Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-128

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 12 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 7
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔ 128 وهذه الحقوق أي جنسها سواء كان حقاً لله أو للعبد لا المذكور عن قريب تنقسم إلى أصل خلف يقوم مقام الأصل عند التعذر، فالإيمان أصله التصديق والإقرار جميعاً عند الله تعالى، ثم صار الإقرار وحده أصلاً مستبداً خلفاً عن التصديق في حق أحكام الدنيا. وهذه الحقوق، اور یہ جو حقوق ہیں، أي جنسها، یعنی جنسِ حقوق جو ہیں، سواء كان حقاً لله أو للعبد، چاہے وہ اللہ کا حق ہو یا بندے کا حق ہو۔ تو معلوم ہوا "وهذه الحقوق" سے تمام حقوق مراد ہیں جو ماقبل میں ذکر ہوئے، یعنی جنسِ حقوق، یہ سارے حقوق مراد ہیں، لا المذكور عن قريب، نہ کہ وہ جو قریب میں ذکر کیے گئے، جو قریب میں تو حقوق العباد ذکر ہوئے تو "وهذه الحقوق" کے ذریعے ان کی طرف اشارہ نہیں ہے بلکہ جنسِ حقوق کی طرف اشارہ ہے تو اس میں حقوق الله بھی داخل اور حقوق العباد بھی۔ تو یہ سارے جو حقوق ہیں تنقسم إلى أصل وخلف، یہ تقسیم ہوتے ہیں اصل اور خلف کی طرف۔ خلف، نائب، قائم مقام۔ یہ تقسیم ہوتے ہیں اصل اور نائب کی طرف، ایسا نائب يقوم مقام الأصل عند التعذر، جو اصل کے قائم مقام ہوتا ہے عند التعذر، جب وہ اصل ممکن نہ رہے۔ فالإيمان أصله التصديق والإقرار جميعاً، پس ایمان جو ہے اس کی اصل تصدیق اور اقرار دونوں ہیں عند الله تعالى، اللہ کے نزدیک۔ ایمان کی اصل کیا ہے؟ تصدیق اور دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار، یہ دونوں اصل ہیں ایمان کے اندر۔ ثم صار الإقرار وحده أصلاً مستبداً خلفاً عن التصديق في حق أحكام الدنيا، پھر اقرار اکیلا وہ اصل بن گیا ایسا اصل مستبداً جو مستقل ہے خلفاً عن التصديق، نائب ہے تصدیق سے في حق أحكام الدنيا، دنیاوی احکام کے حق میں۔ ایمان میں اصل تو تصدیق اور اقرار دونوں ہیں لیکن پھر اس کے بعد دنیاوی احکام کے اندر صرف اقرار ہی مستقلاً نائب بن گیا تصدیق سے بھی۔ نائب بن گیا تصدیق سے بھی۔ وجہ یہ کہ تصدیق جو ہے وہ دل کے اندر ہے، دل کا حال کا ہمیں پتہ نہیں چلتا، دل کے حال کا ہمیں پتہ نہیں لگ سکتا۔ تو شرعی احکام جو ہیں وہ ظاہر پر لگتے ہیں، تو ظاہر کے اعتبار سے اگر کوئی زبان سے اقرار کر لے توحید کا تو اس کو مسلمان سمجھا جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو صرف اقرار ہی وہ قائم مقام ہو گیا تصدیق اور اقرار کے مجموعے کا۔ بأن يقوم الإقرار مقامه في حق ترتب أحكامه، بایں صورت کہ اقرار جو ہے وہ قائم مقام ہو گیا اسلامی احکام کے مرتب ہونے کے حق میں، كما في المكره على الإسلام، جیسے وہ شخص جس پر زبردستی کی گئی اسلام پر، کسی کو زبردستی کسی نے مسلمان کیا، وجعل الإقرار مقام مجموع التصديق والإقرار، تو قائم مقام کیا جائے گا اقرار کو تصدیق اور اقرار دونوں کے مجموعے کے۔ اصل کیا ہے؟ تصدیق اور اقرار کا مجموعہ، اور صرف اقرار کو ہی اس مجموعے کا قائم مقام کر دیا جائے گا، وإن عدمت التصديق منه، اگرچہ تصدیق اس کی طرف سے نہ پائی جائے، کیونکہ وہ دل کا حال ہے اس کا ہمیں پتہ نہیں، تو بے شک دل میں تصدیق نہ ہو لیکن زبان سے تو وہ اقرار کر رہا ہے تو اسی اقرار کو دونوں کے مجموعے کا قائم مقام کیا جائے گا اور اس پر اسلامی احکامات جاری ہوں گے۔ ثم صار أداء أحد الأبوين في حق الصغير خلفاً عن أدائه. دیکھئے! آپ نے پڑھا ہے کہ بچہ جو ہے بچہ، یہ غلامی اور حریت کے اندر ماں کے تابع ہوتا ہے۔ کس کے تابع ہوتا ہے؟ ماں اگر آزاد تو بچہ بھی کیا شمار ہوگا؟ آزاد، اور اگر ماں باندی ہے تو بچہ بھی کیا شمار ہوگا؟ غلام شمار ہوگا۔ یہ تو حریت اور رقیت میں ہے، جبکہ دوسری طرف دین کے اعتبار سے آپ نے پڑھا ہے کہ والدین میں سے جو اعلیٰ دین پر ہو، چاہے باپ اعلیٰ دین پر ہو چاہے ماں اعلیٰ دین پر ہو، بچہ اس اعلیٰ دین والے کے تابع ہوگا۔ تو لہذا اگر ماں باپ میں سے کوئی ایک مسلمان ہو، چاہے ماں مسلمان ہو چاہے باپ مسلمان ہو، بچے کو کیا شمار کیا جائے گا؟ مسلمان شمار کیا جائے گا کیونکہ اعلیٰ دین اسلام ہے۔ تو لہذا ماں باپ میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے تو بچے کو بھی کیا شمار کریں گے؟ مسلمان شمار کریں گے اور اس پر اسلامی احکام جاری ہوں گے، کیونکہ بچہ تو عاجز ہے چھوٹا سا ہے، اب وہ تو بول نہیں سکتا، تو اس کو کس کے تابع کر دیں گے؟ جو اعلیٰ دین والا ہے، جو اسلام لے کر آیا، تو اس پر اسلامی احکام جاری ہوں گے یعنی وراثت کے احکام بھی جاری ہوں گے، اس پر نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی اگر بچے کا انتقال ہو گیا وغیرہ۔ کہتے ہیں ثم صار أداء أحد الأبوين، پھر ہو جائے گا والدین میں سے کسی ایک کا ادا کرنا، اس کو یعنی ایمان کو ادا کرنا، توحید، تو والدین میں سے کسی ایک کی جو ادا ہے في حق الصغير خلفاً عن أدائه، وہ صغیر یعنی نابالغ کے حق میں اس نابالغ کی ادا کے نائب ہو جائے گی، اس کے قائم مقام ہو جائے گی، أي أداء الصغير الإيمان، یعنی صغیر کی طرف سے ایمان کی ادا کے قائم مقام ہو جائے گا۔ ایمان کی ادا کس کی طرف سے؟ صغیر کی طرف سے، اس کے اس ادا کے قائم مقام کس کی ادا ہو جائے گی؟ والدین میں سے کسی ایک کی ادا بھی بچے کی ایمان کی ادا کے قائم مقام ہو جائے گی، حتى يجعل مسلماً بإسلام أحد الأبوين، یہاں تک کہ اس کو مسلمان قرار دیا جائے گا والدین میں سے کسی ایک کے مسلمان ہونے سے، ويجري عليه أحكامه بالمیراث وصلاة الجنازة ونحوها، اور اس پر جاری ہوں گے اسلام کے احکام میراث کے اور نمازِ جنازہ اور ان جیسے اور احکام۔ ثم صارت تبعية أهل الدار خلفاً عن تبعية الأبوين في إثبات الإسلام في الصبي. یہ تو ایک صورت تھی، والدین میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے تو بچے کو کیا شمار کیا جائے گا؟ مسلمان شمار کیا جائے گا، والدین کی ادا ہی بچے کی ادا کے قائم مقام ہو گئی، نائب بن گئی اس کی طرف سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اسی طرح اگر مسلمانوں نے کسی جگہ حملہ کیا اور پھر وہاں سے جو قیدی لے کر آئے ان میں مثلاً بچے بھی ہیں، تو یہ بچے جب دار الاسلام میں آئے تو یہ والدین کی تبعیت کے سے کے بعد یہ اہل دار کے تابع ہوتے ہوئے یہ مسلمان شمار ہوں گے۔ اہل دار، بھئی دار الاسلام میں لے آئے نا، دار الکفر سے کہاں لے آئے؟ دار الاسلام، تو جیسے والدین جو ہیں ان کا اسلام بچے کی طرف سے جو ہے وہ قائم بچے کے اسلام کے قائم مقام ہوتا تھا، یہاں پر بھی دار الاسلام ہے تو یہاں پر بھی یہ بچے کے اسلام کے قائم مقام ہو جائے گا اور بچے کو مسلمان سمجھا جائے گا، اگرچہ لے کر کہاں سے آئے؟ کفار سے لے کر آئے ہیں، بچے ہیں لیکن کیا شمار کیا جائے گا؟ مسلمان۔ تو جیسے وہاں پر والدین کا اسلام وہ قائم مقام ہو جاتا تھا بچے کے اسلام کے، اسی طرح یہاں پر بھی دار الاسلام جو ہے، یہاں کا اسلام جو ہے یہ قائم مقام ہو جائے گا کس کے؟ بچے کے اسلام کے قائم مقام ہو جائے گا۔ ثم صارت تبعية أهل الدار خلفاً عن تبعية الأبوين في إثبات الإسلام في الصبي، پھر جو ہے اہل دار یعنی دار الاسلام والوں کا اسلام، دار الاسلام والوں کا اسلام یہ قائم یہ خلفاً عن تبعية الأبوين، یہ نائب بن جائے گا والدین کے تابع ہونے کے في إثبات الإسلام في الصبي، اسلام کے ثابت کرنے میں بچے کے اندر۔ دیکھئے! بچے کے اندر بچے کے اسلام کے قائم مقام کیا چیز ہوتی تھی؟ والدین کا اسلام، والدین کا جو اسلام تھا وہ بچے کے اسلام کے قائم مقام ہو جاتا تھا، اسی کا اسی کا نائب بن جاتا تھا، بچہ تو عاجز ہے وہ تو کر بول نہیں سکتا، تو لہذا والدین کا اسلام ہی اس کے اسلام کے قائم مقام ہو گیا اور یوں سمجھا گیا گویا بچہ بھی کیا ہے؟ مسلمان۔ اسی طرح جب والدین اس والدین کا اسلام بچے کے اسلام کے قائم مقام ہے تو پھر اسی طرح دار الاسلام والوں کا اسلام جو ہے وہ بچے وہ اس والدین کے اسلام کے تابع ہوتے ہوئے بچے کے لیے بچے کے اسلام کے قائم مقام ہو جائے۔ بچے کا اسلام کس کے تابع ہوا؟ والدین کے اسلام کے تابع ہوا۔ تو جب والدین کا اسلام بچے کی طرف سے قائم مقام ہو سکتا ہے تو اسی پر متفرع ہوا کہ دار الاسلام والوں کا اسلام بھی بچے کے اسلام کے قائم مقام ہو سکتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اولاً کس کا اسلام قائم مقام ہوا بچے کے؟ والدین کا، اور جب والدین کا اسلام بچے کے اسلام کے قائم مقام ہو سکتا ہے تو دار الاسلام والوں کا اسلام بھی بچے کے اسلام کے قائم مقام ہو سکتا ہے۔ اب اس کا یہ معنی نہ سمجھنا کہ بچے کے قائم مقام ہوا والدین کا اسلام، اور والدین کے اسلام کے قائم مقام ہوا دار الاسلام والوں کا اسلام۔ یہ تو نائب کا نائب بن جائے گا حالانکہ نائب کا نائب بننا صحیح نہیں۔ کس طرح؟ اولاً بچے کے اسلام کا نائب کس کو بنا دیا؟ بچہ تو اسلام کہہ نہیں سکتا کچھ بول نہیں سکتا تو والدین کا اسلام اس کا نائب ہوا، خلیفہ ہوا، پھر والدین میں سے بھی کوئی نہیں مسلمان لیکن ہم اس کو لے آئے کہاں پر؟ دار الاسلام، والدین تو کافر ہی ہیں، ہم بچے کو دار الاسلام میں لے آئے، تو اس والدین کے اسلام کے تابع کن کا دار الاسلام والوں کا تو والدین کے اسلام کا نائب کون بن جائے گا؟ دار الاسلام والوں کا اسلام، ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ یہ تو نائب کا نائب بننا لازم آ رہا ہے، صورت توجہ ہے سبق کی طرف؟ نائب کس کا بننا ہے؟ بچے کے اسلام کا۔ اولاً کون نائب بنا؟ والدین کا اسلام، پھر والدین کے اسلام کا نائب کون بنا؟ دار الاسلام والوں کا اسلام، نہیں ایسا نہیں ہے۔ جیسے والدین کا اسلام بچے کے اسلام کا نائب ہے، اسی طرح دار الاسلام والوں کا اسلام بھی بچے ہی کے اسلام کا نائب ہے، والدین کے اسلام کا نائب نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ والدین کا اسلام کس کا نائب؟ بچے، اسی طرح دار الاسلام والوں کا اسلام بھی کس کے نائب؟ بچے ہی کے نائب ہے، تو یہ اصل ہی کا نائب بن رہا ہے، نائب کا نائب نہیں۔ لیکن یہ جو متن میں آیا اس سے آپ یہ متن سے بظاہر یوں لگتا ہے کہ نائب کا نائب بن رہا ہے، کس طرح؟ ثم صارت تبعية أهل الدار، پھر اہل دار والوں کا تابع ہونا خلفاً، یہ کیا بن جائے گا؟ خلیفہ بن جائے گا، نائب بن جائے گا عن تبعية الأبوين، والدین کے تابع ہونے کے، والدین کا جو تابع ہونا، والدین کا کے تابع ہونا جو ہے یہ خلیفہ بن جائے گا دار الاسلام والوں کے تابع ہونے کے في إثبات الإسلام في الصبي، بچے کے بچے میں اسلام کے ثابت ہونے میں۔ تو اس عبارت سے بظاہر یہ شبہ پڑتا ہے شاید بچہ والدین کے تابع ہے تو والدین ہوئے والدین کا اسلام نائب ہوا بچے کی طرف سے، اور پھر دار الاسلام والوں کا اسلام تابع ہے والدین کے اسلام کے تو یہ کیا بن گیا؟ نائب کا نائب، نہیں ایسا نہیں ہے، بلکہ دونوں کس کے نائب ہیں؟ بچے کے اسلام کے، تو پھر متن کے عبارت سے تو بظاہر یوں معلوم ہو رہا ہے، نہیں بھئی متن میں یہ بات نہیں بیان کی جا رہی، متن میں یہ کہا جا رہا ہے بھئی کہ جس طرح مراد یہ ہے متن کی، جس طرح والدین کا اسلام بچے کے اسلام کے قائم مقام ہو سکتا ہے تو اسی طرح دار الاسلام والوں کا اسلام بھی بچے کے اسلام کے قائم مقام ہو سکتا ہے۔ صورت سمجھ، جب والدین کے تابع ہو سکتا ہے تو اسی پر متفرع ہوا دار الاسلام والوں کے اسلام کے بھی تابع ہو سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں اسلام کے ثابت کرنے میں في الصبي الذي سباه أهل الإسلام، وہ بچہ الذي سباه، جس کو قید کر لیا ہو، سبا فعل ہے بھئی، الذي سباه أهل الإسلام، جس کو قید کر لیا ہو اہل اسلام نے وأخرجوه إلى دارهم، اور اس کو نکال لائے ہوں وہ اپنے دار یعنی دار الاسلام کی طرف يحكم عليه بالإسلام في الصلاة عليه بحكم التبعية، تو اس پر حکم لگایا جائے گا اسلام کا في الصلاة عليه، اس پر نماز پڑھنے میں یعنی نمازِ جنازہ پڑھنے میں بحكم التبعية، کس طریقے پر؟ تابع ہونے کے حکم طریقے پر، تابع ہونے کے حکم پر۔ وليس هذا خلفاً عن خلف، اور یہ خلف کا خلف نہیں ہے، نائب کا ایسے نائب نہیں بل كل ذلك خلف عن أداء الصغير، بلکہ ہر ایک نائب ہے صغیر کی ادا سے ولكن البعض مرتب على البعض، لیکن بعض بعض پر کیا ہے؟ یعنی ایک جو ہے وہ مرتب ہو رہا ہے دوسرے پر بھئی، ایک مرتب ہو رہا ہے کس طرح مرتب ہو رہا ہے؟ کہ جس طرح والدین بچے کے نائب ہو سکتے ہیں تو اسی پر متفرع ہوا کہ اہل دار الاسلام والے بھی کیا ہو سکتے ہیں بچے کے اسلام کے نائب ہو سکتے ہیں۔ وكذلك الطهارة بالماء أصل والتيمم خلف عنه، اور اسی طرح طہارت بالماء، پانی سے پاکی جو ہے وہ اصل ہے والتيمم خلف عنه، اور تیمم اس کا نائب ہے وهذا القدر بلا خلاف، اور اتنی مقدار تو بغیر اختلاف کے ہے، یعنی اس بات میں تو اتفاق ہے بغیر اختلاف کے کہ طہارت بالماء اصل ہے اور طہارت بالتیمم کیا ہے؟ نائب ہے اس سے۔ ثم هذا الخلف عندنا مطلق، پھر یہ نائب ہونا ہمارے نزدیک مطلق ہے۔ یہ نائب ہونا ہمارے نزدیک، ہمارے نزدیک تیمم جو ہے وہ طہارتِ مطلقا ہے جس طرح وضو طہارتِ مطلقا ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک تیمم جو ہے طہارتِ ضروریہ ہے۔ ضرورت کی بنا پر اس کی اجازت دی گئی کیونکہ بندے کے ذمہ نماز ہے اس نے ادا کرنی ہے، اب اگر پانی نہیں ملتا یا پانی کے استعمال پر قادر نہیں ہے اور اس وقت بھی وہ طہارت کے حاصل کرنے کی کوئی صورت نہیں، پانی نہیں ہے، تیمم کو جائز نہ قرار دیا جائے تو وہ تو ادا پر ہی قادر نہ ہو سکے گا کیونکہ نماز کی ادا تو بغیر طہارت کے نہیں ہو سکتی، تو لہذا ضرورت کی بنا پر شریعت نے اجازت دے دی کہ ادا اس نے کرنی ہے اور ضرورت ہے اس کو، لہذا یہ کیا کر لے پھر؟ مٹی سے تیمم کر لے اور پھر ادا کر لے نماز کو بھئی، تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ طہارتِ ضروریہ ہے، جبکہ ہمارے نزدیک یہ طہارتِ مطلقا ہے۔ طہارتِ مطلقا ہے، فرق یہ ظاہر ثمرہ اختلاف یہ ظاہر ہوگا کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک چونکہ یہ طہارتِ ضروریہ ہے الضروري يتقدر بقدر الضرورة. لہٰذا ضرورت کے بقدر ہی اس کو مانا جائے گا لہٰذا ایک فرض نماز اس سے ادا کر سکتا ہے۔ کیا کر سکتا ہے؟ ایک سے ضرورت پوری ہوگئی۔ اگلی نماز کے لیے پھر دوبارہ تیمم کرے اگر پانی نہیں ملتا۔ اسی طرح وقت کے اندر اندر تیمم رہے گا، پاکی ہے وقت کے گزرتے ہی تیمم ختم ہو جائے گا بھائی। وقت کے نکلتے ہی، ظہر کے وقت کیا تھا، تیمم ظہر کا وقت جیسے ہی نکلے گا تیمم ختم ہوا بھئی۔ تو ایک تیمم سے وہ کہتے ہیں دو فرض نمازیں نہیں پڑھ سکتا، اگلی کے لیے نیا تیمم کرے بھئی۔ کیونکہ طہارتِ ضروریہ ہے تو لہٰذا ضرورت کے بقدر ہی اس کی اجازت ہے تو ایک سے ضرورت کیا ہوگئی؟ پوری ہوگئی، ایک ادا کر لی اس نے نماز، دوسری کے لیے پھر نیا کرے۔ اور فرض نماز کی بات کی نوافل پڑھ سکتا ہے فرض کے تابع اسی وقت کے اندر نوافل بھی، نوافل جتنے وہ پڑھنا چاہے اسی تیمم سے پڑھ سکتا ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک تیمم طہارتِ مطلقہ ہے اور جیسے ایک وضو کے ذریعے جتنی نمازیں پڑھنا چاہے انسان پڑھ سکتا ہے۔ ایک وضو جو ہے کیا ہے وقت کے گزرنے سے وضو پر کوئی اثر نہیں پڑتا اسی طرح تیمم کے ذریعے بھی جتنی نمازیں فرض پڑھنا چاہے پڑھ سکتا ہے اور وقت کے گزرنے سے تیمم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، ہاں جب پانی ملے گا تو پھر وضو ضروری ہو جائے گا جب پانی کے استعمال پر وہ قادر ہو جائے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو کہتے ہیں "ثم هذا الخلف عندنا مطلق" پھر یہ جو نائب ہے ہمارے نزدیک مطلق ہے "حتى يرتفع الحدث بالتيمم" یہاں تک کہ حدث اٹھ جائے گا تیمم کی وجہ سے۔ وہ کہتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کہ تیمم سے حدث یعنی بے وضو ہونا یہ اٹھتا ہی نہیں ہے۔ تیمم صرف ساتر للحدث ہے، حدث کو ڈھانپ دیتا ہے، چھپا دیتا ہے حدث اٹھتا نہیں، ختم نہیں ہوتا۔ ہمارے نزدیک جیسے وضو کی وجہ سے حدث کیا ہو جاتا ہے؟ اٹھ جاتا ہے، انسان پاک ہو جاتا ہے اسی طرح تیمم سے بھی انسان پاک، وہ کہتے ہیں پاک نہیں ہوتا، ہے اسی طرح لیکن اس پر پردہ پڑ گیا، وہ ناپاکی والی حالت کیا ہوئی؟ چھپ گئی بھئی۔ "حتى يرتفع الحدث بالتيمم" یہاں تک کہ حدث جو ہے یعنی وہ بے وضو ہونا وہ اٹھ جائے گا تیمم کی وجہ سے یعنی پاکی آجائے گی "فتثبت به إباحة الصلاة إلى غاية وجود الماء" پس ثابت ہو جائے گا اس کے ذریعے نماز کا مباح ہونا، جائز ہونا "إلى غاية وجود الماء" پانی کے پائے جانے کی حد تک بھئی جب تک پانی نہ ملے۔ "وعند الشافعي رحمة الله عليه ضروري" اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ طہارتِ ضروری ہے "أي لا يرتفع به الحدث أصالة" یعنی اس کے ذریعے أصالة أصلاً حدث نہیں اٹھے گا "ولكن يبيح الصلاة لضرورة الاحتياج" لیکن یہ نماز کو جائز کر دے گا، اس کو مباح کر دے گا احتیاج کی ضرورت کی وجہ سے کیونکہ یہ محتاج ہے اس وقت پاکی کا। تو لہٰذا اس لیے اس سے حدث تو نہیں اٹھے گا وہ چھپ جائے گا، نماز جائز ہو جائے گی۔ "فلا يجوز بتيمم واحد صلاتان مكتوبتان" پس وہ کہتے ہیں کہ جائز نہیں ہے ایک تیمم سے دو فرض نمازیں "بل يجب لكل مكتوبة تيمم آخر" بلکہ واجب ہوگا ہر فرض نماز کے لیے دوسرا تیمم۔ "ثم استدرك من قوله هذا الخلف عندنا مطلق بقوله" پھر یہ جو پیچھے متن آیا تھا نہ کہ یہ تیمم کیا ہے ہمارے نزدیک؟ طہارتِ مطلقہ ہے، طہارتِ مطلقہ। تو اسی سے استدراک ہے ماتن کا اگلا قول۔ استدراک کہتے ہیں ماقبل کلام سے جو وہم پیدا ہو اس وہم کو دور کرنا کہ طہارت مطلقہ ہونا، مطلق طہارت تو ہے لیکن پھر نائب ہے یعنی یہ ہمارے نزدیک نائب ہے مطلقا، لیکن نائب کیا چیز ہے؟ اس میں پھر اختلاف ہے، پھر اختلاف ہے۔ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ پانی اصل ہے اور مٹی اس کا نائب ہے۔ مٹی اس کا نائب ہے۔ وضو اصل ہو اور تیمم اس کا نائب ہو ایسا نہیں ہے۔ تیمم نہیں نائب وضو کا، تیمم اور وضو برابر ہیں بالکل، تیمم نائب نہیں وضو کا، دونوں برابر ہیں۔ نائب کون چیز ہے؟ مٹی، جس سے تیمم کیا جاتا ہے اور جس سے وضو کیا جاتا ہے ان میں سے ایک اصل ہے اور ایک نائب ہے۔ لیکن خود تیمم اور وضو میں سے ایک اصل اور ایک نائب ہو ایسا نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو معلوم ہوا ان کے نزدیک اصل اور نائب ہونا یہ مؤثر میں ہے، کس کے اندر؟ مؤثر یعنی وہ جس سے پاکی آرہی ہے جو پاکی کے اندر مؤثر ہیں بھئی۔ تو ان کے شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک اصل اور نائب ہونا کس کے اندر ہے؟ مؤثر یعنی پانی اور مٹی میں، پانی ہے اصل طہارت کے لیے اور مٹی اس کے نائب۔ لیکن خود، خود وضو اور تیمم ان سب، دونوں برابر ہیں بھئی۔ کہتے ہیں "ثم استدرك من قوله" پھر مصنف رحمہ اللہ نے جو ہے استدراک کیا اپنے اس قول سے یعنی اس وہم کو جو پیدا ہوتا تھا اس کو دور کیا، کون سے قول سے وہم پیدا ہوتا تھا؟ "هذا الخلف عندنا مطلق" یہ جو متن میں آیا تھا اس سے جو وہم پیدا ہوتا تھا اس کو دور کیا "بقوله: ولكن الخلافة بين الماء والتراب في قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى" لیکن نائب ہونا جو ہے پانی اور مٹی کے اندر ہے شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک "لأن الله تعالى قال" اسی کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں "فإن لم تجدوا ماء فتيمموا صعيداً طيباً" اگر تم پانی نہ پاؤ تو تیمم کرو یعنی ارادہ کرو "صعيداً طيباً" پاک مٹی کا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ دیکھو اللہ فرما رہے ہیں اگر پانی نہ پاؤ تو پھر کس سے تیمم کرو؟ پاک مٹی سے، پاک مٹی کا ارادہ کرو، تو دیکھو معلوم ہوا پانی اصل ہے، مٹی اس کے، اس کے نائب ہے۔ "فجعل التراب خلفاً عن الماء" پس اللہ تعالیٰ نے مٹی کو نائب بنایا پانی سے۔ "وعند محمد وزفر رحمهما الله تعالى بين الوضوء والتيمم الحاصلين من الماء والتراب" جبکہ امام محمد، امام زفر رحمہما اللہ کے نزدیک خلافت جو ہے وضو اور تیمم میں ہے حاصلین من الماء والتراب، وہ وضو اور تیمم جو کس سے حاصل ہوتے ہیں؟ پانی اور مٹی سے। "لا بين المؤثرين" دونوں مؤثروں کے درمیان خلافت نہیں ہے یعنی پانی اور مٹی میں بلکہ خود وضو اور تیمم میں امام یہ امام محمد، امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں وضو اصل اور تیمم نائب ہے۔ شیخین رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں دونوں برابر ہیں۔ پھر اصل اور نائب کون کون؟ پانی اصل اور مٹی نائب۔ ان کی دلیل کیا ہے؟ امام محمد، امام زفر رحمہ اللہ کی دلیل دے رہے ہیں "لأن الله تعالى أمر أولاً بالوضوء" اس لیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے وضو کا حکم دیا "بقوله: فاغسلوا" اپنے اس قول کے ساتھ "فاغسلوا" "ثم أمر بالتيمم" پھر اللہ نے تیمم کا حکم دیا "عند العجز عن الوضوء" جب وضو سے عاجزی ہو "وتبتني عليه" اور اسی پر بنیاد ہے یعنی یہ جو اختلاف ذکر کیا گیا اسی پر بنیاد ہے "مسألة إمامة المتيمم للمتوضئين" متیمم کی امامت کرنا وضو کرنے والوں کی۔ امام نے تیمم کیا ہوا ہے اور جو مقتدی ہیں وہ انہوں نے وضو کیا ہوا ہے۔ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک چونکہ تیمم اور وضو برابر ہیں لہٰذا تیمم والا اقتداء کرے اور وضو کرنے والے مقتدی بنیں تو یہ ٹھیک ہے، کوئی فرق نہیں بھئی کیونکہ دونوں کیا ہیں؟ برابر ہیں، دونوں برابر درجے کی طہارتیں ہیں۔ جبکہ امام محمد اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وضو اصل ہے، تیمم اس کا نائب ہے اور اصل قوی ہوتا ہے، نائب ضعیف ہوتا ہے لہٰذا یہ نہیں ہو سکتا ضعیف آگے ہو جائے اور قوی، تو ضعیف طہارت والا آگے ہو اور قوی طہارت والے پیچھے ہوں ایسا جائز نہیں۔ تو لہٰذا ان کے نزدیک یہ تیمم والا امامت نہیں کر سکتا۔ "لأنه يجوز عند الشيخين رحمهما الله" اس لیے کیونکہ جائز ہے یہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک "فإن التراب وإن كان خلفاً عن الماء" اس لیے کیونکہ مٹی وہ اگرچہ نائب ہے پانی سے "لكن التيمم ليس بخلف عن الوضوء" لیکن تیمم وہ تو نائب نہیں ہے وضو سے "بل هما سواء" بلکہ وہ دونوں برابر ہیں "فيجوز اقتداء أحدهما بالآخر" پس جائز ہے اقتداء کرنا ان دونوں میں سے کسی ایک کی دوسرے کی "أيهما كان" جو کوئی بھی ان میں سے ہو چاہے وضو والا آگے ہو چاہے تیمم، برابر ہیں۔ "ولا يجوز عند محمد وزفر رحمهما الله" اور یہ جائز نہیں ہے امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ کے نزدیک "لأن التيمم لما كان خلفاً عن الوضوء" اس لیے کیونکہ یہ تیمم جب وہ نائب ہے وضو سے "كان المتيمم خلفاً عن المتوضئ" تو تیمم کرنے والا وہ نائب ہوا کس سے؟ وضو کرنے والے سے۔ تو ایک ہے جب تیمم نائب ہے تو تیمم کرنے والا بھی کیا ہوا؟ نائب ہوا کس کے مقابلے میں؟ وضو کرنے والے کے مقابلے میں۔ "فلا يجوز الاقتداء بالأضعف" تو جائز نہیں ہے اقتداء کرنا جو زیادہ ضعیف ہے اس کی "والخلافة لا تثبت إلا بالنص" اور یہ نائب ہونا جو ہے یہ ثابت نہیں ہوگا مگر نص کے ذریعے ہی "أو دلالته" یا دلالۃ النص کے ذریعے "فلا تثبت بالرأي" پس یہ رائے کے ذریعے ثابت نہیں ہوگا "كما لا يثبت الأصل به" جیسے کہ اصل رائے کے ذریعے ثابت نہیں ہو سکتا۔ بتلا یہ رہے ہیں بھئی، دیکھیے بعض چیزیں اصل ہیں اور بعض کیا ہیں؟ نائب ہیں۔ یہ، جیسے اصل کا پتا رائے سے نہیں چلتا تھا اس کا پتا نص سے ہی چلتا تھا اسی طرح نائب ہونے کا بھی پتا کس سے چلے گا؟ نص ہی سے چلے گا، آپ نہیں کر سکتے اپنی رائے کے ذریعے بتلائیں فلاں چیز فلاں کا بدل ہے، نہیں رائے کا اس میں دخل نہیں۔ ایک چیز دوسرے کا نائب ہے، جیسے اصل کا پتا نص سے چلتا تھا نائب ہونے کا پتا بھی کس سے چلے گا؟ نص سے ہی، یہی بات کر رہے ہیں کہ خلافت جو ہے وہ ثابت نہیں ہوگی مگر نص ہی کے ذریعے یا دلالۃ النص کے ذریعے یا اسی طرح اشارۃ النص وغیرہ کے ذریعے، ویسے نہیں۔ "فلا تثبت بالرأي" لہٰذا یہ خلافت جو ہے ثابت نہیں ہوتی رائے کے ذریعے "كما لا يثبت الأصل به" یعنی قیاس کے ذریعے ثابت نہیں ہوگا جیسے کہ اصل قیاس کے ذریعے ثابت نہیں ہوتا۔ "وشرطه أي شرط كونه خلفاً" اور اس کے نائب ہونے کی شرط یہ ہے، نائب کب بنے گا؟ اس کی شرط کیا ہے؟ کہتے ہیں "عدم الأصل في الحال" "عدم الأصل في الحال" فی الحال اصل معدوم ہو۔ اصل کیا ہو؟ معدوم ہو۔ بائی نائب پر تبھی عمل کیا جائے گا جب اصل ممکن نہ ہو۔ اگر اصل پر عمل ممکن ہے تو پھر تو اصل ہی کیا جائے گا تو لہٰذا نائب، نائب کا پتا بھی نص سے چلے گا اور یہ نائب بنے گا بھی کب؟ جب اصل نہ ہو۔ "على احتمال الوجود" ساتھ اپنے وجود کے احتمال کے۔ ہاں اصل کا احتمال ہونا چاہیے، ہے تو نہیں اس وقت لیکن احتمال ہونا چاہیے۔ ممکن ہو، کیا ہو؟ ممکن، اگر اصل ممکن ہی نہیں ہے پھر نائب کیسے بنائیں گے اس چیز کا بھئی؟ صورت سمجھ میں آگئی؟ اصل کا امکان تھا لیکن ہے نہیں اس وقت۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ سبق کی طرف توجہ ہے؟ اصل کا امکان تھا، ممکن تھا لیکن اس وقت ہے نہیں، تو پھر اس صورت میں نائب بنے گا اس کا۔ تو کہتے ہیں "وشرطه أي شرط كونه خلفاً عدم الأصل في الحال على احتمال الوجود" کہ اصل جو ہے فی الحال نہ ہو وجود کا احتمال ہو اس کا "ليصير السبب منعقداً للأصل أولاً" تاکہ جو سبب ہے وہ منعقد ہو اصل کے لیے اولاً، پہلے "فيصح الخلف" پس پھر خلف بھی، نائب بھی صحیح۔ سبب پہلے کس کے لیے منعقد ہو؟ سبب کے ذریعے اصل ممکن تھا، اصل نے آنا تھا لیکن اس وقت اصل نہیں تو سبب جو ہے اولاً اصل کے لیے بنا اور پھر اصل تو اس وقت ہے نہیں تو پھر کیا آجائے گا؟ نائب آجائے گا، دیکھیے آگے اور مثال سے وضاحت ہو جائے گی۔ "أما إذا لم يحتمل الأصل الوجود" اور باقی جب جو ہے احتمال نہ ہو اصل میں وجود کا، اصل کے وجود کا احتمال ہی نہ ہو "فلا يصح الخلف عنه" تو پھر اس سے نائب ہونا بھی صحیح نہیں ہے۔ "وكذا إذا كان الأصل موجوداً بنفسه" اسی طرح اگر اصل خود موجود ہو اپنی ذات کے اعتبار سے "فلا يصح الخلف أيضاً" تو پھر بھی نائب ہونا صحیح، نائب نہیں آسکتا جب اصل خود ہے۔ تو معلوم ہوا نائب ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اصل موجود نہ ہو لیکن اس کا پایا جانا ممکن ہو۔ کہتے ہیں "وتظهر هذه أي ثمرة احتمال الأصل للوجود" اور یہ چیز ظاہر ہوگی، کیا چیز بھئی؟ یعنی اصل وجود کا احتمال رکھتا ہو اس کا ثمرہ ظاہر ہوگا اس مثال کے اندر، دیکھیے بات خوب واضح ہو جائے گی۔ "في اليمين الغموس والحلف على مس السماء" یمینِ غموس، آپ جانتے ہیں یمینِ غموس کسے کہتے ہیں؟ ماضی کی کسی بات پر جھوٹی قسم اٹھانا۔ ماضی کی کسی بات پر جھوٹی قسم اٹھانا اور اس میں آپ نے پڑھا ہے کفارہ نہیں آتا، بہت بڑا گناہ ہے، کفارہ اس میں نہیں آئے گا۔ اور اسی طرح ہے "والحلف على مس السماء" قسم اٹھانا کس چیز پر؟ آسمان کو چھونے کی، آسمان کو ہاتھ لگانے کی۔ ایک آدمی قسم اٹھاتا ہے کہ میں کیا کروں گا؟ آسمان کو میں ہاتھ لگاؤں گا۔ تو اب دیکھیے دو قسمیں ہیں، ایک ماضی کی بات پر جھوٹی قسم اٹھائی، ایک آسمان کو ہاتھ لگانے کی قسم اٹھائی۔ یاد رکھیے فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ ماضی کی بات پر جو قسم اٹھائی اس میں کفارہ نہیں آئے گا، سخت گناہ ہوگا جبکہ آسمان کو چھونے کی جو قسم اٹھائی ہے اس میں اس شخص پر کفارہ آجائے گا۔ فوراً اس پر کیا آجائے گا؟ کفارہ آجائے گا، بھئی کیوں؟ یہ وجہ کیا ہے؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ ہم نے کہا تھا کہ نائب تبھی آئے گا جب اصل کا امکان ہو لیکن اصل ہو نہ، پایا نہ جائے، اصل کا امکان ہو۔ اور یہ جو کفارہ ہے یہ نائب ہے قسم پوری کرنے کا بھئی، پوری ہونے کا۔ قسم جب کھائی جائے اصل تو اس میں یہی ہے کہ اس کو پورا کیا جائے لیکن اگر پورا نہیں کر سکتا تو پھر نائب یعنی کفارہ آجائے گا، یعنی قسم پوری نہیں کی تو پھر کیا ہو جاتا ہے؟ تو اصل کیا ہے؟ قسم کا پورا ہونا، اصل کیا ہے؟ قسم کا پورا ہونا، اس کا پورا کرنا یہ ہے اصل اور کفارہ ہے اس کا نائب۔ اور نائب وہیں پر آتا ہے جہاں اصل کا امکان ہو، احتمال ہو۔ یمینِ غموس میں قسم پوری ہونے کا احتمال ہی نہیں ہے، اصل کا احتمال ہی نہیں اس لیے کیونکہ وہ تو ماضی کی بات پر قسم اٹھائی ہے اور ماضی تو گزر چکی، اب اس کا واپس لوٹ کر آنا ممکن ہی نہیں، وہ تو بات وہاں پورے ہونے کا احتمال ہی نہیں ہے، جب اور پورا ہونا تو کیا تھا؟ اصل، تو جب پورے ہونے کا احتمال ہی نہیں ہے، جب اصل کا احتمال ہی نہیں ہے تو خلف یعنی کفارہ بھی نہیں آئے گا۔ جبکہ آسمان کو چھونا اس میں پورے ہونے کا احتمال ہے جیسے آسمان کو فرشتے آتے جاتے ہیں، انبیاء بطور معجزے کے چھوتے ہیں یا کوئی ولی جو ہے بطور کرامت کے آسمان کو چھو لے بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ یہاں پورے ہونے کا احتمال ہے۔ لیکن اس وقت ظاہرِ حال، ظاہرِ حال بتلا رہا ہے کہ یہ شخص کیا ہے؟ عاجز، تو اصل یعنی پورے کرنے کا احتمال تو تھا لیکن یہ پورا کر نہیں سکتا لہٰذا فوراً کیا آجائے گا؟ کفارہ۔ فرق دونوں میں سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک میں پورا کرنے کا احتمال ہے، ایک میں پورا کرنے کا احتمال نہیں اور پورا کرنا تو ہے اصل، تو جہاں اصل کا احتمال ہے وہاں اصل، اصل تو ہوا ہے نہیں لہٰذا فوراً پھر کیا آجائے گا؟ نائب یعنی کفارہ آجائے گا اور جس میں اصل کا ہی احتمال نہیں ہے وہاں پھر نائب بھی نہیں آئے گا۔ فَإِنَّ فِي يَمِينِ الْغَمُوسِ لَا تَجِبُ الْكَفَّارَةُ، پس یمینِ غموس جو ہے، اس کے اندر کفارہ واجب نہیں ہوتا، إِذْ لَا يُتَصَوَّرُ الْبِرُّ الَّذِي هُوَ الْأَصْلُ، اس لیے کیونکہ تصور نہیں کیا جا سکتا قسم پورا ہونے کا الَّذِي هُوَ الْأَصْلُ جو کہ اصل ہے، فَإِنَّ زَمَانَ الْمَاضِي قَدْ فَاتَ عَنِ الْحَالِفِ، اس لیے کیونکہ ماضی کا وہ زمانہ جو ہے وہ فوت ہو چکا ہے، گزر چکا ہے قسم کھانے والے سے، وَلَا قُدْرَةَ لَهُ عَلَيْهِ، اور اس قسم اٹھانے والے کو اس پر کوئی قدرت نہیں۔ ماضی کا زمانہ گزر چکا، اب اس پر کوئی قدرت نہیں اسے۔ وَفِي الْحَلِفِ عَلَى مَسِّ السَّمَاءِ، اور آسمان کے چھونے پر قسم اٹھانے میں، يُتَصَوَّرُ الْبِرُّ، قسم کا پورا ہونا اس کا تصور کیا جا سکتا ہے، وَيُمْكِنُ، اور ممکن ہے، لِأَنَّ الْأَنْبِيَاءَ وَالْمَلَائِكَةَ يَمَسُّونَهَا، اس لیے کیونکہ انبیاء اور فرشتے جو ہیں يَمَسُّونَهَا آسمان کو چھوتے ہیں، وَلِلْأَوْلِيَاءِ أَيْضًا مُمْكِنٌ بِخَرْقِ الْعَادَةِ، اور اولیاء کے لیے بھی یہ ممکن ہے خرقِ عادت کے طور پر۔ کس طریقے پر؟ خرقِ... ایک ہے عادتاً جو عام عادتاً ہم کام کرتے ہیں بھئی، ایک ہے خرقِ عادت، خرق کا معنی پھاڑنا، خرقِ عادت عادت کا پھاڑنا۔ یہ جو کرامت اور معجزہ جو ہوتا ہے، یہ خرقِ عادت ہوتا ہے، عادت کے خلاف ہوتا ہے۔ اسی لیے اسی لیے تو یہ یہ نشانی ہوتی ہے اللہ کی طرف سے انبیاء کے جو معجزے ہیں، مثلاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی کے اشارے سے چاند کے دو ٹکڑے فرما دیے۔ اب یہ خرقِ عادت ہے، عام آدمی ایسا نہیں کر... یہ عادت کے خلاف ہے۔ تو صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں اولیاء کے لیے بھی یہ ممکن ہے بطورِ خرقِ عادت کے، یعنی کرامت کے طور پر، وَلَكِنَّ الْعَجْزَ ظَاهِرٌ فِي الْحَالِ، لیکن فی الحال عجز ظاہر ہے، فَتَجِبُ الْكَفَّارَةُ لَهُ، تو اس وجہ سے کفارہ واجب ہو گا۔ وَأَمَّا الْقِسْمُ الثَّانِي مِنَ... جی، یہاں تک بھئی احکام کی بحث پوری ہوئی۔ انہوں نے کیا بیان کیا تھا؟ جہاں قیاس کی بحث ختم ہوئی تھی، نئی فصل شروع ہوئی تھی کہ ثُمَّ جُمْلَةُ مَا ثَبَتَ بِالْحُجَجِ الَّتِي سَبَقَ ذِكْرُهَا شَيْئَانِ: الْأَحْكَامُ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ۔ ایک احکام اور دوسری وہ چیزیں جو احکام سے متعلق ہیں۔ تو اب یہ دوسری بات وہ چیزیں جو احکام سے متعلق ہیں ان کا بیان ہے بھئی۔ کہتے ہیں: وَأَمَّا الْقِسْمُ الثَّانِي مِنَ التَّقْسِيمِ الْمَذْكُورِ فِي أَوَّلِ الْفَصْلِ، اور باقی دوسری قسم اس مذکورہ تقسیم میں سے جو فصل کے ابتداء میں تھی، وَهُوَ مَا يَتَعَلَّقُ بِهِ الْأَحْكَامُ، اور وہ کیا ہے دوسری قسم؟ وہ چیزیں جن کے ساتھ احکام کا تعلق ہے، فَأَرْبَعَةٌ، پس وہ چار ہیں۔ کتنی چیزیں ہیں جن سے احکام کا تعلق؟ چار ہیں بھئی۔ یاد رکھیے یہ ایک سبب ہے، علت ہے، شرط ہے اور علامت۔ یہ آپ کے حاشیے میں دی ہوئی ہیں، حاشیہ دیکھ سکتے ہیں فَأَرْبَعَةٌ پر دیا ہوا ہے۔ چار چیزیں ہیں بھئی: سبب، علت، شرط اور علامت۔ تو کہتے ہیں پس یہ چار ہیں، الْأَوَّلُ السَّبَبُ، پہلا جو ہے وہ سبب ہے، وَهُوَ أَقْسَامٌ أَرْبَعَةٌ، اور یہ سبب جو ہے چار قسم پر ہے، الْأَوَّلُ سَبَبٌ حَقِيقِيٌّ، اول کیا ہے؟ سببِ حقیقی۔ جی، وَهُوَ مَا يَكُونُ طَرِيقًا إِلَى الْحُكْمِ، اور وہ ہے سببِ حقیقی جو طریق ہو حکم تک، طریقہ ہو کس تک؟ حکم تک، أَيْ مُفْضِيًا إِلَيْهِ فِي الْجُمْلَةِ، یعنی اس کو پہنچانے والا ہو حکم تک بھئی فی الجملہ مجموعی اعتبار سے، بِخِلَافِ الْعَلَامَةِ، برخلاف کس کے؟ علامت کے، فَإِنَّهَا دَالَّةٌ عَلَيْهِ لَا مُفْضِيَةٌ إِلَيْهِ، اس لیے کیونکہ علامت جو ہے وہ حکم پر دلالت کرنے والی ہوتی ہے، اس تک پہنچانے والی نہیں ہوتی۔ تو مَا يَكُونُ... بھئی چار چیزیں ہوئیں بیان: سبب، علت، شرط اور علامت بھئی۔ اب یہ سبب، پہلے سبب کی تعریف کر رہے ہیں، اور وہ سبب جو سببِ حقیقی ہو۔ سببِ حقیقی، اور بتلا رہے ہیں وہ سببِ حقیقی وہ ہے جو حکم تک پہنچانے والا ہو، مَا يَكُونُ طَرِيقًا إِلَى الْحُكْمِ جو حکم تک پہنچانے... یہ قید لگائی تو علامت کو نکال دیا، کیونکہ علامت پہنچانے والی نہیں ہوتی، صرف دلالت کرتی ہے، صرف کیا کرتی ہے؟ ہاں، وہ پہنچانے والی نہیں ہوتی، وہ صرف بتلانے والی ہوتی ہے کہ حکم ہے یا نہیں۔ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُضَافَ إِلَيْهِ وُجُوبُ الْحُكْمِ، بغیر اس کے کہ اضافہ کی جائے، نسبت کی جائے اس کی طرف حکم کی وجوب کی۔ سببِ حقیقی وہ ہے جو ت... تعریف متن کی تعریف پہ بار بار نظر رکھنا بھئی۔ سببِ حقیقی وہ ہے جو حکم تک پہنچانے والا ہو، بغیر اس کے کہ نسبت کی جائے اس کی طرف حکم کے وجوب کی۔ سببِ حقیقی حکم تک پہنچاتا تو ہے، لیکن حکم کی نسبت اس کی طرف نہیں کی جاتی۔ وجوبِ حکم کی نسبت سبب کی طرف نہیں کی جاتی۔ یہ قید جو لگائی، اس کے ذریعے علت کو نکال دیا، کیونکہ علت کی طرف حکم کی نسبت کی جاتی ہے۔ حکم کی طرف... علت، علت کی طرف وجوبِ حکم کی نسبت کی جاتی ہے، علت پائی جائے تو وجوبِ حکم آ جاتا ہے بھئی۔ تو سبب بھی حکم تک پہنچاتا ہے، علت بھی حکم تک پہنچاتی ہے، لیکن فرق کیا ہے؟ سبب میں حکم کی نسبت وجوب کی نسبت سبب کی طرف نہیں ہوتی، جبکہ علت میں علت کی طرف وجوبِ حکم کی نسبت۔ تو جب انہوں نے کہا مِنْ غَيْرِ أَنْ يُضَافَ إِلَيْهِ وُجُوبُ الْحُكْمِ بغیر اس کے کہ اس کی طرف نسبت کی جائے وجوبِ حکم کی، کس کو نکال دیا؟ علت کو، كَمَا يُضَافُ ذَلِكَ إِلَى الْعِلَّةِ جیسے کہ نسبت کی جاتی ہے اس وجوبِ حکم کی علت کی طرف، وَلَا وُجُودٌ، اور نہ ہی وجود کی، یعنی اس وجود کا عطف ہے وُجُوبُ الْحُكْمِ پر، اس کی طرف حکم کے وجوب کی بھی نسبت نہ ہو، اس سببِ حقیقی کی بات چل رہی ہے، اور حکم کے وجود کی نسبت بھی اس کی طرف نہ ہو۔ اس کے ذریعے شرط کو نکال دیا۔ کس کو نکال دیا؟ شرط ہے تو مشروط ہے، شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں۔ تو حکم کے وجود کی نسبت کس کی طرف کی جاتی ہے؟ شرط کی طرف بھئی، شرط پوری ہو، جیسے جیسے نصاب کے بقدر مال ہو، تو کیا اس میں فوراً زکوۃ آ جاتی ہے یا شرط حولانِ حول کا ہونا ضروری؟ شرط کا ہونا ضروری بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو شرط کی طرف حکم کے وجود کی نسبت کی جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں مِنْ غَيْرِ أَنْ يُضَافَ إِلَيْهِ وُجُوبُ الْحُكْمِ وَلَا وُجُودٌ بغیر اس کے کہ اس سبب کی طرف نسبت کی جائے حکم کے وجوب کی اور نہ اس کے وجود کی، كَمَا يُضَافُ ذَلِكَ إِلَى الشَّرْطِ جیسے کہ نسبت کی جاتی ہے اس کی، یعنی وجود کی إِلَى الشَّرْطِ کس کی طرف؟ شرط کی طرف، وَلَا يُعْقَلُ فِيهِ مَعَانِي الْعِلَلِ، اور نیز یہ جو سببِ حقیقی ہے اس میں سمجھ میں نہ آتے ہوں کوئی علتوں والے معانی، اس میں کوئی علتوں والا معنی بھی نہ پایا جائے بھئی۔ علتوں والا... سببِ حقیقی کی بات چل رہی ہے، اس لیے کیونکہ بتلائیں گے آگے آپ کو، ایک سبب وہ ہے جس میں شبہِ علت ہے، علت ہونے کا شبہ ہے، ایک وہ سبب ہے جس میں علت ہونے والا معنی پایا جا رہا ہے۔ ہم تعریف کر رہے ہیں سببِ حقیقی کی، سببِ حقیقی وہ سبب بھی نہ ہو جس میں شبہِ علت ہو، وہ سبب بھی نہ ہو جس میں معنیِٰ علت... صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا وَلَا يُعْقَلُ فِيهِ مَعَانِي الْعِلَلِ اس میں علتوں کے معانی بھی سمجھ میں نہ آتے ہوں، یعنی وہ بھی کسی طور پر اس میں پائے نہ جاتے ہوں تو پھر سببِ حقیقی ہو گا۔ اگر اس میں علتوں والا معنی پایا جائے پھر یہ سببِ حقیقی نہ رہا، بلکہ یہ کیا بن گیا؟ وہ سبب جس میں شبہِ علت ہے یا جس میں معنیِٰ علت ہے، جو آگے قسمیں آنے والی ہیں۔ وَلَا يُعْقَلُ فِيهِ مَعَانِي الْعِلَلِ بِوَجْهٍ مِنَ الْوُجُوهِ، اور نہ سمجھ میں آتا ہو اس کے اندر کوئی علتوں والے معانی، وجوہ میں سے کسی بھی اعتبار سے، بِحَيْثُ لَا يَكُونُ لَهُ تَأْثِيرٌ فِي وُجُودِ الْحُكْمِ أَصْلًا، اس حیثیت سے کہ اس کی کوئی تاثیر نہ ہو حکم کے وجود میں اصلاً، سرے سے ہی، لَا بِوَاسِطَةٍ وَلَا بِغَيْرِ وَاسِطَةٍ، نہ تو واسطے کے ذریعے اور نہ بغیر واسطے کے، کسی طرح کی بھی کوئی تاثیر نہ ہو حکم کے وجود میں، إِذْ لَوْ كَانَ كَذَلِكَ لَمْ يَكُنْ سَبَبًا حَقِيقِيًّا، اس لیے کیونکہ اگر ایسا ہوا تو پھر یہ سببِ حقیقی نہ رہے گا، بَلْ سَبَبًا لَهُ، بلکہ یہ اس... بلکہ یہ بل سَبَبًا بلکہ ایسا سبب ہو گا لَهُ شُبْهَةُ الْعِلَّةِ جس میں کیا ہو؟ شبہِ علت ہو، سَبَبًا ہے موصوف، لَهُ شُبْهَةُ الْعِلَّةِ یہ مبتدا خبر مل کر یہ صفت ہیں سَبَبًا کی۔ سَبَبًا ایسا سبب لَهُ شُبْهَةُ الْعِلَّةِ جس میں شبہِ علت، أَوْ سَبَبًا یا ایسا سبب فِيهِ مَعْنَى الْعِلَّةِ جس میں کیا ہو گا؟ معنیِٰ علت ہو گا بھئی، یہاں بھی سَبَبًا موصوف اور فِيهِ مَعْنَى الْعِلَّةِ پورا جملہ اسمیہ اس کی صفت بھئی۔ لَكِنْ يَتَخَلَّلُ بَيْنَهُ، أَيْ بَيْنَ السَّبَبِ وَبَيْنَ الْحُكْمِ، عِلَّةٌ، لیکن بیچ میں آئے بینہ، أَيْ بَيْنَ السَّبَبِ، کس کے بیچ میں آئے؟ سبب وَبَيْنَ الْحُكْمِ اور حکم کے بیچ میں عِلَّةٌ ایسی علت لَا تُضَافُ إِلَى السَّبَبِ جس کی نسبت سبب کی طرف نہیں۔ حکم اور سبب کے درمیان ایسی علت آنی چاہیے جس علت کی نسبت سبب کی طرف نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ بات چل رہی ہے سببِ حقیقی کی، ادھر دیکھیے بھئی، یہ ہے سببِ حقیقی، یہ ہے حکم بھئی، یہ ہے سببِ حقیقی اور یہ کیا ہے؟ حکم، درمیان میں ایک علت ہے دونوں کے۔ یہ سبب پہنچانے والا ہے حکم تک لیکن درمیان میں ایک علت آ رہی ہے۔ سبب سے پہلے حکم سے پہلے کیا آ رہی ہے؟ علت، اور یہ علت ایسی ہونی چاہیے جس کی نسبت اس سبب کی طرف نہ ہو کہ یہ اس سبب کی وجہ سے آئی ہے۔ یہ علت کس کی وجہ سے آئی ہے؟ سبب کی وجہ، اس لیے کیونکہ اگر یہ علت سبب کی وجہ سے آئی ہے، تو وہ سبب اس علت کے علت بن جائے گا بھئی۔ وہ سبب کیا بن جائے گا؟ علت کے علت بن جائے گا، تو وہ سببِ حقیقی نہ رہے گا، ہم تو بات کس کی کر رہے ہیں؟ جو سببِ حقیقی ہو، یعنی خالص سبب ہے، اس میں کسی بھی درجے میں علت والا معنی نہیں پایا جاتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: لَكِنْ يَتَخَلَّلُ بَيْنَهُ، أَيْ بَيْنَ السَّبَبِ وَبَيْنَ الْحُكْمِ، عِلَّةٌ لَا تُضَافُ إِلَى السَّبَبِ، لیکن بیچ میں آئے اس سبب اور حکم کے ایسی علت جس کی نسبت سبب کی طرف نہ ہو، إِذْ لَوْ كَانَتْ مُضَافَةً إِلَى السَّبَبِ، اس لیے کیونکہ اگر وہ علت اس کی نسبت سبب کی طرف ہوئی، وَالْحُكْمُ مُضَافٌ إِلَيْهَا، اور حکم جو ہے، اور حکم جو ہے اس کی نسبت علت کی طرف ہوئی، لَكَانَ السَّبَبُ عِلَّةَ الْعِلَّةِ، تو سبب کیا ہو گا؟ علت کے علت بن جائے گا، لَا سَبَبًا حَقِيقِيًّا، نہ کہ سببِ حقیقی، عَلَى مَا سَيَأْتِي، بناء پر اس کے جو عنقریب آ رہا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آئی بھئی؟ بتلایا سبب کی چار قسمیں ہیں، سبب کی پہلی قسم بتلائی صرف متن متن پہ نظر رکھنا، سببِ حقیقی وہ ہے جو حکم تک پہنچانے والا ہو، اس کی طرف نہ تو وجوبِ حکم کی نسبت کی جائے، نہ وجودِ حکم کی نسبت ہو، نہ اس سبب کے اندر علتوں کے معانی میں سے کوئی معنی سمجھ میں آتا ہو، اور نیز اس سبب اور حکم کے درمیان ایک ایسی علت پائی جائے جس کی نسبت سبب کی طرف نہ کی جاتی ہو بھئی۔ یہ ساری چیزیں ہوں گی تو یہ کیا ہو گا؟ سببِ حقیقی ہو گا! دیکھیے مثال سے بات اور واضح ہو جائے گی: كَدَلَالَةِ إِنْسَانٍ عَلَى مَالِ إِنْسَانٍ أَوْ نَفْسِهِ لِيَسْرِقَهُ أَوْ لِيَقْتُلَهُ، جیسے دلالت کرنا ایک انسان کی دوسرے انسان کے مال پر... کسی نے کسی دوسرے کو بتایا بھئی: فلاں کے فلاں گھر میں بڑا مال پڑا ہے بھئی! یا کہ ایک دشمن تھا کسی دوسرے کی تلاش میں تھا، دوسرے نے بتلایا: وہ جو تمہارا دشمن ہے، آج کل فلاں جگہ پر ہے، تو رہنمائی کی۔ تو دوسرے کے مال پر رہنمائی کی یا اس کے ذات پر کیا کر دی؟ رہنمائی کر دی۔ یہ جس کے لیے جس کو بتلایا گیا، یہ چور گیا اس نے اس کا مال چرا لیا، یا یہ دشمن گیا اور اس نے اس کو قتل کر دیا، تو یاد رکھیے، یہ جو بتلانے والا ہے اس پر کوئی ضمان نہیں آئے گا، کیونکہ یہ سببِ حقیقی ہے، سببِ محض ہے بھئی! اس پر کوئی ضمان نہیں آئے گا۔ دیکھیے، یہاں پر درمیان میں ایک علت پائی جا رہی ہے: چوری کرنے والا یا وہ قتل کرنے والا، اور اس چوری کرنے والے یا قتل کرنے والے کی نسبت بتلانے والے کی طرف نہیں۔ کیونکہ یہ ضروری نہیں جب بھی کوئی کسی چور کو بتلائے فلاں جگہ مال ہے تو وہ ضرور چوری کرے۔ ہو سکتا ہے اللہ اسے توبہ کی توفیق دے وہ چوری کرے ہی نہ! صورت سمجھ میں آ گئی؟ وہ اپنے اختیار سے چوری کر رہا ہے، پہلے نے صرف رہنمائی کی ہے، یا دوسرے نے جیسے جا کر قتل کیا، وہ اپنے اختیار سے قتل کر رہا ہے، تو کسی کو دشمن کے بارے میں بتلایا جائے تو یہ ضروری تو نہیں وہ جا کر اس کو قتل ہی کرے؟ کیا ہر حال میں وہ قتل ہی کرے گا اس کو جا کر؟ ہو سکتا ہے اللہ اس کو توبہ کی توفیق دے دے وہ قتل کرے ہی نہ! تو وہ جو قتل کر رہا ہے وہ اپنے اختیار سے کر رہا ہے، اس کی نسبت اس سبب کی طرف نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ كَدَلَالَةِ إِنْسَانٍ عَلَى مَالِ إِنْسَانٍ، جیسے رہنمائی کرنا کسی ایک انسان کی دوسرے انسان کے مال پر، أَوْ نَفْسِهِ، یا اس کی ذات پر، لِيَسْرِقَهُ، تاکہ یہ دوسرا جو ہے اس کو کیا کر لے چوری، اس مال کو چوری کر لے، أَوْ لِيَقْتُلَهُ، یا اس کو قتل کر دے، فَإِنَّهَا سَبَبٌ حَقِيقِيٌّ لِلسَّرِقَةِ وَالْقَتْلِ، یہ سببِ حقیقی ہے چوری کے لیے اور قتل کے لیے، یہ جو دلالت کی، لِأَنَّهَا تُفْضِي إِلَيْهِ، اس لیے کیونکہ یہ اس تک پہنچاتا ہے، مِنْ غَيْرِ أَنْ تَكُونَ مُوجِبَةً أَوْ مُوجِدَةً لَهُ، بغیر اس کے کہ یہ اس کو واجب کرنے والا ہو یا اس کو وجود دے، یہ اس کو واجب نہیں کرتا یا اس کو وجود نہیں دیتا، وَلَا تَأْثِيرَ لَهَا فِي فِعْلِ السَّرِقَةِ أَصْلًا، اور اس کا کوئی، اس دلالت کی کوئی تاثیر نہیں ہے چوری کے فعل میں سرے سے ہی، لَكِنْ تَخَلَّلَ بَيْنَ الدَّلَالَةِ وَبَيْنَ السَّرِقَةِ، لیکن بیچ میں آ گئی اس دلالت کے اور چوری کے درمیان، عِلَّةٌ غَيْرُ مُضَافَةٍ إِلَى الدَّلَالَةِ، ایک ایسی علت جس کی نسبت دلالت کی طرف نہیں ہے۔ ایک ایسی علت آ گئی بھئی، وہ کیا ہے بیچ میں جو علت آئی؟ کہتے ہیں: وَهُوَ فِعْلُ السَّارِقِ الْمُخْتَارِ، وہ فعل ہے اس چور کا المختار جو مختار وہ اختیار والا ہے، وَقَصْدُهُ، اور اس کا قصد، اس سارق کا فعل اور اس کا قصد ہے، إِذْ لَا يَلْزَمُ أَنَّ مَنْ دَلَّهُ أَحَدٌ عَلَى فِعْلٍ سَوْءٍ، اس لیے کیونکہ لازم نہیں آتا کہ کوئی شخص اگر رہنمائی کرے کسی ایک کی برے فعل پر، كَيْ يَفْعَلَهُ الْمَدْلُولُ الْبَتَّةَ، کہ مدلول اس کو پھر قطعی طور پر کرے، بَلْ لَعَلَّ اللَّهَ يُوَفِّقُهُ عَلَى تَرْكِهِ، بلکہ شاید اللہ اس کو توفیق دے دے اس کے چھوڑنے کی، مَعَ دَلَالَتِهِ، باوجود اس کے رہنمائی کے، فَإِنْ وَقَعَ مِنْهُ السَّرِقَةُ أَوْ الْقَتْلُ، پس اگر اس سے چوری واقع ہوئی یا اس قاتل سے، دشمن سے دوسرے انسان سے قتل واقع ہوا، یا چوری واقع ہوئی یعنی اس نے چوری کر لی یا قتل کر لیا، لَا يَضْمَنُ الدَّالُّ شَيْئًا، تو وہ دلالت کرنے والا ضامن نہیں ہو گا کسی بھی چیز کا، لِأَنَّهُ صَاحِبُ سَبَبٍ مَحْضٍ لَا صَاحِبُ عِلَّةٍ، اس لیے کیونکہ وہ صرف سبب والا ہی ہے، (یعنی صاحبِ سبب ہی ہے صرف)، لا صاحبُ علة، صاحبِ علت نہیں ہے۔ وَعَلَى هَذَا، اور اسی بناء پر... اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی، اشکال یہ کہ اگر کوئی شخص کسی ظالم بادشاہ کے پاس کسی کی چغلی کرے، کیا کرے؟ کسی کی چغلی کرتا ہے ناحق طور پر، یہاں تک کہ بادشاہ پھر اس جس کی شکایت لگائی گئی تھی، بادشاہ اس سے بھاری جرمانہ مال وصول کر لیتا ہے، زبردستی چھین لیتا ہے، تو اس صورت میں یہ سعی کرنے والا سببِ محض ہے، سببِ حقیقی ہے۔ چغلی کرنے والا کون ہے؟ اور باقی مال لینے والا تو کون ہے؟ بادشاہ، تو علت درمیان میں ہے، یہ سببِ حقیقی ہے چغلی کرنے والا، اس پر ضمان نہیں آنا چاہیے، لیکن... متاخرین کیا کہتے ہیں؟ اس پر زمان آئے گا، حالانکہ آپ نے ہمیں بتایا سبب حقیقی پر زمان نہیں آتا۔ اس کا جواب دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں: و علی هذا فینبغی أن لا یضمنا من سعی إلى سلطان ظالم بناء بر اس کے تو مناسب یہ ہے کہ ضامن نہ ہو وہ شخص جس نے چغلی کی إلى سلطان ظالم کس کی طرف؟ ظالم بادشاہ کی طرف۔ سعی کے معنی چغلی کرنے کے ہیں بھئی۔ جس نے چغلی کی ظالم بادشاہ کے پاس فی حق احد کسی ایک آدمی کے حق میں بغیر حق ناحق طور پر۔ حتی غرمه مالا یہاں تک کہ زمان ڈالا اس پر، ضامن بنایا اس کو۔ تاوان لیا اس سے بادشاہ نے مالا مال بھئی۔ بادشاہ نے اس سے تاوان میں کیا لیا؟ جس بیچارے کی چغلی کی گئی تھی اس سے مال لے لیا۔ تو اس پر زمان نہیں آنا چاہیے، لانہ صاحب سبب محض اس لیے کیونکہ وہ تو محض صاحب سبب ہے۔ لكن أفتى المتاخرون لیکن فتویٰ دیا ہے متاخرین نے۔ بزمانه اس کے ضامن ہونے کا لفساد الزمان زمان کے فاسد ہونے کی وجہ سے بالسعی الباطل سعی باطل، باطل چغلی کے ساتھ و کثرة السعات فیہ اور اس میں چغل خوروں کی کثرت کی وجہ سے۔ کہتے ہیں زمانا چونکہ فاسد آ گیا ہے، چغل خور بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں، بلاوجہ دوسروں کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ اگر زمان واجب نہ کیا جائے تو پھر تو ہر ایک اس طرح کرے گا۔ لہذا اس پر کیا آئے گا؟ زمان آئے گا جس نے ناحق کسی کو کے لیے سبب بنائی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ و اما المحرم الدال علی صید تو جی یہ ایک اور اعتراض کا جواب۔ اعتراض یہ ہے کہ آپ نے کہا سبب حقیقی جو ہے اس پر زمان نہیں آنا چاہیے۔ حالانکہ محرم حالت احرام میں جو ہے، حالت احرام میں آپ نے پڑھا کہ شکار بہت سے امور ممنوع ہوتے ہیں، جیسے شکار کھیلنا، ناخن کاٹنا وغیرہ، تو شکار کھیلنا بھی ممنوع۔ تو محرم جو ہے وہ سبب محض بنتا ہے کسی کے لیے، یعنی رہنمائی کرتا ہے کسی دوسرے کو بتلاتا ہے وہ دیکھو یا اس درخت کے پیچھے یا اس جھاڑی کے پیچھے شکار ہے۔ غیر محرم کی رہنمائی کر دی، کس نے کی؟ محرم نے۔ اس غیر محرم نے اس کو شکار کر لیا، تو فقہاء لکھتے ہیں اس محرم پر بھی زمان آئے گا۔ حالانکہ یہ تو سبب حقیقی ہے، شکار کھیلنے والا تو اور شخص ہے جو اپنے اختیار سے پھر کیا کرتا ہے شکار، تو اس پر کیوں زمان آیا محرم پر؟ اس کا جواب دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں و اما المحرم الدال علی صید اور باقی وہ محرم جو رہنمائی کرنے والا ہے شکار پر فینما ضمنا قيمته پس وہ ضامن ہوگا اس شکار کی قیمت کا لانہ ترک الامان الملتزم باحرامه اس لیے کیونکہ اس نے اس امان کو چھوڑ دیا ہے جس کا التزام کیا تھا اس نے اپنے احرام کے ساتھ۔ بھئی اس نے جب احرام باندھا تھا تو کس چیز کا التزام کیا تھا؟ کسی چیز کو تکلیف نہیں دے گا، اللہ کے گھر کی طرف جا رہا ہے، لہذا کسی چیز کو تکلیف نہیں، ہر چیز اس کی طرف سے امان ہے۔ ہر چیز کو اس کی طرف سے امان ہے، تو اس امان کا اس نے اپنے اوپر التزام کیا تھا، اپنے اوپر لازم کیا تھا کہ میں کسی چیز کو تکلیف نہیں دوں گا، ہر چیز مجھ سے مامون ہوگی۔ تو جب اس نے شکار پر رہنمائی کی، تو وہ جو امان جس کا اس نے اپنے اوپر لازم کیا تھا، خود ہی اس کو کیا کر دیا؟ چھوڑ دیا، ترک کر دیا، اس وجہ سے اس پر کیا آئے گا؟ زمان۔ یہ معنی ہے لانہ ترک الامان الملتزم باحرامه اس لیے کیونکہ اس نے چھوڑ دیا اس امان کو جس کو اس نے التزام کیا تھا باحرامه اپنے احرام کے ساتھ بفعل الدلالة کس طرح کس وجہ سے؟ دلالت کے فعل کی وجہ سے اس نے اس امان کو چھوڑ دیا جب اس نے رہنمائی کی۔ کلمودع جیسے کہ مودع بھئی، جس کے پاس امانت رکھوائی گئی۔ اذا دل السارق علی الودیعة جب اس نے رہنمائی کی کسی چور کی امانت پر، یضمن تو وہ ضامن ہوگا لكونه تاركا للحفظ الملتزم۔ اس لیے کیونکہ اس نے چھوڑ دیا اس حفاظت کو جس کا اس نے التزام کیا تھا۔ بھئی ایک شخص ہے، اس کے پاس آپ نے امانت رکھوا دی۔ امانت جس کے پاس رکھوائی وہ ہے مودع، اس کے ذمے کیا ضروری ہے؟ اب اس چیز کی حفاظت کرے، لہذا اگر وہ کسی چور کو بتلاتا ہے کہ میرے فلاں جگہ پر مال پڑا ہوا ہے، تو یہ چور جا کر اس کو چوری کر لے، تو اب دیکھیے یہ سبب ہے، لیکن یہاں پر اس پر زمان آئے گا۔ کیوں زمان آئے گا؟ اس لیے کیونکہ اس نے تو کس چیز کی ذمہ داری لی تھی؟ حفاظت کی، اس نے اس حفاظت کو چھوڑ دیا جس کی ذمہ داری لی تھی، اس وجہ سے اس پر کیا آئے گا؟ زمان۔ یہ معنی ہے یضمن لكونه تاركا للحفظ الملتزم وہ ضامن ہوگا اس لیے کیونکہ وہ چھوڑنے والا ہے اس حفاظت کو جس کا اس نے التزام کیا تھا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، واللہ أعلم بحقيقة الكلام۔
84 approved lectures · 82 of 84