Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-126

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 12 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 5
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔126 وإذا ثبت دفع العلل بما ذكرنا، هذا شروع بحث في انتقال المعلل إلى كلام آخر بعد إلزامه، أي إذا ثبت دفع العلل الطردية والمؤثرة بما ذكرنا من الاعتراضات أو دفع العلل أو دفع العلل الطردية فقط على ما يفهم من كلام البعض، كانت غايته أن يلجأ إلى الانتقال. یہاں سے نئی بحث شروع کر رہے ہیں۔ پیچھے مناظرے سے متعلقہ بحثیں تھیں کہ کس طرح کوئی قیاس کرے تو اس قیاس کو اور اس کی علت کو دفع کرنے کے کیا کیا طریقے ہیں بھئی۔ آپ نے تفصیل پڑھی: القول بموجب العلة، اور ممانعت، معارضہ، مناقضہ وغیرہ یہ سب بھئی۔ اب یہاں یہ بیان کر رہے ہیں کہ جب علت کا دفع ثابت ہو جائے، علت کا دفع کرنا مثلاً معلل نے ایک علت ذکر کی اور اس کا حکم ذکر کیا اور فریقِ مخالف یعنی سائل نے، سائل اور معترض نے اس کی علت کو تسلیم کرنے سے یا حکم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، تو پھر کیا صورت اختیار کی جائے گی بھئی اس حکم کو ثابت کرنے کے لیے؟ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ معلل نے ایک علت ذکر کی، ایک حکم ذکر کیا۔ سائل نے اس کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تو اس کے بعد جو معلل ہے وہ انتقال کرے گا دوسری چیز کی طرف جس کے ذریعے وہ اپنی پہلی علت یا پہلے حکم کو کیا کرے گا؟ ثابت کرے گا۔ تو ایک کلام سے دوسرے کلام کی طرف وہ انتقال کرے گا۔ وہ اب بیان کرنے لگے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ کہ جب دفعِ علل ثابت ہو جائے، چاہے وہ علتِ طردیہ ہو، چاہے علتِ مؤثرہ، جب اس کا دفع ثابت ہو جائے یعنی معترض اس کو تسلیم کرنے سے انکار کر دے تو پھر معلل کیا کرے گا اس کو ثابت کرنے کے لیے؟ دوسرے کلام کی طرف انتقال کرے گا۔ اب وہ بیان کرنے لگے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وإذا ثبت دفع العلل بما ذكرنا" اور جب ثابت ہو جائے علتوں کا دفع کرنا ان چیزوں کے ساتھ جو ہم نے ذکر کر دیں۔ یعنی وہ ممانعت، معارضہ وغیرہ ان کے ساتھ جب علتوں کا دفع کرنا، ان کا رد کرنا ثابت ہو جائے۔ کہتے ہیں: "هذا شروع بحث في انتقال المعلل إلى كلام آخر بعد إلزامه" یہ بحث کا شروع ہے معلل کے انتقال کرنے میں، معلل کے منتقل ہونے میں "إلى كلام آخر" کسی دوسرے کلام کی طرف "بعد إلزامه" بعد اس کے الزام کے، اس پر لازم کرنے کے بھئی۔ جب سائل نے اس پر الزام کیا بھئی۔ "أي إذا ثبت دفع العلل الطردية والمؤثرة" جب ثابت ہو جائے علتِ طردیہ اور مؤثرہ کا دفع، ان کی دفع اور ان کا رد کیا ہو جائے؟ ثابت ہو جائے "بما ذكرنا من الاعتراضات" ان چیزوں کے ساتھ جو ہم نے ذکر کر دیں من الاعتراضات یعنی کہ وہ اعتراضات۔ "أو دفع العلل الطردية فقط" اس کا عطف ہے "دفع العلل" جو پیچھے آیا تھا اسی پر بھئی۔ تو شارح فرماتے ہیں: اوپر جو "العلل" کا لفظ آیا، اس سے علتِ طردیہ اور مؤثرہ دونوں مراد ہیں۔ ان دونوں کا دفع، ان کا رد جب ثابت ہو جائے۔ اور کہتے ہیں بعض شارحین نے کہا کہ "العلل" سے یہاں صرف علتِ طردیہ مراد ہیں کہ ان کا رد ثابت ہو جائے، اس لیے کیونکہ علتِ مؤثرہ کے بارے میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ وہ تو کس سے ثابت ہوتی ہے؟ کتاب اللہ سے یا سنت سے یا اجماع سے، تو وہ انہی کے درجے میں ہے لہذا اس کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کہتے ہیں یا ثابت ہو جائے "دفع العلل الطردية فقط" صرف علتِ طردیہ کا رد کرنا "على ما يفهم من كلام البعض" بناء بر اس کے جو مفہوم ہوتا ہے بعض کے کلام سے، بعض اصولیین کے کلام سے، "كانت غايته أن يلجأ إلى الانتقال" تو اس معلل کی غایت جو ہے، انتہا یہ ہو گی "أن يلجأ إلى الانتقال" کہ وہ... یاد رکھیے۔ "ألجأ يلجئ" کے معنی ہیں مجبور کرنا۔ مجبور کرنا۔ اور "يلجأ" مجرد سے آئے، "لجأ يلجأ" اس کے معنی ہیں مجبور ہونا۔ تو یہ لازم ہے۔ "لجأ يلجأ" لازم، اور "ألجأ يلجئ" باب افعال سے آئے تو یہ مجبور کرنا، یہ متعدی ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ متعدی۔ اور یہ رسم الخط بتلا رہا ہے کہ یہ "يلجأ" ہے بھئی، "يلجئ" بھئی۔ کیونکہ ہمزہ جو ہے، یاد رکھیے یہ ہمزہ کی کتابت عربی میں سب سے مشکل ہے۔ کبھی اس ہمزہ کو اپنی ہی صورت ہمزہ کی طرح لکھتے ہیں، کبھی اس کو الف کی صورت میں لکھتے ہیں، کبھی واؤ کی صورت میں لکھتے ہیں، کبھی یا کی صورت میں لکھتے ہیں۔ اور یہاں آخر میں ہمزہ آئی اور یا کی صورت میں لکھا، اور یہ تب لکھتے ہیں جب ماقبل میں کسرہ ہو۔ معلوم ہوا "يلجأ" ہے بھئی، "يلجئ"، معلوم ہوا جیم پہ کسرہ ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اور جیم پہ کسرہ ہو تو معلوم ہوا یہ کس باب سے ہے؟ بابِ افعال سے۔ لیکن آگے جو شارح معنی بیان کر رہے ہیں "أن يضطر"، یہ ترجمہ لازمی والا کر رہے ہیں کہ مجبور ہو جائے۔ "أن يضطر" کا کیا معنی؟ مجبور ہو جائے۔ "يلجأ" کا ترجمہ ہے مجبور کرنا، شارح ترجمہ کیا کر رہے ہیں؟ مجبور ہونا، مجبور ہو جائے۔ تو یہ جو ہمزہ کو انہوں نے یا کی صورت میں لکھا، تو یہ "يلجئ" نہیں ہونا چاہیے، "يلجأ" ہونا چاہیے۔ کیا ہونا چاہیے؟ "يلجأ" ہونا چاہیے اور اس صورت میں اس ہمزہ کو الف کی صورت میں لکھتے، جیم کے بعد یا نہ لکھتے بلکہ الف اور اس پر ہمزہ ڈالی جاتی۔ تو پھر بات درست ہو جاتی۔ جیسا کہ بعض نسخوں میں "يلجأ" بھی ہے بھئی۔ اس نور الانوار کے ساتھ جو متن آیا، اس میں تو یا ہے، بعض نسخوں میں کیا ہے؟ الف۔ تو "كانت غايته أن يلجأ إلى الانتقال" تو اس معلل کی غایت کیا ہو گی؟ انتہا پھر کیا ہو گی؟ کہ وہ "أن يلجأ" کہ وہ مجبور ہو جائے گا "إلى الانتقال" کس کی طرف؟ انتقال کی طرف۔ تو میں نے بتلایا بعض نسخوں میں آیا ہی یہ ہے۔ لیکن اگر اس کو "يلجأ" بھی رکھا جائے، پھر بھی اس میں اس کا جواب دیا جا سکتا ہے کہ مجبور کرنا، کسی کو مجبور کریں گے تو وہ مجبور ہو جائے گا۔ مجبور کریں گے تو وہ مجبور ہو جائے گا، تو مجبور کرنا ہے سبب اور مجبور ہونا ہے مسبب، تو سبب بول کر مسبب مراد ہے۔ یہاں کیا مراد ہے؟ سبب بول کر مسبب مراد ہے، تو اب شارح کی تقریر بھی درست ہو گئی اور صیغے کو بدلنے کی ضرورت نہیں۔ تو "كانت غايته" تو اس کی غایت یہ ہو گی کہ "أن يلجأ إلى الانتقال" کہ وہ مجبور ہو جائے گا انتقال کی طرف "أي غاية المعلل" ضمیر کا مرجع بتلایا "غايته" کی ھا ضمیر کس کو راجع؟ معلل کو، کہ معلل کی غایت یہ ہو گی "أن يضطر إلى الانتقال" کہ وہ مجبور ہو جائے گا انتقال کی طرف، یعنی ایک کلام سے دوسرے کلام۔ "وهو أربعة أقسام" اور یہ انتقال جو ہے یہ چار قسم پر ہے "لأنه إما أن ينتقل من علة إلى علة أخرى" یا تو وہ منتقل ہو گا ایک علت سے دوسری علت کی طرف۔ وہ اس علت ہی کو چھوڑ کر دوسری علت کی طرف منتقل ہو جائے گا، لیکن یہ نہیں کہ دوسری علت کو ثابت کرنا ہے، "لإثبات الأولى" ثابت کس کو کرنا ہے؟ پہلی ہی علت کو ثابت کرنا ہے۔ تو وہ منتقل ہوا دوسری علت کی طرف اور اس دوسری علت کے ذریعے کیا کرے گا؟ پہلی علت کو ثابت کرے گا بھئی۔ کیونکہ سائل نے پہلی علت کو رد کیا تھا تو یہ اب دوسری علت کے ذریعے اس کو ثابت کرے گا۔ "كما إذا علل في الصبي المودع مالاً" "أودع يودع إيداعاً" کے معنی ہوتے ہیں امانت رکھوانا۔ مودِع: جس نے امانت رکھوائی، مودَع: جس کے پاس امانت رکھوائی گئی۔ صورت یہ: معلل تعلیل ذکر کرتا ہے سائل، کہ بچے کے پاس امانت رکھوائی جائے اور وہ اس امانت کو ضائع کر دے، تباہ ختم کر دے، تو بچے پر ضمان نہیں آئے گا۔ کیونکہ جب بچے کے پاس امانت رکھوائی، بچہ تو حفاظت کی اہلیت نہیں رکھتا کہ کسی چیز کی حفاظت کرے۔ وہ تو امانت اس کے پاس رکھوائی جائے، وہ اہلیت ہی نہیں رکھتا، تو جس نے اس کے پاس امانت رکھوائی، گویا اس نے خود ہی بچے کو اس امانت کے ہلاک کرنے پر مسلط کر دیا۔ اس نے خود ہی کیا کیا ہے؟ اس نے خود ہی مال بچے کے حوالے کیا تاکہ وہ تباہ کرے، برباد کرے، اس کو جب اس نے خود اس کو مسلط کیا ہے اور بچہ اس کو اس کے مسلط کرنے کی وجہ سے اب بچہ اس مال کو تباہ و برباد کر دے تو بچے پر ضمان بھی نہیں آئے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو حکم کیا ہوا کہ بچے پر امانت کا ضمان نہیں آئے گا۔ علت کیا ہوئی؟ کیونکہ وہ بچہ مسلط علی الاستہلاک ہے، وہ کیا ہے؟ امانت رکھوا لینے والے نے خود اس کو کیا کیا ہے؟ استہلاک پر مسلط کیا ہے۔ "كما إذا علل في الصبي المودع" جیسے کہ تعلیل کی گئی اس بچے میں "المودَع"، مودع کون؟ ہاں جس کے پاس امانت رکھوائی گئی ہے۔ "مالاً" کیا امانت کیا رکھوائی گئی ہے؟ مال۔ جیسے کہ اس بچے کے اندر جس کے پاس مال امانت رکھوایا گیا ہے اس کی تعلیل کی گئی کہ "أنه إذا استهلك الوديعة" کہ جب وہ ہلاک کر دے "إذا استهلك الوديعة" جب وہ ہلاک کر دے ودیعت کو "لا يضمن" تو وہ ضامن نہیں ہو گا۔ علت کیا؟ کہتے ہیں: "لأنه مسلط على الاستهلاك" کیونکہ وہ مسلط ہے کس چیز پر؟ ہلاک کرنے پر "من جانب المودع" کس کی جانب سے؟ مودع امانت رکھوانے والے کی جانب سے۔ اب یہ تعلیل کی معلل نے، اب سائل اعتراض کرے گا۔ اور جب سائل اعتراض کرے گا، پھر وہ دوسری علت کی طرف منتقل ہو کر دوسری علت کے ذریعے کیا کرے گا؟ پہلی علت کو ثابت کرے گا۔ "فإن قال السائل" پس اگر سائل یعنی معترض نے کہا "لا نسلم أنه مسلط على الاستهلاك" ہمیں یہ بات تسلیم نہیں کہ بچہ جو ہے وہ مسلط ہے ہلاک کرنے پر "بل على الحفظ" بلکہ کس چیز پر مسلط ہے؟ حفظ، حفاظت پر مسلط ہے، وہ امانت اس نے کس مقصد کے لیے دی ہے بچے کو؟ حفاظت کے لیے دی ہے، تو اس نے اس کی علت کا انکار کر دیا کہ ہمیں یہ بات تسلیم نہیں کہ بچہ مسلط علی الاستہلاک ہے بلکہ بچہ مسلط علی الحفظ ہے بھئی۔ "فينتقل المعلل إلى علة أخرى" تو منتقل ہوتا ہے معلل دوسری علت کی طرف "يثبت بها العلة الأولى" ثابت کرتا ہے وہ اس دوسری علت کے ذریعے پہلی علت کو۔ پہلی علت کو، کون سی پہلی علت؟ "عني التسليط على الاستهلاك البتة" یعنی استہلاک پر مسلط کرنے کو، اسی کو، اسی کو ثابت کرتا ہے البتة قطعی طور پر۔ سمجھ میں آیا؟ مثلاً پھر وہ کیا کہتا ہے؟ کہ بھئی علت کیا ذکر کی تھی معلل نے؟ کہ بچہ مسلط علی الاستہلاک ہے، لہذا بچے پر امانت کا ضمان نہیں۔ سائل نے رد کیا کہ ہمیں یہ بات تسلیم نہیں کہ بچہ مسلط علی الاستہلاک ہے بلکہ وہ مسلط علی الحفظ ہے۔ تو اب معلل دوسری علت کی طرف انتقال کرتا ہے اور اس کے ذریعے پہلی علت کو ثابت کرتا ہے۔ دوسری علت یہ کہ بچہ جو ہے وہ ناقص العقل ہے، قاصر العقل ہے۔ بچہ ناقص العقل ہے، وہ مکلف ہے ہی نہیں کسی چیز کا، شریعت نے اسے کسی چیز کا مکلف نہیں بنایا اور وہ چیزوں کو ہلاک کرنے کی پروا نہیں کرتا، اس کو عقل ہی نہیں ہے، چیزیں خراب کرتا ہے، توڑتا ہے، اس کو فکر ہی نہیں ہوتی ان کی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو اس کے ذریعے اب یہ دوسری علت بیان کی اور اس کے ذریعے کس کو ثابت کیا؟ پہلی علت کہ وہ مسلط علی الاستہلاک ہے، کیونکہ وہ ناقص العقل ہے، وہ مکلف ہی نہیں ہے، وہ چیزوں کا ہلاک کرنے کی پروا ہی نہیں کرتا، تو لہذا جب اس کے پاس امانت رکھوائی جا رہی ہے تو اسے گویا مسلط علی الاستہلاک کیا جا رہا ہے۔ یہ پہلی صورت تھی کہ معلل کس کی طرف منتقل ہوا؟ دوسری علت کی طرف، کس لیے؟ پہلی ہی علت کو ثابت کرنے کے لیے۔ دوسری صورت: "أو ينتقل من حكم إلى حكم آخر بالعلة الأولى" یا وہ منتقل ہوتا ہے ایک حکم سے دوسرے حکم کی طرف "بالعلة الأولى" اسی پہلی علت کے ذریعے؟ معلل نے ایک علت ذکر کی، ایک حکم ذکر کیا۔ سائل نے انکار کر دیا اس حکم کو تسلیم کرنے سے۔ معلل کیا کرتا ہے؟ اسی علت کے ذریعے، پہلے تو دوسری علت کی طرف گیا تھا اور اس سے پہلی علت کو ثابت کیا تھا، اب اب اسی پہلی، علت یہاں دوسری نہیں آئے گی، اسی پہلی علت کے ذریعے دوسرے حکم کو کیا کرے گا؟ ثابت کرے گا اور اس دوسرے حکم سے خود بخود کیا ہو جائے گا؟ پہلا حکم بھی ثابت ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: یا منتقل ہو گا ایک حکم سے دوسرے حکم کی طرف پہلی علت کے ذریعے ہی۔ "كما إذا علل على جواز إعتاق المكاتب الذي لم يؤد شيئاً من بدل الكتابة عن الكفارة" جیسے تعلیل کی معلل نے... بھئی صورتِ مسئلہ یہ: ہمارے نزدیک یاد رکھیے عقدِ کتابت کفارے سے مانع نہیں۔ لہذا ایک غلام جس کے ساتھ آقا نے عقدِ کتابت کر رکھا ہے اور آقا اس غلام کو اپنے کفارے کے اندر آزاد کرنا چاہتا ہے تو وہ اس مکاتب کو کفارے میں آزاد کر سکتا ہے عند الاحناف بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ لیکن شرط یہ ہے کہ غلام نے، مکاتب نے ابھی کچھ بھی ادائیگی نہ کی ہو۔ اگر ادائیگی کر دی ہے پھر آزاد نہیں کر سکتا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو اب معلل ہماری طرف سے کوئی معلل ہے، وہ تعلیل کرتا ہے، وہ کہتا ہے کہ یہ جو مکاتب ہے اس کو کفارے میں آزاد کرنا جائز ہے، کیونکہ علت کیا ذکر کرتا ہے؟ کیونکہ کتابت ایک عقدِ معاوضہ ہے جو فسخ کا احتمال رکھتا ہے۔ کتابت، عقدِ کتابت جو ہے وہ عقدِ معاوضہ ہے اور وہ فسخ کا احتمال رکھتا ہے۔ کس طرح فسخ ہو سکتا ہے؟ غلام آکر کہہ دے بھئی میں عاجز ہوں، میں اتنے پیسے... آپ نے مثلاً مکاتب سے کہا تھا 5 سال میں 20 لاکھ روپے لے آؤ تو تم آزاد ہو۔ اس نے کچھ عرصہ محنت کی، ایک پیسہ نہیں جمع ہو رہا تو وہ واپس آگیا اور اس نے کہا کہ میں عاجز ہوں، میں نہیں اتنے پیسے لا سکتا، بس پھر وہ پھر پہلے غلام کی طرح بن جائے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یا دونوں مل کر کیا کر لیں؟ اس کو عقدِ کتابت کو فسخ کر دیں آقا اور غلام۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ تو دیکھیے عقدِ کتابت ایک عقدِ معاوضہ ہے جو فسخ کا احتمال رکھتا ہے۔ یہ ہوئی علت، اور حکم کیا؟ کہ مکاتب کو کفارے میں آزاد کرنا جائز۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ حکم کیا؟ مکاتب کو کفارے میں آزاد کرنا جائز، لیکن شرط میں نے ذکر کر دی، ابھی اس نے کچھ ادائیگی نہ کی ہو۔ تو مکاتب کو کفارے میں آزاد کرنا جائز، یہ ہے حکم، اور علت کیا؟ کہ کتابت فسخ کا احتمال رکھتی ہے بھئی۔ تو وہ اس کا انکار کرے گا اور پھر دیکھنا معلل منتقل ہو گا دوسرے حکم کی طرف۔ "كما إذا علل" جیسے کہ تعلیل کی معلل نے "على جواز إعتاق المكاتب" کس چیز پر تعلیل کی؟ مکاتب کے آزاد کرنے کے جائز ہونے پر، وہ مکاتب "الذي لم يؤد شيئاً من بدل الكتابة" جس نے کچھ بھی ادا نہیں کیا بدلِ کتابت میں سے، تو اس مکاتب کو آزاد کرنا کس سے؟ "عن الكفارة"، "عن الكفارة" کا تعلق "إعتاق" سے ہے۔ تو اس مکاتب جس نے کچھ بھی ادا نہیں کیا اس کو کفارے میں آزاد کرنے کے جائز ہونے کی تعلیل کی ہے "بأن الكتابة" اسی طور کہ کتابت جو ہے اس سبب سے، اس وجہ سے کہ کتابت جو ہے، عقد معاوضۃ وہ ایسا عقد معاوضہ ہے، يحتمل الفسخ، جو فسخ کا احتمال رکھتا ہے بالإقالة، کس کے ساتھ؟ إقاله کے ذریعہ، إقاله کے ذریعہ۔ إقاله عقد کو فسخ کرنا، بھئی، آپ بیع میں پڑھ چکے ہیں، بیع کے اندر، فقہ کے اندر بھئی، دونوں راضی ہو جاتے ہیں۔ کوئی چیز آپ کو پسند نہیں آئی اور آپ اس کو بعد میں لے جاتے ہیں اور بائع سے کہتے ہیں کہ آپ یہ اپنی چیز واپس لے لیں، میرے ثمن مجھے واپس کر دیں، تو کوئی عیب نہیں ہے، کوئی وجہ نہیں، آپ ویسے ہی بس آپ واپس کرنا چاہتے ہیں اور وہ بھی مثلاً نیک آدمی، کوئی تبلیغی آدمی ہے، وہ کہتا ہے، "چلو، ہاں بھئی، لاؤ دے دو میری چیز اور اپنے پیسے لے جاؤ۔" تو یہ ہے إقاله، یہ کیا ہے؟ إقاله۔ تو یہ فسخ عقد ہے بھئی۔ تو یہ کہتے ہیں کہ کتابت ایسا عقد معاوضہ ہے جو فسخ کا احتمال رکھتا ہے إقالہ کے ذریعہ، أو بعجز المكاتب عن الأداء، یا مکاتب کے ادائیگی سے عاجز ہونے کی وجہ سے، کہ وہ عاجز آ جائے، آخر کہہ دے، "میں عاجز ہوں"، تو بھی آپ سے کتابت ختم ہو جائے گا۔ فلا يمنع الصرف إلى الكفارة، لہٰذا یہ کفارے کی طرف پھیرنے سے روکتا نہیں۔ یہ عقد کتابت جو ہے کفارے کی طرف پھیرنے سے روکتا نہیں، کہ اس کو کفارے میں صرف کر دیا جائے۔ فإن قال الخصم، پس اگر خصم نے یعنی سائل نے کہا، أنا قائل أيضاً بموجبه، کہ "میں بھی قائل ہوں اس کے حکم کا۔" آپ نے کیا حکم ذکر کیا؟ کہ مکاتب کو کفارے میں آزاد کرنا جائز ہے۔ علت کیا ذکر کی؟ کیونکہ کتابت جو ہے وہ فسخ کا احتمال رکھتا ہے۔ سائل کہتا ہے کہ "میں بھی اس حکم کا قائل ہوں۔ عقد کتابت وہ کفارے سے مانع نہیں۔" لیکن کفارے سے مانع، تو کفارے سے مانع کتابت نہیں ہے بلکہ ایک نقصان ہے جو اس غلام کی رقیت میں آ گیا۔ کس میں آ گیا؟ وہ کہتا ہے کہ "میں بھی اس بات کو، آپ کے حکم کو تسلیم کرتا ہوں، کتابت مانع نہیں ہے اعتاق سے، کس چیز سے؟ اعتاق عن الکفارہ سے مانع نہیں، ہاں، مانع کیا چیز ہے؟ ایک نقصان آ گیا ہے اس غلام کے رقیت میں، اس غلام کے رقیت میں، جو کمی آ گئی ہے اس عقد کی وجہ سے، اس، وہ نقصان مانع ہے، عقد کتابت مانع نہیں ہے۔" فإن قال الخصم، پس اگر خصم، سائل نے کہا، فریقِ مقابل نے کہا، أنا قائل أيضاً بموجبه، کہ "میں بھی اس کے حکم کا قائل ہوں۔" یہ جو آپ نے علت ذکر کی، یہ جو آپ نے وصف ذکر کیا، اس کے حکم کا، موجب کسے کہتے ہیں؟ حکم کو۔ "میں بھی اس کے حکم کا قائل ہوں"، إذ عندي عقد الكتابة لا يمنع الصرف إلى الكفارة، اس لیے کیونکہ عقد کتابت وہ منع نہیں کرتی کفارے کی طرف پھیرنے سے، وإنما المانع هو نقصان تمكن في الرقب بسبب هذا العقد، اور مانع جو ہے وہ تو وہ نقصان ہی ہے جو جم گیا ہے، جو بیٹھ گیا ہے اس کے رقیت میں، اس بسبب هذا العقد، اس عقد کی وجہ سے۔ إذ العتق مستحق للعبد، اس لیے کیونکہ آزادی جو ہے وہ غلام کا استحقاق ہو گئی، غلام ہوا مستحق آزادی کا، اور آزادی کیا ہوئی؟ مستحق بھئی۔ إذ العتق مستحق للعبد بسبب الكتابة، اس لیے کیونکہ آزادی وہ مستحق ہوئی غلام کی، کتابت کی وجہ سے۔ جی، تو آپ دیکھیے سائل نے رد کر دیا۔ کیا علت ذکر کی تھی معلل نے؟ معلل نے حکم کیا ذکر کیا تھا؟ کہ مکاتب کا اعتاق کفارے میں جائز، علت کیا ذکر کی تھی؟ کہ یہ فسخ کا احتمال رکھتا ہے۔ سائل نے کیا کہا؟ کہ "ہمیں آپ کا یہ حکم تسلیم ہے، عقد کتابت وہ مکاتب کو آزاد کرنا کفارے میں یہ جائز، ہمیں یہ، ہمیں بھی تسلیم، لیکن کتابت مانع نہیں ہے بلکہ مانع کیا چیز ہے؟" جی؟ وہ نقصان جو اس کے رقیت میں آ گیا اور وہ کیا نقصان آیا؟ کہ یہ غلام آزادی کا مستحق ہو گیا۔ جب عقد کتابت کیا تو وہ پیسے ادا کرے گا تو کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔ تو یہ غلام تو پہلے ہی آزادی کا مستحق ہو چکا ہے تو لہٰذا معلوم ہوا اس کی رقیت میں کمی آ گئی، نقصان آ گیا اور جب غلام پہلے ہی آزادی کا مستحق ہو چکا ہے، اس کو کفارے میں ادا کریں؟ کفارے میں تو پورا غلام آزاد ہونا چاہیے جس میں کسی قسم کا نقصان نہ ہو بھئی اور یہ تو پہلے ہی آزادی کا مستحق ہو چکا ہے اس عقد کی وجہ سے، پیسے لا کر دے گا اور کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔ فحينئذ ينتقل المعلل من حکم إلى حکم آخر بالعلة المذكورة، تو اس وقت معلل جو ہے وہ منتقل ہوتا ہے اس حکم سے دوسرے حکم کی طرف بالعلة المذكورة، اسی مذکورہ علت کے ذریعہ، اسی کے ذریعہ دوسرے حکم کو ثابت کرتا ہے اور اس دوسرے حکم کے ذریعہ کیا ثابت ہو گا؟ پہلا حکم بھی ثابت ہو جائے گا۔ ويقول، اور وہ معلل یوں کہتا ہے، هذا العقد لا يوجب نقصاناً، سائل نے کیا کہا تھا؟ "اس عقد سے نقصان آ گیا رقیت میں"، اب معلل بالفاظِ دیگر کہہ رہا ہے کہ هذا العقد لا يوجب نقصاناً مانعاً من الرق، کہ یہ عقد کوئی ایسا نقصان ثابت نہیں کرتا جو رقیت سے، غلامی سے مانع ہو، إذ لو كان كذلك، اس لیے کیونکہ اگر ایسا ہوتا، یعنی اس عقد کی وجہ سے رقیت میں کوئی کمی آتی، لما جاز فسخه، تو پھر تو اس کا فسخ کرنا ہی جائز نہ ہوتا، لأن نقصانه إنما يثبت بثبوت الحرية من وجه، اس لیے کیونکہ اس کا رقیت کا نقصان کس طرح ہو گا؟ إنما يثبت، وہ تو ثابت ہو گا بثبوت الحرية من وجه، کہ حریت ثابت ہو جائے من وجہ۔ من وجہ کیا آ جائے؟ من وجہ حریت آ جائے غلام میں، تو تبھی نقصان آیا، جب تک من وجہ حریت نہیں آئی، کسی بھی اعتبار سے جب تک حریت نہیں آئی تب تک کوئی نقصان نہیں آیا۔ تو جو نقصان ثابت ہو گا، وہ اسی وقت ثابت ہو گا جب حریت من وجہ آ جائے والحرية من وجه لا تحتمل الفسخ، اور حریت من وجہ وہ تو فسخ کا احتمال نہیں رکھتی لیکن یہ تو فسخ کا احتمال رکھتا ہے، معلوم ہوا اس میں من وجہ بھی حریت نہیں ہے، کسی بھی اعتبار سے بھی حریت نہیں آئی، اگر کسی بھی اعتبار سے حریت آئی ہوتی تو پھر نقصان آ جانا تھا، پھر فسخ کا احتمال نہ رہتا، لیکن جب فسخ کا احتمال ہے ابھی بھی، جب تک اس نے بدل نہیں دیا فسخ کا احتمال، جب فسخ کا احتمال ہے معلوم ہوا اس کے رقیت میں کسی قسم کا نقصان نہیں آیا۔ نقصان کیا آتا؟ من وجہ آزادی آ جاتی، کیا آتی؟ آپ جانتے ہیں جب آزادی ایک دفعہ آ جائے تو اس کو فسخ نہیں کیا جا سکتا، چاہے پوری آزادی آئے اس کو بھی فسخ نہیں کیا جا سکتا، من وجہ بعض اعتبارات سے آزادی آ جائے تو بھی اسے فسخ نہیں کر سکتے، لیکن اس کو تو فسخ کیا جا سکتا ہے، معلوم ہوا من وجہ بھی ابھی آزادی نہیں آئی، اگر من وجہ بھی آزادی آئی ہوتی تو اسے فسخ کرنا ہی جائز نہ ہوتا۔ تو معلوم ہوا نقصان نہیں آیا اس میں کسی بھی اعتبار سے۔ فقد أثبت المعلل بالعلة الأولى، پس تحقیق ثابت کر دیا معلل نے اسی پہلی علت کے ذریعہ، پہلی علت کیا تھی؟ أعني احتمال الكتابة لفسخ، یعنی کے یہ کہ کتابت فسخ کا احتمال رکھتی ہے، کیا ثابت کیا معلل نے؟ الحكم الآخر، یہ أثبت کا مفعول ہے، کس کو ثابت کیا؟ حکمِ آخر، تو تحقیق معلل نے علتِ اولیٰ کے ذریعہ ثابت کر دیا الحكم الآخر، کس کو؟ حکمِ آخر کو، جی، اور کیا حکم، دوسرا حکم ثابت کیا؟ وهو عدم إيجاب نقصان مانع من الرق، اور وہ رقیت سے مانع کسی نقصان کا ثابت نہ ہونا، یعنی کوئی ایسا نقصان ثابت نہیں ہوا جو رقیت سے مانع ہو، وهو عدم إيجاب نقصان مانع من الرق، اور وہ یہ کہ کوئی ثابت ایسا نقصان اس نے ثابت نہیں کیا جو رقیت سے مانع ہو بھئی، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ صورت کیا تھی؟ معلل نے کیا علت ذکر کی تھی؟ کہ مکاتب کو اس کو کفارے کے اندر آزاد کرنا، یہ حکم ذکر کیا تھا، علت کیا ذکر کی تھی؟ کہ یہ فسخ کا احتمال رکھتا ہے۔ سائل نے کیا اعتراض کیا؟ کہ "ہمیں آپ کا یہ حکم تسلیم ہے کہ عقد کتابت وہ، وہ کفارے میں آزادی سے مانع نہیں، بلکہ مانع کیا چیز ہے؟ وہ نقصان ہے"، سائل، وہ نقصان ہے یہ سائل نے کہا۔ اب معلل نے پھر کیا کیا تھا؟ اسی علت کے ذریعہ دوسرا حکم ثابت کیا تھا جس سے پہلا حکم بھی کیا ہو گیا تھا؟ ثابت، لیکن اب اسی علت کے ذریعہ دوسرا حکم نہیں ثابت کرے گا بلکہ نئی علت کے ذریعہ نیا حکم ثابت کرے گا اور اس نیا حکم، نئے حکم سے ہی دوسرا حکم بھی ثابت ہو جائے گا۔ تو آدھی صورت وہی ہے معلل کے حکم اور تعلیل، حکم اور علت، پھر سائل کا اعتراض بھی وہی ہے، پھر آگے جو معلل کیا کرتا تھا پہلے؟ دوسرا حکم ثابت کرتا تھا، یہاں ایسا نہیں، یہاں پر دوسری علت کے ذریعہ دوسرا حکم، دیکھیے یہی صورت ہے کہ سائل، پہلے معلل نے تعلیل کر دی، پھر سائل نے کہا، إن عندي هذا العقد لا يمنع من التكفير، کہ "میرے نزدیک بھی یہ عقد کتابت تکفیر سے مانع نہیں، بل المانع نقصان الرق، بلکہ مانع کیا چیز ہے؟ وہ جو نقصان آ گیا رق کے اندر"، فيقول المعلل، تو معلل کہتا ہے، هذا عقد معاملة بين العباد كسائر العقود، کہ "یہ عقد معاملہ ہے بندوں کے درمیان جیسے کہ سارے عقود ہیں"، جیسے اور عقد بندوں کے درمیان ہوتے ہیں اسی طرح یہ عقد کتابت بھی ایک عقد ہے، فوجب أن لا يوجب نقصاناً في الرق، پس ثابت ہوا کہ، پس واجب ہوا کہ یہ نقصان ثابت نہ کرے رقیت کے اندر۔ جیسے بندوں کے درمیان اور عقود ہوتے ہیں اسی طرح یہ عقد کتابت بھی ایک عقد ہے اور جب وہ، ان کی وجہ سے رق میں کوئی نقصان نہیں آتا، جیسے غلام کو بیچا جاتا ہے تو اس کے رقیت میں کوئی کمی آ جاتی ہے؟ کوئی نقصان آتا ہے؟ تو وہ بھی جیسے عقد معاملہ ہے اسی طرح یہ کتابت بھی کیا ہے؟ ایک عقدِ معاملہ، تو جب بیع کی وجہ سے اس کے رقیت میں کوئی نقصان نہیں آتا تو یہ بھی اسی طرح کتابت بھی عقدِ معاملہ ہے، اس کی وجہ سے بھی کوئی نقصان نہیں آئے گا بھئی۔ تو معلل کہتا ہے یہ بھی عقدِ معاملہ ہے بندوں کے درمیان جیسے کہ باقی عقود ہیں، فوجب أن لا يوجب نقصاناً في الرق، پس واجب ہوا کہ یہ ثابت نہ کرے کسی نقصان کو رقیت میں، مثله، انہی کی طرح، فهذا انتقال إلى حكم آخر وعلة أخرى كما ترى، پس یہ انتقال ہے دوسرے حکم اور دوسرے علت کی طرف جیسے کہ آپ دیکھ رہے ہیں۔ علت کیا ذکر کی؟ دوسری علت، کہ یہ عقدِ معاملہ ہے، یہ کیا ہے؟ اور حکم دوسرا کیا ذکر کیا؟ کہ عقدِ معاملہ سے کسی قسم کا نقصان نہیں آتا، تو معلوم ہوا اس سے بھی کسی قسم کا نقصان نہیں آئے گا۔ أو ينتقل من علة إلى علة أخرى، یا سائل، یا معلل منتقل ہوتا ہے ایک علت سے دوسرے علت کی طرف، پہلے بھی آیا تھا نا؟ ایک علت سے دوسرے علت کی طرف منتقل ہوا تھا، کس لیے؟ پہلے ہی علت کو ثابت کرنے کے لیے، اب چوتھی صورت ہے ایک علت سے دوسرے علت کی طرف منتقل ہوتا ہے لإثبات الحكم الأول، کس لیے؟ پہلے ہی حکم کو ثابت کرنے کے لیے، یعنی پہلے ایک علت کے ذریعہ اس حکم کو ثابت کر رہا تھا، اب اس علت کو چھوڑ کر دوسرے علت کے ذریعہ اس حکم کو ثابت کرنا چاہتا ہے اور بتلائیں گے کہ یہ جائز نہیں۔ یہ جائز نہیں۔ ایک علت کو دوسرے علت کے ذریعہ تو ثابت کر سکتے ہیں لیکن ایک حکم کو پہلے علت چھوڑ کر دوسرے علت کے ذریعہ ثابت نہیں کر سکتے بھئی۔ تو یہ معنی ہے، یا منتقل ہوتا ہے ایک علت سے دوسرے علت کی طرف لإثبات الحكم الأول، پہلے حکم کو ثابت کرنے کے لیے، لا لإثبات العلة الأولى، نہ کہ پہلے علت کو ثابت کرنے کے لیے، ولم يوجد له نظير في المسائل الشرعية، شارح فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی مثال مسائلِ شرعیہ میں نہیں پائی گئی، ولهذا قال، اور اسی وجہ سے مصنف نے فرمایا، وهذه الوجوه صحيحة إلا الرابع، کہ "یہ وجوہ سارے صحیح ہیں سوائے چوتھے کے۔" چوتھی وجہ نہیں صحیح، باقی تینوں صحیح۔ پہلی بھی صحیح، ایک علت سے دوسرے علت کی طرف انتقال کرتا ہے تاکہ پہلے ہی علت کو ثابت کرے۔ ایک حکم سے دوسرے حکم کی طرف انتقال کرتا ہے اور وہ دوسرا حکم بھی کس کے ذریعہ ثابت کرتا ہے؟ پہلے ہی علت کے ذریعہ، یا ایک حکم کو سے دوسرے حکم اور دوسرے علت، دوسرے حکم کی طرف انتقال کرتا ہے دوسرے علت کے ذریعہ اس کو ثابت کرتا ہے لیکن یہ دوسرا حکم بھی پہلے حکم کے مساوی، مقصد وہی ہوتا ہے، ثابت پہلے ہی حکم کو کرنا ہے اور چوتھی صورت یہ کہ ایک علت سے دوسرے علت کی طرف انتقال کرتا ہے تاکہ پہلے حکم کو ثابت کرے، نہ کہ پہلے علت کو اور یہ چوتھی صورت کہتے ہیں جائز نہیں بھئی۔ لأن الانتقال إنما جوز، اس لیے کیونکہ انتقال جو ہے اس کو جائز قرار دیا گیا ہے، ليكون مقاطع البحث في مجلس المناظرة، بھئی دیکھیے، یہ باتیں مناظرے کی بحث چل رہی ہے کہ کس طرح علتوں کو رد کیا جائے گا اور پھر کس طرح سائل، معلل پھر جواب دے گا اس کا بھئی، کس طرح ثابت کرے گا۔ تو بتلا رہے ہیں کہ یہ جو انتقال، جو تین قسم کے انتقال جائز ہیں، چوتھے قسم کا انتقال جائز نہیں، وجہ یہ ہے کہ مناظرہ جو ہوتا ہے مناظرہ، وہ حق تک پہنچنے کے لیے ہوتا ہے تاکہ حق واضح ہو جائے، ہر ایک دلیل ذکر کرے گا تو کیا بات، حق کیا ہو جائے گا؟ واضح ہو جائے گا اور حق اسی مجلسِ مناظرہ ہی میں واضح ہو، بھئی، اسی میں واضح ہونا چاہیے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اگر ایک علت سے دوسرے علت کی طرف انتقال کو جائز قرار دے دیا جائے، حکم وہ پہلا ہی ثابت کرنا ہے اور انتقال کس کی طرف؟ دوسرے علت کی طرف، تو علت تو دلیل ہوا کرتی ہے حکم پر، کیا ہوتی ہے؟ دلیل ہوتی ہے۔ تو اگر اس کی اجازت دے دی جائے پھر تو اس صورت میں حق کبھی بھی واضح نہیں ہوگا مجلس کے اندر بھئی۔ حق کبھی بھی واضح نہیں ہوگا۔ وجہ یہ کیونکہ دلیلیں تو لا متناہی ہیں، علتیں تو لا متناہی ہیں، اوصاف تو لا متناہی ہوتے ہیں بھئی۔ تو اگر ایک علت سے دوسری علت کی طرف انتقال کو جائز قرار دے دیا جائے تو یوں کہنا پڑے گا... تو علتیں ہوئیں لا متناہی، یوں کہیں دلیلیں کیا ہو گئیں؟ لا متناہی۔ جب لا متناہی دلیلیں ہوئیں تو کبھی بھی وہاں پر حق واضح نہیں ہوگا۔ ایک دلیل سے وہ دوسری کی طرف انتقال کرے گا، پھر دوسری سے کس کی طرف انتقال کر جائے گا؟ تیسری کی طرف، تیسری سے چوتھی کی طرف اور وہ سلسلہ چلتا ہی رہے گا، حق تو کبھی بھی واضح نہیں ہوگا۔ لہذا ایک علت سے دوسری علت کی طرف انتقال پہلے ہی حکم کو ثابت کرنے کے لیے یہ جائز نہیں۔ کہتے ہیں: "لِأَنَّ الْاِنْتِقَالَ إِنَّمَا جُوِّزَ لِيَكُونَ مَقَاطِعُ الْبَحْثِ فِي مَجْلِسِ الْمُنَاظَرَةِ" کہ یہ انتقال جو ہے اس کو جائز قرار دیا گیا تاکہ بحث کا مقاطع... بحث کے قطع کرنے کی جگہ، یعنی بحث کو ختم کرنے کی جگہ "فِي مَجْلِسِ الْمُنَاظَرَةِ" کہاں پر ہو؟ مجلس مناظرہ ہی میں ہو۔ "وَلَا يَتِمُّ ذٰلِكَ فِي الرَّابِعِ" اور یہ صورت پوری نہیں ہوتی چوتھی میں... میں صورت میں، "لِأَنَّ الْعِلَلَ غَيْرُ مُتَنَاهِيَةٍ فِي نَفْسِ الْأَمْرِ" اس لیے کیونکہ علتیں تو لا متناہی ہیں نفس الامر میں یعنی واقعہ کے اندر۔ "فَلَوْ جَوَّزْنَا الْاِنْتِقَالَ إِلَى الْعِلَلِ" پس اگر ہم جائز قرار دے دیں اور علتوں کی طرف انتقال کو "لِأَجْلِ الْحُكْمِ الْأَوَّلِ بِعَيْنِهِ" بعینہ حکمِ اول کے لیے اس کو ثابت کرنے کے لیے "لَتَسَلْسَلَ إِلَى مَا لَا يَتَنَاهَى" تو تسلسل لازم آئے گا کہاں... یہاں تک کہ؟ ما لا يتناهى تک بھئی، لا متناہی تک بھئی۔ "ثُمَّ أَوْرَدَ عَلَى هٰذَا" اس پر اشکال ہوتا ہے بھئی۔ اشکال ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کے سامنے اللہ کے معبود ہونے پر دلیل ذکر کی تھی کہ میرے اللہ معبود ہیں۔ وہ کہتا تھا، نمرود کہتا تھا: "میں معبود ہوں، میں الہ ہوں۔" حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے پاس تشریف لائے، وہ سب سے اپنے لیے سجدہ کرواتا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سجدہ نہیں کیا تو اس نے کہا: "تم نے سجدہ کیوں نہیں کیا؟ تمہاری جرأت کیسے ہوئی میرے سامنے سجدہ نہ کرنے کی؟" حضرت ابراہیم علیہ السلام بھئی ابوالانبیاء، وہ جواب میں فرمانے لگے کہ: "میں اپنے معبود کے سوا کسی اور کو سجدہ نہیں کرتا بھئی۔" کیا عزم اور کیا حوصلہ دیا تھا ایک ظالم و جابر بادشاہ کے سامنے جس کے اشاروں پر گردنیں اڑا دی جاتیں، کوئی پوچھنے والا بھی نہ ہوتا، اس کے سامنے ڈٹ کر جواب دے رہے ہیں کہ: "میں اپنے معبود کے علاوہ کسی کو سجدہ نہیں کرتا۔" اور تو اس نے کہا: "معبود تو میں ہوں، خدا تو میں ہوں!" حضرت ابراہیم علیہ السلام فرمانے لگے کہ: "میرا معبود وہ ہے جو زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے۔" اس نے کہا: "میں ہی زندگی دیتا ہوں اور موت دیتا ہوں۔" چنانچہ حکم دیا 두 قیدیوں کو لے کر آؤ۔ دو قیدیوں کو لایا گیا اس کے سامنے۔ اس نے کہا: "اس ایک کی گردن اڑا دو۔" ایک کو اسی وقت قتل کر دیا گیا، دوسرے کو کہا: "جاؤ، تم آزاد ہو۔" کہنے لگا: "دیکھو، ایک کو میں نے موت دی، ایک کو میں نے زندگی دی۔ میں ہی موت دیتا ہوں اور میں ہی زندگی دیتا ہوں۔" تو اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام فرمانے لگے کہ: "میرا رب جو ہے، میرا پروردگار، سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، مغرب میں غروب کرتا ہے۔ اگر تم معبود ہو تو سورج کو مغرب سے نکال کر دکھاؤ۔" تو اس پر... اس کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، وہ خاموش رہ گیا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ... یہ مناظرہ ہوا۔ اور کہتے ہیں اس مناظرے کے اندر حضرت ابراہیم علیہ السلام جو ہیں، انہوں نے ایک علت سے دوسری علت کی طرف، یا یوں کہو، ایک دلیل سے دوسری دلیل کی طرف انتقال کیا۔ پہلے احیاء اور امانت کو ذکر کیا اور اس کے بعد سورج کے طلوع اور غروب والی دلیل ذکر کر دی بھئی۔ سورج سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو ایک دلیل سے کس کی طرف انتقال کیا؟ دوسری دلیل کی طرف انتقال کیا۔ یہ تو بعینہ وہی چوتھی صورت ہے، اور آپ نے تو کہا چوتھی صورت جائز نہیں مناظرے کے اندر۔ اعتراض سمجھ میں آیا بھئی؟ یہی اب ذکر کریں گے اور اس کا جواب بھی۔ "ثُمَّ أَوْرَدَ عَلَى هٰذَا" پھر اس پر مصنف لے کر آئے یہ اعتراض کہ "أَنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَدِ انْتَقَلَ إِلَى عِلَّةٍ أُخْرَى" وہ منتقل ہوئے دوسری علت کی طرف "لإِثْبَاتِ الْحُكْمِ الْأَوَّلِ" کس کو ثابت کرنے کے لیے؟ پہلے ہی حکم کو ثابت کرنے کے لیے "حَيْثُ حَاجَّهُ النَّمْرُودُ اللَّعِينُ" اس حیثیت سے کہ ان کے ساتھ مباحثہ کیا کس نے؟ نمرودِ لعین نے "لإِثْبَاتِ الْإِلٰهِ" کس لیے؟ الہ کو ثابت کرنے کے لیے۔ "فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ" تو حضرت ابراہیم علیہ السلام فرمانے لگے: "میرا پروردگار وہ ہے جو زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے۔" "قَالَ نَمْرُودُ: أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ" نمرود نے کہا: "میں زندگی دیتا ہوں اور موت دیتا ہوں۔" "فَأَمَرَ بِإِطْلَاقِ أَحَدِ الْمَسْجُونَيْنِ وَقَتْلِ الْآخَرِ" پس اس نے حکم دیا دو قیدیوں میں سے ایک کے اطلاق یعنی آزاد کرنے کا اور دوسرے کے قتل کرنے کا کہ دیکھو میں زندگی دیتا ہوں اور موت دیتا ہوں۔ "فَانْتَقَلَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لإِثْبَاتِ الْإِلٰهِ إِلَى عِلَّةٍ أُخْرَى وَقَالَ:" پس منتقل ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام الہ کو ثابت کرنے کے لیے دوسری علت کی طرف اور فرمایا: "فَإِنَّ اللّٰهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ" کہ یقیناً اللہ تعالیٰ لے کر آتے ہیں سورج کو مشرق سے "فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ" پس تو لے آؤ اس کو مغرب سے "فَبُهِتَ نَمْرُودُ" تو نمرود حیران رہ گیا بھئی۔ "بُهِتَ" کے معنی ہوتے ہیں حیران لاجواب ہو کر حیران رہ جانا، خاموش رہ جانا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یا یوں با محاورہ ترجمہ کر لیں "فَبُهِتَ نَمْرُودُ" تو نمرود ہکا بکا رہ گیا "وَسَكَتَ" اور خاموش ہوا "فَأَجَابَ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللّٰهُ عَنْهُ بِقَوْلِهِ" تو جواب دیا مصنف رحمہ اللہ نے اس اعتراض سے اپنے اس قول کے ساتھ... یہ اعتراض تھا نا کہ انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تو ایک دلیل سے دوسری دلیل کی طرف انتقال یا ایک علت سے دوسری علت کی طرف انتقال کیا، تو مصنف نے جواب دیا کہ "وَمُحَاجَّةُ الْخَلِيلِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مَعَ اللَّعِينِ لَيْسَتْ مِنْ هٰذَا الْقَبِيلِ" اور حضرت خلیل علیہ الصلاة والسلام کے جو مناظرہ تھا اور بحث تھی اس لعین کے ساتھ وہ اس قبیل سے یعنی چوتھی قسم میں سے نہیں ہے "لِأَنَّ الْحُجَّةَ الْأُولَى كَانَتْ لَازِمَةً حَقَّةً" اس لیے کیونکہ ان کی پہلی دلیل جو تھی وہ لازم تھی، حق تھی یعنی وہ اس سے... وہ اس پر اعتراض کیا ہوا تھا؟ ثابت ہو جاتا تھا۔ جو وہ کہہ رہا تھا کہ "میں الہ ہوں"، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ تم الہ نہیں، تو ان کا... ان کا جو ان کی دلیل تھی وہ اس پر الزام ثابت کرنے والی تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دلیل الزام ثابت کرنے والی تھی حقاً اور برحق تھی، درست تھی، ٹھیک تھی۔ "وَلٰكِنْ لَمْ يَفْهَمِ اللَّعِينُ مُرَادَهَا" لیکن وہ لعین ان کی مراد کو نہیں سمجھا بھئی۔ اس حجت کی مراد کو نہیں سمجھا "فَسَاغَ لِلْخَلِيلِ أَنْ يَقُولَ" تو گنجائش تھی حضرت خلیل علیہ الصلاة والسلام کے لیے کہ وہ یوں کہتے... وہ یوں کہہ سکتے، ان کی دلیل تو ٹھیک تھی لیکن وہ اس کو سمجھ میں نہیں آئی، تو وہ کہہ سکتے تھے: "هٰذَا لَيْسَ بِإِحْيَاءٍ وَإِمَاتَةٍ" یہ تو جو تم نے قتل کیا اور آزاد کیا، یہ کوئی احیاء اور اماتت نہیں، یہ زندگی اور موت دینا نہیں۔ "بَلْ إِطْلَاقٌ وَقَتْلٌ" بلکہ یہ کیا ہے؟ اطلاق اور... آزاد کرنا اور قتل کرنا ہے۔ میں تو بات کر رہا ہوں زندگی اور موت دینے کی اور تم نے جس کو زندگی اور موت دینا کہا، یہ زندگی اور موت دینا نہیں بلکہ آزاد کرنا اور قتل کرنا ہے۔ "وَعَلَيْكَ أَنْ تُمِيتَ الْحَيَّ" اور تجھ پر لازم ہے کہ تو کیا کرے؟ زندہ کو موت دے "بِقَبْضِ الرُّوحِ مِنْ غَيْرِ إِلَاهٍ" اس کی روح قبض کرتے ہوئے بغیر معبود کے۔ موت تو یہ ہے کہ بغیر کسی واسطے کے تم خود کیا کرو؟ اس کی روح قبض کرو، یہ ہے موت۔ یہ جو تم نے گردن اڑائی قیدی کی، یہ تو قتل ہے۔ یہ موت دینا نہیں، موت دینا تو کیا ہے کہ بغیر کسی واسطے کے تم خود کیا کرو؟ اس کی روح قبض کرو۔ اور احیاء جو تم نے آزاد کیا، وہ تو آزاد کرنا ہے، زندگی دینا نہیں۔ زندگی دینا تو یہ ہے کہ اس کی روح قبض کر لی، نکال لی اور پھر اس روح کو واپس ڈالو تو پھر یہ ہے زندگی دینا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ "وَتُحْيِيَ الْمَوْتَى" اور یہ کہ تجھ پر لازم ہے "وَتُحْيِيَ الْمَوْتَى"... اس کا عطف "تُمِيتَ" پر ہے... اور یہ کہ تو مردوں کو زندہ کرے "بِإِعَادَةِ الْحَيَاةِ فِيهِمْ" ان میں زندگی کو واپس لوٹاتے ہوئے۔ موت دینے کا کیا معنی؟ کہ تو خود ان کی روح قبض کر، اور زندگی دینے کا کیا معنی؟ کہ پھر ان میں ان کی روح لوٹا دے، تو پھر تسلیم ہو گی تمہاری بات۔ یہاں تک یہ بیان کیا کہ ابراہیم علیہ السلام کی دلیل حق تھی، درست تھی، اس پہ اعتراض لازم ہو جاتا تھا نمرود پہ۔ لیکن وہ چونکہ آپ کی دلیل کو سمجھ نہ سکا، اس وجہ سے آپ کس کی طرف منتقل ہوئے؟ دوسری دلیل کی طرف اس وجہ سے منتقل ہوئے، ورنہ پہلی ہی دلیل سے بات واضح ہو گئی تھی بھئی، لیکن وہ اس کو سمجھ نہیں سکا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ "إِلَّا أَنَّهُ انْتَقَلَ دَفْعًا لِلِاشْتِبَاهِ مِنَ الْجُهَّالِ" مگر یہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام منتقل ہوئے "دَفْعًا لِلِاشْتِبَاهِ مِنَ الْجُهَّالِ" ان جاہلوں سے اشتباہ کو دور کرنے کے لیے۔ نمرود نے تو لوگوں کے سامنے، درباریوں کے سامنے کہا: "دیکھو، میں زندگی بھی دیتا ہوں اور موت بھی دیتا ہوں۔" تو لیکن وہ سارے جاہل تھے، ان پر... ان کو یہ بھی نہیں پتا تھا کہ یہ زندگی اور موت دینا نہیں بلکہ یہ تو اطلاق اور قتل ہے۔ تو لہذا اس وجہ سے اس اشتباہ کو ان جاہلوں سے دور کرنے کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام منتقل ہوئے دوسری دلیل کی طرف۔ "فَإِنَّهُمْ كَانُوا أَصْحَابَ الظَّوَاهِرِ" اس لیے کیونکہ وہ اصحابِ ظواہر، ظاہر پر دیکھنے والے تھے، ظاہر کے اعتبار سے اس نے ایک کو کیا کیا تھا؟ آزاد کر کے زندگی گویا بخش دی تھی اور قتل کر کے اس کو موت دے دی تھی۔ تو وہ اصحابِ ظواہر تھے، ظاہر کو دیکھنے والے تھے، "لَا يَتَأَمَّلُونَ فِي حَقَائِقِ الْمَعَانِي الدَّقِيقَةِ" وہ غور و فکر کرنے والے نہیں تھے گہرے معانی کی حقائق کے اندر بھئی، "فِي حَقَائِقِ الْمَعَانِي الدَّقِيقَةِ" دقیق اور باریک، گہرے معانی کی حقیقتوں میں وہ غور کرنے والے نہیں تھے، وہ صرف ظاہر کو دیکھنے والے تھے۔ "فَضَمَّ إِلَيْهَا الْحُجَّةَ الظَّاهِرَةَ" تو ملایا اس کے ساتھ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک ظاہری دلیل کو، جب وہ صرف ظاہر کو سمجھنے والے تھے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی ایک ظاہری دلیل لے کر آئے۔ "بِلَا اشْتِبَاهٍ" جو بغیر کسی اشتباہ کے ہو "لِيَنْقَطِعَ مَجْلِسُ الْمُنَاظَرَةِ" تاکہ ختم ہو مناظرے کی مجلس "وَيَعْتَرِفُونَ بِالْعَجْزِ" اور وہ عجز کا اعتراف کر لیں۔ اس لیے انہوں نے کیا کیا؟ دوسری دلیل کی طرف انتقال کیا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہ نہیں سمجھ میں آئی؟ آ گئی۔ جی، اور مزید یاد رکھیے۔ تو گویا خلاصہ یہ ہوا ان کے جواب کا کہ ابراہیم علیہ السلام واقعی ایک دلیل سے دوسری دلیل کی طرف منتقل ہوئے تھے، لیکن وجہ اس کی یہ تھی کہ وہ لوگ اصحابِ ظواہر تھے، ظاہری بات کو سمجھتے تھے، گہری بات کو نہیں سمجھتے تھے، چنانچہ وہ بھی ایک ظاہری دلیل کی طرف منتقل ہوئے جو سب کو سمجھ میں آئے کہ بھئی میرا پروردگار تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے اور مغرب میں غروب کرتا ہے، تو تم بھی کیا کرو؟ تم اگر الہ ہو تو اس کو مغرب سے واپس لوٹا کر دکھاؤ۔ یہ بات تو سب کی سمجھ میں آ سکتی تھی، چنانچہ اس لیے اس کی طرف انتقال کیا۔ تو پہلی دلیل کو چھوڑ کر کس کی طرف منتقل ہوئے؟ دوسری دلیل کی طرف۔ یہ تو ایک جواب ہوا۔ جبکہ بعض نے یہ جواب دیا کہ یہاں ابراہیم علیہ السلام دوسری دلیل کی طرف منتقل ہی نہیں ہوئے۔ بعض کبار علماء نے، بڑے علماء نے، محققین نے یہ جواب دیا کہ یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام پہلی دلیل سے دوسری دلیل کی طرف منتقل ہی نہیں ہوئے، یہ وہی پہلی دلیل ہے۔ صورتیں الگ الگ ہیں، ہے وہی دلیل، صرف کیا ہے؟ صورت الگ الگ ہے۔ کس طرح بھئی وہی دلیل ہے اور صورت الگ الگ ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے احیاء اور اماتت کو پہلے ذکر کیا تھا، پہلی دلیل میں کیا ذکر کیا تھا؟ احیاء اور اماتت، اور احیاء کا کیا معنی تھا؟ کہ روح کو واپس لوٹایا جائے کس کی طرف؟ بدن کی طرف۔ احیاء کا کیا معنی؟ اماتت کا معنی روح کو قبض کر لینا، اور احیاء کا کیا معنی؟ وہ جو روح قبض کی ہے اس کو واپس بدن میں ڈالا جائے۔ تو جس طرح یہ بدن ہے اور اس کی ایک روح ہے، اسی طرح یہ جو دنیا ہے، سورج اس کی روح ہے، سورج کے ذریعے اس میں روشنی ہوتی ہے، زندگی کی حرکت ہوتی ہے۔ تو یہ دنیا ہوئی... دنیا ہے بدن، جیسے ایک بدن ہے اور ایک روح، اسی طرح یہ دنیا بھی کس کی طرح ہے؟ بدن کی طرح، اور اس کی روح کیا ہے؟ سورج ہے۔ تو لہذا... تو یہ وہی دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ جس طرح اگر تم احیاء اور اماتت پر کر سکتے ہو، تو یہ دنیا کی جو روح سورج ہے، یہ جب ڈوب جائے، جب روح نکل گئی، سورج ڈوب گیا تو روح نکل گئی، تم پھر اس کے اندر روح واپس ڈالو، احیاء کر کے دکھاؤ، سورج کو واپس نکال کے دکھاؤ بھئی مغرب سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ وہی دلیل ہے، دلیل ایک ہی، صورتیں صرف الگ الگ۔ یہاں احیاء کیا تھا؟ روح کو واپس اس مردہ بدن میں ڈالو، اور وہاں پر احیاء کیا ہے؟ وہ جو سورج، وہ جو روح ڈوب گئی تھی، جو نکل گئی تھی، اس کو واپس لوٹا دو اس بدن کی طرف، مغرب سے نکال کر دکھاؤ بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یہ دلیل... کہتے ہیں یہ دلیل ایک ہی ہے، صورتیں صرف الگ الگ ہیں بھئی، تو یہاں یہ ابراہیم علیہ السلام دوسری دلیل کی طرف سے سرے سے منتقل ہی نہیں ہوئے، اسی دلیل کو دوسرے رنگ میں انہوں نے ذکر کر دیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، ہٰذا ہو المرام والله اعلم بحقیقة الکلام۔
84 approved lectures · 79 of 84