Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-125

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 12 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 5
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔125 وبقوة ثباته أي ثبات الوصف على الحكم المشهود به بكون وصفه ألزم للحكم المتعلق به من وصف القياس الآخر. كقولنا في صوم رمضان إنه متعين من جانب الله تعالى، فلا يجب التعين على العبد في النية، أولى من قولهم: صوم فرض، فيجب تعيين النية. بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ وہ چیزیں جن کے ذریعہ دو قياسوں میں سے ایک کو دوسرے پر ترجیح دی جائے گی وہ چار چیزیں ہیں۔ پہلی چیز بیان ہوئی تھی کہ وہ قوت اثر ہے۔ قوت اثر کے ذریعہ ایک قياس کو دوسرے پر ترجیح دی جائے گی بھئی۔ جیسے کہ استحسان آئے کس کے مقابلے میں؟ قياس کے مقابلے میں۔ تو استحسان جو ہے وہ قوي الاثر ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں قياس جلی ضعيف الاثر ہے اور تو اعتبار قوت اثر کا ہے، تو لہذا استحسان کو ترجیح ہوگی بھئی۔ تو چار چیزیں ترجیح جن کے ذریعہ دی جاتی ہے ان میں سے پہلی بیان ہوئی وہ کیا ہے؟ قوت اثر۔ جی اب دوسری بیان کر رہے ہیں: وبقوة ثباته أي ثبات الوصف، ضمیر کا مرجع بتلا دیا شارح نے کہ ها ضمیر جو ثبات کے ساتھ جڑی ہوئی ہے یہ کس کو راجع ہے؟ وصف کو۔ اور وصف سے کیا مراد ہے؟ علت مراد ہے۔ تو وبقوة ثبات الوصف ثبات بھئی، ثبات جو ہے اس کا معنی ہے جمنا، کسی چیز کے ساتھ رہنا، ٹھہرنا بھئی۔ ایک چیز کا دوسری چیز کے ساتھ رہنا، جمنا، اس کے ساتھ رہنا بھئی۔ مثلاً بھئی ایک علت ہے، ایک ہے اس کا حکم۔ تو یہ مثلاً ایک علت جو ہے اس کا جماؤ اپنے حکم کے ساتھ زیادہ ہے اور دوسری علت کا ٹھہراؤ اپنے حکم کے ساتھ زیادہ نہیں۔ تو پھر جس کا ٹھہراؤ اپنے حکم کے ساتھ زیادہ ہے اس علت کو ترجیح ہوگی، یعنی اس قياس کو ترجیح ہوگی۔ مثلاً ایک قياس ہے اس کے اندر جو علت بیان کی گئی ہے، 10 جگہ وہ حکم آتا ہے 10 کی 10 جگہ وہ علت بھی پائی جا رہی ہے۔ اور دوسرے قياس میں جو علت بیان کی گئی ہے، فرض کرو اس کی 10 جگہیں ہیں جہاں پر وہ حکم آتا ہے لیکن 10 میں سے صرف 8 جگہ وہ علت پائی جا رہی ہے۔ تو ایک علت ایسی ہے جس کا ٹھہراؤ حکم کے ساتھ زیادہ ہے، جہاں جہاں حکم آتا ہے وہ علت بھی ہمیں ملتی ہے۔ اور ایک علت کا جماؤ اپنے حکم کے ساتھ کم ہے کہ جہاں جہاں حکم آتا ہے ہر جگہ پر علت نہیں پائی جاتی، اکثر جگہ پائی جاتی ہے۔ تو لازمی بات ہے جس علت کا ٹھہراؤ اپنے حکم کے ساتھ زیادہ ہے اس کو اس قياس کو ترجیح ہوگی بھئی، اس قياس کو کیا ہوگی؟ ترجیح۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ ہے قوت ثبات کا معنی۔ على الحكم المشهود به، اس حکم پر المشهود به جس پر وہ وصف گواہی دے رہا ہے۔ بھئی دیکھئے یہ جو علت ہوتی ہے یہ حکم پر گواہی دینے والی ہے، تو علت ہوئی شاہد، علت کیا ہوئی؟ شاہد۔ اور کس پر گواہی دیتی ہے؟ حکم پر، تو حکم ہوا مشہود بہ۔ حکم کیا ہوا؟ مشہود بہ۔ مثلاً دیکھئے شراب کے اندر شراب حرام ہے، علت اس کی نکالی غور کیا تو پتہ چلا اس میں نشہ ہے اس وجہ سے حرام ہے۔ یہی نشے والی علت ہمیں بھنگ کے اندر بھی ملی۔ تو بھنگ کے اندر اس علت نے گواہی دی کہ یہاں بھی وہی حکم ہونا چاہئے۔ تو علت کیا ہوئی؟ شاہد۔ اور کس چیز کی گواہی دی علت نے؟ وہی حکم یہاں ہونا چاہئے، یعنی اس کو بھی حرام ہونا چاہئے، تو یہ حکم ہوا مشہود بہ۔ تو یہ حکم علت کے ذریعہ ثابت ہوتا ہے، علت اس کی گواہی دیتی ہے، تو علت ہوئی شاہد اور وہ حکم کیا ہوا؟ مشہود بہ۔ تو اب دیکھئے متن پر نظر رکھئے، ترجمہ بھئی: وبقوة ثباته على الحكم المشهود به، وہ حکم جس پر گواہی دی گئی ہے اس پر وصف کے جماؤ کی قوت کے ذریعہ۔ ترجمہ پھر سے کر رہا ہوں بھئی: وہ حکم جس پر گواہی دی ہے اس کے ساتھ وصف کے جماؤ کی قوت کے ذریعہ، یہ ہے ترجیح کی دوسری وجہ۔ ایک ترجیح کی وجہ کیا ذکر کی تھی؟ بقوة الأثر، ترجیح دی جائے گی کس کی وجہ سے؟ قوت اثر۔ دوسری وجہ ذکر کی: وبقوة ثباته على الحكم المشهود به، کہ ترجیح دی جائے گی اس حکم پر وہ حکم جس کی گواہی دی گئی ہے اس پر وصف کے جماؤ کی قوت کے ذریعہ، یعنی جس کا جماؤ ٹھہراؤ حکم کے ساتھ زیادہ ہوگا اس کو ترجیح ہوگی۔ بكون وصفه ألزم للحكم، صورت بتلا رہے ہیں کس طرح وصف کا حکم مشہود بہ پر زیادہ جماؤ کس طرح ہوگا؟ کہتے ہیں بعینہٖ صورت کہ بكون وصفه ألزم للحكم کہ وہ وصف جو ہے یعنی وہ علت جو ہے، وصفہ کے ها ضمیر قياس کو راجع کریں کہ بكون وصفه کہ اس قياس کی جو علت ہے، ایک قياس کی جو علت ہے ألزم للحكم وہ اپنے حکم کے ساتھ زیادہ لازم ہے، اس کے ساتھ رہنے والی ہے، ہر وقت اس کے ساتھ رہتی ہے۔ بكون وصفه ألزم للحكم بعینہٖ صورت کہ اس ایک قياس کا وصف جو ہے وہ زیادہ لازم ہے للحكم کس کے ساتھ؟ اپنے حکم کے ساتھ۔ آگے آ رہا ہے: من وصف القياس الآخر، دوسرے قياس کے وصف کے مقابلے میں۔ یہ 'من' یہ متعلق ہے 'ألزم' سے کہ ایک قياس کا وصف وہ زیادہ لازم ہے من وصف القياس الآخر دوسرے قياس کے وصف کے مقابلے میں۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اور درمیان میں للحكم کے بعد حکم کی صفت آئی تھی: المتعلق به، بكون وصفه ألزم للحكم المتعلق به کہ ایک قياس کا وصف جو ہے وہ زیادہ لازم ہے اس حکم کے ساتھ المتعلق به جو اس علت کے ساتھ، اس وصف کے ساتھ متعلق ہے۔ علت اور وصف کیا ہوتا ہے؟ اپنے حکم سے متعلق ہوتی ہے نا، اسی کے ذریعہ اس کا حکم آتا ہے۔ تو ایک قياس کا وصف ترجمے پہ نظر رکھیں: بكون وصفه کہ ایک قياس کا وصف جو ہے وہ زیادہ لازم ہے اس حکم کے ساتھ جو اس وصف کے ساتھ متعلق ہے مقابلے میں دوسرے قياس کے وصف کے مقابلے میں۔ عبارت اچھی طرح حل ہوگئی بھئی؟ تو یعنی کہ ایک قياس جو ہے وہ اپنے حکم کے ساتھ زیادہ لازم ہے دوسرے قياس کے وصف کے مقابلے میں۔ كقولنا، جیسے کہ ہمارا قول في صوم رمضان، رمضان کے روزے کے بارے میں۔ کیا ہمارا قول ہے؟ کہ إنه متعين من جانب الله تعالى. بھئی دیکھئے یہ اختلاف پہلے بھی بیان ہو چکا۔ رمضان کے روزے اللہ کی طرف سے متعین ہیں کہ اسی مہینے میں رکھنے ہیں، تو رمضان کا وقت رمضان کے روزوں کے لئے متعین ہے لہذا ہمارے نزدیک اب دوبارہ بندے کو تعین کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ رمضان میں مطلق روزے کی نیت کر لے تو کافی ہے اور یہ روزہ رمضان ہی کا ہوگا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ فرض روزہ ہے، لہذا اس کے اندر تعيين نیت ضروری ہے بھئی۔ تو صرف مطلق روزے سے رمضان کا روزہ ادا نہیں ہوگا بلکہ کیا نیت کرنا پڑے گی؟ کہ میں رمضان کا روزہ رکھتا ہوں، تو پھر رمضان کا روزہ ادا ہوگا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو انہوں نے علت کیا ذکر کی؟ فرض ہونا، اور حکم ذکر کیا تعيين نیت، کہ رمضان کا روزہ فرض ہے لہذا تعيين نیت ضروری۔ تو فرض ہونا ہوئی علت اور تعيين نیت اس کا حکم۔ علت کیا ہوئی؟ فرض ہونا، اور حکم کیا ہوا؟ تعيين نیت۔ تو وہ کہتے ہیں یہ روزہ فرض ہے اور جب فرض ہے، فرض ہونے کی علت آگئی تو جب علت آگئی تو حکم آگیا اور وہ کیا؟ تعيين نیت۔ ہم اس کے مقابلے میں کیا کہتے ہیں کہ یہاں پر ٹھیک ہے، تعین چاہئے لیکن تعین ایک ہی دفعہ چاہئے اور وہ تعین کس کی طرف سے آچکی؟ شارع کی طرف سے، شریعت کی طرف سے وہ تعین آچکی، تو یہ متعین ہے۔ تو جب تعین ہو تو پھر تعيين نیت کی ضرورت نہیں، جب ایک دفعہ تعین ہوچکا تو دوبارہ تعيين نیت کی ضرورت نہیں۔ تو ان کی علت کیا تھی؟ فرض ہونا، اور حکم کیا تھا؟ تعيين نیت۔ اور ہماری علت ہے تعین، ہماری علت کیا ہے؟ جب ایک دفعہ تعین ہوچکا تو پھر عدم تعین اس کا حکم ہے، پھر تعین کی ضرورت نہیں۔ تو ہماری علت کیا ہوئی؟ تعین، اور حکم کیا ہوا؟ عدم تعین۔ ان کی علت ہوئی فرض ہونا، اور حکم کیا ہے؟ تعيين نیت۔ ہماری علت ہوئی تعین کہ یہ متعین ہے، اور حکم کیا ہے؟ عدم تعین، جب تعین ہے تو تعین کی ضرورت نہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہی بیان کر رہے ہیں کہ جیسے ہمارا قول ہے رمضان کے روزے میں: إنه متعين من جانب الله تعالى کہ یہ متعین ہے اللہ کی طرف سے، فلا يجب التعين على العبد في النية، تو بندے پر نیت میں اس کی تعین ضروری نہیں، واجب نہیں ہے بندے پر اس کی تعین بھئی نیت میں۔ تو ہمارا یہ جو قول ہے رمضان کے روزے کے بارے میں کہ إنه متعين، یہ متعین ہے، ہمارا یہ قول أولى، یہ اولیٰ ہے من قولهم، شوافع کے قول کے مقابلے میں۔ ان کا کیا قول ہے؟ کہ صوم فرض، کہ یہ رمضان کا روزہ فرض روزہ ہے، فيجب تعيين النية، تو اس میں تعيين نیت واجب ہے۔ تو ہمارا قول ان کے قول کے مقابلے میں اولیٰ ہے بھئی، کیونکہ ہمارا جو وصف ہے، ہماری جو علت ہے اس میں ثبات زیادہ ہے، اس میں ثبات زیادہ ہے بھئی، وہ کس طرح؟ آگے بیان کریں گے۔ فيجب تعيين النية فيه، تو اس کے اندر یعنی رمضان کے روزے کے اندر بھی تعيين نیت واجب ہے كصوم القضاء، جیسے کس کے اندر؟ قضا روزے کے اندر بھئی، وہاں جیسے تعین، یہ شوافع کی بات چل رہی ہے، وہ کہتے ہیں جیسے صوم قضا کے اندر تعيين نیت ضروری ہے اور وہ صوم فرض تھا، تو اسی طرح رمضان کا روزہ جو ہے یہ بھی صوم فرض ہے لہذا یہاں بھی تعيين نیت ضروری ہے۔ تو ہمارا قول اولیٰ ہے، کیوں اولیٰ ہے؟ علت ذکر کر رہے ہیں متن میں: لأن هذا، کیونکہ یہ جو ہے، بھئی ھذا سے کس کی طرف اشارہ ہے؟ شارح مشار الیہ بتلا رہے ہیں: أي وصف الفرضية الذي، یہ جو فرضیت کا وصف ہے جو کہ الذي أورده الشافعي، جس کو کون لے کر آئے ہیں؟ امام شافعی رحمہ اللہ لے کر آئے ہیں مخصوص في الصوم، کس کے ساتھ مخصوص ہے؟ یہ روزے کے ساتھ ہی مخصوص ہے اور اسی طرح یاد رکھئے نماز کے ساتھ مخصوص ہے بخلاف التعين، بخلاف کس کے؟ تعین کے، الذي أوردناه، جس کو ہم لے کر آئے۔ بھئی ہم کیا لے کر آئے تھے؟ ہماری علت کیا تھی؟ تعین، تو یاد رکھئے یہ تعین جو لفظ آیا متن میں یہ بمعنیٰ تعین کے ہے، یہ تعین کس معنیٰ میں ہے؟ تعین کے معنیٰ میں ہے، یعنی سبب بول کر مسبب مراد ہے۔ سبب بول کر؟ جب تعین کریں گے تو متعین ہو جائے گا یا نہیں؟ جب تعین کریں گے تو؟ تو تعین کریں گے تو تعین آ جائے گا، تو تعین ہوئی سبب اور تعین ہوا مسبب، تو سبب بول کر یہاں کیا مراد ہے؟ مسبب مراد ہے۔ بخلاف التعين بخلاف اس تعین کے الذي أوردناه، جس کو ہم لے کر آئے ہیں فقد تعدّى إلى الودائع والمغصوب، ہے آپ کی کتابوں میں؟ والمغصوب، یہ مغصوب بھئی کتابت کی غلطی ہے، یہ وصف جو ہے متعدی ہوتا ہے ودائع جمع ہے ودیعت کی، امانت کو کہتے ہیں بھئی، کس کو کہتے ہیں؟ امانت کو۔ والمغصوب، جس چیز کو غصب کیا گیا ہو ورد المبيع في البيع الفاسد، اور مبیع کو لوٹانا بیع فاسد میں۔ دیکھئے متن میں انہوں نے کیا کہا؟ کیونکہ یہ جو وصف ہے، یہ جو فرضیت والا وصف ہے جس کو امام شافعی رحمہ اللہ لے کر آئے ہیں یہ روزے اور نماز کے ساتھ مخصوص ہے، جبکہ وہ وصف جس کو ہم لے کر آئے یعنی تعین، یہ متعدی ہوتا ہے امانتوں کی طرف بھی، مغصوب شئے کی طرف بھی اور وہ مبیع جس کی بیع کی گئی ہو بیع فاسد بھئی، اس کے ان کے لوٹانے کی طرف بھی یہ وصف متعدی ہوتا ہے۔ کس طرح؟ دیکھئے بھئی! یہ جو امانت ہے، کوئی شخص آپ کے پاس کوئی چیز امانتاً رکھوائے تو آپ پر واجب ہے یا واجب نہیں امانت کو واپس کرنا؟ واجب ہے، آپ پر فرض ہے امانت واپس لوٹانا، تو امانت کا واپس لوٹانا بھی فرض۔ اسی طرح کوئی شخص کسی کی چیز چھین کر یا اٹھا کر لے جائے تو یہ غصب ہے، اور مغصوب شئے کو مالک کو واپس لوٹانا فرض ہے یا فرض نہیں ہے؟ یہ بھی فرض ہے۔ اسی طرح بیع فاسد کرے کوئی شخص تو مبیع آپ نے پڑھا ہے کہ اس کو توڑنا واجب ہے، مبیع واپس کیا جائے کس کو؟ مالک کو۔ تو لہذا یہ بھی کیا ہے؟ بیع فاسد کے ساتھ جو مبیع آیا ہے اس کو واپس لوٹانا بھی فرض ہے۔ تو دیکھو یہ تینوں چیزیں امانتوں کا لوٹانا، مغصوب شئے کا لوٹانا اور مبیع کو لوٹانا بیع فاسد میں یہ سب فرض ہیں، یہ سب کیا ہیں؟ تو دیکھو فرض ہونے کی علت آگئی، امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا علت ذکر کی تھی؟ فرض ہونے کی، کیا علت ذکر کی تھی؟ فرض ہونے کی علت ذکر اور حکم کیا تھا؟ فرض ہونا ہے علت اور تعيين نیت ہے اس کا حکم، تو یہاں پر فرض ہونے کی علت پائی جا رہی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا علت ذکر کی تھی؟ رمضان کے روزے میں تعيين نیت کیوں ضروری ہے؟ کیونکہ وہ فرض ہے، تو فرض ہونا علت اور تعيين نیت اس کا حکم، اور یہی علت یہ امانتوں میں، مغصوب شئے میں اور مبیع کے لوٹانے کے اندر بھی ہے، ان چیزوں کا واپس کرنا بھی فرض ہے۔ لیکن تعيين نیت یہاں ضروری نہیں۔ کیونکہ تعيين نیت وہاں ضرورت ہوتی ہے جہاں اور چیزوں کا احتمال ہو، یہاں جب ایک چیز دوسرے کی غصب کی ہے تو کس اعتبار سے جب بھی لوٹائے گا کس اعتبار سے واپسی ہوگی؟ کہ مغصوب شئے ہی لوٹا رہا ہے، جس صورت میں بھی مالک تک وہ چیز پہنچا دے یہ رد کس اعتبار سے ہوگا؟ مغصوب شئے کا لوٹانا ہی ہوگا، امانت جس حالت میں بھی آپ مالک تک پہنچا دیں کیا کون سی صورت ہوگی یہاں؟ کس چیز کا لوٹانا ہوگا؟ امانت ہی کا لوٹانا ہے، بیع فاسد کے ساتھ جس مبیع کو آپ نے لیا ہے اس کو جس صورت میں بھی آپ مالک تک پہنچائیں یہ لوٹانا کس صورت میں ہے؟ مبیع بیع فاسد کے ساتھ آیا تھا اسی کا لوٹانا ہے، تو جس طریقے سے بھی آپ پہنچائیں گے یہ چیزیں امانت، مغصوب اور مبیع بیع الفاسد، اس کو جس صورت میں بھی آپ مالک تک پہنچائیں وہاں اور کوئی احتمال ہے ہی نہیں، یہ رد وہی ہوگا، اگر مغصوب شئے تھی تو یہ رد المغصوب ہی ہے چاہے جو بھی صورت آپ اختیار کر لیں، چاہے آپ جا کر اس کو کہہ دیں یہ میں آپ کو تحفہ دے رہا ہوں، بھئی تحفہ نام دینے سے کیا ہوتا ہے؟ یہ آپ کیا لوٹا رہے ہیں؟ مغصوب شئے ہی لوٹا رہے ہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ امانت دیں گے جو مرضی نام آپ دے دیں، یہ رد الامانت ہی ہے، وہ مبیع لوٹا رہے ہیں تو جو بھی نام دے دیں یہ رد المبیع ہی ہے، یہاں اور کوئی احتمال ہی نہیں۔ اب ان کا لوٹانا تو فرض ہے، اور جہاں بھی فرض ہونے کی علت پائی جائے ان کے نزدیک تعيين نیت ضروری، لیکن یہ چیزیں جو ہیں امانت، غصب شدہ چیز وغیرہ ان کو لوٹاتے ہوئے تعيين نیت کی ضرورت نہیں، تعيين نیت کی ضرورت نہیں کیونکہ اور احتمال ہی نہیں ہے، جس طریقے سے بھی واپس کرو یہ وہی چیز ہے بھئی، یہ رد المغصوب یا رد الودیعت یا رد المبیع ہی ہے اور کچھ نہیں ہے بھئی۔ تو لہذا فرضیت والی علت آگئی ان کی لیکن حکم کیا تھا؟ تعيين نیت کہ بندہ بھی کیا کرے؟ تعین کرے، تعین کی یہاں ضرورت نہیں ہے بھئی۔ جب کہ ہم نے کیا علت بیان کی تھی؟ ہم نے علت بیان کی تھی تعین اور حکم کیا بیان کیا تھا؟ عدم تعین۔ تو ان میں جب تعین ہے تو تعین کی ضرورت نہیں تو ہماری علت یہاں تعین پائی جا رہی ہے اور حکم بھی ہے عدم تعین۔ بندے کو تعین کی کوئی ضرورت نہیں، کسی صورت میں مالک تک یہ چیزیں پہنچا دے، بس ادا ہو جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہذا ان کی علت کا جماؤ اپنے حکم کے ساتھ زیادہ ہوا یا ہماری علت کا جماؤ اپنے حکم کے ساتھ زیادہ ہوا؟ ہماری علت کی، ان کی یہاں پر علت پائی جا رہی ہے اور حکم نہیں ہے اور ہماری علت بھی پائی جا رہی ہے اور حکم بھی پایا جا رہا ہے تو ہماری علت زیادہ ٹھہرنے والی ہے اپنے حکم کے ساتھ۔ تو لہذا ہماری علت کو ترجیح ہو گی، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی دوبارہ متن: کیونکہ یہ جو ہے یعنی یہ فرضیت والا وصف جس کو لے کر آئے امام شافعی رحمہ اللہ، یہ کس کے ساتھ مخصوص ہے؟ روزے کے ساتھ، برخلاف اس تعین کے جس کو ہم لے کر آئے ہیں۔ پس یہ جو ہماری علت ہے، یہ متعدی ہوتی ہے امانتوں کی طرف بھی اور مغصوب چیز کی طرف بھی اور بیع فاسد میں مبیع لوٹانے کی طرف بھی۔ یعنی جب واپس کی امانت مالک کو اور واپس کیا مغصوب چیز کو الیہ یعنی مالک کو یا مبیع فاسد واپس کیا بائع کو جس جہت سے بھی واپس کر دے، جس صورت میں بھی واپس کر دے تو وہ ذمہ سے نکل جائے گا یعنی سبکدوش ہو جائے گا، اس کا ذمہ فارغ ہو جائے گا۔ اور تعین دفع کی شرط نہیں لگائی جائے گی، یعنی حوالے کرنے کے میں تعین کی شرط نہیں لگائی جائے گی کہ باقاعدہ یہ نیت کرے کہ میں مغصوب چیز لوٹا رہا ہوں یا میں امانت لوٹا رہا ہوں، تعین کی ضرورت نہیں۔ پس یہ جو تعین کا ثبات، تعین یہاں پھر وہی تعین سے مراد کیا ہے؟ تعین۔ پس جو تعین کا ثبات ہے، جماؤ ہے اپنے حکم پر، یہ زیادہ قوی ہے کس کے مقابلے میں؟ فرضیت کا جو ثبات ہے اپنے حکم۔ تو تعین کا ثبات اپنے حکم کے ساتھ یہ زیادہ قوی ہے، فرضیت کا ثبات جو ہے اپنے حکم کے ساتھ اس کے مقابلے میں۔ اور اس پر کہا گیا ہے کہ یہ اعتراض وارد ہوتا اگر مقابل کی تعلیل محض فرضیت کے ساتھ ہو، اگر امام شافعی رحمہ اللہ نے تعلیل یعنی علت کیا بیان کی ہے؟ صرف فرضیت بیان کی، پھر تو اپ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ اپ کی علت کا ٹھہراؤ اپنے حکم کے ساتھ زیادہ ہے۔ جب وہ علت صرف کس کو بیان کریں؟ فرضیت کو۔ کیونکہ یہاں پر باقی چیزوں میں فرضیت ہے اور ان کا حکم یعنی تعین نیت نہیں ہے، لیکن اگر وہ علت بیان کر دیں صوم فرض، کیا علت بیان کر دیں؟ کہ اگر وہ صوم فرض بیان کر دیں پھر اس کے ذریعے ان کی علت میں بھی اتنا ہی جماؤ ہو گا جتنا اپ کی علت میں ہے۔ علت کیا وہ ذکر کر دیں؟ صوم فرض۔ اور حکم کیا ذکر کریں؟ تعین نیت۔ تو گویا ان کی علت ہوئی صوم فرض، جہاں بھی فرض روزہ آئے گا، تعین نیت ضروری ان کے نزدیک۔ تو اور یہ علت جہاں بھی پائی جاتی ہے، یہ حکم ہو گا بھئی، جیسے قضا روزہ، قضا روزہ فرض ہے اور وہ تو وہ صوم فرض ہوا، علت آ گئی اور حکم بھی آ گیا بھئی، تعین نیت ضروری۔ منت کا روزہ بھئی، منت کا روزہ فرض ہے اور تو صوم فرض آ گیا، علت ان کی آ گئی اور حکم کیا آیا؟ تعین نیت بھی۔ اسی طرح کفارے کا روزہ فرض ہے اور تو ان کی علت کیا آ گئی؟ صوم فرض آ گئی اور ساتھ حکم بھی آ گیا، کیا؟ تعین نیت۔ تو یہ اگر وہ صوم فرض علت بیان کر دیں تو پھر اس علت کا جماؤ بھی اپنے حکم کے ساتھ بڑا قوی ہے بھئی، لہذا پھر اس صورت میں ترجیح ہماری علت کو ترجیح نہیں ہو سکتی۔ ترجیح صرف اسی صورت میں ہے اگر وہ علت صرف فرض ہونے کو ذکر کریں، اگر صوم فرض کو ذکر کریں پھر ہماری علت کو ترجیح نہیں۔ کہتے ہیں اور اس پر کہا گیا ہے کہ یہ اعتراض اس وقت وارد ہوتا ہے جبکہ مقابل کی تعلیل جو ہے وہ محض فرضیت کے ساتھ ہو یعنی محض فرض ہونے کو اس نے علت بنایا ہو اور باقی اگر مقابل کی تعلیل جو ہے وہ صوم فرض ہو تو مناسب نہیں ہے اس کے مقابلے میں لے کر آنا امانت لوٹانے کے مسئلے کو اور مغصوب اور بیع فاسد کے لوٹانے کے مسئلے کو۔ تو پھر مناسب نہیں ہے کہ اس کے مقابلے میں لایا جائے بیع فاسد، مغصوب اور امانت کے لوٹانے کے مسئلہ کو۔ اور اس قیاس کے اصول کی کثرت کی وجہ سے، یہ تیسری وجہ ترجیح ذکر کر رہے ہیں۔ ایک قیاس کو دوسرے قیاس پر کس وجہ سے ترجیح دی جائے گی؟ پہلی وجہ کیا ذکر کی؟ قوت اثر کی وجہ سے۔ دوسری وجہ کیا ذکر کی؟ قوت ثبات کی وجہ سے۔ اب تیسری وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ اس قیاس کے اصول کی کثرت کی وجہ سے۔ بھئی دیکھیے، اپ نے بھی ایک قیاس کیا، مخالف نے بھی ایک قیاس کیا۔ مخالف کی قیاس میں اصل ایک ہی چیز ہے یعنی مقیس علیہ ایک ہی ہے اور اپ کے قیاس جو ہے اس میں مقیس علیہ یعنی اصل دو یا دو سے زیادہ ہیں۔ دو یا دو سے زیادہ، تو ان کے اصل ہے ایک ہی، ہمارے اصل ہیں دو یا زیادہ، تو ہمارے قیاس کو ترجیح ہو گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہتے ہیں اور اس قیاس کے کثرت اصول کی وجہ سے، جب گواہی دی ایک قیاس کے لیے ایک اصل نے اور دوسرے قیاس کے لیے گواہی دی دو اصلوں نے یا دو سے زیادہ نے، دو اصلوں نے یا کئی اصلوں نے، تو یہ والا جو ہے جس کی دو یا زیادہ اصول ہیں، یہ ترجیح پا جائے گا پہلے قیاس پر جس کے لیے ایک ہی اصل نے گواہی دی تھی اور اصل سے کیا مراد ہے؟ مقیس علیہ مراد ہے اور یہ کثرت ادلہ کی، کثرت ادلہ قیاسیہ کی قبیل سے نہیں ہے بھئی۔ کثرت ادلہ قیاسیہ کی قبیل سے نہیں ہے، یعنی ہم پہلے ضابطہ بیان کر چکے کہ ترجیح جو ہے کثرت دلیل کے ذریعے نہیں بلکہ ترجیح کس کے ذریعے ہو گی؟ قوت دلیل کے ذریعے ہو گی۔ تو یہ جو ہم نے کہا نا کہ ایک قیاس کے اندر اصل کئی ہیں، اس سے یہ نہ سمجھنا یہ کثرت ادلہ کی قبیل سے ہے بلکہ یہ قوت دلیل کی قبیل سے ہے بھئی، ادلہ کی کثرت کی قبیل سے نہیں، اس لیے کہ بھئی دیکھیے آگے بیان کریں گے۔ کہ ایک قیاس مثلاً امام شافعی رحمہ اللہ کرتے ہیں اور ایک قیاس ہم۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسح وضو کے اندر رکن ہے۔ جب مسح رکن ہے تو اس کے اندر بھی تثلیث مسنون ہو گی۔ رکن ہونا ہے علت اور تثلیث اس کا حکم۔ تو مسح بھی رکن، تو لہذا جیسے چہرے کے اندر تین مرتبہ وہ رکن تھا تو اس میں تثلیث مسنون تھی، تین مرتبہ دھویا جائے، تو مسح بھی رکن ہے وضو کا لہذا اس کو بھی کتنی دفعہ کرنا پڑے گا؟ تین مرتبہ کرنا مسنون ہے، مسنون ہے۔ اور ان کے پاس اصل صرف غسل ہی ہے، دھونے، دھونا بھئی جن اعضا کو دھویا جاتا ہے، صرف وہ ہی اصل ہیں، تو انہوں نے ممصوح کو قیاس کیا مغسول پر۔ ممصوح کو کس پر قیاس کیا؟ مغسول۔ مغسول کے اندر تین مرتبہ دھونا سنت تھا تو ممصوح میں بھی وہ کہتے ہیں تین مرتبہ مسح کرنا سنت ہے، تو ان کی اصل صرف ایک ہی چیز ہوئی، وہ کیا؟ مغسول۔ جب کہ ہمارے نزدیک بھئی، ہم نے کہا کہ مسح رأس جو ہے وہ مسح ہے، لہذا اس کی تثلیث مسنون نہیں۔ ہم نے علت ذکر کی مسح ہونا اور حکم کیا ذکر کیا؟ تثلیث مسنون نہیں۔ تو یوں کہیں، ہمارے نزدیک علت ہے مسح ہونا اور حکم ہے عدم تثلیث، حکم کیا ہے؟ عدم تثلیث۔ اور ہمارے اس قیاس کی کئی اصلیں ہیں۔ اس کے لیے مسح خف بھی اصل ہے، موزے پر مسح۔ دیکھو موزے پر مسح یہ کیا ہے؟ مسح ہے۔ علت ہماری پائی گئی اور حکم کیا تھا مسح کا؟ عدم تثلیث، تو موزے کے اندر بھی عدم تثلیث ہے، تین مرتبہ نہیں مسح مسنون بلکہ ایک ہی مرتبہ کیا جاتا ہے مسح۔ اسی طرح بھئی، جو کسی کی ہڈی وغیرہ ٹوٹ جائے اس پر وہ جو پھٹیوں کے ساتھ اس کو اوپر پٹی باندھی جاتی ہے، آج کل یوں کہیں جیسے پلستر ہے، جیسے ایک پرانا طریقہ تھا یہ جو پہلوان وغیرہ کرتے ہیں کہ اوپر وہ لکڑی باندھ دی جاتی ہے تاکہ ہڈی سیدھی رہے اور پھر اوپر پٹی کر دی جاتی ہے۔ تو اس کو جبیرہ کہتے ہیں، وہ جو لکڑی اور پھٹی اوپر باندھی جاتی ہے پٹیوں کے ساتھ، اس کو کیا کہتے تھے؟ جبیرہ۔ اب مسح جبیرہ یہ بھی کیا ہے؟ مسح ہے، تو ہماری علت آ گئی اور حکم کیا؟ عدم، یہاں اب دیکھو یہ بھی اصل ہے ہمارے حکم کے لیے، یہاں پر بھی اسی طرح ہے فقہا نے اسی طرح لکھا۔ اور تیسرا کیا؟ تیمم، تیمم بھی مسح ہے اور اس میں بھی تثلیث مسنون نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ان کے لیے اصل ایک ہی ہے اور ہمارے لیے تین اصلیں ہو گئیں، تو اور تو کثرت اصول کی وجہ سے پھر ترجیح ہوتی ہے بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ یعنی یہ جو ہوتے ہیں نا یہ جو اور اصول، یہ شاہد بن گئے ہمارے دعویٰ پر، کیا بن گئے؟ شاہد بن گئے ہمارے دعویٰ پر۔ شاہد بھئی، اور اس سے دل کو اطمینان ہوتا ہے کہ واقعی بات اسی طرح ہے، دیکھو ان کے ہاں ان کے لیے ایک ہی اصل، ہمارے کے لیے تین اصلیں بیان ہو گئیں، سب جگہ اسی طرح حکم ہے۔ جی، تو یہ کثرت ادلہ کی قبیل سے نہیں ہے۔ کثرت ادلہ، کثرت ادلہ تو تب ہونا جب ایک طرف ایک قیاس ہو اور دوسری طرف دو یا تین قیاس ہو جائیں، یہاں کوئی قیاس زیادہ نہیں ہے، صرف کیا زیادہ ہیں؟ اصل زیادہ ہیں بھئی۔ اگر قیاس ایک طرف زیادہ ہوتے اور پھر ترجیح دے دی جاتی تو پھر اپ کہہ سکتے تھے یہ تو اپ ترجیح دے رہے ہیں کثرت ادلہ کے ذریعے، تو کہتے ہیں اور یہ کثرت ادلہ قیاسیہ کی قبیل سے نہیں ہے۔ ادلہ قیاسیہ کی کثرت کی قبیل سے یہ نہیں ہے یا کسی چیز کے مشابہ ہونے کی وجہوں کی کثرت کی قبیل، یہ آگے تفصیل بھی آ رہی ہے، آگے آ جائے گی لیکن یہی مختصراً سمجھ لیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہمارے نزدیک، ہمارے نزدیک یاد رکھیے کہ بھئی اگر ایک بھئی غلام بن گیا کسی طرح، دوسرے نے اس کو خرید لیا تو خریدتے ہی وہ فوراً اس پر آزاد ہو جائے گا، کیونکہ حدیث میں کیا آیا ہے؟ من ملک ذا رحم محرم منہ فھو حر۔ جو شخص اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنا تو وہ اس پر آزاد ہو جائے گا، تو اب بھئی جو ہے یہ قریبی رشتہ دار بھی ہے اور محرم بھی ہے۔ محرم کس طرح ہے؟ دو بھائیوں میں سے کسی ایک کو بھی اگر مؤنث فرض کیا جائے تو کیا رشتہ بنتا ہے؟ بہن بھئی کا۔ اور بہن بھئی میں تو محرمیت والا رشتہ ہے، کبھی بھی نکاح جائز نہیں، تو قریبی رشتہ دار بھی ہے، محرمیت والا رشتہ بھی ہے تو ہمارے نزدیک وہ بھئی آزاد ہو جائے گا بھئی۔ خریدتے ہی، ایک بھئی نے دوسرے غلام بھئی کو خریدا، خریدتے ہی فوراً کیا ہو جائے گا؟ آزاد۔ جب کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، بھئی نہیں آزاد ہو گا۔ باپ بیٹے کو خریدے، بیٹا آزاد ہو جائے گا، بیٹا باپ کو خریدے، باپ آزاد ہو جائے گا، لیکن بھئی بھئی کو خریدے تو وہ آزاد نہیں، وجہ؟ وجہ اس کی وہ یہ ذکر کرتے ہیں کہ دیکھو، اس بھئی کی مشابہت اس بھئی کی مشابہت والد اور بیٹے کے ساتھ بھی ہے۔ وہ جس طرح محرم ہیں، یہ بھئی بھی کیا ہے؟ محرم۔ تو ان کے ساتھ بھی اس کی مشابہت اور اس بھئی کی مشابہت چچا زاد بھئی کے ساتھ بھی ہے۔ وہ بھی قریبی رشتہ دار، یہ بھی اور چچا زاد بھئی کے ساتھ اس کی مشابہت زیادہ ہے۔ چچا زاد بھئی کے ساتھ بھئی کی مشابہت، والد اور بیٹے کے ساتھ صرف محرمیت میں مشابہت ہے اور چچا زاد بیٹے کے ساتھ کئی مشابہتیں ہیں، مثلاً چچا زاد بھئی کو زکوٰۃ دینا جائز تھا۔ والد اور کا تو بیٹے کو اور بیٹے کا والد کو تو زکوٰۃ دینا جائز نہیں لیکن چچا زاد بھئی کو زکوٰۃ دینا جائز، اسی طرح اپنے سگے بھئی کو بھی زکوٰۃ دینا جائز ہے۔ بھئی اگر وہ محتاج ہے تو کیا کر سکتے ہیں اس کو؟ زکوٰۃ دے سکتے ہیں، زکوٰۃ دینا جائز۔ نیز والد کے لیے بیٹے کی بیوی اور بیٹے کے لیے والد کی بیوی، یہ تو اپ جانتے ہیں حرام ابد الاباد کے لیے۔ لیکن بھئی کے لیے بھئی کی بیوی حرام نہیں، اگر ایک بھئی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے، وہ عدت گزار کر کیا کر سکتی ہے؟ دوسرے بھئی سے جس طرح چچا زاد بھئی کی بیوی اس کو وہ طلاق دے دے تو اس کے لیے کیا ہوتی ہے؟ چچا زاد بھئی کی بیوی اس شخص کے لیے حلال ہے جب وہ طلاق دے دے، تو جس طرح چچا زاد بھئی کی بیوی اس کے لیے حلال ہے، اسی طرح اس کے بھئی کی بیوی بھی اس کے لیے حلال۔ نیز چچا زاد بھئی کی گواہی اس کے لیے قابل قبول ہے اور اس کی گواہی اس کے لیے قابل قبول ہے۔ اسی طرح بھئی کی بھئی کے لیے گواہی بھی قابل قبول ہے، قبول کی جائے گی بھئی، جب کہ باپ کی گواہی بیٹے کے لیے یا بیٹے کی گواہی باپ کے لیے قبول نہیں۔ تو دیکھو، باپ اور بیٹے کے ساتھ بھئی کی مشابہت ہے صرف محرم ہونے میں، وہ محرم ہیں، یہ بھی محرم۔ اور چچا زاد بھئی کے ساتھ اس کی کئی مشابہتیں آ گئیں کہ اس کی بیوی جیسے حلال ہوتی ہے، بھئی کی بیوی بھی حلال، جیسے اس کو زکوٰۃ دینا جائز، بھئی کو بھی زکوٰۃ دینا جائز، جیسے اس کی گواہی اس کے لیے قبول ہوتی ہے، اسی طرح بھئی کی گواہی بھی اس کے لیے قبول ہوتی ہے، تو اس کے ساتھ کئی مشابہتیں آ گئیں، لہذا وہ کہتے ہیں یہاں مشابہتیں زیادہ ہیں، لہذا اس مشابہت کا اعتبار کیا جائے گا۔ اس مشابہت، کون سی مشابہت کا اعتبار کریں گے؟ چچا زاد بھئی۔ اور جب چچا زاد بھئی والی مشابہت کا اعتبار کیا تو چچا زاد بھئی کو تو انسان خریدے وہ اس پر آزاد نہیں ہوتا، لہذا بھئی کو بھی انسان خریدے گا تو وہ اس پر آزاد نہیں۔ چچا زاد بھئی کیوں نہیں آزاد ہوتا ہمارے نزدیک؟ کیونکہ وہ قریبی رشتہ دار تو ہے لیکن محرم نہیں۔ ہمارے نزدیک تو دو شرطیں تھیں، محرم بھی ہونا چاہیے اور قریب۔ چچا زاد بھئی محرم نہیں، اگر دیکھو اس کو اگر مؤنث فرض کیا جائے تو وہ چچا زاد بہن ہوئی اور چچا زاد بہن سے نکاح جائز ہوتا ہے یا جائز نہیں ہوتا؟ ہاں، تو وہ قریبی رشتہ دار تو ہے لیکن محرم نہیں، اس سے تو نکاح جائز ہوتا ہے بھئی۔ تو ہمارے نزدیک چچا زاد بھئی سے جو ہے محرم نہیں، البتہ قریبی رشتہ دار ہے، لہذا اس کو خریدیں گے تو دونوں شرطیں چونکہ نہ پائی گئیں، محرم ہونے والی شرط نہیں، لہذا وہ آزاد بھی نہیں ہو گا، لیکن بھئی بھئی کو خریدے گا وہ اس پر آزاد۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بھئی کی مشابہت باپ اور بیٹے کے ساتھ بھی اور بھئی کی مشابہت چچا زاد بھئی کے ساتھ بھی اور چچا زاد بھئی کے ساتھ کئی مشابہتیں ہیں، باپ اور بیٹے کے ساتھ ایک مشابہت، لہذا چچا زاد بھئی والی مشابہتوں کا اعتبار کریں گے اور چچا زاد بھئی کو کوئی خریدتا تھا تو وہ آزاد نہیں ہوتا تھا، تو لہذا یہ بھی بھئی بھی بھئی کو خریدے تو آزاد نہیں ہو۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ ہم کہیں گے یہ تو اپ ترجیح دے رہے ہیں قیاسوں کی کثرت کے ذریعے کیونکہ ہر مشابہت وہ ایک علت ہے۔ ہر مشابہت کیا ہے؟ ایک علت ہے، تو جتنی مشابہتیں ہوئیں، گویا اتنے قیاس ہو گئے۔ تو گویا ایک طرف ایک قیاس ہوا، دوسری طرف کئی قیاس آ گئے، تو آپ ترجیح کس کے ذریعے دے رہے ہیں؟ کثرت قیاس کی وجہ سے، یعنی کثرت ادلہ کی وجہ سے، حالانکہ کثرت ادلہ کی وجہ سے ترجیح نہیں دی جاتی بلکہ کس کی وجہ سے ترجیح دی جاتی ہے؟ قوت دلیل کی وجہ سے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ایک طرف دو گواہ ہوں، ایک طرف چار گواہ ہوں، تو چار کو دو پر ترجیح نہیں ہے بھئی، کیونکہ دو جب ہیں تو حجت شرعیہ پوری ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، یہ معنی ہے: او کثرۃ اوجہ الشبہ لشئ۔ یا کسی ایک چیز کی دوسری چیز کے ساتھ... شبہ کا معنی مشابہت... کثرۃ اوجہ الشبہ۔ کثرت مشابہت بھئی۔ اوجہ: قسمیں۔ لشئ... الشبہ لشئ: کسی چیز کے ساتھ مشابہت کی... قسموں کی کثرت بھئی۔ کسی چیز... او کثرۃ اوجہ الشبہ لشئ، ترجمہ آخر سے: کسی چیز کے ساتھ مشابہتوں کی جو وجوہات ہیں، جو قسمیں ہیں، ان کی کثرت کے ذریعے کی قبیل سے نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ولا یکون ہذا من قبیل کثرۃ الادلہ القياسیۃ، یہ کثرت ادلہ قیاسیہ کی قبیل سے بھی نہیں ہے، او کثرۃ اوجہ الشبہ لشئ، اور یہ کسی چیز کے ساتھ مشابہتوں کی انواع کی کثرت کے قبیل سے بھی نہیں ہے، فان ہذہ کلہا فاسدۃ، کیونکہ یہ سب تو ہمارے نزدیک فاسد ہیں، یعنی کثرت ادلہ کا اعتبار نہیں، وکثرۃ الاصول صحیحۃ، اور کثرت اصول صحیح ہیں، کقولنا فی مسح الراس، جیسے کہ ہمارا قول مسح راس کے اندر، انہ مسح، کہ یہ مسح ہے، فلا یسن تثلیثہ، لہٰذا اس کی تثلیث مسنون نہیں۔ فان اصلہ مسح الخف والجبیرۃ والتیمم، پس بے شک اس کی اصل جو ہے وہ مسح خف موزے پر مسح بھی ہے، والجبیرۃ، اور جبیرہ کا مسح بھی ہے، والتیمم، اور تیمم بھی ہے۔ بخلاف قول الشافعی رحمہ اللہ، بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کے، کہ انہ رکن فیسن تثلیثہ، کہ یہ جو مسح راس ہے یہ رکن ہے، تو لہٰذا اس کی تثلیث مسنون ہے، فانہ لا اصل لہ الا الغسل، پس ان کی اور کوئی اصل نہیں ہے سوائے غسل کے۔ وبالعدم عند العدم، جی، یہ چوتھی وجہ آ گئی ترجیح کی، پہلی وجہ کیا ذکر ہوئی ترجیح کی؟ قوت اثر، دوسری وجہ: قوت ثبات، تیسری: کثرت اصول۔ اب چوتھی وجہ ترجیح ذکر کر رہے ہیں: وبالعدم عند العدم، اور حکم کا معدوم ہونا عند العدم جب علت معدوم ہو۔ حکم کا معدوم ہونا علت کے معدوم ہونے سے، یہ بھی ترجیح کی علت ہے، وہو العکس، اور یہی عکس ہے بھئی، یہی عکس۔ آپ پڑھ چکے ہیں، ایک ہے طرد، ایک ہے عکس۔ طرد کا کیا معنی ہے؟ جب علت پائی جائے، حکم بھی پایا جائے۔ اور عکس کا کیا معنی تھا؟ جب علت نہ ہو تو حکم بھی نہ ہو بھئی۔ اب دیکھیے دو وصف ہیں، دو وصف، ایک وصف مطرد ہے، یعنی جہاں وہ حکم ہوتا ہے، ہم دیکھتے ہیں وہ وصف بھی وہاں پایا جا رہا ہے۔ جہاں حکم ہوتا ہے وہ وصف، یہ ہوا مطرد۔ اور ایک وصف مطرد بھی ہے، منعکس بھی ہے، جہاں حکم ہوتا ہے وہ وصف ہوتا ہے اور جہاں حکم نہیں ہوتا وصف بھی نہیں ہوتا بھئی۔ تو یہ وصف کیا ہوا؟ مطرد بھی اور منعکس بھی۔ تو کس کا... کس کا تعلق حکم کے ساتھ کون سے وصف کا زیادہ؟ جو صرف مطرد ہے یا جو مطرد اور منعکس دونوں ہے؟ جو مطرد اور منعکس دونوں ہے، یقیناً اس کا زیادہ تعلق ہے اپنے حکم کے ساتھ، تو لہٰذا اس کو ترجیح ہوگی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ ای اذا کان وصف یطرد وینعکس، اور جب ایک ایسا وصف ہو جو مطرد اور منعکس دونوں ہو، کان اولا من وصف یطرد ولا ينعکس، تو یہ اولیٰ ہوگا اس وصف کے مقابلے میں جو مطرد تو ہے اور منعکس نہیں، فالاطراد حینئذ ہو الوجود عند الوجود فقط، پس اطراد اس وقت جو ہے وہ صرف وجود یعنی حکم کا پایا جانا عند الوجود فقط صرف... صرف علت کے پائے جانے کے وقت بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ یعنی حکم کا وجود عند الوجود ای عند وجود الوصف فقط بھئی، صرف... یعنی جب حکم کا وجود ہو تو اس وقت علت بھی پائی جائے، والانعکاس، اور انعکاس جو ہے، ہو العدم عند العدم، وہ حکم کا معدوم ہونا ہے جب وصف معدوم ہو، مثل قولنا فی مسح الراس، جیسے کہ ہمارا قول مسح راس میں، انہ مسح فلا یسن تکرارہ، کہ یہ مسح ہے، مسح راس کے بارے میں ہم کیا کہتے ہیں؟ کہ یہ مسح ہے، فلا یسن تکرارہ، لہٰذا اس کا تکرار مسنون نہیں۔ فانہ ينعکس الی قولنا، پس یہ منعکس ہوتا ہے ہمارے اس قول کی طرف... بھئی پچھلے عبارت پر نظر رکھنا، ہم نے کیا کہا مسح راس کے بارے میں؟ انہ مسح فلا یسن تکرارہ، یہ مسح ہے لہٰذا اس کا تکرار مسنون نہیں۔ اب آگے اسی کا عکس ذکر کر رہے ہیں، اور عکس سے مراد میں نے بتلایا تھا عکس تین قسم پر ہے: ایک عکس عرفی، ایک عکس لغوی، ایک عکس منطقی۔ عکس عرفی کس کو کہتے تھے؟ ضد کو کہتے تھے، مثلاً آپ کہتے ہیں فلاں نیک آدمی ہے اور فلاں تو اس کا برعکس ہے، کیا معنی؟ اس کے ضد ہے۔ اور ایک عکس لغوی ہے، عکس لغوی کس کو کہتے تھے؟ کہ کلام کو اپنے پہلے طریقے پر لوٹانا، لیکن نفی کو اثبات سے اور اثبات کو نفی سے بدل دینا، اور ایک عکس منطقی ہے جس میں موضوع کو محمول اور محمول کو موضوع کی جگہ پر لے آتے ہیں، دونوں کی جگہ بدل دیتے ہیں۔ تو یہاں عکس لغوی مراد ہے، عکس لغوی کی کیا تعریف میں نے کی؟ کلام کو پہلے ہی طریقے پر لوٹانا لیکن مثبت کی جگہ نفی اور نفی کی جگہ اثبات لے آئیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ پہلا کلام ہے، ہم نے مسح راس کے بارے میں کہا: انہ مسح، کہ یہ مسح ہے لہٰذا اس کا تکرار مسنون نہیں۔ اب اسی کا عکس کرو، کہ جو مسح نہ ہو، پہلے کہا نا انہ مسح، اس کا عکس کیا ہوگا؟ جو مسح نہ ہو، یہ دیکھو مثبت کو کس سے بدل دیا؟ نفی سے، اور آگے کیا ہے؟ فلا یسن تکرارہ، یہ ہے نفی، اس کو کس سے بدلیں گے؟ اثبات سے بدل دیں گے، تو کس طرح بن جائے گا؟ جو... جو چیز... جو مسح نہ ہو اس کا تکرار مسنون ہے۔ جو مسح نہ ہو، چہرے کا دھونا مسح ہے؟ نہیں، تو یہ مسح نہیں، اور جو مسح نہ ہو اس کا تکرار مسنون ہے، اس چہرے کو کتنی دفعہ دھوتے ہیں آپ؟ تین دفعہ، دیکھو ہمارا قول جو ہے، مطرد بھی ہے اور منعکس بھی ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ جیسے ہمارا قول ہے مسح راس کے بارے میں کہ انہ مسح فلا یسن تکرارہ کہ یہ مسح ہے لہٰذا اس کا تکرار مسنون نہیں، فانہ ينعکس الی قولنا، پس یہ قول جو ہے ہمارا منعکس ہوتا ہے ہمارے اس قول کی طرف: ما لا یکون مسحا فیسن تکرارہ، کہ جو چیز مسح نہیں بس اس کا تکرار مسنون ہوگا، کغسل الوجہ ونحوہ، جیسے چہرے کا دھونا اور اسی چہرے کی طرح اور اعضا کا دھونا، بخلاف قول الشافعی رحمہ اللہ، بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کے، وہ فرماتے ہیں: انہ رکن فیسن تکرارہ، کہ مسح کیا ہے؟ رکن ہے، فیسن تکرارہ، لہٰذا اس کا تکرار مسنون ہوگا۔ ذرا اس کا عکس بنائیے بھئی! انہوں نے کہا انہ رکن، یہ رکن ہے۔ عکس کیا ہوگا؟ جو رکن نہ ہو، جو رکن نہ ہو۔ آگے ہے فیسن تکرارہ، اس کا عکس کریں بھئی، فلا یسن تکرارہ، تو کیا عبارت بن گئی؟ جو رکن نہیں اس کا تکرار مسنون نہیں، جو رکن نہیں۔ مثلاً ناک میں پانی ڈالنا، کلی کرنا، یہ رکن ہے؟ فرض ہے وضو میں؟ یہ تو فرض نہیں، اور انہوں نے کیا کہا؟ جو رکن نہ ہو اس کا تکرار مسنون نہیں، اور آپ بتائیے، کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا یہ... ان میں تکرار مسنون ہے یا نہیں تین دفعہ کرنا؟ حالانکہ ان کا عکس تو بن رہا ہے کہ جو رکن نہ ہو اس کا تکرار مسنون نہیں، اور یہ چیزیں مضمضہ اور استنشاق رکن نہیں لیکن ان کا تکرار... تو ان کا قیاس جو ہے مطرد تو ہے لیکن منعکس نہیں، ہمارا مطرد بھی اور منعکس بھی۔ فانہ لا ينعکس الی قولہ، پس امام شافعی رحمہ اللہ کا قول جو ہے وہ منعکس نہیں ہوتا ان کے اس قول کی طرف: ما لیس برکن لا یسن تکرارہ، جو رکن نہیں ہے اس کا تکرار بھی مسنون نہیں، فان المضمضۃ والاستنشاق لیسا برکن، پس کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا یہ رکن نہیں ہے، ومع ذلک یسن تکرارہما، اور اس کے باوجود ان کا تکرار مسنون ہے، ثم اراد ان يبین حکم تعارض الترجیحین فقال: بھئی یہاں تک تو دو قیاسوں میں جب تعارض آ جائے، تو پھر ترجیح کس کو دیں گے؟ چار صورتیں ذکر کر دیں: یا تو قوت اثر کے ذریعے، یا قوت ثبات کے ذریعے، یا کثرت اصول کے ذریعے، یا عکس کے ذریعے، کس کے ذریعے؟ عکس کے ذریعے، ایک میں صرف اطراد ہو، دوسرے میں اطراد و انعکاس دونوں ہوں، تو انعکاس والا قیاس کیا ہوگا؟ جس میں اطراد کے ساتھ ساتھ انعکاس بھی ہو وہ ترجیح پائے گا بھئی۔ وإذا تعارض، اب صورت یہ ذکر کر رہے ہیں جب دو ترجیح کی دو قسموں میں تعارض آ جائے، ایک قیاس آپ نے ذکر کیا، ایک قیاس میں نے ذکر کیا، تو دو قیاس باہم متعارض ہو گئے، کیا کریں گے آپ؟ ترجیح دیں گے۔ اب میں نے اپنے قیاس کی وجہ ترجیح ذکر کی، آپ نے بھی وجہ ترجیح ذکر کر دی، تو دو ترجیحوں کا... دو ترجیحوں کا آپس میں تعارض آ گیا، اب کیا کریں گے بھئی؟ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب اس کو بیان کرنے لگے ہیں۔ ثم اراد، پھر مصنف نے ارادہ کیا، ان يبین، کہ وہ بیان کریں، حکم تعارض الترجیحین، دو ترجیحوں کے تعارض کے حکم کو، فقال، پس فرمایا: وإذا تعارض ضربا ترجیح، ضربان ترجیح بھئی، یہ اضافت کی وجہ سے نون گر گیا، جب تعارض آ جائے ترجیح کی دو قسموں میں، ضرب کا کیا معنی؟ قسم، جب ترجیح کی دو قسموں میں تعارض آ جائے، کما تعارض اصل القیاسین، جیسے کہ تعارض کس میں آتا تھا؟ جیسے کہ تعارض آتا ہے دو اصل قیاسوں میں، تو اسی طرح جب ترجیح کی دو قسموں کے اندر تعارض آ جائے، کان الرجحان فی الذات احق منہ فی الحال۔ بھئی دیکھیے، یاد رکھیے۔ جب دو ترجیح کی قسموں کے درمیان تعارض آ جائے، کس کے درمیان تعارض آئے؟ ترجیح کے دو قسموں کے درمیان تعارض آ جائے، تو پھر یاد رکھیے۔ وہ... ترجیح کس کو کہتے تھے؟ فوقیت بیان کرنا، کس کو کہتے تھے؟ فوقیت بیان کرنا، ایک کہتا ہے میرے قیاس کو یہ... میں جو... میں کو فوقیت حاصل ہے، آپ کہتے ہیں کہ میرے قیاس کو فوقیت... تو ایک فوقیت ہوتی ہے ذات کے اعتبار سے، ایک فوقیت ہوتی ہے وصف کے اعتبار سے، تو یاد رکھیے ایسے موقع پر اگر ایک قیاس میں فوقیت ذات کے اعتبار سے ہے اور دوسرے قیاس میں فوقیت وصف کے اعتبار سے ہے، تو جہاں پر فوقیت ذات کے اعتبار سے ہوگی وہ کیا ہوگا؟ اولیٰ ہوگا اس کے مقابلے میں جہاں فوقیت کس اعتبار سے تھی... بات سمجھ میں آ گئی؟ یعنی وصف والی فوقیت کے مقابلے میں ذات والی فوقیت وہ اولیٰ ہے۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں، تو جب کہتے ہیں تعارض آ جائے قیاس کی دو... ترجیح کی دو قسموں میں، کان الرجحان، رجحان کا کیا معنی؟ فوقیت، وہی فضیلت بھئی، فوقیت، وہ فوقیت فی الذات جو کس کے اندر ہو؟ ذات کے اندر ہو، احق وہ زیادہ لائق ہے، زیادہ اولیٰ ہے، منہ، منہ کی ہا ضمیر پھر رجحان کو راجع، یہ وہ فوقیت جو ذات میں ہو وہ زیادہ لائق ہے کس کے مقابلے میں؟ منہ، اسی فوقیت کے مقابلے میں، فی الحال، جو کس میں ہو؟ حال میں، یعنی وصف کے اعتبار سے ہو۔ ایک فوقیت وہ جو ہے کس کے اندر؟ ذات میں، اور ایک فوقیت ہے کس کے اندر؟ حال میں یعنی وصف میں، کس کے اندر؟ حال۔ توجہ ہے سب کی سبق کی طرف؟ ایک فوقیت ہے ذات میں، ایک طرف فوقیت ہے حال میں، کون سی فوقیت کو ترجیح ہوگی؟ ذات، تو یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ ذات میں جو فوقیت ہے وہ زیادہ لائق ہوگی اس فوقیت کے مقابلے میں جو وصف کے... حال میں ہو۔ یہ معنی: کان الرجحان فی الذات احق، وہ فوقیت جو ذات میں ہو وہ زیادہ حق دار ہوگی، منہ فی الحال، اس فوقیت کے مقابلے میں جو حال میں ہو، ای من الرجحان الحاصل فی الحال، بتلا رہے ہیں بھئی کہ یہ 'فی الحال' جو ہے نا، یہ فی الحال... بھئی اوپر جو متن میں آیا: فی الذات، یہ صفت ہے رجحان کی، یہ صفت ہے... یا چاہیں تو یہ اس کو حال بنا لیں، رجحان سے کیا بنا لیں؟ فوقیت اس حال میں کہ وہ ذات میں ہو، احق، ہاں اس کو احق پڑھیں، یہ کان کی خبر ہے بھئی، یہ کان کی خبر، یہ جو فوقیت ہے اس حال میں کہ ذات کے اندر ہو، یہ زیادہ لائق ہے، منہ، منہ کی ہا ضمیر کس کو راجع تھی؟ رجحان یعنی فوقیت کو ہی، یہ فوقیت زیادہ لائق ہے اس فوقیت کے مقابلے میں، فی الحال، جو کس کے اندر ہو؟ وصف میں یعنی حال میں ہو، یعنی وصف میں ہو۔ ای من الرجحان الحاصل فی الحال، جی، بھئی یہ شارح کا حصہ، انہوں نے دیکھیے بتلایا یہ، منہ ہا ضمیر کا مرجع بتلایا، متن میں آیا تھا: منہ، شرح میں کیا کہا؟ ای من الرجحان، یہ رجحان کو راجع، اور متن میں تھا: فی الحال، انہوں نے کیا کہا؟ الحاصل فی الحال۔ یہ تو اس رجحان کی صفت بنا رہے ہیں 'فی الحال' کو، کیا بنا رہے ہیں؟ صفت بنا رہے ہیں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ گویا منہ کی ہا ضمیر موصوف، اور 'فی الحال' اس کی صفت، حالانکہ ضمیر نہ موصوف بنتی ہے اور نہ صفت بنتی ہے کبھی بھئی، نہ موصوف بنتی ہے اور نہ صفت، لہٰذا یہ 'فی الحال' اس کو حال ہی بنانا پڑے گا ہا ضمیر سے بھئی، کیا بنانا پڑے گا؟ حال ہی بنانا پڑے گا۔ پھر شرح میں کیا تاویل کریں؟ شرح میں تو انہوں نے صفت بنایا ہے، جواب یہ: کہ حال بھی صفت ہی کے درجے میں ہوتا ہے، حال بھی کس کے درجے میں ہوتا ہے؟ صفت ہی کے درجے میں ہوتا ہے، تو یہ حاصل معنی انہوں نے بیان کر دیا: ای من الرجحان الحاصل فی الحال، یعنی وہ رجحان جو... اس رجحان کے مقابلے میں جو حال کے اندر حاصل ہو، لان الحال قائمۃ بالذات تابعۃ لہا، اس لیے کیونکہ حال جو ہے وہ ذات کے ساتھ قائم ہوتا ہے، تابعۃ لہا، اور اس کے... تو ایک طرف فوقیت ہے ذات کے اعتبار سے، ایک طرف فوقیت ہے حال کے اعتبار سے، اور حال وہ تو ذات کے تابع ہوا کرتا ہے، اس کے ساتھ قائم ہوا کرتا ہے، ذات اصل ہے اور وصف اس کے تابع ہے، لہٰذا جس میں ذات والی فوقیت ہے اس کو ترجیح ہوگی کس کے مقابلے میں جہاں وصف کی وجہ سے فوقیت ہے۔ لان الحال قائمۃ بالذات تابعۃ لہا، اس لیے کیونکہ حال یعنی وصف جو ہے وہ قائم ہے ذات کے ساتھ، تابعۃ لہا، اس کے تابع ہے فی الوجود وجود میں، ولا ظهور للتابع فی مقابلۃ المتبوع، اور تابع جو ہے اس کو ظہور اس کے لیے ظہور نہیں ہے متبوع کے مقابلہ میں، تو وصف ہوا تابع، اور ذات ہوئے متبوع، اور تابع کو متبوع پر کے مقابلے میں ظہور یعنی غلبہ حاصل نہیں، تو کہتے ہیں: ولا ظهور للتابع فی مقابلۃ المتبوع، اور تابع کے لیے غلبہ نہیں ہے متبوع کے مقابلے میں، فینقطع حق المالک بالطبخ والشی، پس مالک کا حق جو ہے وہ منقطع ہو جائے گا بالطبخ پکانے سے، والشی، اور بھوننے سے، شوا یشوی شیا کا معنی ہوتا ہے بھوننا گوشت کو، شوا یشوی شیا کا کیا معنی؟ بھوننا، ایک ویسے پکانا، ایک گوشت کو آگ پر بھوننا بھئی۔ صورت مسئلہ یہ: ایک شخص نے کسی کے بھیڑ بکری وغیرہ غصب کر لی، تو یہ غاصب ہوا اور غاصب پر کیا ضروری ہے کہ وہ بھیڑ بکری کو اسی طرح مالک کو لوٹا دے، لیکن اس نے کیا کیا غصب کرنے کے بعد اس کو ذبح کیا، کھال اتاری، گوشت بنایا، پکایا یا بھون لیا اس کو آگ پر... تو امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ذات کو دیکھا جائے تو یہ ذات تقاضا کرتی ہے مالک کی چیز ہے، اس کو لوٹائی جائے۔ یہ گوشت کس کا ہے؟ بکری کا ہے۔ بکری کس کی تھی؟ مالک کی تھی۔ تو یہ گوشت بھی کس کا ہے؟ مالک کا ہے۔ تو ذات کے اعتبار سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ مالک کی چیز ہے اس کو واپس لوٹائی جائے۔ اور یہ جو اس شخص نے اس کو پکایا اپنی کاریگری اس میں دکھائی، اپنے عمل کا دخل اس میں عمل کیا اس کے اندر، اس کو تیار کیا تو یہ ہے وصف۔ یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس نے بھی کام کیا، اس پر محنت کی ہے، لہذا یہ اب اسی کی ہو جانی چاہیے اور اس کے بدلے میں مالک کو قیمت دے دے۔ کیا دے دے؟ قیمت۔ تو ذات اس کی تقاضا کر رہی ہے اس گوشت کی کہ یہ کس کو دینا چاہیے؟ مالک کو۔ اور وصف یعنی حال تقاضا کر رہا ہے جو اس نے اس کو تیار کیا ہے، بھونا ہے، مصالحہ لگایا وغیرہ یہ کیا تقاضا کر رہے ہیں؟ کہ یہ یہ اسی کا ہو گیا، اسی کے پاس رہنا چاہیے، اس کے بدلے میں مالک کو کیا دے دے؟ قیمت دے دے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں ذات تو ذات تو قوی ہے اور حال تو اس کے تابع ہے، لہذا اب بھی اس غاصب پر ضروری ہے کہ اس بھونے ہوئے یا پکائے ہوئے گوشت کو مالک کو دے دے بھئی۔ جبکہ ہمارے نزدیک ہم کہتے ہیں کہ نہیں۔ اب یہ غاصب اس کا مالک بن گیا اور مالک کو اس کی قیمت دے دے۔ بھئی کیا وجہ؟ ذات تو تقاضا کر رہی ہے، آپ نے خود ہمیں ابھی ضابطہ بتایا کہ ذات کیا تقاضا کرتی ہے؟ ذات اصل ہے اور وصف اس کے تابع ہے۔ تو لہذا ذات کو ترجیح ہوتی ہے اور ذات تقاضا کر رہی ہے کہ یہ چیز مالک کو دے دینی چاہیے اور وصف تقاضا کرتا ہے کہ کس کے پاس رہنا چاہیے؟ غاصب کے پاس ہی رہنا چاہیے اور وہ قیمت دے دے بدلے میں۔ تو اب آپ کس کو ترجیح دے رہے ہیں؟ وصف کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ہمارے نزدیک کیا ہے؟ یہ کس کے پاس رہنا چاہیے اب؟ غاصب اس کا مالک بن گیا اور مالک کو کیا دے دے اس کے بدلے میں وہ؟ اس بکری کی قیمت دے دے گا بھئی۔ تو اعتراض ہم پر ہوتا ہے کہ آپ نے تو یہاں پر وصف کو ترجیح دے دی۔ ہم کہتے ہیں نہیں ہم نے ذات ہی کو ترجیح دی ہے، وصف کو ترجیح نہیں دی۔ بھئی کس طرح؟ ذات تو وہ گوشت ہے اور وصف تو یہ اس کا بھونا وغیرہ ہے۔ ہم کہتے ہیں اب یہ بھونا وغیرہ جو اس کا عمل ہے یہ اصل بن گیا اور وہ گوشت وغیرہ کیا بن گئے؟ وہ حال بن گیا۔ بھونا وغیرہ جو عمل اس نے کیا وہ کیا بن گئے؟ اصل۔ یہ یہ ذات بن گیا، یہ کیا بن گیا؟ ذات بن گیا اور وہ جو مالک کی چیز تھی گوشت وغیرہ وہ کیا ہے؟ وہ حال بن گیا، معاملہ برعکس ہو گیا۔ بھئی کس طرح برعکس ہوا؟ ہم کہتے ہیں دیکھیے بکری تھی مالک کی لیکن جب اس نے اس کو ذبح کرکے گوشت بنا دیا تو نام بھی بدل گیا اور منافع بھی بدل گئے۔ بھیڑ بکری کا تو کیا نفع تھا؟ اس سے دودھ حاصل ہوتا ہے، ان کی اون سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے، لیکن یہاں پر وہ فائدے بدل گئے بھئی۔ اب گوشت بن گیا اور اس کا فائدہ کیا ہے؟ اس کو کھایا جائے بھئی۔ پہلے دودھ اور اون کا فائدہ تھا، اب گوشت ہے اس کے کھانے کا فائدہ ہے اس میں تو فائدے بھی بڑے فائدے جو تھے اس کے وہ بھی بدل گئے اور نام بھی بدل گیا، پہلے اس کو بھیڑ یا بکری کہتے تھے، اب اس کو کوئی بھی بھیڑ یا بکری نہیں بلکہ گوشت ہی کہے گا بھئی۔ تو صورت سمجھ گئے بھئی؟ تو لہذا ہمارے نزدیک نام بھی بدل گیا، اعظم منافع بھی بدل گئے، لہذا غاصب اس کا مالک بن گیا اور ذات جو ہے وہ حال بن گیا اور حال کیا بن گیا؟ ذات بن گئی۔ یہ کس طرح؟ ہم کہتے ہیں دیکھیے مالک کی چیز اسی صورت پر ہے یا صورت بدل گئی؟ صورت بدل گئی تو مالک کا حق من وجہ فوت ہو چکا۔ مالک کا حق من وجہ فوت ہو چکا۔ اور غاصب نے کیا کیا اس میں؟ اس کو پکایا ہے، تیار کیا ہے، تو غاصب نے جو غاصب کا حق جو ہے وہ اسی طرح اپنی اصل صورت میں ہے اس کے اندر۔ مالک کا حق من وجہ ہلاک ہو چکا اور غاصب کا حق جو ہے پوری طرح باقی ہے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ بات کیا بیان کر رہا ہوں؟ کہ وہ جو ذات تھی وہ حال بن چکی اور جو حال ہے وہ ذات بن چکا۔ کس وجہ سے؟ کہ وہ جو مالک جو ہے اُس کا حق من وجہ فوت ہو چکا۔ بکری رہی اب؟ جی؟ صورت وغیرہ سب کچھ بدل گیا، لہذا مالک کا حق من وجہ فوت ہو چکا۔ اور یہ جو غاصب ہے، اِس کا حق پورے طور پر باقی ہے، جِس طرح اُس نے بھونا اور تیار کِیا ہے، اسی طرح گوشت موجود ہے، اُس میں کِسی قسم کی تبدیلی نہیں۔ تو مالک کا حق من وجہ فوت ہو چکا اور غاصب کا حق پوری طرح باقی ہے، لہذا وہ جو چیز پوری طرح باقی ہے، وہ گویا ذات بن گئی اور جو چیز من وجہ ہلاک ہو چکی وہ کیا بن گیا؟ حال بن گیا۔ لہذا اب ذات جو ہے وہ جو پہلا حال تھا وہ اب ذات بن چکا لہذا اس کو ترجیح ہوگی اور بکری کس کے دے دی, یہ گوشت کس کا مالک کون بن گیا؟ غاصب بن گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ یہ معنی ہے فینقطع حق المالک بالطبخ والشہی، پس مالک کا حق منقطع ہو جائے گا پکانے کی وجہ سے اور بھوننے کی وجہ سے۔ تفرع علی القاعدة المذكورة، یہ تفریح ہے اسی قاعدے پر جس کو ذکر کیا گیا، وذالک بأنه اذا غصب رجل شاة رجل، اور یہ بھی اس صورت کے جب غصب کر لے کوئی ایک آدمی شاة رجل کسی دوسرے آدمی کی بھیڑ بکری، ثم مذبحاها پھر اس کو ذبح کرے وطبخاها اور پکا لے وشواها اور بھون لے، فانه ينقطع عندنا حق المالک عن الشاة پس مالک کا حق ہمارے نزدیک منقطع ہو جائے گا عن الشاة اس بھیڑ بکری سے، ویزمن قيمتها للمالک اور یہ غاصب ضامن ہو گا اس بھیڑ بکری کی قیمت کا مالک کے لیے، لانه تعارضها هنا ضرب ترجيح اسی لیے کیونکہ یہاں پر تعارض آیا ترجیح کی دو قسموں میں، فانه ان نظر الی أن اصل الشاة كان للمالک، اگر نظر کی جائے اس بات کی طرف کہ اصل بکری تو کس کی ہے؟ اصل بھیڑ بکری تو مالک کی تھی۔ فینبغی أن يأخذها المالک تو مناسب یہ ہے کہ مالک اس کو لے لے، ویزمنه النقصانا اور اس غاصب کو ضامن بنا دے نقصان کا، وان نظر الی أن الطبخ والشہی كان من الغاصب، اور اگر نظر کی جائے اس بات کی طرف کہ پکانا اور بھونا جو ہے یہ غاصب کی طرف سے ہیں یہ دونوں چیزیں، فینبغی أن يأخذها الغاصب تو مناسب یہ ہے کہ اس کو غاصب لے لے، ویزمن القيمتا اور ضامن بن جائے قیمت کا۔ ولكن ولكن رعاية هذا الجانب أقوى من رعاية المالک، لیکن اس جانب کی رعاية وہ زیادہ قوی ہے مالک کی رعاية سے۔ کیوں؟ لأن الصنعۃ قائمة بذاتها، اس لیے کیونکہ کاریگری جو ہے یعنی اس غاصب کا عمل جو ہے قائمة بذاتها وہ قائم ہے اپنی ذات کے اعتبار سے یعنی پوری طرح من کل وجہ پورے طور پر ہر اعتبار سے غاصب کا عمل جو ہے قائم ہے۔ والعين هالة من وجه، اور جبکہ وہ عین جو ہے وہ تو من وجہ ہلاک ہو چکی ہے، فحق المالک في العين ثابت من وجه دون وجه، پس مالک کا حق عین کے اندر من وجہ ثابت ہے نہ کہ من وجہ یعنی من وجہ ثابت ہے اور من وجہ ثابت نہیں۔ وحق الغاصب في الصناعة ثابت من كل وجه، اور غاصب کا حق اس عمل کے اندر ثابت ہے ہر اعتبار سے کیونکہ وہ گوشت اسی طرح ہے آگے مزید تو کوئی تبدیلی نہیں آئی جو اس نے عمل کیا وہ اسی طرح ہے۔ فكان الصناعة بمنزلة الذات، تو پس یہ جو صنعت یعنی عمل جو ہے وہ ذات کے مرتبے میں ہو گیا، والعین بمنزلة الوصف، اور عین کس کے درجے میں ہو گئی؟ وصف کے درجے میں ہو گئی، وان كان الامر في ظاهر الحال بالعكس، اگرچہ ظاہرِ حال میں معاملہ اس کے برعکس تھا۔ وہ گوشت اصل تھا اور یہ پکانے کا وصف جو تھا حال تھا، لیکن چونکہ وہ من وجہ ہلاک ہو چکا اور یہ پورے طور پر باقی ہے تو وہ وصف بن گیا اور یہ ذات بن گئی۔ تو اگرچہ معاملہ جو ہے ظاہرِ حال میں برعکس تھا، إذ كانت الشاة أصلا والصنعة وصفا، اس لیے کیونکہ بھیڑ بکری جو تھی وہ اصل تھی اور کا عمل جو تھا وہ وصف تھا، علی ما ذهب إليه الشافعي رحمہ اللہ بنا پر اس کے جس کی طرف امام شافعی رحمہ اللہ گئے ہیں، وأشار إليه المصنف رحمه الله بقوله اور اسی کی طرف اشارہ کیا مصنف نے اپنے اس قول کے ذریعے کہ جس کی طرف امام شافعی رحمہ اللہ گئے ہیں۔ وقال الشافعي اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صاحب الاصل، صاحب الاصل جو ہے، اصل کا مالک وهو المالک، وہ جو اور وہ مالک ہے، أحق، وہ زیادہ حقدار ہے، لأن الصناعة قائمة بالمصنوع، اس لیے کیونکہ عمل جو ہے جو کاریگری ہے وہ موجود ہے کس کے ساتھ؟ مصنوع وہ جس کو بنایا گیا اس چیز کے ساتھ پوری طرح قائم ہے تابعہ لہ اس کے تابع ہے۔ فجرى الشافعی رحمہ اللہ علی ظاهره، پس امام شافعی رحمہ اللہ اس کے ظاہر پر چلے، وجرينا على الدقة، اور ہم کس پر چلے؟ باریکی پر، گہرائی پر چلے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔ ولما فرغ عن بيان الترجيحات الصحيحة شرع في الفاسدة، اور جب مصنف رحمہ اللہ ترجیحاتِ صحیحہ کے بیان سے فارغ ہوئے تو شروع ہوئے ترجیحاتِ فاسدہ کے بیان میں، فقال پس فرمایا: والترجيح بغلبة الأشباه وبالعموم وقلة الأوصاف فاسد عندنا، اور ترجیح دینا کس وجہ سے؟ غلبة الأشباه کی وجہ سے یعنی زیادہ مشابہتوں کی وجہ سے، اشباه جمع ہے شبہ کی، شبہ کس کو کہتے ہیں؟ مشابہت۔ زیادہ مشابہتوں کی وجہ سے، مشابہتوں کے غالب ہونے کی وجہ سے ترجیح دینا، وبالعموم اور عموم کی وجہ سے ترجیح دینا، وقلة الأوصاف اور قلتِ اوصاف کی وجہ سے ترجیح دینا، یہ تین صورتیں ہیں بھئی، سب کی سب فاسد عندنا ہمارے نزدیک فاسد ہیں۔ آگے تفصیل بیان کر رہے ہیں کہ یہ تینوں ہمارے نزدیک فاسد ہیں، وقد ذهب إلى صحة كل منها الإمام الشافعی رحمہ اللہ، اور تحقیق گئے ہیں ان میں سے ہر ایک کے صحیح ہونے کی طرف امام شافعی رحمہ اللہ، فمثال غلبة الأشباه، پس غلبۃ الأشباه کی مثال، وہی مثال جو میں نے ذکر کی تھی بھئی۔ بھئی بھئی پر آزاد نہیں ہوتا امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک کیونکہ اس بھئی کی مشابہت چچا زاد بھئی کے ساتھ زیادہ ہے اور والدہ اور بیٹے کے ساتھ کم ہے بھئی۔ فمثال غلبة الأشباه، پس غلبۃ الأشباه کی مثال، قول شافعیة، امام شاف شفوافع کا یہ قول ہے، أن الأخ يشبه الوالد والولد، کہ بھئی جو ہے وہ مشابہ ہوتا ہے والد کے بھی اور ولد یعنی اولاد کے بھی من حيث المحرمية فقط، صرف کس اعتبار سے مشابہ ہوتا ہے؟ صرف محرم ہونے کے اعتبار سے، ويشبه ابن العم من وجوه كثيرة، اور بھئی مشابہ ہوتا ہے چچا زاد بھئی چچا کے بیٹے کے، یعنی چچا زاد بھئی کے، من وجوه كثيرة، کئی کئی وجوہ سے کئی کس اعتبار سے؟ بھئی کس اعتبار سے؟ کثیرہ وجوه کثیرہ کیا ہیں؟ کہتے ہیں وهي جواز إعطاء الزكاة كل منهما للآخر، وہ إعطاء زکوٰۃ کا جائز ہونا کل منہما ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے للآخر دوسرے کو، یعنی ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے زکوٰۃ کا دینا جائز ہے دوسرے کو۔ وحل نكاح حليلة كل منهما للآخر، اور ان دونوں میں سے ہر ایک کی حلیلہ, حلیلہ بیوی کو کہتے ہیں، حلیل خاوند کو اور حلیلہ بیوی کو، ان دونوں میں سے ہر ایک کی بیوی کا نکاح حلال ہے للآخر دوسرے کے لیے۔ وقبول شهادة كل منهما للآخر، اور ان دونوں میں سے ہر ایک کی شہادت وہ قبول کی جاتی ہے دوسرے کے لیے۔ تو دیکھیے کئی مشابہتیں آ گئیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی تفصیل میں شروع سبق میں بیان کر چکا۔ فيكون إلحاقه بابن العم أولى، پس اس بھئی کو ملانا چچا زاد بھئی کے ساتھ یہ اولی ہے۔ والد اور بیٹے کے ساتھ اس کے ساتھ ایک مشابہت اور چچا زاد بھئی کے ساتھ کئی مشابہت۔ تو کس کے ساتھ ملانا اولی؟ چچا زاد بھئی کے ساتھ بھئی۔ اور والد اور بیٹے کے ساتھ ملاتے تو کیا حکم تھا؟ آزاد ہو جاتا، خریدتے ہی کیا ہوتا؟ بھئی! آزاد ہو جاتا۔ اور چچا زاد بھئی کے ساتھ ملائیں گے تو کیا ہوگا؟ آزاد نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں اس بھئی کو ملانا چچا زاد چچا کے بیٹے کے ساتھ یہ اولی ہے، فلا يعتق علی الأخ، پس بھئی آزاد نہیں ہوگا بھئی پر اذا ملكه جب وہ اس کا مالک بن جائے۔ وعندنا هو بمنزلة ترجيح أحد القياسين بقياس آخر، اور ہمارے نزدیک یہ دو قیاسوں میں سے ایک کو ترجیح دینا ہے ترجیح دینے کے درجے میں ہے بقياس آخر دوسرے قیاس کی وجہ سے۔ ایک طرف ایک قیاس ہوا، دوسری طرف تھا دوسرا قیاس، اس دوسرے قیاس کے ساتھ ایک اور قیاس بھی مل گیا جو اس کی تائید کر رہا تھا، تو اب آپ اس دوسرے قیاس جس کی تائید تیسرے قیاس نے کی آپ اس کو ترجیح دیں یہ بھی اسی طرح ہے، یہ بھی اسی طرح ہے اسی کے درجے میں ہے۔ اور کیوں وجہ میں نے ذکر کر دی، کیونکہ ہر مشابہت علت کے درجے میں ہے، اور ہر علت سے کیا بنے گا؟ ایک قیاس بنے گا۔ تو گویا ایک طرف ایک قیاس ہوا، دوسری طرف آپ نے تین قیاس ذکر کر دیے، تو یہ تو ترجیح کثرتِ ادلہ کے ذریعے دے رہے ہیں نہ کہ قوتِ دلیل کے ذریعے، تو یہ جو ہے دو قیاسوں میں سے ایک کو ترجیح دینا تیسرے قیاس کی وجہ سے یہ اسی درجے میں ہے، وقد عرفت بطلانه، اور تحقیق آپ اس کے باطل ہونے کو جان چکے ہیں۔ تو دیکھا معلوم ہوا ترجیح بغلبۃ الأشباہ ہمارے نزدیک فاسد ہے۔ دوسری بات کیا ذکر کی تھی متن میں؟ ترجیح بالعموم۔ عموم کی وجہ سے ترجیح دینا، یہ بھی ہمارے نزدیک فاسد ہے۔ کہتے ہیں وہ مثال العموم، عموم کی مثال، قول شافعیة، شوافع کا یہ قول ہے کہ ان وصف الطعم في حرمة الربا أولى من القدر والجنس۔ بھئی دیکھیے، شوافع کہتے ہیں کہ ہم نے ایک وصف ذکر کی، علت ذکر کی وہ طعم ہے۔ علتِ ربا کیا ذکر کی؟ طعم، کھانے کی چیزیں۔ اور احناف تم نے ایک علت ذکر کی قدر اور جنس۔ ہماری علت عام ہے، تمہاری علت خاص ہے، اور عام کو ترجیح ہے خاص پر۔ کس طرح؟ کہ تمہاری ہماری جو علت طعم ہے وہ قلیل اور کثیر سب کو شامل ہے۔ کھانے کی کوئی چیز ہو، چاہے قلیل ہو چاہے کثیر ہو، جب دونوں طرف سے جنس ایک ہو تو برادری ضروری ورنہ سود لازم آئے گا۔ قلیل میں بھی اور کثیر۔ جبکہ اے احناف آپ نے علت بیان کی قدر اور جنس، اور قدر اور جنس کے اندر آپ نے بتلایا تھا کہ نصف صاع سے کم کو یہ شامل ہی نہیں بھئی! نصف صاع سے کم کو تو سی یہ آپ کی علت کثیر کو تو شامل ہوئی قلیل کو شامل ہی نہیں، چنانچہ آپ کہتے ہیں ایک مٹھی گندم دے کر دو مٹھی گندم خریدنا جائز ہے کیونکہ یہ قلیل ہے اور یہاں سود آتا ہی نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ہماری علت شامل ہوئی قلیل کو بھی اور کثیر، اور آپ کی علت شامل ہوئی صرف کس کو؟ کثیر کو۔ تو ہماری علت ہوئی عام، آپ کی علت ہوئی خاص، اور عموم کی وجہ سے ہماری علت کو ترجیح ہوگی کہ اس میں زیادہ صورتیں آ رہی ہیں، آپ والی علت میں زیادہ صورتیں نہیں آ رہی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ہمارے نزدیک بھئی نہیں، عموم کی وجہ سے ترجیح نہیں دی جا سکتی بھئی۔ ہم کہتے ہیں جواب میں کہ آپ عموم کی بات کر رہے ہیں، عموم کی وجہ سے ترجیح دے رہے ہیں، آپ کے نزدیک تو علتِ قاصرہ کے ساتھ بھی تعلیل صحیح ہے۔ آپ نے سونے اور چاندی میں کیا علت بیان کی تھی ربا کے اندر؟ ثمنیت۔ اور ثمنیت تو علتِ قاصرہ ہے جو اور کسی میں پائی ہی نہیں جاتی، متعڈی ہوتی ہی نہیں ہے۔ تو جب ایسی علت بیان کرنا بھی آپ کے نزدیک صحیح ہے جو سرے سے متعڈی ہوتی ہی نہیں، تو پھر ایسی علت جو کم کی طرف کیا ہو؟ متعڈی ہو، وہ تو بطریقِ اولی آپ کے نزدیک قبول ہونی چاہیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ایک علت جو سرے سے متعڈی نہیں ہوتی، آپ اس کو بھی علت مانتے ہیں، تو پھر جو کم کی طرف متوجہ متعڈی ہو اس کو تو وہ متعڈی تو کم از کم ہو رہی ہے، آپ والی تو سرے سے متعڈی ہی نہیں ہو رہی۔ تو کہتے ہیں وہ مثال العموم، قول الشافعية، اور عموم کی مثال شوافع کا یہ قول ہے کہ ان وصف الطعم في حرمة الربا أولى من القدر والجنس، کہ طعم کا جو وصف ہے حرمتِ ربا میں وہ زیادہ لائق ہے قدر اور جنس کے مقابلے میں، لانه يعم القلیل، اسی لیے کیونکہ یہ عام ہے، قلیل کو بھی شامل ہے، وہو الحفنة، اور وہ کم کیا ہے؟ حفنہ، ایک مٹھی، حفنہ میں نے بتلایا تھا۔ حفنہ کسے کہتے ہیں؟ میں دونوں ہاتھوں کو ملا کر اس کے اندر جو مقدار کوئی چیز ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ حَفْنَةٌ۔ اور اس کے اندر وہ چیز جو ہے، ٹھوس ہونا ضروری ہے۔ یعنی مائع، پانی وغیرہ اٹھایا تو اس کو حَفْنَةٌ نہیں کہیں گے بھئی! تو یہ ہماری علت جو ہے یہ عام ہے۔ قلیل کو بھی شامل ہے، اور وہ حَفْنَةٌ ہے۔ وَالْكَثِيْرَ اور کثیر کو بھی شامل ہے، وَهُوَ الْكَيْلُ اور وہ کیل مقدار جس میں کیل چلتا ہے۔ وَالتَّعْلِيْلُ اور تعلیل جو ہے تعلیل بالکیل، اور وہ جو آپ نے علت بیان کی اے احناف کس کے ساتھ؟ کیل کے ساتھ، لَا يَتَنَاوَلُ إِلَّا الْكَثِيْرَ یہ صرف کس کو شامل ہے؟ یہ صرف کثیر ہی کو شامل ہے۔ ہم جواب دیتے ہیں وَهٰذَا بَاطِلٌ عِنْدَنَا یہ ہمارے نزدیک باطل ہے، عموم کے ذریعے ترجیح نہیں دی جا سکتی، یہ باطل ہے۔ لِأَنَّهٗ لَمَّا جَازَ عِنْدَهُ التَّعْلِيْلُ بِالْعِلَّةِ الْقَاصِرَةِ کہ جب امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک علت قاصرہ کے ساتھ تعلیل جائز ہے، فَلَا رُجْحَانَ لِلْعُمُوْمِ عَلَى الْخُصُوْصِ تو پھر عموم کو خصوص پر کوئی فوقیت نہیں ہے۔ وَلِأَنَّ الْوَصْفَ بِمَنْزِلَةِ النَّصِّ اور اس لیے کیونکہ وصف یعنی علت جو ہے بِمَنْزِلَةِ النَّصِّ وہ کس کے درجے میں ہوتی ہے؟ نص کے درجے میں ہوتی ہے۔ علت، نص۔ جیسے نص سے حکم ثابت ہوتا ہے، اسی طرح علت سے بھی حکم۔ تو علت نص کے درجے میں ہوئی۔ اور نص میں دو قسمیں آپ پڑھ چکے ہیں، ایک خاص، ایک عام۔ خاص، عام، مشترک، مؤول شروع میں پڑھا یا نہیں بھئی؟ اور وہاں میں نے بتلایا تھا، ہمارے نزدیک خاص بھی قطعی، عام بھی قطعی جب تک اسے تخصیص نہ ہو۔ خاص بھی قطعی اور عام بھی تخصیص قطعی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک خاص تو قطعی ہے، یقین کا فائدہ دیتا ہے لیکن عام کیا ہے؟ ظنی۔ عام کیا ہے؟ ظنی۔ بات سمجھ میں آئی؟ ہمارے نزدیک عام بھی قطعی اور خاص بھی قطعی، جبکہ ان کے نزدیک خاص قطعی ہے اور عام ظنی۔ تو ہم کہتے ہیں یہ جو علت ہے، یہ نص کے درجے میں ہے۔ کس کے درجے میں؟ نص کے درجے میں ہے، وَفِي النَّصِّ الْخَاصُّ رَاجِحٌ عِنْدَهٗ عَلَى الْعَامِّ اور نص کے اندر جو خاص ہے وہ راجح ہوتا ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک عام پر۔ کیونکہ خاص کیا ہے؟ ان کے نزدیک قطعی، اور عام کیا ہے؟ ظنی۔ اور ترجیح کس کو ہوتی ہے؟ قطعی کو ترجیح ہوتی ہے یعنی خاص۔ تو ان کے نزدیک نص کے اندر خاص کو عام پر ترجیح ہے، اور علت بھی کس کے درجے میں ہے؟ نص کے درجے میں، تو ایک علت وہ خاص ہے، ایک علت عام ہے، تو آپ کی علت عام، ہماری علت خاص، تو یہاں بھی کس کو ترجیح ہونی چاہیے؟ خاص ہی کو ترجیح ہونی چاہیے بھئی۔ فَيَنْبَغِيْ أَنْ يَّكُوْنَ هٰهُنَا كَذٰلِكَ تو مناسب یہ ہے کہ یہاں پر بھی اسی طرح ہونا چاہیے۔ وَمِثَالُ قِلَّةِ الْأَوْصَافِ تیسری چیز متن میں بیان کی تھی۔ پہلی چیز کیا تھی؟ غلبۂ اشباہ کے ذریعے بھی ترجیح فاسد، دوسری عموم عموم کے ذریعے بھی ترجیح فاسد، اور تیسری کیا؟ قِلتِ اوصاف کے ذریعے بھی ترجیح ہمارے نزدیک فاسد۔ قلت اوصاف کیا ہے؟ کہتے ہیں دیکھیے بھئی! قلت اوصاف یہ، کہ جس چیز کو علت بنایا جائے وہ کم اوصاف ہوں۔ وہ کم ہوں۔ مثلاً شوافع کہتے ہیں ہم نے گندم وغیرہ میں ربا کی علت صرف طعم بیان کی، کھانے کی چیز ہے۔ تو ایک وصف کو علت قرار دیا یا دو یا تین کو؟ ایک کو۔ اور آپ نے گندم وغیرہ میں قدر اور جنس دو چیزوں کو علت قرار دیا بھئی۔ تو ہماری علت کے میں اوصاف کم، آپ کی علت میں اوصاف زیادہ۔ تو لہٰذا کہتے ہیں ترجیح ہماری علت کو ہوگی کیونکہ اس میں قلت اوصاف ہیں۔ قلتِ اوصاف۔ ہم کہتے ہیں نہیں یہ تو کوئی ترجیح والی بات نہیں ہے۔ یہ کوئی ترجیح والی بات نہیں ہے، ایک چیز میں کہ ایک علت میں اوصاف زیادہ ہوں اور پھر بھی وہ ترجیح پا جاتی ہے ایسی علت پر جس میں اوصاف کم ہوتے ہیں۔ وَمِثَالُ قِلَّةِ الْأَوْصَافِ اور قلتِ اوصاف کی مثال قَوْلُ الشَّافِعِيَّةِ شوافع کا یہ قول ہے کہ إِنَّ الطَّعْمَ وَحْدَهٗ أَوِ الثَّمَنِيَّةَ وَحْدَهَا کہ طعم اکیلا یا ثمنیت اکیلی کھانے کی چیزوں میں انہوں نے طعم بیان کیا تھا، سونے چاندی میں صرف ثمنیت۔ تو صرف طعم یا صرف ثمنیت قَلِيْلٌ وہ قلیل ہے فَيَفْضُلُ عَلَى الْقَدْرِ وَالْجِنْسِ الَّذِيْ قُلْتُمْ بِهٖ مُجْتَمِعَةً پس فوقیت پا جائے گی اس قدر اور جنس پر جس کے تم قائل ہوئے ہو مجتمعةً اکٹھے۔ اس کا تعلق قدر اور جنس سے ہے۔ قدر اور جنس اس حال میں مجتمعةً کہ یہ اکٹھے علت ہیں تمہارے نزدیک ملا کر، یہ۔ تو ہمارے نزدیک علت صرف طعم یا صرف ثمنیت، اور آپ کے نزدیک جنس اور قدر مجتمعةً اکٹھے مل کر علت ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں تو یہ جو اکیلے طعم ہے یا اکیلی ثمنیت ہے، یہ قلیل ہے پس فوقیت پا جائے گی عَلَى الْقَدْرِ وَالْجِنْسِ الَّذِيْ قُلْتُمْ بِهٖ مُجْتَمِعَةً اس قدر اور جنس پر جس کے تم قائل ہو مجتمعةً اس حال میں کہ یہ قدر اور جنس اکٹھے۔ ان کے اکٹھے علت ہونے کے تم قائل ہو بھئی۔ وَهٰذَا بَاطِلٌ عِنْدَنَا اور یہ ہمارے نزدیک باطل ہے، لِأَنَّ التَّرْجِيْحَ لِلتَّأْثِيْرِ دُوْنَ الْقِلَّةِ وَالْكَثْرَةِ اس لیے کیونکہ ترجیح ہمارے نزدیک وہ تاثیر کے ذریعے ہے نہ کہ قلت اور کثرت۔ تو ہمارے نزدیک تاثیر کو، قوتِ اثر کو دیکھا جاتا ہے قلت اور کثرت کو نہیں۔ فَرُبَّ عِلَّةٍ ذَاتِ جُزْئَيْنِ پس بسا اوقات بہت سی ایسی علتیں جو دو جز والی ہوتی ہیں أَقْوٰى فِي التَّأْثِيْرِ وہ تاثیر کے اندر زیادہ قوی ہوتی ہیں مِنْ عِلَّةٍ ذَاتِ جُزْءٍ وَّاحِدٍ ایسی علت کے مقابلے میں جو ایک جز والی ہو۔ بہت سی علتیں جو دو جز والی ہوں وہ تاثیر کے اندر زیادہ قوی ہوتی ہیں اس علت کے مقابلے میں جو جو ایک جز والی ہو بھئی۔ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ۔
84 approved lectures · 78 of 84