Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-124

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 12 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 6
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر.124 ولما فرغ عن بيان المعارضة شرع في بيان دفعها فقال: وإذا قامت المعارضة كان السبيل فيها الترجيح، أي ترجيح أحد المعارضين على الآخر بحيث تندفع المعارضة، فإن لم يتأت للمجيب الترجيح صار منقطعا. ولما فرغ عن بيان المعارضة شرع في بيان دفعها، اور مصنف رحمہ اللہ جب معارضہ کے بیان سے فارغ ہوئے، شرع في بيان دفعها، تو معارضہ کی دفع کے بیان میں شروع ہوئے۔ یعنی اب آگے یہ بیان کرنے لگے کہ معارضہ کو کس طرح دفع کیا جائے گا۔ معارضہ کو کس طرح دفع کیا جائے گا۔ معارضہ کس کو کہتے تھے؟ معلل نے ایک علت ذکر کی اور ایک حکم ذکر کیا کہ یہ حکم ہے۔ سائل اس کے مقابلے میں کیا کہتا ہے؟ آپ کی علت ہمیں قبول، آپ کا حکم بھی قبول، لیکن ہمارے پاس ایک ایسی دلیل ہے جس سے اس کے مخالف حکم ثابت ہوتا ہے۔ تو اس کی بھی دلیل، معلل کی بھی دلیل اور حکم آ گیا اور سائل کی بھی دلیل اور حکم آ گیا۔ اب کس کو ترجیح دیں گے بھئی؟ دونوں طرف سے دلیل بھی ہے، علت بھی ہے اور حکم بھی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وإذا قامت المعارضة، جب معارضہ قائم ہو جائے، كان السبيل فيها الترجيح، تو راستہ اس کے اندر جو ہے، طریقہ اس کے اندر جو ہے وہ ترجیح ہے۔ یعنی اب ترجیح پر عمل کیا جائے گا، کس کے قیاس کو ترجیح ہو۔ ایک قیاس معلل نے پیش کیا علت اور حکم، دوسرا قیاس کس نے پیش کر دیا؟ سائل نے۔ تو کس قیاس کو پر عمل کیا جائے گا؟ تو اب اس کے حل کا طریقہ کیا ہے؟ ترجیح ہے کہ ترجیح دی جائے بھئی۔ أي ترجيح أحد المعارضين على الآخر، یعنی ترجیح دینا دو معارض میں سے ایک کو، بحيث تندفع المعارضة، اس حیثیت سے کہ وہ معارضہ دور ہو جائے، ختم ہو جائے۔ أي ترجيح أحد المعارضين على الآخر، یعنی ترجیح دینا دو معارض میں سے ایک کو، یعنی دو معارض، مقابل قیاسوں میں سے ایک کو ترجیح دینا، على الآخر، دوسرے پر، بحيث تندفع المعارضة، اس حیثیت سے کہ معارضہ دفع ہو جائے، ختم ہو جائے۔ کیا کیا جائے؟ وجہِ ترجیح ذکر کی جائے، ایک دو معارض قیاسوں میں سے ایک کی ترجیح ذکر کر دی جائے اس طور پر کہ پھر معارضہ ختم ہو جائے بھئی۔ فإن لم يتأت للمجيب الترجيح صار منقطعا، پس اگر حاصل نہ ہو جواب دینے والا جو ہے، مجیب یعنی معلل مراد ہے۔ اگر حاصل نہ ہو معلل کو، کیا حاصل نہ ہو؟ الترجيح، معلل کو ترجیح حاصل نہ ہو، وہ ترجیح بیان نہ کر سکے، صار منقطعا، تو وہ کیا ہو جائے گا؟ منقطع ہو جائے گا، منقطع بھئی۔ یعنی یوں کہیں ناکام ہو جائے گا یا لاجواب ہو جائے گا۔ کیا ہو جائے گا؟ لاجواب ہو جائے گا یا یوں کہیں ناکام ہو جائے گا کیونکہ وہ تو اپنا دعویٰ لے کر آیا تھا، ایک بات کو اس نے ثابت کرنا تھا اور جب سائل نے اس کے جواب میں دوسرا قیاس ذکر کر دیا اور معلل اپنے قیاس کی ترجیح ذکر نہ کر سکا تو اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے فإن لم يتأت للمجيب الترجيح صار منقطعا، پس اگر حاصل نہ ہو معلل کو ترجیح تو وہ منقطع ہو جائے گا، یعنی لاجواب یا ناکام کہہ لیں، ناکام ہو جائے گا۔ وإن يتأت له، اور اگر اسے ترجیح حاصل ہو، یعنی وہ کوئی ترجیح پیش کر دے، کوئی ترجیح لے آئے کہ ایک قیاس میرا ہے، ایک قیاس آپ نے ذکر کیا۔ پھر وہ اپنے قیاس کی ترجیح ذکر کر دیتا ہے کہ یہ جو ہے یہ والی علت یہ راجح ہے، لہذا میرا قیاس راجح ہے، فللسائل أن يعارضه بترجيح آخر، تو پھر سائل کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کا معارضہ کرے دوسری ترجیح سے۔ اس نے اپنے قیاس کی ترجیح ذکر کی تھی معلل نے، سائل کیا کر سکتا ہے؟ اپنے قیاس کی ترجیح ذکر کر سکتا ہے۔ وهذا هو حكم المعارضة في القياس، اور یہ ہے حکم قیاس کے معارضے میں بھئی۔ یہ طریقہ ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہ معلل نے قیاس ذکر کیا تھا، سائل نے بھی ذکر کر دیا، تو معلل کو اب کیا کرنا پڑے گا؟ ترجیح ذکر کرنا پڑے گی اپنے قیاس کی، اور پھر جواب میں کون ذکر کر سکتا ہے ترجیح؟ سائل اپنے قیاس کی ترجیح ذکر کر سکتا ہے۔ یہ تو تھا کہتے ہیں حکم قیاس کے اندر معارضے کی صورت میں جب دو قیاس آپس میں باہم معارض ہو جائیں، مقابل ہو جائیں۔ تو انہوں نے کہا: وهذا هو حكم المعارضة في القياس، یہ حکم ہے قیاس میں معارضے کا، وأما المعارضة في النقليات، اور باقی وہ معارضہ جو نقلیات کے اندر ہو، یعنی قرآن اور حدیث کے اندر معارضہ آئے، فقد مضى بيانها، تو تحقیق اس کا بیان گزر چکا ہے۔ ہم پیچھے بیان کر چکے ہیں کہ جب دو دلیلوں میں تعارض آئے، ٹکراؤ آئے۔ ایک آیت سے ایک حکم ثابت ہوتا ہے، دوسری آیت سے دوسرا حکم، تو اس صورت میں پھر امام شافعی رحمہ اللہ کا اور طریقہ تھا، ہمارا اور طریقہ۔ کیا کیا صورتیں ذکر ہوئی تھیں؟ مثلاً نسخ کو دیکھا جائے، ترجیح پر عمل کیا جائے گا، یا جمع و تطبیق وغیرہ پر، یا پھر اگر کسی طریقے سے بھی حل نہ، ترجیح نہ دی جا سکے تو پھر اس سے نچلے درجے کی دلیل، یعنی حدیث کی طرف آ جائیں گے۔ اگر حدیث کے اندر بھی اسی طرح کسی ایک کو ترجیح نہ دی جا سکے یا نسخ وغیرہ پر عمل نہ ہو سکے یا تطبیق پر عمل نہ ہو سکے تو پھر اس سے نچلے درجے کی دلیل کی طرف چلے جاتے تھے، تفصیلی بیان پیچھے گزر چکا۔ تو کہتے ہیں یہ تو قیاس کے اندر معارضے کا حکم تھا اور باقی نقلیات، یعنی قرآن اور حدیث میں جو معارضہ ہے تحقیق اس کا بیان گزر چکا ہے۔ جی، وهو عبارة، متن کو متن سے جوڑیے بھئی۔ پیچھے کیا تھا؟ جب معارضہ قائم ہو جائے تو اس میں طریقہ اور راستہ کیا ہے؟ ترجیح کا ہے۔ اب آگے ترجیح کی تعریف کر رہے ہیں، ترجیح کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: وهو عبارة عن فضل أحد المثلين على الآخر وصفا، ترجیح جو ہے وہ عبارت ہے عن فضل أحد المثلين، فضل سے پہلے "بیان" کا لفظ مضاف محذوف ہے۔ عن بيان فضل أحد المثلين على الآخر وصفا، شرح میں بتلائیں گے بھئی، أي بيان فضل أحد المثلين۔ تو یہ فضل کے لفظ سے پہلے "بیان" کا لفظ محذوف ہے۔ وجہ اس کی یہ کہ اگر بیان کے لفظ کو یہاں مقدر نہ مانیں تو یہ تعریف کر رہے ہیں ترجیح کی، اور تعریف کیا کی؟ فضل أحد المثلين على الآخر وصفا، فوقیت لے جانا، فضل کا کیا معنی؟ فوقیت لے جانا، بڑھ جانا، أحد المثلين، دو ایک جیسی چیزوں میں سے ایک کا۔ دو چیزوں میں سے ایک کا دوسرے پر، على الآخر، دوسرے پر فوقیت لے جانا، وصفا، باعتراض وصف۔ دو ایک جیسی چیزیں تھیں، یعنی دونوں طرف قیاس تھے، ان کے دو ایک جیسی چیزوں میں سے ایک قیاس جو ہے دوسرے پر بڑھ گیا۔ ایک قیاس دوسرے پر بڑھ گیا۔ تو تعریف کس کی کر رہے ہیں؟ ترجیح کی، اور تعریف کیا کی؟ فضل أحد المثلين على الآخر وصفا، دو ایک جیسی چیزوں میں سے ایک کا دوسرے پر وصف کے اعتبار سے بڑھ جانا، فوقیت لے جانا۔ تو یہ تعریف تو ترجیح کی نہیں ہے، ترجیح کا معنی تو ہے فوقیت بتلانا، فوقیت دینا۔ ترجیح کا کیا معنی ہے؟ فوقیت دینا، وہ تو سائل یا معلل کیا کرے گا؟ کوئی وصف وغیرہ ذکر کر کے ترجیح دے گا اپنے قیاس کو۔ خود بخود وہ ترجیح پا جائے ایک قیاس دوسرے پر، یہ تو ترجیح نہیں ہے، یہ تو رجحان ہے، کیا چیز ہے؟ یہ تو فعلِ لازم ہے، اور ترجیح تو فعلِ متعدی ہے۔ تو یہاں تعریف کس کی کر رہے ہیں؟ ترجیح یعنی فعلِ متعدی کی، اور جو انہوں نے فضل أحد المثلين على الآخر وصفا، یہ جو ذکر کیا یہ تو ترجیح نہیں بیان ہو رہی، کیا بیان ہو رہا ہے؟ رجحان، فعلِ لازم بیان ہو رہا ہے، حالانکہ ترجیح تو فعلِ متعدی ہے۔ تو بتلایا کہ یہاں فضل سے پہلے کیا لفظ محذوف ہے؟ بیان۔ آب ترجمہ دیکھیے: کہ دو مثلین میں سے ایک کا دوسرے پر وصف کے اعتبار سے بڑھنے کو بیان کرنا۔ بڑھنے کو بیان کرنا کہ معلل یا سائل کیا کرتا ہے؟ دو مثلین میں سے ایک کے دوسرے پر بڑھنے کو بیان کرتا ہے، تو اس کو ترجیح دیتا ہے، کیا کرتا ہے؟ اس کو راجح بتلاتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟ دیکھیے خود شرح میں بتلا رہے ہیں: أي بيان فضل أحد المثلين، یعنی دو مثلین میں سے ایک کی فوقیت کو بیان کرنا، ولا يكون تعريفا للرجحان لا للترجيح، اور یہ تعریف رجحان کی نہیں، لا للترجيح، ترجیح کی ہے۔ عبارت پر نظر ہے؟ ترجمہ: ولا يكون تعريفا للرجحان لا للترجيح، کہ یہ رجحان کی تعریف نہیں، ترجیح کی تعریف ہے۔ آپ کے ذہن میں آئے گا ترجیح سے پہلے تو "لا" کا لفظ آیا، جی؟ "لا"। تو جواب، پہلے میں یہ بات بیان کر چکا ہوں کہ نفی پر نفی داخل ہو تو وہ اثبات کا فائدہ دے گی۔ آپ کہتے ہیں مثلاً کے طور پر: میرے پاس زید نہیں آئے گا، تو آپ زید کے آنے کی نفی کر رہے ہیں۔ اور اسی نفی پر ایک اور نفی ذرا لے آئیں: ایسا نہیں ہے کہ زید میرے پاس نہ آئے، کیا معنی؟ آئے گا۔ دیکھو نفی پر نفی داخل ہوئی تو کس کا، کیا معنی ہوا؟ اثبات کا۔ تو یہاں پر بھی، پیچھے تھا "لا يكون"، نفی تھی، اور آگے ہے "لا للترجيح"، یہ آگے بھی نفی، تو اس بعد والی نفی پر یہ پہلے والی نفی "لا يكون" داخل ہوا تو اس نے کس چیز کا فائدہ دیا؟ اثبات کا۔ تو وہ تعریف رجحان کی نہیں ہے، کس کی ہے؟ ترجیح کی ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو یہاں لہذا اشکال یہ ہوتا تھا کہ اگر یہ عبارت اسی طرح رکھی جائے تو پھر تو یہ رجحان کی تعریف ہوئی، یعنی فعلِ لازم بیان ہوا، حالانکہ ترجیح تو فعلِ متعدی ہے۔ تو شارح نے بتلا دیا کہ فضل سے پہلے کیا لفظ محذوف ہے؟ بیان، جو مضاف ہے وہ محذوف ہے، اور جب بیان کا لفظ مضاف محذوف آپ مانیں گے تو پھر یہ ترجیح کی تعریف ہو گی نہ کہ رجحان کی بھئی۔ تو یہ ترجیح ہی کی تعریف ہے۔ ومعنى قوله "وصفا"، اور متن میں آیا نا "وصفا"، فوقیت بیان کرنا دو میں سے ایک کی دوسرے پر کس اعتبار سے فوقیت بیان کرنا؟ وصف کے اعتبار سے۔ تو یہ جو "وصفا" آیا ماتن کا قول، اس کا معنی یہ ہے: أن لا يكون ذلك الشيء الذي يقع به الترجيح دليلا مستقلا بنفسه، کہ وہ چیز جس کے ذریعے ترجیح واقع ہو رہی ہے، ترجیح حاصل ہو رہی ہے، وہ دلیلِ مستقل، خود دلیلِ مستقل نہیں ہونی چاہیے، بل يكون وصفا للذات، بلکہ کیا ہونا چاہیے؟ اس ذات کا وصف ہو، غير قائم بنفسه، خود قائم نہ ہو، خود قائم نہ ہو۔ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ جس کے ذریعے ترجیح دی جائے، وہ الگ مستقل دلیل نہیں ہونی چاہیے، جس کے ذریعے ترجیح دی جائے وہ الگ مستقل دلیل نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اسی ذات کے ساتھ کوئی وصف قائم ہو جس کی وجہ سے کیا دی جائے؟ ترجیح، کوئی وصف اس ذات کے ساتھ قائم ہو، اس کا اپنا الگ مستقلاً وجود نہ ہو، اسی چیز کے ساتھ وہ قائم ہو، وصف ہو۔ تو ترجیح وصف کے ذریعے دی جائے گی، ذات کے ذریعے نہیں دی جائے گی۔ جیسے بھئی، ایک گواہ عادل ہے اور ایک گواہی ہے عادل کی اور ایک گواہی ہے فاسق کی، کس کی گواہی کو ترجیح ہو گی؟ عادل کی، کیوں؟ کیونکہ اس میں ایک اس کی ذات میں ایک وصف ہے، عدالت والا۔ تو دیکھو، یہاں جو ترجیح دی گئی وہ ایک کس چیز کی وجہ سے دی گئی؟ عدالت، اور عدالت کیا چیز ہے؟ وصف ہے، کوئی الگ ذات نہیں ہے، کوئی الگ ذات نہیں۔ تو لہذا ترجیح جب بھی دی جائے گی کسی ایسے وصف کے ذریعے دی جائے گی جو اس ذات کے ساتھ قائم ہو، جو الگ نہ ہو بھئی، الگ نہ ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: ومعنى قوله "وصفا"، اور مصنف کے قول "وصفا" کا معنی یہ ہے: أن لا يكون ذلك الشيء الذي يقع به الترجيح دليلا مستقلا بنفسه، کہ نہ ہو وہ چیز جس کے ذریعے ترجیح حاصل ہو رہی ہے ایسی دلیل جو مستقل ہو اپنی ذات کے اعتبار سے، یعنی وہ چیز اپنی ذات کے اعتبار سے مستقل دلیل نہ ہو جس کے ذریعے ترجیح واقع ہو رہی ہے، بل يكون وصفا للذات غير قائم بنفسه، بلکہ وہ ایسا وصف ہو ذات کا جو خود قائم نہ ہو۔ ولهذا يترجح شهادة العادل على شهادة الفاسق، اور اسی وجہ سے ترجیح پائے گی عادل کی گواہی فاسق کی گواہی پر، ولا يترجح شهادة أربعة على شهادة شاهدين، اور ترجیح نہیں پائے گی چار آدمیوں کی گواہی دو گواہوں کی گواہی پر۔ دو کی گواہی پر چار کی گواہی ترجیح نہیں پائے گی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لہذا ترجیح جس کے ذریعے دی جائے وہ وصف ہونا چاہیے، وصف ہونا چاہیے، اس کے ذریعے ترجیح ہو گی، مستقل دلیل نہ ہو۔ وجہ اس کی یہ کہ اگر مستقل دلیل ہو پھر تو یہاں کثرتِ دلائل آ جائے گا ایک طرف، اور آپ پڑھ چکے ہیں کہ ترجیح جو ہے وہ کثرتِ دلائل کے ذریعے نہیں بلکہ ترجیح قوتِ دلیل کے ذریعے ہوتی ہے، کس کے ذریعے؟ قوتِ، کثرتِ دلیل کے ذریعے ترجیح نہیں ہوتی بلکہ قوتِ دلیل کے ذریعے ترجیح ہوتی ہے۔ ایک مسئلے میں آپ ایک آیت ذکر کر دیتے ہیں اور دوسری طرف وہ مخالف جو ہے وہ دو آیتیں ذکر کر دیتا ہے، تو یہ نہیں کہا جائے گا اس کو ترجیح ہے کیونکہ اس نے دو دلیلیں ذکر کر دیں، دو آیتیں ذکر کر دیں، بلکہ اعتبار کس چیز کا ہے؟ قوتِ دلیل کا ہے، اور قوتِ دلیل تو یہاں آپ کی دلیل بھی اتنی ہی قوی جتنی اس کی دلیلیں قوی کیونکہ آپ بھی کیا پیش کر رہے ہیں؟ آیت پیش کر رہے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اعتبار کثرتِ دلیل کا نہیں ہے بلکہ قوتِ دلیل کا ہے، اسی لیے کہا کہ وہ دلیل جس کے ذریعے ترجیح دی جائے وہ وصف ہونا چاہیے بھئی، مستقل دلیل نہیں ہونی چاہیے بھئی، وصف کی وجہ سے قوت آئے گی جبکہ الگ دلیل ہوئی تو اس کی وجہ سے تو کثرت آئے گی اور کثرت کا اعتبار نہیں ہے بلکہ قوت کا اعتبار ہے۔ حتى لا يترجح القياس على قياس يعارضه بقياس آخر ثالث يؤيده، یہاں تک کہ ترجیح نہیں پائے گا ایک قیاس ایسے قیاس پر جو اس کے مقابل ہے، بقياس آخر ثالث، کسی دوسرے قیاس کی وجہ سے، دوسرے سے کیا مراد ہے؟ ثالث، کوئی تیسرا قیاس۔ بھئی دیکھیے! ایک قیاس آپ نے پیش کیا، ایک اس معلل نے پیش کیا، وہ اپنے قیاس کے ساتھ ایک اور قیاس بھی ملا دیتا ہے۔ اب اس کے قیاس کی تائید ایک اور قیاس کر رہا ہے، لیکن اس کی وجہ سے اس کے قیاس کو ترجیح نہیں دی جا سکتی، اس لیے کیونکہ وہاں کیا صورت آ گئی؟ کثرتِ دلیل آ گئی اور کثرتِ دلیل جو ہے وہ ترجیح کا باعث نہیں ہوتی بلکہ قوتِ دلیل ترجیح کا باعث ہوتی ہے۔ کہتے ہیں: حتى لا يترجح القياس على قياس يعارضه، یہاں تک کہ ترجیح نہیں پائے گا ایک قیاس ایسے دوسرے قیاس پر جو اس کے مقابل ہے، بقياس آخر، ایک دوسرے قیاس، یعنی ثالث، تیسرے قیاس کی وجہ سے ترجیح نہیں پائے گا ایک قیاس دوسرے پر۔ ایسا تیسرا قیاس يؤيده، جو اس کی کیا کر رہا ہو؟ تائید کر رہا ہو، لأنه يصير كأن في جانب قياسا وفي جانب قياسين، اس لیے کیونکہ یہ اسی طرح ہو جائے گا گویا کہ ایک طرف ایک قیاس ہے اور دوسری جانب دو قیاس ہیں، اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وكذا الحديث ولا يترجح على حديث يعارضه بحديث ثالث يؤيده، اور اسی طرح حديث ہے کہ وہ ترجيح نہیں پاتی کسی ایسی حديث پر جو اس کے مقابل ہو، ایک حديث دوسری حديث جو اس کے مقابل ہے اس پر ترجيح نہیں پاتی بحديث ثالث يؤيده کسی تیسری ایسی حديث کی وجہ سے جو اس پہلی حديث کی تائید کر رہی ہو۔ والكتاب لا يترجح على آية تعارضه بآية ثالثة تؤيده، اور کتاب جو کتاب اللہ ہے اسی طرح وہ ترجيح نہیں پاتی کسی ایسی آیت پر جو اس کے مقابل ہو بآية ثالثة کسی ایسی تیسری آیت کی وجہ سے جو اس کی تائید کرے۔ کتاب اللہ کی ایک آیت سے ایک حکم معلوم ہو رہا ہے، دوسری آیت سے بظاہر دوسرا حکم معلوم ہو رہا ہے اور اس دوسری آیت کی مؤيد ایک اور تیسری آیت بھی موجود ہے، تو اس کی وجہ سے ایک طرف گویا دو آیتیں ہو گئیں، ایک طرف ایک آیت ہو گئی، تو دو آیتوں والی جانب کو ترجيح نہیں دی جا سکتی۔ اس لیے کیونکہ اعتبار وہ کثرتِ ادلہ کا نہیں ہے بلکہ قوتِ دلیل کا ہے۔ وإنما يترجح كل واحد من القياس والحديث والكتاب بقوة فيه، اور ترجيح پاتی ہے ہر ایک یعنی کہ قياس، حديث اور کتاب اللہ، ان میں سے ہر ایک ترجيح پاتا ہے بقوة فيه، ایسی قوت کی وجہ سے فيه جو اسی کے اندر ہو۔ ان میں سے ہر ایک ترجيح پاتا ہے کس کی وجہ سے؟ اس قوت کی وجہ سے جو اسی میں ہو، تو وہ قوت کے ذریعے ترجيح ہوگی، کثرت کے ذریعے ترجيح نہیں، فيكون الاستحسان الصحيح الأثر مقدما على القياس الجلي الفاسد الأثر، پس وہ استحسان جو صحيح الاثر ہو، جس کا اثر صحيح ہو، وہ مقدم ہوگا اس قياسِ جلی پر جو فاسد الاثر ہو بھئی، والحديث الذي هو مشهور مقدما على خبر الواحد، اور وہ حديث جو مشهور ہو وہ مقدم ہوگی خبرِ واحد پر، والكتاب الذي هو محكم قطعي مقدما على ما هو ظني، اور کتاب وہ کتاب جو کہ محكم ہے، قطعی ہے وہ مقدم ہوگی اس پر جو اس دليل پر جو ظنی ہو۔ تو دیکھا؟ حديثِ مشهور کو خبرِ واحد پر ترجيح کس وجہ سے؟ قوت کی وجہ سے، کیونکہ حديثِ مشهور قوی ہے اور خبرِ واحد ضعیف ہے، اور اسی طرح کتاب اللہ محكم اور قطعی ہے اس کو ترجيح ہوگی کسی دليلِ ظنی پر کیونکہ کتاب اللہ قوی ہے، قطعی ہے بھئی، تو اعتبار قوت کا ہے کثرت کا نہیں۔ وكذا صاحب الجراحات لا يترجح على صاحب جراحة واحدة، صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے ایک آدمی کو غلطی سے زخم لگا دیا، سخت بڑا زخم جو موت تک پہنچانے کا باعث ہو سکتا ہے، اور دوسرے نے اسی زخمی کو دو زخم یا تین زخم اسی طرح کے لگا دیے جن میں سے ہر زخم موت تک پہنچانے کا باعث ہو سکتا ہے، تو جنایت ہوئی دونوں سے لیکن خطاءً ہوئی، کس قسم کی جنایت ہوئی؟ خطاءً ہوئی، اور پھر وہ مجروح جو زخمی تھا اس کا انتقال ہو گیا، تو اب اس خطاءً جب کسی کو قتل کر دیا جائے تو اس میں قصاص نہیں آتا بلکہ ديت آیا کرتی ہے، تو یہاں ديت آئے گی اب دونوں زخمی کرنے والوں پر، تو اب کس طرح ديت کو تقسیم کیا جائے گا؟ کیا ایک کے ایک نے جو ایک زخم لگایا اور دوسرے نے تین زخم لگائے، تو کیا چار حصے کریں گے؟ ایک زخم والے پر ایک حصہ اور تین زخم لگانے والے پر تین حصے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، بلکہ دونوں پر ديت برابر برابر آئے گی، نصف ديت ایک زخم لگانے والے پر اور نصف تین زخم لگانے والے پر آ جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہذا یہاں بھی دیکھو کثرت کی وجہ سے ترجيح نہیں، کہتے ہیں وكذا صاحب الجراحات اسی طرح جو ہے کئی زخم لگانے والا جو ہے لا يترجح على صاحب جراحة واحدة، وہ ترجيح نہیں پائے گا ایک زخم لگانے والے پر، فإن جرح رجل جراحة واحدة، پس اگر زخم لگایا کسی شخص کو ایک ہی زخم وجرحه آخر جراحات متعددة، اور اس کو زخم لگایا دوسرے نے کئی زخم بھئی ومات المجروح بها، اور مجروح مر گیا ان سب زخموں کی وجہ سے كانت الدية بين الجارحين سواء، تو ديت جو ہے ان دو زخمی کرنے والوں کے درمیان برابر ہوگی بخلاف ما إذا كان جراحة أحدهما أقوى من الآخر. صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ زخم سب کے ایک جیسے تھے، موت تک پہنچانے والے تھے، لہذا یہاں پر اب کثرت کی وجہ سے فرق نہیں پڑے گا۔ ہاں اگر ایک کا زخم زیادہ ہے، موت تک پہنچانے والا ہے اور دوسرے کا زخم موت تک پہنچانے والا نہیں ہے، تو ایک کے زخم میں وہ کیا ہے؟ موت تک پہنچانے میں اس کے زخم کا دخل آ گیا، اس صورت میں پھر اس پر وہاں اثر پڑے گا بھئی اس مسئلے میں، مثلاً ایک شخص نے ایک آدمی کا غلطی سے ہاتھ کاٹ دیا اور دوسرے نے غلطی سے اس کی گردن کاٹ دی، کیا کیا؟ گردن کاٹ دی، تو اب یاد رکھیے ديت جو ہے گردن کاٹنے والے پر آئے گی، کیونکہ ہاتھ کٹنے کے بعد بھی انسان بچ جایا کرتا ہے لیکن گردن کٹنے کے بعد تو نہیں بچتا، تو یہاں ایک کا زخم جو ہے وہ قوی ہے، موت تک پہنچانے والا ہے، اس میں بچنے کی کوئی صورت ہی نہیں۔ لہذا معلوم ہوا اعتبار کس چیز کا ہے؟ قوت کا اعتبار ہے، کثرت کا اعتبار نہیں۔ بخلاف ما إذا كان جراحة أحدهما أقوى من الآخر، بخلاف اس کے کہ جب ان دونوں میں سے ایک کا زخم جو ہے وہ زیادہ قوی ہے دوسرے کے زخم سے، إذ ينسب الموت إليه، جبکہ موت کی نسبت اس کی طرف کی جائے بأن قطع واحد يد رجل، بایں صورت کہ کاٹ دیا ایک شخص نے دوسرے آدمی کے ہاتھ کو والآخر جز رقبته، اور دوسرے نے اس کی گردن کاٹ دی، جزّ يجزّ کے معنی کاٹنے کے، والآخر جز رقبته اور دوسرے نے اس کی گردن کاٹ دی كان القاتل هو الجاز، تو قاتل کون ہوگا؟ وہ جاز وہ گردن کاٹنے والا ہوگا إذ لا يتصور الإنسان بدون الرقبة، اس لیے کیونکہ انسان کا تصور نہیں کیا جا سکتا بغیر گردن کے ويتصور بدون اليد، اور ہاتھ کے بغیر انسان کا تصور کیا جا سکتا ہے۔ وكذا الشفيعان في الشقص الشائع المبيع بسهمين متفاوتين، اور اسی طرح دو شفيع کرنے والے في الشقص الشائع المبيع، شقص کہتے ہیں حصے کو، ایسے حصے میں جو پھیلا ہوا ہے، بیچا گیا ہے، ایسا حصہ جو پھیلا ہوا ہے، شائع کا کیا معنی؟ پھیلا ہوا، پھیلا ہوا ہے، بیچا گیا ہے، اس حصے میں دو شفيع کرنے والے ہیں بسهمين متفاوتين، بوجہ دو مختلف حصوں کے، بوجہ دو مختلف حصوں کے، تو یہاں پر بھی کثرت کا اعتبار نہیں ہوگا بھئی۔ صورتِ مسئلہ یہ، بھئی دیکھیے آپ نے شفعہ پڑھا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ زمین میں، جائیداد میں شریک ہے یا اس کا پڑوسی ہے اور پھر ان میں سے ایک اپنے حصے کی جائیداد یا زمین بیچتا ہے تو دوسرا اس پر شفعہ کر سکتا ہے، جبکہ اسی میں دوسرے کا بھی حصہ تھا یا اسی کا وہ پڑوسی تھا۔ صورت یہ بنا لیں بھئی، دیکھیے میں نے، زید نے، یا یوں کہیں، زید، عمر اور بکر، زید، عمر اور بکر ان تینوں نے مل کر ایک 10 کنال کا پلاٹ خریدا، مثلاً وہ 10 کنال کا پلاٹ جو ہے وہ 60 لاکھ کا ہے، کتنے کا ہے؟ 60 لاکھ، اور اس میں سے جو ہے 30 لاکھ زید کے ہیں، 20 لاکھ عمر کے ہیں اور 10 لاکھ بکر کے ہیں، 30 لاکھ کس کے؟ زید کے، گویا نصف حصہ کس کا ہے؟ زید کا، 20 لاکھ ہیں عمر کے یعنی تیسرا حصہ ثلث کس کا ہے؟ عمر کا، اور 10 لاکھ ہیں بکر کے یعنی چھٹا حصہ کس کا ہے؟ بکر کا ہے، اب یہ 10 کنال کا جو انہوں نے ٹکڑا زمین کا خریدا ابھی تقسیم نہیں کی، اگر تقسیم کر دیتے ہیں پھر تو پڑوسی بن جائیں گے، ایک دوسرے کی زمین الگ الگ ہو گئی، ہم صورت وہ ذکر کر رہے ہیں جس کے اندر حصہ پھیلا ہوا ہو، اب اس زید کا حصہ بھی پورے 10 کنال میں پھیلا ہوا ہے، اس 10 کنال کے کوئی ایک انچ بھی پکڑیں تو اس میں زید کا بھی حصہ، عمر کا بھی حصہ اور بکر کا بھی حصہ، زید کا نصف، عمر کا ثلث اور بکر کا سدس بھئی، کوئی بھی حصہ زمین کا پکڑ لیں۔ اب صورت یہ ہوئی کہ اس زمین میں جس میں تینوں شریک تھے اور تینوں کے حصے الگ الگ ہیں اور حصے پھیلے ہوئے ہیں، تقسیم نہیں کیے، ان میں سے صاحبِ نصف نے یعنی زید نے اپنا حصہ بیچ دیا کسی کے ہاتھ بھئی، جب کسی کے ہاتھ بیچا تو شریعت نے جو شریکِ آخر ہیں ان کو حق دیا ہے شفعہ کرنے کا کہ وہ کیا کریں؟ شفعہ کر کے مشتری کو اتنے ہی پیسے دے کر زبردستی اس سے وہ زمین لے سکتے ہیں بھئی، تو لہذا اب یہ دونوں کو شفعے کا حق ہوا، تو دونوں شفعہ کر کے وہ حصہ لے لیتے ہیں، تو وہ حصہ کتنا کتنا ملے گا ہر ایک کو؟ اگر دیکھا جائے تو عمر کا حصہ ہے تیسرا اور بکر کا حصہ ہے چھٹا، یعنی یعنی عمر کا حصہ بکر سے دگنا ہے، 6 کا چھٹا کتنا ہوتا ہے؟ 6، 6 کا چھٹا حصہ: 1، اور 6 کا ثلث کتنا ہوتا ہے؟ ثلث: 2، تیسرا حصہ، 6 کے تین حصے کریں، کتنا آیا؟ 2، اور چھ حصے کریں تو کتنا آیا؟ 1، اور 6 کا نصف کریں تو کتنا آیا؟ 3، وہی 60 لاکھ کو میں نے 6 بنا دیا آسانی کے لیے، تو دیکھیے یہ جو 6 کے اندر ثلث آیا 2، یہ کس کا حصہ ہے؟ عمر کا، اور 6 کا چھٹا حصہ کتنا ہے؟ 1، یہ کس کا حصہ؟ بکر کا، تو زید نے اپنا حصہ 3 جو تھا وہ بیچ دیا، اب عمر کا حصہ ہے 2، بکر کا حصہ 1، یعنی یوں کہیں عمر کا حصہ بکر سے دگنا ہے، عمر کا حصہ بکر سے دگنا، تو اگر ان کے حصوں کو دیکھا جائے تو اس اعتبار سے وہ جو زمین، نصف زمین انہوں نے شفعے کے ذریعے لے لی، اس کے کتنے حصے ہونے چاہئیں؟ تین حصے ہونے چاہئیں، دو حصے کس کو ملنے چاہئیں؟ عمر کو، اور ایک حصہ کس کو ملنا چاہیے؟ بکر کو، چنانچہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسی طرح ہوگا، دو حصے کس کو ملیں گے؟ عمر کو، اور ایک حصہ کس کو ملے گا؟ بکر کو، کون سی زمین کے؟ وہ مشفوعہ زمین جس کو بیچا تھا زید نے بھئی، یعنی نصف زمین کو۔ جبکہ ہمارے نزدیک اعتبار کثرت کا نہیں بلکہ قوت کا ہے، اور قوت کے اعتبار سے تو دونوں برابر ہیں، دونوں شریک ہیں، ہاں کثرت ہے، ایک کا حصہ زیادہ ہے عمر کا اور بکر کا حصہ کم ہے، تو جب قوت کے اعتبار سے دونوں برابر ہیں تو لہذا ہمارے نزدیک جو نصف زمین جو زید نے بیچی تھی اور جس کو انہوں نے شفعہ کر کے لیا ہے وہ اس عمر اور بکر میں برابر برابر تقسیم ہوگی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ برابر تقسیم ہوگی۔ یہ معنی ہے وكذا الشفيعان اور اسی طرح دو شفيع کرنے والے في الشقص الشائع المبيع، ایسے حصے میں جو پھیلا ہوا ہے، بیچا گیا ہے، اس میں دو شفيع کرنے والے ہیں بسهمين متفاوتين، بسهمين أي بسببي سهمين متفاوتين بوجہ اپنے دو مختلف حصوں کے، اس کا تعلق شفيعان سے ہے، وہ دو شفيع کرنے والے ہیں، کس وجہ سے شفيع کرنے والے ہیں اس شائع حصے میں؟ اس لیے کیونکہ دونوں کے دو مختلف حصے ہیں اس کے اندر، وہ بھی شریک ہیں اس کے ساتھ، تو یہ دونوں جو ہیں شفيعان، سواء في استحقاق الشفعة، یہ استحقاقِ شفعہ میں برابر ہیں یعنی دونوں کا برابر حق ہے ولا يترجح أحدهما على الآخر بكثرة نصيبه، اور ترجيح نہیں پائے گا ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی دوسرے پر اپنے حصے کی کثرت کی وجہ سے، صورتها، صورت اس مسئلے کی یہ ہے: دار مشتركة بين ثلاثة نفر، کہ ایک گھر ہے جو مشترک ہے تین افراد میں لأحدهم سدسها، ان میں سے ایک کے لیے اس کا چھٹا حصہ ہے وللآخر نصفها، اور دوسرے کے لیے نصف ہے وللثالث سدسها، اور تیسرے کے لیے ثلث تیسرا حصہ ہے فباع صاحب النصف، پس بیچا صاحبِ نصف نے یعنی نصف زمین حصے والے نے مثلاً مثال کے طور پر نصيبه، اپنے حصے کو، نصف والے نے بیچ دیا اپنے حصے کو وطلب الآخران الشفعة، اور باقی دونوں جو ہیں انہوں نے شفعہ طلب کیا يكون المبيع بينهما نصفين بالشفعة، تو وہ جو بیچا ہوا حصہ ہے وہ ان دونوں کے درمیان نصف نصف ہوگا شفعہ کی وجہ سے، یہ ہمارے نزدیک، کیونکہ ہمارے نزدیک اعتبار کس کا ہے؟ قوت کا ہے، کثرت کا نہیں، وعند الشافعي رحمہ اللہ، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک يقضى بالشق المبيع أثلاثا، کہ فیصلہ کیا جائے گا بیچے ہوئے حصے کا تین حصے کر کے لأن الشفعة من مرافق الملك، اس لیے کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ شفعہ جو ہے من مرافق الملك، یہ ملکیت کے نفعوں میں سے ہے، کس میں سے ہے؟ یہ ملکیت کے نفعے ہیں فيكون مقسوما على قدره، تو لہذا اس کو تقسیم بھی کیا جائے گا اس ملکیت کی مقدار پر، جس کی ملکیت زیادہ اس کو حصہ بھی زیادہ، یہ ملکیت کا نفع ہے نا شفعہ، اور جتنی ملکیت زیادہ ہوگی اتنا ہی نفع بھی زیادہ ہوگا، تو عمر کا حصہ بکر سے دگنا تھا تو عمر کو زمین بھی کتنی ملے گی؟ دگنی ملے گی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ وإنما وضع المسألة في الشقص، اور ماتن نے مسئلہ کو بنایا شقص حصے کے اندر، بھئی دیکھیے شفعہ جیسے شرکت کی صورت میں ہوتا ہے اسی طرح شفعہ جوار یعنی پڑوس کی وجہ سے بھی ہوتا ہے، آپ کے اس گھر کے ساتھ والا گھر کسی نے بیچا، آپ شفعہ کر کے اس گھر کو لے سکتے ہیں، تو ہمارے نزدیک شفعہ جوار کی یعنی پڑوس کی وجہ سے بھی ہوتا ہے، تو ماتن نے بھئی اوپر شقص، حصے والی صورت کیوں بنائی؟ یعنی شرکت والی صورت کیوں بنائی؟ پڑوس والی صورت کیوں نہیں بنائی؟ کہتے ہیں بھئی تاکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے ساتھ جو اختلاف ہے اس کو بیان کیا جا سکے، کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ پڑوس کی وجہ سے شفعے کے قائل ہی نہیں ہیں، تو اگر ہم پڑوس والی صورت بناتے تو وہاں پر اختلاف بیان نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ وہاں ان کے نزدیک شفعہ آتا ہی نہیں۔ وإنما وضع المسألة في الشقص، اور ماتن نے مسئلے کو وضع کیا شقص کے اندر وإن كان حكم الجوار عندنا كذلك، اگرچہ جوار کا حکم بھی ہمارے نزدیک اسی طرح ہے، تو یہ کیوں کیا؟ مسئلہ شقص کے اندر کیوں بنایا؟ کہتے ہیں يتأتى فيه خلاف الشافعي رحمہ اللہ، تاکہ اس میں حاصل ہو امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف یعنی وہ بھی حاصل ہو، اسے بھی بیان کیا جا سکے۔ وما يقع به الترجيح، یہاں تک تو ترجيح کی بارے میں بتلایا کہ معارضے کے اندر، معارضے کی صورت میں پھر ترجيح کی طرف جائیں گے، دو قياسوں میں معارضہ آ جائے تو ایک کو ترجيح دیں گے، اور ترجيح کسے کہتے تھے؟ کہ ایک قياس کی فوقیت کو بیان کرنا دوسرے قياس پر، اور فوقیت پھر کس کے ذریعے ہوگی؟ یہ بھی بیان کر دیا کہ یہ فوقیت جو ہے کس کے ذریعے ہوگی؟ کسی وصف کے ذریعے ہوگی، کسی مستقل دلیل کے ذریعے نہیں ہوگی، اب وہ ذکر کرنے لگے ہیں کہ کس کس طرح ترجيح ہوگی جو قوت کے ذریعے ہے، کہتے ہیں وما يقع به الترجيح أي ترجيح أحد القياسين على الآخر أربعة، اور وہ چیزیں جن کے ذریعے ترجيح واقع ہوتی ہے أي ترجيح أحد القياسين على الآخر، یعنی دو قياسوں میں سے ایک کی ترجيح دوسرے پر أربعة، وہ کتنی چیزیں ہیں؟ چار، بقوة الأثر، ایک تو قوتِ اثر کی وجہ سے كالاستحسان في معارضة القياس، جیسے کہ استحسان ہے کس کے مقابلے میں؟ قياس کے مقابلے میں، والأثر في الاستحسان أقوى، اور اثر جو ہے وہ استحسان کے اندر زیادہ قوی ہے فيترجح عليه، پس تو استحسان ترجيح پا جائے گا قياس پر، تفصیلی بحث پیچھے گزر چکی ہے کہ استحسان کیا ہے؟ اس کو ترجيح ہوتی ہے قياسِ جلی پر، فإن قيل، پس اگر یہ کہا جائے فعلى هذا يلزم أن يكون الشاهد الأعدل راجحا على العادل، لأن أثره أقوى. کہتے ہیں اس پر یہ لازم آتا ہے کہ ایک گواہ جو ہے وہ زیادہ عادل ہو۔ اس صورت میں تو کیا لازم آتا ہے کہ وہ گواہ جو زیادہ عادل ہو، وہ راجح ہو گا عَلَى الْعَادِلِ کس پر؟ عادل پر، لِأَنَّ أَثَرَهُ أَقْوَى کیونکہ وہ جو زیادہ عادل ہے اس کا اثر قوی ہے، زیادہ قوی ہے۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ آپ نے کہا اعتبار قوت کا ہے، قوت اثر کا، تو کہتے ہیں اس پر تو اشکال لازم آتا ہے کہ ایک طرف ایک گواہ ہے عادل، اور ایک طرف ایک گواہ ہے اَعدَل، یعنی زیادہ عادل ہے، تو زیادہ عادل کو ترجیح ہو گئی کس پر؟ عادل پر ترجیح ہو جائے گی، حالانکہ ایسا تو نہیں ہے۔ تو جواب دینے لگے ہیں، جواب یہ دیں گے کہ ہمیں آپ کی یہ بات تسلیم ہی نہیں ہے کہ عدالت میں کمی بیشی ہوتی ہے۔ عدالت میں کمی بیشی نہیں، تھوڑا سمجھ میں آ گئی؟ عدالت میں کمی بیشی، عدالت یا ہو گی یا نہیں ہو گی، اگر ہے تو اس میں پھر کمی بیشی نہیں ہے بھئی۔ اس میں پھر اب یہ بتلا سکتے ہیں کہ عدالت ہے یا عدالت نہیں ہے، کمی بیشی بیان نہیں۔ کمی بیشی جو آپ کہہ رہے ہیں وہ تقویٰ میں کہہ سکتے ہیں، تقویٰ میں ایک کا ایک زیادہ متقی ہو گواہ، دوسرا کم متقی ہو، لیکن بہرحال عادل تو ہیں، عدالت تو دونوں کے لیے ہے بھئی، تو عدالت میں کمی بیشی نہیں ہوتی بلکہ کس میں کمی بیشی ہوتی ہے؟ تقویٰ میں۔ أُجِيبَ بِأَنَّا لَا نُسَلِّمُ أَنَّ الْعَدَالَةَ تَخْتَلِفُ بِالزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ تو اس کا جواب دیا گیا کہ یہ بات ہمیں تسلیم نہیں ہے کہ عدالت جو ہے وہ مختلف ہوتی ہے بِالزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ، کم زیادہ اور کمی کے ساتھ، فَإِنَّهَا عِبَارَةٌ عَنِ الانْزِجَارِ عَنْ مَحْظُورَاتِ الدِّينِ اس لیے کیونکہ عدالت جو ہے یہ عبارت ہے، کس چیز سے عبارت ہے؟ عَنِ الانْزِجَارِ، انزجار کہتے ہیں رک جانا، باز رہنا، عَنْ مَحْظُورَاتِ الدِّينِ، محظورات کہتے ہیں ممنوعات کو بھئی، ممنوعات۔ رک جانا، باز رہنا عَنْ مَحْظُورَاتِ الدِّينِ کس چیز سے؟ دین کی ممنوعہ چیزوں سے، بِالاحْتِرَازِ عَنِ الْكَبَائِرِ احتراز کرتے ہوئے عَنِ الْكَبَائِرِ کس سے؟ کبائر سے احتراز، بچتے ہوئے۔ بھئی عدالت کسے کہتے ہیں؟ کہ انسان کبیرہ گناہوں سے بچتا ہو، اور صغیرہ گناہوں پر بھی اصرار نہ کرتا ہو، اصرار کا کیا معنی؟ بار بار کرنا۔ تو کبیرہ سے تو بچتا ہو، اور صغیرہ بھی ہوں تو کم ہوں، اس پر بار بار انہیں نہیں کرتا، ان پر ڈٹا نہیں رہتا بھئی، جما نہیں رہتا، کیونکہ صغیرہ پر اصرار بھی اس کو کیا بنا دیتا ہے؟ کبیرہ بنا دیتا ہے۔ تو کہتے ہیں اس لیے کیونکہ عدالت جو ہے یہ عبارت ہے عَنِ الانْزِجَارِ عَنْ مَحْظُورَاتِ الدِّينِ، باز رہنا دین کی ممنوعہ چیزوں سے، بِالاحْتِرَازِ عَنِ الْكَبَائِرِ وَعَدَمِ الإِصْرَارِ عَلَى الصَّغَائِرِ بچتے ہوئے کبیرہ گناہوں سے اور اصرار نہ کرتے ہوئے صغیرہ گناہوں پر، وَهُوَ أَمْرٌ مَّضْبُوطٌ لَّا يَتَعَدَّدُ اور یہ ایک ایسا امر ہے مَضْبُوطٌ جو کیا ہے؟ مضبوط ہے، یعنی ضبط کیا گیا ہے۔ کیا کیا گیا ہے؟ ضبط کیا گیا ہے، محفوظ کیا گیا ہے، لَّا يَتَعَدَّدُ اس میں تعدد نہیں، عدالت میں تعدد نہیں، یعنی کمی بیشی نہیں ہے بھئی، وَإِنَّمَا الاِخْتِلَافُ فِي التَّقْوَى اختلاف صرف کس میں ہوتا ہے؟ تقویٰ میں ہوتا ہے، کسی میں تقویٰ زیادہ ہو گا، کسی میں کم، لیکن عدالت کے اندر اختلاف نہیں کہ اس میں زیادہ عدالت ہے اور ایک میں کم بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی انہوں نے کیا کہا؟ وَهُوَ أَمْرٌ مَّضْبُوطٌ لَّا يَتَعَدَّدُ کہ یہ ایک ایسا امر ہے جو مضبوط ہے، یعنی منضبط ہے، اس میں تعدد نہیں، یہ تو باقاعدہ ضبط کیا ہوا ہے، عدالت کس کو کہتے ہیں؟ کیا بیان کیا انہوں نے؟ گناہوں، کبیرہ سے بچتا ہو اور صغیرہ پر اصرار نہ کرتا ہو۔ تو یہ وصف کسی میں ہو گا یا کسی میں نہیں ہو گا، ہے تو پھر اس کے اندر کمی بیشی نہیں، وہ جو کمی بیشی ہو گی وہ تقویٰ کے اندر ہو گی، وہ عدالت میں کمی بیشی نہیں، تو یہ باقاعدہ منضبط ہے، اس کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ گناہوں سے، بڑوں کے گناہوں سے بچتا ہو اور صغیرہ پر اصرار نہ کرتا ہو، چلیے بس بھئی، ہَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
84 approved lectures · 77 of 84