Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-141

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 13 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 11
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔141 وَالإِكْرَاهُ وَهُوَ عَطْفٌ عَلَى مَا قَبْلَهُ، وَبِهِ تَمَامُ الأُمُورِ المَعْتَرِضَةِ المَكْتَسَبَةِ، وَهُوَ حَمْلُ الإِنْسَانِ عَلَى مَا يَكْرَهُهُ، وَلاَ يُرِيدُ ذَلِكَ الإِنْسَانُ مُبَاشَرَتَهُ لَوْلاَ أَكْرَهَهُ. وَهُوَ - أَيِ الإِكْرَاهُ - عَلَى ثَلاَثَةِ أَقْسَامٍ؛ لأَنَّهُ إِمَّا أَنْ يَعْدِمَ الرِّضَا وَيُفْسِدَ الاِخْتِيَارَ، وَهُوَ المُلْجِئُ - أَيِ الإِكْرَاهُ المُلْجِئُ - اہلیت کو عارض ہونے والے امور ہم پڑھ رہے تھے۔ آپ نے پڑھا وہ دو قسم پر ہیں: کچھ سماوی ہیں جن میں بندے کے عمل کا کوئی دخل نہیں، اس کے اختیار کا کوئی دخل نہیں، اور کچھ عمل جو ہیں وہ منکسب ہیں یعنی ان میں بندے کے اختیار کا، عمل کا، اس کا دخل ہے بھئی۔ تو اب امورِ منکسبہ میں سے آخری آج اکراہ جو ہے اس کے بارے میں ہم پڑھیں گے بھئی۔ کہتے ہیں: وَالإِكْرَاهُ وَهُوَ عَطْفٌ عَلَى مَا قَبْلَهُ یہ عطف ہے اپنے سے ماقبل پر، وَبِهِ تَمَامُ الأُمُورِ المَعْتَرِضَةِ المَكْتَسَبَةِ اور اسی پر پورے ہوتے ہیں وہ امور جو عارض ہوتے ہیں المکتسبہ اور کون سے ہیں؟ مکتسب ہیں۔ وَهُوَ حَمْلُ الإِنْسَانِ اور وہ انسان کو مج- ابھارنا ہے عَلَى مَا عارض اس فعل پر يَكْرَهُهُ جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔ ایک چیز کسی فعل پر انسان کو آمادہ کرنا اور ابھارنا جسے وہ ناپسند کرتا ہے وَلاَ يُرِيدُ ذَلِكَ الإِنْسَانُ مُبَاشَرَتَهُ اور وہ انسان جو ہے اس فعل کو سرانجام نہیں دینا چاہتا لَوْلاَ أَكْرَهَهُ اگر وہ دوسرا شخص اس کو اس پر اکراہ نہ کرے، اس کو مجبور نہ کرے۔ وَهُوَ - أَيِ الإِكْرَاهُ - عَلَى ثَلاَثَةِ أَقْسَامٍ اور یہ اکراہ جو ہے تین قسم پر ہے۔ یاد رکھیے یہ بتائیں گے کہ اکراہ تین قسم پر ہے: ایک قسم وہ ہے جس میں رضامندی بھی فوت ہو جاتی ہے اور اختیار بھی فاسد ہو جاتا ہے۔ دو چیزیں ہیں: رضامندی اور اختیار۔ تو اس پہلی ایک قسم وہ جس میں رضامندی فوت ہو جائے گی اور اختیار فاسد ہو جائے گا۔ دوسری قسم وہ جس میں رضامندی تو فوت ہو جائے گی لیکن اختیار فاسد نہیں ہوگا، اختیار صحیح رہے گا باقی۔ اور تیسری قسم وہ ہے جس میں نہ رضامندی فوت ہوگی اور نہ اختیار فاسد ہوگا۔ تین قسمیں سمجھ میں آ گئیں بھئی؟ پہلی قسم کون سی؟ جس میں رضامندی بھی فوت ہو جائے اور اختیار بھی فاسد ہو جائے، جیسے کسی کو قتل کی دھمکی دینا، تلوار نکالی دوسرے نے کہ یہ کام کرو نہیں تو میں تمہاری گردن اڑاتا ہوں یا تمہارا ہاتھ- تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹتا ہوں، تو یاد رکھیے اس صورت میں رضامندی بھی ختم اور اختیار بھی فاسد ہو گیا، انسان لاچار ہو گیا بھئی۔ اور دوسری قسم جس میں رضامندی تو ختم ہوتی ہے لیکن اختیار فاسد نہیں ہوتا، جیسے کسی کو دھمکی دی گئی لمبے عرصے تک قید قید کرنے کی بھئی، زنجیروں میں جکڑنے اور قید کرنے کی لمبے عرصے کی دھمکی دی گئی یا اسے سخت زبردست پٹائی کی دھمکی دی گئی بھئی، تو اس صورت میں رضامندی تو ختم ہو جائے گی لیکن اختیار فاسد نہیں بھئی۔ تیسری قسم جس کے اندر رضامندی بھی خ- فوت نہیں ہوتی اور اختیار بھی فاسد نہیں ہوتا، جیسے کسی کو غم پہنچایا جائے اس کے بھئی، بیٹے، بیوی یا والد وغیرہ کو قید کرنے کے ذ- دھمکی کے ذریعے کہ ہم تمہارے بیٹے کو کیا کریں گے؟ قید کر دیں گے یا بیٹی یا والد کو یا بھئی کو کیا کریں گے؟ قید کریں گے، تو یہ تیسری قسم ہے جس میں نہ رضامندی فوت ہوئی ہے اور نہ اختیار فاسد ہوا ہے۔ تو یہی بیان کریں گے دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: وَهُوَ - أَيِ الإِكْرَاهُ - عَلَى ثَلاَثَةِ أَقْسَامٍ یہ اکراہ جو ہے تین قسم پر ہے لِأَنَّهُ إِمَّا أَنْ يَعْدِمَ الرِّضَا وَيُفْسِدَ الاِخْتِيَارَ یا تو یہ اکراہ جو ہے رضامندی کو معدوم کر دے گا، ختم کر دے گا وَيُفْسِدَ الاِخْتِيَارَ إِمَّا أَنْ يَعْدِمَ الرِّضَا وَيُفْسِدَ الاِخْتِيَارَ اور اختیار کو کیا کر دے گا؟ اختیار کو فاسد کر دے گا وَهُوَ المُلْجِئُ اور وہ کون سا اکراہ ہے؟ اکراہِ ملجئ ہے، اس کو اکراہِ ملجئ کہتے ہیں جس میں قتل یا عضو کاٹنے کی دھمکی دی جائے۔ أَيِ الإِكْرَاهُ المُلْجِئُ بِمَا يَخَافُ عَلَى نَفْسِهِ أَوْ عُضْوٍ مِنْ أَعْضَائِهِ اکراہِ ملجئ وہ ہے جس میں خوف ہو اپنی جان اپنی جان کا یا اپنے اعضا میں سے کسی عضو کا بَأَنْ يَقُولَ: إِنْ لَمْ تَفْعَلْ كَذَا لَقَتَلْتُنَّكَ أَوْ لَقَطَعْتُ عَنْكَ يَدَكَ بایں طور کہ یوں کہتا ہے: اگر تو ایسا نہیں کرے گا تو میں تجھے ضرور قتل کر دوں گا یا میں تیرا ضرور ہاتھ کاٹ دوں گا، فَحِينَئِذٍ يَنَعَدِمُ رِضَاؤُهُ وَيَفْسُدُ اختِيَارُهُ البَتَّةَ تو اس صورت میں اس کی رضامندی بھی معدوم ہو جاتی ہے اور اس کا اختیار بھی فاسد ہو جاتا ہے قطعی طور پر۔ أَوْ يَعْدِمَ الرِّضَا وَلاَ يُفْسِدَ الاِخْتِيَارَ یا تو دوسری صورت یہ ہے کہ وہ رضامندی کو خ- فوت کر دے گا، معدوم کر دے گا لیکن اختیار کو فاسد نہیں کرے گا وَهُوَ الإِكْرَاهُ بِالقَيْدِ أَوِ الحَبْسِ مُدَّةً مَدِيدَةً اور وہ اکراہ ہے قید کے ساتھ کہ بیڑیوں میں جکڑ دوں گا، قید بیڑیوں کو کہتے ہیں زنجیروں کو، أَوِ الحَبْسِ یا اکراہ کرنا کس کے ساتھ؟ حبس، قید کر دوں گا میں تجھے مُدَّةً مَدِيدَةً ایک ل- لمبی مدت تک أَوْ بِالضَّرْبِ الَّذِي لاَ يَخَافُ عَلَى نَفْسِهِ التَّلَفَ یا ایسی ضرب کے ساتھ اکراہ جس میں اس کو اپنی جان کے کے تلف ہونے کا خوف نہ ہو، جان جانے کا خوف تو نہیں لیکن البتہ سخت پٹائی کی دھمکی دی ہے فَإِنَّهُ يَبْقَى اختِيَارُهُ حِينَئِذٍ تو اس کا اختیار جو ہے وہ باقی رہے گا اس وقت وَلَكِنْ لاَ يَرْضَى بِهِ لیکن اس پر راضی نہیں، تو رضامندی ختم لیکن اختیار باقی۔ وَلاَ يَعْدِمَ الرِّضَا وَلاَ يُفْسِدَ الاِخْتِيَارَ اور تیسری قسم یہ کہ رضامندی بھی معدوم نہیں اور اختیار بھی فاسد نہیں وَهُوَ أَنْ يُهَمَّ بِحَبْسِ أَبِيهِ أَوْ ابْنِهِ أَوْ زَوْجَتِهِ اور وہ یہ کہ اس کو غمزدہ کیا جائے، غم پہنچایا جائے بِحَبْسِ أَبِيهِ اس کے والد یا اس کے بیٹے یا اس کی بیوی کے قید کے ذریعے أَوْ نَحْوِهِ یا جیسے کوئی قریبی محرم رشتے دار کی قید کے ذریعے فَإِنَّ الرِّضَا وَالاِخْتِيَارَ كِلاَهُمَا بَاقٍ پس رضامندی اور اختیار دونوں اس میں باقی ہیں، دونوں کیا ہیں؟ وَالاِخْتِيَارَ كِلاَهُمَا بَاقٍ دونوں باقی ہیں۔ وَالإِكْرَاهُ بِجُمْلَتِهِ أَيْ بِجَمِيعِ هَذِهِ الأَقْسَامِ لاَ يُنَافِي الخِطَابَ وَالأَهْلِيَّةَ اور اکراہ ان تمام قسموں کے ساتھ وہ منافی نہیں ہے خطاب کے اور اہلیت کے۔ ان تمام صورتیں جتنی بھی ذکر ہوئیں اکراہ کی، تو یہ قسمیں اخت- خطاب اور اہلیت کے منافی نہیں، یعنی انسان پھر بھی اہل رہے گا کیونکہ عقل رکھتا ہے، بالغ ہے اور خطاب بھی ہوگا بھئی۔ وَالإِكْرَاهُ بِجُمْلَتِهِ اور اکراہ اپنی تمام قسموں کے ساتھ أَيْ بِجَمِيعِ هَذِهِ الأَقْسَامِ یعنی ان تمام اقسام کے ساتھ لاَ يُنَافِي الخِطَابَ وَالأَهْلِيَّةَ یہ منافی نہیں ہے خطاب کے اور اہلیت کے لِبَقَاءِ العَقْلِ وَالبُلُوغِ الَّذِي عَلَيْهِمَا مَدَارُ الخِطَابِ وَالأَهْلِيَّةِ بموجب باقی رہنے عقل اور بلوغ کے جس پر خطاب اور اہلیت کا دارومدار ہے، کیونکہ بلوغ بھی باقی، بالغ ہے یہ، اور عقل بھی باقی، تو اہلیت بھی ہے اور خطاب بھی متوجہ ہوگا۔ یعنی شرعی احکام لاگو ہوں گے اس پر۔ وَإِنَّهُ مُتَرَدِّدٌ بَيْنَ فَرْضٍ وَحَظْرٍ وَإِبَاحَةٍ وَرُخْصَةٍ اور وہ متردد ہوگا فرض اور حظر - حظر ممنوع بھئی یعنی حرام - اور اباحت اور رخصت کے درمیان، انہی کے درمیان، انہی کی طرف لوٹے گا۔ انہی چار چیزوں کی طرف وہ لوٹے گا، یعنی وہ کام جس کا اس کو کرنے جس کے کرنے پر اس کو مجبور کیا جا رہا ہے، یاد رکھیے وہ بعض صورتوں میں فرض ہوگا کرنا۔ بعض صورتوں میں جیسے کسی نے تلوار نکالی دوسرے سے کہا: یہ مردار کھاؤ نہیں تو میں تمہیں قتل کر دوں گا، تو یہاں مردار حرام رہا ہی نہیں بلکہ کیا بن گیا؟ حلال بن گیا۔ اب اس کے لیے اس کو کھانا فرض ہے، اگر نہیں کھاتا اور مارا جاتا ہے تو گناہ گار ہوگا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ دیکھو وہ عمل اس پر فرض ہوا اس صورت میں۔ بعض صورتوں میں امر وہ کام پر عمل جو ہے ممنوع ہوگا، حرام ہوگا، جیسے کہ تلوار نکالی کسی نے کہ عورت سے زنا کرو دوسرے سے کہا، تو زنا حرام ہے، حرام ہی رہے گا بھئی، حرام ہی رہے گا۔ تو دیکھیے وہ عمل جس پر اس کو زبردستی کی جا رہی ہے وہ محظور ہے، ممنوع ہے، حرام ہے بھئی۔ اور بعض صورتوں میں وہ امر کیا وہ چی- وہ کام کیا ہو جائے گا؟ مباح ہو جائے گا، جیسے کہ تلوار نکالی روزے دار پر کہ کھاؤ، اس وقت یہ چیز کھاؤ بھئی، روزہ توڑو اپنا، تو اس صورت میں روزہ توڑنا مباح ہو جائے گا اس کے لیے، کیا ہو جائے گا؟ مباح۔ اور بعض اوقات وہ کام جو ہے وہ رخصت ہو جائے گا، جیسے تلوار نکالی کہ زبان سے کلمۂ کفر کہو، کلمۂ کفر، تو اس وقت کلمۂ کفر وہ مباح تو نہیں ہوا لیکن رخصت آ گئی، یہ زبان سے کہہ سکتا ہے بشرطیکہ دل کے اندر تصدیق ہو بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو وہ کام جن پر اکراہ کیا گیا اس پر عمل کرنا بعض صورتوں میں فرض ہوگا، بعض صورتوں میں حرام ہوگا، بعض صورتوں میں مباح ہوگا اور بعض صورتوں میں رخصت ہوگی، وہ ذکر کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَإِنَّهُ مُتَرَدِّدٌ بَيْنَ فَرْضٍ وَحَظْرٍ وَإِبَاحَةٍ وَرُخْصَةٍ اور وہ تردد ہوگا یعنی لوٹنے والا ہے فرض، حظر، اباحت اور رخصت کے درمیان، أَنْ الإِكْرَاهَ أَيِ العَمَلَ بِهِ یعنی کہ اکراہ بھئی اکراہ جو ہے، انہ کی ضمیر اکراہ کو راجع ہے کہ اکراہ جو ہے متردد ہے، وہ لوٹتا ہے ان چیزوں کی طرف، کبھی وہ چے- عمل فرض ہوگا، کبھی ممنوع ہوگا، کبھی مباح ہوگا اور کبھی رخصت۔ أَنْ الإِكْرَاهَ یعنی کہ اکراہ، اکراہ سے کیا مراد ہے؟ أَيِ العَمَلَ بِهِ یعنی اکراہ پر اس پر عمل کرنا جو ہے مُنْقَسِمٌ إِلَى هَذِهِ الأَقْسَامِ الأَرْبَعَةِ وہ تقسیم ہوتا ہے ان چار قسموں کی طرف۔ فَفِي بَعْضِ المَقَامِ العَمَلُ بِهِ فَرْضٌ بعض صورتوں- بعض مقامات کے اندر عمل اس پر فرض ہو جاتا ہے كَأَكْلِ المَيْتَةِ إِذَا أُكْرِهَ عَلَيْهِ بِمَا يُوجِبُ الإِلْجَاءَ جیسے کہ مردار کھانا جب اس پر مجبور کیا جائے اس کے کھانے پر اس چیز کے ساتھ جو الجاء کو ثابت کرے، یعنی اکراہ کون سا ہو؟ ملجئ ہو، جس میں قتل کی دھ- قتل کرنے یا عضو کاٹنے کی دھمکی دی ہے۔ فَإِنَّهُ يَفْتَرِضُ عَلَيْهِ ذَلِكَ پس یہ جو ہے اس مکروہ پر فرض ہو جائے گا، یہ عمل کر لے۔ وَلَوْ صَبَرَ حَتَّى يَمُوتَ عُوقِبَ عَلَيْهِ اور اور یہاں اگر اس نے صبر کیا، نہیں کھایا، رک گیا، یہاں تک کہ مر گیا، اس کو اس نے دوسرے نے قتل کر دیا عُوقِبَ عَلَيْهِ اس پر اس کو سزا دی جائے گی آخرت میں لِأَنَّهُ أَلْقَى نَفْسَهُ إِلَى التَّهْلُكَةِ اس لیے کیونکہ اس نے ڈالا ہے اپنی جان کو ہلاکت میں۔ وَفِي بَعْضِهِ العَمَلُ بِهِ حَرَامٌ اور بعض صورتوں میں اس اکراہ پر عمل حرام ہوگا كَالزِّنَا جیسے کہ زنا ہے وَقَتْلِ النَّفْسِ اور کسی جان کو قتل ق- کرنا المَعْصُومَةِ وہ جان جو معصوم ہے۔ بھئی تلوار نکالی کہ فلاں کو قتل کرو نہیں تو میں تمہیں قتل کرتا ہوں، تو یہ قتلِ نفس پھر بھی حرام ہی رہے گا، زنا پھر بھی حرام ہی رہے گا۔ فَإِنَّهُ يَحْرُمُ فِعْلُهُمَا عِنْدَ الإِكْرَاهِ المُلْجِئِ کیونکہ ان کا فعل حرام رہتا ہے اکراہِ ملجئ کے وقت بھی۔ وَفِي بَعْضِهِ العَمَلُ بِهِ مُبَاحٌ اور بعض جگہوں میں بعض ان میں عمل جو ہے بعض اکراہ کے اندر اس پر عمل کیا ہوگا؟ مباح ہوگا كَالإِفْطَارِ فِي الصَّوْمِ جیسے کہ روزے کے اندر افطار ہے فَإِنَّهُ إِذَا أُكْرِهَ عَلَيْهِ يُبَاحُ لَهُ الفِطْرُ پس جب اس کو مجبور کیا گیا اس افطار پر تو اس کے لیے مباح ہو جائے گا ف- افطار کرنا۔ وَفِي بَعْضِهِ العَمَلُ بِهِ رُخْصَةٌ اور بعض اکراہ کے اندر اس پر عمل کرنا جو ہے وہ رخصت ہوگا كَإِجْرَاءِ كَلِمَةِ الكُفْرِ عَلَى لِسَانِهِ إِذَا أُكْرِهَ عَلَيْهِ يُرَخَّصُ لَهُ ذَلِكَ جیسے کہ کلمۂ کفر کو جاری کرنا اپنی زبان پر جب اس پر مجبور کیا جائے تو اس کو رخصت ہوگی اس کے کرنے کی بِشَرْطِ أَنْ يَكُونَ القَلْبُ مُطْمَئِنًّا بِالتَّصْدِيقِ وَالإِكْرَاهُ مُلْجِئًا بایں شرط کہ اس کا قلب جو ہے وہ تصدیق کے ساتھ مطمئن ہونا چاہیے اور اکراہ بھی ملجئ ہونا چاہیے۔ پھر کلمۂ کفر زبان سے کہہ سکتا ہے لیکن دل میں ایمان ہونا چاہیے۔ وَالفَرْقُ بَيْنَ الإِبَاحَةِ وَالرُّخْصَةِ اچھا بھئی، دو لفظ آئے تھے: بعض صورتوں میں مباح، بعض صورتوں میں رخصت، فرق کیا ہے دونوں میں؟ وہ بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَالفَرْقُ بَيْنَ الإِبَاحَةِ وَالرُّخْصَةِ اباحت اور رخصت میں فرق یہ ہے أَنَّ فِي الرُّخْصَةِ لاَ يُبَاحُ ذَلِكَ الفِعْلُ کہ رخصت کے اندر وہ فعل مباح نہیں ہوتا بَأَنْ تَرْتَفِعَ الحُرْمَةُ بایں طور کہ حرمت اٹھ جائے اور فعل ہی کیا بن جائے؟ مباح بن جائے۔ کلمۂ کفر کبھی بھی جا- کبھی بھی جائز نہیں، حرام ہی ہے، ہمیشہ کیا ہے؟ ہاں، کہنے کی رخصت آ گئی۔ تو وہ کلمۂ کفر تو ابھی بھی حرام ہے لیکن کہنے کی اجازت آ گئی، تو اجازت کے آنے کا یہ معنی نہیں کہ وہ اب حرام رہا ہی نہیں، جائز بن گیا، نہیں نہیں، جائز نہیں۔ بس اللہ کی طرف سے کیا آ گئی؟ سہولت آ گئی، رخصت آ گئی، ہے وہ ابھی بھی حرام۔ تو کہتے ہیں کہ رخصت کے اندر وہ فعل مباح نہیں ہوتا بَأَنْ تَرْتَفِعَ الحُرْمَةُ بایں طور کہ حرمت اٹھ جائے بَلْ يُعَامَلُ مُعَامَلَةَ المُبَاحِ فِي رَفْعِ الإِثْمِ بلکہ اس کے ساتھ مباح والا معاملہ کیا جائے گا فِي رَفْعِ الإِثْمِ گناہ کے اٹھ جانے میں، یعنی گناہ نہیں ہوگا بس، باقی حرام رہے گا۔ وَفِي الإِبَاحَةِ تَرْتَفِعُ الحُرْمَةُ اور اباحت کی صورت میں حرمت ہی اٹھ جاتی ہے، وہ چیز حرام رہتی ہی نہیں بلکہ کیا بن جاتی ہے؟ مباح۔ وَقِيلَ لاَ حَاجَةَ إِلَى ذِكْرِ الإِبَاحَةِ اور کہا گیا ہے کہ اباحت کے ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں لِدُخُولِهَا فِي الفَرْضِ أَوِ الرُّخْصَةِ بموجب اس کے داخل ہو جانے فرض یا رخصت کے اندر۔ یہ فرض یا رخصت میں ہی داخل ہو جاتا ہے، اباحت کو الگ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں، بس وہ اکراہ جس فعل پر کیا جا رہا ہے وہ تین ہی قسم کا ہو سکتا ہے: یا فرض ہوگا یا ممنوع ہوگا یا رخصت ہوگی۔ یہ مباح جو چوتھی قسم ذکر کی یہ نہیں ہے، کیونکہ یہ کس میں داخل؟ یہ فرض میں یا رخصت میں داخل ہے، کس طرح؟ دیکھیے بیان کر رہے ہیں۔ إِذَا كَانَ المُرَادُ بِهَا اس لیے کیونکہ اگر اس اباحت کے ذریعے مراد جو ہے إِبَاحَةُ الفِعْلِ مَعَ الإِثْمِ فِي الصَّبْرِ فَهِيَ الفَرْضُ فعل کا مباح ہو جانا ساتھ گناہ ہونے کے صبر کی صورت میں، رکنے کی صورت میں۔ فعل کا کرنا کیا ہو جائے؟ مباح ہو جائے اور رکنے کی صورت میں کیا ہو؟ گناہ ہوتا ہو فَهِيَ الفَرْضُ تو یہ تو فَهِيَ الفَرْضُ تو یہ تو بس یہ تو فرض ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ فرض میں داخل ہو جائے گا۔ وَإِنْ كَانَ بِدُونِ الإِثْمِ فِي الصَّبْرِ اور اگر وہ بغیر گناہ کے ہو صبر کی صورت میں، بھئی مباح میں تو کرو یا نہ کرو دونوں صورتیں برابر ہوتی ہیں۔ یہاں پر کرنے کے لیے اس اعتبار سے مباح اور نہیں کرو گے، مارے جاؤ گے تو گناہ، تو یہ تو کس میں داخل ہو گیا؟ فرض میں داخل ہو گیا۔ وَإِنْ كَانَ بِدُونِ الإِثْمِ فِي الصَّبْرِ اور اگر وہ بغیر گناہ کے ہو صبر کی صورت میں فَهِيَ الرُّخْصَةُ تو یہ تو رخصت ہے، رخصت ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہ کرنا کی اجازت ہو جائے اور رک جائے تو گناہ نہیں، رک جائے تو گناہ نہیں اور دوسرے نے اس کو قتل کر دیا ہے تو گناہ نہیں بلکہ اس کو شہادت مل گئی بھئی، کلمۂ کفر کو زبان سے جاری ک- زبان پر نہیں لایا وہ بھئی، تو یہ- تو یہ تو رخصت ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ یہ تو رخصت کے اندر داخل ہو گیا۔ فَإِفْطَارُ الصَّائِمِ المُكْرَهِ إِنْ كَانَ مُسَافِرًا فَفَرْضٌ وَإِنْ كَانَ مُقِيمًا فَرُخْصَةٌ پس وہ روزے دار جو مکراہ ہے جس پر اکراہ کیا گیا ہے، اس کا افطار إِنْ كَانَ مُسَافِرًا اگر وہ مسافر ہے، وہ روزے دار مکراہ کیا ہے؟ مسافر ہے فَفَرْضٌ تو اس کا افطار فرض ہے وَإِنْ كَانَ مُقِيمًا اور اگر مقیم ہے فَرُخْصَةٌ تو وہ رخصت ہے بھئی، رخصت ہے۔ وَلَمْ يُوجَدْ مَا يُسَاوِي الإِقْدَامُ وَالاِمْتِنَاعُ فِي الإِثْمِ وَالثَّوَابِ حَتَّى يَكُونَ مُبَاحًا اور نہیں پائی گئی کوئی ایسی چیز کہ يُسَاوِي الإِقْدَامُ وَالاِمْتِنَاعُ فِيهِ کہ برابر ہو اس میں اس پر اقدام کرنا یعنی اس کو کر لینا وَالاِمْتِنَاعُ فِيهِ اور اس میں باز رہنا۔ کوئی ایسی مثال کوئی ایسی صورت نہیں پائی گئی، کوئی ایسی چیز نہیں پائی گئی کہ جس کا کرنا اور رکنا برابر ہو، مباح میں تو کیا ہوتا ہے؟ کرنا اور نہ کرنا دونوں برابر ہوتے ہیں، لیکن یہاں کہتے ہیں کوئی ایسی چیز نہیں پائی جا- پائی گئی، کوئی ہمیں ایسی چیز کوئی ایسی مثال نہیں ملی جہاں پر اس کو اس پر اقدام کرنا، پیش قدمی کرنا، اس فعل کو کر لینا وَالاِمْتِنَاعُ فِيهِ اور اس فعل سے رک جانا برابر ہو فِي الإِثْمِ وَالثَّوَابِ گناہ اور ثواب کے اعتبار سے حَتَّى يَكُونَ مُبَاحًا یہاں تک کہ وہ کیا بن جائے؟ یہاں تک کہ وہ مباح ہو، اس قسم کی کوئی مثال نہیں ملی، تو حق یہی ہے کہ تین ہی قسمیں ہیں یہاں پر اس فعل کی: یا وہ فرض ہوگا یا حرام ہوگا یا رخصت بھئی، مباح جس کے اندر کرنا نہ کرنا برابر ہو اس کی کوئی مثال نہیں ملی بھئی۔ وَلاَ يُنَافِي الاِخْتِيَارَ أَيْ لاَ يُنَافِي الإِكْرَاهُ دیکھیے، فاعل بتلایا، ضمیر کس کو راجع ہے ینا فی کے؟ اکراہ کو۔ اور اکراہ منافی نہیں ہے الاختیا را، کس کے؟ اختیار کے، آگے شرح میں کیا بتلایا؟ اختیار المکرہ بالفتح، کس کے اختیار کے منافی نہیں ہے؟ مکرہ کے اختیار، جس پر زبردستی کی گئی ہے، اس کے اختیار کے منافی نہیں ہے، مکرہ لفظ کہتے ہیں بالفتح، را کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ لیکن الاختیا ر فاسد، لیکن اختیار کیا ہے؟ فاسد۔ بھئی، اکراہ سے مکرہ کا اختیار نہیں ختم ہوتا۔ ہاں، اختیار فاسد ہو جاتا ہے۔ مکرہ کا اختیار ختم نہیں ہوتا، ہاں، اختیار کیا ہو جاتا ہے؟ فاسد۔ ایک آدمی نے تلوار نکالی کہ بیوی کو طلاق دو، نہیں تو تمہاری گردن اڑاتا ہوں۔ اب وہ بیوی کو طلاق بھی دے سکتا ہے اور طلاق کے بجائے تلوار کو بھی قبول کر سکتا ہے، تو اختیار ہے یا نہیں؟ دونوں طرف اپنے اختیار سے جائے گا جس راستے کو بھی اختیار، تو اختیار ختم نہیں ہوتا، اختیار تو ہے، لیکن کس قسم کا اختیار ہے؟ فاسد ہے کیونکہ مرضی نہیں ہے، اس کی مرضی کے بغیر ہوگا کام، تلوار کے ڈر سے کرے گا اگر، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے کہ اکراہ جو ہے وہ اختیار کے منافی نہیں ہے، لیکن اختیار فاسد ہوگا۔ آگے جو آ رہا ہے، فاذا عارضہ اختیار صحیح، یہ متن ہے، یاد رکھیے۔ فاذا عارضہ اختیار صحیح، یہ متن ہے۔ آگے آ رہا ہے دو چار لفظوں کے بعد، وجب ترجیح الصحیح علی الفاسد إن أمكن، یہ بھی متن ہے۔ وجب ترجیح الصحیح علی الفاسد إن أمكن۔ نشان لگا لیا بھئی؟ یہ متن ہے بھئی۔ جی، تو متن میں کیا کہہ رہے تھے کہ اکراہ جو ہے وہ اختیار کے منافی نہیں ہے، فاذا عارضہ اختیار صحیح، پس جب اس کے مقابلے میں اختیارِ صحیح آ جائے، مکرہ کا اختیار تو اختیارِ فاسد، لیکن اس کے مقابلے میں اگر کیا آ جائے؟ اختیارِ صحیح آ جائے، اور وہ کس کا اختیار ہے؟ کہتے ہیں: وہو اختیار المکرِہ بالکسر، وہ مکرِہ کا، زبردستی کرنے والے کا اختیار ہے، کسرہ کے ساتھ بھئی یہ لفظ ہے، را کے کسرہ کے ساتھ۔ وجب ترجیح الصحیح علی الفاسد، تو واجب ہوگا ترجیح دینا صحیح کو فاسد پر۔ ایک اختیار فاسد ہے، کس کا؟ مکرہ کا۔ ایک اختیار کون سا ہے؟ صحیح ہے، مکرِہ کا۔ تو واجب ہوا، کس کو ترجیح دی جائے گی؟ صحیح اختیار کو فاسد اختیار پر، إن أمكن، اگر ممکن ہو سکے۔ اگر ممکن ہو تو ترجیح دی جائے گی اختیارِ صحیح کو اختیارِ فاسد پر، ورنہ ترجیح نہیں دی جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دو اختیار آ گئے بھئی، ایک اختیار مکرہ کا، وہ اختیار کس قسم کا؟ فاسد۔ ایک اختیار مکرِہ کا، وہ اختیار صحیح۔ تو جب دونوں مقابل آ گئے، تو دونوں کے اندر کس کو ترجیح دیں گے؟ صحیح کو، بشرطیکہ ترجیح دینا ممکن ہو۔ ترجیح دینا ممکن، اگر ممکن نہیں ہے، پھر نہیں ترجیح دیں گے، پھر، پھر، تو یاد رکھیے، جب ہم اختیارِ صحیح کو ترجیح دیں گے، تو اس فعل کی نسبت اختیارِ صحیح کی طرف کی جائے گی۔ ضمان وغیرہ مکرِہ پر آئے گا۔ اختیارِ صحیح کس کا ہے؟ مکرِہ کا ہے نا، تو اختیارِ صحیح کو اگر ترجیح دینا ممکن ہو، تو نسبت کس کی طرف کی جائے گی فعل کی؟ صحیح کی، یعنی اختیارِ صحیح کی طرف۔ اور اگر، اگر ممکن نہ ہو اختیارِ صحیح کو اختیارِ فاسد پر ترجیح دینا، تو فعل کی نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ اختیارِ فاسد یعنی مکرہ کی طرف کی جائے گی اور پھر اس صورت میں ضمان وغیرہ مکرہ پر ہی آئے گا۔ دو صورتیں سمجھ میں آ گئیں؟ ایک اختیارِ فاسد، ایک اختیارِ صحیح، اگر، اگر ترجیح دینا ممکن ہو، کس کو ترجیح دیں گے؟ اختیارِ صحیح کو، اگر ترجیح نہیں دے سکتے، پھر تو لازمی بات ہے اختیارِ فاسد ہی کی طرف فعل لوٹے گا اور ضمان اختیارِ فاسد والے پر آئے گا اور وہ کون ہے؟ مکرہ۔ اور اگر ترجیح دینا ممکن ہے اختیار کو، تو پھر کس کو ترجیح دیں گے؟ اختیارِ صحیح کو، لہٰذا ضمان وغیرہ کس پر آئے گا؟ مکرِہ پر، صورت سمجھ میں آ گئی؟ كما في الإكراه على القتل وإتلاف المال، جیسے کہ اکراہ ہے قتل پر اور کسی کا مال تلف کر دینے پر، برباد کر دینے پر، حيث يصلح المكره بالفتح أن يكون آلة للمكره بالكسر، اس حیثیت سے کہ صلاحیت رکھتا ہے مکرَہ جو فتحہ کے ساتھ ہے کہ وہ آلہ بنے مکرِہ کے لیے جو کسرہ کے ساتھ ہے، فيضاف الفعل إلى المكره بالكسر، تو فعل کی نسبت کی جائے گی مکرِہ کی طرف جو کسرہ کے ساتھ ہے۔ بھئی دیکھیے، ایک اختیارِ صحیح ہے، ایک اختیارِ فاسد ہے۔ بعض اوقات اختیارِ صحیح کو ترجیح دینا ممکن ہوتا ہے اور بعض اوقات اختیارِ صحیح کو ترجیح دینا ممکن نہیں ہوتا۔ دیکھیے، ایک آدمی نے دوسرے، تلوار نکالی اور اسے کہا کھانا پڑا ہوا تھا کہ یہ کھانا کھاؤ ورنہ میں تمہاری گردن اڑاتا ہوں۔ اب یہ شخص کھانا کھا لیتا ہے، کھانا فرض کریں کسی اور کا تھا، کھانا کسی اور کا تھا، اب اس نے کھا لیا، اب اس کا اختیار فاسد تھا اور جس کے ہاتھ میں تلوار تھی اس کا اختیار صحیح تھا، لیکن اس کھانے کے فعل کی نسبت اس اختیارِ صحیح کی طرف نہیں ہو سکتی، کس کی طرف؟ اختیارِ صحیح، کیوں نہیں ہو سکتی؟ وجہ یہ کہ فعل کون سا کیا؟ کھانے والا، اور کھانے کا فعل انسان وہ اس میں غیر کے لیے آلہ نہیں بن سکتا کوئی انسان دوسرے کے لیے، اس میں کوئی انسان دوسرے کے لیے آلہ، ہر انسان اپنے منہ سے کھاتا ہے، کسی غیر کے منہ سے کوئی کھا سکتا ہے؟ ہم یہاں یہ کہہ ہی نہیں سکتے کہ یہ کھانے والا آلہ تھا اور وہ جو اکراہ کرنے والا تھا اس کے لیے یہ آلہ تھا، کیونکہ یہ تو اپنے منہ سے کھا رہا ہے اور انسان کبھی بھی غیر کے منہ سے، تو اس کھانے والے کو غیر کے لیے آلہ بنانا صحیح ہی نہیں ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ بعض چیزیں ہم آلات سے کرتے ہیں، مثلاً بھئی میں لکھتا ہوں، قلم سے لکھوں گا، کوئی پٹائی کرتا ہے، سوٹی سے پٹائی کرے گا بھئی، تو وہاں آلے سے کام، لیکن بعض ایسے ہیں وہ آلے کے ساتھ نہیں ہو سکتے بھئی، انسان جب کھاتا ہے، اس غیر، دوسرا اس کے لیے آلہ نہیں بن سکتا، جو بھی کھاتا ہے اپنے منہ سے کھاتا ہے، دوسرے کے، اس کے لیے آلہ نہیں بن سکتا۔ لیکن بعض جگہ دوسرے کے لیے انسان آلہ بن سکتا ہے، مثلاً تلوار نکالی کہ فلاں کو قتل کرو نہیں تو میں تمہیں قتل کرتا ہوں، اس نے اس کو قتل کر دیا مکرہ نے، تو یہ مکرہ یہاں آلہ ہوا، کس کے لیے؟ مکرِہ کے لیے، کیا ہوا؟ لہٰذا قتل کی نسبت مکرِہ کی طرف کی جائے گی اور قصاص اس پر آئے گا جو زبردستی کر رہا ہے۔ بھئی یہاں پر آلہ کیوں قرار دیا آپ نے؟ کہتے ہیں: اس لیے کہ یہاں پر یہ ممکن ہے کہ انسان دوسرے کو قتل کرنے کے لیے ایک، ایک شخص دوسرے کو قتل کرنے کے لیے ایک آدمی کو آلہ بنا لے، کس طرح؟ ایک آدمی نے دوسرے کو اٹھایا اور اٹھا کر دوسرا شخص بیٹھا ہوا تھا اس پر اٹھا کر زور سے دے مارا اس کو، اس بیچارے کی گردن ٹوٹ گئی، وہیں مر گیا بھئی، تو دیکھو، دوسرے کو قتل کرنے کے لیے انسان کو آلہ بنایا یا نہیں؟ تو دیکھو، قتل کے لیے یا کسی کا مال تلف کرنے کے لیے دوسرے کو آلہ بنایا جا سکتا ہے، لیکن کھانے کے لیے دوسرے کو آلہ بنانا ممکن نہیں، تو کھانے کے اندر انسان دوسرے کے لیے آلہ نہیں بن سکتا، لہٰذا یہ کھانا کس کا شمار ہوگا؟ مکرَ ہی کا کھانا شمار ہوگا، مکرِہ کا کھانا شمار، لہٰذا اس صورت کے اندر مکرِہ وہ بھی روزے دار تھا، مکرَہ وہ بھی روزے دار تھا اور اس نے تلوار مکرِہ نے نکالی تھی اور مکرَہ سے کہا تھا کھانا کھاؤ یہ فلاں کا، اس نے کھانا کھا لیا، کس کا روزہ ٹوٹے گا؟ مکرَ ہی کا روزہ ٹوٹے گا کیونکہ کھانے کے اندر کوئی انسان دوسرے کے لیے آلہ نہیں بن سکتا بھئی۔ تو کہتے ہیں: فيضاف الفعل إلى المكره بالكسر، تو نسبت کی جائے گی فعل کی مکرِہ کی طرف، کسرہ کے ساتھ جو ہے لفظ، ويلزمه حكمه، اور اس کا، اس فعل کا حکم اس، اسی پر لازم ہوگا، یعنی مکرِہ پر، وإلا، اور اگر ایسا نہ ہو، أي وإن لم يكن نسبة الفعل إلى المكره بالكسر، اور اگر ممکن نہ ہو فعل کی نسبت کرنا مکرِہ کی طرف جو لفظ کسرہ کے ساتھ ہے، كما في الأقوال وفي بعض الأفعال، جیسے کہ اقوال کے اندر اور بعض افعال کے اندر، اقوال کے اندر بھی بھئی، جن چیزوں کا تعلق قول سے ہے، وہاں پر بھی مکرَہ کو آلہ نہیں بنا سکتے، کیونکہ انسان اپنے منہ سے کلام کرتا ہے، غیر کے منہ سے کلام نہیں کرتا۔ فبقي منسوباً إلى الاختيار الفاسد، تو وہ، وہ فعل منسوب با، باقی رہے گا منسوب ہو کر کس کی طرف؟ اختیارِ فاسد، کیونکہ وہاں ممکن ہی نہیں ہے اس کی نسبت کرنا مکرِہ کی طرف، وهو اختيار المكره بالفتح، فعل باقی رہے گا منسوب ہو کر اختیارِ فاسد کی طرف اور وہ کس کا اختیار ہے؟ کہتے ہیں: وهو اختيار المكره بالفتح، وہ مکرَہ کا اختیار ہے، فجعل المكره مؤاخذًا بفصله، تو مکرَہ جو ہے اس کو مؤاخذ بفعـ، اپنے فعل پر مؤاخذ قرار دیا جائے گا، یعنی اس کا مؤاخذہ کیا جائے گا بھئی۔ ثم فرع على هذا بقوله، پھر اس پر تفریع کی مصنف نے اپنے اس قول کے ساتھ: ففي الأقوال لا يصلح المكره أن يكون آلة لغيره، پس اقوال کے اندر مکرَہ وہ صلاحیت نہیں رکھتا کہ وہ آلہ بنے غیر کے لیے، لأن التكلم بلسان الغير لا يتصور، اس لیے کیونکہ غیر کی زبان سے تکلم کرنا، یہ اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا، فاقتصر عليه، تو یہ قول بھی کس پر رہے گا؟ اس قول کا حکم بھی اس مکرَہ پر ہی بند رہے گا، أي حكم القول، ضمیر کا مرجع بتلایا، فاقتصر کے اندر ہو ضمیر کس کو راجع ہے؟ حکمِ قول، اس قول کا حکم بند رہے گا علیہ، أي على المكره، کس پر؟ مکرَہ پر، فإن كان القول مما لا ينفسخ، پس اگر قول ان چیزوں میں سے ہوا جو فسخ کو قبول نہیں کرتے، جو فسخ نہیں ہوتے، ولا يتوقف على الرضا، اور وہ رضا، رضامندی پر موقوف نہیں ہوتے، لم يبطل بالكره، تو یہ قول، اکراہ کی وجہ سے باطل نہیں ہوگا، كالطلاق ونحوه، جیسے کہ طلاق اور اس جیسی چیزیں ہیں، بھئی اس جیسی کیا چیزیں؟ کہتے ہیں: من العتاق، یعنی کہ آزادی، والنكاح، اور نکاح، والرجعة، اور رجوع کرنا، والتدبير، اور مدبر بنانا، والعفو عن دم العمد، جان بوجھ کر کیا ہوا خون جو ہے اس سے معاف کرنا، واليمين، اور یمین، یعنی تعلیق مراد ہے، والنذر، اور منت ماننا، والظهار، اور ظہار کرنا، یعنی بیوی کو کس کی طرح قرار دینا؟ انت علیّ کظہر امی کہنا کہ تو مجھ پر اسی طرح ہے جیسے میری ماں کی پشت، والإيلاء، اور ایلاء ہے، ایلاء آپ جانتے ہیں، پڑھا ہوگا فقہ میں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس چار ماہ تک اس کے پاس نہ جانے اور اس سے صحبت نہ کرنے کی قسم اٹھا لے، تو یہ ایلاء ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ ایلاء، اور اگر اس پر اس نے عمل کر لیا، تو اس سے بیوی کو طلاق ہو جائے گی، ایک طلاق پڑ جائے گی بھئی، تو لہٰذا اس کو دو کاموں میں سے اب ایک، ایک چیز اس پر ضرور آئے گی، یا اسے قسم کا کفارہ دینا پڑے گا یا اس بیوی کو طلاق ہو جائے گی بھئی۔ والفيء القولي فيه، اور فـ، رجوع کرنا، فیء کا کیا معنیٰ؟ رجوع کرنا، کون سا رجوع؟ القولی، رجوعِ قولی رجوع کرنا فیہ، ایلاء کے اندر بھئی، والإسلام، اور اسلام بھئی۔ بھئی دیکھیے، بات چل رہی ہے کہ اگر اقوال، جو اقوال ہیں اقوال، ان میں قول کی نسبت مکرَ ہی کی طرف کی جائے گی، مکرِہ کی طرف نہیں کی جا سکتی، کیونکہ انسان اپنے منہ سے کلام کرتا ہے، غیر کے منہ سے کلام نہیں کرتا، لہٰذا یہاں مکرَہ کو مکرِہ کے لیے آلہ بنایا ہی نہیں جا سکتا، آلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تو اگر یہ قول جو تھا اس قسم کا تھا جو فسخ کو قبول نہیں کرتے، ان چیزوں میں سے تھا، جیسے طلاق ہے، عتاق وغیرہ بھئی، جیسے طلاق، ایک شخص نے تلوار نکالی کہ بیوی کو طلاق دو ورنہ میں تمہیں قتل کرتا ہوں، عتاق، تلوار نکالی اور اس سے کہا کہ اپنے غلام کو آزاد کرو ورنہ میں تمہیں قتل کرتا ہوں، نکاح، یہ تلوار نکالی کہ اس عورت سے نکاح کرو نہیں تو میں تمہیں کیا کرتا ہوں؟ قتل کرتا ہوں، رجعت، رجوع کرنا کہ تم نے بیوی کو طلاق دی ہوئی ہے، تلوار نکالی کہ رجوع کرو نہیں تو میں تمہیں قتل کرتا ہوں، تدبیر، مدبر بنانا، تلوار نکالی کہ اپنے غلام کو کہو کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو، اسے مدبر بناؤ نہیں تو میں تمہیں قتل کرتا ہوں، والعفو عن دم العمد، جان بوجھ کر کیے ہوئے خون سے معاف کرنا، ایک شخص نے دوسرے سے کیا کرنا تھا؟ قصاص لینا تھا بھئی، ایک تیسرے نے آ کر تلوار نکالی اور اس مقتول کے ولی سے کہا کہ تو اسے معاف کرو نہیں تو میں تمہاری گردن اڑاتا ہوں، والیمین، یا قسم یعنی تعلیق ہے، ایک شخص نے تلوار نکالی اور کہا کہ اپنی بیوی کی طلاق کو اس فلاں گھر کے اندر جانے پر معلق کرو نہیں تو میں تمہیں قتل کرتا ہوں، یا منت کہ فلاں منت مانو نہیں تو میں تمہیں قتل کرتا ہوں، والظہار، کہ ظہار کرو، اپنی بیوی سے کو کہو انت علیّ کظہر امی نہیں تو میں تمہیں قتل کرتا ہوں، والإیلاء، ایلاء پر کہا کہ تم قسم اٹھاؤ کہ تم چار ماہ تک اپنی بیوی کے پاس نہیں جاؤ گے نہیں تو میں تمہیں قتل کرتا ہوں، والفیء القولی فیہ، یا اس کے اندر قولی رجوع کو کہا بھئی کہ کیا کرو؟ قولی رجوع، زبان سے کیا کہو؟ میں رجوع کرتا ہوں، تو اس صورت میں بھی وہ کفارہ وغیرہ وہ آ جائے گا بھئی، والإسلام، اور اسلام بھئی کہ تلوار نکالی اور کافر تھا اس سے کہا کافر کے کلمہ پڑھو، مسلمان ہو نہیں تو میں تمہیں کیا کرتا ہوں؟ قتل کرتا ہوں، تو ان سب صورتوں کے اندر فإن هذه التصرفات كلها لا تحتمل الفسخ، پس یہ سارے تصرفات جو ہیں یہ فسخ کا احتمال نہیں رکھتے، ولا تتوقف على الرضا، اور یہ رضامندی پر موقوف نہیں ہیں، فلو أكره بها أحد، پس اگر مجبور کیا گیا ان پر کسی کو، وتكلم بها، اور اس نے ان پر تکلم کر لیا، لم يبطل بالكره، تو مکرَ، اکراہ کی وجہ سے یہ باطل نہیں ہوں گے، وتنفذ على المكره بالفتح فقط، اور یہ تصرفات نافذ مکرَہ پر ہو جائیں گے صرف، کس پر نافذ ہوں گے صرف؟ مکرَہ پر، وإن كان يحتمله، اور اگر وہ قول ان چیزوں میں سے ہے جو فسخ کا احتمال رکھتے ہیں، ويتوقف على الرضا، اور وہ رضامندی پر موقوف ہے، كالبيع ونحوه، جیسے بیع اور اس جیسی چیزیں ہیں، فيقتصر على المباشر هاهنا أيضًا، تو بھی وہ بند رہے گا سرانجام دینے والے پر ہی یہاں بھی، وهو المكره، اور وہ کون ہے سرانجام دینے والا؟ مکرَہ ہے، إلا أنه يفسد لعدم الرضا، مگر یہ کہ وہ بیع فاسد ہوگی، بیع ہو تو جائے گی لیکن کس قسم کی ہوگی؟ فاسد ہوگی، لعدم الرضا، رضا کے نہ پائے جانے کی وجہ سے، فينعقد البيع فاسدًا، تو بیع فاسد ہو کر منعقد ہو جائے گی، ولو أجازه بعد زوال الإكراه يصح، اور اگر اجازت دے دی اکراہ کے زائل ہو جانے کے بعد، اس کے ختم ہو جانے کے بعد تو یصح، پھر صحیح ہو جائے گی، لأن المفسد زال بالإجازة، اس لیے کیونکہ وہ مفسد جو فساد پیدا کرنے والی چیز تھی وہ ختم ہو گئی اجازت کی وجہ سے، پہلے رضامندی نہیں تھی، اب اجازت دے دی تو رضامندی بھی آ گئی، تو فساد ختم۔ ولا تصح الإقارير كلها، اور اقرار جو ہیں وہ سارے کے سارے، ان میں سے کوئی بھی صحیح نہیں ہے، کوئی اقرار صحیح نہیں ہے، لأن صحتها تعتمد على قيام المخبر بها، اس لیے کیونکہ اقرار کے صحیح ہونے کا دارومدار، اعتماد جو ہے وہ مخبر بہا کے، مخبر بہا جس چیز کے بارے میں خبر دی جا رہی ہے، اس کے بارے میں جس کے بارے میں خبر دی جا رہی ہے، اب تلوار نکالی کہ لوگوں کے سامنے اقرار کرو، میرے اور تمہارے درمیان بیع ہوئی تھی، تو یہ تو ہے اقرار، اور کس چیز کا اقرار کر رہا ہے؟ بیع کے بارے میں کہ تین دن پہلے میرے اور تمہارے درمیان بیع، تو وہ مخبر، مخبر بہی ہے جس کے بارے میں کیا کر رہا ہے وہ؟ خبر دے رہا ہے، اور مخبر بہی صحیح ہے یا باطل ہے؟ ہوئی تھی کوئی تین دن پہلے بیع؟ بیع تو نہیں ہوئی، تو مخبر، مخبر بہی کیا ہے؟ باطل ہے۔ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اقرار کے صحیح ہونے کا دارومدار، اعتماد جو ہے، وہ مخبر بہی کے ہونے پر ہے، وقد قامت الدلالة على عدمه، اور ان اقراروں کی دلالت کس چیز پر ہے؟ علی عدمہ، أي عدم ثبوت المخبر بها، اس مخبر بہا کے نہ ہونے پر ہے بھئی، اس مخبر بہا کے نہ ہونے، بھئی یہاں دلالت ہے، دلالت بتلا رہی ہے کہ مخبر بہا نہیں۔ کس طرح؟ کیونکہ وہ اقرار اپنی جان بچانے کے لیے، تلوار کی وجہ سے اقرار کر رہا ہے، حقیقت میں بیع کے ہونے کی وجہ سے اقرار نہیں کر رہا، تو یہ دلالت موجود ہے۔ لأنه يتكلم دفعًا للسيف عن نفسه، اس لیے کیونکہ وہ تکلم کر رہا ہے تلوار کو دور کرنے کے لیے اپنی جان سے، لا بوجود المخبر بها، مخبر بہا کے پائے جانے کی وجہ سے نہیں، ولا يجوز أن يجعل مجازًا عن شيء، اور اس اقرار کو کسی چیز سے مجاز بھی نہیں قرار دیا جا سکتا، لأنه لا يقصد المجاز مع قيام دليل الكذب، اس لیے کیونکہ مجاز کا ارادہ بھی نہیں کیا جا سکتا جبکہ جھوٹ کی دلیل قائم ہو، وہو اقرار اور وہ کیا ہے اقرار؟ اقرار خود بتلا رہا ہے کہ یہ کیا ہے؟ جھوٹ ہے لہذا حقیقی معنی کا ارادہ بھی نہیں اور مجازی معنی کا ارادہ بھی نہیں ہو سکتا جب جھوٹ پر دلیل موجود ہے۔ والافعال قسمان اور افعال جو ہیں دو قسم پر ہیں۔ احدهما كالأقوالِ ایک ان میں سے اقوال، جیسے کہ اقوال ہیں فلا يصلح أن يكون المكره فيه آلة لغيره تو ان میں صلاحیت نہیں رکھتا کہ مکروہ جو ہے اس میں آلہ ہو غیر کے لیے كالأكل والوطء والزنا جیسے کہ کھانا ہے اور وطی ہے اور زنا ہے فيقتصر على المكره تو یہ فعل بند رہیں گے کس پر؟ مکروہ پر، یعنی اسی کی طرف نسبت کی جائے گی ان افعال کی لأن الأكل بفم الغير لا يتصور اس لیے کیونکہ کھانا غیر کے منہ سے اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا وکذا الوطء بآلة الغير لا يتصور اسی طرح غیر کے آلے سے وطی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ فإذا أكره الإنسان أن يأكل في الصوم يفسد صوم الآكل پس اگر انسان کو مجبور کیا گیا کہ وہ روزے کے اندر کھائے تو کھانے والے کا روزہ فاسد ہوگا ولا يفسد صوم الآمر إن كان صائما اور حکم دینے والے کا روزہ فاسد نہیں ہوگا اگر وہ بھی روزہ دار تھا۔ وكذا لو أكره أن يأكل مال غيره يأثم الآكل دون الآمر اسی طرح اگر کسی کو مجبور کیا گیا کہ وہ غیر کے مال کو کھائے تو کھانے والا گناہ گار ہوگا نہ کہ حکم دینے والا، ولكنهم اختلفوا في حق الضمان لیکن علماء نے اختلاف کیا ہے ضمان کے حق میں، ضمان کے بارے میں فقيل يجب الضمان على المكره دون الآمر کہ ضمان مکروہ پر واجب ہوگا نہ کہ حکم دینے والے پر وإن كان المكره يصلح آلة للآمر من حيث الإتلاف اگرچہ مکروہ صلاحیت رکھتا ہے آلہ بننے کی آمر کے لیے نقصان، اتلاف برباد کرنے کے اعتبار سے، برباد کرنے کے اعتبار سے اگرچہ مکروہ کیا ہے آلہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن پھر بھی ضمان کس پر واجب ہوگا؟ آمر پر نہیں بلکہ مکروہ پر ہی واجب ہوگا۔ کیوں؟ کہتے ہیں لأن منفعة الأكل حصلت له اس لیے کیونکہ کھانے کا نفع اسی کو حاصل ہوا ہے اسی نے کھایا اسی کا پیٹ بھرا ہے بھئی تو کھانے کا فائدہ اسی کو حاصل ہوا ہے اس لیے اسی پر آئے گا ضمان۔ وقيل اور کہا گیا ہے لو أكره على أكل مال نفسه کہتے ہیں اگر اس کو مجبور کیا گیا اپنا ہی مال کھانے پر فإن كان جائعا پس اگر یہ بھوکا تھا لا يجب على الآمر شيء پھر تو حکم دینے والے پر کوئی چیز واجب نہیں، مکروہ خود بھوکا تھا اور اپنا مال اس نے تلوار نکالی کہ یہ اپنا اپنی چیز کھاؤ تو یہ اس نے کھا لی تو اب وہ بھوکا بھی تھا تو حکم دینے والے پر کوئی چیز واجب نہیں لأن منفعته رجعت إلى الآكل اس لیے کیونکہ اس کھانے کا فائدہ کس کی طرف لوٹا؟ آکل، کھانے والے ہی کی طرف۔ وإن كان شبعانا اور اگر وہ شکم سیر تھا، شبعان کسے کہتے ہیں؟ شکم سیر جس کا پیٹ بھرا ہو، تو اگر وہ شکم سیر تھا تجب عليه قيمته تو اب مکروہ پر اس کی قیمت واجب ہوگی لأن منفعته لم ترجع إلى الآكل اس لیے کیونکہ اب کھانے کا نفع کھانے والے کی طرف نہیں لوٹا، وہ تو پہلے ہی پیٹ بھرا ہوا تھا اس کو کھانے کا کوئی فائدہ ہوا؟ ہاں بلکہ تسلیف کا باعث بنا اور زیادہ کھا لیا تو نفع اس کو کوئی نہیں ہوا، لہذا اس صورت میں ضمان کس پر آئے گا؟ مکروہ پر۔ ولو أكره على أكل مال الغير اور اگر مجبور کیا گیا غیر کا مال کھانے پر يجب الضمان على المكره سواء كان جائعا أو شبعانا اور اگر غیر کا مال کھانے پر مجبور کیا گیا تو ضمان مکروہ پر آئے گا چاہے بھوکا تھا یہ مکروہ اور چاہے شکم سیر تھا لأنه من قبيل الإكراه على إتلاف ماله فيجب الضمان اس لیے کیونکہ یہ دوسرے کا مال تلف کر دینے کے پر اکراہ کی قبیل سے ہے، کس قبیل سے ہے؟ دوسرے کا مال برباد کر دینا اکراہ کے ذریعے یہ اس قبیل سے ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ جیسے دوسرے اکراہ کے ذریعے کسی کا مال برباد کر دے کوئی تو اکراہ کرنے والے پر یعنی مکروہ پر ضمان آیا کرتا ہے تو یہاں پر بھی غیر کا کھانا چلا گیا تو لہذا مکروہ پر کیا آئے گا؟ ضمان، تو لہذا فیجب الضمان تو اس پر ضمان واجب ہوگا۔ وکذا إذا أكره إنسان أن يطأ اور اسی طرح جب مجبور کیا گیا کسی انسان کو کہ وہ وطی کرے، صحبت کرے فإن كان مع غير إمرأته پس اگر وہ وطی جو ہے اپنی بیوی کے علاوہ سے یعنی کسی غیر عورت کے ساتھ تھی فيجب عليه الحدُّ تو مکروہ پر حد واجب ہوگی، کس پر؟ ہاں، جو وطی کرنے والا ہے ويكون آثما اور وہ گناہ گار ہوگا ولا ينتقل هذا الفعل إلى الآمر على ما سيأتي اور یہ فعل منتقل نہیں ہوگا آمر کی طرف بنا بر اس کے جو عنقریب آ رہی ہے وجہ۔ وإن كان مع إمرأته اور اگر اپنی بیوی کے ساتھ صحبت پر مجبور کیا بھئی تلوار نکالی في الصوم کس کے اندر؟ روزے کی حالت میں أو في الاعتكاف یا اعتکاف میں أو في الإحرام احرام کی حالت میں أو في الحيض یا حیض کی حالت میں اور ان سب کے اندر تو صحبت کیا ہے؟ حرام ہے۔ فينبغي أن يكون هذا أيضا مقتصرا على الفاعل تو اس صورت میں بھی مناسب یہ ہے کہ یہ فعل کی نسبت کس کی طرف ہونی چاہیے؟ کس پر بند ہونا چاہیے فعل؟ فاعل کرنے والے پر یعنی مکروہ پر ويأثم هو اور یہ کہ وہ مناسب یہ ہے کہ اس کو گناہ گار ہونا چاہیے ويجب ما يجب من القضاء والكفارة والضمان في ماله اور یہ واجب ہونا چاہیے جو واجب ہو قضا، کفارے اور ضمان میں سے کس کے مال کے اندر؟ مکروہ ہی کے مال کے اندر۔ وما رأيت رواية على أنه يرجع به على المكره الآمر أم لا شارح فرماتے ہیں کہ ہم نے ذکر کر دیا یہ وہ افعال ہیں، یہ افعال اور اقوال جو ہیں ان میں نسبت آمر یعنی مکروہ کی طرف نہیں کی جائے گی بلکہ کس کی طرف کی جائے گی؟ مکروہ کی طرف اور ضمان اور گناہ بھی کس پر آئے گا؟ مکروہ پر ہی آئے گا، لیکن مکروہ پھر اس ضمان کے لیے مکروہ پر رجوع کرے گا یا نہیں؟ اس کو تو مکروہ کو اپنی جیب سے مال چلا گیا لیکن کیا پھر اس مال کے لیے وہ مکروہ پر رجوع کرے گا اس سے وصول کرے گا؟ تو کہتے ہیں اس بارے میں میں نے کوئی روایت نہیں دیکھی کتابوں کے اندر کہ یہ لکھا ہو کہ یہ مکروہ پھر کس پر رجوع کرے گا؟ مکروہ پر رجوع کرے گا یا نہیں کرے گا اس کی کوئی روایت مجھے نہیں ملی۔ تو کہتے ہیں وما رأيت رواية اور میں نے یہ روایت نہیں دیکھی اس بات پر على أنه يرجع به على المكره الآمر أم لا کہ یہ مکروہ جو ہے پھر وہ رجوع کرے گا اس مکروہ پر جو حکم دینے والا تھا أم لا یا نہیں۔ والثاني أي القسم الثاني من الأفعال اور دوسری قسم افعال میں سے ما يصلح المكره فيه أن يكون آلة لغيره کہ جس کے اندر مکروہ صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ غیر کے لیے آلہ بن جائے كإتلاف النفس والمال جیسے کہ کسی کے جان اور مال کو تلف کر دینا فإنه يمكن للإنسان پس اس لیے ممکن ہے کسی انسان کے لیے أن يأخذ آخر کہ وہ دوسرے کو پکڑ لے، دوسرے کو اٹھا لے ويلقيه على مال أحد اور اس کو دے مارے، اس کو القاء يلقي کا معنی ڈالنا، مراد ہے اس پر مارنا اور اس کو ڈال دے على مال أحد کسی کے مال پر ليترفه تاکہ اس مال کو کیا کر دے؟ تلف کر دے أو نفس أحد یا اس کو مارے کسی کے جان پر ليقتله تاکہ اس کو کیا کر دے؟ بھئی اس قتل اور مال برباد کرنے میں دوسرے کے لیے آلہ بننا ممکن ہے، ایک انسان دوسرے کے لیے آلہ بن جائے، صورت کیا بتلا رہے ہیں؟ ایک انسان دوسرے کو اٹھایا اٹھا کر پکڑ کر دوسرے پر مارا اس کو مار ڈالا یا کسی دوسرے کی چیز پر اٹھا کر مارا اس سے اس کی وہ چیز تلف ہو گئی تو ان چیزوں کے اندر ایک انسان دوسرے کے لیے کیا بن سکتا ہے؟ آلہ بن سکتا ہے، لہذا یہاں پر فعل کی نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ مکروہ کی طرف اور مکروہ کو آلہ قرار دیا جائے گا۔ پہلے پچھلے افعال میں مکروہ کو آلہ بنانا ممکن ہی نہیں تھا کیونکہ کھانا، زنا کرنا اس میں کوئی انسان دوسرے کے لیے آلہ نہیں بن سکتا۔ فيجب القصاص على المكره بالكسر تو قصاص واجب ہوگا مکروہ پر، یہ لفظ جو ہے کسرہ کے ساتھ ہے یعنی را کے کسرہ کے ساتھ، إن كان القتل عمدا بالسيف اگر قتل جان بوجھ کر ہوا تلوار کے ساتھ لأنه هو القاتل اس لیے کیونکہ وہ مکروہ ہی قاتل ہے والمكره آلة له كالسكين اور مکروہ تو اس کے لیے آلہ ہے جیسے کہ چھری ہوتی ہے وهذا عند أبي حنيفة یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی رحمت واسعہ کے نزدیک ہے وقال محمد وزفر رحمهما الله تعالى يجب على المكره امام محمد اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قصاص صرف مکروہ پر آئے گا۔ امام صاحب تو فرماتے ہیں کس پر؟ مکروہ پر، امام محمد، امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مکروہ پر قصاص آئے گا لأنه هو الفاعل الحقيقي کیونکہ وہ ہے فاعل حقیقی، قتل تو اس نے کیا ہے قصاص اس پر آنا چاہیے نہ کہ مکروہ پر وإن كان الآخر آمرا اگرچہ دوسرا شخص حکم دینے والا ہے۔ وقال الشافعي رحمه الله اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں يجب عليهما قصاص دونوں پر واجب ہوگا أما المكره فلكونه آمرا کیونکہ وہ بوجہ اس کے آمر ہونے کے، وہ حکم دینے والا ہے وأما المكره فلكونه فاعلا اور باقی مکروہ جو ہے بوجہ اس کے کہ وہ فاعل، وہ کرنے والا ہے، تو ایک پر قصاص آیا کہ اس نے قتل ہاتھ سے کیا دوسرے پر قصاص آیا کہ اس کے حکم سے کیا بھئی۔ وقال أبو يوسف رحمه الله اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں لا يجب عليهما دونوں پر قصاص نہیں آئے گا لكون الشبهة دارئة له عنهما اس لیے کیونکہ شبہ جو ہے اس قصاص کو دور کرنے والا ہے عنہما ان دونوں سے، شبہ آ گیا، شبہ آ گیا اس شبہ کی وجہ سے کسی پر بھی قصاص نہیں آئے گا۔ شبہ کیا آیا؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ جس نے قتل کیا وہ بیچارہ مجبور تھا اور جس نے حکم دیا اس نے تو اپنے ہاتھ سے نہیں کیا۔ تو دونوں میں سے کسی پر بھی قصاص نہیں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ جس نے قتل کیا وہ مجبور تھا لہذا شبہ آ گیا اس پر قصاص نہیں اور جس نے حکم دیا اس نے اپنے ہاتھ سے تو قتل نہیں کیا لہذا اس پر بھی قصاص نہیں وکذا الدية على عاقلة المكره اور اسی طرح دیت آئے گی مکروہ کے عاقلہ پر إن كان القتل خطأ اگر قتل کون سا تھا؟ خطا تھا وکذا الكفارة أيضا تجب عليه اور اسی طرح کفارہ بھی واجب ہوگا اس مکروہ پر ہی، قصاص آیا امام صاحب فرماتے ہیں تو کس پر آئے گا؟ مکروہ پر، دیت آئی تو بھی کس پر؟ مکروہ کے عاقلہ پر اور کفارہ آیا تو بھی کس پر آئے گا؟ مکروہ پر آئے گا بھئی، چلیے بس بھئی هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔ آئیے بھئی دعا کر لیں بھئی، دعا کا طریقہ ہمیشہ یاد رکھیے بھئی، شروع میں الحمد للہ ہو اور اس کے بعد چند مرتبہ درود شریف ہو جائے اور پھر دعا ہو، آخر میں پھر درود شریف اور آمین ہو اس سے دعا قبولیت کے قریب ہو جاتی ہے۔ الحمد لله رب العالمين اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله وصحبه وسلم، اللهم صل على سيدنا۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما، اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما، اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما، اے اللہ! ہم اس مجلس کے اندر جتنی بھی دعائیں مانگیں اے اللہ! ان تمام دعاؤں کو قبول فرما، اے اللہ! اے اللہ! ہمیں نیک اعمال کی توفیق نصیب فرما، اے اللہ! ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما، اے اللہ! جتنے حاضرین ہیں اے اللہ! سب کی تمام حاجات پوری فرما، اے اللہ! تمام مشکلات حل فرما، اے اللہ! ہماری تمام حاجات پوری فرما، اے اللہ! آپ کے لیے تو کوئی کام مشکل نہیں، اے اللہ! اے اللہ! ہماری دعاؤں پر کن فرما دیجیے، اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما، اے اللہ! ہماری تمام حاجات پوری فرما، اے اللہ! تمام مشکلات حل فرما، اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما، ہم سب کی قبروں کو منور فرما، اے اللہ! ہم سب کی قبروں کو منور فرما۔ اے اللہ! ایک دین کی ایک اہم اور حاصل کتاب ختم ہونے کے قریب ہے، ہم نے پوری پڑھ لی تقریباً ختم ہونے کے قریب ہے، اے اللہ! اے اللہ! اس کتاب کی برکت سے اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما، اے اللہ! تمام دعائیں قبول فرما، اے اللہ! اس کتاب کا اے اللہ! یقیناً ہم نے ایسا ادب نہیں کیا ہوگا جیسا ادب کرنے کا حق تھا، اے اللہ! ہماری تمام کوتاہیوں کو معاف فرما، اے اللہ! تمام غلطیوں کو معاف فرما، اے اللہ! اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما، اے اللہ! ہم سب کی قبروں کو منور فرما، يا عزيز يا غفار، يا عزيز يا غفار، يا عزيز يا غفار، اے اللہ! ہم سب کی قبروں کو منور فرما، اے اللہ! قبر کی تاریکی اور قیامت کے دن کی شرمندگی اور رسوائی سے ہماری حفاظت فرما، اے اللہ! ہم سب جہنم سے ہم سب کی حفاظت فرما، روایات میں حدیث میں آتا ہے جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے تو جہنم خود کہتی ہے اے اللہ! اس کو مجھ سے دور کر دے اور جو شخص تین مرتبہ جنت مانگتا ہے تو جنت خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس کو میرے اندر لے آ، اے اللہ! ہم سب کی جہنم سے حفاظت فرما، اے اللہ! ہم سب کی جہنم سے حفاظت فرما، اے اللہ! ہم سب کی جہنم سے حفاظت فرما، اے اللہ! ہم سب کو جنت الفردوس نصیب فرما، اے اللہ! ہم سب کو جنت الفردوس نصیب فرما، اے اللہ! ہم سب کو جنت الفردوس نصیب فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! تمام زندگی دین کا کام کرنے کی توفیق نصیب فرما، اے اللہ! ہر قسم کی رکاوٹیں، تکالیف اور پریشانیوں سے ہماری حفاظت فرما، اے اللہ! ہم آپ کے کمزور بندے مشکلات برداشت نہیں کر سکتے، اے اللہ! مشکلات سے ہماری حفاظت فرما، اے اللہ! آسانیاں نصیب فرما، اے اللہ! دینی امور کے اندر بھی، اے اللہ! دنیاوی امور کے اندر بھی، اے اللہ! ہمارے گھروں میں خیر و برکات نازل فرما، اے اللہ! ہمارے گھروں میں دین کا بول بالا فرما، اے اللہ! ہمارے دلوں میں قرآن کی صحیح محبت پیدا فرما، اے اللہ! ہمارے دلوں میں قرآن کا نور ہو، اے اللہ! ہمارے دلوں اور سینوں کے اندر حدیث کا نور ہو، اے اللہ! آپ کی محبت ہو، اے اللہ! آپ کے پیغمبر کی محبت ہو، اے اللہ! پیغمبر کے صحابہ کی محبت ہو، اے اللہ! قرآن کی محبت ہو، اے اللہ! اسلام کی محبت ہو، اے اللہ! ہمیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر صحیح طریقے سے عمل کرنے والا بنا، اے اللہ! ہمیں سنتوں کو پھیلانے والا بنا، اے اللہ! ہر قسم کی اے اللہ! تکالیف سے ہماری حفاظت فرما، اے اللہ! ہمیں سنتوں کو پھیلانے والا بنا۔ اے اللہ! اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما، اے اللہ! ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما، اے اللہ! ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما، اے اللہ! ہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما، اے اللہ! ہمیں ان بندوں میں شامل فرما جن سے آپ اور آپ کے پیغمبر اور آپ کے فرشتے اور آپ کی مخلوقات محبت کرتی ہیں، اے اللہ! ہمیں بھی ان میں شامل فرما، اے اللہ! ہمیں ایسے نیک اعمال کی توفیق نصیب فرما، اے اللہ! ہم پر اپنا خصوصی فضل فرما، اے اللہ! ہم پر اپنا خصوصی فضل فرما۔ اے اللہ! قیامت کے دن بغیر حساب کتاب کے جنت نصیب فرما، اے اللہ! قیامت کے دن جب ہم آپ کے دربار جلال و جمال میں حاضر ہوں تو اس طور پر کہ اے اللہ! آپ بھی ہم سے راضی ہوں، آپ کے پیغمبر بھی ہم سے راضی ہوں، اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما، اے اللہ! میرے جتنے تلامذہ ہیں اے اللہ! ان سب کو دنیا میں بھی عزتیں نصیب فرما، اے اللہ! آخرت میں بھی عزتیں نصیب فرما، اے اللہ! ان کو زندگی میں بھی خوشیاں نصیب فرما، اے اللہ! آخرت میں بھی خوشیاں نصیب فرما، اے اللہ! ان کو زندگی میں آسانیاں ہی آسانیاں نصیب فرما، اے اللہ! ہر قسم کی تکالیف سے حفاظت فرما، اے اللہ! زندگی کے اندر وسیع حلال رزق نصیب فرما، اے اللہ! رزق کی تنگی سے حفاظت فرما، اے اللہ! ہم سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما، اے اللہ! حرام کے ذرے ذرے سے ہماری حفاظت فرما، اے اللہ! ہماری بھی حفاظت قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کی بھی حرام سے حفاظت فرما، اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما، اے اللہ! ہمارا بھی خاتمہ ایمان پر فرما، قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کا خاتمہ بھی ایمان پر فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ! دشمنان اسلام کو تباہ و برباد فرما، اے اللہ! ان کو ذلیل و رسوا فرما، اے اللہ! ان کے مکر و فریب کو انہی پر لوٹا دے، اے اللہ! ان کی سازشوں کو انہی پر لوٹا دے، اے اللہ! یہ فتنے کا زمانہ ہے کہ جیسے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ فتنے کے زمانے میں کوئی شخص شام کو مسلمان ہوگا تو صبح کو کافر ہوگا۔ صبح کو مسلمان ہوگا تو شام کو کافر ہوگا۔ اے اللہ، اس فتنے کے زمانے میں ہمارے ایمان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ، قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کے بھی ایمان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہمیں بھی تمام زندگی دین کا کام کرنے اور دین کے ساتھ ہی جڑے رہنے کی توفیق نصیب فرما۔ اور اے اللہ، قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کو بھی دین ہی کے ساتھ جڑے رہنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، کوئی نیکی آپ کی توفیق کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ اے اللہ، ہمیں نیکیوں کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، ہمیں نیکیوں کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، ہمیں نیکیوں کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، کسی گناہ سے آپ کی توفیق کے بغیر نہیں بچا جا سکتا۔ اے اللہ، ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، حاضرین میں سے کوئی بیمار ہو یا گھروں میں کوئی بیمار ہو تو اس کتاب کی برکت سے اللہ، آپ کے اس علم دین کی برکت سے اللہ، ان سب کو شفا نصیب فرما۔ اے اللہ، ان سب کو صحت اور عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ، میرے تمام تلامذہ کو، اے اللہ، زندگی میں آسانیاں نصیب فرما۔ اے اللہ، ان کے گھروں میں خیر و برکات نازل فرما۔ اے اللہ، خیر و برکات نازل فرما۔ اے اللہ، گھروں میں اطمینان اور سکون نصیب فرما۔ اے اللہ، ہم سب کو گھروں میں اطمینان اور سکون نصیب فرما۔ اے اللہ، ہر قسم کے شر اور فتنے سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما۔ اے اللہ، ہمیں سنتوں پر چلنے والا بنا۔ اے اللہ، ہمیں بدعات اور گمراہیوں کو مٹانے والا بنا۔ اے اللہ، کفر و شرک، گمراہیوں اور بدعات سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، ان کو مٹانے کی ہمیں توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، میرے تمام تلامذہ میں سے ہر ایک کو، اے اللہ، ایسی شمع بنا دے جس سے آگے مزید لاکھوں دین کی شمعیں روشن ہوں، اے اللہ، آپ تو، اے اللہ، آپ تو قادر ہیں، اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہمارے جو عزیز و اقارب وفات پا چکے، اس دنیا سے رخصت ہو گئے، اے اللہ، ان سب کی مغفرت فرما۔ اے اللہ، ان کی لغزشوں سے درگزر فرما۔ اے اللہ، ان کی کوتاہیاں معاف فرما۔ اے اللہ، ان کی مغفرت فرما۔ اے اللہ، ان کی قبروں کو منور فرما۔ اے اللہ، ہمارے جو اساتذہ وفات پا چکے، اے اللہ، ان کو خوشیاں، اے اللہ، ان کی قبروں کو منور فرما۔ اے اللہ، ان کے کروڑ ہا درجات بلند فرما۔ اے اللہ، ان کی جو اہل و عیال اولاد باقی ہیں ان کو خوشیاں نصیب فرما۔ ان کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ ان کی تمام تکالیف اور پریشانیوں کو دور فرما۔ اور اے اللہ، ہمارے جو اساتذہ زندہ ہیں، اے اللہ، ان کو بھی خوشیاں نصیب فرما۔ اے اللہ، تمام تکالیف اور پریشانیوں سے ان کی حفاظت فرما۔ وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ، ان کے تمام کاموں میں آسانی فرما۔ میرے والد محترم حضرت شیخ رحمہ اللہ کے لیے بھی دعا کیجیے۔ اے اللہ، ان کے کروڑ ہا درجات بلند فرما۔ اے اللہ، ان کے کروڑ ہا درجات بلند فرما۔ اے اللہ، ان کے کروڑ ہا درجات بلند فرما۔ اے اللہ، ہمیں بھی ان کی طرح کا تقوی نصیب فرما۔ اے اللہ، ہمیں بھی ان کی طرح کا علم نصیب فرما۔ اے اللہ، ہمیں بھی ان کی طرح کی زندگی اور موت نصیب فرما۔ اے اللہ، اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ، تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ، ہمارے اس وطن کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ، تمام عالم کے مسلمانوں کی نصرت فرما۔ اے اللہ، ان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ، مسلمانوں میں اتفاق اور اتحاد پیدا فرما۔ اے اللہ، ہمیں پھر دین کی طرف لوٹا دے۔ اے اللہ، ہم یقیناً دین سے بہت دور چلے گئے۔ اے اللہ، دنیا کے اندر ہم ڈوبے ہوئے ہیں۔ اے اللہ، ہمیں پھر دین کی طرف صحیح طریقے سے واپس لوٹا دے۔ اے اللہ، ہمیں اتفاق اور اتحاد پیدا فرما دے۔ اے اللہ، کفر کے لیے ہمیں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دے۔ اے اللہ، کفر کو تباہ و برباد فرما۔ اے اللہ، مسلمانوں کو پھر اس دنیا کے اندر غلبہ نصیب فرما۔ اے اللہ، مسلمانوں کو پھر ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ، مجاہدین کی خصوصی مدد اور نصرت فرما۔ اے اللہ، ان کی خصوصی مدد اور نصرت فرما۔ اے اللہ، ان کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ، مجاہدین کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، گھروں میں جس کے جو جو بیمار ہیں، سب کو صحت نصیب فرما۔ میری والدہ اور ہمشیرہ بھی بیمار ہیں، انہوں نے بھی دعاؤں کا کہا، اے اللہ، ان کو صحت اور عافیت نصیب فرما۔ اے اللہ، ان کو اطمینان اور سکون نصیب فرما۔ اے اللہ، ہر قسم کی تکالیف اور پریشانیاں دور فرما۔ اے اللہ، اطمینان اور سکون نصیب فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہمارے اس پڑھنے اور پڑھانے کو قبول فرما۔ اے اللہ، ہمارے اس پڑھنے اور پڑھانے کو قبول فرما۔ اے اللہ، ہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما۔ اے اللہ، ہمیں اپنے ان بندوں میں شامل فرما، اے اللہ، کہ جس جو جس طرف کا رخ کرتے ہیں، آپ کی برکات ان کے ساتھ رہتی ہیں، اے اللہ، ہمیں بھی ان بندوں میں شامل فرما۔ اے اللہ، آپ تو قادر ہیں، اے اللہ، آپ تو قادر ہیں۔ یا عزیز، یا غفار! یا عزیز، یا لطیف! یا رحمن، یا ارحم الراحمین! یا ارحم الراحمین! یا ارحم الراحمین! اے اللہ، ہماری تمام اس مجلس کی تمام دعائیں، اے اللہ، قبول فرما۔ اے اللہ، جتنی دعائیں اس مجلس میں ہم نے مانگی ہیں یا مانگ رہے ہیں، اے اللہ، سب کو قبول فرما۔ میرے ذاتی کام کے سلسلے میں بھی آپ حضرات سے خصوصی دعاؤں کی درخواست ہے۔ دعا فرمائیں، اے اللہ، اس کام کو احسن طریقے سے مکمل فرما۔ اے اللہ، ہر قسم کی رکاوٹوں سے حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہر قسم کی رکاوٹوں سے حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہر قسم کی رکاوٹوں سے حفاظت فرما۔ اے اللہ، اس کو آگے مستقبل میں بھی زندگی بھر کے لیے خیر ہی خیر کا باعث بنا۔ اے اللہ، بے انتہا خیر اور برکت کا باعث بنا۔ ادنی سے ادنی درجے کی تکلیف اور پریشانی سے بھی اس میں حفاظت فرما۔ اے اللہ، زندگی بھر اس میں ادنی سے ادنی درجے کی تکلیف اور پریشانی سے بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ، تمام زندگی اس کو خیر ہی خیر کا باعث بنا۔ اے اللہ، دنیاوی اعتبار سے بھی خیر ہی خیر کا باعث بنا اور اخروی اعتبار سے بھی۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ سال کے اندر اگر میں نے آپ ساتھیوں میں سے کسی کو ڈانٹا ہو یا کسی سے کوئی سخت بات کی ہو تو میں آپ حضرات سے معافی مانگتا ہوں، للہ فی للہ مجھے معاف کر دینا۔ اگرچہ میں نے آپ کے نفع کے لیے ہی کہا ہوگا لیکن اگر ناراض ہوں تو میں آپ سے معافی مانگتا ہوں۔ اے اللہ، ہم سب کی خطاؤں کو معاف فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، تمام، اے اللہ، ان علوم دینیہ سے ہمارے سینوں کو منور فرما۔ اے اللہ، ہمیں، اے اللہ، علم کے ساتھ ساتھ کامل عمل کی بھی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، کامل عمل کی بھی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، اے اللہ، ہم سب کو شہادت کی موت نصیب فرما۔ اے اللہ، وہ شہادت جو دنیاوی اعتبار سے بھی ہو اور اخروی اعتبار سے بھی، اے اللہ، ہم سب کو شہادت کی موت نصیب فرما۔ اے اللہ، ہم سب کو شہادت کی موت نصیب فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ، آپ کے سوا اور کوئی ذات نہیں۔ اے اللہ، آپ کے در کے سوا اور کوئی در نہیں۔ اے اللہ، ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ، ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ، ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ والد صاحب کی کتابوں کی جو اشاعت کا سلسلہ ہے، اس کے لیے بھی خصوصاً دعاؤں کی درخواست ہے۔ آج کل ان حالات کے اندر وہ سلسلے کے اندر بھی کافی تعطل آ رہا ہے۔ اے اللہ، والد صاحب کی کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ تا قیامت جاری و ساری فرما۔ اے اللہ، ہر قسم کی رکاوٹوں سے حفاظت فرما۔ اے اللہ، خوب وسیع اسباب نصیب فرما۔ اے اللہ، خوب وسیع اسباب نصیب فرما۔ اور جو مسودات ان کی کتابوں کے تقریباً دو سو کے لگ بھگ، اس کتابوں کے مسودات جن میں کئی کئی جلدوں میں کتابیں ہیں، اے اللہ، ان سب کو احسن طریقے سے طبع کروانے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، اس علم کو عوام، علماء تک، طلباء تک، عوام تک پہنچانے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اور بھی بہت سے لوگوں نے دعاؤں کا کہا ہے اور دعاؤں کا کہتے رہتے ہیں۔ اے اللہ، آپ تو عالم الغیب ہیں۔ اے اللہ، ان سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ، سب کی مشکلات حل فرما۔ اے اللہ، اس علم دین کی برکت سے ان سب کی مشکلات حل فرما۔ اے اللہ، ان کی سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ، حاضرین کی بھی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ، سب کو عالم باعمل بنا۔ اے اللہ، دینی تعلیم کے اندر کوئی رکاوٹیں ہوں ان کو دور فرما۔ اے اللہ، احسن طریقے سے تعلیم مکمل کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ، موت کے وقت کلمہ نصیب فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ صلی اللہ تعالی علی خیر خلقہ
113 approved lectures · 112 of 113