درس نمبر۔ 84
وَقِيلَ لَا عَمَلَ إِلَّا عَنْ عِلْمٍ بِالنَّصِّ وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى: "وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ" أَيْ لَا تَتَّبِعْ مَا لَا عِلْمَ لَكَ، فَالْعِلْمُ لَازِمٌ لِلْعَمَلِ وَالْعَمَلُ مَلْزُومٌ لِلْعِلْمِ، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ فَلَا يُوجِبُ الْعَمَلَ لِأَنَّهُ لَا يُوجِبُ الْعِلْمَ أَوْ يُوجِبُ الْعِلْمَ لِأَنَّهُ يُوجِبُ الْعَمَلَ لِانْتِفَاءِ اللَّازِمِ أَوْ لِثُبُوتِ الْمَلْزُومِ.
بحث چل رہی تھی خبرِ واحد کے بارے میں بھئی۔ خبرِ واحد کے بارے میں کہ اس پر عمل واجب ہے یا واجب نہیں، میں نے آپ کو بتلایا تھا اس میں علماء کا اختلاف ہے۔
صاحبِ منار نے ذکر کیا کہ خبرِ واحد پر عمل واجب ہے اور دلیل اس کی کتابُ اللہ بھی ہے، سنتِ رسول صلى الله عليه وسلم بھی ہے، اجماع بھی ہے اور قیاس بھی۔
کتابُ اللہ سے وہ آیت ذکر کی "فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ"، سنتِ رسول دلیل کے طور پر ذکر کی کہ حضور علیہ السلام نے حضرت بریرہ رضی اللہ تعالی عنہا کی خبر کو قبول کیا صدقہ کے بارے میں، اسی طرح حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کی خبر کو قبول کیا ہدیہ کے بارے میں، اور اسی طرح اپنے صحابہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو ہیں قاضی بنا کر بھیجتے تھے، اور اسی طرح صحابہ کو جو ہے بادشاہوں کے پاس اپنے خطوط کے ساتھ روانہ فرماتے تھے، اور یہ سب اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ خبرِ واحد پر عمل واجب ہے بھئی، خبرِ واحد پر عمل واجب ہے۔
اسی طرح اجماع، اجماع بھی دلیل ہے خبرِ واحد پر عمل کے واجب ہونے کی کہ صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم جو ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان میں آپس میں اختلاف ہوا خلافت کے بارے میں، تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ "الأئمة من قريش" خلفاء قریش میں سے ہوں گے، تو اور یہ خبرِ واحد تھی، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ فرما رہے ہیں، لیکن تمام صحابہ نے اس کو قبول کیا، تو معلوم ہوا خبرِ واحد کو قبول کرنے پر صحابہ کا اجماع ہو گیا بھئی۔
اسی طرح اس بات پر بھی صحابہ کا اجماع ہے کہ پانی کی طہارت یا نجاست کے بارے میں اگر کوئی ایک شخص خبر دے تو اس عادل شخص تو اس کی خبر کو قبول کیا جائے گا۔
اسی طرح عقلی دلیل سے بھی، عقلی دلیل بھی یہی بتلاتی ہے کہ خبرِ واحد پر عمل واجب ہے اور وہ عقلی دلیل یہ کہ بھئی خبرِ متواتر اور مشہور تو ہر مسئلے کے اندر موجود نہیں ہے، تو اگر خبرِ واحد پر کو چھوڑ دیا جائے تو پھر تو اکثر احکام اسی طرح معطل ہو جائیں گے ان پر عمل ہی نہیں ہو سکے گا، خبرِ متواتر اور خبرِ مشہور تو کم ہیں بھئی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ مصنف نے جمہور کا مذہب ذکر کیا اور ساتھ دلائل بھی ذکر کر دیے۔ اب آگے وہ اختلاف ذکر کرنے لگے ہیں بعض دیگر علماء خبرِ واحد کے بارے میں ان کی رائے الگ ہے، وہ کیا کہتے ہیں؟ دیکھیے بھئی۔
وَقِيلَ اور کہا گیا ہے لَا عَمَلَ إِلَّا عَنْ عِلْمٍ کہ عمل نہیں ہوگا یعنی عمل واجب نہیں ہوگا مگر علم سے یعنی یقین سے، کس سے؟ یقین سے کہ خبرِ واحد پر عمل واجب نہیں ہے مگر یقین کی وجہ سے یعنی جب یقین ہو۔ جب یقینی علم ہوگا تو عمل واجب ہوگا، یقینی علم نہیں تو عمل بھی واجب نہیں۔
وَبِالنَّصِّ نص کی وجہ سے بھئی، نص کو وہ دلیل کے طور پر ذکر کرتے ہیں، اور وہ نص کیا ہے؟ وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى اور اللہ تعالی کا یہ قول ہے: "وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ" اور آپ پیروی نہ کیجیے اس چیز کی جس کا آپ کو علم نہیں ہے۔ خود شارح بھی معنی بتلا رہے ہیں: أَيْ لَا تَتَّبِعْ مَا لَا عِلْمَ لَكَ آپ اتباع نہ کیجیے اس چیز کا جس کا آپ کو علم نہیں ہے۔
دیکھا؟ نص میں کیا کہا گیا؟ جس کا علم نہیں اس کی پیروی نہ کیجیے، معلوم ہوا علم ہوگا یعنی یقینی علم ہوگا تو عمل کیا جائے گا، یقینی علم نہیں تو عمل بھی نہیں کیا جائے گا۔
فَالْعِلْمُ لَازِمٌ لِلْعَمَلِ تو علم کیا ہے؟ عمل کے ساتھ لازم ہے۔ علم ہوا لازم تو عمل کیا بن گیا؟ ملزوم، یہی بتلا رہے ہیں: وَالْعَمَلُ مَلْزُومٌ لِلْعِلْمِ اور عمل جو ہے ملزوم ہے علم کے لیے، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ پس جب اسی طرح ہے فَلَا يُوجِبُ الْعَمَلَ تو یہ خبرِ واحد جو ہے عمل کو واجب نہیں کرتی لِأَنَّهُ لَا يُوجِبُ الْعِلْمَ کیونکہ یہ علم کو واجب نہیں کرتی بھئی، اس کی وجہ سے یقینی علم نہیں آتا اور علم ہوگا تو عمل ہوگا، جب علم اس کی وجہ سے یقینی نہیں تو عمل بھی نہیں کیا جائے گا۔
أَوْ يُوجِبُ الْعِلْمَ لِأَنَّهُ يُوجِبُ الْعَمَلَ یا یہ علم کو بھی واجب کرتی ہے کیونکہ یہ عمل کو واجب کرتی ہے۔ بھئی ان میں پھر دو گروہ ہیں علماء کے، جنہوں نے یہ نص پیش کی کہ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: "وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ" کہ اتباع نہ کیجیے اس چیز کا جس کا آپ کو علم نہیں، معلوم ہوا علم ہوگا تو عمل ہوگا، علم نہیں تو عمل بھی نہیں۔
تو دو گروہ بن گئے، بعض کہتے ہیں اس کی وجہ سے خبرِ واحد کی وجہ سے چونکہ یقینی علم نہیں حاصل ہوتا اور یقینی علم نہیں تو عمل بھی نہیں کیا جائے گا۔ اور بعضوں نے کہا اس پر تو عمل واجب ہے، جب عمل واجب ہے تو عمل تو تھا ملزوم، علم کیا ہے اس کے ساتھ؟ لازم، جب عمل واجب ہوا معلوم ہوا علم بھی کیا ہے؟ واجب یعنی اس سے یقینی علم حاصل ہوگا بھئی۔ تو بعضوں نے کہا دو گروہ بن گئے، بعضوں نے کہا عمل بھی واجب نہیں، علم بھی واجب نہیں، کیا وجہ؟ کیونکہ اس کی وجہ سے یقینی علم نہیں حاصل ہوتا اور علم تو تھا لازم کس کے ساتھ؟ عمل کے ساتھ، جب لازم نہیں ہے تو معلوم ہوا ملزوم بھی نہیں ہے۔ اور بعضوں نے کیا کہا؟ کہ عمل تو اس کی وجہ سے واجب ہے اور عمل ہے ملزوم اور ملزوم کے ساتھ کیا آئے گا؟ علم بھی لازم آئے گا، تو جب عمل واجب ہے تو علم بھی واجب ہے۔ تو بعض کہتے ہیں علم بھی واجب، عمل بھی واجب، بعض کہتے ہیں نہ علم واجب، نہ عمل واجب۔
لِانْتِفَاءِ اللَّازِمِ أَوْ لِثُبُوتِ الْمَلْزُومِ یہ وہی بات ذکر کر رہے ہیں دونوں کی دلیل بھئی۔ پہلے انہوں نے کیا کہا؟ عمل بھی واجب نہیں، عمل بھی کیوں نہیں واجب؟ کیونکہ علم علم واجب نہیں، علم واجب نہیں یہ تو آپ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ خبرِ واحد کی وجہ سے یقینی علم نہیں حاصل ہوتا، تو جب علم یقینی نہیں تو علم تو تھا لازم، جب لازم کی نفی ہوئی تو ملزوم کی بھی نفی ہو گئی، کس کی؟ ملزوم کی بھی، بھئی لازم ہے، بھئی سورج ہے تو روشنی ہے، جب روشنی کی نفی کر دی تو سورج کی بھی کیا ہو گئی خود بخود؟ سورج ہوتا تو ضرور روشنی ہوتی، لیکن روشنی نہیں ہے معلوم ہوا سورج بھی نہیں ہے، تو یہاں پر بھی اسی طرح کہ عمل واجب علم نہیں، جب علم نہیں، لازم نہیں ہے تو ملزوم یعنی عمل بھی نہیں ہے۔ یہ معنی ہے لِانْتِفَاءِ اللَّازِمِ بوجہ لازم کے منتفی ہونے کے، لازم یعنی کہ علم، جب علم نہیں ہے یقینی تو عمل بھی نہیں ہوگا، لازم تو تبھی آئے گا نہ جب ملزوم آئے، ملزوم کے ساتھ دوسری چیز لازم ہے، وہ ضرور اس کے ساتھ آئے گی اور وہ نہیں آ رہی معلوم ہوا ملزوم بھی نہیں آ رہا بھئی۔
أَوْ لِثُبُوتِ الْمَلْزُومِ یہ جو دوسرے دوسرا گروہ تھا کہ ملزوم کے ثبوت کی وجہ سے بھئی، عمل تو واجب ہے دوسرے گروہ والے کیا کہتے ہیں؟ عمل واجب ہے، یہ ساری دلیلیں اوپر گزر گئیں بھئی، عمل واجب ہے، اور عمل تو تھا ملزوم، جب عمل آ گیا تو اس کے ساتھ اس کا لازم بھی آ جائے گا یعنی اس سے کون سا علم آئے گا؟ علمِ یقینی آئے گا بھئی، بات سمجھ میں بھی آ رہی ہے؟ یہ معنی ہے أَوْ لِثُبُوتِ الْمَلْزُومِ یا ملزوم کے ثبوت کی وجہ سے۔ کہتے ہیں: نَشْرٌ عَلَى تَرْتِيبِ اللَّفِّ یہ نشر ہے لف کی ترتیب پر یعنی پیچھے جو دو مذاہب ذکر ہوئے، دو قول جو ذکر ہوئے، ہر ایک کے ساتھ ساتھ اس کی دلیل بھی اسی ترتیب سے آ گئی بھئی، پہلے والے قول کی دلیل پہلے ذکر کی اور دوسرے قول والوں کی دلیل بعد میں ذکر کی۔
أَيْ لَا يُوجِبُ الْعَمَلَ لِانْتِفَاءِ لَازِمِهِ یعنی خبرِ واحد عمل کو واجب نہیں کرتی بوجہ اس کے لازم کے منتفی ہونے کے، وَهُوَ الْعِلْمُ اور وہ علم، جب علم منتفی ہے تو عمل بھی منتفی ہوگا، أَوْ يُوجِبُ الْعِلْمَ لِثُبُوتِ مَلْزُومِهِ یا یہ علم کو بھی واجب کرتی ہے خبرِ واحد لِثُبُوتِ مَلْزُومِهِ بوجہ اس کے ملزوم کے ثابت ہونے کے، وَهُوَ الْعَمَلُ اور وہ عمل، جب عمل ملزوم آ گیا تو اس کے ساتھ خود بخود کیا آ جائے گا اس کا لازم علمِ یقینی بھی آئے گا بھئی۔
وَالْجَوَابُ جواب دے رہے ہیں بھئی، یہ تو بعض علماء کا مذہب ہے، جمہور کا اوپر بیان ہو چکا بھئی۔ کہتے ہیں: وَالْجَوَابُ جواب یہ ہے أَنَّ النَّصَّ مَحْمُولٌ عَلَى شَهَادَةِ الزُّورِ کہ یہ نص جو ہے "وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ" یہ نص محمول ہے شہادتِ زور پر، جھوٹی گواہی پر۔ کس پر محمول ہے؟ جھوٹی گواہی پر، پیروی نہ کیجیے اس چیز کی جس کا آپ کو علم نہیں یعنی جھوٹی گواہی نہ دیجیے یعنی ایک چیز آپ نے دیکھی نہیں، سنی اس کا مشاہدہ نہیں کیا اور پھر کہیں میں نے اس کو دیکھا، میرے سامنے یوں ہوا، مشاہدہ میں نے کیا، میرے سامنے یہ واقعہ پیش آیا تھا، ایسا نہ کیجیے۔
أَوِ الْمَعْنَى یا معنی یہ ہے اس آیت کا: لَا تَتَّبِعْ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ بِوَجْهٍ مَا کہ پیروی نہ کیجیے اس چیز کی کہ نہیں ہے آپ کو اس کا علم بِوَجْهٍ مَا کسی بھی درجے میں، ذرہ برابر بھی جس چیز کا علم نہیں ہے اس کی پیروی نہ کیجیے۔ کیا معنی ہوا؟ اس چیز کی پیروی نہ کیجیے جس کا آپ کے پاس کسی بھی درجے میں علم نہیں ہے یعنی بالکل सिरे سے جس کا علم ہی نہیں ہے اس کی پیروی نہ کیجیے۔
سوال پیدا ہوتا ہے یہ کسی بھی درجے میں علم نہیں ہے، یہ کہاں سے آپ نے نکال لیا معنی بھئی؟ آیت نے تو کیا کہا تھا؟ جس کا علم نہیں اس کی پیروی نہ کیجیے، اور آپ کیا ترجمہ کر رہے ہیں؟ جس کا آپ کو کسی بھی درجے میں ذرہ بھی علم نہیں ہے اس کی پیروی نہ کیجیے، یہ ذرہ سا بھی علم نہیں ہے، یہ معنی آپ نے کہاں سے نکال لیا؟ کہتے ہیں: بِدَلِيلِ وُقُوعِ النَّكِرَةِ فِي سِيَاقِ النَّفْيِ کس دلیل کی وجہ سے؟ نکرہ کے سیاقِ نفی میں واقع ہونے کی دلیل کی وجہ سے، کیونکہ نکرہ، دیکھیے بھئی "وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ"، عِلْمٌ نکرہ آیا اور نکرہ تحت النفی آیا "لَيْسَ"، لَيْسَ کے تحت آیا اور نکرہ تحت النفی ہو تو کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ عموم کا فائدہ دیتا ہے یعنی آپ کو جس کا بالکل ہی علم نہ ہو کسی بھی درجے میں اس پر اس کی پیروی نہ کیجیے، تو اس سے پتہ چلا کہ یہ عموم ہے یہاں پر بھئی، کیونکہ نکرہ تحت النفی واقع ہو رہا ہے۔
اور بھی علماء نے بہت سے جوابات دیے ہیں، مثلاً ایک دو جواب انہوں نے حاشیے میں دیے کہ یہ جو نص ہے "وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ" یہ عقائد کے ساتھ متعلق ہے، کیونکہ عقائد کے اندر قطعی دلیل ہونی چاہیے بھئی، سمجھ میں آیا؟ وہاں ظنی دلیل سے کام نہیں چلے گا بھئی، تو جو عقائد کے اندر صرف قطعی دلائل کی پیروی کیجیے، جو ظنی ہیں ان کی پیروی نہ کیجیے۔
یا دوسرا یہ بعضوں نے جواب دیا کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے، صرف ان کو خطاب ہو رہا ہے کہ اے پیغمبر! آپ کو جس چیز کا علم نہیں آپ اس کی پیروی نہ کیجیے، تو حضور علیہ السلام کو تو ہر چیز کا علم وحی کے ذریعے ہو سکتا ہے جبکہ امت کے لیے تو یہ ممکن نہیں ہے، تو امت کے لیے ضروری ہوا کہ وہ ظن کی یعنی خبرِ واحد کی بھی کیا کرے؟ اس کو قبول کرے بھئی، خبرِ واحد کا اتباع کرے اس کو قبول کر لے۔
ثُمَّ لَمَّا كَانَ خَبَرُ الْوَاحِدِ لَمْ تَبْلُغْ رُوَاتُهُ حَدَّ التَّوَاتُرِ وَالشُّهْرَةِ بھئی اب یہ خبرِ واحد کے راویوں کے بارے میں بحث ذکر کریں گے بھئی۔ خبرِ متواتر جس کے روایت کرنے والے اتنے زیادہ ہوں کہ عقل ان کے اجتماع على الكذب کو محال سمجھے، جبکہ خبرِ مشہور اس کے روایت کرنے والے اتنے زیادہ تو نہ ہوں لیکن کسی بھی زمانے میں تین سے کم نہ ہوں، جبکہ خبرِ واحد وہ ہے جس کے روایت کرنے والے تواتر اور شہرت کی حد کو نہ پہنچیں یعنی چند ایک اس کو روایت کرنے والے ہیں، تو پھر جب چند ایک روایت کرنے والے ہیں تو اب راویوں کا حال جاننا ضروری ہوا کہ کس قسم کے لوگ اس کو روایت کر رہے ہیں، کیا وہ قابلِ اعتماد ہیں یا قابلِ اعتماد نہیں ہیں بھئی؟
تو اب وہ راویوں کی بحث ذکر کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں: ثُمَّ لَمَّا كَانَ خَبَرُ الْوَاحِدِ لَمْ تَبْلُغْ رُوَاتُهُ حَدَّ التَّوَاتُرِ وَالشُّهْرَةِ پھر جب خبرِ واحد جو ہے نہیں پہنچے اس کے روایت کرنے والے تواتر اور شہرت کی حد تک فَلَا بُدَّ أَنْ يُعْرَفَ حَالُ رَاوِيهِ تو ضروری ہوا کہ اس کے راوی کے حال کو جانا جائے بِأَنَّهُ إِمَّا مَعْرُوفٌ أَوْ مَجْهُولٌ کہ وہ یا تو معروف ہوگا یا مجهول ہوگا، وَالْمَعْرُوفُ إِمَّا مَعْرُوفٌ بِالْفِقْهِ أَوْ بِالْعَدَالَةِ اور معروف جو ہے یا تو وہ معروف بالفقه ہوگا یعنی مجتہد ہوگا، معروف بالفقه؟ یعنی مجتہد ہوگا، یا معروف بالعدالة ہوگا یعنی عادل، مجتہد تو نہیں ہے لیکن عادل ہے یعنی قابلِ اعتماد ہے، عادل کا کیا معنی؟ قابل، یعنی قابلِ اعتماد ہے۔ وَالْمَجْهُولُ عَلَى خَمْسَةِ أَنْوَاعٍ اور مجهول پانچ قسم پر ہے، بھئی معروف کی تو دو قسمیں بتا دیں، یا معروف بالفقه ہوگا یا معروف بالعدالة ہوگا، اور اگر مجهول ہے تو پھر وہ پانچ قسم پر ہے جن کا آگے بیان آئے گا بھئی۔ فَاشْتَغَلَ بِبَيَانِهِ پس مصنف ان کے بیان میں مشغول ہوئے بھئی، وَقَالَ اور فرمایا۔
یہ منار اور نور الانوار کا کی وہ بحث ہے مولانا اگر یہ اس کتاب میں نہ ہوتی تو بہت بہتر تھا بھئی۔ کاش صاحبِ منار اس بحث کو اپنی کتاب میں اپنے متن میں ذکر نہ کرتے، معلوم نہیں انہوں نے کس طرح اس بحث کو کتاب میں شامل کر لیا بھئی۔
بحث کا خلاصہ یہ ہے، خلاصہ سمجھ لیں پہلے، خلاصہ یہ یہ بتلائیں گے کہ حدیث اگر قیاس کے مخالف آ جائے، حدیثِ مرفوع یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قول قیاس کے مخالف آ جائے اور یہ حدیث ہو خبرِ واحد، کس قسم کی حدیث ہو؟ خبرِ واحد کی بات چل رہی ہے نہ، خبرِ واحد اگر قیاس کے مخالف آ جائے تو کیا حدیث پر عمل کریں گے یا قیاس پر عمل کریں گے؟ کیا کیا جائے گا؟ مثلاً حدیث سے ایک چیز کے حلال ہونے کا پتہ چل رہا ہے اور قیاس اس کے حرام ہونے کے بارے میں بتلا رہا ہے، یا حدیث سے کسی کے حرام ہونے کا پتہ چل رہا ہے اور قیاس اس کے حلال ہونے کا بتلاتا ہے، تو کس پر عمل کیا جائے گا؟ یہ آپ کو بتلائیں گے، اگر حدیث جو خبرِ واحد ہے اس کو روایت کرنے والا صحابی اگر وہ مجتہد ہے، کیا ہے؟ اگر مجتہد ہے پھر تو حدیث پر عمل کیا جائے گا، اور اگر وہ صحابی وہ مجتہد نہیں ہے، عادل قابلِ اعتماد تو ہے لیکن مجتہد نہیں ہے، تو پھر اس صورت میں قیاس پر عمل کیا جائے گا بھئی۔
یہ اس بحث کا خلاصہ ہوا، حالانکہ یہ احناف کا مذہب نہیں مولانا۔ یہ احناف کے اصولِ فقہ بیان ہو رہے ہیں نہ؟ تو احناف کا یہ مذہب نہیں ہے بھئی، احناف کے نزدیک تو امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب تو یہ ہے کہ ضعیف حدیث بھی آ جائے تو وہ قیاس سے اولیٰ ہے بھئی، ضعیف حدیث بھی آ جائے۔
تو کاش یہ بحث یہ صاحبِ منار ذکر نہ فرماتے، اسی طرح صاحبِ اصول الشاشی نے بھی اس بحث کو ذکر کیا ہے اور یہ درست نہیں مولانا۔ دیگر علماء نے، شارحین نے سب نے اس کو رد کیا ہے بھئی، سب نے اس کو رد کیا ہے۔ یہاں پر
پہلے بھئی اس بحث کو ذرا لکھ لیں میں آپ کو لکھوا دیتا ہوں، بڑی اہم اور ضروری بحث۔
جی، کاپی اور قلم نکال لیجیے۔ جی، لکھیے بھئی۔ اوپر متن کا حوالہ دے دیجیے:
والراوي إن عرف بالفقه والتقدم بالاجتهاد… إلى آخره.
جی، اب لکھیے نیچے:
اس بحث میں مصنف سے عظیم غلطی ہوئی ہے۔ اس بحث میں مصنف سے عظیم غلطی ہوئی ہے۔ ایسی غلطی جس نے فقہ حنفی کو بدنام کر دیا۔ ایسی غلطی جس نے فقہ حنفی کو بدنام کر دیا۔ جبکہ احناف کا یہ مذہب نہیں ہے۔ جبکہ احناف کا یہ مذہب نہیں ہے۔
آگے الگ سطر میں لکھیے:
تفصیل یہ ہے، تفصیل یہ ہے کہ کبھی کبھار نصوص میں تعارض آتا ہے۔ کبھی کبھار نصوص، ص کے دونوں جگہ ص ہیں بھئی، نص کی جمع ہے۔ کبھی کبھار نصوص میں تعارض آتا ہے، یعنی دو آیتیں یا دو حدیثیں، یعنی دو آیتیں یا دو حدیثیں بظاہر ایک دوسرے کے، بظاہر ایک دوسرے کے متعارض اور مخالف ہوتی ہیں۔
ایسے موقع پر، ایسے موقع پر دفعِ تعارض، دفعِ تعارض اور فیصلہ کرنے کے چار طریقے ہیں اور فیصلہ کرنے کے چار طریقے ہیں:
1. جمع و تطبیق۔ نمبر ایک، جمع و تطبیق۔ تطبیق میں پہلی ت دونوں نقطوں والی ہے پھر ط ہے۔ پھر ب، یا اور پھر ق دونوں نقطوں والا بھئی، تطبیق۔ پہلا طریقہ کیا ہے؟ جمع و تطبیق۔
2. نسخ۔ نمبر دو، نسخ۔ س کے ساتھ ہے نسخ۔
3. ترجیح۔ نمبر تین، ترجیح۔
4. توقف۔ نمبر چار، توقف۔
یعنی کم درجے کی دلیل کی طرف رجوع کرنا، اسی کے آگے لکھیں۔ یعنی کم درجے کی دلیل کی طرف رجوع کرنا۔
البتہ ان چاروں کے طریقۂ عمل میں اختلاف ہے۔ البتہ ان چاروں کے طریقۂ عمل میں اختلاف ہے۔
قولِ اول، قولِ اول:
ابن ہمام رحمہ اللہ، ابن ہمام، ہ، ہ، م، ا اور م، ابن ہمام رحمہ اللہ اپنی عظیم کتاب، ابن ہمام اپنی عظیم کتاب 'تحریر' میں لکھتے ہیں، تحریر کتاب کا نام ہے اس کے دونوں طرف نشان لگائیں بھئی، دو دو قومے لگائیں، اپنی عظیم کتاب 'تحریر' میں لکھتے ہیں کہ عند الشوافع ان کی ترتیب یوں ہے کہ سب سے پہلے، کہ سب سے پہلے جمع و تطبیق پر عمل کیا جائے گا، جمع و تطبیق پر عمل کیا جائے گا تاکہ دونوں نصوص پر عمل ہو جائے، تاکہ دونوں نصوص پر عمل ہو جائے۔
یہ اس وقت ہے، یہ اس وقت ہے جبکہ جمع و تطبیق ممکن ہو، جبکہ جمع و تطبیق ممکن ہو۔ اور اگر جمع و تطبیق ممکن نہ ہو، اور اگر جمع و تطبیق ممکن نہ ہو تو نسخ پر عمل کیا جائے گا، تو نسخ پر عمل کیا جائے گا بشرطیکہ یہ علم ہو سکے، بشرطیکہ یہ علم ہو سکے کہ کون سی آیت یا حدیث، کہ کون سی آیت یا حدیث زمانہ کے اعتبار سے مقدم ہے، زمانہ کے اعتبار سے مقدم ہے اور کون سی مؤخر، اور کون سی مؤخر۔
نشان لگائیں بھئی، بات مکمل ہوئی۔ تو مقدم کو منسوخ قرار دے کر چھوڑ دیا جائے گا، تو مقدم کو منسوخ قرار دے کر چھوڑ دیا جائے گا، تو مقدم کو منسوخ قرار دے کر چھوڑ دیا جائے گا اور مؤخر کو ناسخ قرار دے کر، اور مؤخر کو ناسخ قرار دے کر اس پر عمل کیا جائے گا، اس پر عمل کیا جائے گا۔
اگلی سطر میں لکھیے:
نسخ احکام میں جاری ہوتا ہے، نسخ احکام میں جاری ہوتا ہے نہ کہ اخبارِ محض میں، نہ کہ اخبارِ محض میں۔ کیونکہ اخبار میں نسخ کی صورت میں، کیونکہ اخبار میں نسخ کی صورت میں کذب یا جہل لازم آئے گا، کذب یا جہل لازم آئے گا اور شارع کی طرف، اور شارع کی طرف کذب یا جہل کی نسبت درست نہیں، کذب یا جہل کی نسبت درست نہیں۔
آگے الگ سطر میں لکھیے:
اگر نسخ پر بھی عمل کرنا ممکن نہ ہو، اگر نسخ پر بھی عمل کرنا ممکن نہ ہو یعنی مقدم اور مؤخر کا پتہ نہ چل سکے، یعنی مقدم اور مؤخر کا پتہ نہ چل سکے تو ترجیح پر عمل کیا جائے گا، تو ترجیح پر عمل کیا جائے گا۔ یعنی ایک کو راجح قرار دے کر، یعنی ایک کو راجح قرار دے کر اس پر عمل کیا جائے گا، یعنی ایک کو راجح قرار دے کر اس پر عمل کیا جائے گا اور دوسری کو مرجوح قرار دے کر، اور دوسری کو مرجوح قرار دے کر چھوڑ دیا جائے گا، چھوڑ دیا جائے گا۔
وجوہِ ترجیح علماء 20 سے زائد بتلاتے ہیں۔ وجوہِ ترجیح علماء 20 سے زائد بتلاتے ہیں جن کی تفصیل، جن کی تفصیل اصولِ حدیث کی کتابوں میں موجود ہے، جن کی تفصیل اصولِ حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔
الگ سطر لکھیے بھئی:
اور اگر ترجیح پر بھی عمل ممکن نہ ہو، اور اگر ترجیح پر بھی عمل ممکن نہ ہو تو پھر چوتھا طریقہ توقف ہے، تو پھر چوتھا طریقہ توقف ہے۔ یعنی دونوں نصوص میں سے، یعنی دونوں نصوص میں سے کسی پر بھی عمل نہیں ہوگا، کسی پر بھی عمل نہیں ہوگا اور دیگر ادلہ کی طرف، اور دیگر ادلہ کی طرف ذہاب کیا جائے گا۔ ذہاب، ذال کے ساتھ بھئی، دیگر ادلہ کی طرف ذہاب کیا جائے گا یعنی دیگر ادلہ کی طرف جائیں گے۔ یہ شافعی طریقہ ہے۔ یہ شافعی طریقہ ہے۔
یہاں تک بات سمجھ میں آئی بھئی؟ کبھی کبھار بھئی، سمجھ لیں اس بات کو، کبھی کبھار دو نصوص کے اندر، دو یعنی دو آیتوں میں یا دو احادیث کے اندر بظاہر تعارض ہمیں دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ آیتوں اور احادیث میں تعارض کبھی نہیں ہو سکتا لیکن بظاہر کبھی ہمیں معلوم ہوتا ہے تعارض بھئی۔ تو اس تعارض کو حل کرنے کے پھر چار طریقے ہیں بھئی۔
ایک ہے جمع و تطبیق، جمع و تطبیق کا معنیٰ یہ ہے کہ کوئی ایسی صورت اختیار کی جائے کہ دونوں پر عمل ہو جائے بھئی۔ اور دوسرا طریقہ ہے نسخ کا کہ ایک کو ہم کہیں یہ زمانے کے اعتبار سے مقدم تھی پہلے یہ حکم تھا بعد میں دوسرا حکم آ گیا، اب ہمارے سامنے تو مقدم اور مؤخر زمانے والی دو حدیثیں موجود ہیں تو ان میں تضاد، بظاہر کیا ہے؟ تعارض۔ لیکن ایک پہلے مقدم تھی، ایک بعد والی تھی تو مقدم کو کیا قرار دے دیں گے؟ منسوخ اور بعد والی کو ناسخ قرار دے دیں گے بھئی۔
تیسرا طریقہ ہے ترجیح کا بھئی، اگر نسخ پر بھی عمل نہیں ہو سکتا یعنی تقديم و تاخیر کا بھی پتہ نہیں چل رہا کہ کون سی زمانے کے اعتبار سے حدیث مقدم ہے اور کون سی مؤخر، تو پھر ترجیح پر عمل کریں گے کہ ایک کو ترجیح دے کر اس پر عمل کیا جائے گا اور دوسری کو مرجوح قرار دے کر اس کو چھوڑ دیا جائے گا۔ اور میں نے بتلایا کہ ترجیح کے جو ہیں وہ وجوہِ ترجیح جو ہیں 20 سے زیادہ ہیں جو آپ اصولِ حدیث کی کتابوں میں پڑھیں گے بھئی انشاء اللہ۔
اور اگر ترجیح پر بھی عمل نہ ہو سکے تو پھر توقف کیا جائے گا یعنی دونوں میں سے کسی پر بھی عمل نہیں کریں گے اور اس سے نچلے درجے والی حدیث، دلائل کی طرف چلے جائیں گے۔ اگر دو آیتوں میں تعارض تھا تو پھر حدیث کی طرف چلے جائیں گے، اگر دو حدیث میں تعارض تھا تو اس سے نیچے نچلی دلیل کی طرف چلے جائیں گے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ترتیب تھی امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، ان کے نزدیک سب سے پہلے جمع و تطبیق پر عمل کریں گے، اس کے بعد اگر جمع و تطبیق نہ ہو سکے تو پھر نسخ پر عمل کیا جائے گا، اگر وہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر ترجیح پر عمل کریں گے، اگر وہ بھی نہ ممکن ہو پھر توقف کر کے اس سے نچلے درجے والی دلیل کی طرف چلے جائیں گے۔
اب آگے احناف کا طریقہ آ رہا ہے، لکھیے بھئی:
قولِ ثانی، قولِ ثانی:
دوسرا طریقہ احناف کا ہے۔ دوسرا طریقہ احناف کا ہے۔
عند الاحناف اولاً نسخ پر عمل کیا جائے گا۔ عند الاحناف اولاً نسخ پر عمل کیا جائے گا۔ اگر نسخ پر عمل ممکن نہ ہو تو، اگر نسخ پر عمل ممکن نہ ہو تو پھر ترجیح پر عمل کیا جائے گا، پھر ترجیح پر عمل کیا جائے گا۔
اگر ترجیح بھی ممکن نہ ہو، اگر ترجیح بھی ممکن نہ ہو تو تیسرا طریقہ جمع و تطبیق ہے، تو تیسرا طریقہ جمع و تطبیق ہے۔
اگر ان تینوں طریقوں پر عمل ممکن نہ ہو، اگر ان تینوں طریقوں پر عمل ممکن نہ ہو تو چوتھا طریقہ توقف ہے، اگر ان تینوں طریقوں پر عمل ممکن نہ ہو تو چوتھا طریقہ توقف ہے۔
توقف کا معنیٰ یہ ہے، توقف کا معنیٰ یہ ہے کہ دونوں آیتیں یا دونوں حدیثیں، توقف کا معنیٰ یہ ہے کہ دونوں آیتیں یا دونوں حدیثیں ساقط اور متروک ہو جائیں گی، یا دونوں حدیثیں ساقط اور متروک ہو جائیں گی اور ان سے نچلے درجے کی، اور ان سے نچلے درجے کی دلیل کی طرف رجوع کیا جائے گا۔
اور ان سے نچلے درجے کی دلیل کی طرف رجوع کیا جائے گا۔
یہاں تک لکھ لیا بھئی؟ الگ سطر لکھیے بھئی۔
مثال کے طور پر دو آیتوں میں تعارض آئے۔ دو آیتوں میں تعارض آئے اور تینوں طریقوں میں سے اور تینوں طریقوں میں سے کسی پر بھی عمل ممکن نہ ہو تو کسی پر بھی عمل ممکن نہ ہو تو پھر حدیث کی طرف جائیں گے تو پھر حدیث کی طرف جائیں گے۔
اور اگر احادیث میں تعارض آئے اور اگر احادیث میں تعارض آئے اور تینوں طریقوں میں سے اور تینوں طریقوں میں سے کسی کے ذریعے فیصلہ نہ ہو سکے کسی کے ذریعے فیصلہ نہ ہو سکے تو اس سے کم درجے کی دلیل تو اس سے کم درجے کی دلیل یعنی قول صحابی یعنی قول صحابی یا قیاس کی طرف رجوع کیا جائے گا یا قیاس کی طرف رجوع کیا جائے گا۔
آگے لکھیے الگ سطر میں بھئی: سوال۔ سوال: قیاس اور قول صحابی میں سے کس کو ترجیح دی جائے گی؟ قیاس اور قول صحابی میں سے کس کو ترجیح دی جائے گی؟
جواب۔ جواب: جمہور احناف کے نزدیک جمہور احناف کے نزدیک قول صحابی کو قیاس پر ترجیح دی جائے گی، قول صحابی کو قیاس پر ترجیح دی جائے گی۔
لکھ لیا بھئی؟ بھئی، احناف کا مذہب تو یہ ہے حدیث مرفوع تو چھوڑو قول صحابی بھی اگر قیاس کے مخالف آئے تو قول صحابی پر عمل کریں گے اور قیاس کو چھوڑ دیں گے بھئی۔ اور یہ کتاب والے بتلائیں گے کہ حدیث مرفوع کو چھوڑ کر قیاس پر عمل کیا جائے گا بھئی۔
آگے لکھیے بھئی: سوال۔ سوال: حدیث مرفوع اور قیاس میں تعارض آ جائے، حدیث مرفوع اور قیاس میں تعارض آ جائے تو کسے ترجیح دی جائے گی؟ تو کسے ترجیح دی جائے گی؟
جواب۔ جواب: اس سلسلے میں دو قول ہیں۔ اس سلسلے میں دو قول ہیں۔ یہاں تک لکھ لیا بھئی سارا؟
آگے لکھیے: قول اول۔ قول اول: جمہور ائمہ کے نزدیک جمہور ائمہ کے نزدیک جب حدیث مرفوع جب حدیث مرفوع اور قیاس میں تعارض آ جائے اور قیاس میں تعارض آ جائے تو حدیث مرفوع کو تو حدیث مرفوع کو ترجیح دی جائے گی قیاس پر، ترجیح دی جائے گی قیاس پر۔
یہی مذہب ہے، یہی مذہب ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا، اور امام شافعی اور امام شافعی، امام مالک، امام مالک اور امام احمد ابن حنبل اور امام احمد ابن حنبل، حنبل لکھنا آتا ہے بھئی ح ن ب ل، رحمہما اللہ کا بھی یہی مذہب ہے، رحمہما اللہ تعالیٰ کا بھی یہی مذہب ہے۔
حدیث مرفوع کا مقام نہایت بلند ہے، حدیث مرفوع کا مقام نہایت بلند ہے۔ قیاس کیا چیز ہے؟ قیاس کیا چیز ہے؟ قیاس تو صرف رائے کا نام ہے، قیاس تو صرف رائے کا نام ہے اور رائے پر اور رائے پر صرف اس وقت عمل کیا جائے گا، صرف اس وقت عمل کیا جائے گا جب حدیث موجود نہ ہو، جب حدیث موجود نہ ہو۔
الگ سطر لکھیے بھئی۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تو، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تو ضعیف حدیث کے آنے پر بھی، ضعیف حدیث کے آنے پر بھی قیاس کو ترک فرما دیتے ہیں، قیاس کو ترک فرما دیتے ہیں۔
امام صاحب کا قول ہے، امام صاحب کا قول ہے: ما جاء عن، ما جاء عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، رسول الله صلى الله عليه وسلم قبلناه، قاف دو نقطوں والا ہے بھئی، قبلناه على الرأس والعينين، على الرأس والعينين۔
لکھ لیا بھئی؟ دوبارہ سن لیں: ما جاء عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قبلناه على الرأس والعينين۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بھی حدیث آئے، سے جو بھی حدیث آئے، ہم اسے ہم اسے بسر و چشم قبول کرتے ہیں، بسر و چشم قبول کرتے ہیں۔
لکھ لیا بھئی؟ نیز امام صاحب کا قول ہے، نیز امام صاحب کا قول ہے: إذا جاء الحديث، إذا جاء الحديث مخالفاً لرأيي، إذا جاء الحديث مخالفاً لرأيي فاضربوا رأيي، فاضربوا، فاضربوا کس طرح لکھا ہے بھئی؟ ف الف ض ر ب و اور پھر الف بھی آئے گا جمع کے و کے بعد الف لکھتے ہیں عربی میں، فاضربوا رأيي، فاضربوا رأيي على الجدار، على الجدار۔ یعنی اگر حدیث میری رائے کے مخالف آ جائے، یعنی اگر حدیث میری رائے کے مخالف آ جائے، یعنی اگر حدیث میری رائے کے مخالف آ جائے تو میری رائے کو دیوار پر دے مارو، تو میری رائے کو دیوار پر دے مارو۔
امام صاحب کا ایک اور قول ہے، امام صاحب کا ایک اور قول ہے: إذا جاء حديث صحيح، إذا جاء حديث صحيح فهو مذهبي، إذا جاء حديث صحيح فهو مذهبي۔ جب صحیح حدیث آ جائے، جب صحیح حدیث آ جائے کسی مسئلہ میں، جب صحیح حدیث آ جائے کسی مسئلہ میں تو وہی میرا مذہب ہے، تو وہی میرا مذہب ہے۔
الگ سطر لکھیے بھئی۔ مشہور شافعی المسلک، مشہور شافعی المسلک محدث، محدث علامہ ابن حجر رحمہ اللہ، علامہ ابن حجر رحمہ اللہ اپنی کتاب، اپنی کتاب الفوائد الحسان، حسان س کے ساتھ ہے بھئی، وہ اپنی کتاب الفوائد الحسان میں، الفوائد الحسان میں ابن حزم، ابن حزم، ح ز م، ابن حزم رحمہ اللہ کے حوالے سے، ابن حزم رحمہ اللہ کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ تمام احناف کا اس بات پر اجماع ہے، کہ تمام احناف کا اس بات پر اجماع ہے، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ضعیف حدیث بھی قیاس سے اولیٰ ہے، ضعیف حدیث بھی قیاس سے اولیٰ ہے۔
لکھ لیا بھئی؟ آگے الگ سطر لکھیے بھئی۔ امام مالک رحمہ اللہ کی طرف یہ قول، امام مالک رحمہ اللہ کی طرف یہ قول، امام مالک رحمہ اللہ کی طرف یہ قول منسوب کیا جاتا ہے، یہ قول منسوب کیا جاتا ہے کہ وہ حدیث مرفوع پر، کہ وہ حدیث مرفوع پر قیاس کو ترجیح دیتے ہیں، قیاس کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن یہ بات درست نہیں، لیکن یہ بات درست نہیں، ان کے نزدیک بھی، ان کے نزدیک بھی حدیث مرفوع قیاس پر مقدم ہے، ان کے نزدیک بھی حدیث مرفوع قیاس پر مقدم ہے۔
آگے لکھیے بھئی: قول ثانی۔ قول ثانی: عیسیٰ ابن ابان حنفی، قول ثانی، عیسیٰ ابن ابان، ابان الف کے ساتھ ہمزہ ہے، عیسیٰ ابن ابان حنفی رحمہ اللہ کا قول ہے، کا قول ہے۔ وہ کہتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اگر حدیث کا راوی فقیہ ہو، کہ اگر حدیث کا راوی فقیہ ہو تو حدیث کو ترجیح ہوگی قیاس پر، تو حدیث کو ترجیح ہوگی قیاس پر۔ اور اگر حدیث کا راوی غیر فقیہ ہو، اور اگر حدیث کا راوی غیر فقیہ ہو تو قیاس کو ترجیح دی جائے گی، تو قیاس کو ترجیح دی جائے گی۔
الگ سطر لکھیے بھئی: عیسیٰ ابن ابان حنفی کا یہ قول
عیسیٰ ابن ابان حنفی کا یہ قول باطل و مردود ہے۔ یہ قول باطل و مردود ہے، لیکن بڑے افسوس کی بات ہے، لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ بعض متاخرینِ احناف نے، کہ بعض متاخرینِ احناف نے اس قول کو ترجیح دی ہے، نے اس قول کو ترجیح دی ہے۔
مثلاً صاحبِ اصول الشاشی، مثلاً صاحبِ اصول الشاشی اور صاحبِ منار وغیرہ، اور صاحبِ منار وغیرہ۔ ہم منار اور اصول الشاشی والے کے مقلد نہیں ہیں۔ ہم منار اور اصول الشاشی والے کے مقلد نہیں ہیں، بلکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مقلد ہیں۔ بلکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مقلد ہیں۔
منار، نور الانوار، منار، نور الانوار اور اصول الشاشی والے کو ہم صرف اس لیے مانتے ہیں، اور اصول الشاشی والے کو ہم صرف اس لیے مانتے ہیں کہ انہوں نے، کہ انہوں نے ہمارے اکابر کے اقوال نقل کیے ہیں۔ کہ انہوں نے ہمارے اکابر کے اقوال نقل کیے ہیں۔
اللہ جزائے خیر دے، اللہ جزائے خیر دے منار کے اور اصول الشاشی کے شارحین کو، اللہ جزائے خیر دے منار اور اصول الشاشی کے شارحین کو جنہوں نے اس قول کو رد کیا ہے۔ جنہوں نے اس قول کو رد کیا ہے۔
علامہ عینی رحمہ اللہ بھی، علامہ عینی رحمہ اللہ بھی اس قول کو مردود کہتے ہیں۔ اس قول کو مردود کہتے ہیں۔ ابن ہمام رحمہ اللہ نے بھی، ابن ہمام رحمہ اللہ نے بھی اسے شیطانی قول قرار دیا ہے۔ ابن ہمام رحمہ اللہ نے بھی اسے شیطانی قول قرار دیا ہے۔
یہ قول بڑی غلط فہمیوں کا حامل ہے، بڑی غلط فہمیوں کا باعث ہے۔ یہ قول بڑی غلط فہمیوں کا حامل ہے۔ اس قول نے پوری دنیا میں فقہ حنفی کو بدنام کر دیا۔ اس قول نے پوری دنیا میں فقہ حنفی کو بدنام کر دیا۔
آگے الگ سطر میں لکھیے۔
ترمذیِ وقت، ترمذیِ وقت، شیخ الحدیث والتفسیر، شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ رحمتہً واسعۃً، شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ رحمتہً واسعۃً اس قول پر سخت غصے اور ناراضگی کا، اس قول پر سخت غصے اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں، سخت غصے اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ قول فتنہ بنا ہوا ہے۔ کہ یہ قول فتنہ بنا ہوا ہے۔
اس کی وجہ سے، اس کی وجہ سے آج تک مذہبِ حنفی بدنام ہے۔ آج تک مذہبِ حنفی بدنام ہے۔ یہ قول نہایت گمراہ کن، یہ قول نہایت گمراہ کن، مردود، یہ قول نہایت گمراہ کن، مردود، ظالمانہ اور شریرانہ ہے۔ ظالمانہ اور شریرانہ ہے۔
یہ قول فقہ حنفی پر عظیم داغ ہے۔ یہ قول فقہ حنفی پر عظیم داغ ہے۔ اس قول کو رد کرتے ہوئے، اس قول کو رد کرتے ہوئے حضرت شیخِ ترمذی رحمہ اللہ تعالیٰ، حضرت شیخِ ترمذی رحمہ اللہ تعالیٰ اتنے جلال میں آ جاتے، اتنے جلال میں آ جاتے کہ فرماتے، کہ فرماتے کہ جی چاہتا ہے، کہ جی چاہتا ہے کہ جس عالم نے یہ بات لکھی ہے، کہ جس عالم نے یہ بات لکھی ہے اس کا وہ ہاتھ کاٹ ڈالیں۔ جس عالم نے یہ بات لکھی ہے اس کا وہ ہاتھ کاٹ ڈالیں۔
نیز وہ یہ بھی فرماتے، نیز وہ یہ بھی فرماتے کہ یہ قول صرف مردود ہی نہیں، کہ یہ قول صرف مردود ہی نہیں بلکہ شیطانی قول ہے۔ بلکہ شیطانی قول ہے اور موجبِ گمراہی و ضلالت ہے۔ اور موجبِ گمراہی و ضلالت ہے۔
اس قول سے، اس قول سے، اس قول سے گمراہی اور فتنوں کے دروازے کھلیں گے۔ گمراہی اور فتنوں کے دروازے کھلیں گے اور یہی منکرینِ حدیث کہتے ہیں۔ اور یہی منکرینِ حدیث کہتے ہیں۔
ابنِ ہمام نے بھی، ابنِ ہمام نے بھی اسے شیطانی قول قرار دیا ہے۔ ابنِ ہمام نے بھی اسے شیطانی قول قرار دیا ہے۔ البحر الرائق، البحر الرائق — ق ہے آخر میں دو نقطوں والا بھئی — فتح القدیر، فتح القدیر، عینی — یہ کتابوں کے نام ہیں بھئی — البحر الرائق، فتح القدیر، عینی، النہر، النہر، الطحطاوی — ط کے ساتھ، ح، ط اور ح — الطحطاوی، المبسوط — س ہے اور آخر میں ط — المبسوط، سب نے اس قول کو گمراہی قرار دیا ہے۔ سب نے اس قول کو گمراہی قرار دیا ہے۔
تمام محققینِ احناف کے نزدیک، تمام محققینِ احناف کے نزدیک حدیثِ مرفوع قیاس پر مقدم ہے۔ حدیثِ مرفوع قیاس پر مقدم ہے۔
الگ سطر لکھیے۔
شیخ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، شیخ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مجھے عیسیٰ ابنِ ابان کے اس قول میں شک تھا، کہ مجھے عیسیٰ ابنِ ابان کے اس قول میں شک تھا کہ یہ ان کا قول بھی نہیں ہو سکتا، کہ یہ ان کا قول بھی نہیں ہو سکتا۔
میں نے اس کی تحقیق کی۔ میں نے اس کی تحقیق کی۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ، الحمد للہ ثم الحمد للہ کہ یہ قول عیسیٰ ابنِ ابانِ حنفی کا بھی نہیں۔ کہ یہ قول عیسیٰ ابنِ ابانِ حنفی کا بھی نہیں۔
مجھے کہیں کتابوں میں ان کا یہ قول نہیں ملا۔ مجھے کہیں کتابوں میں ان کا یہ قول نہیں ملا۔ ہمارے اسلاف ان باتوں سے پاک ہیں۔ ہمارے اسلاف ان باتوں سے پاک ہیں۔
معلوم نہیں یہ قول کیسے ان کی طرف منسوب ہو گیا! معلوم نہیں یہ قول کیسے ان کی طرف منسوب ہو گیا اور معلوم نہیں کس طرح کتابوں میں آ گیا! اور معلوم نہیں کس طرح کتابوں میں آ گیا۔
ہمارے ائمہ ثلاثہ، ہمارے ائمہ ثلاثہ: امام ابو حنیفہ، امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ تعالیٰ، اور امام محمد رحمہم اللہ تعالیٰ میں سے کسی سے یہ قول منقول نہیں۔ میں سے کسی سے یہ قول منقول نہیں اور نہ ہی ہمارے قدماء کا قول ہے۔ اور نہ ہی ہمارے قدماء کا قول ہے اور نہ ہی ان کی کتابوں میں ہے۔ اور نہ ہی ان کی کتابوں میں ہے، وہ اس سے بری ہیں۔ وہ اس سے بری ہیں۔
لکھ لیا بھئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔