Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

نور الأنوار · dars-119

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 12 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 10
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔119 والَمُناقَضَةُ وَهِىَ تَخَلُّفُ الحُكْمِ عَنِ الوَصْفِ الَّذِى ادُّعِىَ كَوْنُهُ عِلَّةً وَيُعَبَّرُ عَنْ هَذَا فِى عِلْمِ المُنَاظَرَةِ بِالنَّقْضِ، وَأَمَّا المُنَاقَضَةُ فَهِىَ مُرَادِفَةٌ عِنْدَهُمْ لِلْمَنَعِ، كَقَوْلِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِى الوُضُوءِ وَالتَّيَمُّمِ: إِنَّهُمَا طَهَارَتَانِ، فَكَيْفَ اَفْتَرَقَا فِى النِّيَّةِ؟ أَيْ لاَ يَفْتَرِقَانِ فِى النِّيَّةِ. بحث چل رہی تھی دفعِ قیاس کے طریقے میں۔ اور انہوں نے بتلایا تھا کہ ایک علتِ طردیہ ہے، ایک علتِ مؤثرہ ہے۔ علتِ طردیہ اس کے دفع کے چار طریقے ہیں: ایک ہے قول بموجب العلة، دوسرا ہے ممانعت، تیسرا ہے فسادِ وضع۔ چوتھی قسم رہ گئی تھی، وہ آج ہم پڑھیں گے کہ جس کے ذریعے علتِ طردیہ کو دفع کیا جا سکتا ہے، اس قیاس پر اعتراض کیا جا سکتا ہے، اور وہ چوتھی قسم کیا ہے؟ مناقضہ ہے۔ مناقضہ کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: "والَمُناقَضَةُ وَهِىَ تَخَلُّفُ الحُكْمِ عَنِ الوَصْفِ الَّذِى ادُّعِىَ كَوْنُهُ عِلَّةً"، وہ حکم کا پیچھے رہ جانا ہے اس وصف سے جس کے علت ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ "عَنِ الوَصْفِ الَّذِى ادُّعِىَ كَوْنُهُ عِلَّةً" اس وصف سے یعنی جس کو علت کہا گیا ہے اس سے حکم کا پیچھے رہ جانا۔ یعنی علل نے تعلیل کی، علل نے تعلیل کی، ایک حکم کی ایک علت بیان کی کہ یہ حکم ہے اور یہ اس کی علت ہے۔ ہم اس کی اس علت کو توڑ دیتے ہیں کس طرح؟ ہم کہتے ہیں دیکھو فلاں جگہ پر یہ علت ہے اور حکم نہیں ہے۔ تو دیکھو حکم پیچھے رہ گیا علت سے، حکم نہیں آیا، علت آگئی اور حکم نہیں آیا، تو اس طرح ہم اس کی علت کو توڑ دیتے ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے "تَخَلُّفُ الحُكْمِ عَنِ الوَصْفِ الَّذِى ادُّعِىَ كَوْنُهُ عِلَّةً" اس وصف سے جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ علت ہے۔ "وَيُعَبَّرُ عَنْ هَذَا فِى عِلْمِ المُنَاظَرَةِ بِالنَّقْضِ" کہتے ہیں اس کو علمِ مناظرہ میں نقض سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ علمِ اصولِ فقہ والے اس کا نام مناقضہ رکھتے ہیں، اور مناظرے کی کتابوں میں بھی اس کا ذکر آتا ہے، لیکن وہاں اس کا نام وہ مناقضہ نہیں کہیں گے بلکہ کیا نام لیتے ہیں؟ نقض کہتے ہیں۔ "وَأَمَّا المُنَاقَضَةُ فَهِىَ مُرَادِفَةٌ عِنْدَهُمْ لِلْمَنَعِ" اور باقی مناقضہ، تو یہ مترادف ہے ان کے نزدیک یعنی علمِ مناظرہ والوں کے نزدیک منع کے۔ ایک پیچھے ممانعت پڑھی تھی جس میں منع ہوتا ہے، انکار تھا، انکار کرتے تھے علت کا یا حکم کا انکار ہوتا تھا، اور ایک یہ چوتھی قسم اب بیان ہو رہی ہے علتِ طردیہ کے دفع کی اور وہ ہے مناقضہ۔ کہتے ہیں علمِ مناظرہ والے اس مناقضہ کو نقض کہتے ہیں، باقی مناقضہ کا لفظ وہ بھی استعمال کرتے ہیں لیکن ان کا مناقضہ وہی ممانعت ہے، اسی ممانعت ہی کو وہ کیا کہتے ہیں؟ مناقضہ بھی کہتے ہیں، تو اس کے دو نام ہیں: ممانعت اور مناقضہ کن کے نزدیک؟ علمِ مناظرہ والوں کے نزدیک۔ اور جس کو علمِ اصولِ فقہ والے مناقضہ کہتے ہیں، وہ علمِ مناظرہ والوں کا مناقضہ نہیں ہے، بلکہ اس کو کیا کہتے ہیں علمِ مناظرہ والے؟ نقض کہتے ہیں۔ "كَقَوْلِ الشَّافِعِيِّ فِى الوُضُوءِ وَالتَّيَمُّمِ" جیسے کہ امامِ شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے وضو اور تیمم کے بارے میں، وہ فرماتے ہیں: "إِنَّهُمَا طَهَارَتَانِ" کہ یہ دونوں طہارتیں ہیں، "فَكَيْفَ اَفْتَرَقَا فِى النِّيَّةِ؟" تو یہ دونوں جدا کیسے ہوں گی نیت کے اندر؟ "أَيْ لاَ يَفْتَرِقَانِ فِى النِّيَّةِ" یعنی دونوں نیت میں جدا نہیں ہوں گی۔ تیمم کے اندر تو بالاجماع نیت فرض ہے، نیت کریں گے تو تیمم ہوگا، نیت نہیں کریں گے تو تیمم نہیں ہوگا۔ تو امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے تیمم طہارت ہے اور اس کے لیے نیت فرض ہے، تو اسی طرح وضو بھی طہارت ہے لہٰذا اس کے اندر بھی نیت فرض ہوگی۔ تو وہ اس کے اندر بھی نیت کو فرض قرار دیتے ہیں۔ تو علت ہوئی طہارت، طہارت ہونا یہ ہے علت، اور حکم کیا ہے؟ نیت کا فرض ہونا۔ علت کیا ہوئی؟ طہارت۔ اور حکم کیا؟ نیت کا فرض ہونا۔ تو تیمم طہارت ہے، اس کے اندر ہے، اس کے اندر نیت فرض ہے، یہ ہوا مقیس علیہ۔ اور وضو ہوا مقیس۔ تو وضو وہ بھی طہارت ہے، علت آگئی، جب علت آگئی تو حکم بھی آئے گا، طہارت کا حکم کیا تھا؟ نیت کا فرض ہونا، تو وضو کے اندر بھی نیت فرض ہوگی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یہ تعلیل کی امامِ شافعی رحمہ اللہ نے "كَقَوْلِ الشَّافِعِيِّ فِى الوُضُوءِ وَالتَّيَمُّمِ" جیسے کہ امامِ شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے وضو اور تیمم کے بارے میں کہ "إِنَّهُمَا طَهَارَتَانِ" کہ یہ دونوں طہارتیں ہیں، "فَكَيْفَ اَفْتَرَقَا فِى النِّيَّةِ؟" تو یہ کیسے جدا ہوں گی نیت میں؟ "أَيْ لاَ يَفْتَرِقَانِ فِى النِّيَّةِ" یعنی نیت میں یہ دونوں جدا نہیں، ایک میں نیت فرض ہے یعنی تیمم میں، تو وضو کے اندر بھی نیت فرض ہوگی۔ "فَإِذَا كَانَتِ النِّيَّةُ فَرْضًا فِى التَّيَمُّمِ بِالْاِتِّفَاقِ فَتَكُونُ فِى الوُضُوءِ كَذَالِكَ" جب نیت فرض ہے تیمم میں بالاتفاق، تو وضو میں بھی اسی طرح ہوگا یعنی اس میں بھی نیت فرض ہوگی۔ اب بحث کس کی چل رہی ہے؟ مناقضے کی، اور مناقضہ کس کو کہتے تھے؟ مخالف کی علت کو توڑنا کہ دیکھو علت، آپ نے علت کیا بیان کی؟ طہارت، اور حکم کیا بیان کیا؟ نیت کا فرض ہونا، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ نے علت طہارت بیان کی تو جہاں یہ علت پائی جائے وہاں حکم بھی آنا چاہیے۔ ہم آپ کو دکھاتے ہیں ایک جگہ پر آپ کی علت آرہی ہے لیکن حکم نہیں آرہا، اور وہ کون سی جگہ؟ کہتے ہیں مثلاً کپڑے اور بدن پر نجاست لگ جائے تو اس کو پانی سے دھویا جاتا ہے، اب یہ پانی سے بدن کو دھونا یا پانی سے کپڑے کو دھونا یہ طہارت ہے، دھوئیں گے تو کیا ہو جائے گا؟ پاک ہو جائے گا کپڑا اور بدن۔ لیکن یہاں پر نیت ضروری نہیں ہے، تو علت تو موجود ہے، طہارت تو ہے لیکن حکم نہیں پایا جا رہا، بات سمجھ میں آگئی؟ "فَإِنَّهُ يَنْتَقِضُ بِغَسْلِ الثَّوْبِ وَالبَدَنِ" پس یہ ان کی جو تعلیل ہے یہ ٹوٹ جائے گی غسلِ ثوب اور بدن، کپڑے اور بدن کے دھونے سے، "فَإِنَّهُ أَيْضًا طَهَارَةٌ لِلصَّلَاةِ" پس یہ بھی طہارت ہے نماز کے لیے، کپڑا اور بدن پاک ہوگا تو نماز اس کے ذریعے جائز ہو جائے گی۔ "فَيَنْبَغِى أَنْ تُفْرَضَ النِّيَّةُ فِيهِ" پس مناسب یہ ہوا کہ اس کے اندر بھی نیت فرض ہو، "فَلَا بُدَّ حِينَئِذٍ أَنْ يُلْجِأَ الخَصْمَ إِلَى بَيَانِ الفَرْقِ" پس ضروری ہوا اس صورت میں کہ مجبور کر دیا جائے گا خصم کو یعنی فریقِ مخالف کو "إِلَى بَيَانِ الفَرْقِ بَيْنَهُمَا" ان دونوں میں فرق بیان کرنے کی طرف "وَالقَوْلِ بِالتَّأْثِيرِ" اور کس کی طرف مجبور کر دیا جائے گا؟ قول بالتأثیر کی طرف، مؤثر ہونے کے قول کی طرف کہ اعتبار کس کا ہے؟ مؤثر ہونے کا ہے۔ تو دیکھیے، انہوں نے ایک علت بیان کی تھی ہم نے اس علت کو توڑ دیا کہ دیکھیے فلاں جگہ پر علت پائی جا رہی ہے، کپڑے اور بدن کو نجاست لگ جائے اور اس کو دھویا جائے تو طہارت آرہی ہے، علت ہے، طہارت ہے یہ، پانی سے دھونا کیا ہے؟ طہارت ہے، تو یہاں علت موجود ہے لیکن نیت فرض نہیں ہے یہاں پر، تو اب وہ فرق بیان کریں گے، فرق بیان کریں گے اور علت کا اثر بتلائیں گے کہ مؤثر ہے، کس طرح مؤثر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بھئی دیکھیے کپڑے یا بدن پر جب نجاست لگ جائے تو اس کو جب پانی سے دھوئیں گے یہ طہارتِ حقیقی ہے، یہ کیا چیز ہے؟ طہارتِ حقیقی ہے، حقیقتاً نجاست لگی ہوئی ہے اور دھونے سے وہ جا رہی ہے، تو یہ حقیقتاً کیا ہے؟ طہارت، یہ حقیقتاً طہارت ہے اور یہ حقیقتاً ازالہ ہے نجس کا۔ نجاست کیا کی جا رہی ہے؟ دور کی جا رہی ہے حقیقتاً، جبکہ وضو کے اندر جو ہم اعضا کو دھوتے ہیں، چہرے کو دھو رہے ہیں، ہاتھوں کو دھو رہے ہیں، سر کا مسح کر رہے ہیں، پاؤں کو دھو رہے ہیں، وہاں پر کوئی ظاہری نجاست لگی ہے؟ وہاں تو کوئی ظاہری نجاست نہیں لگی، تو یہ کپڑے اور بدن وغیرہ کا دھونا یہ طہارتِ حقیقی ہے اور جو وضو کے اندر ہم اعضا کو دھوتے ہیں وہ طہارتِ حکمیہ ہے، کیونکہ وہاں حقیقت میں تو کوئی نجاست نہیں لگی۔ لہٰذا یہ جو طہارتِ حقیقی ہے اس میں تو ظاہر کے اندر پانی نجاست کو لے کر جا رہا ہے، ختم کر رہا ہے، لہٰذا یہاں کسی نیت وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے، دونوں میں فرق آگیا۔ اور جبکہ یہاں پر جو نجاست ہے وہ کون سی نجاست ہے؟ وضو کے اندر جو جا رہی ہے وہ نجاستِ حکمیہ ہے، تو یہ نجاستِ حکمیہ ہے اور اس کے لیے پھر کیا ضروری ہے؟ باقاعدہ نیت ضروری ہے، دونوں میں فرق ہے، صورت سمجھ میں آگئی؟ "بِأَنَّ غَسْلَ الثَّوْبِ طَهَارَةٌ حَقِيقِيَّةٌ وَإِزَالَةٌ لِنَجَسٍ حَقِيقِيٍّ" اس طور پر کہ کپڑے کا دھونا طہارتِ حقیقیہ ہے اور یہ حقیقی نجاست کو زائل کرنا ہے، اس کو دور کرنا ہے، "وَهُوَ مَعْقُولٌ" اور یہ ایک معقول بات ہے، عقل میں یہ طہارت عقل میں آنے والی ہے، عقل خود بتلا رہی ہے کہ اس وقت جب آپ نجاستِ حقیقی جب دور ہوگی تو کیا آجائے گی؟ پاکی آجائے گی۔ "لَا يَحْتَاجُ إِلَى النِّيَّةِ" لہٰذا یہ نیت کی محتاج نہیں، عقل خود بتلا رہی ہے بھئی پانی ڈالو گے نجاست ختم ہو جائے گی، جب نجاست ختم ہو جائے گی تو کیا آجائے گی؟ پاکی آجائے گی، تو یہاں نیت کی ضرورت ہی نہیں ہے، وہ حقیقتاً نجاست بدن سے اور کپڑے سے دور ہو رہی ہے۔ "بِخِلَافِ الوُضُوءِ فَإِنَّهُ طَهَارَةٌ لِنَجَسٍ حُكْمِيٍّ" برخلاف وضو کے، پس وہ طہارت ہے نجاستِ حکمیہ کی، "وَهُوَ غَيْرُ مَعْقُولٍ" اور وہ عقل میں آنے والی نہیں ہے، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو وہاں ہم دیکھیے ہاتھوں کو دھو رہے ہیں، چہرے کو دھو رہے ہیں، پاؤں کو دھو رہے ہیں، بھئی یہاں تو کوئی نجاست تو نہیں لگی، نجاست تو یہاں پر نہیں لگی ہوئی، تو پھر تو یہ کہتے ہیں یہ نجاستِ حکمیہ سے پاکی حاصل کی جا رہی ہے، تو یہ طہارت ہوئی نجاستِ حکمیہ سے، اور یہ عقل میں آنے والی نہیں ہے۔ بھئی عقل تو ظاہراً کوئی نجاست لگی ہوتی اور آپ پانی ڈالتے اور وہ بہہ کر ختم ہو جاتی پھر کہتے طہارت ہے۔ تو نجاست ہے ہی نہیں پھر کہا جا رہا ہے کہ وضو کرو گے تو پاکی آئے گی، تو یہ معلوم ہوا یہ بات عقل سے پتہ نہیں چل سکتی کہ یہاں نجاست آچکی ہے۔ "فَيَحْتَاجُ إِلَى النِّيَّةِ" پس یہ نیت کا محتاج ہے "كَالتَّيَمُّمِ" جیسے کہ تیمم ہے۔ تو دیکھیے، انہوں نے دونوں میں فرق بیان کر دیا کہ ایک طہارتِ حقیقی ہے، ایک طہارتِ حکمیہ ہے۔ طہارتِ حقیقیہ کپڑے اور بدن میں تھی اس لیے وہاں نیت کی ضرورت نہیں پڑی، اور یہاں پر تو طہارت ہے یعنی نجاستِ حکمیہ یہاں سے دور ہو رہی ہے تو یہاں پر نیت کرنا پڑے گی، یہ ہم نے حکم لگایا نجاست کا، نجاست تو ظاہر میں نہیں لگی ہوئی، اس کے لیے باقاعدہ اب نیت چاہیے۔ لہٰذا اس لیے یہ محتاجِ نیت ہوا، محتاجِ نیت۔ گویا ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو وضو ہے یہ امرِ تعبدی ہے، وضو کیا چیز ہے؟ امرِ تعبدی ہے جس کا ہمیں بطورِ عبادت کے حکم دیا گیا ہے، اس کی علت ہمیں سمجھ میں نہیں آتی، نجاست تو کوئی بھی نہیں لگی ہوئی بدن پر لیکن ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ پیشاب وغیرہ کر لو تو اس کے بعد کیا کرنا پڑے گا؟ وضو کرنا پڑے گا، ہمیں حکم دیا گیا اس کی حالانکہ ورنہ دھونا تو صرف اس مقام کو چاہیے جہاں سے پیشاب کیا، یہ ہاتھوں کو کیوں دھو رہے ہیں؟ یہ چہرے کو کیوں دھو رہے ہیں؟ یہ پاؤں کو کیوں دھو رہے ہیں؟ کہتے ہیں یہ امرِ تعبدی ہے۔ کوئی نجاست بدن پر نہیں لگی ہوئی، بس اللہ نے حکم دیا ہے ہمیں اس طرح کرنا پڑے گا، تو یہ وہاں حکم دیا تو یہاں پر گویا نجاستِ حکمیہ آئی ہے، حقیقتاً کوئی نجاست نہیں آئی، تو اس کو انہوں نے وضو جو ہے اس کو طہارت قرار دیا لیکن یہ طہارت کس چیز سے ہے؟ نجاستِ حکمیہ سے ہے۔ ہم جواب میں کہیں گے کہ آپ نے کیسے کہا کہ وضو طہارت ہے نجاستِ حکمیہ سے اور یہ عقل میں آنے والی بات نہیں ہے؟ عقل میں تو تب آتی نا حقیقتاً کوئی نجاست لگی ہوتی اور آپ پانی ڈالتے اور وہ بہہ کر ختم ہو جاتی پھر کہتے طہارت ہے۔ تو نجاست ہے ہی نہیں پھر کہا جا رہا ہے کہ وضو کرو گے تو پاکی آئے گی، تو یہ معلوم ہوا یہ بات عقل سے پتہ نہیں چل سکتی کہ یہاں نجاست آچکی ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں، یہ امرِ معقول ہے، عقل میں آنے والی بات ہے۔ وجہ اس کی یہ کہ جب پیشاب کیا جائے یا اسی طرح خروجِ منی ہو تو سارا بدن ناپاک ہو جاتا ہے، سارا بدن۔ یہ نہیں کہ بدن کا کچھ حصہ تو ناپاک ہے باقی پاک ہے، باقی پاک، بلکہ جب بھی کیا کیا جائے گا؟ پیشاب کیا جائے یا خروجِ منی ہوگا تو سارا جسم ناپاک ہو جائے گا۔ اور چنانچہ اسی وجہ سے خروجِ منی کے بعد غسل کا حکم دیا گیا، یہ تو نہیں ہو سکتا کہ طہارت میں تجزی کی جائے اور کچھ حصہ دھونا ضروری ہو اور کچھ حصہ دھونا ضروری نہیں، بلکہ جب نجاست کا خروج ہوگا تو سارا بدن نجس ہو جائے گا، اس کے اندر تجزی تقسیم نہیں ہو سکتی، جب نجس ہوگا تو سارا بدن نجس ہوگا، تھوڑا بدن یہاں یا یوں کہیں یہ نجاست بدن کے نجس ہونے میں تجزی نہیں، کچھ بدن نجس ہو اور کچھ بدن نجس نہ ہو، بلکہ جب بھی خروجِ نجاست، خروجِ نجاست کی بات کر رہا ہوں، ایک بدن پر ویسے کہیں سے کوئی نجاست لگ جائے، خارج سے ہی کہیں سے باہر سے کوئی نجس چیز لگ گئی آپ کے بدن پر، اس کی بات نہیں کر رہا اس صورت میں صرف بدن کا وہی حصہ نجس ہوگا، بات کر رہے ہیں خروجِ نجاست، جب بدن سے نجاست خارج ہوگی تو پھر یہ نہیں کہا جا سکتا تھوڑا وہ حصہ تو نجس ہوا باقی حصہ نجس نہیں، اس کے اندر تجزی نہیں ہو سکتی، کیا کہنا پڑے گا؟ سارا بدن ہی اس وقت نجس ہو جائے گا، سارا بدن نجس ہو جائے گا۔ چنانچہ اسی وجہ سے خروجِ منی کے بعد پھر غسل کا حکم دیا گیا کیونکہ سارا بدن نجس ہو چکا ہے، سارے بدن پر پانی بہاؤ، غسل کرو اچھی طرح۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ آپ نے کیا کہا کہ بدن سے جب نجاست نکلے گی تو سارا بدن نجس ہو جائے گا، تو پھر یہ وضو کے اندر صرف چار اعضا کو دھونے کا اور مسح کا کیوں حکم دیا گیا؟ اس میں بھی تو حکم دینا چاہیے تھا، نجاست نکلی ہے بدن سے اور سارا بدن نجس ہو چکا، جب سارا بدن نجس ہو چکا ہے تو کیا کرنا چاہیے؟ سارے بدن کو دھونا واجب ہونا چاہیے، تو جواب دے رہے ہیں کہ ہاں بات اسی طرح ہے، اس وقت بھی سارا بدن نجس ہو چکا ہے لیکن اگر اس وقت بھی شریعت غسل کا حکم دے دے تو اس میں بڑا حرج لازم آئے گا اور دین میں تو کوئی حرج نہیں، تنگی نہیں۔ دین میں تو کوئی تنگی کی نہیں ہے اور اگر اس وقت غسل کا حکم دے دیا جائے تو بڑا حرج لوگ بڑی تنگی میں پڑ جائیں گے بھئی کیونکہ دن میں 5 دفعہ 10 مرتبہ جتنی دفعہ پیشاب ائے گا اس کے بعد انسان کو کیا کرنا پڑے گا؟ غسل کرنا پڑے گا۔ تو پیشاب تو دن میں کئی مرتبہ آتا ہے جبکہ خروج منی وہ تو کئی مہینے میں ایک مرتبہ ہو گا اس میں کوئی مشکل نہیں تھی حرج نہیں تھا لیکن اس کے اندر تو کیا ہے؟ اگر غسل کا حکم دے دیا جائے سارے بدن کے دھونے کا حکم دے دیا جائے تو اس میں بڑا حرج لازم آئے گا لوگ بڑی تنگی اور تکلیف میں پڑ جائیں گے۔ پھر بالخصوص اگر سردی کا زمانہ بھی ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لوگ بڑی تکلیف اور تنگی میں پڑ جائیں گے اس لیے ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ سارے بدن کو دھویا جائے لیکن شریعت نے اس حرج کی وجہ سے حکم دیا کہ صرف ان اعضاء کو دھو لو جو پورے بدن کا احاطہ کر لیں بس یوں سمجھو کہ تم نے سارے بدن ہی کو دھو لیا ہے۔ صرف ان اعضاء کو دھو لو جو کیا کر لیں؟ پورے بدن کو گھیر لیں بس پھر یوں سمجھو سارے بدن ہی کو دھو لیا ہے۔ چنانچہ لمبائی میں اوپر کی جانب سر کے مسح اور چہرے کے دھونے کا حکم دیا اور نیچے پاؤں کے دھونے کا حکم دیا یہ لمبائی میں آ گیا اور چوڑائی کے اندر دونوں طرف بازو ہیں تو دونوں بازوؤں کے دھونے کا حکم دے دیا گیا تو گویا بدن کے سارے چاروں طرف جو حدود تھیں ان کے دھونے کا حکم دیا تو گویا سارا بدن ہی آپ نے دھو لیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو انہوں نے کیا کہا تھا؟ کہ کپڑے کا دھونا یہ کیا ہے؟ یہ طہارت ہے کس سے؟ نجاست حقیقیہ سے۔ اور وضو یہ طہارت ہے کس سے؟ نجاست حکمیہ سے۔ ہم نے بتلا دیا کہ نہیں وضو جو ہے وہ طہارت وہ نجاست حکمیہ سے طہارت نہیں ہے بلکہ نجاست حقیقیہ سے کیا ہے؟ طہارت ہے بھئی عقل میں آنے والی بات ہے یہ کہ جب بدن سے خروج نجاست ہوا ہے تو یہ کہا جائے کچھ بدن نجس ہوا بھئی کیوں کچھ کیوں نجس ہوا؟ یوں کہنا پڑے گا کہ سارا بدن کیا ہو گیا؟ نجس ہو گیا ہے اور اب سارے بدن کا دھونا واجب ہے ہاں پھر حرج کی وجہ سے پیشاب کے اندر جو کثیر الوقوع تھا اس کے اندر شریعت نے وضو ہی کو کافی قرار دیا اور جو قلیل الوقوع تھا اس میں حکم کو اپنی اصل پر برقرار رکھا کہ کیا کرنا پڑے گا؟ سارے بدن کو دھونا پڑے گا۔ فنقول في جوابه تو ہم کہتے ہیں ان کے جواب میں کہ ان زوال الطهارة بعد خروج النجس امر معقول کہ طہارت کا زائل ہو جانا نجاست کے خارج ہونے کے بعد امر معقول یہ ایک امر معقول بھئی جب بھی خروج نجاست ہو کیا ہونی چاہیے؟ طہارت کو زائل ہونا چاہیے طہارت ختم ہونی چاہیے تو یہ تو ایک امر معقول ہے آپ اس کو امر غیر معقول کس طرح قرار دے رہے ہیں؟ لان البدن كله يتنجس بخروج البول والمني بسواء اسی لیے کیونکہ بدن جو ہے سارا کا سارا نجس ہو جاتا ہے منی اور پیشاب بول پیشاب کو کہتے ہیں۔ بخروج البول والمني بسواء پیشاب اور منی کے نکلنے سے بسواء برابری کے ساتھ۔ یعنی جس طرح منی کے نکلنے سے نجس ہوتا ہے اسی طرح پیشاب کے نکلنے سے بھی پورا بدن نجس ہو جاتا ہے۔ جی ولكن لما كان المني اقل إخراجا لیکن جب منی جو ہے وہ قلیل ہے باعتبار اخراج کے وجب الغسل فيه لتمام البدن یہ غَسل پڑھیں بھئی غُسل نہیں۔ غَسل اس میں پھر وجب الغسل فيه اس میں کیا واجب ہو گا؟ غَسل دھونا لتمام البدن پورے بدن کو۔ پورے بدن کو دھونا واجب ہو گا بلا حرج بغیر کسی حرج کے اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ اقل ہے اخراج کے اعتبار سے۔ اچھا بھئی یہاں میں نے غَسل کیوں پڑھا؟ یاد رکھیے صاحب جوہرۃ النیرہ جو قدوری کی قدیم شرح ہے بھئی قدیم شرح سینکڑوں سال پرانی شرح انہوں نے ایک ضابطہ ذکر کیا تھا ابتدائے قدوری میں ہی وہ ذکر کرتے ہیں غسل کے مسئلے میں کہ یاد رکھیے کہ یہ جو کبھی آپ کہتے ہیں غُسل الجمعۃ کیا کہتے ہیں؟ غُسل الجمعۃ کبھی کہتے ہیں آپ غُسل الجنابۃ غُسل الجنابۃ کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ جنابت کا غسل یا غُسل الجمعۃ جمعے کا غسل۔ اور کبھی آپ کہتے ہیں غَسل المیت میت کا دھونا یا آپ کہتے ہیں غَسل الثیاب کپڑوں کا دھونا۔ تو کہاں غَسل پڑھیں گے کہاں غُسل پڑھیں گے؟ وہ ضابطہ بتلاتے ہیں کہ جہاں اس لفظ کی اضافت مغسول کی طرف ہو جائے تو غَسل پڑھنا۔ جیسے غَسل المیت، میت کیا ہے؟ مغسول ہے نا اس کی طرف اضافت ہوئی تو کیا پڑھیں گے؟ غَسل یا غَسل الثیاب ثیاب مغسول ہیں تو اس کی طرف اضافت ہوئی تو غَسل پڑھیں گے۔ تو مغسول کی طرف جب اضافت ہو تو غَسل پڑھیں گے غیر کی طرف جب نسبت ہو تو غُسل پڑھیں گے غُسل الجمعۃ۔ دیکھو جمعہ مغسول تو نہیں غُسل الجنابۃ، جنابت مغسول تو نہیں مغسول تو بدن ہے آپ کا تو وہاں پر پھر غُسل پڑھیں گے۔ ضابطہ کیا ہوا؟ مغسول کی طرف اضافت ہو تو غَسل پڑھیں گے غیر مغسول کی طرف اضافت ہو تو غُسل پڑھیں گے۔ یہاں پر دیکھیے بھئی یہاں پر کیا ہے؟ وجب الغسل فيه لتمام البدن غسل کی نسبت کس کی طرف ہو رہی ہے؟ لتمام البدن کس کی طرف؟ دھونا کس کو دھونا؟ تمام بدن کو۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ لتمام البدن کا ساتھ لفظ آ رہا ہے اس کی طرف نسبت ہے دھونے کی تو اس لیے غَسل پڑھیں گے۔ تو کہتے ہیں وجب الغسل فيه لتمام البدن بلا حرج تو اس کے اندر تمام بدن کا دھونا جو ہے وہ واجب ہوا بغیر کسی حرج کے بخلاف البول بخلاف پیشاب کے فانه لما كان اكثر خروجًا کیونکہ وہ جب زیادہ ہے باعتبار خروج کے وفي غسل كل البدن بكل مرة حرج عظيم اور سارے بدن کے دھونے میں ہر مرتبہ میں حرج عظيم عظیم حرج ہے لا جرم يقتصر على الأعضاء الأربعة لا جرم یقیناً کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لا جرم يقتصر على الأعضاء الأربعة تو یقینی طور پر اکتفاء کیا جائے گا چار اعضاء پر التي هي اصول البدن وہ چار اعضاء جو بدن کے اصول ہیں اصل ہیں في الحدود کس چیز میں؟ حدود، بدن کی حدود بیان کرنے میں یہ اصل ہیں لمبائی کے رخ اور چوڑائی کے رخ انہی کے ذریعے بدن کے حدود بیان ہوں گی بھئی۔ ووقوع الآثام منه آثام جمع ہے اثم کی گناہ کو کہتے ہیں اور گناہوں کے اس سے گناہوں کے اس سے ہونے میں بھئی۔ بدن سے گناہوں کے ہونے میں یہ اصل ہیں انہی کے ذریعے گناہ ہوتے ہیں گناہ کرنے جا رہے ہیں پاؤں کے ذریعے چل کے جائیں گے۔ گناہ کے بارے میں سوچا سر سے دماغ سے سوچا بھئی اور اسی طرح گناہ کیا ہاتھوں سے کیا بھئی تو یہ گناہوں کے کرنے میں بھی یہ اصول ہیں اور بدن کے حدود میں بھی یہ اصول ہیں اس لیے ان چار کے دھونے کا حکم دیا۔ دفعا للحرج کس لیے؟ ایک تو یہ چار پر اکتفاء کیا جائے گا دفعا للحرج حرج کو دور کرنے کے لیے تنگی کو دور کرنے کے لیے۔ فالإقتصار على الأعضاء الأربعة غير معقول پس اکتفاء کرنا چار اعضاء پر یہ ایک غیر معقول امر ہے یہ عقل میں آنے والا نہیں عقل تو کیا چاہتی تھی کہ سارے بدن کو دھونا چاہیے لیکن چار پر اکتفاء کیوں کیا گیا؟ یہ عقل میں آنے والی بات نہیں تھی اس اور اس کو ہم نے کیا کیا؟ بیان کر دیا بھئی۔ واما نجاسة البدن وإزالة الماء لها اور باقی بدن کا نجس ہونا اور پانی کا اس نجاست کو زائل کر دینا ختم کر دینا فامر معقول یہ تو ایک امر معقول ہے فلا يحتاج الى النية لهذا یہ نیت کا محتاج نہیں۔ بخلاف التراب بخلاف مٹی کے لانه ملوث في نفسه اس لیے کیونکہ مٹی وہ تو اپنی ذات کے اعتبار سے ملوث ہے مطہر نہیں پانی تو اپنی ذات کے اعتبار سے مطہر ہے پاک کر دینے والا ہے اور مٹی وہ تو اپنی ذات کے اعتبار سے مطہر نہیں ہے ملوث ہے بھئی تلویث تلویث کہتے ہیں آلودہ کرنا تو یہ ملوث ہے مٹی آلودہ کرنے والی ہے گندا کرنے والی ہے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو مٹی یہ ملوث ہے اپنی ذات کے اعتبار سے غير مطہر طبعہ مطہر نہیں ہے اپنی طبیعت کے اعتبار سے فلہذا يحتاج الى النية اس لیے یہ محتاج ہے کس چیز کی؟ نیت کی۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو تیمم میں نیت اس لیے ضروری ہے کیونکہ تیمم مٹی سے کیا جا رہا ہے اور مٹی تو اپنی ذات کے اعتبار سے مطہر نہیں ہے وہ تو ملوث ہے لیکن شریعت نے کہا کہ یہ کیا ہے؟ مطہر ہے تو یہاں باقاعدہ کیا کرنا پڑے گی؟ نیت کرنا پڑے گی بغیر نیت کے تیمم کریں گے تو تیمم نہیں ہو گا کیونکہ مٹی اپنی ذات کے اعتبار سے کسی چیز کو پاک کرنے والی نہیں ہے تو وہاں باقاعدہ نیت کی ضرورت ہو گی۔ جبکہ وضو، وضو کے اندر تو باقاعدہ خروج نجاست کی وجہ سے بدن نجس ہو چکا ہے اور پانی کیا کر رہا ہے؟ اس نجاست کو ختم کر رہا ہے تو یہ تو ایک عقل میں آنے والی بات ہے پانی بہاتے جاؤ نیت کرو یا نہ کرو وہ نجاست کو بہا کر لے جائے گا۔ تو لہذا وہاں پر کسی نیت وغیرہ کی ضرورت نہیں۔ خلاصہ بحث یہ ہوا کہ بحث چل رہی ہے مناقضہ کی مناقضہ کس کو کہتے تھے؟ معلل کی دلیل کو توڑنا کس طرح؟ یعنی یوں کہو اس کی علت کو توڑنا کہ آپ نے یہ علت بیان کی اور یہ حکم بیان کیا ہم دکھاتے ہیں آپ کو کہ ایک جگہ پر آپ کی علت پائی جا رہی ہے اور حکم نہیں پایا جا رہا۔ چنانچہ امام شافعی رحمہ اللہ نے طہارت کو علت بنایا اور نیت کے فرض ہونے کو حکم قرار دیا ہم نے کہا کہ ہم دکھاتے ہیں ایک جگہ پر آپ کی علت یعنی طہارت تو پائی جا رہی ہے لیکن نیت وہاں ضروری نہیں حکم نہیں آ رہا وہاں پر اور وہ جب کپڑے یا بدن پر نجاست لگ جائے تو اس نجاست کو دھوتے وقت آپ بھی تسلیم کرتے ہیں نیت کرنا ضروری نہیں ویسے ہی دھو لو یا خود ہی پانی خوب اچھی طرح پڑ گیا نجاست بہہ گئی چلی گئی تو کپڑا وہ بدن کیا ہو جائے گا؟ پاک ہو جائے گا۔ تو دیکھیے یہاں پر طہارت ہے اور نیت نہیں ہے تو آپ کی علت صحیح نہیں۔ تو پھر وہ مجبور ہوئے فرق بیان کرنے کی طرف بھئی اور کیا فرق بیان کیا کہ دونوں میں فرق ہے کپڑے اور بدن پر جب نجاست لگی ہے تو وہ نجاست حقیقیہ ہے اور پانی ڈالنے سے وہ بہہ جائے گی تو یہاں کسی نیت وغیرہ کی ضرورت نہیں جبکہ وضو کے اندر جو ہم اعضاء کو دھوتے ہیں یہاں تو کوئی نجاست نہیں لگی ہوئی لیکن اللہ کی طرف سے حکم ہے تو یہ ان پر نجاست نہیں لگی اور پھر بھی حکم دیا گیا ان کے دھونے کا تو یہ طہارت ہے لیکن کس اعتبار سے طہارت ہے؟ یہ بات عقل میں نہیں آتی کیونکہ نجاست تو کوئی لگی نہیں ہوئی۔ تو ہم نے پھر جواب دیا کہ نہیں یہ تو امر معقول ہے جب بدن سے نجاست نکلے گی تو یہ کہنا پڑے گا یہ سارا بدن کیا ہو جاتا ہے؟ نجس، یہ کہا جائے کچھ بدن نجس ہوا اور کچھ نہیں ہوا یہ تو یہاں تجزی نہیں ہو سکتی تقسیم نہیں ہو سکتی کہ یہ کہا جائے کچھ بدن نجس ہوا ہے اور کچھ بدن نجس نہیں بلکہ کیا کہنا پڑے گا؟ سارا بدن ہی اس وقت نجس ہو جاتا ہے جب سارا بدن نجس ہے۔ تو اب پانی کے ذریعے وہ نجاست دور ہو گی یا نہیں ہو گی بھئی؟ پانی ڈالیں گے تو وہ نجاست چلی جائے گی تو یہ تو ایک امر معقول ہے آپ کس طرح اس کو غیر معقول کہہ رہے ہیں؟ ہاں یہ ایک غیر معقول بات آ رہی تھی کہ پھر تو سارے بدن کا دھونا ضروری ہونا چاہیے تھا صرف چار اعضاء کا حکم کیوں دیا گیا؟ تو جواب اس کا ہم نے ذکر کر دیا کہ اس میں حرج تھا لہذا دفع حرج کے لیے شریعت نے کہا کہ بدن کے جو اصل اعضاء ہیں جن سے حدود متعین ہوتی ہیں بدن کی اور جن کے ذریعے گناہ کیے جاتے ہیں ان کو دھو لو بھئی۔ جبکہ تیمم، تیمم کے اندر تو مٹی اپنی ذات کے اعتبار سے مطہر ہے ہی نہیں وہ تو ظاہر سی بات ہے وہ امر معقول ہے ہی نہیں جب امر معقول نہیں ہے وہ کس طرح طاہر بن رہی ہے کس طرح مطہر بن رہی ہے؟ تو وہ بات چونکہ عقل میں نہیں آنے والی اس لیے وہاں پر باقاعدہ نیت ضروری ہے اور جو پانی جو ہے وضو وغیرہ کے اندر باقاعدہ نجاست کو بہا کر لے کر جا رہا ہے لہذا وہاں کسی نیت وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یعنی نیت فرض نہیں ہے وہاں پر بھئی فرض نہیں ہے، نیت فرض نہیں۔ واما المؤثرة فليس للسائل فيها بعد الممانعة إلا المعارضة یہ تو بیان ختم ہوا بھئی علت طردیہ کا اس پر چار قسم کے اعتراضات ہو سکتے تھے قول بموجب العلة، ممانعت، فساد وضع اور مناقضہ۔ اب بیان کرنے لگے ہیں علت مؤثرہ کا کہ علت مؤثرہ کس کو کہتے تھے؟ جس کا مؤثر ہونا کتاب اللہ سے، حدیث سے یا اجماع سے ثابت ہو چکا ہو۔ اب اس پر کون سے اعتراضات ہو سکتے ہیں؟ تو آپ کو بتلائیں گے یہ کہ یہاں پر فساد وضع کا بھی اعتراض نہیں ہو سکتا اور مناقضہ کا بھی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ ہاں ممانعت ہے وہ اعتراض بھی ہو سکتا ہے اسی طرح قول بموجب العلة والا اعتراض بھی ہو سکتا ہے اور ایک اور اعتراض جو آگے بتلائیں گے معارضہ وہ بھی ہو سکتا ہے بھئی۔ توجہ ہے سبق کی طرف بھئی؟ علت مؤثرہ پر مناقضہ والا اعتراض بھی نہیں ہو سکتا اور فساد وضع والا اعتراض بھی نہیں ہو سکتا۔ بھئی کیوں؟ کیوں نہیں ہو سکتے یہ دو اعتراضات علت مؤثرہ پر؟ کہتے ہیں بھئی وجہ یہ ہے کہ یہ جو فساد وضع تھا ہم اس میں علت کو توڑتے تھے اعتراض کس پر ہوتا تھا؟ علت پر کہ اس کو علت آپ کیسے قرار دے رہے ہیں؟ یہ علت ہی نہیں ہے۔ مناقضہ میں بھی کس کو توڑتے تھے؟ علت کو توڑتے تھے کہ دیکھو فلاں جگہ علت آ رہی ہے لیکن حکم نہیں آ رہا حالانکہ کیا آنا چاہیے ساتھ؟ حکم بھی آنا چاہیے۔ تو فساد وضع اور مناقضہ میں علت کو توڑا جاتا ہے اور علت طردیہ کو تو توڑا جا سکتا ہے علت مؤثرہ کو نہیں توڑا جا سکتا اس لیے کیونکہ علت مؤثرہ کون سی علت ہے؟ جو کس کے ذریعے ثابت ہے؟ کتاب اللہ سے یا سنت سے یا اجماع سے۔ تو جو چیز کتاب اللہ سے یا سنت سے یا اجماع سے جس چیز کا علت ہونا ثابت ہو گیا اب اس کی علت کو نہیں توڑا جا سکتا کیونکہ وہاں علت کو توڑنا گویا کتاب اللہ کو توڑنا ہے یا سنت کو توڑنا ہے یا اجماع کو۔ تو جیسے تو یہاں پر علت کو فاسد نہیں قرار دیا جا سکتا کیونکہ علت کو فاسد قرار دینے کی صورت میں کس کو فاسد قرار دینا لازم آئے گا؟ کتاب اللہ یا سنت یا اجماع کو اور حالانکہ ان کو تو فاسد نہیں قرار دیا جا سکتا بھئی وہ تو قطعی دلیلیں ہیں بات سمجھ میں آ گئی؟ اس لیے یہاں پر نہ مناقضہ والا اعتراض ہو سکتا ہے اور نہ فساد وضع والا بھئی۔ تو کہتے ہیں واما المؤثرة اور باقی علت مؤثرہ جو ہے فليس للسائل فيها سائل میں نے بتایا تھا کس کو کہتے ہیں؟ معترض اعتراض کرنے والا اور مقابل کون ہوتا ہے؟ معلل تعلیل کرنے والا یا مستدل۔ باقی کہتے ہیں علت مؤثرہ جو ہے فليس للسائل فيها بعد الممانعة إلا المعارضة تو نہیں ہے سائل کے لیے اس میں ممانعت کے بعد إلا المعارضة مگر معارضہ۔ یعنی ممانعت کے بعد معارضہ ہی کر سکتا ہے اس کے اندر اعتراض کرنے والا۔ یعنی ممانعت والا اعتراض کر سکتا ہے اور اس کے بعد معارضے والا اعتراض کر سکتا ہے۔ باقی فساد وضع اور مناقضہ والا نہیں کر سکتا۔ دیکھیے نہیں ہے اس میں سائل کے لیے اعتراض کرنے والے کے لیے۔ کس میں؟ علت مؤثرہ میں۔ بعد الممانعة کس کے بعد؟ ممانعت کے بعد۔ ممانعت کے بعد کون کون ذکر ہوئے تھے؟ ترتیب کیا تھی؟ سب سے پہلے کون ذکر تھا؟ قول بموجب العلة۔ اس کے بعد کس کا ذکر تھا؟ ممانعت کا۔ اس کے بعد کس کا ذکر؟ فساد وضع۔ اس کے بعد کس کا ذکر؟ مناقضہ کا۔ تو ممانعت کے بعد کون کون ذکر ہوئے؟ فساد وضع اور مناقضہ۔ تو کہہ رہے ہیں ممانعت کے بعد سائل کے لیے ممکن نہیں ہے کوئی اعتراض کرنا یعنی ممانعت کے بعد جو ہیں کون کون سے فساد وضع اور مناقضہ وہ ممکن نہیں ہیں اس کے لیے إلا المعارضة سوائے معارضہ۔ معلوم ہوا ممانعت ممکن ہے اس کے بعد والے ممکن نہیں اور ممانعت کے بعد والے ممکن نہیں معلوم ہوا ممانعت سے پہلے والے یعنی قول بموجب بھی ممکن ہے وہ اعتراض بھی ہو سکتا ہے۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں فیہ اشارۃ اس جو ماتن نے کہا نا بعد الممانعۃ اس میں اشارہ ہے الی انہ تجری فیہا الممانعۃ وما قبلہا کہ اس میں ممانعت بھی جاری ہوگا وما قبلہا اور جو اس سے پہلے ہے اعن القول بموجب العلت یعنی قول بموجب العلت ولا یجری فیہا ما بعدہا اور اس میں اس کا مابعد جاری نہیں ہوتے یعنی فساد وضع اور مناقضہ۔ لانہ لا تحتمل المناقضۃ کیونکہ یہ علت مؤثرہ جو ہے یہ استعمال نہیں رکھتی مناقضے کا وفساد الوضع اور کس کا احتمال نہیں رکھتی؟ فساد وضع کا بعدما ظاہر اثرھا بالکتاب والسنۃ والاجماع بعد اس کے جب ظاہر ہو چکا اس علت کا اثر کتاب اللہ سنت اور اجماع۔ جب علت مؤثرہ جو ہے اس کا اثر کتاب اللہ سنت اور اجماع کے لیے ظاہر ہو چکا ہے تو اب مناقضے اور فساد وضع کے ذریعے اس علت کو نہیں فاسد قرار دیا جا سکتا۔ سمجھ میں آیا یہ علت کیا ہے؟ بھئی اس کا اثر کتاب اللہ نے بتلایا ہے یا سن حدیث نے بتلایا ہے یا کس سے ثابت ہے؟ اجماع سے تو مؤثر ہونا تو اس کا قطعی ہے لہذا اس علت پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ لانہ ہؤلاء الثلاثۃ لا تحتمل المناقضۃ وفساد الوضع اس لیے کہ یہ تین جو ہیں یعنی کتاب سنت اور اجماع یہ مناقضے اور فساد وضع کا احتمال نہیں رکھتے۔ فقد اثر الثابت بہا تو اسی طرح وہ تاثیر جو ان کے ذریعے ثابت ہے وہ بھی مناقضے اور فساد وضع کا احتمال نہیں رکھتی۔ اما مثال ما ظاہر اثرہ بالکتاب باقی مثال اس علت کی جس کا اثر ظاہر ہو کتاب اللہ کے ذریعہ ما قلنا وہ ہے جو ہم نے کہی فی الخارج من غیر السبیلین وہ جو نکلے غیر السبیلین سے۔ بھئی وہ نجاست جو نکلے بدن سے دو پیشاب پخانہ کے راستوں کے علاوہ سے یعنی بدن سے خون نکل آیا یا کسی زخم سے پیپ نکل آئی بھئی۔ تو یہ نجاست ہے اور نکلی ہے کس سے؟ غیر السبیلین سے ہم کہیں گے یہ نجاست ہے یوں کہیں اسان لفظوں میں کہ یہاں خروج نجاست ہوا کیا ہوا؟ خروج نجاست اور خروج نجاست اس کی وجہ سے اب وضو ٹوٹ گیا اب کیا کرنا پڑے گا؟ وضو کرنا پڑے گا۔ یہ حدث ہے۔ تو ہم نے خروج نجاست کو رعلت قرار دیا کس کے لیے؟ وضو کے توڑنے کے لیے یعنی حدث کے لیے ہم نے اس کو کیا قرار دیا؟ علت علت کیا ہے؟ خروج نجاست علت کیا ہے؟ اور حکم کیا ہے؟ وضو کا ٹوٹنا یعنی حدث وضو کا ٹوٹنا یعنی حدث توجہ ہے سبق کی طرف علت کیا؟ خروج نجاست اور حکم کیا؟ وضو کا ٹوٹنا۔ وہ کہیں بھئی اپ بتلائیے یہ علت اس کا کہیں اور اثر ظاہر ہوا ہے؟ ہم کہیں گے ہاں کتاب اللہ سے اس کا مؤثر ہونا ثابت ہے۔ قران میں اللہ فرماتے ہیں او جاء احدکم من الغائط یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے ائے آگے پھر کیا ہے؟ طہارت کا حکم دیا گیا ہے اس سے آگے بھئی۔ صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ معلوم ہوا قضائے حاجت سے آنے سے کیا ہوا؟ قضائے حاجت سے ایا ہے وضو ٹوٹ چکا ہے اور قضائے حاجت میں کیا تھا؟ خروج نجاست تھا معلوم ہوا خروج نجاست سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ ہاں وہ خروج نجاست تھا من احد السبیلین اور یہاں جو خروج نجاست ہے کیا ہے غیر السبیلین میں لیکن بہرحال اس علت کا اثر ظاہر ہو چکا ہے یعنی وضو کے توڑنے میں اس کا اثر ظاہر ہو چکا تو جیسے ہم کہتے ہیں جیسے وہاں پر اس کی وجہ سے اس خروج نجاست کی وجہ سے وضو ٹوٹ جاتا تھا اسی طرح اگر غیر السبیلین سے بھی نکلے گی تو اس کی وجہ سے وضو ٹوٹ جائے گا تو دیکھو مؤثر ہونا کہاں سے پتہ چلا اس کا؟ خروج نجاست ناقض للوضو ہے کس سے پتہ چلا؟ کتاب اللہ سے تو کتاب اللہ سے اس علت کا اثر ظاہر ہو چکا ہے۔ تو کہتے ہیں اما مثال ما ظاہر اثرہ بالکتاب ما قلنا مثال اس کی جس کا اس علت کی جس کا اثر ظاہر ہوا ہو کتاب اللہ کے ذریعہ وہ ہے جو ہم نے کہی فی الخارج من غیر السبیلین وہ جو نکلے کس سے غیر السبیلین سے کہ انہ نجس خارج کہ یہ کیا ہے؟ نجس ہے خارج ہے یعنی نکلی ہے نجاست جو نکلنے والی ہے فکان حدثا تو یہ کیا ہوگی؟ حدث یعنی ناقض للوضو ہوگی۔ فین طلبنا بیان الاثر پس اگر ہم سے مطالبہ کیا گیا اس کے اثر کو بیان کرنے کا کہ کہاں یہ مؤثر ہے ہمیں دکھاؤ۔ قلنا ظہر تاثیرہ مرۃ فی السبیلین ہم کہیں گے کہ اس کا اس کی تاثیر ظاہر ہو چکی ہے ایک مرتبہ السبیلین کے اندر بقولہ تعالی اللہ تعالی کے اس قول سے او جاء احدکم من الغائط یا ای تم میں سے کوئی ایک قضائے حاجت سے ومثال ما ظاہر اثرہ بالسنۃ اور مثال اس علت کی جس کا اثر ظاہر ہوا ہو سنت کے ذریعہ ما قلنا وہ جو ہم نے کہا فی سور سواکن البیوت گھروں میں رہنے والی چیزوں کے جھوٹے میں سواکن البیوت گھروں میں رہنے والی چیزیں یہ چوہے وغیرہ بھئی۔ ان ان کا جھوٹا ہم نے کہا یہ پاک ہے بھئی۔ کیا ہے؟ پاک ہے۔ تو ان کے بارے میں ہم ان کا جو جھوٹا ہے گھروں میں رہنے والی چیزوں کا جو جھوٹا ہے اس کے بارے میں وہ جو ہم نے کہا کہ انہ لیس بنجس کہ یہ نجاست نہیں ہے۔ قیاسا علی سور الہرۃ قیاس کرتے ہوئے کس پر؟ بلی کے جھوٹے پر بعلت الطواف کس علت سے کی وجہ سے؟ علت طواف کیونکہ بلی کے جھوٹے کو شریعت نے پاک قرار دیا اور علت کیا بیان کی گئی؟ طواف کی علت بیان کی گئی کہ بلی بار بار آنے جانے والی ہے اگر اس کے جھوٹے کو نجاست قرار دیا جاتا تو کیا لازم آتا؟ حرج۔ تو طواف کو علت بنایا گیا اور یہی طواف والی علت جو ہے سواکن البیوت کے اندر چوہے وغیرہ میں بھی پائی جاتی ہے اس کو جتنا بھی روک لیں اس نے آنا ہے تو آئے گا بھئی بار بار آئے گا۔ تو لہذا یہ علت طواف اس کے اندر بھی پائی گئی تو اس وجہ سے اس کے جھوٹے کو بھی تو دیکھیے ہم نے مثلا چوہے کے جھوٹے کو پاک قرار دیا علت کیا بیان کی؟ طواف اور یہ طواف اس علت کی تاثیر پہلے ظاہر ہو چکی ہے یا نہیں حدیث کے ذریعہ؟ حدیث کے ذریعہ اس کی تاثیر ظاہر ہو چکی ہے حدیث میں اس کو مؤثر قرار دیا گیا حدیث میں کیا آیا تھا؟ انہ من الطوافین علیکم و طوافات بھئی تو ہم نے اس کے بارے میں کہا کہ یہ نجاست نہیں ہے قیاسا علی سور الہرۃ قیاس کرتے ہوئے سور بلی کے جھوٹے پر بعلت طواف علت طواف کی وجہ سے فین طلبنا بیان تاثیرہ اگر ہم سے مطالبہ کیا جائے اس کی تاثیر کے بیان کا۔ قلنا ثبت تاثیرو تو ہم کہیں گے اس کی تاثیر ثابت ہو چکی ہے بقول علیہ الصلاۃ والسلام حضور علیہ السلام کے اس قول سے انہ من الطوافین علیکم والطوافات کہ یہ تم پر چکر لگانے والے اور چکر لگانے والیوں میں سے ہے ومثال ما ظاہر اثرہ بالاجماع اور مثال اس کی جس کا اثر ظاہر ہوا ہو اجماع سے وہ علت جس کا اثر یعنی جس کی تاثیر ظاہر ہو اجماع سے ما قلنا وہ جو ہم نے کہا لانہ لا تقطع ید السارق فی المرۃ الثالثۃ کہ نہیں کاٹا جائے گا چور کے ہاتھ کو تیسری مرتبہ میں۔ بھئی یاد رکھیے کوئی شخص چوری کر لے اور ثابت ہو جائے تو اس کے دائیں ہاتھ کو کاٹا جاتا ہے اولاً۔ پھر بھی باز نہ آیا پھر چوری کی پھر ثابت ہو گئی تو اس کے بائیں پاؤں کو کاٹیں گے۔ کس کو کاٹیں گے؟ بائیں پاؤں کو۔ اور پھر اس کے بعد اگر پھر تیسری مرتبہ پھر اس نے چوری کی تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دوسرے ہاتھ کو بھی اب کاٹا جائے گا۔ ہم کہتے ہیں نہیں اب تیسری مرتبہ میں بائیں ہاتھ کو نہیں کاٹا جائے گا بلکہ اب اس کو جیل میں ڈالیں گے جب تک توبہ نہ کر لے۔ اس لیے کہ اگر بائیں ہاتھ کو بھی کاٹ دیا جائے تو جن سے نفع ہی تلف ہو جائے گا اب یہ کسی چیز کو پکڑ ہی نہیں سکتا جن سے نفع ہی ختم ہوا دونوں ہاتھ نہیں رہیں گے نا تو جن سے نفع ہی ختم ہو جائے گا جن سے نفع ہی تلف ہو جائے گا۔ حالانکہ یہ جو حد ہے یہ اس کو یہ مشروع ہوئی ہے زاجر ہو کر نہ کہ ممتلف ہو کر یہ زاجر ہے ڈانٹ کے طور پر ہے تاکہ انسان اس کام سے رک جائے یہ بھی رک جائے اور اس کو دیکھ کر دوسرے بھی رک جائیں تو یہ حد جو واجب ہوئی ہے یہ جو مشروع ہوئی ہے یہ بطور زاجر کے ہوئی ہے۔ لکن اگر آپ دوسرا ہاتھ بھی کاٹ دیں گے تو یہ تو زاجر نہ رہی بلکہ کیا بن گئی؟ ممتلف بن گئی تلف کرنے والی بن گئی تو یہ زاجر بن کر مشروع ہوئی ہے ممتلف بن کر مشروع نہیں ہوئی۔ لانہ لا تقطع ید السارق فی المرۃ الثالثۃ ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا چوری کرنے والے کا تیسری مرتبہ میں لانہ فیہ تفویض جنس المنفعہ علی الکمال اس لیے کیونکہ اس کے اندر تو جنس سے نفع کا فوت کر دینا ہے علی الکمال پورے طور پر۔ پورے طور پر جنس سے نفع ختم ہو جائے گا اب کسی چیز کو پکڑ نہیں سکتا۔ فین طلبنا بیان تاثیرہ پس اگر ہم سے مطالبہ کیا گیا اس کے مؤثر ہونے کے بیان کے بارے میں۔ قلنا تو ہم کہیں گے ان حد سرقۃ شرع زاجرا لا ممتلفا بالاجماع کہ یہ جو حد سرقہ ہے یہ مشروع ہوئی ہے زاجر ہو کر نہ کہ ممتلف ہو کر بالجماع۔ بالاجماع یہ جو حد سرقہ ہے یہ ممتلف ہو کر مشروع نہیں بلکہ اس کا مقصد کیا ہے؟ زاجر ہے زجر کے لیے ہے ڈانٹ کے لیے ہے بھئی۔ وفی تفویض جنس المنفعہ اتلاف اور جنس سے نفع کو فوت کر دینے کی صورت میں تو اتلاف ہے تو یہ ممتلف بن جائے گی۔ ثم ان فساد الوضع لا یتجوہ علی العلت المؤثرہ اصلا بھئی انہوں نے پیچھے بیان کیا۔ علت مؤثرہ پر مناقضے کا اور فساد وضع کا اعتراض نہیں ہو سکتا۔ علت کیونکہ مناقضے اور فساد وضع میں کیا کیا جاتا تھا؟ علت کو توڑا جاتا تھا حالانکہ علت مؤثرہ کی تاثیر تو کس سے ثابت ہے؟ کتاب اللہ سے، سنت سے اور اجماع سے تو یہاں اگر علت کو توڑیں گے تو قرآن، سنت یا اجماع کو توڑنا لازم آئے گا حالانکہ ان کو تو توڑا نہیں جا سکتا وہ تو قطعی دلیلیں ہیں بھئی۔ تو معلوم ہوا کہ فساد وضع اور مناقضہ یہ علت مؤثرہ پر ان کا اعتراض واقع نہیں ہو سکتا۔ تو کہتے ہیں آگے بتائیں گے فساد وضع تو کسی صورت میں نہیں ہوتا مناقضہ حقیقتاً تو متوجہ نہیں ہوتا یہ اعتراض تو علت مؤثرہ پر نہیں ہوتا۔ لیکن بسا سورتاً مناقضے والی صورت بن جاتی ہے بھئی سورتاً بھئی تو سورتاً مناقضہ متوجہ ہو سکتا ہے حقیقتاً متوجہ نہیں ہو سکتا یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ثم ان فساد الوضع لا یتجوہ علی العلت المؤثرہ اصلا پھر یہ جو فساد وضع ہے یہ متوجہ نہیں ہوتا علت مؤثرہ پر بالکل بھی واما المناقضہ فانھا تتدوجہ علیہ صورتاً اور باقی مناقضہ جو ہے یہ متوجہ ہوتا ہے سورتاً متوجہ ہوتا ہے وإن لم تتدوجہ علیہ حقیقتاً اگرچہ حقیقتاً متوجہ نہیں ہو سکتا حقیقتاً تو متوجہ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ علت کی تاثیر تو کس کے ذریعے ثابت ہے؟ کتاب اللہ، سنت اور اجماع کے۔ ہاں سورتاً بعض اوقات متوجہ ہوتا ہے والیہ اشارہ بقولہ اور اسی کی طرف اشارہ کیا مصنف نے اپنے اس قول کے ذریعے لیکنہ اذا تصور مناقضۃ یجب دفعھا بترق اربعۃ لیکن جب تصور کیا جائے کس کا؟ مناقضہ جب متصور ہو جائے یجب دفعھا تو واجب ہے اس کو دفع کرنا بترق اربعۃ کتنے طریقوں سے؟ چار طریقوں سے۔ یجب ان یثبت دفعھا اس کی دفع کا دفع چار اس کو چار طریقوں سے دفع کیا جا سکتا ہے (یعنی چار طرح سے اس کو دفع کرنا ثابت ہے) وہی دفع بالوصف ثم بے اور وہ چار طریقے یہ ہیں: الدفع بالوصف کس کے لیے دفع کرنا؟ وصف کے۔ ثم بالمعنی الثابت بالوصف یہ دوسرا طریقہ ہے پھر اس معنی کے ذریعے جو ثابت ہو کس کے ذریعے؟ وصف کے ذریعے سوم بالمعکم یہ تیسرا طریقہ ہے پھر کس کے ذریعے؟ حکم کے ذریعے سوم بالغرص پھر کس کے ذریعے؟ غرض کے ذریعے علامات بنا پر اس کے جو آ رہا ہے بھئی۔ آگے سب کی تفصیل آ رہی ہے کہ یہ اب سورتاً مناقضہ جو متوجہ ہو کس پر علت مؤثرہ پر اس کی دفع کے چار طریقے ہیں چار طرح اس کو دفع کیا جا سکتا ہے۔ ایک تو کیا ہے دفء بالوصف ایک دوسرا کیا ہے؟ وہ معنی جو ثابت بالوصف اس کے ذریعے دفع تیسرا کیا ہے؟ حکم کے ذریعے دفع چوتھا کس کے لیے دفع؟ غرض کے ذریعے دفع سب کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔ ولیس معناہ انہ یجب دفع کل جی یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ متن میں انہوں نے کہا کہ سورتاً مناقضہ اگر متوجہ ہو جائے کس پر علت مؤثرہ پر تو انہوں نے کہا اس کی دفع کے چار طریقے ہیں۔ کہتے ہیں یہ نہ سمجھنا ہر جگہ پر یہ چاروں طریقے آئیں گے۔ بلکہ کل یہ چار ہیں کہیں پر کوئی آئے گا کہیں پر کوئی طریقہ آئے گا بھئی اس کی دفع کا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو جہاں بھی سورتاً مناقضہ آئے علت مؤثرہ پر آپ کہیں چاروں طریقوں سے اس کو دفع کرنا ضروری ہے؟ نہیں نہیں چاروں سے نہیں۔ کسی میں ایک طریقے سے دفع ہو سکے گا کسی میں دو سے ہو سکے گا کسی میں تین سے تو بہرحال کل طریقے چار ہیں جن میں سے کوئی کہاں پر آئے گا کوئی کہیں پر بھئی۔ ولیس معناہ اور اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ انہ یجب دفع کل نفظ بترق اربعۃ کہ واجب ہے ہر نفظ کو دفع کرنا چار طریقوں سے بل یجب دفع بعض النعوظ بعض الطریق بلکہ واجب کیا ہے؟ یہ واجب معنی ثابت کیا ہے یاد رکھنا بلکہ کیا ثابت ہے؟ کہ بعض نفوظ بعض سے دفع ہوں گے اور بعض بعض دوسرے کے لیے دفع کرنا۔ والمجموع یبلغ اربعتا مجموعہ کہاں تک پہنچتا ہے؟ چار تک پہنچتا ہے (یعنی چار طریقے ہیں کل) فتعلیل بالعلیت المؤثرہ و ایراد النحذ سوری علیہ و دفعہ کما تقول بھئی متن ہے تعلیل یہ متن ہے۔ آگے پھر متن ہے کما تقول۔ فتعلیل کما تقول تو توجہ ہے سبق کی طرف۔ بھئی دیکھیے فتعلیل یہ ہے متن اور آگے کما تقول۔ تو یاد رکھیے شبہ پڑتا تھا یہ جو ذکر کر رہے ہیں فتعلیل آگے تعلیل کی مثال ذکر کرنے لگیں گے۔ کاخ کے لیے کیا کیا جاتا ہے؟ مثال ذکر کی جاتی ہے نا تو متن پیچھے کیا تھا فتعلیل تعلیل جو ہے کما تقولو کما تقول جیسے آپ کہیں گویا کہ اس کی مثال ذکر ہو رہی ہے صرف تعلیل کی۔ کس کی مثال؟ یہ شبہ پڑتا تھا۔ شارح نے درمیان میں عبارت نکال کر بتلا دیا کہ نہیں یہاں معطوف المعطوف جو ہیں محذوف ہیں۔ یہ صرف تعلیل کی مثال نہیں بلکہ یہاں علت مؤثرہ اس مثال میں علت مؤثرہ کے ذریعے تعلیل بیان کرے گا ایک معلل۔ پھر فریق مخالف اس پر نقض سوری کرے گا (کیونکہ مناقضہ سوریہ کی بات کر رہی ہے نا حقیقتاً تو نہیں ہو سکتا) پہلے معلل تعلیل تعلیل کرے گا علت مؤثرہ بیان کرے گا۔ پھر فریق مخالف سائل کیا کرے گا؟ نقض سوری لے کر آئے گا اس پر پھر جو ہے اس نقض سوری کو دفع کیا جائے گا بھئی تو اس مثال میں تینوں چیزیں بیان ہوں گی یہ صرف تعلیل کی مثال نہیں بلکہ تعلیل کے ساتھ ساتھ نقض سوری کے لانے اور پھر اس کے دفع کی بھی مثال ہے سب اس میں آئیں گے۔ تو کہتے ہیں فتعلیل بالعلیت المؤثرہ پس تعلیل کرنا علت مؤثرہ کے ساتھ و ایراد النحذ سوری علیہ اور اس پر نقض سوری کو لے کر آنا ودفعہ اور پھر اس کو دفع کرنا کما تقول جیسے کہ آپ کہیں فی الخارج من غیر السبیلین کس چیز کے بارے میں؟ وہ جو خارج من غیر السبیلین ہے وہ جو نجاست چیز ہے اور نکلی ہے غیر السبیلین سے یعنی خون وغیرہ کہیں اور بدن سے نکلا آپ اس کے بارے میں کیا کہیں؟ انہ نجس خارج یہ ایک ناپاک ہے، ناپاک چیز ہے خارج اور نکلنے والی ہے بدن سے فکان حدثا ناپاک چیز ہے نکلنے والی ہے بدن سے تو فکان حدثا یہ کیا ہوگی؟ حدث یعنی ناقض للوضو وضو اس سے ٹوٹ جائے گا۔ کیونکہ ناپاک خروج نجاست پایا گیا بھئی۔ کل بولی جیسے کہ پیشاب ہے۔ دیکھو آپ نے تعلیل کی دیکھیے۔ علت بیان کی۔ حکم کون سے حکم کے لیے؟ وضو کے ٹوٹنے کے لیے۔ کیا علت بیان کی؟ بدن سے کوئی نجاست خارج ہو، یعنی خروجِ نجاست ہو۔ اپ نے علت بیان کی اور یہ کس قسم کی علت ہے؟ علتِ مؤثرہ ہے جس کی تاثیر کس سے ثابت ہو چکی ہے؟ قرآن سے ثابت ہو چکی ہے۔ تو یہ دیکھو یہ تعلیل ہوئی علتِ مؤثرہ سے۔ اب اس پر نقضِ صوری وارد ہوگا۔ فيورد عليه پس وارد کیا جائے گا اعتراض کیا جائے گا، أي على هذا التعليل یعنی ضمیر کا مرجع بتلایا، اس پر یعنی اس تعلیل پر بالنقصِ کس کے ذریعے؟ نقض کے ذریعے، من جانب الشافعي کس کی طرف سے؟ امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف سے۔ تو اس پر اعتراض کیا جائے گا ما إذا لم يسل جس وقت نہ بہے تو۔ آپ نے کہا کہ جب بھی خروجِ نجاست بدن سے ہوگا تو وضو ٹوٹ جائے گا، اور آپ نے کس کو ذکر کیا؟ علتِ مؤثرہ کو۔ اب اس پر وہ نقضِ صوری، حقیقتِ مناقضہ تو نہیں لیکن صورۃً مناقضہ ہے، وہ لے کر آتا ہے فریقِ مخالف، اور کیا کہتا ہے؟ کہ بھئی جب خون نہ بہے تو اس وقت آپ کیوں نہیں حکم لگاتے؟ بھئی زخم پر بدن آپ کا خراش آ گئی بھئی، خون ظاہر ہوتا ہے یا نہیں اس پر؟ خون ظاہر ہو جاتا ہے۔ اب دیکھیے، کہتے ہیں دیکھو خروجِ نجاست ہے۔ نجس چیز ہے اور خارج ہوئی بدن سے، حکم کیا ہوتا؟ وضو ٹوٹنا چاہیے، لیکن آپ کہتے ہیں وضو نہیں ٹوٹا۔ تو یہ دیکھو نقضِ صوری لے کر آیا۔ اب ہم اس کے جواب دیں گے نقضِ صوری کے، کتنے جواب دے سکتے ہیں؟ چار ہیں، اور چاروں ہر جگہ ہوں گے یا بعض جگہ بعض ہوں گے؟ بعض جگہ بعض، چنانچہ اس کے دو جواب دیں گے، دو جواب۔ پہلا جواب، پہلا اوپر کیا ذکر کیا تھا اربُعہ کے بعد؟ الدفع بالوصفِ، دفع بالوصف۔ تو اسی کو آگے تو بیان بھی کریں گے کہ ہم اس کو وصف کے ذریعے دفع کریں گے۔ کس طرح؟ وصف سے کیا مراد ہے؟ علت بھئی، جس کو ہم نے علت قرار دیا تھا۔ انہوں نے کیا کہا؟ دیکھو یہ خون بدن پر آیا، خراش آئی، خون نکل آیا، تو خروجِ نجاست ہے، لیکن آپ کہتے ہیں وضو نہیں ٹوٹا۔ ہم کہتے ہیں، ہم پہلا جواب دیتے ہیں، انکار کرتے ہیں، نہیں بھئی علت ہی نہیں ہے یہاں پر تو وضو کیوں ٹوٹے گا؟ علت کیا تھی؟ خروجِ نجاست، یہ خروجِ نجاست ہے ہی نہیں، ہم کہتے ہیں یہ ظہورِ نجاست ہے۔ یہ کیا ہے؟ خروجِ نجاست اور چیز ہے، ظہورِ نجاست اور۔ یہاں خروج ہے ہی نہیں، یہ علت ہی نہیں ہے، خروج ہوتا تو ہم بھی کہہ دیتے وضو ٹوٹ گیا ہے، تو یہاں تو خروجِ نجاست علت ہی نہیں پائی جا رہی، جب علت نہیں ہے تو اعتراض کیسا وضو ٹوٹنے کا؟ علت آئے گی تو حکم آئے گا، علت نہیں تو حکم بھی نہیں، تو یہاں خروجِ نجاست ہے؟ نہیں، علت نہیں تو وضو کا ٹوٹنا بھی نہیں ہے۔ صورت، جواب سمجھ میں آ گیا پہلا؟ تو ہماری، اس پر اعتراض کیا جائے گا امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف سے ما إذا لم يسل کہ جب وہ نہ بہے، فإنه نجس خارج وليس بحدث پس یہ نجس خارج ہے، ناپاک چیز ہے جو نکلی ہے وليس بحدث اور یہ حدث نہیں۔ فندفعه أولاً تو ہم اس کو دفع کریں گے اولاً پہلے بالوصفِ کس کے ذریعے؟ وصف یعنی علت کے ذریعے، کس کے ذریعے دفع کریں گے؟ یہاں علت ہی نہیں پائی جا رہی، أي ندفع هذا النقض بالطريقين ہم اس نقض کو دفع کریں گے دو طریقے سے، الأول بعدم الوصفِ پہلا طریقہ کیا ہے؟ عدمِ وصف کے ساتھ، وهو اور وہ یہ أنّه ليس بخارج کہ یہ خارج نہیں ہے، بل بادٍ بلکہ ظاہر ہے، بدا يبدو بدواً کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ ظاہر، کہ یہ خارج نہیں بلکہ بادی ہے یعنی ظاہر ہے، لأن تحت كل جلدة دماً اس لیے کیونکہ ہر کھال کے نیچے خون ہے۔ ہم کہتے ہیں دیکھو، یہ جو کھال ہے اوپر بدن کے، اس کھال کے نیچے ہر جگہ خون ہے بھئی، کیا ہے؟ خون ہے۔ یہی کھال تھوڑی سی اوپر سے ہٹ گئی، وہی خون اپنی جگہ پر ہے، ظاہر ہو گیا بس۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں خروج ہے ہی نہیں، صرف ظہور ہوا ہے، اوپر سے آپ نے کھال ہٹا دی اور وہ خون ظاہر ہو گیا بھئی۔ اگر خروج ہوتا تو ہم بھی کہتے وضو ٹوٹ گیا تھا، اور خروج کب ہوتا؟ اپنی جگہ سے نکل کر دوسری جگہ کی طرف منتقل ہو جاتا، مثلاً خون بہنے لگ پڑا، بھئی جیسے رگوں کے اندر خون ہے، زخم ذرا لگا وہ رگوں سے تھا رگوں کے اندر، رگوں سے منتقل ہو گیا، باہر نکل آیا، بہنے لگ پڑا۔ تو اب خروجِ نجاست ہے، اور یہ جو ہلکی سی خراش ہے یا اور خون ظاہر ہوا ہے، یہ تو خروج ہے ہی نہیں، صرف کیا ہے؟ خون اپنی جگہ پر ہے، کھال کے نیچے پہلے سے موجود تھا، ابھی بھی موجود ہے، آپ کھال ہٹائیں گے تو وہی کیا ہو جائے گا؟ ظاہر ہو جائے گا۔ لأن تحت كل جلدة دماً اس لیے کیونکہ ہر کھال کے نیچے خون ہے، فإذا زالت الجلدة ظهر الدم في مكانه جب جلد ختم ہو جائے، دور ہو جائے، ظهر الدم في مكانه تو خون ظاہر ہو جائے گا اپنی جگہ پر، ولم يخرج ولم ينتقل من موضع إلى موضع آخر إلى موضع اور یہ نکلا نہیں، ولم يخرج یہ نکلا نہیں ہے اور منتقل نہیں ہوا ایک جگہ سے دوسری جگہ کی طرف، بخلاف الدم السائل بخلاف بہنے والے خون کے، فإنه كان في العروق اس لیے کیونکہ وہ تو رگوں میں تھا، وانتقل إلى فوق الجلدِ اور وہ کس طرح منتقل ہو گیا؟ کھال کے اوپر منتقل ہو گیا بھئی، وخرج من موضعِہ اور اپنی جگہ سے نکل گیا، جب اپنی جگہ سے نکلا تو خارج ہوا، خروجِ نجاست پائی گئی بھئی۔ ثم بالمعنى الثابت بالوصف دلالةً پھر اس معنی کے ذریعے جو ثابت ہو اس وصف سے باعتبار دلالت کے، کس اعتبار سے؟ دلالت کے اعتبار سے۔ بھئی دیکھیے، یاد رکھیے، تفصیل، بدن سے جب نجاست نکلتی ہے تو اولاً اس جگہ کو دھونا ضروری ہوتا ہے، اور چونکہ اس جگہ کا دھونا ضروری ہوا، معلوم ہوا وہ جگہ نجس ہو گئی۔ کیا ہو گئی؟ نجس ہوئی۔ اور نجاست، جب بدن نجس ہوا تو اس میں تو تجزی نہیں کہ یہ کہا جائے کچھ بدن نجس ہوا، کچھ بدن نجس نہیں ہوا، کہنا پڑے گا سارا بدن ہی کیا ہوا؟ تو اولاً اس جگہ کا دھونا واجب ہوتا ہے اور ثانیاً پھر پورے بدن کا دھونا واجب۔ اگر اس جگہ کا دھونا واجب نہیں تو معلوم ہوا جگہ نجس نہیں، جب یہ جگہ نجس نہیں ہے تو معلوم ہوا سارا بدن ہی نجس نہیں ہے، پھر سارے بدن کا دھونا ہی واجب نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور یہاں پر بالإجماع، خون ظاہر ہوا تو اس جگہ کو دھونا واجب نہیں، جب اس جگہ کو دھونا واجب نہیں تو باقی بدن کو دھونا تو ثانیاً تھا، تو اس کا دھونا بھی واجب نہیں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اب دیکھیے، جہاں پر خروجِ نجاست تھا، خروجِ نجاست کے ساتھ ایک اور وصف بھی آتا تھا، اور وہ کیا؟ اس جگہ کا دھونا واجب ہو جاتا تھا۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ جہاں پر خروجِ نجاست ہوتا تھا، وہاں پر اس کے ساتھ ایک اور وصف بھی آ جاتا تھا، کیا؟ اس جگہ کا دھونا واجب ہو جاتا تھا، اور دراصل وضو ٹوٹنے کی علت یہی تھی۔ یہ علت کی علت ہے بھئی! خروجِ نجاست میں بدن، خروجِ نجاست ہوگا تو سارے بدن کا دھونا واجب ہونا چاہیے بھئی، سارا بدن نجس ہو جائے گا، لیکن سارا بدن کیوں نجس ہوا؟ کیونکہ اولاً وہ جگہ نجس ہوئی، اور پھر نجس ہونے میں اس میں تو تجزی ہو نہیں سکتی، اس لیے کہا گیا سارا بدن نجس، اور یہ مقام نجس کیوں ہوا؟ کیونکہ اس سے نجاست نکلی ہے، خروجِ نجاست ہوا ہے، تو خروجِ نجاست جو ہے، اس کے ساتھ ایک اور وصف بھی آ جاتا ہے، اور وہ کیا؟ اس جگہ کا دھونا بھی واجب ہو جاتا ہے۔ خروجِ نجاست کے ساتھ اس جگہ کا دھونا بھی واجب ہو جاتا ہے، تو خروجِ نجاست تھی علت، خروجِ نجاست کس چیز کی؟ وضو کے، یعنی یوں کہو پورے بدن کے دھونے کی، پورے، تو خروجِ نجاست سبب تھا کس چیز کا؟ علت تھی کس چیز کی؟ پورے بدن کے دھونے کی۔ اور اس خروجِ نجاست جو ہے، اس کے اندر یہ وضو، پورے بدن کے دھونے کی علت کیوں بنا؟ کیونکہ اس خروجِ نجاست کے ساتھ ایک اور وصف بھی ساتھ آ جاتا تھا، اور وہ کیا تھا؟ اس جگہ کا دھونا واجب ہوتا تھا، گویا وہ جو یہ جو خروجِ نجاست، یہ جو علت ہے، یہ علت کیوں بن رہی ہے علت وضو ٹوٹنے کی؟ کیونکہ اس کے ساتھ یہ وصف پایا جا رہا تھا، یہ معنی، اگر یہ معنی ساتھ نہ ہو تو اس کی وجہ سے وضو بھی نہیں ٹوٹے گا۔ خروجِ نجاست کی وجہ سے، توجہ ہے بھئی؟ خروجِ نجاست علت ہے کس چیز کی؟ وضو ٹوٹنے کی، تو خروجِ نجاست وضو ٹوٹنے کی علت تبھی بنے گا کہ خروجِ نجاست کے ساتھ ایک وصف بھی پایا جائے جس پر یہ دلالت کر رہا ہے، خروجِ نجاست یہ جو بدن سے جو نجس چیز خارج ہوئی ہے، یہ ایک چیز پر دلالت کر رہی ہے، کس چیز پر دلالت کر رہی ہے؟ اس جگہ کا دھونا بھی، تو یہ وصف یہاں پر دلالتاً آ جاتا ہے، جیسے ہی نجاست نکلتی ہے، یہ دلالت کر دیتی ہے ایک چیز پر، ایک اور وصف یہاں آ گیا، کیا کرنا پڑے گا؟ اس جگہ کو دھونا پڑے گا، اور یہ جو اس جگہ کو دھونا پڑے گا، دراصل اس کی وجہ سے خروجِ نجاست جو ہے، وہ وضو کے ٹوٹنے کی علت ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو تین چیزیں ہو گئیں۔ ایک خروجِ نجاست، خروجِ نجاست کی وجہ سے دلالتاً ایک معنی آ جائے گا، کیا معنی آئے گا؟ اس جگہ کا دھونا واجب ہے، اور دراصل یہ جو معنی آیا، اس کی وجہ سے یہ خروجِ نجاست وضو ٹوٹنے کی علت بن رہا ہے، اگر یہ معنی ہوگا تو یہ خروجِ نجاست علت بنے گا وضو کے ٹوٹنے کی، ورنہ یہ علت ہی، ہم کہتے ہیں یہاں پر جو خراش لگی، خون نکلا، اس جگہ کا دھونا واجب نہیں، اس جگہ کا دھونا بالإجماع واجب نہیں، تو دیکھو خروجِ نجاست بھئی، اس کے ساتھ وہ معنی نہیں پایا گیا جس کی وجہ سے یہ علت بن رہا تھا۔ جس کی وجہ سے یہ علت، علت بن رہی تھی، تو جب وہ علت کی علت نہیں پائی گئی تو گویا علت بھی نہیں، جب علت ہی نہیں پائی گئی تو پھر گویا خروجِ نجاست ہے ہی نہیں، جب خروجِ نجاست ہے ہی نہیں تو وضو بھی واجب نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پہلے تو ہم نے علت ہی کا انکار کیا تھا کہ خروجِ نجاست ہی نہیں ہے، دوسرے میں ہم تسلیم کر لیتے ہیں چلو خروجِ نجاست ہے، لیکن خروجِ نجاست یہ علت ہے کس چیز کی؟ وضو کے ٹوٹنے کی، یہ علت کب بنے گی؟ جب اس کے ساتھ ایک معنی بھی پایا جائے جس پر یہ دلالت کرتا ہے، اور وہ معنی کیا تھا؟ اس جگہ کا دھونا واجب، اور وہ تو نہیں پایا گیا، لہٰذا وضو بھی واجب نہیں۔ ثم بالمعنى الثابت بالوصف دلالةً اوپر کیا آیا تھا متن؟ فندفعه أولاً بالوصفِ پہلے ہم اس نقضِ صوری کو دفع کرتے ہیں کس کے ذریعے؟ وصف یعنی علت کے ذریعے، ہم کہتے ہیں علت ہی نہیں ہے۔ ثم بالمعنى الثابت بالوصف پھر اس معنی کے ذریعے جو کس کے ذریعے ثابت ہے؟ وصف کے ذریعے ثابت ہے۔ دلالةً باعتبار دلالت کے، یعنی یہ اس پر دلالت کر رہا ہے بھئی، دلالت کر رہا ہے۔ أي ثم ندفعه ثانياً بعدم المعنى الثابت بالوصفِ پھر یعنی ہم اس کو دفع کرتے ہیں بعدم المعنى الثابت بالوصفِ وصف کے ذریعے ثابت ہونے والے معنی کے عدم کے ذریعے، اس کے نہ ہونے کے ذریعے، ونقول اور ہم کہتے ہیں لو سلم کہ اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے أنه وجد وصف الخروجِ کہ خروج کا وصف پایا گیا ہے، پہلے تو ہم نے کیا کہا تھا؟ خروج ہے ہی نہیں، ظہور ہے، اگر تسلیم کر لیا جائے کہ خروج کا وصف پایا گیا، ولكنه لم يوجد المعنى الثابت بالخروجِ لیکن وہ معنی جو خروج کی وجہ سے ثابت تھا، وہ نہیں پایا گیا، جی۔ دلالةً باعتبار دلالت کے بھئی۔ ولكنه لم يوجد المعنى الثابت بالخروج دلالةً لیکن نہیں پایا گیا وہ معنی جو خروج کی وجہ سے دلالتاً ثابت ہے۔ لیکن نہیں پایا گیا وہ معنی خروج کی وجہ سے دلالتاً ثابت ہو جاتا تھا وہاں پر، خروج اس پر دلالت کرتا تھا اس معنی پر بھئی، خروج کیا کرتا تھا اس پر؟ دلالت، تو یہ دلالت کا تعلق ثابت سے جوڑیں بھئی، کہ وہ معنی جو ثابت ہے، کس طرح؟ دلالتاً ثابت ہے، کس کی وجہ سے ثابت ہے؟ خروج کی وجہ سے دلالتاً ثابت ہے، وہ معنی نہیں پایا گیا، وهو وجوب غسل ذلك الموضعِ اور وہ اس جگہ کا غسل کا واجب ہونا ہے، اس جگہ کا دھونا، اس کے وجوب جو ہے، فإنه يجب أولاً غسل ذلك الموضعِ اس لیے کیونکہ پہلے جو ہے، اس جگہ کا دھونا واجب ہوتا ہے، ثم يجب غسل البدن كلهِ پھر اس کے بعد سارے بدن کا دھونا واجب ہوتا ہے، ولكن نقتصر على الأربعة دفعاً للحرجِ لیکن ہم اقتصار کرتے ہیں کس پر؟ چار پر، دفعاً للحرج، حرج کو دور کرنے کے لیے۔ فیہ یہ متن ہے، آگے ہے صار الوصف حجةً، فیہ وصف حجت بنے گا، کس میں؟ فیہ کی ضمیر کس کو راجع کریں؟ موضع، فیہ اس موضع میں، اس جگہ میں صار الوصف حجةً اس جگہ میں بھئی، جس کا دھونا کیا ہوا؟ واجب، اس جگہ میں صار الوصف حجةً، وہ وصف حجت بن جائے گا۔ وصف کون سا؟ خروجِ نجاست، یہ وصف اس جگہ میں حجت، دلیل بن جائے گا، کس چیز کی دلیل؟ وضو ٹوٹنے کی۔ عبارت پر نظر ہے؟ فیہ اس محل میں صار الوصف حجةً وہ خروجِ نجاست والا وصف وہ دلیل بن جائے گا، کس چیز کی دلیل بن جائے گا؟ وضو ٹوٹنے کی۔ اس محل میں خروجِ نجاست جو ہے، وہ وضو کے ٹوٹنے کی دلیل بن جائے گا کس بنا پر؟ کیونکہ اس محل سے جب نکلا ہے، تو اس کا دھونا کیا ہو چکا؟ واجب، اور جب اس کا دھونا واجب ہوا، تو سارے بدن کا دھونا بھی واجب کیونکہ تطہیر کا وجوب اس کے اندر تجزی نہیں ہو سکتی، تو وجوبِ تطہیر آئے گا، تو پھر کس میں آئے گا؟ سارے بدن کے اندر آئے گا، کچھ میں آئے اور کچھ میں نہ آئے، ایسا نہیں ہوگا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس محل کے اندر وہ جو وصف تھا خروجِ نجاست کا، وہ دلیل بن گیا، کس چیز کی دلیل بن گیا؟ وضو کے ٹوٹنے کی دلیل بن گیا۔ أي بسبب وجوب غسل ذلك الموضعِ یعنی اس جگہ کے غسل کے واجب ہونے کی وجہ سے صار الوصف حجةً وہ وصف حجت بن جائے گا، من حيث اس حیثیت سے أن وجوب التطهيرِ کہ تطہیر کا واجب ہونا، آخر میں آ رہا ہے لا يتجزأ متن کے آخر میں، کیونکہ یہ تطہیر کا وجوب لا يتجزأ، اس میں تجزی اور تقسیم نہیں ہو سکتی بھئی، اس میں تقسیم نہیں ہو سکتی۔ آگے أن وجوب التطهير في البدنِ تطہیر کا واجب ہونا فی البدنِ کس میں؟ بدن میں، باعتبار ما يكون منه اس اعتبار سے، اس چیز کے اعتبار سے، یعنی اس نجاست کے اعتبار سے يكون منه، منہ کی ہا ضمیر بدن کو راجع ہے، جو اسی بدن سے ہو، جو کس سے ہو؟ اسی بدن سے ہو، عبارت پر نظر ہے؟ من حيث أن وجوب التطهير في البدنِ بدن میں تطہیر کا واجب ہونا باعتبار ما يكون منه اس اعتبار سے کہ وہ نجاست اسی بدن سے ہے یعنی اسی سے نکلی ہے، وہ نجاست اسی بدن سے نکلی ہے، تو یہ جو وجوبِ تطہیر ہے بدن میں، لا يتجزأ یہ تقسیم نہیں، کہنا یہ چاہتے ہیں، یہ جو انہوں نے قید لگائی نہ باعتبار ما يكون منه، اس کے ذریعے دراصل نکالنا چاہتے ہیں اس نجاست کو جو خارج سے آپ کے بدن پر لگے، باہر کہیں سے کوئی بدن پر نجاست لگے اس میں سارے بدن کا دھونا ضروری نہیں، ہاں بدن کے اندر سے جو نجاست نکلے تو اس صورت میں بدن کے اندر تطہیر واجب ہوتی ہے اور اس میں تقسیم نہیں ہوسکتی تو پورے بدن کا دھونا واجب ہوگا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے۔ من حيث ان وجوب التطهير میں نے بطلایا یہ وجوب التطهير یہ ان کا اسم ہے اور لا يتجزأ آخر میں اس کی خبر ہے۔ اس حیثیت سے کہ تطہیر کا واجب ہونا بدن میں اس اعتبار سے کہ یہ نجاست اسی بدن سے ہی ہے لا يتجزأ تو یہ وجوب تطہیر تقسیم نہیں ہوتا۔ فلما وجب غسل ذلك الموضع وجب غسل سائر البدن البتة پس جب اس جگہ کا دھونا واجب ہوا تو سارے بدن کا دھونا واجب ہوا قطعی طور پر۔ وهناك لم يجب غسل ذلك الموضع اور یہاں پر تو اس جگہ کا دھونا واجب نہیں۔ بات کیا چل رہی ہے؟ وہ نقض صوری کا جواب دے رہے ہیں۔ ایک جواب کیا دیا تھا؟ کہ آپ نے علت بنایا خروج نجاست کو اور خروج نجاست کی صورت میں وضو ٹوٹنا چاہیے۔ ہم دکھاتے ہیں خروج نجاست ہے اور وضو نہیں ٹوٹا، جیسے خراش ہے اور خون ظاہر ہوا۔ ہم نے کہا نہیں، یہاں خروج نجاست ہے ہی نہیں بلکہ کیا ہے؟ ظہور نجاست۔ دوسرا جواب چل رہا ہے کہ بھئی یہاں پر دوسرا جواب کہ یہ جو خروج نجاست کے ساتھ ایک اور معنیٰ جو پایا جا رہا تھا جس پر خروج نجاست کیا کر رہا تھا؟ دلالت کر رہا تھا وہ معنیٰ یہاں پر نہیں پایا گیا اور وہ کیا تھا کہ اس جگہ کا دھونا واجب اور اس جگہ کا دھونا جب واجب نہیں تو پورے بدن کا دھونا بھی واجب نہیں- تو کہتے ہیں وهناك لم يجب غسل ذلك الموضع اور یہاں پر تو اس جگہ کا دھونا واجب نہیں ہے فانعدم الحكم تو حکم کیا ہوا؟ معدوم ہوا، کون سا حکم؟ وضو کے ٹوٹنے کا۔ لعدم العلة بوجہ علت کے نہ پائے جانے کے، کیونکہ خروج نجاست ہی نہیں ہے، کیونکہ جب خروج کیونکہ وہ علت خروج نجاست علت تھا اور علت کے علت کیا تھی؟ وہ ایک معنیٰ تھا، تو جب علت کے علت نہیں تو گویا علت بھی نہیں، تو جب علت ہی نہیں ہے تو حکم بھی نہیں۔ یہ معنیٰ ہے فانعدم الحكم لعدم العلة تو حکم معدوم ہوگا بوجہ علت کے معدوم ہونے کے۔ كأنه لم يوجد الخروج گویا کہ خروج پایا ہی نہیں گیا۔ و يورد عليه صاحب الجرح السائل اور اس پر اعتراض وارد کیا جائے گا صاحب الجرح السائل کا۔ جرح کہتے ہیں زخم کو، سائل بہنے والا، بہتے خون والے، صاحب الجرح السائل کا کیا معنیٰ ہے؟ بہتے خون والا، وہ آدمی جو بہتے خون والا ہے جس کے زخم سے خون بہہ رہا ہے رکتا ہی نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو و يورد عليه صاحب الجرح السائل اور اس پر اعتراض وارد کیا جائے گا بہتے خون والے شخص کا۔ کہتے ہیں عطف ہے على قوله يورد عليه المصنف کے قول فيورد عليهما إذا لم يصل، پیچھے آیا تھا نہ فيورد عليهما إذا لم يصل، اسی پر عطف ہے یہ يورد عليه کا بھئی۔ یعنی يورد علينا یعنی اعتراض وارد کیا جائے گا ہم پر من جانب الشافعي امام شافعی رحمہ اللہ کی جانب سے في المثال المذكور مثال مذکور کے اندر بطريق النقض کس طریقے پر اعتراض ہوگا؟ نقض کے طریقے پر، إيرادان کتنے اعتراض؟ دو اعتراض ہوں گے۔ الأول پہلا وہ ما دفعناه بطريق یہاں پر نقض کے طریقے پر دو اعتراض وارد ہوتے ہیں، الأول ما دفعناه بطريقين پہلا وہ تھا جس کو ہم نے دفع کر دیا دو طریقوں سے۔ پہلا اعتراض کیا تھا؟ کہ خون ظاہر ہوا ہے لیکن بہا نہیں ہے، آپ اس میں کہتے ہیں وضو نہیں ٹوٹا۔ ہم نے جواب دیا کہ پہلی بات ہمیں یہ تسلیم نہیں کہ یہاں خروج نجاست ہے بلکہ یہاں ظہور نجاست اور دوسرا جواب دیا تھا کہ یہاں خروج نجاست تو ہے لیکن اس کے علت کے علت یعنی اس جگہ کا دھونا واجب نہیں، وہ نہیں پائی جا رہی، اس لیے نہیں۔ اور اب دوسرا آ رہا ہے، دوسرا اعتراض اور اس کے بھی دو جواب دیے جائیں گے بھئی۔ انہوں نے بتلایا تھا نہ نقض صوری میں کتنے جواب دیے جا سکتے ہیں؟ چار۔ تو ایک اعتراض کے دو جواب، دو کے جوابات گزر گئے، دو قسمیں گزر گئی ہیں۔ اب دوسرا اعتراض، اس کے بھی کتنے قسم کے جواب دیے جا سکتے ہیں؟ دو قسم کے، تو کل چار ہو جائیں گے۔ تو کہتے ہیں والثاني هو صاحب الجرح السائل اور دوسرا جو ہے وہ بہتے خون والے شخص کا اعتراض ہے، فإنه نجس خارج من البدن پس وہ جو ہے وہ خون وہ نجس ہے اور خارج ہے من البدن، نکلا ہے کہاں سے؟ بدن سے نکلا ہے، وليس بحدث ينقض الوضوء وہ ایسا حدث نہیں ہے جو وضو کو توڑ دے ما دام الوقت باقيا جب تک وقت باقی ہو۔ بھئی یہاں پر پھر اعتراض کر رہے ہیں، کیا احناف آپ نے کیا کہا تھا؟ کہ خروج نجاست کی صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا۔ ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ خروج نجاست ہے اور وضو نہیں ٹوٹ رہا، جیسے ایک شخص کو کوئی زخم لگا یا پھوڑا ہے اور اس سے ہر وقت خون بہتا رہتا ہے، ہر وقت خون بہہ۔ اب دیکھو خروج نجاست ہے لیکن وضو کا ٹوٹنا نہیں، چنانچہ آپ کہتے ہیں کہ وضو کر لے اور پھر اس وقت کے اندر جب تک وقت ہے اس کا وضو باقی ہے۔ اس کا وضو باقی ہے بھئی۔ توجه ہے سبق کی طرف؟ وضو باقی ہے، تو دیکھو خروج نجاست ہے اور وضو کا ٹوٹنا نہیں، حکم نہیں پایا جا رہا۔ فندفعه بالحكم تو ہم اس کو دفع کرتے ہیں حکم کے ذریعے، ہم جواب میں کہتے ہیں آپ سے کس نے کہا حکم نہیں ہے؟ آپ نے کیا اعتراض کیا؟ خروج نجاست ہے اور وضو کا ٹوٹنا نہیں، ہم کہتے ہیں خروج نجاست ہے، وضو کا ٹوٹنا بھی ہے بھئی، آپ کیسے کہتے ہیں یہاں وضو کا ٹوٹنا نہیں؟ وضو کا ٹوٹنا ہے۔ تو یہاں حدث ہے، ہاں ظہورِ حدث نہیں ہے، حدث ہے وضو ٹوٹ رہا ہے لیکن اس کا ظہور نہیں ہو رہا، ظہور کب ہوگا؟ جب وقت گزرے گا۔ ظہر کے وقت وضو کیا ہے، وہ خون بہتا جا رہا ہے، ہم کہتے ہیں وضو ٹوٹ رہا ہے لیکن اس پر پردہ پڑ گیا، ظاہر نہیں ہو رہا۔ جیسے ہی وقت گزرے گا ظہورِ حدث ہو جائے گا اور وضو ٹوٹ جائے گا۔ جیسے ہی وقت گزرے گا، وضو کیا حکم لگائیں گے؟ وضو ٹوٹ گیا۔ بھئی، جیسے ہی وقت گزرا، آپ نے کیا حکم لگا دیا؟ وضو ٹوٹ۔ بھئی وہ تو پیشاب کرنے تو وہ گیا ہی نہیں، یہ آپ نے حکم کیوں لگایا وضو ٹوٹنے کا؟ اسی خون کے نکلنے کی وجہ سے لگایا نا؟ معلوم ہوا وہ خون کا نکلنا وضو کو توڑ رہا ہے لیکن اس کو اس کا ظہور اب آکر ہوا ہے بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو آپ نے تو اعتراض کیا کیا تھا؟ کہ خروج نجاست ہے اور حدث نہیں، ہم نے بتلا دیا نہیں علت کے ساتھ ساتھ حدث بھی یہاں پر ہے البتہ اس حدث کا ظہور اس وقت ہوگا بھئی، یہ وجہ کیا ہو ظہور اس وقت کیوں ہوگا؟ وجہ یہ کہ یہ وقت ہے نماز کا اور یہ مکلف ہے، اس پر بھی نماز فرض ہے، تو اگر اس کو بھی اس وقت ہم یہ کہیں کہ یہ حدث ہے یہ جو خون نکل رہا ہے، تو یہ ادا پر قادر ہی نہیں ہوگا، ادا پر قادر ہی نہیں رہے گا، تو یہ تو حرج لازم آئے گا اس کے لیے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ حرج لازم آئے گا اور شریعت میں تو تنگی نہیں ہے، لہٰذا کہنا پڑے گا کہ یہ حدث اس وقت ظاہر نہیں ہوگا بلکہ یہ نماز ادا کرنا چاہتا ہے تو ادا کرے۔ تو ہم کہیں گے کیونکہ یہ بھی مخاطب بالادا ہے اور جب مخاطب بالادا ہے یعنی اس پر نماز واجب ہے، نماز واجب ہے اور اس پر ادا بھی واجب ہے تو کہنا پڑے گا کہ یہ نماز کے ادا کرنے پر قادر ہے اور ادا کرنے پر یہ تبھی قادر ہو سکتا ہے جب کہا جائے اس وقت حدث ظاہر نہیں ہے بھئی، اس وجہ سے ہم نے کہا حدث ظاہر نہیں تاکہ یہ نماز ادا کر سکے ورنہ تو یہ نماز ہی ادا نہ کر سکے گا کیونکہ یہ تو عاجز ہے، خون مسلسل بہہ رہا ہے، روکنے پر یہ قادر ہی نہیں ہے بھئی، تو کہنا پڑے گا اس وقت حدث ظاہر نہیں ہے بھئی۔ فندفعه بالحكم پس ہم اس کو دفع کرتے ہیں حکم کے ذریعے، أي ندفعه بطريقين ہم اس کو دفع کرتے ہیں دو طریقوں سے، الأول بوجود الحكم پہلا طریقہ جو ہے حکم کے وجود کے ساتھ کہ حکم پایا جا رہا ہے، آپ نے کہا تھا حکم نہیں، ہم کہتے ہیں حکم پایا جا رہا ہے وعدم تخلفه اور یہ اس میں عدم تخلف نہیں ہے یعنی حکم پیچھے نہیں رہا۔ ببيان أنه حدث موجب للتطهير اس بیان کے ساتھ کہ یہ ایسا حدث ہے جو واجب کرنے والا ہے تطہیر کو، یہ جو مسلسل خون بہہ رہا ہے نا، یہ ایسا حدث ہے جو واجب کر رہا ہے کس چیز کو؟ تطہیر کو واجب کر رہا ہے بعد خروج الوقت کب؟ وقت کے نکلنے کے بعد، وقت کے نکلنے کے بعد اسی کی وجہ سے وضو واجب ہوا ہے یا کسی اور وجہ سے؟ اسی کی وجہ سے وضو ٹوٹا ہے اور تطہیر واجب ہوئی ہے، يعني لا نسلم أنه ليس بحدث یعنی یہ بات ہمیں تسلیم نہیں کہ یہ حدث نہیں ہے بل هو حدث بلکہ یہ حدث ہے ولكن تأخر حكمه إلى ما بعد خروج الوقت لیکن اس کا حکم مؤخر ہو گیا وقت کے نکلنے کے ما بعد تک دفعا للحرج کس لیے؟ حرج کو دور کرنے کے لیے۔ و بالغرض اور اس کو ہم دفع کریں گے غرض کے ذریعے، یہ چوتھی صورت آگئی، أي ندفعه ثانيا یعنی ہم دور کریں گے اس اعتراض کو، اس نقض کو بوجود الغرض من العلة کس کے ذریعے؟ وہ جو علت کے ذریعے غرض ہے اس کے وجود کے ذریعے و حصوله اور اس کے حصول کے ذریعے کہ وہ غرض پائی جا رہی ہے اور وہ حاصل ہو رہی ہے، اس کے ذریعے ہم جواب دیں گے۔ اس کے ذریعے ہم جواب دیں گے، فإن غرضنا التسوية بين الدم والبول اس لیے کیونکہ ہماری غرض اور مقصد کیا ہے؟ برابری کرنا ہے، کس کے درمیان؟ خون اور پیشاب، ہم نے کہا تھا نہ پیشاب کے نکلنے سے جیسے وضو واجب ہو جاتا ہے، اسی طرح خون کے بدن سے نکلنے میں بھی وضو واجب ہو جائے گا، تو مقصد ہمارا کیا تھا؟ پیشاب اور خون میں برابری کرنا وذلك حاصل اور وہ حاصل ہے۔ آپ نے جو نقض ہم پر وارد کیا ہے اس صورت میں بھی وہ برابری حاصل ہے، فإن البول حدث اس لیے کیونکہ پیشاب جو ہے وہ حدث ہے، پیشاب کا خروج ہوگا تو وضو واجب ہوگا یا نہیں واجب ہوگا؟ تو پیشاب تو حدث ہے، فإذا لزم جب پیشاب لازم ہو جائے یعنی پیشاب کے قطرے کا آدمی کو آتے رہیں، ہر وقت آتے رہتے ہیں، اب وہ قادر ہی نہیں ہے ان کو روکنے پر بھئی، قادر ہی نہیں ہے۔ تو پھر جب تک وقت ہوتا ہے وہ اتنی مقدار معاف ہوتی ہے یا نہیں ہوتی اس کے لیے؟ اس کے لیے اتنی مقدار معاف ہوتی ہے، تو یہاں خون بھی اس کے برابر ہو گیا، ہم نے اس کے مثل قرار دیا تو اس میں بھی وہی حکم آ جائے گا بھئی۔ فإذا لزم جب وہ پیشاب لازم ہوا صار عفوا تو وہ معاف ہوا لقيام الوقت کس وجہ سے؟ وقت کے پائے جانے کی وجہ سے تاکہ اس میں ادا کر سکے في صورة سلسل البول کس صورت میں؟ پیشاب کے مسلسل بہنے کی صورت میں فكذا هذا تو اسی طرح یہ بھی ہے یعنی دم یعنی کہ خون، كان حدثا یہ حدث ہے فإذا لزم جب یہ بھی لازم ہو گیا یعنی مسلسل بہتا جا رہا ہے صار عفوا تو یہ معاف ہوا ليساوي البول المقيس عليه تاکہ یہ برابر ہو جائے کس کے؟ اس پیشاب کے المقيس عليه جو مقیس علیہ ہے فصار مجموع دفوع النقض أربعة تو نقض کی دفعوں کا مجموعہ چار ہو گیا۔ فصار مجموع دفوع النقض أربعة دفعِ نقض کا مجموعہ کتنا ہو گیا؟ چار ہو گیا، دفعِ نقض کا مجموعہ چار ہو گیا بھئی۔ کس طرح؟ پہلا جواب کیا دیا تھا؟ پچھلی صورت میں، انہوں نے کہا تھا بہتے خون کی صورت میں بھی وضو ٹوٹنا چاہیے حالانکہ یہاں علت ہے حکم نہیں، ہم نے انکار کیا علت ہی نہیں ہے، پہلا جواب دیا تھا، دوسرا جواب ہم نے کہا تھا علت تو ہے لیکن علت العلة نہیں، جب علت العلة نہیں تو گویا علت بھی نہیں ہے۔ پھر انہوں نے کہا بھئی ایک بہتے خون والا شخص ہے تو وہاں پر بھی دیکھو خروج نجاست ہے لیکن حکم یعنی وضو کا ٹوٹنا نہیں، ہم نے جواب دیا تھا کہ نہیں حکم ہے۔ وضو کا ٹوٹنا بھی ہے لیکن اس کا ظہور ابھی نہیں ہے بلکہ کب ہوگا؟ وقت کے گزر جانے کے بعد، اور دوسرا جواب ہم نے اس کا دیا اپنی غرض کے ذریعے کہ یہ جو ہم نے قیاس کیا خون کو کس پر؟ پیشاب پر، مقصد کیا تھا؟ دونوں میں برابری ثابت کرنا اور وہ برابری اس وقت حاصل ہو رہی ہے کیونکہ جس طرح صاحب الجرح السائل اس کا وضو نہیں ٹوٹتا جب تک وقت ہو، اسی طرح جس کا پیشاب بہہ رہا ہو اس کا وضو بھی نہیں ٹوٹتا جب تک وقت موجود ہو، تو اس صورت میں تو اور ہماری غرض حاصل ہو رہی ہے، تو یہ کوئی اعتراض نہیں بھئی، تو کل کتنے جوابات ہو گئے؟ جی، نقض صوری کو دفع کرنے کے چار طریقے ہو گئے بھئی، چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
84 approved lectures · 72 of 84