل دی، کس صورت میں لے آئے؟ ممانعت کی صورت میں، تو اب کیا ہو گیا؟ اپنی ذات کے اعتبار سے بھی اور ہیئت کے اعتبار سے بھی مقبول ہو گیا۔
مثاله ما قال الشافعي رحمه الله، مثال اس کی وہ جو امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: في إعتاق الراهن العبد المرهون إنه لا ينفذ إعتاقه، لأن الإعتاق تصرف من الراهن يلاقي حق المرتهن بالإبطال فكان باطلاً كالبيع.
مثال اس کی وہ جو امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا في إعتاق الراهن العبد المرهون، بھئی دیکھیے، راہن، مرہون، مرتہن جانتے ہیں کہ نہیں جانتے؟ میں آپ کے پاس قرض لینے کے لیے آیا، آپ نے کہا کہ میرے پاس کوئی چیز اپنی بطورِ ضمانت کے رکھوائیے پھر میں آپ کو قرض دوں گا۔ میں نے آپ کے پاس اپنا ایک غلام رہن رکھوا دیا، تو یہ غلام ہوا مرہون بھئی، غلام کیا ہوا؟ مرہون۔ اور میں ہوا راہن جس نے رہن رکھوایا، وہ کون ہے؟ راہن۔ اور جس کے پاس، یعنی آپ کے پاس جو میں نے غلام رکھوایا، آپ ہوئے مرتہن۔ تو راہن رہن رکھوانے والا، مرتہن جس کے پاس رہن رکھوایا جائے، اور مرہون وہ چیز جس کو رہن رکھوایا۔
اب صورت یہ ہے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ راہن اگر اپنے اس مرہون غلام کو آزاد کرنا چاہے تو آزاد نہیں کر سکتا۔ میں، میں نے اپنا غلام آپ کے پاس رہن رکھوایا ہے، میں اس کو آزاد کرتا ہوں کہ میرا غلام میری طرف سے آزاد، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ راہن، حالانکہ یہ غلام کا مالک ہے، صرف دوسرے کے پاس بطورِ رہن کے رکھوایا ہے، لیکن پھر بھی وہ فرماتے ہیں: یہ اس کو آزاد نہیں کر سکتا، اس لیے کیونکہ اگر یہ غلام کو آزاد مانا جائے کہ وہ آزاد ہو گیا ہے، تو اس صورت میں تو مرتہن بیچارے کا حق باطل ہو جاتا ہے۔ مرتہن نے تو یہ غلام کس لیے رکھا ہے اپنے پاس؟ وہ تو اس کے لیے قرضہ وصول کرے گا، تو اس بیچارے کا حق کیا ہو جائے گا اس صورت میں؟ باطل، لہذا امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ راہن اپنے ہی مرہون غلام کو اگر آزاد کرے تو اس کا یہ اعتاق باطل ہے۔ اس کا یہ اعتاق باطل ہے، اس لیے کیونکہ اس صورت میں کیا ہوتا ہے؟ مرتہن کا حق باطل ہوتا ہے، مرتہن کا حق ضائع ہوتا ہے۔ تو لہذا یہ راہن کا یہ اعتاق باطل ہے كالبيع، جیسے کہ بیع، جیسے راہن کی بیع باطل ہے، اسی طرح اس کا یہ اعتاق بھی باطل ہے۔ راہن مثلاً میں، غلام آپ کے پاس گروی رکھوایا ہوا ہے اور میں اس غلام کو آگے کسی کے ہاتھ بیچنا چاہتا ہوں، تو کہتے ہیں: نہیں بیچ سکتا بھئی، کیوں؟ کیونکہ اگر میں بیچوں گا تو خریدار فوراً آئے گا: "میرا غلام میرے حوالے کرو"، اور حالانکہ اس غلام کے ساتھ تو کس کا حق متعلق ہے؟ مرتہن کا حق متعلق ہے، اس نے اس کے ذریعے اپنے پیسے وصول کرنے ہیں، اپنا قرضہ وصول کرنا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: مثال اس کی ما قال الشافعي رحمه الله في إعتاق الراهن العبد المرهون، راہن کے عبدِ مرہون کو آزاد کرنے کے بارے میں جو امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: إنه لا ينفذ کہ نافذ نہیں ہوگا إعتاقه اس راہن کا آزاد کرنا، لأن الإعتاق تصرف من الراهن، اس لیے کیونکہ یہ جو آزاد کرنا ہے، یہ ایسا تصرف ہے راہن کی طرف سے يلاقي حق المرتهن بالإبطال جو مل رہا ہے مرتہن کے حق کے ساتھ باطل کرتے ہوئے اسے، اسے باطل کرتے ہوئے تصرف، یہ موصوف ہے، يلاقي یہ اس کی صفت ہے، یہ کیا ہے اس کی؟ تصرف من الراهن یہ نکرہ ہے نہ تصرف، اور يلاقي نکرہ کے بعد فعل آئے تو اس کی کیا بنتا ہے؟ صفت۔ لأن الإعتاق اس لیے کیونکہ اعتاق جو ہے ایسا تصرف ہے راہن کی طرف سے جو ملاقات کر رہا ہے کس کے ساتھ؟ مرتہن کے حق کے ساتھ اس کو باطل کرتے ہوئے، یعنی اس کی وجہ سے مرتہن کا حق باطل ہو رہا ہے، فكان باطلاً تو یہ اعتاق کیا ہوا؟ باطل ہوا، كالبيع کس کی طرح؟ بیع۔ تو گویا انہوں نے اعتاق کو قیاس کیا بیع پر، تو بیع ہوئی اصل، اور اعتاق کیا ہے؟ فرع ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اب دیکھیے مثال اس کی چل رہی ہے کہ معلل تعلیل کرتا ہے اور سائل اس کو ایک سائل اس کو مفارقت کی صورت میں معارضہ کرتا ہے، اور مفارقت کی صورت میں تو معارضہ صحیح نہیں، لہذا پھر بتائیں گے کہ اس کو ممانعت کی صورت میں یوں اعتراض کرنا چاہیے بھئی اس میں۔
فمن جوز منا المفارقة، پس جس نے جائز قرار دیا ہے ہم میں سے مفارقت کو، یعنی ہم میں سے، ہم احناف میں سے جن فقہاء نے مفارقت کو جائز قرار دیا ہے، قال في جوابه وہ فرماتے ہیں اس کے جواب میں، امام شافعی رحمہ اللہ کے جواب میں، انہوں نے کہا: إن الإعتاق ليس كالبيع کہ اعتاق جو ہے بیع کی طرح نہیں ہے، لأن البيع يحتمل الفسخ، کیونکہ بیع جو ہے وہ احتمال رکھتی ہے فسخ کا، بیع جو ہے فسخ کا احتمال رکھتی ہے، والعتق لا يحتمله، اور عتق جو ہے وہ تو فسخ کا احتمال نہیں رکھتا، فلا يصح القياس، لہذا یہ قیاس صحیح نہیں۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو فرق بیان کر دیا کہ اصل اور فرع دونوں الگ الگ ہیں۔ اصل وہ فسخ کا احتمال رکھتا ہے، اور فرع یعنی اعتاق وہ فسخ کا احتمال نہیں رکھتی۔ تو کہتے ہیں: وهذا الفرق هو المعارضة في علة الأصل، اور یہ جو فرق ہے یہ معارضہ ہے کس کے اندر؟ اصل کی علت میں، یعنی کیا ہے؟ یعنی مفارقت ہے، معارضہ ہے علت کی، اصل کی علت میں معارضہ ہے، تو لہذا اس کو کیا کہتے تھے؟ کیا نام بتایا تھا؟ یہ مفارقت ہے۔ لأن قائله يقول، کیونکہ قائل جو ہے وہ یہ کہتا ہے: إن علة عدم جواز البيع کہ بیع کے جائز نہ ہونے کی جو علت ہے، آپ نے کہا، آپ نے بھئی، آپ نے کہا کہ بیع بھی معلل نے کیا کہا تھا؟ جیسے اس غلام کی جو مرہون ہے اس کی بیع راہن کے لیے جائز نہیں، اسی طرح اس کا اعتاق بھی راہن کے لیے جائز نہیں، تو بیع کو کیا بنایا تھا؟ اصل، اور اعتاق کو کیا بنایا تھا؟ فرع بنایا تھا، اور اصل کا کیا حکم تھا؟ کہ راہن کی اس مرہون شے کی بیع جائز نہیں، جب وہ بیع جائز نہیں تو فرع کا بھی یہی حکم، وہ بھی اعتاق بھی جائز نہیں۔
تو اس نے سائل نے اصل کے علت میں ہی دوسرے علت بیان کی کہ بیع کیوں نہیں جائز؟ بیع کے جائز نہ ہونے کی علت یہ ہے کہ یہ فسخ کا احتمال رکھتی ہے، یہ کس کا احتمال رکھتی ہے؟ فسخ کا احتمال رکھتی ہے، اور یہ علت فرع کے اندر نہیں پائی جا رہی، یعنی اعتاق میں یہ علت نہیں ہے، اعتاق جو ہے وہ فسخ کا احتمال نہیں رکھتا، بیع تو فسخ کا احتمال رکھتی ہے لیکن اعتاق فسخ کا احتمال نہیں رکھتا۔
لأن قائله يقول، اس لیے کیونکہ اس کا قائل جو ہے وہ کہتا ہے: إن علة عدم جواز البيع کہ بیع کے جائز نہ ہونے کی علت جو ہے، كونه محتملاً للفسخ بعد وقوعه، یہ اس بیع کا محتمل للفسخ ہونا ہے بعد وقوعه واقع ہونے کے، بیع واقع ہونے کے بعد بھی فسخ کا احتمال رکھتی ہے، اس وجہ سے بیع جائز نہیں، راہن کی مرہون کی بیع جائز نہیں، راہن کس کی بیع کرے؟ مرہون کی۔ تو یہ جائز نہیں، کیوں نہیں جائز؟ کیونکہ بیع واقع ہونے کے بعد بھی فسخ ہونے کا، بھئی معلل سے فرق کر رہا ہے نہ، نئی علت بیان کر رہا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی کہ یہ علت ہے۔
تو کہتے ہیں: فهذا السؤال، یہ جو سوال ہے یعنی اعتراض ہے، وإن كان مقبولاً في نفسه، اگرچہ یہ مقبول ہے اپنی ذات کے اعتبار سے، اعتراض تو ٹھیک ہے، ولكنه لما جاء به السائل على سبيل المفارقة لا يقبل منه، لیکن جب سائل اس کو مفارقت کے طریقے پر لے کر آیا تو پھر اس سے یہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اعتراض ٹھیک ہے، لیکن کس طریقے پر لے کر آیا؟ مفارقت کے طریقے پر، پھر قبول نہیں کیا جائے گا۔ فكان حقه، تو اس کا حق یہ ہے: أن نورده نحن على سبيل الممانعة، اس سوال کا حق یہ ہے کہ ہم اس کو لے کر آئیں گے کس طریقے پر؟ ہم ممانعت کے طریقے پر لے کر آئیں گے۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ بات کیا چل رہی ہے؟ توجہ ہے؟ ادھر دیکھیں بھئی سبق۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے علت بیان کی، حکم بیان کیا کہ راہن اگر اپنے ہی مرہون غلام کو آزاد کرنا چاہے تو آزاد نہیں کر سکتا، اس کا اعتاق نافذ نہیں ہوگا، جیسے اس کی بیع نافذ نہیں ہوتی، جیسے اس کی بیع نافذ، کیونکہ اس صورت میں وہ مرتہن جو ہے اس کا حق ضائع ہوتا ہے، اس کا حق باطل ہوتا ہے، اس نے تو یہ چیز اپنے پاس کیوں رکھی ہے گروی؟ کیوں رکھی ہے تاکہ اس کے ذریعے اگر وہ آدمی میرے پیسے ادا نہ کرے تو اس کو بیچ کر میں کیا کر لوں گا؟ اپنے پیسے وصول کر لوں گا بھئی۔
تو جواب میں اب ادھر سے سائل معترض جو ہے اعتراض کرتا ہے، کیا کہتا ہے؟ کہ اصل اور فرع یہاں ایک جیسے نہیں، دونوں الگ الگ ہیں، کیونکہ بیع جو ہے وہ واقع ہونے کے بعد بھی فسخ ہونے کا احتمال رکھتی ہے، جبکہ آزادی واقع ہونے کے بعد فسخ ہونے کا احتمال نہیں رکھتی، تو دونوں میں فرق آ گیا، دونوں میں فرق۔ تو گویا کہنے والے کا مطلب یہ ہے کہ بیع جو جائز نہیں، اس کے علت کیا ہے؟ اس کے علت یہ ہے کہ وہ واقع ہونے کے بعد بھی فسخ ہونے کا احتمال رکھتی ہے، یہ کس نے کس طریقے پر کہا ہے اس نے؟ مفارقت کے طریقے پر، مفارقت کے طریقے پر۔
جب مفارقت کے طریقے پر کہا تو پھر یاد رکھیے یہ مردود ہے، یہ فاسد ہے۔ لہذا طریقہ کیا ہے؟ اس کو کس صورت میں لانا چاہیے؟ ممانعت کے طریقے پر لانا چاہیے۔ اعتراض ٹھیک ہے اس کا، لیکن اس کو ممانعت کی صورت میں لایا جائے بھئی۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ اعتراض جب صحیح ہے، اعتراض صحیح ہے، تو مفارقت کی صورت میں کیوں قابلِ قبول نہیں ہے؟ وجہ کیا ہے؟
وجہ ایک تو پہلے ذکر ہو چکی کہ مفارقت کس چیز کا نام ہے؟ وہی معارضہ فی علت الاصل کا نام ہے۔ مفارقت کس چیز کا نام ہے؟ معارضہ فی علت الاصل کا نام ہے، اور معارضہ فی علت الاصل کی تین صورتیں تھیں اور تینوں صورتیں فاسد تھیں۔ کیونکہ معارض یا تو تعلیل کرے، سائل، سائل یا تو تعلیل کرے ایسی علت کے ساتھ جو متعدی ہونے والی نہیں ہے، تو پھر تو سرے سے تعلیل ہی باطل، کیونکہ تعلیل تو ہوتی ہے تعضیہ کے لیے اور تعضیہ یہاں نہیں ہے۔ اور یا وہ سائل جو ہے تعلیل کرے کس کے ساتھ؟ ایسی علت کے ساتھ جو متعدی ہونے والی ہے، تو بھی اس صورت میں صرف اتنا پتہ چلا کہ یہ والی علت جو ہے یہ فرع کے اندر نہیں پائی جا رہی۔
لیکن فرع کے اندر یہ علت نہیں پائی جا رہی، اس سے یہ تو ثابت نہیں ہوا کہ یہ حکم میں بھی نہیں پایا جا رہا، کیونکہ ہو سکتا ہے، ہو سکتا ہے حکم کسی اور علت کی وجہ سے۔ تو مفارقت کی صورت میں اگر یہی اعتراض کیا جائے گا، تو یہ اعتراض کیا ہو جائے گا؟ باطل ہو جائے گا۔ مفارقت کی صورت میں یہ نہ ذکر کرے، کیونکہ مفارقت لائے گا تو اس کا فائدہ کوئی نہیں ہے۔ آپ ایک چیز کی معلل نے ایک علت بیان کی تھی، آپ دوسری علت بیان کر دیں تو اس کی علت پر تو کوئی ضرب نہ آئی بھئی! ایک حکم ہو سکتا ہے کئی علتوں سے ثابت ہوتا ہو۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، ہذا ہو المرام، واللہ عالم بحقیقۃ الکلام۔
حتی لو اجاز المرتہن یہاں تک کہ اگر مرتہن اجازت دے دے لا ینفذ عتاقہ عندک تو بھی اس راہن کا عتاق نافذ نہیں ہوتا آپ کے نزدیک۔ آپ کے نزدیک راہن کا عتاق نافذ نہیں ہوتا۔
بیع کا کیا حکم ہے؟ وہ موقوف رہتی ہے۔ تو یہ ہے اصل۔ ہم اب ممانعت کی صورت میں آ رہے ہیں، ممانعت کی صورت میں۔
اور ہم کیا کہتے ہیں کہ آپ یہ جو قیاس کر رہے ہیں، قیاس کیا جاتا ہے تعضیہ کے لیے۔ قیاس کس لیے کیا جاتا ہے؟ حکم کو متعدی کرنے کے لیے۔ اور حکم متعدی کرنے کے اندر آپ نے شرائط پڑھی تھی کہ حکم میں کوئی تبدیلی نہیں آنی چاہیے۔ جو حکم اصل کا تھا وہی حکم کس کا ہونا چاہیے؟ فرع کا ہونا چاہیے۔ لیکن یہاں اصل کا اور حکم ہے، فرع کا اور حکم ہے۔ اصل کیا تھی؟ موقوف تھی اجازت پر، بعد اگر مرتہن آ کے اجازت دے دے تو وہی بیع کیا ہو جائے گی؟ نافذ۔ لیکن عتاق فرع ہے، فرع کے اندر آپ کہتے ہیں یہ سرے سے ہی باطل ہے۔ مرتہن بعد میں اجازت دے بھی دے تو یہ نافذ ہو ہی نہیں سکتی، یہ ہے ہی سرے سے ہی باطل ہے۔ تو دیکھیے آپ نے کیا کر دیا، حکم کو بدل دیا، حالانکہ اصل اور فرع کا حکم ایک ہونا چاہیے۔
بھئی! صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی، اچھی طرح خلاصہ مختصراً پھر سن لیں۔
مسئلہ یہ چل رہا تھا کہ اگر معارضہ کیا جائے اصل کی علت میں، تو یہ اس کی تین صورتیں بنتی ہیں اور تینوں باطل ہیں بھئی! تینوں فاسد ہیں۔ تینوں فاسد ہیں۔
اور یہی جو معارضہ ہے اصل کی علت میں، اسی کا دوسرا نام کیا ہے؟ مفارقت ہے۔ لہذا اگر آپ کا کوئی اعتراض ہو اور صحیح بھی ہو، تو اگر وہ کسی نے مفارقت کی صورت میں کیا ہے، تو وہ تو باطل ہے، لہذا آپ اس کو کس صورت میں ذکر کیجیے؟ ممانعت کی صورت میں ذکر کیجیے۔ جب آپ اس کو ممانعت کی صورت میں ذکر کریں گے، تو پھر اب آپ کا اعتراض مقبول ہوگا، ورنہ آپ اہل مناظرہ اور اہل اصول کے نزدیک آپ کا اعتراض ہی مقبول نہیں۔
چنانچہ اس کے لیے پھر مثال ذکر کی کہ جیسے امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر راہن اپنے رہن غلام کو آزاد کرے، تو اس کا یہ عتاق باطل ہے۔ جیسے کہ راہن کی بیع جو ہے اسی بیع کرے اسی رہن غلام کی، تو یہ بیع جیسے باطل ہے، اسی طرح عتاق بھی باطل ہے، عتاق بھی۔
تو بیع کو بنایا انہوں نے مقیس علیہ، اور عتاق کو بنایا مقیس۔ اور جب بیع مقیس علیہ جو ہے، وہ جائز نہیں، تو لہذا عتاق بھی جائز نہیں۔
اس پر اگر مفارقت کی صورت میں اعتراض کیا جائے، تو وہ یوں کیا جائے گا، یوں کرتا ہے کوئی اعتراض، کہ آپ نے اصل بنایا بیع کو اور فرع بنایا عتاق کو، لیکن یہ فرع ہے یہ اصل کی طرح نہیں۔ کیونکہ بیع تو فسخ کا احتمال رکھتی ہے، لیکن آزادی فسخ کا احتمال نہیں۔ لہذا قیاس صحیح نہیں۔
تو یہ دیکھیے یہ فرق بیان کر دیا، دونوں کا کیا کر دیا؟ فرق بیان کر دیا، تو یہ مفارقت ہے۔ گویا سائل کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بیع جو ناجائز ہے، یعنی اصل، اصل جو ناجائز ہے اس کی علت یہ ہے کہ وہ وہ فسخ کا احتمال رکھتی ہے واقع ہونے کے بعد بھی، اس وجہ سے وہ جائز نہیں ہے۔ یہ علت ذکر کی۔
جب یہ علت ذکر کی، تو اپنی علت ذکر کی، اور اپنی علت ذکر کرے، تو معلل کی علت پر تو کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ ایک حکم کئی علتوں سے ثابت ہو سکتا ہے بھئی۔ تو لہذا یہ صورت مقبول نہیں۔ تو لہذا اس کو کس صورت میں ذکر کرے پھر؟ ممانعت۔
تو یہاں پر بھی کہے، یہ کہے کہ ہمیں یہ بات تسلیم نہیں ہے کہ آزادی کس کی طرح ہے؟ بیع کی طرح ہے، بیع کی طرح ہے۔
کیونکہ بیع جو ہے اس کا حکم یہ ہے کہ وہ موقوف رہتی ہے مرتہن کی اجازت پر، اور جب اصل کا یہ حکم ہے، تو فرع کا بھی یہی حکم ہونا چاہیے، یعنی عتاق کو بھی مرتہن کی اجازت پر موقوف ہونا چاہیے، لیکن آپ عتاق کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ وہ سرے سے ہی باطل، حتّی کہ بعد میں اگر مرتہن اجازت دے بھی دے، پھر بھی عتاق باطل ہو چکا ہے، وہ نافذ ہی نہیں ہوگا بھئی! نئے سرے سے عتاق کرے تو الگ بات ہے، وہ والا عتاق نافذ نہیں ہوگا۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہذا حکم ایک ہی ہونا چاہیے تھا اصل اور فرع کا، لیکن آپ نے فرع میں جا کر حکم کو بدل دیا بھئی، لہذا یہ درست نہیں آپ کا قیاس بھئی۔ چلیے بس بھئی، ہذا ہو المرام، واللہ عالم بحقیقۃ الکلام۔