Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-127

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 12 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 6
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمنر۔127 ثم لما فرغ المصنف رحمه الله عن بحث الأدلة الأربعة، أراد أن يبحث بعدها عما ثبت بالأدلة. وقد قلت فيما سبق: إن موضوع علم الأصول على المذهب المختار هو الأدلة والأحكام جميعها، فبعد الفراغ عن الأول شرع في الثاني، فقال: فصل. ثم جملة ما ثبت بالحجج التي سبق ذكرها على باب القياس، يعني الكتاب والسنة والإجماع شيئان: الأحكام وما يتعلق به الأحكام. ثم لما فرغ المصنف رحمه الله عن بحث الأدلة الأربعة، هي جب مصنف رحمه الله أدله أربعه كي بحث سے فارغ ہوئے۔ بهي قياس كي بحث بهي مکمل ہو گئی، آگے اب أحكام اور أحكام سے متعلقہ باتيں چيزيں جو ہيں ان کا ذکر ہو گا بهي۔ كتاب الله، سنة، إجماع اور قياس، چاروں أدلة جو ہيں ان كي بحث مکمل ہوئی۔ تو يہي بيان کر رہے ہيں کہ جب مصنف رحمه الله فارغ ہوئے أدلة أربعة كي بحث سے، أراد أن يبحث بعدها عما ثبت بالأدلة، تو مصنف نے ارادہ کيا کہ وہ بحث کريں ان کے بعد اس چيز سے جو ثابت ہوتي ہے أدلة کے ذريعے۔ أدلة ہيں مثبت، اور أحكام کيا ہيں؟ مثبت ہيں۔ تو مثبت کا ذکر ہو چکا، اب وہ چيزيں جو مثبت ہيں يعني أحكام کہ ان أدلة أربعة سے ثابت ہوتي ہيں ان كي بحث کرنے لگے ہيں۔ اور شارح فرماتے ہيں: وقد قلت فيما سبق، اور تحقيق ميں نے ماقبل ميں بتلايا تھا کہ إن موضوع علم الأصول على المذهب المختار هو الأدلة والأحكام جميعها، کہ علم اصول کا موضوع پسنديدہ مذہب کے مطابق وہ أدلة اور أحكام دونوں ہيں بهي۔ بعضوں نے کہا تھا صرف کيا ہيں؟ أدلة، انہوں نے کہا مذہب مختار جو ہے کہ وہ أدلة اور أحكام دونوں ہيں، فبعد الفراغ عن الأول، پس اول سے فارغ ہونے کے بعد يعني أدلة سے فارغ ہونے کے بعد، شرع في الثاني، دوسرے ميں شروع ہوئے يعني أحكام ميں، فقال، پس فرمايا: فصل. ثم جملة ما ثبت بالحجج التي سبق ذكرها، پھر وہ مجموعہ چيزيں جو ثابت ہوتي ہيں بالحجج أدلة کے ذريعے، ان أدلة کے ذريعے التي سبق ذكرها جن کا پہلے ذکر، جن کا ذکر مقدم ہو چکا۔ اور ماقبل ميں کتنے أدلة ذکر ہوئے؟ چار: كتاب الله، سنة، إجماع اور قياس۔ شارح آگے استثناء کريں گے باب القياس کا، تو استثناء کس طرح کرتے ہيں؟ کہ وہ چيزيں جو ثابت ہيں أدلة کے ذريعے، جن کا ان أدلة کے ذريعے جن کا ماقبل ميں ذکر ہو چکا، على باب القياس، کس پر، کس سے مقدم، کس سے ماقبل ميں ذکر ہو چکا؟ قياس کے باب سے مقدم جن کا ذکر ہو چکا۔ وہ کيا ہيں؟ يعني الكتاب والسنة والإجماع، يعني کتاب، سنت اور إجماع۔ تو ان کے ذريعے، يہ جو تين أدلة ہيں ان کے ذريعے جو چيزيں ثابت ہوتي ہيں، شيئان، وہ دو چيزيں ہيں۔ ياد رکھئے، والإجماع يہ متن کا حصہ نہيں ہے بهي۔ سمجھ ميں آئي بات بهي؟ تو ديکھئے، متن کے اندر انہوں نے کہا تھا: وہ دليليں جو ماقبل ميں ذکر ہو چکي ہيں، اس ميں چار داخل ہو رہي تھيں، شارح نے کيا کيا؟ على باب القياس كي قيد بڑھا دي کہ قياس کے باب سے ماقبل ميں جو دليليں ذکر ہوئيں، اور اب کتني رہ گئيں دليليں؟ تين رہ گئيں، تو ان کے ذريعے کہتے ہيں جو چيزيں ثابت ہوتي ہيں، شيئان، وہ دو چيزيں ہيں بهي: الأحكام وما يتعلق به الأحكام، ایک أحكام اور ایک وہ چيزيں جو أحكام سے متعلق ہيں بهي۔ بات سمجھ ميں آئي بهي؟ وإنما استثنيت القياس، يہ انہوں نے کس کا استثناء کيا؟ قياس کا، اس کو اب ذکر کر رہے ہيں کيو؟ کہتے ہيں: وإنما استثنيت القياس، اور ميں نے قياس کا استثناء کيا، لأنه لا يثبت شيئا، کيو نکہ قياس کسے چيز کو ثابت نہيں کرتا، وإنما هو للتعدية، وہ تو صرف کس لئے ہوتا ہے؟ تعدية، بهي آپ شروع ميں پڑھ چکے کہ باقي أدلة مثبت ہيں اور قياس مظہر ہے، اور باقي أدلة قطعي ہيں اور قياس ظني ہے۔ تو قياس جو ہے وہ مثبت نہيں، وہ کسے چيز کو ثابت نہيں کرتا، وہ صرف تعدية کے لئے ہے حکم کو ایک چيز سے دوسري چيز كي طرف متعدي کرنے کے لئے۔ ولو أريد بالثبوت المعنى الأعم، اور اگر ارادہ کيا گيا ہو ثبوت سے عام معنى کا، ہم نے تو بتلايا کہ متن ميں جو ما ثبت آيا، اور ما ثبت کيا ہيں؟ جن کے ذريعے ثابت ہو، جن کے ما ثبت به جن کے ذريعے کيا ہو؟ وہ ثابت ہو، تو ثابت کرنے والي تو تين ہي چيزيں ہيں، قياس تو مثبت نہيں، وہ تو کيا ہے؟ مظہر ہے، تو لہٰذا جو متن ميں آيا تھا ما ثبت وہاں سے اگر کہتے ہيں ثبوت کا عام معنى لے ليں، چاہے وہ ثبوت جو ہے وہ ظهور كي صورت ميں ہي کيو نہ ہو۔ قياس مثبت تو نہيں ليکن مظہر تو ہے، تو اگر ثبوت کا ايسا معنى لے ليں جس ميں اس بات کے ساتھ ساتھ اظہار والي چيزيں بهي آ جائيں، فيمكن أن يراد بالحجج الأدلة الأربعة، پھر ممکن ہے کہ حجج سے کيا مراد ہوں؟ أدلة أربعة مراد ہوں، اگر ہم ثبوت کا معنى عام رکھيں، ثبوت جو ايسا ثبوت جو چاہے ظهور كي شکل ميں ہي کيو نہ ہو بهي۔ والمراد بالأحكام، اور أحكام سے مراد جو ہيں الأحكام التكليفية، أحكام تکليفية ہيں بهي۔ أحكام، وہ أحكام جن کا بندے کو مکلف بنايا گيا ہے يعني عبادات، سزائيں وغيرہ يہ چيزيں بهي۔ تو يہ جو متن ميں آيا نا أحكام، اس سے کيا مراد ہيں؟ أحكام تکليفية، وبما يتعلق به الأحكام الوضعية، اور متن ميں جو آيا وما يتعلق به الأحكام اس سے کيا مراد ہيں؟ کہتے ہيں: الأحكام الوضعية، اس سے مراد أحكام وضعية ہيں، وضع کے معنى مقرر کرنے کے، وہ جو حکم كي علت ہے، سبب ہے، شرط ہے وغيرہ يہ چيزيں جو اس کے ساتھ مقرر ہيں بهي۔ وقد ذكروا هذه القواعد منتشرة، اور تحقيق ذکر کيا ہے علماءِ اصول نے ان رابطوں کو منتشرة، منتشر طور پر، مختلف بکهري ہوئي صورت ميں، کوئي کچھ باتيں کہيں ذکر كي ہيں اور کچھ باتيں کہيں ذکر كي ہيں بهي۔ والذي يعلم من التوضيح في ضبطها، اور وہ بات جو معلوم ہوتي ہے توضيح کتاب سے في ضبطها ان کے ضبط ميں، ان کے ترتيب دينے ميں، أن الحكم مفتقر إلى الحاكم، کہ حکم جو ہوتا ہے وہ محتاج ہوتا ہے حاکم کا۔ حکم کے لئے کيا چاہيے؟ کوئي حاکم چاہيے۔ والمحكوم عليه، اور کس کا محتاج ہوتا ہے؟ محکوم عليہ جس کو حکم ديا گيا، والمحكوم به، اور کس کا محتاج ہے؟ محکوم بہ جس بات کا حکم ديا گيا۔ فالحاكم هو الله تعالى، پس حاکم جو ہيں وہ اللہ تعالٰى ہيں، والمحكوم عليه هو المكلف، اور محکوم عليہ وہ مکلف ہے، وہ بندہ ہے جس پر يہ جس کو مکلف بنايا گيا، والمحكوم به فعل المكلف من العبادات والعقوبات وغيرهما، اور محکوم بہ جو ہے وہ مکلف کے فعل ہے يعني کے عبادات، سزائيں اور ان کے علاوہ بهي۔ صورت سمجھ ميں آ گئي بهي؟ حكم، حکم جو ہے اس کے لئے حاکم بهي چاہيے، محکوم عليہ بهي چاہيے، محکوم بہ بهي۔ حاکم: حکم دينے والا، محکوم عليہ: جس کو حکم ديا گيا يعني بندہ، اور محکوم بہ: جس چيز کا حکم ديا گيا جس فعل کا۔ والأحكام، اور يہ جو متن ميں أحكام لفظ آيا، يہ کہتے ہيں: والأحكام صفات فعل المكلف، يہ مکلف کے فعل كي صفات ہيں۔ أحكام اور حکم کسے کہتے ہيں؟ مکلف کے جو افعال ہيں، بهي اس مکلف کا فعل، وہ تو ہے محکوم بہ، فعل خود کيا ہے اس کا؟ نماز، روزہ، زکوۃ وغيرہ، يہ کيا ہے؟ ہاں، اس محکوم بہ كي جو صفت ہے، يہ واجب ہے، سنت ہے، نفل ہے، عزيمت ہے، کہ رخصت ہے وغيرہ، يہ فعل كي صفات ہيں، يہ ہيں أحكام، يہ کيا ہيں؟ أحكام۔ تو کہتے ہيں: والأحكام صفات فعل المكلف، اور أحكام جو ہيں وہ مکلف کے فعل كي صفات ہيں، من الوجوب والندب والفرضية والعزيمة والرخصة، من بيانيہ ہے بهي صفات کا، صفات کا بيان ہے کہ وہ مکلف کے فعل كي صفات کيا ہيں؟ يعني کے وجوب، ندب، مندوب ہونا، فرض ہونا، عزيمت اور رخصت۔ وعلى هذا التحقيق، تو اس تحقيق كي بناء پر، الأحكام هي صفات الفعل، أحكام کيا ہيں؟ فعل كي صفات۔ وقد مضى ذكرها بعد بحث الكتاب في العزيمة والرخصة، اور تحقيق ان کا ذکر تو گزر چکا ہے کتاب اللہ كي بحث کے بعد عزيمت اور رخصت كي بحث آئي تھي ان ميں يہ بيان ہو چکے۔ وهذا المبحث مبحث فعل المكلف، اور يہ جو بحث ہے، مبحث: جائے بحث، مراد بحث ہے۔ يہ جو مبحث ہے يہ مکلف کے فعل كي بحث ہے۔ أحكام کس کو کہتے ہيں؟ صاحبِ توضيح نے کيا بتلايا تھا؟ مکلف کے فعل كي صفات ہيں۔ مکلف کے فعل كي، یعنی فرض ہونا، مستحب ہونا، عزيمت، رخصت وغيرہ، يہ ہيں أحكام۔ اور یہاں پر جو أحكام آيا، کہتے ہيں: اس سے محکوم بہ مراد ہے۔ کيا مراد ہے؟ محکوم بہ مراد ہے۔ تو کہتے ہيں: أحكام کہتے تو صفاتِ فعل کو ہيں، ليکن یہاں پر وہ فعل يعني محکوم بہ مراد ہے۔ کہتے ہيں: وهذا المبحث مبحث فعل المكلف، اور يہ بحث جو ہے مکلف کے فعل كي بحث ہے، يعني المحكوم به، يعني کے محکوم بہ، ومبحث المحكوم عليه يأتي بعده، اور محکوم عليہ جو ہے يعني وہ مکلف جو ہے اس كي بحث آئے گي بعده اس کے بعد، في بيان الأهلية، کس کے بيان ميں؟ اہليت کے بيان ميں، والأمور المعترضة عليها، اور وہ ان امور کے بيان ميں جو اس اہليت پر کو پيش آتے ہيں، اس اہليت پر اس کو عارض ہوتے ہيں، اس کو پيش آتے ہيں۔ جي، تو کہتے ہيں: وبالجملة، حاصل يہ کہ لا يخلو تقسيم القدماء عن مسامحة، کہ قدماء كي تقسيم مسامحة يعني سستي سے خالي نہيں، کوتاہي ہوئي ہے اس ميں، صحيح طريقے سے تقسيم نہيں، اس لئے کيو نکہ أحكام صاحبِ توضيح كي بات لي جائے تو أحكام تو صفاتِ فعل ہيں اور صفاتِ فعل کا بيان تو پہلے ہو چکا، پھر یہاں أحكام کہنے کا کيا معنى؟ اور ان کے أحكام ميں يہ بيان کس کو کر رہے ہيں؟ کس کو؟ فعلِ مکلف کو بيان کر رہے ہيں يعني محکوم بہ کو بيان کر رہے ہيں، تو یہاں محکوم بہ کہنا چاہيے، أحكام نہيں کہنا چاہيے۔ تو بہرحال کہتے ہيں: قدماء كي تقسيم مسامحة سے خالي نہيں۔ اب بتلانے لگے ہيں: أما الأحكام، أحكام جو ہيں، فأربعة، وہ چار ہيں۔ أحكام سے کيا مراد؟ ابھی بيان کيا، يعني المحكوم به الذي هو عبارة عن فعل المكلف أربعة أنواع، يعني وہ محکوم بہ جو کہ عبارت ہے مکلف کے فعل سے، وہ چار انواع پر ہے: الأول حقوق الله تعالى خالصة، اول کيا ہيں؟ اللہ کے حقوق ہيں خالصۃً، خالص، خالص اللہ کے حقوق بهي، متن متن ديکھئے۔ والثاني حقوق العباد خالصة، اور دوسري قسم خالص جو بندوں کے حقوق ہيں۔ والثالث ما اجتمعا فيه، اور تيسري قسم وہ ہے جس ميں دونوں جمع ہوں، حق اللہ بهي ہو اور حق العبد بهي ہو، وحق الله غالب، اور حق اللہ غالب ہو۔ والرابع ما اجتمعا فيه، اور رابع چوتھي قسم اس ميں بھی يہ دونوں جمع ہوں گے، حق اللہ بھی اور حق العبد بھی، وحق العبد غالب، اس حال ميں کہ اس ميں بندے کا حق غالب ہو گا۔ تو يہ چار قسم کے أحكام ہيں: فالأول حقوق الله تعالى خالصة، اول جو ہيں اللہ کے حقوق، اس حال ميں کہ وہ خالص ہوں یعنی اس ميں بندے کا حق نہ ہو، وهو ما يتعلق به النفع العام، بهي کس کو کہتے ہيں حق اللہ؟ کہتے ہيں: وہ ہے يتعلق به کہ متعلق ہو اس کے ساتھ النفع العام عام نفع متعلق ہو اس کے ساتھ۔ حق اللہ وہ چيز ہے جس کے ساتھ عام نفع متعلق ہو یعنی جس ميں سب لوگوں کا نفع ہو۔ حق اللہ سے کيا مراد ہے؟ جس ميں سب لوگوں کا نفع ہو، كحرمة البيت، جیسے بيت اللہ كي حرمت اور عزت جو ہے، فإن نفعه عام للناس، اس لئے کيو نکہ اس کا نفع عام ہے تمام لوگوں کے لئے، باتخاذهم بإتخاذهم إياه قبله، اس صورت کہ سب اس کو کيا بنيائيں؟ قبلہ بنيائيں بهي۔ وكحرمة الزنا، اور جیسے کہ حرمتِ زنا ہے، زنا کے حرام ہونا، فإن نفعه عام للناس، اس لئے کيو نکہ اس کا نفع بھی عام ہے لوگوں کے لئے، بسلامة أنسابهم، کس صورت ميں؟ کس طرح؟ ان کے نسب سلامت رہيں گے۔ اس سے کيا ہو گا؟ زنا کو حرام کيو قرار ديا گيا؟ تاکہ لوگوں کے نسب سلامت رہيں، پتہ لگے کون کس كي اولاد ہے۔ وإنما نسب إلى الله تعالى تعظيما، تو يہ جو حقوق اللہ ہيں بتلايا، حقوق اللہ کن کو کہتے ہيں؟ جن ميں سب کا نفع ہو، جن ميں سب کا نفع ہو۔ اور پھر ان كي نسبت جو اللہ كي طرف كي گئي ان کو حق اللہ کہا گيا، اس کہتے ہيں: اللہ كي طرف جو ان كي نسبت كي گئي تعظيماً بطورِ تعظيم کے ہے، تعظيم کے طور پر بهي، کيو نکہ اس ميں نفع سب کا ہے اس لئے معلوم ہوا يہ بڑي چيزيں ہيں، تو بطورِ تعظيم کے کس كي طرف نسبت کر دي گئي؟ اللہ كي طرف، اور کہا گيا يہ حقوق اللہ ہيں۔ وإلا، اور اگر ايسا نہ ہو، یعنی يہ بطورِ تعظيم کے ہيں اگر بطورِ تعظيم کے نہ ہوں، فالله تعالى تعالى عن أن ينتفع بشيء، اللہ تعالٰى كي ذات بہت بلند ہے اس بات سے أن ينتفع بشيء کہ وہ کسی چيز سے نفع، اس ميں عام لوگوں کا نفع ہے، اللہ کا نفع نہيں ہے، اللہ تو نفعے کے محتاج نہيں، کسی چيز کے اللہ کو حاجت نہيں، فلا يجوز أن يكون حقا له بهذا الوجه، پس جائز نہيں ہے کہ يہ اللہ کا حق ہو اس وجہ کے اعتبار سے کہ اللہ کا اس ميں نفع ہے۔ اس اعتبار سے نہيں ہے بهي کيو نکہ اللہ کسی چيز سے محتاج نہيں، کسی چيز سے نفع كي ضرورت نہيں اللہ کو۔ ولا بجهة التخليق، اور تخليق کے اعتبار سے بھی نہيں، ان کو جو حق اللہ کہا گيا تعظيم كي وجہ سے کہا گيا، کيو نکہ اس ميں سب کا نفع تھا، اس وجہ سے حق اللہ نہيں کہا گيا کہ ان ميں اللہ کا نفع ہے، اور نيز اس وجہ سے بھی ان کو حق اللہ نہيں کہا گيا کہ اللہ ان کو ان کو پيدا کرنے والے ہيں، کيو نکہ اگر پيدائش کے اعتبار سے ديکھا جائے پھر تو ہر اللہ ہر چيز کو پيدا کرنے والے ہيں، صرف ان چيزوں کو پيدا کرنے والے نہيں ہيں بهي۔ يہ معنى ہے ولا بجهة التخليق اور نہ ہی تخليق كي جہت سے ان كي اللہ كي طرف نسبت كي جاتي ہے، لأن الكل سواء في ذلك، اس لئے کيو نکہ سب چيزيں اس کے اندر برابر ہيں يعني سب چيزيں اللہ كي مخلوق ہيں۔ والثاني حقوق العباد خالصة، اور دوسري قسم جو ہے أحكام كي، وہ حقوق العباد ہيں خالصۃً اس حال ميں کہ وہ خالص ہوں یعنی اس ميں اللہ کا حق نہ ہو، وهو ما يتعلق به مصلحة خاصة، اور وہ أحكام ہيں کہ جن کے ساتھ خاص مصلحت متعلق ہو، کيا ہو؟ خاص، پہلوں ميں تو نفع تھا سب لوگوں کا، اس ميں نفع ہو گا خاص کسی کا، كحرمة مال الغير، جیسے کہ غير کے مال کے حرمات، ولهذا يباح بإباحة المالك، اسی وجہ سے يہ مباح ہو جاتا ہے مالک کے مباح کر دينے سے۔ کسی غير کا مال ہے اس کو وہ ويسے تو حرام ہے ليکن اگر مالک اجازت دے دے تو وہ کيا ہو جاتا ہے؟ مباح ہو جاتا ہے، معلوم ہوا يہ اسي کا حق ہے بهي، اسي کا حق ہے۔ اگر اللہ کا حق ہوتا تو کس کوئي بندہ اس کو مباح نہيں کر سکتا بهي۔ والثالث، تيسري قسم: ما اجتمعا فيه، وہ ہے جس کے اندر دونوں جمع ہوں يعني حق اللہ بھی اور حق العبد بھی، وحق الله غالب، اس حال ميں کہ حق اللہ غالب ہو، كحد القذف، جیسے کہ حدِ قذف ہے بهي، کسی پر تہمت لگائي اس پر جو حد آتي ہے۔ فإن فيه حق الله تعالى من حيث أنه جزاء حد كحرمة العفيف الصالح، اس کے اندر حق ہے اللہ تعالٰى کا ایک حيثيت سے کہ يہ جزا ہے کس چيز كي؟ حدِ حرمت العفيف الصالح ایک نيک پاک دامن حرمت کے عزت كي ہتک ہے يعني پردہ داري ہے۔ ہتک کن کسے کہتے ہيں؟ پردہ داري، ایک صالح نيک عفيف پاک دامن حرمت عزت، نيک پاک دامن کہ عزت کی پردہ داری کی جزا ہے یہ بھئی۔ نیک، صالح ادمی کی عزت کی پردہ داری کی یہ جزا ہے یا حدِ قذف، جی۔ تو اس اعتبار سے یہ حق اللہ ہے، وحق العبد اور حق العبد بھی ہے من حيث إزالة عار المقذوف کہ اس کے اندر وہ جو مقذوف ہے جس پر تہمت لگائی گئی ہے، اس سے عار کا ازالہ ہے، عار یعنی طعنہ اور عیب۔ اس سے عیب اور طعنے کا ازالہ ہے، اس کو دور کرنا ہے۔ بھئی دیکھیے حق العبد وہ ہے جس کا نفع عام ہو۔ تو ہر شخص کی عزت کے، اللہ نے عزت کرنے اور اس کے عزت کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔ اب اگر کوئی شخص کسی پر زنا کی تہمت لگائے تو اس کے اوپر ضروری ہوا کہ چار گواہ لے کر ائے، زنا کو ثابت کرے، ورنہ اس پر کیا وہ مقذوف کیا کر سکتا ہے؟ قاضی کے پاس لے جا کر اس پر حدِ قذف جاری کروا سکتا ہے بھئی۔ تو دیکھیے اس میں سب کا نفع ہے۔ سب کا نفع ہے کہ اس کی وجہ سے لوگوں کی عزتیں محفوظ ہوں گی۔ کوئی کسی پر اس طرح کا طعن نہیں کر سکے گا۔ تو یہ تو عام سب کا نفع ہے اس کے اندر، اور باقی اس خاص بندے کا نفع کیا ہے؟ حق العبد کیا ہے؟ کہ اس نے جو زنا کی تہمت لگائی اس شخص پر، تو اس پر طعن اگیا، کل کسی اور کا اس سے جھگڑا ہوگا، وہ اس کو طعنہ دے گا کہ بھئی تم نے تو فلاں نے یہ الزام لگایا تھا، تم نے کوئی جواب نہیں دیا، معلوم ہوا تم میں یہ عیب ہے۔ تو لہذا، لیکن جب یہ حدِ قذف آئے گی، لگ جائے گی تو پھر اس سے کیا ہو جائے گا؟ وہ طعن دور ہو جائے گا، پھر کبھی کسی کی جرأت نہیں ہوگی اس کو اس طرح کی بات کہے بھئی۔ تو دیکھو اس کی، اس سے جو طعن تھا اس کا بھی ازالہ ہوا، اس خاص بندے سے، اور عام لوگوں کا بھی نفع ہے اس کے اندر کہ اس سے لوگوں کی عزتیں کیا ہوں گی؟ محفوظ ہوں گی۔ ولكن حق الله غالب، لیکن اس میں اللہ کا حق غالب ہے، حتى لا يجري فيه الإرث والعفو، یہاں تک کہ اس کے اندر وراثت اور معافی جاری نہیں ہوتی۔ مقذوف جس پر تہمت لگائی گئی ہے، وہ اس کا انتقال ہو جاتا ہے اور اس کے ورثاء جو ہیں، وہ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ حدِ قذف کسی پر جاری کرنا چاہتے ہیں۔ نہیں بھئی، وہ جاری، اس میں وراثت جاری نہیں ہوتی۔ اور یا معاف کرنا چاہتا ہے مقذوف، کیا کہتا ہے؟ قاضی نے گواہ، بات ثابت ہو گئی کہ واقعی اس نے دوسرے پر زنا کا الزام لگایا تھا۔ اب مقذوف آخر میں آکے کہتا ہے، قاضی صاحب، میں اس کو کیا کرتا ہوں؟ معاف کرتا ہوں۔ 80 کوڑے اس بیچارے کو لگیں گے، میری طرف سے معاف ہے۔ نہیں بھئی، اس کو کوئی حق نہیں اب معاف کرنے کا۔ معاف کرنا تھا تو قاضی کے پاس آنے سے پہلے معاف کرنا چاہیے تھا، اب معاف نہیں کر سکتا۔ اب معاف نہیں کر سکتا، معلوم ہوا یہ اس کا حق نہیں۔ اگر اس کا حق ہوتا تو یہ تو کیا کر سکتا تھا؟ معاف کر سکتا تھا، معلوم ہوا یہ حق اللہ ہے۔ تو بندہ صرف وہی حق معاف کر سکتا ہے جو خالص اسی کا ہو یا اس کا غالب حق ہو، کیا ہو؟ غالب حق ہو، لیکن یہاں پر معلوم ہوا بندے کا حق غالب نہیں بلکہ حق اللہ غالب ہے، اسی لیے بندہ اس کو معاف کرنے کا اہل بھی نہیں ہے۔ وعند الشافعي رحمه الله حق العبد فيه غالب، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس میں بندے کا حق غالب ہے، فتنعكس الأحكام، تو احکام کیا ہو جائیں گے؟ منعکس ہو جائیں گے۔ ہمارے نزدیک وراثت اور معافی اس میں جاری نہیں۔ ان کے نزدیک جب بندے کا حق غالب ہے تو پھر اس میں معافی بھی جاری ہوگی، بندہ معاف بھی کر سکتا ہے اور وراثت بھی جاری ہوگی۔ والرابع ما اجتمع فيه، اور چوتھی قسم وہ ہے احکام میں سے جس میں دونوں جمع ہوں، یعنی حق العبد بھی اور حق اللہ بھی، وحق العبد غالب، اور اس میں بندے کا حق غالب ہو، كالقصاص، جیسے قصاص۔ بھئی، قصاص کے اندر بندے کا حق غالب ہے۔ چنانچہ بندہ معاف بھی کر سکتا ہے۔ مقتول کے اولیاء معاف کر سکتے ہیں یا نہیں قاتل کو؟ معلوم ہوا بندے کا حق غالب ہے۔ اور نیز اس کے بدلے مال بھی لے سکتے ہیں یا نہیں صلح کر کے قصاص کے بدلے میں؟ مال بھی لے سکتے ہیں، اور اس میں وراثت بھی جاری ہوتی ہے، دیکھو مقتول کے ورثاء کیا کرتے ہیں؟ قصاص لیتے ہیں، اور اگر وہ نہیں رہتے تو پھر ان کے جو ورثاء ہیں، وہ کیا کریں گے؟ قصاص لیں گے۔ جیسے کہتے ہیں كالقصاص، جیسے قصاص ہے، فإن فيه حق الله تعالى، پس بے شک اس کے اندر اللہ کا حق ہے، وهو إخلاء العالم عن الفساد، اور وہ عالم کو، جہان کو خالی کرنا ہے فساد سے۔ اگر قصاص نہیں ہوگا، پھر تو جہان میں فساد برپا ہو جائے گا، ہر شخص دوسرے کو قتل کرے گا، پروا ہی نہیں ہوگی، لیکن جب قصاص کا خوف ہوگا تو پھر وہ فساد برپا نہیں کرے گا، کسی کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔ تو کہتے ہیں اس میں اللہ کا حق بھی ہے، وهو إخلاء العالم عن الفساد، وہ عالم کو فساد سے خالی کرنا ہے، وحق العبد، اس کا عطف حق اللہ پر ہے بھئی، اور وہ إن کا اس میں مؤخر تھا، منصوب تھا، تو وحق العبد بھی منصوب، وحق العبد، اور حق العبد بھی ہے اس میں، لوقوع الجناية على نفسه، اس وجہ سے کہ اس جنایت اس کی ذات پر واقع ہوئی ہے، اس کو کیا کیا گیا ہے؟ قتل کیا گیا ہے۔ وهو غالب، اور یہ حق العبد جو ہے غالب ہے، لجرَيان الإرث، وجہ وراثت کے جاری ہونے کے، وصحة الاعتياض عنه بالمال بالصلح، اور وجہ صحیح ہونے اس کے عوض، وصحة الاعتياض، اور عوض کا صحیح ہونا عنہ اس قصاص سے، اس قصاص سے عوض کا لینا صحیح ہے بالمال، کس کے ساتھ؟ مال کے ساتھ، بالصلح، صلح کی وجہ سے۔ صلح کی وجہ سے مال کے ساتھ قصاص کا عوض لینا صحیح ہے، اس وجہ سے معلوم ہوا اس میں بندے کا حق غالب ہے۔ وصحة العفو، اور معاف کرنے کے، معافی کے صحیح ہونے کی وجہ سے کہ اس میں معاف کرنا بھی صحیح، بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی، بھئی؟ تو تین وجہ ذکر کر دیں کہ اس میں بندے کا حق غالب ہے: لجرَيان الإرث وصحة الاعتياض عنه بالمال بالصلح وصحة العفو، وجہ اس میں وراثت کے جاری ہونے کے، اور صلح کی وجہ سے مال کے ساتھ اس کا عوض لینے کے صحیح ہونے کی وجہ سے، وصحة العفو، اور معافی کے صحیح ہونے کی وجہ سے۔ وحقوق الله تعالى ثمانية أنواع، جی، چاروں قسمیں بیان ہو گئیں۔ احکام کتنے قسم پر؟ چار۔ حق اللہ ہوگا، حق العبد ہوگا، یا دونوں اکٹھے ہوں گے، لیکن اس میں ایک صورت میں حق اللہ غالب ہوگا یا حق العبد غالب ہوگا۔ اب مزید تفصیل کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں وحقوق الله تعالى ثمانية أنواع، حقوق اللہ جو ہیں وہ آٹھ قسم پر ہیں۔ عبادات خالص، ایک قسم کیا ہے؟ جو خالص عبادتیں ہیں، لا يشوبها معنى العقوبة والمؤنة، ملا ہوا نہ ہو اس کے ساتھ عقوبت اور مشقت والا مؤنت۔ یاد رکھیے، مؤنت متن کا حصہ نہیں ہے، بھئی۔ اس کے ساتھ سزا اور مشقت والا معنی نہ ملا ہوا ہو بلکہ خالص کیا ہو؟ عبادت ہو، یہ پہلی قسم ہے۔ كالإيمان وفروعه، جیسے ایمان اور فروعِ ایمان ہیں۔ ایمان کی فروعات بھئی، بھئی وہ کیا چیزیں ہیں؟ کہتے ہیں وهي الصلاة والزكاة والصوم والحج، یہ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج وغیرہ، یہ چیزیں، بھئی۔ یہ سب کیا ہیں؟ ایمان کی فروعات ہیں۔ بھئی، یہ ایمان کی فروعات کیوں ہیں؟ ایمان ان کے لیے اصل کیوں ہے؟ وجہ بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں وإنما كانت فروعا للإيمان، یہ فروعات ہیں ایمان کی، فرع کس کو کہتے ہیں؟ شاخ کو کہتے ہیں نا؟ تو یہ ایمان کی شاخیں ہیں، یعنی ایمان کی فروعات ہیں، لأنها لا تصح بدونه، اس لیے کیونکہ یہ چیزیں ایمان کے بغیر صحیح نہیں، وهو صحيح بدونها، اور ایمان ان کے بغیر صحیح ہے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ ایمان ہوگا تو نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج وغیرہ مقبول ہے ورنہ مقبول ہی نہیں۔ لیکن ایمان کے لیے ان چیزوں کی شرط نہیں ہے، ایک آدمی ایمان لے آتا ہے اور نماز نہ پڑھے، روزہ نہ رکھے، پھر بھی وہ کیا ہے؟ مومن، گنہگار تو ہے لیکن مومن ہے بھئی۔ تو یاد رکھیے، ایک ہے نماز یا روزے کا نہ پڑھنا اور نہ رکھنا، یہ اور چیز ہے، ایک ان کا انکار کرنا، یہ اور چیز ہے۔ نہ پڑھنا، یہ تو گناہ ہے، اور نہ، انکار کرنا، ماننا ہی نہ ان کو، یاد رکھیے یہ کفر ہے، بھئی۔ جی، تو پہلی قسم کیا بیان ہوئی؟ حقوق اللہ کتنی قسم پر ہیں؟ آٹھ۔ ان میں سے پہلی قسم خالص عبادتیں، وهي أي العبادات أنواع ثلاثة، ضمیر کا مرجع بتلایا، هي ضمیر کس کو راجع؟ عبادات کو، یہ عبادات جو ہیں، أنواع ثلاثة، تین قسم پر ہیں عبادات: اصول ولواحق وزوائد، کچھ تو اصول ہیں، ولواحق، اور کچھ کیا ہیں؟ لواحق، ان اصول کے ساتھ ملی ہوئی چیزیں ہیں کچھ، وزوائد، اور کچھ زوائد ہیں، زائد ہیں۔ يعني أن في مجموع الإيمان وفروعه هذه الثلاثة، یعنی کہ مجموعۂ ایمان اور فروع، اس کی جو فروع ہیں، ان کے مجموعے میں هذه الثلاثة، یہ تین چیزیں ہیں، یہ إن کا اسمِ مؤخر ہے، هذه الثلاثة. بھئی دیکھیے، عبادتیں بیان کر دیں، خالص عبادتیں۔ کیا ہیں؟ جیسے ایمان اور فروعِ ایمان۔ یہ عبادتیں تین قسم پر ہیں: اصول، لواحق اور زوائد۔ تو اس کا یہ معنی نہیں کہ اصول، لواحق اور زوائد ایمان کے اندر بھی یہ تین قسمیں ہیں اور زوائد کے اندر بھی تین قسمیں ہیں، بلکہ دونوں کے مجموعے میں تین قسمیں ہیں۔ دونوں مجموعے کے اعتبار سے کتنے قسم پر ہیں؟ تین قسم پر ہیں، یہ بات بیان کر رہے ہیں: يعني أن في مجموع الإيمان وفروعه هذه الثلاثة، یعنی کہ ایمان اور اس کے فروع کے مجموعے میں یہ تین قسمیں ہیں، لا أن في كل منهما هذه الثلاثة، نہ یہ کہ ان تینوں، ان میں سے ہر ایک کے اندر یہ تین قسمیں ہیں۔ تینوں میں ملا کر تین قسمیں بنیں گی۔ فالإيمان أصله التصديق، ایمان جو ہے اس کی اصل کیا ہے؟ تصدیق۔ تصدیق کا کیا معنی؟ دل سے ایک بات کو ماننا۔ ایمان میں اصل کیا ہے؟ تصدیق، دل کے ساتھ اللہ کی توحید کا اقرار کرنا بھئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو ماننا دل کے ساتھ بھئی۔ اور زبان سے کہنا، کہتے ہیں وہ اس کے ساتھ ملحق ہے، اس کے لواحقات میں سے ہے۔ کیونکہ تو یہ اقرار جو ہے، زبان سے کہنا، یہ لواحقاتِ تصدیق ہے۔ اصلِ تصدیق، اصلِ ایمان نہیں ہے، اصل کیا ہے؟ تصدیق۔ یہ اس تصدیق کے لواحقات میں سے ہے۔ وجہ اس کی یہ کہ اپ خود بھی دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات یہ اقرار بندے سے ساقط ہو جاتا ہے، تصدیق ساقط نہیں ہوتی۔ ایک آدمی نے تلوار نکالی، دوسرے کی گردن پر رکھی کہ کلمۂ کفر کہو، کلمۂ کفر کہو۔ تو شریعت نے کیا بتلایا اپ کو؟ گنجائش ہے۔ اس موقع پر انسان کیا کر سکتا ہے؟ زبان سے کلمۂ کفر کہہ لے، لیکن دل میں کیا ہونا چاہیے؟ ایمان۔ دل کی تصدیق کبھی بھی ساقط نہیں ہوتی، دل میں ایمان ہونا چاہیے، لیکن زبان سے اقرار کو کیا کر دیا شریعت نے؟ ساقط کر دیا، گنجائش دے دی بھئی۔ تو کہتے ہیں فالإيمان أصله التصديق، پس ایمان جو ہے اس کی اصل تصدیق ہے، والملحق به الإقرار، اور اس کے ساتھ ملی ہوئی چیز، وہ کیا ہے؟ اقرار ہے۔ یہ تو دو چیزیں ہوئیں۔ متن میں بتلایا تھا یہ تین قسم پر ہے: اصول، لواحق اور زوائد۔ تو اصل کیا؟ تصدیق۔ ملحق بہ کیا؟ اقرار۔ اور باقی زوائد، کہتے ہیں والزوائد هي الفروع الباقية، یہ باقی کی ساری فروع ہیں: نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج وغیرہ، سارے فروعات کیا ہیں؟ وہ زوائد ہیں۔ تو دیکھو تینوں میں تین قسمیں ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں، دونوں میں، دونوں میں کتنی قسمیں ہو گئیں کل؟ تین قسمیں ہو گئیں۔ أو نقول، یہاں سے دوسری تقریر کر رہے ہیں۔ پہلی تقریر کے مطابق تو ایمان اور فروعِ ایمان دونوں میں ملا کر کتنی قسمیں تھیں؟ تین۔ اب بتائیں گے کہ یہ بھی اپ کر سکتے ہیں، دونوں میں الگ الگ تین تین قسمیں بنا لیں۔ ایمان میں اصول، لواحق اور زوائد الگ، اور فروع، یعنی نماز وغیرہ جو ہیں، ان کے اندر اصول، لواحق اور زوائد الگ، تین قسمیں یہ بھی۔ کہتے ہیں أو نقول، یا ہم یہ کہتے ہیں: أن الزوائد في الإيمان هي تكرار الشهادة، زوائد جو ہیں ایمان کے اندر، یہ شہادت کا تکرار ہے۔ شہادت کا تکرار، تکرارِ شہادت بھئی۔ ایک تو پہلی شہادت ہے، اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمدا رسول اللہ، یہ تو کیا ہے؟ شہادت۔ ایمان لے کر آتا ہے تو یہ پہلی شہادت تو اصل ہے۔ یہ کہے گا تو کیا ہو؟ اس میں تصدیقِ قلبی ہوئی اصل، زبان سے اقرار کیا ہوا؟ یہ لواحق میں سے، اور پھر دوبارہ اگر وہ یہی شہادت کا تکرار کرتا ہے، دوبارہ کہتا ہے تو یہ تکرارِ شہادت، یہ کیا ہے؟ زوائد میں سے ہوا۔ تو دیکھو، ایمان میں تینوں چیزیں اگئیں۔ ایک کیا؟ اصل، وہ کیا؟ تصدیق۔ دوسری چیز لواحق، وہ کیا؟ اقرار۔ تیسری چیز زوائد، وہ کیا؟ وہی تکرارِ شہادت بھئی۔ والأصل في الفروع، اب فروع میں بھی تین قسمیں بنائیں گے۔ والأصل في الفروع الصلاة، اور فروع میں اصل کیا ہے؟ نماز ہے، بھئی نماز کیوں فروع میں اصل ہے؟ کہتے ہیں لأنها عماد الدين، کیونکہ نماز دین کا ستون ہے۔ ثم الزكاة ملحقة بها، پھر زکوٰۃ اس نماز کے ساتھ ملحق ہے۔ زکوٰۃ کیا ہے؟ نماز کے ساتھ ملحق ہے کیونکہ زکوٰۃ جو ہے وہ مالی عبادت ہے، اور مال کا درجہ بدن کے بعد آیا کرتا ہے، تو یہ اصل نہیں بلکہ یہ کیا ہے؟ اصل کے ساتھ ملحق ہے، لأن نعمة المال فرع لنعمة البدن، اس لیے کیونکہ مالی نعمت جو ہے وہ فرع ہے بدنی، بدن کی نعمت کی، ثم الصوم، پھر اس کے بعد کس کا درجہ ہے؟ روزے کا، لأنه شرع لقهر النفس، اس لیے کیونکہ روزہ مشروع ہوا ہے نفس کو مغلوب کرنے کے لیے۔ روزہ کس لیے مشروع ہوا ہے؟ بھئی، یہ نفس، نفس جو ہے نا، یہ نفسِ امارہ، یہ انسان کو برائیوں پر، گناہوں پر اکساتا رہتا ہے۔ تو اللہ نے روزہ رکھنے کا حکم دیا تاکہ اس روزے کے ذریعے انسان اپنی خواہشات سے، پیٹ کی خواہش جو ہے اور وہ جو شہوت کی خواہش ہے، ان دونوں سے اپنے اپ کو روکے بھئی۔ اور ایک ادھ دن نہیں، پورے 30 دن کا حکم دیا گیا تاکہ خوب اچھی طرح کیا ہو جائے؟ یہ نفس، نفسِ امارہ مغلوب ہو جائے، خوب اچھی طرح مغلوب ہو جائے۔ تو لہذا یہ جو روزہ مشروع ہوا ہے، یہ نفس کو مغلوب کرنے کے لیے ہے، تو لہذا اس کا درجہ اس کے بعد آیا، کس کے بعد؟ روزے رکھو گے تو اسی سے وہ نماز کے اندر خشوع و خضوع بڑھے گا، نفس مغلوب ہوگا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ جی، تو یہ فرع ہوئی اس نماز کی بھئی، اور تو اس کا درجہ اس، زکوٰۃ کے بعد آیا۔ زکوٰۃ کو اس پر مقدم کیا بھئی، اس لیے کیونکہ زکوٰۃ جو ہے، مالی عبادت ہے، مستقل ہے بھئی، کیا ہے؟ مستقل ہے بھئی۔ زکوٰۃ مستقل عبادت، مالی عبادت بھئی، بلکہ مالی عبادتوں میں اصل بھئی، اور روزہ، یہ تو فرع ہے کس کی؟ نماز کی، اس سے نماز میں اور عبادت میں کیا ائے گا؟ خشوع و خضوع پیدا ہوگا، نفسِ امارہ مغلوب ہو جائے گا، دب جائے گا۔ تو روزہ ہوا فرع، اور زکوٰۃ ہے مالی عبادتوں میں اصل، لیکن اس کو ہم نے نماز کے لیے فرع اس لیے بنایا تھا کیونکہ نماز جو ہے بدنی عبادت ہے اور بدن کی نعمت مقدم ہے کس پر؟ مال کے، پہلے بدن ہوگا تو پھر مال کا بھی کوئی فائدہ ہوگا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو بدنی عبادت تھی نماز، وہ ہے اصلِ اصول، اس کے بعد جو ہے، درجہ کس کا آیا؟ مالی عبادت کا، تو اس میں زکوٰۃ اصل، اور روزہ، روزہ بدنی عبادت ہے، لیکن یہ فرع ہے اسی نماز کے لیے، اسی اس سے نماز میں کیا پیدا ہوگا؟ خشوع و خضوع، تو یہ بدنی عبادت کی فرع ہوئی، یہ فرع ہوئی، اور زکوٰۃ اصل ہے، اس وجہ سے مالی عبادتوں میں کیا ہے؟ اصل ہے نا، مستقل، تو لہذا وہ کسی چیز کی فرع نہیں، اس لیے اس کو مقدم کیا، اور روزہ چونکہ فرع ہے، اس لیے اس کو اس پر مؤخر کیا۔ اسی طرح پھر حج ہے، ثم الجهاد، پھر جہاد ہے بھئی، جی۔ فهذه الفروع فيما بينها أصول ولواحق، جی، تو بیان کر دیا۔ ایمان کے اندر اصول بھی، لواحق بھی اور زوائد بھی۔ اصل کیا ہے؟ تصدیق، ایمان میں۔ لواحق کیا ہے؟ اقرار، اور زوائد کیا ہے؟ تکرارِ شہادت۔ فروع کے اندر بھی اصول، لواحق اور زوائد۔ فروع کے اندر اصل کیا؟ نماز، اور لواحق کے اندر زکوٰۃ، روزہ، حج، جہاد، سب چیزیں باقی اگئیں بھئی، یہ لواحق کے اندر، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اور زوائد کیا ہیں پھر اس کے اندر؟ زوائد بتلائیں گے وہ نوافل اور سنتیں ہیں، وہ کیا ہیں؟ نوافل اور سنتیں۔ کہتے ہیں فهذه الفروع فيما بينها أصول ولواحق، تو یہ جو فروع ہیں، یہ اپس میں اصول اور لواحق ہیں، یعنی نماز اصل ہے اور باقی لواحق، وحينئذ فالزوائد هي نوافل العبادات وسننها، تو اس وقت، اس وقت پھر یہ جو زوائد ہیں، یہ نفل عبادتیں ہیں، وسننها، اور سنت عبادتیں ہیں۔ جی، یہ پہلی قسم تھی، بتلایا۔ حقوق اللہ آٹھ قسم پر ہیں۔ پہلی قسم کیا ہے؟ تو یہ عبادتیں آٹھ قسم پر ہیں۔ پہلی قسم جو ہے خالص عبادتیں۔ دوسری قسم: وعقوبات كاملة، اور وہ جو کامل سزائیں ہیں۔ بھئی کامل ہیں کس اعتبار سے؟ في كونها زاجرة، ان کے زاجر ہونے میں۔ یہ زجر ڈانٹ کے لیے ہیں، روکنے کے لیے ہیں بندوں کو پھر جب حد حدود، سزائیں جاری ہوتی ہیں تو باقی بندے گناہوں سے رک جاتے ہیں اور وہ بھی وہ شخص بھی آئندہ اس گناہ سے رک جاتا ہے۔ تو یہ کامل سزائیں ہیں، یہ کامل ہیں کس چیز کے اندر؟ زاجر ہونے کے اندر، كالحدود جیسے کہ حدود ہیں، وهي حد الزنا اور مثالیں ذکر کر رہے ہیں: یہ حد زنا ہے، وحد الشرب وحد القذف وحد السرقة۔ وعقوبات قاصرة، اور کیا ہیں؟ عقوبات قاصرہ، یہ تیسری قسم آ گئی۔ سزائیں تو ہیں لیکن کس قسم کی ہیں؟ قاصر ہیں، کامل نہیں، کامل کون سی تھیں؟ جو جن میں زجر کامل تھا۔ یہ بھی سزائیں ہیں لیکن ان میں زجر کامل نہیں۔ کیسے؟ کہتے ہیں: مثل حرمان الميراث، جیسے وراثت سے محروم ہونا۔ مالِ میراث سے محروم ہونا، بسبب قتل المورث مورث کو قتل کرنے کی وجہ سے۔ آپ پڑھیں گے بھئی علم میراث بھئی، اس کے اندر آپ پڑھیں گے کہ اگر وارث بلکہ وہاں پڑھیں گے کہ قتل، قتل مانعِ ارث ہے۔ اگر کوئی قتل کر دے تو اس کو وراثت نہیں ملے گی، لیکن اس میں یاد رکھنا ہر قتل نہیں، ایک آدمی نے کسی غیر کو قتل کیا تو غیر کو قتل کیا ہے لہٰذا یہ اپنے مورث کا وارث بنے گا۔ ہاں اپنے ہی مورث کو کوئی قتل کر دے یہ مانعِ ارث ہے، جس سے مال ملنا ہے اسی کو کیا کر دیا؟ قتل کر دیا۔ تو دلوں میں بدگمانی پیدا ہوتی ہے کہ شاید اس نے قتل ہی اس لیے کیا ہے تاکہ مجھے مال حاصل ہو لہٰذا شریعت نے ایک حکم کلی دے دیا کہ جس نے اپنے مورث کو قتل کیا اس کو اس کے مال میں سے کچھ نہیں ملے گا۔ تو یہ حرمانِ میراث آئے گا کس وجہ سے؟ قتلِ مورث کی وجہ سے۔ تو کہتے ہیں: بسبب قتل المورث، مورث کو قتل کرنے کی وجہ سے، فإن العقوبة الكاملة هي القصاص في حقه، تو یہ عقوبت قاصرہ ہے۔ بھئی عقوبت قاصرہ کیوں؟ کہتے ہیں: کیونکہ یہ جو عقوبتِ کاملہ ہے وہ قصاص ہے اس کے حق میں، کامل سزا تو کیا تھی اس کو کیا کرنا چاہیے تھا؟ اس سے قصاص لینا چاہیے تھا، اسے قتل کیا جانا چاہیے تھا، وهذا قاصر منه، اور یہ حرمانِ میراث تو اس سے کم ہے۔ کم درجے کا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کم درجے کا ہے حرمانِ میراث۔ اس سے اس کو بدنی بھی کوئی تکلیف نہ ہوئی۔ بدنی اعتبار سے بھی کوئی تکلیف نہ ہوئی۔ قتل کیا جاتا، گردن تن سے جدا ہوتی تو وہ تو تکلیف تھی۔ اور یہاں تو بدنی بھی کوئی تکلیف نہیں، مالی بھی کوئی تکلیف نہیں، نقصان کوئی نہیں۔ مورث کا مال اس کو نہیں ملا، اس کے اپنے مال میں کوئی کمی آئی؟ اس کو کچھ ادائیگی کرنا پڑی؟ نہیں۔ تو اس کو نہ بدنی اعتبار سے کوئی تکلیف نقصان ہوا اور نہ اس کو مالی اعتبار سے اس کے اپنے مال میں کوئی کمی آئی بھئی۔ تو اس لیے یہ قاصر ہے۔ ولهذا يجزي به الصبي، اور اسی وجہ سے بدلہ دیا جاتا ہے اس کے ساتھ بچے کو، یعنی بچے کو یہ سزا دی جاتی ہے۔ بچہ ہو بھئی، نابالغ ہے، وہ کیا کرے؟ اپنے مورث کو قتل کر دے اپنے مورث، تو یاد رکھیے قصاص تو نہیں کیونکہ بچہ ہے، لیکن حرمانِ میراث ہو گا، وراثت سے محروم ہو گا۔ یہ شارح فرما رہے ہیں بھئی، لیکن دیگر فقہاء وغیرہ لکھتے ہیں بھئی کہ نہیں بھئی، یہ سزا ہے اور بچہ سزا کا اہل نہیں بھئی، شرعاً وہ مکلف ہی نہیں ہے لہٰذا اس پر سزا بھی لاگو نہیں ہو گی بھئی۔ وحقوق دائرة بينهما، یہ چوتھی قسم آ گئی۔ پہلی قسم کیا تھی حقوق اللہ میں؟ خالص عبادتیں، دوسری قسم عقوبات کاملہ، تیسری قسم عقوبات قاصرہ۔ چوتھے وہ حقوق جو ان دونوں کے درمیان دائر ہوں، أي بين العبادة والعقوبة، یعنی عبادت اور عقوبت کے درمیان، ان میں عبادت کا بھی پہلو ہو اور سزا کا بھی پہلو ہو، كالكفارات، جیسے کفارات ہیں۔ فإن فيها معنى العبادة، بےشک ان کے اندر عبادت والا معنی ہے، من حيث أنها تؤدى بالصوم والإعتاق والإطعام والكسوة، اس حیثیت سے کہ ان کو ادا کیا جاتا ہے کس کے ساتھ؟ روزے کے ساتھ، آزاد کرنے یعنی غلام کو آزاد کرتے ہوئے، والإطعام اور کھانا کھلا کر اور کپڑے پہنا کر، اور یہ سب عبادتیں ہیں آپ جانتے ہیں، کوئی مالی عبادت ہے کوئی بدنی عبادت ہے بھئی۔ تو ان کو عبادت کی صورت میں ادا کیا جاتا ہے معلوم ہوا ان میں عبادت والا معنی ہے۔ ومعنى العقوبة، اور ان میں سزا والا معنی بھی ہے، من حيث أنها لم تجب ابتداء، اس حیثیت سے کہ یہ ابتداءً واجب نہیں تھے۔ ابتداءً یہ چیز اس شخص پر واجب نہیں تھی، مثلاً ایک آدمی نے جان بوجھ کر روزہ توڑ دیا۔ اب اسے کیا کرنا پڑے گا؟ 60 روزے رکھنا پڑیں گے کفارے کے طور پر اور ایک قضا کا روزہ الگ رکھنا پڑے گا۔ تو یہ جو کفارے کے روزے آئے، یہ 60 روزے پہلے اس پر واجب تھے؟ ابتداءً واجب نہیں تھے بلکہ یہ کس وجہ سے آئے؟ کیونکہ اس نے حرام فعل کیا، کیا کیا؟ حرام۔ تو ابتداءً نہیں ہیں، حرام فعل کی وجہ سے آئے معلوم ہوا بطورِ سزا کے ہیں۔ تو ان میں سزا کا بھی پہلو اور عبادت کا بھی پہلو۔ ومعنى العقوبة عقوبت کا معنی یہ ہے، من حيث أنها لم تجب ابتداء اس حیثیت سے کہ یہ واجب نہیں تھے ابتداءً، بل وجبت أجزية على أفعال محرمة صدرت عن العباد، بلکہ یہ واجب ہوئے ہیں بطورِ جزا کے، اجزیہ جمع ہے جزا کی، بلکہ یہ واجب ہوا کفارہ بطورِ جزا کے، على أفعال محرمة، کن افعال کی جزا کے طور پر؟ حرام افعال پر، وہ حرام افعال صدرت عن العباد جو کس سے صادر ہوئے؟ بندوں سے۔ وعبادة فيها معنى المؤنة، اور ایسی عبادت جس کے اندر مشقت والا معنی ہو، مؤنت: أي المحنة والثقل، یعنی جس میں مشقت اور بوجھ ہو بھئی۔ جس میں محنت اور بوجھ۔ بھئی یہ کون سی قسم آ گئی؟ پانچویں قسم آ گئی، عبادت ہے لیکن اس میں مشقت بھی ہے، مشقت بھی ہے۔ كصدقة الفطر، جیسے صدقہ فطر۔ فإنها في اصلها عبادة، یہ اپنی اصل میں کیا ہے؟ عبادت ہے، ملحقة بالزكاة، ملحق ہے زکوۃ کے ساتھ کہ اللہ کے راستے میں کیا کر رہا ہے؟ خرچ کر رہا ہے جو اللہ نے حکم دیا ہے۔ ولهذا شرط لها الإغناء، اسی لیے اس کے لیے مالداری کی شرط لگائی گئی ہے۔ ولكن فيها معنى المؤنة، لیکن اس کے اندر مشقت اور بوجھ والا معنی بھی ہے۔ بوجھ والا معنی کس طرح ہے اس کے اندر؟ یاد رکھو بھئی اچھی طرح، بوجھ والا معنی اس اعتبار سے ہے کہ صدقہ فطر صرف اپنی طرف سے نہیں دینا پڑتا، اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے بھی دینا پڑے گا اور اپنے غلاموں کی طرف سے بھی دینا پڑے گا، تو دیکھو غیر کی طرف سے بھی دینا پڑ رہا ہے۔ اپنی چیز انسان پر بوجھ نہیں ہوتی لیکن غیر کی چیز کیا ہوتی ہے انسان پر؟ بوجھ ہے، تو یہ مؤنت کا معنی بھی بوجھ ہے، اس کے اندر کیا ہے؟ بوجھ والا معنی بھی ہے۔ تو کہتے ہیں اس میں بوجھ والا معنی بھی ہے، ولهذا تجب، اور اسی وجہ سے واجب ہوتا ہے صدقہ فطر عمّن، اس شخص کی طرف سے، يمونه، جس کا یہ خرچ اٹھاتا ہے۔ مان یمون، مانَ یمُونُ کے معنی ہیں بوجھ اٹھانا۔ تو یہ واجب، صدقہ فطر واجب ہوتا ہے اس شخص کی طرف سے یمونه جس کا یہ بوجھ اٹھاتا ہے یعنی اس پر خرچ کرتا ہے وينفق عليه، اور اس پر خرچ کرتا ہے، كنفسه، جیسے کہ اس کا اس کی اپنی ذات ہے، وأولاده الصغار، اور اس کی جو نابالغ اولاد ہے، وعبيده المملوكين، اور اس کے جو مملوکہ غلام ہیں۔ فإنه لما مانهم بالنفقة والولاية، اس لیے کیونکہ جب وہ ان کا ذمہ دار ہوا کس کے ساتھ؟ نفقے اور ولایت کے ساتھ، وجبت، واجب ہوا أن يمونهم بالصدقة أيضاً، کہ وہ ان پر خرچ کرے کس کے ساتھ؟ صدقے کے ساتھ بھی، لدفع البلاء، بلاء کو تکلیف کو دور کرنے کے لیے۔ جی، پانچ قسمیں ہو گئیں، چھٹی قسم: ومؤنة فيها معنى العبادة، وہ مؤنت، بوجھ جس کے اندر عبادت والا معنی ہو۔ پانچویں قسم تھی عبادت اس کے اندر کون سا معنی ہے؟ مشقت والا معنی ہے۔ اور اگلی قسم: مشقت جس کے اندر عبادت والا معنی ہے۔ تو وہاں پر چونکہ عبادت کا پہلو غالب تھا، عبادت غالب تھی اس وجہ سے عبادت کو اصل کہا اور کہا اس میں بوجھ والا پہلو بھی ہے۔ اور یہاں پر بوجھ والا پہلو کیا ہے؟ اصل ہے اس وجہ سے اس کو بوجھ کہا اور ساتھ ساتھ ہی اس میں عبادت کا بھی پہلو ہے۔ كالعشر، جیسے کہ عشر ہے۔ فإنه في نفسه مؤنة للأرض، اس لیے کیونکہ یہ جو عشر ہے یہ اپنی ذات کے اعتبار سے مؤنة للأرض، یہ بوجھ ہے، مشقت ہے کس کی؟ زمین، زمین کے لیے مشقت ہے اس پر اس کے پاس زمین ہے، اس کو کاشت کرنا پڑے گی، اگر کاشت نہیں کرے گا تو بادشاہ اس سے لے کر کسی اور کے حوالے کر دے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو دیکھو یہ بوجھ اس پر ہے زمین کی وجہ سے، اسے کاشت کرنا ہی پڑے گی۔ تو یہ اپنی ذات کے اعتبار سے جو ہے مؤنة للأرض، زمین کا بوجھ ہے، زمین کی مشقت ہے، وہ زمین التي يزرعها، جس کو یہ کاشت کرتا ہے، ولو لم يعطل عشر السلطان، اگر یہ عشر نہیں دے گا بادشاہ کو، لاسترد الأرض منه، تو بادشاہ اس سے زمین واپس لے لے گا، وأحالها بيد آخر، اور اس کو حوالے کر دے گا کسی دوسرے کے ہاتھ بھئی، دوسرے کے قبضے میں سپرد کر دے گا۔ ولكن فيها معنى العبادة، لیکن اس میں عبادت کا معنی بھی ہے، وهو، اور وہ یہ، أنه يصرف مصارف الزكاة، کہ اس کو خرچ کیا جاتا ہے زکوۃ کے خرچ کرنے کی جگہوں میں، صدقہ فطر کو بھی اسی طرح خرچ کیا جاتا ہے تو معلوم ہوا اس میں عبادت کا پہلو بھی ہے۔ ولا يجب إلا على المسلم، اور نیز عشر، ہاں عشر بھئی، یہ اس کو مصارف کون سے ہیں؟ زکوۃ کے مصارف ہیں، ولا يجب إلا على المسلم، اور نیز عشر واجب نہیں ہوتا مگر کس پر؟ مسلمان پر ہی واجب ہوتا ہے، معلوم ہوا اس میں عبادت کا پہلو ہے۔ فحمل فعلهم المزارعة على کسب الحلال الطيب، یہ ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں۔ سوال یہ کہ آپ نے کہا یہ عشر اس کے اندر کون سا پہلو ہے؟ عبادت۔ تو معترض کہتا ہے: اس میں تو ترکِ عبادت کا پہلو ہے، زمین کو کاشت کرنا پڑے گا، نماز وغیرہ کے بجائے کس میں مشغول ہو گیا؟ اس کو تو چاہیے تھا نوافل میں مشغول ہوتا، اللہ کی عبادت میں لگا رہتا لیکن یہ کس میں مشغول ہوا؟ زمین کے کاشت کرنے میں۔ تو جواب دیا کہ فحمل فعلهم المزارعة، کہ محمول کیا گیا ان کے فعلِ مزارعت کو، على کسب الحلال الطيب، کس پر؟ پاکیزہ حلال کے کمانے پر، اور پاکیزہ حلال کے کمانے کا بھی تو حکم دیا گیا ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ومؤنة فيها معنى العقوبة، یہ تیسری قسم آ گئی بھئی وہ مؤنت کے اعتبار سے تیسری ہے، ویسے کتنی قسم ہے یہ؟ حقوق اللہ کی آٹھ قسموں میں سے یہ ساتویں قسم ہے، کہتے ہیں: ومؤنة فيها معنى العقوبة، اور وہ مشقت جس کے اندر سزا والا معنی ہو، كالخراج، جیسے کہ خراج۔ خِراج، خَراج، خُراج یہ تینوں طرح پڑھنا جائز ہے، یہ مثلث الفاء ہے۔ مثلث الفاء، جی۔ كالخراج، جیسے کہ خراج ہے۔ فإنه في نفسه مؤنة للأرض التي يزرعها، اس لیے کیونکہ یہ اپنی ذات کے اعتبار سے یہ اس زمین کا بوجھ ہے جس کو یہ کاشت کرتا ہے، وإلا، اور اگر وہ ایسا نہ کرے، استردها السلطان منه، تو بادشاہ اس سے واپس لے لے گا، وأحالها بيد آخر، اور اس کو حوالے کر دے گا دوسرے کے ہاتھ میں۔ ولكن فيه معنى العقوبة، لیکن اس میں سزا کا معنی بھی ہے، من حيث أنه يجب على الكفار الذين اشتغلوا بزراعة الدنيا، اس حیثیت سے کہ یہ ابتداءً کس پر واجب ہوتا ہے خراج بھئی؟ بھئی یاد رکھیے خراجی زمین ایک مرتبہ، وہ خراجی زمین وہ ہے کہ آپ مثلاً ایک لشکر کی قیادت کرتے ہوئے گئے اور آپ نے پورے علاقے کو کیا کر لیا؟ فتح کر لیا، آپ آپ امیر ہیں آپ نے کیا کیا؟ ان سے زمینیں نہیں چھینیں، زمینیں ان کے پاس ہی رہنے دیں، البتہ ان پر ٹیکس لگا دیا، کیا لگا دیا؟ ٹیکس لگا دیا، یہ خراج لگا دیا، یہ خراجی بن گئیں، اب ان زمینوں کو کوئی مسلمان بھی خریدے گا تو یہ خراجی ہی رہیں گی۔ تو لیکن ابتداءً یہ خراج آیا کس پر تھا؟ کافر پر، جی۔ تو اس حیثیت سے کہ أنه يجب على الكفار الذين اشتغلوا بزراعة الدنيا، اس حیثیت سے کہ یہ خراج جو ہے واجب ہوتا ہے ابتداءً ان کفار پر جو مشغول ہوتے ہیں دنیا کی کاشت میں، ونبذوا الآخرة وراء ظهورهم، اور پھینک دیا ہے انہوں نے آخرت کو اپنے پشتوں کے پیچھے، آخرت کو انہوں نے بالکل پیچھے پھینک دیا ہے، اس کو پسِ پشت ڈال دیا ہے اور ان کی ساری توجہ کس کی طرف ہے؟ دنیا کی طرف ہے، تو ان پر یہ ابتداءً واجب ہوا بطورِ سزا کے بھئی، تو اس میں سزا کا پہلو ہے۔ وحق قائم بنفسه أي ثابت بذاته من غير أن يتعلق بذمة العبد شيء منه، وحق قائم بنفسه، یہ آٹھویں قسم آ گئی حقوق اللہ کی بھئی۔ وحق، اور ایسا حق قائم بنفسه، جو قائم ہو اپنی ذات کے اعتبار سے، أي ثابت بذاته، یعنی کہ اپنی ذات کے اعتبار سے ثابت ہو بھئی۔ یہ آٹھویں قسم ہے حقوق اللہ کی اور یاد رکھیے آگے بیان کریں گے کہ اس سے مراد خمس ہے جو غنیمتوں سے نکالا جاتا ہے اور خمس ہے جو معادن سے نکالا جاتا ہے بھئی۔ معادن وہ چیزیں جو سونا چاندی جو کانوں سے نکالی جاتی ہیں بھئی، ان میں بھی کیا ہے؟ خمس ہے بھئی خمس ہے۔ اب دیکھیے جو غنیمتوں میں خمس ہے اور اسی طرح معادن کے اندر خمس پانچواں حصہ جو ہے، یہ ایسا حق ہے جو قائم ہے اپنی ذات کے اعتبار سے، کس اعتبار سے؟ اپنی ذات کے اعتبار سے قائم ہے یعنی یہ بندے پر واجب نہیں ہے کہ اس کی ادائیگی اس پر بطورِ اطاعت کے کرے، جیسے بھئی زکوۃ بندے کے ذمے واجب ہوتی ہے تو اس کی ادائیگی کیا ہے؟ طاعت ہے یعنی عبادت ہے بھئی، اس کی ادائیگی کیا ہے؟ طاعت ہے اور عبادت ہے لیکن یہ جو خمس ہے یہ اس طرح نہیں، یہ ہے ہی اللہ کا بھئی، یہ خمس کیا ہے؟ حق ہی کس کا ہے؟ اللہ کا حق ہے بلکہ یہ جو معادن ہیں یہ زمین میں کس نے رکھیں؟ اللہ تعالی نے، اسی طرح یہ جو جہاد کیا جاتا ہے یہ کس کے لیے کیا جاتا ہے؟ اللہ تعالی کے لیے، تو ہونا تو یہ چاہیے کہ معادن اللہ نے رکھی ہیں زمین میں، یہ سارا اللہ کا ہونا چاہیے، جہاد اللہ کے لیے کیا جاتا ہے تو جو کچھ جہاد میں حاصل ہو وہ سارا کس کا ہونا چاہیے؟ اللہ کا ہونا چاہیے، لیکن اللہ نے بندوں پر فضل اور احسان فرمایا اور کہ اس میں سے چار حصے بندے کو دے دیے اور ایک حصہ اپنا ہی رکھا، ایک حصہ تو یہ حصہ ہے ہی اللہ کا، یہ بندے کے ذمے نہیں واجب، یہ حصہ ہی اللہ کا ہے ہاں بندہ اللہ کی طرف سے نائب بن کر اس کو دیتا ہے بھئی، اللہ کی طرف سے نائب، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ بندے پر واجب نہیں ہے، بندے کے ذمے نہیں ہے کہ پھر اس پر اس کی ادائیگی واجب ہو بلکہ یہ حق ہی کس کا ہے؟ یہ حق ہی اللہ کا ہے، تو ہونا تو یہ چاہیے تھا سارا اللہ کا ہو لیکن اللہ نے اس میں سے چار حصے بندے کو دے دیے اور ایک حصہ اسی طرح اپنا باقی رکھا اور بندہ پھر اللہ کی طرف سے نائب ہو کر اس کو کیا کرتا ہے؟ دیتا ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے وحق قائم بنفسه، یعنی ایسا ایسا حق جو قائم ہو اپنی ذات کے اعتبار سے، ثابت بذاته، ثابت ہو اپنی ذات کے اعتبار سے، من غير أن يتعلق بذمة العبد، بغیر اس کے کہ بندے کے ذمے سے متعلق ہو، شيء منه، اس میں سے کوئی چیز۔ یعنی اس میں سے کوئی چیز بندے کے ذمے سے متعلق نہیں ہوتی، حتى تجب عليه أداؤه، یہاں تک کہ پھر اس پر اس کی ادائیگی واجب ہو بھئی، بندے کے ذمے نہیں ہے کہ پھر اس پر اس کی ادائیگی بھی واجب ہو۔ بل استبقاه الله تعالى لأجل نفسه، بلکہ اس کو اللہ نے باقی رکھا اپنے نفس کے لیے اپنی ذات کے لیے، وتولى أخذه وقسمته، تولى کے معنی ہیں ذمہ داری قبول کرنا، ذمہ داری لینا۔ وتولى و ذمہ داری لی اس کے لینے کی اور اس کے تقسیم کرنے کی، کس نے لی؟ من کان خليفته في الأرض اس شخص نے جو اللہ کا خليفہ ہے زمین میں وھو السلطان اور وہ بادشاہ ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ اللہ ہی کا حق ہے یہ بندے کے ذمے نہیں واجب کہ پھر بندے پر اس کی ادا واجب، بلکہ یہ ہے ہی اللہ کا۔ یہ ہے ہی اللہ کا تو یہ ایسا حق ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے ثابت ہے، ہے ہی اللہ کا اور بندہ جو ادا کرتا ہے یہ اللہ کی طرف سے نائب بن کر ادا کرتا ہے بھئی۔ كخمس الغنائم والمعادن جیسے کہ غنیمتوں اور معادن کا خمس ہے۔ فإن الجهاد حق الله وبشک جہاد جو ہے وہ اللہ کا حق ہے، فينبغي أن يكون المصاب به تو مناسب یہ ہے کہ وہ جو مصاب بہی ہے جس تک پہنچایا جائے اس جہاد کے ذریعے، جہاد اللہ کا حق ہے تو مناسب یہ ہے کہ جہاد کے ذریعے جس چیز کو پہنچایا گیا وہ کیا ہے؟ وہ غنیم یعنی جو چیز جہاد کے ذریعے حاصل ہوئی تو مناسب یہ ہے کلھا لله کہ وہ ساری کی ساری کس کی ہونی چاہیے؟ اللہ کی ہونی چاہیے لیکن أوجب أربعة أخماسه للغالمين منة منه عليهم، لیکن اللہ نے واجب کیا أربعة أخماسه ثابت کیے چار خمس للغالمين کن کے لیے؟ غنیمت والوں کے لیے منة منه اپنے اوپر احسان کرتے ہوئے علیہم ان پر بھئی، منة منه علیہم اپنی طرف سے ان پر احسان کرتے ہوئے اللہ نے چار خمس ان کے لیے واجب کیے۔ بھئی دیکھیے غنیمت جو آئے گی اس میں سے خمس پانچواں حصہ نکالا جائے گا یہ حق اللہ ہوا، خمس ہوا بیت المال کے لیے اور باقی چار خمس کیا ہوئے؟ پانچ پانچ حصے کیے تھے نا تو کتنے خمس رہ گئے؟ چار، وہ چار خمس ہونا تو یہ چاہیے تھا سارا اللہ کا حق ہونا چاہیے تھا کیونکہ جہاد اللہ کا حق ہے تو جو چیز جہاد کے ذریعے حاصل ہو وہ بھی اللہ کا حق ہونا چاہیے لیکن اللہ نے بندوں پر احسان فرماتے ہوئے صرف پانچواں حصہ اپنے لیے رکھا اور باقی چار خمس کس کو دے دیے؟ بندوں کو دے دیے ان کے لیے ثابت کر دیے۔ وأبقَى الخمس لنفسه اور باقی رکھا ایک خمس کو اپنے لیے وکذا المعادن اور اسی طرح معادن بھی ہیں فإن حشم لما خلقه الله تعالى في الأرض من الذهب والفضة پس بے شک یہ معادن جو ہیں یہ نام ہے ان چیزوں کا جن کو اللہ نے پیدا کیا ہے زمین کے اندر یعنی کہ سونا اور چاندی۔ یعنی یہ سونا اور چاندی وغیرہ جو کانوں سے نکلتے ہیں ان کا نام ہے فينبغي أن يكون أن يكون كله لله تعالى، تو مناسب تو یہ ہے کہ یہ سارا کا سارا کس کے لیے ہونا چاہیے؟ اللہ کے لیے ولکن اللہ تعالی احل للواجد أو للمالک أربعة أخماسه منة منه وفضلا، لیکن اللہ نے حلال کر دیا اس میں سے للواجد پانے والے کے لیے أو للمالک یا مالک کے لیے ان کے لیے اللہ نے حلال کر دیے کتنا؟ أربعة أخماسه چار خمس بھئی، اس کی چیز کے چار خمس پانے والے جس کو ملے اس کے لیے یا مالک کے لیے اللہ نے حلال کر دیے منة منه وفضلا طور اپنی طرف سے احسان کرتے ہوئے اور فضل فرماتے۔ واجد اور مالک کا ذکر آیا بھئی، ایک ہے پانے والا، ایک ہے مالک۔ پانے والا وہ جو اپنی ملکیت کے علاوہ میں اس کو پائے بھئی، پورا سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہیں پہاڑوں میں وغیرہ کہیں اس کو ایک چیز مل گئی، وہ کان وغیرہ جو ہے اور یا مالک ہے، کہاں پر ملا اس کو؟ اپنی زمین میں ملا، تو ان دونوں پر چاہے پانے والا ہے، چاہے مالک ہے، ان پر یہ ہیں خمس واجب ہے بھئی، یہ اللہ کے لیے دیں گے بھئی، باقی چار حصے ان کے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی، و حقوق العباد یہ تو تھے حقوق اللہ آٹھ قسم پر۔ اب حقوق العباد بھئی، اور حقوق العباد كبدل المتلفات والمغصوبات وغيرهما جیسے متلفات کا بدل ہے ہلاک کی ہوئی چیزوں کا بدل ہے، آپ نے کسی کی چیز توڑ دی تو کیا کرنا پڑے گا آپ کو اس کا بدلہ دینا پڑے گا یا کسی نے کسی کی چیز غصب کر دی تو کیا کرنا پڑے گا وہ چیز واپس دے گا یا اس کی قیمت، تو یہ جو متلفات ہیں تلک کی ہوئی چیزیں اور غصب کی ہوئی چیزیں ہیں ان کا جو بدل ہے و غيرهما اور جو ان کے علاوہ ہیں من الدية یعنی کہ جیسے دیت ہے وملك المبيع والثمن اور اسی طرح ثمن اور مبیع کی ملک جو ہے وملك النحاح اور اسی طرح جو ملکہ نکاح ہے ونحوه اور اس جیسی چیزیں جو ہیں یہ سب مثالیں ہیں حقوق العباد کی۔ یہ مثالیں ہیں کس کی؟ حقوق العباد کی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بس حقوق العباد میں یہی بیان کہ یہ سب حقوق العباد ہیں، حقوق اللہ کے اندر تفصیل بیان کی آٹھ قسم پر ہیں بھئی، آٹھ قسم پر۔ چلیے بس والحمد للہ علی حقیقت الکلام۔
84 approved lectures · 80 of 84